23rd-October-2026

خبر نامہ نمبر9217/2026
کوئٹہ، 23 اکتوبر ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گوادر میں تعمیراتی کمپنی کے خالی کیمپ پر فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانے اور کارروائی کے دوران سات دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جرات اور عزم کو سراہا ہے۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے بروقت اور موثر کارروائی کرکے دہشت گردوں کے مذموم عزائم ناکام بنائے۔ بلوچستان میں بدامنی پھیلانے اور صوبے کی تعمیر و ترقی کے عمل کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہونے دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ذریعے عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے اور ترقیاتی و معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر اپنے مقاصد میں ناکام رہیں گے۔ بلوچستان امن، استحکام اور خوشحالی کی جانب گامزن ہے اور اس سفر کو روکنے کی کسی بھی کوشش کا موثر جواب دیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے بہادر اہلکار ملک و صوبے کے امن کے لیے قابل قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیاں پوری قوم کے لیے باعث فخر ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام اور سکیورٹی فورسز متحد ہو کر امن دشمن عناصر کے عزائم ناکام بنائیں گے اور بلوچستان کی تعمیر و ترقی کا سفر جاری رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9218/2026
شمالی ڈیرہ بگٹی، 23 اکتوبر۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ کوہ سلیمان ڈویژن کی تمام ڈویژنل پوسٹوں کی منظوری دے دی گئی ہے اور ان پر افسران و عملے کی تعیناتی بہت جلد عمل میں لائی جائے گی۔ بلوچستان میں عوام کو ان کی دہلیز پر سرکاری خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہے، صوبے میں نئے صوبوں کے ساتھ چھوٹے ڈویژنز اور اضلاع بنانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ سول حکومت اور سرکاری محکموں تک عوام کی رسائی آسان بنائی جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شمالی ڈیرہ بگٹی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملک میں چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام پر بحث اب شروع ہوئی ہے، جبکہ انہوں نے بلوچستان کے مخصوص حالات اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس عمل پر دو سال قبل ہی کام شروع کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی ڈھانچے کو اس انداز میں تشکیل دینا ضروری ہے کہ ریاستی اداروں اور سول حکومت کی موجودگی عوام کے قریب ہو اور لوگوں کو سرکاری امور کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ رکھنی ہیڈ کوارٹرز کو بلوچستان کا مثالی ڈویژن بنانے اور ترقی کے میدان میں نمایاں مقام دلانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رکھنی ہیڈ کوارٹرز کو ڈویژن کا درجہ بہت پہلے مل جانا چاہیے تھا، تاہم اب ترقیاتی عمل کا آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ رکھنی میں ترقیاتی کاموں کو بدعنوانی کے مافیا اور کمیشن کی لعنت سے پاک رکھنے کے لیے سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں، جبکہ محکمہ مواصلات و تعمیرات خود ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کر رہا ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ رکھنی کو ایک ایسا مثالی ڈویژن ہیڈ کوارٹرز بنایا جائے جہاں ترقیاتی منصوبے شفاف انداز میں مکمل ہوں اور عوام کو ان کے ثمرات حاصل ہوں۔گوادر میں دہشت گردی کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے تعمیراتی کمپنی کی عمارت کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف پاک فوج، فرنٹیئر کور اور پولیس کی قربانیاں اور کارروائیاں قابل تحسین ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگست کے بعد صوبے میں دہشت گردی کے واقعات کے رجحان میں کمی آنا ایک مثبت پیش رفت ہے، جو سیکیورٹی فورسز کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کے خلاف کارروائیاں جاری رہنی چاہئیں اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ بلوچستان سے دہشت گردی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9219/2026
کوئٹہ، 23 اکتوبر۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے گوادر میں تعمیراتی کمپنی کے خالی کیمپ پر فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانے اور کارروائی کے دوران سات دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور عزم کو سراہا ہے۔ شاہد رند نے کہا کہ تعمیراتی کمپنی کے خالی کیمپ کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنانا سکیورٹی فورسز کی مستعدی اور پیشہ ورانہ مہارت کا واضح ثبوت ہے۔ موثر کارروائی کے ذریعے دہشت گردوں کے تخریبی منصوبے کو ناکام بنانے والے سکیورٹی اہلکار پوری قوم کا فخر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد بلوچستان میں بدامنی پھیلا کر صوبے کی تعمیر و ترقی کا راستہ روکنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ بلوچستان کے امن، استحکام اور خوشحالی کے خلاف سازشیں کرنے والے عناصر کو ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وزیر اعلیٰ کے معاون نے کہا کہ دہشت گردی کے ذریعے عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے اور صوبے میں ترقیاتی و معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دی جائیں گی۔ سکیورٹی فورسز کا غیر متزلزل عزم اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں دہشت گرد عناصر کے لیے واضح پیغام ہیں کہ ان کے مذموم مقاصد کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا شاہد رند نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کا قیام اور عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے قومی اتحاد، اجتماعی عزم اور سکیورٹی اداروں کی مسلسل کاوشیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور امن کے سفر کو سبوتاڑ کرنے کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور صوبے کو پرامن و خوشحال بنانے کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9220/2026
کوئٹہ 23اکتوبر۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ کوئٹہ نے شہریوں کی شکایات کے ازالے اور عوامی راستوں کو تجاوزات سے پاک کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔اسی سلسلے میں کھلی کچہری کے دوران موصول ہونے والی شہری کی شکایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی نے ائیرپورٹ کے قریب واقع ایک ہوٹل کی جانب سے فٹ پاتھ پر قائم کی گئی تجاوزات کے خلاف کارروائی کی۔ کارروائی کے دوران فٹ پاتھ کو تجاوزات سے کلیئر کروا دیا گیا، جبکہ سرکاری جگہ پر تجاوزات قائم کرنے کے معاملے پر ہوٹل مالک کو گرفتار کر لیا گیا۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق فٹ پاتھ عوام، بالخصوص پیدل چلنے والوں کے لیے مختص ہوتے ہیں، جہاں تجاوزات قائم کرنے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انہیں سڑک پر چلنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، جس سے ٹریفک کی روانی اور شہریوں کی سلامتی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ شہریوں کی جانب سے کھلی کچہریوں میں پیش کی جانے والی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے تاکہ عوام کو درپیش مسائل کا بروقت ازالہ یقینی بنایا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ سرکاری اراضی، فٹ پاتھوں اور عوامی راستوں پر غیر قانونی تجاوزات کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی۔ شہریوں کی سہولت میں رکاوٹ بننے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9221/2026
کوئٹہ23اکتوبر۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی شہر کے مختلف علاقوں میں آٹے کی قیمتوں کا جائزہ لینے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں جاری ہیں اس سلسلے میں گزشتہ روز مخلتف کارروائیوں میں 8ہول سیل ڈیلرز گرفتار اور جیل منتقل کردیا گیا تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ نے سب ڈویژن سٹی کے مختلف علاقوں میں آٹے کی قیمتوں کا جائزہ لینے کے لیے دکانوں کا دورہ کیا۔اس موقع پر انہوں نے دکانداروں کو آٹے کی فروخت سرکاری نرخنامے کے مطابق یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت وارننگ جاری کی۔اس کے علاوہ اسسٹنٹ کمشنر سریاب کی ٹیم نے ایسٹرن بائی پاس، جتک اسٹاپ اور گیلانی روڈ سریاب پر آٹے کی قیمتوں کے حوالے سے کارروائیاں کیں۔کارروائی کے دوران سرکاری نرخنامے سے زائد قیمت پر آٹا فروخت کرنے والے 8 ہول سیل ڈیلرز کو گرفتار کر لیا گیا۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق کارروائی کا مقصد سرکاری نرخنامے پر عمل درآمد یقینی بنانا، عوام کو مہنگے داموں آٹے کی فروخت سے بچانا اور مقررہ قیمتوں پر آٹے کی دستیابی یقینی بنانا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے، بصورت دیگر خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9222/2026
23 اکتوبر استا محمد۔ ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر استا محمد ماریہ شمّون نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال استا محمد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ہسپتال کی مجموعی صورتحال مختلف شعبہ جات کی فعالیت، طبی عملے کی حاضری ادویات کی دستیابی اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا اس موقع پر انہوں نے ہسپتال کے مختلف وارڈز، جنرل او پی ڈی، لیبر روم، لیبارٹری، فارمیسی، نیوٹریشن سینٹر اور ویکسینیشن کے شعبوں کا معائنہ کرتے ہوئے متعلقہ سہولیات کی فراہمی اور انتظامی امور کا مشاہدہ کیادورے کے دوران ہسپتال کی مجموعی صورتحال عمومی طور پر تسلی بخش پائی گئی، تاہم مختلف وارڈز کی حالت اور بعض شعبہ جات کی فعالیت میں خامیاں سامنے آئیں معائنے کے وقت پانچ میں سے صرف دو ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود تھے جبکہ باقی تین ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کے باعث طبی عملے کی حاضری اور مریضوں کو بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے صورتحال کا جائزہ لیا گیا اسسٹنٹ کمشنر نے اس امر پر زور دیا کہ ہسپتال میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کی بروقت حاضری کو یقینی بنایا جائے تاکہ مریضوں کو علاج معالجے کے لیے غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑےجنرل او پی ڈی فعال پائی گئی تاہم وہاں ادویات کی کمی کا مشاہدہ کیا گیا جو مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ ہے اسی طرح لیبر روم کی صورتحال بھی غیر تسلی بخش پائی گئی جبکہ مختلف وارڈز کی حالت میں بہتری کی ضرورت محسوس کی گئی اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ حکام کی توجہ ان خامیوں کی جانب مبذول کراتے ہوئے ادویات کی بروقت فراہمی، وارڈز کی حالت بہتر بنانے اور لیبر روم میں ضروری سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیادوسری جانب ہسپتال کی لیبارٹری، نیوٹریشن سینٹر، فارمیسی اور ویکسینیشن کے شعبے فعال پائے گئے جہاں متعلقہ عملہ اپنی ڈیوٹی پر موجود تھا ان شعبوں میں فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر نے ہسپتال کے تمام شعبہ جات میں خدمات کی بہتری اور انتظامی نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیااسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمّون نے واضح کیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو بروقت معیاری اور بہتر طبی سہولیات کی فراہمی متعلقہ حکام کی بنیادی ذمہ داری ہے انہوں نے ہسپتال کے انتظامی امور میں بہتری، طبی عملے کی حاضری یقینی بنانے ادویات کی دستیابی بہتر کرنے اور وارڈز سمیت لیبر روم کی حالت کو بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی میں درپیش مسائل کے حل کے لیے موثر اقدامات ناگزیر ہیں، تاکہ مریضوں اور ان کے لواحقین کو بہتر طبی ماحول میسر آ سکے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9223/2026
23 اکتوبر استا محمد۔ ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو BSDI کے تحت زیرِ تعمیر ڈیجیٹل لائبریری کا دورہ کیا جہاں انہوں نے منصوبے پر جاری تعمیراتی کام کا تفصیلی معائنہ کیا اور اس کی پیش رفت کا جائزہ لیا اس موقع پر ایکسیئن بلڈنگ یاسین چانڈیو اور ایس ڈی او بلڈنگ عاشق علی بوہڑ بھی ان کے ہمراہ تھےدورے کے دوران ڈپٹی کمشنر کو منصوبے کے مختلف تعمیراتی مراحل اور جاری کام کے حوالے سے بریفنگ دی گئی انہوں نے منصوبے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جدید دور میں تعلیم تحقیق اور معلومات تک آسان رسائی کے لیے ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے ڈیجیٹل لائبریری کا قیام طلبہ و طالبات نوجوانوں اور دیگر شہریوں کو جدید تعلیمی وسائل سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گامنصوبے کے تحت ڈیجیٹل لائبریری کے ساتھ آئی ٹی ہب IT Hub بھی قائم کیا جائے گا جہاں نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے متعلق مہارتیں سیکھنے کے مواقع میسر آئیں گے اس مرکز میں ڈیجیٹل اسکلز، فری لانسنگ اور ای کامرس سمیت دیگر جدید شعبوں میں تربیت فراہم کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے جس کے ذریعے نوجوان اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں گے اور آن لائن روزگار و کاروبار کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے قابل بن سکیں گے
ڈیجیٹل لائبریری اور آئی ٹی ہب کا قیام بالخصوص استا محمد کے نوجوانوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ ڈیجیٹل مہارتوں کا حصول انہیں جدید معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، خود روزگاری کی حوصلہ افزائی اور معاشی خودمختاری کے امکانات بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس منصوبے سے طلبہ کو تعلیمی مواد اور ڈیجیٹل معلومات تک رسائی کے بہتر مواقع بھی فراہم ہونے کی توقع ہے
ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے منصوبے کی اہمیت کے پیش نظر تعمیراتی کام کے معیار اور پیش رفت پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس اہم ترقیاتی منصوبے کو پای تکمیل تک پہنچا کر عوام بالخصوص نوجوانوں کو اس سے بھرپور فائدہ پہنچایا جا سکےیہ منصوبہ ضلع استا محمد میں تعلیمی ترقی جدید ٹیکنالوجی کے فروغ ڈیجیٹل آگاہی اور نوجوانوں کی فنی و پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو مستقبل میں نوجوان نسل کے لیے تعلیم، ہنر اور روزگار کے نئے امکانات پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9224/2026
کوئٹہ، 23 اکتوبر ۔ضلع قلعہ عبداللہ میں انسدادِ منشیات مہم 2026 کے تحت بھنگ کی کاشت کے خاتمے کے لیے مشترکہ کارروائیاں جاری ہیں۔ 22 اکتوبر کو تحصیل گلستان اور دوبندی کے مختلف علاقوں میں ضلعی انتظامیہ، اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF)، ایکسائز فورس، فرنٹیئر کور (FC)، پولیس اور انٹیلی جنس بیورو (IB) کی مشترکہ ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے مزید 241 ایکڑ اراضی سے بھنگ کی کاشت کا خاتمہ کر دیا۔کارروائی ضلعی انتظامیہ قلعہ عبداللہ کی قیادت میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر اے این ایف، کیپٹن شاویز (77 ونگ ایف سی)، ڈی ایس پی گلستان اور انٹیلی جنس بیورو کے نمائندے کی نگرانی میں انجام دی گئی۔ مشترکہ ٹیموں نے تحصیل دوبندی کے علاقے ششکہ اور کدنی نالہ، جبکہ تحصیل گلستان کے عبدالرزاق زئی اور قندیل سئیگئی کے علاقوں میں انسدادِ بھنگ کارروائیاں کیں۔حکام کے مطابق گلستان کے علاقے قندیل سئیگئی میں 241 ایکڑ اراضی سے بھنگ کی کاشت ختم کی گئی۔ اس کارروائی کے دوران 84 ایکڑ پر ڈرون ٹیکنالوجی، 22 ایکڑ پر پانی کی عدم دستیابی، 69 ایکڑ پر وہیل بیرو، 47 ایکڑ پر ٹریکٹر اور 19 ایکڑ پر ویڈ کٹرز کے ذریعے بھنگ کی کاشت کا خاتمہ کیا گیا۔کارروائی میں اے این ایف کے 16، ایکسائز فورس کے 6، پولیس کے 8 اور ضلعی انتظامیہ کے 8 اہلکاروں نے حصہ لیا، جبکہ ایف سی اور دیگر معاون اداروں کے اہلکاروں نے بھی کارروائی میں تعاون کیا۔حکام کے مطابق انسدادِ بھنگ مہم کے تحت اب تک ضلع قلعہ عبداللہ میں مجموعی طور پر 661 ایکڑ اراضی سے بھنگ کی کاشت کا خاتمہ کیا جا چکا ہے۔ مہم کا مقصد منشیات کی غیر قانونی کاشت کا مکمل خاتمہ اور علاقے کو منشیات سے پاک بنانا ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ بھنگ کی کاشت کے مکمل خاتمے تک مشترکہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9225/2026
کوئٹہ 23 اکتوبر ۔صوبائی محتسب بلوچستان سعادت اللہ خان بازئی کی زیرِ صدارت صوبائی محتسب سیکرٹریٹ کے مرکزی دفتر کوئٹہ میں ڈائریکٹرز انویسٹی گیشن، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور رجسٹرار کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف زیرِ سماعت اور زیرِ التواءشکایات و مقدمات پر ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران متعلقہ افسران نے صوبائی محتسب کو زیرِ کارروائی مقدمات، ان کی موجودہ صورتحال اور تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے جامع بریفنگ دی۔ اس موقع پر صوبائی محتسب نے افسران سے مقدمات کی موثر پیروی، شکایات کے بروقت ازالے اور دفتری امور میں مزید بہتری کے حوالے سے تجاویز اور آراءبھی طلب کیں۔صوبائی محتسب بلوچستان نے اس امر پر زور دیا کہ عوامی شکایات کو قانون اور میرٹ کے مطابق نمٹانے، شفافیت کو یقینی بنانے اور سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں مستعدی اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں۔اجلاس میں مقدمات کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور ادارے کی مجموعی کارکردگی کو مزید موثر بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9226/2026
رکھنی۔23 اکتوبر۔: ڈپٹی کمشنر بارکھان سعیدالرحمن کاکڑ کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر رکھنی فہد حسین عمرانی نے آٹے کی مختلف دکانوں کا اچانک معائنہ کیا۔ چیکنگ کے دوران ناپ تول میں کمی پائے جانے پر متعلقہ دکانداروں کو جرمانے عائد کیے گئے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر رکھنی نے دکانداروں کو ہدایت کی کہ وہ آٹے کی فروخت میں مقررہ وزن اور ناپ تول کے اصولوں پر عمل کریں اور عوام کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی نہ کریں۔انہوں نے واضح کیا کہ ناپ تول میں کمی اور عوام کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ آئندہ خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں کے خلاف مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اورضلعی انتظامیہ بارکھان عوام کو معیاری اشیائے ضروریہ کی مقررہ وزن کے مطابق فراہمی یقینی بنانے کے لیے چیکنگ کا عمل جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9227/2026
کوئٹہ۔23 اکتوبر ۔صوبائی محتسب بلوچستان سعادت اللہ خان بازئی کی زیرِ صدارت صوبائی محتسب سیکرٹریٹ کے مرکزی دفتر کوئٹہ میں ڈائریکٹرز انویسٹی گیشن، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور رجسٹرار کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف زیرِ سماعت اور زیرِ التواء شکایات و مقدمات پر ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران متعلقہ افسران نے صوبائی محتسب کو زیرِ کارروائی مقدمات، ان کی موجودہ صورتحال اور تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے جامع بریفنگ دی۔ اس موقع پر صوبائی محتسب نے افسران سے مقدمات کی موثر پیروی، شکایات کے بروقت ازالے اور دفتری امور میں مزید بہتری کے حوالے سے تجاویز اور آراءبھی طلب کیں۔صوبائی محتسب بلوچستان نے اس امر پر زور دیا کہ عوامی شکایات کو قانون اور میرٹ کے مطابق نمٹانے، شفافیت کو یقینی بنانے اور سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں مستعدی اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں۔اجلاس میں مقدمات کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور ادارے کی مجموعی کارکردگی کو مزید موثر بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9228/2026
جعفرآباد۔23 اکتوبر۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر دھیرج کالرہ کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا دورہ، مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر دھیرج کالرہ نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا معائنہ کرتے ہوئے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، علاج معالجے کے انتظامات اور دیگر امور کے حوالے سے آگاہی حاصل کی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے ہسپتال کے مختلف وارڈز کا جائزہ لیا اور وہاں زیر علاج مریضوں سے ملاقات کرکے انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ڈاکٹروں کے رویے، ادویات کی دستیابی اور علاج معالجے کے حوالے سے تفصیلات معلوم کیں۔ انہوں نے ہسپتال میں موجود طبی عملے کی کارکردگی اور مریضوں کو درپیش مسائل کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں تاکہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ اسسٹنٹ کمشنر دھیرج کالرہ نے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہونی چاہیے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرنا متعلقہ عملے کی بنیادی ذمہ داری ہے، لہٰذا ڈاکٹرز اور دیگر عملہ اپنی ڈیوٹی احسن طریقے سے سرانجام دے اور مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور ہمدردی سے پیش آئے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ مریضوں کو ضروری ادویات کی فراہمی، صفائی ستھرائی کے انتظامات اور طبی سہولیات کی دستیابی پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ عوام کو علاج کے حصول میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو صحت سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے نگرانی کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9229/2026
23 اکتوبر استا محمد۔ ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں کو چیئرمین سردار ہارون خان جمالی، ضرار خان جمالی، میجر یاسر، اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر امیر علی جمالی، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر زین العابدین، پرنسپل بوائز ڈگری کالج استا محمد پروفیسر عبیداللہ خان زہری، خزانہ افسر ساجد حسین جمالی سمیت ایریگیشن، ایجوکیشن، بی اینڈ آر، زراعت، پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کیاجلاس میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو BSDI فیز ٹو کے تحت جاری اور مکمل ہونے والی ترقیاتی اسکیمات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ فیز تھری کے تحت شروع کیے جانے والے نئے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر زراعت، پولیس، ایریگیشن، محکمہ صحت، ویٹرنری ہسپتال، ایکسائز، سوشل ویلفیئر اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی جاری سرگرمیوں اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیاجلاس میں شہر سے ناجائز تجاوزات کے خاتمے منشیات کی روک تھام ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر کیے گئے چالانوں کے ریکارڈ دینی مدارس کی رجسٹریشن امن و امان کی مجموعی صورتحال اور ہسپتالوں کی سیکیورٹی کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ شہریوں کو درپیش مسائل کے حل قانون کی عملداری یقینی بنانے اور عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے موثر اقدامات کیے جائیںاجلاس میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کے تحت استا محمد میں نکاسی آب کے منصوبوں پر خصوصی طور پر تفصیلی غور کیا گیا اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ نکاسی آب کے نالوں کی تعمیر اور کھدائی کا کام شروع کرنے سے قبل متعلقہ محکمے پینے کے صاف پانی کی پائپ لائنوں گیس پائپ لائنوں اور فائبر نیٹ ورک کی مکمل نشاندہی یقینی بنائیں تاکہ ترقیاتی کاموں کے دوران ان اہم تنصیبات کو نقصان پہنچنے سے بچایا جا سکے متعلقہ محکموں کے درمیان موثر رابطہ کاری اور باہمی تعاون کے ذریعے منصوبوں پر کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیااجلاس کے دوران آر ایچ سی گنداخہ کی تعمیر میں سست روی پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ تعمیراتی کام میں تیزی لاتے ہوئے منصوبے کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں اسی طرح سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت نصب کیے جانے والے کیمروں کے معیار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے معیار کو یقینی بنانے اور منصوبے کے تقاضوں کے مطابق اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیاڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ جن افسران کے سرکاری کوڈز تاحال جاری نہیں ہوئے وہ اس سلسلے میں ضروری کارروائی مکمل کریں جبکہ جن افسران کے کوڈز ابھی تک ضلع جعفرآباد میں موجود ہیں وہ انہیں استا محمد ضلع میں منتقل کروانے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کریں تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی اور انتظامی معاملات میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئےاجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور مربوط حکمت عملی کے تحت ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل عوامی مسائل کے حل شہری سہولیات کی بہتری اور امن و امان کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کریں انہوں نے کہا کہ یہاں پر تمام ضلعی سربراہان کا اکھٹے بیٹھنے کا بنیادی مقصد عوام کے مسائل کے تدارک کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سنجیدگی سے اقدامات کرنا ھے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9230/2026
تربت. 23 اکتوبر ۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا.جس میں ضلع کیچ کے تعلیمی اداروں کی مجموعی کارکردگی، اساتذہ اور دیگر ملازمین کی حاضری، تعلیمی نظم و ضبط، اسکولوں کی مانیٹرنگ اور محکمہ تعلیم کی جانب سے انتظامی بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن کیچ اصغر علی، آر ٹی ایس ایم کے عبدالحلیم بلوچ، تمام تحصیلوں کے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (ڈی ڈی اوز) سمیت محکمہ تعلیم کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد نے ڈپٹی کمشنر کیچ کو ضلع میں تعلیمی امور، اسکولوں کی نگرانی، ملازمین کی حاضری اور محکمانہ کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں ماہ فرائض کی انجام دہی اور متعلقہ انتظامی معاملات کے سلسلے میں 67 شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے ہیں جبکہ 16 ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی ہے انہوں نے مزید بتایا کہ سال 2026 کے دوران تقریباً 22 ملازمین کے خلاف ملازمت سے برطرفی کی کارروائی کی گئی ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ تعلیمی اداروں میں حاضری کے نظام کو موثر بنانے، سرکاری وسائل کے درست استعمال، تدریسی عمل میں بہتری اور تعلیمی سرگرمیوں کو باقاعدگی سے جاری رکھنے کے لیے مانیٹرنگ اور انتظامی اقدامات اہمیت کے حامل ہیں اس سلسلے میں متعلقہ افسران کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں اسکولوں کی باقاعدہ نگرانی کریں اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے موثر کردار ادا کریں۔اجلاس میں آر ٹی ایس ایم کے عبدالحلیم بلوچ نے اپنے ادارے کی جانب سے اسکولوں کے دوروں، مانیٹرنگ کے طریقہ کار اور تعلیمی اداروں کی کارکردگی سے متعلق مشاہدات پر بریفنگ دی۔ انہوں نے اسکولوں میں حاضری، تدریسی سرگرمیوں اور زمینی سطح پر درپیش مسائل کے حوالے سے اجلاس کو آگاہ کیا تاکہ متعلقہ امور کا جائزہ لے کر بہتری کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے اجلاس کے دوران تعلیمی شعبے کی بہتری، سرکاری اسکولوں میں تدریسی عمل کی باقاعدگی اور طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کی اہمیت پر زور دیا انہوں نے واضح کیا کہ ضلع میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے متعلقہ افسران، تحصیل سطح کے ذمہ داران اور اسکول انتظامیہ کے درمیان موثر رابطہ اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور دیگر ملازمین کی حاضری یقینی بنانے، تدریسی عمل میں رکاوٹوں کو دور کرنے، اسکولوں کی باقاعدہ مانیٹرنگ اور محکمانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی پر خصوصی توجہ دی جائے اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جائے تاکہ جہاں بھی انتظامی یا تدریسی خامیاں سامنے آئیں وہاں بروقت اصلاحی اقدامات کیے جاسکیں۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے تعلیمی شعبے سے وابستہ افسران پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں دیانت داری، سنجیدگی اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں اور طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو مقدم رکھتے ہوئے ضلع بھر میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ضلع کیچ میں تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے، حاضری کے نظام کو موثر کرنے، تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل اور محکمانہ نظم و ضبط کے لیے متعلقہ حکام کی نگرانی میں اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9231/2026
کوئٹہ 23اکتوبر۔ محکمہ ٹرانسپورٹ حکومت بلوچستان کے ایک سرکلر کے مطابق تمام گڈز ٹرانسپورٹ مالکان کو ہدایت کی ہے کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے ڈویژنز، سب ڈویژنز اور اضلاع کے قیام کے بعد اپنے روٹ پرمٹس کی تجدید اور کانٹریکٹ کی درستگی کے لیے مقررہ طریقہ کار کے مطابق ضروری کارروائی مکمل کریں۔جس کے مطابق کوئٹہ سے کراچی، سکھر، ڈیرہ غازی خان، کوئٹہ سے خضدار، قلات اور دیگر متعلقہ روٹس پر چلنے والی گڈز ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے مالکان کو اپنے روٹ پرمٹس کی تجدید اور کانٹریکٹ میں ضروری تبدیلیاں کروانا ہوں گی۔اس کے علاوہ صوبہ بلوچستان کے مکمل ایریا یا ریجنل روٹ پرمٹ کے حصول کے لیے متعلقہ گیارہ (11) ڈویژنز کی تجدید اور کانٹریکٹ کی درستگی بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔تمام گڈز ٹرانسپورٹ مالکان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ نوٹس میں دی گئی ہدایات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 اور موٹر وہیکل رولز 1969 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9232/2026
کوئٹہ 23اکتوبر۔عوامی شکایات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر صدر محمد یوسف ہاشمی ک نے ہائیڈروکاربن ٹیسٹنگ سینٹر کی ٹیم کے ہمراہ ایئرپورٹ روڈ پر واقع ہاسکول (HASCOL) پٹرول پمپ کا معائنہ کیا اور فروخت ہونے والی پیٹرولیم مصنوعات کے معیار کا جائزہ لیا۔معائنے کے دوران مقررہ طریقہ کار کے مطابق ایندھن کے نمونے حاصل کرکے تفصیلی جانچ اور تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے۔انتظامیہ کے مطابق لیبارٹری رپورٹ موصول ہونے کے بعد نتائج کی روشنی میں مزید ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے گی، تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کے معیار کو یقینی بنانے اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کیے جا سکیں۔کوئٹہ 23اکتوبر۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات زڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات اور عوامی شکایات پر اسپیشل مجسٹریٹ سریاب عزت اللہ نے لنک بادینی روڈ اور بوسہ منڈی، ایسٹرن بائی پاس پر پرائس کنٹرول آپریشن کیا۔کارروائی کے دوران 11 دکانوں کا معائنہ کیا گیا جبکہ مقررہ نرخوں سے زائد قیمتیں وصول کرنے پر 5 دکانداروں کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے، قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور گرانفروشی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9233/2026
تربت۔ 23 اکتوبر ۔ ضلع کیچ میں صحت عامہ کی سہولیات کی بہتری، سرکاری طبی اداروں کی کارکردگی، ملازمین کی حاضری و انتظامی امور، تنخواہوں کی کٹوتی اور میڈیکل اسٹورز کی نگرانی سمیت مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیچ ڈاکٹر عبدالروف بلوچ، ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر راشدہ ملک، ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر صدام بلوچ، ڈرگ انسپکٹر مکران محمد اکرم، پی پی ایچ آئی کے عبدالخالق، ڈسٹرکٹ ڈرگ انسپکٹر تربت وارث رفیق، ڈی ایچ او آفس کے ڈاکٹر لطیف بلوچ سمیت متعلقہ محکموں کے دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیچ ڈاکٹر عبدالروف بلوچ نے محکمہ صحت کی مجموعی کارکردگی، انتظامی معاملات اور ملازمین کی حاضری سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ غیر حاضری اور متعلقہ انتظامی معاملات کے تناظر میں 30 ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی ہے انہوں نے محکمہ صحت میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور سرکاری امور کی موثر انجام دہی کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات سے بھی اجلاس کو آگاہ کیا۔اس موقع پر ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر راشدہ ملک نے سول ہسپتال تربت کی کارکردگی، طبی سہولیات کی فراہمی اور ہسپتال کے انتظامی امور کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی اس دوران ہسپتال میں مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے اور انتظامی معاملات کو موثر انداز میں چلانے سے متعلق امور زیر غور آئے۔اجلاس میں ڈرگ انسپکٹر مکران محمد اکرم بلوچ نے میڈیکل اسٹورز کی انسپکشن کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ڈسٹرکٹ ڈرگ انسپکٹر تربت وارث رفیق کے ہمراہ تربت شہر کے مختلفمیڈیکل اسٹورز کا دورہ کیا معائنے کے دوران دو سے تین میڈیکل اسٹورز میں صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات پائے گئے جس پر متعلقہ اسٹور مالکان کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے۔اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ محکمہ صحت سے متعلقہ تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کریں سرکاری طبی مراکز میں نظم و ضبط اور صفائی ستھرائی کو یقینی بنایا جائے اور میڈیکل اسٹورز کی باقاعدہ نگرانی کے ذریعے عوام کو معیاری ادویات کی فراہمی اور صحت کے شعبے میں مقررہ ضوابط پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ تابش علی بلوچ نے متعلقہ افسران پر زور دیا کہ وہ محکمہ صحت کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے، انتظامی خامیوں کی نشاندہی اور ان کے ازالے، ملازمین کی حاضری یقینی بنانے اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری سنجیدگی اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9234/2026
23 اکتوبرخضدار۔قائد حزب اختلاف بلوچستان اسمبلی و ایم پی اے خضدار میر جھالاوان میر یونس عزیز زہری نے ڈی آئی جی خضدار ریجن عمران قریشی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ملاقات کے دوران ایم پی اے خضدار میر یونس عزیز زہری نے DIG خضدار عمران قریشی کو خضدار ریجن میں تعیناتی پر خوش آمدید کہا اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ خضدار میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور علاقے میں امن کے قیام سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ خضدار میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے موثر اقدامات اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری اور ڈی آئی جی خضدار عمران قریشی کے درمیان ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خضدار میں امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے، درپیش چیلنجز پر غور کرنے اور بہتری کے لیے مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنے کےلیے جلد ایک اہم اجلاس طلب کیا جائے گا۔اجلاس میں متعلقہ حکام کی مشاورت سے امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9235/2026
خضدار 23 اکتوبر ۔قائد حزب اختلاف بلوچستان اسمبلی میر جھالاوان میر یونس عزیز زہری کی وفد کے ہمراہ ایس پی خضدار محمد جان بلوچ سے ملاقات،خضدار میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال۔
خضدار۔قائد حزب اختلاف بلوچستان اسمبلی و ایم پی اے خضدار میر جھالاوان میر یونس عزیز زہری نے اپنے وفد کے ہمراہ ایس پی خضدار کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایس پی خضدار محمد جان بلوچ سے ملاقات کی،ملاقات میں ایم پی اے خضدار میر یونس عزیز زہری کے ہمراہ انجمن تاجران صدر بازار حافظ حمیداللہ مینگل، عبدالسلام مینگل اور انجینئر یونس رمضان موسیانی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر خضدار میں امن و امان کی صورتحال، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور علاقے میں امن کے قیام سے متعلق مختلف امور تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیاملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے، شہریوں کو درپیش مسائل کے حل اور شہر میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات اٹھانا چاہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی رابطے اور تعاون کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر میر جھالاوان میر یونس عزیز زہری کا کہنا تھا کہ خضدار میں امن و امان کا قیام اور عوام کو محفوظ ماحول کی فراہمی اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے، تاکہ شہری بلاخوف و خطرہ اپنی روزمرہ زندگی اور کاروباری سرگرمیوں کو بلاخوف جاری رکھ سکیں۔اس موقع پر نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق میئر خضدار میر عبدالرحیم کرد سمیت دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر9236/2025
کوئٹہ 23اکتوبر۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون, سیاحت و ثقافت نوابزادہ محمد زرین خان مگسی کی خصوصی ہدایات پر ڈائریکٹوریٹ آف کلچر بلوچستان کے زیرِ اہتمام بلوچستان یوتھ کلچرل ہارمنی فیسٹیول کے سلسلے میں 24 اکتوبر 2026 کو نوری نصیر خان کلچر کمپلیکس، اسپنی روڈ کوئٹہ میں میوزیکل نائٹ کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں معروف بلوچی لوک فنکار استاد نور بخش اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ تقریب شام 5:30 بجے سے 7:00 بجے تک جاری رہے گی۔اس میوزیکل نائٹ کے انعقاد کا مقصد بلوچستان کی ثقافت، روایتی موسیقی اور لوک فنون کو فروغ دینا، صوبے کے ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنا اور نوجوان نسل کو اپنی ثقافتی روایات سے روشناس کرانا ہے۔ اس طرح کی تقریبات نہ صرف مقامی فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں بلکہ ثقافتی ہم آہنگی، اتحاد اور باہمی محبت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ڈائریکٹوریٹ آف کلچر بلوچستان کی جانب سے اس فیسٹیول کا انعقاد صوبے کی متنوع ثقافت اور فنونِ لطیفہ کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی ایک اہم کاوش ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو اپنی ثقافتی شناخت سے وابستہ رکھنے، مقامی فنکاروں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور بلوچستان کے مثبت ثقافتی تشخص کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ تقریب میں موسیقی سے دلچسپی رکھنے والے شہریوں، نوجوانوں اور ثقافت سے وابستہ افراد کی شرکت اس ثقافتی سرگرمی کو مزید موثر اور بامقصد بنا سکتی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9237/2025
تربت . 23اکتوبر۔گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی اسکول تربت کے طالبات نے آج ریڈیو پاکستان تربت کا مطالعاتی دورہ کیا۔ طالبات کے اس تعلیمی وفد کی قیادت سینئر سائنس ٹیچر محترمہ تمنا رفیق، محترمہ امینہ ناصر، محترمہ حمیرہ جبین اور محترمہ زیبہ غفور کر رہی تھیں۔اس موقع پر اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان تربت جناب عبدالحمید شاکر نے طالبات کو خوش آمدید کہا اور ریڈیو پاکستان تربت کی تاریخ، اغراض و مقاصد اور نشریاتی خدمات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اسٹیشن ڈائریکٹر نے کہا کہ دورِ جدید میں جہاں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا دور ہے وہاں آج بھی ریڈیو کی اہمیت و افادیت مسلمہ ہے، خاص طور پر ضلع کیچ جیسے وسیع و عریض علاقے میں ریڈیو آج بھی اطلاعات، تعلیم اور تفریح کا سب سے موثر اور قابلِ رسائی ذریعہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان تربت مقامی زبان میں مختلف معلوماتی، تعلیمی، ادبی اور تفریحی پروگرام نشر کرکے علاقے کے عوام میں شعور بیدار کرنے اور مقامی ثقافت کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کے فروغ میں ریڈیو کا کردار ہمیشہ سے اہم رہا ہے اور ریڈیو پاکستان تربت اس سلسلے میں خصوصی تعلیمی پروگرامز نشر کر رہا ہے۔بعد ازاں سینئر پروڈیوسر جلیل احمد اور شعبہ نیوز سے عبدالصمد خالق نے طالبات کو ریڈیو پاکستان کے مختلف پروگراموں، پروگراموں کی تیاری کے مراحل، خبرناموں کی تیاری اور نشریات کے اصولوں سے متعلق آگاہی دی۔ انہوں نے طالبات کو بتایا کہ ایک معیاری خبر اور پروگرام کیسے تیار کی جاتی ہے اور اسے موثر انداز میں پیش کرنے کے کیا تقاضے ہیں۔اس کے بعد انجینئر نصرت بلوچ اور پی اے ٹو اسٹیشن ڈائریکٹر عبدالقدیر واحد نے طالبات کو انجینئرنگ سیکشن اور اسٹوڈیو بلاک کا دورہ کرایا۔ انہوں نے طالبات کو نشریاتی آلات، ریکارڈنگ اسٹوڈیو، کنٹرول روم اور ٹرانسمیشن سسٹم کے بارے میں معلومات فراہم کیں، دورے کے اختتام پر اساتذہ اور طالبات نے ریڈیو پاکستان تربت کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور اس دورے کو انتہائی معلوماتی اور مفید قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مطالعاتی دورے طالبات کی عملی تعلیم اور پیشہ ورانہ رہنمائی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر 2026/9238
کوئٹہ 23 اکتوبر:ـگورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل سے امریکہ سے آئے ہوئے ممتاز پاکستانی بزنس مین اور سماجی خدمتگار تنویر احمد نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ، مستحق اور باصلاحیت طلبہ کیلئے اسکالرشپس کے انتظام، سرکاری جامعات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور تعلیمی اداروں میں ریسرچ، جدت اور جدید مہارتوں کے فروغ کے حوالے سے مختلف تجاویز پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اسکے علاوہ بلوچستان کے تاجروں اور کاروباری طبقے کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے، نئی تجارتی راہیں تلاش کرنے اور بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات سے استفادہ کرنے کے امور بھی زیرِ بحث آئے۔گورنر مندوخیل نے کہا کہ تنویر احمد سینکڑوں پاکستانی طلبہ کو ہائیر ایجوکیشن کے حصول میں معاونت فراہم کرنے، دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کرنے اور بالخصوص سمندر پار پاکستانیوں میں وطن سے محبت اور قومی وابستگی کے جذبات کو تقویت دینے کیلئے قابلِ قدر کردار ادا کر رہے ہیں۔ گورنر بلوچستان نے اس امید کا اظہار کیا کہ تنویر احمد جیسی ملنسار، فعال اور سماجی خدمت کے جذبے سے سرشار شخصیات بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور وطنِ عزیز کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے اور عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔
گورنر بلوچستان نے تنویر احمد کے تعاون سے پاکستان اور بلوچستان کے نوجوانوں کا پیغام اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک تک پہنچانے کی کاوش کو بھی سراہا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں، تخلیقی فکر اور امن و ترقی کے پیغام کو عالمی سطح پر متعارف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس موقع پر امریکہ میں مقیم ممتاز پاکستانی بزنس مین سماجی خدمتگار تنویر احمد نے بلوچستان کی سرکاری یونیورسٹیوں اور مستحق طلباء کے اسکالرشپ کے حوالے سے اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دہانی کرائی۔
خبر نامہ نمبر 2026/9239
کوئٹہ 23 اکتوبر:ـصوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا ہے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی سربراہی میں محکمہ صحت بلوچستان میں اصلاحات، حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام میں بہتری اور پولیو کے خاتمے کے لیے جاری اقدامات میں ہونے والی پیش رفت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صحتِ عامہ کی بہتری، بیماریوں سے بچاؤ اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ دو سال کے دوران پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہ ہونا اور ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی عدم موجودگی ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی، مؤثر حفاظتی اقدامات اور عوامی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے پولیو کے خاتمے کے لیے پولیو ورکرز، سیکیورٹی فورسز، علمائے کرام اور صحافیوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ نامساعد حالات کے باوجود پولیو کے خلاف جاری جدوجہد پوری قوم کی اجتماعی ذمہ داری ہے جبکہ ایمرجنسی اپریشن سینٹر کی ٹیم اور اسٹیک ہولڈرز کی کارکردگی کی تعریف کی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ انسدادِ پولیو کے موقع پر کوئٹہ کے ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس میں شہید پولیو ورکرز اور سیکیورٹی اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ تقریب میں صوبائی اسمبلی کے رکن و سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، صوبائی سیکریٹری صحت مجیب الرحمن پانیزئی، ڈائریکٹر جنرل صحت ڈاکٹر امین اللہ مندوخیل، ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق، ای پی آئی کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر آفتاب کاکڑ، یونیسیف، عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)، گیٹس فاؤنڈیشن اور روٹری انٹرنیشنل کے نمائندوں سمیت مختلف اسٹیک ہولڈرز سیاسی و مذہبی رہنماؤں، صحافیوں اور پولیو ورکرز و دیگر مکتبہ فکر کے لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود حکومت کی توجہ بیماریوں سے بچاؤ، دستیاب انسانی وسائل کے مؤثر استعمال اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی پر مرکوز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ کے ٹراما سینٹر کی بہتری اور صوبے کے تمام اضلاع میں طبی مراکز کو ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے طبی سہولیات کو بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام کو علاج کے لیے دوسرے صوبوں کا رخ نہ کرنا پڑے۔سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے صوبے میں پولیو کے خلاف حاصل ہونے والی پیش رفت پر محکمہ صحت اور متعلقہ ٹیموں کو مبارکباد دی اور اسے بلوچستان کے لیے خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کو مستقل برقرار رکھنے کے لیے مسلسل پولیو مہمات، مؤثر نگرانی اور عوامی تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے فرائض کی ادائیگی کے دوران شہید ہونے والے پولیو ورکرز اور سیکیورٹی اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے والے کارکنوں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوس ناک ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ ہر مہم کے دوران اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں سیکریٹری صحت مجیب الرحمن پانیزئی نے اپنے خطاب میں پولیو کے خلاف جدوجہد میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے کارکنوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی وزیر صحت کے تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی عدم موجودگی اہم پیش رفت ہے، تاہم خطرہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اس لیے وائرس کی مسلسل نگرانی، بچوں میں غذائی قلت کے مسئلے سے نمٹنے اور حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔تقریب کے دوران پولیو مہمات میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ورکرز اور سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جبکہ بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے فرنٹ لائن پر خدمات انجام دینے والے پولیو ورکرز، علمائے کرام، صحافیوں اور قبائلی عمائدین و معتبرین کی حوصلہ افزائی کے لیے شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں تقریب سے ڈائریکٹر جنرل صحت ڈاکٹر امین اللہ مندوخیل، ای او سی بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق، ای پی آئی کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر آفتاب کاکڑ اور عالمی اداروں کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے پولیو کے خاتمے کے لیے محکمہ صحت، ای او سی، عالمی شراکت داروں، پولیو ورکرز، سیکیورٹی فورسز، علماء کرام، صحافیوں اور مقامی عمائدین کی خدمات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے تک کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان میں حاصل ہونے والی پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے والدین، مقامی برادریوں اور تمام متعلقہ اداروں کا تعاون ضروری ہے تاکہ پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/9240
سوراب23 اکتوبر: ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر ثناءاللہ خان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ایم ایس ڈاکٹر یوسف ثانی، خزانہ افسر عبدالمالک، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر محمد اسماعیل، سپرنٹنڈنٹ ڈی سی آفس فضل محمد قمبرانی، ڈرگ انسپیکٹر فہد منظور، ایم اینڈ ای پی پی ایچ آئی جئیند بلوچ، پی پی ایچ آئی نمائندہ فیصل بلوچ سمیت محکمہ صحت کے افسران نے شرکت کی اجلاس میں مراکز صحت کی کارکردگی، ڈاکٹرز و عملے کی حاضری اور ادویات کی دستیابی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اسسٹنٹ کمشنر نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ غیر حاضر عملے کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ ضلع بھر میں عطائی ڈاکٹروں اور بغیر لائسنس چلنے والے میڈیکل اسٹورز کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی انہوں نے کہا کہ صحت عامہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور عوام کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/9241
قلات23اکتوبر:ـڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے نجی تعلیمی ادارے میرٹن زون گرائمر فاؤنڈیشن سپورٹڈ سکول کوہنگ کادورہ کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نثار احمد نورزئی بھی موجود تھے۔دورے کا مقصد علاقے میں تعلیمی معیار کا جائزہ لینا اور نجی و فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام چلنے والے تعلیمی اداروں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری نے سکول کے مختلف کلاس رومز کا تفصیلی معائنہ کیا۔انہوں نے کلاسوں میں جا کر طلبہ سے تعلیمی و نصابی سوالات پوچھے، جن کے بچوں نے پراعتماد انداز میں جوابات دیے۔ڈپٹی کمشنر نے سکول کے بہترین تعلیمی ماحول، تدریسی معیار اور بچوں کی ذہنی استعداد کو سراہتے ہوئے سکول کی مجموعی کارکردگی پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔سکول آمد پر تعلیمی ادارے کی ہیڈ آپریٹر میڈم مہوش زہری نے ڈپٹی کمشنر قلات اور ایجوکیشن آفیسر کا پرجوش استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر میڈم مہوش زہری کی جانب سے ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری کو سکول کے دورے اور تعلیم دوستی کے اعتراف میں ایک اعزازی شیلڈ بھی پیش کی گئی۔
ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے سکول انتظامیہ اور اساتذہ کی مخلصانہ کوششوں کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ تعلیم کے فروغ کے لیے ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکول کو درپیش جو بھی مسائل یا مشکلات ہوں گی، انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی تاکہ علاقے کے بچے بغیر کسی رکاوٹ کے معیاری تعلیم حاصل کرتے رہیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/9242
موسیٰ خیل23اکتوبر:ـحکومتِ بلوچستان کے وژن بالخصوص ضلع موسیٰ خیل کو زرعی شعبے میں خودکفیل، سرسبز اور خوشحال بنانے کے سلسلے میں اہم پیشرفت جاری ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں محکمہ زراعت توسیع کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع شمس الحق نے کی۔ اجلاس میں زراعت اسٹاف اور ضلع کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے زمینداروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اجلاس میں ضلع موسیٰ خیل کی آب و ہوا اور زمین کو زیتون (Olive) کی کاشت کے لیے انتہائی موزوں قرار دیتے ہوئے زمینداروں کو زیتون کے باغات لگانے،جدید زرعی طریقہ ہائے کاشت، فنی معاونت اور حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع شمس الحق نے کہا کہ زیتون کی کاشت ناصرف کم پانی میں بہترین پیداوار دیتی ہے بلکہ یہ خطے کے زمینداروں کی معاشی حالت بدلنے اور بنجر زمینوں کو آباد کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک کی خصوصی ہدایت ہے کہ ضلع کے تمام زمینداروں کو ہر ممکن سہولت، معیاری پودے اور تکنیکی رہنمائی ان کی دہلیز پر فراہم کی جائے تاکہ موسیٰ خیل کو زیتون کی پیداوار کا مرکز بنایا جا سکے۔اجلاس میں موجود زمینداروں نے حکومتِ بلوچستان اور محکمہ زراعت کے اس اقدامات کو سراہتے ہوئے زیتون کی کاشت میں مکمل دلچسپی کا اظہار کیا اور محکمہ کے ساتھ تعاون کے عزم کو دہرایا۔ محکمہ زراعت کے اسٹاف نے زمینداروں کے مسائل سنے اور ان کے حل کے لیے موقع پر ہی ضروری رہنمائی فراہم کی۔
خبرنامہ نمبر2026/9243
ژوب23اکتوبر:ـصوبائی محتسب کی ہدایت پر ڈویژنل ڈائریکٹوریٹ کے زیر اہتمام کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں صوبائی محتسب کے ڈویژنل ڈائریکٹر شیخ عصمت اللہ مندوخیل مختلف محکموں کے افسران ڈی ای او شیخ موسیٰ خان مندوخیل، ایف سی کے میجر محمد ہاشم سپرنٹنڈنٹ جیل عبدالستار مندوخیل محکمہ جنگلات کے افسر سلطان محمود لعون اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی کھلی کچہری میں شہریوں نے مختلف محکموں کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے شہریوں نے ضلع کونسل میں مبینہ کرپشن اور کمیشن ڈی ایچ کیو ہسپتال میں صحت کی سہولتوں اور ادویات کی عدم دستیابی شہر میں پانی کی قلت محکمہ پی ایچ سی کے منصوبوں محکمہ خزانہ میں بھرتیوں وانا، سمبازہ اور قمرالدین کاریز شاہراہ کی عدم تعمیر جبکہ بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف شکایات کرتے ہوئے ڈویژنل ڈائریکٹر کو تحریری درخواستیں پیش کیں اس موقع پر ڈویژنل ڈائریکٹر شیخ عصمت اللہ مندوخیل نے شہریوں کی شکایات غور سے سنیں اور یقین دہانی کرائی کہ موصول ہونے والی درخواستوں پر قانون اور متعلقہ قواعد کے مطابق کارروائی اور ان کے ازالے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ صوبائی محتسب کا ادارہ عوام کو سرکاری محکموں کی بدانتظامی، اختیارات کے ناجائز استعمال، غیر ضروری تاخیر اور دیگر انتظامی بے ضابطگیوں کے خلاف شکایات کے ازالے کا مؤثر فورم فراہم کرتا ہے۔ ادارے کا مقصد شہریوں کو مفت اور فوری انصاف کی فراہمی، سرکاری محکموں کی کارکردگی میں بہتری اور عوامی مسائل کا شفاف انداز میں حل یقینی بنانا ہے۔ کھلی کچہریوں کے انعقاد سے شہریوں کو اپنی شکایات براہِ راست حکام تک پہنچانے کا موقع ملتا ہے، جبکہ متعلقہ محکموں کو مسائل کے حل کے لیے جواب دہ بنایا جا سکتا ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/9244
لورالائی23اکتوبر:ـڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت عوام کو ریونیو سے متعلق مسائل کے فوری، شفاف اور مؤثر حل کی فراہمی کے لیے ہفتہ وار ریونیو کورٹ ڈے کا انعقاد کیا گیا، جس کے دوران مختلف نوعیت کے زیرِ التوا ریونیو مقدمات کی سماعت کی گئی اور متعدد دیرینہ معاملات کو قانونی تقاضوں کے مطابق نمٹایا گیاریونیو کورٹ ڈے کے موقع پر اراضی کے ریکارڈ، انتقالات، فردات، حد بندی، تقسیمِ اراضی، ملکیتی تنازعات، وراثتی معاملات، ریونیو ریکارڈ کی درستگی اور دیگر متعلقہ امور سے متعلق مقدمات اور درخواستوں کا جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ ریونیو افسران اور اہلکاروں کو ہدایت کی کہ عوامی نوعیت کے معاملات کو قانون اور میرٹ کے مطابق ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے اور زیرِ التوا کیسز میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائےاس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے کہا کہ ریونیو ریکارڈ کی درستگی، شفافیت اور بروقت فراہمی عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی کوشش ہے کہ شہریوں کو اپنے جائز ریونیو معاملات کے حل کے لیے غیر ضروری دفتری مراحل اور بار بار دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں، بلکہ انہیں ایک مؤثر اور قابلِ رسائی فورم پر فوری ریلیف فراہم کیا جائےانہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ریونیو مقدمات میں میرٹ، قانون اور شفافیت کو ہر صورت مقدم رکھا جائے اور عوام کی جانب سے پیش کیے جانے والے مسائل پر فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اراضی ریکارڈ کی بروقت تکمیل، ریکارڈ کی حفاظت اور عوام کو درست معلومات کی فراہمی ریونیو انتظامیہ کی اہم ذمہ داری ہےواضح رہے کہ ریونیو کورٹ ڈے ہر جمعرات باقاعدگی سے منعقد کیا جاتا ہے، جس کا مقصد زیرِ التوا ریونیو مقدمات کو تیزی سے نمٹانا، عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی کے عمل کو مؤثر بنانا اور ریونیو سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے شفاف نظام کو فروغ دینا ہےضلعی انتظامیہ لورالائی کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ عوامی شکایات کا بروقت ازالہ، ریونیو نظام میں شفافیت، اراضی ریکارڈ کی درستگی اور قانون کے مطابق فیصلوں کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ شہریوں کو ریونیو امور میں زیادہ سے زیادہ سہولت اور ریلیف فراہم کیا جا سکے.
خبر نامہ نمبر 2026/9245
چمن23اکتوبر:ـ عالمی یومِ انسدادِ پولیو کے موقع پر گورنمنٹ ڈگری کالج ہال چمن میں ایک باوقار آگاہی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی، پاک فوج کے کمانڈنٹ کرنل عثمان، کالج کے پرنسپل عجیب خان مروت، قبائلی و سماجی رہنماؤں، حاجی مجاہد خان نورزئی، حافظ عزیز اللہ عزیزی، صدر انجمنِ معززین عنایت اللہ بشردوست، پولیس حکام، ضلعی انتظامیہ کے افسران، پولیو کمیونیکیشن آفیسر اشرف خان اچکزئی، ڈاکٹر نادر اچکزئی اور دیگر متعلقہ حکام و اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔تقریب کا بنیادی مقصد عوام میں پولیو کے خلاف شعور اجاگر کرنا، بچوں کو اس موذی مرض اور اس کے نتیجے میں ہونے والی عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھنے کے لیے ویکسین کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو فروغ دینا تھا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی، کرنل عثمان، کالج پرنسپل عجیب خان مروت اور دیگر مقررین نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ قومی ذمہ داری اور ہم سب کی مشترکہ ترجیح ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے والدین، قبائلی و سماجی رہنماؤں، علمائے کرام، اساتذہ، میڈیا، سول انتظامیہ، سکیورٹی اداروں اور محکمہ صحت سمیت معاشرے کے ہر فرد کو اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ پولیو سے بچاؤ کا واحد مؤثر راستہ بچوں کو ہر مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا اور ویکسین سے متعلق مستند معلومات کو عام کرنا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور پانچ سال سے کم عمر کے ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں، تاکہ کوئی بچہ اس حفاظتی سہولت سے محروم نہ رہے۔مقررین نے مزید کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے دستیاب وسائل کا مؤثر استعمال، اداروں کے درمیان مربوط حکمتِ عملی، عوامی تعاون اور فرنٹ لائن پر خدمات انجام دینے والے پولیو ورکرز کی حوصلہ افزائی ناگزیر ہے۔ پولیو ورکرز اور سکیورٹی اہلکار مشکل حالات میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرکے بچوں کے محفوظ مستقبل اور صحت مند معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں تقریب کے دوران فرنٹ لائن پر خدمات انجام دینے والے پولیو ورکرز کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور ان کی محنت، لگن اور قومی فریضے کی ادائیگی کو سراہا گیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چمن سمیت پورے ملک کو پولیو سے پاک بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی اور ہر بچے تک پولیو ویکسین کی رسائی یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔تقریب کے اختتام پر نمایاں خدمات انجام دینے والوں، صحافیوں اور دیگر شرکاء میں تعریفی اسناد تقسیم کی گئیں۔ اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنا محض ایک طبی ضرورت نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے روشن، صحت مند اور محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/9246
چمن23اکتوبر:ـڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر چمن اشوک کمار راجپوت نے ضلع بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیمی معیار کی بہتری، اساتذہ کی حاضری، نظم و ضبط اور صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے کے لیے اچانک معائنوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول چمن اور گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول محلہ شہسوار کا دورہ کرتے ہوئے تعلیمی و انتظامی امور، تدریسی عمل اور اسکولوں میں دستیاب سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔21 اکتوبر کو گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول چمن کے اچانک دورے کے دوران ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے صبح کی اسمبلی کی نگرانی کی اور طلبہ کی حاضری، نظم و ضبط اور اسکول کی مجموعی تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعدد اساتذہ غیر حاضر پائے گئے، جبکہ واش رومز کی ناقص صفائی، کمپیوٹر لیب کے غیر مؤثر استعمال اور طلبہ میں نظم و ضبط کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ڈی ای او نے اسکول انتظامیہ کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ صفائی ستھرائی، کمپیوٹر لیب کے مؤثر استعمال، اساتذہ کی بروقت حاضری، صبح کی اسمبلی کے باقاعدہ انعقاد اور طلبہ میں نظم و ضبط کی بہتری کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر حاضر اساتذہ سے قواعد و ضوابط کے مطابق وضاحت طلب کی جائے گی اور تعلیمی ذمہ داریوں میں غفلت کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔اسی طرح 22 اکتوبر کو گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول محلہ شہسوار کے دورے کے دوران ڈی ای او نے مختلف کلاس رومز، اساتذہ کے حاضری رجسٹر اور اسکول کی لاگ بک کا تفصیلی معائنہ کیا۔ صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال پر متعلقہ عملے کو فوری اصلاحی اقدامات کی ہدایت کی گئی، جبکہ غیر حاضر اساتذہ کو وضاحت طلبی کے نوٹس جاری کیے گئے۔دورے کے دوران ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے مختلف کلاس رومز میں جا کر طلبہ سے نصابی سوالات کیے اور ان کی تعلیمی استعداد، سیکھنے کی صلاحیت اور تدریسی عمل کے معیار کا جائزہ لیا۔ نمایاں تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے موقع پر نقد انعامات بھی دیے گئے۔ اس کے علاوہ استاد وزیر محمد کی بہترین تدریسی صلاحیتوں اور مؤثر طریقۂ تدریس کو سراہتے ہوئے ان کے لیے تعریفی لیٹر جاری کرنے کا اعلان کیا گیا ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر چمن اشوک کمار راجپوت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم کی فراہمی، اساتذہ کی باقاعدہ حاضری، تعلیمی نظم و ضبط، صفائی ستھرائی اور تدریسی عمل کی بہتری کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فرائض میں غفلت اور لاپروائی برتنے والے اہلکاروں کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ محنتی اساتذہ اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی بھی جاری رہے گی۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع چمن کے سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیمی ماحول کو مزید بہتر بنانے، طلبہ کو معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کرنے اور تدریسی معیار بلند کرنے کے لیے نگرانی اور اچانک معائنوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

خبر نامہ نمبر 2026/9247
قلعہ عبداللہ23اکتوبر:اسسٹنٹ کمشنر قلعہ عبداللہ سردار عبداللہ خان کی زیرِ صدارت محکمہ مال سے متعلق امور کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تحصیلدار حاجی محمد انور، قانونگو ولی خان کاکڑ، پٹواری نقیب اللہ آغا سمیت محکمہ مال کے دیگر متعلقہ اہلکاروں نے شرکت کی اجلاس کے دوران محکمہ مال سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ ریونیو معاملات میں بہتری، سرکاری امور کی مؤثر انجام دہی اور متعلقہ معاملات کو مروجہ قواعد و ضوابط کے مطابق نمٹانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سردار عبداللہ خان نے ریونیو امور کی بہتری، انتظامی معاملات میں شفافیت اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے متعلقہ اہلکاروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ محکمہ مال سے متعلق امور کو مؤثر، منظم اور قواعد و ضوابط کے مطابق آگے بڑھانے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنائی جائے گی، تاکہ عوام کو درپیش مسائل کے حل اور سرکاری امور کی بروقت انجام دہی کو یقینی بنایا جا سکے۔

خبر نامہ نمبر 9247/2026
تربت23 اکتوبر:ـجامعہ تربت کے یونیورسٹی ماڈل اسکول کے بورڈ آف ٹرسٹیز کا تیسرا اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسکول کے مالی امور، رجسٹریشن اور اس کو مزید وسعت دینے کے علاوہ عملے کی فلاح و بہبود کا جائزہ لیا گیا اور اسکول کی تیز رفتار ترقی کے لیے لائحہ عمل کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر تربت امجد شہزاد، رجسٹرار گنگزار بلوچ، ڈائریکٹر فنانس شاہ بیک سید اور اسکول کی پرنسپل مہناز بشیر نے شرکت کی، جبکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر پنجگور عابد حسین ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں پیرنٹس ٹیچر اسکول مینجمنٹ کمیٹی تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ اسکول کی مزید ترقی کے لئے والدین کی رائے کو بھی شامل کیا جاسکے۔ جامعہ تربت کے ترجمان کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے اسکول میں ہر طالب علم کی ذہنی، جسمانی اور اخلاقی نشوونما کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ بچوں کی ڈیجیٹل لٹریریسی، تخلیقی صلاحیتوں اور مؤثر ابلاغی مہارتوں کو نکھارنے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ کھیلوں اور ہم نصابی سرگرمیوں میں توازن برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔ وائس چانسلر نے کہا کہ جامعہ تربت معیاری اعلی تعلیم کے فروغ کے ساتھ ساتھ جدید تقاضوں کے مطابق معیاری ایلیمنٹری تعلیم کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعہ تربت فعال کمیونٹی خدمات کے ذریعے اپنی سماجی ذمہ داریاں ادا کرنے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ یہ اقدامات جامعہ کی تعلیمی پالیسی، طویل المدتی وژن اور اسٹریٹجک پلان 2026-30 کا اہم حصہ ہیں، جن میں مکران ریجن میں اسکول کیمپسز کے قیام کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ بورڈ کے اراکین نے اسکول کی مزید بہتری کے لیے سفارشات پیش کیں، جن کا وائس چانسلر نے خیرمقدم کیا۔

خبرنامہ نمبر 9248/2026
کوئٹہ، 23 اکتوبر :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عالمی یومِ انسدادِ پولیو کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بلوچستان میں نومبر 2024 کے بعد پولیو کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہ ہونا ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اس کامیابی کو برقرار رکھنے اور صوبے کو پولیو سے مکمل طور پر محفوظ بنانے کے لیے مسلسل نگرانی، مؤثر حکمت عملی اور ویکسینیشن مہمات کا تسلسل ناگزیر ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پولیو ایک ایسی بیماری ہے جس سے بچاؤ ممکن ہے، لیکن اس کے نتیجے میں بچوں کو عمر بھر کی معذوری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنا حکومت، والدین اور معاشرے کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پولیو کے خاتمے کے لیے حفاظتی قطرے پلانے کی ہر مہم میں والدین کا بھرپور تعاون بنیادی اہمیت رکھتا ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں پولیو کے نئے کیسز سامنے نہ آنا متعلقہ اداروں اور پولیو ورکرز کی مسلسل کوششوں کا اہم نتیجہ ہے، تاہم اس پیش رفت کو پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔ وائرس کی موجودگی کا بروقت پتا لگانے، ماحولیاتی نمونوں کی جانچ اور ہائی رسک علاقوں کی کڑی نگرانی کے ذریعے ہی بچوں کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پولیو کے خلاف کامیاب حکمت عملی کے لیے سخت نگرانی، مہمات کے معیار کو یقینی بنانا، ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں تک رسائی اور ہر سطح پر جوابدہی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ متعلقہ حکام اس بات کو یقینی بنائیں کہ پولیو ویکسینیشن مہمات کے دوران کوئی بچہ حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے اور وائرس کی کسی بھی ممکنہ موجودگی پر فوری کارروائی کی جائے۔ انہوں نے پولیو ورکرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کارکن دشوار گزار علاقوں اور مشکل حالات میں بچوں کو بیماری سے محفوظ رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی حفاظت، سہولت اور مؤثر معاونت کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے والدین پر زور دیا کہ وہ ہر پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر اپنے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں اور حفاظتی ٹیکہ جات کا معمول کا شیڈول بھی مکمل کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ علمائے کرام، قبائلی عمائدین، اساتذہ، سماجی رہنماؤں اور ذرائع ابلاغ کو بھی عوام میں آگاہی پیدا کرنے اور پولیو ویکسین کے حوالے سے اعتماد کو مزید مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ ہر بچے کو محفوظ اور صحت مند مستقبل فراہم کیا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *