21st-October-2026

خبر نامہ نمبر9160/2026
کوئٹہ، 21 اکتوبر ۔سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن بلوچستان سید ظفر علی بخاری نے کوئٹہ کے نجی بی اے مال میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے قائم کردہ اسٹال کا دورہ کیا اور وہاں جاری عوامی آگاہی اقدامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ایکسائز محمد ایوب ہزارہ، ڈائریکٹر ایکسائز نصیر اللہ مندوخیل اور محکمہ کے دیگر متعلقہ حکام بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔دورے کے دوران متعلقہ حکام نے سیکرٹری ایکسائز کو اسٹال کے اغراض و مقاصد، محکمہ کی خدمات، جاری اقدامات اور عوامی آگاہی مہم کے لائحہ عمل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔سیکرٹری ایکسائز سید ظفر علی بخاری نے عوامی آگاہی کے لیے محکمہ کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ آگاہی مہم کو موثر اور مسلسل انداز میں جاری رکھا جائے تاکہ عوام کو محکمہایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے متعلق اپنے حقوق، ذمہ داریوں اور قانونی تقاضوں کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو گاڑیوں کی رجسٹریشن، کاغذات کی تکمیل، گاڑیوں کی قانونی حیثیت اور پراپرٹی ٹیکس سے متعلق قواعد و ضوابط کے بارے میں آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ منشیات کے مضر اثرات اور ان کی روک تھام کے حوالے سے بھی عوام میں شعور اجاگر کیا جائے تاکہ معاشرے کو منشیات کے ناسور سے پاک کرنے کی کوششوں کو تقویت ملے۔سیکرٹری ایکسائز نے اس امر پر زور دیا کہ عوامی آگاہی کے ذریعے محکمہ اور شہریوں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنایا جائے، شہریوں کو سرکاری خدمات سے متعلق درست معلومات فراہم کی جائیں اور انہیں اپنے قانونی حقوق و فرائض سے آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے اس سلسلے میں محکمہ کے متعلقہ حکام کو آگاہی سرگرمیوں کے تسلسل اور موثریت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9161/2026
بارکھان، 21 اکتوبر ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت عوام کو صحت کی سہولیات کی آسان اور موثر فراہمی کے لیے پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انسٹیٹیوٹ (پی پی ایچ آئی) بلوچستان کی جانب سے متعارف کرائی گئی موبائل ایپلیکیشن ”صحت دہلیز“ کے ذریعے شہری گھر بیٹھے آن لائن طبی مشورہ حاصل کر سکتے ہیں۔ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی بارکھان غلام رسول نے اپنے بیان میں کہا کہ اس ایپلیکیشن کا بنیادی مقصد عوام، بالخصوص دیہی اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے طبی سہولیات تک رسائی آسان بنانا ہے۔ ایپ کے ذریعے شہری ویڈیو کال پر ڈاکٹر سے طبی مشورہ حاصل کرنے اور صحت سے متعلق اپنا ریکارڈ محفوظ رکھنے جیسی سہولیات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صحت دہلیز ایپ ڈیجیٹل صحت کی سہولیات کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے ضلع بارکھان کے شہریوں کو طبی مسائل کی صورت میں ابتدائی رہنمائی حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس سہولت کے ذریعے عوام کو گھر بیٹھے طبی مشورے کی فراہمی اور صحت سے متعلق آگاہی کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ڈسٹرکٹ منیجر غلام رسول نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ صحت دہلیز ایپ سے استفادہ کریں اور ایپ کے استعمال سے متعلق رہنمائی کے لیے درج ذیل نمبر پر رابطہ کریں۔
صحت دہلیز ایپ ڈاون لوڈ کرنے کا لنک:
https:
//play.google.com/store/apps/details?id=org.pphib.sehatdehleez
رابطہ برائے رہنمائی: 0333-7111770 (واٹس ایپ / کال)
حکومتِ بلوچستان کا عزم: عوام کو صحت کی بہتر سہولیات، ہر دہلیز تک۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9162/2026
گوادر21 اکتوبر۔عوامی حلقوں نے میر عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ ہسپتال گوادر میں ادویات کی فراہمی اور خالی آسامیوں پر بھرتیوں کے لیے اقدامات پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے عوام دوست اقدامات کو سراہا ہے گوادر کے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں ادویات کی دستیابی یقینی بنانے اور طبی عملے کی کمی دور کرنے کے لیے حکومتی اقدامات صحت کی سہولیات میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔ ان اقدامات سے نہ صرف مریضوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات میسر آئیں گی بلکہ ہسپتال کی مجموعی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی،رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ اور محکمہ صحت کی جانب سے صحت کے شعبے میں جاری اقدامات کا سلسلہ برقرار رہے گا، تاکہ گوادر کے عوام کو بروقت، معیاری اور بہتر طبی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکیں عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی رکن صوبائی اسمبلی اور محکمہ صحت کے حکام کی توجہ، تعاون اور گوادر کے عوام کو درپیش طبی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات پر ایک بار پھر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے انہیں قابلِ تحسین قرار دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9163/2026
گوادر21 اکتوبر ۔ چیئرمین میونسپل کارپوریشن گوادر ماجد جوہر کی ہدایت پر شہر میں صفائی ستھرائی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ اس سلسلے میں سپروائزر ذاکر بلوچ کی نگرانی میں میونسپل کارپوریشن کی ٹیم دیمی ذر لنک روڈ پر ڈرینج کی صفائی اور نکاسی آب میں حائل رکاوٹوں کو دور کر رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کا مقصد نکاسی آب کے نظام کو موثر بنانا، صفائی کے معیار کو بہتر کرنا اور شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کی ٹیمیں شہر کے مختلف علاقوں میں بلدیاتی خدمات کی بہتری کے لیے فیلڈ میں صفائی ستھرائی میں مصروف ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9164/2026
کوئٹہ 21اکتوبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی نے کہا ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ایک قومی مسئلہ ہے، جو صرف کوئٹہ تک محدود نہیں بلکہ ملک کے مختلف علاقوں میں بھی سامنے آ رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کوئٹہ نے اس صورتحال میں ذخیرہ اندوزی اور خودساختہ گرانفروشی کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے ہیں تاکہ کوئی بھی شخص اس بحران سے ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکے۔کھلی کچہری کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے بتایا کہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ اور انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ کے اشتراک سے آٹے کی قیمتوں کا تعین کرنے کے لیے ہفتہ وار بنیادوں پر جائزے کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے، جس کے تحت آٹے کی مناسب قیمت کا تعین کیا جائے گا۔ ضلعی انتظامیہ کی پرائس کنٹرول کمیٹیاں اپنے متعلقہ سب ڈویژنز اور تحصیلوں میں مقررہ نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنائیں گی۔انہوں نے کہا کہ انسدادِ گداگری کارروائیاں ضلعی انتظامیہ کی ماہانہ کارکردگی کے جائزے کا حصہ ہیں۔ شہر میں گداگری سے متعلق شکایات موصول ہونے پر متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز اور سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ گزشتہ ہفتے بھی کارروائیوں کے دوران 18 افراد کو گرفتار کرکے جیل بھجوایا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے پارکنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ (MCQ) کے تحت مخصوص پارکنگ مقامات کو لیز پر دیا جاتا ہے، جہاں سے حکومت کو آمدن حاصل ہوتی ہے۔ تاہم، غیر قانونی پارکنگ اور غیر مجاز موٹر سائیکل اسٹینڈز سے متعلق شکایات پر انتظامی ٹیمیں موقع کا معائنہ کرتی ہیں اور غیر قانونی پارکنگ ختم کروا دی جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ دو روز قبل امداد چوک پر موٹر سائیکل اسٹینڈ قائم ہونے کی شکایت موصول ہوئی تھی۔ انتظامی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر جانچ پڑتال کی تو اسٹینڈ غیر قانونی ثابت ہوا، جسے فوری طور پر ختم کروا دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر مہر اللہ بادینی نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی شکایات کے ازالے، اشیائے ضروریہ کی مقررہ نرخوں پر فراہمی، گرانفروشی و ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور شہر میں غیر قانونی پارکنگ کے خاتمے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9165/2026
گوادر21اکتوبر۔ ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر ضلع میں صحت کی سہولیات کی بہتری، طبی اداروں کی کارکردگی موثر بنانے اور عوام کو معیاری طبی خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر، ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر حفیظ بلوچ، سی ای او جی ڈی اے ہسپتال ڈاکٹر ناصر شیخ میاں، سی ای او عمانی گرانٹ ہسپتال پسنی ڈاکٹر چاکر بلوچ، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر منیر بلوچ، ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر سوبان بلوچ، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر فاروق بلوچ، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر نیشنل پروگرام ڈاکٹر واحد بلوچ، محکمہ بلڈنگز اینڈ روڈز (بی اینڈ آر) کے نمائندوں سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع گوادر میں صحت کے شعبے کو درپیش مسائل، ان کے حل، سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت میں ادویات کی دستیابی، طبی سہولیات کے فقدان اور دیگر ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر محکمہ صحت کی خالی آسامیوں، افرادی قوت کی کمی اور طبی خدمات کی موثر فراہمی سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئے۔اجلاس میں غیر حاضر ڈاکٹروں اور دیگر عملے کے خلاف محکمانہ کارروائی اور قواعد و ضوابط کے مطابق تنخواہوں میں کٹوتی کے معاملات پر بھی غور کیا گیا، تاکہ سرکاری طبی اداروں میں حاضری، نظم و ضبط اور عملے کی جواب دہی کو یقینی بنایا جا سکے۔اس کے علاوہ عمانی گرانٹ ہسپتال پسنی، جی ڈی اے ہسپتال گوادر اور ٹیچنگ ہسپتال گوادر کے درمیان باہمی رابطوں اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید موثر بنانے پر زور دیا گیا، تاکہ دستیاب وسائل سے بہتر استفادہ کرتے ہوئے مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ صحت کے شعبے میں موجود مسائل کے حل، ادویات کی بروقت فراہمی، عملے کی حاضری اور ہسپتالوں کی کارکردگی میں بہتری کے لیے متعلقہ ادارے باہمی رابطے کے ساتھ موثر اقدامات کریں، تاکہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر9166/2026
کوئٹہ21 اکتوبر۔صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ کی زیرِ صدارت صوبے میں جاری وفاقی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان چیف انجینئر فیڈرل پروجیکٹس ڈاکٹر سجاد بلوچ چیف انجینئر خاران مکران زون چیف انجینئر سبی زون اور مختلف منصوبوں کے پروجیکٹ ڈائریکٹرز و دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس کے دوران چیف انجینئر فیڈرل پروجیکٹس ڈاکٹر سجاد بلوچ نے صوبے میں جاری تمام وفاقی ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت منصوبوں کی تکمیل کے لیے مقررہ ٹائم فریم درپیش مالی و تکنیکی مشکلات اور دیگر متعلقہ امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اس موقع پر سیکریٹری مواصلات وتعمیرات بابر خان نے کہا کہ صوبے میں جاری وفاقی منصوبے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جن کی تکمیل سے صوبے کے بنیادی ڈھانچے میں نمایاں بہتری آئے گی اور ترقی کے عمل میں ایک نئی رفتار پیدا ہوگی انہوں نے کہا کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کی جانب سے ان منصوبوں پر پیش رفت کا تسلسل کے ساتھ جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے مزید کہا کہ منصوبوں کی راہ میں حائل مالی یا تکنیکی نوعیت کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ترقیاتی کام مقررہ مدت کے اندر مکمل ہوں اور عوام کو ان کے ثمرات جلد از جلد حاصل ہو سکیں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا کہ نامساعد حالات کے باوجود ترقیاتی منصوبوں کو جاری رکھنا اور انہیں تکمیل کی جانب لے جانا قابلِ تحسین اقدام ہے انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وفاقی منصوبوں پر کام کی رفتار میں مزید تیزی لائی جائے اور حساس نوعیت کے منصوبوں پر سیکورٹی کے حوالے سے بھی اقدامات اٹھائے جائیں منصوبوں کی بروقت تکمیل میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ منصوبے صوبے کے عوام کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں اور ان کی تکمیل سے نہ صرف بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئے گی بلکہ عوام کو سفری سہولیات کے حوالے سے درپیش مشکلات میں بھی نمایاں کمی واقع ہوگی انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے بلوچستان کے لیے اہم نوعیت کے متعدد منصوبے فراہم کیے گئے ہیں جن سے صوبے کی معاشی و سماجی ترقی کو فروغ ملے گا صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے متعلقہ افسران پر زور دیا کہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے ان منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل یقینی بنائیں اور پروجیکٹ ڈائریکٹرز اپنے منصوبوں پر اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں کیونکہ آفیسران کی موجودگی سے ان منصوبوں کو مکمل کرنے میں مذید آسانی اور بہتری آئے گی انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر عملی جامہ پہنانے کے لیے موثر حکمتِ عملی اختیار کریں غفلت برتنے والے آفیسران کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی نہیں ہوگی لہذا اپنے منصوبوں پر بھر پور توجہ دیں صوبائی حکومت صوبے کی ترقی اور عوام کو بہتر سفری و بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے جبکہ وفاقی منصوبوں کی بروقت تکمیل اس سلسلے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9167/2026
برشور21 اکتوبر ۔ڈپٹی کمشنر برشور فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسسٹنٹ کمشنر برشور سید رضی ہریرہ، اسسٹنٹ کمشنر توبہ کاکڑی معید جاموٹ اور محکمہ تعلیم کے ضلعی آفسران سمیت تمام ہیڈ کلسٹرز نے شرکت کی،اجلاس کا بنیادی مقصد ضلع بھر میں سرکاری اسکولوں کی مجموعی کارکردگی کو جانچنا،اساتذہ کی حاضری کا جائزہ لینا اور تعلیمی اداروں کو درپیش بنیادی مسائل کا فوری حل تلاش کرنا تھا،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خالد شمس نے شفافیت اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے تمام ہیڈ کلسٹرز کو سخت احکامات جاری کیے کہ وہ اپنے ماتحت ملازمین کا مکمل ڈیٹا دفتر میں جمع کرائیں اور اس ریکارڈ کی محکمہ خزانہ سے باقاعدہ تصدیق کو یقینی بنائیں،انہوں نے واضح کیا کہ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے اساتذہ کی حاضری اور تدریسی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی ناگزیر ہے،جس کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اسکولوں کے دورے کیے جائیں،انہوں نے خبردار کیا کہ اساتذہ کی غیر حاضری اور فرائض میں کسی بھی قسم کی غفلت یا سستی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسے عناصر کے خلاف فوری تادیبی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی،ڈپٹی کمشنر نے اسسٹنٹ کمشنرز اور ضلعی آفسران پر زور دیا کہ وہ اپنے ماتحت اسکولوں کے باقاعدہ اور شیڈولڈ دورے کریں تاکہ ضلع کا کوئی بھی اسکول غیر فعال نہ رہے اور طلبہ کا تدریسی عمل بلا تعطل جاری رہے،اس کے ساتھ ہی انہوں نے ہدایت کی کہ علاقے میں قائم خستہ حال اسکولوں کی فوری طور پر نشاندہی کی جائے تاکہ ان کی تفصیلی رپورٹ ڈی ای او آفس کو فراہم کی جا سکے اور اسکولوں کی مخدوش عمارتوں کی بروقت مرمت و بحالی کر کے بچوں کے لیے ایک محفوظ اور سازگار تعلیمی ماحول قائم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9168/2026
گوادر21 اکتوبر۔ صوبائی حکومت کی تعلیم دوست پالیسی کے تحت طالبات کی تعلیمی و ذہنی نشوونما، مشاہداتی صلاحیتوں میں اضافے اور نصابی علم کو عملی تجربات سے مربوط کرنے کے لیے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول ببر شور پسنی کی جماعت دہم کی طالبات نے اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری کے خصوصی تعاون سے گوادر کا مطالعاتی دورہ کیا طالبات نے ہیڈ مسٹریس کی نگرانی میں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول شمبے اسماعیل گوادر، جے ڈی اے پارک اور گوادر ویمن بازار کا دورہ کیا، جہاں انہیں تعلیمی ماحول، شہری سرگرمیوں اور مختلف سماجی و معاشرتی پہلووں کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا اس مطالعاتی دورہ کا مقصد طالبات کو روایتی تدریسی سرگرمیوں سے ہٹ کر عملی مشاہدے کے ذریعے علم و آگاہی فراہم کرنا، ان کے اعتماد اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور تعلیمی سرگرمیوں کو حقیقی زندگی کے تجربات سے ہم آہنگ کرنا تھا۔طالبات نے مطالعاتی دورہ کے انعقاد میں اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری کے خصوصی تعاون اور معاونت کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ آئندہ بھی طالبات کی تعلیمی و ذہنی نشوونما، علمی استعداد میں اضافے اور مثبت سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ایسے بامقصد اقدامات جاری رکھیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9169/2026
دکی 21 اکتوبر۔: ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی (DHC) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی، ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر، صحت کے مختلف پروگراموں کے ضلعی کوآرڈینیٹرز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع بھر کے سرکاری ہسپتالوں اور صحت مراکز کی کارکردگی، طبی عملے کی حاضری، فیلڈ وزٹس کی رپورٹس، عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے واضح کیا کہ طبی عملے کی غیر حاضری اور فرائض کی انجام دہی میں غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور کوتاہی کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام صحت مراکز میں عملے کی بروقت حاضری اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے، جبکہ غیر حاضر عملے کی تفصیلات اور فیلڈ وزٹس کی رپورٹس پیش کی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور صحت کے شعبے میں انتظامی غفلت یا لاپرواہی کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9170/2026
دکی 21 اکتوبر۔ ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ (DEG) کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، پرنسپل گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج دکی، ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر، ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر آفیسر، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (میل و فیمیل)، آر ٹی ایس ایم ہیڈ اور دیگر افسران نے شرکت کی اجلاس میں گزشتہ فیصلوں پر عملدرآمد، اساتذہ و عملے کی حاضری، مسلسل غیر حاضر ملازمین، غیر فعال و بند اسکولوں کی صورتحال، آر ٹی ایس ایم رپورٹس اور کلسٹرز کے تحت تعلیمی سامان کی تقسیم کا جائزہ لیا گیا۔ اسکولوں، اساتذہ، فرنیچر اور دیگر اثاثوں کا مکمل ریکارڈ مرتب کرنے، گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول بازار دکی کے خستہ حال کمروں کی مسماری اور ٹی کے ایف کے تحت اضافی کلاس رومز کی تعمیر پر بھی غور ہواڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ اساتذہ اور عملے کی حاضری یقینی بنائی جائے، غیر فعال و بند اسکولوں کے مسائل حل کیے جائیں اور تمام ریکارڈ درست و مکمل رکھا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فرائض میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی۔ انہوں نے افسران کو تعلیمی نظام کی بہتری، موثر نگرانی اور طلبہ کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کی ہدایت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9171/2026
کوہلو 21 اکتوبر۔اسسٹنٹ کمشنر سمیع الحق کاکڑ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع میں صحت کی سہولیات کی مجموعی صورتحال، سرکاری مراکز صحت کو درپیش مسائل اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران ضلع کے مختلف مراکز صحت میں دستیاب طبی سہولیات، ادویات کی فراہمی، عملے کی حاضری، طبی خدمات کی بہتری اور صحت کے شعبے کو درپیش مسائل پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر افسران کے فیلڈ وزٹس، مراکز صحت کی کارکردگی اور نگرانی کے نظام کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ صحت کی سہولیات کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کرکے ان کے موثر حل کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کو درپیش مسائل، بالخصوص ادویات کی قلت اور دیگر انتظامی و طبی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ایکسرے مشین اور سی بی سی مشین کی خرابی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جس پر دونوں مشینوں کی مرمت کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی گئی تاکہ مریضوں کو تشخیصی سہولیات کی فراہمی بحال کرنے اور انہیں درپیش مشکلات کے ازالے میں مدد مل سکے۔ اجلاس میں صحت مراکز کی کارکردگی بہتر بنانے، ادویات کی دستیابی یقینی بنانے اور مریضوں کو درپیش مشکلات کے ازالے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ غیر حاضر ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سمیع الحق کاکڑ نے کہا کہ ضلع کے تمام مراکز صحت میں شہریوں کو بروقت اور بہتر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صحت عامہ سے متعلق مسائل کے حل، ادویات کی دستیابی اور طبی عملے کی پابندی وقت پر خصوصی توجہ دی جائے، انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ افسران باقاعدگی سے مراکز صحت کے دورے کریں، عملے کی حاضری اور طبی سہولیات کی دستیابی کی نگرانی کریں اور عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت نہ برتی جائے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ صحت کے شعبے میں درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرکے عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر شیر زمان مری، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر اصغر مری، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی رفیق بزدار، ایم اینڈ ای ای پی آئی کلیم بلوچ، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر بی آر ایس پی ملیریا پروگرام حبیب اللہ زرکون سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر9172/026
کوئٹہ 21اکتوبر2026۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میل و فیمیل، متعلقہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (DDOs) اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع کوئٹہ کے تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور دیگر عملے کی حاضری، غیر حاضر ملازمین کے خلاف کارروائی، نئے تعینات ہونے والے اساتذہ کی جائے تعیناتی، تنخواہوں کی ادائیگی اور دیگر انتظامی و تعلیمی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی باقاعدہ حاضری یقینی بنانے، نئے تعینات ہونے والے اساتذہ کی تعیناتی کے معاملات کو مؤثر انداز میں حل کرنے اور تنخواہوں سے متعلق مسائل کے ازالے پر بھی غور کیا گیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے، اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے اور طلبہ کو معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے تعلیمی امور سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے اور تمام متعلقہ محکموں کے درمیان رابطے اور تعاون کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا۔

خبرنامہ نمبر9173/026
اسلام آباد، 21 اکتوبر 2026:
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کو درپیش گورننس کے چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے، عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنانے اور انتظامی امور کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے صوبے میں مزید انتظامی یونٹس، مؤثر بلدیاتی نظام اور اضافی وسائل کی ضرورت ہے۔ بلوچستان جیسے وسیع رقبے پر مشتمل صوبے کو صرف کوئٹہ سے بیٹھ کر مؤثر انداز میں چلانا ایک بڑا انتظامی چیلنج ہے، اس لیے ملکی سطح پر انتظامی تنظیمِ نو، نئے صوبوں کے قیام اور موجودہ گورننس ماڈلز کا سنجیدہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر قومی مکالمے کا آغاز خوش آئند ہے، تاہم ضروری ہے کہ اس بحث کو سیمینارز اور ہوٹلوں تک محدود رکھنے کے بجائے پارلیمنٹ میں لے جایا جائے اور اس حوالے سے وسیع تر سیاسی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صنوبر فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام پاکستان کی انتظامی تنظیمِ نو اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق قومی مباحثے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے پاکستان میں گورننس کے موجودہ ماڈلز کی تشکیلِ نو یا انہیں برقرار رکھنے کے حوالے سے بحث جاری ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اس قومی مکالمے میں یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ ویسٹ منسٹر طرزِ جمہوریت کس حد تک عوام کو مطلوبہ نتائج فراہم کر پا رہی ہے اور آیا انتظامی تقسیم اور رقبے کی موجودہ ترتیب بھی عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کہیں انتظامی اکائیوں کی موجودہ تقسیم ہی ایسی مشکلات کا سبب تو نہیں بن رہی جن کی وجہ سے ایک نظام کو ناکام تصور کیا جا رہا ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان جغرافیائی وسعت کے فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب سے آنے والے ان کے دوست اور ساتھی جب واہگہ بارڈر سے سفر شروع کرکے راجن پور کے قریب شاہوالی پہنچتے ہیں تو پنجاب کا علاقہ ختم ہو جاتا ہے، اور اس سفر میں تقریباً چھ سے سات گھنٹے لگتے ہیں۔ اس کے برعکس بلوچستان کے کسی ایک ضلع کے اندر ایک مقام سے دوسرے مقام تک سفر کرنے میں بھی دس گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ یہ فرق صوبے کے جغرافیائی پھیلاؤ اور انتظامی ضروریات کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں انتظامی اصلاحات کی ضرورت کو اسی زمینی حقیقت کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس نوعیت کی اصلاحات کے لیے سب سے پہلے سیاسی اتفاق رائے ضروری ہے۔ قومی مباحثے اور سیمینارز اس سمت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، لیکن ان کی حقیقی افادیت اسی وقت سامنے آئے گی جب یہ بحث پارلیمنٹ تک پہنچے گی اور سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر قابلِ عمل حل پر اتفاق کریں گی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ بلوچستان کو نہ صرف مزید صوبوں یا انتظامی اکائیوں کی ضرورت ہے بلکہ موجودہ صوبائی انتظامی ڈھانچے کو بھی عوامی ضروریات کے مطابق مؤثر بنانا ناگزیر ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے اپنے دورِ وزارتِ داخلہ کے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خضدار کے دور دراز علاقے سارونہ کے قریب ایک مزار پر خودکش حملہ ہوا تھا جس میں متعدد بے گناہ افراد جاں بحق ہوئے۔ اس واقعے کے بعد لاہور یا اسلام آباد میں موجود ایک اینکر پرسن نے ان سے رابطہ کرکے دریافت کیا کہ ڈپٹی کمشنر ابھی تک جائے وقوعہ پر کیوں نہیں پہنچے۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو ضلعی ہیڈکوارٹر سے جائے وقوعہ تک پہنچنے میں تقریباً نو گھنٹے درکار تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک انتظامی افسر کو اپنے ہی ضلع کے اندر کسی ہنگامی صورتحال پر ردعمل دینے کے لیے نو گھنٹے سفر کرنا پڑے تو اس سے انتظامی ڈھانچے اور جغرافیائی فاصلے کے درمیان موجود بنیادی مسئلے کی نشاندہی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت وسائل کی تقسیم میں آبادی کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے، تاہم انتظامی ضروریات، جغرافیائی وسعت اور عوام تک خدمات کی رسائی جیسے عوامل کو بھی مناسب اہمیت ملنی چاہیے۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ جب انہوں نے صوبائی حکومت کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو بلوچستان میں ڈویژنز کی تعداد آٹھ تھی، جسے بڑھا کر بارہ کر دیا گیا ہے، جبکہ اضلاع کی تعداد تقریباً 36 سے بڑھا کر 41 کی گئی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد بڑے اضلاع کو چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرکے انتظامی امور کو آسان بنانا اور عوام کو سرکاری خدمات تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اپنے انتظامی اختیارات کے تحت ممکنہ اقدامات کیے ہیں، تاہم آئینی ترامیم اور دیگر بڑے فیصلوں کے لیے وسیع تر سیاسی اتفاق رائے درکار ہوگا۔بلدیاتی نظام کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وسائل کی کمی اپنی جگہ ایک اہم مسئلہ ہے، لیکن بلوچستان میں اس وقت بلدیاتی نظام موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق بلوچستان ان چند صوبوں میں شامل ہے جہاں بلدیاتی نظام فعال ہے، تاہم اس حوالے سے انہوں نے اپنے بیان میں حتمی دعویٰ کرنے کے بجائے وضاحت کی کہ انہیں دیگر صوبوں کی موجودہ صورتحال کا مکمل اندازہ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں بلدیاتی اداروں کی موجودہ مدت 8 فروری کو مکمل ہو رہی ہے اور صوبائی حکومت پہلے ہی الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط لکھ کر درخواست کر چکی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے فوری طور پر تاریخ دی جائے تاکہ جمہوری عمل کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے قومی سیاست میں بلوچستان کی نمائندگی اور مرکزی سیاسی جماعتوں کی توجہ کے حوالے سے کہا کہ وہ خود ایک مرکزی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنی جماعت کی جانب سے ملنے والی عزت اور اعتماد کے شکر گزار ہیں، لیکن ملک کی سیاسی ترجیحات اور نمائندگی کے تناسب کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے منتخب ہونے والے اراکینِ قومی اسمبلی کی تعداد گوجرانوالہ، لاہور اور فیصل آباد ڈویژنز میں سے ہر ایک کی نمائندگی سے بھی کم ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ مرکزی سیاسی جماعتیں بلوچستان کے مسائل، ضروریات اور ترقیاتی ترجیحات کو زیادہ سنجیدگی سے سمجھیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیاست دانوں کی بنیادی ذمہ داری قانون سازی ہے، لیکن پاکستان میں سیاسی عمل بڑی حد تک نالیوں، سڑکوں اور مقامی ترقیاتی کاموں کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرنے تک محدود ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سیاست کا محور بنیادی طور پر مقامی نوعیت کے ترقیاتی منصوبے بن جائیں تو قانون سازی، پالیسی سازی اور بڑے قومی مسائل پر توجہ متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ مقامی سطح کے مسائل منتخب بلدیاتی نمائندے حل کریں اور صوبائی و قومی سطح کے منتخب نمائندے قانون سازی اور وسیع تر پالیسی معاملات پر توجہ دے سکیں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان کو مرکزی سیاسی جماعتوں، قومی ذرائع ابلاغ، اہلِ دانش، ملک کے تمام متعلقہ اداروں اور بالخصوص بیوروکریسی کی سنجیدہ توجہ درکار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صوبے کے مسائل کے حل کے لیے محض بیانات کافی نہیں، بلکہ انتظامی ڈھانچے کی مؤثر تنظیمِ نو، مزید انتظامی اکائیوں کا قیام، مضبوط اور فعال بلدیاتی نظام اور آبادی کے ساتھ ساتھ صوبے کی جغرافیائی وسعت اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب وسائل کی فراہمی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی انتظامی اور ترقیاتی ضروریات کو قومی پالیسی سازی میں مناسب مقام دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

خبرنامہ نمبر9174/026
گوادر21 اکتوبر2026: صوبائی حکومت کی تعلیم دوست پالیسی کے تحت طالبات کو معیاری تعلیم کے ساتھ عملی ہنر سے آراستہ کرنے، ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے اور خود روزگاری کے مواقع فراہم کرنے کے سلسلے میں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول شمبے اسماعیل میں منعقدہ چھ روزہ کروشیا کرافٹ تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر ہوگئی۔ اس موقع پر تربیت مکمل کرنے والی طالبات میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے جبکہ طالبات کی تیار کردہ کروشیا مصنوعات کی نمائش بھی کی گئی، جسے شرکاء نے سراہا۔
اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر گوادر وہاب مجید تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم کا مقصد صرف نصابی علم فراہم کرنا نہیں بلکہ طالبات کو عملی زندگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور انہیں خودمختار بننے کے مواقع فراہم کرنا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تربیتی سرگرمیاں طالبات میں خود اعتمادی، تخلیقی صلاحیتوں اور ہنرمندی کو فروغ دینے کے ساتھ مستقبل میں باعزت روزگار کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں تقریب سے اسکول کے ہیڈمسٹریس بلقیس سلیمان ،انسٹرکٹر فاطمہ، مزمل، سقر ناصر، عادل نودزہی و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چھ روزہ تربیتی ورکشاپ کا بنیادی مقصد طالبات کو روایتی تعلیم کے ساتھ ہنر مند بنانا اور انہیں اپنی صلاحیتوں کے ذریعے معاشی خودمختاری کی جانب گامزن کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فنی تربیت کو تعلیمی سرگرمیوں کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ اس سے طالبات کو تعلیم کے ساتھ عملی زندگی میں آگے بڑھنے کے بہتر مواقع میسر آتے ہیں۔مقررین نے معروف کاروباری شخصیت و ایکسپورٹر میر فاروق کلمتی کی تعلیمی، صحت اور سماجی شعبوں میں خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ طالبات کے لیے ہنرمندی کی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد ان کے احساسِ ذمہ داری اور فروغِ تعلیم کے عزم کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بامقصد اقدامات طالبات کی تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے، انہیں عملی زندگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور خود روزگاری کے ذریعے معاشی خودمختاری کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر تربیت مکمل کرنے والی طالبات میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے

خبرنامہ نمبر9175/026
نصیرآباد
21 اکتوبر 2026:
اُستا محمد۔۔ میٹرک کے پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات کے اعزاز میں آگاہی اجلاس منعقد ھوا اجلاس میں اعلیٰ تعلیم کے حصول اور وظائف سے متعلق رہنمائی فراہم کی گئی ۔واضح رہے کہ آج ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال کی زیر صدارت میٹرک کے امتحانات میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات اور ان کے سرپرستوں کے ساتھ ایک اہم آگاہی اجلاس منعقد ہوا جس کا مقصد ہونہار طلبہ و طالبات کی تعلیمی کامیابیوں کو سراہنا ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے دستیاب مواقع وظائف اور مالی معاونت کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا تھا
اجلاس میں میٹرک کے امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ ذاکر حسین، اسد خان، محمد یاسین بلوچ، محمد عزیر اور عمر خان جبکہ طالبات رونق فاطمہ، بختاور، رمشا طالب عالیہ اور زینب اسد نے شرکت کی اس موقع پر ان کے سرپرستوں کے علاوہ اسسٹنٹ کمشنر اُستا محمد ماریا شمعون پرنسپل بوائز کالج عبیداللہ زہری اور پرنسپل گرلز کالج نگہت جان بھی موجود تھیں
ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے طلبہ و طالبات کی تعلیمی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے انہیں مبارک باد دی اور کہا کہ امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنا ان کی محنت لگن مستقل مزاجی اور تعلیمی قابلیت کا ثبوت ہے انہوں نے کہا کہ ہونہار طلبہ و طالبات ملک و صوبے کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ انہیں اعلیٰ تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے
انہوں نے طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کے لیے بھرپور محنت جاری رکھیں اور مستقبل میں اپنی دلچسپی، قابلیت اور تعلیمی اہلیت کے مطابق اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے حاصل کرنے کی کوشش کریں انہوں نے کہا کہ طلبہ کو اپنی منزل کے تعین میں محدود سوچ کے بجائے وسیع تر تعلیمی مواقع کو مدنظر رکھنا چاہیے اور ملک کے نامور کالجوں اور جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کے دستیاب مواقع سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے
ڈپٹی کمشنر نے اجلاس کے شرکاء کو بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) کے تحت اہل طلبہ و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں فراہم کی جانے والی مالی معاونت سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان کی جانب سے مستحق اور اہل طلبہ و طالبات کے لیے مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق وظائف اور مالی معاونت کے مواقع موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر ہونہار طلبہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھ سکتے ہیں انہوں نے طلبہ اور ان کے سرپرستوں کو ہدایت کی کہ وہ وظائف کے حصول کے لیے متعلقہ اداروں سے بروقت معلومات حاصل کریں اور داخلوں و درخواستوں کے لیے مقررہ شرائط پوری کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ مالی وسائل کی کمی کسی بھی باصلاحیت طالب علم کی تعلیمی ترقی میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے، اس لیے دستیاب تعلیمی معاونت اور وظائف کے مواقع سے متعلق آگاہی نہایت اہم ہے والدین اور سرپرستوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کریں ان کی تعلیمی ضروریات پر توجہ دیں اور انہیں بہتر مستقبل کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کریں
ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نوجوان نسل کو معیاری تعلیم کے حصول کے لیے رہنمائی فراہم کرنا اور ان کی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں بروئے کار لانے کی حوصلہ افزائی کرنا معاشرے کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے انہوں نے کہا کہ یہی ہونہار طلبہ و طالبات مستقبل میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے سکتے ہیں اور اپنے والدین، علاقے اور صوبے کا نام روشن کرسکتے ہیں
اجلاس کے اختتام پر طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا گیا کہ وہ اپنی محنت اور لگن کو برقرار رکھتے ہوئے مستقبل میں مزید کامیابیاں حاصل کریں گے اور ملک کی ترقی میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں گے

خبرنامہ نمبر9176/026
چمن: کمشنر پشین ڈویژن قائم لاشاری نے ضلع چمن کا دورہ کیا، جہاں ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چمن فدا بلوچ نے ان کا استقبال کیا۔ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر آفس چمن میں کمشنر پشین ڈویژن کی زیرِ صدارت تمام لائن ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان کا تعارفی و رابطہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلعی انتظامی امور، سرکاری محکموں کی کارکردگی، جاری ترقیاتی منصوبوں، امن و امان کی صورتحال اور عوامی مسائل سمیت مختلف اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے کمشنر پشین ڈویژن کو ضلع چمن کے مجموعی انتظامی امور، مختلف سرکاری محکموں کی کارکردگی، جاری ترقیاتی سرگرمیوں، عوامی مسائل اور امن و امان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوامی مسائل کے حل، سرکاری امور کی مؤثر انجام دہی اور مختلف شعبوں میں بہتری کے لیے جاری اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔اس موقع پر مختلف لائن ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان نے اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی، جاری منصوبوں، پیش رفت اور درپیش مسائل کے حوالے سے کمشنر پشین ڈویژن کو بریفنگ دی۔ اجلاس میں محکموں کے درمیان باہمی رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنانے، سرکاری امور کی بروقت انجام دہی، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔کمشنر پشین ڈویژن قائم لاشاری نے متعلقہ محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام افسران اپنی ذمہ داریاں پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں، عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دیں اور سرکاری پالیسیوں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائیں۔ انہوں نے جاری ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، معیار اور بروقت تکمیل پر بھی زور دیا تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات سے مستفید کیا جا سکے۔امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے کمشنر پشین ڈویژن کو ضلع میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، سکیورٹی انتظامات، جرائم کی روک تھام کے لیے جاری اقدامات اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس موقع پر ضلع میں امن و استحکام برقرار رکھنے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور سکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔بعدازاں کمشنر پشین ڈویژن قائم لاشاری نے چمن ماسٹر پلان کا دورہ کیا اور وہاں انتظامی امور، متعلقہ سرگرمیوں اور مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ماسٹر پلان سے متعلق موجودہ پیش رفت اور متعلقہ امور کا مختصر معائنہ کیا گیا۔کمشنر پشین ڈویژن نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام ادارے باہمی تعاون کے ذریعے انتظامی امور کو بہتر بنائیں اور عوامی مفاد کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دیں۔دورے کے اختتام پر کمشنر پشین ڈویژن قائم لاشاری نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چمن کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) نے انہیں ہسپتال کی مجموعی کارکردگی، طبی سہولیات کی دستیابی، مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات اور دیگر انتظامی امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
اس موقع پر ہسپتال کے مختلف شعبوں اور طبی سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔ کمشنر پشین ڈویژن نے صحت کے شعبے میں بہتری، طبی سہولیات کی مؤثر فراہمی اور مریضوں کو معیاری علاج معالجے کی خدمات فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
کمشنر پشین ڈویژن قائم لاشاری کے دورۂ چمن کا بنیادی مقصد ضلعی انتظامی امور اور سرکاری محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لینا، امن و امان کی صورتحال سے آگاہی حاصل کرنا، جاری ترقیاتی سرگرمیوں کا معائنہ کرنا اور عوامی خدمات کی بہتری کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانا تھا۔

خبرنامہ نمبر9177/026
کوئٹہ، 21 اکتوبر 2026:
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے عوام کو گھر بیٹھے مفت طبی مشاورت کی سہولت فراہم کرنے کے لیے جدید ڈیجیٹل ایپلی کیشن ’’صحت دہلیز‘‘ متعارف کروا دی ہے، جس کے ذریعے شہری 24 گھنٹے، سال کے 365 دن تجربہ کار طبی ماہرین سے مفت مشاورت حاصل کر سکیں گے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صحت کی سہولیات کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام کی دہلیز تک پہنچانا حکومت بلوچستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایپ کی فعالیت کے پہلے ہی روز 791 کنسلٹیشن کالز کے ذریعے شہریوں کو تجربہ کار ڈاکٹروں نے مفت طبی مشاورت فراہم کی، جو اس سہولت کی افادیت اور عوامی ضرورت کا واضح اظہار ہے۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے وسیع رقبے، دور افتادہ آبادیوں اور بعض علاقوں میں طبی سہولیات تک رسائی کے مسائل کے پیش نظر جدید ڈیجیٹل ذرائع سے صحت کی خدمات کی فراہمی اہمیت رکھتی ہے۔ صحت دہلیز ایپ کے ذریعے شہریوں کو گھر بیٹھے طبی مشاورت میسر آئے گی، جس سے انہیں ابتدائی رہنمائی کے لیے طویل سفر اور غیر ضروری مشکلات سے بچنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے میں عوام کو سہولت فراہم کرنے اور دور دراز علاقوں میں طبی خدمات کی رسائی بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہمارا عزم ہے کہ گرمی میں جھلستے اور سردی میں ٹھٹھرتے عام بلوچستانی کو معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جائے اور جغرافیائی فاصلے کسی شہری کے لیے طبی رہنمائی کے حصول میں رکاوٹ نہ بنیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صحت دہلیز جیسی ڈیجیٹل سہولیات عوام اور طبی ماہرین کے درمیان رابطے کو آسان بنانے اور صحت کی خدمات کی فراہمی میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی جانب اہم قدم ہیں۔ حکومت بلوچستان عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے صحت سمیت بنیادی شعبوں میں سہولیات کی بہتری کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔

خبرنامہ نمبر9178/026
لورالائی:ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن(ر)محمدحسیب شجاع کے زیرِ صدارت ضلعی تعلیمی گروپ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے تعلیمی اداروں کی کارکردگی، تدریسی عملے کی حاضری، بند اسکولوں کی بحالی اور تعلیمی شعبے میں جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں سخت ہدایات جاری کی گئیں کہ ضلع بھر میں بند اسکولوں کو دستیاب تدریسی عملے کی مناسب تقسیم اور افرادی قوت کی ازسرِنو تنظیم کے ذریعے فوری طور پر فعال بنایا جائے تاکہ بچوں کو تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ مسلسل غیر حاضر رہنے والے اساتذہ کی تنخواہوں سے قواعد و ضوابط کے مطابق کٹوتی کرنے جبکہ مسلسل غیر حاضر رہنے والے معاہداتی اساتذہ کے خلاف قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ان کے معاہدے منسوخ کرنے کی کارروائی شروع کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں تعلیمی شعبے میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کی سرگرمیوں منصوبوں اور کارکردگی کا جامع جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی تاکہ ان کے اقدامات کی افادیت اور تعلیمی نظام پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے ضلعی انتظامیہ لورالائی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام فیصلوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے، نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے اور پیش رفت کی باقاعدہ رپورٹس پیش کی جائیں۔ تعلیمی اداروں کی فعالیت، اساتذہ کی حاضری اور بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر9179/026
دکی21 اکتوبر 2026:
دکی: ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت PPHI دکی کی ماہانہ ریویو میٹنگ (MRM) منعقد ہوئی، جس میں ڈسٹرکٹ منیجر PPHI قاہر خان درانی، اے ڈی ایم راز محمد ناصر، این اسٹاپ آفیسر ڈاکٹر عزیز کاکڑ، ڈاکٹر عبداللہ جان، سی سی او سعید احمد اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس میں ضلع بھر کے صحت مراکز کی کارکردگی، ادویات کی دستیابی، طبی عملے کی حاضری، طبی آلات اور جاری صحت پروگراموں کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ منیجر PPHI نے ماہانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے ہدایت کی کہ تمام صحت مراکز میں بنیادی طبی سہولیات ادویات اور عملے کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ مؤثر نگرانی اور باقاعدہ رپورٹنگ کے عمل کو بھی یقینی بنایا جائے۔

خبرنامہ نمبر9180/026
کوئٹہ21 اکتوبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل سے صوبائی وزیر برائے کمیونیکیشن اینڈ ورکس اور پاکستان مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر میر سلیم احمد کھوسہ نے ملاقات کی جس میں صوبے میں انفراسٹرکچر کی ترقی، تعمیراتی منصوبوں کی موثر منصوبہ بندی اور دستیاب وسائل کے دانشمندانہ استعمال سے متعلق امور و معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے اس موقع پر کہا کہ ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں مضبوط، پائیدار اور جدید انفراسٹرکچر کا کلیدی کردار ہے۔ سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی معیاری تعمیر نہ صرف عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرتی ہے بلکہ تجارتی سرگرمیوں، معاشی ترقی اور دور دراز علاقوں کو بڑے شہروں سے مربوط کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی کرتے وقت قلیل اور طویل المدتی ضروریات کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہے تاکہ وقتی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ پائیدار ترقی کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہمیں منصوبوں کی بروقت تکمیل، تعمیراتی معیار کی نگرانی، شفافیت اور دستیاب فنڈز کے موثر استعمال کو ترجیح دینی ہوگی۔ اگر ترقیاتی منصوبوں کو جامع منصوبہ بندی اور ترجیحات کے تعین کے تحت شروع کیا جائے تو نہ صرف قومی خزانے پر غیرضروری بوجھ کم ہوگا بلکہ بجٹ میں مختص خطیر رقوم کے ضیاع کو روکنے اور عوامی وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں بھی مدد ملے گی۔ گورنر بلوچستان نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے انتخاب میں عوامی ضروریات، معاشی افادیت، تعمیراتی پائیداری اور طویل المدتی فوائد کو بنیادی اہمیت دی جائے تاکہ منصوبوں کی تکمیل کے بعد ان کی دیکھ بھال کے لیے بھی مناسب انتظامات ہو سکیں اور قومی وسائل سے تعمیر ہونے والے اثاثوں کو دیرپا بنایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر9181/026
بارکھان21 اکتوبر 2026 ضلعی ناظمِ صحت ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (DHQ) ہسپتال بارکھان اور ایم سی ایچ (MCH) سنٹر کا مارننگ شفٹ کے دوران اچانک دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔
دورے کے دوران ضلعی ناظمِ صحت نے ڈینٹل وارڈ، ڈائلیسس یونٹ، ایمرجنسی اور ایم سی ایچ سنٹر کا خصوصی معائنہ کیا۔ انہوں نے ہسپتال میں ادویات کے اسٹاک، مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار، عملے کی حاضری اور ڈیوٹی روسٹر کے انتظامات کو چیک کیا۔
ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے متعلقہ عملے کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال کے تمام دفتری و طبی ریکارڈز کو روزانہ کی بنیاد پر باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھا جائے اور صفائی ستھرائی سمیت مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج کی فراہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس اچانک دورے کا بنیادی مقصد ہسپتال کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانا، عملے کی حاضری کو سو فیصد یقینی بنانا اور ادویات کے نظام کو شفاف بنا کر عوام کو دہلیز پر صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ا ن کا کہنا تھا کہ فرائض میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر9182/026
کوئٹہ 21اکتوبر2026: ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے ادارہ برائے خصوصی بچوں، کلی شابو کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے خصوصی بچوں سے ملاقات کی، ان سے ان کے انداز میں بات چیت کی اور ان کی مختلف صلاحیتوں اور سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کلاس رومز سمیت ادارے کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا۔دورے کے دوران ادارے کے پرنسپل اور جنرل سیکریٹری نے ڈپٹی کمشنر کو ادارے کی کارکردگی، تعلیمی سرگرمیوں اور بچوں کی تربیت کے حوالے سے بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت اور فلاح و بہبود کے لیے ادارے کی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ خصوصی بچے خصوصی توجہ اور تعاون کے مستحق ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ ادارے کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی اور اس کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ بچوں کو بہتر تعلیمی و تربیتی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

خبرنامہ نمبر9183/026
چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرِ صدارت صوبائی ٹاسک فورس برائے انسدادِ پولیو کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے سے پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے جاری اقدامات اور آئندہ مہم کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی کوآرڈینیٹر انعام الحق نے انسدادِ پولیو مہم، ویکسینیشن کوریج، مائیکرو پلاننگ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے صوبائی حکومت کے مسلسل کوششوں سے تین سال بعد صوبے کے تمام ماحولیاتی نمونے منفی آنے پر پولیو ٹیموں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ صحتی ٹیموں کی محنت، بروقت نگرانی اور مؤثر حکمتِ عملی سے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی لگن، یکسوئی اور مسلسل کوشش سے بلوچستان کو پولیو سے پاک بنایا جائے گا۔ انہوں نے غیر تسلی بخش کارکردگی کے اضلاع کو آئندہ مہم میں اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کہ ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ صوبے سے ہر حال میں کیا جائے گا اور اس قومی مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ محکمے، ضلعی انتظامیہ اور صحتی ٹیمیں مکمل لگن اور احتیاط سے اپنے فرائض انجام دیں گی۔ اجلاس میں ایکسپینڈڈ ایمیونائزیشن پروگرام کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ چیف سیکرٹری نے ای پی آئی پروگرام میں غیر حاضر ملازمین کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری صحت، سپیشل سیکرٹری داخلہ، متعلقہ سینئر حکام، ضلعی انتظامیہ اور انسدادِ پولیو سے وابستہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ چیف سیکرٹری نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی صحتی حکام کو ہدایت دی کہ آئندہ مہم کی نگرانی ازخود کریں، خطرے سے متاثرہ علاقوں پر خصوصی توجہ دیں اور ہر بچے تک ویکسینیشن کی رسائی کو یقینی بنائیں۔

خبرنامہ نمبر9184/026
زیارت:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر زیارت ڈویلپمنٹ پیکیج کے کے تحت علاقے میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، عوام کو جدید سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان منصوبوں میں بابِ زیارت کی تعمیر، کیفے ٹیریا، سرکاری ملازمین کے لیے رہائشی سہولیات، لڑکوں اور لڑکیوں کے اسکولوں کی تعمیر، سڑکوں کی تعمیر و بہتری، کنکریٹ سڑکوں (Rigid Pavements) کی تعمیر، نکاسیٔ آب اور سیوریج کے نظام کی بہتری، واٹر سپلائی اسکیم (WSS) اور آبی بندوں (Weirs) کی تعمیر شامل ہیں۔

خبرنامہ نمبر9185/026
بارکھان 21اکتوبر 2026: پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انسٹیٹیوٹ (پی پی ایچ آئی) بلوچستان کی جانب سے متعارف کرائی گئی موبائل ایپلیکیشن ’’صحت دہلیز‘‘ کے ذریعے شہریوں کو گھر بیٹھے آن لائن طبی مشورہ حاصل کرنے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی بارکھان غلام رسول نے کہا کہ اس ایپ کا مقصد عوام، بالخصوص دیہی اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے صحت کی سہولیات تک رسائی آسان بنانا ہے۔ ایپ کے ذریعے شہری ویڈیو کال پر ڈاکٹر سے طبی مشورہ حاصل کرنے اور صحت سے متعلق اپنا ریکارڈ محفوظ رکھنے جیسی سہولیات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صحت دہلیز ایپ ضلع بارکھان کے شہریوں کے لیے ایک مفید سہولت ہے، جس کے ذریعے طبی مسائل کی صورت میں ابتدائی رہنمائی گھر بیٹھے حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس اقدام سے ڈیجیٹل صحت کی سہولیات کو فروغ دینے اور عوام کو طبی رہنمائی کی فراہمی میں مدد ملے گی۔
صحت دہلیز ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے لنک:
https://play.google.com/store/apps/details?id=org.pphib.sehatdehleez
ایپ کے استعمال اور مزید رہنمائی کے لیے رابطہ کریں:
ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی بارکھان، غلام رسول
📞 واٹس ایپ / کال: 0333-7111770
پی پی ایچ آئی بلوچستان — صحت کی سہولیات عوام کی دہلیز پر۔

خبر نامہ نمبر 2026/9186
اوتھل:ـکمشنر لسبیلہ ڈویژن محترمہ سائرہ عطاء سے کرکٹ کلب کے وفد نے عبدالصمد رونجھو کی سربراہی میں ملاقات کی۔ملاقات کے دوران جام کمال اسپورٹس کمپلیکس اوتھل کے کرکٹ گراؤنڈ کو درپیش مسائل، بہتری اور کھیلوں کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن محترمہ سائرہ عطاء نے وفد کو مسائل کے حل اور گراؤنڈ کی بہتری کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو کھیلوں کے بہتر مواقع فراہم کرنا اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینا اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/9187
سوراب21 اکتوبر:ـڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر ثناء اللہ خان نے سپریڈنٹ فضل محمد قمبرانی اور محکمہ تعلیم کے افسران کے ہمراہ گورنمنٹ بوائز ہائیر سیکنڈری اسکول سوراب اور گرلز ہائی اسکول سرخ کا دورہ کیا دورے کے دوران کلسٹر بجٹ کے تحت ریڈنگ، رائٹنگ میٹریل، فرنیچر اور دیگر تعلیمی سہولیات کا جائزہ لیا گیا اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ حکام کو اسکولوں کی ضروریات پوری کرنے اور کلسٹر بجٹ کے شفاف و مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
خبر نامہ نمبر 2026/9188
لاہور21 اکتوبر:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور ہدایات کے مطابق بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ (BBoIT) اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے اشتراک سے بلوچستان اکنامک اینڈ انویسٹمنٹ فورم 2026 لاہور میں منعقد ہوا، جس میں بلوچستان میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات، کاروباری اشتراک، صنعتی ترقی اور مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع کو اجاگر کیا گیا۔فورم کا مقصد ملکی سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو بلوچستان کی معاشی استعداد، قدرتی وسائل اور سرمایہ کاری کے سازگار امکانات سے آگاہ کرنا، نجی شعبے کے ساتھ روابط کو مضبوط بنانا اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کی راہ ہموار کرنا تھا۔فورم کے مہمانِ خصوصی ایس ایم تنویر، سرپرستِ اعلیٰ یونائیٹڈ بزنس گروپ (UBG) اور سابق صوبائی وزیر حکومت پنجاب نے اپنے خطاب میں سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری اشتراک اور معاشی ترقی کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اکنامک اینڈ انویسٹمنٹ فورم 2026 صوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری روابط کے استحکام اور سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان تعاون کو وسعت دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ جس سے بلوچستان کے معاشی امکانات کو اجاگر کرنے اور وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے ترقیاتی وژن کے مطابق صوبے کو سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے ایک پرکشش مقام بنانے کی کوششوں فروغ ملے گا۔ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈکے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے صوبے میں سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور معاشی ترقی کے وژن کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔بلال خان کاکڑ نے اس امر پر زور دیا کہ بلوچستان میں پائیدار معاشی ترقی کے لیے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان اشتراک ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فورمز سرمایہ کاروں کو صوبے میں موجود مواقع سے آگاہ کرنے، کاروباری روابط کو وسعت دینے اور باہمی تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ فورم سے ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ،کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سرپرستِ اعلیٰ حاجی غلام فاروق خلجی نے بھی خطاب کیا،جبکہ بی بی او آئی ٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبد المنان نے ادارے کے کردار، سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے جاری اقدامات اور صوبے میں موجود کاروباری مواقع پر تفصیلی بریفنگ دی۔ شرکاء کو بزنس فیسلیٹیشن سینٹر (BFC)، بلوچستان کے معدنی وسائل اور بلوچستان بزنس ایکسپو سے متعلق تشہیری ویڈیوز بھی دکھائی گئیں۔فورم میں لسبیلہ انڈسٹریل اسٹیٹس ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LIEDA) کے منیجنگ ڈائریکٹر لیاقت علی کاشانی، محکمہ ماہی گیری بلوچستان کی ڈپٹی ڈائریکٹر نگہت نورالدین، کمانڈر سینٹرل پنجاب لاہور ریئر ایڈمرل سہیل احمدا عظمی ہلالِ امتیاز (ملٹری)، محکمہ مائنز اینڈ منرل ڈویلپمنٹ بلوچستان کے ڈائریکٹر کوآرڈینیشن اینڈ ڈویلپمنٹ محمد اکمل احمد اور سیکرٹری محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بلوچستان صالح محمد بلوچ نے اپنے اپنے شعبوں سے متعلق پریزنٹیشنز پیش کیں۔ اس دوران سوال و جواب کے سیشن میں شرکاء کو مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات اور دستیاب مواقع کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

خبر نامہ نمبر 2026/9189
قلات21اکتوبر:ـڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری کی زیرِ صدارت سبزی منڈی کے ترقیاتی منصوبوں اور سبزی و فروٹ فروشوں کو درپیش مسائل کے فوری حل کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں BSDI کے تحت سبزی منڈی میں منظور شدہ ترقیاتی اسکیمات، واٹر سپلائی بور کی تنصیب، منڈی میں ٹف ٹائلنگ اور اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد، تعمیراتی کاموں کے معیار اور ان کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سبزی و فروٹ فروشوں کو ان کے الاٹ کردہ دکانوں اور شیڈز میں فوری طور پر منتقل کرنے کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی گئی، تاکہ سبزی منڈی کے نظام کو منظم بنایا جا سکے اور تاجروں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو۔اجلاس میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو ایک ہفتے کے دوران سروے کرکے تجاویز پیش کریگا تاکہ رپورٹ کے حساب بقیہ دکانوں کو بھی فعال کیاجاسکے۔اجلاس میں چیرمین میونسپل کمیٹی نوابزادہ شعیب جان زہری نے کہا کہ سبزی منڈی میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ واٹر سپلائی، ٹف ٹائلنگ اور اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب سمیت تمام منظور شدہ اسکیمات پر کام کو تیز کیا جائے اور تعمیراتی کاموں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ڈپٹی کمشنرانجینٙر عائشہ زہری نے اجلاس میں میونسپل افسران پر زوردیا کہ سبزی و فروٹ فروشوں کو درپیش مسائل کا فوری اور مؤثر حل یقینی بنایا جائے اور انہیں ان کے الاٹ کردہ دکانوں اور شیڈز میں منتقل کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سبزی منڈی میں بہتر انتظامات، صفائی ستھرائی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی سے نہ صرف تاجروں کو سہولت میسر آئے گی بلکہ شہریوں کو بھی اشیائے خوردونوش کی خریداری میں آسانی ہوگی۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ باہمی رابطے اور مؤثر حکمت عملی کے تحت ترقیاتی منصوبوں کو جلد مکمل کیا جائے اور سبزی منڈی کو ایک منظم، صاف ستھرا اور فعال تجارتی مرکز بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیںاجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ، چیئرمین میونسپل کمیٹی نوابزادہ شعیب جان زہری، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ سعید احمد ساسولی، ایس ڈی او پبلک ہیلتھ ہدایت اللہ بلوچ، تحصیلدار حاجی عبدالغفار لہڑی سمیت سبزی و فروٹ فروشوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
خبر نامہ نمبر 2026/9190
ژوب 20 اکتوبر:ـ ڈائریکٹوریٹ آف کلچر بلوچستان کے زیرِ اہتمام ژوب کلچر سینٹر میں فائن آرٹس (مصوری) اور خطاطی کی کلاسز کے لیے داخلے جاری ہیں۔ ان کلاسز کا مقصد نوجوانوں اور فنونِ لطیفہ سے دلچسپی رکھنے والے افراد کو تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار، فنی مہارتوں کے فروغ اور خطاطی کے روایتی فن کو سیکھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔فائن آرٹس کی کلاسز میں ڈرائنگ، پینٹنگ، اسکیچنگ، واٹر کلر، ایکریلک اور آئل پینٹنگ کی تربیت دی جائے گی، جبکہ خطاطی کی کلاسز میں نستعلیق، نسخ، ثلث، دیوانی اور آرائشی خطاطی سکھائی جائے گی۔منتظمین کے مطابق کلاسز کا آغاز 2 نومبر 2026ء سے ہوگا۔ فنونِ لطیفہ اور خطاطی میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو ان کلاسز میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ میں بھی اپنا کردار ادا کر سکیں۔مزید معلومات اور داخلے کے لیے عالم سے
0312-2550050
پر رابطہ کریں۔
خبر نامہ نمبر 2026/9191
تربت21اکتوبر:ـمکران میڈیکل کالج تربت اور ٹیچنگ ہسپتال تربت کے شعبہ اطفال (پیڈیاٹرکس) کی جانب سے شعبے کی کارکردگی، پیش رفت اور طبی خدمات کو باضابطہ طور پر دستاویزی شکل دینے کے لیے پہلی بار ’’امپیکٹ بلیٹن‘‘ جاری کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شعبے کی سرگرمیوں اور خدمات کو منظم انداز میں ریکارڈ پر لانا ہے۔امپیکٹ بلیٹن کے اجرا کو شعبہ اطفال کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں، طبی خدمات اور ادارہ جاتی کارکردگی کو دستاویزی شکل دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے شعبے کی مختلف سرگرمیوں اور خدمات سے متعلق معلومات کو باقاعدہ طور پر محفوظ اور مرتب کرنے میں مدد ملے گی۔جاری کردہ بلیٹن میں شعبہ اطفال کی پیش رفت، کارکردگی اور فراہم کردہ طبی خدمات کے اثرات کو نمایاں کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔ اس کا مقصد شعبے کی خدمات اور سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ادارے کی پیش رفت کو واضح اور قابلِ فہم انداز میں پیش کرنا ہے۔مکران میڈیکل کالج تربت اور ٹیچنگ ہسپتال تربت کے شعبہ اطفال کی جانب سے یہ اقدام طبی خدمات کی دستاویز بندی اور ادارہ جاتی کارکردگی کو منظم انداز میں پیش کرنے کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ امپیکٹ بلیٹن کی اشاعت سے شعبے کی سرگرمیوں اور پیش رفت کا ریکارڈ مرتب کرنے اور مستقبل میں ان خدمات کا جائزہ لینے کے لیے ایک باضابطہ بنیاد فراہم ہوگی۔
خبر نامہ نمبر 2026/9192
تربت21اکتوبر:ـ کمشنر مکران ڈویژن ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ نے میونسپل کارپوریشن تربت کے سینیٹری انسپکٹر حبیب اللہ کی شہری بہتری، صفائی ستھرائی اور شجرکاری کے شعبوں میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں انہیں تعریفی سند جاری کرتے ہوئے نقد انعام سے نوازا ہے۔جاری کردہ تعریفی سند کے مطابق سینیٹری انسپکٹر حبیب اللہ نے تربت سٹی پراجیکٹ کے تحت سینما چوک پر پرانی دکانوں کے ڈھانچوں کو ہٹانے، مبارک قاضی چوک پر شجرکاری کے فروغ، پودوں کی باقاعدہ آبیاری اور شہر میں صفائی ستھرائی کے اقدامات میں اہم کردار ادا کیا۔کمشنر مکران ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ نے حبیب اللہ کی محنت، پیشہ ورانہ ذمہ داری، فرض شناسی اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری کو سراہتے ہوئے ان کی خدمات کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شہری ماحول کی بہتری، صفائی ستھرائی اور سرسبز و شاداب شہر کے قیام کے لیے عملی اقدامات قابلِ قدر ہیں۔کمشنر مکران نے اس امید کا اظہار کیا کہ سینیٹری انسپکٹر حبیب اللہ آئندہ بھی اسی لگن، محنت اور ذمہ داری کے جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے عوامی خدمت اور شہری ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
خبر نامہ نمبر 2026/9193
تربت21 اکتوبر:ـیونیورسٹی آف تربت کے شعبہ تعلیم کے بورڈ آف اسٹڈیز کا چھٹا اجلاس شعبے کی چیئرپرسن محترمہ رقیہ میروانی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جامعہ تربت کے ترجمان کے مطابق اجلاس میں ریگولر اور سیلف فنانس اسکیم کے تحت ایم فل ایجوکیشن پروگرام کے نصاب، کورس آؤٹ لائنز اور دیگر تعلیمی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران بورڈ کے ارکان نے شعبہ تعلیم اور اس کے تعلیمی پروگراموں کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے ماہرانہ تجاویز پیش کیں۔ ترجمان کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے اپنے پیغام میں شعبہ تعلیم کے فیکلٹی ممبران اور بورڈ کے ارکان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ جامعہ تربت ہائر ایجوکیشن کمیشن کی گائیڈلائنز اور یونیورسٹی کے اسٹریٹجک پلان 2026-30 کی روشنی میں تعلیمی نظم و نسق کو مزید مستحکم کرنے، نصاب کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہے، تاکہ تعلیمی پروگرامز عصر حاضر کے تقاضوں پر پورا اتر سکیں۔ چیئرپرسن محترمہ رقیہ میروانی نے بھرپور شرکت اور قیمتی تجاویز پیش کرنے پر تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان تجاویز اور سفارشات سے تعلیمی پروگراموں کی مسلسل بہتری میں مدد ملے گی۔ اجلاس میں یونیورسٹی آف تربت کے فیکلٹی ممبران ڈاکٹر منظور احمد، محترمہ مہناز بشیر اور کوالٹی انہانسمنٹ سیل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ریاض احمد نے شرکت کی، جبکہ جامعہ بلوچستان کے ڈاکٹر عبدالناصر کیازئی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر پنجگور عابد حسین، گرلز کالج تربت کی محترمہ ہما امداد اور یونیورسٹی آف تربت کی فیکلٹی ممبر ڈاکٹر مہناز اسلم نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *