خبرنامہ نمبر 7027/2026
سیوی 27 اگست ۔صوبائی وزیر انڈسٹریز اینڈ کامرس بلوچستان چیف سردار کوہیار خان ڈومکی کی خصوصی فنڈز سے ہاکی اسٹیڈیم کا کام مکمل کرلیا گیا۔ اس منصوبے سے علاقے کے نوجوانوں کو کھیلوں کی بہتر اور معیاری سہولیات میسر آئیں گی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر انڈسٹریز اینڈ کامرس بلوچستان چیف سردار کوہیار خان ڈومکی نے مختلف عوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو کھیلوں کے میدان میں بہترین مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ کھیل نوجوان نسل کو صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے ساتھ ساتھ برے ماحول اور منشیات جیسی لعنت سے دور رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو کھیلوں کے لیے بہتر سہولیات فراہم کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے، حلقہ انتخاب سبی، لہڑی اور بختیار آباد میں ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کا سلسلہ جاری ہے۔ ان شاء اللہ علاقے کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 7028/2026
گوادر/جیوانی27 اگست۔ : ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایات اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوام کو معیاری اشیاءکی فراہمی، مقررہ نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور صفائی ستھرائی کے موثر نظام کو یقینی بنانے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر جیوانی طارق امام نے جیوانی بازار کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے مختلف پٹرول پمپس کا معائنہ کیا اور مقررہ نرخوں سے زائد قیمت پر پٹرولیم مصنوعات کی فروخت پر 3 پٹرول پمپس کو سیل کر دیا۔ انہوں نے دکانداروں اور کاروباری مراکز کا بھی معائنہ کرتے ہوئے اشیائے خوردونوش کے معیار، نرخ ناموں اور میعادِ استعمال کا جائزہ لیا۔کارروائی کے دوران مختلف دکانوں سے ایکسپائرڈ اشیاء ، نان کسٹمز سگریٹس اور گٹکا برآمد کرکے ضبط کرلیا گیا، جبکہ دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ عوام کی صحت سے کھیلنے والی غیر معیاری، مضرِ صحت اور غیر قانونی اشیاءکی فروخت سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ اس موقع پر خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں کو آئندہ محتاط رہنے اور حکومتی قوانین و ضوابط کی مکمل پابندی کی تنبیہ بھی کی گئی۔اسسٹنٹ کمشنر جیوانی نے مختلف ٹرانسپورٹ اڈوں اور ہوٹلز کا بھی دورہ کیا، جہاں صفائی ستھرائی کے انتظامات، کھانے پینے کی اشیاء کے معیار اور قیمتوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ کاروباری افراد کو صفائی کے معیار میں بہتری لانے اور صارفین سے مقررہ نرخوں کے مطابق قیمتیں وصول کرنے کی ہدایت کی۔اسسٹنٹ کمشنر طارق امام نے کہا کہ عوام کو ریلیف کی فراہمی اور انہیں معیاری اشیائ کی دستیابی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ مقررہ نرخوں کی خلاف ورزی، زائد قیمتوں پر اشیائ کی فروخت، غیر معیاری و مضرِ صحت اشیاء اور غیر قانونی مصنوعات کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔دورے کے موقع پر تحصیلدار جیوانی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ عوامی مفاد میں بازاروں، پٹرول پمپس، ہوٹلز اور دیگر کاروباری مراکز کی نگرانی کا سلسلہ مزید موثر بنایا جائے گا تاکہ شہریوں کو صاف ستھرا ماحول، معیاری اشیاء اور مناسب نرخوں پر ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 7029/2026
ہرنائی 27اگست ۔ ضلع ہرنائی میں امن و امان کی صورتحال اور ریٹائرڈ استاد کے اغوا کے معاملے پر اسپانی ترین قبیلے کے ایک اعلیٰ سطحی 20 سے 25 رکنی وفد نے ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی سے ان کے دفتر میں اہم اور اضطراری ملاقات کی۔ وفد نے مغوی ریٹائرڈ ٹیچر ہزار خان ترین کی عدم بازیابی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے فوری اور موثر کارروائی کا مطالبہ کیا ذرائع کے مطابق ریٹائرڈ ٹیچر ہزار خان ترین کو گزشتہ روز (26 اگست 2026) دوپہر تقریباً 12:30 سے 1:00 بجے کے درمیان نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا۔ واقعے کے فوراً بعد علاقے میں خفگی اور تشویش کی لہر دوڑ گئی، جس کے بعد قبائلی مقتدرین نے انتظامیہ سے رابطہ قائم کیا ملاقات کے دوران اسپانی ترین قبیلے کے معززین و رہنماوں نے ڈپٹی کمشنر کے سامنے اپنے جذبات اور مطالبات رکھتے ہوئے کہا استاد ہزار خان ترین کا اغوا ایک انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ برداشت واقعہ ہے ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے تمام دستیاب وسائل کارآمد بناتے ہوئے مغوی کی جلد از جلد اور باحفاظت بازیابی کو یقینی بنائیں علاقے میں شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی اقدامات کو مزید سخت اور فعال بنایا جائے ڈپٹی کمشنر ہرنائی نے اسپانی ترین قبیلے کے وفد کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے انہیں مکمل تعاون اور سنجیدہ اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ واقعے کا سخت نوٹس لے چکی ہے اور تمام سیکیورٹی اداروں کو متحرک کر دیا گیا ہے مغوی کی محفوظ واپسی کے لیے سرچ آپریشنز اور تحقیقاتی کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے قانون شکن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور جلد پیشرفت سامنے آئے گی۔ضلعی انتظامیہ اور اسپانی ترین قبیلے کے درمیان اس اہم پیشرفت کے بعد علاقے میں صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے مغوی کی تلاش تیز کر دی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 7030/2026
گوادر27 اگست ۔ صوبائی حکومت کے تعلیم کے ساتھ ہنرمندی کے فروغ کے وڑن کے تحت محکمہ تعلیم کے تعاون اور یونیسیف کے اشتراک سے ایجوکیشن سپورٹ پروگرام (ESP) کے ذریعے گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول گوادر میں جماعت ہفتم، ہشتم اور نہم کے 89 طلبہ کو کشتی سازی کے عملی و فنی ہنر کی تربیت دی جا رہی ہے یونیسف کے ضلعی پروگرام منیجر عادل نودزئی کے مطابق پروگرام کا مقصد طلبہ کو روایتی تعلیم کے ساتھ عملی اور روزگار سے منسلک مہارتیں فراہم کرنا ہے۔ تربیت میں کشتی کے ڈیزائن، پیمائش، لکڑی کی کٹنگ، جوڑائی اور ساخت کی تیاری سمیت کشتی سازی کے مختلف مراحل شامل ہیں پروگرام کی نمایاں کامیابی یہ ہے کہ طلبہ نے عملی طور پر اپنی کشتیاں بھی تیار کر لی ہیں جو ان کی محنت، فنی صلاحیت اور خوداعتمادی کا واضح ثبوت ہے۔ گوادر کی ساحلی شناخت اور کشتی سازی کی تاریخی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اقدام مقامی روایتی ہنر کو جدید اسکلز ایجوکیشن سے جوڑنے کی موثر کوشش ہےیہ پروگرام نوجوانوں کو ہنرمند، خودکفیل اور عملی زندگی کے لیے تیار کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر روزگار اور معاشی مواقع کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے.۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7031/2026
قلات27اگست ۔ وزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی کے وژن اوروزیرداخلہ بلوچستان کے احکامات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے کھلی کچہری کا انعقادکیاگیا کھلی کچہری کے انعقادکامقصدعوامی مسائل سننے اور انکے حل سے متعلق سفارشات مرتب کرنی تھیں .اسسٹنٹ کمشنر کے دفترمیں م تحصیلدار حاجی عبدالغفار لہڑی کے زیر صدارت منعقد ہکھلی کچہری میں علاقہ عمائدین ایس ایچ او سٹی میرنذیر عمرانی سمیت تمام محکموں کے سربراہان سیاسی سماجی رہنماوں اور صحافی برادری نے شرکت کی۔کھلی کچہری میں شہر میں امن وامان کی صورتحال شہر میں صفائی ستھرائی ٹیچنگ ہسپتال میں سرد خانہ کی تعمیر ٹیچنگ ہسپتال میں ادویات کی کمی زاوہ ڈیم کی تعمیر میں تاخیر منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی سڑکوں کی بندش سے شہریوں اور مریضوں کو درپیش مشکلات محلہ کلی پنرانی اور محلہ گوم میں پینے کے پانی کی قلت اور دیگراہم مسائل اجاگر کیئے گئے۔تحصیلدار حاجی عبدالغفارلہڑی نے لوگوں کے مسائل توجہ سے سنے اور انہیں فوری حل کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوے کہاکہ ڈپٹی کمشنر انجینیئر عائشہ زہری کی سربراہی میں علاقے کو درپیش مسائل کے حل کے لیئیے تمام تروسائل بروئے کار لایاجائینگے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7032/2026
سیوی 27 اگست ۔ ورلڈ بریسٹ فیڈنگ منتھ کے حوالے سےبلوچستان نیوٹریشن ڈائریکٹوریٹ محکمہ صحت کے زیرِ اہتمام اور یونیسیف کے تعاون سے سرکٹ ہاوس سیوی میں آگاہی سیمینار منعقد ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ نیوٹریشن کوآرڈینیٹر حاجی بلوچ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر قادر ہارون، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالستار لانگو سمیت مختلف ذیلی محکموں کے افسران، نمائندگان اور کثیر تعداد میں خواتین نے شرکت کی۔ سیمینار کا مقصد ماں اور بچے کی صحت، غذائیت اور خصوصاً نومولود بچوں کے لیے ماں کے دودھ کی اہمیت کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنا تھا۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماں کا دودھ بچے کے لیے قدرتی، مکمل اور بہترین غذا ہے، جو بچے کی نشوونما، قوتِ مدافعت اور صحت مند مستقبل کے لیے بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے ماوں پر زور دیا کہ بچے کی پیدائش کے بعد ابتدائی اوقات میں ماں کا دودھ پلانے اور پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ دینے کی اہمیت کو سمجھا جائے۔ مقررین نے کہا کہ بچوں میں غذائی کمی کا مسئلہ صرف صحت کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ترقی سے جڑا ہوا مسئلہ ہے، جس کے تدارک کے لیے محکمہ صحت، محکمہ تعلیم، ضلعی انتظامیہ، والدین، مذہبی رہنماوں اور معاشرے کے تمام طبقات کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ مقررین نے کہا کہ بچوں میں غذائی کمی پر قابو پانے کے لیے ماں اور بچے کی مناسب غذائیت، بروقت طبی سہولیات، صاف پانی، صفائی ستھرائی اور والدین میں آگاہی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے آگاہی پروگرامز کے ذریعے معاشرے میں ماں کے دودھ کی اہمیت اور بچوں کی بہتر غذائیت کا پیغام زیادہ سے زیادہ خاندانوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر شرکاء کو ورلڈ بریسٹ فیڈنگ منتھ کی اہمیت، ماں اور بچے کی صحت اور غذائی ضروریات کے حوالے سے آگاہی فراہم کی گئی جبکہ خواتین نے بھی پروگرام میں بھرپور شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7033/2026
تربت – 27 اگست ۔: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی سے آج ان کے دفتر میں ضلع کیچ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں، عمائدین اور مختلف مکاتبِ فکر کے افراد نے ملاقات کی اور اپنے درپیش مسائل و مشکلات سے آگاہ کیا۔اس موقع پر ملاقات کے لیے آنے والے افراد نے ڈپٹی کمشنر کیچ کے سامنے ترقیاتی امور، بنیادی سہولیات، انتظامی معاملات اور دیگر عوامی نوعیت کے مسائل پیش کیے. ڈپٹی کمشنر کیچ نے تمام افراد کی بات توجہ اور تحمل سے سنی اور متعلقہ مسائل کے حل کے لیے موقع پر ہی متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ عوامی خدمت ضلعی انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے اور شہریوں کو اپنے مسائل کے اظہار کے لیے براہِ راست ضلعی انتظامیہ تک رسائی فراہم کرنا انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جانب سے پیش کیے جانے والے جائز مسائل کو میرٹ اور قواعد و ضوابط کے مطابق حل کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان موثر رابطے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی جبکہ عوامی مسائل کے فوری اور شفاف ازالے کے لیے متعلقہ محکموں کو بھی اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔شہریوں نے ڈپٹی کمشنر کیچ کی جانب سے ان کے مسائل سننے اور متعلقہ حکام کو ضروری احکامات جاری کرنے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کے عوام دوست رویے کو سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7034/2026
کوئٹہ، 27 اگست ۔ بلوچستان کی مجموعی صورتحال، امن و امان، ترقیاتی عمل اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق 28واں دفاعی و جائزہ اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور کور کمانڈر کوئٹہ نے کی اجلاس میں صوبے کی مجموعی صورتحال، امن و استحکام، ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت، عوامی فلاح و بہبود اور مختلف وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مربوط اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بلوچستان کے درخشاں مستقبل، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا اجلاس میں صوبائی و وفاقی اداروں اور سیکیورٹی فورسز کی مشترکہ کوششوں کو مزید موثر بنانے، باہمی رابطہ اور تعاون کو بہتر بنانے سمیت صوبے کے وسیع تر مفاد میں مزید اقدامات پر غور کیا گیا اجلاس کے دوران صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے اہم علاقوں میں مرحلہ وار سیف سٹی پروجیکٹ فعال کرنے کا اصولی فیصلہ بھی کیا گیا۔ شرکاء نے اس منصوبے کو شہریوں کے تحفظ، نگرانی کے نظام میں بہتری اور جدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا۔ 28ویں دفاعی و جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں صوبے میں امن و استحکام کے حوالے سے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہر تین ہفتوں بعد منعقد ہونے والے دفاعی و جائزہ اجلاس کا بنیادی مقصد سابقہ اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لینا، درپیش مسائل کی نشاندہی کرنا اور ان کے حل کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باقاعدگی سے ہونے والے اجلاسوں سے اداروں کے درمیان رابطہ بہتر ہوا ہے اور امن و استحکام کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں تسلسل پیدا ہوا ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن، ترقی اور عوامی خوشحالی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ حکومت صوبے میں امن و استحکام کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے روشن اور درخشاں مستقبل کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی اور عوامی مفاد کے منصوبوں پر عملدرآمد میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کرنا ہوگا اجلاس میں وفاقی و صوبائی اداروں، مختلف محکموں اور سیکیورٹی فورسز کے نمائندگان نے شرکت کی۔ شرکاءنے صوبے میں امن و امان کی صورتحال، جاری اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اجلاس کے دوران رواں ماہ فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ کارکردگی اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ شرکاء نے دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے عزم اور موثر کارروائیوں کو سراہتے ہوئے امن کے قیام کے لیے جاری کوششوں کو مزید مربوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ بلوچستان کے امن، ترقی اور عوامی خوشحالی کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان موثر رابطہ اور باہمی تعاون کا سلسلہ مزید مضبوط بنایا جائے گا اجلاس کے شرکاءنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کے عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن و استحکام کے فروغ، ترقیاتی عمل میں تیزی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7035/2026
کوئٹہ: 27 اگست ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا تیسرا اجلاس جمعرات کو یہاں منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ڈائریکٹر ایوی ایشن کیپٹن علی آزاد اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کے امور، کارکردگی اور مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاءنے صوبے میں فضائی رابطوں کے فروغ، ایوی ایشن کے شعبے میں دستیاب مواقع سے استفادہ اور بلوچستان کے عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے امور پر غور کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں فضائی رابطوں کا فروغ صوبے کی معاشی و سماجی ترقی کے لیے اہم ہے۔ صوبے کے وسیع رقبے اور دور دراز علاقوں کے پیش نظر بہتر فضائی رابطے نہ صرف عوام کو سفری سہولت فراہم کرتے ہیں بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں وزیر اعلیٰ نے بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کے امور میں پیشہ ورانہ طرزِ انتظام، شفافیت اور موثر حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ادارے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے صوبے کے وسیع تر مفاد میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام شعبوں میں جدید اور موثر اقدامات کر رہی ہے۔ ایوی ایشن کا شعبہ بھی اسی وڑن کا اہم حصہ ہے، جسے موثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ ضروری ہے اجلاس میں بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے، دستیاب وسائل کے موثر استعمال اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے بھی غور و خوض کیا گیا وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کمپنی کے امور کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے اور بلوچستان میں فضائی رابطوں کے فروغ کے لیے قابلِ عمل تجاویز اور منصوبہ بندی کو ترجیح دی جائے اجلاس میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اراکین نے کمپنی کے مختلف امور سے متعلق اپنی تجاویز بھی پیش کیں، جبکہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر موثر عملدرآمد یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7036/2026
کوئٹہ 27اگست ۔صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب جان نوشیروانی نے کہا ہے کہ خاران کے مختلف دیہاتوں اور دیہی علاقوں کو بلیک ٹاپ سڑکوں سے منسلک کرنا ان کا دیرینہ وڑن ہے۔ خاران کے مختلف دیہاتوں کے لیے سڑکوں کی تعمیر کے متعدد منصوبے منظور کیے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ خاران کے عوام نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا ہے۔ ان کے ساتھ ہمارا رشتہ محض سیاسی نہیں بلکہ شفقت، اعتماد، خدمت اور خونی رشتے پر مبنی ایک بنیادی تعلق ہے۔ ہم اپنے حلقے کی عوام کے مشکلات اور بنیادی ضروریات سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ صوبائی وزیر میر شعیب جان نوشیروانی نے کہا کہ ضلع خاران میں تقریباً ڈھائی ہزار نوجوانوں کو بلاامتیاز روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ علاقے میں تعصب اور ناانصافی کی سیاست کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ خاران کو ایک ترقی یافتہ، جدید طرز کا خوبصورت شہر بنانے کے لیے ماسٹر پلان میں مختلف منصوبے شامل کیےگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خاران کے مختلف کلیوں کو پختہ سڑکوں سے منسلک کرنا عوام کی دیرینہ ضرورت ہے۔ برسوں سے خستہ حال اور کچی سڑکوں کے باعث دور دراز علاقوں میں آباد عوام کو روزمرہ آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا پڑتاہے۔ نئے منصوبوں کی تکمیل سے ان مشکلات میں نمایاں کمی آئے گی اور عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی۔صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ بہتر سڑکوں کا انفراسٹرکچر علاقے کی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ سڑکوں کی تعمیر سے نہ صرف شہریوں کو آمدورفت کی بہتر سہولیات حاصل ہوں گی بلکہ زرعی پیداوار کو منڈیوں تک پہنچانے میں آسانی، کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ اوراس سے مقامی معیشت کو فروغ ملے گی۔انہوں نے کہا کہ خاران اور اس کے گردونواح میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ مختلف شعبوں میں فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر میسر آسکیں۔ بلیک ٹاپ سڑکوں کی تعمیر و توسیع کے ساتھ ساتھ تعلیم،صحت،آبنوشی اور دیگر بنیادی و فلاحی منصوبوں پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔میر شعیب جان نوشیروانی نے کہا کہ تعلیم اور صحت کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہیں، اس لیے ان شعبوں میں بھی بھرپور اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اسی طرح خاران شہر کے گردونواح میں قلتِ آب پر قابو پانے کیلئے آبنوشی کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور عوامی مفاد کو بنیادی اہمیت دے رہی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ترقیاتی بجٹ کا زیادہ سے زیادہ فائدہ عام آدمی تک پہنچے اور ایسے منصوبے مکمل کیے جائیں جن کے ثمرات طویل عرصے تک عوام کو حاصل ہوتے رہیں۔صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب جان نوشیروانی نے کہا کہ خاران کے عوام نے ہم پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے اس کا بدلہ اور خدمت میرا نصیب العین ہیں علاقے کی ترقی وخوشحالی اور عوامی خدمت کا سلسلہ مزید تیزی کے ساتھ جاری وساری رہے گا اور خاران کے ہر پسماندہ علاقے کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7037/2026
کوئٹہ 7 اگست ۔صوبائی وزیر و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ کی ہدایات پر ناقص خوراک کے خلاف بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی صوبہ بھر میں کارروائیاں بلا تعطل جاری ہیں۔ فوڈ سیفٹی ٹیموں نے کوئٹہ، حب، حرمزئی پشین اور کولپور سمیت مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 20 خوراک کے مراکز و یونٹس پر جرمانے عائد، متعدد مراکز کو اصلاحی نوٹسز جبکہ ایک غیر معیاری مصالحہ جات بنانے والے یونٹ کو سیل کردیا۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق مشرقی بائی پاس و جتک اسٹاپ کے علاقوں میں چیکنگ کے دوران ناقص صفائی، نان فوڈ گریڈ رنگ، ممنوعہ چائنیز نمک، غیر مناسب اسٹوریج، حشرات کی روک تھام کے ناقص انتظامات اور نامکمل حفاظتی لباس پر ایک مصالحہ یونٹ سیل جبکہ ایک نمکو یونٹ مالک پر جرمانہ عائد کیا گیا۔ خدائیداد روڈ و کاسی روڈ پر 19 مراکز کی چیکنگ کے دوران ناقص صفائی، ویسٹ مینجمنٹ، نامناسب اسٹوریج اور PPE کی خلاف ورزیوں پر 3 یونٹس جرمانہ جبکہ 6 کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ اسی طرح جناح ٹاون و ویسٹرن بائی پاس میں معائنے کے دوران ناقص صفائی، ایکسپائرڈ ایسنسز، حشرات، غیر محفوظ اسٹوریج اور نامکمل حفاظتی انتظامات پر 5 یونٹس جرمانہ کیے گئے۔ایئرپورٹ روڈ پر گریڈ کلرز اور کم وزن نان کی فروخت پر 3 یونٹس جرمانہ جبکہ 7 مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ نان کا وزن مقررہ 310 گرام کے بجائے 236، 244 اور 245 گرام پایا گیا۔مزید برآں حب سٹی میں غیر معیاری رنگ اور ممنوعہ چائنیز نمک کے استعمال پر 2 مصالحہ شاپس جرمانہ کی گئیں، جبکہ دیگر مراکز کو اصلاحی ہدایات جاری کی گئیں۔حرمزئی پشین میں 23 مراکز کی چیکنگ کے دوران ایکسپائرڈ اشیاءکی فروخت اور فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر 4 یونٹس جرمانہ کیے گئے، جبکہ متعدد مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔علاوہ ازیں کولپور میں بی ایف اے حکام نے ممنوعہ چائنیز نمک، گٹکا اور بغیر مینوفیکچرنگ و ایکسپائری تاریخ والی مصنوعات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 2 یونٹس جرمانہ جبکہ 4 مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے ، اس دوران ایک دکاندار کو فوڈ بزنس لائسنس نہ ہونے پر جرمانہ کیا گیا۔ ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے واضح کیا کہ محفوظ خوراک کی فراہمی اتھارٹی کی اولین ترجیح ہے، عوام کی صحت سے کھیلنے اور فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7038/2026
کوئٹہ، 27 اگست ۔: ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر سریاب منصور احمد کی سربراہی میں اسپیشل مجسٹریٹ سریاب اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ زون-4 کی اینٹی انکروچمنٹ ٹیم کے ہمراہ کسٹم چوک سریاب میں انسدادِ تجاوزات کارروائی کی گئی۔کارروائی کے دوران فٹ پاتھ اور سرکاری و عوامی جگہوں پر قائم ڈھابوں، ریڑھیوں اور دیگر سخت و نرم تجاوزات کو ہٹا کر جگہیں واگزار کرائی گئیں۔تجاوزات قائم کرنے والے افراد کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ آئندہ فٹ پاتھ یا عوامی مقامات پر سامان اور دیگر اشیاء نہ رکھیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7039/2026
کوئٹہ 27اگست۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ (ویسٹ) منیر احمد درانی کی زیرِ صدارت انتظامی امور کی۔ بہتر انجام دہی کے سلسلے میں اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسسٹنٹ کمشنر بروری عمر اور اسسٹنٹ کمشنر پنجپائی عبد القیوم نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران اسسٹنٹ کمشنرز نے اپنے اپنے سب ڈویژنز سے متعلق مختلف انتظامی معاملات، جاری سرگرمیوں اور اہم امور کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو انتظامی امور کی موثر نگرانی، عوامی مسائل کے فوری حل اور سرکاری ہدایات پر من و عن عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ عوام کی فلاح بہبود اور مشکلات کے ازالے کے لیے ار ممکن اقدامات کیے جائے اس کے علاوہ عم و امان کی صورتحال کی بہتری اور گرافرشی کے خلاف کاروائیاں کے حوالے سے جامع حکمت عملی مرتب کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7040/2026
کوئٹہ 27 اگست۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے ایڈمنسٹریٹر بشیر احمد بڑیچ کی ہدایت پر شہر میں تجاوزات کے خاتمے اور شہریوں کو بہتر میونسپل سہولیات کی فراہمی کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں میونسپل مجسٹریٹ عمران زیب کاسی کی نگرانی میں ڈاکٹر بانو روڈ اور تولہ رام روڈ پر تجاوزات کے خلاف باقاعدہ کارروائی کی گئی۔کارروائی کے دوران سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر سامان رکھ کر پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔ میونسپل انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے تجاوزات قائم کرنے والے 6 دکانداروں کو گرفتار کرکے جیل منتقل کر دیا۔اس موقع پر میونسپل مجسٹریٹ عمران زیب کاسی نے کہا کہ شہر کی سڑکوں، فٹ پاتھوں اور عوامی مقامات پر غیر قانونی تجاوزات کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی۔ تجاوزات کے باعث نہ صرف شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ مزید موثر انداز میں جاری رکھا جائے گا، جبکہ دکانداروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی دکانوں کا سامان مقررہ حدود کے اندر رکھیں اور سرکاری سڑکوں و فٹ پاتھوں پر قبضہ کرنے سے گریز کریں۔میونسپل انتظامیہ کے مطابق تجاوزات کے خاتمے کا مقصد شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانا، فٹ پاتھوں کو شہریوں کے لیے قابلِ استعمال بنانا اور کوئٹہ شہر کو صاف، منظم اور خوبصورت بنانا ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7041/2026
کوئٹہ 27 اگست۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کے مطابق ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ نے میٹروپولیٹن آفس میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ کوئٹہ شہر کی خوبصورتی، صفائی اور بیوٹیفیکیشن کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر بشیر احمد بڑیچ نے کہا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں تعینات افسران اپنے اپنے علاقوں کی خوبصورتی، صفائی ستھرائی اور مجموعی بہتری کے لیے ذاتی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔ ہر افسر اپنے متعلقہ علاقے میں بیوٹیفیکیشن کے اقدامات کی نگرانی اور بروقت تکمیل کا ذمہ دار ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر کو صاف ستھرا، خوبصورت اور شہریوں کے لیے بہتر ماحول فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ شہر کے داخلی و اہم مقامات، سڑکوں، چوراہوں، گرین بیلٹس اور دیگر عوامی مقامات کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ایڈمنسٹریٹر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ بیوٹیفیکیشن کے کاموں میں معیار اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور اپنے اپنے علاقوں میں جاری اقدامات کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہر کی خوبصورتی اور صفائی کے حوالے سے غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7042/2026
کوئٹہ: 27 اگست۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس ویسٹ زون کوئٹہ ڈاکٹر قریش خان نے کہا ہے کہ نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس شاہراہوں پر شہریوں کے محفوظ سفر، ٹریفک قوانین کی پابندی اور حادثات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے، جبکہ مسافروں کو بروقت امداد اور رہنمائی کی فراہمی بھی ادارے کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس کی جانب سے ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کی سہولت بلوچستان کے شہریوں کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ ملک کے محدود شہروں میں موٹروے پولیس کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے کی سہولت حاصل ہے، اس لیے کوئٹہ اور بلوچستان کے شہری اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق ڈرائیونگ لائسنس حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ڈرائیونگ لائسنس صرف ایک دستاویز نہیں بلکہ ڈرائیور کی اہلیت اور ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کا اعتراف ہے۔ ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ گاڑی چلانے سے قبل قانونی تقاضے پورے کرے اور بغیر لائسنس ڈرائیونگ سے اجتناب کرے ڈاکٹر قریش خان نے کہا کہ قومی شاہراہیں اور موٹرویز ملک کے مختلف علاقوں کو باہم ملانے والے اہم ذرائع ہیں، جہاں روزانہ لاکھوں مسافر، ٹرانسپورٹرز اور مال بردار گاڑیاں سفر کرتی ہیں۔ شاہراہوں پر ٹریفک کا نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے قوانین کی پابندی کے ساتھ ڈرائیوروں میں روڈ سیفٹی سے متعلق شعور اجاگر کرنا بھی ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹریفک حادثات کے بڑے اسباب میں تیز رفتاری، خطرناک انداز میں اوورٹیکنگ، ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال، لین کی خلاف ورزی، غفلت و لاپرواہی، مسلسل ڈرائیونگ کے باعث تھکن اور نیند کا غلبہ شامل ہیں۔ ان عوامل کی روک تھام کے لیے موٹروے پولیس کی جانب سے شاہراہوں پر مسلسل گشت اور ٹریفک قوانین کی نگرانی کی جاتی ہے جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ڈی آئی جی نے واضح کیا کہ موٹروے پولیس کا کردار صرف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی تک محدود نہیں۔ شاہراہوں پر سفر کرنے والے شہریوں کی معاونت اور مشکل وقت میں ان کی مدد بھی ادارے کی اہم ذمہ داری ہے۔ گاڑی خراب ہونے، حادثے، طبی ہنگامی صورتحال یا کسی بھی دوسری پریشانی کی صورت میں موٹروے پولیس کے افسران اور اہلکار فوری طور پر مسافروں کی مدد کرتے ہیں اور ضرورت کے مطابق متعلقہ اداروں کو بھی متحرک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ڈرائیوروں پر زور دیا کہ دورانِ سفر مقررہ رفتار کی پابندی کریں، سیٹ بیلٹ کا استعمال یقینی بنائیں، غیر ضروری اور خطرناک اوورٹیکنگ سے گریز کریں اور گاڑی چلاتے ہوئے موبائل فون استعمال نہ کریں۔ طویل فاصلے کا سفر کرنے والے ڈرائیور مناسب وقفہ لے کر اپنی تھکن دور کریں تاکہ غنودگی اور نیند کے باعث پیش آنے والے حادثات سے محفوظ رہا جا سکے۔ ڈاکٹر قریش خان نے کہا کہ قومی شاہراہوں پر شہریوں کی جان و مال کا تحفظ نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس کی بنیادی ترجیح ہے۔ اس مقصد کے لیے شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی، سڑکوں کی صورتحال اور موسمی حالات پر مسلسل نظر رکھی جاتی ہے تاکہ کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں بروقت ردعمل دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے تقاضوں کے پیش نظر موٹروے پولیس نگرانی اور ٹریفک مینجمنٹ کے نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے جدید ذرائع سے استفادہ کر رہی ہے۔ مسافروں کو سہولت فراہم کرنے، ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور حادثات کی شرح میں کمی لانے کے لیے دستیاب وسائل کو موثر انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ شاہراہوں پر سفر کرتے ہوئے ٹریفک قوانین کو محض قانونی تقاضا نہیں بلکہ اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کے تحفظ کا ذریعہ سمجھیں۔ موٹروے پولیس کے افسران و اہلکاروں کے ساتھ تعاون کریں اور ذمہ دارانہ طرزِ ڈرائیونگ اختیار کریں۔ڈپٹی انسپکٹر جنرل ڈاکٹر قریش خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس عوامی خدمت، محفوظ سفر کے فروغ، حادثات کی روک تھام اور مسافروں کو بروقت معاونت کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ محفوظ شاہراہوں کا مقصد صرف ادارہ جاتی اقدامات سے حاصل نہیں ہو سکتا بلکہ ڈرائیوروں، مسافروں اور عوام کا ذمہ دارانہ رویہ بھی اس عمل میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7043/2026
خضدار27اگست۔: کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی کی زیرِ صدارت (BSDI) اور (PSDP)کمیٹی 2026 اور 2027 کے فیز ٹو فیز تھری کے ترقیاتی منصوبوں صحت ایجوکیشن اور دیگر محکموں کی ماہانہ کارکردگی کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ عبدالقیوم عمرانی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر نیاز اللہ سمالانی ایکسیئن پی ایچ ای عبدالروف قمبرانی ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال خضدار ڈاکٹر شبیر احمد مینگل ایکسیئن بی اینڈ ار قاضی عتیق الرحمن ایکسیئن سجاد احمد ڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچر عبدالقیوم زہری وومن ڈیولپمنٹ سینٹر کے انچارج روبینہ کریم ایس ڈی او بلڈنگ نیاز احمد زہری اور خضدار ڈسٹرکٹ کے متعلقہ محکموں کے سربراہان اور افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں جاری اور مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔اجلاس میں بالخصوص (BSDI) فیز ٹو اور فیز3 کے تحت جاری اور مکمل ہونے والے منصوبوں پر متعلقہ افسران کی جانب سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ افسران نے اپنے اپنےمحکموں کی کارکردگی،صحت ایجوکیشن پی ایچ ای ایریگیشن سی این ڈبلیو لوکل گورنمنٹ لائیو اسٹاک ایگریکلچر اور دیگر محکموں کی منصوبوں کی پیش رفت اور درپیش مسائل سے اجلاس کو آگاہ کیا۔اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے معیار کو بھی ہر صورت یقینی بنایا جائے اور منصوبوں کی تکمیل میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہ کی جائے۔کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اجتماعی نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری ان سے مستفید ہو سکیں۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں درپیش رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے، محکموں کے درمیان باہمی رابطے اور تعاون کو مزید موثر بنایا جائے اور منصوبوں کو شفافیت، معیار اور مقررہ مدت کے مطابق مکمل کیا جائے۔کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی نے مزید ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ایسے منصوبوں کی بھی نشاندہی کی جائے جن کی تکمیل سے عوام کو فوری اور زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر مختلف ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے، نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنانے اور عوامی مفاد کو اولین ترجیح دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7044/2026
لسبیلہ 27اگست ۔ کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءنے ڈویژنل ہیڈکوارٹر اوتھل دورے کے موقع پر مختلف ترقیاتی منصوبوں اور کمشنر کمپلکس کی آفس مختلف شعبہ جات ، سول ز50بیڈڈ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اوتھل، بائی پاس روڈمنصوبے اور ضلع میں جاری مختلف ترقیاتی اسکیموں پر پیشرفت سے متعلق حکام سے بریفنگ لی اور ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دورے کے موقع پرکمشنر لسبیلہ ڈویژن نے ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار، تعمیراتی معیار اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا معائنہ کیا جبکہ ڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرا بلوچ، ایکسین بی اینڈ آر خلیل بلوچ نے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی کمشنر سائرہ عطاء مختلف جاری ترقیاتی اسکیموں کا موقع پر جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ محکموں کے افسران کو احکامات جاری کیں کہ ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد مستفید ہوسکیں۔ انہوں نے منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے اور تعمیراتی کام میں مقررہ معیار اور قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی یقینی بنانے پر زور دیا۔ اس موقع پر کمشنر لسبیلہ ڈویڑن نے کہاکہ حکومت بلوچستان کی جانب سے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور علاقے کی پائیدار ترقی کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہےترقیاتی اسکیموں کی بروقت تکمیل سے نہ صرف شہریوں کو بہترسہولیات میسر آئیں گی بلکہ علاقے میں ترقی کے عمل کو بھی مزید تقویت ملے گی۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور کام کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے فیلڈ میں موثر مانیٹرنگ کا نظام برقرار رکھا جائے۔ کمشنر نے افسران پر واضح کیا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام اسکیموں کو شفاف انداز میں پائی تکمیل تک پہنچایا جائے۔ دورے کے دوران متعلقہ ضلعی افسران نے کمشنر سائرہ عطاءکو جاری ترقیاتی اسکیمات کی پیش رفت اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی۔ کمشنر نے افسران کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے اور ترقیاتی کاموں کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ کمشنر لسبیلہ ڈویژن کے دورے کو علاقے میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں کی نگرانی اور عوامی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کمشنر لسبیلہ نے بی اینڈ آر بلڈنگ کے تعمیراتی کاموں پر اطمینان کا اظہار کیا اس موقع پر DHO لسبیلہ ڈاکٹر فرید اللہ شاہ ہاشمی، قائمقام ایم ایس ڈاکٹر تصدق ندیم ، ایس ڈی او بی اینڈ آر روڈ ظہیر احمد بلوچ، ایس ڈی او بی اینڈ آر بلڈنگ لطیف بلوچ، انجنئیر نجیب بلوچ،سپرینڈنٹ کمشنر لسبیلہ غلام مرتضی شیخ، ٹھیکیدار شمس درانی، انجنئیر سفر بلوچ اور دیگر بھی موجود تھے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7045/2026
اوتھل27اگست ۔: محکمہ زراعت کی جانب سے کسان کارڈ کی تقسیم کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر آفس لسبیلہ میں تقریب منعقد ہوئی، جس کی صدارت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے کی۔ تقریب میں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت تنویر احمد چنہ، امیت بلوچ سمیت محکمہ زراعت کے افسران و ملازمین نے شرکت کی۔تقریب کے دوران زمینداروں میں کسان کارڈ تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ کسان کارڈ کے ذریعے کاشتکاروں کو زرعی مداخل آسان شرائط پر فراہم کیے جائیں گے، جس سے زرعی پیداوار میں اضافے اور کسانوں کو سہولت فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت تنویر احمد چنہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع لسبیلہ میں اب تک 500 سے زائد کسانوں کے کسان کارڈ منظور ہو چکے ہیں، جبکہ رجسٹریشن کا عمل تاحال جاری ہے۔انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ جلد از جلد کسان کارڈ کے لیے رجسٹریشن مکمل کروائیں تاکہ حکومتی سہولیات اور زرعی مراعات سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7046/2026
کوئٹہ 27 اگست ۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل امریکہ کا کامیاب سرکاری دورہ مکمل کرکے وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ دورہ امریکہ کے دوران گورنر بلوچستان نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں یوتھ انٹرنیشنل آرگنائزیشن کے زیر اہتمام “یوتھ اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے عالمی سربراہی اجلاس سے خطاب کیا جہاں انہوں نے پاکستان بالخصوص بلوچستان کے نوجوانوں کی صلاحیتوں، مسائل اور مستقبل کے امکانات کو عالمی سطح پر موثر انداز میں اجاگر کیا۔گورنر بلوچستان نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس، جدید ٹیکنالوجی اور معیاری تعلیم سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بلوچستان کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں اور انہیں جدید علوم، ٹیکنالوجی اور ہنر کے مواقع فراہم کرکے ملک کے تعمیر و ترقی کے عمل میں بھرپور کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دورہ امریکہ کے دوران پاکستان اور بلوچستان کے نوجوانوں کی عالمی سطح پر نمائندگی ایک اہم کامیابی ہے۔ عالمی سطح پر نوجوانوں سے متعلق ہونے والی گفتگو میں بلوچستان کے نوجوانوں کی آواز کو اجاگر کرنا اس بات کا اعتراف ہے کہ صوبے کے نوجوان بھی عالمی ترقی، ٹیکنالوجی اور جدت کے سفر میں اپنا موثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے جوش و جذبے کے ساتھ جشن آزادی منانے کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں میل دور امریکہ میں آباد پاکستانیوں کے دل آج بھی وطن کی محبت سے سرشار ہیں اور وہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور مثبت تشخص کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ دورہ امریکہ کے دوران گورنر بلوچستان نے پاکستانی تاجروں، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے مختلف وفود سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان اور بلوچستان میں گورنر بلوچستان نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ پاکستان اور بلوچستان میں موجود منافع بخش سرمایہ کاری کے مواقع سے استفادہ کریں۔ دورہ امریکہ کے دوران ممتاز پاکستانی بزنس مین تنویر احمد اور میکسم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عذیر حسن بھی گورنر بلوچستان کے ہمراہ تھے۔ ان کی موجودگی میں مختلف کاروباری اور سرمایہ کاری حلقوں کے ساتھ روابط کو مزید موثر بنانے اور پاکستان و بلوچستان میں سرمایہ کاری کے امکانات کو اجاگر کرنے کیلئے اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ امریکہ کا دورہ پاکستان اور بلوچستان کے نوجوانوں کی عالمی سطح پر نمائندگی، جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئے روابط کے قیام اور سرمایہ کاری کے امکانات کو اجاگر کرنے کے حوالے سے اہم کامیابی ثابت ہوا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7047/2026
موسیٰ خیل 27 اگست ۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے آج ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے تحت جاری ترقیاتی منصوبے یعنی بلڈ بینک اور آپریشن تھیٹر کے تعمیراتی کام کا تفصیلی معائنہ کیا۔دورے کے دوران میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (MS) ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر نادر نے ڈپٹی کمشنر کو منصوبے پر اب تک ہونے والی پیشرفت اور کام کے معیار کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے گفتگو کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ترقیاتی کاموں میں شفافیت اور اعلیٰ معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد بہتر طبی سہولیات میسر آسکیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7048/2026
کوئٹہ 27اگست ۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) کے ٹیکس شیڈول کے مطابق ریکروٹنگ ایجنٹس کی جانب سے بیرونِ ملک ملازمت کیلئے افراد یا افراد کے گروپ کی بھرتی سے متعلق فراہم کردہ خدمات پر بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز (BSTS) کی شرح 5 فیصد مقرر ہے۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے تمام متعلقہ ریکروٹنگ ایجنٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ قابلِ اطلاق ٹیکس قوانین کے تحت بی آر اے کے ساتھ رجسٹریشن، درست ٹیکس رپورٹنگ، بروقت ریٹرن فائلنگ اور واجب الادا ٹیکس کی بروقت ادائیگی یقینی بنائیں۔اتھارٹی نے واضح کیا کہ ٹیکس قوانین کی پاسداری ہر قابلِ ٹیکس سروس فراہم کنندہ کی قانونی ذمہ داری ہے۔ بروقت ٹیکس تعمیل سے شفاف ٹیکس نظام کے فروغ، ٹیکس بیس میں توسیع اور صوبے کے محصولات میں اضافے میں مدد ملتی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7049/2026
نصیرآباد27اگست ۔ معذور افراد کے مسائل کے حل کے لیے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل سے وفد کی ملاقات واضح رہے کہ آج اسپیشل پرسنز آرگنائزیشن نصیرآباد بلوچستان کے رجسٹرڈ صدر بشیر احمد منگریو اور جنرل سیکرٹری ذوالقرنین بھنگر کی سربراہی میں معذور افراد کے وفد نے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل سے ملاقات کی ملاقات کے دوران وفد نے ضلع نصیرآباد میں معذور افراد کو درپیش مختلف مسائل مشکلات اور بنیادی سہولیات سے متعلق امور سے ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا وفد کے اراکین نے بتایا کہ معذور افراد کو سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے معذوری کے سرٹیفکیٹ کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے جس کے باعث انہیں سرکاری و غیر سرکاری سطح پر دستیاب سہولیات اور مراعات کے حصول میں دشواری پیش آتی ہے۔ وفد نے پڑھے لکھے اور باصلاحیت معذور افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے بالخصوص نان گورنمنٹ آرگنائزیشنز NGOs میں ان کی تعلیمی قابلیت اور صلاحیت کے مطابق بھرتی کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا وفد نے ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا کہ معذور افراد کے مسائل کے حل انہیں درپیش مشکلات کے ازالے اور ان کے لیے دستیاب سرکاری سہولیات تک آسان رسائی کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ محکموں کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں تاکہ انہیں معاشرے کا باعزت اور فعال حصہ بنایا جا سکے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے وفد کے مسائل اور تحفظات کو غور سے سنا اور انہیں یقین دلایا کہ معذور افراد کے جائز مسائل کے حل کے لیے ضلعی انتظامیہ ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکموں کے افسران کے ساتھ رابطہ کرکے معذور افراد کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ خصوصی افراد معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور ان کی فلاح و بہبود بنیادی حقوق کے تحفظ اور انہیں سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ معذوری کے سرٹیفکیٹس کے حصول روزگار کے مواقع اور دیگر جائز مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام سے مشاورت کرکے ان شائ اللہ جلد از جلد ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7050/2026
نصیرآباد27اگست ۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل سے آج ضلع نصیرآباد کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور شہریوں نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفود اور شہریوں نے اپنے درپیش مسائل کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا اور بعض مسائل کے حل کے لیے تحریری درخواستیں بھی پیش کیںاس موقع پر شہریوں نے مختلف نوعیت کے مسائل جن میں بنیادی سہولیات عوامی خدمات اور دیگر انتظامی امور سے متعلق معاملات شامل تھے، ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کیے ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے شہریوں کے مسائل کو توجہ اور تحمل سے سنا اور متعلقہ امور کے بارے میں ضروری معلومات بھی حاصل کیںڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل اور شہریوں کو ریلیف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے انہوں نے یقین دلایا کہ عوام کی جانب سے پیش کیے جانے والے جائز اور قابلِ عمل مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکموں سے رابطہ کرکے ضروری اقدامات کیے جائیں گے انہوں نے متعلقہ افسران کو بھی ہدایت کی کہ عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جائے اور جن معاملات کا تعلق ضلعی انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں ہے، انہیں قواعد و ضوابط کے مطابق جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کی جائےڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ عوام اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطہ مسائل کے بروقت حل میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے شہری بلاجھجک اپنے مسائل انتظامیہ کے سامنے پیش کریں تاکہ ان کے حل کے لیے ممکنہ اقدامات اٹھائے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7051/2026
لسبیلہ 27اگست:۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطا بلوچ نے ڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرہ بلوچ کے ہمراہ تحصیل لاکھڑا کا دورہ کیا،انہوں نے رورل ہیلتھ سینٹر لاکھڑا اور گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول لاکھڑا اور گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول لاکھڑا میں بی ایس ڈی آء کے تحت جاری ترقیاتی کاموں کامعائنہ کیا جبکہ ایکسئین بی اینڈ آر بلڈنگ خلیل احمد نے انہیں منصوبوں کی فزیکل فنانشل پروگریس کے حوالے سے بریفنگ دی، کمشنر کو دورے کے موقع پر لوکل کمیونٹی نمائندوں شہری ایکشن کمیٹی کے عبدالحمید گنگواور سماجی شخصیت لعل محمد موشانی نے انہیں تحصیل لاکھڑا کے مسائل خصوصا ایمبولینس کی خرابی،بجلی و پانی کی قلت سے انہیں آگاہی فراہم کی جبکہ لاکھڑا کے شہریوں نے ایم این اے جام۔ کمال اورایم پی اے لسبیلہ پارلیمانی سیکرٹری زرین خان مگسی کی کوششوں سے ڈپٹی کمشنر لسبیلہ کی جانب سے لاکھڑا میں (بی ایس ڈی آئی) کے توسط سے مختلف پروجیکٹ منظور کرنے پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا،جبکہ رورل ہیلتھ سینٹر لاکھڑا میں میڈیکل افسران کی کمی کی بھی نشاندہی کی گئی،اس موقع پر کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطا نے لاکھڑا کے مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کرنے کے ساتھ ساتھ ہسپتال کی چاردیواری کے کام کو تیزی سے کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لاکھڑا کے مقامی ٹھیکیدار واجہ محمد عامر گنگو کی تعریف کی جبکہ کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطا نے اسکول کی عمارت کے کام کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی۔
خبر نامہ نمبر7052/2026
کوئٹہ 27اگست۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات پر آبادی والے علاقوں میں قائم غیر قانونی منی پیٹرول پمپس کے خلاف ضلعی انتظامیہ نے سخت کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 63 منی پیٹرول پمپس سیل جبکہ 72 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا۔یہ کارروائیاں پشتون آباد، جوائنٹ روڈ، سرکی روڈ، فقیر محمد روڈ، میہانگی روڈ، کاسی روڈ، عالموں چوک، ایئرپورٹ روڈ، نوحصار کلی، سمنگلی، خروٹ آباد سمیت کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں کی گئیں۔آپریشن اسسٹنٹ کمشنر سٹی محمد امیر حمزہ، اسسٹنٹ کمشنر صدر محمد یوسف ہاشمی، اسسٹنٹ کمشنر کچلاک کیپٹن (ر) کبیر مزاری اور اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ کی زیر نگرانی ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی ٹیموں نے کیا۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق حالیہ پشین اسٹاپ واقعے کے بعد آبادی والے علاقوں میں قائم منی پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی مزید تیز کردی گئی ہے۔ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور آتشزدگی کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے آبادی والے علاقوں میں غیر قانونی منی پیٹرول پمپس کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ غیر قانونی منی پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا جائے اور عوامی تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7053
کوئٹہ 27 اگست:ـ منگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن، ضلع زیارت میں پیش آنے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن آف انکوائری جسٹس محمد عامر نواز رانا نے آج کھلی عدالت میں سماعت کی۔ سماعت میں ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان عبدالطیف کاکڑ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خلیل الرحمان، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سلطان بڑیچ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل محمد فرید ڈوگر، ڈپٹی اٹارنی جنرل انور نسیم کاسی، پراسیکیوٹر جنرل بلوچستان بہرام خان ترین، ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرلز عبدالطیف کاکڑ اور حبیب اللہ گل، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل عبدالمتین سمیت دیگر متعلقہ حکام، وکلاء موجود تھے۔ آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر، اے آئی جی لیگل شفیق الرحمان، شہداء کے لواحقین اور قانونی ورثاء، متعدد وکلاء اور کمیشن کے رجسٹرار/سیکرٹری بھی کارروائی میں شریک ہوئے۔کمیشن کے 24 اگست 2026 کے حکم کی تعمیل میں آئی جی پولیس بلوچستان اور اے آئی جی لیگل کمیشن کے روبرو ذاتی طور پر پیش ہوئے اور حملے سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ بمعہ متعلقہ دستاویزات جمع کرائی، جسے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا گیا۔ آئی جی پولیس نے کمیشن کو واقعے کے محرکات، حملے سے متعلق دستیاب معلومات اور پولیس کی جانب سے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔
سماعت کے دوران آئی جی پولیس نے شہداء کے لواحقین اور قانونی ورثاء کے لیے منظور شدہ شہداء پیکج کے تحت کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بھی پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام شہداء میرے اپنے بچے اور ان کے ورثا ہماری فیملی ہے۔ کمیشن کو بتایا گیا کہ پالیسی کے مطابق حقدار قانونی ورثاء کو شہید اہلکار کی مدتِ ملازمت مکمل ہونے تک تنخواہ کی ادائیگی، وراثتی سرٹیفیکیٹ بننے تک محکمہ پولیس کی جانب سے شہداء کے ورثا کو تین مہینے تنخواہ کی ادائیگی جو ناقابل واپسی ہوگی، یکمشت مالی معاوضہ، متعلقہ گریڈ کے مطابق پلاٹ کے عوض رقم، اہل خانہ میں سے کسی ایک حقدار فرد کو سرکاری ملازمت، بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے یتیم زیرِ کفالت بچوں کی تعلیم اور دیگر مالی واجبات کی فراہمی پیکج کا حصہ ہے۔ آئی جی پولیس نے یقین دہانی کرائی کہ محکمہ پولیس شہداء کے خاندانوں کی ہر ممکن معاونت جاری رکھے گا۔کمیشن نے سماعت کے دوران پولیس افسران کی دستیابی اور صوبے میں پولیس کی انتظامی استعداد سے متعلق اہم سوالات بھی اٹھائے۔ کمیشن نے استفسار کیا کہ ملک کے دیگر حصوں سے تعلق رکھنے والے پی ایس پی کیڈر کے افسران بلوچستان میں خدمات انجام کیوں نہیں دے رہے۔ آئی جی پولیس اس سوال پر کوئی تسلی بخش جواب پیش نہ کر سکے، تاہم انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے لیے مختص تقریباً 49 پی ایس پی کیڈر کی آسامیاں خالی ہیں اور اس معاملے سے وفاقی حکومت کو آگاہ کیا جا چکا ہے۔اس پر کمیشن نے قرار دیا کہ پولیس ایک نہایت اہم ریاستی ادارہ ہے جس کی بنیادی ذمہ داری بلاخوف و خطر، بہادری اور جانفشانی کے ساتھ عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنا ہے۔ کمیشن نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ بلوچستان پولیس کو جدید اسلحہ، ضروری آلات، وسائل اور دیگر مطلوبہ سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ فورس اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کر سکے۔
آئی جی پولیس بلوچستان نے کمیشن کی کارروائی میں آئندہ بھی مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے ایک باخبر، تجربہ کار اور اچھی شہرت کے حامل افسران پر مشتمل رابطہ ٹیم (Liaison Team) نامزد کرنے کا عندیہ دیا۔ کمیشن نے ہدایت کی کہ ایسی ٹیم تشکیل دی جائے جو ہر تاریخِ سماعت پر باقاعدگی سے کمیشن کے روبرو پیش ہو اور کارروائی کے سلسلے میں مطلوبہ معاونت فراہم کرے۔دوسری جانب وکلاء شمس الرحمان کاکڑ، عبدالمصور خان، صادق خان، برخوردار خان اچکزئی، عطا محمد کاکڑ اور حبیب اللہ خان ناصر سمیت دیگر وکلاء نے آئی جی پولیس کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ اور متعلقہ دستاویزات کی نقول طلب کیں، جو دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کی جانب سے فراہم کر دی گئیں۔ وکلاء نے یقین دہانی کرائی کہ وہ رپورٹ کا جواب آئندہ سماعت یا اس سے قبل جمع کرا دیں گے۔ انہوں نے کمیشن کو معاونت فراہم کرنے کے لیے وکلاء کے ایک پینل کے نام بھی پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی۔سماعت کے دوران شہید اہلکاروں کے بھائی نسیم اللہ سمیت زیارت، لورالائی اور سنجاوی سے تعلق رکھنے والے متعدد گواہان اور شہداء کے لواحقین و قانونی ورثاء بھی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور اپنے بیانات قلمبند کرانے کے لیے رجسٹریشن کرانے کی خواہش ظاہر کی۔ کمیشن نے تمام متعلقہ لواحقین، قانونی ورثاء اور دیگر شہداء کے رشتہ داروں کو ہدایت کی کہ وہ 3 ستمبر 2026 تک کمیشن کے رجسٹرار/سیکرٹری کے پاس اپنی رجسٹریشن مکمل کرائیں، تاکہ آئندہ کارروائی کے لیے ضروری مراحل مکمل کیے جا سکیں۔کمیشن نے کیس کی مزید کارروائی 7 ستمبر 2026 بروز پیر، دوپہر 1 بجے تک ملتوی کردی۔
خبر نامہ نمبر 2026/7054
کوئٹہ27 اگست:ـبلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی جانب سے ضلع واشک کے میٹرک کے 10 نمایاں طلباء و طالبات، جن میں 5 طالبات اور 5 طلباء شامل ہیں، کو شہید بینظیر بھٹو میٹرک ڈسٹرکٹ ٹاپرز فلی فنڈڈ اسکالرشپ برائے تعلیمی سال 2025 کے تحت خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر منتخب کیا گیا ہے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ خالد ماندائی نے کہا ہے کہ تعلیم نوجوان نسل کو آگے بڑھنے، اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے، بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کا مقصد باصلاحیت اور مستحق طلباء و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مالی معاونت فراہم کرنا اور انہیں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسکالرشپ پروگرام وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے تعلیمی وژن کے مطابق صوبے کے ذہین اور مستحق نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور اعلیٰ تعلیم تک ان کی رسائی یقینی بنانے کی جانب اہم اقدام ہے۔ خالد ماندائی نے کہا کہ اسکالرشپ کے ذریعے منتخب طلباء و طالبات کو اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے میں مالی معاونت حاصل ہوگی جس سے وہ اپنی تعلیمی استعداد میں مزید اضافہ کرسکیں گے اور مستقبل میں اپنے خاندان، ضلع واشک اور بلوچستان کے لیے باعثِ فخر بن سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ میرٹ، شفافیت اور مساوی مواقع کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبے بھر کے قابل طلباء و طالبات کی تعلیمی معاونت کے لیے سرگرم عمل ہے اور اسکالرشپ پروگرامز کے شفاف و مؤثر نفاذ کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم کے مواقع کو مزید بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جارہے ہیں۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ خالد ماندائی نے ضلع واشک سے اس باوقار اسکالرشپ کے لیے منتخب ہونے والے تمام ہونہار طلباء و طالبات اور ان کے والدین کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز ان کی محنت، قابلیت اور مسلسل تعلیمی جدوجہد کا ثمر ہے، امید ہے کہ یہ نوجوان مستقبل میں اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں استعمال کرتے ہوئے نہ صرف اپنی کامیابی کی نئی راہیں ہموار کریں گے بلکہ ضلع واشک اور بلوچستان کی ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طالب علم کو تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنا دراصل ایک بہتر معاشرے کی بنیاد رکھنے کے مترادف ہے، آج کے یہی باصلاحیت نوجوان کل مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی قابلیت کے ذریعے ملک و قوم کی خدمت کرسکتے ہیں۔ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کا عزم ہے کہ میرٹ اور قابلیت رکھنے والے طلباء و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں ممکنہ حد تک معاونت اور یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/7055
کوئٹہ27 اگست:ـوزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی وژن اور خصوصی ہدایات کی روشنی میں محکمہ سوشل ویلفیئر بلوچستان کی جانب سے خصوصی افراد کی فلاح، تعلیم، شمولیت اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔
اسی سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر بلوچستان میر سیف اللہ خان کھیتران نے ڈیف ریچ اسکول کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں سماعت سے محروم 272 طلبہ و طالبات میں اسکول یونیفارمز تقسیم کیے گئے۔
اس موقع پر ڈی جی سوشل ویلفیئر میر سیف اللہ خان کھیتران نے کہا کہ خصوصی بچے معاشرے کا اہم اور قیمتی حصہ ہیں، انہیں تعلیم کے مساوی مواقع، ضروری سہولیات اور سازگار ماحول فراہم کرنا حکومت اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ سوشل ویلفیئر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے وژن کو عملی شکل دینے کے لیے معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات، بالخصوص خصوصی افراد کی فلاح و بہبود، تعلیم، بحالی، تحفظ اور سماجی شمولیت کے لیے مؤثر اقدامات کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 272 طلبہ میں یونیفارمز کی تقسیم خصوصی بچوں کو تعلیمی سرگرمیوں میں اعتماد اور وقار کے ساتھ آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ حکومت بلوچستان ایک ایسے جامع معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں ہے جہاں ہر بچے کو تعلیم حاصل کرنے، اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے اور معاشرے کی مثبت ترقی میں کردار ادا کرنے کے یکساں مواقع میسر ہوں۔
ڈی جی سوشل ویلفیئر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ بلوچستان بھر میں خصوصی افراد کی تعلیم، بحالی، تحفظ، سماجی شمولیت اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے اپنے اقدامات کو مزید مؤثر اور وسیع کرے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/7056
اوتھل27اگست:_کمشنر لسبیلہ ڈویژن محترمہ سائرہ عطاء نے ڈپٹی کمشنر لسبیلہ کے ہمراہ لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر، واٹر اینڈ میرین سائنسز (LUAWMS) کا دورہ کیا اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبد المالک ترین سے ملاقات کی۔بعد ازاں لسبیلہ یونیورسٹی کے سینیٹ ہال میں یونیورسٹی کی مجموعی کارکردگی، جاری ترقیاتی منصوبوں اور دیگر اہم امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ کا انعقاد کیا گیا۔ رجسٹرار LUAWMS بلاچ رشید نےیونیورسٹی کی تعلیمی، انتظامی اور ترقیاتی پیش رفت پر پریزنٹیشن دی۔ پریزنٹیشن میں پرو وائس چانسلر ڈاکٹر الٰہی بخش مرغزانی، تمام ڈینز اور ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبد المالک ترین نے یونیورسٹی کی پیش رفت اور جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جامعہ میں مختلف ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں BSDI کے تحت آئی ٹی اسکل لیب کا افتتاح بھی کیا گیا ہے، جو ضلعی انتظامیہ حکومت بلوچستان کے تعاون سے قائم کی گئی ہے۔ آئی ٹی اسکل لیب کا مقصد طلبہ کوجدیدٹیکنالوجی اور آئی ٹی کے شعبے میں عملی و فنی مہارتیں فراہم کرنا ہے۔
کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے یونیورسٹی میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں اور تعلیمی سہولیات کو سراہا اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے یونیورسٹی کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ کمشنر سائرہ عطاء اور ڈپٹی کمشنر مس ہمیرا بلوچ نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبد المالک ترین اور یونیورسٹی انتظامیہ کے ہمراہ یونیورسٹی میں جاری ترقیاتی کاموں اور آئی ٹی اسکل لیب کا دورہ کیا اور وہاں فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔


