24th-June-2026

خبرنامہ نمبر5084/2026
نصیرآبا24جون۔کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے محرم الحرام کے دوران امن و امان اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے مرکزی امام بارگاہ ڈیرہ مراد جمالی کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی معائنہ کیا اور ڈیوٹی پر تعینات افسران سے ملاقات کرکے انہیں ضروری ہدایات جاری کیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کا قیام ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور عزاداروں کو پرامن ماحول کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو ہدایت کی کہ جلوسوں اور مجالس کی سیکیورٹی، ٹریفک مینجمنٹ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل مستعدی کا مظاہرہ کیا جائے انہوں نے کہا کہ عوام، علما کرام اور انتظامیہ کے باہمی تعاون سے محرم الحرام کے دوران امن و بھائی چارے کی فضا کو برقرار رکھا جائے گا اور تمام انتظامات کی مسلسل نگرانی جاری رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5085/2026
نصیرآباد24جون ۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد و ریٹرننگ آفیسر وریندر لعل نے ضلع میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں آج اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر ظریف خان سے حلف لیااس موقع پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے متعلقہ آفیسر پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض دیانتداری، غیر جانبداری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں تاکہ انتخابی عمل کو شفاف منظم اور قابلِ اعتماد بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلع نصیرآباد کی آٹھ یونین کونسلوں میں جنرل کونسلران کے ضمنی انتخابات منعقد ہوں گے جن کے انتظامی امور اور متعلقہ ذمہ داریاں ریٹنگ آفیسرز کے سپرد کی گئی ہیں ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انتخابی عمل کے تمام مراحل کو قانون اور ضابطوں کے عین مطابق مکمل کیا جائے گا تاکہ شفاف آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5086/2026
کوئٹہ:24جون ۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) میں چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی زیر صدارت پرائیویٹ وِدہولڈنگ ایجنٹس اور کنٹریکچوئل ایگزیکیوشن سے محصولات کی وصولی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ٹیکس محصولات، ٹیکس تعمیل اور جاری انفورسمنٹ اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر محصولات میں مزید اضافے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے مختلف اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں حب انڈسٹریل ایریا، لیڈا (LIEDA) اور دیگر صنعتی علاقوں میں قائم کمپنیوں کی رجسٹریشن، ٹیکس ادائیگی اور ریٹرن فائلنگ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ بعض کمپنیوں کی جانب سے کم یا عدم ادائیگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو ریکارڈ کی جانچ پڑتال، واجبات کی وصولی اور قانونی تقاضوں کے مطابق ضروری کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی گئی۔چیئرمین نے ہدایت کی کہ لیڈا اور دیگر صنعتی زونز میں قائم کمپنیوں کا جامع سروے مکمل کیا جائے اور فعال، نئی قائم ہونے والی اور غیر فعال صنعتی یونٹس کی تفصیلی درجہ بندی تیار کی جائے۔ مزید برآں محصولات اور وصولیوں کی تفصیلی فہرست مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ غیر تعمیل کنندگان کے خلاف آئندہ انفورسمنٹ اقدامات کا جامع منصوبہ بھی پیش کیا جائے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ماربل سٹی میں متعدد کمپنیوں کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے جبکہ ٹیکس قوانین پر عملدرآمد اور واجبات کی وصولی کو یقینی بنانے کیلئے متعلقہ کمپنیوں کو نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں۔چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محصولات میں اضافے، ٹیکس قوانین کے موثر نفاذ، شفافیت کے فروغ اور ٹیکس دہندگان کی سہولت کاری کیلئے اقدامات مزید تیز کیے جائیں گے تاکہ بلوچستان کی پائیدار ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کیلئے مالی وسائل میں اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5087/2026
استامحمد24جون ۔ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کی ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر استامحمد رمضان اشتیاق نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ محمد یاسین جمالی کے ہمراہ شہید مراد کالونی میں بی ایس ڈی آئی منصوبے کے تحت جاری ٹف ٹائلز بچھانے کے ترقیاتی کام کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران عوامی شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیراتی کام کے معیار استعمال ہونے والے میٹریل اور مجموعی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا معائنہ کے دوران بعض مقامات پر ٹف ٹائلز کے معیار اور تنصیب کے طریقہ کار سے متعلق تحفظات سامنے آئے جس پر فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ٹھیکیدار اور عملے کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ غیر معیاری ٹف ٹائلز کو فوری طور پر اکھاڑ کر پی سی ون میں درج معیار کے مطابق نئی اور معیاری ٹف ٹائلز دوبارہ نصب کی جائیں۔اسسٹنٹ کمشنر رمضان اشتیاق نے اس موقع پر واضح کیا کہ بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری تمام ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی وسائل کے شفاف، موثر اور درست استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ان منصوبوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ڈپٹی کمشنر کی جاری کردہ ہدایات پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ ترقیاتی منصوبے بروقت اور معیاری انداز میں مکمل ہو سکیں اور عوام کو بہتر بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔۔ استامحمد۔۔ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کی ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر استامحمد رمضان اشتیاق نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ محمد یاسین جمالی کے ہمراہ شہید مراد کالونی میں بی ایس ڈی آئی منصوبے کے تحت جاری ٹف ٹائلز بچھانے کے ترقیاتی کام کا تفصیلی دورہ کیادورے کے دوران عوامی شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیراتی کام کے معیار استعمال ہونے والے میٹریل اور مجموعی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا معائنہ کے دوران بعض مقامات پر ٹف ٹائلز کے معیار اور تنصیب کے طریقہ کار سے متعلق تحفظات سامنے آئے جس پر فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ٹھیکیدار اور عملے کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ غیر معیاری ٹف ٹائلز کو فوری طور پر اکھاڑ کر پی سی ون میں درج معیار کے مطابق نئی اور معیاری ٹف ٹائلز دوبارہ نصب کی جائیں۔اسسٹنٹ کمشنر رمضان اشتیاق نے اس موقع پر واضح کیا کہ بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری تمام ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی وسائل کے شفاف، موثر اور درست استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ان منصوبوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ڈپٹی کمشنر کی جاری کردہ ہدایات پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ ترقیاتی منصوبے بروقت اور معیاری انداز میں مکمل ہو سکیں اور عوام کو بہتر بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5088/2026
قلات 24جون ۔ڈپٹی کمشنر قلات منیراحمد درانی سے قلات کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے عوامی وفود اور سائلین نے ملاقات کی اوراپنے علاقوں کے مسائل سے آگاہ کیا ڈپٹی کمشنر نے سائلین کے مسائل سنے مختلف نوعیت کی درخواستوں اور شکایات پر متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات جاری کیں تاکہ عوامی مسائل کا بروقت اور موثر حل یقینی بنایا جا سکے ۔ڈپٹی کمشنر قلات منیراحمددرانی سے ڈائریکٹر آئل سیڈ بلوچستان حاجی محمدیحی بلوچ ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹرنصراللہ لانگو اسپورٹس آفیسر میراصغر لانگو ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر محمداقبال نورزئی بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر میرقادربخش مینگل ایپکا قلات کے ضلعی صدر حاجی غلام قادر عمرانی محکمہ صحت قلات کے اسسٹنٹ ضیائ اللہ مینگل پولیو فوکل پرسن عبدالفتاح دہوار نے بھی ملاقات کی ملاقات میں علاقے کی موجودہ صورتحال محکمہ صحت قلات کی کارکردگی ضلع قلات میں کھیلوں کے انعقاد اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔عوامی وفود نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مفاد عامہ میں اٹھائے گئے اقدامات اوربلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹیٹیو پروگرام کے تحت ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ کو قابل تحسین اقدام قراردیاشہریوں نے اس امید کااظہار کیا کہ کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کیلئے آقدامات جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿ا﴾﴿
خبرنامہ نمبر5089/2026
لورالائی24جون ۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی زیرِ صدارت ضلع لورالائی کے محکمہ تعلیم کی سی آر سی (CRC) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ تعلیم کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے اعتراضات اور داد رسی سے متعلق معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن سید عارف شاہ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لورالائی محمد بختیار کاکڑ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر موسیٰ خیل جمال الدین، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر دکی، ڈگری کالج کے پرنسپل پروفیسر سردار خان، سپرنٹنڈنٹ سمیت کمیٹی کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع دکی، موسیٰ خیل اور ژوب سے تعلق رکھنے والے میل و فیمیل امیدواروں سمیت مجموعی طور پر 16 امیدوار کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے۔ امیدواروں نے اپنے اعتراضات، شکایات اور داد رسی سے متعلق معاملات پیش کیے، جنہیں کمیٹی نے نہایت سنجیدگی اور توجہ کے ساتھ سنا۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی سربراہی میں کمیٹی کے تمام اراکین نے امیدواروں کے تحفظات کا تفصیلی جائزہ لیا جبکہ ان کی تعلیمی اسناد، ڈگریوں اور دیگر متعلقہ دستاویزات کی باریک بینی سے جانچ پڑتال بھی کی گئی۔اس موقع پر کمشنر ولی محمد بڑیچ نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ اعتراضات جمع کرانے والے تمام امیدواروں کی داد رسی ہر صورت یقینی بنائی جائے اور ان کی ڈگریوں و دستاویزات کی مکمل اور شفاف جانچ پڑتال کی جائے تاکہ کسی بھی امیدوار کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھرتیوں کے عمل میں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا اور تمام فیصلے حکومتی پالیسی، قواعد و ضوابط اور مروجہ قوانین کے مطابق کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ صرف اہل، باصلاحیت اور میرٹ پر پورا اترنے والے امیدواروں کے انتخاب کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ محکمہ تعلیم میں بہترین افرادی قوت کی شمولیت ممکن ہو سکے۔ کمشنر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مفادِ عامہ کے تحت تمام اقدامات مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دیے جا رہے ہیں اور کسی بھی امیدوار کی حق تلفی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس میں امیدواروں کے اعتراضات کے بروقت ازالے، شکایات کے منصفانہ حل اور بھرتیوں کے عمل کو مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر منطقی انجام تک پہنچانے کے حوالے سے مختلف امور پر بھی غور کیا گیا۔ اس موقع پر سی آر سی میں پیش ہونے والے تمام امیدواروں کو اپنے مو¿قف کے اظہار کا مکمل موقع فراہم کیا گیا اور ان کے تحفظات دور کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے پر اتفاق کیا گیا۔شرکاء اجلاس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ تعلیم میں بھرتیوں کے تمام مراحل شفاف، منصفانہ اور میرٹ کے مطابق مکمل کیے جائیں گے تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہے اور تعلیمی نظام کو مزید موثر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5090/2026
ہرنائی 24جون ۔ ضلع ہرنائی میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مذہبی مقامات کی دیکھ بھال کے لیے ضلعی انتظامیہ سرگرم ہو گئی۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین نے بی ایس ڈی آئی (BSDI) اسکیم فیز 2 کے تحت ہندو برادری کے شمشان گھاٹ کے منصوبے کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر ہندو برادری کے رہنماوں نے ریاستِ پاکستان اور پاک فوج کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین نے بی ایس ڈی آئی اسکیم فیز 2 کے ترقیاتی فنڈز سے ضلع ہرنائی کی ہندو کمیونٹی کے لیے زیرِ تعمیر شمشان گھاٹ کی چار دیواری اور دیگر جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے موقع پر موجود افسران کو کام کی رفتار تیز کرنے اور معیار کو ہر صورت برقرار رکھنے کی سخت ہدایات جاری کیں۔ اس اہم دورے کے موقع پر ہندو کمیونٹی ضلع ہرنائی کے سربراہ مکھی بابو لعل، دیوان چند اور رمیش کمار بھی موجود تھے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے شمشان گھاٹ کے تعمیراتی کام کے ایک ایک حصے کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی اسکیموں میں شفافیت اور اعلیٰ معیار حکومت کی اولین ترجیح ہے۔اس موقع پر موجود ہندو برادری کے وفد نے ضلعی انتظامیہ کی اس کاوش کو سراہا۔ ہندو رہنماوں مکھی بابو لعل، دیوان چند اور رمیش کمار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہرنائی میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی اور حقوق حاصل ہیں۔ انہوں نے اقلیتی برادری کے حقوق کی بھرپور پاسداری کرنے، تحفظ فراہم کرنے اور اس اہم نوعیت کے منصوبے کی منظوری پر ریاستِ پاکستان اور صوبائی حکومت کے حکامِ بالا ڈپٹی کمشنر ہرنائی اور ضلعی انتظامیہ ٹویلتھ کور (12 Corps) اور کرنل ایف سی 81 ونگ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاک فوج اور انتظامیہ نے ہمیشہ ہر مشکل گھڑی میں ہندو برادری کا ساتھ دیا ہے۔دورے کے اختتام پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین نے ہندو برادری کو یقین دلایا کہ ان کے تمام جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ انہوں نے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ آئینِ پاکستان کے تحت تمام اقلیتی برادریاں ملک کا برابر کا حصہ ہیں اور آئندہ مستقبل میں بھی اقلیتوں کے حقوق، جان و مال کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ ہرنائی میں بین المذاہب ہم آہنگی اور امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5091/2026
لورالائی:24جون ۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع سے ضلع کی مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندہ وفود نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما سردار نعمان خان ناصر، جمعیت علمائے اسلام کے عطاء اللہ شاہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شمس حمزہ زئی اپنے وفود کے ہمراہ شریک ہوئے۔ملاقات کے دوران ضلع لورالائی کو درپیش اہم عوامی مسائل، شہری سہولیات، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، صحت و تعلیم کے شعبوں میں درپیش چیلنجز، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، صفائی ستھرائی کی صورتحال اور BSDI کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔سیاسی رہنماوں نے عوام کو درپیش مسائل اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے حوالے سے اپنی تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے کہا کہ BSDI کے تحت جاری منصوبوں میں عوامی ضروریات اور مقامی آبادی کی نشاندہی کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے تاکہ ترقیاتی اقدامات کے ثمرات براہ راست عوام تک پہنچ سکیں۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور شہری مسائل کے مستقل حل کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور شفاف تکمیل کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات میسر آسکیں۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ لورالائی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ایک ماڈل ضلع بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ سڑکوں کے انفراسٹرکچر کی بہتری، شہری نکاسی آب کے نظام کی اصلاح، تعلیمی اداروں اور صحت کے مراکز کی بہتری سمیت مختلف شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔سیاسی رہنماو¿ں نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لورالائی کی ترقی، عوامی مسائل کے حل اور بہتر طرز حکمرانی کے لیے مشترکہ کاوشیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف عوام کا معیارِ زندگی بہتر ہوگا بلکہ لورالائی صوبے کے ترقی یافتہ اضلاع میں نمایاں مقام حاصل کرے گا۔ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی اور عوامی مفاد کے منصوبوں پر باہمی مشاورت اور رابطوں کو مزید موثر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5092/2026
نصیرآباد24جون ۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میل و فیمیل سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران محکمہ تعلیم کے تحت جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں خصوصاً زیرِ تعمیر اسکولوں اضافی کمروں کی تعمیر خستہ حال عمارتوں کی مرمت اور دیگر اہم امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی افسران نے جاری منصوبوں کی پیش رفت درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے کیے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے ہدایت کی کہ گرمیوں کی تعطیلات کے دوران جاری تمام ترقیاتی کام ہر صورت مقررہ وقت کے اندر مکمل کرانے کی کوشش کی جائے گی جبکہ کام کے معیار اور نگرانی کو بھی یقینی بنایا جائےگا انہوں نے واضح کیا کہ غیر معیاری کام کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی بھرپور کوشش ہے کہ تمام منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں تاکہ تعلیمی اداروں کے کھلنے سے قبل تمام بنیادی سہولیات دستیاب ہوں اور طلبہ و اساتذہ کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان تعلیم کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے جن میں اسکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر بنیادی سہولیات کی فراہمی، بند اسکولوں کی بحالی، میرٹ پر تعیناتیاں اور پرانی و خستہ حال عمارتوں کی مرمت شامل ہیں ان منصوبوں کی بروقت تکمیل سے نہ صرف تعلیمی ماحول بہتر ہوگا بلکہ طلبہ کو معیاری اور سازگار تعلیمی سہولیات بھی میسر آئیں گی۔آخر میں ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ جاری منصوبوں کی باقاعدگی سےخود بھی نگرانی کریں اور کسی بھی قسم کا غیر معیاری کام یا تاخیر کی صورت میں ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کریں جس کا بروقت سدباب کیا جا سکے تاکہ تعلیم کے شعبے میں واضح بہتری لائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر5093/2026
کوئٹہ، 24 جون ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت منعقدہ ایک اہم اجلاس میں بلوچستان میں موجود لو بی ٹی یو (Low BTU) گیس کے موثر استعمال، مونیٹائزیشن اور اس سے وابستہ ترقیاتی امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں حکومت بلوچستان اور وزارتِ پیٹرولیم کے درمیان لو بی ٹی یو گیس کو قابلِ عمل اور کارآمد بنانے پر مکمل اتفاق رائے پایا گیا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لو بی ٹی یو گیس کے استعمال، سرمایہ کاری اور تجارتی امکانات کو عملی شکل دینے کے لیے ریگولیٹری اور ادارہ جاتی فریم ورک تیار کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے وزارتِ پیٹرولیم اور حکومت بلوچستان کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دے دیا گیا ہے جو جولائی 2026 کے اختتام تک جامع تجاویز اور سفارشات پر مشتمل فریم ورک مرتب کرے گا اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ سوئی اور دیگر متعلقہ علاقوں میں دستیاب لو بی ٹی یو گیس کو سستی بجلی کی پیداوار، فرٹیلائزر صنعت اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کے لیے قابلِ استعمال بنایا جائے تاکہ صوبے میں صنعتی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ وزارتِ پیٹرولیم نے اس سلسلے میں اوگرا فیلڈ ڈویلپمنٹ اور اوگرا ٹرانسپورٹ لائسنس کے اجرا کے حوالے سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے حکومت بلوچستان کو تھرڈ پارٹی کمپنی کے ذریعے ایکوئٹی حاصل کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان جو بھی فیصلہ کرے گی، وزارتِ پیٹرولیم اس کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل کا حقیقی فائدہ مقامی آبادی تک پہنچانا وفاقی حکومت کی اولین ترجیح ہے اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (CSR) فنڈز کو مقامی آبادی کی فلاح و بہبود، سماجی ترقی اور عوامی مفاد کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا تاکہ وسائل کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچ سکیں وفاقی وزیر پیٹرولیم نے کلچاس ڈرلنگ اور زنک ہیڈ منصوبے کو فعال بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایت بھی جاری کی تاکہ ان منصوبوں سے وابستہ معاشی اور صنعتی فوائد جلد از جلد حاصل کیے جا سکیں اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ لو بی ٹی یو گیس کو قابلِ استعمال بنا کر بلوچستان کی معاشی ترقی، صنعتی خوشحالی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سوئی سمیت ایسٹ اور ویسٹ ڈیرہ بگٹی میں لو بی ٹی یو گیس کے استعمال سے صنعتی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا جس سے نہ صرف مقامی معیشت مستحکم ہوگی بلکہ سرمایہ کاری کے نئے دروازے بھی کھلیں گے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے ثمرات سب سے پہلے مقامی آبادی تک پہنچنا چاہیے اور یہ وفاق اور صوبے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان وسائل کی موثر مونیٹائزیشن کے ذریعے صوبے کی معاشی خودمختاری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے سوئی میں لو بی ٹی یو گیس کو مونیٹائز کرکے مقامی آبادی کے معیار زندگی کو بہتر بنا کر پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جائے گا میر سرفراز بگٹی نے اس یقین کا اظہار کیا کہ وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان موثر تعاون کے نتیجے میں بلوچستان میں صنعتی، اقتصادی اور سماجی ترقی کی رفتار مزید تیز ہوگی انہوں نے کہا کہ ریاستِ پاکستان اور بلوچستان کے عوام کے وسیع تر مفاد میں تمام اجتماعی ترقیاتی منصوبوں کی مکمل حمایت کی جائے گی تاکہ صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے نئے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ اجلاس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور ان کی ٹیم نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ہمراہ پارلیمانی سیکرٹری توانائی بلوچستان میر اصغر رند، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین بلاول خان کاکڑ، سیکرٹری انرجی اسفندیار کاکڑ، پرنسپل سیکرٹری عمران زرکون، سمیت متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5094/2026
کوئٹہ، 24 جون۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خان خجک نے کہا ہے کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور صحت کے شعبے میں کسی قسم کی کوتاہی، غفلت یا غیر ذمہ داری ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے والے ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر طبی عملے کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ ان کی تنخواہیں بھی بند کی جائیں گی۔ عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز ضلعی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی سمیت کمیٹی کے اراکین اور متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس میں ضلع بھر میں صحت عامہ کی صورتحال، سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت میں طبی سہولیات کی فراہمی، طبی عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی اور گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان خجک نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو انکی دہلیز پر بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور ضلعی انتظامیہ اس سلسلے میں اپنی تمام تر ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے عوام کو بھی صحت کی یکساں سہولیات فراہم کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، اس لیے تمام متعلقہ افسران اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری دیانتداری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں انہوں نے کہا کہ بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) اور دیگر طبی مراکز میں ڈاکٹروں اور عملے کی باقاعدہ حاضری کو یقینی بنایا جائے۔ اچانک معائنوں کا سلسلہ مزید موثر بنایا جائے گا اور جہاں بھی غیر حاضری یا غفلت پائی گئی وہاں فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو علاج معالجے کے لیے مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے اور ہر مریض کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ڈپٹی کمشنر نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو ہدایت کی کہ ضلع کے تمام بنیادی مراکز صحت میں ہنگامی ادویات کی مسلسل اور بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے خاص طور پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سانپ کے کاٹنے کے علاج کے لیے اینٹی سنیک وینم (ASV) اور کتے کے کاٹنے سے بچاوکے لیے اینٹی ریبیز ویکسین (ARV) ہر وقت وافر مقدار میں دستیاب ہونی چاہیے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متاثرہ افراد کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے اور قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے عبدالرزاق خان خجک نے کہا کہ موسم گرما اور دیگر موسمی حالات کے پیش نظر صحت کے مراکز کو ہائی الرٹ رکھا جائے اور ادویات کے ذخائر، طبی آلات اور عملے کی دستیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کا شعبہ براہ راست انسانی جانوں سے وابستہ ہے، لہٰذا اس میں لاپرواہی کی کوئی گنجائش نہیں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع بھر میں طبی سہولیات کی بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں اور ضلعی انتظامیہ کی ہدایات پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تمام مراکز صحت میں ادویات کی دستیابی، طبی عملے کی حاضری اور مریضوں کو بہتر علاج معالجے کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اجلاس کے اختتام پر کمیٹی کے اراکین نے صحت کے شعبے میں جاری ترقیاتی اور اصلاحاتی اقدامات کی رفتار مزید تیز کرنے، طبی عملے کی کارکردگی بہتر بنانے اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5095/2026
موسی خیل 24جون۔ ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیعی شمس الحق سے ضلع موسی خیل کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کسانوں کے وفد نے ملاقات کی۔ اور اپنے علاقوں میں کسانوں کو درپیش مسائل اور چیلنجز کے حوالے سے تفصیل سے بتایا۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع شمس الحق نے کہا کہ وزیراعلی میر سرفراز بگٹی کے خوشحال کسان وڑن اور حکومت بلوچستان کی خصوصی توجہ کی بدولت زراعت کے شعبے میں انقلابی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ جنکے دور رس نتائج برامد ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان میرسرفراز بگٹی نے پورے صوبے میں محکمہ زراعت کے عملے کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے اضلاع کے تمام علاقوں کے دورے کریں اور کسانوں کے مسائل ان کے دہلیز پر حل کریں۔ کسانوں کو کسان کارڈ کے حصول کا طریقہ کار اور رجسٹریشن کے عمل کا طریقہ کار سمجھائیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر نے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان کے احکامات کی روشنی میں ضلع دفتر سے ٹیمیں تشکیل دیکر مختلف علاقوں میں بھیجی جا رہی ہیں جن کے ثمرات بہت جلد ظاہر ہونگے ڈپٹی ڈائریکٹر نے ذمینداروں کے وفد کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ صوبائی حکومت زمینداروں کے مسائل کی فوری حل اور انہیں ریلیف دینے کیلیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر5096/2026
کوئٹہ، 24 جون:.۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ شہید شبیر بلوچ محض ایک باوردی اہلکار نہیں تھے بلکہ وہ کسی ماں کے لختِ جگر، کسی بہن بھائی کے سہارے اور اپنے دوستوں کے ایک مخلص و وفادار ساتھی تھے۔ انہیں جس بے رحمی اور سفاکیت کے ساتھ پتھر مار مار کر شہید کیا گیا، وہ ایسا دلخراش سانحہ تھا جس نے انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ شہید شبیر بلوچ کی والدہ نے انصاف کے حصول کے لیے دو طویل برس صبر، استقامت اور حوصلے کے ساتھ انتظار کیا۔ اس دوران حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مقدمے کی پیروی کو یقینی بنایا تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بالآخر قانون نے اپنا راستہ اختیار کیا، عدالت نے تمام حقائق، شواہد اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ سنایا اور قاتلوں کو ان کے جرم کی سزا ملی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف شہید کے خاندان کے لیے تسلی کا باعث ہے بلکہ معاشرے میں قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کا واضح پیغام بھی ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک غمزدہ اور دکھی ماں کے دل کو برسوں بعد کسی حد تک سکون اور قرار نصیب ہوا اور اسے یہ احساس ملا کہ انصاف میں تاخیر ضرور ہوئی، مگر انصاف ملا ضرور انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت شہداء کے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ہر شہری کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں، ریاستی اہلکاروں پر حملہ کرنے والوں اور معاشرے میں انتشار پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شہید شبیر بلوچ کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور ان کے خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت انصاف، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے تحفظ کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5097/2026
کوئٹہ، 24 جون ۔حکومت بلوچستان نے صوبے میں جنگلاتی وسائل کے تحفظ، غیر قانونی کٹائی اور لکڑی کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے صوبے بھر میں ہر قسم کی لکڑی، ٹمبر، لاگز اور دیگر جنگلاتی مصنوعات کی نقل و حمل، ترسیل اور منتقلی پر 90 روز کے لیے پابندی عائد کر دی ہے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات کے مطابق یہ فیصلہ عوامی مفاد اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے پیش نظر ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت کیا گیا ہے۔ پابندی کا اطلاق فوری طور پر ہوگا اور یہ حکم صوبہ بلوچستان کے تمام اضلاع میں نافذ العمل رہے گا انہوں نے بتایا کہ صوبے میں جنگلاتی وسائل کی غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنے اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات کی ترسیل پر عارضی پابندی ضروری سمجھی گئی۔ اس اقدام کا مقصد جنگلات کے تحفظ اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کو یقینی بنانا ہے محمد حمزہ شفقات کے مطابق تمام ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والی کسی بھی گاڑی، ٹرک، ٹریلر یا دیگر ذرائع نقل و حمل کو روک کر قبضے میں لے سکتے ہیں اور متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لا سکتے ہیں انہوں نے واضح کیا کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 188 اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ دورانِ پابندی کسی بھی اجازت نامے، پاس یا اتھارائزیشن کی بنیاد پر لکڑی یا جنگلاتی مصنوعات سے لدی گاڑیوں کو رہا نہیں کیا جائے گا ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ صرف غیر معمولی نوعیت کے ایسے معاملات جن کا تعلق عوامی مفاد یا حکومتی ضروریات سے ہو، ان میں متعلقہ انتظامی سیکرٹری محکمہ داخلہ کو تحریری طور پر خصوصی استثنیٰ کی درخواست ارسال کر سکے گا۔ تاہم محکمہ داخلہ کی جانب سے باقاعدہ تحریری منظوری ملنے تک پابندی مکمل طور پر نافذ العمل رہے گی محکمہ داخلہ بلوچستان نے متعلقہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ حکم نامے پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ جنگلاتی وسائل کا تحفظ، ماحولیاتی توازن کی بحالی اور قدرتی وسائل کی غیر قانونی نقل و حرکت کی موثر روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5098/2026
موسیٰ خیل 24 جون ۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل، عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی اور کمیٹی کے دیگر ممبران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع میں صحت عامہ کی صورتحال اور طبی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کے امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کا بنیادی ایجنڈا گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کی پیش رفت کا جائزہ لینا تھا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے واضح کیا کہ صحت کے شعبے میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اجلاس میں غیر حاضر رہنے والے طبی عملے کے خلاف فوری کارروائی کرنے اور ان کی تنخواہیں بند کرنے کے سخت احکامات جاری کیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیوٹی سے غیر حاضر رہ کر عوام کو مشکلات میں ڈالنا کسی صورت قبول نہیں ہےمزید برآں ڈپٹی کمشنر نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو سختی سے ہدایت کی کہ ضلع کے تمام بنیادی مراکز صحت میں ہنگامی ادویات کی فراہمی کو بلا تعطل یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے خصوصی طور پر ہدایت کی کہ سانپ کے کاٹنے کے علاج کے لیے اینٹی سنیک وینم (ASV) اور کتے کے کاٹنے (ریبیز/ہائیڈروفوبیا) سے بچاو کے لیے اینٹی ریبیز ویکسین (ARV) کی وافر مقدار ہر وقت مراکزِ صحت میں دستیاب ہونی چاہیے تاکہ ہنگامی صورتحال میں عوام کو بروقت طبی امداد فراہم کی جا سکے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ انتظامیہ کی ہدایات پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا اور مریضوں کو درپیش طبی مسائل کے حل کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ کمیٹی نے صحت کے شعبے میں جاری منصوبوں کی رفتار کو مزید تیز کرنے اور طبی عملے کی حاضری و کارکردگی کو بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5099/2026
مسلم باغ 24جون ۔ اسسٹنٹ کمشنر مسلم باغ دھیرج کالراتحصیل مسلم باغ یونین کونسل سیوری مہترزئی میں ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی کھلی کچہری کا مقصد عوامی مسائل کو براہِ راست سننا اور ان کے فوری و مو¿ثر حل کو یقینی بنانا تھا۔کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے بجلی، پانی، صفائی، تعلیم، صحت، سڑکوں کی خستہ حالی، ریونیو معاملات اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق اپنے مسائل اسسٹنٹ کمشنر کے سامنے پیش کئے اسسٹنٹ کمشنر مسلم باغ دھیرج کالرا نے عوام کے مسائل نہایت توجہ اور سنجیدگی سے سنے اور موقع پر ہی متعلقہ محکموں کے افیسران کو فوری اور عملی اقدامات کی ہدایات جاری کیںاس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوامی خدمت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کھلی کچہریوں کا مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان فاصلے کو کم کرنا ہے انہوں نے کہا کہ عوام کے مسائل کا حل ان کی ذاتی ذمہ داری ہے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گاکھلی کچہری میں موجود عوام نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر مسلم باغ کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ ان کے مسائل جلد از جلد حل کئے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5100/2026
تربت: 24 جون ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ نے اسلحہ لائسنس کے حصول اور دستی لائسنسوں کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے لیے نئے ضوابط اور طریقہ کار کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ لائسنس کے حصول یا ری ویلیڈیشن کے لیے مقررہ طریقہ کار پر لازمی عمل کریں۔ نئے اسلحہ لائسنس کے خواہشمند افراد کے لیے اصل شناختی کارڈ، ڈومیسائل، میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ اور پولیس ویریفکیشن کا ہونا ضروری ہے۔ درخواست گزاروں کو سب سے پہلے ‘ای سہولت’ (E-Sahulat) کے ذریعے 3,450 روپے پروسیسنگ فیس جمع کروانے کے بعد ڈیٹا انٹری کے لیے ڈی سی آفس کی اسلحہ برانچ سے رجوع کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ، لائسنس کی قسم (رائفل، پسٹل یا شارٹ گن) اور دائرہ کار (صرف بلوچستان یا آل پاکستان) کے لحاظ سے مقررہ فیس بھی ای سہولت کے ذریعے جمع کروانا ہوگی، جس کے بعد ڈیمانڈ نوٹ حاصل کر کے مجاز ڈیلر سے اسلحہ خرید کر اندراج کروانا ہوگا۔دوسری جانب، پرانے دستی (مینول) لائسنس رکھنے والے شہریوں کو اپنے اصل شناختی کارڈ اور اصل دستی لائسنس کے ساتھ ڈی سی آفس سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، اور اگر لائسنس کی میعاد ختم ہو چکی ہے تو پہلے پوسٹ آفس سے متعلقہ ٹکٹوں کی تجدید کروانا لازمی ہوگا۔ اس ری ویلیڈیشن کے عمل کے لیے بھی 3,450 روپے پروسیسنگ اور 2,000 روپے کارڈ فیس ای سہولت کے ذریعے ادا کرنا ہوگی۔ ڈپٹی کمشنر آفس کے مطابق، دونوں صورتوں میں مکمل شدہ دستاویزات جمع کروانے کے بعد چار ہفتوں کے اندر کمپیوٹرائزڈ لائسنس کارڈ جاری کر دیا جائے گا، لہذا شہریوں سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ مقررہ طریقہ کار پر عمل کریں تاکہ ان کے معاملات بروقت نمٹائے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 5101/2026
سبی 24 جون ۔حکومت بلوچستان، محکمہ داخلہ کے جاری کردہ احکامات کے مطابق صوبہ بھر میں ہر قسم کی لکڑی، ٹمبر، لاگز، ووڈ اور جنگلاتی پیداوار کی نقل و حمل، ترسیل، برداری اور ٹرانزٹ پر 90 روز کے لیے مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے ضلع سبی کے تمام اسسٹنٹ کمشنرز، پولیس، ایف سی اور دیگر متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ حکومت بلوچستان کے احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور ضلع بھر میں لکڑی، ٹمبر اور جنگلاتی پیداوار کی غیر قانونی نقل و حمل کے خلاف موثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ڈپٹی کمشنر سبی نے ہدایت کی ہے کہ ضلع کے داخلی و خارجی راستوں، چیک پوسٹس اور دیگر اہم مقامات پر نگرانی مزید سخت کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لکڑی، ٹمبر یا جنگلاتی پیداوار لے جانے والی کسی بھی گاڑی، ٹرک، ٹریلر یا دیگر سواری کو فوری طور پر روک کر ضبط اور تحویل میں لیا جائے گا، جبکہ ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان کے جاری کردہ احکامات کے تحت اس پابندی کے دوران کوئی بھی گاڑی یا لکڑی محض کسی پرمٹ، پاس یا اجازت نامے کی بنیاد پر ہرگز رہا نہیں کی جائے گی۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر سبی نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی رابطے اور مربوط حکمت عملی کے تحت اس پابندی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں تاکہ غیر قانونی نقل و حمل کی روک تھام کے ساتھ ساتھ جنگلاتی وسائل کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ سبی نے عوام، ٹرانسپورٹرز اور متعلقہ افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومت بلوچستان کے احکامات کی مکمل پابندی کریں اور کسی بھی غیر قانونی نقل و حمل سے گریز کریں، بصورت دیگر قانونی کارروائی کے ساتھ گاڑیاں بھی تحویل میں لی جا سکتی ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5102/2026
کوئٹہ 24جون۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) کوئٹہ حافظ محمد طارق کی زیر صدارت لینڈ ریکارڈ ڈیجٹلائزیشن اور ایگریکلچر انکم ٹیکس کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سب ڈویژن کوئٹہ، کچلاک، صدر اور سریاب میں مکمل ہونے والے موضعات اور محالات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ لینڈ ریکارڈ کی ڈیجٹلائزیشن کے دوران درپیش مشکلات، بقایا امور اور دیگر انتظامی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور متعلقہ افسران کو عملدرآمد کے عمل کو مزید تیز اور موثر بنانے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس میں ایگریکلچر انکم ٹیکس کے حوالے سے بھی جائزہ لیا گیا۔زمینداروں کو جاری کیے گئے نوٹسز، ٹیکس کی وصولی اور متعلقہ معاملات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ حکام نے اپنی رپورٹس پیش کیں جبکہ اجلاس میں لینڈ ریکارڈ کی ڈیجٹلائزیشن اور ایگریکلچر انکم ٹیکس سے متعلق امور کو مقررہ وقت میں مکمل کرنے پر زور دیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5103/2026
زیارت24 جون ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور حکومتِ بلوچستان کی تعلیمی ترقی کے عزم کے مطابق ضلع زیارت کے علاقے کآن ڈپو میں واقع گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کی نئی عمارت کا باقاعدہ افتتاح اور تعمیراتی کام کا آغاز کر دیا گیا۔افتتاحی تقریب میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زیارت، نقیب اللہ کاکڑ نے سکول کی معلمات، طالبات اور مقامی عمائدین کے ہمراہ منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر آر ٹی ایس ایم ضلع زیارت کے نمائندے بدرالدین سمیت علاقے کے معززین بھی موجود تھے۔حکام کے مطابق یہ اہم تعلیمی منصوبہ تقریباً 7 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ نئی عمارت کی تعمیر سے طالبات کو بہتر، محفوظ اور جدید تعلیمی ماحول میسر آئے گا، جبکہ تدریسی سرگرمیوں کے فروغ اور معیاری تعلیم کی فراہمی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان صوبے بھر میں تعلیمی شعبے کی بہتری، تعلیمی اداروں کی بنیادی سہولیات کی فراہمی اور بچیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دور دراز علاقوںمیں بھی معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ ہر بچی کو تعلیم کے یکساں مواقع میسر آ سکیں۔اہلِ علاقہ نے منصوبے کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومتِ بلوچستان، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے متعلقہ حکام کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ اس منصوبے کی بروقت تکمیل سے علاقے میں تعلیمی معیار مزید بہتر ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5104/2026
گوادر: و24جون ۔زیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری اور بروقت صحت کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ضلع گوادر میں صحت کے مراکز کی نگرانی اور کارکردگی کا جائزہ لینے کا سلسلہ جاری ہے۔اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی گوادر نے بنیادی مراکز صحت (BHU) گھٹی ڈور اور شینیکانی در کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے طبی عملے کی حاضری، او پی ڈی رجسٹر، توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) سائٹ، ماں اور بچے کی صحت (MNCH) سینٹرز کی فعالیت، ادویات کے دستیاب ذخیرے اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ڈسٹرکٹ منیجر نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ مریضوں کو معیاری طبی خدمات کی فراہمی، ادویات کی مسلسل دستیابی، حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام کی موثر عملداری اور زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق خدمات کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ دور دراز علاقوں کے عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات بروقت اور موثر انداز میں میسر آسکیں۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے عوام دوست وڑن کے مطابق ضلع بھر کے صحت مراکز کی باقاعدہ نگرانی جاری رکھی جائے گی تاکہ صحت عامہ کے نظام کو مزید موثر، فعال اور عوامی توقعات کے مطابق بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر5105/2026
کوئٹہ24 جون: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ شہید شبیر بلوچ محض ایک باوردی اہلکار نہیں تھے بلکہ وہ کسی ماں کے لختِ جگر، کسی بہن بھائی کے سہارے اور اپنے دوستوں کے ایک مخلص و وفادار ساتھی تھے۔ انہیں جس بے رحمی اور سفاکیت کے ساتھ پتھر مار مار کر شہید کیا گیا، وہ ایسا دلخراش سانحہ تھا جس نے انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ شہید شبیر بلوچ کی والدہ نے انصاف کے حصول کے لیے دو طویل برس صبر، استقامت اور حوصلے کے ساتھ انتظار کیا۔ اس دوران حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مقدمے کی پیروی کو یقینی بنایا تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بالآخر قانون نے اپنا راستہ اختیار کیا، عدالت نے تمام حقائق، شواہد اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ سنایا اور قاتلوں کو ان کے جرم کی سزا ملی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف شہید کے خاندان کے لیے تسلی کا باعث ہے بلکہ معاشرے میں قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کا واضح پیغام بھی ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک غمزدہ اور دکھی ماں کے دل کو برسوں بعد کسی حد تک سکون اور قرار نصیب ہوا اور اسے یہ احساس ملا کہ انصاف میں تاخیر ضرور ہوئی، مگر انصاف ملا ضرور انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت شہداء کے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ہر شہری کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں، ریاستی اہلکاروں پر حملہ کرنے والوں اور معاشرے میں انتشار پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شہید شبیر بلوچ کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور ان کے خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت انصاف، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے تحفظ کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
خبر نامہ نمبر5106/2026
بارکھان/رکھنی، 24 جون 2026: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات پر کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن رکھنی، مجیب الرحمٰن قمبرانی نے کوہلو۔بارکھان۔رکھنی شاہراہ اور رکھنی بائی پاس منصوبے کا دورہ کرکے جاری تعمیراتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر پراجیکٹ ڈائریکٹر ظفر علی کھوسہ نے منصوبے کی پیش رفت، مکمل شدہ کام اور آئندہ مراحل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ دورے کے دوران ذرغون کنسٹرکشن کے ٹھیکیدار لالہ جمیل احمد خان، آغا کنسٹرکشن کے مالک نجیب آغا اور متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔کمشنر مجیب الرحمٰن قمبرانی نے منصوبوں پر جاری کام کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں اور تعمیراتی کمپنیوں کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے کام کی رفتار مزید تیز کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ تعمیراتی معیار، شفافیت اور انجینئرنگ اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے تاکہ عوام کو محفوظ، معیاری اور پائیدار سفری سہولیات میسر آسکیں۔انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق صوبائی حکومت عوامی فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے۔ کوہلو۔بارکھان۔رکھنی شاہراہ اور رکھنی بائی پاس کی تکمیل سے کوہلو، بارکھان، رکھنی اور ملحقہ علاقوں میں آمدورفت کی سہولیات میں نمایاں بہتری آئے گی، سفری دورانیہ کم ہوگا اور تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔بعد ازاں کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن نے رکھنی بائی پاس سے بیکڑ کراس تک زیرِ تعمیر سڑک کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور فیلڈ انتظامات سمیت تعمیراتی معیار کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے اور کام کی رفتار میں مزید بہتری لائی جائے تاکہ مقررہ مدت میں اہداف حاصل کیے جا سکیں کمشنر مجیب الرحمٰن قمبرانی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں ڈویژنل انتظامیہ ترقیاتی منصوبوں کی بلا تعطل، بروقت اور معیاری تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون اور سہولت فراہم کرتی رہے گی تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد میسر آ سکیں۔
خبر نامہ نمبر5107/2026
مسلم باغ 24جون:۔مسلم باغ میں اسسٹنٹ کمشنر دراج کالرا کی زیرِ صدارت کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے مسائل اسسٹنٹ کمشنر کے سامنے پیش کیے۔اس موقع پر ڈی ایس پی مسلم باغ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، محکمہ صحت، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، لوکل گورنمنٹ، زراعت اور دیگر لائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران بھی موجود تھے۔اسسٹنٹ کمشنر دراج کالرا نے عوام کے مسائل غور سے سنے اور موقع پر موجود متعلقہ محکموں کے افسران کو مسائل کے فوری حل کے لیے احکامات جاری کیے۔ عوام نے بجلی، پانی، صحت، تعلیم، سڑکوں کی خستہ حالی اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق شکایات درج کرائیں۔اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور کھلی کچہریوں کا مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان فاصلے کم کرنا ہے تاکہ شہریوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کیے جا سکیں۔
خبر نامہ نمبر5108/2026
کوئٹہ 24جون۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر صدر محمد یوسف ہاشمی اور اسسٹنٹ کمشنر سٹی محمد امیر حمزہ نویں اور دسویں محرم الحرام کے جلوسوں کے روٹس کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر صفائی ستھرائی، سیکیورٹی، پانی کی فراہمی، اسٹریٹ لائٹس،نکاسی آب اور دیگر انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تاکہ عزاداران کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا سکے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ محرم الحرام کے دوران تمام انتظامات کو بروقت اور مؤثر انداز میں یقینی بنایا جائے تاکہ جلوسوں کا انعقاد پرامن اور منظم طریقے سے ممکن ہو سکے۔
خبر نامہ نمبر5109/2026
تربت۔24 جون: تربت میں غیر رجسٹرڈ آئل ڈپوز کے خلاف اسسٹنٹ کمشنر نعمان منیر کی کارروائی، 20 کے قریب ڈپوز سیل کردیے گئے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر نعمان منیر کی سربراہی میں انتظامیہ نے شہر میں غیر رجسٹرڈ آئل ڈپوز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے بیس کے قریب ڈپوز کو سیل کر دیا۔اسسٹنٹ کمشنر نعمان منیر کے مطابق تربت شہر میں تیل کی ذخیرہ اندوزی اور پٹرول و ڈیزل کی مہنگے داموں فروخت سے متعلق عوامی شکایات موصول ہونے کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔پیر کے روز اسسٹنٹ کمشنر تربت کی سربراہی میں ایک ٹیم نے جوسک منڈی میں چھاپہ مارا جہاں سرکاری سطح پر رجسٹریشن نہ کرانے والے متعدد آئل ڈپوز کے خلاف کارروائی کی گئی۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تمام ڈپوز مالکان کو رجسٹریشن کرانے کے لیے پیشگی ہدایات اور مہلت دی گئی تھی تاہم مقررہ مدت گزرنے کے باوجود عملدرآمد نہ ہونے پر قانونی کارروائی کی گئی۔اسسٹنٹ کمشنر تربت نے کہا کہ تیل کی ذخیرہ اندوزی اور غیر سرکاری نرخوں پر پٹرول و ڈیزل کی فروخت سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا تھا جب کہ اس صورت حال سے پٹرول پمپ مالکان بھی متاثر ہو رہے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مفاد کے تحفظ اور قیمتوں میں استحکام کے لیے ایسی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔
خبر نامہ نمبر5110/2026
ضلع چمن24جون:۔ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے محکمہ شہری دفاع (سول ڈیفنس) کے تمام ملازمین کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنی حاضری کو یقینی بنائیں اور مقررہ تاریخ پر ڈپٹی کمشنر آفس چمن میں حاضر ہو کر اپنی تحریری حاضری رپورٹ جمع کرائیں۔جاری کردہ سرکاری حکم نامے کے مطابق حکومت بلوچستان کے محکمہ داخلہ کی ہدایات اور متعلقہ عدالتی کارروائی کی روشنی میں ضلع چمن سے تعلق رکھنے والے محکمہ شہری دفاع کے ملازمین کی حاضری اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔اس سلسلے میں تمام متعلقہ ملازمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 29 جون 2026 کو ڈپٹی کمشنر آفس چمن میں حاضر ہو کر اپنی تحریری رپورٹ پیش کریں۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق سرکاری احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے والے ملازمین کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے تمام متعلقہ ملازمین پر زور دیا ہے کہ وہ مقررہ تاریخ اور وقت کی پابندی کرتے ہوئے سرکاری احکامات پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔
خبر نامہ نمبر5111/2026
ضلع چمن24جون:۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) چمن فدا بلوچ نے پاک افغان سرحد پر قائم افغان ود ہولڈنگ کیمپ کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے نادرا ڈیٹا بیس سنٹر کا معائنہ کیا اور افغان باشندوں کی رجسٹریشن، دستاویزی ریکارڈ اور ڈیٹا اندراج کے عمل کا جائزہ لیا۔اے ڈی سی چمن نے نادرا کے افسران اور اہلکاروں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ افغان باشندوں کی رجسٹریشن اور دستاویزی کارروائی کو زیادہ سے زیادہ سہل بنایا جائے اور تمام ریکارڈ کو جلد از جلد سسٹم میں درج کیا جائے تاکہ عمل بروقت مکمل ہو سکے۔انہوں نے کیمپ میں مقیم افغان باشندوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور انتظامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر کیمپ انتظامیہ کو ہدایت دی گئی کہ افغان باشندوں کے ساتھ نرمی، شائستگی اور احترام کے ساتھ پیش آیا جائے اور انہیں کسی قسم کی تکلیف یا اذیت نہ پہنچائی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غفلت یا بدسلوکی کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔فدا بلوچ نے کیمپ میں موجود افغان باشندوں سے ملاقات کی، ان کی خیریت دریافت کی اور انہیں فراہم کی جانے والی سہولیات، انتظامات اور عملے کے رویے کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین ہمارے دینی بھائی اور اچھے ہمسایہ ہیں، جنہوں نے پاکستان میں طویل عرصہ گزارا اور مختلف شعبوں میں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان باشندوں کی باعزت واپسی کے لیے ہر ممکن تعاون اور سہولت فراہم کرنا ہماری اسلامی، انسانی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
خبر نامہ نمبر5112/2026
گوادر/ پسنی24جون: عوام کو بجلی کی بہتر سہولیات کی فراہمی اور طویل و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے درپیش مشکلات کے تدارک کے لیے اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں کیسکو حکام، تاجر برادری، سیاسی و سماجی شخصیات، بلدیاتی نمائندگان، کونسلرز، وائس چیئرمین پسنی فہیم علی جوہر اور سابق چیئرمین حکیم چیف سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران شرکاء نے شہر میں جاری لوڈشیڈنگ کے باعث عوام، کاروباری سرگرمیوں، طلبہ اور روزمرہ زندگی پر پڑنے والے منفی اثرات پر تفصیلی غور و خوض کیا۔ اس موقع پر تمام اسٹیک ہولڈرز نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ پسنی شہر میں جاری لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کم از کم ایک گھنٹے کی کمی کی جائے تاکہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کیسکو حکام بجلی کی بندش کے دورانیے میں کمی کے لیے مؤثر اقدامات کریں گے، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کو یقینی بناتے ہوئے باقاعدہ شیڈول جاری کیا جائے گا، جبکہ بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نظام میں موجود تکنیکی خرابیوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے گا۔اس موقع پر کیسکو حکام نے یقین دہانی کرائی کہ لوڈشیڈنگ میں ایک گھنٹے کی کمی سے متعلق اجلاس کی متفقہ سفارش فوری طور پر اعلیٰ حکام کو ارسال کی جائے گی تاکہ ضروری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر اسسٹنٹ کمشنر پسنی نے تمام شرکاء کے تعاون کو سراہتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ عوامی مفاد میں کیے گئے فیصلوں پر مؤثر اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

خبر نامہ نمبر5113/2026
ضلع چمن24جون:۔اسسٹنٹ کمشنر سٹی چمن عزیز اللہ کاکڑ نے شہر کے مختلف پٹرول پمپس کا دورہ کیا اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، پیمانوں اور سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران انہوں نے پمپ مالکان کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی فروخت سرکاری نرخ نامے کے مطابق یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مقررہ نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے یا حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اسسٹنٹ کمشنر نے پیمانوں کی جانچ پڑتال بھی کی اور صارفین کو مکمل مقدار میں پٹرول و ڈیزل کی فراہمی پر زور دیا۔ معائنے کے دوران متعدد پٹرول پمپس کو سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد نہ کرنے پر سیل کر دیا گیا جبکہ کئی پمپ مالکان پر جرمانے بھی عائد کیے گئے۔عزیز اللہ کاکڑ نے کہا کہ عوامی مفادات کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور معیار کے حوالے سے کسی قسم کی بے ضابطگی برداشت نہیں کی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر5114/2026
کوئٹہ24جون:۔پارلیمانی سیکرٹری برائے پاپولیشن ویلفیئر پرنس آغا عمر احمد زئی سے معاونِ برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، صوبے میں عوامی فلاح و بہبود، پاپولیشن ویلفیئر کے پروگراموں، امن و امان کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں بلوچستان میں آبادی کی فلاح و بہبود، صحت عامہ سے متعلق اقدامات اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے جاری حکومتی منصوبوں پر بھی گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے عوامی مسائل کے حل اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔پارلیمانی سیکرٹری پرنس آغا عمر احمد زئی نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوامی خدمت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور پاپولیشن ویلفیئر کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔اس موقع پر معاونِ خصوصی برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے حکومت مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں صوبے کی مجموعی ترقی، عوامی مسائل کے حل اور مختلف شعبوں میں بہتری کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

خبر نامہ نمبر 2026/5115
کوئٹہ24جون: چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت صوبے میں ترقیاتی منصوبوں، سرمایہ کاری کے فروغ اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری سے متعلق ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں حب، گڈانی اور گوادر میں صنعتی سرمایہ کاری کے امکانات، گوادر اپ لفٹنگ پلان اور اضلاع کی معاشی و روزگار سے متعلق ترقیاتی حکمتِ عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران بلوچستان کے ساحلی اور پسماندہ اضلاع میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ، مقامی سطح پر روزگار کے مواقع میں اضافے اور سرمایہ کاری دوست ماحول کی تشکیل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ متعلقہ حکام نے صوبے کے مختلف اضلاع میں معاشی ترقی کے امکانات، صنعتی شعبے کی توسیع اور مقامی آبادی کو روزگار کی فراہمی کے لیے مجوزہ اقدامات سے آگاہ کیا۔ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے اجلاس کو اضلاع کی معاشی بہتری، پائیدار ترقی اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے جاری اور مجوزہ منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کو مقامی ضروریات اور معاشی ترجیحات سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ ان کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچ سکیں۔چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ترقیاتی عمل کو نئی سمت، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو مربوط انداز میں آگے بڑھانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ محکمے ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار کو مزید تیز کریں اور سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائیں۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ حب، گڈانی اور گوادر جیسے اہم صنعتی اور ساحلی علاقوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، جن سے نہ صرف صنعتی ترقی کو فروغ ملے گا بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کو سرمایہ کاری، تجارت اور معاشی سرگرمیوں کا ایک فعال مرکز بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔اجلاس میں کیے گئے فیصلوں اور طے شدہ حکمت عملی کے نتیجے میں بلوچستان کے ساحلی علاقوں اور مختلف اضلاع میں معاشی سرگرمیوں کو مزید تقویت ملنے، سرمایہ کاری میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، جس سے صوبے کی مجموعی معاشی ترقی اور عوامی خوشحالی کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔گرین بس سروس کی معطلی سے متعلق خبروں کی تردید، سروس معمول کے مطابق جاری رہے گی.
خبر نامہ نمبر2026/5116
گوادر24جون: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق صوبے میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ، سرحدی تجارت کی بہتری اور گوادر پورٹ کی فعالیت میں اضافے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی حکومت کے ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ایران کے لیے اور ایران سے آنے والے کارگو کی نقل و حمل، ٹرانزٹ اور کراس اسٹفنگ سے متعلق کسٹم جنرل آرڈر نمبر 05 آف 2026 جاری کر دیا ہے، جس کے تحت باقاعدہ اور شفاف آپریشنل طریقہ کار وضع کر دیا گیا ہے۔جاری کردہ حکم نامے کے مطابق ایران کے لیے کارگو کی ترسیل TIR Regime اور Transit Regime کے تحت کی جا سکے گی، جبکہ ایران کے لیے مختص کارگو کی کراس اسٹفنگ پاکستان کی بندرگاہوں اور آف ڈاک ٹرمینلز پر بھی ممکن ہوگی۔ اس اقدام سے بین الاقوامی تجارتی نقل و حمل کو مزید سہولت میسر آئے گی اور تجارتی عمل میں مؤثریت پیدا ہوگی۔ایف بی آر نے ڈائریکٹوریٹ جنرل ٹرانزٹ ٹریڈ کراچی کو ہدایت کی ہے کہ ایران سے متعلق کارگو کی مؤثر نگرانی، مانیٹرنگ اور آپریشنل سہولت کاری کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پر کارگو ریکنسیلی ایشن اور ہفتہ وار رپورٹنگ کا نظام بھی نافذ کیا گیا ہے تاکہ شفافیت اور ریگولیٹری تقاضوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
اس اہم پیش رفت کو گوادر پورٹ کے چیئرمین نورالحق بلوچ کی مسلسل کاوشوں، متعلقہ وفاقی اداروں کے ساتھ مؤثر رابطوں اور خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے جاری کوششوں کا مثبت نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد گوادر پورٹ کو علاقائی تجارت کے ایک فعال مرکز کے طور پر مستحکم کرنا اور پاکستان و ایران کے درمیان تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
تجارتی اور کاروباری حلقوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے گوادر سمیت مکران ڈویژن کے سرحدی اور بندرگاہی کاروبار کو نئی تقویت ملے گی، دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہوگا اور خطے میں درآمدات و برآمدات کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام گوادر پورٹ کی تجارتی اہمیت میں اضافے اور بلوچستان کی معاشی ترقی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
خبر نامہ نمبر 2026/5117
کوئٹہ 24جون۔ سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) کوئٹہ ڈویژن نعمت اللہ ترین نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 25 اور 26 جون کو گرین بس سروس مکمل طور پر معطل رہے گی۔سیکرٹری آر ٹی اے نے اپنے جاری کردہ سرکلر میں واضح کیا ہے کہ گرین بس سروس اپنے مقررہ روٹس پر معمول کے مطابق چلتی رہے گی اور شہری بلا جھجک اس سہولت سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی ایسی غیر مصدقہ اطلاعات پر کان نہ دھرا جائے اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر اعتماد کیا جائے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ انتظامیہ اور پولیس کو بھی ہدایت جاری کی گئی ہے کہ گرین بس سروس کی بلا تعطل روانی کو یقینی بنانے کے لیے مکمل تعاون فراہم کیا جائے تاکہ شہریوں کو سفری سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔سیکرٹری آر ٹی اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ دینے کے بجائے مستند معلومات حاصل کریں اور گرین بس سروس سے حسب معمول فائدہ اٹھائیں۔
خبرنامہ نمبر 2026/5118
لسبیلہ24 جون:ـحکومت بلوچستان، محکمہ داخلہ کے جاری کردہ احکامات کے مطابق صوبہ بھر میں ہر قسم کی جنگلاتی لکڑی کی پیداوار کی نقل و حمل،ترسیل، برداری اور ٹرانزٹ پر 90 روز کے لیے مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ لسبیلہ نے حکومت بلوچستان کےاحکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانےکیلئےضلع بھر میں لکڑی، ٹمبراورجنگلاتی پیداوار کی غیرقانونی نقل و حمل کے خلاف مؤثر کارروائی شروع کردی ہے ڈپٹی کمشنرلسبیلہ نےتمام انتظامی اداروں کو ہدایت کی ہےکہ ضلع کے داخلی و خارجی راستوں،چیک پوسٹس اور دیگر اہم مقامات پر نگرانی مزید سخت کی جائے اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ و محکمہ جنگلات اہلکاران نے مشترکہ کاروائی کے دوران لکڑیوں سے لوڈ ٹرک تحویل میں لے کر مزید کاروائی کیلئے محکمہ جنگلات کے حوالےکردی ہے واضح رہے کہ ضلع لسبیلہ میں جنگلات کی کٹائی پرمکمل پابندی عائد ہے اور اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ نے کاروائیوں کا سلسلہ مزید تیزکردیا ہےاور جنگلات کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *