خبرنامہ نمبر9250/2026
شمالی ڈیرہ بگٹی، 24 اکتوبر: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مسلسل تیسرے روز کھلی کچہری کا انعقاد کرتے ہوئے مختلف اضلاع سے آنے والے شہریوں کے مسائل براہ راست سنے اور متعلقہ حکام کو ان کے فوری حل کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایات جاری کیں۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے قبائلی عمائدین سے بھی ملاقات کی اور علاقے کے مسائل، ترقیاتی ضروریات اور عوام کو درپیش مشکلات پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ کھلی کچہریوں کا مقصد عوام کو اپنی شکایات براہ راست حکومتی قیادت تک پہنچانے کا موقع فراہم کرنا اور متعلقہ محکموں کو مسائل کے حل کے لیے جوابدہ بنانا ہے۔ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ شہریوں کی شکایات پر فوری کارروائی کی جائے اور عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی نو گو ایریا نہیں اور صوبے کے عوام ریاست اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اسمبلی اپنے حلقوں میں باقاعدگی سے جاتے ہیں اور علاقائی تقریبات میں شرکت کرتے ہوئے عوام سے رابطے میں رہتے ہیں۔ علاقائی ترقی اور رابطہ سڑکوں کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کے علاقے تونسہ کو بلوچستان سے ملانے والی شاہراہ کے لیے وفاقی حکومت سے فنڈز کے اجرا کی خاطر کوششیں کی گئی ہیں۔ اسی طرح چھپر قومی شاہراہ سے کھرڑ بزدار تک سڑک کی تعمیر کے لیے سروے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کی تکمیل سے بلوچستان کو پنجاب تک رسائی کے لیے ایک اور متبادل راستہ میسر آئے گا، جس سے آمدورفت میں آسانی پیدا ہونے کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ضلع بارکھان میں شامل ہونے والے علاقوں اندر پہوڑ، میریڑی واہ اور رڑہ شم سمیت تمام متعلقہ علاقوں کے سرکاری اسکول کھولنے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور تعلیمی اداروں کی فعالیت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچیوں کی تعلیم کو بھی یکساں اہمیت دی جا رہی ہے اور اس مقصد کے لیے ایک پائلٹ پراجیکٹ پر کام جاری ہے تاکہ بچیوں کو تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کیے جاسکیں۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان سے سیاسی و سماجی رہنما میر یعقوب بزدار نے ملاقات کی اور انہیں علاقے کے مسائل اور ترقیاتی ضروریات سے آگاہ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ امور پر ضروری اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔ علاقے میں طبی سہولیات اور مریضوں کی بروقت منتقلی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کھرڑ بزدار سے ڈیرہ غازی خان تک مریضوں کو منتقل کرنے کے لیے فوری طور پر ایمبولینس سروس فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس ایمبولینس سروس کے ماہانہ اخراجات حکومت بلوچستان برداشت کرے گی تاکہ علاقے کے شہریوں کو ہنگامی طبی ضرورت کے وقت سہولت میسر آسکے۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت عوامی مسائل کے حل، تعلیم و صحت کی سہولیات کی بہتری اور پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔
خبرنامہ نمبر9251/2026
کوئٹہ 24 اکتوبر:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ورلڈ ڈویلپمنٹ انفارمیشن ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ترقیاتی معلومات تک عوام کی بروقت اور مستند رسائی شفاف حکمرانی، عوامی اعتماد اور پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔ بلوچستان میں پہلی ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کا اجرا جدید ابلاغی تقاضوں سے ہم آہنگی اور معلومات کی مؤثر ترسیل کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ترقیاتی امور سے متعلق درست معلومات عوام کا حق ہیں اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح کے اقدامات اور دستیاب سہولیات سے متعلق معلومات شہریوں تک پہنچائی جائیں۔ باخبر عوام نہ صرف ترقیاتی منصوبوں سے بہتر طور پر مستفید ہوسکتے ہیں بلکہ حکومتی اقدامات کی نگرانی اور جوابدہی کے عمل میں بھی مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے عوامی آگاہی کو فروغ دینے، معلومات تک رسائی آسان بنانے اور سرکاری اقدامات میں شفافیت یقینی بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل میڈیا پالیسی جدید ذرائع ابلاغ کے تقاضوں کے مطابق معلومات کی ترسیل کو مؤثر بنانے اور عوام و حکومت کے درمیان رابطے کو مزید بہتر کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے وسیع رقبے اور دور دراز علاقوں میں آباد آبادی تک ترقیاتی معلومات کی رسائی خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ صحت، تعلیم، روزگار اور بنیادی سہولیات سے متعلق مستند معلومات کی فراہمی عوام کو دستیاب مواقع سے آگاہ کرنے اور ترقیاتی عمل میں ان کی شرکت بڑھانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شفافیت، جوابدہی اور عوامی آگاہی کو فروغ دیے بغیر ترقی کے ثمرات مؤثر انداز میں عوام تک نہیں پہنچائے جاسکتے۔ جدید ڈیجیٹل ذرائع کا ذمہ دارانہ استعمال اور معلومات کی بروقت فراہمی بہتر طرز حکمرانی اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔ حکومت بلوچستان اس امر کو اہمیت دیتی ہے کہ عوام تک درست معلومات پہنچائی جائیں اور ترقیاتی عمل کو زیادہ شفاف، جامع اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جائے۔
خبرنامہ نمبر9252/2026
وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے ورلڈ ڈویلپمنٹ انفارمیشن ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ترقیاتی امور سے متعلق درست اور مستند معلومات تک عوام کی رسائی ان کا بنیادی حق اور شفاف حکمرانی کا اہم تقاضا ہے۔ باخبر شہری نہ صرف ترقیاتی منصوبوں سے بہتر طور پر مستفید ہوسکتے ہیں بلکہ حکومتی اقدامات کی نگرانی اور جوابدہی کے عمل میں بھی مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ شاہد رند نے کہا کہ ترقیاتی معلومات کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنا اور ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے مستند معلومات کی بروقت فراہمی ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت یقینی بنانے، بدعنوانی کی روک تھام اور عوامی فلاح کے ثمرات مستحق افراد تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر منصوبہ بندی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے درست اعداد و شمار اور زمینی حقائق پر مبنی معلومات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ جب عوام کو ترقیاتی منصوبوں کے مقاصد، مختص وسائل، پیش رفت اور متوقع فوائد سے آگاہ کیا جاتا ہے تو عوامی اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے اور ترقیاتی عمل میں شہریوں کی شمولیت کو فروغ ملتا ہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ترقی کا حقیقی مقصد اس کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات، بالخصوص پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے عوام تک پہنچانا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ترقیاتی معلومات تک بلا امتیاز رسائی یقینی بنائی جائے اور عوام کو جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے آسان، قابلِ فہم اور مستند معلومات فراہم کی جائیں۔شاہد رند نے کہا کہ محکمہ اطلاعات عوام اور حکومت کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ ہے، جو ترقیاتی اقدامات، عوامی فلاحی منصوبوں اور حکومتی پالیسیوں سے متعلق آگاہی فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ورلڈ ڈویلپمنٹ انفارمیشن ڈے اس عزم کی تجدید کا موقع ہے کہ معلومات تک عوام کی رسائی کو مزید مؤثر بنایا جائے، ڈیجیٹل ذرائع کے مثبت استعمال کو فروغ دیا جائے اور شفافیت، جوابدہی اور عوامی شرکت کی بنیاد پر پائیدار ترقی کی راہ ہموار کی جائے۔
خبرنامہ نمبر9253/2026
شمالی ڈیرہ بگٹی، 24 اکتوبر: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع شمالی ڈیرہ بگٹی میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کیا اور ان پر جاری کام کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے نئے ضلع شمالی ڈیرہ بگٹی میں نو تعمیر شدہ مختلف سرکاری دفاتر کا افتتاح بھی کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نئے ضلع میں سرکاری دفاتر کا قیام عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سرکاری سہولیات فراہم کرنے اور انتظامی امور تک رسائی آسان بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ نئے اضلاع میں سرکاری اداروں کو فعال بنانا اور انتظامی نظام کو مؤثر بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے تاکہ شہریوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر نہ کرنا پڑے۔وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سرکاری افسران کو ہدایت کی کہ وہ عوامی خدمت کو اپنا فرض سمجھیں، دفاتر میں اوپن ڈور پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور مقررہ وقت پر اپنی حاضری یقینی بناتے ہوئے شہریوں کے مسائل کے حل کو ترجیح دیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو سرکاری دفاتر میں اپنے جائز مسائل کے حل کے لیے غیر ضروری انتظار اور مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ سرکاری مشینری کا بنیادی مقصد عوام کو سہولیات فراہم کرنا اور ان کے مسائل کا بروقت حل یقینی بنانا ہے، اس لیے افسران کی کارکردگی کو عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات، ان کے رویے اور مسائل کے حل میں سنجیدگی کی بنیاد پر جانچا جانا چاہیے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ نئے اضلاع میں انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانا اور سرکاری اداروں کی فعالیت یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور کی جاسکیں اور انتظامی امور میں بہتری لائی جاسکے۔ ترقیاتی منصوبوں کے جائزے کے دوران وزیر اعلیٰ نے پانی کے ذخائر اور ڈیمز کی تعمیر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں پانی کی قلت کے تناظر میں آبی ذخائر کی تعمیر ناگزیر ہے، تاہم ان منصوبوں کے تعمیراتی معیار پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ڈیمز سمیت تمام ترقیاتی منصوبوں میں مقررہ معیار اور تکنیکی تقاضوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ یہ منصوبے دیرپا، مؤثر اور عوام کے لیے حقیقی معنوں میں مفید ثابت ہوں۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں ناقص تعمیراتی کام کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا اور متعلقہ حکام منصوبوں کی مؤثر نگرانی، شفافیت اور بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی وسائل قومی امانت ہیں اور ان کا درست استعمال حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر یا معیار میں کوتاہی عوامی مفاد کو متاثر کرتی ہے، اس لیے متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور جوابدہی کے ساتھ ادا کریں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شمالی ڈیرہ بگٹی سمیت صوبے کے تمام علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، انتظامی نظام کی بہتری اور ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی مؤثر بنائی جائے اور ہر انتظامی و ترقیاتی فیصلے میں عوامی مفاد کو مقدم رکھا جائے تاکہ حکومتی اقدامات کے ثمرات براہ راست شہریوں تک پہنچ سکیں۔
خبرنامہ نمبر9254/2026
کوئٹہ، 24 اکتوبر 2026ء: محمکہ ایکسائز اینڈ ٹیکسشن، نے بلوچستان میں منشیات کے خاتمے اور بھنگ،چرس کی غیر قانونی کاشت کے خلاف جاری انسدادِ بھنگ مہم 2026 کے تحت ضلع قلعہ عبداللہ کی تحصیل گلستان اور دوبندی میں مشترکہ کارروائیاں جاری ہیں۔ 23 اکتوبر کو مختلف مشترکہ ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 331 ایکڑ اراضی سے بھنگ کی کاشت کا خاتمہ کیا، جس کے بعد مہم کے آغاز سے اب تک ختم کی جانے والی بھنگ کی کاشت کا مجموعی رقبہ 992 ایکڑ ہو گیا ہے۔کارروائیاں ضلعی انتظامیہ قلعہ عبداللہ کی قیادت میں اسسٹنٹ کمشنر گلستان، اینٹی نارکوٹکس فورس اے این ایف بلوچستان ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، فرنٹیئر کور، پولیس اور دیگر متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ معاونت سے انجام دی گئیں۔ اس موقع پر انٹیلی جنس بیورو ملٹری انٹیلی جنس اور ایف سی آئی یو کے نمائندے بھی شریک تھے۔محکمہ ایکسائز کے اہلکاروں نے بتایا کہ گلستان کے علاقے عبدالرحمٰن زئی اور قندیل سئیگئی میں مشترکہ ٹیموں نے 285 ایکڑ اراضی سے بھنگ کی کاشت کا خاتمہ کیا، جبکہ دوبندی سب ڈویژن میں کارروائی کے دوران مزید 46 ایکڑ اراضی کو بھنگ کی کاشت سے پاک کیا گیا۔ اس طرح ایک روز میں مجموعی طور پر 331 ایکڑ اراضی پر کارروائی مکمل کی گئی۔بھنگ کی کاشت کے خاتمے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے گئے، جبکہ انسدادِ منشیات مہم میں ضلعی انتظامیہ، ایف سی، پولیس، اے این ایف اور محکمہ ایکسائز کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔ متعلقہ اداروں کی مشترکہ ٹیمیں بھنگ کی کاشت کے خاتمے کے لیے مربوط انداز میں کارروائیاں انجام دے رہی ہیں۔حکام کے مطابق انسدادِ بھنگ مہم 2026 بھنگ کی کاشت کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گی، جس کا مقصد منشیات کی پیداوار کی روک تھام اور علاقے کو منشیات سے پاک بنانے کی کوششوں کو مؤثر بنانا ہے۔
خبرنامہ نمبر9255/2026
خضدار ڈی سی آفس کے کانفرنس ہال میں ضلع خضدار کے تمام محکموں کا ماہانہ جائزہ اجلاس اپوزیشن لیڈر بلوچستان اسمبلی میر یونس عزیز زہری کی سربراہی میں منعقد ہوا، جبکہ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے خصوصی طور پر شرکت کی۔اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، جس کے بعد تمام محکموں نے باری باری اپنی ماہانہ کارکردگی رپورٹ پیش کی۔ محکمہ صحت نے ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی، محکمہ تعلیم نے اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری، جبکہ محکمہ بی اینڈ آر، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور اربن پلاننگ نے جاری ترقیاتی اسکیموں، سڑکوں اور واٹر سپلائی اسکیموں پر تفصیلی بریفنگ دی۔اسکے علاوہ محکمہ حیوانات، ذراعت اور دیگر مختلف محکمہ جات کے آفیسران نے بھی اپنے اپنے محکموں کے بارے میں بریفنگ دی۔ اس موقع پر اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے تمام محکموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جاری ترقیاتی منصوبے کسی پر احسان نہیں بلکہ عوام کا حق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خضدار ایک پسماندہ ضلع ہے، یہاں کے عوام کو تعلیم، صحت، پانی اور سڑکوں جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے واضح ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو بروقت اور معیاری انداز میں مکمل کیا جائے اورہر منصوبے میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو بہتر اور دیرپا سہولیات میسر آ سکیں۔میر یونس عزیز زہری نے مزید کہا کہ تمام محکموں کے افسران اپنے دفاتر میں عوام کے لیے آسانی پیدا کریں، عوامی مسائل کے حل میں کوتاہی نہ برتیں اور اپنی ذمہ داریاں احسن، ایمانداری اور فرض شناسی کے ساتھ نبھائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام محکمے اپنی ماہانہ کارکردگی رپورٹ تیار رکھیں اور وہ خود انُکے دفاتر جائینگے۔تاکہ جن محکموں کی کارکردگی خراب ہے ان کی نشاندہی ہو سکے۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری کی ہدایات پر سو فیصد عمل درآمد کیا جائے گا اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے ضلعی انتظامیہ ہر ممکن اقدامات کرے گی۔
خبرنامہ نمبر9256/2026
بارکھان، خبر نامہ 24. اکتوبر 2026ء ڈپٹی کمشنر ضلع بارکھان سعید الرحمن کاکڑ کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر راڑہ شم انضمام قاسم سیلاچی نے یونین کونسل اندرڑ پور کے علاقے برگ پشت کا دورہ کیا۔یہ اقدام علاقے میں پینے کے پانی کی قلت سے متعلق موصول ہونے والی عوامی شکایات کے فوری نوٹس پر اٹھایا گیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے مقامی آبادی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے مختلف موزوں سائٹس کا تفصیلی معائنہ اور جائزہ لیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر انضمام قاسم سیلاچی نے علاقے کے مکینوں کو یقین دہانی کرائی کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) کے تعاون سے جلد تکنیکی سروے مکمل کیا جائے گا اور یونین کونسل اندرڑ پور کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائی جائے گی تاکہ ان کا دیرینہ مسئلہ جلد از جلد حل ہو سکے۔
خبرنامہ نمبر9257/2026
اسلام آباد، 24 اکتوبر: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ پاکستان کی دیرینہ دوستی اور اقتصادی تعاون بلوچستان کے لیے ترقی کے نئے امکانات پیدا کر سکتا ہے۔ سی پیک اور معدنی منصوبوں میں چینی شراکت داری صوبے کے قدرتی وسائل کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنے، صنعتی سرگرمیوں کو وسعت دینے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں چینی کاروباری نمائندے مسٹر ڈو جون جی (Du Junjie) سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبدالمنان بھی موجود تھے۔ اس موقع پر بلوچستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری، وسائل کی تلاش و ترقی اور حکومت بلوچستان کے ساتھ چینی سرمایہ کاروں کے اشتراکِ عمل کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بلال خان کاکڑ نے کہا کہ چین نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون کے مختلف شعبوں میں اہم کردار ادا کیا ہے اور سی پیک نے بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت اور معاشی امکانات کو مزید اجاگر کیا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تعاون کو معدنی وسائل کی ترقی، صنعتی سرمایہ کاری اور مقامی معیشت کے استحکام کے لیے مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے۔ وائس چیئرمین بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ نے چینی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات محض سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ اقتصادی تعاون اور مشترکہ ترقی کے وسیع امکانات بھی رکھتے ہیں۔ بلوچستان میں معدنی شعبے کے اندر چینی سرمایہ کاروں کی دلچسپی اس امر کا موقع فراہم کرتی ہے کہ باہمی تعاون کو عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جائے اور صوبے کی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔
خبرنامہ نمبر9258/2026
دُکی، 24 اکتوبر 2026: ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت پاکستان پبلک ہیلتھ انیشی ایٹو (PPHI) دُکی کی ماہانہ ریویو میٹنگ (MRM) منعقد ہوئی، جس میں ضلع بھر کے صحت مراکز کی کارکردگی، طبی سہولیات اور صحت کے مختلف پروگراموں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس میں ڈسٹرکٹ منیجر PPHI قاہر خان درانی، اے ڈی ایم راز محمد ناصر، این اسٹاپ آفیسر ڈاکٹر عزیز کاکڑ، ڈاکٹر عبداللہ جان، سی سی او سعید احمد سمیت دیگر متعلقہ افسران اور حکام نے شرکت کی اجلاس کے دوران ضلع بھر میں PPHI کے زیرِ انتظام صحت مراکز کی مجموعی کارکردگی، طبی عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی، طبی آلات، مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات، صفائی ستھرائی اور مختلف جاری صحت پروگراموں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیااس موقع پر ڈسٹرکٹ منیجر PPHI قاہر خان درانی نے ماہانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے صحت مراکز کی کارکردگی، حاصل شدہ اہداف، درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے مختلف صحت مراکز میں دستیاب سہولیات اور عوام کو فراہم کی جانے والی طبی خدمات کے حوالے سے بھی آگاہ کیاڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ضلع کے تمام بنیادی مراکز صحت میں ادویات، ضروری طبی آلات، ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر بنیادی سہولیات کی دستیابی ہر صورت یقینی بنائی جائے تاکہ دور دراز علاقوں کے عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات میسر آسکیں۔انہوں نے کہا کہ صحت عامہ کے شعبے میں غفلت اور سستی کی کوئی گنجائش نہیں، عوام کو بروقت، معیاری اور مؤثر طبی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری صحت مراکز میں عملے کی غیر حاضری، ادویات کی عدم دستیابی یا مریضوں کو سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صحت مراکز کی کارکردگی کی باقاعدگی سے مانیٹرنگ کی جائے اور ماہانہ بنیادوں پر کارکردگی رپورٹس مرتب کرکے پیش کی جائیں۔ انہوں نے جاری صحت پروگراموں کے اہداف کے حصول، مریضوں کی سہولت اور صحت مراکز میں صفائی کے بہتر انتظامات پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور مربوط حکمت عملی ضروری ہے، اس لیے PPHI اور محکمہ صحت کے افسران باہمی تعاون سے عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات جاری رکھیں اجلاس کے اختتام پر ضلع کے مختلف صحت مراکز کی کارکردگی مزید بہتر بنانے اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے متعدد ضروری ہدایات جاری کی گئیں
خبرنامہ نمبر9259/2026
دُکی، 24 اکتوبر 2026: ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر لونی فتح خان بنگلزئی نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال دُکی اور بنیادی مرکز صحت (BHU) کلی علی محمد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ہسپتال اور مرکز صحت میں دستیاب طبی سہولیات، عملے کی حاضری، صفائی ستھرائی اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی صحت کی خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور ہسپتال آنے والے مریضوں اور ان کے لواحقین سے بھی ملاقات کرکے انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے ادویات کی دستیابی، طبی عملے کی موجودگی اور مریضوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے متعلقہ حکام سے بریفنگ بھی لی اسسٹنٹ کمشنر فتح خان بنگلزئی نے طبی مراکز میں صفائی ستھرائی کے معیار، مریضوں کے لیے سہولیات اور ریکارڈ کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ عملے کو ضروری ہدایات جاری کیں انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتال اور بنیادی مراکز صحت عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہیں، اس لیے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر ملازمین اپنی ڈیوٹی میں باقاعدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ عوام کو علاج معالجے، ادویات اور دیگر ضروری طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہسپتال اور بی ایچ یو میں صفائی ستھرائی، عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی اور مریضوں کو بروقت طبی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے مراکز کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے باقاعدگی سے نگرانی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گاانہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، جبکہ سرکاری اداروں میں عوامی خدمت کے معیار کو بہتر بنانا انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہیاس موقع پر ہسپتال اور بی ایچ یو کے متعلقہ طبی و انتظامی عملے نے اسسٹنٹ کمشنر کو اداروں کی مجموعی کارکردگی، دستیاب سہولیات اور درپیش مسائل کے حوالے سے بریفنگ دی۔ اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کا فوری ازالہ کرتے ہوئے صحت کی سہولیات میں مزید بہتری لانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
خبرنامہ نمبر9260/2026
دُکی، 24 اکتوبر 2026: ایس ایس پی لورالائی نے ایک اہم مقدمے کی جوائنٹ انویسٹی گیشن (JIT) کے سلسلے میں ضلع دُکی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مقدمے کی تفتیش کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے گواہان کے بیانات قلمبند کیے اور جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کیاجوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT) ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس لورالائی کے احکامات پر تشکیل دی گئی ہے، جس میں ایس پی دُکی اور مقدمے کے تفتیشی افسر بھی شامل ہیں۔دورے کے موقع پر ایس پی دُکی نے ایس ایس پی لورالائی کو مقدمے کے پس منظر، اب تک ہونے والی تفتیش اور مختلف اہم پہلوؤں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بعد ازاں ایس ایس پی لورالائی نے جے آئی ٹی کے ہمراہ مقدمے سے متعلق تمام گواہان کے بیانات سنے اور ان کے بیانات کو تفصیل سے قلمبند کیا بعد ازاں ایس ایس پی لورالائی نے ایس پی دُکی اور پولیس ٹیم کے ہمراہ جائے وقوعہ کا دورہ کیا، جہاں واقعے سے متعلق شواہد اور دیگر اہم پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اس دوران تفتیشی ٹیم نے دستیاب شواہد کا معائنہ کرنے کے ساتھ ساتھ متعدد اہم شواہد بھی اکٹھے کیے۔ایس ایس پی لورالائی نے تفتیشی ٹیم کو ہدایت کی کہ مقدمے کی تحقیقات میرٹ، شفافیت اور جدید تفتیشی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھائی جائیں اور تمام شواہد و بیانات کو باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے تاکہ اصل حقائق تک پہنچنے میں مدد مل سکے تفتیشی اور انکوائری کارروائی مکمل ہونے کے بعد مقدمے سے متعلق تمام ریکارڈ مرتب کرکے ایک جامع تحقیقاتی رپورٹ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس لورالائی کو پیش کی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر9261/2026
دُکی،24اکتوبر 2026: ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی نے بلوچستان اسٹرکچرل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) پروگرام کے تحت جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا اور منصوبوں پر جاری تعمیراتی کام، پیش رفت، رفتار اور معیار کا موقع پر جائزہ لیاڈپٹی کمشنر نے گورنمنٹ ڈگری کالج دُکی، ختمِ نبوت چوک، ٹیکسی اسٹینڈ، تھل لونی ٹرانسپورٹ اڈہ سمیت ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال دُکی میں زیرِ تعمیر زچہ و بچہ مرکز کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر متعلقہ حکام اور تعمیراتی عملے نے ڈپٹی کمشنر کو مختلف منصوبوں پر جاری کام کی پیش رفت، تعمیراتی مراحل اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے منصوبوں کیتعمیراتی کام کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران اور کنٹریکٹرز کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں میں تعمیراتی معیار، منظور شدہ ڈیزائن، مقررہ اسپیکس اور سرکاری ضوابط پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، اس لیے کام کی رفتار کو مزید تیز کرتے ہوئے مقررہ مدت کے اندر منصوبوں کی تکمیل یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے تعمیراتی کام میں استعمال ہونے والے میٹریل کے معیار پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ BSDI پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کی تکمیل سے دُکی کے عوام کو تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی مسلسل نگرانی کی جائے اور کام کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔اس موقع پر متعلقہ محکموں کے افسران اور تعمیراتی عملہ بھی موجود تھا۔
خبرنامہ نمبر9262/2026
لورالائی، 24 اکتوبر 2026: کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی نگرانی میں محکمہ صحت کے تحت کنٹریکٹ کی بنیاد پر خالی آسامیوں پر بھرتی کے لیے انٹرویوز کا عمل منعقد ہوا، جس میں لورالائی ڈویژن کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں امیدواروں نے شرکت کی۔انٹرویوز میں سرجن، گائناکولوجسٹ سرجن، میڈیکل آفیسرز اور ڈینٹل سرجنز سمیت محکمہ صحت کی مختلف خالی آسامیوں کے لیے امیدواروں کی اہلیت اور پیشہ ورانہ قابلیت کا جائزہ لیا گیا۔ لورالائی، موسیٰ خیل، زیارت، دُکی اور ہرنائی سمیت ڈویژن کے مختلف اضلاع سے بڑی تعداد میں امیدوار انٹرویوز کے لیے پہنچیاس موقع پر محکمہ صحت کے متعلقہ افسران اور ماہرین پر مشتمل ٹیموں نے امیدواروں کے تعلیمی ریکارڈ، پیشہ ورانہ قابلیت، تجربے اور مقررہ معیار کے مطابق انٹرویوز لیے، جبکہ امیدواروں کی دستاویزات اور دیگر متعلقہ امور کی بھی جانچ پڑتال کی گئی۔ انٹرویوز کا عمل منظم اور شفاف انداز میں مکمل کرنے کے لیے تمام ضروری انتظامات کو یقینی بنایا گیا۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے انٹرویوز کے عمل کا خود بھی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام سے بھرتی کے طریقہ کار، امیدواروں کی شرکت اور انتظامات کے حوالے سے بریفنگ حاصل کی۔ انہوں نے مختلف انٹرویو پینلز کی کارکردگی اور امیدواروں کے لیے فراہم کردہ سہولیات کا بھی معائنہ کیااس موقع پر ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی، ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد فہیم اوتمانخیل، ایم ایس دُکی ڈاکٹر جوہر خان، ایم ایس لورالائی ڈاکٹر نقیب اللہ نیازی سمیت محکمہ صحت کے دیگر افسران بھی موجود تھیکمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بھرتی کے تمام مراحل میرٹ، شفافیت اور مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کیے جائیں اور تمام امیدواروں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی امیدوار کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کیا جائے اور اہلیت و قابلیت کو ہی انتخاب کا بنیادی معیار بنایا جائیانہوں نے کہا کہ محکمہ صحت میں خالی آسامیوں پر اہل اور قابل ڈاکٹرز کی تعیناتی سے لورالائی ڈویژن کے مختلف اضلاع میں عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی، صحت کے مراکز کی کارکردگی میں بہتری اور طبی عملے کی کمی دور کرنے میں مدد ملے گی۔ کمشنر نے اس امید کا اظہار کیا کہ نئی بھرتیوں کے نتیجے میں دور دراز علاقوں کے عوام کو بھی معیاری طبی خدمات کی فراہمی مزید بہتر ہوگی۔
خبرنامہ نمبر9263/2026
کوئٹہ24 اکتوبر: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے عالمی یومِ ترقیاتی معلومات کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بنی نوع انسان نے انسانی تاریخ میں تین بڑی انقلابات زرعی انقلاب، صنعتی انقلاب اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کا سفر طے کیا ہے۔ ان انقلابات نے انسانی زندگی، سوشل اسٹرکچر، معیشت اور سیاسی روابط پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں تاہم جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک گلوبل ویلیج میں تبدیل کر دیا ہے، انسانوں کے درمیان طویل فاصلے سمٹ گئے ہیں اور ہر قسم کی معلومات صرف ایک کلک پر دستیاب ہے۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے ہمارے صوبے میں 12 سرکاری یونیورسٹیوں، 16 کیمپسز اور 140 سے زائد بوائز اینڈ گرلز کالجز بلوچستان بھر کے لوگوں پل پل بدلتی دنیا کے ساتھ منسلک کر دیئے۔ اس کے علاؤہ آج ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے دنیا بھر کے مناظر، آوازوں، تخلیقی اور تحقیقی علم و معلومات کو انسان کی جیب میں موجود ایک چھوٹے سے موبائل فون تک محدود کر دیا ہے۔ ایک جدید موبائل فون میں دنیا کی بڑی سے بڑی لائبریریوں سے بھی زیادہ کتابیں محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف ہائیر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے نئے مواقع فراہم کر رہی ہے بلکہ ترقیاتی ضروریات کو سمجھنے، مسائل کی نشاندہی کرنے اور ان کے موثر حل تلاش کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ عالمی یومِ ترقیاتی معلومات منانے کا بنیادی مقصد دنیا کی توجہ اہم معاشی اور سماجی ترقیاتی چیلنجز کی جانب مبذول کرانا اور عوام کو ان مسائل سے آگاہ کرنا ہے جو پائیدار ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ جدید ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے کیلئے عوامی شعور بیدار کرنا، رائے عامہ کو متحرک کرنا اور معاشی و سماجی مسائل کے حل میں شہریوں کی بامعنی شرکت یقینی بنانا ضروری ہے۔ واضح رہے کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل لٹریسی، درست معلومات تک رسائی اور ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ عالمی ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے بین الاقوامی تعاون، علم و تجربات کے تبادلے اور درست معلومات کی بروقت فراہمی ناگزیر ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور دیگر انٹرنیشنل تنظیمیں بلوچستان کے نوجوانوں کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور روبوٹکس کے ثمرات سے مستفید کرنے میں مدد اور رہنمائی فراہم کریں جدید ٹیکنالوجی کو انسانی فلاح، معاشی برابری اور سماجی انصاف کی پاسداری کو یقینی بنانے کیلئے بروئے کار لائیں۔
خبرنامہ نمبر9264/2026
تربت- 24 اکتوبر 2026: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی خصوصی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ کیچ کی جانب سے شہر میں تجاوزات کے خاتمے اور شہری نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر ندیم اقبال بنگلزئی نے بہمن تربت کا دورہ کیا اور تجاوزات سے متعلق صورتحال کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے تجاوز شدہ مقام کا معائنہ کیا اور متعلقہ مالک کو ہدایت کی کہ وہ رضاکارانہ طور پر 24 گھنٹوں کے اندر تجاوزات ختم کرے تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے اور علاقے میں نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔اس موقع پر میونسپل کمیٹی کے عملے کو بھی واضح ہدایات جاری کی گئیں کہ مقررہ مدت کے اندر تجاوزات ختم نہ کیے جانے کی صورت میں 24 گھنٹے بعد قانون کے مطابق ضروری کارروائی عمل میں لاتے ہوئے تجاوزات کا خاتمہ یقینی بنایا جائے۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی قیادت میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شہری مسائل کے حل، سرکاری و عوامی مقامات کو تجاوزات سے پاک رکھنے اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے عملی اقدامات قابل ستائش ہیں ضلعی انتظامیہ اس عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے کہ شہری علاقوں میں قانون کی عمل داری برقرار رکھی جائے اور عوام کو بہتر شہری ماحول فراہم کیا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر9265/2026
خضدار: ٹیچنگ ہسپتال میں صحت کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے لئے سیف فارمیسی، ایمرجنسی سینٹر، ہیلتھ کارڈ سروس اور نوزائیدہ بچوں کی انتہائی نگہداشت کے یونٹ (این آئی سی یو) کا اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے افتتاح کردیا۔ افتتاحی تقریب میں ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرازق ساسولی، ایکسیئن بلڈنگ سلیم رزاق عمرانی ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال خضدار ڈاکٹر شبیر احمد مینگل ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر عبدالحمید لہڑی حاجی عبدالسلام مینگل اور معززین شہر دیگر افسران بھی موجود تھے اس موقع پر اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئی طبی سہولیات۔ سیف فارمیسی اور سیف ایمرجنسی سینٹر کی 24 گھنٹے سروس کا آغاز اس پیش رفت کا اہم پہلو ہے، جس سے مریضوں کو دن رات طبی سہولیات تک رسائی میں آسانی میسر آنے کی توقع ہے۔سیف فارمیسی اور سیف ایمرجنسی سینٹر کو 24 گھنٹے فعال رکھنے کا مقصد مریضوں کو کسی بھی وقت ادویات اور ہنگامی طبی سہولیات کی فراہمی میں آسانی پیدا کرنا ہے۔ بالخصوص رات کے اوقات اور اچانک طبی ایمرجنسی کی صورت میں مریضوں اور ان کے لواحقین کو فوری سہولت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے میں ہسپتال کے اندر فارمیسی اور ایمرجنسی سروس کی مسلسل دستیابی ایک اہم عوامی ضرورت پوری کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ہیلتھ کارڈ سروس کے آغاز سے اہل مریضوں کو دستیاب پالیسی اور قواعد کے مطابق علاج معالجے کی سہولیات تک رسائی میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ اس سروس کی مؤثر فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ مریضوں کو اہلیت، طریق? کار اور علاج کے لیے درکار دستاویزات سے متعلق واضح رہنمائی فراہم کی جائے، تاکہ وہ غیر ضروری مشکلات کے بغیر دستیاب سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں۔اسی طرح این آئی سی یو کا افتتاح خضدار کے صحت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ نوزائیدہ بچوں کو بعض اوقات پیدائش کے بعد سانس کی دشواری، کم وزن، قبل از وقت پیدائش اور دیگر پیچیدگیوں کے باعث خصوصی طبی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے بچوں کے لیے جدید طبی آلات، تربیت یافتہ عملے اور مسلسل نگرانی کی سہولت نہایت اہم ہوتی ہے۔ این آئی سی یو کے قیام سے خضدار اور گردونواح کے خاندانوں کو اپنے نومولود بچوں کے علاج کے سلسلے میں ایک اہم طبی سہولت میسر آسکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایم ایس ڈاکٹر شبیر احمد مینگل اور ہسپتال انتظامیہ کی کاوشیں خصوصی طور پر قابلِ تحسین ہیں۔ سرکاری ہسپتال میں طبی سہولیات کی بہتری، مریضوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے شعبوں کا آغاز اور انتظامی معاملات کو مؤثر بنانا ایک مسلسل توجہ کا متقاضی عمل ہے۔ نئی سہولیات کا آغاز اس امر کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ ہسپتال میں علاج معالجے کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے انتظامی سطح پر اقدامات اور طبی عملے کے درمیان مربوط تعاون ضروری ہے۔اور ڈاکٹر شبیر احمد مینگل کی سربراہی میں ہسپتال انتظامیہ کے لیے ان سہولیات کو مؤثر انداز میں جاری رکھنا ایک اہم ذمہ داری ہوگی۔ سیف فارمیسی میں ضروری ادویات کی دستیابی، ایمرجنسی سینٹر میں بروقت طبی امداد، این آئی سی یو میں تربیت یافتہ عملے کی موجودگی اور مریضوں کے مسائل کے فوری ازالے سے ان اقدامات کے مثبت نتائج مزید بہتر ہوسکتے ہیں۔ کسی بھی طبی سہولت کی اصل افادیت اسی وقت سامنے آتی ہے جب عام شہری کو ضرورت کے وقت بروقت اور معیاری علاج میسر آئے۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرازق ساسولی، بلڈنگ ایکسیئن سلیم رزاق عمرانی اور حاجی عبدالسلام مینگل کی شرکت اور صحت کے شعبے میں نئی سہولیات کے آغاز کی حوصلہ افزائی بھی اہمیت کی حامل ہے۔ ضلعیانتظامیہ اور محکمہ صحت کے درمیان مؤثر رابطہ عوامی مسائل کے حل اور سرکاری اداروں میں سہولیات کی بہتری کے لیے معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ صحت عامہ جیسے بنیادی شعبے میں اداروں کے باہمی تعاون سے نہ صرف انتظامی معاملات کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے بلکہ عوامی ضروریات کو ترجیح دینے کا عمل بھی مضبوط ہوتا ہے۔ صحت کے شعبے میں بہتری کے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنا اور عوامی ضروریات کو اجاگر کرنا ان کی ذمہ داریوں کا اہم حصہ ہے۔ خضدار جیسے وسیع علاقے میں سرکاری طبی سہولیات کی بہتری کے لیے منتخب نمائندوں، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے درمیان تعاون کی ضرورت ہمیشہ موجود رہتی ہے۔خضدار ٹیچنگ ہسپتال شہر کے علاوہ گردونواح کے مختلف علاقوں سے آنے والے مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ ایسے میں فارمیسی، ایمرجنسی، ہیلتھ کارڈ اور نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت سے متعلق سہولیات میں اضافہ علاقے کے عوام کے لیے بہت ضروری ہے۔
خبرنامہ نمبر9266/2026
کوئٹہ (23 اکتوبر:صوبائی محتسب بلوچستان سعادت اللہ خان بازئی کی زیرِ صدارت صوبائی محتسب سیکرٹریٹ کے مرکزی دفتر کوئٹہ میں ڈائریکٹرز انویسٹی گیشن، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور رجسٹرار کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف زیرِ سماعت اور زیرِ التواء شکایات و مقدمات پر ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران متعلقہ افسران نے صوبائی محتسب کو زیرِ کارروائی مقدمات، ان کی موجودہ صورتحال اور تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے جامع بریفنگ دی۔ اس موقع پر صوبائی محتسب نے افسران سے مقدمات کی مؤثر پیروی، شکایات کے بروقت ازالے اور دفتری امور میں مزید بہتری کے حوالے سے تجاویز اور آراء بھی طلب کیں۔صوبائی محتسب بلوچستان نے اس امر پر زور دیا کہ عوامی شکایات کو قانون اور میرٹ کے مطابق نمٹانے، شفافیت کو یقینی بنانے اور سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں مستعدی اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں۔اجلاس میں مقدمات کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور ادارے کی مجموعی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
خبرنامہ نمبر9267/2026
بارکھان/رکھنی۔خبر نامہ۔25 اکتوبر 2026ء ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بارکھان بہادر شاہ نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول گدائی رکھنی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے طالبات میں کاپیاں، پنسلیں اور دیگر ضروری اسٹیشنری تقسیم کی۔اس موقع پر انہوں نے طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ وہ تعلیم پر بھرپور توجہ دیں اور محنت و لگن سے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھیں۔ڈی ای او بارکھان نے ہیڈ مسٹریس سحر مبین کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ بجٹ لیپس ہونے کے باوجود اپنی مدد آپ کے تحت طالبات کے لیے اسٹیشنری کا انتظام کرنا ان کے مخلصانہ جذبے، احساس ذمہ داری اور تعلیم سے محبت کا عملی ثبوت ہے۔ ہم سب کو تعلیم کی بہتری کے لیے اسی جذبے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
خبرنامہ نمبر9268/2026
کوئٹہ 24اکتوبر۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے خوبصورت کوئٹہ کے ویژن کی روشنی میں اور ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ کے خصوصی احکامات پر اینٹی انکروچمنٹ ٹیم نے شہر کے مختلف حصوں میں تجاوزات کے خلاف سستے اور بلا تفریق آپریشن کیا،عوامی شکایات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مجسٹریٹ میٹروپولیٹن کارپوریشن عمران زیب اور اینٹی انکروچمنٹ ٹیم کے سپروائزر سرور زہری کی نگرانی میں ارباب کرم خان روڈ، سی پیک روڈ اور پودگلی چوک پر تجاوزات کے خلاف بھرپور کارروائی کی گئی۔کارروائی کے دوران سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر قائم غیر قانونی تجاوزات، عارضی تھڑے اور سامان ہٹا کر راستے کو عام لوگوں اور ٹریفک کی آمدورفت کے لیے بحال کر دیا گیا۔ اس موقع پر مجسٹریٹ عمران زیب اور سپروائزر سرور زیری کا کہنا تھا کہ عوامی مشکلات کا باعث بننے والی تجاوزات کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی اور ایڈمنسٹریٹر بشیر احمد بڑیچ کی ہدایت پر یہ آپریشن شہر کو تجاوزات سے پاک کرنے تک بلا تعطل جاری رہے گا۔میٹروپولیٹن کارپوریشن انتظامیہ نے دکانداروں اور تاجروں کو سخت تنبیہ کی کہ وہ دوبارہ تجاوزات قائم کرنے سے گریز کریں، بصورت دیگر سامان ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ قانونی کارروائی اور بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر9269/2026لورالائی: 24 اکتوبر. ڈی پی ایس سکول لورالائی میں منعقدہ ہفتہ وار سپورٹس ویک کی پروقار اور رنگا رنگ اختتامی تقریب منعقد ہوئی، جس میں طلباء نے مختلف کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا۔ تقریب میں فرزندِ ایم پی اے حاجی محمد خان عرف طور اتمانخیل افضل خان اتمانخیل اور کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد خان بڑیچ نے بطور معزز مہمان شرکت کی تقریب کے دوران فٹبال اور کرکٹ کے سنسنی خیز فائنل مقابلے منعقد ہوئے، جن میں طلباء نے بھرپور جوش، جذبے، نظم و ضبط اور کھیل کے اعلیٰ اصولوں کا مظاہرہ کیا۔ مقابلوں کے دوران شائقین اور طلباء نے اپنی اپنی ٹیموں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی، جس سے سکول کا ماحول کھیلوں کے جذبے سے سرشار رہااختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افضل خان اتمانخیل نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ کھیلوں کی سرگرمیاں طلباء کی متوازن شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ کھیل نہ صرف جسمانی صحت اور ذہنی نشوونما کو بہتر بناتے ہیں بلکہ طلباء میں نظم و ضبط، خود اعتمادی، قیادت، ٹیم ورک، برداشت، باہمی احترام اور مقابلے کی مثبت سوچ بھی پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیل کے میدان نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مثبت سمت دینے اور انہیں صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں انہوں نے کہا کہ رکن صوبائی اسمبلی حاجی محمد خان عرف طور اتمانخیل نے لورالائی میں کھیلوں کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں اور فٹبال سمیت مختلف کھیلوں کے گراؤنڈز کی تعمیر اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی کھیل دوستی اورنوجوانوں کے لیے خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مرحوم کے کھیلوں کے فروغ کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے نوجوانوں اور طلباء کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔اس موقع پر افضل خان اتمانخیل نے کھلاڑیوں، نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء اور سپورٹس سے وابستہ افراد میں نقد انعامات بھی تقسیم کیے۔ فٹبال کی ونر ٹیم کے لیے 5 ہزار روپے، رنر اَپ ٹیم کے لیے 3 ہزار روپے، کرکٹ کی ونر ٹیم کے لیے 5 ہزار روپے جبکہ رنر اَپ ٹیم کے لیے 3 ہزار روپے دیے گئے۔ ریفری کے لیے 2 ہزار روپے اور سپورٹس انچارج کے لیے بھی 2 ہزار روپے نقد انعام مقرر کیا گیااسی طرح ماڈل سازی میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی، جس کے تحت پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم کو 3 ہزار روپے، دوسری پوزیشن کو 2 ہزار روپے اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم کو ایک ہزار روپے نقد انعام دیا گیاتقریب میں مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ سکولوں میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو محض تفریح تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں طلباء کی تعلیمی، جسمانی اور اخلاقی تربیت کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ کھیلوں کے میدان نوجوانوں میں مثبت سوچ، صحت مند مسابقت اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور اجاگر کرتے ہیں، جبکہ باصلاحیت کھلاڑیوں کو ضلعی، صوبائی اور قومی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں مہمانوں نے مختلف کھیلوں میں حصہ لینے والے طلباء کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج کے طلباء ہی کل کے معاشرے کے معمار ہیں، اس لیے ان کی تعلیم کے ساتھ صحت، کھیل اور کردار سازی پر بھی خصوصی توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہیتقریب کے اختتام پر سکول انتظامیہ کی جانب سے معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا گیا جبکہ طلباء، اساتذہ اور منتظمین کی کاوشوں کو سراہا گیا۔ سپورٹس ویک کی اختتامی تقریب نے طلباء میں کھیلوں کے جذبے کو مزید تقویت دی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مستقبل میں بھی ایسی صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔کھیل، تعلیم اور کردار سازی—صحت مند، باصلاحیت اور روشن مستقبل کے ضامن ہیں۔ خبرنامہ نمبر9269/2026کوئٹہ: ڈائریکٹوریٹ آف کلچر بلوچستان کے زیرِ اہتمام ”بلوچستان یوتھ کلچرل ہارمنی فیسٹیول“ آج نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس، اسپنی روڈ کوئٹہ میں منعقد ہوا، جس کا مقصد صوبے کی ثقافتی روایات کے فروغ، مختلف قومیتوں کے درمیان ہم آہنگی، نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے شعور بیدار کرنا تھا۔ فیسٹیول میں پینل ڈسکشن، مباحثے، ثقافتی اسٹالز اور موسیقی کی محفل سمیت مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔ جس کے مہمان خصوصی پارلیمانی سیکرٹری نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی تھے۔ فیسٹیول کے پینل ڈسکشن میں پارلیمانی سیکرٹری برائیقانون, سیاحت و ثقافت نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی،پارلیمانی سیکرٹری برائے ٹرانسپورٹ لیاقت لہڑی, رکن صوبائی اسمبلی خیر جان بلوچ، بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسر برکت شاہ، ادیب ولکھاری یار جان بادینی اور نوجوانوں کی نمائندگی کرنے والی مس حفصہ اور ظہور اللہ الکوزئی نے شرکت کی اور بلوچستان کی ثقافت، نوجوانوں کے کردار، سماجی ہم آہنگی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی نے کہا کہ بلوچستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب تقریباً 71 فیصد ہے، جو صوبے کا ایک بڑا اثاثہ اور مستقبل کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گزشتہ پندرہ سے بیس برسوں کے دوران ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے اپنی ثقافتی شناخت اور روایات کو بھی برقرار رکھیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان مختلف زبانوں، ثقافتوں اور روایات کا ایک خوبصورت گلدستہ ہے، جہاں بلوچ، پشتون، پنجابی، ہزارہ اور دیگر کمیونٹیز آباد ہیں۔ صوبے کی یہی ثقافتی و لسانی رنگا رنگی ہماری اجتماعی شناخت اور سماجی ہم آہنگی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ثقافت محض رسم و رواج کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابط? حیات اور طرزِ عمل ہے، جسے بلوچی زبان میں ”بلوچیت“ کے تصور سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ ہماری روایات، اقدار، باہمی احترام اور معاشرتی اصول ہماری ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی نے کہا کہ صوبائی حکومت بلوچستان کے ثقافتی ورثے، تاریخی مقامات اور آثارِ قدیمہ کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں صوبائی اسمبلی سے قرارداد بھی منظور کرائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ثقافتی ورثے کی حفاظت کے لیے حکومتی کوششوں کے ساتھ ساتھ معاشرے کے تمام طبقات، بالخصوص نوجوانوں کی عملی شمولیت ناگزیر ہے۔پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ ثقافتی ورثے کی دو اہم اقسام، یعنی مادی ثقافت (Tangible Culture) اور غیر مادی ثقافت (Intangible Culture)، کے تحفظ کے لیے نوجوان سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔ مادی ثقافت میں تاریخی عمارتیں، آثارقدیمہ اور دیگر تاریخی اشیا شامل ہیں، جبکہ غیر مادی ثقافت میں زبانیں، لوک ادب، موسیقی، روایات، فنون اور رسم و رواج شامل ہیں۔ نوجوان نسل کو ان دونوں پہلوؤں کی اہمیت سے آگاہ کرنا اور انہیں اپنے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔نوابزادہ زرین مگسی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کی ثقافتی، تعلیمی اور تخلیقی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گی اور ثقافت کے فروغ و تحفظ کے لیے ان کی بھرپور معاونت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیسٹیولز نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار، مختلف ثقافتوں کو سمجھنے، باہمی احترام کو فروغ دینے اور بلوچستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔فیسٹیول کے دوران پینل ڈسکشن، مباحثے، ثقافتی اسٹالز اور موسیقی کی سرگرمیوں کے ذریعے بلوچستان کی ثقافتی رنگا رنگی، نوجوانوں کی صلاحیتوں اور بین الثقافتی ہم آہنگی کو اجاگر کیا گیا۔ پروگرام کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ نوجوانوں کی مؤثر شمولیت، ثقافتی شناخت کا احترام اور اجتماعی کوششیں بلوچستان کے ثقافتی ورثے کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
خبرنامہ نمبر9270/2026
کوئٹہ 24اکتوبر۔صوبائی سیکرٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان محمد حیات کاکڑ اور سیکرٹری پروونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (PTA) بلوچستان عبدالمجید جونجو کی خصوصی ہدایات پر ڈھاڈر، ضلع کچھی میں کوئٹہ–جیکب آباد قومی شاہراہ پر غیر قانونی ٹو ڈی سروس، بغیر روٹ پرمٹ گاڑیوں، غیر مجاز روٹس کے استعمال، سرچ لائٹس اور اوورلوڈنگ کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔کارروائی پی ٹی اے بلوچستان اور ٹریفک پولیس کچھی نے ڈی آئی جی سبی محمد پرویز عمرانی،ڈی پی او کچھی غلام مرتضیٰ بھٹو اور ڈی ایس پی سرکل شیر محمد کی نگرانی میں کی۔ اس دوران غیر قانونی طور پر ٹو ڈی سروس چلانے والی 26 کاریں بند کر دی گئیں، جبکہ بغیر روٹ پرمٹ اور مقررہ اجازت کے بغیر روٹس استعمال کرنے والی 27 گڈز ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے چالان کیے گئے۔ کارروائی کے دوران متعدد گاڑیوں سے غیر قانونی سرچ لائٹس بھی اتار دی گئیں، جبکہ اوورلوڈنگ کے مرتکب ٹرانسپورٹرز کو قوانین کی پابندی کرنے کی سخت ہدایت کی گئی۔متعلقہ حکام نے واضح کیا کہ ٹرانسپورٹ قوانین پر مؤثر عمل درآمد، غیر قانونی ٹرانسپورٹ سروسز کی روک تھام اور قومی شاہراہوں پر محفوظ و منظم ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔ بغیر روٹ پرمٹ گاڑیاں چلانے، غیر قانونی سروس فراہم کرنے اور دیگر ٹرانسپورٹ قوانین کی خلاف ورزی کرنیوالوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔حکام نے ٹرانسپورٹرز کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ قوانین، روٹ پرمٹ اور دیگر قانونی تقاضوں کی مکمل پابندی کریں، اوورلوڈنگ سے گریز کریں اور گاڑیوں میں غیر قانونی سرچ لائٹس نصب کرنے سے باز رہیں، بصورت دیگر خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی ٹوڈی کار سروس ٹرانسپورٹ کے شعبے اور حکومتی ریونیو کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے یہ تمام گاڑیاں بغیر کمرشل رجسٹر ہے اور مسافروں کو بیٹھانے والوں کے خلاف کاروائی ہوگی۔
خبرنامہ نمبر9271/2026
تربت (24 اکتوبر 2026) جامعہ تربت کے تعلیمی و انتظامی شعبہ جات اور مختلف اسٹوڈنٹ کلبز اور سوسائٹیز کے تعاون سے یونیورسٹی کے مین کیمپس میں نومبر میں “کیچ اکیڈمک گالا 2026” کا انعقاد کیا جائے گا۔ یہ ایک جامع ہم نصابی، تخلیقی، تفریحی، ٹیکنالوجی اور ثقافتی فیسٹیول ہوگا، جس میں رنگا رنگ پروگراموں اور مقابلوں کے ذریعے طلباء اور نوجوانوں کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع ملے گا۔ جامعہ تربت کے طویل المدتی وژن اور اسٹریٹجک پلان 2026-30 سے ہم آہنگ اس میگا ایونٹ کا مقصد طلباء اور علاقے کے نوجوانوں کو سیکھنے، تخلیق کرنے اور آگے بڑھنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔اس میگا ایونٹ میں بزنس آئیڈیا کمپیٹیشن، کیریئر کاؤنسلنگ بوٹ کیمپ، انٹرپرینیورشپ بوٹ کیمپ، بزنس گالا، آرٹیفیشل انٹیلیجنس بوٹ کیمپ، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن کمپیٹیشن، سائنس، آرٹ اینڈ انوویشن کمپیٹیشن، ڈرامہ و شاعری، میوزیکل ٹیلنٹ ہنٹ کمپیٹیشن اور کھیلوں کے مقابلوں کے علاوہ دیگر علمی، تفریحی اور ثقافتی سرگرمیاں شامل ہیں۔ ان پروگرامز اور سرگرمیوں کی تاریخ، رجسٹریشن اور مقابلوں میں شرکت کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں مزید تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔ اس میگا فیسٹیول میں طلباء، والدین، نوجوان، تعلیمی ادارے، کاروباری شخصیات اور عوام شرکت کرسکتے ہیں۔ یونیورسٹی ترجمان کے مطابق، جامعہ تربت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کے وژن اور خصوصی احکامات کے تحت منعقد ہونے والے اس میگا ایونٹ میں تمام شرکاء کو اپنی دلچسپی کے مطابق اپنی صلاحیتیں دکھانے اور نئی مہارتیں سیکھنے کا موقع ملے گا۔ اس کے علاوہ یہ میگا ایونٹ خطے کے تعلیمی اداروں، کاروباری شخصیات اور نوجوانوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ سماجی ہم آہنگی، باہمی رواداری، قومی یکجہتی اور امن کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ مزید معلومات کے لیے دفتری اوقات کار میں ان فون نمبرز پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
0852-400506
0852-400512
0852-400547
خبرنامہ نمبر9272/2026
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات کے مطابق زیارت ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے تحت ضلع زیارت میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت کا کام جاری ہے۔ منصوبے کا مقصد علاقے میں بنیادی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا، آمدورفت کی سہولیات کو مزید مؤثر بنانا اور عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔سڑکوں کی تعمیر و مرمت سے مقامی آبادی کو آمدورفت میں درپیش مشکلات میں کمی لانے، مختلف علاقوں کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانے اور علاقے کی ترقیاتی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔زیارت ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے علاقے میں بنیادی سہولیات کی بہتری اور تعمیر و ترقی کے عمل کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
خبرنامہ نمبر9273/2026
کوئٹہ 24اکتوبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی کی خصوصی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ نے گراں فروشی کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر بروری کاشف امر نے سریاب روڈ اور سبزل روڈ پر مختلف آٹا ڈیلرز کی دکانوں کا معائنہ کیا اور مقررہ نرخوں سے زائد قیمت پر آٹا فروخت کرنے کے معاملے پر 7 آٹا ڈیلرز کو گرفتار کر لیا۔کارروائی کا مقصد عوام کو سرکاری نرخوں پر آٹے کی فراہمی یقینی بنانا اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام کرنا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی مقررہ قیمتوں کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی کی ہدایات کے مطابق گراں فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی، جبکہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور سرکاری نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے پرائس کنٹرول مہم مزید مؤثر بنائی جائے گی۔







