21st-May-2026

خبرنامہ نمبر4199/2026
صحبت پور20مئی۔ڈپٹی کمشنر صحبت پور، محترمہ فریدہ ترین کی زیر صدارت جاری انسدادِ پولیو مہم SNID کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں محکمہ صحت کے متعلقہ افسران، یو سی ایم اوز ایریا انچارجز پولیو سپروائزرز، پولیس سیکیورٹی انچارج، اور مانیٹرنگ ٹیموں کے نمائندگان نے شرکت کیاجلاس کے دوران ضلع بھر میں جاری انسدادِ پولیو مہم کی مجموعی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس موقع پر فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی بچوں کی کوریج رفیوزل کیسز اور مائیکرو پلان پر عملدرآمد کا بغور معائنہ کیا گیا۔ مختلف یونین کونسلز سے موصول ہونے والی فیلڈ رپورٹس کی روشنی میں مہم کے دوران درپیش مسائل اور ان کے مو¿ثر حل پر بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا ڈپٹی کمشنر محترمہ فریدہ ترین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے ہر بچے تک رسائی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاوکے قطرے پینے سے محروم نہ رہے انہوں نے متعلقہ افسران پر زور دیا کہ فیلڈ مانیٹرنگ کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے، ٹیموں کی حاضری کو یقینی بنایا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر رپورٹنگ کے عمل کو منظم اور فعال رکھا جائے انہوں نے مزید کہا کہ رفیوزل کیسز کے خاتمے کے لیے والدین میں شعور و آگاہی پیدا کرنا نہایت ضروری ہے اور اس ضمن میں کمیونٹی انگیجمنٹ کو مزید مضبوط کیا جائے تمام پولیو ٹیموں کو ہدایت کی گئی کہ وہ قومی ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فرائض پوری دیانتداری ذمہ داری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دیں ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع صحبت پور کو پولیو فری بنانے کے قومی مشن کی کامیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، اور مہم کے اہداف کے حصول میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4200/2026
کوہلو :20مئی ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے معیاری تعلیم کے وژن کے تحت پائٹ بلوچستان کے زیر اہتمام بلوچستان ایجوکیشن فاونڈیشن (BEF) کے کمیونٹی اساتذہ کیلئے منعقدہ 8 روزہ پیڈاگوجی اور فاونڈیشنل لٹریسی اینڈ نیومریسی (FLN) تربیتی ورکشاپ کے اختتام پر گورنمنٹ انٹر گرلز کالج کوہلو میں پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔کوہلو : تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دومڑ تھے جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر پائٹ عبد الحمید جعفر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جعفر خان زرکون، پائٹ ٹرینرز، ڈسٹرکٹ سپر وائزر بی ای ایف یوسف مری سمیت دیگر افسران اور مہمان بھی شریک ہوئے۔کوہلو : تقریب میں شریک اساتذہ نے آٹھ روزہ تربیت کے دوران حاصل کردہ تجربات اور مہارتوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس تربیت سے ان کی تدریسی صلاحیتوں، کلاس روم مینجمنٹ اور جدید تدریسی طریقہ کار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر پائٹ عبد الحمید جعفر نے اساتذہ کی بھرپور شرکت، وقت کی پابندی اور نظم و ضبط کو سراہا۔ جبکہ ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دومڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ تربیت یافتہ، باصلاحیت اور پرعزم اساتذہ معیاری تعلیم کے فروغ اور بہتر تعلیمی ماحول کے قیام میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت تعلیمی معیار میں بہتری کیلئے ناگزیر ہے۔۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4201/2026
جھل مگسی20مئی ۔ڈپٹی کمشنر جھل مگسی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ DEG کا ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ تعلیم کے متعلقہ افسران نے شرکت کی ۔اجلاس میں محکمہ تعلیم کی مجموعی کارکردگی، اساتذہ کی حاضری، انرولمنٹ میں اضافہ، ڈراپ آوٹ کی روک تھام، شیلٹر لیس و زیر تعمیر اسکولوں، سولرائزیشن اسکیموں، ٹرانسفر، پوسٹنگ اور اٹیچمنٹ سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیااجلاس میں DEG کے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ تمام غیر ضروری اٹیچمنٹس، ٹرانسفر اور پوسٹنگز منسوخ کی جائیں گی جبکہ نظم و ضبط سے متعلق فیصلوں پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع جھل مگسی میں کوئی اسکول غیر فعال نہیں ہےشیلٹر لیس اسکولوں کی تفصیلات طلب کر لی گئیں تاکہ اضافی کلاس رومز کی تعمیر کیلئے متعلقہ فورمز سے رجوع کیا جا سکے BSDI فیز I اور II کے تحت جاری سولرائزیشن و ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیافیصلہ کیا گیا کہ مسلسل غیر حاضر اساتذہ کی رپورٹس سیکرٹری ایجوکیشن کو ارسال کی جائیں گی، جبکہ کلسٹر ہیڈز کو اساتذہ کی حاضری سے متعلق رپورٹس باقاعدگی سے فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر جھل مگسی نے ہدایت کی کہ اسکولوں کے باقاعدہ معائنے اور اساتذہ کی حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ ضلع میں تعلیمی معیار مزید بہتر بنایا جا سکے ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4203/2026
صحبت پور20مئی ۔ڈپٹی کمشنر صحبت پور، میڈم فریدہ ترین نے زیرِ تعمیر روڈ مراد علی تا ڈمبری روڈ کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے جاری ترقیاتی کاموں کا موقع پر معائنہ کیا اور منصوبے کی رفتار، معیار اور شفافیت کا جائزہ لیا اس موقع پر ایکسین روڈز جہانگیر خان کھوسہ نے انہیں منصوبے کے مختلف پہلوو¿ں پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے تعمیراتی پیش رفت استعمال ہونے والے میٹریل کے معیار اور درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا ڈپٹی کمشنر نے افسران سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح ہدایات جاری کیں کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے اور تعمیراتی معیار پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے، تاکہ یہ منصوبے دیرپا اور پائیدار ثابت ہوںانہوں نے مزید کہا کہ بلیک ٹاپ سڑک مراد علی تا دمبری، 0.9 کلومیٹر کی تکمیل علاقے کی ترقی میں سنگِ میل ثابت ہوگی اس سڑک سے نہ صرف عوام کو آمدورفت میں آسانی ہوگی بلکہ زمینداروں اور کاشتکاروں کو اپنی زرعی پیداوار منڈیوں تک بروقت اور کم لاگت میں پہنچانے میں مدد ملے گی، جس سے ان کی آمدنی میں اضافہ اور مقامی معیشت کو فروغ حاصل ہوگا ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے پر کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے تمام تکنیکی اور انتظامی رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے، اور منصوبے کی بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ عوام جلد از جلد اس اہم سہولت سے مستفید ہو سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4204/2026
استا محمد20مئی ۔ ڈپٹی کمشنر اوستہ محمد، محمد رمضان پلال نے SNID مئی 2026 کی انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز جاری سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر امیر علی جمالی ڈبلیو ایچ او کےڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر خلیل مستوئی، ای او سی مانیٹرز، ڈسٹرکٹ مانیٹرز اور ضلع بھر کے یونین کونسل میڈیکل آفیسرز UCMOs نے شرکت کی اجلاس کے دوران دوسرے روز کی مجموعی کارکردگی فیلڈ ٹیموں کی پیش رفت، ہاوس ہولڈ کوریج اور رہ جانے والے بچوں تک رسائی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ڈپٹی کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ ضلع بھر کے ہر بچے تک پولیو سے بچاوکے دو قطرے ہر صورت پہنچائے جائیں اور کسی بھی بچے کو ویکسین سے محروم نہ رہنے دیا جائے انہوں نے ہدایت جاری کی کہ ہر UCMO اپنی متعلقہ یونین کونسل میں کم از کم 95 فیصد ہاوس ہولڈ کوریج کو یقینی بنانے کے لیے موثر حکمت عملی اپنائے جبکہ فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھی جائے اجلاس میں کمزور کارکردگی دکھانے والے متعدد ایریا انچارجز کو ایڈوائزری جاری کی گئی اور انہیں اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی سختی سے ہدایت دی گئی مزید برآں فیلڈ مانیٹرنگ کے نظام کو مزید فعال اور موثر بنانے کے لیے بھی واضح ہدایات جاری کی گئیں تاکہ مہم کے مطلوبہ اہداف بروقت حاصل کیے جا سکیں ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور تمام شراکت دار ادارے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھیں گے اس سلسلے میں والدین پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک بھر سے پولیو کا خاتمہ کرنے میں مثبت کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4205/2026
بارکھان20 مئی ۔ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمن کاکڑ نے گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج بارکھان کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے کالج میں جاری تعلیمی و انتظامی امور، تدریسی سرگرمیوں اور بنیادی سہولیات کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور طلبائ کی حاضری، تدریسی معیار اور کالج کے مجموعی ماحول پر اطمینان کا اظہار کیا۔کالج کے پرنسپل اور انتظامیہ نے ڈپٹی کمشنر کو ادارے میں درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کالج کو تدریسی و غیر تدریسی عملے کی کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیوں کو موثر انداز میں چلانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ سٹاف کی رہائش، بنیادی سہولیات اور بعض دیگر انتظامی امور کے حوالے سے بھی مسائل کی نشاندہی کی گئی۔ڈپٹی کمشنر سعید الرحمن کاکڑ نے کالج کے پرنسپل کے ہمراہ نئی زیرِ تعمیر تعلیمی عمارت اور پرنسپل و سٹاف کے لیے تعمیر کی جانے والی رہائش گاہوں کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پر انہیں تعمیراتی کام کی پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ سابقہ رہائشی عمارتیں خستہ حالی اور ناکافی سہولیات کے باعث قابلِ استعمال نہیں رہیں، جس کے پیش نظر نئی رہائش گاہوں کی تعمیر کا عمل جاری ہے تاکہ اساتذہ اور دیگر عملے کو بہتر اور محفوظ رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ڈپٹی کمشنر بارکھان نے کہا کہ تعلیم کے فروغ اور تعلیمی اداروں میں سہولیات کی بہتری ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کالج انتظامیہ کو یقین دلایا کہ سٹاف کی کمی، رہائش اور دیگر مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جائے گا جبکہ موجودہ رہائشی عمارتوں کی مرمت اور بہتری کے لیے بھی ممکنہ اقدامات اٹھائے جائیں گے۔انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ طلبائ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں انجام دیں تاکہ ضلع میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4206/2026
سبی 20 مئی۔ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے انسداد پولیو مہم کے تیسرے روز غریب آباد اور اس سے ملحقہ دیگر مختلف علاقوں کا فیلڈ دورہ کیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، این اسٹاپ آفیسر ڈاکٹر شہزادہ کامران سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے مختلف پولیو ٹیموں سے ملاقات کی اور جاری مہم کی پیش رفت، ٹیموں کی کارکردگی اور کوریج کا جائزہ لیا۔ انہوں نے پولیو ٹیموں کے پاس موجود ویکسین چیک کیں جبکہ ٹیموں کی ٹیلی شیٹس اور ریکارڈ کا بھی تفصیلی معائنہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر سبی نے گھروں میں جا کر پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جانے والے بچوں کی ویلیڈیشن بھی کی اور والدین سے گفتگو کرتے ہوئے بچوں کو ہر بار پولیو کے قطرے پلانے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس دوران انہوں نے گلیوں میں گھومنے والے بچوں کو بھی چیک کیا اور موقع پر موجود پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ تمام بچوں کو فوری طور پر پولیو سے بچاوکے قطرے پلائے جائیں۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے فیلڈ میں موثر نگرانی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی بچے کا پولیو ویکسین سے محروم رہ جانا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، اس لیے تمام ٹیمیں گھر گھر جا کر سو فیصد کوریج یقینی بنائیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران ٹیموں کی حاضری، کارکردگی اور ویکسین کی دستیابی پر کڑی نظر رکھی جائے جبکہ رہ جانے والے بچوں تک فوری رسائی حاصل کرکے انہیں پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جائیں تاکہ ضلع سبی کو پولیو فری بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4207/2026
برشور۔20 مئی ۔صوبائی کوارڈینیٹر برائے ایمرجنسی آپریشن سینٹر انعام الحق قریش نے گزشتہ روز نو قائم شدہ ضلع برشور میں پولیو مہم کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کی،اس موقع پر ڈپٹی کمشنر برشور فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس بھی موجود تھے،اجلاس میں سی،سی،او سید کلیم اللہ،اے،سی،او عزیز احمد کاکڑ،ٹیم لیڈر یونیسیف شاپور سلمان اور این سٹاف برشور ڈاکٹر مریم نے بھی شرکت کی،صوبائی کوارڈینیٹر انعام الحق قریش نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیو کا خاتمہ ہمارا مشترکہ قومی فریضہ ہے اور اس کے خلاف موثر اقدامات کرنا نا گزیر ہے،کیونکہ یہ فرنٹ لائن ورکرز گلی گلی اور گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلاتے ہیں،ہم سب کو انکی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے،اپنے خطاب میں والدین سے اپیل کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خالد شمس نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو ورکرز سے نہ چھپائیں،اور حفاظتی قطرے ضرور پلوائیں،انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمے میں علمائ کرام،قبائلی عمائدین،سیاستدانوں اور میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے،تاہم ضرورت اس امر کی ہے،کہ کوئی بچہ پولیو سے بچاو کے قطرے پینے سے نہ رہے،اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ضلع برشور اور پاکستان بھر سے پولیو کا خاتمہ کرنے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4208/2026
سبی 20 مئی۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے گزشتہ دنوں بابر کچھ میں منعقدہ کھلی کچہری کے دوران عوامی مطالبے پر شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات کے مسائل کے حل کے لیے اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ کے ہمراہ نادرا دفتر کا دورہ کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سبی نے اسسٹنٹ ڈائریکر نادرا پہلوان جمالی سے ملاقات کی اور بابر کچھ کے عوام کو شناختی کارڈ سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی۔ ملاقات کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ نادرا کی موبائل رجسٹریشن وین جلد بابر کچھ بھجوائی جائے گی تاکہ مقامی لوگوں کو ان کے علاقے میں ہی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ دور دراز علاقوں کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور کھلی کچہریوں میں عوام کی جانب سے پیش کیے جانے والے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بابر کچھ کے عوام کو شناختی کارڈ کے حصول میں مشکلات کا سامنا تھا جس کے پیش نظر فوری طور پر نادرا حکام سے رابطہ کرکے موبائل وین بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ خواتین، بزرگوں اور دیگر شہریوں کو شہر آنے کی دشواری سے نجات مل سکے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر نادرا پہلوان جمالی نے یقین دہانی کرائی کہ جلد نادرا ٹیم بابر کچھ روانہ کی جائے گی جہاں شہریوں کو شناختی کارڈ اور دیگر متعلقہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4209/2026
کوئٹہ :20 مئی ۔بلوچستان پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی فرائض کی ادائیگی کو یقینی بناتے ہوئے شہریوں کو پر امن اور جرائم سے پاک ماحول فراہم کرنے کے حوالے سے متحرک ہے اس حوالے سے صوبہ بھر میں کوئٹہ سمیت 7 رینجز کے تمام اضلاع میں اشتہاری، مفرور اور مطلوب کے خلاف مہم جاری ہے۔اشتہاری، مفرور و مطلوب اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کرنے والے سرفہرست اضلاع کے پولیس اہلکاروں کو اعلی کارکردگی پر نقد انعامات اور تعریفی اسناد سے نوازا جاتا ہے۔ترجمان بلوچستان پولیس کے ایک پریس ریلیز کے مطابق انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر کی ہدایات کی روشنی میں خصوصی مہم کے تسلسل میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران بلوچستان پولیس نے صوبہ بھر میں مطلوب اور مفرور کے خلاف جاری آپریشن کے دوران 43 اشتہاری، 288 مفرور جبکہ مختلف جرائم میں مطلوب 556ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اغوائ کاروں کے خلاف بروقت اور فوری کارروائی رکھنے کے نتیجے میں 13 مغوی کو بھی بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔اس کے علاوہ مختلف کارروائیوں میں 5مسروقہ گاڑیاں، 15موٹر سائیکلیں، 6 موبائل فونز برآمد کئے گئے۔دفعہ 144 کے خلاف ورزی پر 9 گاڑیوں اور دفعہ 550 کی کاروائی میں 28 موٹر سائیکلوں کو قبضے میں لیا گیا۔انسداد منشیات مہم کے تحت 94 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا، جن کے قبضے سے 430.200 کلوگرام چرس، 203.253 کلوگرام آئس شیشہ ، 739 کلوگرام خشک بھنگ، 23.34 کلوگرام افیون۔210۔1 کلوگرام ہیروئن ، 45 بیئرکین اور 71 شراب کی بوتلیں اور 193 لیٹر کچی شراب برآمد کی گئی ۔اس کے علاوہ 7000لیٹر ڈیزل اور 1755 گاڑیوں سے کالے شیشے اتارے گئے۔کارروائی کے دوران9 پیکٹس گٹکا ، 150پیکٹ ایرانی سیگریٹ اور 7 ارب 88 کڑور روپے کی ایرانی کرنسی قبضے میں لی گئی۔پریس ریلیز کے مطابق مہم کے دوران اس امر کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ جرائم پیشہ مطلوب اور اشتہاریوں کی ایک علاقے سے دوسرے علاقوں میں روپوشی کے تدارک کے لئے اقدامات کئے جائیں گئے۔ علاوہ ازیں گرفتار ہونے والے ملزمان کی صوبے کے تمام تھانوں میں مطلوب مقدمات کی چھان بین کے علاوہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی ان کے خلاف متوقع مقدمات کے حوالے سے بھی تینوں صوبوں کے پولیس حکام سے بھی رابطہ کر کے ریکارڈ کی مکمل چھان بین کی جاتی ہے۔جبکہ گرفتار ملزمان کے جرائم کے ریکارڈ کی جانچ کے لیے دیگر صوبوں کے ساتھ ڈیٹا کا تبادلہ بھی ہوتا ہے۔تاکہ جرائم پیشہ عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ہر ممکن اقدامات کئے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta: May 20, 2026:The Balochistan Police is committed to providing a peaceful and crime-free environment for citizens while ensuring the fulfilment of its duties to protect the lives and property of the people. In this regard, a campaign against declared, fugitive, and wanted persons is underway in all the districts of the seven ranges, including Quetta, across the province.The police personnel of the top districts who take action against declared, fugitive and wanted persons and criminal elements are awarded cash prizes and certificates of appreciation for their high performance.According to a press release by the spokesperson of the Balochistan Police, in the light of the instructions of the Inspector General of Police Balochistan Muhammad Tahir, in the continuation of the special campaign, during the last three weeks, the Balochistan Police has taken into custody 43 declared, 288 fugitives and 556 accused wanted for various crimes during the ongoing operation against declared and fugitive persons across the province. As a result of timely and immediate action against the kidnappers, 13 abductees have also been safely recovered. In addition, 5 stolen vehicles, 15 motorcycles, and 6 mobile phones were recovered in various operations. 9 vehicles were seized for violation of Section 144 and 28 motorcycles were seized under Section 550.94 drug peddlers were arrested under the anti-drug campaign, from whose possession 430.200 kg of hashish, 203.253 kg of ice shisha, 739 kg of dried cannabis, 23.34 kg of opium, 210.1 kg of heroin, 45 beer cans and 71 bottles of liquor and 193 litres of raw liquor were recovered. In addition, 7000 litres of diesel and tinted windows were removed from 1755 vehicles. During the operation, 9 packets of gutka, 150 packets of Iranian cigarettes and 7 billion 88 crore rupees in Iranian currency were seized. According to the press release, during the campaign, it is also ensured that steps are taken to prevent the escape of wanted criminals and declared criminals from one area to another. In addition, in addition to investigating the cases of the arrested suspects in all police stations of the province, the records of the cases expected against them in other provinces of the country are also fully investigated by contacting the police authorities of the three provinces. While data is also exchanged with other provinces to check the criminal records of the arrested suspects. So that all possible steps can be taken to bring the criminals to justice.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
مستونگ20 مئی ۔ ڈسٹرکٹ مستونگ ویٹ لفٹنگ ایسوسی ایشن کے صدر حاجی قادر بخش بنگلزئی نے ارشد خان ترک کو چار سال کے لیے ساوتھ ایشین ماسٹرز ویٹ لفٹنگ ایسوسی ایشن کے صدر بنے پر مبارکباد دی ہے۔ اپنے جاری کردہ ایک تانعیاتی بیان میں انہوں نے کہا کہ ارشد خان ترک نے انڈیا کے امیدوار کو شکست دیں کر ساوتھ ایشین ماسٹرز ویٹ لفٹنگ ایسوسی ایشن کے لیے 4 سال تک صدر منتخب ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ ارشد خان ترک نوجوان نسل کیلئے ایک باصلاحیت، باکردار اور قابلِ فخر رول ماڈل ہیں۔ وہ ہمیشہ ویٹ لفٹنگ برادری کی ترقی، خوشحالی اور بہتر مستقبل کیلئے مثبت سوچ اور عملی جدوجہد رکھتے ہیں۔ارشد خان ترک نوجوانوں کو خاص طور پر ویٹ لفٹنگ کرنے، اچھے اخلاق اپنانے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ تعلیم ہی وہ طاقت ہے جو قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔وہ ویٹ لفٹنگ کے دوستوں کے ساتھ محبت، بھائی چارے، احترام اور بہترین تعلقات کے حامی ہیں اور ہمیشہ اتحاد و اتفاق کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاشبہ ان کی شخصیت نوجوانوں کیلئے امید، شعور اور کامیابی کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ارشد خان ترک وہ واحد چراغ ہے جو کم وقت میں پاکستان کے ویٹ لفٹنگ کو اور پاکستان کے نام کو زمین سے آسمان پر پہنچ دیا ہے کیوں کہ ایک شخص واحد نے ماسٹر ویٹ لفٹنگ ایسوسی ایشن کو پوری دنیا میں ایک نام و مقام دی ہے۔راشد ملک اور ارشد خان ترک کے مسلسل محنت اور کوشش سے ماسٹر ویٹ لفٹنگ ایسوسی ایشن اور پاکستان پاور لفٹنگ میں لوگوں نے ایک نام حاصل کی ہے اگر راشد ملک کی انتھک محنت نہ ہوتا تو ویٹ لفٹنگ سپورٹس میں پاکستان کا نام ونشان نہ ہوتا۔ہم راشد ملک صاحب کو سلام پیش کرتے ہیں کہ وہ اس عمر میں ویٹ لفٹنگ اور پاور لفٹنگ کے لیے دن رات کام کر رہا ہے میرا نہیں خیال کہ اس عمر میں اپنی سارے وقت و طاقت کو ویٹ لفٹنگ کے ترقی کے لیے وقف کر دینا کوئی معمولی بات ہے ۔ بات اصل یہ ہے کہ ان کی محنت سے آج پاکستان ماسٹر ویٹ لفٹنگ ایسوسی ایشن نے ساوتھ ایشین ماسٹرز ویٹ لفٹنگ میں اتنی بڑی عہدے پاکستان کے حصے میں آیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر4210/2026
کوئٹہ، 20 مئی۔صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا ہے کہ بی ایس ڈی آئی (BSDI) کے تحت بلوچستان بھر میں جاری ترقیاتی منصوبے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جن کی تکمیل سے صوبے کے انفراسٹرکچر میں نمایاں اور انقلابی تبدیلیاں رونما ہوں گی جبکہ ان کے مثبت اثرات صوبے کی مجموعی ترقی اور عوامی سہولیات کی بہتری پر مرتب ہوں گےان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبے میں بی ایس ڈی آئی فیز ون اور فیز ٹو کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں تمام چھ زونز کے چیف انجینئرز متعلقہ افسران سپرنٹنڈنگ انجینئرز ٹیکنیکل ایڈوائزر سمیت تمام ضلعی انجینئرز اور افسران نے بذریعہ زوم شرکت کی اجلاس کے دوران صوبے کے ہر ضلع کے ایگزیکٹیو انجینئرز روڈز اور بلڈنگز نے اپنے اپنے اضلاع میں جاری بی ایس ڈی آئی منصوبوں کی پیش رفت تعمیراتی کاموں کی رفتارمعیار اور تکمیل کی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی کے تمام منصوبے عوامی فلاح و بہبود اور صوبے کے بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں ان منصوبوں کی تکمیل سے ہر ضلع میں روڈ اور بلڈنگ انفراسٹرکچر بہتر ہوگا جس سے نہ صرف ترقیاتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ عوام کو جدید اور بہتر سہولیات بھی میسر آئیں گی انہوں نے تمام ضلعی انجینئرز اور متعلقہ افسران کو سختی سے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی موثر انداز میں یقینی بنائی جائے اور منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں صوبائی وزیر نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں غفلت یا ناقص کارکردگی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور اس ضمن میں پہلے ہی چند انجینئرز کو فرائض میں غفلت برتنے پر معطل کیا جا چکا ہے انہوں نے واضح کیا کہ منصوبوں کی تکمیل تعمیراتی معیار اور دیگر تکنیکی معاملات پر کسی قسم کی کوتاہی کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی میر سلیم احمد کھوسہ نے مزید کہا کہ صوبے میں جاری بی ایس ڈی آئی سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جا رہی ہیں یہ ٹیمیں اپنے اپنے زونز کے اضلاع میں جاری منصوبوں کا معائنہ کرنے کے بعد تفصیلی رپورٹس سیکریٹری آفس کو ارسال کریں گی تاکہ منصوبوں میں شفافیت معیار اور رفتار کو مزید موثر بنایا جا سکے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا کہ بلوچستان حکومت ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو اولین ترجیح دے رہی ہے تاکہ صوبے میں پائیدار ترقی مضبوط انفراسٹرکچر اور عوامی خوشحالی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4211/2026
اسلام آباد، 20 مئی ۔ پارلیمانی فورم برائے پاپولیشن (پی ایف پی) کے پری بجٹ اجلاس میں وفاقی بجٹ 2026-27 سے قبل آبادی میں اضافے سے متعلق مالیاتی اور پالیسی ترجیحات پر تفصیلی غور کیا گیا اجلاس میں سینیٹرز، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے نمائندوں سمیت چالیس سے زائد پارلیمنٹیرینز نے شرکت کی۔ اجلاس کا انعقاد پاپولیشن کونسل نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) کے تعاون سے کیا اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پارلیمانی فورم برائے پاپولیشن کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ آبادی میں بے ہنگم اضافہ ملک کے وسائل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ انہوں نے مانع حمل ادویات اور اشیاء پر عائد ٹیکس فوری طور پر ختم کرنے اور وفاقی و صوبائی سطح پر مضبوط سیاسی عزم کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبادی کے مسئلے کو قومی اور خاندانی دونوں سطحوں پر سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے تاکہ بجٹ سازی کے عمل میں اسے ترجیح دی جا سکے وزارت خزانہ کے مشیر برائے خصوصی اقدامات عدنان پاشا صدیقی نے اپنے کلیدی خطاب میں آبادی میں اضافے کو پاکستان کی معیشت کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ماضی میں آبادی کی شرح نمو کو موثر انداز میں کنٹرول کیا جاتا تو آج پاکستان کی فی کس آمدن اور مجموعی قومی پیداوار کہیں بہتر ہوتی۔ انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے پر نظرثانی، مالیاتی ترجیحات کے ازسرنو تعین اور طویل المدتی قومی پروگرام برائے استحکام آبادی کی ضرورت پر زور دیا معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر حنید مختار نے کہا کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ کے حجم کے باوجود آبادی سے متعلق ترجیحات کے لیے مختص فنڈز انتہائی محدود ہیں، جو وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کے فقدان کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان میں یو این ایف پی اے کی بین الاقوامی فیملی پلاننگ ایڈوائزر ڈاکٹر میلانیا ہدایت نے خاندانی منصوبہ بندی کے شعبے میں مالیاتی خلا کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ فیملی پلاننگ نہ صرف صحت کے شعبے میں اہم سرمایہ کاری ہے بلکہ اس کے معاشی اور سماجی فوائد بھی نمایاں ہیں۔ انہوں نے پاکستان پاپولیشن فنڈ کو فعال بنانے، مختص فنڈز کو محفوظ بنانے اور مانع حمل اشیائ پر ٹیکس کے خاتمے کو فنانس بل کا حصہ بنانے پر زور دیا قومی اسمبلی کے رکن ڈاکٹر فاروق ستار کی زیر نگرانی ہونے والے مباحثے میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں نے شرکت کی اور آبادی کے مسئلے پر مشترکہ سیاسی اتفاق رائے کا اظہار کیا۔ شرکائ نے این ایف سی فارمولے پر نظرثانی، وسائل کی تقسیم کو انسانی ترقی کے اشاریوں سے منسلک کرنے، علاقائی تفاوت کم کرنے اور بنیادی سطح پر خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ڈاکٹر فاروق ستار نے مقامی حکومتوں کو آبادی کے استحکام کی حکمت عملی میں شامل کرنے اور پروگرامز کی موثر نگرانی یقینی بنانے کی اہمیت بھی اجاگر کی اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چیئرمین نوید قمر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارلیمنٹ آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق بجٹ وعدوں پر مسلسل نظر رکھے گی تاکہ پالیسی فیصلوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جا سکے۔ انہوں نے مانع حمل اشیاء پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اجلاس میں پاکستان میں آبادی کے استحکام کے ایجنڈے کو مضبوط بنانے کے لیے ترقیاتی شراکت داروں، خصوصاً فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی کے تعاون کو بھی سراہا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4212/2026
کوئٹہ، 20 مئی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے کہاکہ ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہرممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔شہر میں پرائس کنٹرول ،تجاوزات،صفائی ستھرائی اور ترقیاتی منصوبوں سمیت دیگر معمولات کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں عمل میں لائی جارہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) کوئٹہ کے 46ویں مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے شرکاءسے ڈپٹی کمشنر آفس کوئٹہ کے مطالعاتی دورہ کے موقع پر کیا۔ (نیپا) کوئٹہ کے 46ویں مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء پر مشتمل ایک وفد نے فیکلٹی ممبران اسلم غنی، خالد لاشاری، سید عثمان اور سید امیر کی قیادت میں ان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ زاہد خان ،اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر ضلعی افسران بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور ضلعی انتظامیہ کی مجموعی کارکردگی، عوامی خدمات اور شہری مسائل کے حل کے حوالے سے جاری اقدامات پر تفصیلی آگاہی دی۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی، گرانفروشی کے خاتمے، صفائی ستھرائی اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سٹی محمد امیر حمزہ نے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے شرکاءکو پرائس کنٹرول مہم، ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں، شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں، “صفا کوئٹہ” مہم، گرین بس سروس، تجاوزات کے خاتمے، ٹریفک کی بہتری اور شہری سہولیات سے متعلق اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلعی انتظامیہ روزانہ کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں پرائس کنٹرول سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ عوام کو اشیائے خوردونوش سرکاری نرخوں پر دستیاب ہوں۔ اسی طرح صفا کوئٹہ مہم کے تحت شہر کی صفائی، کچرے کی بروقت منتقلی اور ماحول کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ گرین بس سروس شہریوں کو معیاری اور جدید سفری سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔شرکاء نے ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی، عوامی مسائل کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور مختلف شعبوں میں جاری اصلاحاتی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے انہیں مثبت پیش رفت قرار دیا۔ شرکاء نے خصوصاً پرائس کنٹرول، صفائی مہم اور عوامی سہولیات کی بہتری کے اقدامات کو قابل تحسین قرار دیا۔اجلاس کے اختتام پر ایم سی ایم سی بیچ 46 کے شرکائ کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی اور ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن زاہد خان خلجی کو عوامی خدمت اور بہترین انتظامی کارکردگی کے اعتراف میں اعزازی شیلڈز پیش کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4213/2026
جعفرآباد20مئی ۔عوامی مسائل کے حل کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے بہترین اقدام کھلی کچہری کے عمل کو ضلع جعفر آباد میں مزید فروغ دینے کا عمل جاری مختلف شہری اور دیہی علاقوں میں کھلی کچہریوں کا عمل تیزی سے جاری ڈپٹی کمشنر جعفر آباد خالد خان کی سربراہی میں گوٹھ اللہ داد کھوسہ میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا کھلی کچہری میں ڈسٹرکٹ ہیڈز کی موجودگی کو عوام کی جانب سے بے حد سراہا گیا عوام نے اپنے مسائل کھل کر ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کیے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے عوام کی جانب سے اپنے مسائل پیش کرنے کے عمل کو خوش ائند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں خوشی ہو رہی ہے کہ عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے وزیراعلی بلوچستان کے پلیٹ فارم کھلی کچہری کو صحیح معنوں میں استعمال میں لارہے ہیں عوام کے تمام پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے ضلع انتظامیہ بہتر معنوں میں اقدامات کو یقینی بنا رہی ہے تاکہ عوام تک حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی تمام سہولیات میسر آ سکیں ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ تعلیم صحت آب نوشی نکاسی آب انفرااسٹرکچر کی بحالی سمیت دیگر عوامی مسائل پر ضلع انتظامیہ کی گہری نظر مرکوز ہے اور کھلی کچہری میں جن مسائل کی جانب عوام نے متوجہ کروایا ہے ہماری بھرپور کوشش رہے گی کہ ان مسائل کو بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو میں منظور کیا جائے تاکہ ان منصوبوں کے شروع ہونے سے عوام کی مشکلات میں واضح طور پر کمی واقع ہوگی پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے حکام بالا کو تحریری طور پر آگاہی فراہم کی جائے گی انہوں نے کہا کہ ہمارے دروازے عوام کے لیے ہمیشہ کھلے رہے ہیں عوام اپنے مسائل کے فوری تدارک کے لیے ہمیں روزانہ کی بنیاد پر تحریری اور زبانی طور پر اگاہی فراہم کریں تاکہ ان مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں عوام کی ترقی خوشحالی موجودہ حکومت کا وژن ہے جسے ضلع انتظامیہ عملی طور پر جامع پہنا رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4214/2026
ہرنائی 20مئی ۔ ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے ضلع میں تعلیمی نظام کی بہتری اور اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکول ہرنائی اور گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کا اچانک اور تفصیلی دورہ کیا۔ اس سرپرائز وزٹ کا مقصد تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل کا جائزہ لینا اور وہاں موجود سہولیات کی مانیٹرنگ کرنا تھا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے دونوں اسکولوں کے تمام کلاس رومز کا معائنہ کیا اور بچوں کو دی جانے والی تعلیم کے معیار کو پرکھا۔ انہوں نے اسکول کے حاضری رجسٹروں کی خود پڑتال کی اور اساتذہ سمیت دیگر تمام اسٹاف کی موجودگی کا ریکارڈ چیک کیا۔ انہوں نے غیر حاضر یا تاخیر سے آنے والے عملے کو سختی سے تنبیہ کی کہ تعلیمی فرائض میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی یا غفلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر نے اسکول انتظامیہ اور اساتذہ کرام کے ساتھ ایک خصوصی نشست بھی کی، جس میں انہوں نے اساتذہ کو درپیش مختلف انتظامی و تدریسی مسائل اور اسکولوں میں بنیادی سہولیات (جیسے پینے کا صاف پانی، بجلی اور فرنیچر) کی کمی کا تفصیلی احوال سنا۔استاد معاشرے کا معمار ہوتا ہے۔ ہم اساتذہ اور اسکولوں کو درپیش تمام جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ بچوں کے مستقبل کو روشن بنا سکیں۔ تاہم، اس کے بدلے میں ہمیں اسکولوں میں 100 فیصد حاضری اور بہترین تعلیمی نتائج چاہئیں۔ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو بھی ہدایات جاری کیں کہ اسکولوں کی مانیٹرنگ کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا تاکہ ضلع ہرنائی میں تعلیم کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4215/2026
ہرنائی 20مئی ۔ ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے عوامی شکایات پر فوری ایکشن لیتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (DHQ) اہسپتال ہرنائی کا بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہنگامی دورہ کیا۔ دورے کا بنیادی مقصد ہسپتال میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور سرکاری عملے کی حاضری کا تفصیلی جائزہ لینا تھا۔معائنے کے دوران اہسپتال کے متعدد شعبوں میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی عدم موجودگی کا انکشاف ہوا، جس پر ڈپٹی کمشنر نے شدید برہمی اور برسٹ کا اظہار کیا۔ انہوں نے ڈیوٹی سے غیر حاضر اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے والے عملے کے رویے کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیااہسپتال انتظامیہ اور متعلقہ حکام کو موقع پر ہی سخت ترین احکامات جاری کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ہرنائی نے کہا۔سرکاری ہسپتالوں میں غریب عوام کا علاج ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہسپتال میں دن رات (24 گھنٹے) ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی حاضری کو سو فیصد یقینی بنایا جائے۔ شفٹوں کے مطابق عملے کی موجودگی میں کسی قسم کا عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے مزید تنبیہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں رکاوٹ بننے والے عناصر کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ جو بھی سرکاری ملازم اپنی آئینی اور اخلاقی ڈیوٹی میں غفلت، کوتاہی یا لاپرواہی کا مرتکب پایا گیا، اس کے خلاف فوری طور پر سخت قانونی اور محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ تمام عملے کا حاضری رجسٹر اور بائیومیٹرک ریکارڈ باقاعدگی سے برقرار رکھیں اور ضلعی انتظامیہ کو رپورٹ پیش کریں۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ ضلعی انتظامیہ ہرنائی کے تمام سرکاری اداروں، بالخصوص صحت اور تعلیم کے مراکز کی مانیٹرنگ کا سلسلہ اسی طرح اچانک دوروں کے ذریعے جاری رکھے گی تاکہ مروجہ قوانین اور حکومتی پالیسیوں پر سختی سے عمل درآمد کرایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4216/2026
کوئٹہ 20مئی۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت کوئٹہ ماسٹر پلان اور شہر کی توسیع سے متعلق ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر کوئٹہ ڈویژن آغا سمیع اللہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کوئٹہ حافظ محمد طارق، کنسلٹنسی فرم، محکمہ جنگلات اور محکمہ ریونیو کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کوئٹہ شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر ماسٹر پلان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر خصوصاً “کوئٹہ گرین انیشیٹو” کے تحت مجوزہ واٹر چینل منصوبے، اس کی پلاننگ، فزیبلٹی اسٹڈی اور دیگر تکنیکی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کوئٹہ میں ہر سال ہزاروں ایکڑ فٹ برساتی پانی مختلف نالوں کے ذریعے ضائع ہو جاتا ہے، جس کے باعث زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر بارش کے پانی کو محفوظ بنانے اور زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافے کے لیے واٹر چینل کی تعمیر ناگزیر قرار دی گئی۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اگر برساتی پانی کو مو¿ثر انداز میں محفوظ کیا جائے تو نہ صرف پانی کی قلت پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں شہر کو ماحولیاتی اور آبی بحران سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ریونیو اسٹاف ،سیٹلمنٹ اور کنسلٹنسی فرم مشترکہ طور پر واٹر چینل کے لے آوٹ، فزیبلٹی اسٹڈی اور دیگر تکنیکی امور کو حتمی شکل دے کر جامع رپورٹ پیش کریں گے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ مجوزہ منصوبے کے تحت کوئٹہ کے دونوں اطراف پہاڑوں کے دامن میں تقریباً 30 فٹ چوڑا واٹر چینل تعمیر کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ منصوبے میں کوشش کی جائے گی کہ زیادہ سے زیادہ سرکاری اراضی استعمال کی جائے جبکہ نجی اراضی کا استعمال کم سے کم رکھا جائے تاکہ منصوبے کی لاگت میں اضافہ نہ ہو۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ واٹر چینل منصوبے کے مختلف پہلووں سے جامع پلان تیار کیا جائے تاکہ منصوبے پر بلا تعطل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ واٹر چینل، واچ ٹاورز، اسٹوریج ٹینکس اور واٹر ہارویسٹنگ سسٹم کے ذریعے برساتی پانی کے ضیاع کو روک کر زیرِ زمین پانی کی سطح میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے، جو مستقبل میں کوئٹہ شہر کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4217/2026
ژوب: 20مئی ۔کمشنر ژوب ڈویژن آصف علی فرخ نے ماڈل ہائیر سیکنڈری سکول ژوب کا تفصیلی دورہ کرتے ہوئے تدریسی، انتظامی اور تکنیکی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے مختلف کلاس رومز کا معائنہ کیا اور طلبہ سے براہِ راست سوالات کرکے ان کی تعلیمی استعداد اور تدریسی معیار کا مشاہدہ کیا۔کمشنر نے اساتذہ کی تدریسی حکمتِ عملی، طلبہ کی تعلیمی دلچسپی اور سکول ک مجموعی ماحول کو سراہتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم ہی معاشرتی ترقی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی مہارتوں کے حصول پر بھی توجہ دیں تاکہ مستقبل کے چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔اس موقع پر کمشنر نے سکول میں قائم ٹیکنیکل سنٹر کا بھی تفصیلی معائنہ کیا، جہاں زیرِ تربیت طلبہ کی عملی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے ہنر مندانہ تعلیم کے فروغ کے لیے ادارے کی کاوشوں کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ فنی تعلیم نوجوانوں کو بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔سکول کے پرنسپل تازہ خان ناصر نے کمشنر کو ادارے کی مجموعی کارکردگی، طلبہ کی تعداد، تدریسی عملے، نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔کمشنر ژوب ڈویژن نے سکول کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماڈل ہائیر سیکنڈری سکول ژوب تعلیمی معیار اور نظم و ضبط کے حوالے سے خطے کے لیے ایک مثالی ادارہ ہے۔ انہوں نے پرنسپل اور اساتذہ کی محنت کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ سکول کو درپیش مسائل اور طلبہ کی سہولیات سے متعلق امور ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔بعدازاں پرنسپل تازہ خان ناصر نے کمشنر کے دورے کو ادارے کے لیے حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی خصوصی دلچسپی اور تعاون سے سکول کی ترقی اور تعلیمی معیار میں مزید بہتری آئے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4218/2026
موسیٰ خیل 20 مئی ۔ وزیراعلی بلوچستان میرسرفراز بگٹی کی ہدایات کی روشنی میں عوامی مسائل کے حل کے لئے ضلعی انتظامیہ نے ڈسٹرکٹ کمپلیکس میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا کھلی کچہری میں ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک ایس پی کلیم اللہ کاکڑ اسسٹنٹ کمشنر موسی’ خیل نجیب اللہ کاکڑ تمام ضلعی آفیسران قبائلی عمائدین سوشل ورکرز میڈیا نمائندوں اور عوام نے سینکڑوں کی تعداد میں شرکت کی کھلی کچہری میں عوام نے درپیش مسائل شکایات اور تجاویز پیش کیں جبکہ ضلع میں امن وامان کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیادریں اثنا بی ایس ڈی آئی فیز تھری کے حوالے سے درخواستیں ڈپٹی کمشنر کے ہاں جمع کرائی گئیں ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی نشست کا بنیادی مقصد عوام کے مسائل کو براہِ راست سن کر ان کا فوری اور موثر حل تلاش کرنا تھا جس میں خاطر خواہ پیش رفت حاصل ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ عوام کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہیں اور ضلعی انتظامیہ پر اعتماد کرتے ہیں انہوں نے تمام متعلقہ محکموں کے آفیسران کو ہدایت کی کہ کھلی کچہری میں موصول ہونے والی شکایات پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی درخواست کو التواء میں نہ رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت ہماری ذمہ داری ہے اور اس میں کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے مزید کہا کہ ایسے عوامی اجتماعات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطہ مضبوط ہو اور مسائل کا بروقت حل ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے شہریوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے کھلی کچہری میں شرکت کر کے اپنے مسائل سے آگاہ کیا، اور یقین دہانی کرائی کہ تمام جائز شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا آخر میں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4219/2026
لورالائی20مئی ۔ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس زیر صدارت ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن ریٹائرڈ محمد حسیب شجاع منعقد ہوا، اجلاس میں ایکسین بی انیڈ آر بلڈنگ احمد دین،ایکسین بی انیڈ آر روڈ محمد داود،ایکسین پی ایچ آءاختر محمد مندو خیل نے شرکت کی اجلاس میں ضلع بھر میں جاری تمام منصوبوں کی جسمانی اور مالی پیش رفت کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت متعلقہ اعلیٰ حکام نے کی جبکہ مختلف محکموں کے افسران، ایکسیئنز اور عملدرآمدی اداروں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔اجلاس سے ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن ریٹائرڈ محمد حسیب شجاع نے خطاب کرتے ہوئے کہا متعدد منصوبوں پر کام کی سست رفتاری پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی کہ منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور انہیں مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ مسلسل ہدایات، فیلڈ دوروں اور تنبیہات کے باوجود بعض منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر ناقابلِ قبول ہے۔تمام ایکسیئنز اور متعلقہ افسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ فیلڈ سرگرمیوں کی موثر نگرانی یقینی بنائیں، مطلوبہ مشینری، افرادی قوت اور تعمیراتی سامان کی بروقت فراہمی کو یقینی بناتے ہوئے درپیش رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کریں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ BSDI منصوبوں کے حوالے سے غیر سنجیدہ رویہ، کمزور رابطہ کاری اور غیر ضروری تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس میں منصوبوں کے معیارِ تعمیر، مالی وسائل کے شفاف استعمال، منصوبوں کی ممکنہ نقل اور زمینی سطح پر عملدرآمد کے مختلف پہلووں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ منظور شدہ PC-1، تکنیکی معیار اور حکومتی پالیسی کے مطابق منصوبوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے جبکہ بروقت رپورٹنگ اور شفافیت کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے۔اس موقع پر حکام نے خبردار کیا کہ ناقص کارکردگی، غفلت یا ترقیاتی کاموں میں بلاجواز تاخیر کے مرتکب محکموں اور افسران کے خلاف سخت انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ BSDI کے تحت جاری تمام منصوبوں کو بروقت مکمل کرکے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ تمام جاری منصوبوں کی ہفتہ وار مانیٹرنگ رپورٹ مرتب کی جائے گی جبکہ ضلعی سطح پر خصوصی انسپیکشن ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی جو مختلف ترقیاتی اسکیموں کا اچانک معائنہ کرکے اپنی رپورٹ اعلیٰ حکام کو پیش کریں گی۔ حکام کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور عوامی مفاد کے منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4220/2026
کوئٹہ 20 مئی۔ : ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، جبکہ شہر میں پرائس کنٹرول، تجاوزات کے خاتمے، صفائی ستھرائی اور ترقیاتی منصوبوں پر روزانہ کی بنیاد پر موثر کارروائیاں جاری ہیں۔انہوں نے یہ بات نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) کوئٹہ کے 46ویں مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے شرکاءکے ڈپٹی کمشنر آفس کوئٹہ کے مطالعاتی دورے کے موقع پر کہی۔اس موقع پر نیپا کوئٹہ کے 46ویں مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے شرکائ پر مشتمل ایک وفد نے فیکلٹی ممبران محمد اسلم غنی، خالد لاشاری، سید عثمان اور سید امیر شاہ کی قیادت میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ زاہد خان خلجی، اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر ضلعی افسران بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کی مجموعی کارکردگی، عوامی خدمات اور شہری مسائل کے حل کے لیے جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی، گرانفروشی کے خاتمے، صفائی ستھرائی کے نظام کو موثر بنانے اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے مسلسل عملی اقدامات کر رہی ہے۔ شرکاء کو پرائس کنٹرول مہم، ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں، شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں، “صفا کوئٹہ” مہم، گرین بس سروس، تجاوزات کے خاتمے، ٹریفک کی روانی اور شہری سہولیات کی بہتری سے متعلق تفصیلی آگاہی فراہم کی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلعی انتظامیہ روزانہ کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں پرائس کنٹرول سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ عوام کو اشیائے خوردونوش سرکاری نرخوں پر دستیاب ہوں۔ اسی طرح “صفا کوئٹہ” مہم کے تحت شہر کی صفائی، کچرے کی بروقت منتقلی اور ماحولیات کی بہتری کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ گرین بس سروس شہریوں کو جدید، معیاری اور آرام دہ سفری سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔نیپا کے شرکاء نے ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی، عوامی مسائل کے حل کے لیے کیے گئے اقدامات اور مختلف شعبوں میں جاری اصلاحاتی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے انہیں مثبت پیش رفت قرار دیا۔ وفد نے خصوصاً پرائس کنٹرول، صفائی مہم اور عوامی سہولیات کی بہتری کے اقدامات کو قابلِ تحسین قرار دیا۔اجلاس کے اختتام پر ایم سی ایم سی بیچ 46 کے شرکاءنے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی سے مختلف سوالات کیے، بعد ازاں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی اور ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ زاہد خان خلجی کو عوامی خدمت اور بہترین انتظامی کارکردگی کے اعتراف میں اعزازی شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4221/2026
موسیٰ خیل 20مئی ۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت ضلع میں موبائل نیٹ ورک اور پی ٹی سی ایل (PTCL) سروسز کی بہتری اور بحالی کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایس پی پولیس موسیٰ خیل کلیم اللہ خان کاکڑ، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے نمائندے، یوفون اور ٹیلی نار کے اعلیٰ حکام سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران ضلع موسیٰ خیل میں موبائل نیٹ ورکس کی 2G، 3G اور 4G سروسز کی مکمل بحالی، سگنلز کے معیار کی بہتری، سکیورٹی کے امور اور کمپنیوں کو درپیش دیگر مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرتے ہوئے تمام موبائل کمپنیوں اور پی ٹی اے کے نمائندوں کو سخت ہدایات جاری کیں کہ عوام کو بلا تعطل اور معیاری نیٹ ورک کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے انہوں نے واضح کیا کہ جدید دور میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز بنیادی ضرورت بن چکی ہیں، لہٰذا نیٹ ورک کی معطلی یا سست روی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ٹیلی کام کمپنیوں کو ہدایت کی کہ وہ تکنیکی اور سکیورٹی مسائل کو ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے تعاون سے فوری حل کریں تاکہ صارفین کو بہترین سروسز میسر آسکیں ایس پی موسیٰ خیل کلیم اللہ خان کاکڑ نے اس موقع پر کمپنیوں کو سکیورٹی کے حوالے سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ ٹیلی کام کمپنیوں کے نمائندوں نے ڈپٹی کمشنر کی ہدایات پر فوری عملدرآمد کا عزم ظاہر کرتے ہوئے نیٹ ورک کی کوالٹی کو جلد از جلد بہتر بنانے کی یقین دہانی کروائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4222/2026
کوئٹہ 20مئی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت عیدالاضحیٰ کے انتظامات اور تیاریوں کے حوالے سے ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن کمیٹی کااجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں شہر میں صفائی ستھرائی، سیکیورٹی، ٹریفک مینجمنٹ، صحت و صفائی اور قربانی کے جانوروں سے متعلق انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پولیس، پی ڈی ایم اے، محکمہ صحت، ٹریفک پولیس، صفا کوئٹہ، ایگریکلچر، لائیو اسٹاک، ایجوکیشن سمیت مختلف محکموں کے افسران نے شرکت کی اور اپنے اپنے اداروں کی جانب سے عیدالاضحیٰ کے انتظامات پر بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے لیے صفا کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں آلائشیں اور فضلہ جمع کرنے کے خصوصی پوائنٹس قائم کرے جبکہ گلی محلوں اور شاہراہوں میں صفائی کے عمل کو مزید موثر اور یقینی بنایا جائے۔انہوں نے محکمہ لائیو اسٹاک کو ہدایت دی کہ تمام مویشی منڈیوں میں روزانہ کی بنیاد پر حفاظتی اسپرے اور جراثیم کش اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ جانوروں میں بیماریوں کی روک تھام اور عوام کی صحت کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔اجلاس میں سیکیورٹی، ٹریفک روانی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عیدالاضحیٰ کے دوران شہریوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ادارے متحرک رہیں اور اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں سرانجام دیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
کوئٹہ،20 مئی ۔ بدعنوانی کے خلاف جاری آگاہی مہم کے سلسلے میں ، نیب بلوچستان نے تعمیر نو پبلک کالج کوئٹہ میں “نیب کے کام کا طریقہ کار اور بدعنوانی کے خاتمے میں طلباء کے کردار” کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ سیمینار کا بنیادی مقصد نوجوان طلباء کو بدعنوانی کے مضر اثرات سے آگاہ کرنا اور بدعنوانی سے پاک معاشرے کی تعمیر کے لیے اجتماعی کوششوں کو فروغ دینا تھا۔ نیب بلوچستان کے افسران کے ایک وفد نے ڈپٹی ڈائریکٹر نیب بلوچستان خرم شہزاد کی قیادت میں طلبائ اور فیکلٹی ممبرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے نیب کے وڑن، مشن اور بدعنوانی کی لعنت کے خاتمے میں طلبائ کے اہم کردار پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر کالجز محمد حسین بلوچ اور پرنسپل تعمیر نو پبلک کالج عابد مقصود بھی طلبائ کی ایک کثیر تعداد کے ساتھ موجود تھے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر نیب نے طلبائ سے خطاب کے دوران اس بات پر زور دیا کہ نوجوان طلبائ معاشرے میں تبدیلی کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ انہوں نے طلبائ کو تلقین کی کہ وہ اپنی زندگیوں میں دیانتداری اور احتساب کو بنیاد بنائیں اور بدعنوانی سے نفرت کو اپنی شخصیت کا حصہ بنائیں۔اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خود احتسابی اور دیانت داری اسلام کے بنیادی اصول ہیں اور بدعنوانی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اقربا پروری، رشوت، سفارش، زور زبردستی اور جانبداری کو کرپشن کی اقسام کے طور پر گرداناگیا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ یہ رویے ہمارے معاشرے میں معمول بن چکے ہیں۔ اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ طلباءبدعنوانی کے خلاف شعور حاصل کر یں تا کہ ایمانداری، دیانتداری اور جوابدہی کے درس کومزید فروغ دیا جا سکے۔ معاشرے کے اہم ارکان کے طور پر طلبائ کی اجتماعی کوششیں بدعنوانی سے پاک معاشرے کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ پروگرام کے دوران ڈائریکٹر کالجزمحمد حسین بلوچ اور پرنسپل تعمیر نو پبلک کالج عابد مقصود نے موضوع کے اعتبار سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور نیب بلوچستان کی کاوشوں کو سراہا اور آئندہ بھی انسداد بدعنوانی کی مہم میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ سیمینار کےاختتام پر نیب کی جانب سے پرنسپل کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔ بعدازاں کالج میں کرپشن کے خلاف آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا جس میں نیب افسران، ڈائریکٹر کالجز ، پرنسپل ، پروفیسرز اور طلباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta: 20th May 2026: As part of its ongoing anti-corruption awareness campaign, NAB (Balochistan) organized a Seminar on “Functions of NAB and Role of Students in Eradication of Corruption” at Tameer-e-Nau Public College, Quetta. The primary objective of the seminar was to aware the youth about detrimental effects of corruption and to promote collective efforts for building a corruption-free society.
Mr. Khuram Shehzad, Deputy Director NAB (B) engaged with students and faculty, discussing NAB’s vision, mission and the significant role, the students can play in eradicating menace of corruption. He delivered formal speech and emphasized on students to adopt such moral standards, wherein, abhorrence against corruption become integral part of their personalities. It was also deliberated that the teachings of Islam also assert on self-accountability and do not allow an iota of dishonesty and corruption. He added that nepotism, influence peddling, bribery, extortion and favouritism are forms of corruption, but unfortunately, these have been taken by our society as a norm. The collective efforts of the students, as crucial members of society, can play a pivotal role in laying foundation of a corruption-free society.
On this occasion, Director Colleges Mr. Muhammad Hussain and Principal of the College Mr. Abid Maqsood also shared their thoughts against corruption and appreciated the efforts of NAB Balochistan for its eradication and assured to extend all possible assistance in the anti-corruption awareness drive of NAB Balochistan. The seminar concluded with presentation of shield to the Principal of the College by Deputy Director NAB followed by mutual express of gratitude and a note of thanks by both sides.
At the end of the seminar, an awareness walk was also arranged, wherein, participants of seminar including NAB officers, Director Colleges, Principal, Professors and a fair gathering of students, participated.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر4223/2026
اسلام آباد 20 مئی:۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے پاک چین سیاسی و سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر کہا کہ دونوں دوست ہمسایہ ممالک اس طویل عرصے کے دوران مشکل وقت میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں اور پورے خطے کے پائیدار امن اور اقتصادی ترقی کے فروغ میں قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ پاکستان اور چائنا کی دوستی باہمی اعتماد، غیرمتزلزل حمایت، مشترکہ خواہشات اور سٹریٹجک تعاون پر استوار ہیں۔ اس دیرینہ دوستی کو “آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ” کہا جاتا ہے۔ ہم چین کے صدر شی جن پنگ اور چینی عوام کو ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ بلا شبہ گوادر سٹی میگا پراجیکٹ سی پیک کے تاج کا نگینہ ہے۔ اس شاندار منصوبے کی تکمیل سے پاکستان بالخصوص بلوچستان معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن جائیگا۔ چونکہ بلوچستان ایک اہم سنگم پر واقع ہے، اسلیے یہ وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کو ملانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اسطرح بلوچستان کا محل وقوع اب معاشی انقلاب کی امید کی کرن بن چکا ہے۔ جیسے ہی چائنا پاکستان اقتصادی راہداری پایہ تکمیل کو پہنچے گا، بلوچستان معیشت، تجارت، اختراعات اور روزگار کے مواقعوں کے ایک متحرک مرکز کے طور پر ابھرے گا۔ سی پیک جو معاشی خوشحالی لائے گا وہ محض ایک خواب نہیں بلکہ ایک وعدہ ہے جو ہم پاکستان اور چین ملکر کر رہے ہیں۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا مزید استحکام عوام سے عوام کے درمیان روابط بنانے کیلئے عوام کے درمیان روابط بڑھانے سے مشروط ہے۔ گورنر بلوچستان کی حیثیت سے میں چین کے دورے پر 16 رکنی وفد کی قیادت کر رہا ہوں جس میں پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما شامل ہیں۔ ہم بلوچستان کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی ترقی اور صوبے کے نوجوانوں کیلئے اسکالرشپ کے حوالے سے بڑی خبری دینگے۔ میری ذاتی خواہش اور کوشش ہے کہ ہمارے نوجوانوں کا روشن مستقبل محفوظ ہو، ان کے ذہن جدید سائنس و فلاسفی کی روشنی سے منور ہوں، اور بلوچستان ہائیر ایجوکیشن کے میدان میں مزید ترقی کرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4224/2026
کوئٹہ 20مئی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے احکامات پر ضلعی انتظامیہ کوئٹہ اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی ائرپورٹ روڈ پر غیر قانونی بکرہ پھیری کے خلاف مشترکہ کارروائی۔ تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر صدر یوسف ہاشمی، اسپیشل مجسٹریٹ حسیب سردار اور اینٹی انکروچمنٹ زون انچارج علی رضا درانی کی نگرانی میں کارروائی کرتے ہوئے ائیرپورٹ روڈ پر غیر قانونی پیڑیاں، عارضی ڈھانچے اور تجاوزات ختم کرکے علاقے کو کلیئر کر دیا گیا۔انتظامیہ کے مطابق ائرپورٹ روڈ پر غیر قانونی بکرہ پھیری کے باعث ٹریفک، صفائی اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا تھا، جس پر عوامی شکایات کے بعد فوری ایکشن لیا گیا۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ شہر بھر میں تجاوزات اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 4225/2026
لورالائی 20 مئی .۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن ریٹائرڈ محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل اور اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے ڈی سی آفس لورالائی کے مختلف شعبہ جات، ریکارڈ روم اور اسٹاف دفاتر کا تفصیلی معائنہ کیا۔ دورے کا مقصد دفتری امور کی بہتری، سرکاری ریکارڈ کی حفاظت اور عوامی خدمات کے نظام کو مزید موثر بنانا تھا۔معائنے کے دوران افسران نے ریکارڈ روم میں موجود اہم سرکاری دستاویزات، فائلوں کی ترتیب، صفائی کی صورتحال اور ریکارڈ کی حفاظت کے انتظامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت جاری کی کہ سرکاری ریکارڈ کی بروقت اندراج، محفوظ انداز میں دیکھ بھال اور منظم طریقے سے ترتیب کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوامی امور میں شفافیت اور دفتری کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔افسران نے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز کرنے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نظام اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، جس سے نہ صرف ریکارڈ محفوظ رہے گا بلکہ عوام کو خدمات کی فراہمی میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔دورے کے دوران اے ڈی سی رینیو محمد اسماعیل مینگل اور اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے مختلف اسٹاف رومز، حاضری رجسٹر اور دفتری امور کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے صفائی، نظم و ضبط اور وقت کی پابندی کو یقینی بنانے کی ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری دفاتر میں عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔اس موقع پر افسران نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل، ادارہ جاتی اصلاحات اور سرکاری دفاتر کی کارکردگی میں بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی خدمت کے نظام کو مزید شفاف، منظم اور فعال بنایا جائے گا۔دریں اثناءضلعی انتظامیہ لورالائی کی جانب سے مختلف سرکاری دفاتر میں صفائی، حاضری اور ریکارڈ مینجمنٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی مانیٹرنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے، جبکہ عوامی شکایات کے فوری ازالے اور دفتری امور میں شفافیت لانے کے لیے متعدد اصلاحاتی اقدامات پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4226/2026
نصیرآباد20مئی ۔ڈپٹی کمشنر نصیر آباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے انسداد پولیو مہم کے حوالے سے ای آر ایم ایس این آئی ڈی مئی مہم کے سلسلے میں تیسرے روز ایوننگ جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز جمالی، ایریا انچارجز، یو سی ایم اوز، پولیو ورکرز اور ڈپٹی کمشنر کے پی ایس منظور شیرازی سمیت دیگر مانیٹرنگ افسران شریک تھے۔ اجلاس کے دوران انسداد پولیو مہم کے تیسرے روز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیاجبکہ مختلف یونین کونسلز میں جاری مہم کی پیش رفت پر بھی غور کیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے پولیو ورکرز، ایریا انچارجز اور مانیٹرنگ افسران پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پولیو مہم کی کامیابی کو یقینی بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور یہ کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ درپیش مسائل اور چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے انسداد پولیو مہم کو کامیابی سے ہمکنار کیا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4227/2026
دکی 20 مئی ۔ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان نے بی ایس ڈی آئی پروگرام کے تحت ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال دکی میں زیرِ تعمیر جدید آپریشن تھیٹر کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے جاری تعمیراتی کام، معیار اور رفتار کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر محکمہ صحت کے افسران، متعلقہ انجینئرز اور تعمیراتی کمپنی کے نمائندگان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے آپریشن تھیٹر میں نصب کیے جانے والے جدید طبی آلات، بجلی کی فراہمی، وینٹیلیشن سسٹم، پانی کی دستیابی، صفائی کے انتظامات اور تعمیراتی میٹریل کے معیار کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے میں معیاری میٹریل کے استعمال اور تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے تاکہ عوام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اس موقع پر محکمہ صحت بلوچستان کے حکام نے ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آپریشن تھیٹر کی تکمیل سے نہ صرف دکی بلکہ ملحقہ علاقوں کے مریض بھی جدید طبی سہولیات سے مستفید ہو سکیں گے، جبکہ پیچیدہ آپریشنز کی سہولت مقامی سطح پر دستیاب ہونے سے مریضوں کو بڑے شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ڈپٹی کمشنر محمد نعیم خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور دیہی و دور دراز علاقوں میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ ٹھیکیدار اور حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ عوام جلد از جلد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال میں جدید آپریشن تھیٹر کے قیام سے ایمرجنسی اور سرجیکل سروسز میں نمایاں بہتری آئے گی، جبکہ زچہ و بچہ، ٹراما اور دیگر پیچیدہ کیسز کے علاج میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا بھی معائنہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے عملے کو عوام کے ساتھ خوش اخلاقی اور ذمہ داری کے ساتھ پیش آنے کی ہدایت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4228/2026
چمن 20مئی ۔ ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت SNID مئی 2026 کی انسدادِ پولیو مہم کے تیسرے روز جاری سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایوننگ ریویو اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نوید بادینی ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر، ای او سی مانیٹرز، ڈسٹرکٹ مانیٹرز اور ضلع بھر کے یونین کونسل میڈیکل آفیسرز UCMOs نے شرکت کی اجلاس کے دوران تیسرے روز کی مجموعی کارکردگی فیلڈ ٹیموں کی پیش رفت، ہاوس ہولڈ کوریج اور رہ جانے والے بچوں تک رسائی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ڈپٹی کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ پانچ سال تک کے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں اور کسی بھی بچے کو ویکسین سے محروم نہ رہنے دیا جائے انہوں نے ہدایت جاری کی کہ ہر UCMO اپنی متعلقہ یونین کونسل میں پانچ سال تک کے تمام بچوں کو پولیو ویکسین پلائیں اور فیلڈ میں ٹیموں کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھیں انہوں نے کہا کہ پولیو ویکسین پلانے کے حوالے سے کسی قسم کی مصلحت پسندی اور نرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا مزید برآں فیلڈ مانیٹرنگ کے نظام کو مزید فعال اور موثر بنانے کے لیے بھی واضح ہدایات جاری کی گئیں تاکہ مہم کے مطلوبہ اہداف بروقت حاصل کیے جا سکیں ڈی سی نے والدین سے اس سلسلے میں اپیل کی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کیلئے انھیں پولیو کے دو ڈراپ ضرور پلائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4229/2026
قلعہ سیف اللہ20مئی ۔ : ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے BSDI اسکیم کے تحت فعال کیے گئے گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول شنکئی واہ اخترزئی کا اچانک دورہ کیا۔ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے کلاس رومز، اساتذہ کی حاضری، طلبہ کی تعداد، نصابی سرگرمیوں اور اسکول میں فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اسکول ریکارڈ چیک کرنے کے بعد انہوں نے طالبات سے براہِ راست بات چیت کی اور ان سے تعلیم، نصاب، اساتذہ کے رویے اور اسکول کے ماحول کے حوالے سے سوالات کیے۔طالبات نے اعتماد کے ساتھ اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور بتایا کہ وہ اسکول میں دلچسپی سے پڑھ رہی ہیں اور اساتذہ ان کی رہنمائی بہتر انداز میں کر رہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جس سے علاقے کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کا مقصد ہر بچی کو معیاری تعلیم کی سہولت اس کی دہلیز پر فراہم کرنا ہے۔ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری اور محنت سے نبھائیں اور کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ BSDI اسکیم کے تحت فعال کیے گئے اسکولز کی مانیٹرنگ مسلسل جاری رہے گی تاکہ وسائل کا صحیح استعمال یقینی بنایا جا سکے۔دورے کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے اسکول انتظامیہ کو ہدایت دی کہ تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنایا جائے اور والدین سے رابطہ بڑھا کر زیادہ سے زیادہ بچیوں کو اسکول لایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4230/2026
دکی، 20 مئی ۔ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان نے ڈسٹرکٹ چیئرمین حاجی خیراللہ ناصر اور چیئرمین میونسپل کمیٹی ملک کلیم اللہ ترین کے ہمراہ بی ایس ڈی آئی پروگرام کے تحت جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا اور جاری کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے شہر میں ریڑھی بانوں کیلئے مختص مقام پر ٹف ٹائلز کی تنصیب کے کام کا معائنہ کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام اور ٹھیکیداروں کو ہدایت کی کہ منصوبے کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے تاکہ ریڑھی بانوں کو منظم ماحول فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے نہ صرف شہریوں کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی بلکہ شہر میں ٹریفک کی روانی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے مسجد روڈ پر جاری بلیک ٹاپنگ کے ترقیاتی کام کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے سختی سے ہدایت کی کہ تعمیراتی عمل میں معیاری میٹریل کا استعمال یقینی بنایا جائے تاکہ سڑک طویل عرصے تک پائیدار رہے اور عوام کو بہتر سفری سہولت فراہم ہو سکے۔ڈپٹی کمشنر نے بائی پاس مین نالے کی تعمیر کا بھی معائنہ کیا اور نکاسی آب کے نظام کو موثر بنانے کیلئے کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا اور تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔اس موقع پر متعلقہ محکموں کے افسران نے ڈپٹی کمشنر کو منصوبوں کی پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل کے حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ترقیاتی منصوبوں کی شفاف اور بروقت تکمیل اولین ترجیح ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی اسکیموں کی مسلسل نگرانی کا مقصد عوامی وسائل کے درست استعمال کو یقینی بنانا اور شہریوں کو جدید اور بہتر انفراسٹرکچر فراہم کرنا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے خبردار کیا کہ ناقص تعمیراتی کام یا غیر ضروری تاخیر کی صورت میں متعلقہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4231/2026
تمپ۔ 20 مئی ۔: ڈپٹی کمشنر تمپ برکت علی بلوچ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا پہلا اہم اور تاریخ ساز اجلاس ڈی سی آفس تمپ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر تمپ حق حیات، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر تمپ منظور احمد سمیت مختلف متعلقہ اداروں کے افسران اور نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع تمپ کے تعلیمی نظام، اسکولوں کی بہتری، اساتذہ کی حاضری، طلبہ کی تعلیمی معیار میں بہتری، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور مستقبل کی تعلیمی منصوبہ بندی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ نو تشکیل شدہ ضلع تمپ میں تعلیم کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ڈپٹی کمشنر تمپ برکت علی بلوچ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے اور تمپ کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع تمپ کو تعلیمی میدان میں ایک مثالی ضلع بنانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسکولوں میں نظم و ضبط، تدریسی معیار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول میسر آسکے۔ ان کی متحرک قیادت، سنجیدہ حکمت عملی اور تعلیم دوست وژن کو شرکاء ے بے حد سراہا۔ عوامی و تعلیمی حلقوں نے ڈپٹی کمشنرتمپ برکت علی بلوچ کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں خصوصی دلچسپی کو ایک مثبت اور انقلابی قدم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں ضلع تمپ تعلیم، ترقی اور خوشحالی کی نئی منزلیں طے کرے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4232/2026
قلات20مئی .۔قلات میں کسان کارڈ کی تقسیم شروع زمینداروں کیلئے زرعی سہولیات سے مستفید کرانے کی حکومتی پالیسی فائدہ مندثابت ہونے لگی ہےڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن قلات عبد الناصر صاحب نے آج ضلع قلات کے زمینداروں میں کسان کارڈ تقسیم کیےڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن عبد الناصر نے اس موقع پر زمینداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے کسانوں اورزمینداروں کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف زرعی سہولیات اور سبسڈی پروگرام متعارف کروائے گئے ہیں، جن سے فائدہ اٹھانے کے لیے کسان کارڈ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے ضلع قلات کے تمام زمینداروں اور کسانوں سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ کسان کارڈ کے لیے اپنی رجسٹریشن جلدازجلدمکمل کریں تاکہ حکومتی زرعی سبسڈی، بیج، کھاد اور دیگر زرعی سہولیات سے بھرپور فائدہ حاصل کیا جا سکے۔واضح رہے کہ محکمہ زراعت کسانوں کی بہتری اور جدید زرعی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کی معاشی حالت بہتر بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4233/2026
تمپ۔ 20 مئی۔ ڈپٹی کمشنر تمپ برکت علی بلوچ کی زیرِ صدارت نو تشکیل شدہ ضلع تمپ کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا پہلا تاریخی اجلاس ڈی سی آفس تمپ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر تمپ حق حیات، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تمپ نوروز یعقوب سمیت مختلف متعلقہ اداروں کے افسران اور نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع تمپ میں صحت کے شعبے کو درپیش چیلنجز، بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی، اسپتالوں کی کارکردگی، ادویات کی دستیابی، طبی عملے کی حاضری اور دور دراز علاقوں میں عوام کو بہتر طبی سہولیات پہنچانے کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ نو قائم شدہ ضلع تمپ میں صحت کے نظام کو مضبوط اور فعال بنانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ڈپٹی کمشنر تمپ برکت علی بلوچ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحت مند معاشرہ ہی ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، اور ضلع تمپ کے عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری اور مشن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو بہتر علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت میں عوام دوست ماحول، ادویات کی بروقت فراہمی اور طبی عملے کی ذمہ داریوں کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے۔اجلاس میں شریک افسران نے ڈپٹی کمشنر برکت علی بلوچ کی متحرک قیادت، عوامی خدمت کے جذبے اور صحت کے شعبے میں خصوصی دلچسپی کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی قیادت میں ضلع تمپ صحت اور ترقی کے میدان میں ایک مثالی ضلع بن کر ابھرے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4234/2026
لورالائی20مئی ۔ : اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم کی زیرِ صدارت ضلع میں جاری انسدادِ پولیو مہم کے پہلے روز کی کارکردگی اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایمرجنسی رسپانس مینجمنٹ (ERM) اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعلقہ محکموں کے افسران، پولیو حکام اور فیلڈ مانیٹرنگ ٹیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران پولیو مہم کے پہلے دن حاصل ہونے والی کوریج، رہ جانے والے بچوں کی تعداد، ٹیموں کی حاضری، فیلڈ مانیٹرنگ، سیکیورٹی انتظامات اور مہم کے دوران درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ حکام نے مختلف یونین کونسلز اور حساس علاقوں کی کارکردگی کا الگ الگ جائزہ بھی پیش کیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ مہم کے دوران سامنے آنے والی تمام خامیوں کو فوری طور پر دور کیا جائے اور کم کارکردگی والے علاقوں میں خصوصی توجہ دے کر بہتری کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو جیسے موذی مرض کے خاتمے کے لیے ہر بچے تک رسائی ناگزیر ہے اور کسی بھی بچے کا رہ جانا ناقابلِ قبول ہوگا۔اجلاس میں موثر نگرانی، بروقت اور درست رپورٹنگ، مختلف محکموں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور فیلڈ ٹیموں کی سخت مانیٹرنگ پر خصوصی زور دیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں اور ٹیموں کی کارکردگی پر مسلسل نظر رکھیں تاکہ مہم کے مقررہ اہداف کامیابی سے حاصل کیے جا سکیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ والدین میں آگاہی بڑھانے، انکاری خاندانوں کو قائل کرنے اور دور دراز علاقوں میں بچوں تک رسائی کے لیے اضافی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے بھی پولیو ٹیموں کو مکمل تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم قومی فریضہ ہے اور اس کے کامیاب انعقاد کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ طور پر ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4235/2026
قلات20مئی ۔ پولیو مہم کے تیسرے روز کے اختتام پر جائزہ اجلاس ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کی زیرصدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں DHO ڈاکٹر انجم بلوچ ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر محمداقبال نورزئی ڈبلیو ایچ او کے ڈی پی او ڈاکٹر مجتبی باجوئی ایکسٹرنل مانیٹر ڈاکٹر محمدآصف سمیت مانیٹرنگ آفیسران یوسی ایم اوزنے شرکت کی۔ اجلاس میں آج کے پولیو مہم ٹیموں کی کارکردگی درپیش مسائل مقررکردہ ہدف اور سکیورٹی انتظامات سے متعلق تبادلہ خیال کیاگیایوسی ایم اوز اور مانیٹرنگ آفیسران نے آج کے مہم ٹیموں کی کارکردگی اور درپیش مسائل سے متعلق رپوٹ پیش کیئے۔ڈپٹی کمشنرمنیراحمددرانی نے کہا کہ پولیو ٹیمیں کل آخری روز کیچ اپ کے دن میں گھرگھر جاکر رہ جانے والے رفیوزلز مہمان بچوں خانہ بدوشوں کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں تاکہ پولیو سے پاک معاشرے کی تشکیل ممکن ہوسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4236/2026
تمپ20مئی ۔۔ڈپٹی کمشنر تمپ برکت علی بلوچ کی کی سربراہی میں نو تشکیل شدہ ضلع تمپ میں عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی عمل کو تیز کرنے اور عوامی رابطوں کو مو¿ثر بنانے کیلئے سرگرمیاں بھرپور انداز میں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں تمپ کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے وفود نے ڈی سی آفس میں ڈپٹی کمشنر تمپ برکت علی بلوچ سے ملاقات کی اور علاقے کو درپیش مسائل، ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت، سڑکوں، پانی اور دیگر عوامی امور کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔اس موقع پر وفود نے ضلع تمپ کو درپیش چیلنجز اور عوامی ضروریات سے متعلق اپنے تحفظات اور تجاویز پیش کیں، جبکہ ڈپٹی کمشنر تمپ برکت علی بلوچ نے انتہائی سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ تمام مسائل سنے اور ان کے حل کیلئے ہر ممکن اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔ڈپٹی کمشنر برکت علی بلوچ نے کہا کہ ضلع تمپ ایک نو تشکیل شدہ ضلع ہے اور یہاں کے عوام کی توقعات پر پورا اترنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت، شفاف طرز حکمرانی اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ تمپ کو ایک ترقی یافتہ، پرامن اور خوشحال ضلع بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے کہ بنیادی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔ ان کی عوام دوست پالیسی، متحرک قیادت اور مثبت وزن کو عوامی حلقوں نے بے حد سراہتے ہوئے اسے ضلع تمپ کیلئے نیک شگون قرار دیا۔وفود نے ڈپٹی کمشنر برکت علی بلوچ کی عوامی مسائل میں گہری دلچسپی، کھلے دروازے کی پالیسی اور خدمت کے جذبے کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں ضلع تمپ ترقی، خوشحالی اور استحکام کی نئی راہوں پر گامزن ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر4248/2026
کوئٹہ 21مئی۔صوبائی مشیر برائے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمٰن خان ملاخیل نے کہا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی اس وقت پوری دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، اور اگر بروقت و موثر اقدامات ات نہ کیے گئے تو اس کے منفی اثرات انسانی زندگی، زراعت، جنگلات، آبی وسائل اور مجموعی ماحول پر مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل اور خوبصورتی سے مالا مال صوبہ ہے، جس کے ماحول کا تحفظ ہم سب کی قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی، گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، فیکٹریوں کا غیر معیاری فضلہ، پلاسٹک بیگز کا بے تحاشا استعمال اور صفائی کے ناقص نظام نے ماحول کو شدید متاثر کیا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کے باعث مختلف سانس اور جلدی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے عوام کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہیں نسیم الرحمٰن خان ملاخیل نے کہا کہ حکومت بلوچستان ماحولیات کے تحفظ کے لیے مربوط اور دیرپا پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ صوبے بھر میں شجرکاری مہمات، ماحول دوست منصوبوں، گرین انرجی کے فروغ اور صنعتی اداروں کی نگرانی کے عمل کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے تاکہ آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں۔انہوں نے نوجوانوں، طلبہ، سماجی کارکنوں اور میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماحولیات کے تحفظ کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہر شہری اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرے، درخت لگائے، صفائی کا خیال رکھے اور ماحول دوست عادات اپنائے تو ہم آنے والی نسلوں کو ایک صاف، سرسبز اور محفوظ پاکستان دے سکتے ہیں۔صوبائی مشیر نے مزید کہا کہ حکومت عوام کے تعاون سے بلوچستان کو ماحولیاتی حوالے سے ایک مثالی صوبہ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی، کیونکہ صاف ماحول ہی ایک صحت مند اور خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4249/2026
کوئٹہ، 21 مئی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے جمعرات کے روز بینظیر بھٹو ویمن سینٹر کا دورہ کیا اور سینٹر میں قائم ویمن ہیلپ لائن سمیت مختلف شعبوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سائرہ عطائ بھی ان کے ہمراہ تھیں دورے کے موقع پر بینظیر بھٹو ویمن سینٹر کی منیجر روبینہ زہری اور ویمن ہیلپ لائن کے انچارج محمد اشفاق مینگل نے مشیر ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کو سینٹر کی کارکردگی، فراہم کی جانے والی سہولیات، خواتین کے تحفظ اور شکایات کے ازالے کے نظام سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ویمن ہیلپ لائن کے ذریعے خواتین کو قانونی رہنمائی، نفسیاتی معاونت، تحفظ اور فوری رسپانس سمیت مختلف سہولیات فراہم کی جارہی ہیں جبکہ گھریلو تشدد، ہراسگی اور دیگر مسائل سے متعلق شکایات پر فوری کارروائی کو یقینی بنایا جاتا ہے اس موقع پر ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے ویمن ہیلپ لائن سے رجوع کرنے والے ایک شہری سے ٹیلی فون پر براہ راست گفتگو بھی کی اور شکایت کے ازالے سے متعلق معلومات حاصل کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو موثر اور بروقت اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ خواتین کا تحفظ، وقار اور انہیں فوری انصاف کی فراہمی حکومت بلوچستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویمن ہیلپ لائن اور بینظیر بھٹو ویمن سینٹر جیسے ادارے خواتین کے اعتماد کی بحالی اور ان کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت خواتین کو محفوظ، بااختیار اور خودمختار بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لارہی ہے اور اس ضمن میں ادارہ جاتی نظام کو مزید موثر اور فعال بنایا جارہا ہے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے ہدایت کی کہ خواتین کی شکایات کے ازالے میں حساسیت، رازداری اور فوری رسپانس کو ہر صورت یقینی بنایا جائے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ صوبے بھر میں خواتین کی فلاح و بہبود، تحفظ اور معاونت کے لیے اپنی خدمات کا دائرہ مزید وسیع کرے گا تاکہ خواتین کو ایک محفوظ اور باوقار ماحول فراہم کیا جاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4250/2026
کوئٹہ، 21 مئی۔ بلوچستان میں خواتین کی معاشی خودمختاری، ڈیجیٹل شمولیت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے خواتین کی پہلی “انٹرپرینیورشپ اے آئی لیب فار ویمن” قائم کردی گئی وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے لیب کا باقاعدہ افتتاح کیا ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ حکومت بلوچستان اور DOCH پرائیویٹ لمیٹڈ کے اشتراک سے قائم کی گئی اس جدید اے آئی لیب کا مقصد خواتین کو مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل اسکلز، کاروباری تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ معاشی طور پر خودمختار بن سکیں اور قومی ترقی میں موثر کردار ادا کریں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین میں بے شمار صلاحیتیں موجود ہیں اور حکومت انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے انہوں نے کہا کہ خواتین کو صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور کاروباری مواقع تک رسائی دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ “انٹرپرینیورشپ اے آئی لیب فار ویمن” خواتین کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم ثابت ہوگی جہاں وہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انوویشن اور کاروباری مہارتیں حاصل کرکے اپنے خوابوں کو عملی شکل دے سکیں گی۔ اس اقدام سے خواتین کے لیے روزگار، آن لائن بزنس، فری لانسنگ اور ٹیکنالوجی پر مبنی نئے مواقع پیدا ہوں گے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ موجودہ دور میں اے آئی دنیا کی معیشت، تعلیم اور کاروبار کا رخ تبدیل کررہی ہے، اس لیے بلوچستان کی خواتین کو بھی اس جدید انقلاب کا حصہ بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کو بااختیار بنانے، ان کی معاشی شمولیت بڑھانے اور انہیں ڈیجیٹل معیشت سے جوڑنے کے لیے مزید موثر اقدامات کیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ “آج کی مہارتیں ہی کل کی قیادت کو جنم دیتی ہیں” اور خواتین کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنا کر ایک مضبوط، ترقی یافتہ اور خوشحال بلوچستان کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے اے آئی لیب سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بینظیر ویمن سینٹر کی منیجر روبینہ زہری نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت خواتین کو اے آئی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، کاروباری منصوبہ بندی، انوویشن اور جدید ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کی تربیت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس لیب کا بنیادی مقصد خواتین کو “Innovate, Entrepreneur and Lead” کے وڑن کے تحت نئی مہارتوں سے آراستہ کرنا اور انہیں خود روزگار کے قابل بنانا ہے انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے ذریعے خواتین کو مساوی مواقع، جدید ڈیجیٹل اسکلز، کاروباری اعتماد، نیٹ ورکنگ اور اشتراک کے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ نہ صرف اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لاسکیں بلکہ بلوچستان کی معاشی ترقی میں بھی بھرپور کردار ادا کرسکیں اس موقع پر سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سائرہ عطائ بھی موجود تھیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4251/2026
کوئٹہ گڈانی / 21مئی ۔ وزیراعظم پاکستان، چیف آف آرمی اسٹاف اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں پاکستان نیوی اور ڈائریکٹوریٹ آف ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی نارکوٹکس بلوچستان (ساوتھ زون حب نے مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران گڈانی کے ساحلی علاقے میں بین الاقوامی اسمگلنگ کی ایک بڑی کوشش ناکام بناتے ہوئے 31 ارب روپے مالیت کی منشیات اور غیر ملکی شراب کی بھاری کھیپ قبضے میں لے لی ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس بلوچستان محمد زمان کے مطابق یہ کارروائی پاکستان نیوی اور ایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس بلوچستان کی مشترکہ اور مربوط حکمت عملی کا نتیجہ ہے، جس کے دوران سمندری راستے سے اسمگل کی جانے والی منشیات اور غیر ملکی شراب کی بڑی مقدار برآمد کی گئی کارروائی کے دوران 425 کلوگرام آئس (میتھ ایمفیٹامائن)، تقریباً 10 ہزار بوتلیں اور کین غیر ملکی شراب و بیئر، جبکہ 20 کلوگرام چرس برآمد کی گئی۔ عالمی مارکیٹ میں برآمد ہونے والی مجموعی کھیپ کی مالیت تقریباً 31 ارب روپے بتائی گئی ہے، جبکہ صرف غیر ملکی شراب کی مالیت 35 کروڑ روپے کے لگ بھگ ہے ترجمان کے مطابق اسمگلرز بین الاقوامی سمندری راستوں کے ذریعے غیر ملکی شراب پاکستان منتقل کرنے جبکہ بھاری مقدار میں منشیات عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی کوشش کررہے تھے۔ کارروائی کے بعد قبضے میں لی گئی منشیات اور دیگر سامان قانونی کارروائی کے لیے ایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس ساوتھ زون کے حوالے کردیا گیا ہے ڈی جی ایکسائز محمد زمان نے کہا کہ یہ کارروائی محکمہ ایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس بلوچستان کی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائیوں میں شمار ہوتی ہے، جو صوبے بھر میں جاری انسداد منشیات مہم کا تسلسل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران مختلف مشترکہ کارروائیوں میں 25 ارب روپے سے زائد مالیت کی منشیات اور 10 ہزار سے زائد غیر ملکی شراب کی بوتلیں بھی ضبط کی جاچکی ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو “پوست فری” صوبہ بنانے کے لیے بھی بھرپور اقدامات جاری ہیں۔ صوبے کے مختلف اضلاع دکی، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، چمن، لورالائی، قلات اور مستونگ میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے سینکڑوں ایکڑ پر کاشت کی گئی غیر قانونی پوست کی فصلیں مکمل طور پر تلف کردی گئی ہیں محمد زمان نے کہا کہ پاکستان نیوی اور ایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس بلوچستان کی یہ مربوط کارروائی اس عزم کا واضح اظہار ہے کہ پاکستان کی زمینی اور سمندری حدود کو منشیات اور غیر قانونی تجارت سے محفوظ بنانے کے لیے تمام ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی، نوجوان نسل کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے انسداد منشیات کارروائیاں مزید موثر انداز میں جاری رکھی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4252/2026
سبی، 21 مئی۔ ضلع سبی میں پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر تمام سرکاری دفاتر میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جہاں پاک چین دوستی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے پرچم کشائی کی گئی۔تقریبات میں ضلعی انتظامیہ کے افسران اور سرکاری ملازمین نے شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستان اور چین دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی، باہمی تعاون اور اقتصادی شراکت داری کو سراہا گیا۔افسران کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کی دوستی وقت کی ہر آزمائش پر پورا اتری ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک چین دوستی آنے والے وقتوں میں مزید مضبوط اور مستحکم ہوگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4253/2026
موسیٰ خیل 21 مئی ۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم کے تیسرے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے “ایوننگ ریویو اجلاس” منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر نور خان کاکڑ، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر نادر خان، انڈس ہسپتال کے ضلعی کوآرڈینیٹر مجیب الرحمٰن، لائن ڈیپارٹمنٹس کے مانیٹرز اور (UCMOs) نے شرکت کی اجلاس کے دوران انسدادِ پولیو مہم کے تیسرے روز تمام یونین کونسلز میں موبائل، فکسڈ اور ٹرانزٹ ٹیموں کی کارکردگی، انکاری والدین (Refusal Cases) اور رہ جانے والے بچوں (Missed Children) کی کوریج کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے مہم کو سو فیصد کامیاب بنانے کے لیے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے اور اس قومی مہم میں کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام مانیٹرز اور یو سی ایم اوز فیلڈ میں ٹیموں کی کارکردگی کی خود نگرانی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ضلع کا کوئی بھی بچہ انسدادِ پولیو کے قطروں سے محروم نہ رہے۔ رہ جانے والے اور انکاری کیسز کو مقامی معززین اور علمائے کرام کے تعاون سے فوری طور پر کور کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ مہم کے آخری دنوں میں ٹیمیں مزید متحرک ہو کر کام کریں تاکہ ضلع موسیٰ خیل کو پولیو سے پاک رکھنے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ .
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4254/2026
استا محمد21 مئی۔ڈپٹی کمشنر استا محمد، محمد رمضان پلال کی زیرِ صدارت کھیرتھر مین کینال سسٹم میں غیر قانونی بئیرون ناجائز پمپس اور اوور سائزڈ واٹر کورسز کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈی ایس پی داود کھوسو، ایکسین اریگیشن استا محمد محمد یار مگسی ایس ڈی او لوئر عابد سیال اور ایس ڈی او اپر ذیشان جمالی سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران کھیرتھر مین کینال سسٹم میں پانی کی منصفانہ تقسیم، خصوصاً ٹیل کے آبادگاروں کو درپیش مسائل، اور غیر قانونی واٹر کورسز کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا متعلقہ افسران نے مختلف علاقوں میں قائم ناجائز بئیرون غیر قانونی پمپس اور مقررہ سائز سے تجاوز کرنے والے واٹر کورسز کے حوالے سے بریفنگ دیاس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ غیر قانونی اقدامات کے خلاف بھرپور اور موثر کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس کے لیے ایف سی بلوچستان کی معاونت بھی حاصل کی جائے گی تاکہ آپریشن کو شفاف اور کامیاب بنایا جا سکے اجلاس میں طے پایا کہ پہلے مرحلے میں کھیرتھر مین کینال پر قائم ناجائز بئیرون غیر قانونی پمپس اور اوور سائزڈ واٹر کورسز کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا جائے گا جبکہ آئندہ چند روز میں خانکی تا خانپور تک آپریشن کو وسعت دی جائے گی ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے ہدایت کی کہ پانی کی منصفانہ تقسیم کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور ایسے تمام عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے جو نظامِ آبپاشی میں خلل ڈال رہے ہیں، تاکہ ٹیل کے آبادگاروں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4255/2026
قلات 21مئی ۔ملک بھرکی طرح قلات میں پاک چین دوستی کے 75 ویں سالگرہ قومی جوش وجذبے کے ساتھ منایاجارہاہے دن کا آغاز پرچم کشائی سے ہوا۔ڈپٹی کمشنر منیر احمددرانی ڈی ایس پی ماہیوال نے پرچم کشائی کی پولیس فورس کے چاک وچوبند دستے نے قومی پرچم کوسلامی دی۔ پرچم کشائی تقریب میں سیاسی قبائلی رہنماوں سمیت سرکاری محکموں کے سربراہان اور مختلف مکتبہ فکر کے لوگ موجودتھے۔بعدازاں ڈپٹی کمشنر کمپلیکس سے ایک ریلی نکالی گئی ریلی کی قیادت ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی ڈی ایس پی ماہیوال نے کی ریلی میں عوام نے کثیرتعداد میں شرکت کی۔ریلی ڈپٹی کمشنر کمپلیکس سے شروع ہوکر قلات بازار اور شہر کے مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے واپس ڈپٹی کمشنر کمپلیکس پر اختتام پذیر ہوا۔ریلی کے شرکا ءنے ہاتھوں میں بینرز اور پاکستانی پرچم اٹھائے ہوے تھے اس موقع پر پولیس فورس کی جانب سے سکیورٹی کے موثر انتظامات کیئے گئے تھے ریلی کے شرکاء سے ڈپٹی کمشنر منیردرانی نے خطاب کرتے ہوے کہاکہ پاک چین دوستی باہمی اعتماد، اخلاص اور برادرانہ تعلقات کی روشن مثال ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان قائم یہ لازوال رشتہ گزشتہ 75 برسوں سے ہر آزمائش پر پورا اترا ہے۔ دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کے قومی مفادات، خودمختاری اور ترقی کے سفر میں بھرپور تعاون کیا ہے ڈ پٹی کمشنر قلات منیر احمد درانی نے پاک چین دوستی کے 75ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ چین نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دے کر سچے دوست ہونے کا ثبوت دیا ہے چین اقتصادی راہداری(CPEC) دونوں ممالک کی مضبوط شراکت داری کاعظیم منصوبہ ہے، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی ترقی اور خوشحالی کے نئے دروازے کھل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی سمندر سے گہری، ہمالیہ سے بلند اور شہد سے میٹھی ہے، جس پر دونوں ممالک کے عوام کو فخر ہے ڈپٹی کمشنر قلات نے اس امید کا اظہار کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دوستی مزید مستحکم ہوگی اور ترقی و استحکام کے نئے سنگ میل عبور کرے گی۔آخر میں انہوں نے پاک چین دوستی کے 75 برس مکمل ہونے پر دونوں ممالک کی قیادت اور عوام کو مبارکباد پیش کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4256/2026
موسیٰ خیل21مئی ۔ ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے ضلع میں جاری انسدادِ پولیو مہم کے تیسرے روز مختلف علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا اور فیلڈ میں موجود ٹیموں کی کارکردگی سمیت سیکیورٹی انتظامات کا موقع پر معائنہ کیا دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے پولیو ٹیموں کی حاضری، بچوں کی انگلیوں پر لگائے جانے والے نشانات (فنگر مارکنگ) اور مائیکرو پلان پر عملدرآمد کو باریک بینی سے چیک کیا۔ انہوں نے مختلف مقامات پر خود بچوں کو پولیو سے بچاوکے قطرے بھی پلائے۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ نسل نو کو عمر بھر کی معذوری سے بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے پولیو ٹیموں کے ہمراہ تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کے الرٹ رہنے کی تعریف کی اور ہدایات جاری کیں کہ سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے تاکہ مہم کو سو فیصد کامیاب اور محفوظ بنایا جا سکے. انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں اور اپنے پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو قطرے پلوا کر ملک کو پولیو سے پاک کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4257/2026
خضدار 21مئی ۔ خضدار میں استاذہ بھرتی کے چوتھے مرحلے کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس عمل کے تحت 252 غیر فعال اسکولوں کو فعال کردیا گیا ۔ اساتذہ تعیناتی سے ناخواندگی کے خاتمے اور نئی نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں نمایاں مدد ملنے کی توقع ہے۔فیز 4 کے تحت آج ایک سو سے زائد نئے تعینات اساتذہ کو تقرری کے آرڈرز جاری کر دیے گئے۔ تقریب میں ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی اور ڈویڑنل ڈائریکٹر عبدالغفور دشتی ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر خضدار عابد حسین بلوچ نے خود نئے اساتذہ کو آرڈرز تقسیم کیے۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تعلیم کے شعبے کو ترجیح دے رہی ہے اور وزیر اعلٰی بلوچستان کے وڑن کے تحت خضدار میں اسکولوں کو فعال بنانے کے لئیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر فعال اسکولوں میں اساتذہ کی تعیناتی سے نہ صرف بچوں کو تعلیم میسر آئے گی بلکہ مقامی سطح پر ناخواندگی کی شرح میں بھی کمی آئے گی۔ انہوں نے نئے اساتذہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھائیں اور طلباء و طالبات کو معیاری تعلیم فراہم کریں۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عابد حسین بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ استاذہ بھرتی کے تمام مراحل شفافیت کے ساتھ مکمل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 795 اساتذہ کی تعیناتی ایک اہم سنگ میل ہے جو ضلع بھر کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔ انہوں نے نئے اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ طلباءکی بہترین رہنمائی کریں اور والدین کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کر کے سکولوں کو بچوں کا ترجیحی مرکز بنائیں۔ دوسری جانب تقرری لیٹر حاصل کرنے والے ٹیچرز اپنی تعیناتی پر بے حد خوش تھے اور وہ میرٹ پر ایجوکیشن میں ملازمت حاصل کرنے پر انتظامیہ اور ایجوکیشن آفیسران کے اس اقدام کو خوش آئندہ قرار دے رہے تھے۔تقریب میں ڈائریکٹر ایجوکیشن قلات ڈویڑن عبدالغفار دشتی ڈپٹی ڈائریکٹر عبدلحق ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر رئیس تنویر کرد، ظاہر کریم اساتذہ تنظیم کے صدر اسلم نوتانی اور دیگر تعلیمی افسران بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 4258/2026
لورالائی 21 مئی ۔میں تعلیمی نظام کی بہتری، اساتذہ کی حاضری، ٹرانسفر پوسٹنگ اور دیگر انتظامی امور کا جائزہ لینے کے لیے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ لورالائی کے زیر اہتمام ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تعلیمی شعبے سے وابستہ اعلیٰ افسران اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے کی جبکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبد الحمید ابڑو، فیمیل ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فوزیہ درانی، فیمیل ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر قمر سلطانہ، عبدالرزاق DEO، پرنسپل ماڈل ہائی اسکول جمال الدین، عنایت اللہ گورنمنٹ ہائی اسکول میختر اور محمد عثمان LC سمیت دیگر افسران بھی شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران ضلع بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی، تبادلوں اور تقرریوں کے معاملات، تدریسی عملے کی حاضری اور مجموعی تعلیمی کارکردگی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاءنے اس امر پر زور دیا کہ تمام اساتذہ اپنی حاضری کو یقینی بنائیں اور تدریسی سرگرمیوں میں مزید بہتری کے لیے ذمہ داری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے حصول میں اساتذہ کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کی کہ تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط، اساتذہ کی باقاعدہ حاضری اور طلبہ کی تعلیمی استعداد بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔اجلاس میں اساتذہ کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے عمل کو شفاف اور مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا تاکہ بالخصوص دور دراز علاقوں کے اسکولوں میں تدریسی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔ مزید برآں تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول مہیا کرنے کے حوالے سے مختلف تجاویز بھی زیر بحث آئیں۔اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع لورالائی میں تعلیمی نظام کو مزید موثر، فعال اور معیاری بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ طلبہ کو بہتر اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4259/2026
بارکھان 21مئی ۔ .ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمن کاکڑ نے آج ایف سی اسکول بارکھان کا تفصیلی دورہ کیا جہاں بی ایس ڈی آئی (BSDI) فیز ون پراجیکٹ کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کیا گیا۔ دورے کے دوران ایس ڈی او بی اینڈ آر دستگیر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے اسکول میں نئے کلاس رومز اور لیٹرین بلاک کی جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام و تعمیراتی عملے سے کام کی رفتار، معیار اور درپیش امور کے بارے میں بریفنگ لی۔ انہوں نے ہدایت جاری کی کہ منصوبے کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور تعمیراتی کام میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور بی ایس ڈی آئی منصوبہ علاقے میں تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر اور معیاری تعلیمی ماحول طلباءکی تعلیمی استعداد بڑھانے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے ضلعی انتظامیہ اسکولوں میں سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنا رہی ہے۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر بارکھان نے پرنسپل ایف سی اسکول، اساتذہ اور طلباء سے ملاقات بھی کی۔ اس موقع پر تعلیمی سرگرمیوں، تدریسی ماحول، بنیادی سہولیات اور اسکول کو درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اساتذہ نے تعلیمی بہتری کے لیے ضلعی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے مختلف تجاویز بھی پیش کیں۔ڈپٹی کمشنر سعید الرحمن کاکڑ نے اس موقع پر کہا کہ ضلعی انتظامیہ تعلیم کے فروغ اور نوجوان نسل کو بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جہاں بھی ضرورت پیش آئی ضلعی انتظامیہ مکمل تعاون فراہم کرے گی تاکہ طلباء کو ایک محفوظ، بہتر اور معیاری تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4260/2026
قلعہ سیف اللہ21 مئی ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ ساگر کمار نے کوکنٹریکٹ اساتذہ فیز 4* کے تحت فعال کئے گئے گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول شنکئی واہ، یونین کونسل اخترزئی کا اچانک دورہ کیا۔معائنہ کے دوران کیے گئے اقدامات:1. سکول کے بنیادی امور کا جائزہڈپٹی کمشنر نے دورے کے دوران کلاس رومز، اساتذہ کی حاضری، طالبات کی تعداد، نصابی سرگرمیوں اور سکول میں فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔2. ریکارڈ کی جانچسکول ریکارڈ چیک کرنے کے بعد انہوں نے اساتذہ کی حاضری اور تدریسی عمل کو براہِ راست چیک کیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کنٹریکٹ اساتذہ فیز 4 کے تحت تعینات اساتذہ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔3. طالبات سے براہِ راست گفتگوسب سے اہم حصہ طالبات سے بات چیت رہا۔ ڈپٹی کمشنر نے طالبات سے تعلیم، نصاب، اساتذہ کے رویے اور سکول کے ماحول کے حوالے سے سوالات کیے۔طالبات نے اعتماد کے ساتھ اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور بتایا کہ وہ سکول میں دلچسپی سے پڑھ رہی ہیں اور اساتذہ ان کی رہنمائی بہتر انداز میں کر رہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کا پیغام:طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ساگر کمار نے کہا کہ “تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جس سے علاقے کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے”۔انہوں نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری اور محنت سے نبھائیں اور کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4261/2026
ہرنائی 21مئی ۔ پاکستان اور چین کے درمیان قائم دیرینہ، مخلصانہ اور تاریخی سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے تاریخی موقع پر ضلع ہرنائی میں ایک پروقار اور پرجوش تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کمپلیکس ہرنائی میں منعقد ہونے والی اس تقریب کا مقصد دونوں برادر ممالک کے مابین “آہنی بھائی چارے” اور لازوال دوستی کے رشتوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔تقریب کی قیادت ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے کی، جنہوں نے باقاعدہ طور پر پرچم کشائی کی اور اس موقع پر فورسز کے چاق و چوبند دستے نے قومی پرچم کو سلامی پیش کی۔سرکاری افسران اور معززین کی بھرپور شرکت کی اس باوقار تقریب میں ضلع بھر کی اہم انتظامی اور امن و امان کے ضامن افسران نے شرکت کی۔ شرکاءمیں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین، ایس پی ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جھاکرانی سمیت مختلف سرکاری محکموں کے ضلعی آفیسران، سربراہان اور اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی اور دیگر مقررین نے پاکستان اور چین کے مابین مثالی سفارتی تعلقات، باہمی اعتماد اور تزویراتی تعاون پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پاک چین دوستی محض دو ملکوں کا تعلق نہیں بلکہ یہ ایک اٹوٹ رشتہ ہے جو وقت کی ہر ستم ظریفی اور آزمائش پر پورا اترا ہے۔ دونوں ممالک نے ہر مشکل گھڑی اور عالمی منظرنامے کی تبدیلیوں کے باوجود ہمیشہ ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر اس لازوال دوستی کو ’آہنی بھائی چارے‘ (Iron Brotherhood) کے نام سے پکارا جاتا ہے۔تقریب کے دوران اس اہم پیش رفت کا بھی تذکرہ کیا گیا کہ پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ (پارلیمنٹ) کی جانب سے متفقہ قراردادیں منظور کی گئی ہیں۔ ان قراردادوں میں جہاں ایک طرف اس دوستی کو بے مثال اور لازوال قرار دیا گیا ہے، وہیں دوسری طرف چین کی خودمختاری اور “ون چائنا پالیسی” کے لیے پاکستان کے پختہ اور غیر متزلزل عزم کا اعادہ بھی کیا گیا ہے۔ مقررین نے کہا کہ ہرنائی کے عوام اور انتظامیہ بھی وفاق کے اس عزم کے ساتھ کھڑی ہے تقریب کے اختتام پر پاکستان اور چین کی پائیدار، لازوال دوستی کی مزید مضبوطی، خطے میں امن و استحکام اور دونوں ممالک خصوصاً پاکستان کی معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک چین دوستی کی یہ شمع نسل در نسل اسی طرح روشن رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4262/2026
ہرنائی /شاہرگ :21مئی ۔عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات کی فراہمی اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے صوبائی حکومت کی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ ہرنائی متحرک ہوگئی۔ اس سلسلے میں تحصیل شاہرگ کے علاقے ایف سی کیمپ 101 ونگ میں ایک انتہائی اہم اور بڑی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری کی قیادت ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے کی، جس کا بنیادی مقصد پسماندہ علاقے کے عوام کے دیرینہ مسائل کو براہِ راست سننا اور موقع پر ہی سائلین کی داد رسی کرنا تھا۔ عوامی مسائل کی سنگینی اور ان کے حل کے عزم کو ظاہر کرتے ہوئے اس کھلی کچہری میں سیکیورٹی فورسز، پولیس اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ ترین افسران نے یکجا ہو کر شرکت کی۔ معزز شرکاء میں ایف سی 101 ونگ شاہرگ کے کمانڈر عمر خٹک، ایس پی ہرنائی پولیس انجینئر عبدالحفیظ جھاکھرانی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) ہرنائی محمد سلیم ترین اور ایس ایچ او پولیس تھانہ شاہرگ عبدالمجید دستی نمایاں تھے۔ ان کے ہمراہ ضلع بھر کے تمام سرکاری محکموں (لائن ڈیپارٹمنٹس) کے سربراہان اور نمائندے بھی موجود تھے۔ کھلی کچہری میں تحصیل شاہرگ کے قبائلی عمائدین، معززینِ علاقہ، تاجر برادری اور مقامی شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کر کے اپنے اپنے مسائل اکھٹے کیے۔کچہری کے دوران شاہرگ اور گردونواح سے آئے ہوئے سائلین، وفود اور شہریوں نے باری باری مائیک پر آ کر اپنے علاقے کو درپیش سنگین مسائل سے ضلعی حکام کو آگاہ کیا۔ عوام کی جانب سے پینے کے صاف پانی کی شدید قلت، صحت اور تعلیم کے مراکز میں عملے اور ادویات کی کمی، بجلی کی غیر اعلانیہ و طویل لوڈ شیڈنگ، گیس پریشر، زراعت کے شعبے کو درپیش چیلنجز اور رابطہ سڑکوں کی خستہ حالی جیسے اہم ترین مسائل پر انتظامیہ کی توجہ مبذول کرائی گئی۔ اس موقع پر پولیس اور سیکیورٹی سے متعلق امور پر بھی کھل کر بات چیت کی گئی۔عوام کی تمام شکایات اور معروضات کو تفصیل اور صبر و تحمل سے سننے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کی خادم ہے اور شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق دلوانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کچہری میں موجود تمام سرکاری محکموں کے افسران کو مخاطب کرتے ہوئے موقع پر ہی سخت ہدایات جاری کیں اور کہا کہ عوامی شکایات کے حل میں کسی بھی قسم کی سستی، غفلت یا لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے فوری نوعیت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے متعلقہ محکموں کو ٹائم فریم دے دیا، جبکہ بڑے ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز سے مشروط مسائل کے حوالے سے یقین دہانی کرائی کہ وہ ان کا کیس ذاتی طور پر صوبائی حکومت اور اعلیٰ حکام کے سامنے رکھیں گے۔تقریب کے اختتام پر شاہرگ کے قبائلی عمائدین اور شہریوں نے ایف سی کیمپ میں اس کامیاب کچہری کے انعقاد پر ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی، کمانڈر عمر خٹک اور ایس پی عبدالحفیظ جھاکھرانی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے شاہرگ کے پسماندہ عوام کے دن پھریں گے اور انتظامیہ کے اس مخلصانہ اقدام کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4263/2026
نصیرآباد 21مئی ۔پاکستان اور چین کے درمیان قائم دیرینہ سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر کمشنر کمپلیکس، نصیرآباد میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد۔ پاکستان اور چین کے درمیان مثالی دوستی، پاک چین تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہونے کی دعا کی گئ۔ دونوں ممالک ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں، اسی لیے اس دوستی کو “آہنی بھائی چارہ” کہا جاتا ہے۔پر چم کشائی پاکستان اور چین کی پائیدار دوستی، ترقی کی یاد منعقد کی گئ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4264/2026
جعفرآبا21مئی ۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے پاک چین دوستی کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ڈپٹی کمشنر آفس میں پروقار تقریب کے دوران قومی پرچم کشائی کی تقریب میں پولیس کے چاک و چوبند دستے نے قومی پرچم کو سلامی پیش کی جبکہ چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن احمد نواز جتک، پولیس کے اعلیٰ افسران، مختلف محکموں کے ضلعی سربراہان، سرکاری افسران اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران پاک چین دوستی کے حوالے سے خصوصی پیغامات بھی دیے گئے اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی دنیا میں ایک منفرد مثال کی حیثیت رکھتی ہے جو ہر آزمائش اور مشکل وقت میں مزید مضبوط ہوکر سامنے آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ ایک مخلص دوست اور قابل اعتماد شراکت دار کا کردار ادا کیا ہے جبکہ پاکستان بھی دونوں ممالک کے تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی صرف سفارتی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان بھی بھائی چارے، محبت اور اعتماد کا مضبوط رشتہ قائم ہے۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ چین کی جانب سے مختلف ترقیاتی منصوبوں، بالخصوص پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے پاکستان کی معیشت، انفراسٹرکچر اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا جارہا ہے جس کے مثبت اثرات پورے ملک میں نمایاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین تعلقات خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی خوشحالی کے لیے نہایت اہمیت رکھتے ہیں اور دونوں ممالک مستقبل میں بھی باہمی تعاون کے ذریعے ترقی کی نئی منازل طے کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں نئی نسل کو پاک چین دوستی کی تاریخ اور اس کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہوگا تاکہ یہ لازوال دوستی آنے والے وقتوں میں بھی مزید مستحکم رہے۔ تقریب کے اختتام پر پاکستان اور چین کی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کے مزید فروغ کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4265/2026
جعفرآباد21مئی ۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت عیدالاضحیٰ کی تیاریوں، صفائی ستھرائی، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، آلائشوں کو بروقت ٹھکانے لگانے، امن و امان اور دیگر انتظامات کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن احمد نواز جتک، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، پولیس، میونسپل کمیٹی اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں عیدالاضحی
ٰ کے دوران شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ صفائی ستھرائی کے خصوصی پلان، قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کی فوری تلفی، نکاسی آب، جراثیم کش اسپرے، پینے کے پانی کی مسلسل فراہمی اور سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی گئیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، تمام متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں اور عوام کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کو بروقت ٹھکانے لگانے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی جبکہ صفائی کے عمل کی مسلسل نگرانی بھی کی جائے گی۔ انہوں نے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ حکام کو ہدایت کی کہ عید کے دنوں میں پانی کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی اور شہریوں کو بلا تعطل صاف پانی فراہم کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عیدالاضحیٰ کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ شہری پرامن ماحول میں عید کی خوشیاں منا سکیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران پر زور دیا کہ وہ فیلڈ میں متحرک رہیں، عوامی شکایات کا فوری ازالہ کریں اور تمام انتظامات کو بروقت مکمل کیا جائے تاکہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر4266/2026
ژوب21مئی ڈپٹی کمشنر ژوب محمد عارف زرکون کی زیرِ صدارت ضلع ژوب شہر میں ایک اہم کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں کمانڈنٹ ژوب ملیشیا، ایس پی ژوب، مختلف سرکاری محکموں کے ضلعی افسران، سیاسی و سماجی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کھلی کچہری میں دور دراز علاقوں اور مختلف دیہاتوں سے آئے ہوئے عوامی نمائندوں نے اپنے علاقوں کو درپیش مسائل اور ترقیاتی ضروریات سے متعلق تفصیلی گفتگو کی۔کھلی کچہری کے دوران بی ایس ڈی آئی (BSDI) تیسرے مرحلے کے ترقیاتی پروگرام کے تحت عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، جاری ترقیاتی منصوبوں اور نئے عوامی فلاحی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات سے متعلق متعدد اہم مسائل اجاگر کیے۔عوامی نمائندوں اور شہریوں نے گرلز و بوائز اسکولوں کی خستہ حالی اور فوری مرمت، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے نئی واٹر سپلائی اسکیموں کی تعمیر، امن و امان کی بہتری، دیہی علاقوں کو مرکزی شاہراہوں سے ملانے والی لنک سڑکوں کی تعمیر و مرمت، ڑوب بائی پاس منصوبے کی جلد تکمیل، کارٹس مارکیٹ کے قیام، سٹریٹ لائٹس کی تنصیب اور ایک جدید پبلک لائبریری کے قیام کے مطالبات پیش کیے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ژوب محمد عارف زرکون نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت، صاف پانی، شہری انفراسٹرکچر اور امن و امان کی بہتری کیلئے جامع حکمتِ عملی کے تحت اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ڑوب بائی پاس منصوبہ شہر میں ٹریفک کے مسائل کے حل اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس کی جلد تکمیل ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔کھلی کچہری کے دوران مختلف محکموں کے افسران نے عوام کی شکایات اور تجاویز کو تفصیل سے سنا جبکہ متعدد مسائل کے فوری حل کیلئے موقع پر ہی متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی گئیں۔ عوامی حلقوں نے کھلی کچہری کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے براہِ راست عوامی رابطے کے عمل کو سراہا۔ ڈپٹی کمشنر ژوب نے اعلان کیا کہ آئندہ بھی مختلف یونین کونسلوں اور نواحی علاقوں میں کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ عوامی مسائل مقامی سطح پر حل کیے جا سکیں اور ترقیاتی منصوبوں میں عوامی مشاورت کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4267/2026
قلعہ سیف اللہ21 مئی ۔کو ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی ڈائریکٹر فنانس محکمہ تعلیم بلوچستانعرفان محمد خان ، مہمان خاص ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر قلعہ سیف اللہ عبد الغنی جوگیزئی تھے۔ تقریب کی صدارت کے فرائض پرنسپل گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج قلعہ سیف اللہ پروفیسر عبد الواحد کاکڑ نے انجام دئیے۔ اساتذہ کرام، طلبہ اور کالج کے دیگر عملے نے بڑی تعداد نے پروگرام میں شرکت کی۔تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد مقررین نے یومِ تکبیر کی تاریخی اہمیت اور پاکستان کے دفاع میں ایٹمی پروگرام کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مہمان خصوصی عرفان محمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ 28 مئی 1998ءپاکستان کی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے جب پاکستان نے چاغی کے مقام پر کامیاب ایٹمی دھماکے کر کے دنیا میں پہلی اسلامی ایٹمی طاقت ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ یومِ تکبیر قومی خودمختاری، دفاعی استحکام اور پاکستانی قوم کے عزم و اتحاد کی علامت ہے۔ علاو ہ ازیں عبد الغنی جوگیزئی نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دورحاضر ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ پاکستان کی آج یہ اہمیت نیوکلئیر ٹیکنالوجی کی کی بدولت ھے اس لئے آپ کو اپنی تمام تر توانائیاں جدید سائنسی اور تکنیکی مضامین کو سیکھنے میں صرف کرنی چاہئیں۔پروفیسر امتیاز احمد نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام نے خطے میں طاقت کا توازن قائم کیا اور دشمن کو کسی بھی جارحیت سے باز رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے موجودہ عالمی منظرنامے کے تناظر میں کہا کہ مضبوط دفاع ہی کسی بھی ملک کی آزادی اور خودمختاری کی ضمانت ہوتا ہے۔اسی طرح پروفیسر مراد خان نے اپنے خطاب میں بلوچستان خصوصاً چاغی کے عوام کی قربانیوں اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے، لہٰذا صوبے کی ترقی، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی قومی ذمہ داری ہے۔تقریب میں طلبہ نے بھی تقاریر پیش کیں اور یومِ تکبیر کے حوالے سے ملی نغمے اور قومی جذبات سے بھرپور خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تعلیم، تحقیق اور قومی خدمت کے میدان میں آگے بڑھ کر پاکستان کی ترقی اور استحکام میں اپنا کردار ادا کریں۔ آخر میں صدر مجلس پرنسپل کالج ھذا پروفیسر عبد الواحد کاکڑ نے اپنے مختصر خطاب میں یوم تکبیر کے حوالے سے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ اور مہمانان گرامی کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی، ترقی، استحکام اور شہدائے وطن کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ شرکاءنے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے دفاع، یکجہتی اور خوشحالی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4268/2026
کوئٹہ 21مئی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی لیز شدہ، زیرِ لیز اور ختم ہونے والی پراپرٹیز کے حوالے سے ایکاجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کوئٹہ زاہد خان خلجی، لا آفیسر میٹروپولیٹن، چیف میونسپل آفیسر (CMO) سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کی ملکیتی جائیدادوں اور مختلف افراد و اداروں کو دی گئی لیز پراپرٹیز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں لیز کی مدت، معاہدوں کی شرائط، زیرِ التواء معاملات، ختم ہونے والی لیزز اور ان پراپرٹیز کو قانونی طریقہ کار کے تحت واگزار کرانے کے امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی اور ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن زاہد خان خلجی نے اجلاس کے دوران تمام متعلقہ شواہد، ریکارڈ اور دستاویزات کا باریک بینی سے معائنہ کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ میٹروپولیٹن کی املاک کے تحفظ، شفافیت اور قانونی تقاضوں کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4269/2026
لورالائی 21مئی ۔ یونیورسٹی آف لورالائی میں جدید آئی ٹی حب کے قیام کا منصوبہ، طلبہ کو ڈیجیٹل تعلیم کی جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔University of Loralai میں جدید آئی ٹی حب کے قیام کا منصوبہ تیزی سے جاری ہے، جس پر مجموعی طور پر 58.006 ملین روپے لاگت آئے گی۔ اس منصوبے کے حوالے سے برگیڈیئر نعمان ظہیر اور ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کو بی اینڈ آر کے ایس ڈی او نادر شاہ نے تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ کے دوران منصوبے کے مختلف پہلوو¿ں، تعمیراتی پیش رفت، آئی ٹی حب میں فراہم کی جانے والی سہولیات اور طلبہ کے لیے مستقبل میں پیدا ہونے والے مواقع پر روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر میجر کامران، وائس چانسلر کے پی ایس خالد اور یونیورسٹی آف لورالائی کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔برگیڈیئر نعمان ظہیر اور ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے کہا کہ یونیورسٹی آف لورالائی میں آئی ٹی حب کے قیام کا بنیادی مقصد طلبہ و طالبات کو جدید ڈیجیٹل تعلیم سے ہم آہنگ کرنا اور انہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں مہارت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں آئی ٹی تعلیم ترقی کی ضمانت بن چکی ہے، لہٰذا نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آئی ٹی حب کے قیام سے نہ صرف طلبہ کو جدید کمپیوٹر لیبز، انٹرنیٹ سہولیات اور ڈیجیٹل لرننگ کے مواقع میسر آئیں گے بلکہ نوجوانوں کو فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ اور دیگر جدید آئی ٹی شعبوں میں تربیت حاصل کرنے کا موقع بھی ملے گا۔وائس چانسلر کے پی ایس خالد نے اس منصوبے کو یونیورسٹی اور علاقے کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئی ٹی حب کے قیام سے لورالائی سمیت پورے خطے کے طلبہ کو جدید تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی، جس سے نوجوانوں میں ڈیجیٹل شعور کو فروغ حاصل ہوگا۔یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق آئی ٹی حب میں جدید کمپیوٹر سسٹمز، اسمارٹ کلاس رومز، آن لائن لرننگ سہولیات اور آئی ٹی ٹریننگ پروگرامز متعارف کرائے جائیں گے تاکہ طلبہ کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مقابلے کے قابل بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر4270/2026
کوئٹہ 21مئی ۔ حکومتِ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقیِ نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی سے صوبائی صدر استحکام پاکستان پارٹی بلوچستان ملک سعد اللہ جان ترین نے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال، خواتین کی فلاح و بہبود، عوامی مسائل اور جاری ترقیاتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر محکمہ ترقیِ نسواں کے تحت خواتین کے حقوق، تعلیم، معاشی خودمختاری اور سماجی تحفظ سے متعلق اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی۔صوبائی صدر استحکام پاکستان پارٹی بلوچستان ملک سعد اللہ جان ترین نے کہا کہ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی صوبے میں خواتین کے مسائل کو موثر انداز میں اجاگر کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بطور رکنِ صوبائی اسمبلی ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی اپنے حلقے کے عوامی مسائل، ترقیاتی کاموں اور خواتین کی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر متحرک کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ اسمبلی میں خواتین کے حقوق اور سماجی مسائل سے متعلق ان کی گفتگو ہمیشہ سنجیدہ اور مثبت رہی ہے۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا اور انہیں معاشرے میں مساوی مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اور اس مقصد کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات جاری ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4271/2026
کوئٹہ21 مئی ۔ کوئٹہ: چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرِ صدارت بلوچستان میں “رائز” (RISE) منصوبے کے حوالے سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کے نوجوانوں، پسماندہ علاقوں اور کمزور طبقات کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام اور پروگرام سے وابستہ نمائندگان نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت بلوچستان کے نوجوانوں کو باعزت روزگار، جدید مہارتوں اور خود کفالت کے مواقع فراہم کرنے کے لیے انقلابی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ RISE پروگرام بلوچستان کے عوام خصوصاً نوجوان نسل کے روشن مستقبل کی ضمانت بنے گا، جس کے ذریعے نہ صرف بے روزگاری میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ صوبے میں پائیدار ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی راہیں بھی ہموار ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ پنجگور، خاران، واشک، گوادر، آواران اور کیچ/تربت سمیت دور دراز اور پسماندہ اضلاع میں ہزاروں نوجوانوں کو فنی و تکنیکی تربیت، چھوٹے کاروبار کے مواقع، مالی معاونت اور معاشی استحکام کے منصوبے فراہم کیے جائیں گے تاکہ نوجوان اپنے علاقوں میں رہتے ہوئے باعزت ذریعہ معاش حاصل کر سکیں۔ چیف سیکرٹری نے واضح کیا کہ اس میگا پروگرام کے لیے کئی ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو بلوچستان کی تاریخ میں نوجوانوں کی ترقی کے لیے ایک بڑی سرمایہ کاری تصور کی جا رہی ہے۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ امن، سماجی ہم آہنگی اور نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ضلعی سطح پر ثقافتی اور موضوعاتی سیمینارز کا انعقاد کیا گیا، جن کی 11 تقریبات میں 3946 اف نے شرکت کی، جن میں 34 فیصد خواتین شامل تھیں۔ اسی طرح امن و سماجی ہم آہنگی پروگرام کے تحت 215 گرانٹس کے ذریعے کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشنز (CBOs) اور لوکل سپورٹ آرگنائزیشنز (LSOs) کی استعداد کار میں اضافہ کیا گیا۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ نوجوانوں کے لیے 550 قومی سطح کے نمائشی و مطالعاتی دورے کرائے گئے، جبکہ ضلع، ڈویڑن اور صوبائی سطح پر آگاہی، کھیلوں اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے 34 مختلف تقریبات کامیابی سے منعقد کی گئیں۔حکام نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ آئندہ مالی سال کے دوران انٹرپرائز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو تربیت اور آمدنی پیدا کرنے والے گرانٹس فراہم کیے جائیں گے، جبکہ 55 سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کو 5 سے 20 ملین روپے تک مالی معاونت دی جائے گی۔ مزید برآں نوجوانوں کی تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیت اور انٹرپرائز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 2500 مستحق افراد کے اکاونٹس بھی پراسیس کیے جا چکے ہیں۔چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت بلوچستان کے نوجوانوں کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنے، انہیں بااختیار بنانے اور صوبے میں پائیدار معاشی استحکام پیدا کرنے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان باصلاحیت ہیں اور حکومت انہیں آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے تاکہ صوبہ ترقی، خوشحالی اور امن کی نئی منزلیں طے کر سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4272/2026
گوادر21مئی ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن، وفاقی حکومت کی موثر بحری و تجارتی پالیسیوں اور گوادر کو خطے کے اہم معاشی و تجارتی مرکز میں تبدیل کرنے کے عزم کے تحت گوادر پورٹ پر بین الاقوامی بحری و تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چودھری کی قیادت میں گوادر پورٹ پر پاناما فلیگ بردار کارگو جہاز MV KAI XUAN لنگر انداز ہوگیا، جو 29 ہزار 832 میٹرک ٹن مشینری، صنعتی آلات اور اسٹیل پر مشتمل بھاری کارگو لے کر پہنچا ہے۔ ذرائع کے مطابق جہاز کی لمبائی 189.8 میٹر ہے، جبکہ مذکورہ کارگو چین سے سعودی عرب کے شہر دمام کے لیے روانہ کیا گیا تھا۔ جہاز گوادر آمد سے قبل فجیرہ بندرگاہ سے روانہ ہوا۔اس موقع پر وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چودھری نے کہا کہ وفاقی حکومت گوادر پورٹ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے، بین الاقوامی سرمایہ کاری کے فروغ اور عالمی شپنگ کمپنیوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے موثر اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ سی پیک، علاقائی رابطہ کاری اور عالمی تجارتی سرگرمیوں کے فروغ میں کلیدی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف بلوچستان بلکہ ملکی معیشت کو بھی مزید استحکام حاصل ہوگا۔چیئرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے کہا کہ گوادر پورٹ پر بڑے بین الاقوامی جہازوں کی مسلسل آمد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بندرگاہ پر تجارتی سرگرمیوں کا دائرہ تیزی سے وسیع ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ اپنی منفرد جغرافیائی اہمیت، جدید انفراسٹرکچر اور بین الاقوامی معیار کی سہولیات کے باعث مستقبل میں خطے کی ایک موثر ٹرانزٹ، لاجسٹک اور تجارتی بندرگاہ کے طور پر ابھرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4273/2026
استامحمد21مئی ۔پاکستان اور چین کے مابین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کی سربراہی میں ایک پروقار پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی اس تقریب میں مختلف ضلعی افسران صحافی برادری معزز شہریوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی تقریب کے دوران پاکستان کا قومی پرچم لہرایا گیا جبکہ دونوں ممالک کی دوستی کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد اخلاص اور دیرینہ دوستی پر مبنی ہیں جو گزشتہ 75 برسوں سے مضبوطی کے ساتھ قائم ہیں انہوں نے مزید کہا کہ چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور دونوں ممالک کی دوستی وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئی ہے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان چین کو ایک مخلص اور قابلِ اعتماد دوست سمجھتا ہے اور مستقبل میں بھی یہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ ترقی خوشحالی اور استحکام کے نئے مواقع پیدا ہوں۔ تقریب کے اختتام پر پاکستان-چین دوستی کو سراہتے ہوئے اس کے تسلسل اور مضبوطی کے لیے ہر ممکن کوششیں جاری ہیں اس سے قبل پرچم کشائی کے دوران پولیس کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4274/2026
خضدار21مئی خضدارعیدالاضحیٰ کے پیش نظر ضلع خضدار میں مویشی منڈیوں میں کانگو وائرس اوردیگر متعدی بیماریوں کی روک تھام کے لیے محکمہ لائیوسٹاک نے خصوصی مہم کا آغاز کر دیا ہےڈسٹرکٹ لائیوسٹاک آفیسر خضدار ڈاکٹر محمد انور زہری کے مطابق یہ مہم صوبائی وزیر لائیوسٹاک بلوچستان، سیکٹریری لائیوسٹاک بلوچستان، ڈائریکٹر جنرل لائیوسٹاک، کمشنر قلات ڈویڑن اور ڈپٹی کمشنر خضدار کی ہدایت پر شروع کی گئی ہے مہم کے تحت بکرا منڈیوں میں لائے جانے والے جانوروں کی ویکسینیشن، اسپرے اور عوامی آگاہی کا کام جاری ہےڈاکٹر محمد انور زہری نے بتایا کہ لائیوسٹاک کے ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیموں نے خضدار کی مختلف مویشی منڈیوں کا دورہ کر کے بھیڑ، بکری، گائے، بیل سمیت دیگر جانوروں کو ویکسین لگائی اور جراثیم کش اسپرے کیاانہوں نے کھٹان ندی، جھالاوان کمپلیکس اور ارباب کمپلیکس خضدار کا دورہ کر کے انسدادی اقدامات کا خود جائزہ لیا انہوں نے کہا کہ کانگو وائرس انسانوں اور جانوروں دونوں کیلئے خطرناک ہے اور اس کی اموات کی شرح بھی زیادہ ہے اس لیے ضلع کے زہری، نال، کرخ، وڈھ سمیت تمام بکرا منڈیوں میں جراثیم کش اسپرے اور ویکسینیشن مہم جاری ہےاس کا مقصد عوام کو بیماریوں سے محفوظ جانور فراہم کرنا ہےڈسٹرکٹ آفیسر نے مزید کہا کہ تمام مویشی منڈیوں میں روزانہ کی بنیاد پر کانگو وائرس سے بچاو¿ کی مہم چلائی جارہی ہےشہری علاقوں کے ساتھ دیہی علاقوں کے داخلی راستوں پر بھی اسپرے ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں انہوں نے خبردار کیا کہ مہم میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور عید قربان تک بیماری کا خطرہ مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4275/2026
تربت: کمشنر مکران قادر بخش پرکانی کی سربراہی میں ای پی آئی ڈویژنل ٹاسک فورس کا اہم اجلاس کمشنر آفس تربت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مکران ڈویژن میں بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی، صحت کے نظام کو مزید موثر بنانے اور جاری امیونائزیشن مہم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کا مقصد بچوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے حکومتی اقدامات کو مزید مضبوط بنانا تھا۔اجلاس میں پروینشل کوآرڈینیٹر ای پی آئی ڈاکٹر آفتاب کاکڑ نے آن لائن شرکت کی، جبکہ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی، ڈپٹی کمشنر پنجگور عبدالکبیر زرکون، ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ، ڈپٹی کمشنر تمپ برکت علی بلوچ، ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ مکران ڈاکٹر محب اللہ بلوچ، ڈی ایچ او کیچ ڈاکٹر عبدالروف بلوچ، ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر اشرف بلوچ اور ڈاکٹر ارسلان بلوچ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ دیگر اضلاع کے ضلعی ہیلتھ افسران نے اجلاس میں آن لائن شرکت کی۔اجلاس کے دوران مکران ڈویژن کے تمام اضلاع میں روٹین حفاظتی ٹیکہ جات (امیونائزیشن) کی کوریج، کارکردگی اور مختلف علاقوں میں جاری سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر بچوں تک بروقت حفاظتی ٹیکے پہنچانے، دور دراز علاقوں میں سہولیات کی فراہمی اور عوام میں آگاہی بڑھانے پر خصوصی زور دیا گیا۔ شرکاءنے اس بات پر اتفاق کیا کہ صحت مند معاشرہ ہی ترقی کی بنیاد ہوتا ہے۔کمشنر مکران اور پروینشل کوآرڈینیٹر ای پی آئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حفاظتی ٹیکے بچوں کو خطرناک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کا موثر ذریعہ ہیں، اس لیے امیونائزیشن کوریج کو مزید بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اجلاس میں مہم کے دوران ٹیکنیکل اسٹاف کو درپیش مسائل، فیلڈ میں پیش آنے والی مشکلات اور دیگر چیلنجز پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ ان کا بروقت حل نکالا جاسکے۔اس موقع پر کمشنر مکران قادر بخش پرکانی نے متعلقہ افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے فیلڈ اسٹاف کی حاضری اور کارکردگی کو یقینی بنائیں تاکہ حفاظتی ٹیکہ جات مہم کے مقررہ اہداف کامیابی سے حاصل کیے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں ایمانداری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4276/2026
قلعہ سیف اللہ 21مئی ۔ ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے آج نواب محمد خان لائبریری کا اچانک دورہ کیا اور وہاں موجود طلباء و نوجوانوں سے ملاقات کی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر عمران امدوخیل اور چیف آفیسر قادر خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔ڈپٹی کمشنر نے لائبریری میں دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا اور طلباءسے تعلیمی سرگرمیوں، کتابوں کی دستیابی اور دیگر درپیش مسائل کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی۔ طلباء نے لائبریری میں درپیش مشکلات اور مطالبات ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کیے۔ساگر کمار نے طلباء کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل کو سنجیدگی سے سنا گیا ہے اور ان کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو تعلیمی میدان میں بہتر سہولیات فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور لائبریری کو فعال اور معیاری بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جائیں گے۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر عمران امدوخیل اور چیف آفیسر قادر خان نے بھی طلباءکے مسائل نوٹ کیے اور جلد حل کروانے کی یقین دہانی کرائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4277/2026
قلات 21مئی ۔ عوامی مسائل سننے اور انکے حل سے متعلق ضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے مورخہ 25مئی 2026 بروز سوموار بوقت 12:00بجے دن کھلی کچہری کا انعقاد کیاجارہاہےڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے جاری کردہ اعلامیے کیمطابق کھلی کچہری اسسٹنٹ کمشنر قلات کے دفتر میں منعقد ہوگاامتعلقہ افراد علاقہ معززین سے کہا گیا ہیکہ وہ 25مئی کو ہونے والے کھلی کچہری میں شرکت کریں اور اپنے جائزمسائل بیان کریں تاکہ انکے حل کے لیئے ضلعی انتظامیہ بروقت اقدامات اٹھاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4278/2026
قلعہ سیف اللہ 21مئی ۔ ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے عید الاضحی کے پیشِ نظر آج قلعہ سیف اللہ کی گنجاہ مارکیٹ کا دورہ کیا اور عید کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے موقع پر چیف آفیسر قادر خان نے ڈپٹی کمشنر کو مویشی منڈی اور مارکیٹ میں کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر نے مویشی منڈی میں کانگو وائرس کے پیشِ نظر سپرے کے انتظامات، صفائی کی صورتحال اور دیگر ضروری امور کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ عید کے موقع پر شہریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے اور صفائی، روشنی اور سیکیورٹی کے انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔ساگر کمار نے کہا کہ کانگو وائرس اور دیگر بیماریوں سے بچاو کے لیے مویشی منڈی میں جراثیم کش سپرے کا عمل مسلسل جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی صحت و صفائی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔چیف آفیسر قادر خان نے یقین دلایا کہ عید الاضحی کے موقع پر تمام انتظامات کو بہتر انداز میں مکمل کر لیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4279/2026
دکی21مئی ۔انتظامیہ ضلع دکی کی جانب سے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول ناصر آباد میں ایک بڑی اور اہم کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر ضلع دکی محمد نعیم خان نے کی۔ کھلی کچہری میں 87 ونگ کے کرنل شاہد بلال، ڈسٹرکٹ چیئرمین حاجی خیر اللہ ناصر، چیئرمین میونسپل کمیٹی ملک کلیم اللہ خان ترین، ڈی ایچ او بہادر خان لونی، قبائلی رہنما حاجی رشید ناصر، سردارزادہ شیر یار خان ناصر سمیت مختلف سرکاری محکموں کے افسران، سیاسی و سماجی شخصیات، اساتذہ، طلباء، تاجر برادری، میڈیا نمائندگان اور معزز شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔کھلی کچہری کا بنیادی مقصد عوام اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطے کو مو¿ثر بنانا، عوامی مسائل کو فوری طور پر سننا اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنانا تھا۔ اس موقع پر ناصر آباد اور گردونواح سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے پینے کے صاف پانی، بجلی کی لوڈشیڈنگ، صحت کی سہولیات، تعلیمی مسائل، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، نکاسی آب، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق اپنے مسائل اور شکایات پیش کیں۔ڈپٹی کمشنر ضلع دکی محمد نعیم خان نے شرکائ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور حکومت کی اولین ترجیح عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان کے مسائل کا بروقت ازالہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریوں کا انعقاد عوامی اعتماد کی بحالی، شفافیت کے فروغ اور بہتر طرز حکمرانی کے قیام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اس موقع پر متعلقہ محکموں کے افسران نے عوامی مسائل کو بغور سنا اور متعدد مسائل کے فوری حل کے احکامات جاری کیے جبکہ دیگر مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ عوام نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھلی کچہری عوام کو اپنے مسائل براہِ راست اعلیٰ حکام تک پہنچانے کا بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔87 ونگ کے کرنل شاہد بلال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی خدمت اور علاقائی ترقی کے لیے تمام ادارے ایک صفحے پر ہیں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ ڈسٹرکٹ چیئرمین حاجی خیر اللہ ناصر اور چیئرمین میونسپل کمیٹی ملک کلیم اللہ خان ترین نے بھی عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔اس موقع پر صدر پریس کلب اللہ ناصر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کھلی کچہریاں عوامی مسائل کے حل اور عوامی آواز کو ایوانوں تک پہنچانے کا ایک موثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ہمیشہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور انتظامیہ اور عوام کے درمیان مثبت رابطے کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی، امن، ترقی اور ضلع دکی کی خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی جبکہ ضلعی انتظامیہ نے عوام کو یقین دلایا کہ ان کے جائز مسائل کے حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر4280/2026
کوئٹہ، 21 مئی۔ کوئٹہ میں انٹرنیشنل کمیونٹی مڈ ویفری ڈے 2026 کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا ، صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کے و ژن اور صوبائی سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمٰن پانیزئی کی ہدایت پر ایم این سی ایچ پروگرام نے یو این ایف پی اے کے تعاون سے منعقد اس پروگرام میں یونیسف سمیت دیگر ڈویلپمنٹ پارٹنرز نے شرکت کی اس موقع پر ماں اور بچے کی صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے محکمہ صحت بلوچستان کے میٹرنل، نیوبورن اینڈ چائلڈ ہیلتھ (MNCH) پروگرام نے 500 کمیونٹی مڈوائفری کٹس کی تقسیم، صوبے کے چھ اضلاع میں پری فیبریکیٹڈ MNCH سینٹرز کے قیام اور کمیونٹی مڈوائفری کورس کو بی ایس مڈوائفری پروگرام میں اپ گریڈ کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا۔ اس موقع پر بلوچستان میں زچہ و بچہ کی صحت کے نظام کو مزید موثر اور مربوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا اس طرح بلوچستان ملک کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جس نے “میٹرنل پیرینیٹل ڈیتھ سرویلنس اینڈ رسپانس (MPDSR) ایکٹ” نافذ کیا ہے، جو ماں اور نومولود بچوں کی اموات کی نگرانی، احتساب اور شواہد پر مبنی مداخلتوں کے لیے حکومت کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت، وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ اور سیکرٹری صحت مجیب الرحمان کی ہدایات کے تحت MNCH پروگرام نے یو این ایف پی اے، یونیسیف، عالمی ادارہ صحت، انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک، آئی آر سی اور آئی ڈی ایس پی سمیت شراکت دار اداروں کے تعاون سے کمیونٹی مڈوائفز کو بااختیار بنانے کے اقدامات کو مزید وسعت دی ہے اس موقع پر سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمٰن پانیزئی نے کہا کہ حکومت بلوچستان ماں اور بچے کی صحت کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور کمیونٹی مڈوائفز دور دراز علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 500 مڈوائفری کٹس کی تقسیم اور نئے سینٹرز کا قیام صحت کے نظام کو مزید موثر بنائے گا جبکہ بی ایس مڈوائفری پروگرام میں اپ گریڈ سے تربیت کے معیار کو عالمی تقاضوں کے مطابق بنایا جا رہا ہے سیکرٹری صحت نے ایم این سی ایچ، یو این ایف پی اے، یونیسیف سمیت تمام ڈویلپمنٹ پارٹنرز کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں خاطر خواہ نتائج حاصل ہوں گے اور کئی قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جاسکے گا ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر امین خان مندوخیل نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمیونٹی مڈوائفز بلوچستان میں قابلِ تدارک زچہ و بچہ اموات میں کمی لانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں صحت کی سہولیات تک رسائی محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وسیع جغرافیے کے باعث چیلنجز موجود ہیں تاہم مڈوائفز کی خدمات اس خلا کو پر کر رہی ہیں اور ان کی استعداد کار میں اضافہ ناگزیر ہے ایم این سی ایچ پروگرام کی صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر گل سبین اعظم نے کہا کہ صوبے میں زچہ و بچہ کی شرح اموات اب بھی تشویشناک ہے جس کے لیے مربوط اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز، کمیونٹی مڈوائفز اور ایمرجنسی ریفرل سروسز کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں بروقت طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے یو این ایف پی اے کی صوبائی کوآرڈینیٹر سعدیہ عطا نے کہا کہ عالمی ادارے بلوچستان حکومت کے ساتھ مل کر ماں اور بچے کی صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے “One Million More Midwives” کے عالمی موضوع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں مڈوائفز کی استعداد کار میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور مشترکہ کوششوں سے زچہ و بچہ کی اموات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے 2017-18 کے مطابق بلوچستان میں زچگی کے دوران اموات کی شرح ایک لاکھ زندہ پیدائشوں میں 298 ہے جو قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ نومولود اور شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح بھی تشویشناک سطح پر ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور یو این ایف پی اے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً دس لاکھ مڈوائفز کی کمی ہے جبکہ بلوچستان میں اس وقت 2327 تربیت یافتہ کمیونٹی مڈوائفز موجود ہیں جن میں سے صرف ایک محدود تعداد فعال خدمات انجام دے رہی ہے، جس کے باعث صوبے میں مڈوائفری کوریج صرف 13.2 فیصد ہے اور مزید افرادی قوت کی شدید ضرورت برقرار ہے تقریب کے شرکائ نے کمیونٹی مڈوائفز کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں ماں اور نومولود بچوں کی صحت کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات اور شراکت دار اداروں کے تعاون سے بلوچستان میں زچہ و بچہ صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4281/2026
کوئٹہ 21 مئی ۔ صوبائی سیکرٹری صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی نے کہا ہے کہ عالمی یوم مڈوائف ہر سال کی طرح 21 مئی کو بھرپور انداز میں منایا جاتا ہے، جس کا مقصد زچگی اور پیدائش کے دوران دائیوں (مڈوائف) کی گراں قدر خدمات، ان کی انتھک محنت، لگن اور ماں و نومولود بچوں کی جان بچانے میں ان کے اہم کردار کو اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مڈوائفز صحت کے شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں جو نہ صرف محفوظ زچگی کو یقینی بناتی ہیں بلکہ خواتین کو اعتماد، حوصلہ اور بہترین نگہداشت بھی فراہم کرتی ہیں۔یہ خیالات کا ظہار انہوں نے عالمی یوم مڈوائف یو این ایف پی اے، اور ایم این سی ایچ کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں محکمہ صحت بلوچستان کے اعلیٰ حکام، طبی ماہرین، نرسنگ شعبے سے وابستہ شخصیات اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر امین مندوخیل، کلثوم اقبال ڈائریکٹر نرسنگ، سعدیہ عطائ ، پروگرام کوانیٹر UNFPA ، ڈاکٹر احمد ولی چیف ایگزیکٹو بلوچستان ایلتھ کارڈ ، ڈاکٹر گل سبرین عظم، ڈاکٹر نور حسن، ڈاکٹر ظفر خوستی اور ڈاکٹر زاہد کاکڑ نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ ہر محفوظ اور کامیاب پیدائش کے پیچھے ایک ماہر مڈوائف کی شب و روز محنت، شفقت اور پیشہ ورانہ مہارت شامل ہوتی ہے۔ مڈوائف وہ ہاتھ ہیں جو درد کو سمجھتے، خوف کو کم کرتے اور ایک نئی زندگی کو دنیا میں لانے کے مشکل سفر میں ماں کا سہارا بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی یوم مڈوائف ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ماں اور بچے کی حفاظت صرف ایک طبی عمل نہیں بلکہ احساس، صبر، محبت اور ذمہ داری کا حسین امتزاج ہے۔تقریب کے شرکاء نے مڈوائفز کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دائیوں نے خصوصاً دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں زچہ و بچہ کی صحت کے فروغ کے لیے ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں۔ مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان اور محکمہ صحت مڈوائفز کی پیشہ ورانہ تربیت، استعداد کار میں اضافے اور انہیں جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے گا تاکہ ماں اور بچے کی صحت کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔تقریب کے اختتام پر عالمی یوم مڈوائف کے موقع پر تمام مڈوائفز، نرسز اور طبی عملے کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ وہ زندگی کے نازک ترین لمحات میں امید، تحفظ اور انسانیت کی بہترین مثال قائم کررہی ہیں۔تقریب کے آخر میں مڈوائفز نے شمعیں روشن کیں اور سیکرٹری محکمہ صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی نے شرکاء میں شیلڈ تقسیم کر دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4282/2026
گوادر 21 مئی ۔ ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان کی سربراہی میں جی ڈی اے کے آئندہ 10 سالہ ترقیاتی پروگرام کے پہلے فیز میں شامل مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کا اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ڈائریکٹر ٹاون پلاننگ شاہد علی، سپرنٹنڈنگ انجینئر روڈ نادر بلوچ، سپرنٹنڈنگ انجینئر بلڈنگ شے آصف غنی، پروجیکٹ ڈائریکٹر واٹر میرجان بلوچ، پروجیکٹ ڈائریکٹر اولڈ ٹاون بحالی منصوبہ میر دودا خان مری، پروجیکٹ ڈائریکٹر جیٹی حنیف حسین، ڈائریکٹر انوائرمنٹ رسول بخش بلوچ سمیت دیگر سینئر انجینئرز اور افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں روڈ، بلڈنگ، واٹر سپلائی، انوائرمنٹ، الیکٹریکل، فشریز، ٹورازم اور اولڈ ٹاون ری ہیبلیٹیشن سمیت مختلف شعبوں کے ترقیاتی منصوبوں کو حتمی شکل دینے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ جی ڈی اے کا آئندہ 10 سالہ ترقیاتی پروگرام بنیادی طور پر گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کی گائیڈ لائنز کے مطابق ترتیب دیا جا رہا ہے اور مستقبل میں بھی اسی فریم ورک کے تحت مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔ترقیاتی منصوبوں کو منظوری اور فنڈز کے حصول کیلئے گورننگ باڈی اجلاس میں پیش کرنے کے بعد وفاقی حکومت کو ارسال کیا جائے گا۔ پروگرام کے تحت روڈ سیکٹر میں تقریباً 20 مختلف کمپوننٹس جبکہ بلڈنگ سیکٹر میں 10 منصوبے شامل ہیں۔ واٹر سپلائی سیکٹر میں 200 کلومیٹر نئی لائنوں کی تنصیب اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کے قیام کی تجویز شامل ہے۔ الیکٹریکل شعبے میں سید ہاشمی ایونیو، دیمی زر روڈ اور دیگر شاہراہوں پر سولرائزیشن اور انڈر گراونڈ کیبلنگ کے منصوبے بھی پروگرام کا حصہ ہیں۔انوائرمنٹ سیکٹر میں شجرکاری مہم اور اہم شاہراہوں پر ڈرپ ایریگیشن سسٹم کی تنصیب جبکہ ٹورازم سیکٹر میں ریزورٹس، جی ڈی اے کلب، فارنر کلب اور کوسٹل ٹورزم پروجیکٹس بھی مجوزہ منصوبوں میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دیمی زر روڈ کے اطراف پبلک اسپیسز کی ڈیولپمنٹ اور پدی زر میں گراب بیچ پارک کی تعمیر و ترقی بھی منصوبے کا حصہ ہے۔جی ڈی اے ہاوسنگ اسکیم، فشریز ہاوسنگ اسکیم، اسپیشل اکنامک زون، سی بی ڈی اور مائیکرو پلاننگ منصوبوں پر بھی مرحلہ وار عملدرآمد کیا جائے گا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے ہدایت کی کہ ایسے منصوبوں کو ترجیح دی جائے جو عوامی ضروریات اور زمینی حقائق سے مطابقت رکھتے ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ فوری طور پر مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی خزانے کا موثر اور شفاف استعمال ہماری بنیادی ذمہ داری ہے، لہٰذا حکومتی کفایت شعاری پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبوں کی تخمینہ لاگت کم سے کم رکھی جائے تاکہ محدود وسائل میں زیادہ عوامی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4283/2026
گوادر: 21مئی ۔ گوادر: اولڈ ٹاون بحالی منصوبے کے تحت شہر میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں۔ اس وقت پرانی عیدگاہ سے براستہ شہرداری (بلدیہ) جنت بازار تک جبکہ میرین ڈرائیو سے کتاب چوک براستہ جنت بازار تقریباً ایک کلومیٹر سڑک کی بلیک ٹاپنگ کا کام تیزی سے جاری ہے۔منصوبے کے تحت سڑک کے ساتھ جدید ڈرینج لائن بھی بچھائی گئی ہے، جس کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ ماضی میں بارشوں کے دوران ان علاقوں میں پانی جمع ہونے اور گھروں میں داخل ہونے کے باعث مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہتا تھا، تاہم منصوبے کی تکمیل کے بعد یہ مسئلہ مستقل طور پر حل ہونے کی توقع ہے۔اولڈ ٹاون بحالی منصوبے کے تحت جاری ترقیاتی سرگرمیوں کی بدولت پرانی آبادی میں نہ صرف بنیادی انفراسٹرکچر بہتر ہو رہا ہے بلکہ شہر کی مجموعی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ منصوبے گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کے مطابق شہر کو جدید اور منظم خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4284/2026
گوادر۔ 21 مئی ۔سابق صوبائی وزیر ماہیگیری میر حمل کلمتی نے آج ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل واجہ شے مختار اور سیاسی و سماجی شخصیت میر ارشد کلمتی اور دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ملاقات کے دوران ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے میر حمل کلمتی کو جی ڈی اے کے اولڈ ٹاون بحالی منصوبے سمیت مختلف جاری ترقیاتی منصوبوں پر آگہی دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت جی ڈی اے کے مختلف ترقیاتی کمپوننٹس پر تیزی سے کام جاری ہے، جن میں اولڈ ٹاو¿ن میں سڑکوں، گلیوں اور شاہراہوں کی تعمیر، توسیع و بحالی، تعلیمی اداروں، کھیل میدانوں، قدیم کاروباری مراکز کی تزئین و آرائش، ٹف ٹائلنگ، پیور ورک اور سیوریج، ڈرینیج شامل ہیں۔ڈی جی جی ڈی اے نے کہا کہ شہر میں بلا تعطل پانی کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے جبکہ جی ڈی اے نے گوادر میں پہلی مرتبہ واٹر بلنگ کا شفاف نظام متعارف کرایا ہے، جسے عوامی حلقوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گوادر میں بلنگ اور شہری زمہ داری کا رجحان فروغ پا رہا ہے جو شہر کی منظم ترقی کے لیے خوش آئند ہے۔اس موقع پر سابق صوبائی وزیر میر حمل کلمتی نے اولڈ ٹاون سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں پر جاری کام کو سراہتے ہوئے بعض مقامات پر عوام کو درپیش مسائل اور مشکلات کی نشاندہی کی۔ ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے متعلقہ شعبے کو ان مسائل کے فوری حل کے احکامات جاری کیے۔میر حمل کلمتی نے شادی کور مین ٹرانسمیشن لائن کے راستے میں واقع مختلف دیہات و گاوں کو لائن سے منسلک کرکے پانی کی فراہمی شروع کرنے کی بات کی، جس پر ڈی جی جی ڈی اے نے متعلقہ شعبے کو فوری طور پر عملی اقدامات کی ہدایت جاری کی۔ملاقات میں شہر میں تجاوزات، شہری سہولیات اور جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4285/2026
چمن 21مئی ۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے اج چمن میں بی ایس ڈی آئی فیز ٹو اور تھری کے تحت جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی دورہ کیا اس دوران انہوں نے گورنمنٹ گرلز کالج چمن لائبریری کی تعمیر تزئین و آرائش اور دیگر چھوٹے چھوٹے جاری ترقیاتی کاموں نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن میں جاری ترقیاتی کاموں چمن بازار میں روڈ بنانے اور بلیک ٹاپ ڈالنے چمن میں قلعہ سے ملحقہ روڈ پر جاری کام کا تفصیلی معائنہ کیا جہاں انہوں نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو BSDI کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا اس موقع پر کمانڈنٹ چمن سکاو¿ٹس بریگیڈیئر بریگیڈیئر شکیل احمد اور دیگر اعلیٰ فوجی و سول افسران بھی ان کے ہمراہ تھے دورے کے دوران متعلقہ افسران کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کو منصوبے کی پیش رفت، استعمال ہونے والے میٹریل اور تکمیل کے متوقع وقت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے تعمیراتی کام کے معیار اور رفتار کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کو پی سی ون کے مطابق مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعمیراتی کام میں کسی بھی قسم کے ناقص میٹریل یا غفلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں ہوگاانہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز احمد بگٹی کی قیادت میں صوبے بھر میں تعلیمی اداروں ہسپتالوں روڈز کی بہتری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر اٹھا رہی ہیں جو قابل تحسین ہے آخر میں ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور رفتار کو یقینی بنایا جائے تاکہ مفاد عامہ کو ایک محفوظ، جدید اور بہتر طبی تعلیمی اور روڈز اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر فراہم کی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4286/2026
سبی، 21 مئی اسسٹنٹ کمشنر / ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سبی ریونیو منصور علی شاہ کی صدارت میں انسداد پولیو مہم کے آخری روز (کیچ اپ ڈے) کے حوالے سے ایوننگ رویو اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈی ایچ او ڈاکٹر قادر ہارون، ڈبلیو ایچ او سے ڈاکٹر احسان، این اسٹاپ آفیسر ڈاکٹر شہزادہ کامران، ڈی پی او صلاح الدین مری، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آئی ایس ڈی میر وائس خان سمیت یو سی ایم اوز، مانیٹرز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران تمام ٹیموں کے مانیٹرز اور یو سی ایم اوز نے اپنی اپنی یونین کونسلز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جبکہ مہم کے دوران بچوں کی کوریج، مس شدہ کیسز، ہائی رسک ایریاز اور فیلڈ میں درپیش مسائل سے متعلق آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر منصور علی شاہ نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ انسداد پولیو مہم قومی فریضہ ہے اور اس میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام ٹیمیں آخری روز بھی بھرپور محنت اور ذمہ داری کے ساتھ فرائض انجام دیں تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔اجلاس میں سیکیورٹی، ٹیموں کی نگرانی اور عوامی آگاہی مہم کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ افسران نے جاری مہم کو کامیاب بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4287/2026
گوادر۔ 21 مئی . ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان کی ہدایت پر جی ڈی اے انفورسمنٹ سیل آج دوسرے روز بھی نے فشرمین کالونی کی سرکاری اراضی پر قبضہ مافیا کے خلاف بھرپور کارروائی کرتے ہوئے متعدد غیر قانونی تعمیرات مسمار کر دیں۔کارروائی اسسٹنٹ ڈائریکٹر انفورسمنٹ بابر ناصر، انفورسمنٹ آفیسر داد بخش اور شے علی احمد کی نگرانی میں فشرمین کالونی کے متعدد پلاٹس پر ناجائز قبضہ ختم کروایا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نانمبر4287/2026
کوئٹہ 21 مئی:۔چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس گل حسن ترین پر مشتمل دو رکنی بینچ نے عبدالرحیم زیارتوال کی جانب سے دائر آئینی درخواست بنام منصوبہ بندی کمیشن و دیگر کی سماعت کی، جس میں زیارت موڑ۔کچ۔ہرنائی۔سنجاوی اور ہرنائی۔سبی شاہراہ منصوبوں پر پیش رفت رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔عدالت کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ زیارت موڑ۔کچ۔ہرنائی۔سنجاوی روڈ منصوبے کا تفصیلی ڈیزائن اور ٹینڈر دستاویزات مکمل کر لی گئی ہیں، جبکہ منصوبے کے لیے وفاقی پی ایس ڈی پی 2025-26 میں 200 ملین روپے کی ٹوکن رقم مختص کی جا چکی ہے۔ این ایچ اے نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے فنڈنگ اور فنڈ شیئرنگ فارمولے سے متعلق حتمی فیصلے کے بعد ٹینڈرنگ کے عمل کو باضابطہ طور پر شروع کیا جائے گا۔ این ایچ اے نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ منصوبے کے لیے تین سالہ تکمیلی پلان پہلے ہی پلاننگ کمیشن کو ارسال کیا جا چکا ہے۔اسی طرح ہرنائی تا سبی روڈ براستہ اسپن تنگی منصوبے کے حوالے سے عدالت کو بتایا گیا کہ منصوبے کا PC-1 نظرثانی کے مراحل میں ہے اور این ایچ اے کی جانب سے کنسلٹنٹ کے ذریعے تیسرے فریق کی توثیق تقریباً مکمل کر لی گئی ہے۔ این ایچ اے کے مطابق منصوبے کے درست ڈیزائن کے لیے سیٹلائٹ امیجری اور ڈیجیٹل ایلیویشن ماڈلز حاصل کیے جا رہے ہیں، جس کے لیے مزید دس روز درکار ہوں گے۔دوسری جانب محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ حکومت بلوچستان نے اپنی رپورٹ میں عدالت کو بتایا کہ 5 مئی 2026 کو ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ترقیات) کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں دونوں منصوبوں کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ زیارت موڑ۔کچ۔ہرنائی۔سنجاوی منصوبہ مکمل طور پر وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت این ایچ اے کے ذریعے مکمل کیا جائے گا جبکہ صوبائی حکومت زمین کے حصول اور سہولت کاری تک محدود رہے گی۔رپورٹ کے مطابق ہرنائی۔سبی روڈ منصوبے کے لیے 80/20 فنڈ شیئرنگ فارمولہ تجویز کیا گیا، جس کے تحت 80 فیصد اخراجات وفاقی حکومت اور 20 فیصد صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔ تاہم عدالت نے اس تجویز پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ صوبائی حکومت اور محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اس اہم شاہراہ منصوبے میں سنجیدہ دلچسپی لیتے دکھائی نہیں دے رہے اور مالی بوجھ وفاق پر منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم ٹاسک فورس کی جانب سے صرف شیئرنگ فارمولے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم صوبائی حکام نے ازخود 80/20 تناسب طے کر لیا، جو افسوسناک ہے۔ عدالت نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ترقیات) حکومت بلوچستان کو ہدایت جاری کی کہ وہ ذاتی طور پر معاملے کی نگرانی کریں اور دونوں منصوبوں کے لیے مناسب اور قابلِ عمل طریقہ کار وضع کریں تاکہ تاخیر کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔عدالت نے مزید ہدایت کی کہ این ایچ اے اور حکومت بلوچستان کے مابین خط و کتابت کے ذریعے سبی۔ہرنائی روڈ کے فنڈ شیئرنگ فارمولے کو جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ PC-1 کی منظوری اور ٹینڈرنگ کا عمل بروقت مکمل ہو سکے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 9 جولائی 2026 تک ملتوی کرتے ہوئے حکم نامے کی نقول ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل پاکستان کو ارسال کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
خبر نانمبر4288/2026
کوئٹہ 21مئی۔ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایت پر عیدالاضحیٰ کے پیشِ نظر مویشی منڈیوں میں جانوروں اور شہریوں کی صحت کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کوئٹہ اور محکمہ لائیواسٹاک کی مشترکہ نگرانی میں شہر کی مختلف مویشی منڈیوں میں باقاعدگی سے اسپرے اور جراثیم کش ادویات کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر سریاب مصور احمد اور اسسٹنٹ کمشنر صدر محمد یوسف ہاشمی نے مختلف مویشی منڈیوں میں اسپرے کے عمل کی خود نگرانی کی۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق مویشی منڈیوں میں آنے والے جانوروں کو مختلف بیماریوں اور وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو روزانہ کی بنیاد پر اسپرے، صفائی اور جانوروں کے طبی معائنے کو یقینی بنا رہی ہیں۔ اس موقع پر لائیواسٹاک ماہرین کی جانب سے بیوپاریوں اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر سے بھی آگاہ کیا جا رہا ہے۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مویشی منڈیوں میں صفائی ستھرائی، نکاسی آب اور جراثیم کش اسپرے کے مؤثر انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی بیماری سے بچا جا سکے۔مختلف داخلی اور خارجی راستوں پر بھی اسپرے کیا جا رہا ہے جبکہ جانوروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے عملہ تعینات ہے۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی ہدایات پر متعلقہ ادارے عیدالاضحیٰ تک مویشی منڈیوں کی مسلسل نگرانی جاری رکھیں گے تاکہ شہریوں کو محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔
خبر نانمبر4289/2026
کوئٹہ 22مئی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت جاری انسداد پولیو مہم کا چوتھے روز ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈی ایچ او کوئٹہ ڈاکٹر ایمل مندوخیل، ڈپٹی ڈی ایچ او، پولیو آفیسران اور پولیس حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران پولیو مہم کے چوتھے روز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مختلف علاقوں میں ٹیموں کی کوریج، رفیوزلز اور درپیش مشکلات پر بریفنگ دی گئی۔ جن علاقوں میں کوریج میں کمی یا مسائل کی نشاندہی ہوئی وہاں متعلقہ ٹیموں کو فوری طور پر تبدیل کیا گیا جبکہ متعدد اہلکاروں کو غفلت برتنے پر سخت نوٹسز جاری کیے گئے۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ جن علاقوں میں رفیوزلز موجود ہیں وہاں ضلعی انتظامیہ کے افسران ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون اور کوریج میں معاونت فراہم کریں گے۔ انہوں نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے سب ڈویژن میں رفیوزل کیسز اور دیگر مسائل کی صورت میں فوری طور پر موقع پر موجود رہیں تاکہ ہر بچے تک پولیو ویکسین کی رسائی یقینی بنائی جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے۔
خبر نانمبر4290/2026
لورالائی 21 مئی:۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے شہر میں عوام کو فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کی بہتری کے سلسلے میں میونسپل کمیٹی کی حدود میں قائم غیر فعال پبلک ٹوائلٹس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر انہیں فعال بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔کمشنر لورالائی ڈویژن کی خصوصی ہدایات پر چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی محب اللہ خان بلوچ نے فوری اقدامات کرتے ہوئے رات گئے میونسپل کمیٹی کے عملے کو متحرک کر دیا۔ چیف سنیٹری انسپیکٹر نقیب اللہ موسیٰ خیل کی سربراہی میں صفائی اور مرمتی ٹیموں نے مختلف مقامات پر قائم پبلک ٹوائلٹس کی صفائی، نکاسی آب، بجلی، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی بحالی کا کام شروع کر دیا۔اس موقع پر چیف آفیسر میونسپل کمیٹی نے کہا کہ عوام کو صاف ستھری اور معیاری سہولیات کی فراہمی میونسپل کمیٹی کی اولین ترجیح ہے اور شہریوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر فعال پبلک ٹوائلٹس کی بحالی سے شہریوں خصوصاً خواتین، بزرگوں اور مسافروں کو بہتر سہولت میسر آئے گی۔مزید برآں دن کے اوقات میں بھی میونسپل کمیٹی کا خصوصی عملہ مختلف پبلک ٹوائلٹس پر تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ صفائی ستھرائی اور دیگر انتظامات کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھا جا سکے۔ انتظامیہ کے مطابق شہر بھر کے تمام پبلک ٹوائلٹس کو مرحلہ وار عصرِ نو کے تقاضوں کے مطابق بحال کیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو بہتر اور خوشگوار ماحول فراہم کیا جا سکے۔
خبر نانمبر4291/2026
کوئٹہ 21 مئی:۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) کے 46ویں مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس بلوچستان کے شرکاء پر مشتمل ایک وفد نے گزشتہ روز اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ادارے (UNDP) کے مقامی دفتر کا مطالعاتی دورہ کیا۔ وفد کی قیادت نیپا کے فیکلٹی اراکین محمد اسلم غنی، سید عثمان اور سید امیر شاہ نے کی۔دورے کے دوران بلوچستان میں اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) اور یو این صوبائی پروگرام ٹیم کے سربراہ ذوالفقار درانی نے وفد کا استقبال کیا اور شرکاء کو ادارے کی کارکردگی، جاری ترقیاتی منصوبوں اور بلوچستان میں اقوامِ متحدہ کے مختلف اداروں کے کردار سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ذوالفقار درانی نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے مختلف ادارے حکومتِ پاکستان اور حکومتِ بلوچستان کے اشتراک سے صحت، تعلیم، خواتین کے حقوق، آبادی، ماحولیاتی تحفظ، صاف پانی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP)، اقوامِ متحدہ فنڈ برائے آبادی (UNFPA) اور دیگر عالمی ادارے صوبے میں پائیدار ترقی، غربت کے خاتمے اور انسانی فلاح و بہبود کے مختلف منصوبوں پر سرگرم عمل ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا مقصد صرف بنیادی سہولیات کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں میں دیرپا، مثبت اور پائیدار تبدیلی لانا بھی ہے۔ ان کے مطابق UNDP حکومتِ بلوچستان اور مقامی شراکت داروں کے تعاون سے صحت، تعلیم، صاف پانی، شمسی توانائی، ماحولیاتی تحفظ اور مقامی حکومتوں کی استعداد کار میں اضافے کے منصوبوں پر مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے۔ذوالفقار درانی نے اس امر کی نشاندہی کی کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم اقوامِ متحدہ کے ادارے ضلعی سطح پر پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے تحت مختلف منصوبے کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لسبیلہ، خضدار اور دیگر اضلاع میں صحت، تعلیم، سڑکوں، نکاسی آب اور صاف پانی کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ مقامی آبادی کے معیارِ زندگی میں بہتری لائی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی بلوچستان کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے، جس کے باعث خشک سالی، پانی کی قلت اور زرعی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ UNDP ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے شجرکاری، پانی کے مؤثر استعمال، ماحول دوست توانائی اور قدرتی وسائل کے تحفظ سے متعلق منصوبوں پر بھی کام کر رہا ہے۔ذوالفقار درانی نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار ترقی کے حصول کے لیے حکومت، مقامی کمیونٹیز، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی اداروں کے درمیان مضبوط اور مؤثر اشتراک ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ شراکت داری اسی جذبے کے ساتھ جاری رہی تو بلوچستان میں غربت میں کمی، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور انسانی ترقی کے اشاریوں میں نمایاں بہتری ممکن ہو سکے گی۔بعدازاں اقوامِ متحدہ کے مختلف ذیلی دفاتر اور اداروں کے نمائندگان نے بھی شرکاء کو اپنے اداروں کی کارکردگی، جاری منصوبوں اور صوبے میں جاری سرگرمیوں سے متعلق آگاہ کیا۔ بریفنگ دینے والوں میں ولید مہدی، ہیڈ آف ایف اے او بلوچستان آفس، UNFPA سب آفس کی سربراہ محترمہ سعدیہ عطا، یو این آئی ٹی سی سب آفس کے سربراہ جہانزیب خان، یونیسکو ذیلی دفتر کے سربراہ قدرت اللہ خلجی، UN-Habitat سب آفس کے سربراہ مرویس آغا، UNHCR ذیلی دفتر کے سربراہ ٹیسیفائے بیکیلی، یو این او ڈی سی سب آفس کے سربراہ غلام علی، UNRCO پاکستان کی صوبائی کوآرڈینیٹر محترمہ ریحانہ خلجی، یو این ویمن کے ٹیکنیکل آفیسر داؤد ننگیال، آئی او ایم کے نمائندے نعمان خان اور عالمی ادارصحت (WHO) کے نمائندے جواد احمد شامل تھے۔بریفنگ سیشن کے اختتام پر نیپا کے شرکاء کی جانب سے مختلف سوالات کیے گئے جن کے تفصیلی جوابات فراہم کیے گئے۔ آخر میں نیپا کی جانب سے بلوچستان میں UNDP کے سربراہ ذوالفقار درانی کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔

خبر نانمبر4292/2026
موسی خیل21 مئی:۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس موسیٰ خیل میں (DICC) کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے کی۔ اجلاس میں ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر نادر خان، (PPHI) اسسٹنٹ مصطفی(IHHN) کے کوآرڈینیٹر مجیب الرحمٰن، MEAL Officer احسان لاشاری، DSO عبدالرؤف DSV گل داد، ASV شیر زمان سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں گزشتہ فیصلوں کا جائزہ لیا گیا اور موجودہ کارکردگی پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ EPI کوریج بہتر بنانے، ویکسینیٹرز کی کارکردگی، NIER حاضری اور فیلڈ ورک کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔اجلاس کے دوران پولیگون کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی، جس میں مختلف یونین کونسلز میں کوریج، مسڈ ایریاز اور فیلڈ مانیٹرنگ کے امور کا جائزہ لیا گیا تاکہ تمام علاقوں کو بروقت کور کیا جا سکے۔مزید برآں مسڈ کمیونٹیز اور زیرو ڈوز بچوں کی نشاندہی کر کے انہیں جلد از جلد کور کرنے کی ہدایت دی گئی۔ کولڈ چین سسٹم اور ویکسین مینجمنٹ کو مزید بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔اہم نکات:ویکسینیٹرز کی کارکردگی بہتر بنائی جائے،حاضری یقینی بنائی جائے،مسڈ کمیونٹیز کو فوری کور کیا جائے، زیرو ڈوز بچوں تک رسائی بڑھائی جائے، کولڈ چین سسٹم مضبوط بنایا جائے، پولیگون کے تحت تمام ایریاز کی مؤثر مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے آخر میں ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور بہتر کارکردگی جاری رکھنے کی ہدایت دی۔
خبر نانمبر4293/2026
کوہلو 21 مئی۔ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دومڑ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اہم اجلاس گزشتہ روز ڈی سی آفس میں منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے تعلیمی امور، اسکولوں کو درپیش مسائل، اساتذہ کی حاضری، نگرانی کے نظام اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے سے متعلق تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران افسران نے اپنے فیلڈ دوروں، مختلف تعلیمی اداروں کی صورتحال، بنیادی مسائل، سہولیات کی کمی اور اساتذہ کی غیر حاضری سے متعلق رپورٹس ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کیئے۔ جائزہ اجلاس میں 100 سے زائد غیر حاضر اساتذہ کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔ اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر عظیم جان دومڑ نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کی خصوصی احکامات کی روشنی میں سرکاری تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط، اساتذہ کی حاضری اور معیاری تعلیم کی فراہمی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ اسکولوں کے دوروں میں مزید تیزی لائی جائے اور مستقل نگرانی کے ذریعے اساتذہ کی حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں کلسٹر بجٹ کے شفاف اور مؤثر استعمال پر بھی زور دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تعلیمی وسائل عوام کی امانت ہیں اس لیے فنڈز کے استعمال میں شفافیت، جوابدہی اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ اسکولوں کی ضروریات بروقت پوری ہوسکیں ڈی سی کوہلو نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، تدریسی ماحول کی بہتری اور تعلیمی معیار کو بلند کرنے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ایس بی کے اور کنٹریکٹ بنیادوں پر تعینات اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ عادی غیر حاضر اساتذہ کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع کوہلو میں تعلیم کے شعبے کو فعال، منظم اور نتیجہ خیز بنانے کیلئے اصلاحاتی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ طلبہ کو بہتر اور معیاری تعلیمی ماحول میسر آسکے منعقدہ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جعفر خان زرکون، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن میل حفیظ اللہ مری، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میل کوہلو بہادر خان مری، سپرنٹنڈنٹ ڈی سی حاجی سیف اللہ مری، ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ کوآرڈینیٹر آر ٹی ایس ایم بہرام خان کالکانی، ڈسٹرکٹ سپروائزر بی ای ایف یوسف مری، ڈویژنل کوآرڈینیٹر ٹی کے ایف اسرار مری، خزانہ کے نمائندہ آفیسر عطاء اللہ مری سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی ہے۔
خبر نانمبر4394/2026
ضلع چمن 21مئی:۔ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی اور کمانڈنٹ چمن سکاؤٹس بریگیڈیئر شکیل احمد اور دیگر اعلیٰ حکام چمن میں بی ایس ڈی آئی فیز ٹو اور تھری کی طرف سے شروع کئے گئے مختلف ترقیاتی اسکیمات کا تفصیلی دورہ کر رہے ہیں اس دوران انہوں نے نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن گورنمنٹ گرلز کالج چمن میں لائبریری کی تعمیر تزئین و آرائش اور دیگر چھوٹے چھوٹے جاری تعمیراتی کاموں اور چمن بازار میں روڈ پر جاری کام بلیک ٹاپ ڈالنے اور چمن قلعہ سے ملحقہ روڈ کی تعمیر اور بلیک ٹاپ ڈالنے کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور متعلقہ افسران و ٹھیکیداروں کو پی سی ون کے مطابق کام کی بروقت اور معیاری میٹریل استعمال کرنے کی احکامات جاری کیے گئے اس موقع پر متعلقہ افسران نے بی ایس ڈی آئی کی جانب سے شروع کیے گئے تعمیراتی کاموں پر کام کی پیش رفت استعمال ہونے والے میٹریل اور تکمیل کے متعلقہ وقت کے حوالیسے تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔

خبر نانمبر4395/2026
اسلام آباد 21 مئی:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جمعرات کو یہاں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، قومی سیاسی صورتحال، وفاق اور بلوچستان کے درمیان تعاون، اور صوبے کی مجموعی ترقی سے متعلق معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں، امن و امان کی صورتحال، اور عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات سے اسپیکر قومی اسمبلی کو آگاہ کیا انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی اور قومی دھارے میں موثر شمولیت کے لیے وفاقی تعاون ناگزیر ہے اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بلوچستان کی ترقی، استحکام اور عوامی مسائل کے حل کے لیے وفاقی سطح پر ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے اور صوبے کے عوام کی بہتری کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھی جائیں گی ملاقات میں پارلیمانی امور، بین الصوبائی ہم آہنگی، اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
خبر نانمبر4396/2026
گوادر21مئی:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن اور شہریوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے حکومتی عزم کے تحت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر نے ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر فاروق بلوچ کے ہمراہ رورل ہیلتھ سینٹر (آر ایچ سی) سربندن اور سی ڈی ببر شور کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں صحت کے مراکز میں جاری طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی، طبی آلات کی فعالیت اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا گیا۔آر ایچ سی سربندن پہنچنے پر میڈیکل اسٹاف نے ڈی ایچ او گوادر کو ہسپتال کی مجموعی کارکردگی، درپیش مسائل اور جاری طبی خدمات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر ڈاکٹر یاسر طاہر نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرتے ہوئے ڈینٹل یونٹ، او پی ڈی، وارڈز، میڈیکل اسٹور اور دیگر طبی شعبوں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی، صفائی ستھرائی کے انتظامات، طبی آلات کی فعالیت اور عملے کی حاضری کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوام کو بروقت، معیاری اور بلا تعطل طبی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔اس موقع پر ڈاکٹر یاسر طاہر نے ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور علاقہ معتبرین سے ملاقات بھی کی، جس میں ہسپتال کو درپیش مسائل، طبی سہولیات کی بہتری، افرادی قوت کی ضروریات اور عوامی مسائل کے حل سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔دورے کے موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی جانب سے ہسپتال کے لیے ضروری ادویات فراہم کی گئیں، جبکہ ایمبولنس کی مرمت اور بحالی سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس حوالے سے ڈاکٹر یاسر طاہر نے کہا کہ ایمبولنس کو جلد فعال کرکے مریضوں کی سہولت کے لیے دستیاب بنایا جائے گا۔ علاوہ ازیں مریضوں اور ان کے لواحقین کو صاف اور ٹھنڈے پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے واٹر ڈسپنسر بھی فراہم کیا گیا۔مزید برآں ڈی ایچ او گوادر کی خصوصی ہدایت پر آر ایچ سی سربندن کے لیے ایکسرے مشین اور دیگر ضروری طبی آلات کی فراہمی کا بھی فیصلہ کیا گیا، تاکہ مقامی سطح پر تشخیصی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے اور مریضوں کو علاج و تشخیص کے لیے دیگر علاقوں کا رخ نہ کرنا پڑے۔دورے کے دوران صحت کے مراکز میں ادویات کی مستقل فراہمی، طبی آلات کی فعالیت، بنیادی سہولیات کی بہتری اور عوام کو بہتر طبی خدمات کی فراہمی کے لیے جاری اقدامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر نے کہا کہ عوام کو معیاری، بروقت اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی محکمہ صحت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ضلع بھر کے ہسپتالوں اور صحت مراکز میں طبی سہولیات کی بہتری، ادویات کی دستیابی اور مریضوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ شہریوں کو ان کی دہلیز پر بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

خبر نامہ نمبر 2026/4397
لورالائی21 مئی:ـبائٹمز لورالائی کے زیرِ اہتمام منعقدہ چار روزہ سیمینار “Balochistan AI Learning Initiative (BALI)” کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ سیمینار کے آخری روز طلباء، اساتذہ، آئی ٹی ماہرین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی برگیڈیئر نعمان نذیر ملک تھے، جنہوں نے اپنے خطاب میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کو موجودہ دور کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا تیزی سے جدید ٹیکنالوجی کی جانب بڑھ رہی ہے اور مستقبل میں AI انسانی زندگی، تعلیم، کاروبار، صحت اور دیگر شعبوں کا لازمی حصہ بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ جدید علوم اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہوکر اپنی صلاحیتوں کو نکھارے تاکہ عالمی سطح پر مسابقتی ماحول میں بہتر کردار ادا کرسکیں۔انہوں نے بائٹمز لورالائی کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے تعلیمی اور تربیتی پروگرام نوجوانوں میں جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے طلباء میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، ضرورت صرف انہیں درست رہنمائی اور جدید مواقع فراہم کرنے کی ہے۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آئی ٹی ایکسپرٹ اور لیکچرار اسد بلوچ نے مصنوعی ذہانت کی اہمیت، افادیت اور مختلف شعبہ جات میں اس کے استعمال پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ AI نہ صرف تعلیمی میدان بلکہ صحت، زراعت، تجارت، میڈیا اور صنعتی شعبوں میں بھی انقلاب برپا کر رہی ہے۔ انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ AI Tools اور جدید ڈیجیٹل مہارتوں کو سیکھ کر اپنے مستقبل کو مزید روشن بنائیں۔
اسد بلوچ نے تعلیمی شعبے میں AI کے مؤثر استعمال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت طلباء کی تحقیق، سیکھنے کے عمل اور تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان جدید ٹیکنالوجی کو مثبت انداز میں استعمال کریں تو وہ قومی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر بائٹمز لورالائی کے پرنسپل انجینئر عزیز اللہ نے ادارے کی تعلیمی و فنی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بائٹمز نوجوانوں کو جدید علوم سے آراستہ کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ مستقبل میں بھی اسکولوں اور کالجز میں ورکشاپس، کیرئیر کونسلنگ سیشنز اور ٹیکنالوجی سے متعلق تربیتی پروگراموں کے انعقاد کا سلسلہ جاری رکھے گا تاکہ طلباء کو دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔سیمینار کے اختتام پر شرکاء نے بائٹمز لورالائی کی اس تعلیمی کاوش کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کے پروگراموں کا انعقاد جاری رکھا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/4398
گوادر 21 مئی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور صوبائی حکومت کی شفاف حکمرانی، انسدادِ تجاوزات اور سرمایہ کاری دوست پالیسیوں کے تسلسل میں ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی خصوصی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ظہور احمد بلوچ نے گبد 250 بارڈر کے مقام پر جیڈا (Gwadar Industrial Estate Development Authority) کی سرکاری اراضی کو قبضہ مافیا سے واگزار کرا لیا۔تفصیلات کے مطابق دو ایکڑ قیمتی سرکاری زمین، جو گوادر انڈسٹریل زون کے مستقبل کے صنعتی و اقتصادی منصوبوں کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے اور پاکستان ایران سرحدی پٹی پر واقع ہے، پر غیر قانونی قبضہ ختم کرایا گیا۔ یہ کارروائی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحی بنیادوں پر سرکاری اراضی کے تحفظ اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے زمین کی بروقت دستیابی کو یقینی بنانے کی پالیسی کا حصہ ہے۔کارروائی کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو نے تحصیلدار جیوانی اعظم خان گچکی، پولیس اور جیڈا کے نمائندوں کی موجودگی میں موقع پر نگرانی کی جبکہ بھاری مشینری کے ذریعے زمین کو مکمل طور پر واگزار کرایا گیا۔ضلعی انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ گوادر میں سرکاری زمینوں پر کسی بھی قسم کا غیر قانونی قبضہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، اور تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جائے گا، تاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق گوادر کو ایک جدید، صنعتی اور معاشی حب کے طور پر مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/4399
موسیٰ خیل 21 مئی:ـڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم کے چوتھے دن (کیچپ ڈے) کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں DHO ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی، ضلعی کوآرڈینیٹر انڈس ہسپتال مجیب الرحمٰن اور UCMOs نے شرکت کی اجلاس میں گزشتہ تین دنوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور رہ جانے والے بچوں کی کوریج کے لیے کیچپ ڈے کی حکمتِ عملی طے کی گئی اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے واضح طور پر ہدایت کی کہ پولیو مہم میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ کیچپ ڈے پر تمام ٹیمیں فیلڈ میں متحرک رہیں اور ضلعی انتظامیہ و مقامی معززین کے تعاون سے انکاری والدین کو قائل کرکے ضلع کے ہر بچے کو پولیو کے قطرے پلانا یقینی بنائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *