خبرنامہ نمبر5002/2026
کوئٹہ، 21 جون :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے عوام سے جو وعدے کیے تھے ان کی تکمیل کرکے ثابت کیا ہے کہ اگر ارادے مضبوط ہوں تو کوئی ہدف ناممکن نہیں رہتا۔ بلوچستان ترقی، اصلاحات، میرٹ، گڈ گورننس اور امن و استحکام کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے اور اب اس ترقی کے سفر کو کوئی نہیں روک سکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو بلوچستان اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ کی منظوری کے بعد اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر کا آغاز اس شعر سے کیا:
“جب آنکھوں میں ارمان لیا، منزل کو اپنا مان لیا، پھر مشکل اور آسان ہے کیا، جب ٹھان لیا بس ٹھان لیا”
انہوں نے کہا کہ یہی شعر ان کی کابینہ اور عوامی حکومت کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے عوام سے مختلف وعدے اور دعوے کیے تو ناقدین اور مخالفین نے طنز کے نشتر برسائے ، تاہم ان کی حکومت نے ثابت کیا کہ جو وعدہ کیا جاتا ہے اسے پورا بھی کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اگر ٹھان لیا ہے تو ٹھان لیا ہے” ہماری حکومت کا عملی شعار ہے وزیر اعلیٰ نے رواں مالی سال کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایوان سے وعدہ کیا تھا کہ بلوچستان کا کوئی بھی اسکول بند نہیں رہے گا۔ آج صوبے کے 15 ہزار 370 اسکولوں میں سے 15 ہزار فعال ہیں جبکہ 370 اسکول صرف اس وجہ سے بند ہیں کیونکہ وہ غلط مقامات پر تعمیر کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 14 ہزار اساتذہ کی شفاف بھرتی، 3 ہزار 200 سے زائد اسکولوں کی بحالی اور 7 لاکھ 20 ہزار بچوں کا داخلہ کسی خواب کی تعبیر نہیں بلکہ زمینی حقیقت ہے انہوں نے بتایا کہ آؤٹ آف اسکول بچوں کی تعداد میں 14 فیصد کمی آئی ہے، ڈراپ آؤٹ ریٹ میں 5 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ تعلیم مکمل کیے بغیر اسکول چھوڑنے والے بچوں کی شرح میں 11 فیصد کمی آئی ہے۔ یوتھ لٹریسی ریٹ 49 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصد تک پہنچ چکا ہے صحت کے شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 2 ہزار 800 سے زائد طبی عملے کی بھرتی کی گئی، 4 ہزار 519 ڈاکٹروں کو ترقی دی گئی، 164 بنیادی مراکز صحت فعال بنائے گئے اور او پی ڈی میں 10 لاکھ مریضوں کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں جدید ٹراما سینٹر کام شروع کرچکا ہے، کینسر انسٹیٹیوٹ مکمل ہوچکا ہے، سیٹلائٹ ٹیلی میڈیسن سروس کا آغاز ہوچکا ہے، تمام فارمیسیز کو ڈیجیٹلائز کردیا گیا ہے جبکہ بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز اور بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف نیورو سرجری اینڈ نیورولوجی افتتاح کے لیے تیار ہیں انہوں نے کہا کہ ادویات کی دستیابی کی شرح 46 فیصد سے بڑھ کر 89 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ زچہ و بچہ مراکز میں ضروری سامان کی دستیابی 11 فیصد سے بڑھ کر 86 فیصد ہوگئی ہے، ایمرجنسی ادویات کی دستیابی 94 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ زچہ و بچہ کی بنیادی سہولیات 4 فیصد سے بڑھ کر 83 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نومبر 2024 کے بعد صوبے میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا جبکہ ویکسی نیشن کی شرح 38 فیصد سے بڑھ کر 56 فیصد تک پہنچ چکی ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب ان کی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو کوئٹہ کے سرکاری دفاتر میں حاضری کی شرح 45 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 82 فیصد ہوگئی ہے جبکہ صحت مراکز میں حاضری 80 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے۔ فائلوں پر فیصلوں کا دورانیہ 92 دن سے کم ہوکر اوسطاً 13 دن رہ گیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز کے استعمال کی شرح 100 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ ماضی میں یہ شرح 65 فیصد سے زیادہ نہیں تھی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے ڈیجیٹلائزیشن اور میرٹ کو اپنی پالیسی کا بنیادی ستون بنایا ہے کیونکہ میرٹوکریسی ہی ترقی کا واحد راستہ ہے اور اسی کے ذریعے نوجوانوں کا اعتماد بحال کیا جاسکتا ہے انہوں نے آئندہ چند ماہ میں مکمل ہونے والے بڑے منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ پیپلز ٹرین منصوبہ جلد سریاب سے کچلاک تک میٹرو طرز کی ٹرین سروس کی شکل اختیار کرے گا۔ پورے صوبے میں فائبر آپٹک نیٹ ورک پھیلایا جائے گا، تمام اضلاع میں منڈیاں اور اڈے فعال ہوں گے، تین ہزار اسکولوں میں دو اضافی کمروں کی تعمیر ہوگی، پانچ سو سے زائد بنیادی مراکز صحت میں ٹیلی میڈیسن سروس شروع ہوگی جس سے 85 فیصد خواتین مستفید ہوں گی، ایک ہزار سے زائد مڈل اور ہائی اسکول اپ گریڈ کیے جائیں گے، دور دراز علاقوں کے لیے سولر گرڈ منصوبے شروع کیے جائیں گے، تمام میونسپل کمیٹیوں کو صفائی کے آلات فراہم کیے جائیں گے، 400 سے زائد یونین کونسل دفاتر تعمیر کیے جائیں گے اور ہر یونین کونسل میں صاف پانی کی اسکیم کا آغاز کیا جائے گا انہوں نے اعلان کیا کہ بلوچستان کی بیٹیوں کے لیے یکم جولائی سے خصوصی اسکالرشپ پروگرام شروع کیا جارہا ہے اور کہا کہ بلوچستان کی بیٹیاں انہیں بلوچستان کے بیٹوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست نے کبھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے لیکن دہشت گرد تنظیموں سے مذاکرات ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دنیا میں جہاں بھی کامیاب مذاکرات ہوئے وہ سیاسی جماعتوں اور آئین و قانون کو تسلیم کرنے والی قوتوں کے ساتھ ہوئے۔ اگر کوئی سیاسی قوت آئین پاکستان اور قانون کو تسلیم کرتی ہے تو حکومت اس سے مذاکرات کے لیے تیار ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پہلی مرتبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ سمجھ کر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایک روشن مستقبل کی جانب پرواز کرچکا ہے اور دشمن قوتیں اس سے پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض بیرونی عناصر بھی دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کررہے ہیں اور اگر ان کی سرپرستی ختم ہوجائے تو یہ تنظیمیں بہت جلد ماضی کا حصہ بن جائیں گی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی تبدیل کردی ہے۔ ایک طرف دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں جبکہ دوسری طرف عوامی خدمت اور گڈ گورننس کے ذریعے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد مضبوط کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر تشدد اور بدامنی کے ہمیشہ مخالف رہے ہیں اور کبھی یہ تسلیم نہیں کرسکتے کہ کوئی گروہ بندوق کے زور پر ریاست سے اپنی بات منوائے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بلوچستان میں مکمل امن قائم ہوگا اور وہ اپنی آخری سانس تک پاکستان دشمن عناصر کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گرد کسی پنجابی، سندھی، بلوچ یا پشتون کو نہیں بلکہ پاکستانیوں کو شہید کرتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے انہوں نے کہا کہ حکومت ہر وہ قدم اٹھا رہی ہے جو صوبے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہے۔ بلوچستان ترقی کی پرواز بھر چکا ہے، اب کوئی اس پرواز کو نہیں روک سکتا کیونکہ ہم حق، قانون اور پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اپنی تقریر شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید ہمیشہ زندہ رہتا ہے شہداء کے لواحقین کو تنا نہیں چھوڑیں گے، وزیر اعلیٰ بلوچستان نے سی ٹی ڈی ، اے ٹی ایف ، ایس او ڈبلیو کی تنخواہوں میں دس فیصد ،شہداء معاوضے میں سو فیصد جبکہ سویلین شہداء کے معاوضے میں بھی دس لاکھ روپے اضافے کا اعلان کیا ، وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر کے اختتام پر “بلوچستان کا عہد” کے عنوان سے نظم پیش کی جس میں دہشت گردی کے خاتمے، شہداء کے خون سے وفاداری، امن کے قیام، تعلیم کے فروغ اور پاکستان کی سربلندی کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ انہوں نے اس عہد کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی اور تاریخ گواہی دے گی کہ قوم نے اندھیروں، دہشت اور نفرت کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا اور آخرکار فتح امن اور پاکستان کی ہوئی۔
خبرنامہ نمبر5003/2026
کوئٹہ، 21 جون : وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اتوار کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری کے بعد اپنے خطاب کا آغاز امید، عزم اور ترقی کے پیغام سے کرتے ہوئے ایک پُراثر شعر سے کیا جسے ایوان میں موجود اراکین اسمبلی نے بھرپور انداز میں سراہا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا:
“جب آنکھوں میں ارمان لیا
منزل کو اپنا مان لیا
پھر مشکل اور آسان ہے کیا؟
جب ٹھان لیا بس ٹھان لیا”
ان اشعار کے ذریعے وزیر اعلیٰ نے اپنی حکومت کے عزم، عوامی خدمت کے جذبے اور بلوچستان کی ترقی کے لیے اختیار کیے گئے راستے کا اظہار کیا۔ ان کے ابتدائی کلمات پر حکومتی و اپوزیشن اراکین سمیت پورے ایوان نے ڈیسک بجا کر بھرپور تحسین پیش کی وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں صوبے کی ترقی، تعلیم، صحت، گڈ گورننس، میرٹ اور امن و امان کے حوالے سے حکومتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کو ترقی، خوشحالی اور پائیدار امن کی راہ پر گامزن رکھنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے میر سرفراز بگٹی نے اپنی تقریر کا اختتام "بلوچستان کا عہد" کے عنوان سے ایک ولولہ انگیز اس آزاد نظم کے ذریعے کیا،
سنو اے خاکِ بلوچستان! گواہ رہنا آج کی رات
ہم اپنے خون سے لکھتے ہیں امن کی ایک نئی بات
جنہوں نے ماؤں سے بیٹے چھینے، جنہوں نے گھر ویران کیے
جنہوں نے نفرت کے موسم بوئے، جنہوں نے خواب پریشان کیے
ہم ان کو یہ پیغام دیتے ہیں، سن لیں وہ پہاڑوں کے پار
نہ یہ دھرتی جھکنے والی ہے، نہ یہ پرچم ہوگا شرمسار
تم خوف کے سوداگر ٹھہرے، ہم امید کے رکھوالے ہیں
تم نفرت کے اندھیرے ہو، ہم امن کے اجالے ہیں
تم جتنی آگ لگاؤ گے، ہم اتنے گلزار اگائیں گے
تم جتنے اسکول جلاؤ گے، ہم اتنے تعلیم گھر بنائیں گے
تم گولی سے جو جیتو گے، وہ جیت ہمیشہ ہارے گی
کیونکہ قوموں کی تقدیر آخر قلم کی نوک سنوارے گی
یہ دھرتی نوابوں کی بھی ہے، مزدوروں اور کسانوں کی بھی
یہ بلوچوں کی، پشتونوں کی، پنجابی کی ہر ماں کے ارمانوں کی بھی
ہم عہد کرتے ہیں اس ایوان میں،
ہم شہیدوں کے مقدس خون کی قسم کھاتے ہیں
ہم بیواؤں کی آہوں اور سسکیوں کی قسم کھاتے ہیں
ہم ماؤں کے مقدس آنسوؤں کی قسم کھاتے ہیں
ہم بوڑھے باپ کی بے بسی اور خاموش دکھوں کی قسم کھاتے ہیں
دہشت گردوں کے شکست تک سکون نہ کرنے کی قسم کھاتے ہیں
اور جب تاریخ لکھی جائے گی آنے والی نسلوں کے لیے
تو لکھا جائے گا:
کہ ایک قوم ڈٹی رہی تھی اندھیروں کے مقابلے میں
کہ ایک قوم کھڑی رہی تھی دہشت کے زلزلوں کے مقابلے میں
اور آخرکار جیت امن کی ہوئی تھی
اور آخر کار جیت پاکستان کی ہوئی تھی۔
خبرنامہ نمبر5004/2026
کوئٹہ، 21 جون:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اتوار کو بلوچستان اسمبلی میں نئے مالی سال کے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے اپنی تقریر کا آغاز شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو جمہوریت، برداشت اور عوامی خدمت کی ایک عظیم علامت تھیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے وقف کر دی۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی جدوجہد اور قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کا نام پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی خدمات نہ صرف پاکستان بلکہ خطے میں جمہوریت کے استحکام کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سیاسی بصیرت، جرات مندانہ قیادت اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ان کی کاوشیں آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔
خبرنامہ نمبر5005/2026
کوئٹہ، 21 جون : وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اتوار کو بلوچستان اسمبلی میں نئے مالی سال کے بجٹ پر اظہار خیال کے دوران چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی کارکردگی کو خراج تحسین پیش کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے صوبے میں گڈ گورننس، انتظامی اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل میں مؤثر اور فعال کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامی ٹیم کی مربوط حکمت عملی کے باعث حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد میں بہتری آئی ہے اور عوامی مسائل کے حل کے عمل میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شکیل قادر خان کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں اور انتظامی تجربہ بلوچستان میں اصلاحاتی ایجنڈے کے نفاذ میں معاون ثابت ہوا ہے، جس کے نتیجے میں سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری اور شفافیت کے فروغ میں مدد ملی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے چیف سیکرٹری کی خدمات کے اعتراف پر ایوان میں موجود اراکین نے بھی ان کی کارکردگی کو سراہا اور خراج تحسین پیش کیا۔
خبرنامہ نمبر5006/2026
کوئٹہ، 21 جون:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اتوار کو بلوچستان اسمبلی میں نئے مالی سال کے بجٹ کی منظوری کے بعد اپنے خطاب میں صدر مملکت آصف علی زرداری، چئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف اور وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ اتحادی سیاسی قیادت کی جانب سے مسلسل رہنمائی اور تعاون کے مثبت اثرات صوبے کی ترقیاتی حکمت عملی اور عوامی فلاحی منصوبوں پر مرتب ہوئے ہیں وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور تعاون کے ذریعے پاکستان بالخصوص بلوچستان میں ترقی، استحکام اور خوشحالی کے سفر کو مزید تیز کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی قیادت کی مشترکہ کاوشیں ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالنے اور عوامی مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
خبرنامہ نمبر5007/2026
کوئٹہ، 21 جون: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے فادرز ڈے کے موقع پر اپنے والد محترم غلام قادر بگٹی سمیت دنیا بھر کے تمام والدین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ باپ محبت، قربانی، رہنمائی اور استقامت کا وہ عظیم استعارہ ہے جو اپنی اولاد کے روشن اور محفوظ مستقبل کے لیے اپنی زندگی کی ہر آسائش قربان کر دیتا ہے ۔فادرز ڈے کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ایک مضبوط اور خوشحال معاشرے کی بنیاد مضبوط خاندان پر استوار ہوتی ہے اور خاندان کی تعمیر و تربیت میں ایک باکردار باپ کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی بے لوث محبت، انتھک محنت، ایثار اور ان گنت قربانیاں ہماری زندگی کا وہ قیمتی سرمایہ ہیں جن کی بدولت افراد اور معاشرے ترقی کی منازل طے کرتے ہیں میر سرفراز بگٹی نے اپنے والد محترم غلام قادر بگٹی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ والد صاحب کی دعائیں، رہنمائی اور تربیت ان کی زندگی میں ہمیشہ طاقت، حوصلے اور کامیابی کا سرچشمہ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی شفقت اور رہنمائی انسان کی شخصیت سازی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور ان کی دعائیں زندگی کے ہر مرحلے پر کامیابی کا باعث بنتی ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ فادرز ڈے ہمیں اپنے والدین کی عظیم قربانیوں، محبتوں اور خدمات کو یاد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ والدین کی تعلیمات، اقدار اور رہنمائی کو مشعلِ راہ بناتے ہوئے عوام کی خدمت اور بلوچستان کی ترقی کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے رہیں گے۔انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام والدین کو صحت، خوشی اور درازی عمر عطا فرمائے اور جو والدین اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے اور انہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ والدین کا احترام، ان کی خدمت اور ان کی دعاؤں کا حصول ہماری دینی، اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے اور معاشرے کی نئی نسل کو بھی ان اقدار کو اپنانا چاہیے۔
خبرنامہ نمبر5008/2026
کوئٹہ21جون: بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے صوبے میں خدمات فراہم کرنے والے وئر ہاؤسز و ڈپو ، کولڈ اسٹوریجز، ٹریننگ سروسز فراہم کنندگان اور انشورنس ایجنٹس کو ہدایت کی ہے کہ اگر وہ تاحال بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہیں تو فوری طور پر اپنی رجسٹریشن مکمل کریں اور بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2015 کے تحت اپنی قانونی ذمہ داریوں کی ادائیگی یقینی بنائیں۔بی آر اے کے مطابق مذکورہ خدمات پرسیلز ٹیکس کی شرح 5 فیصدمقرر ہے۔ تمام متعلقہ سروس فراہم کنندگان کیلئے لازم ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنے ٹیکس گوشوارے (Returns) جمع کرائیں، واجب الادا ٹیکس بروقت ادا کریں اور ٹیکس قوانین کی مکمل پاسداری کریں۔اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ ان شعبوں کیلئے ان پٹ ٹیکس کریڈٹ؍ایڈجسٹمنٹ قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ لہٰذا تمام سروس فراہم کنندگان اپنی ٹیکس ذمہ داریوں کا تعین قانون کے مطابق کریں اور مقررہ شرح کے مطابق ٹیکس ادا کریں۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے حکام نے کہا ہے کہ ٹیکس نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے اور رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ اور ٹیکس ادائیگی سمیت تمام مراحل آن لائن دستیاب ہیں، جس سے ٹیکس دہندگان کو سہولت اور شفافیت میسر آ رہی ہے۔بی آر اے نے تمام وئر ہاؤس مالکان، کولڈ اسٹوریج آپریٹرز، ٹریننگ انسٹیٹیوٹس اور انشورنس ایجنٹس سے اپیل کی ہے کہ وہ بروقت رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ اور ٹیکس ادائیگی کو یقینی بنائیں تاکہ جرمانوں، قانونی کارروائی، بینک اکاؤنٹس کی اٹیچمنٹ اور دیگر کاروباری پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔اتھارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، شفافیت کو فروغ دینے اور بلوچستان کی ترقی کیلئے محصولات میں اضافے کے مقصد سے آگاہی اور تعمیل کی مہمات جاری رکھی جائیں گی۔
خبرنامہ نمبر5009/2026
نصیرآباد 21 جون ۔ ڈپٹی کمشنر اُستامحمد ، محمد رمضان پلال کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر اُستامحمد رمضان اشتیاق نے حالیہ دنوں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد شہر کے مختلف پٹرول پمپس کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نئے نرخوں پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانا اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا تھا تاکہ کسی بھی قسم کی ناجائز منافع خوری یا استحصال کا سدباب کیا جا سکے دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے پٹرول پمپس پر پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی معیار (کوالٹی) پیمائش کے نظام (میٹرز) اور نمایاں طور پر آویزاں نرخ ناموں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ تمام پٹرول پمپس پر سرکاری نرخ نامے واضح اور نمایاں جگہ پر آویزاں ہوں اور عوام سے مقررہ قیمت سے زائد وصولی نہ کی جائے مزید برآں انہوں نے پیمائش کے آلات کی درستگی بھی چیک کی تاکہ صارفین کو مکمل مقدار فراہم کی جا رہی ہو۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے پٹرول پمپ مالکان اور عملے کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ حکومتی احکامات کی مکمل پاسداری کریں اور عوام کو مقررہ نرخوں پر معیاری پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی یقینی بنائیں انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کم پیمائی یا زائد نرخ وصول کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔اسسٹنٹ کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے متحرک ہے اور ایسے معائنوں کا سلسلہ باقاعدگی سے جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے اور مارکیٹ میں شفافیت برقرار رہے۔
خبرنامہ نمبر 5010/2026
زیارت 21جون:کمشنر سبی ڈویژن اسداللہ فیض نے بی ایس ڈی آئی فیز-2 کے تحت ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال زیارت میں زیرِ تعمیر ڈاکٹرز رومز کے منصوبے کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی، ایکسین بلڈنگ عرفان خان اور ایم ایس ڈاکٹر عرفان الدین بھی ان کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران کمشنر سبی ڈویژن نے تعمیراتی کام کی معیار کا جائزہ لیا۔ ایکسین نے منصوبے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے اور 70 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے اور اسے مقررہ مدت کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کی تکمیل میں اعلیٰ معیار، شفافیت اور پائیداری کو یقینی بنایا جائے تاکہ ڈاکٹرز اور طبی عملے کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے سے متعلق منصوبے عوامی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لہٰذا ان کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
خبرنامہ نمبر 5011/2026
کوئٹہ، 21 جون: بلوچستان اسمبلی کے اتوار کو ہونے والے بجٹ اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے قریبی کارکن رستم بگٹی کے والد کے قتل پر ایوان میں تعزیت و فاتحہ خوانی کی گئی اسمبلی کی کارروائی شروع ہوئی تو وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ایوان کو آگاہ کیا کہ رستم بگٹی کے والد کو آج صبح سوئی میں شہید کر دیا گیا جس پر بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا ایوان میں موجود اراکین نے شہید کے لیے فاتحہ خوانی کی اور لواحقین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ رستم بگٹی اور ان کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں اراکین صوبائی اسمبلی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مرحوم کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی بعد ازاں اجلاس کا باقاعدہ بجٹ کارروائی کے ساتھ سلسلہ دوبارہ شروع کیا گیا۔





