23rd-June-2026

خبرنامہ نمبر5044/2026
کوئٹہ، 23 جون ۔: یورپی یونین، حکومتِ بلوچستان اور یونیسف کے اشتراک سے جاری پانچ سالہ بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ پروگرام (BES-II) کی کامیاب تکمیل کے موقع پر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کی مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی تھیں۔ بی ایس پی پروجیکٹ کی اختتامی تقریب میں سیکرٹری ایجوکیشن اسکولز لعل جان جعفر، اعلیٰ سرکاری حکام، یورپی یونین، یونیسف، محکمہ تعلیم بلوچستان اور ترقیاتی شراکت دار اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری سکولز بلوچستان لعل جان جعفر نے کہا کہ کہ یورپی یونین کی 17.4 ملین یورو کی مالی معاونت سے 2021 سے 2026 تک جاری رہنے والے پروگرام کے تحت بلوچستان بھر میں 7 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو معیاری تعلیم، بہتر تدریسی ماحول اور سیکھنے کے مواقع فراہم کیے گئے۔ اس دوران تقریباً 3 لاکھ 35 ہزار طالبات نے بھی پروگرام سے استفادہ کیا، جس سے صوبے میں لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ اور صنفی مساوات کے اہداف کو تقویت ملی۔مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم بلوچستان کی پائیدار ترقی، سماجی استحکام اور خوشحالی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے یورپی یونین اور یونیسف کی مسلسل معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام نے نہ صرف بچوں کو تعلیم تک رسائی فراہم کی بلکہ تعلیمی نظام میں پائیدار اصلاحات کی راہ بھی ہموار کی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان صوبے کے ہر بچے، بالخصوص بچیوں، کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی۔انہوں نےکہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق یورپی یونین اور یونیسف کے ساتھ ایک دہائی پر محیط شراکت داری نے بلوچستان کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے اور لاکھوں بچوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے شراکت دار اداروں کے تعاون کو سراہتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہر بچے تک معیاری تعلیم کی فراہمی کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔پروگرام کے تحت تعلیمی منصوبہ بندی، احتساب اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔ ان میں بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل اسکول مردم شماری، اسکولوں کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ سسٹم اور ورچوئل اکیڈمی کا قیام شامل ہے، جس کے ذریعے 10 ہزار 600 سے زائد اساتذہ کو تربیت فراہم کی گئی۔ اس کے علاوہ 4 ہزار سے زائد اساتذہ نے پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع حاصل کیے جبکہ 3 ہزار پیرنٹ ٹیچر اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں کو فعال بنایا گیا، جن میں 16 ہزار سے زائد کمیونٹی اراکین شریک ہوئے۔پروگرام کے نتیجے میں تعلیم تک رسائی میں نمایاں بہتری آئی۔ 20 ہزار سے زائد پرائمری سطح کے اسکول سے باہر بچوں اور 2 ہزار 200 سے زائد مڈل سطح کے بچوں کو ایکسیلریٹڈ لرننگ پروگرامز کے ذریعے دوبارہ تعلیمی دھارے میں شامل کیا گیا، جن میں اکثریت لڑکیوں کی تھی۔ مزید برآں 1,230 اسکولوں میں تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے کے اقدامات سے 1 لاکھ 50 ہزار سے زائد بچوں کو فائدہ پہنچا جبکہ 6 ہزار 100 سے زائد نوجوانوں کو مستقبل کی تعلیم اور روزگار کے لیے ضروری مہارتیں فراہم کی گئیں۔پروگرام نے ہنگامی حالات اور قدرتی آفات کے دوران بھی بچوں کی تعلیم کے تسلسل کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دوران 6 ہزار 600 سے زائد سیلاب متاثرہ بچوں کو تعلیمی معاونت فراہم کی گئی جبکہ 72 ہزار سے زائد نوعمر لڑکیوں اور 26 ہزار بچوں کو صحت، صفائی ستھرائی اور اسکریننگ کی سہولیات مہیا کی گئیں، جس سے ان کی فلاح و بہبود اور تعلیمی کارکردگی میں بہتری آئی۔یورپی یونین کے قائم مقام سربراہ برائے تعاون پاکستان ڈاکٹر سباستیان لوریوں نے کہا کہ تعلیم اور مہارتوں میں سرمایہ کاری دراصل بلوچستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یورپی یونین بلوچستان میں تعلیم کے فروغ اور تعلیمی نظام کی مضبوطی کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گی۔پاکستان میں یونیسف کی نمائندہ پرنیل آئرن سائیڈ نے کہا کہ حکومت بلوچستان، یورپی یونین اور یونیسف کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں لاکھوں بچوں کو تعلیم اور مہارتوں کے حصول کا دوسرا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام اس بات کی بہترین مثال ہے کہ موثر حکومتی قیادت، کمیونٹی کی شمولیت اور بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے بچوں کے روشن مستقبل کی مضبوط بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بلوچستان میں ہر بچے کے لیے معیاری، مساوی اور پائیدار تعلیمی مواقع کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت بلوچستان، یورپی یونین اور یونیسف کے درمیان تعاون آئندہ بھی جاری اور مزید مستحکم بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5045/2026
لورالائی23جون ۔ ٹیچنگ ہسپتال لورالائی میں نیوٹریشن انٹرنیشنل کے زیر اہتمام آگاہی سیشن، فورٹیفائیڈ تیل، آٹے اور آیوڈائزڈ نمک کی اہمیت اجاگر، لورالائی میں لیڈی ہیلتھ سپروائزرز (LHSs) اور لیڈی ہیلتھ ورکرز (LHWs) کے لیے ایک روزہ آگاہی سیشن منعقد کیا گیا۔ سیشن کا مقصد شرکاءکو خوراکی تیل و گھی کی لازمی غذائیت افزائی (Mandatory Edible Oil/Ghee Fortification)، بڑے پیمانے پر غذائیت افزائی (Large Scale Food Fortification – LSFF) اور آیوڈائزڈ نمک کے استعمال کی اہمیت سے آگاہ کرنا تھا۔زونل منیجر ڈاکٹر محمود خان نے شرکاءکو فورٹیفیکیشن پروگرام کے مختلف پہلووں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ غذائی اجزاءسے بھرپور خوردنی تیل و گھی اور فورٹیفائیڈ آٹا انسانی صحت کے لیے انتہائی مفید ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وٹامن اے، وٹامن ڈی، آئرن، زنک، فولک ایسڈ اور وٹامن بی 12 جیسے غذائی اجزاءکی فراہمی غذائی کمیوں کے خاتمے اور خصوصاً خواتین و بچوں کی بہتر صحت اور نشوونما میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے آیوڈائزڈ نمک کے باقاعدہ استعمال کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اس موقع پر محترمہ مشال پرویز خان اور پی پی ایم بلوچستان جناب سید خلیل احمد نے جینڈر اینڈ ایکویلیٹی (Gender & Equality) کے موضوع پر اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مقبول احمد کاکڑ نے آن لائن سیشن لیا۔ سیشن میں صنفی مساوات، خواتین کی بااختیاری، مساوی مواقع اور صحت کے شعبے میں مثبت اور حساس رویوں کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔شرکاءنے سیشن کے دوران فورٹیفائیڈ خوردنی تیل و گھی، فورٹیفائیڈ آٹے اور آیوڈائزڈ نمک کے استعمال کو عام کرنے اور کمیونٹی سطح پر عوام میں آگاہی بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس قسم کی تربیتی اور آگاہی سرگرمیوں کو نہایت مفید قرار دیتے ہوئے مستقبل میں بھی ان کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔پروگرام کے اختتام پر نیشنل کوآرڈینیٹر LHSs/LHWs جناب ضیاء الحق نے اپنے خطاب میں نیوٹریشن انٹرنیشنل کے فورٹیفیکیشن پروگرام کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ غذائی قلت اور مائیکرونیوٹرینٹ کی کمی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے فورٹیفیکیشن ایک موثر، پائیدار اور کم لاگت حکمت عملی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ صحت لورالائی عوامی صحت کے فروغ اور غذائی بہتری کے لیے ایسے اقدامات کی مکمل حمایت جاری رکھے گا اور متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5046/2026
ہرنائی 23جون ۔: ڈپٹی کمشنر ہرنائی کے احکامات پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) ہرنائی محمد سلیم ترین کی جانب سے ایک اہم نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس کے مطابق ضلع ہرنائی کے عوام کے مسائل، شکایات کی شنوائی اور ان کے فوری ازالے کے لیے ایک روزہ “کھلی کچہری” کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق کھلی کچہری مورخہ 27 جون 2026 (بروز ہفتہ) صبح ٹھیک 10:00 بجے گورنمنٹ ہائی اسکول سپین تنگی میں منعقد ہوگی۔ اس کچہری میں ضلع بھر کے تمام سرکاری محکموں کے ضلعی آفیسران بذاتِ خود موجود رہیں گے تاکہ عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام تک براہِ راست رسائی مل سکے۔نوٹس میں عوام الناس سے پرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس کھلی کچہری میں بھرپور شرکت کریں اور کسی بھی سرکاری محکمے سے متعلق درپیش مسائل، شکایات یا تجاویز براہِ راست ضلعی انتظامیہ اور افسران کے سامنے پیش کریں تاکہ موقع پر ہی ان کے حل کے لیے احکامات جاری کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5047/2026
لورالائی23جون ۔: ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت زراعتی انکم ٹیکس (AIT) اور دیگر اہم ریونیو امور کے حوالے سے چھٹا جائزہ اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنرز، تحصیلداروں، نائب تحصیلداروں، گرداوروں اور متعلقہ ریونیو افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران زراعتی انکم ٹیکس کی تشخیص، وصولیوں کی موجودہ صورتحال، مقررہ مالی اہداف کے حصول، انتقالات (Mutations)، فردات کے اجرا، اراضی ریکارڈ کی درستگی، سرکاری واجبات کی وصولی، تجاوزات کے خاتمے اور زیرِ التوائ ریونیو مقدمات کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مختلف تحصیلوں کے افسران نے اپنے اپنے دائرہ کار سے متعلق کارکردگی رپورٹس پیش کیں جبکہ درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ڈپٹی کمشنر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریونیو نظام کی بہتری اور سرکاری محصولات کی بروقت وصولی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ قابلِ ٹیکس زرعی اراضی کی درست اور شفاف تشخیص کو یقینی بنایا جائے تاکہ حکومتی ریونیو میں اضافہ ہو اور ٹیکس نظام پر عوامی اعتماد مزید مستحکم ہو۔ انہوں نے ریونیو افسران کو تاکید کی کہ وہ وصولیوں کے عمل میں تیزی لائیں اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے فیلڈ سطح پر اپنی سرگرمیوں کو مزید موثر بنائیں۔اجلاس میں حد بندی (Demarcation) کے مقدمات، سرکاری اراضی کے تحفظ، قبضہ مافیا کے خلاف جاری کارروائیوں، زیرِ التوائ عدالتی مقدمات کے جلد تصفیے اور بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ سرکاری اراضی پر ناجائز قبضوں کی نشاندہی اور ان کے خاتمے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے اور اس سلسلے میں باقاعدہ نگرانی کا نظام وضع کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو ریونیو خدمات کی فراہمی میں آسانی، شفافیت اور میرٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ ریونیو افسران عوامی شکایات کے بروقت ازالے، انتقالات اور دیگر معاملات کے فوری حل اور سائلین کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ اس مقصد کے لیے عوامی سہولت مراکز اور کھلی کچہریوں کے انعقاد کو مزید فعال بنایا جائے تاکہ عوام کو درپیش مسائل مقامی سطح پر حل کیے جا سکیں اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ تمام تحصیلوں میں ریونیو ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا، جبکہ فیلڈ مانیٹرنگ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے باقاعدہ کارکردگی جائزہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ ریونیو امور میں غفلت، غیر ضروری تاخیر یا بدعنوانی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے تمام ریونیو افسران کو ہدایت کی کہ وہ حکومتی پالیسیوں اور بورڈ آف ریونیو کی ہدایات کے مطابق اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے محصولات میں اضافے، اراضی ریکارڈ کی بہتری اور عوامی خدمت کے معیار کو مزید بلند کرنے کے لیے بھرپور اقدامات یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5048/2026
نصیرآباد23جون ۔سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد ڈویڑن مدثر ظفر کھوسہ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے کاشتکاروں کو ان کے جائز حصے کا پانی فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں اور گڈو بیراج سے پٹ فیڈر کینال میں مزید پانی کے حصول کو یقینی بنایا گیا ہے۔ گزشتہ روز صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی اور صوبائی سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمان بلوچ کی ہدایت پر گڈو بیراج کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کرکے بلوچستان کے حصے کا اضافی 500 کیوسک پانی حاصل کیا گیا، جس کے بعد پٹ فیڈر کینال میں 5 ہزار کیوسک پانی جاری ہے۔ انہوں نے سندھ کے علاقے آر ڈی 109 پر پٹ فیڈر کینال میں پانی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ آبپاشی بلوچستان اپنے کاشتکاروں کے حقوق کے تحفظ اور انہیں درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے اور ان کے جائز حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس موقع پر سب ڈویڑنل آفیسر حاجی ممتاز علی سومرو نے آر ڈی 109 تک پانی کی ترسیل کے عمل سے متعلق بریفنگ دی جبکہ داروغہ نبی بخش بگٹی اور علی احمد کھوسہ بھی موجود تھے۔ مدثر ظفر کھوسہ نے تمام افسران اور عملے کو ہدایت کی کہ پانی کی ترسیل کے نظام پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ نصیرآباد ڈویژن میں پینے اور زرعی مقاصد کے لیے پانی کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ڈی 109 سے بلوچستان کو اس کے حصے کا پانی فراہم کیا جاتا ہے تاہم مزید پانچ کلومیٹر تک سندھ کے اندرونی و بیرونی علاقوں کو بھی سیراب کیے جانے کے باعث پانی کی قلت کا سامنا رہتا ہے، لہٰذا تمام چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ بلوچستان کے کمانڈ ایریاز کو بھرپور انداز میں سیراب کرکے کاشتکاروں کو معاشی طور پر مستحکم بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5049/2026
خضدار23جون ۔: سب ڈویژن نال کے موضع کوڑاسک (چھڈ اور چھب) میں ہیپاٹائٹس کے بڑھتے ہوئے کیسز اور اموات سے متعلق عوامی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خضدار نے فوری کارروائی کی ہدایت جاری کردی ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر خضدار عبدالحمید لہڑی صاحب کو فوری طور پر متاثرہ علاقے میں طبی ٹیم روانہ کرنے کی ہدایت کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر عبدالحمید لہڑی نے اپنی خصوصی نگرانی میں ماہر طبی عملے پر مشتمل ٹیم کو موضع کوڑاسک کے علاقوں چھڈ اور چھب بھیجا جہاں متاثرہ افراد کے طبی معائنے، اسکریننگ اور ضروری ٹیسٹ کیے گئے۔طبی ٹیم نے علاقے میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا، بیماری کے پھیلاو کے ممکنہ اسباب کا جائزہ لیا اور ایک جامع رپورٹ مرتب کرکے محکمہ صحت بلوچستان کو ارسال کردی ہے تاکہ مزید ضروری اقدامات اور وسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے اہل علاقہ نے ہیپاٹائٹس جیسے خطرناک مرض کے حوالے سے بروقت نوٹس لینے پر ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق سا سولی اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر خضدار ڈاکٹر عبدالحمید لہڑی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی فوری توجہ سے متاثرہ خاندانوں میں امید کی نئی کرن پیدا ہوئی ہے عوام نے توقع ظاہر کی ہے کہ محکمہ صحت بلوچستان بھی اس رپورٹ کی روشنی میں مزید موثر اقدامات اٹھاتے ہوئے متاثرہ مریضوں کے علاج اور بیماری کی روک تھام کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کرے گا اہل علاقہ نے مزید کہا کہ عوامی مسائل پر فوری ردعمل اور عملی اقدامات ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی عوام دوست پالیسیوں کا مظہر ہیں، جن سے نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کو بچانے میں مدد ملے گی بلکہ علاقے میں بیماری کے پھیلاو کو روکنے میں بھی اہم کردار ادا ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5050/2026
دالبندین23جون ۔ڈپٹی کمشنر چاغی جہانزیب نور شاہوانی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر دالبندین طاہر خان سنجرانی نے محکمہ سماجی بہبود کی خالی اسامیوں کےلیے امیدواروں کے انٹرویوز لیے اس موقع پر ڈی ایس پی چاغی عابد شیرزئی بھی موجود تھے اس موقع پر امیدواروں سے ان کی قابلیت، تجربے اور کارکردگی کے بارے میں سوالات کیے گئے تاکہ بہترین اور اہل افراد کا انتخاب کیا جا سکے۔ اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ بھرتی کا عمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر مکمل کیا جائے گا تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اجلاس کے اختتام پر انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ منتخب امیدوار اپنی ذمہ داریاں ایمانداری اور لگن کے ساتھ ادا کریں گے اور عوامی خدمت کو اولین ترجیح دیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5051/2026
نصیرآباد23 جون ۔کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی سربراہی میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل اور دیگر متعلقہ افسران کی نگرانی میں پروموشن کوٹہ کے تحت نائب تحصیلدار کی آسامیوں کے لیے تحریری ٹیسٹ اور انٹرویو کا انعقاد کیا گیا واضح رہے کہ نصیرآباد ڈویژن میں پروموشن کوٹہ کے تحت نائب تحصیلدار کی دو خالی آسامیوں کے لیے ڈویژن بھر سے پانچ سینئر کلرکس نے حصہ لیا تمام امیدواروں کے ٹیسٹ اور انٹرویوز نہایت شفاف، منصفانہ اور منظم انداز میں سخت نگرانی کے تحت مکمل کیے گئے تاکہ میرٹ کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے. محکمہ ریونیو میں ترقیوں کے عمل میں میرٹ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے اور کسی بھی امیدوار کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی نہیں کی جائے گی, وہی امیدوار کامیاب قرار پائے گا جو اہلیت، قابلیت اور کارکردگی کے معیار پر پورا اترے گا. امیدواروں نے ٹیسٹ/امتحانی ماحول تسلی بخش قرار دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5052/2026
قلات 23جون ۔الیکشن کمیشن بلوچستان کی جانب سے ضلع قلات میں کونسلران کی دو نشستوں پر ضمنی انتخابات کے انعقاد کے لئے انتخابی شیڈول کا اجرائ کردیا گیا ہے صوباِءالیکشن کمشنر بلوچستان کی جانب ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کی بطورڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر آن لائن حلف برداری لی گءحلف برداری کے موقع پر ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر محمداسماعیل اسسٹنٹ الیکشن آفس صدام حسین ودیگر انتظامی افسران موجودتھے الیکشن کمیشن کے جاری کردہ شیڈول کیمطابق ضلع قلات میں کونسلران کے دو خالی نشستوں پر دوبارہ انتخابات 09اگست 2026 کو منعقد ہوں گےایم سی قلات کے وارڈ نمبر 13شیشہ ڈغار یونین کونسل نیچارہ امیری وارڈ نمبر 05 پر انتخابات ہوں گےڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر ڈی سی قلات منیر احمد درانی نے حلف برداری کےالیکشن کمیشن عملے سے گفتگو کرتےہوئے کہا کہ انتخابی امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی 01 جولائی سے 03جولائی 2026 تک جمع کراسکیں گے۔ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر منیراحمددرانی نے کہا کہ کونسلران کے خالی نشستوں پر دوبارہ شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیئے تمام ضروری انتظامات کررہے ہیں پرامن اور غیرجانبدارانہ شفاف انتخابات کا انعقاد ہماری اولین ترجیح ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5053/2026
بارکھان، 23 جون ۔اسسٹنٹ کمشنر و چیئرمین لوکل و ڈومیسائل کمیٹی بارکھان کی زیرِ صدارت اسسٹنٹ کمشنر آفس بارکھان میں کمپیوٹرائزڈ لوکل و ڈومیسائل کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کمیٹی کے تمام اراکین نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کمپیوٹرائزڈ لوکل و ڈومیسائل کے حصول کے لیے درخواست گزاران ذاتی طور پر کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے۔ کمیٹی نے امیدواروں کے قومی شناختی کارڈ، اصل دستاویزات اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا۔ مکمل جانچ پڑتال اور تصدیق کے بعد قواعد و ضوابط کے مطابق اہل امیدواروں کے کمپیوٹرائزڈ لوکل و ڈومیسائل کی منظوری دی گئی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بارکھان نے کہا کہ لوکل و ڈومیسائل کے اجراءکے عمل میں شفافیت، میرٹ اور قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صرف مستحق اور اہل افراد کو مقررہ ضابطوں کے مطابق یہ سہولت فراہم کی جائے تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ بارکھان عوام کو بہتر، معیاری اور شفاف خدمات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور تمام انتظامی امور کو قانون کے مطابق انجام دیا جا رہاہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5054/2026
لورالائی، 23 جون ۔ڈپٹی کمشنر لورالائی محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایات پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل اور اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے بیوٹمز کالج لورالائی کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) مینجمنٹ پروگرام کے تحت ضلع لورالائی کے مختلف سرکاری محکموں کے سپورٹنگ اسٹاف کے لیے مجوزہ ایک ماہ پر مشتمل تربیتی کورس کے انتظامات، تدریسی سہولیات اور تکنیکی استعداد کا جائزہ لینا تھا۔دورے کے دوران کالج انتظامیہ نے وفد کو تربیتی پروگرام کے نصاب، تدریسی طریقہ کار، جدید کمپیوٹر لیبارٹریز، تربیتی ماڈیولز اور دستیاب سہولیات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی موجودہ دور کی اہم ضرورت ہیں اور سرکاری ملازمین کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا بہتر عوامی خدمات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرے گا۔اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ سرکاری اداروں میں ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ دفتری امور میں شفافیت، رفتار اور کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ اس موقع پر ایم ایم ڈی آفیسر گل محمد بھی وفد کے ہمراہ موجود تھے۔بعد ازاں وفد نے نیوٹرانز کالج لورالائی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے لائبریری، کمپیوٹر لیب، سمارٹ کلاس رومز اور دیگر تعلیمی سہولیات کا معائنہ کیا۔ افسران نے طلبہ کو فراہم کی جانے والی جدید تعلیمی سہولیات اور ادارے کی مجموعی تعلیمی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انتظامیہ کی کاوشوں کی تعریف کی۔دورے کے اختتام پر کالج انتظامیہ کی جانب سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل کو اعزازی شیلڈ پیش کی گئی۔ اس موقع پر ضلعی انتظامیہ اور تعلیمی اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ تعلیم فراہم کرنے اور لورالائی میں ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔مزید برآں ضلعی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق مستقبل قریب میں ضلع لورالائی کے مختلف سرکاری محکموں کے افسران اور ملازمین کے لیے بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی، ای گورننس اور مصنوعی ذہانت سے متعلق خصوصی تربیتی ورکشاپس منعقد کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جس سے سرکاری امور کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی اور عوامی خدمات کی فراہمی کا معیار مزید بہتر ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5055/2026
نصیرآباد23جون ۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد نے ریٹنگ آفیسرز سے حلف لیا نصیرآباد: ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے ضلع میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں ریٹنگ آفیسر اور اسسٹنٹ ریٹنگ آفیسرز سے حلف لیا اس موقع پر اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر بھی موجود تھے جبکہ ڈپٹی کمشنر نے بطور ڈسٹرکٹ ریٹنگ آفیسر خود بھی حلف اٹھایاڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے متعلقہ افسران پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض دیانتداری، غیر جانبداری اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں تاکہ انتخابی عمل کو شفاف اور منظم بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ضلع نصیرآباد کی آٹھ یونین کونسلوں میں جنرل کونسلران کے انتخابات منعقد ہوں گے، جن کے انتظامی امور اور متعلقہ ذمہ داریاں ریٹنگ آفیسرز کے سپرد کی گئی ہیں ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انتخابی عمل کے تمام مراحل کو قانون اور ضابطوں کے مطابق مکمل کیا جائے گا تاکہ شفاف اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5056/2026
لورالائی، 23 جون ۔کمشنر لورالائی ژویژن لی محمد بڑیچ کے وژن “صاف ستھرا لورالائی” اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی محب اللہ بلوچ کی ہدایات کی روشنی میں شہر بھر میں صفائی، نکاسی آب اور شجرکاری مہم بھرپور انداز میں جاری ہے۔میونسپل کمیٹی لورالائی کا عملہ مختلف زونز اور محلوں میں صفائی ستھرائی کے کاموں میں مصروف ہے تاکہ شہریوں کو صاف، صحت مند اور خوشگوار ماحول فراہم کیا جا سکے۔ جاری مہم کے دوران عبدالخالق زون کے مرغی خانہ محلہ میں کچرے کی صفائی، عجب خان زون کے جمعہ خان محلہ اور باران زون کی خان صدیق گلی میں نالیوں کی صفائی کا کام مکمل کیا گیا۔اسی طرح سلیم داد ولی کمپلینٹ زون کے ہزارہ محلہ امام بارگاہ کے اطراف نالیوں کی صفائی، جھاڑو مہم اور سڑک کے کناروں کی بہتری کے لیے چنہ ڈالنے کے اقدامات بھی انجام دیے گئے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں درختوں کو باقاعدگی سے پانی فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ شہر کی خوبصورتی اور سرسبزی کو فروغ دیا جا سکے۔میونسپل کمیٹی کے عملے نے سوزوکیوں اور ٹریکٹر ٹرالیوں کے ذریعے کچرے کی بروقت منتقلی کو یقینی بناتے ہوئے صفائی کے نظام کو مزید موثر بنایا۔ شہریوں نے صفائی اور شجرکاری مہم کو سراہتے ہوئے متعلقہ انتظامیہ کی کاوشوں کو خوش آئند قرار دیا ہے۔انتظامیہ کے مطابق شہر کو صاف، سرسبز اور ماحول دوست بنانے کے لیے صفائی مہم تسلسل کے ساتھ جاری رہے گی اور عوامی تعاون سے لورالائی کو ایک مثالی اور خوبصورت شہر بنانے کے خواب کو عملی تعبیر دی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5057/2026
لورالائی23جون ۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل لورالائی علی نواز بلوچ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں صحت کی سہولیات کی فراہمی اور طبی اداروں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مقبول احمد، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد انور مندوخیل، ڈی ایس ایم فرحان کاکڑ، سوشل ویلفیئر آفیسر ڈاکٹر نسرین گل، خزانہ آفس کے جبار خان سمیت متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع خصوصاً دور دراز علاقوں میں عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) اور سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں و پیرامیڈیکل اسٹاف کی حاضری، ادویات کی دستیابی، موجودہ سہولیات اور ہیلتھ اسٹاف کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل علی نواز بلوچ نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ تمام بنیادی مراکز صحت اور سرکاری ہسپتال مکمل طور پر فعال رہیں اور وہاں تعینات عملہ اپنی ذمہ داریاں دیانتداری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دے۔انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور متعلقہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی اپنی جائے تعیناتی پر باقاعدہ حاضری یقینی بنائی جائے۔ اس سلسلے میں متعلقہ افسران خود بھی وقتاً فوقتاً فیلڈ وزٹس کریں اور صحت مراکز کی کارکردگی کا جائزہ لیتے رہیں۔علی نواز بلوچ نے مزید ہدایت کی کہ اگر کوئی اہلکار ڈیوٹی سے غیر حاضر پایا جائے تو اس کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اہلکاروں کی تنخواہوں میں کٹوتی کے ساتھ ساتھ قواعد و ضوابط کے مطابق تادیبی کارروائی بھی یقینی بنائی جائے تاکہ سرکاری امور میں غفلت اور لاپرواہی کا موثر سدباب کیا جا سکے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع لورالائی میں شعب صحت کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5058/2026
بارکھان/رکنی، 23 جون ۔ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوہِ سلیمان رینج محمد ایاز بلوچ اور ایس پی بارکھان عبدالحق رئیس کی خصوصی ہدایات پر رکنی پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کرتے ہوئے ایک مفرور ملزم کو گرفتار کر لیاپولیس کے مطابق ایس آئی/ایس ایچ او رکنی محمد یونس کھیتران، اے ایس آئی/تفتیشی افسر عطاءمحمد اور پولیس ٹیم نے مقدمہ فرد نمبر 08/2024، بجرم دفعات 380 اور 457 تعزیراتِ پاکستان میں مطلوب مفرور ملزم خالد حسین ولد ولی محمد، قوم بھرڑا، سکنہ محلہ ورکشاپ تنگوانی، کندھ کوٹ (صوبہ سندھ) کو کامیاب کارروائی کے دوران سکھر سے گرفتار کر لیا۔ر کنی پولیس کے مطابق چوری اور دیگر جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیا جا رہا ہے اور قانون شکن عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔پولیس حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ، امن و امان کا قیام اور جرائم کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات رکنی پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر5059/2026
کوئٹہ 23 جون:۔گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہم پاکستان اور بلوچستان کے روشن مستقبل کے حوالے سے زیادہ پرامید ہیں۔ گوادر پورٹ کی حقیقی ترقی اور فعالیت ایک خاموش معاشی انقلاب بن کر ابھرے گا۔ گوادر پورٹ ایک ایسا گیٹ وے ہے جو پاکستان کو عالمی اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کے عالمی مرکز میں بدل دیگا۔ سینٹرل ایشیا سے لیکر جنوبی ایشیا تک اور پورے مشرق وسطیٰ میں پاکستان ایک پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو پورے خطے کی معاشی منڈیوں، ثقافتوں اور صنعتوں کو آپس میں مربوط کریگا۔ ہماری یہ سیاسی و معاشی بصیرت محض انفراسٹرکچر نہیں ہے بلکہ یہ اقتصادی انضمام اور پائیدار ترقی کیلئے ایک دانشمندانہ پیشرفت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں چائنا کے قائمقام قونصل جنرل(Mr. Feng Deheng) سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پولٹیکل ڈائریکٹر (Mr. Zhang Song) اور (Mr. Wang Zhaoxiang) بھی موجود تھے۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ پاکستان اور چین کے سیاسی اور سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منا چکے ہیں۔ شراکت داری کی یہ طویل تاریخ دونوں ممالک پاکستان اور چائنا کی پائیدار دوستی اور طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے جو کئی دہائیوں کی ترقی، مختلف چیلنجز اور باہمی اعتماد میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ اب ہماری بھرپور توجہ صوبہ کے روشن مستقبل پر بھی مرکوز ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ چائنا آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور جدید ٹیکنالوجی میں بہت وسیع علم و تجربہ رکھتا ہے۔ چین کے یہی ایکسیلینس اور مہارت بلوچستان میں ایک نسل کی تشکیل میں مدد اور فکری رہنمائی کر سکتی ہے۔ چین ہماری پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے ذریعے، ہم طلبائ کیلئے عالمی معیار کی تعلیم کو محفوظ بنا سکتا ہے اور انہیں جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق جدید مہارتوں سے آراستہ کر سکتا ہے۔ اسطرح اسکالرشپ اور نئے تعلیمی مواقع کے حوالے سے چائنا ہمارے نوجوانوں کو کامیابی و کامرانی کی نئی بلندیوں تک پہنچا سکتا ہے۔ ملاقات کے دوران چائنا کے قائمقام قونصل جنرل(Mr. Feng Deheng) نے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی سفارتی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تقریباً نصف صدی کے بعد امریکہ اور ایران دونوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب حاصل کی۔ اس سفارتی کارنامے نے نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کا قد بلند ہوا بلکہ سفارتکاری کی تاریخ میں ایک نیا باب بھی رقم کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بلوچستان میں سرمایہ کاری کرنے کے خواہاں ہیں۔ چائنا اس بات میں دلچسپی لیتا ہے کہ پورا بلوچستان گوادر سے لیکر ڑوب تک کا انفراسٹرکچر مضبوط ہو، معاشی سرگرمیوں میں اضافے کے قابل ہو اور بلوچستان کے لوگوں کے معیار زندگی میں پائیدار ترقی ہو۔ جس پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے چینی حکومت اور چینی عوام دونوں شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماوں نے پاکستان اور چائنا کے درمیان عوامی سطح پر روابط بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5060/2026
کوئٹہ 23 جون ۔سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بلوچستان بابر خان کی زیرِ صدارت ترقیاتی منصوبوں فنڈز کی فراہمی اور نئے منصوبوں کے ٹینڈرنگ عمل کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبے کے تمام چھ زونز کے چیف انجینئرز متعلقہ افسران چیف انجینئر فیڈرل پراجیکٹس اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی اجلاس کے دوران جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت فنڈز کی دستیابی اور آئندہ مالی ضروریات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی شرکائکو مختلف منصوبوں کی موجودہ صورتحال فنڈز کے اجرائ اور درپیش چیلنجز سے بھی آگاہ کیا گیاسیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ کے خصوصی ہدایات ہیں کہ نئے ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرنگ عمل کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ منصوبوں پر عملی کام جلد از جلد شروع کیا جا سکے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی اسکیموں میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کرتے ہوئے شفافیت معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں پر تیز رفتاری سے کام کیا جائے گا جبکہ فنڈز کے موثر استعمال اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ترجیح دی جائے گی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی مسلسل نگرانی اور بین الادارہ جاتی رابطے کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ ترقیاتی اہداف بروقت حاصل کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5061/2026
کوئٹہ 23 جون ۔سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کی زیر صدارت صوبے بھر میں پھل و سبزی منڈیوں غلہ منڈیوں بس ٹرمینلز اور مویشی منڈیوں کی فعالیت اور ان میں سہولیات کی فراہمی سے متعلق جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں تمام چھ زونز کے چیف انجینئرز افسران کنسلٹنٹس اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی اس موقع پر متعلقہ حکام کی جانب سے مختلف منصوبوں پر جاری پیش رفت درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ بلوچستان کی معیشت میں زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہےلہٰذا ان شعبوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مارکیٹ انفراسٹرکچر کی ترقی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد کسانوں تاجروں اور کاروباری طبقے کو جدید اور بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ زرعی پیداوار اور مویشیوں کی تجارت کو مزید فروغ دیا جا سکے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے کہا کہ جاری منصوبوں کے تحت پھل و سبزی منڈیوں میں صفائی ستھرائی نکاسی آب کے موثر نظام کولڈ اسٹوریج پارکنگ ایریاز اور ٹرانسپورٹ کی جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جس سے نہ صرف زرعی اجناس کے معیار کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ کسانوں اور تاجروں کو بھی بہتر کاروباری ماحول میسر آئے گا سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے مزید تیزی سے کام کیا جائے انہوں نے واضح کیا کہ جہاں کہیں بھی تکنیکی یا انتظامی مسائل درپیش ہیں انہیں فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر نا ہو سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے منصوبوں کی پیش رفت اور معیار کا موثر جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی ٹیکنیکل ٹیم تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی انہوں نے کہا کہ یہ ٹیم صوبے بھر میں جاری منصوبوں کا معائنہ کرکے ان کی موجودہ صورتحال معیار اور پیش رفت کے حوالے سے جامع رپورٹ تیار کرے گی جو سیکریٹری آفس میں پیش کی جائے گی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل کرنے اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5062/2026
حب، 23 جون: ڈپٹی کمشنر حب کیپٹن (ر) جمع داد خان مندوخیل کی زیر صدارت محرم الحرام کے انتظامات کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر آفس حب میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایس پی حب مرزا حسین، اسسٹنٹ کمشنر حب مہیم خان گچکی، تحصیلدار حب محبوب چنال، ایف سی، کے الیکٹرک، انجمن تاجران، مختلف مکاتب فکر کے علمائ کرام، سماجی رہنماوں اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں محرم الحرام کے دوران امن و امان، سیکیورٹی، طبی سہولیات، صفائی ستھرائی، بجلی، پانی کی فراہمی اور دیگر شہری سہولیات کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر حب نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تمام انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں تاکہ عزاداروں اور شہریوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر حب کیپٹن (ر) جمع داد خان مندوخیل نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن، مذہبی رواداری اور بین المسالک ہم آہنگی کا فروغ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے علماءکرام، عمائدین اور منتظمین پر زور دیا کہ وہ بھائی چارے، برداشت اور اتحاد کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام جلوس اور مجالس منظور شدہ روٹس اور شیڈول کے مطابق منعقد ہوں گی جبکہ 10 محرم الحرام کو منعقد ہونے والے سنی کونسل کے جلسے کے لیے خصوصی اور فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے۔ جلسہ گاہ پر صفائی، روشنی، طبی سہولیات اور دیگر ضروری انتظامات بھی یقینی بنائے جائیں گے۔ڈپٹی کمشنر حب نے واضح کیا کہ کسی بھی مسلک یا فرقے کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، اشتعال انگیز مواد یا بیانات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اجلاس کے شرکاءنے ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے محرم الحرام کے دوران امن و امان، مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی فضا برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ محرم الحرام کے تمام پروگرام باہمی تعاون، نظم و ضبط اور مذہبی ہم آہنگی کے ساتھ پرامن انداز میں منعقد کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5063/2026
خضدار23جون ۔ خضدار: 50 سالہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بولان مائننگ انٹر پرائزز کو دور اندیش منیجمنٹ، عوام دوست انتظامیہ اور ہمدرد افسران نے خوشحالی و فلاح و بہبود کا مرکز بنا دیا ہے۔ جہاں سے ہمیشہ عوام الناس کے مسائل حل ہوتے رہے ہیں۔ پینے کے صاف پانی کی اسکیمات، تعلیم و صحت کی سہولیات، اسکالرشپس اور میڈیکل کیئر کی فراہمی بی ایم ای کی شناخت رہی ہے۔ بی ایم ای کی جانب سے خدمت کا یہ تسلسل آج بھی جاری ہے اور اس وقت پی پی ایل کے ہیڈ ذیشان اصغر کی قیادت میں ادارہ فلاحی کاموں کو مزید وسعت دے رہا ہے۔اسی بھرپور روایت کے تسلسل میں بروز اتوار بی ایم ای کا 50 سالہ گولڈن جوبلی و لانگ سروس ایوارڈز کا پروگرام شاندار انداز میں منعقد ہوا۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ اسٹیج کے فرائض ڈاکٹر سیف زہری اور امداد مردوئی نے پیشہ ورانہ مہارت سے انجام دیے۔تقریب میں یونین کے صدر عبدالغنی صاحب نے پرجوش خطاب کرتے ہوئے ادارے کے ملازمین کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ بی ایم ای کے منیجر محمد ندیم صاحب نے 50 سالہ سفر، اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ سینئر آفیسر عبدالباقی بھی ایونٹ میں شریک رہے۔ اس موقع پر مہمانِ خصوصی کے طور پر معروف سماجی شخصیت جناب میر شفیق صاحب بھی شریک ہوئے۔اس یادگار تقریب میں ادارے کے افسران، ملازمین اور معزز مہمانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ گولڈن جوبلی کے موقع پر لانگ سروس ایوارڈز تقسیم کیے گئے۔ ان ایوارڈز کے ذریعے ان ملازمین کی دہائیوں پر محیط خدمات کو سراہا گیا جنہوں نے بی ایم ای کی ترقی اور عوامی فلاح میں کلیدی کردار ادا کیا۔ بی ایم ای کے 50 سال مکمل ہونے پر تمام ملازمین، افسران اور انتظامیہ کو دلی مبارکباد پیش کی گئی۔ شرکائ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ادارہ ان شائ اللہ آئندہ بھی اسی جذبے سے عوامی خدمت اور ترقی کی منازل طے کرتا رہے گا۔گولڈن جوبلی کی تقریبات کے ساتھ اسپورٹس ایونٹ بھی منعقد کیا گیا۔ اس میں کرکٹ، فٹبال، شوٹ پٹ، رسی کشی اور دوڑ کے دلچسپ مقابلے ہوئے۔ نوجوانوں کے ساتھ سینیئر ملازمین اور افسران نے بھی بھرپور جوش و خروش سے حصہ لیا۔ کھیلوں کے میدان نے تمام شعبوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے ٹیم ورک، اتحاد اور بھائی چارے کے جذبے کو نئی تقویت دی۔ شرکاء نے متفقہ طور پر اس کامیاب ایونٹ کو بی ایم ای کی تاریخ کا ایک یادگار باب قرار دیا۔یہ دن صرف جشن نہیں تھا، بلکہ بی ایم ای کی گزشتہ 50 سالہ خدمات کا اعتراف اور آئندہ 50 سال کے لیے عزمِ نو کا اعلان بھی تھا۔
﴾﴿﴾﴾﴿﴾﴿-
خبرنامہ نمبر5064/2026
لورالائی 23جون ۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی زیر صدارت ضلع دکی میں بلوچستان سوشیو اکنامک ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایکسین پبلک ہیلتھ انجینئرنگ محمد اقبال، ایکسین بی اینڈ آر روڈز شوکت احمد، ایکسین بی اینڈ آر بلڈنگز اسد خان، ایکسین ایریگیشن محمد ہاشم، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ مظفر شاہ، اے سی ایریگیشن اسد کاکڑ، واٹر مینجمنٹ کے نمائندہ محمد انور بارکزئی سمیت متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران متعلقہ افسران نے اپنے اپنے محکموں کے تحت جاری BSDI اور PSDP منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے منصوبوں کی موجودہ صورتحال، فنڈز کے استعمال، درپیش مسائل اور تکمیل کے مراحل سے متعلق آگاہ کیا۔اس موقع پر کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز عوام کی امانت ہیں، لہٰذا ان کا شفاف اور درست استعمال یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام جاری منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ عوام جلد از جلد ان کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ناقص تعمیراتی میٹریل کے استعمال یا غیر معیاری کام میں ملوث ٹھیکیداروں اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔کمشنر نے مزید کہا کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور موثر نگرانی کے ذریعے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں شفافیت، معیار اور رفتار کو اولین ترجیح دی جائے۔ اجلاس میں ضلع دکی میں پینے کے صاف پانی، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، آبپاشی نظام کی بہتری اور سرکاری عمارتوں کی تعمیر سے متعلق جاری منصوبوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی مسلسل مانیٹرنگ کی جائے اور ہر منصوبے کی پیش رفت رپورٹ باقاعدگی سے ڈویڑنل انتظامیہ کو ارسال کی جائے تاکہ عوامی وسائل کے موثر استعمال اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5065/2026
موسیٰ خیل23 جون ۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ فاریسٹ فائر مینجمنٹ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایس پی پولیس کلیم اللہ کاکڑ، ڈویڑنل فاریسٹ آفیسر خلیل بزدار اور کمیٹی کے دیگر اراکین نے شرکت کی اجلاس کا بنیادی مقصد جنگلات میں لگنے والی آگ کی روک تھام، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی کی تیاری اور محکموں کے مابین باہمی رابطوں کو مزید مستحکم بنانا تھا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگلات ہمارا قومی اثاثہ ہیں اور ان کا تحفظ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آگ لگنے کے خطرے والے علاقوں میں پیشگی اقدامات کیے جائیں، عملے کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے اور آگ بجھانے والے آلات کی فراہمی اور فعالیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائےاجلاس میں کمیٹی ارکان نے تجاویز پیش کیں جن پر اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور محکمہ جنگلات کے درمیان مربوط رابطہ کاری کے ذریعے فوری ریسکیو آپریشن شروع کیا جائے گا ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ جنگلات کو آگ سے محفوظ رکھنے کے لیے عوامی آگاہی مہم بھی چلائی جائے گی تاکہ مقامی آبادی کو اس ضمن میں متحرک کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5066/2026
جعفرآباد23جون ۔ضلع جعفرآباد میں محکمہ ریونیو کے فوت شدہ ملازمین کے لواحقین کوٹے پر بھرتی کے عمل کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں کمیٹی کے دیگر ممبران نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بھرتی کے عمل کے تحت فوت شدہ ملازمین کے تین ورثاءکمیٹی کے روبرو پیش ہوئے اور اپنے کیسز پیش کیے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا کہ اجلاس کا مقصد محکمہ ریونیو کے فوت شدہ ملازمین کے لواحقین کو ان کا جائز حق دلانے کے لیے شفاف طریقہ کار کے تحت کارروائی مکمل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی تمام سفارشات مرتب کرکے حکام بالا کو ارسال کی جائیں گی، جن کی منظوری کے بعد لواحقین کو ان کا حق فراہم کیا جا سکے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5067/2026
موسیٰ خیل23 جون ۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں متعلقہ محکموں کے ضلعی افسران اور کمیٹی کے ممبران نے شرکت کی اجلاس کا مرکزی ایجنڈا حکومتِ بلوچستان اور بورڈ آف ریونیو کی ہدایات کی روشنی میں ختم ہونے والے محکمے “زکوٰة و اوقاف” کے اثاثوں اور انسانی وسائل (HR) کی باقاعدہ منتقلی کو حتمی شکل دینا تھا اجلاس کے دوران درج ذیل امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا کرائے پر لی گئی عمارتوں کی نشاندہی کی گئی تاکہ انہیں فوری طور پر خالی کروا کر اضافی مالی بوجھ کو ختم کیا جا سکے دفتری ریکارڈ، مشینری، اور دیگر اثاثوں کی جانچ پڑتال کی گئی تاکہ ان کی محفوظ منتقلی اور درست استعمال کو یقینی بنایا جا سکےزکوٰة و اوقاف کے زیرِ اہتمام جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا معائنہ کیا گیا اور ان کے مستقبل کے حوالے سے تجاویز کو حتمی شکل دی گئی۔متعلقہ عملے کی موجودگی کی تصدیق کی گئی تاکہ قوانین اور پالیسی کے مطابق ان کی ایڈجسٹمنٹ یا جذب کرنے کے عمل کو شفاف بنایا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان خجک نے اجلاس کے شرکاء کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ متعلقہ ریکارڈ اور انٹری رجسٹرز کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری سے نبھائیں تاکہ بورڈ آف ریونیو کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر5068/2026
کوئٹہ، 23 جون ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اعلیٰ تعلیم کے فروغ، جامعات کی استعداد کار میں بہتری اور طلبہ کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اور موثر اقدامات پر یقین رکھتی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف مکران پنجگور کے شعبہ کمپیوٹر سائنسز کو درپیش مسائل کے حل اور تدریسی معیار کی بہتری سے متعلق منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں شعبہ کمپیوٹر سائنسز کے فوری اور مستقل حل کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات زاہد سلیم، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن محمد صالح بلوچ شریک ہوئے، جبکہ یونیورسٹی آف مکران پنجگور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سعادت بلوچ نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یونیورسٹی آف مکران پنجگور کے شعبہ کمپیوٹر سائنسز میں فوری طور پر پی ایچ ڈی سطح کے چیئرمین اور دو متعلقہ لیکچررز کی تعیناتی کے لیے سمری بلا تاخیر ارسال کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ شعبے میں مستقل اور باقاعدہ تدریسی اسٹاف کی تعیناتی کو بھی جلد از جلد یقینی بنایا جائے گا تاکہ تدریسی عمل کو موثر اور معیاری بنایا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اجلاس کے دوران ہدایت کی کہ جامعات میں تعلیمی معیار کی بہتری اور خاص طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر سائنس جیسے اہم شعبوں کو مضبوط بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات فوری طور پر مکمل کیے جائیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو جدید علوم سے آراستہ کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے حصول میں کسی قسم کی تاخیر یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ حکومت تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل کے مستقل حل کے لیے عملی اور دیرپا اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5069/2026
کوئٹہ 23جون ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے منگل کے روز یہاں صوبائی وزرائ ، پارلیمانی سیکرٹریز، اراکین صوبائی اسمبلی، حکومتی عہدیداران اور مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی جس میں صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں کی رفتار، عوامی مسائل کے حل اور گڈ گورننس کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات کرنے والوں میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، صوبائی وزیر انڈسٹریز سردار کوہیار خان ڈومکی، صوبائی وزیر مواصلات میر سلیم خان کھوسہ، صوبائی وزیر خوراک حاجی نور محمد دمڑ، مشیر برائے محنت و افرادی قوت سردار غلام رسول عمرانی، صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو، پارلیمانی سیکرٹری میر عبدالمجید بادینی، اراکین صوبائی اسمبلی انجینئر زمرک خان اچکزئی، ڈاکٹر محمد نواز کبزئی مولوی نوراللہ، بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین بلاول خان کاکڑ، وزیر اعظم یوتھ پروگرام بلوچستان کے فوکل پرسن نعیم کریم، پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری ربانی خان کاکڑ، سابق صوبائی وزیر میر نصیب اللہ مری، چئیرمین ضلع کونسل ڈیرہ بگٹی وڈیرہ غلام نبی شمبھانی اور سماجی رہنما ڈاکٹر حیات خان غلزئی شامل تھے وزیر اعلیٰ سے سی ایس ایس کے حالیہ امتحان میں ٹاپ ٹین میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والی بلوچستان کی ہونہار طالبہ ماہ نور بلوچ نے بھی ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ماہ نور بلوچ کی شاندار کامیابی کو صوبے کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے انہیں خصوصی طور پر سراہا اور بلوچستان کی باصلاحیت بیٹی کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں سوینئر پیش کیا انہوں نے کہا کہ ماہ نور بلوچ جیسے ہونہار طلبہ و طالبات صوبے کا روشن مستقبل ہیں اور ان کی کامیابی دیگر نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کو تعلیم، مقابلہ جاتی امتحانات اور اعلیٰ پیشہ ورانہ شعبوں میں آگے بڑھنے کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بلوچستان کا نام روشن کر سکیں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت میرٹ، شفافیت اور مساوی مواقع کی فراہمی کے اصولوں پر عمل پیرا رہتے ہوئے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5070/2026
کوئٹہ، 23 جون ۔محکمہ لائیو اسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ، حکومت بلوچستان کے ضلعی لائیو اسٹاک افسران (ڈی ایل اوز) نے یورپی یونین، پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ اور بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کی جانب سے لائیو اسٹاک کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا ہے، جو کہ سیلاب کے بعد بحالی اور لائیو اسٹاک کے شعبے کی مضبوطی کے منصوبے کے تحت کی جا رہی ہیں۔پاکستان پاورٹی ایلیویش فنڈ اور بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کی جانب سے یورپی یونین کے تعاون سے چلنے والے لائیو اسٹاک منصوبے کے منتخب اضلاع کے ضلعی لائیو اسٹاک افسران کے لیے ایک رابطہ اجلاس منعقد کیا گیا۔اجلاس کی صدارت بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر طاہر رشید اور پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ بلوچستان کے پروونشل لیڈ اور پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالرحمن خان نے کی۔ شرکاءکو منصوبے کے پس منظر، مقاصد، اہم سرگرمیوں اور متوقع نتائج کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس کا مقصد 2022 کے سیلاب کے بعد لائیو اسٹاک کے شعبے کی بحالی اور اس کی مضبوطی کو یقینی بنانا ہے۔منصوبہ پائیدار لائیو اسٹاک پیداوار میں بہتری، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ طریقوں کے فروغ، نوجوانوں اور خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، اور بلوچستان میں لائیو اسٹاک کی ویلیو چین اور منڈی کے روابط کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔ڈاکٹر طاہر رشید نے شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے بلوچستان کی معیشت میں لائیو اسٹاک کے شعبے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور ترقیاتی شراکت داروں اور حکومتی اداروں کے درمیان مضبوط تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے حکومت بلوچستان، یورپی یونین اور پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ قدر میں اضافہ، ادارہ جاتی مضبوطی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگی پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہیں۔ڈاکٹر عبدالرحمن خان نے پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے کردار اور کثیرالجہتی غربت کے خاتمے کے ماڈل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی بیسڈ اقدامات اس منصوبے کا بنیادی حصہ ہیں اور لائیو اسٹاک محکمہ کا کردار نچلی سطح پر اس کے موثر نفاذ کے لیے نہایت اہم ہے۔ضلعی لائیو اسٹاک افسران نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے سیلاب سے متاثرہ کمیونٹیز کی سماجی و اقتصادی بہتری کے لیے ایک اہم اور بروقت منصوبہ قرار دیا۔ انہوں نے یورپی یونین، پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ اور بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے اپنے اضلاع میں منصوبے کے مو¿ثر نفاذ کے لیے مکمل تکنیکی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس کے اختتام پر تمام شراکت داروں نے منصوبے کے کامیاب نفاذ کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5071/2026
چمن 23جون ۔ڈپٹی کمشنر کمپلیکس میں کھلی کچہری، عوامی مسائل کے حل کے لیے احکامات جاری ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت ڈپٹی کمشنر کمپلیکس میں عوامی مسائل، شکایات کے ازالے اور عوامی تجاویز کے حصول کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔کھلی کچہری میں آرمی کے کرنل عثمان، مختلف سرکاری محکموں کے افسران، قبائلی عمائدین، تاجر برادری، نوجوانوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر قبائلی عمائدین، تاجروں، سول سوسائٹی اور شہریوں نے اپنے مسائل، شکایات اور تجاویز پیش کیں جنہیں باقاعدہ طور پر نوٹ کیا گیا۔شرکاء نے بے روزگاری، چمن میں امن و امان کی صورتحال، نادرا سے متعلق مسائل، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور دیگر عوامی مسائل کو اجاگر کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے بیرونِ ملک 500 بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے پروگرام کو سراہا گیا اور مزید نوجوانوں کو بیرونِ ممالک روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے متعلقہ محکموں کے افسران کو عوامی شکایات کے فوری اور موثر حل کے لیے ضروری احکامات جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ عوام کو درپیش مسائل کے ازالے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے حوالے سے عوامی سفارشات اور تجاویز متعلقہ حکام، بالخصوص وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکریٹری بلوچستان تک پہنچائی جائیں گی تاکہ مزید نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آسکیں۔ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی مسائل کا بروقت حل ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، جبکہ کھلی کچہریوں کا مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنانا اور مسائل کو براہِ راست سن کر ان کے حل کو یقینی بنانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5072/2026
نصیرآباد23جون ۔ ساتویں محرم الحرام کا سیج سید علی گوہر شاہ کے پڑ سے سخت سکیورٹی میں برآمد۔اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ نے ماتمی جلوس کے روٹس پر کیے گئے انتظامات کا جائزہ لیا پولیس کی جانب سے روٹس کی سرچنگ اور سویپنگ کا عمل مکمل کیا گیا پولیس کی بھاری نفری روٹس پر تعینات گئی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز جمالی کی سربراہی میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل ٹیم اور ایمبولینس کے ہمراہ جلوس کے ساتھ رہے تحصیلدار معظم علی جتوئی ڈی ایس پی شمن علی سولنگی بابو اصغر رند بھی جلوس کے ہمراہ تھے عزاداروں نے اللہ ہو چوک پر زنجیر زنی کی اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ نے ساتویں محرم الحرام کے موقع پر سیکورٹی سمیت دیگر کیے گئے تمام انتظامات کا جائزہ لیا انہوں نے علامہ مشتاق حسین عمرانی سے بھی ملاقات کی اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ روٹ کی گزرگاہوں پر سخت چیکنگ کی جارہی ہے اس وقت سکیورٹی کے حوالے سے مختلف لنک روڈز کو بند کر دیا گیا ہے کسی کو بھی جلوس کے وقت یہاں سے گزرنے نہ دیا جائے تمام جوان خندہ پیشانی کے ساتھ اپنے فرائض منصبی سر انجام دیں چیف آفیسر سلیم خان ڈومکی کے احکامات پر میونسپل کمیٹی کی جانب سے روٹس کی صفائی ستھرائی کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا فائر بریگیڈ اور ایمبولینس ساتویں محرم الحرام کے جلوس کے ساتھ ہمراہ رہے ساتویں محرم الحرام کے موقع پر ٹراما سینٹر میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو بھی ہائی الرٹ رکھا گیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5073/2026
تربت 23 جون ۔: ڈپٹی کمشنر آفس کیچ میں اسلحہ لائسنس برانچ ڈیجیٹلائز، نادرا سے ریکارڈ لنک کرنے کا آغاز کردیا گیا .ڈپٹی کمشنر آفس کیچ میں اسلحہ لائسنس برانچ کو ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے جس کا باقاعدہ افتتاح منگل کو ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے کیا۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق ڈیجیٹلائزیشن کے بعد اسلحہ لائسنس سے متعلق تمام ریکارڈ کو نادرا کے ساتھ منسلک کیا جائے گا جہاں درخواست گزاروں کی تصدیق کے بعد ریکارڈ ہوم ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کیا جائے گا۔حکام کے مطابق اسلحہ لائسنس کے ریکارڈ کو مرتب اور محفوظ بنانے کے لیے پہلی بار نادرا کے ساتھ براہِ راست لنکنگ کے ذریعے تمام معلومات کی جانچ اور تصدیق کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیچ نے اسلحہ لائسنس برانچ کے عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں مینوئل لائسنسنگ کا نظام کئی حوالوں سے غیر موثر تھا جب کہ ریکارڈ کو محفوظ اور قابلِ رسائی رکھنا بھی مشکل تھا۔انہوں نے کہا کہ کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ نہ صرف مستقل بنیادوں پر محفوظ رہے گا بلکہ کسی بھی وقت آسانی سے اس کی جانچ پڑتال بھی ممکن ہوگی۔ ان کے بقول یہ اقدام انتظامی امور میں شفافیت، رفتار اور سہولت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر نادرا آفس مکران تربت چنگیز ہوت، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ تابش بلوچ اور ڈپٹی ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے ملک ریحان بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5074/2026
نصیرآباد23جون ۔ ضلع نصیرآباد کے نواحی علاقے گوٹھ حمید آباد، تحصیل میر حسن کھوسہ میں ساتویں محرم الحرام کے موقع پر روایتی ماتمی جلوس امام بارگاہ درِ علم عباس سے برآمد ہوا جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا پرامن ماحول میں خیر و عافیت کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ کی ہدایات پر تحصیلدار میر حسن محمد ظریف گولہ نے صدورا خان ابڑو کے ہمراہ جلوس کے انتظامات اور سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا جبکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جلوس کے دوران فرائض انجام دیتے رہے۔ ضلع انتظامیہ نصیرآباد کی جانب سے جلوس کے روٹس پر صفائی ستھرائی اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا، جبکہ محکمہ صحت کی جانب سے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور ایمبولینس بھی جلوس کے ہمراہ موجود رہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔ انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ محکموں کی مربوط کاوشوں کے باعث جلوس پرامن اور منظم انداز میں اختتام پذیر ہوا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر5075/2026
کوئٹہ 23جون:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ، اسسٹنٹ کمشنر (کچلاک) کیپٹن (ر) کبیر مزاری اور اسپیشل مجسٹریٹس کے ہمراہ ساتویں محرم الحرام کے جلوس کے روٹس کا دورہ کیا۔ اس موقع پت انہوں نے محرم الحرام کے جلوس کی قیادت کرتے ہوئے سکیورٹی، صفائی ستھرائی، ٹریفک اور دیگر انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ عزاداروں کو پرامن اور سہولتوں سے آراستہ ماحول فراہم کیا جا سکے۔اس موقع پر متعلقہ محکموں کے عملے کو ہدایت کی گئی کہ محرم الحرام کے دوران تمام انتظامات کو مؤثر اور بروقت یقینی بنایا جائے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری برقرار رکھی جائے۔
خبر نامہ نمبر5076/2026
کوئٹہ 23جون۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی نے ساتویں محرم الحرام کے جلوس کے موقع پر مارگٹ اور مارواڑ سے آنے والے جلوس کی نگرانی کی۔اسسٹنٹ کمشنر (صدر) نے جلوس کی قیادت کرتے ہوئے سکیورٹی، ٹریفک، صفائی ستھرائی اور دیگر انتظامات کا جائزہ لیا۔ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مربوط کوششوں کے نتیجے میں جلوس کو پرامن طریقے سے مری آباد تک پہنچایا گیا۔اس موقع پر متعلقہ محکموں کے عملے کو ہدایت کی گئی کہ محرم الحرام کے دوران تمام انتظامات کو مؤثر اور بروقت یقینی بنایا جائے تاکہ عزاداروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
خبر نامہ نمبر5077/2026
قلعہ عبداللہ 23جون:۔ضلع قلعہ عبداللہ میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی (DHC) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی نے آن لائن کی۔اجلاس میں ضلع بھر کے ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت کی کارکردگی، عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی، طبی عملے کی حاضری اور دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے صحت کے شعبے کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کھوسو، ڈی سی سپرنٹنڈنٹ جعفر خان ترین، پی پی ایچ آئی کے ڈسٹرکٹ منیجر ضیاء الرحمان، ڈسٹرکٹ ڈپٹی ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فضل محمد کاکڑ، ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر عبدالغفار کاکڑ، محکمہ صحت کے فوکل پرسن مسعود احمد اچکزئی، حاجی عمران ملک، اشرف کاکڑ، رفیع اللہ کاکڑ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران گزشتہ روز ڈی ایچ کیو ہسپتال میں پیش آنے والے واقعے، جس میں ایک 6 سالہ بچے کی وفات ہوئی تھی، پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کھوسو کی سربراہی میں تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی، جو تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ ڈی سی قلعہ عبداللہ کو پیش کرے گی۔اجلاس کے اختتام پر صحت کے نظام کو مزید مؤثر بنانے، ہسپتالوں اور مراکز صحت کے مسائل کے حل اور عوام کو بروقت و معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی نے اس موقع پر کہا کہ عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر5078/2026
ضلع چمن23جون:۔ڈپٹی کمشنر کمپلیکس میں کھلی کچہری، عوامی مسائل کے حل کے لیے احکامات جاری وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی احکامات پر عوامی مسائل شکایات کے ازالے اور تجاویز کے حصول کیلئے ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت ڈی سی کمپلیکس ہال چمن میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا جا رہا ہے کھلی کچہری میں آرمی کے کرنل عثمان، مختلف سرکاری محکموں کے افسران، قبائلی عمائدین، تاجر برادری، نوجوانوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر قبائلی عمائدین، تاجروں، سول سوسائٹی اور شہریوں نے اپنے مسائل، شکایات اور تجاویز پیش کیا جنہیں باقاعدہ طور پر نوٹ کیا گیا۔
خبر نامہ نمبر5079/2026
موسی خیل23 جون:۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نادر ایسوٹ نے تحصیل توئی سر کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد ویکسینیٹرز کی حاضری، آئی ایل آر ILR کی مینٹیننس، ویکسین اسٹاک اور ای پی آئی پروگرام کی سرگرمیوں کا جائزہ لینا تھا دورے کے دوران ڈاکٹر نادر ایسوٹ نے مختلف مراکز صحت کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ویکسین اسٹاک، کولڈ چین سسٹم اور ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ویکسین کی حفاظت اور معیار کے لیے تمام اصولوں پر مکمل عمل کیا جائے اس موقع پر انہوں نے ویکسینیٹرز کی فیلڈ حاضری چیک کی اور خود مختلف کمیونٹیز کا دورہ کیا۔ کمیونٹی وزٹ میں انہوں نے والدین اور مقامی افراد سے ملاقات کی۔ بچوں کی ویکسینیشن کی اہمیت اجاگر کی اور حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے بچوں کو مہلک بیماریوں سے بچانے کے بارے میں آگاہی دی ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے کہا کہ ہر بچے تک حفاظتی ٹیکوں کی بروقت رسائی محکمہ صحت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے تمام ویکسینیٹرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں محنت اور لگن سے ادا کریں۔ فیلڈ سٹاف کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ویکسینیشن کے معیار کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ کوئی بچہ حفاظتی ٹیکوں سے محروم نہ رہے دورے کے اختتام پر انہوں نے فیلڈ عملے کو ضروری ہدایات دیں اور عوامی آگاہی کی سرگرمیاں بہتر بنانے پر زور دیا تاکہ EPI پروگرام کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
خبر نامہ نمبر5080/2026
صحبت پور23جون:۔7 محرم الحرام 1448ھ کے موقع پر گوٹھ حمید کا جلوس اپنے مقررہ وقت اور روٹ کے مطابق پُرامن ماحول میں منعقد ہوا۔ جلوس صبح 09:00 بجے امام بارگاہ دارِ عباس، ضلع نصیر آباد سے برآمد ہوا اور اپنے مقررہ روٹ پر رواں دواں رہا۔ جلوس دوپہر 12:15 بجے ضلع صحبت پور کی حدود میں داخل ہوا، جہاں ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کیے گئے مؤثر انتظامات کے تحت عزاداران کو تمام ضروری سہولیات فراہم کی گئیں جلوس کے روٹ پر سیکیورٹی کے جامع اور مؤثر انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس اہلکاروں نے امن و امان کے قیام، ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور عزاداران کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنے فرائض نہایت ذمہ داری اور مستعدی کے ساتھ انجام دیے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فائر بریگیڈ، ایمبولینس سروس اور پیرا میڈیکل عملہ پورے وقت الرٹ اور موقع پر موجود رہا اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر اور ریونیو عملہ بھی فیلڈ میں موجود رہا اور جلوس کے انتظامات کی مسلسل نگرانی کرتا رہا۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جلوس کے روٹ پر صفائی ستھرائی اور دیگر بلدیاتی سہولیات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا گیا، جس کے باعث عزاداران کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا جلوس اپنے مقررہ روٹ اور شیڈول کے مطابق ضلع صحبت پور کی حدود سے پُرامن طور پر گزرنے کے بعد بخیریت ضلع نصیر آباد کی جانب روانہ ہوا پورے جلوس کے دوران امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر تسلی بخش رہی اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ محکموں کے مابین مؤثر رابطہ کاری کے باعث تمام انتظامات خوش اسلوبی سے مکمل کیے گئے
خبر نامہ نمبر5081/2026
جعفرآباد23جون:۔ساتویں محرم الحرام کے موقع پر ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی ہدایات کی روشنی میں سکیورٹی سمیت تمام انتظامات مکمل کیے گئے۔ ماتمی جلوس قادر بخش رضا سے سخت سکیورٹی حصار میں برآمد ہوا جو مقررہ روٹ کے مطابق ٹی چوک سے ہوتا ہوا مرکزی امام بارگاہ پہنچا۔ جلوس کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے پولیس کے جوانوں کو مختلف حساس مقامات اور بلند عمارتوں پر تعینات کیا گیا تھا جبکہ سکیورٹی کے جامع انتظامات کیے گئے۔ جلوس سے قبل ڈپٹی کمشنر خالد خان نے ماتمی جلوس کے روٹس کا تفصیلی جائزہ لیا اور سکیورٹی پر مامور افسران و اہلکاروں سے ملاقات کرکے انہیں ہدایت کی کہ عزاداروں کی جان و مال کے تحفظ، ٹریفک کی روانی اور امن و امان کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی اور مستعدی سے انجام دیں تاکہ محرم الحرام کے جلوس و مجالس پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوں۔ڈپٹی کمشنر جعفراباد خالد خان خود ماتمی جلوس کے ساتھ رہے اور تمام تر انتظامات کا مشاہدہ کیا۔

خبرنامہ نمبر 2026/5082
سبی23 جون:ـساتویں محرم الحرام کے جلوس کے دوران امن و امان کے قیام اور عزاداروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ سبی، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے فول پروف سیکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ جلوس کے دوران سیکیورٹی کے سخت اور مؤثر انتظامات کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ نے پولیس افسران اور متعلقہ حکام کے ہمراہ جلوس کے روٹس کا تفصیلی دورہ کیا اور سیکیورٹی، ٹریفک، داخلی و خارجی راستوں، صفائی ستھرائی، روشنی اور دیگر انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر جلوس کے روٹس پر تعینات نفری، نگرانی کے نظام اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی۔ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے ہدایت جاری کی گئی ہے کہ محرم الحرام کے دوران جلوسوں اور مجالس کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے تمام ادارے باہمی رابطے اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں، جبکہ سیکیورٹی، ٹریفک اور دیگر انتظامی امور میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ عوام الناس، بالخصوص جلوسوں اور مجالس میں شرکت کرنے والے عزاداروں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں، سیکیورٹی انتظامات اور جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنائیں، غیر متعلقہ افراد یا مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں اور جلوس کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھنے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں تاکہ محرم الحرام کے اجتماعات پرامن اور محفوظ ماحول میں منعقد ہو۔
خبر نامہ نمبر 2026/5083
کوئٹہ23جون: بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) میں چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی زیر صدارت پرائیویٹ وِدہولڈنگ ایجنٹس اور کنٹریکچوئل ایگزیکیوشن سے محصولات کی وصولی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ٹیکس محصولات، ٹیکس تعمیل اور جاری انفورسمنٹ اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر محصولات میں مزید اضافے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے مختلف اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں حب انڈسٹریل ایریا، لیڈا (LIEDA) اور دیگر صنعتی علاقوں میں قائم کمپنیوں کی رجسٹریشن، ٹیکس ادائیگی اور ریٹرن فائلنگ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ بعض کمپنیوں کی جانب سے کم یا عدم ادائیگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو ریکارڈ کی جانچ پڑتال، واجبات کی وصولی اور قانونی تقاضوں کے مطابق ضروری کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی گئی۔چیئرمین نے ہدایت کی کہ لیڈا اور دیگر صنعتی زونز میں قائم کمپنیوں کا جامع سروے مکمل کیا جائے اور فعال، نئی قائم ہونے والی اور غیر فعال صنعتی یونٹس کی تفصیلی درجہ بندی تیار کی جائے۔ مزید برآں محصولات اور وصولیوں کی تفصیلی فہرست مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ غیر تعمیل کنندگان کے خلاف آئندہ انفورسمنٹ اقدامات کا جامع منصوبہ بھی پیش کیا جائے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ماربل سٹی میں متعدد کمپنیوں کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے جبکہ ٹیکس قوانین پر عملدرآمد اور واجبات کی وصولی کو یقینی بنانے کیلئے متعلقہ کمپنیوں کو نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں۔چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محصولات میں اضافے، ٹیکس قوانین کے مؤثر نفاذ، شفافیت کے فروغ اور ٹیکس دہندگان کی سہولت کاری کیلئے اقدامات مزید تیز کیے جائیں گے تاکہ بلوچستان کی پائیدار ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کیلئے مالی وسائل میں اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *