خبر نامہ نمبر9194/2026
کوئٹہ 22اکتوبر۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کی زیرِ صدارت کوئٹہ ڈویژن میں پولیو کی مجموعی صورتحال اور آئندہ پولیو مہم کے انتظامات کے حوالے سے ڈویژنل ٹاسک فورس آن لائن اجلاس منعقد ہوا، جس میں پولیو مہم کی کارکردگی، مسڈ چلڈرن، ریفیوزلز، نو ڈوز بچوں کی کوریج، سکیورٹی، مانیٹرنگ اور ویکسینیشن کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈویژنل کوآرڈینیٹر ٹاسک فورس ڈاکٹر صفدر،اے سی او ڈاکٹر عزیز احمد،اے سی او محمد سہیل احمد،ڈویژنل آفیسر ڈاکٹر امداد علی کے علاوہ ڈبلیو ایچ او اور دیگر اداروں کے افسران موجود تھے جبکہ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی،ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی،ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام خان کے علاوہ صوبائی کوآرڈینیٹر ای پی ائی بلوچستان ڈاکٹر آفتاب کاکڑ ،ڈی ایچ اوز ،ڈپٹی ڈی ایچ اوز ،یونیسیف،نیشنل پروگرام،ڈبلیو ایچ او اور دیگر اداروں کے افسران نے آن لائن اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ مسڈ چلڈرن، ریفیوزلز اور نو ڈوز بچوں پر خصوصی توجہ دی جائے اور آئندہ پولیو مہم سے قبل ٹیموں کی تربیت کا عمل جلد مکمل کیا جائے۔ کمشنر نے کہا کہ جن یونین کونسلز میں ریفیوزلز کی تعداد زیادہ ہے، وہاں ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لے کر ضرورت کے مطابق نئی ٹیمیں تعینات کی جائیں۔ مستونگ میں نو ڈوز بچوں کی زیادہ تعداد کے پیشِ نظر مہم کی منصوبہ بندی پر نظرثانی کرنے اور کوریج بہتر بنانے کی ہدایت بھی کی گئی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ زیرو ڈوز بچوں کی تعداد 10 ہزار سے کم ہو کر 8 ہزار 708 رہ گئی ہے، تاہم اس حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ بار بار رہ جانے والے بچوں کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کرنے، مستقل مسڈ بچوں کی نشاندہی اور ان تک رسائی یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ جن یونین کونسلز میں سکیورٹی یا رسائی کے مسائل کے باعث مانیٹرنگ نہیں ہو رہی، وہاں متعلقہ حکام مسائل حل کرنے کے لیے موثر اقدامات کریں۔کمشنر ذیشان لاشاری نے ہدایت کی کہ کم کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی یونین کونسلز کی الگ الگ جانچ پڑتال کی جائے اور متعلقہ افسران سے کارکردگی کے بارے میں وضاحت طلب کی جائے۔ انہوں نے پولیو مہم کے دوران ٹیموں کی تربیت، نگرانی اور فیلڈ میں عملی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں صوبائی کوآرڈینیٹر بلوچستان ڈاکٹر آفتاب کاکڑ نے ای پی آئی پروگرام کی گزشتہ دو ماہ کی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کوئٹہ میں ویکسینیشن کوریج کے بعض اشاریوں میں بہتری آئی ہے، تاہم مستونگ سمیت مختلف علاقوں میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حفاظتی ٹیکوں کی کوریج، ڈیٹا انٹری، ڈراپ آوٹ اور زیرو ڈوز بچوں کے اعدادوشمار میں بہتری لانا ضروری ہے۔ڈاکٹر آفتاب کاکڑ نے کوئٹہ میں خسرے کے کیسز کے تناظر میں حفاظتی ٹیکوں کی کوریج بڑھانے، بروقت ڈیٹا انٹری اور فیلڈ ریکارڈ کی درستگی یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران کو بنیادی مراکزِ صحت کے دورے کرنے، ادویات کی دستیابی اور عملے کی حاضری چیک کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں ویکسینیٹرز کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا اور ہدایت کی گئی کہ زیرو ڈوز بچوں کو ویکسین نہ لگانے یا مقررہ اہداف حاصل نہ کرنے والے اہلکاروں کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے۔ متعلقہ حکام کو ویکسینیٹرز کی فہرستیں حاصل کرکے ان کے اہداف اور کارکردگی کی تصدیق کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔اجلاس کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے ای پی آئی پروگرام کو موثر بنانا، حفاظتی ٹیکوں کی کوریج بڑھانا، درست اعدادوشمار مرتب کرنا اور ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9195/2026
تربت 22اکتوبر۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ تابش علی بلوچ کی سربراہی میں سبزی منڈی کی تربت شہر سے مضافاتی علاقے سری کہن منتقلی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی، چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن تربت شعیب ناصر، سیکریٹری مارکیٹ کمیٹی محبوب علی، ایگریکلچر آفیسر چاکر علی، ایس ڈی او واپڈا عبدالحلیم، سینیٹری انسپکٹر حبیب جالب، سبزی منڈی کے دکاندار غلام رسول اور فضل الرحمن، انجمن تاجران کیچ کے حاجی کریم بخش اور ایس آئی آسمی بجار سمیت دیگر متعلقہ افراد موجود تھے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ تابش علی بلوچ نے کہا کہ سری کہن میں میونسپل کارپوریشن تربت کی جانب سے سبزی منڈی کی عمارت تیار کرلی گئی ہے لہٰذا تربت شہر میں قائم تمام سبزی منڈیوں کے مالکان اپنی دکانیں اور کاروبار جلد از جلد نئی سبزی منڈی سری کہن منتقل کریں۔انہوں نے کہا کہ تربت شہر میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے شہریوں کو آمدورفت میں سہولت فراہم کرنے اور بڑے مال بردار گاڑیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل پر قابو پانے کے لیے شہر میں بڑی گاڑیوں کے داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس سلسلے میں سبزی منڈی کی منتقلی ناگزیر ہے تاکہ شہر میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ شہری مسائل کو بھی موثر انداز میں حل کیا جاسکے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی اور چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن تربت شعیب ناصر نے بھی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سبزی منڈی کی منتقلی کی اہمیت پر زور دیا اور دکانداروں پر واضح کیا کہ شہر میں ٹریفک کی بہتری اور انتظامی امور کو موثر بنانے کے لیے نئی سبزی منڈی کو فعال کرنا ضروری ہے۔اجلاس کے دوران سبزی منڈی کے دکانداروں کے نمائندوں نے بھی اپنے موقف کا اظہار کیا انہوں نے منتقلی کے انتظامات مکمل کرنے اور کاروباری معاملات کو نئی جگہ منتقل کرنے کے لیے انتظامیہ سے چھ ماہ کی مہلت طلب کی اور یقین دہانی کرائی کہ وہ اس سلسلے میں انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے اور سبزی منڈی کو تربت شہر سے سری کہن منتقل کرنے کے لیے ضروری اقدامات کریں گے۔اجلاس میں انتظامیہ کی جانب سے دکانداروں کو سبزی منڈی کی منتقلی کے لیے چھ ماہ کی مہلت دینے کا فیصلہ کیا گیا انتظامیہ نے واضح کیا کہ مقررہ مدت مکمل ہونے کے بعد ہدایات پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تربت شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے شہری نظم و ضبط برقرار رکھنے اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے جبکہ متعلقہ ادارے اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے باہمی تعاون کے ساتھ کام کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9196/2026
تربت 22اکتوبر ۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر ندیم اقبال بنگلزئی نے گھنہ مزاری کہن میں متنازعہ اراضی کے دو مختلف معاملات کے سلسلے میں متعلقہ مقامات کا دورہ کیا اور دستیاب ریکارڈ و دستاویزات کا جائزہ لیا۔پہلے معاملے میں متعلقہ دستاویزات اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد معاملے کو حل کر دیا گیا۔دوسرے معاملے کے حوالے سے متعلقہ تحصیلدار کو ہدایت کی گئی کہ وہ دستیاب دستاویزات اور ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد موقع کا معائنہ کریں اور اپنی رپورٹ پیش کریں تاکہ رپورٹ کی روشنی میں معاملے کو میرٹ اور قانون کے مطابق حل کیا جا سکے۔اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ اراضی سے متعلق معاملات کو دستیاب ریکارڈ، حقائق اور قانونی تقاضوں کے مطابق نمٹایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9197/2026
کوئٹہ22 اکتوبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے بیوٹمز یونیورسٹی سالانہ اسپورٹس فیسٹیول کا افتتاح کیا۔ بیوٹمز یونیورسٹی چھ برس کے بعد آج ایک بار پھر بیوٹمز یونیورسٹی کے کھیل کا میدان رنگوں، ولولوں اور نوجوانوں کے جوش و خروش سے جگمگا اٹھا۔ تین ہزار سے زائد کھلاڑیوں نے چودہ مختلف کھیلوں میں شرکت کر کے افتتاحی تقریب کو ایک شاندار جشن میں بدل دیا۔ ڈھول کی تھاپ پر نوجوانوں کے روایتی رقص نے سماں باندھ دیا اور مہمانوں سمیت خاصکر شائقین کو خوشی سے جھومنے پر مجبور کر دیا۔ قبل ازیں گورنر بلوچستان اور امریکہ سے آئے ہوئے مہمانان گرامی تنویر احمد اور عذیر حسن کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ سالانہ اسپورٹس فیسٹیول کی شاندار افتتاحی تقریب کے موقع پر آمریکہ سے آئے ہوئے مہمانان گرامی تنویر احمد، سید عذیر حسن، صوبائی وزیر میرعاصم کرد گیلو، وائس چانسلر بیوٹمز یونیورسٹی ڈاکٹر خالد حفیظ، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر میروائس اور پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی سمیت ہزاروں کھلاڑیوں اور شائقین شریک تھے۔ شرکاء سے خطاب میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ آج ہم ایک ایسے یادگار سلسلے کا آغاز کر رہے ہیں جو نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھار اور تخلیقی توانائیوں کو جلا بخشتا ہے۔ یہ شاندار اسپورٹس فیسٹیول اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں کا مقصد صرف روایتی ڈگریاں دینا نہیں بلکہ ایسی باشعور، خوداعتماد اور ذمہ دار نسل تیار کرنا ہے جو مستقبل قریب کی قیادت سنبھال سکے۔ انہوں نے کہا کہ اسپورٹس میلہ، تقریری مقابلہ، موسیقی، مصوری، مجسمہ سازی اور دیگر تخلیقی مشاغل کو محض غیرنصابی سرگرمیاں کہنا درست نہیں بلکہ یہ ہم نصابی سرگرمیاں معیاری تعلیم و تربیت کے عمل کا اہم حصہ ہیں۔ دیگر پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو اسپورٹ فیسٹیول کے شروع کریں گورنر مندوخیل نے کہا کہ بیوٹمز یونیورسٹی اپنے طلباء و طالبات کو اپنی تخلیقی و تنقیدی صلاحیتوں کے اظہار کیلئے قابل فخر پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے۔ اسپورٹس فیسٹیول نوجوانوں کو یہ سکھاتا ہے کہ کامیابی صرف انفرادی صلاحیت کا نتیجہ نہیں بلکہ اصل کامیابی اجتماعی کوشش، باہمی اعتماد، مسلسل محنت اور ڈسپلن سے حاصل ہوتی ہے۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر خالد حفیظ، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر میروائس کاسی اور ان کی پوری ٹیم خراجِ تحسین کے مستحق ہے کہ وہ اپنے زیر تعلیم اسٹوڈنٹس کو ایک ایسا ماحول فراہم کر رہے ہیں جہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل، تخلیقی اظہار اور فکری نشوونما کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ہمارے نوجوان بےپناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ ضروری ہے کہ انہیں مناسب مواقع، فکری رہنمائی، جدید سہولیات اور اپنی صلاحیتوں کو منوانے کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا جائے تاکہ ہمارے نوجوان نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کریں۔ زندگی خود ہی ایک میدانِ مقابلہ ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمارے نوجوانوں کو سائنٹفک سوچ، جدید ہنر، کامیابی اور کامرانی کی بلندیوں تک پہنچائے اور وطن عزیز کو دیرپا ترقی، پائیدار امن اور معاشی خوشحالی کا گہوارہ بنائے۔ امریکہ سے آئے ہوئے مہمان تنویر احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچ، پشتون، سندھی، پنجابی، ہزارہ اور گلگتی سمیت مختلف ثقافتی و لسانی شناختوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک پرچم تلے متحد دیکھ کر دلی خوشی ہوئی۔ انہوں نے تین ہزار کھلاڑیوں پر زور دیا کہ وہ نئے تخلیقی آئیڈیاز پیش کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان تین ہزار نوجوانوں میں سے ہر ایک ایک منفرد خیال پیش کرے تو یہ خیالات عالمی سطح پر پاکستان کی تخلیقی فکر اور نوجوانوں کے مثبت کردار کی عکاسی کر سکتے ہیں۔ بیوٹمز یونیورسٹی کے سالانہ اسپورٹس فیسٹیول کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سید عذیر حسن نے کہا کہ آج ہمیں پورے بلوچستان کے رنگ ایک ساتھ دیکھنے کا موقع ملا جہاں مختلف قومیتوں، ثقافتوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوبصورت منظر اس حقیقت کا عملی اظہار ہے کہ ہماری مشترکہ قومی شناخت پاکستانیت ہے جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9198/2026
کوئٹہ، 22 اکتوبر ۔صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب نوشیروانی کی زیر صدارت بلوچستان ریونیو اتھارٹی کا پروگریسو جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی عبداللہ جان نورزئی سیکریٹری خزانہ جہانگیر کاکڑ اور فنانس کی تکنیکی ٹیم بھی موجود تھی۔قبل ازیں چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے صوبائی وزیر خزانہ کو بریفنگ دی۔صوبائی وزیر خزانہ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی صوبے کی آمدن کا اہم ذریعہ ہے، ٹیکس نظام میں شفافیت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ صوبائی محصولات میں اضافہ ہو سکے جس سے صوبے کے ہر شعبے پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ترقی کا سفر مزید تیز ہوتے ہیں انہوں نے بی آر اے حکام کو سالانہ حدف حاصل کرنے پر زور دیا اور حکام کو گوادر بی آر اے دفتر کو فعال بنانے کی بھی ہدایت کی اس کے ساتھ بلوچستان رونیو اتھارٹی کو ڈیجیٹلائز کرنے پر صوبائی وزیر خزانہ نےاطمینان کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9199/2026
کوئٹہ، 22 اکتوبر ۔وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی سے ڈائریکٹر جنرل بی ایس سی اے ڈاکٹر حفیظ احمد جمالی، ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) کوئٹہ ڈاکٹر سید علی رضا شاہ اور ڈائریکٹر جنرل نیوٹیک بلوچستان ڈاکٹر حسین بخش مگسی نے ملاقات کی۔ملاقات میں ضلع نصیرآباد کے نوجوانوں اور خواتین کے لیے پیشہ ورانہ ترقی، جدید فنی تعلیم، تکنیکی تربیت اور روزگار سے منسلک مہارتوں کے فروغ کے حوالے سے مختلف اقدامات اور مجوزہ تربیتی پروگراموں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں بالخصوص خواتین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہنر فراہم کرنا پائیدار معاشی ترقی کی بنیادی ضرورت ہے۔ نصیرآباد میں ایسے تربیتی پروگرام متعارف کرانے کی ضرورت ہے جو مقامی ضروریات، دستیاب وسائل اور روزگار کی منڈی کے تقاضوں سے مطابقت رکھتے ہوں۔انہوں نے کہا کہ محض روایتی تعلیم پر انحصار کرنے کے بجائے نوجوان نسل کو عملی مہارتوں، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، کاروباری صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے تاکہ وہ ملازمت کے حصول کے ساتھ اپنے کاروبار شروع کرنے کے بھی قابل بن سکیں۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ نصیرآباد کی خواتین میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، تاہم ان صلاحیتوں کو معاشی مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے موثر تربیتی سہولیات، ادارہ جاتی تعاون اور مارکیٹ سے منسلک ہنرمندی کے پروگرام ناگزیر ہیں۔ خواتین کی معاشی خودمختاری نہ صرف ان کے خاندانوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بناتی ہے بلکہ مجموعی سماجی و اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔مشیر ترقی نسواں بلوچستان نے اس امر پر زور دیا کہ متعلقہ اداروں کے مابین مربوط اشتراکِ عمل کے ذریعے ایسے قابلِ عمل تربیتی منصوبے تشکیل دیے جائیں جن کے نتائج براہِ راست نوجوانوں اور خواتین کی زندگیوں میں بہتری کی صورت میں سامنے آئیں۔انہوں نے کہا کہ ترقی کے ثمرات صوبے کے ہر علاقے تک پہنچنے چاہئیں اور نصیرآباد جیسے اضلاع میں انسانی وسائل کی ترقی پر سرمایہ کاری مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے۔ محکمہ ترقی نسواں خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں موثر کردار ادا کرنے کے قابل بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کو اہمیت دیتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
QUETTA, October 22, 2026: Dr. Rubaba Khan Buledi, Advisor to the Chief Minister of Balochistan for Women Development, held a meeting with Dr. Hafeez Ahmed Jamali, Director General BSCA; Dr. Syed Ali Raza Shah, Director General National Institute of Public Administration (NIPA), Quetta; and Dr. Hussain Bakhsh Magsi, Director General NAVTTC Balochistan.
The meeting focused on various initiatives and proposed training programmes aimed at promoting professional development, modern technical education, vocational training, and employment-oriented skills among youth and women, particularly in Naseerabad district.
Speaking on the occasion, Dr. Rubaba Khan Buledi said that equipping the youth of Balochistan, especially women, with skills aligned with modern requirements is essential for sustainable economic development. She emphasized the need to introduce training programmes in Naseerabad that correspond to local needs, available resources, and labour market demands.
She stated that instead of relying solely on conventional education, the younger generation must be provided with opportunities to acquire practical skills, digital literacy, entrepreneurial capabilities, and professional training, enabling them not only to secure employment but also to establish their own businesses.
Dr. Rubaba Khan Buledi highlighted the immense potential of women in Naseerabad, noting that effective training facilities, institutional cooperation, and market-oriented skill development programmes are essential to transform their capabilities into meaningful economic opportunities.
She said that women’s economic independence not only improves the living standards of their families but also contributes significantly to broader social and economic development.
The Advisor for Women Development stressed the importance of coordinated efforts among relevant institutions to formulate practical and result-oriented training initiatives that bring tangible improvements to the lives of young people and women.
She further emphasized that the benefits of development must reach every region of the province, adding that investment in human resource development in districts such as Naseerabad is crucial for the future.
Dr. Rubaba Khan Buledi reaffirmed that the Women Development Department attaches great importance to collaboration with relevant institutions to empower women and enable their meaningful participation in economic activities.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9200/2026
چمن22 اکتوبر ۔چمن: ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر چمن اشوک کمار راجپوت نے تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط، اساتذہ کی حاضری اور تدریسی معیار کو بہتر بنانے کے سلسلے میں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول محلہ شہسوار کا اچانک دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اسکول کے مختلف حصوں، کلاس رومز اور انتظامی امور کا تفصیلی معائنہ کرتے ہوئے تعلیمی سرگرمیوں اور مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران اسکول میں صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ صفائی کے انتظامات فوری طور پر بہتر بنائے جائیں اور تعلیمی ادارے میں صاف ستھرا، منظم اور سازگار ماحول یقینی بنایا جائے۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے اساتذہ کی حاضری کے رجسٹر اور لاگ بک کا معائنہ کیا، جبکہ غیر حاضر اساتذہ کے خلاف وضاحت طلبی کے نوٹس جاری کیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اساتذہ کی غیر حاضری اور فرائض میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مختلف کلاس رومز کا دورہ کرتے ہوئے طلبہ سے نصاب کے متعلق سوالات کیے اور ان کی تعلیمی استعداد، سبق کی تیاری اور تدریسی عمل کے معیار کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر نمایاں تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں موقع پر نقد انعامات بھی دیے گئے۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے استاد وزیر محمد کی بہترین تدریسی صلاحیتوں، محنت اور مو¿ثر طریق تدریس کو سراہتے ہوئے ان کے لیے تعریفی لیٹر جاری کرنے کا اعلان کیا، تاکہ معیاری تدریس اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل اساتذہ کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اشوک کمار راجپوت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع چمن کے سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیمی معیار کی بہتری، اساتذہ کی بروقت حاضری، صفائی ستھرائی اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے اچانک دوروں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی اور تعلیمی اداروں کی کارکردگی میں بہتری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9201/2026
کوئٹہ، 22 اکتوبر ۔ڈائریکٹوریٹ جنرل ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی نارکوٹکس بلوچستان، نارتھ زون کوئٹہ کے زیرِ اہتمام نئے تعینات ہونے والے ایکسائز انسپکٹرز کے لیے پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام جاری ہے۔ تربیتی پروگرام کے پہلے روز ایڈوکیٹ عبدالنافع غیور نے انسدادِ منشیات کے قوانین، قانونی تقاضوں اور منشیات سے متعلق جرائم کی روک تھام کے حوالے سے خصوصی تربیتی نشست منعقد کی۔تربیتی نشست کے دوران نئے تعینات ایکسائز انسپکٹرز کو منشیات سے متعلق قوانین، ان کے موثر نفاذ اور انسدادِ منشیات کی کارروائیوں میں قانونی طریقہ کار کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا۔ محمکہ کے حکام کا کہنا تھا کہ تربیت کا مقصد افسران کی قانونی معلومات میں اضافہ اور انہیں فیلڈ میں پیشہ ورانہ ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کرنے کے لیے تیار کرنا ہےڈائریکٹر جنرل ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی نارکوٹکس کی جانب سے تربیتی پروگرام میں پراپرٹی ٹیکس کے قوانین، انٹیلی جنس اور فیلڈ آپریشنز، جرائم کی تحقیقات اور کرائم مینجمنٹ سمیت مختلف اہم موضوعات بھی شامل ہیں۔ متعلقہ حکام کا کہنا تھا کہ محکمہ ایکسائز کے اس تربیتی اقدام کا مقصد نئے افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، قانونی فہم اور عملی مہارتوں کو بہتر بنانا ہے تاکہ وہ انسدادِ منشیات، ٹیکس قوانین کے نفاذ اور دیگر محکمانہ امور میں اپنی ذمہ داریاں موثر، ذمہ دارانہ اور قانون کے مطابق انجام دے سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9202/2026
22 اکتوبر استا محمد۔ ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال کی زیر صدارت ہفتہ وار ریویو اجلاس منعقد ہوا جس میں کھلی کچہری میں شہریوں کی شکایات کے پائیدار حل اور بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مسائل کے فوری حل اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی واضح رہے کہ آج ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال کی زیر صدارت ہفتہ وار ریویو اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر استامحمد ماریہ شمعون، سمیت متعلقہ افسران نے شرکت جس میں کھلی کچہری کے دوران شہریوں کی جانب سے پیش کی گئی شکایات ان کے ازالے کے لیے متعلقہ محکموں کی جانب سے کیے گئے اقدامات اور مختلف ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی اور شہریوں کو درپیش مسائل کے حل کے حوالے سے کیے گئے اقدامات سے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیااجلاس کے دوران بجلی گیس ، بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی صفائی ستھرائی اور دیگر بنیادی شہری سہولیات سے متعلق شکایات زیر بحث آئیں متعلقہ افسران نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کھلی کچہری میں شہریوں کی جانب سے پیش کی گئی شکایات کے ازالے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے اقدامات کیے گئے ہیں اور مختلف مسائل کو حل کرنے کے لیے متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیںاس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے ہدایت کی کہ عوامی شکایات کو محض رسمی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کے مستقل اور پائیدار حل کو یقینی بنایا جائےگا انہوں نے کہا کہ متعلقہ افسران شہریوں کی شکایات کو سنجیدگی سے لیں ان کے حل کے لیے موثر اقدامات کریں اور ہر شکایت پر ہونے والی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیں تاکہ شہریوں کو بار بار ایک ہی مسئلے کے حل کے لیے کھلی کچہری سے رجوع نہ کرنا پڑے انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مسائل کا بروقت ازالہ سرکاری محکموں کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گیاجلاس میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹوBSDI کے تحت مکمل ہونے والے مختلف ترقیاتی منصوبوں جاری کاموں کی رفتار پیش رفت اور عمل درآمد کے دوران درپیش مسائل کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور تمام منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے موثر حکمت عملی اختیار کی جائے انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل سے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنانے اور علاقے کی تعمیر و ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گے ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ متعلقہ افسران ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی خود کریں تعمیراتی کام کے معیار شفافیت اور مقررہ مدت کی پابندی کو یقینی بنائیں اور منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت سے ضلعی انتظامیہ کو باقاعدگی سے آگاہ کریں انہوں نے کہا کہ منصوبوں کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کرکے انہیں فوری دور کیا جائے تاکہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے شروع کیے گئے منصوبوں کے ثمرات بروقت عوام تک پہنچ سکیںڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل بنیادی سہولیات کی بہتری اور ترقیاتی منصوبوں کی موثر تکمیل کے لیے تمام متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گی انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ عوامی خدمت کو اولین ترجیح دیں اور حکومتی اقدامات کے ثمرات عام شہریوں تک پہنچانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی، شفافیت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ادا کریں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9203/2026
جعفرآباد،22اکتوبر۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا ہے کہ ضلع میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے، سیکیورٹی انتظامات کو مزید موثر بنانے اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی رابطوں اور موثر حکمت عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی، عوام کے جان و مال کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلعی انتظامیہ کے افسران اور انٹیلی جنس اداروں کے نمائندگان کی شرکت سے منعقدہ تین الگ الگ اجلاسوں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی، ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی اور ڈسٹرکٹ امپلیمنٹیشن کمیٹی کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاسوں میں ضلع جعفرآباد میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، سیکیورٹی انتظامات، مشتبہ سرگرمیوں کی نگرانی اور حکومتی ہدایات پر عمل درآمد سمیت مختلف اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر غیر قانونی اسپیکٹرم سے متعلق BISA ڈیش بورڈ کی تازہ کاری، تعلیمی اداروں میں قومی ہدایات کے نفاذ، تخریبی سرگرمیوں میں پریس اور سوشل میڈیا کے ممکنہ استعمال، سرکاری ملازمین کی ایسی سرگرمیوں میں مبینہ شمولیت اور سرکاری سہولیات کے غیر قانونی استعمال کی نگرانی سے متعلق معاملات زیر بحث آئے۔ اجلاس میں ضلع جعفرآباد کے حوالے سے دہشت گردوں، انتشار پسند عناصر اور فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی نقشہ سازی اور پروفائلنگ، ریلوے ٹریک، بس اڈوں اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی تنصیبات کی سیکیورٹی، جبکہ ضلع کے اہم مقامات کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ مزید برآں سلامتی کو درپیش خطرات، امن و امان کی صورتحال، دینی مدارس کی رجسٹریشن، غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی حیثیت، کرایہ داروں کی رجسٹریشن اور غیر مقامی مزدوروں کے تحفظ سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاسوں میں ایرانی تیل، منشیات اور غیر قانونی اسپیکٹرم کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں کو موثر بنانے اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اجلاسوں میں زیر بحث امور پر سنجیدگی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے، حساس مقامات کی سیکیورٹی کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے، مشتبہ سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی کرکے متعلقہ اداروں کو آگاہ کیا جائے اور حکومتی ہدایات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ ضلع میں امن و امان برقرار رکھنے، شہریوں کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے لیے مربوط اور موثر اقدامات کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9204/2026
22اکتوبرجعفرآباد۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا ہے کہ جعفرآباد میں زیرِ تعمیر نکاسی آب کا مین نالہ علاقے کے عوام کے وسیع تر مفاد میں تعمیر کیا جا رہا ہے، سیوریج سسٹم کی بہتری یہاں کے عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا، جسے موجودہ حکومت اولین ترجیحات کی بنیاد پر عملی جامہ پہنا رہی ہے، نکاسی آب کا یہ منصوبہ علاقے میں سیوریج کے مسائل کے حل اور عوام کو بہتر شہری سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرے گا، منصوبے کو مقررہ معیار اور تعمیراتی اصولوں کے مطابق مکمل کروانا متعلقہ انجینئرز کی بنیادی ذمہ داری ہے، تعمیراتی کام کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، کیونکہ معیاری اور پائیدار ترقیاتی منصوبے ہی عوام کے لیے دیرپا فوائد کا باعث بنتے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیرہ اللہ یار اور جھٹ پٹ میں زیرِ تعمیر نکاسی آب کے منصوبے کے جائزے کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر سپرنٹنڈنگ انجینئر ارسلا رند سمیت متعلقہ حکام اور دیگر افراد بھی موجود تھے، جبکہ ایگزیکٹو انجینئر مواصلات و تعمیرات بلڈنگز غلام دستگیر زہری نے ڈپٹی کمشنر خالد خان کو منصوبے کی تعمیراتی پیش رفت، جاری کام اور دیگر متعلقہ امور کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی، ڈپٹی کمشنر نے منصوبے کے مختلف حصوں کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جائے اور تمام مراحل میں معیار کو مقدم رکھا جائے، انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کا اصل مقصد عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا اور ان کے دیرینہ مسائل کا مستقل حل تلاش کرنا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ منصوبے کی تکمیل میں شفافیت، معیار اور پائیداری کو خصوصی اہمیت دی جائے، انہوں نے مزید کہا کہ نکاسی آب کے موثر نظام سے شہری علاقوں میں گندے پانی کی نکاسی کے مسائل میں کمی آئے گی اور عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ ممکن ہوگا، متعلقہ افسران اس بات کو یقینی بنائیں کہ منصوبے پر کام مقررہ معیار کے مطابق جاری رہے اور عوامی مفاد کے اس اہم منصوبے کو بہتر انداز میں مکمل کیا جائے تاکہ شہری اس سے طویل عرصے تک مستفید ہو سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9205/2026
موسیٰ خیل 22اکتوبر۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خان خجک نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج موسیٰ خیل کے ہمراہ تحصیل درگ میں تعمیر شدہ جوڈیشل کمپلیکس کا اہم دورہ کیادورے کے دوران ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے جوڈیشل کمپلیکس کے مختلف شعبہ جات، عدالتوں اور عمارت کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر ایس ڈی او محکمہ مواصلات و تعمیرات حاجی احمد سعید جعفر نے جوڈیشل کمپلیکس کے تعمیراتی کام اور انتظامی سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیاس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان خجک نے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس کی فعال اور معیاری تعمیر سے عوام کو مقامی سطح پر انصاف کی فوری و آسان فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عمارت میں تمام درکار سہولیات اور انتظامات کو مکمل طور پر فعال رکھا جائے تاکہ سائلین اور جوڈیشل عملے کو ہر ممکن سہولت میسر آ سکے دورے کے اختتام پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے بھی انتظامی اقدامات اور عمارت کے مجموعی انتظامات کا معائنہ کیا اور متعلقہ امور کا جائزہ لیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9206/2026
22 اکتوبر نصیرآباد۔۔ضلع بھر میں 309 ٹیوب ویلوں کو سولر سسٹم پر منتقل کرنے کا عمل جاری 249 ٹیوب ویل سولرائزڈ 46 ٹیوب ویلوں کے فنڈز جاری ھو چکے ہیں جبکہ 14 کیسز تاحال زیرِ التوا ہیں اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر وریندر لعل کی زیرِ صدارت جائزہ اجلاس منعقدہوا واپڈا کے ٹرانسفارمرز اور بجلی کے کھمبوں کی واپسی کے لیے متعلقہ مالکان کو نوٹسز جاری کرنے اور عدم تعمیل پر قانونی کارروائی کی ہدایت کی گئی واضح رہے کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر قابو پانے اور زرعی شعبے کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے صوبے بھر میں ٹیوب ویلوں کو سولر سسٹم پر منتقل کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد جاری ہے اس سلسلے میں ضلع نصیرآباد میں بھی مجموعی طور پر 309 ٹیوب ویلوں کو سولر سسٹم پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے جن میں سے اب تک 249 ٹیوب ویلوں کو سولر سسٹم پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی ماندہ 60 ٹیوب ویلوں کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا جا رہا ہے ان میں سے 46 ٹیوب ویلوں کے لیے فنڈز جاری ہو چکے ہیں، جبکہ 14 ٹیوب ویلوں کے کیسز تاحال زیرِ التوا ہیںاس حوالے سے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ زراعت واپڈا اور محکمہ خزانہ کے متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن کے عمل، فنڈز کے اجرا زیرِ التوا کیسز اور منصوبے پر مو¿ثر انداز میں عمل درآمد کو یقینی بنانے کے حوالے سے مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ افسران نے منصوبے کی موجودہ پیش رفت اور درپیش مسائل سے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا اجلاس میں اس امر کا بھی جائزہ لیا گیا کہ بعض ٹیوب ویل مالکان کی جانب سے سولر سسٹم کی تنصیب کے بعد واپڈا کے پرانے ٹرانسفارمرز اور بجلی کے کھمبے تاحال واپس نہیں کیے گئے، جس کے باعث سرکاری سامان کی واپسی اور اس کے ریکارڈ کی تکمیل کا معاملہ توجہ طلب ہےڈپٹی کمشنر نے اس معاملے پر متعلقہ محکموں کے افسران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی جو واپڈا کے ٹرانسفارمرز اور بجلی کے کھمبے واپس نہ کرنے والے ٹیوب ویل مالکان کی نشاندہی کرے گی اور انہیں سرکاری سامان واپس کرنے کے لیے باقاعدہ نوٹسز جاری کرے گی انہوں نے واضح کیا کہ نوٹسز کے باوجود ہدایات پر عمل درآمد نہ کرنے اور سرکاری سامان واپس نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائےڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن کے منصوبے پر عمل درآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے زیرِ التوا کیسز کی پیش رفت تیز کرنے اور سرکاری املاک کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے باہمی رابطے اور موثر حکمت عملی کے تحت اقدامات کیے جائیں تاکہ منصوبے کے مقررہ اہداف حاصل کیے جا سکیں اور سرکاری وسائل کا موثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9207/2026
22موسیٰ خیل اکتوبر۔ایس پی موسیٰ خیل کلیم اللہ کاکڑ کی ہدایات پر پولیس کی مفرور ملزمان و اشتہاری مجرمان کے خلاف کارروائیاں جاریایس ایچ او محمدخان پولیس تھانہ صدر موسیٰ خیل نے اپنی ٹیم کے ہمراہ مختلف مقامات پر چھاپے مار کر مقدمہ FIR No. 12/2022 بجرم 427، 337-H(ii)، 379، 506(ii)، 147، 148، 149 تعزیراتِ پاکستان میں مطلوب اشتہاری ملزم لال جان ولد مالک، قوم مغدوزئی کو گرفتار کر لیا ملزم کی گرفتاری کے بعد مزید تفتیش جاری ہے ایس پی موسی’ خیل نے کہا کہ
امن و امان کے قیام اور جرائم کے خاتمے کے لیے پرعزم۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9208/2026
کوئٹہ، 22 اکتوبر۔محکمہ اسکول ایجوکیشن بلوچستان اور قومی احتساب بیورو (نیب) بلوچستان کے اشتراک سے عالمی یومِ انسدادِ بدعنوانی کے حوالے سے طلبہ میں شعور و آگاہی اجاگر کرنے کے لیے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مضمون نویسی، خطاطی، پوسٹر سازی اور تقریری مقابلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ ہر سال 9 دسمبر کو منائے جانے والے عالمی یومِ انسدادِ بدعنوانی کے سلسلے میں محکمہ اسکول ایجوکیشن بلوچستان اور نیب بلوچستان کی جانب سے مختلف آگاہی پروگراموں اور تعلیمی و تخلیقی مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اسی سلسلے میں منعقدہ میگا ایونٹ میں طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی اور بدعنوانی کے خاتمے، دیانت داری، شفافیت اور ذمہ دار شہری ہونے کے حوالے سے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ تقریب میں سیکرٹری اسکول ایجوکیشن بلوچستان لال جان جعفر، ڈائریکٹر نیب بلوچستان محمد سلیم احمد، ڈائریکٹر ایجوکیشن اسکولز بلوچستان اختر محمد کھیتران، ڈائریکٹر فنانس محمد فاروق، چیف ایگزیکٹو آفیسر بلوچستان ایجوکیشن اسیسمنٹ کمیشن و ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منیر احمد نوتیزئی، ڈائریکٹر بلوچستان ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم ابرار احمد، ڈویژنل ڈائریکٹر کوئٹہ زبینہ مشتاق اور محکمہ تعلیم کے دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر اردو اور انگریزی مضمون نویسی، خطاطی اور پوسٹر سازی کے مقابلوں کے نتائج ماہرین کی ٹیم نے مرتب کیے، جبکہ اردو اور انگریزی تقریری مقابلوں کے فائنل بھی منعقد ہوئے۔ تقریری مقابلوں میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو 7 ہزار روپے، دوسری پوزیشن حاصل کرنے والوں کو 6 ہزار روپے اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والوں کو 5 ہزار روپے نقد انعامات کے ساتھ تعریفی اسناد اور سرٹیفکیٹس دیے گئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے معاشرے میں دیانت داری، شفافیت، قانون کی پاسداری اور اخلاقی اقدار کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ طلبہ کی کردار سازی اور تعلیمی اداروں میں مثبت اقدار کی ترویج کے ذریعے ایک ذمہ دار اور بدعنوانی سے پاک معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے تقریب کی ایک نمایاں خصوصیت ڈائریکٹر ایجوکیشن اسکولز بلوچستان اختر محمد کھیتران کی جانب سے 14 اگست کی تقریب میں طلبہ سے کیے گئے نقد انعامات کے وعدے کی تکمیل تھی۔ اس موقع پر یومِ آزادی کی تقریب میں تلاوتِ قرآن پاک، نعت خوانی، ٹیبلو، ملی نغموں اور اردو و انگریزی تقاریر میں حصہ لینے والے طلبہ و طالبات کو نقد انعامات دیے گئے۔ گورنمنٹ بوائز ہائی سیکنڈری اسکول سینٹرل کوئٹہ کے اسکاوٹس دستے اور گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول مشن روڈ کوئٹہ کے استقبالیہ بینڈ کے طلبہ کو بھی خصوصی نقد انعامات سے نوازا گیا۔ اسی طرح ڈائریکٹر ایجوکیشن اسکولز بلوچستان نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول مشن روڈ کوئٹہ، گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول جی او آر کالونی اور گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سرکی کلاں کوئٹہ میں منعقدہ سائنس نمائشوں کو سراہتے ہوئے تینوں اداروں کی سربراہان اور عملے کو تعریفی اسناد پیش کیں اور اپنے سابقہ اعلان کے مطابق ہر اسکول کے لیے 15 ہزار روپے نقد انعام فراہم کیا۔ اس اقدام کا مقصد طلبہ کی سائنسی، تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی اور تعلیمی اداروں میں صحت مند علمی سرگرمیوں کو فروغ دینا تھا۔ تقریری مقابلوں کے منصفین کے فرائض بیورو آف کریکولم کوئٹہ کی نگینہ رحمان اور محمد یوسف نے شفاف انداز میں انجام دیے۔اس پورے میگا ایونٹ کی انتظامات و آرگنائزیشن کی ذمے داری ڈائریکٹر ایجوکیشن اسکولز بلوچستان نے ایڈیشنل ڈائریکٹر ایڈمن ریاض احمد بھنگر کو دی گئی تھی، جنہوں نے اپنے فرائضِ منصبی انتہائی احسن طریقے سے سرانجام دیتے ہوئے اس پروگرام کو شاندار کامیابی سے ہمکنار کیا اور ڈائریکٹر ایجوکیشن اسکولز سمیت حکامِ بالا کی طرف سے بھرپور داد اور تحسین کے مستحق ٹھہرے جبکہ تقریب کے کامیاب انعقاد میں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول مشن روڈ کوئٹہ کی پرنسپل سلمیٰ اختر اور ان کے عملے، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فی میل کوئٹہ ذکیہ کاکڑ اور ان کی انتظامی ٹیم نے اہم کردار ادا کیا۔ اس موقع پر محکمہ اسکول ایجوکیشن کے دیگر افسران، مختلف اسکولوں کے سربراہان، اساتذہ، والدین اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9209/026
شاہرگ / ہرنائی
ضلع ہرنائی میں تعلیم کی صورتحال کو بہتر بنانے اور اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری و تدریسی معیار کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی ایجوکیشن آفیسر (ڈی ای او) ہرنائی غلام حیدر نے آج مورخہ 22 اکتوبر 2026ء کو تحصیل شاہرگ کے مختلف گرلز اور بوائز اسکولوں کا ہنگامی اور تفصیلی دورہ کیا۔معائنے کے دوران ضلعی ایجوکیشن آفیسر نے اسکولوں کے تمام شعبوں کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ انہوں نے اساتذہ اور طلباء و طالبات کے حاضری رجسٹرز کا خود جائزہ لیا اور کلاس رومز میں جا کر بچوں کی تعلیمی و تدریسی استعداد کی جانچ (Assessment) کی۔ ڈی ای او نے مختلف مضامین کے حوالے سے طلباء سے سوالات کیے اور موقع پر موجود اساتذہ کو تعلیمی معیار مزید بلند کرنے کے لیے اہم ہدایات دیں۔اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے ڈی ای او ہرنائی غلام حیدر نے واضح اور سخت الفاظ میں کہا کہ شعبہ تعلیم میں کسی قسم کی غفلت، سستی یا غیر حاضری برداشت نہیں کی جائے گی۔ بچوں کا مستقبل اور تعلیمی معیار ہماری پہلی ترجیح ہے۔ انہوں نے ڈیوٹی سے غیر حاضر اساتذہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ غیر حاضر اساتذہ کے خلاف فوری طور پر بلا امتیاز اور سخت محکماتی و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلع بھر کے تمام اسکولوں کا سرپرائز وزٹ آئندہ بھی باقاعدگی سے جاری رہے گا تاکہ تعلیمی اداروں میں ڈسپلن اور حاضری کو 100 فیصد یقینی بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر9210/026
نصیرآباد
22 اکتوبر 2026:
اُستا محمد۔۔ ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال کی زیرِ صدارت منعقدہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ DEG کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں اور اکتوبر 2026ء کی آر ٹی ایم ایس RTMS حاضری رپورٹ کی روشنی میں محکمہ تعلیم نے کارروائی کرتے ہوئے مسلسل غیر حاضر رہنے والے 26 تدریسی و غیر تدریسی اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے اس اقدام کا مقصد تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور دیگر عملے کی حاضری یقینی بنانا، سرکاری فرائض میں غفلت کا تدارک اور تعلیمی نظام میں نظم و ضبط کو مؤثر بنانا ہے
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اُستا محمد کی جانب سے کی جانے والی اس کارروائی کے ساتھ ساتھ معاملے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ اہلکاروں کی حاضری کا ریکارڈ اسکولوں کی دستاویزات آر ٹی ایم ایس رپورٹ اور دیگر دستیاب شواہد کا تفصیلی جائزہ لے کر حقائق کی بنیاد پر اپنی رپورٹ مرتب کرے اور آئندہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ DEG کے اجلاس میں پیش کرے۔انکوائری کمیٹی اس امر کو بھی یقینی بنائے گی کہ تمام متعلقہ اہلکاروں کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور صفائی کا مناسب موقع فراہم کیا جائے تاکہ کارروائی شفاف انداز میں مکمل ہو اور حقائق کی روشنی میں قواعد و ضوابط کے مطابق حتمی فیصلہ کیا جا سکے
ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور دیگر عملے کی حاضری ،پابندیٔ وقت ،تدریسی سرگرمیوں کے تسلسل اور تعلیمی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا سرکاری ملازمین کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فرائض باقاعدگی اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں کیونکہ عملے کی غیر حاضری براہِ راست طلبہ کی تعلیم اور تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے۔ضلعی انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانے اور سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے نگرانی کا عمل مزید مؤثر بنایا جائے گا غیر حاضری یا فرائض میں غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کے نتائج اور متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی، تاکہ ضلع میں تعلیمی نظام کو فعال، منظم اور جواب دہ بنایا جا سکے
خبرنامہ نمبر9211/026
لاہور، 21 اکتوبر2026: بلوچستان میں صنعتی سرمایہ کاری، زرعی پیداوار میں ویلیو ایڈیشن، فوڈ پراسیسنگ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر روشَن پیکیجز لمیٹڈ (RPL) اور بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ (BBoIT) کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔ مفاہمتی یادداشت پر روشَن پیکیجز لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو طیب اعجاز اور بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبدالمنان نے دستخط کیے۔تقریب میں بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلا ل خان کاکڑ، یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر، ایف پی سی سی آئی کے ریجنل چیئرمین ذکی اعجازاور دیگر بھی موجود تھے، مفاہمتی یادداشت کے تحت روشَن پیکیجز لمیٹڈ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لیتے ہوئے دو مرحلوں میں صنعتی منصوبوں کے قیام کا ارادہ رکھتی ہے۔ پہلے مرحلے میں پیکیجنگ مصنوعات تیار کرنے کا کارخانہ قائم کرنے کی تجویز ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں پھلوں اور سبزیوں کی پراسیسنگ کا پلانٹ لگانے کا منصوبہ شامل ہے جبکہ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ سرمایہ کار کمپنی کو متعلقہ صوبائی محکموں اور مجاز اداروں کے ساتھ رابطہ کاری، رہنمائی اور سرمایہ کاری کے عمل میں سہولت فراہم کرے گا۔ اس تعاون کے ذریعے مجوزہ منصوبوں پر پیش رفت کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطوں کو مؤثر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔اس موقع پر بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان میں صنعتی سرمایہ کاری کا فروغ، مقامی وسائل کی مؤثر استعمال کاری اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے وژن کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ روشَن پیکیجز لمیٹڈ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت صوبے میں صنعتی ترقی اور زرعی پیداوار کی ویلیو ایڈیشن کے نئے امکانات پیدا کرنے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔بلال خان کاکڑ نے کہا کہ مقامی زرعی پیداوار کو جدید پراسیسنگ اور معیاری پیکیجنگ کی سہولیات سے منسلک کرکے نہ صرف مصنوعات کی قدر میں اضافہ کیا جا سکتا ہے بلکہ مقامی کاروبار، صنعتوں اور روزگار کے مواقع کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔
خبرنامہ نمبر9212/026
کوئٹہ: بلوچستان کے وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی کی زیرِ صدارت بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) کے ماہانہ کارکردگی جائزہ اجلاس میں محصولات کی وصولی، ادارہ جاتی اصلاحات، ٹیکس قوانین پر عملدرآمد اور ڈیجیٹل نظام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری خزانہ جہانگیر خان کاکڑ، چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی عبداللہ خان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے ادارے کی مجموعی کارکردگی، محصولات کی وصولی اور جاری اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ اتھارٹی کی ڈیجیٹلائزیشن مکمل کر لی گئی ہے، جو ٹیکس انتظامیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے، دفتری امور میں بہتری اور کارکردگی میں اضافے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ مستقبل میں ٹیکس اسیسمنٹ کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹیکس قوانین پر عملدرآمد، نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے اور شفافیت یقینی بنانے کے لیے اتھارٹی کے آڈٹ ونگ کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکس تعمیل میں بہتری، مؤثر نگرانی اور ٹیکس انتظامیہ میں شفافیت کو فروغ دینا ہے.. چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے جاری رجسٹریشن مہم کے حوالے سے بھی بریفنگ دی، جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ کاروباری اداروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا، محصولات کی بنیاد کو وسیع کرنا اور صوبے میں ٹیکس نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنانا ہے۔
وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے اتھارٹی کی کارکردگی اور اصلاحاتی اقدامات کو سراہتے ہوئے محصولات کی وصولی میں مسلسل بہتری، ٹیکس قوانین پر مؤثر عملدرآمد اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے کوششیں مزید تیز کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے اس امر کی اہمیت اجاگر کی کہ جدید ٹیکنالوجی، مضبوط نگرانی اور بہتر انتظامی حکمتِ عملی کے ذریعے صوبائی محصولات میں اضافے اور ٹیکس نظام کی استعداد کار بہتر بنانے کے لیے مسلسل پیش رفت جاری رکھی جائے۔
خبرنامہ نمبر9213/026
کوئٹہ: ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کوئٹہ ڈاکٹر نصیر علی شاہ نے 22 اکتوبر 2026ء کو گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سرغرگئی کوئٹہ کا دورہ کیا اور اسکول میں منعقدہ سائنس نمائش کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر طالبات نے فزکس، کیمسٹری اور بائیولوجی کے مختلف سائنسی ماڈلز اور منصوبے پیش کیے اور اپنے کام کی تفصیلی وضاحت کی۔
دورے کے موقع پر اسکول کی ہیڈ مسٹریس مصباح اکرم نے ڈاکٹر نصیر علی شاہ کا استقبال کیا۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے نمائش میں پیش کیے گئے ماڈلز کا جائزہ لیا اور طالبات کی سائنسی معلومات، خود اعتمادی، تخلیقی صلاحیتوں اور عملی فہم کو سراہا۔
اس موقع پر خصوصی طور پر سائنس کی واحد معلمہ مس زرینہ بی بی کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیا گیا، جنہوں نے محدود تدریسی وسائل کے باوجود طالبات کی مؤثر رہنمائی کی اور تمام سائنسی منصوبوں کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔ڈاکٹر نصیر علی شاہ نے اسکول کی تعلیمی سرگرمیوں اور تدریسی ماحول کا بھی جائزہ لیا۔ اس دوران تمام اساتذہ اپنی اپنی کلاسوں میں موجود پائے گئے، جبکہ اسکول میں نظم و ضبط، صفائی ستھرائی اور تعلیمی ماحول تسلی بخش تھا۔ طالبات نے اپنے مضامین سے متعلق تصورات پر اچھی سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا۔
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے ہیڈ مسٹریس، اساتذہ اور طالبات کی مشترکہ کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی تعلیمی اور ہم نصابی سرگرمیاں طالبات میں سائنسی شعور، تحقیق، جدت طرازی، تنقیدی سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ تعلیم کوئٹہ طالبات کی تعلیمی و تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور عملی تعلیم کے فروغ کے لیے ایسے مثبت اقدامات کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گا۔ انہوں نے اسکول انتظامیہ اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ طالبات کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے اور سائنسی میدان میں آگے بڑھنے کے مزید مواقع فراہم کریں۔
خبرنامہ نمبر9214/026
کوئٹہ 22 اکتوبر 2026: ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کوئٹہ ڈاکٹر نصیر علی شاہ نے گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول کلی عالم خان کوئٹہ کا دورہ کیا اور اسکول میں منعقدہ سائنس نمائش کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر طالبات نے طبیعیات، کیمیا اور حیاتیات کے مختلف سائنسی ماڈلز اور منصوبے پیش کیے، جن میں ان کی تخلیقی صلاحیتوں، سائنسی فہم اور عملی مہارتوں کا بھرپور مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔دورے کے دوران ہیڈ مسٹریس بخت نامہ نے ڈی ای او کوئٹہ کا استقبال کیا اور ادارے کی تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ ڈاکٹر نصیر علی شاہ نے مختلف کلاس رومز کا دورہ بھی کیا اور طالبات کی تعلیمی سرگرمیوں، اساتذہ کی حاضری اور تدریسی ماحول کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اسکول میں نظم و ضبط اور تعلیم و تدریس کے لیے سازگار ماحول کو حوصلہ افزا قرار دیا۔اس موقع پر والدین و اساتذہ اسکول مینجمنٹ کمیٹی (PTSMC) کے چیئرمین اور ایک رکن بھی ان کے ہمراہ تھے۔ کمیٹی کے چیئرمین نے اسکول کے معیارِ تعلیم کو مزید بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا، جس پر ڈی ای او کوئٹہ نے تعلیمی معیار میں بہتری اور اسکول کے مجموعی ماحول کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ڈاکٹر نصیر علی شاہ نے ہیڈ مسٹریس بخت نامہ، تدریسی عملے، کمیٹی کے اراکین اور طالبات کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عملی تعلیم، سائنسی سرگرمیوں اور جدید تعلیمی اقدامات کی حوصلہ افزائی سے طالبات کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور تعلیمی معیار بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی محکمہ تعلیم کوئٹہ تعلیمی اداروں میں مثبت اقدامات، سائنسی جدت اور معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گا۔
خبرنامہ نمبر9215/026
موسیٰ خیل
22اکتوبر2026
حکومت بلوچستان کے زراعت دوست وژن اور کسان خوشحالی پالیسی پر سچے جذبے سے عمل پیرا ہوتے ہوئے ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی خصوصی ہدایات پر محکمہ زراعت توسیع نے ضلع بھر میں زرعی (کھاد اور ادویات) کی معیار اور قیمتوں کی چیکنگ کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔اسی سلسلے میں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع شمس الحق نے مختلف مارکیٹوں اور بازاروں میں زرعی ادویات اور کھاد کے ڈیلرز اور دکانوں کا اچانک معائنہ کیا۔
معائن کے دوران انہوں نے مختلف دکانوں پر موجود کھاد کے اسٹاک، اس کی مقررہ سرکاری نرخوں پر فروخت، اور زرعی ادویات کی معیار، رجسٹریشن اور تاریخِ تنسیخ (Expiry Date) کا تفصیلی جائزہ لیا۔
اس موقع پر بات کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع شمس الحق نے کہا کہ “حکومتِ بلوچستان اور ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک کی واضح ہدایات ہیں کہ ضلع کے کسانوں کو معیار اور قیمت کے معاملے میں کسی صورت تنہا یا غیر محفوظ نہ چھوڑا جائے۔ جعلی، غیر معیاری اور نالائق زرعی ادویات کی فروخت اور کھاد کی مصنوعی قلت یا گرانفروشی میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔”انہوں نے ڈیلرز کو سخت تنبیہ کی کہ تمام دکاندار سرکاری نرخ نامے نمایاں جگہوں پر آویزاں کریں کسانوں کو اصل اور رجسٹرڈ کمپنیوں کی معیاری ادویات و کھادیں فراہم کریں گرانفروشی، ذخیرہ اندوزی یا جعلی ادویات کی فروخت کی صورت میں قانونی کارروائی کرتے ہوئے دکانیں سیل کی جائیں گی اور بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔محکمہ زراعت توسیع نے زمینداروں اور کسانوں پر بھی زور دیا کہ وہ کوئی بھی زرعی دوا یا کھاد خریدتے وقت سرکاری نرخ نامہ اور پکی رسید لازمی حاصل کریں، اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا شکایت کی صورت میں فوری طور پر محکمہ زراعت یا انتظامیہ کو مطلع کریں۔
خبرنامہ نمبر9216/026
کوئٹہ 22اکتوبر2026۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے زیرِ صدارت کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (CSR) کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعلقہ حکام اور دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں CSR کے تحت جاری اور مجوزہ ترقیاتی و فلاحی اقدامات، عوامی ضروریات اور ضلعی سطح پر مختلف شعبوں میں بہتری لانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے اس موقع پر کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی مفاد کے منصوبوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔






