23rd-September-2026

خبرنامہ نمبر8121/2026
کوئٹہ 23 سٹمبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے پشتون کلچر ڈے کے موقع پر پوری پشتون قوم بالخصوص نوجوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی تاریخ سے روشنی، اپنی ثقافت سے شناخت، علم سے طاقت اور اپنے مستقبل سے امید حاصل کریں۔ ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں اپنی ثقافتی جڑوں سے وابستگی اور جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگی ایک دوسرے کی ضد نہ ہوں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل بنیں۔ انسانی تہذیب کا سفر دراصل انسان کی مسلسل تخلیقی، فکری اور سماجی ترقی کی داستان ہے۔ لفظ کلچر کی جڑیں لاطینی زبان کے لفظ کلتور سے وابستہ ہیں، جس کا بنیادی مفہوم زمین کی کاشت اور زرخیزی سے متعلق ہے۔ وقت کے ساتھ یہی تصور انسانی ذہن، معاشرے اور تہذیب کی تعمیر و نشوونما تک پھیل گیا۔ انسان نے اپنی بودوباش، علم، فنون، معیشت اور سماجی اداروں کو مسلسل ترقی دی اور ثقافت سے تہذیب تک کا سفر طے کیا۔ آج انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید مواصلاتی ذرائع نے دنیا کو ایک دوسرے کے مزید قریب لا کر عالمی تہذیب کے ارتقا کی رفتار کو کئی گنا تیز کر دیا ہے۔ پشتون کلچر ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ثقافت کسی بھی قوم کی شناخت، اجتماعی یاداشت اور تاریخی تسلسل کی علامت ہوتی ہے۔ پشتون کلچر ڈے ہمیں اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی روایات کی مثبت اقدار کو نئی نسلوں تک منتقل کرتے ہوئے انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرینگے۔ پشتون قوم کی تاریخ قدیم اور شاندار روایات کی امین ہے، جبکہ پشتو زبان خطے کی اہم اور بڑی زبانوں میں شمار ہوتی ہے۔ پشتون معاشرہ آج بھی اپنی دلکش روایتی پوشاک، ذائقہ دار کھانوں، روایتی رقص، عدالتی نظام جرگہ، سخاوت، انسان دوستی اور مہمان نوازی جیسی قابلِ قدر روایات کے باعث ایک منفرد ثقافتی شناخت رکھتا ہے۔ پشتون ثقافت کی خوبصورتی اس کے اجتماعی مزاج، وقار اور باہمی احترام میں بھی پنہاں ہے۔ شملہ پشتون معاشرے میں وقار اور شناخت کی علامت ہے تو شال ہماری آبادی کے ایک بڑے اور اہم حصے کی نمائندگی کرتی ہے۔ اسلیے ہماری ثقافتی ترقی اور سماجی پیشرفت بھی اسی وقت مکمل ہو سکتی ہے جب معاشرے کے مرد اور خواتین برابر احترام، مواقع اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھیں۔ شملہ اور شال، دونوں ملکر ہی ایک متوازن اور ترقی یافتہ معاشرے کی تصویر مکمل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتون کلچر ڈے محض اپنی ثقافت کو یاد کرنے کا دن نہیں بلکہ تجدیدِ عہد کا دن بھی ہے۔ ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنی زبان، ادب، تاریخ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدید علم کے میدان میں بھی آگے بڑھیں گے۔ ہماری نئی نسل اپنی شناخت پر فخر کرتے ہوئے دنیا کے جدید تقاضوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرے، یہی ہماری حقیقی کامیابی ہوگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8122/2026
کوئٹہ: 23 ستمبر۔ صوبائی وزیر انڈسٹریز اینڈ کامرس، چیف سردار کوہیار خان ڈومکی نے 23 ستمبر پشتون کلچر ڈے کے موقع پر تمام پشتون قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پشتون ثقافت اپنی قدیم روایات، تہذیب، زبان، ادب، مہمان نوازی، رواداری، بہادری اور بھائی چارے کی خوبصورت عکاس ہے۔سردار کوہیار خان ڈومکی نے کہا کہ پشتو زبان، ادب، روایتی لباس اور ثقافتی اقدار پشتون قوم کے قیمتی تاریخی ورثے کا حصہ ہیں، نئی نسل کو اپنی ثقافت اور روایات سے روشناس کرانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ پشتون کلچر ڈے نہ صرف پشتون ثقافت اور روایات کو اجاگر کرنے کا دن ہے بلکہ تمام اقوام کے درمیان باہمی احترام، بھائی چارے، اتحاد اور ہم آہنگی کے فروغ کا بھی پیغام دیتا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان مختلف اقوام، زبانوں اور ثقافتوں کا حسین امتزاج ہے، یہاں آباد تمام اقوام کی ثقافتیں صوبے کی خوبصورتی، پہچان اور اجتماعی تشخص کا اہم حصہ ہیں۔سردار کوہیار خان ڈومکی نے پشتون کلچر ڈے کے موقع پر تمام پشتون بھائیوں کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8123/2026
کوئٹہ23 ستمبر۔ صوبائی مشیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمان خان ملاخیل نے پشتون کلچرل ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں تمام پشتون اقوام کو مبارکباد ونیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زندہ اور باشعور قومیں ثقافتی و روایتی اقدار اور تاریخی ورثے کا تحفظ کرتی ہیں اور اس دن کو منانے کا اصل مقصد ان تمام روایات،ثقافت اور منفردطرز زندگی کو بہتر طور پر سمجھنے اور اسے ہمیشہ زندہ رکھنے کی کوشش ہے انہوں نے کہا کہ پشتون ثقافت کا اپنا رنگ ہے اور اس کے طور طریقوں میں محبت،بھائی چارہ،انکساری اور رواداری کا درس ملتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پشتون ثقافت، بہادری، غیرت، مہمان نوازی، پشتونوالی، امن پسندی ،محبت اور ایثار جیسی شاندار تاریخ سے عبارات ہے۔ ہماری ثقافت دنیا بھر میں اپنی الگ اور منفرد پہچان رکھتی ہے۔ صوبائی مشیر نسیم الرحمان خان نے کہا کہ ہمارے آج کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ثقافت کو زندہ رکھیں اور اسے نئی نسل تک منتقل کریں تاکہ دنیا بھر میں پشتون قوم کی روایات اور اخلاقی اقدار کو مثبت انداز میں پیش کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان بھر میں جتنی بھی اقوام رہتی ہیں ان کی اپنی تاریخ ہے لہذا ہم سب کو چاہیے کہ ملک و صوبے کی تعمیر و ترقی کے لئے ہم سب کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا چائیے یہ ملک ہے تو ہم ہیں ہماری پہچان پاکستان سے ہے۔نسیم الرحمٰن ملاخیل نے کہا ہے کہ ثقافت ایک تاریخی تسلسل ہے جسکے ذریعے ہمارا ماضی اور حال جڑا ہوا ہے جس کی بنیاد پر ہم اپنے مستقبل کا رخ متعین کرتے ہیں. انہوں نے کہا کہ ارتقاء اور ترقی کا سفر جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے تو ماضی کی کئی چیزیں قصہ پارینہ بن جاتی ہیں. اور انسان نئے حالات، ضروریات اور تقاضوں کے مطابق نئی اقدار اور اشیاء کو اختیار کرتے ہیں. انہوں نے کہا کہ پشتون قوم بھائی چارہ، بردباری اور بشردوست کی مضبوط اور شاندار اقدار و روایات کا آمین ہے لہٰذا ضروری ہے پشتون کلچر کی تقریبات کے ذریعے اپنی مترقی سوچ اور شاندار اقدار کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کریں. ضروری ہے کہ ہم مختلف ثقافتوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے کے باوجود امن، محبت اور یگانگت سے رہیں. صوبائی مشیر نے کہا ہے کہ ثقافت ایک تاریخی تسلسل ہے جسکے ذریعے ہمارا ماضی اور حال جڑا ہوا ہے جس کی بنیاد پر ہم اپنے مستقبل کا رخ متعین کرتے ہیں. انہوں نے کہا کہ ارتقاءاور ترقی کا سفر جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے تو ماضی کی کئی چیزیں قصہ پارینہ بن جاتی ہیں. اور انسان نئے حالات، ضروریات اور تقاضوں کے مطابق نئی اقدار اور اشیاء کو اختیار کرتے ہیں. انہوں نے کہا کہ پشتون قوم بھائی چارہ، بردباری اور بشردوست کی مضبوط اور شاندار اقدار و روایات کا آمین ہے لہٰذا ضروری ہے پشتون کلچر کی تقریبات کے ذریعے اپنی مترقی سوچ اور شاندار اقدار کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کریں. ضروری ہے کہ ہم مختلف ثقافتوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے کے باوجود امن، محبت اور یگانگت سے رہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8124/2026
کوئٹہ 23 ستمبر ۔پشتون کلچر ڈے کے موقع پر صوبائی مشیر کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ کی پاکستان سمیت دنیا بھر میں آباد تمام پشتون بہن بھائیوں کو دلی مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ پشتون ثقافت امن، محبت، رواداری، مہمان نوازی، بہادری اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا حسین امتزاج ہے، جو صدیوں پر محیط ایک شاندار تاریخ اور تہذیبی ورثے کی عکاس ہے۔بلوچستان مختلف اقوام، زبانوں اور ثقافتوں کا خوبصورت گلدستہ ہے، جہاں پشتون اور بلوچ برادریاں صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کے رشتے میں جڑی ہوئی ہیں۔ صوبے کی ترقی، امن اور خوشحالی میں پشتون عوام کا کردار قابلِ قدر ہے۔ پشتون کلچر ڈے ہمیں اپنی ثقافتی شناخت اور روایات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں تمام اقوام کے درمیان اتحاد، یکجہتی، برداشت اور بین الثقافتی ہم آہنگی کو مزید فروغ دینے کا پیغام دیتا ہے۔بطور صوبائی وزیر، میں پشتون قوم کی اپنی ثقافت، تاریخ، زبان اور دھرتی سے محبت کو سلام پیش کرتی ہوں اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہوں کہ بلوچستان کی تمام ثقافتوں، زبانوں اور روایات کا احترام ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہماری مختلف ثقافتیں ہی بلوچستان کی اصل خوبصورتی اور طاقت ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری اس خوبصورت دھرتی کو ہمیشہ امن، ترقی، خوشحالی اور بھائی چارے کا گہوارہ بنائے اور تمام اقوام کو محبت و اخوت کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8125/2026
کوئٹہ، 23 ستمبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے مستونگ کے علاقے کنک وادی میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز بلوچستان میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے موثر اور فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ شاہد رند نے کہا کہ مستونگ کے علاقے کنک وادی میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے چوکی پر حملے کی بزدلانہ کوشش کی، جس پر سیکیورٹی فورسز نے فوری اور موثر کارروائی کرتے ہوئے 2 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا انہوں نے کہا کہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کا سیکیورٹی فورسز نے تعاقب کیا اور کارروائی کے دوران مزید 7 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا، جس کے بعد کارروائی میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 9 ہوگئی ہے۔ معاون وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے 3
موٹرسائیکلوں سمیت بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں سیکیورٹی فورسز کا ایک جوان زخمی ہوا جسے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے شاہد رند نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے دہشت گرد بلوچستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ سیکیورٹی فورسز نے ردالفتنہ 3 کے تحت دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائیوں سے واضح کردیا ہے کہ ریاست دشمن عناصر کے لیے بلوچستان میں کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ صوبے کے امن، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور ریاستی رٹ کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8126/2026
گوادر23 ستمبر۔رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی زیرِ صدارت گزشتہ روز گوادر میں ہفتہ روزہ شجرکاری مہم کے انعقاد کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے تحت شجرکاری، پھولوں کی نمائش اور ماحولیاتی و شجرکاری سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے گی مہم کی تیاریوں کے سلسلے میں رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کے معاون خصوصی وسیم صمد اور ڈپٹی کنزرویٹر جنگلات اسداللہ نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کے پرنسپل، گورنمنٹ بوائز ھائی اسکول جدید سمیت دیگر تعلیمی اداروں کے سربراہان سامل تھے کے افسران سے ملاقاتیں کیںاور پروگرام کے انتظامات، شجرکاری، طلبہ کی شرکت، پھولوں کی نمائش اور دیگر ضروری امور پر تبادلہ خیال کیا اس موقع پر تعلیمی اداروں اور متعلقہ محکموں کے تعاون سے مہم کو موثر انداز میں منعقد کرنے اور گوادر میں شجرکاری، ماحولیاتی تحفظ اور شہر کی خوبصورتی کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے پر بھی گفتگو کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8127/2026
گوادر 23 ستمبر۔ ایکسیئن کیسکو گوادر حسین بخش اور متعلقہ افسران سے رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کے معاون خصوصی وسیم صمد کی سربراہی میں جیوانی کے نمائندہ وفد نے ملاقات کی، جس میں جیوانی سمیت گوادر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ، ٹرانسفارمرز، خستہ حال بجلی کی تاروں اور دیگر عوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا وفد نے کوہسر بازار جیوانی سمیت مختلف علاقوں میں بجلی کے مسائل فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایکسیئن کیسکو نے مسائل کے حل کے لیے دستیاب وسائل کے مطابق اقدامات کی یقین دہانی کرائی اور بتایا کہ ضروری پرزہ جات و آلات کی ترسیل میں مشکلات کے باعث بعض مسائل کے حل میں تاخیر ہو رہی ہے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8128/2026
کوئٹہ23ستمبر۔ بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (BUITEMS) میں فوٹوگرافی، خاکہ نگاری اور پینٹنگ کے مقابلے اور نمائش کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد فنونِ لطیفہ کے مو¿ثر اور تخلیقی ذرائع کے ذریعے بلوچستان میں پانی کے انتظام، زراعت، لائیوسٹاک اور رینج لینڈز سے متعلق عوامی شعور اور آگاہی کو فروغ دینا ہے۔ یہ تقریب ”آگاہی بڑھانے اور نالج مینجمنٹ پراجیکٹ“ کے تحت منعقد کی گئی، جسے یورپی یونین (EU) نے ریوائیول آف بلوچستان واٹر ریسورسز پروگرام (RBWRP) کے تحت مالی معاونت فراہم کی ہے، جبکہ منصوبے پر BUITEMS نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) پاکستان کے تعاون سے عملدرآمد کیا۔تقریب میں وائس چانسلر بیوٹمز پروفیسر ڈاکٹر حفیظ خالد، پرو وائس چانسلر میر وائس کاسی، رجسٹرار بیوٹمز جمال مصطفیٰ، ڈائریکٹر کمیونیکیشن سید دارا شکوہ امیر، ڈائریکٹر آئی سی آر ایم ایس اینڈ کوالٹی ڈاکٹر زاہد روف اور ٹیم لیڈ پروفیسر ڈاکٹر جان محمد سمیت یونیورسٹی کے اساتذہ، طلبہ اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔نمائش میں طلبہ اور نوجوان فنکاروں کی جانب سے بلوچستان کے منفرد جغرافیائی، ماحولیاتی اور زرعی حالات کو موضوع بناتے ہوئے مختلف تصاویر، خاکے اور پینٹنگز پیش کی گئیں۔ فن پاروں کے ذریعے صوبے میں پانی کی اہمیت، محدود آبی وسائل، پانی کے مو¿ثر اور ذمہ دارانہ استعمال، زرعی سرگرمیوں، لائیوسٹاک، قدرتی چراگاہوں اور ماحول کے تحفظ جیسے اہم موضوعات کو اجاگر کیا گیا۔اس موقع پر مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں پانی ایک انتہائی اہم قدرتی وسیلہ ہے اور صوبے کی زراعت، لائیوسٹاک، معیشت اور ماحولیاتی توازن کا براہِ راست انحصار پانی کے مو¿ثر انتظام اور دستیابی پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے محدود وسائل کے تحفظ اور ان کے پائیدار استعمال کے لیے جدید علم، تحقیق، بہتر منصوبہ بندی اور عوامی آگاہی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو پانی کے تحفظ، قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال اور ماحول دوست اقدامات کے حوالے سے آگاہ کرنا مستقبل کی پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے لیے فوٹوگرافی، خاکہ نگاری اور پینٹنگ جیسے تخلیقی ذرائع نہ صرف نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ پیچیدہ ماحولیاتی اور سماجی مسائل کو عام فہم انداز میں عوام تک پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔نمائش میں پیش کیے گئے فن پاروں نے بلوچستان کے آبی وسائل، زراعت، لائیوسٹاک اور رینج لینڈز کی اہمیت کو منفرد اور موثر بصری انداز میں اجاگر کیا۔ شرکاءنے طلبہ اور نوجوان فنکاروں کی تخلیقی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں نوجوانوں کو تحقیق، تخلیق اور معاشرتی و ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔تقریب کے منتظمین کے مطابق ”آگاہی بڑھانے اور نالج مینجمنٹ پراجیکٹ“ کے تحت اس سرگرمی کا بنیادی مقصد بلوچستان کے آبی و قدرتی وسائل سے متعلق معلومات کو مو¿ثر انداز میں عام کرنا، متعلقہ شعبوں میں شعور اجاگر کرنا اور نوجوانوں کو صوبے کے اہم ماحولیاتی و معاشی مسائل سے جوڑنا ہے۔تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دیکھانے والے طلباء میں وائس چانسلر بیوٹمز پروفیسر ڈاکٹر حفیظ خالد نے اسناد تقسیم کیے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8129/2026
گوادر23 ستمبر۔: ضلعی آفیسر صحت گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر بلوچ سے رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کے معاون خصوصی وسیم صمد نے جیونی کے معتبرین اورنگزیب اور عزیز کے ہمراہ ملاقات کی اور آر ایچ سی جیونی کو درپیش مسائل، خصوصاً خراب ایکسرے مشین، پانی کی ٹینکی، لیبارٹری اور دیگر طبی سہولیات کی بہتری پر تبادلہ خیال کیا ڈاکٹر یاسر طاہر بلوچ نے کہا کہ ضلع گوادر میں صحت کی سہولیات کی بہتری اور مراکز صحت کو مزید فعال بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی کوششوں سے آر ایچ سی جیونی کے لیے بجٹ بھی منظور کیا گیا ہے، جبکہ دیگر مسائل کے حل کے لیے بھی ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں ضلعی آفیسر صحت نے بتایا کہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث کوئٹہ، گوادر زمینی راستے کی بندش سے ادویات اور طبی آلات کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، تاہم دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے صحت کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8130/2026
گوادر23 ستمبر۔ محکمہ سماجی بہبود کے سوشل ویلفیئر آفیسر عبیداللہ بلوچ سے رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کی معاون خصوصی وسیم صمد نے ملاقات کی، جس میں مستحق خصوصی افراد کے لیے وہیل چیئرز کی فراہمی، رجسٹریشن اور لسٹنگ کے عمل کا جائزہ لیا گیا ملاقات میں معاون نے کہا کہ صوبائی حکومت کی فلاحی پالیسی کے تحت خصوصی افراد کو سہولیات کی فراہمی اور ان کی معاونت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم اور ملازمت یا روزگار سے وابستہ مستحق خصوصی افراد کی لسٹنگ جلد مکمل کرنے پر زور دیا تاکہ انہیں الیکٹرک وہیل چیئرز فراہم کی جا سکیں انہوں نے دیگر مستحق افراد کے لیے عام وہیل چیئرز کی فراہمی کے سلسلے میں بھی رجسٹریشن کا عمل تیز کرنے اور شفافیت و میرٹ کے تحت حقیقی حقداروں کو ترجیح دینے کی ہدایت کی۔ سوشل ویلفیئر آفیسر نے جاری عمل سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے جلد اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8131/2026
گوادر23 ستمبر۔ضلعی آفیسر صحت گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر بلوچ سے رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کے معاون خصوصی وسیم صمد نے جیونی کے معتبرین اورنگزیب اور عزیز کے ہمراہ ملاقات کی اور آر ایچ سی جیونی کو درپیش مسائل، خصوصاً خراب ایکسرے مشین، پانی کی ٹینکی، لیبارٹری اور دیگر طبی سہولیات کی بہتری پر تبادلہ خیال کیا ڈاکٹر یاسر طاہر بلوچ نے کہا کہ ضلع گوادر میں صحت کی سہولیات کی بہتری اور مراکز صحت کو مزید فعال بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی کوششوں سے آر ایچ سی جیونی کے لیے بجٹ بھی منظور کیا گیا ہے، جبکہ دیگر مسائل کے حل کے لیے بھی ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں ضلعی آفیسر صحت نے بتایا کہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث کوئٹہ، گوادر زمینی راستے کی بندش سے ادویات اور طبی آلات کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، تاہم دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے صحت کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8132/2026
اورماڑہ 23 ستمبر ۔: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایات اور اسسٹنٹ کمشنر اورماڑہ ڈاکٹر ماہ نور برکت کی نگرانی میں تحصیلدار اورماڑہ نور خان بلوچ نے گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول کوہ بن محلہ کی سرکاری اراضی پر ناجائز قبضے اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسکول کی زمین پر قائم غیر قانونی چار دیواری مسمار کرکے اراضی کرالی۔ سرکاری و تعلیمی اداروں کی اراضی کو تجاوزات سے محفوظ رکھنے اور غیر قانونی قبضوں کی روک تھام کے لیے انتظامیہ کی جانب سے موثر اقدامات کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔اس موقع پر متعلقہ اہلکاروں کو اسکول کی اراضی کی حدود کی نگرانی اور مستقبل میں کسی بھی قسم کی تجاوزات کی روک تھام یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8133/2026
برشور:23 ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر برشور فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس کی زیر صدارت سٹرکٹ امپلیمنٹیشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا،جس میں تمام ضلعی لائن ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان اور انتظامی افسران نے شرکت کی،اجلاس کا بنیادی مقصد نو تشکیل شدہ ضلع برشور کے انتظامی ڈھانچے کو مکمل طور پر فعال بنانا اور عوامی فلاح و بہبود کے جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانا تھا،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خالد شمس نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ نئے ضلع کی تعمیر و ترقی اور پبلک سروس ڈیلیوری کے نظام کو مثالی بنانا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے،جس کے لیے تمام محکموں کو اپنی کارکردگی سو فیصد یقینی بنانا ہوگی،انہوں نے سٹرکٹ امپلیمنٹیشن کمیٹی کو ہدایت کی کہ تمام فیلڈ پروجیکٹس کی کڑی مانیٹرنگ کی جائے اور عوامی ریلیف کے کاموں میں کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہ کی جائے،ڈپٹی کمشنر نے تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دینے پر زور دیتے ہوئے دور دراز علاقوں کے اسکولوں اور بنیادی مراکزِ صحت میں اساتذہ و طبی عملے کی سو فیصد حاضری کو لازمی قرار دیا اور فرائض میں کوتاہی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا انتباہ جاری کیا۔ انہوں نے تمام جاری اسکیموں کے لیے واضح ڈیڈ لائنز مقرر کرتے ہوئے آفسران کو وسائل کے درست اور شفاف استعمال کی تاکید کی،جس پر
تمام ضلعی سربراہان نے اپنے محکموں کی پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی اور مانیٹرنگ کمیٹی کو باقاعدہ رپورٹ پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8134/2026
گوادر 23 ستمبر ۔: قومی انسدادِ پولیو مہم کے تیسرے روز ضلعی آفیسر صحت ڈاکٹر یاسر طاہر، ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ ڈاکٹر جہانزیب خان اور ڈپٹی ضلعی آفیسر صحت ڈاکٹر فاروق نے ضلع گوادر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے پولیو مہم کی جاری سر گرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر پولیو ٹیموں کی کارکردگی، بچوں کو ویکسین پلانے کے عمل، ٹیموں کی نگرانی اور ان کے ساتھ تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کے انتظامات کا معائنہ کیا گیا۔ افسران نے فیلڈ ٹیموں سے ملاقات کرکے مہم کے دوران درپیش مسائل اور دیگر انتظامی امور کا بھی جائزہ لیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8135/2026
کوئٹہ 23ستمبر ۔ ایڈیشنل آئی جی پی و کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری اشفاق احمد کی سربراہی میں قائم ریکروٹمنٹ کمیٹی اور ڈپٹی کمانڈنٹ، ڈی آئی جی پولیس محترمہ شہلا قریشی کی زیر نگرانی ڈسٹرکٹ پولیس کوئٹہ میں جوانوں کی بھرتی کا عمل انتہائی شفاف انداز میں میرٹ کی بنیاد پر مکمل کر لیا گیا۔ بھرتی کے دوران تمام امیدواروں کے لیے یکساں مواقع اور مقررہ قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کو یقینی بنایا گیا۔بھرتی کے عمل کے نتیجے میں جنرل کیڈر میل کوٹہ کے تحت 298، لیڈیز کوٹہ میں 44 جبکہ اقلیتی کوٹہ کے تحت 07 جوانوں کی بھرتی عمل میں لائی گئی، یوں مجموعی طور پر 349 جوانوں کو ڈسٹرکٹ پولیس کوئٹہ کا حصہ بنایا گیا ہے۔حکام کے مطابق بھرتی کے پورے عمل میں میرٹ، شفافیت اور مقررہ طریقہ کار کو بنیادی اہمیت دی گئی، جبکہ امیدواروں کی اہلیت اور دیگر مقررہ تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انتخاب کا عمل مکمل کیا گیا۔ بھرتی کے عمل کی نگرانی اعلیٰ پولیس حکام کی جانب سے کی گئی تاکہ کسی بھی مرحلے پر میرٹ اور شفافیت پر سمجھوتہ نہ ہو۔پولیس حکام نے کہا کہ نئی بھرتیوں سے ڈسٹرکٹ پولیس کوئٹہ کی افرادی قوت میں اضافہ ہوگا، جس سے پولیس فورس کو مزید منظم، فعال اور مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔ نئے بھرتی ہونے والے جوانوں کی شمولیت سے کوئٹہ شہر میں امن و امان کے قیام، جرائم کی روک تھام، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور پولیسنگ کے دیگر فرائض کی انجام دہی کے لیے دستیاب نفری میں اضافہ ہوگا۔پولیس حکام کے مطابق بلوچستان پولیس میں بھرتیوں کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو بنیادی اصول کے طور پر برقرار رکھا جا رہا ہے تاکہ اہل، باصلاحیت اور مستحق نوجوانوں کو پولیس فورس میں خدمات انجام دینے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ 349 نئے جوانوں کی شمولیت سے ڈسٹرکٹ پولیس کوئٹہ کو ایک تازہ دم اور مزید فعال افرادی قوت میسر آئے گی، جو شہریوں کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8136/2026
برشور:23 ستمبر ۔ ڈپٹی کمشنر برشور فلائٹ لیفٹیننٹ(ر) خالد شمس کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ نارکوٹکس کنٹرول کمیٹی (DNCC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا،جس میں ضلع برشور میں منشیات کی روک تھام،غیر قانونی کاشت کے خاتمے اور انسدادی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا،اجلاس میں سپرنٹنڈنٹ پولیس برشور عبدالستار دشتی،نمائندہ اینٹی نارکوٹکس فورس،حساس اداروں کے آفسران،ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفسر سمیت دیگر متعلقہ ضلعی آفسران نے شرکت کی،اجلاس میں چرس/بھنگ تلفی مہم 2026 کے حوالے سے ضلع برشور میں غیر قانونی منشیات کی کاشت کے خاتمے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مو¿ثر رابطہ کاری اور مشترکہ کارروائیوں کو مزید مربوط بنانے پر زور دیا گیا،نوجوان نسل کو منشیات کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے آگاہی مہمات کو موثر بنانے،تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر شعور اجاگر کرنے اور منشیات کے کاروبار کی روک تھام کے لیے قانون کے مطابق کارروائیوں کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا،اس موقع پر ضلعی انتظامیہ،پولیس،ایف سی،اینٹی نارکوٹکس فورس،متعلقہ سکیورٹی اداروں اور دیگر محکموں کے درمیان باہمی تعاون اور مربوط حکمتِ عملی کو مزید موثر بنانے کی ہدایات جاری کی گئیں،جبکہ ڈپٹی کمشنر خالد شمس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع برشور کو منشیات سے پاک بنانے،نوجوان نسل کو اس لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کرتے رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8137/2026
گوادر 23 ستمبر ۔: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، ضلعی افسر تعلیم زاہد حسین بلوچ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیمیل زراحاتون، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کی پرنسپل سبین بلوچ، گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج کے پرنسپل نصیر احمد بلوچ سمیت دیگر متعلقہ افسران اور اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی اجلاس میں ضلع بھر کے سرکاری اسکولوں کی فعالی، اساتذہ کی حاضری و کمی، اٹیچمنٹس کی منسوخی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور دور دراز علاقوں میں تدریسی عمل کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ کسی بھی اسکول میں اساتذہ کی کمی یا غیر حاضری کے باعث تدریسی سرگرمیاں متاثر نہیں ہونی چاہئیں ڈپٹی کمشنر نے ضلع بھر کے ہائی، مڈل اور پرائمری اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری ہر صورت یقینی بنانے کی سخت ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جو مرد یا خواتین اساتذہ باقاعدگی سے ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوں گے، ان کی غیر حاضری کا ریکارڈ مرتب کرکے حکومتی قواعد و ضوابط کے مطابق تنخواہ کی بندش اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے، جبکہ مسلسل غیر حاضری ثابت ہونے کی صورت میں ملازمت سے برطرفی کے لیے بھی قانونی تقاضے پورے کیے جائیں انہوں نے ضلعی افسرانِ تعلیم میل و فیمیل اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مسلسل غیر حاضر اساتذہ کی فہرست مرتب کرکے پیش کی جائے اور اسکولوں میں حاضری کی موثر نگرانی یقینی بنائی جائے اجلاس میں پیش کی گئی ریئل ٹائم اسکول مانیٹرنگ رپورٹ کے مطابق ستمبر 2026ئ کے دوران مختلف سرکاری اسکولوں کے معائنے میں 72 اساتذہ و ملازمین غیر حاضر پائے گئے، جن میں 61 فعال جبکہ 11 غیر فعال یا بند اسکولوں سے متعلق ہیں۔ رپورٹ میں 22 ملازمین کی طویل مدتی غیر حاضری، 11 کی اٹیچمنٹس منسوخ ہونے اور تعطیلات کے بعد اصل اسکولوں میں رپورٹ نہ کرنے، جبکہ 6 افراد کے حوالے سے متبادل افراد کے ذریعے ڈیوٹی جاری رکھنے کی نشاندہی کی گئی؛ مزید 33 ملازمین معائنے کے وقت غیر حاضر پائے گئے اجلاس میں بتایا گیا کہ اسکولوں اور اساتذہ کا ڈیٹا ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے جبکہ مستقبل میں تبادلے اور تعیناتیاں شفاف ڈیجیٹل نظام کے تحت ہوں گی، جس سے غیر ضروری اٹیچمنٹس کے خاتمے اور اساتذہ کی مو¿ثر تعیناتی میں مدد ملے گی ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ دور دراز اور مشکل رسائی والے علاقوں میں اساتذہ کی دستیابی، اسکولوں کی فعالی اور تدریسی عمل کا تسلسل یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کی تعلیم کا تسلسل اولین ترجیح ہے اور کسی بھی صورت تدریسی عمل متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8138/2026
تربت23ستمبر۔ : ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ تابش علی بلوچ کی زیرِ صدارت ڈپٹی کمشنر آفس تربت میں پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن فیمیل شاہستہ حاصل، پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے صدر سدھید لقمان، معراب خان سمیت متعلقہ افسران اور نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع کیچ کے نجی تعلیمی اداروں کی صورتحال، اسکولوں کی رجسٹریشن، بنیادی سہولیات کی فراہمی، اساتذہ کی تنخواہوں، انتظامی امور اور تعلیمی معیار میں بہتری سمیت مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ تابش علی بلوچ نے کہا کہ ضلع کیچ میں پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کو منظم اور فعال بنانے کی ضرورت ہے تاکہ نجی تعلیمی اداروں کے مسائل کے حل اور تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے مربوط اقدامات کیے جاسکیں۔ انہوں نے ایسوسی ایشن کے لیے ایک مضبوط کمیٹی تشکیل دینے اور بی سی آر اے کے تحت رجسٹریشن کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ ضلع کیچ کے تمام نجی اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو مختلف اسکولوں کا دورہ کرکے پانی، بجلی، واش رومز، تعلیمی ماحول اور دیگر بنیادی سہولیات کا جائزہ لے گی۔اے ڈی سی کیچ نے کہا کہ اسکولوں کے معائنے کے دوران حقیقی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی یا مقررہ ضوابط کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ اداروں کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اجلاس میں نجی اسکولوں کے تدریسی عملے کو درپیش مسائل، بالخصوص اساتذہ کی تنخواہوں کے معاملے پر بھی غور کیا گیا اور اس کے حل کے لیے ضروری اقدامات پر زور دیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ضلع کیچ میں مجموعی طور پر 52 نجی اسکول قائم ہیں، تاہم بیشتر اداروں میں بنیادی سہولیات کی صورتحال تسلی بخش نہیں۔ اجلاس کے شرکاءنے نجی تعلیمی اداروں کی سہولیات، انتظامی امور اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے، مسائل کے حل اور ضلع کیچ میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے درمیان باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8139/2026
کوئٹہ: 23ستمبر۔ بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (BTEVTA) کے مینیجنگ ڈائریکٹر عبدالکبیر خان زرکون نے پاکستان میں جرمنی کی سفیر Ina Lepel، ہیڈ آف جرمن ڈیولپمنٹ کوآپریشن اور کونصلر ڈاکٹر میرجام اور جرمنی کے اعزازی کونصل جنرل میر مراد سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد صوبے کے ٹیکنکی و فنی تعلیم و تربیت (TVET) سیکٹر کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا،فنی تربیت و تکنیکی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا اور بلوچستان کے ہنرمند نوجوانوں کے لیے بین الاقوامی سطح پر، بالخصوص جرمنی میں، روزگار کے مواقع پیدا کرنا تھا۔ملاقات کے دوران ایم ڈی بی ٹیوٹا عبدالکبیر خان زرکون نے فنی ،تکنیکی تربیت کے شعبے میں جرمن حکومت کی دیرینہ امداد اور GIZ جیسے ترقیاتی اداروں کے تاریخی کردار پر گہرے تشکر کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نصاب کو جدید بنانے، ادارہ جاتی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور ڈوئل ووکیشنل ٹریننگ سسٹم کو متعارف کرانے میں جرمنی کے مسلسل تعاون نے صوبے بھر کے ہزاروں نوجوانوں کو پائیدار فنی مہارتوں کے ساتھ بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اس موقع پر جرمن سفیر نے صوبے میں پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے فروغ اور جدید ترین ٹیکنالوجیز کو شامل کرنے پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے بی ٹیوٹا کو فنی مہارتوں کی ترقی اور بلوچستان کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے جرمنی کے مسلسل تعاون اور پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ایم۔ڈی بی ٹیوٹا عبدالکبیر خان زرکون نے جرمن سفیر اور انکے وفد کو بلوچستان کی وسیع معاشی صلاحیتوں اور ان اہم تکنیکی شعبوں کے بارے میں بریفنگ دی جہاں خصوصی ہنر کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے ریکوڈک اور سیندک جیسے میگا پروجیکٹس کے تناظر میں جدید مائننگ اور منرل پروسیسنگ ٹیکنالوجیز، گوادر پورٹ سے منسلک میرین انجینئرنگ اور بلیو ایکانومی، شمسی و بادی توانائی (سولر اینڈ ونڈ انرجی) کے سسٹمز، جدید زراعت و تحفظِ آب کی تکنیکس، اور ڈیجیٹل آئی ٹی اسکلز پر بی ٹیوٹا کی توجہ کو اجاگر کیا۔ اس کے علاوہ بی ٹیوٹا کے ماسٹر ٹرینرز اور انسٹرکٹرز کی صلاحیتوں میں اضافے کے پروگراموں اور سند یافتہ ہنرمند نوجوانوں کو جرمن انڈسٹریل مارکیٹ میں براہ راست ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ فریم ورک قائم کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس اہم اجلاس میں ڈائریکٹر بی ٹیوٹا غلام۔مصطفی رئیسانی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر تیمور ظفر نے بھی شرکت کی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو مزید مضبوط بنانے اور صوبائی تربیتی پروگراموں کو بین الاقوامی صنعتی معیار کے مطابق بنانے کے لیے مفید تجاویز پیش کیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر8140/2026
کوئٹہ، 23 ستمبر ۔: صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے پشتون کلچر ڈے کے موقع پر پشتون برادری کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ پشتون ثقافت بلوچستان کے تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی ورثے کا اہم حصہ ہے۔اپنے پیغام میں میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ پشتون ثقافت اپنی شاندار روایات، مہمان نوازی، رواداری اور بھائی چارے کے حوالے سے منفرد مقام رکھتی ہے۔ پشتون عوام نے بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان مختلف اقوام، زبانوں اور ثقافتوں کا گہوارہ ہے، جبکہ صوبے کی تمام اقوام اور ثقافتیں بلوچستان کی خوبصورتی اور اجتماعی شناخت کا حصہ ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ثقافتی روایات اور ورثے کا تحفظ نئی نسل کی اپنی شناخت سے وابستگی کو مضبوط کرتا ہے۔ پشتون کلچر ڈے باہمی احترام، رواداری، امن اور بھائی چارے کے فروغ کا پیغام دیتا ہے۔میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ ہمیں اپنی ثقافتی روایات کے ساتھ ساتھ دیگر اقوام اور ثقافتوں کا بھی احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے پشتون کلچر ڈے کے موقع پر پشتون بھائیوں اور بہنوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8141/2026
نصیرآباد:23ستمبر۔ : صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی اور صوبائی سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمن بلوچ کے احکامات کی روشنی میں سپرنٹنڈنگ انجینیئر ایریگیشن نصیرآباد سرکل مدثر ظفر کھوسہ نے ربیع کینال کا دورہ کرکے زرعی پانی کی فراہمی اور نہری نظام کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے مختلف مقامات پر پانی کی ترسیل، نہر میں پانی کی دستیابی کے حوالے سے معائنہ کیا جبکہ سب ڈویڑنل آفیسر محمد سلیم بہرانی سے نہری پانی کی موجودہ صورتحال، ترسیلی نظام اور کسانوں کو درپیش مسائل کے متعلق تفصیلی آگاہی حاصل کی۔اس موقع پر داروغہ لونگ خان اور کے بی بہرانی بھی موجود تھے سپرنٹنڈنگ انجینیئر مدثر ظفر کھوسہ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ربیع کینال میں پانی کی منصفانہ اور بروقت ترسیل کو یقینی بنایا جائے اور نہری نظام میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو فوری دور کیا جائے تاکہ کاشتکاروں کو اپنی فصلوں کے لیے مطلوبہ پانی کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے فروغ اور کاشتکاروں کی خوشحالی کے لیے نہری پانی کی بہتر تقسیم انتہائی ضروری ہے، محکمہ آبپاشی دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے زرعی پانی کی فراہمی کے نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے، افسران فیلڈ میں موجود رہ کر نہری نظام کی مسلسل نگرانی کریں اور پانی کی ترسیل سے متعلق مسائل کے فوری حل کو یقینی بنائیں تاکہ ربیع کی فصلوں کو بروقت پانی فراہم کیا جاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8142/2026
کوئٹہ، 23 ستمبر ۔چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے دائر آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو قومی شاہراہوں بالخصوص N-25 اور N-50 پر مسافروں کی سہولت، شجرکاری اور پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے موثر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کردی۔سماعت کے دوران عدالت کے حکم مورخہ 09 اپریل 2026 کی تعمیل میں این ایچ اے بلوچستان کے ممبر (ویسٹ زون) بشارت حسین عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ چیئرمین این ایچ اے کا حال ہی میں تبادلہ ہوچکا ہے اور اس وقت چیئرمین کا عہدہ خالی ہے۔ انہوں نے N-50 اور N-25 پر جاری ترقیاتی کاموں کی فزیکل پیشرفت سمیت عدالت کی جانب سے مختلف تاریخوں میں جاری کیے گئے احکامات اور ہدایات پر عملدرآمد سے متعلق جامع رپورٹ پیش کرنے کے لیے مزید مہلت طلب کی۔دورانِ سماعت عدالت نے مشاہدہ کیا کہ دونوں مجوزہ ریسٹ ایریاز کے درمیان خاصا طویل فاصلہ موجود ہے، جس کے باعث قومی شاہراہوں پر مسافروں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ شاہراہوں کے ساتھ شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل نصب کیے جائیں تاکہ سڑک کے دونوں اطراف شجرکاری کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ مسافروں اور مقامی آبادی کے لیے پینے کے صاف پانی کی سہولت بھی دستیاب ہوسکے۔عدالت نے مزید ہدایت کی کہ مناسب مقامات پر مسافروں کے آرام اور نماز کے لیے الگ جگہ مختص کی جائے اور ان تمام سہولیات کو ایسے انداز میں فراہم کیا جائے کہ معاشرے کے پسماندہ طبقات اور بالخصوص دور دراز علاقوں کے رہائشی بھی ان سے مستفید ہوسکیں۔عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ جہاں جہاں مذکورہ منصوبہ جاری ہے وہاں شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلز کی تنصیب، پینے کے پانی کی سہولیات اور شجرکاری کا کام ترجیحی بنیادوں پر شروع کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ایک مناسب، جامع اور قابلِ عمل پالیسی گائیڈ لائن بھی مرتب کی جائے، تاکہ مجوزہ ٹیوب ویلز اور ریسٹ ایریاز سے ملحقہ اراضی کو مناسب شرائط کے تحت کرائے یا لیز پر دینے سمیت مسافروں کی ضروریات کے مطابق چھوٹے کاروباری مراکز اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔عدالت نے قرار دیا کہ قومی شاہراہوں پر مذکورہ بنیادی سہولیات کی فراہمی سے نہ صرف مسافروں کو سہولت حاصل ہوگی بلکہ علاقے کے عوام، بالخصوص پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے لوگوں کی ضروریات بھی پوری ہوسکیں گی۔عدالت نے حکم دیا کہ فیصلے کی نقل ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور این ایچ اے کے وکیل کے دفاتر کے ذریعے متعلقہ حکام کو معلومات اور عملدرآمد کے لیے ارسال کی جائے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت کے لیے 23 نومبر 2026 کی تاریخ مقرر کردی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8143/2026
جعفرآباد23ستمبر۔ : وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم خان کھوسہ اور صوبائی سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو بابر خان کے احکامات کی روشنی میں چیف انجینئر مواصلات و تعمیرات نصیرآباد زون بشیر ناصر نے ضلع جعفرآباد میں جاری مختلف ترقیاتی اسکیموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران انہوں نے روجھان ٹو خانپور روڈ، جی او آر کالونی۔ڈیرہ اللہ یار مین سیوریج لائن، پری فیب اور کیٹل فارم پولیس اسٹیشن کی چار دیواری سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کیا اور جاری تعمیراتی امور، کام کے معیار اور پیش رفت کے حوالے سے متعلقہ افسران سے تفصیلی آگاہی حاصل کی۔ اس موقع پر سپرنٹنڈنگ انجینئر ارسلا رند، ایگزیکٹو انجینئر عتیق الرحمن سب ڈویژنل آفیسر اعجاز بہرانی سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ چیف انجینئر بشیر ناصر نے متعلقہ افیسران کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور تمام اسکیموں کو مقررہ معیار اور رفتار کے مطابق مکمل کیا جائے، پائیدار تعمیراتی عمل نہ صرف عوام کے وسیع تر مفاد میں ہے بلکہ اس سے محکمہ مواصلات و تعمیرات کی کارکردگی اور مورال بھی وابستہ ہے، انجینئر تعمیراتی امور کی کڑی نگرانی یقینی بنائیں اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں، عوامی مفاد کے منصوبوں میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8144/2026
استامحمد23ستمبر۔ : نصیر آباد زون میں وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کے وژن اور صوبائی وزیر مواصلات تعمیرات میر سلیم خان کھوسہ اور صوبائی سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو بابر خان کی ہدایت پر تعمیراتی عمل کو بہتر معنوں میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کا سلسلہ جاری مفاد عامہ کی اسکیموں کی کڑی مانیٹرنک کے لیے چیف انجینئرواصلات و تعمیرات بشیر ناصر کے دورے تمام ترقیاتی امور کا باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیا اور معیار کے مطابق منصوبوں کو مکمل کرنے کی سخت ہدایات دیں چیف انجینئر مواصلات و تعمیرات نصیرآباد زون بشیر ناصر نے ضلع استامحمد میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا موقع پر پہنچ کر تفصیلی معائنہ کیا اور مختلف اسکیموں پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ افسران سے تعمیراتی امور کے بارے میں بریفنگ حاصل کی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم خان کھوسہ اور صوبائی سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو بابر خان کی ہدایات کی روشنی میں جاری ترقیاتی عمل کا جائزہ لیتے ہوئے چیف انجینئرنے ڈی سی کمپلیکس، ڈی پی او آفس و رہائش گاہ، پری فیب، ایگرو پروجیکٹ سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے منصوبوں کے تعمیراتی معیار، کام کی رفتار اور دستیاب سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ انجینیئرز اور افسران کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ چیف انجینئربشیر ناصر نے کہا کہ سرکاری ترقیاتی منصوبے عوامی سہولیات میں بہتری کا اہم ذریعہ ہیں، اس لیے تمام منصوبوں میں معیار، پائیداری اور مقررہ مدت کی تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، انجینئر اپنے زیر نگرانی جاری اسکیموں پر مسلسل نظر رکھیں اور تعمیراتی کام میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت کا مظاہرہ نہ کیا جائے، منصوبوں کی بروقت تکمیل سے عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے ساتھ محکمہ مواصلات و تعمیرات کی کارکردگی میں بھی مزید بہتری آئے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8145/2026
لورالائی23ستمبر ۔: کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی نگرانی میں محکمہ صحت کے تحت کنٹریکٹ کی بنیاد پر خالی آسامیوں پر ڈاکٹروں کے انٹرویوز کا عمل دوسرے روز بھی جاری رہا۔ انٹرویوز کے دوران لورالائی ڈویڑن کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں امیدواروں نے شرکت کی ان آسامیوں میں میڈیکل آفیسرز اور ڈینٹل سرجنز کی خالی نشستیں شامل ہیں، جن کے لیے لورالائی، موسیٰ خیل، زیارت، دکی اور ہرنائی سمیت ڈویژن کے مختلف اضلاع سے بڑی تعداد میں امیدوار انٹرویو کے لیے پہنچےاس موقع پر محکمہ صحت کے متعلقہ افسران اور ماہرین نے امیدواروں کے تعلیمی ریکارڈ، پیشہ ورانہ قابلیت اور متعلقہ معیار کے مطابق انٹرویوز لیے۔ انٹرویوز کے عمل کو منظم انداز میں مکمل کرنے کے لی امیدواروں کی دستاویزات اور دیگر متعلقہ امور کا بھی جائزہ لیا گیاانٹرویوز کے دوران کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے خود بھی انٹرویو کے عمل کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام سے بھرتی کے طریقہ کار، امیدواروں کی شرکت اور انتظامات کے حوالے سے بریفنگ حاصل کیاس موقع پر ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر مقبول احمد، ایم ایس دکی ڈاکٹر جوہر خان، ایم ایس لورالائی ڈاکٹر نقیب اللہ نیازی سمیت محکمہ صحت کے دیگر افسران بھی موجود تھےکمشنر لورالائی ڈویژن نے انٹرویوز کے عمل کے دوران متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام امیدواروں کو میرٹ اور مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق یکساں مواقع فراہم کیے جائیں اور بھرتی کے تمام مراحل شفاف انداز میں مکمل کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت میں خالی آسامیوں پر اہل اور قابل ڈاکٹرز کی تعیناتی سے ڈویژن کے مختلف اضلاع میں عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی اور صحت کے شعبے میں افرادی قوت کی کمی دور کرنے میں مدد ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8146/2026
لورالائی:23ستمبر ۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے تحت جاری ترقیاتی اسکیمات اور آئندہ منصوبوں کے ٹینڈرنگ کے عمل پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ ایگزیکٹو انجینئرز کا اہم اجلاس منعقد ہوااجلاس میں ضلع لورالائی میں بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری مختلف ترقیاتی اسکیمات کی عملی پیش رفت، کام کی رفتار، تعمیراتی معیار اور ٹینڈرنگ کے مراحل کا منصوبہ وار تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ ایگزیکٹو انجینئرز نے جاری منصوبوں اور آئندہ اسکیمات کے ٹینڈرز سے متعلق موجودہ صورتحال سے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیاڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے اور تمام اسکیمات کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور تعمیراتی کام میں مقررہ معیار اور تکنیکی تقاضوں کی مکمل پاسداری یقینی بنائی جائےانہوں نے ٹینڈرنگ کے عمل کے حوالے سے بھی ہدایت کی کہ تمام مراحل مقررہ قواعد و ضوابط اور شفاف طریقہ کار کے مطابق بروقت مکمل کیے جائیں تاکہ ترقیاتی منصوبوں کے آغاز میں غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکےڈپٹی کمشنر نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ترقیاتی اسکیمات میں ناقص کارکردگی، غیر ضروری تاخیر اور سست روی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو اپنی ذمہ داریاں بروقت اور موثر انداز میں ادا کرنے کی ہدایت کی انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں یا ٹینڈرنگ کے عمل میں غفلت، بلاجواز تاخیر یا سست روی کے ذمہ دار افسران و اہلکاروں کا تعین کیا جائے گا اور ان کے خلاف قواعد وضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری منصوبے عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولیات کی بہتری سے براہِ راست منسلک ہیں، اس لیے ان کی بروقت تکمیل، شفاف عملدرآمد اور معیار کی یقینی نگرانی متعلقہ محکموں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 8147/2026
دکی 23ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کا انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز مختلف ٹیموں کا معائنہ پانچ سال تک عمر کے ہر بچے تک رسائی یقینی بنائی جائے، رہ جانے والے بچوں کو دوبارہ کور کیا جائے، ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی نے جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز ضلع کے مختلف علاقوں میں پولیو ٹیموں کا فیلڈ میں معائنہ کیا اور مہم کے تحت بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کے عمل، ٹیموں کی کارکردگی اور مقررہ اہداف کے حصول کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے مختلف پولیو ٹیموں سے ملاقات کی اور ان کی فیلڈ میں موجودگی، حاضری، بچوں کی کوریج اور مہم کے دوران درپیش مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے ٹیموں کی جانب سے گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کے عمل کا بھی جائزہ لیا ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ پانچ سال تک عمر کے تمام بچوں تک رسائی ہر صورت یقینی بنائی جائے اور کوئی بچہ پولیو کے قطرے پلانے سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی وجہ سے رہ جانے والے بچوں کی فوری نشاندہی کرکے انہیں دوبارہ کور کیا جائے تاکہ مہم کے مقررہ اہداف مکمل طور پر حاصل کیے جا سکیںانہوں نے پولیو ٹیموں پر زور دیا کہ وہ فیلڈ میں ذمہ داری اور محنت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں اور مہم کے دوران پیش آنے والے کسی بھی مسئلے سے متعلق متعلقہ حکام کو فوری آگاہ کریں ڈپٹی کمشنر نے والدین اور عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور اپنے پانچ سال تک عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے ضرور پلوائیں۔ انہوں نے کہا کہ والدین کے تعاون سے ہی انسدادِ پولیو مہم کو موثر بنایا اور بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے محفوظ رکھنے کی کوششوں کو کامیاب بنایا جا سکتا ہےڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع دکی میں انسدادِ پولیو مہم کی موثر نگرانی اور فیلڈ کوریج کو یقینی بنانے کے لیے مانیٹرنگ کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8148/2026
دکی، 23 ستمبر ۔: ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی نے جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز ضلع کے مختلف علاقوں میں پولیو ٹیموں کا دورہ کرکے فیلڈ سرگرمیوں، بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کے عمل اور مہم کی مجموعی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے مختلف پولیو ٹیموں سے ملاقات کی اور ان کی فیلڈ میں موجودگی، حاضری، بچوں کی کوریج اور مقررہ اہداف کے مطابق پیش رفت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے ٹیموں سے مہم کے دوران پیش آنے والے مسائل اور فیلڈ میں درپیش مشکلات کے حوالے سے بھی آگاہی حاصل کی۔ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ پانچ سال تک عمر کے تمام بچوں تک رسائی ہر صورت یقینی بنائی جائے اور کوئی بچہ پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی وجہ سے رہ جانے والے بچوں کی فوری نشاندہی کرکے انہیں دوبارہ کور کیا جائے، جبکہ فیلڈ ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کی ویکسی نیشن کا عمل مکمل کریں انہوں نے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم کی کامیابی کے لیے فیلڈ ٹیموں کی ذمہ دارانہ کارکردگی، موثر نگرانی اور والدین کا تعاون انتہائی اہم ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پولیو مہم کی مسلسل مانیٹرنگ جاری رکھی جائے گی تاکہ مقررہ اہداف حاصل کیے جا سکیں ڈپٹی کمشنر نے والدین اور عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور اپنے پانچ سال تک عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ ضلع دکی کو پولیو سے محفوظ بنانے کی کوششوں کو مزید موثر بنایا جا سکے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بچوں کے محفوظ اور صحت مند مستقبل کے لیے انسدادِ پولیو مہم میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8149/2026
دکی، 23 ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال د±کی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) پروگرام کے تحت آپریشن تھیٹر میں جاری تعمیراتی کام، مشینری کی فراہمی اور تنصیب کے عمل کا تفصیلی معائنہ کیا۔اس موقع پر متعلقہ حکام نے ڈپٹی کمشنر کو آپریشن تھیٹر کی بحالی، جاری تعمیراتی کام اور فراہم کی جانے والی طبی مشینری کی تنصیب سے متعلق پیش رفت پر بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر نے مختلف امور کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ آپریشن تھیٹر کی بحالی کے لیے باقی ماندہ تعمیراتی کام اور مشینری کی تنصیب کا عمل ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ اسے جلد فعال کرکے مریضوں کو ضروری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکےڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے واضح کیا کہ ہسپتال میں جاری ترقیاتی کاموں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور تمام منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو تعمیراتی کام کی باقاعدگی سے نگرانی اور کام کے معیار کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال کے مختلف امور کا بھی جائزہ لیا اور مریضوں کو دستیاب طبی سہولیات، ہسپتال کے انتظامی معاملات اور جاری ترقیاتی سرگرمیوں کے حوالے سے متعلقہ حکام سے معلومات حاصل کیں بعد ازاں ڈپٹی کمشنر نے BSDI فیز III کے تحت منظور شدہ پارکنگ شیڈ کے لیے مختص مختلف مقامات کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو موقع کی صورتحال اورضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب جگہ کے انتخاب اور منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ BSDI کے تحت جاری منصوبوں کا مقصد عوام کو بنیادی سہولیات کی بہتر فراہمی اور سرکاری اداروں میں خدمات کے معیار کو مزید موثر بنانا ہے، اس لیے تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل اور شفاف انداز میں عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8150/2026
دکی:23ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر تھل چوٹیالی عبدالسلام شاہوانی نے انسدادِ پولیو مہم کے دوران مختلف علاقوں کا دورہ کرکے پولیو ٹیموں کی فیلڈ سرگرمیوں اور بچوں کی ویکسی نیشن کا جائزہ لیاانسدادِ پولیو مہم کو موثر اور کامیاب بنانے کے سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر تھل چوٹیالی عبدالسلام شاہوانی نے مختلف علاقوں میں قائم پولیو ٹیموں کا فیلڈ مانیٹرنگ کے دوران معائنہ کیا۔ انہوں نے پولیو ٹیموں کے ساتھ موقع پر ملاقات کی اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کے عمل کا براہِ راست مشاہدہ کیا اسسٹنٹ کمشنر نے مختلف علاقوں میں پولیو ٹیموں کی حاضری، فیلڈ ورک، بچوں کی کوریج اور مہم کے مقررہ اہداف کا جائزہ لیا اور ٹیموں سے مہم کے دوران پیش آنے والے مسائل اور مشکلات کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر عبدالسلام شاہوانی نے پولیو ورکرز کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کسی بھی بچے کو پولیو کے قطرے پلانے سے محروم نہ رہنے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ رہ جانے والے بچوں کی فوری نشاندہی کرکے انہیں پولیو سے بچاوکے قطرے پلانے کو یقینی بنایا جائے، جبکہ گھر گھر جا کر بچوں کی کوریج پر خصوصی توجہ دی جائے انہوں نے پولیو ٹیموں پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض ذمہ داری، محنت اور جذبے کے ساتھ انجام دیں اور فیلڈ میں درپیش کسی بھی مسئلے سے متعلق ضلعی انتظامیہ کو فوری آگاہ کریںاسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے موثر فیلڈ مانیٹرنگ، والدین کا تعاون اور پولیو ٹیموں کی بھرپور محنت ناگزیر ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انسدادِ پولیو مہم کے دوران تمام ٹیموں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8151/2026
پسنی 23 ستمبر۔: ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر مکران ڈویژن عیسیٰ خان کی ہدایت پر سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور پولیس نے تحصیل پسنی میں گداگری کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مختلف مقامات کا معائنہ کیا اور گداگری میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی کاروائی کے دوران عوامی مقامات، بازاروں اور دیگر اہم مقامات پر گداگری کی روک تھام کے لیے نگرانی کی گئی، جبکہ متعلقہ افراد کو گداگری سے اجتناب اور قانون کی پابندی کی ہدایت کی گئی سوشل ویلفیئر حکام کے مطابق گداگری کی حوصلہ شکنی، عوامی مقامات پر شہریوں کے لیے بہتر ماحول کی فراہمی اور معاشرے کے مستحق افراد کو فلاحی و سماجی معاونت سے منسلک کرنے کے لیے ایسی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8152/2026
نصیرآباد: 23ستمبر۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کے احکامات کی روشنی میں نصیرآباد ڈویژن میں روڈز کے ترقیاتی منصوبوں کو پی سی ون کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ڈویژنل انتظامیہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی، محکمہ مواصلات و تعمیرات روڈز کے انجینیئرز کو مکمل معاونت فراہم کرتے ہوئے عوامی مفاد میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کروایا جائے گا تاکہ عوام حکومت کے ان اقدامات سے بھرپور استفادہ حاصل کرسکیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مواصلات و تعمیرات روڈز کے جاری ترقیاتی منصوبوں اور درپیش مسائل کے جائزے کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سپرنٹنڈنگ انجینئر فدا حسین کھوسہ، ارسلا رند، پروجیکٹ ڈائریکٹر صحبت پور کشمور روڈ ظفر کھوسہ، ایگزیکٹو انجینئر عبدالستار بنگلزئی، بوستان خان چانڈیو، مجیب الرحمن ہاشمی، غلام دستگیر زہری، سب ڈویڑنل آفیسران نادر علی پہنور، بشیر شاہ سمیت دیگر متعلقہ افسران موجود تھے۔ اجلاس کے دوران تمام افسران نے اپنے اپنے اضلاع میں جاری روڈز کے ترقیاتی منصوبوں، پیش رفت اور درپیش مسائل کے حوالے سے کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر کمشنر صلاح الدین نورزئی نے ہدایت کی کہ جن منصوبوں کے کام تکمیل کے مراحل میں داخل ہوچکے ہیں انہیں مزید تاخیر کے بغیر مکمل کیا جائے اور ترقیاتی منصوبوں کو کسی صورت کھٹائی میں نہ پڑنے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ روڈز کے منصوبوں کی بروقت تکمیل عوام کے وسیع تر مفاد میں ہے اور اس سے محکمے کی کارکردگی اور مورال بھی وابستہ ہے، اجلاس کا مقصد تمام جاری منصوبوں کا جائزہ لے کر درپیش رکاوٹوں اور مسائل کا بروقت تدارک یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز سمیت دیگر مسائل کے حوالے سے حکام بالا کو باقاعدگی سے تحریری طور پر آگاہ کرتے رہیں تاکہ بروقت اقدامات کرکے منصوبوں کی تکمیل میں حائل رکاوٹیں دور کی جاسکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8153/2026
لورالائی:23ستمبر ۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی (DHC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے سرکاری مراکزِ صحت کی کارکردگی، طبی سہولیات کی فراہمی اور محکمہ صحت سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مقبول احمد، ایم ایس ڈاکٹر نقیب اللہ نیازی، ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی ڈاکٹر فرحان کاکڑ، پاپولیشن آفیسر ڈاکٹر نسرین گل، ڈاکٹر محمد فہیم اوتمانخیل سمیت محکمہ صحت کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی حاضری، پابندی وقت، ضروری ادویات کی دستیابی، طبی مراکز کی کارکردگی اور عوام کو فراہم کی جانے والی صحت کی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر مسلسل غیر حاضر ملازمین کے معاملات بھی زیرِ بحث آئے اور ان کے خلاف موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیاشرکاء نے ضلع میں بند یا غیر فعال بنیادی مراکزِ صحت (BHUs)، دیہی مراکزِ صحت (RHCs) اور بے نظیر ہسپتال کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور درپیش مسائل کا بھی جائزہ لیا ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ غیر حاضری کے معاملات میں قواعد و ضوابط کے مطابق موثر کارروائی کی جائے سرکاری مراکزِ صحت میں ضروری ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جائے اور ڈاکٹرز و پیرامیڈیکل اسٹاف کی حاضری کے نظام کو مزید موثر بنایا جائےانہوں نے غیر فعال طبی مراکز کو فعال کرنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دور دراز علاقوں کے عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیںڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ عوام کو بروقت، معیاری اور مو¿ثر طبی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران پر زور دیا کہ صحت کے مراکز کی باقاعدہ نگرانی، عملے کی حاضری اور ادویات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8154/2026
نصیرآباد23ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام ضلعی محکموں کے سربراہان متعلقہ افسران اور دیگر ذمہ دار حکام نے شرکت کی اجلاس میں ضلع نصیرآباد میں جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی مسائل کے حل، شہری سہولیات کی بہتری، امن و امان کی صورتحال اور مختلف سرکاری محکموں کے درمیان موثر رابطہ و تعاون کے امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس کے دوران بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو BSDI فیز ون، فیز ٹو اور فیز تھری کے تحت جاری، مکمل شدہ اور زیرِ تکمیل ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ افسران نے ڈپٹی کمشنر کو منصوبوں کی موجودہ صورتحال، کام کی رفتار، معیار، تکمیل کی مدت، درپیش رکاوٹوں اور مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے اور منصوبوں کی تعمیر میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے جبکہ مقررہ مدت کے اندر منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام ان منصوبوں کے ثمرات سے جلد مستفید ہو سکیں۔ڈپٹی کمشنر نے شہری علاقوں میں صفائی ستھرائی کے نظام نکاسی آب گلیوں اور سڑکوں کی صفائی اور عوامی مقامات کی دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں صفائی کے موثر انتظامات کو یقینی بنایا جائے انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ نکاسی آب کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے نالیوں اور نالوں کی صفائی باقاعدگی سے کی جائے اور جہاں نکاسی آب کے مسائل موجود ہیں وہاں فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو اور انہیں صاف، صحت مند اور بہتر ماحول فراہم کیا جا سکے ۔اجلاس میں این اے 65 پر امن و امان کی مجموعی صورتحال ٹریفک کی روانی ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباوپارکنگ تجاوزات اور شاہراہ پر عوام کو درپیش مشکلات کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ متعلقہ افسران نے شاہراہ پر ٹریفک کے نظام کو مزید منظم بنانے عوام اور مسافروں کو درپیش مشکلات کے خاتمے اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے اجلاس کو آگاہ کیا ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ این اے 65 پر ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے پارکنگ کے مسائل کے حل اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت عملی اقدامات کیے جائیں انہوں نے کہا کہ شاہراہوں اور اہم شہری مقامات پر ٹریفک قوانین پر عملدرآمد، عوام کی سہولت اور آمدورفت میں آسانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل صفائی و نکاسی آب کے نظام میں بہتری ٹریفک کے مسائل کا حل اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو مزید موثر بنانا شامل ہے انہوں نے تمام متعلقہ افسران پر زور دیا کہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں اور شہریوں کو درپیش مشکلات کے فوری ازالے کے لیے عملی اقدامات کریںانہوں نے تمام ضلعی محکموں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے محکموں سے متعلق امور کی موثر نگرانی کریں جاری ترقیاتی منصوبوں کی باقاعدگی سے مانیٹرنگ کریں، کام کے معیار اور رفتار کا جائزہ لیتے رہیں اور کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر کی صورت میں فوری طور پر اصلاحی اقدامات کیے جائیں۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ تمام سرکاری محکمے باہمی رابطے اور تعاون کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ عوامی فلاح و بہبود سے متعلق امور کو بہتر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر سنا اور حل کیا جائے اور دستیاب وسائل کو عوام کی سہولت اور ضلع کی مجموعی ترقی کے لیے موثر انداز میں بروئے کار لایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8155/2026
سیوی 23 ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے جاری انسدادِ پولیو مہم کے تیسرے روز مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور فیلڈ میں پولیو ٹیموں کی کارکردگی اور بچوں کی ویکسینیشن کے عمل کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ڈاکٹر آغا ہارون بھی ان کے ہمراہ تھے۔ڈپٹی کمشنر نے مختلف علاقوں میں پولیو ٹیموں کے ہمراہ گھر گھر جا کر بچوں کی پولیو ویکسینیشن کا جائزہ لیا اور متعدد بچوں کو اپنے ہاتھوں سے پولیو سے بچاوکے قطرے پلائے۔ انہوں نے ٹیموں سے مہم کی پیش رفت، کوریج اور فیلڈ میں درپیش مسائل کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں۔ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے لاک ہاوسز کا بھی معائنہ کیا اور مقامی لوگوں سے ان گھروں کے بند ہونے کی وجوہات دریافت کیں۔ انہوں نے متعلقہ ٹیموں کو ہدایت کی کہ ہر لاک ہاوس کی صورتحال کو مقامی سطح پر مکمل طور پر ویریفائی کیا جائے اور غیر موجود خاندانوں سے متعلق درست معلومات حاصل کرنے کے بعد ہی ریکارڈ کو حتمی شکل دی جائے، تاکہ کوئی بچہ پولیو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے۔ ڈپٹی کمشنر نے پولیو ٹیموں کے ہمراہ تعینات پولیس اہلکاروں سے بھی ملاقات کی، ان کی ڈیوٹی اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا اور مہم کے دوران فرائض انجام دینے پر پولیس اہلکاروں کی خدمات کو سراہا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر میجر (ر) الیاس کبزئی نے پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران فیلڈ میں بھرپور محنت، ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ کام جاری رکھا جائے اور تمام بچوں تک پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کو یقینی بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8156/2026
ہرنائی 23ستمبر۔ عالمی پشتون کلچر ڈے کی مناسبت سے ایف سی پبلک ہائی اسکول ہرنائی میں ایک شاندار اور پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد پشتون ثقافت، شاندار روایات، اقدار اور تاریخی ورثے کو اجاگر کرنا تھا اس اہم تقریب میں ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی، ایف سی ہرنائی 81 ونگ کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل عنایت اللہ، اور ایس پی ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جھکرانی نے شرکت کی۔ ان کے ہمراہ مختلف ضلعی محکموں کے افسران، معزز قبائلی عمائدین، اساتذہ، طلباء اور عوام کی ایک بڑی تعداد بھی تقریب میں شریک تھی۔ اس موقع پر طلباءکی جانب سے پشتون معاشرے کی روایتی اقدار، مہمان نوازی، بہادری، اور رواداری کی خوبصورت انداز میں پیش کرنے کے لیے مختلف ثقافتی خاکے، ٹیبلو اور دیگر دلچسپ پروگرام پیش کیے گئے۔ طلباء کی جانب سے پیش کی گئی اس ثقافتی عکاسی کو تقریب میں شریک تمام افراد نے بے حد سراہا اور بھرپور داد دی تقریب کے اختتام پر مختلف مقررین نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے پشتون ثقافت کی اہمیت، اس کی تاریخی افادیت اور امن و محبت کے پیغام پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اپنی شاندار ثقافت کو زندہ رکھنا اور نئی نسل کو ان روایات سے روشناس کرانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8157/2026
حب 23ستمبر ۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطا ءکی زیرصدارت ضلع حب اورلسبیلہ میں امن وامان وانسداد اسمگلنگ کے حوالے سے اہم اجلاس لیڈاکانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلع حب لسبیلہ کے انتظامی افسران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سراج کریم بلوچ اسسٹنٹ کمشنرحب مہیم بلوچ ایس پی حب مرزاابلال حسن اورایف سی147 ونگ کے میجر یحی حساس اداروں محکمہ ایکسائزاینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ اے این ایف کے افسران شریک ہوئے کمشنر لسبیلہ ڈویژن کی زیرنگرانی منعقدہ میٹنگ میں لاائآینڈآرڈرکی صورتحال وسندھ بلوچستان سرحدی پٹی پر انڈین چھالیہ ونان کسم اشیاءکی اسمگلنگ روٹس کیخلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت جامع پلانزپرکام کرنے کافیصلہ کیاگیااجلاس میں سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مﺅثر اقدامات کرنے آرسی ڈی ہائیوے وکوسٹل ہائیوے پر مسافربسوں کے ذریعے ڈیزل ونان کسٹم پیڈاشیاء کی غیرقانونی اسمگلنگ کی روک تھام چیک پوسٹوں کی کارکردگی وٹیکنیکل سرویلنس کے ذریعے شاہراِوں کومحفوظ بنانے کافیصلہ کیاگیاکمشنر لسبیلہ ڈویژن کو اجلاس میں ایس پی حب مرزابلال حسن ایف سی 147 ونگ کے میجریحیی اور پاکستان کوسٹ گارڈ کے افسرڈائریکٹرایکسائز سہیل احمد سمیت دیگرقانون نافذکرنے والےاداروں کے حکام نے انسدادمنشیات وانسداداسمگلنگ کے حوالے سے اپنی محکمانہ کارکردگی سے کمشنرکوبریفنگ دی جبکہ کسٹم کے افسران اجلاس سے غیرحاضررہے کمشنر کے زیرصدارت ممعقدہ اجلاس میں ضلعی انتظامیہ کے ماتحت تمام اداروں کےمابین مﺅثرکوآرڈینیشن میکنانزم کافیصلہ کیا گیاکمشنر لسبیلہ نے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے لوکل کمیونٹی کی معاونت سے سیکیورٹی ایس اوپیز پرعملدرآمد کرانےاود انسداد اسمگلنگ کے حوالے سے سیکیورٹی آپریشننز کیٹیگرائزڈ کرنے پرمشاورت کی گءکمشنر لسبیلہ سائرہ عطاء نےاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسمگلنگ کی روک تھام اوراسنیپ چیکنگ کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت اورریسورسز استعمال کرنے کی ضرورت ہے سییکیورٹی چیک پوسٹوں پر تعینات عملہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے وقت لوگوں کیساتھ ایسارویہ اپنائیں کہ لوگ انہیں دشمن نہیں محافظ سمجھیں کمشنر نے کہا کہ سیکیورٹی کو بہتر بنانے اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے تاہم چیک ہوسٹوں پر تعینات عملے کولوگوں کااعتماد حاصل کرنے کےساتھ سیکیورٹی تھریٹس کوبھی روکناہوگا اداروں اورعوام کے مابین اعتمادسازی کے لئے ایساماحول پیداکرنے کی ضرورت یےکہ لوگ چیک پوسٹوں پر تعینات عملے کواپنا محافظ سمجھیں کمشنر نے کہا کہ قانون نافذ کرنےبوالے اداروں کواہنے رویوں سے اسٹیٹ کا ایسا مثبت امیج ثابت کرنا ہے کہ لوگ انہیں اپنا مددگار سمجھیں کمشنر نے کہا کہ سیکیورٹی چیکنگ کیلئے اداروں کو ایسامیکانزم بنانے کی ضرورت ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو باربارچیکنگ کرنے کی ضرورت نہ پڑے سیکیورٹی اداروں کو ڈیجیٹلائزیشن کیجانب بڑھناہوگا کمشنر نے کہا کہ واٹر ٹینکرزسے رشوت لیکرانہیں کراچی پارکروانےکی شکایات پر متعلقہ ذمہ داران سے بازپرسی کیجائیگی کمشنر کی زیرصدارت سیکیورٹی میٹنگ میں فیصلہ کیاگیاکہ نیشنل ایکشن پلان کے سیکیورٹی میکانزم کے تحت کام کرنے والےتمام اداروں کےمابین کمیونکیشن کوآرڈینیشن کومنظم اوروسیع بنانے پر غوروغوض کیا گیا کمشنر نے انسداداسمگلنگ کے حوالے سےمنعقدہ اجلاس میں گڈانی کسٹم کلکٹریٹ کے افسران کی غیرحاضری پر متعلقہ ذمہ داران کیخلاف مجازاتھارٹی کولیٹرلکھنے کے احکامات جاری کیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8158/2026
استامحمد23ستمبر۔ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع بھر میں امن و امان انتظامی امور، عوامی مسائل کے حل سرکاری اداروں کی کارکردگی اور مختلف شعبوں میں جاری سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں تمام متعلقہ ضلعی محکموں کے افسران اور دیگر ذمہ دار حکام نے شرکت کیاجلاس کے دوران منشیات کے استعمال اور فروخت کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات اٹھانے منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنے اور نوجوان نسل کو اس لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری یقینی بنانے پر زور دیا گیاڈپٹی کمشنر نے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی افغان مہاجرین سے متعلق امور کی مو¿ثر نگرانی اور متعلقہ ریکارڈ کو باقاعدہ رکھنے کی ہدایات جاری کیں اسی طرح ضلع بھر میں غیر معیاری کھاد بیج اور زرعی ادویات کی فروخت کی روک تھام، ان کے معیار کی جانچ اور مقررہ نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے کے لیے متعلقہ افسران کو مارکیٹوں کے باقاعدہ معائنے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت کی گئیاجلاس میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال استامحمد کے سیکیورٹی انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال میں مریضوں ڈاکٹروں طبی عملے اور دیگر شہریوں کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی انتظامات مزید موثر بنانے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کیڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے ناجائز تجاوزات کے خاتمے شہر کی صفائی اور ٹریفک نظام کی بہتری کے لیے متعلقہ محکموں کو مربوط کارروائی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو آمدورفت میں درپیش مشکلات کے خاتمے کے لیے سڑکوں، بازاروں اور اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھی جائےاجلاس میں بجلی کی چوری کی روک تھام کے حوالے سے بھی تفصیلی غور کیا گیا اور متعلقہ حکام کو بجلی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اسی طرح بھیک مانگنے کی آڑ میں شہریوں سے چوری اور دیگر جرائم میں ملوث افراد کے خلاف بھی موثر کارروائی کرنے اور عوامی مقامات پر نگرانی کا نظام بہتر بنانے پر زور دیا گیااجلاس میں غیر رجسٹرڈ پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں سیل کرنے اور جرمانے عائد کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام پیٹرول پمپس کی رجسٹریشن اور قانونی حیثیت کی جانچ کی جائے جبکہ شہریوں کو مقررہ سرکاری نرخوں پر پیٹرول کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور زائد نرخ وصول کرنے والے پمپس کے خلاف کارروائی کی جائےانہوں نے مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مدارس کے منتظمین سے رابطہ کر کے انہیں مقررہ قانونی طریقہ کار کے تحت رجسٹرڈ کیا جائے اور اس سلسلے میں تمام ضروری امور کو باہمی مشاورت سے مکمل کیا جائےاجلاس میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے دفاتر کو ضلع استامحمد منتقل کرنے کے معاملے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ مقامی شہریوں کو متعلقہ سرکاری خدمات کے حصول کے لیے دیگر اضلاع کا رخ نہ کرنا پڑے اور انہیں اپنے ضلع میں ہی سہولیات میسر آسکیںڈپٹی کمشنر نے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ PHE محکمہ کے افسران کو ہدایت کی کہ ضلع میں التوا کا شکار واٹر پلانٹس کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور غیر فعال واٹر سپلائی منصوبوں کو فعال بنا کر شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائےاس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے کہا کہ تمام سرکاری ادارے اپنے فرائض ذمہ داری اور باہمی رابطہ کاری کے ساتھ انجام دیں عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح دی جائے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو اجلاس میں کیے گئے فیصلوں اور جاری کردہ ہدایات پر موثر عملدرآمد یقینی بنانے اور پیش رفت سے ضلعی انتظامیہ کو باقاعدگی سے آگاہ کرنے کی ہدایت بھی کی
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8159/2026
سیوی 23 ستمبر۔ناظمِ اعلیٰ جنگلات سیوی زاہد خان رند کی خصوصی ہدایت پر ضلع بھر میں جاری مون سون شجرکاری مہم کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ جیل سیوی میں بھی شجرکاری کی گئی، جس میں محکمہ جنگلات و جنگلی حیات اور محکمہ جیل خانہ جات کے افسران و اہلکاروں نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ جیل سیوی حماد اعوان، ڈویڑنل فارسٹ آفیسر سیوی طارق شاہ، اسسٹنٹ کنزرویٹر وائلڈ لائف محمد رفیق خجک، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل سیوی طاہر خان ڈومکی اور اسسٹنٹ جیل تیمور شاہ نے دیگر عملے کے ہمراہ جیل کے احاطے میں مختلف اقسام کے پودے لگائے اور خود بھی شجرکاری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس موقع پر محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے حکام نے کہا کہ مون سون کا موسم شجرکاری کے لیے انتہائی موزوں ہوتا ہے اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ سیوی کو سرسبز و شاداب بنانے کے لیے یہ مہم انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ جنگلات کی جانب سے شہریوں میں بھی شعور اجاگر کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں درخت لگا کر آنے والی نسلوں کے لیے صحت مند ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
قلعہ عبداللہ 23ستمبر۔ سپرینڈنٹ اف پولیس کا پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی کا فیلڈ جائزہ، اہلکاروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت ضلع قلعہ عبداللہ میں جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوران سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (SP) نے آج مختلف علاقوں کا فیلڈ دورہ کرکے پولیو ٹیموں کے لیے کیے گئے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا اور ڈیوٹی پر تعینات پولیس افسران و اہلکاروں کی فزیکل چیکنگ کی۔اس موقع پر پولیس اہلکاروں کو موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر دورانِ ڈیوٹی مکمل چوکسی، احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔ حالیہ سیکیورٹی واقعے کے تناظر میں اہلکاروں کو اپنی اور پولیو ٹیموں کی حفاظت کے لیے مقررہ سیکیورٹی SOPs پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی تاکید کی گئی۔انہوں نے ہدایت کی کہ پولیو ٹیموں کی نقل و حرکت کے دوران اردگرد کے ماحول پر مسلسل نظر رکھی جائے، مشکوک یا غیر معمولی سرگرمیوں پر فوری توجہ دی جائے، حساس مقامات اور داخلی و خارجی راستوں پر مناسب سیکیورٹی یقینی بنائی جائے جبکہ اہلکار بلا ضرورت اپنے سیکیورٹی پوائنٹس نہ چھوڑیں۔انہوں نے اس موقع پر تمام SDPOs، SHOs اور سپروائزری افسران کو ہدایت کی گئی کہ وہ فیلڈ میں سیکیورٹی انتظامات کی مسلسل نگرانی، باقاعدہ اور اچانک چیکنگ کو یقینی بنائیں اور اہلکاروں کو ڈیوٹی سے قبل مناسب بریفنگ دیں۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ وقت کی پابندی، نظم و ضبط اور سیکیورٹی SOPs پر مکمل عملدرآمد ہر اہلکار کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپرواہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تمام اہلکار پولیو ٹیم کی ڈیوٹی مکمل ہونے تک مکمل طور پر الرٹ رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8160/2026
چمن23ستمبر۔ : ضلعی انتظامیہ چمن کے زیر اہتمام پہلی مرتبہ پشتون کلچر ڈے کے موقع پر ایک عظیم الشان ثقافتی میلے کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد پشتون قوم کی قدیم روایات، ثقافتی ورثے، روایتی کھیلوں، فنون اور تہذیبی اقدار کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو اپنی شاندار ثقافت سے روشناس کرانا اور معاشرے میں اتحاد، بھائی چارے اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔پشتون کلچر ڈے کے اس خصوصی فیسٹیول میں مختلف روایتی، ثقافتی اور تفریحی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا، جن میں غیڑ کے روایتی مقابلے میں اچکزئی اور نورزئی قبائل کی ٹیموں کے درمیان مقابلہ، رسہ کشی، روایتی اتڑ، کلاسیکی پشتون تلوار رقص، میوزیکل شو، شاندار آتش بازی، خصوصی فنکارانہ پرفارمنس، فٹبال فائنل میچ اور دیگر ثقافتی سرگرمیاں شامل ہیں۔ فیسٹیول میں ثقافتی اسٹالز بھی قائم کیے جائیں گے، جہاں پشتون ثقافت کے روایتی لباس، دستکاری، کھانوں اور دیگر ثقافتی ورثے کو نمایاں کیا جائے گا، جبکہ اسٹیڈیم میں کتابوں کی نمائش کا بھی اہتمام کیا جائے گا تاکہ ثقافت کے ساتھ علم و ادب کو بھی فروغ دیا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ منفرد ثقافتی فیسٹیول چمن کی سرزمین پر پشتون روایات اور ثقافتی ورثے کو بھرپور انداز میں اجاگر کرنے کے ساتھ نوجوانوں کو مثبت اور صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کا اہم ذریعہ ثابت ہوگا۔ضلعی انتظامیہ چمن کی جانب سے تمام صحافیوں، میڈیا نمائندگان اور اہلِ علاقہ کو اس تاریخی ثقافتی پروگرام کی کوریج اور شرکت کی دعوت دی گئی تھی تاکہ پشتون ثقافت کے رنگوں، روایات اور خوبصورت اقدار کو وسیع پیمانے پر اجاگر کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر 8161/026
کوئٹہ: صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب نوشیروانی سے توبہ کاکڑی اور برشور سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین نے ملاقات کی، جس میں پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن (PMDC) کو مقامی زمینوں کی الاٹمنٹ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران وفد نے صوبائی وزیر کو مقامی زمینوں کی ملکیت، الاٹمنٹ اور اس حوالے سے درپیش تحفظات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ وفد نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ زمینیں مقامی قبائل اور مقامی مالکان کی ملکیت ہیں، اس لیے ان سے متعلق کسی بھی معاملے میں مقامی زمین مالکان کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔وفد نے مطالبہ کیا کہ پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن (PMDC) کے ذمہ دار نمائندگان مقامی زمین مالکان اور قبائلی عمائدین کے ساتھ باضابطہ طور پر بیٹھ کر بات چیت کریں، تاکہ تمام قانونی، انتظامی اور مقامی نوعیت کے تحفظات و خدشات کو باہمی مشاورت سے دور کیا جا سکے۔صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب نوشیروانی نے وفد کا مؤقف غور سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ معاملے کو متعلقہ فورم پر زیرِ غور لایا جائے گا اور مقامی لوگوں کے تحفظات کو مناسب طریقے سے متعلقہ حکام کے سامنے رکھا جائے گا۔ملاقات میں مقامی زمینوں کے حقوق، معدنی وسائل سے متعلق امور اور مقامی آبادی کے جائز مفادات کے تحفظ سمیت مختلف معاملات پر بھی گفتگو کی گئی۔

خبرنامہ نمبر8162/026
قلات:پولیو مہم کے تیسرے روز کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری کی زیرصدارت جائزہ اجلاس منعقدہوا
اجلاس میں ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر محمداقبال نورزئی ڈبلیو ایچ او کے ڈی پی او ڈاکٹر مجتبی باجوئی ڈی ایم پی پی ایچ آئی قلات جہانگیر زہری ڈاکٹرگنشام داس ڈی ایس پی قلات شکیل احمدعمرانی سمیت مانیٹرنگ آفیسران یوسی ایم اوزنے شرکت کی۔
اجلاس میں تیسرے روز کے پولیو مہم ٹیموں کی کارکردگی درپیش مسائل مقررکردہ ہدف NA رفیوزلز اور سکیورٹی انتظامات سے متعلق تبادلہ خیال کیاگیا۔
یوسی ایم اوز اور مانیٹرنگ آفیسران نے آج کے مہم ٹیموں کی کارکردگی اور درپیش مسائل سے متعلق تفصیلی رپوٹ پیش کیئے۔ڈپٹی کمشنر انجینیئرعائشہ زہری نے کہا کہ پولیو ٹیمیں کل آخری روز کیچ اپ کے دن میں گھرگھر جاکر رہ جانے والے بچے رفیوزلز مہمان بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں تاکہ پولیو سے پاک معاشرے کی تشکیل ممکن ہوسکے۔

خبرنامہ نمبر 8163/026
کوئٹہ 23ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت WEXNET (Women Entrepreneurs Network) کے انعقاد کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں TDAP حکام کی جانب سے WEXNET کے اغراض و مقاصد، مجوزہ نمائش، خواتین کاروباری افراد کی شرکت اور مقامی مصنوعات کو ملکی و بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی دینے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ WEXNET کے تحت خواتین کاروباری افراد کو اپنی مصنوعات کی نمائش، کاروباری روابط کے فروغ، مارکیٹ لنکیجز اور ایکسپورٹ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ مجوزہ نمائش میں ٹیکسٹائل، زرعی مصنوعات، روایتی دستکاری، ای کامرس سمیت مختلف شعبوں کے اسٹالز شامل ہوں گے۔اجلاس میں ایونٹ کے کامیاب انعقاد کے لیے سکیورٹی، ٹریفک مینجمنٹ، پروٹوکول، طبی سہولیات اور دیگر ضروری انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے کہا کہ خواتین کاروباری افراد کو اپنی مصنوعات کی نمائش اور کاروباری مواقع فراہم کرنا خوش آئند اقدام ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ WEXNET کے انعقاد کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی اور سکیورٹی سمیت تمام ضروری انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور معاونت فراہم کی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر8164/026
کوئٹہ: صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب نوشیروانی سے پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) ڈسٹرکٹ ایسوسی ایشن خاران کے وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پی سی بی بلوچستان ریجن کے نمائندگان بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران خاران میں کرکٹ کے فروغ، مقامی کھلاڑیوں کو بہتر مواقع کی فراہمی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کھیلوں کی سرگرمیوں کے دائرہ کار کو خاران تک وسعت دینے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد نے صوبائی وزیر خزانہ سے مطالبہ کیا کہ خاران کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کھیل کے باقاعدہ حقوق فراہم کیے جائیں، جبکہ پی سی بی کے زیرِ اہتمام ٹورنامنٹس، مختلف کرکٹ سرگرمیاں اور تربیتی کیمپس خاران میں بھی منعقد کیے جائیں۔وفد نے کہا کہ خاران میں باصلاحیت نوجوان کرکٹرز کی بڑی تعداد موجود ہے، جنہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور آگے بڑھنے کے لیے مناسب پلیٹ فارم اور مواقع کی ضرورت ہے۔ خاران میں کرکٹ کی سرگرمیوں کے انعقاد سے مقامی نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور انہیں صوبائی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کے مواقع میسر آئیں گے۔وفد نے صوبائی وزیر خزانہ سے درخواست کی کہ وہ خاران میں کرکٹ کے فروغ اور پی سی بی کی سرگرمیوں کے انعقاد سے متعلق معاملہ چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ اٹھائیں۔میر شعیب نوشیروانی نے وفد کو یقین دلایا کہ خاران کے نوجوانوں اور کھلاڑیوں کے مسائل و مطالبات کو متعلقہ فورم پر اجاگر کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر8165/026
نصیرآباد: بلوچستان ہائی کورٹ میں ضلع جعفرآباد سے تعلق رکھنے والے SBK کے امیدوار کی جانب سے انصاف کی فراہمی کے لیے دائر درخواست کے بعد جے وی ٹی مانجھوٹی میں ہونے والی تعیناتی کے معاملے کی مکمل انکوائری کے لیے کمشنر نصیرآباد ڈویژن و چیئرمین صلاح الدین نورزئی کے احکامات پر کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ کمیٹی نے معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے امیدواروں کی ڈگریوں، دستاویزات اور دیگر اعتراضات کی مکمل جانچ پڑتال کی جبکہ ریکروٹمنٹ پالیسی اور متعلقہ قواعد و ضوابط کو بھی مدنظر رکھا گیا اس موقع پر کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ معاملے کا فیصلہ ریکروٹمنٹ پالیسی اور میرٹ کے اصولوں کے مطابق کیا جائے گا تاکہ عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی امیدوار کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی اور تمام امیدواروں کے کیسز کا غیرجانبدارانہ اور شفاف انداز میں جائزہ لیا جائے گا، تعیناتی کے عمل میں میرٹ اور قواعد و ضوابط کی مکمل پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ حقدار امیدوار کو اس کا حق مل سکے اور کسی بھی قسم کی شکایت یا ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے۔

خبرنامہ نمبر8166/026
کوئٹہ, پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون، سیاحت و ثقافت نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی نے پشتون عالمی کلچر ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پشتون ثقافت ہماری مشترکہ تہذیبی میراث کا ایک اہم حصہ ہے، جو اپنی روایات، مہمان نوازی، احترامِ انسانیت اور بھائی چارے کی اقدار کی وجہ سے منفرد پہچان رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ثقافتی دن منانے کا مقصد اپنی روایات اور مثبت اقدار کو زندہ رکھنا اور نئی نسل کو اپنی تہذیب و ثقافت سے جوڑے رکھنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان مختلف ثقافتوں کا گہوارہ ہے اور ہر ثقافت کا احترام اور فروغ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی نے پشتون عالمی کلچر ڈے کے موقع پر پشتون قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اپنی زبان، ثقافت اور روایات کا تحفظ ہی ہماری شناخت اور آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت ثقافتی ورثے کے تحفظ، فروغ اور نئی نسل کو اپنی تہذیبی شناخت سے روشناس کرانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی نے پشتون عالمی کلچر ڈے کے موقع پر تمام پشتون بھائیوں اور بہنوں کو دلی مبارکباد پیش کی۔

خبرنامہ نمبر8167/026
سوراب: حکومت بلوچستان اور ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر محمد طحہ کی زیرصدارت فرٹیلائزر ٹریکنگ اینڈ ٹریس ایبلٹی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ضلع بھر میں کھاد کی دستیابی، اسٹاک، ترسیل اور مقررہ نرخوں پر فروخت کا جائزہ لیا گیا اجلاس میں تحصیلدار محمود احمد کرد، نائب تحصیلدار ایوب حسن محمد حسنی اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی کھاد ڈیلرز کے اسٹاک و ریکارڈ کی جانچ، ٹریکنگ نظام پر عملدرآمد اور ذخیرہ اندوزی و زائد قیمت وصولی کی روک تھام پر غور کیا گیا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کھاد ڈیلرز کی باقاعدگی سے مانیٹرنگ کی جائے گی اور بے ضابطگی کی صورت میں کارروائی کے لیے رپورٹ پیش کی جائے گی، جبکہ کھاد کی مانیٹرنگ سے متعلق پندرہ روزہ رپورٹ بھی مرتب کی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر8168/026
کوئٹہ، 23 ستمبر: کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری سے بلوچستان شیعہ کانفرنس کے وفد نے ملاقات کی، جس میں زائرین کی نقل و حرکت، تاجر برادری کو درپیش مسائل سمیت مختلف عوامی و انتظامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران وفد نے بزنس ویزا پر سفر کرنے والے افراد کو پاکستان ہاؤس میں روکنے کے معاملے سے کمشنر کو آگاہ کرتے ہوئے مشکلات کے فوری ازالے کی درخواست کی۔ وفد نے علمدار روڈ پر گزشتہ دو سے تین ماہ سے خراب ٹیوب ویل کی مرمت، تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور تعلیمی ماحول کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کا مطالبہ بھی کیا۔وفد نے پولیو مہم کے دوران متعلقہ علاقوں کے مقامی افراد کو پولیو ٹیموں میں شامل کرنے اور ہزارہ ٹاؤن میں منشیات، شیشہ پوائنٹس اور حقہ خانوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی بھی درخواست کی۔اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ بزنس ویزا پر سفر کرنے والے افراد کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جائے گا۔ انہوں نے علمدار روڈ کے خراب ٹیوب ویل کی مرمت کے لیے واسا سے رابطہ کرنے کی ہدایت بھی کی۔کمشنر نے تعلیمی اداروں میں سہولیات اور تعلیمی ماحول کی بہتری کے لیے متعلقہ ڈائریکٹرز کو مراسلے ارسال کرنے کا فیصلہ کیا، جبکہ پولیو ٹیموں میں مقامی افراد کی تعیناتی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی کو ہزارہ ٹاؤن میں منشیات کے خلاف سخت کارروائی اور شیشہ پوائنٹس و حقہ خانوں کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی۔
ملاقات میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔

خبرنامہ نمبر8169/026
کوئٹہ 23ستمبر۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کی زیرِ صدارت کوئٹہ ڈویژن میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت جاری مختلف اقدامات اور پروگرام کی مجموعی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ڈاکٹر جلال فیض نے کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو مستحق خاندانوں کو فراہم کی جانے والی مالی معاونت، مستحقین کی رجسٹریشن و سروے، ادائیگیوں کے طریقہ کار اور پروگرام میں شفافیت کو یقینی بنانے سے متعلق امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی،ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی،اسسٹنٹ کمشنر پولیٹیکل کوئٹہ ڈویژن سید کلیم اللہ سمیت دیگر افسران موجود تھے۔ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ کوئٹہ ڈویژن میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت کفالت پروگرام، وسیلۂ تعلیم اور نشوونما پروگرام سمیت مختلف منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے۔ کوئٹہ میں دو ڈائنامک رجسٹری سینٹرز (DRCs) جبکہ رجسٹریشن کے لیے ایک موبائل وہیکل بھی کام کر رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ میں تقریباً دو لاکھ بچوں اور دو لاکھ سے زائد خواتین کو بے نظیر نشوونما پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔ خواتین کے لیے ڈیجیٹل والٹس بھی بنائے گئے ہیں جبکہ انہیں سمز بھی فراہم کی جا چکی ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ نئے مستحقین اور خواتین کی رجسٹریشن کا عمل کل سے شروع کیا جائے گا، جس کے تحت ڈائنامک رجسٹری سینٹرز اور موبائل وہیکل کے ذریعے رجسٹریشن کی جائے گی۔ اس عمل کے دوران ان خواتین کو بھی پروگرام میں شامل کیا جائے گا جن کی تاحال رجسٹریشن نہیں ہو سکی۔اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری نے ہدایت کی کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رجسٹریشن کے حوالے سے ماہانہ پلان شیئر کیا جائے تاکہ ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کی سطح پر رجسٹریشن کے عمل کی مؤثر نگرانی یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں رجسٹریشن کے لیے ڈائنامک رجسٹری سینٹرز اور موبائل رجسٹریشن کے ذریعے عوام کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کوئٹہ کے ہسپتالوں میں نشوونما پروگرام کے تحت خواتین اور بچوں کے علاج، غذائی ضروریات اور فوڈ سپلیمنٹ سے متعلق اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری نے کہا کہ کم آمدن اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت کی فراہمی ایک اہم سماجی ذمہ داری ہے۔ متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ، باہمی تعاون اور نگرانی کے ذریعے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ثمرات مزید بہتر انداز میں مستحق افراد تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔اس دوران بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو درپیش مسائل، ان کے حل، رجسٹریشن کے عمل کو مزید مؤثر بنانے اور مستحقین کو سہولیات کی فراہمی سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر بھی تفصیلی غور و خوض ہوا۔

خبرنامہ نمبر8170/026
کوئٹہ، 23 ستمبر 2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پشتون کلچر ڈے کے موقع پر پشتون برادری کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پشتون ثقافت بلوچستان کی تہذیبی شناخت کا ایک اہم اور خوبصورت حصہ ہے۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پشتون ثقافت میں مہمان نوازی، رواداری، بہادری، بھائی چارے اور انسان دوستی کی اعلیٰ روایات نمایاں ہیں، جنہوں نے معاشرے کی تشکیل اور اجتماعی اقدار کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان مختلف اقوام، زبانوں اور ثقافتوں کا حسین امتزاج ہے اور یہی ثقافتی و لسانی تنوع صوبے کی اصل خوبصورتی اور قوت ہے۔ تمام اقوام اپنی منفرد ثقافتی شناخت کے ساتھ بلوچستان کی اجتماعی پہچان کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پشتون برادری نے بلوچستان کی سماجی، ادبی، سیاسی اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے، جسے قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ثقافتی ورثے کا تحفظ نئی نسل کو اپنی تاریخ، اقدار اور شناخت سے جوڑنے کا اہم ذریعہ ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنی ثقافتوں، زبانوں اور روایات کو محفوظ بنائیں اور انہیں آنے والی نسلوں تک منتقل کریں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بسنے والی تمام اقوام کی ثقافتیں اور زبانیں صوبے کے مشترکہ ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں۔ تمام ثقافتوں، زبانوں اور روایات کا احترام اور فروغ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پشتون کلچر ڈے نہ صرف پشتون ثقافت اور روایات کو اجاگر کرنے کا موقع ہے بلکہ امن، بھائی چارے، باہمی احترام اور رواداری کے فروغ کا بھی پیغام ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے پشتون کلچر ڈے کے موقع پر پشتون برادری کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی تمام اقوام باہمی احترام، ہم آہنگی اور بھائی چارے کے ساتھ صوبے کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار جاری رکھیں۔

خبرنامہ نمبر8171/026
کوئٹہ، 23 ستمبر 2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مستونگ کے علاقے کنک وادی میں دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران 9 دہشت گردوں کو ہلاک کرنا سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مؤثر حکمتِ عملی کا مظہر ہے۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی کو بروقت اور مؤثر انداز میں ناکام بنایا۔ ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور 3 موٹرسائیکلوں کی برآمدگی بھی کارروائی کی اہم کامیابی ہے۔انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران زخمی ہونے والے سیکیورٹی فورسز کے جوان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کی قربانیاں قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔ دہشت گرد عناصر بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ردالفتنہ 3 کے تحت دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔ بلوچستان کے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ریاستی ادارے پوری قوت اور عزم کے ساتھ سرگرم ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت، سیکیورٹی فورسز اور عوام کے باہمی تعاون سے دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کیا جائے گا اور بلوچستان میں امن و استحکام کے قیام کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

خبرنامہ نمبر8172/026
گوادر: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع بھر میں سرکاری اسپتالوں کی کارکردگی، عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، فیلڈ مانیٹرنگ اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹریاسرطاہر، میر عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ اسپتال کے نمائندہ ڈاکٹر عبدالمجید ، انڈس ہسپتال ادارہ ترقیات گوادر کے سی ائ او
اور پاک عمان ہسپتال کے نمائندہ ڈاکٹر عبدالحمید پی پی ایچ آئی کے ڈاکٹر منیر احمد بلوچ سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی
اجلاس میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض طبی شکایات اور حالیہ کیسز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ طبی حکام نے دستیاب میڈیکل ریکارڈ اور دستاویزات کی بنیاد پر کیسز کی تفصیلات اجلاس میں پیش کیں اور واضح کیا کہ مریضوں کے علاج معالجے میں مقررہ طبی پروٹوکولز اور طریقۂ کار پر عملدرآمد کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ صحت کے شعبے سے متعلق کسی بھی معاملے میں مستند ریکارڈ اور حقائق کو سامنے لایا جائے اور سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اطلاعات کے بجائے دستاویزی شواہد کی بنیاد پر صورتحال واضح کی جائے ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ غیر حاضر ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر ملازمین کے خلاف حکومتی قواعد و ضوابط کے مطابق سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مسلسل اور بلاجواز غیر حاضری کی صورت میں قواعد کے تحت تنخواہ کی بندش اور ملازمت سے برطرفی سمیت دیگر تادیبی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے فیلڈ افسران کو ہدایت کی کہ اس حوالے سے کسی قسم کے غیر ضروری دباؤ کو قبول کیے بغیر شفاف نگرانی اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے اجلاس میں طبی آلات کو مؤثر انداز میں استعمال میں لانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ ایسے آلات جو ماہر عملے کی عدم دستیابی کے باعث غیر فعال ہیں، انہیں ضرورت کے مطابق فعال مراکز اور متعلقہ شعبوں میں منتقل کرکے عوامی مفاد میں استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ۔اجلاس میں جاری پولیو مہم، ویکسینیشن اور دیگر انسدادِ امراض سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ حکام کو مہم کے اہداف اور تمام انتظامی امور بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کی

خبرنامہ نمبر8173/026
کوئٹہ 23ستمبر۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریوینیو) کوئٹہ حافظ محمد طارق کی زیرِ صدارت میٹروپولیٹن کارپوریشن کی پراپرٹی ٹیکسز اور سرکاری املاک کو واگزار کرانے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں میٹروپولیٹن کارپوریشن اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں پراپرٹی ٹیکسز کے ریکارڈ، واجبات اور سرکاری املاک کی واگزاری سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریوینیو) نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس حوالے سے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر تمام امور کا جلد جائزہ مکمل کیا جائے اور تفصیلی رپورٹ مرتب کرکے پیش کی جائے۔ انہوں نے ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور متعلقہ امور کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔

خبرنامہ نمبر8175/026
کوئٹہ: بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (BTEVTA) کے مینیجنگ ڈائریکٹر عبدالکبیر خان زرکون نے پاکستان میں جرمنی کی سفیر Ina Lepel، ہیڈ آف جرمن ڈیولپمنٹ کوآپریشن اور کونصلر ڈاکٹر میرجام اور جرمنی کے اعزازی کونصل جنرل میر مراد سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد صوبے کے ٹیکنکی و فنی تعلیم و تربیت (TVET) سیکٹر کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا،فنی تربیت و تکنیکی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا اور بلوچستان کے ہنرمند نوجوانوں کے لیے بین الاقوامی سطح پر، بالخصوص جرمنی میں، روزگار کے مواقع پیداے کرنا تھا۔ملاقات کے دوران ایم ڈی بی ٹیوٹا عبدالکبیر خان زرکون نے فنی ،تکنیکی تربیت کے شعبے میں جرمن حکومت کی دیرینہ امداد اور GIZ جیسے ترقیاتی اداروں کے تاریخی کردار پر گہرے تشکر کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نصاب کو جدید بنانے، ادارہ جاتی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور ڈوئل ووکیشنل ٹریننگ سسٹم کو متعارف کرانے میں جرمنی کے مسلسل تعاون نے صوبے بھر کے ہزاروں نوجوانوں کو پائیدار فنی مہارتوں کے ساتھ بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس موقع پر جرمن سفیر نے صوبے میں پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے فروغ اور جدید ترین ٹیکنالوجیز کو شامل کرنے پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے بی ٹیوٹا کو فنی مہارتوں کی ترقی اور بلوچستان کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے جرمنی کے مسلسل تعاون اور پختہ عزم کا اعادہ کیا۔
ایم۔ڈی بی ٹیوٹا عبدالکبیر خان زرکون نے جرمن سفیر اور انکے وفد کو بلوچستان کی وسیع معاشی صلاحیتوں اور ان اہم تکنیکی شعبوں کے بارے میں بریفنگ دی جہاں خصوصی ہنر کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے ریکوڈک اور سیندک جیسے میگا پروجیکٹس کے تناظر میں جدید مائننگ اور منرل پروسیسنگ ٹیکنالوجیز، گوادر پورٹ سے منسلک میرین انجینئرنگ اور بلیو ایکانومی، شمسی و بادی توانائی (سولر اینڈ ونڈ انرجی) کے سسٹمز، جدید زراعت و تحفظِ آب کی تکنیکس، اور ڈیجیٹل آئی ٹی اسکلز پر بی ٹیوٹا کی توجہ کو اجاگر کیا۔ اس کے علاوہ بی ٹیوٹا کے ماسٹر ٹرینرز اور انسٹرکٹرز کی صلاحیتوں میں اضافے کے پروگراموں اور سند یافتہ ہنرمند نوجوانوں کو جرمن انڈسٹریل مارکیٹ میں براہ راست ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ فریم ورک قائم کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس اہم اجلاس میں ڈائریکٹر بی ٹیوٹا غلام۔مصطفی رئیسانی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر تیمور ظفر نے بھی شرکت کی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو مزید مضبوط بنانے اور صوبائی تربیتی پروگراموں کو بین الاقوامی صنعتی معیار کے مطابق بنانے کے لیے مفید تجاویز پیش کیں۔

خبرنامہ نمبر8176/026
23 ستمبر 2026:
یونیورسٹی آف بلوچستان کے ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز ڈی پی آر کی ٹیم نے بیوٹمز یونیورسٹی، کوئٹہ میں منعقدہ فوٹوگرافی مقابلے اور نمائش میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔فوٹوگرافی مقابلے اور نمائش کا انعقاد فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن ایف اے او، اقوام متحدہ کے زیر اہتمام بیوٹمز یونیورسٹی، کوئٹہ میں کیا گیا، جس میں کوئٹہ کی مختلف جامعات کے میڈیا نمائندگان و طلبہ کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور فوٹوگرافرز نے بھی شرکت کی۔ مقابلے کا مقصد تخلیقی فوٹوگرافی، بصری عکاسی اور زراعت، خوراک، ماحولیات اور معاشرتی زندگی سے متعلق مختلف موضوعات کو اجاگر کرنا تھا یونیورسٹی آف بلوچستان کی ڈی پی آر ٹیم کی قیادت پی آر او محمد صادق نے کی، جبکہ کیمرہ مین محمد عثمان اور محمد آصف نے ٹیم کا حصہ بن کر مقابلے میں شرکت کی۔ ڈی پی آر ٹیم نے اپنی بہترین تخلیقی صلاحیتوں، پیشہ ورانہ انداز اور معیاری فوٹوگرافی کے ذریعے پہلی پوزیشن حاصل کی۔
تقریب کے دوران بیوٹمز یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ نے یونیورسٹی آف بلوچستان کی فاتح ٹیم کو پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر نقد انعام اور ایوارڈ پیش کیا۔
فوٹوگرافی نمائش کا افتتاح بیوٹمز یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ نے کیا۔ انہوں نے مختلف جامعات اور پیشہ ور فوٹوگرافرز کی شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں نوجوانوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کو اپنی تخلیقی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔یونیورسٹی آف بلوچستان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی نے ڈی پی آر ٹیم کو فوٹوگرافی مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کی اور ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے ٹیم لیڈر پی آر او محمد صادق، کیمرہ مین محمد عثمان اور محمد آصف کی محنت، تخلیقی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ خدمات کو بھی سراہا۔

خبرنامہ نمبر8177/026
کوئٹہ 23 سٹمبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے پشتون کلچر ڈے کے موقع پر پوری پشتون قوم بالخصوص نوجوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی تاریخ سے روشنی، اپنی ثقافت سے شناخت، علم سے طاقت اور اپنے مستقبل سے امید حاصل کریں۔ ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں اپنی ثقافتی جڑوں سے وابستگی اور جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگی ایک دوسرے کی ضد نہ ہوں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل بنیں۔ انسانی تہذیب کا سفر دراصل انسان کی مسلسل تخلیقی، فکری اور سماجی ترقی کی داستان ہے۔ لفظ کلچر کی جڑیں لاطینی زبان کے لفظ کلتور سے وابستہ ہیں، جس کا بنیادی مفہوم زمین کی کاشت اور زرخیزی سے متعلق ہے۔ وقت کے ساتھ یہی تصور انسانی ذہن، معاشرے اور تہذیب کی تعمیر و نشوونما تک پھیل گیا۔ انسان نے اپنی بودوباش، علم، فنون، معیشت اور سماجی اداروں کو مسلسل ترقی دی اور ثقافت سے تہذیب تک کا سفر طے کیا۔ آج انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید مواصلاتی ذرائع نے دنیا کو ایک دوسرے کے مزید قریب لا کر عالمی تہذیب کے ارتقا کی رفتار کو کئی گنا تیز کر دیا ہے۔ پشتون کلچر ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ثقافت کسی بھی قوم کی شناخت، اجتماعی یاداشت اور تاریخی تسلسل کی علامت ہوتی ہے۔ پشتون کلچر ڈے ہمیں اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی روایات کی مثبت اقدار کو نئی نسلوں تک منتقل کرتے ہوئے انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرینگے۔ پشتون قوم کی تاریخ قدیم اور شاندار روایات کی امین ہے، جبکہ پشتو زبان خطے کی اہم اور بڑی زبانوں میں شمار ہوتی ہے۔ پشتون معاشرہ آج بھی اپنی دلکش روایتی پوشاک، ذائقہ دار کھانوں، روایتی رقص، عدالتی نظام جرگہ، سخاوت، انسان دوستی اور مہمان نوازی جیسی قابلِ قدر روایات کے باعث ایک منفرد ثقافتی شناخت رکھتا ہے۔ پشتون ثقافت کی خوبصورتی اس کے اجتماعی مزاج، وقار اور باہمی احترام میں بھی پنہاں ہے۔ شملہ پشتون معاشرے میں وقار اور شناخت کی علامت ہے تو شال ہماری آبادی کے ایک بڑے اور اہم حصے کی نمائندگی کرتی ہے۔ اسلیے ہماری ثقافتی ترقی اور سماجی پیشرفت بھی اسی وقت مکمل ہو سکتی ہے جب معاشرے کے مرد اور خواتین برابر احترام، مواقع اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھیں۔ شملہ اور شال، دونوں ملکر ہی ایک متوازن اور ترقی یافتہ معاشرے کی تصویر مکمل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتون کلچر ڈے محض اپنی ثقافت کو یاد کرنے کا دن نہیں بلکہ تجدیدِ عہد کا دن بھی ہے۔ ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنی زبان، ادب، تاریخ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدید علم کے میدان میں بھی آگے بڑھیں گے۔ ہماری نئی نسل اپنی شناخت پر فخر کرتے ہوئے دنیا کے جدید تقاضوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرے، یہی ہماری حقیقی کامیابی ہوگی۔

خبرنامہ نمبر8178/026
کوئٹہ 23 ستمبر: گزشتہ روز گورنر ہاؤس کوئٹہ میں پشتون کلچر ڈے کی مناسبت سے ایک سادہ مگر پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں ژوب سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنماؤں عبداللہ خان کاکڑ، ملک نصیر مندوخیل، ملک نصیر خان مندوخیل، ملک سرور خان مندوخیل، میر عطاء اللہ احمدزئی، جمعہ خان اچکزئی اور پیرزادہ سمیر خان نے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل کو پشتون ثقافتی پگڑی پہنائی۔ تقریب کے دوران گورنر بلوچستان نے پشتون کلچر ڈے کی مناسبت سے کیک کاٹا اور ملک و قوم کی ترقی، خوشحالی، امن و استحکام کیلئے خصوصی دعا کی۔ گورنر بلوچستان نے اس موقع پر پشتون ثقافت، روایات، اقدار اور تاریخی ورثے کے تحفظ اور جدید سائنس و ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

خبرنامہ نمبر8179/026
تربت: 23 ستمبر 2026: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیرِ صدارت ضلع کیچ میں جاری انسدادِ پولیو مہم کے تیسرے روز مہم کی پیش رفت اور کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ڈپٹی کمشنر آفس تربت میں ایوننگ میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیچ ڈاکٹر عبدالرؤف بلوچ، عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے ضلعی آفیسر ڈاکٹر ارسلان درازئی سمیت محکمہ صحت اور پولیو مہم سے وابستہ دیگر متعلقہ افسران و اہلکاروں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع کیچ کے مختلف یونین کونسلز میں جاری پولیو مہم کی مجموعی صورتحال، ٹیموں کی کارکردگی، بچوں کی کوریج اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر شرکاء نے اپنی اپنی یونین کونسلز کے حوالے سے پیش رفت رپورٹس پیش کیں اور مہم کے دوران حاصل ہونے والی کوریج، رہ جانے والے بچوں اور دیگر اہم امور سے اجلاس کو آگاہ کیا۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے متعلقہ حکام اور پولیو ٹیموں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ پولیو مہم کے دوران کسی بھی وجہ سے رہ جانے والے بچوں کو کیچ اَپ ڈے کے دوران ہر صورت پولیو کے قطرے پلانے کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مہم کے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے فیلڈ ٹیموں کی مؤثر نگرانی، باہمی رابطہ اور یونین کونسل کی سطح پر مؤثر حکمتِ عملی کو مزید بہتر بنایا جائے۔انہوں نے ہدایت کی کہ اگر کسی علاقے میں والدین یا کسی فرد کی جانب سے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا جائے تو اس حوالے سے فوری طور پر ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کو مطلع کیا جائے، تاکہ خصوصی ٹیم روانہ کرکے رہ جانے والے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مہم کے دوران کوئی بھی بچہ پولیو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ایک قومی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، عالمی ادارۂ صحت، پولیو ٹیموں اور والدین سمیت معاشرے کے تمام طبقات کا تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہوئے اپنے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ ضلع کیچ کو پولیو سے پاک بنانے کے قومی مقصد کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر8180/026
کوئٹہ 23ستمبر۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری نے ٹراما سینٹر اسپنی روڈ کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مرکز کے مختلف وارڈز، آپریشن تھیٹرز، آئی سی یوز اور دیگر طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔اس موقع پر مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر ارباب کامران نے کمشنر کو ٹراما سینٹر میں عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ ٹراما سینٹر میں کوئٹہ اور صوبے کے عوام کو جدید طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور مریضوں کی فوری اور مؤثر طبی امداد کے لیے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکس، ایچ آر اور دیگر ضروری عملہ 24 گھنٹے موجود رہتا ہے۔ڈاکٹر ارباب کامران نے بتایا کہ ٹراما سینٹر تقریباً 150 بیڈز پر مشتمل ہے، جبکہ خواتین مریضوں کے لیے الگ وارڈ قائم کیا گیا ہے تاکہ انہیں بہتر اور باعزت ماحول میں علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ ٹراما سینٹر میں پیپر لیس ورکنگ سسٹم رائج ہے، جس سے مریضوں کے ریکارڈ اور طبی امور کو جدید تقاضوں کے مطابق منظم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مرکز میں مریضوں کی نگہداشت کے لیے چار آئی سی یوز، متعدد وارڈز اور جدید آپریشن تھیٹرز موجود ہیں، جبکہ ایکسرے، سی ٹی اسکین اور لیبارٹری سمیت مختلف تشخیصی سہولیات بھی 24 گھنٹے دستیاب ہیں۔مینیجنگ ڈائریکٹر کے مطابق مریضوں کی سہولت کے لیے خصوصی کارڈ کا اجرا بھی کیا گیا ہے، جس کی مدد سے مریض آئندہ بھی اپنی طبی سہولیات اور ریکارڈ سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ مریض کے ساتھ ایک وقت میں صرف ایک تیماردار کی اجازت ہے، جس سے ہسپتال میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور مریضوں کو بہتر ماحول فراہم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری نے کہا کہ ٹراما سینٹر کوئٹہ صوبے کے اہم اور جدید طبی مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں شہریوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ایک قابلِ قدر اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی اور ٹراما کی صورت میں بروقت علاج انسانی جان بچانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ یہاں موجود طبی سہولیات کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جائے اور مریضوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔کمشنر ذیشان لاشاری نے ٹراما سینٹر کی انتظامیہ پر زور دیا کہ عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے، مریضوں اور ان کے لواحقین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور ہسپتال میں صفائی، نظم و ضبط اور سروس ڈیلیوری کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے ٹراما سینٹر میں موجود سہولیات کا معائنہ کرتے ہوئے کہا کہ جدید طبی آلات اور سہولیات کی موجودگی کے ساتھ ساتھ ان کا مؤثر استعمال بھی ضروری ہے تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں فائدہ پہنچ سکے۔ٹراما سینٹر اسپنی روڈ میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بریفنگ کے بعد کمشنر نے مختلف شعبوں کا دورہ بھی کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی خدمات کا جائزہ لیا۔

خبرنامہ نمبر8181/026
کوئٹہ، 23 ستمبر 2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے ضلع کوئٹہ کے علاقے شعبان میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کا خاتمہ اور 13 دہشت گردوں کو ہلاک کرنا سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مؤثر انٹیلی جنس کارروائی کا ثبوت ہے انہوں نے کہا کہ شعبان میں کلیئرنس آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد کی برآمدگی بھی اہم کامیابی ہے۔ مقامی آبادی کے تحفظ اور علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں قابلِ تحسین ہیں۔ شاہد رند نے کہا کہ ضلع کیچ اور کوئٹہ ویسٹ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کے دوران مزید 6 دہشت گردوں کا خاتمہ بھی دہشت گردی کے خلاف جاری مؤثر کارروائیوں کا تسلسل ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے امن و استحکام کے لیے مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فائرنگ کے تبادلے میں شہید ہونے والے صوبیدار محمد جمیل نے وطن کے دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، ان کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ شہداء کی قربانیاں قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں اور ان کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا۔معاون وزیر اعلیٰ نے کہا کہ غیر ملکی سرپرستی اور معاونت سے ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔ دہشت گرد عناصر بلوچستان کے امن کو نقصان پہنچانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، ریاستی ادارے قوم کے تعاون سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔

خبرنامہ نمبر8182/026
کوئٹہ، 23 ستمبر 2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع کوئٹہ کے علاقے شعبان میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ 13 دہشت گردوں کا خاتمہ اور متعدد دہشت گرد ٹھکانوں کو کلیئر کرنا سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور مؤثر انٹیلی جنس کارروائی کا نتیجہ ہے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد کی برآمدگی بھی اہم کامیابی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کے ذریعے مقامی آبادی کو درپیش خطرے کا تدارک کیا ہے انہوں نے ضلع کیچ اور کوئٹہ ویسٹ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کے دوران مزید 6 دہشت گردوں کے خاتمے کو بھی سراہا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل مؤثر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے فائرنگ کے تبادلے میں شہید ہونے والے صوبیدار محمد جمیل کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وطن کے دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء قوم کے ہیرو ہیں۔ شہداء کی قربانیاں ملک کے امن و استحکام کے لیے دی جانے والی عظیم قربانیوں کی روشن مثال ہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ غیر ملکی سرپرستی اور معاونت سے ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاستی ادارے پوری قوت کے ساتھ سرگرم عمل ہیں۔ بلوچستان کے امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور دہشت گردوں کو اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

خبرنامہ نمبر 8183/026
زیارت 23 ستمبر 2026
ڈپٹی کمشنر زیارت کی زیرِ صدارت SAP ریکارڈ میں تاریخِ پیدائش کی درستگی و تصحیح سے متعلق اہم اجلاس
زیارت: ڈپٹی کمشنر زیارت جناب عبدالقدوس اچکزئی کی زیرِ صدارت SAP (Systems, Applications and Products) ریکارڈ میں سرکاری ملازمین کی تاریخِ پیدائش کی درستگی و تصحیح کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس زیارت عبدالمالک درانی، اسسٹنٹ کمشنر زیارت حبیب الرحمن کاکڑ، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر زیارت عبدالنعیم پانیزئی، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرنقیب اللہ کاکڑ ز سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران سرکاری ملازمین کے SAP ریکارڈ میں درج تاریخِ پیدائش کی درستگی، تصحیح اور اس سلسلے میں موصول ہونے والی درخواستوں و کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ درخواست فارموں، معاون دستاویزات اور سرکاری ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے طریقہ کار پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر زیارت نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تاریخِ پیدائش میں درستگی یا تصحیح سے متعلق تمام کیسز کی مکمل اور غیر جانب دارانہ جانچ پڑتال کی جائے اور درخواست گزاروں کی جانب سے فراہم کردہ ضروری دستاویزات کی باقاعدہ تصدیق کے بعد ہی قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس کے کردار اور ذمہ داریوں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ اس امر پر زور دیا گیا کہ سرکاری ملازمین کے سروس ریکارڈ کو درست، مکمل اور شفاف رکھنے کے لیے تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام کریں۔
ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ سرکاری ریکارڈ کی درستگی، شفافیت اور بروقت تصدیق مؤثر انتظامی امور کا بنیادی تقاضا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں قانون، قواعد و ضوابط اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق احسن انداز میں انجام دیں تاکہ سرکاری ریکارڈ میں کسی قسم کی غلطی، ابہام یا تضاد باقی نہ رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری ملازمین کے ریکارڈ سے متعلق معاملات میں میرٹ، شفافیت اور دستاویزی ثبوت کو بنیادی اہمیت دی جائے اور ہر کیس کو مقررہ ضابطے کے مطابق نمٹایا جائے، تاکہ ادارہ جاتی امور میں بہتری اور سرکاری ریکارڈ کی قابلِ اعتماد حیثیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر8184/026
زیارت 23 ستمبر 2026
زیارت: ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیرِ صدارت ضلع زیارت میں جاری چار روزہ انسدادِ پولیو مہم کے تیسرے روز مانیٹرنگ افسران، زونل سپروائزرز اور یونین کونسل انچارجز کا ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس زیارت عبدالمالک درانی، اسسٹنٹ کمشنر زیارت حبیب الرحمن کاکڑ سمیت متعلقہ افسران اور تمام یونین کونسل انچارجز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع بھر میں جاری انسدادِ پولیو مہم کی مجموعی پیش رفت، فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی، بچوں کی ویکسی نیشن کوریج، مانیٹرنگ کے عمل اور مہم کے دوران درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر تمام یونین کونسل انچارجز نے اپنے اپنے علاقوں میں جاری مہم کی پیش رفت، فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی، بچوں کی کوریج اور درپیش مسائل کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر زیارت کو تفصیلی بریفنگ دی۔
ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ انسدادِ پولیو مہم کے مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جائے، فیلڈ ٹیموں کی مؤثر نگرانی کی جائے اور رہ جانے والے بچوں تک رسائی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مہم کے دوران کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر8185/026
سنجاوی23 ستمبر 2026
سنجاوی: ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر سنجاوی جناب شیر شاہ غلزئی کی زیرِ صدارت چار روزہ انسدادِ پولیو مہم کے تیسرے روز مانیٹرنگ افسران، زونل سپروائزرز اور یونین کونسل انچارجز کا ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں جاری انسدادِ پولیو مہم کی کارکردگی، فیلڈ ٹیموں کی پیش رفت، بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی صورتحال اور فیلڈ میں درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ یونین کونسل انچارجز نے اپنے متعلقہ علاقوں میں مہم کی مجموعی صورتحال اور حاصل ہونے والی پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر شہر شاہ غلزئی نے ہدایت کی کہ پانچ سال سے کم عمر کوئی بھی بچہ پولیو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہنے پائے۔ انہوں نے فیلڈ ٹیموں کو ہدایت کی کہ وہ گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کو یقینی بنائیں اور رہ جانے والے بچوں کی فوری نشاندہی کرکے انہیں حفاظتی قطرے پلائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم بچوں کے محفوظ اور صحت مند مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے تمام متعلقہ افسران اور فیلڈ ٹیمیں مکمل ذمہ داری، محنت اور جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں۔ مہم کے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے مؤثر مانیٹرنگ، باہمی رابطے اور فیلڈ میں درپیش مسائل کے فوری حل کو یقینی بنایا جائے۔
اسسٹنٹ کمشنر نے مزید کہا کہ انسدادِ پولیو مہم کی کامیابی کے لیے تمام متعلقہ اداروں، افسران اور فیلڈ ٹیموں کی مشترکہ کاوشیں ناگزیر ہیں۔ مہم کے اختتام تک پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رکھے جائیں۔

خبرنامہ نمبر 8186/026
زیارت23 ستمبر 2026
زیارت: گورنمنٹ ڈگری کالج زیارت میں پشتون کلچر ڈے کی مناسبت سے ایک خوبصورت، باوقار اور رنگا رنگ ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں پشتون ثقافت، روایات، روایتی لباس، موسیقی، زبان اور قومی و ثقافتی اقدار کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا۔تقریب میں طلبہ نے روایتی پشتون لباس زیب تن کرکے اپنی ثقافتی شناخت، روایات اور تاریخی ورثے سے محبت اور وابستگی کا شاندار اظہار کیا۔ طلبہ نے مختلف ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور پشتون معاشرے کی روایتی اقدار اور تہذیبی رنگوں کو اجاگر کیا۔
تقریب کا سب سے نمایاں اور پُرجوش حصہ روایتی اتڼ تھا، جس میں طلبہ نے بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ حصہ لیا۔ روایتی اتڼ نے تقریب کے ماحول کو خوشی، جوش اور ثقافتی رنگوں سے بھر دیا اور شرکاء نے طلبہ کی پیشکش کو سراہا۔
اس موقع پر پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج زیارت پروفیسر نقیب اللہ کاکڑ، پروفیسر عبدالحمید، پروفیسر بلوچ خان، پروفیسر کریم، پروفیسر خدائے نور، پروفیسر محمد عالم اور پروفیسر رضا سمیت دیگر اساتذہ نے شرکت کی اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کی۔اس موقع پر پرنسپل پروفیسر نقیب اللہ کاکڑ نے نے کہا کہ ثقافتی دن منانے کا مقصد نوجوان نسل کو اپنی زبان، لباس، روایات، اقدار اور تاریخی ورثے سے روشناس کرانا اور اپنی ثقافتی شناخت کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور سماجی شعور کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پشتون کلچر ڈے کی یہ تقریب نہ صرف طلبہ کے لیے اپنی ثقافتی شناخت کے اظہار کا ذریعہ بنی بلکہ اس کے ذریعے نوجوان نسل میں اپنی شاندار ثقافت، روایات اور تاریخی ورثے سے محبت کے جذبات کو بھی اجاگر کیا گیا۔ گورنمنٹ ڈگری کالج زیارت نے تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ثقافتی شعور اور مثبت روایات کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داری کو مؤثر انداز میں نبھایا۔

خبرنامہ نمبر8187/026
23 ستمبر 2026 کیو ڈی اے فٹسال گراؤنڈ، سیٹلائٹ ٹاؤن میں کھیلوں کی سرگرمیاں بحال۔مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے QDA فٹسال گراؤنڈ، سیٹلائٹ ٹاؤن کا دورہ کیا اور وہاں کھیلنے والے بچوں اور نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔خستہ حالی کا شکار فٹسال گراؤنڈ محکمہ کھیل و امور نوجوانان کی جانب سے فراہم کیے گئے بجٹ سے حال ہی میں مرمت اور بحال کیا گیا، جس کے بعد گراؤنڈ میں دوبارہ کھیلوں کی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں۔دورے کے دوران محترمہ مینا مجید بلوچ نے بچوں سے گفتگو کی، ان کے ساتھ گھل مل گئیں اور کھیلوں کے حوالے سے ان کی حوصلہ افزائی کی۔

خبرنامہ نمبر8188/026
موسیٰ خیل 23ستمبر 2026
ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے پشتون کلچر ڈے (پشتون ثقافتی دن) کے پرمسرت موقع پر تمام اہل علاقہ اور دنیا بھر کے پشتونوں کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔اپنے ایک جاری کردہ پیغام میں ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ثقافت کسی بھی قوم کی شناخت، اس کی تاریخ اور اس کی اقدار کا مظہر ہوتی ہے۔
پشتون ثقافت مہمان نوازی، بہادری، جرگہ سسٹم، بھائی چارے، اور امن و رواداری کے لازوال درس سے عبارت ہے۔ موسیٰ خیل کی دھرتی بھی اپنی روایات اور ثقافتی حسن کے حوالے سے ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنی اسلاف کی مثبت اقدار کو زندہ رکھنا چاہیے اور نوجوان نسل کو اپنی شاندار ثقافت اور روایات سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ثقافتی دن منانے کا مقصد باہمی اتحاد، محبت اور رواداری کے پیغام کو عام کرنا ہے۔
آخر میں، ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل نے دعا کی کہ یہ دن ضلع بھر اور ملک بھر میں امن، خوشحالی اور یگانگت کا پیغام لے کر آئے، اور تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس دن کو روایتی جوش و جذبے اور امن و امان کے ساتھ منائیں۔

خبر نامہ نمبر 2026/8189
کوئٹہ 23 ستمبر: ـچیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرِ صدارت اجلاس میں محکمہ پاپولیشن ویلفیئر اور کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن (MCQ) کی دو سالہ کارکردگی رپورٹس پیش کی گئیں اور مستقبل کے لیے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں محکموں میں اصلاحات، شفافیت اور ڈیجیٹائزیشن کو ترجیحی بنیادوں پر اپنانے پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں کی جانب سے گزشتہ دو سالہ کارکردگی، منصوبہ بندی، بجٹ کے خرچ اور عوامی خدمات کی فراہمی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ پیش کی گئیں۔ پاپولیشن ویلفیئر نے آبادی کی ٹریکنگ، فیملی پلاننگ اور صحت عامہ کے پروگراموں میں اپڈیٹ کردہ ڈیٹا بیس کی رپورٹ پیش کی۔ کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن نے صفائی، ضلعی انفراسٹرکچر، ضلعی روڈ نیٹ ورک، ماحولیات اور ضلعی ٹیکس و ریونیو اکٹھا کرنے میں کی گئی کوششوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ عوام کو بہتر اور بروقت سروس فراہم کرنے کے لیے ڈیجیٹل حل ناگزیر ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ دونوں محکمے فوری طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اپنائیں، ڈیٹا بیس کو مربوط کریں اور شفافیت کے لیے آن لائن مانیٹرنگ میکانزم متعارف کروایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عوامی وسائل کے مؤثر استعمال اور خدمات کی فراہمی میں تیزی لانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو اپنی کاروائیوں میں شامل کرنا ہوگا۔ اجلاس میں کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی مالی خودمختاری اور آمدنی بڑھانے کے طریقوں پر خصوصی غور کیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے QMC کو ہدایت کی کہ وہ اپنے موجودہ ریونیو ذرائع کا دوبارہ جائزہ لے، پراپرٹی ٹیکس، یوٹیلیٹی فیسز، اور مارکیٹنگ و پارکنگ کے نظام کو بہتر بنائے، اور عوامی مراعات کے ساتھ کم از کم ٹیکس چوری اور بھاری واجبات کی وصولی یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی مضبوط مالی حیثیت مقامی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ آمدنی بڑھانے کے عملی اور شفاف طریقے وضع کیے جائیں۔

خبر نامہ نمبر 8190/2026
موسیٰ خیل23 ستمبر:ـڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت جاری انسدادِ پولیو مہم کے تیسرے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے پولیو ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مجیب بگٹی، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عزت اللہ، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نادر خان، متعلقہ مانیٹرنگ افسران اور یوسی ایم اوز (UCMOs) نے شرکت کی اجلاس میں پولیو مہم کے تیسرے روز کے دوران فیلڈ میں کام کرنے والی ٹیموں کی کارکردگی، ہدف کے حصول اور درپیش چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ہماری اولین قومی اور ملی ذمہ داری ہے، جس میں کسی قسم کی سستی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے تمام فیلڈ ٹیموں، ہیلتھ ورکرز اور سیکیورٹی عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ موسیٰ خیل کے ہر بچے تک پولیو کے قطبے پہنچانے کے ہدف کو (سو فیصد) یقینی بنایا جائےانہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ پولیو ورکرز کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ ہمارے بچے اس موذی مرض سے ہمیشہ کے لیے محفوظ رہیں اجلاس کے آخر میں تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی کہ وہ فیلڈ میں مسلسل متحرک رہیں اور روزانہ کی بنیاد پر رپورٹس کو یقینی بنائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *