خبرنامہ نمبر6283/2026
اسلام آباد، 20 جولائی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر محترمہ جین میریٹ نے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، بلوچستان میں ترقیاتی تعاون اور دوطرفہ روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات کے دوران تعلیم، صحت، گورننس، ادارہ جاتی استعداد کار اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے برطانوی ہائی کمشنر کو صوبے میں جاری انتظامی اصلاحات، عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں اور حکومت کی ترقیاتی ترجیحات سے بھی آگاہ کیا وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں امن کا قیام، پائیدار ترقی، موثر طرزِ حکمرانی اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت شفافیت، بہتر گورننس اور ترقیاتی عمل کو مزید موثر بنانے کے لیے جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان معدنی وسائل، جغرافیائی اہمیت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے مالا مال صوبہ ہے، جہاں بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے ترقی اور خوشحالی کے نئے امکانات پیدا کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اس امید کا اظہار کیا کہ برطانیہ اور بلوچستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون مزید مضبوط ہوگا، جس سے عوامی فلاح اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی برطانوی ہائی کمشنر محترمہ جین میریٹ نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی اقدامات، اصلاحاتی پروگراموں اور عوامی خدمت کے لیے حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6284/2026
کوئٹہ، 20 جولائی۔ صوبائی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان مینا مجید بلوچ نے تھائی لینڈ میں منعقدہ ورلڈ مین فزیک چیمپئن شپ میں مسٹر ایشیائ کا اعزاز اپنے نام کرکے بلوچستان اور پاکستان کا نام روشن کرنے والے ممتاز باڈی بلڈر عبدالرزاق خلجی کو شاندار کامیابی پر خراجِ تحسین پیش کیا اس موقع پر صوبائی مشیر نے عبدالرزاق خلجی کو ان کی بین الاقوامی کامیابی کے اعتراف میں میڈل پہنایا اور سرٹیفکیٹ آف اپریسی ایشن بھی پیش کیا اس موقع پر سیکرٹری اسپورٹس درا بلوچ اور ڈائریکٹر جنرل یاسر خان بازئی بھی موجود تھے مینا مجید بلوچ نے کہا کہ عبدالرزاق خلجی نے اپنی محنت، لگن اور غیر معمولی صلاحیتوں کے ذریعے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے اعزاز حاصل کیا ہے۔ ایسے باصلاحیت کھلاڑی نوجوان نسل کے لیے قابلِ تقلید مثال ہیں اور ان کی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بلوچستان کا ٹیلنٹ عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وڑن کے مطابق صوبائی حکومت کھیلوں کے فروغ، نوجوان ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کی ہر ممکن سرپرستی کے لیے پرعزم ہے اس موقع پر عبدالرزاق خلجی نے صوبائی حکومت، محکمہ کھیل اور صوبائی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان مینا مجید بلوچ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی سرپرستی اور حوصلہ افزائی نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مزید محنت اور کامیابی کا باعث بنتی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6285/2026
20 جولائی نصیرآباد۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے آج ضلع کے مختلف زیر تعمیر اور مکمل ہونے والے سڑکوں کے منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا ان منصوبوں میں بلیک ٹاپ روڈ این اے-65 تا گوٹھ اصغر خان عمرانی، بلیک ٹاپ روڈ شاہ ولی، بلیک ٹاپ روڈ گوٹھ نادر علی عمرانی، بلیک واٹر روڈ کرم خان ساسولی، بلیک ٹاپ روڈ گوٹھ دھنی بخش عمرانی، بلیک ٹاپ روڈ محمد پرکانی اور بلیک ٹاپ روڈ شاہمواہ شامل ہیں ایس ڈی او عابد علی پہنور، ایس ڈی او احسان علی کھوسہ، ایس ڈی او ندیم سولنگی، ایس ڈی او ظفر علی عمرانی،بھی موجود تھے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے جاری اور مکمل ہونے والے ترقیاتی کاموں کے معیار، رفتار اور شفافیت کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ تمام منصوبے مقررہ معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بناتے ہوئے مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آسکیں ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو آمدورفت میں آسانی فراہم کرنے دیہی و شہری علاقوں کو آپس میں منسلک کرنے اور زرعی پیداوار کو بروقت منڈیوں تک پہنچانے کے لیے معیاری سڑکوں کی تعمیر کو اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے انہوں نے کہا کہ سڑکوں کا بہتر انفراسٹرکچر نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیتا ہے بلکہ عوام کے معیارِ زندگی کو بھی بہتر بناتا ہےانہوں نے مزید ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور پائیداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا ناقص کام برداشت نہیں کیا جائے گا
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر6286/2026
نصیرآباد20جولائی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور نصیرآباد جرگہ کے ثمرات سامنے آنے لگے ہیں صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق عمرانی کی کاوشوں سے ضلع نصیرآباد میں وزیراعظم کے ہیپاٹائٹس سی کی تشخیص و علاج پروگرام کے آغاز کے سلسلے میں آگاہی ریلی نکالی گئی ریلی کی قیادت اسسٹنٹ کمشنر چھتر بشیر احمد اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز جمالی نے کی۔ ریلی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس سے شروع ہوکر سول ہسپتال تک پہنچی، جہاں ہیپاٹائٹس سی کی مفت اسکریننگ بھی کی گئی شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے ریلی میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر حضور بخش مینگل، سیاسی و مذہبی رہنما حاجی رحمت اللہ بنگلزئی، ڈی پی سی شبیر احمد مری، حیدر علی، ایم این سی ایچ کوآرڈینیٹر سعید احمد، ثناء اللہ چکھڑا سمیت محکمہ صحت کے افسران و اہلکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز جمالی نے بتایا کہ ضلع بھر میں 12 روزہ مہم کے دوران ایک لاکھ 90 ہزار افراد کی ہیپاٹائٹس سی اسکریننگ، تشخیص، مفت علاج اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی اس مقصد کے لیے 52 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو گلی محلوں اور دیہی علاقوں میں گھر گھر جا کر عوام کی اسکریننگ کریں گی انہوں نے مزید کہا کہ جن افراد کی ابتدائی رپورٹ مثبت آئے گی، ان کے پی سی آر ٹیسٹ اور مکمل علاج بھی حکومتی احکامات کے مطابق مفت فراہم کیے جائیں گے انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس قومی صحت پروگرام سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اسسٹنٹ کمشنر نصیرآباد بشیر احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے موثر حکمت عملی کے تحت اقدامات کر رہی ہے اور محکمہ صحت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام کو بہتر سے بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6287/2026
خضدار 20جولائی ۔: اہل خضدار نے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کا دلی شکریہ ادا کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی چیف سیکریٹری بلوچستان اور کمشنر قلات ڈویڑن ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ کی خصوصی دلچسپی اور ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی مسلسل کوششوں سے خضدار میں پہلی بار 1 ارب روپے کی خطیر لاگت سے جدید آپریشن تھیٹر کمپلیکس تعمیر کیا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ضلع خضدار کی طبی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرے گا اور اس کا براہ راست فائدہ پورے قلات ڈویڑن کے عوام کو ہوگا۔ سارا کریڈٹ ضلعی انتظامیہ کو جاتا ہے جنہوں نے اس منصوبے کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے دن رات محنت کی۔ نئے کمپلیکس کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ مریضوں کو ہر قسم کی سرجیکل سہولت ایک ہی چھت تلے میسر ہو۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے خضدار اور پورے جھالاوان کے عوام کو بڑے آپریشنز کیلئے کوئٹہ اور کراچی جانا پڑتا تھا۔ اب اس 1 ارب روپے کے منصوبے کی تکمیل کے بعد ضلع خضدار خود کفیل ہو جائے گا اور یہاں کے غریب مریضوں کو مفت اور معیاری سرجری کی سہولت اپنے شہر میں ملے گی۔ یہ واقعی ایک تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے جس سے ماوں کے پیچیدہ زچگی کے کیسز، بچوں کے آپریشن اور حادثات کے مریضوں کو فوری طبی امداد مل سکے گی۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکریٹری کی خصوصی دلچسپی سے اس منصوبے کا جلد آغاز کر دیا جائے گا اور اسے مقررہ مدت میں مکمل کر کے عوام کے حوالے کیا جائے گا۔ اہل خضدار نے اس تاریخی اقدام پر حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ منصوبہ جلد پایہ تکمیل تک پہنچے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6288/2026
گوادر20 جولائی۔ گوادر آرٹ اکیڈمی کی جانب سے ماں جی کیئر سینٹر گوادر میں زیرِ علاج منشیات سے متاثرہ افراد کی بحالی، حوصلہ افزائی اور منشیات کے خلاف شعور اجاگر کرنے کے لیے ایک خصوصی اصلاحی تھیٹر شو کا انعقاد کیا گیا تقریب کے مہمانانِ خصوصی میں ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر گوادر محمد حسن اسلام، یونیسف گوادر کے ڈسٹرکٹ منیجر عادل نودزئی، آر سی ڈی سی گوادر کے سابق صدر سر ناصر رحیم سہرابی، گوادر سول سوسائٹی کے صدر محمد جان اور سینئر فلم میکر خیر جان خیرول شامل تھے۔ اس موقع پر مختلف سرکاری و نجی اداروں کے نمائندوں، سماجی تنظیموں اور معزز شہریوں نے بھی شرکت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ منشیات کے خلاف آگاہی، بروقت علاج، بحالی اور معاشرتی تعاون ہی اس ناسور کے موثر تدارک کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو منشیات سے محفوظ رکھنے اور متاثرہ افراد کو باعزت زندگی کی طرف واپس لانے کے لیے ایسے اصلاحی اور آگاہی پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں اس موقع پر گوادر آرٹ اکیڈمی کے فنکاروں نے منشیات کے مضر اثرات، بحالی کی اہمیت اور مثبت طرزِ زندگی پر مبنی سبق آموز ڈرامے پیش کیے، جبکہ ماں جی کیئر سینٹر میں زیرِ علاج مریضوں نے بھی اپنی شاندار پرفارمنس سے حاضرین کو متاثر کیا، جسے خوب سراہا گیا تھیٹر شو کے ذریعے یہ موثر پیغام دیا گیا کہ مضبوط ارادہ، مسلسل علاج، خاندانی تعاون اور معاشرتی قبولیت کے ذریعے منشیات کی لعنت پر قابو پا کر ایک صحت مند، باوقار اور کامیاب زندگی کا دوبارہ آغاز ممکن ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6289/2026
گوادر20 جولائی۔ ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ظہور احمد بلوچ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں صحت عامہ کی صورتحال، طبی سہولیات کی فراہمی، ادارہ جاتی کارکردگی اور درپیش مسائل کے حل سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ضلعی آفیسر صحت ڈاکٹر یاسر، میر عبدالغفور ٹیچنگ ہسپتال کے نمائندہ ڈاکٹر جنبد بلوچ، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر فاروق بلوچ، سی ای او جی ڈی اے ہسپتال ڈاکٹر ناصر شیخ، ایکسین واپڈا، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرشد دشتی، ڈپٹی سی ای او عمانی گرانٹ ہسپتال ڈاکٹر حمید بلوچ، ڈرگ انسپکٹر سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندوں اور اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی اجلاس میں ضلع بھر کے صحت کے شعبے کو درپیش چیلنجز، ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت میں دستیاب سہولیات، طبی آلات، ادویات کی فراہمی، انسانی وسائل اور عوام کو معیاری طبی خدمات کی فراہمی کے حوالے سے مختلف ایجنڈا نکات زیرِ غور آئے اجلاس میں صحت کے نظام کو مزید موثر اور فعال بنانے کے لیے مختلف تجاویز بھی زیر غور آئے اجلاس میں بتایا گیا ھےکہ تمام طبی مراکز میں ڈاکٹروں اور عملے کی حاضری کو یقینی بنایا جائے اور غیر حاضر افسران و ملازمین کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اجلاس میں غیر حاضر طبی عملے کے خلاف ڈسپلنری ایکشن اور تنخواہوں میں کٹوتی سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں حالیہ انسدادِ ڈینگی مہم کا بھی جائزہ لیا گیا اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی مشترکہ کاوشوں سے ضلع بھر میں ڈینگی وائرس کے تدارک کے لیے موثر اسپرے مہم چلائی گئی، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور موجودہ صورتحال تسلی بخش ہے۔ اس موقع پر انسدادِ ڈینگی سرگرمیوں کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے اور عوامی آگاہی مہم کو مزید موثر بنانے پر بھی زور دیا گیا اجلاس کہاں گیا ہے کہ معیاری طبی خدمات کی فراہمی کو مزید موثر بنایا جائے گا تاکہ ضلع میں تمام شہریوں کو بہتر صحت کی سہولیات میسر آسکیں اجلاس میں ڈرگ انسپکٹر نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع بھر کے تمام میڈیکل اسٹورز لائسنس یافتہ ہیں۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ میڈیکل اسٹورز کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، اور جو بھی میڈیکل اسٹور بغیر لائسنس کے پایا جائے ، اس کے خلاف کارروائی کرکے فوری طور پر سیل کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6290/2026
کوئٹہ ، 20 جولائی جامعہ بلوچستان کا 99واں سنڈیکیٹ اجلاس سنڈیکیٹ ہال میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں جامعہ سے متعلق مختلف تعلیمی، مالی اور انتظامی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر غلام رزاق شاہوانی، رجسٹرار گل محمدکاکڑ، ٹریڑرر خوشحال خان، فنانس ڈیپارٹمنٹ سے ڈاکٹر منصور بلوچ، ایڈیشنل سیکریٹری کالجز، ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ حکومت بلوچستان جانزیب خان مندوخیل، مختلف فیکلٹیز کے ڈینز، ڈائریکٹرز، سنڈیکیٹ کے اراکین اور جامعہ کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں اکیڈمک کونسل، فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی، سلیکشن بورڈز , ای آفس سسٹم سے متعلق امور اور مختلف مفاہمتی یادداشتوں سے متعلق اجلاسوں کے منٹس کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ مالیاتی امور، فیکلٹی سے متعلق معاملات، تدریسی پروگرامز، پالیسیوں پر نظرثانی اور دیگر ادارہ جاتی اصلاحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جامعہ بلوچستان تعلیمی معیار کی بہتری، شفاف مالیاتی نظام، معیاری تحقیق اور موثر گورننس کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے سنڈیکیٹ کے اراکین کے فعال کردار کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ جامعہ کو تدریس، تحقیق اور جدت کے میدان میں مزید ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔سنڈیکیٹ کے اراکین نے جامعہ کی ترقی اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے وائس چانسلر کی قیادت اور اصلاحاتی اقدامات کو سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6291/2026
دکی، 20 جولائی ۔ ضلع دکی میں تعلیمی نظام کو مزید موثر اور فعال بنانے کے سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ (DEG) کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سید امیر شاہ بخاری، محکمہ تعلیم کے متعلقہ افسران، مانیٹرنگ اسٹاف اور دیگر ذمہ دار حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے آغاز میں گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر اساتذہ کی حاضری، فیلڈ وزٹس کی رپورٹس، اسکولوں کی کارکردگی، ضلع کے تعلیمی منصوبے، جاری ترقیاتی اقدامات اور تعلیمی اہداف پر پیش رفت سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں ضلع بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیوں کے فروغ، طلبہ کی حاضری میں اضافہ، بنیادی سہولیات کی فراہمی، اساتذہ کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں، امتحانی نتائج میں بہتری اور مانیٹرنگ کے نظام کو مزید موثر بنانے کے حوالے سے متعدد تجاویز اور سفارشات پیش کی گئیں۔ شرکائ نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر محہمد اکرم حریفال نے متعلقہ افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ضلع بھر کے تمام تعلیمی اداروں کی باقاعدہ نگرانی کو یقینی بنایا جائے، اساتذہ اور دیگر عملے کی حاضری پر سخت نظر رکھی جائے، غیر حاضر اور غفلت کے مرتکب ملازمین کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے، جبکہ بند یا غیر فعال اسکولوں کو فعال بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ حکومت بلوچستان کی تعلیمی اصلاحات، اسکول انرولمنٹ مہم، بچوں کے اسکولوں میں داخلے، بچیوں کی تعلیم کے فروغ اور معیاری تدریس کے حوالے سے جاری پروگراموں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ ضلع دکی کے ہر بچے کو بہتر، محفوظ اور معیاری تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکےاجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مختلف تعلیمی اداروں کے اچانک معائنے (Surprise Visits) کا سلسلہ مزید تیز کیا جائے گا، ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اداروں کی خصوصی مانیٹرنگ کی جائے گی، جبکہ بہترین کارکردگی دکھانے والے اساتذہ اور اسکولوں کی حوصلہ افزائی کے لیے مناسب اقدامات بھی تجویز کیے جائیں گے۔شرکائ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع دکی میں تعلیمی شعبے کی بہتری، طلبہ کے روشن مستقبل اور حکومتی تعلیمی اہداف کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور تعلیمی اصلاحات پر موثر انداز میں عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6292/2026
کوئٹہ، 20 جولائی ۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے ناقص خوراک کے خاتمے کیلئے بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے ایک جانب 300 کلوگرام خراب، بدبودار اور مضرِ صحت چکن گوشت کی مارکیٹ میں سپلائی کی کوشش ناکام بنا دی جبکہ دوسری جانب سیوریج کے پانی سے اگائی گئی مضرِ صحت سبزیوں کے خلاف جاری مرحلہ وار کریک ڈاون کے دوران متعدد مقامات پر آلودہ فصلیں تلف کر دی گئیں۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق خفیہ اطلاع پر ڈائریکٹر آپریشنز کی ہدایت کے تحت کچلاک بائی پاس پر رات گئے کامیاب کارروائی کی گئی، جہاں مسافر بس نمبر BSC-217 سے 300 کلوگرام خراب اور مضرِ صحت چکن گوشت برآمد ہوا۔ بلوچستان فوڈ اتھارٹی اور کچلاک پولیس کی مشترکہ کارروائی کے دوران بدبودار گوشت قبضے میں لے کر موقع پر تلف کر دیا گیا جبکہ ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی۔ خصوصی آپریشن رات ایک بجے تک جاری رہا اور بروقت کارروائی کے باعث غیر معیاری گوشت مارکیٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی روک لیا گیا۔علاوہ ازیں کوئٹہ کے مختلف علاقوں سریاب، کلی جیو، کشمیر آباد، ہزارہ ٹاو¿ن، قمبرانی روڈ اور شاہ جی چوک میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے سیوریج کے پانی سے اگائی گئی ہری پیاز، دھنیا، پودینہ اور جامنی مولی کی مضرِ صحت فصلیں تلف کر دیں۔ کارروائی کے دوران غیر محفوظ سبزیوں کو فوری طور پر ضبط کرکے تلف کیا گیا اور سیوریج کے پانی سے آبپاشی کے راستے بند کر دیے گئے تاکہ آلودہ سبزیوں کی مارکیٹ تک رسائی مکمل طور پر روکی جا سکے۔ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے کہا ہے کہ عوامی صحت کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خراب گوشت کی غیر قانونی ترسیل ہو یا سیوریج کے پانی سے اگائی گئی سبزیوں کی پیداوار، دونوں عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور ایسے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ڈی جی بی ایف اے نے مزید کہا کہ کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں خوراک کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کے تمام مراحل کی موثر نگرانی کی جا رہی ہے۔فیلڈ انسپیکشنز کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے تاکہ غیر محفوظ خوراک کو کسی بھی صورت عوام تک پہنچنے نہ دیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فوڈ سیفٹی ٹیمیں ہر قسم کی ناقص خوردنی مصنوعات کے خلاف مرحلہ وار کارروائیاں جاری رکھیں گی اور قانون شکن عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ مضرِ صحت خوراک، غیر قانونی فوڈ کاروبار یا خوراک کی تیاری و ترسیل سے متعلق مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع بلوچستان فوڈ اتھارٹی کو دیں تاکہ بروقت کارروائی کے ذریعے عوامی صحت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6293/2026
دکی، 20 جولائی ۔ ضلع دکی میں صحت عامہ کی خدمات کو مزید مو¿ثر، منظم اور عوام دوست بنانے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی (DHC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلع بھر کے سرکاری ہسپتالوں، بنیادی مراکز صحت اور مختلف قومی و صوبائی صحت پروگراموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال، ڈسٹرکٹ منیجر PPHI، ڈسٹرکٹ خزانہ آفیسر، عالمی ادارصحت (WHO)، ای پی آئی، ملیریا کنٹرول پروگرام، ٹی بی کنٹرول پروگرام، نیوٹریشن پروگرام، آئی ایس ڈی سمیت دیگر متعلقہ محکموں اور اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے آغاز میں گزشتہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈاکٹرز، لیڈی میڈیکل آفیسرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر ملازمین کی حاضری، فیلڈ مانیٹرنگ رپورٹس، نظم و ضبط، ادویات کی دستیابی، طبی آلات کی فعالیت، ڈی ایچ کیو ہسپتال، آر ایچ سیز، بی ایچ یوز، سی ڈی سینٹرز، ایم سی ایچ مراکز اور مختلف عمودی صحت پروگراموں کی مجموعی کارکردگی پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں زچہ و بچہ کی صحت، حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج، غذائی قلت کے خاتمے، ملیریا، ٹی بی اور دیگر متعدی بیماریوں کی روک تھام، ایمرجنسی طبی سہولیات، دیہی علاقوں میں طبی خدمات کی فراہمی اور صحت کے شعبے میں درپیش مسائل کے حل کے لیے متعدد تجاویز اور سفارشات پیش کی گئیں۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر محمد اکرم حریفال نے متعلقہ افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری، بروقت اور بلاامتیاز طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے تمام سرکاری ہسپتالوں اور مراکز صحت میں ڈاکٹرز اور دیگر عملے کی سو فیصد حاضری، ادویات کی مسلسل دستیابی، طبی آلات کی فعالیت، صفائی ستھرائی کے اعلیٰ معیار اور مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی کو ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے مزید کہا کہ صحت کے مراکز کے باقاعدہ اور اچانک معائنے جاری رکھے جائیں، غیر حاضر یا غفلت کے مرتکب ملازمین کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے، جبکہ دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات کی فراہمی اور عوامی شکایات کے بروقت ازالے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ تمام متعلقہ محکمے اور صحت پروگرام باہمی رابطے اور مربوط حکمت عملی کے تحت اپنی کارکردگی مزید بہتر بنائیں گے، جبکہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر مقررہ مدت کے اندر موثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ شرکاءنے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع دکی میں صحت کے شعبے کو مزید فعال، مور اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ شہریوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے حکومتی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6294/2026
کوئٹہ، 20 جولائی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے سندھ اور بلوچستان کے درمیان آبی امور اور نصیرآباد ڈویژن کی نہروں میں پانی کی صورتحال کے حوالے سے سکھر میں موجود بلوچستان اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کے رکن حاجی محمد خان لہڑی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا دورانِ گفتگو نصیرآباد ڈویژن میں پانی کی دستیابی، بلوچستان کے آبی حصے اور سندھ کے ساتھ جاری مشاورتی عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا حاجی محمد خان لہڑی نے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کو آگاہ کیا کہ بلوچستان اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی نے سکھر میں سندھ کے محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں بلوچستان کے تحفظات، خصوصاً صوبے کے مقررہ آبی حصے میں کمی کے مسئلے کو بھرپور انداز میں اٹھایا ہے انہوں نے بتایا کہ سندھ کے محکمہ آبپاشی کے حکام نے بلوچستان کے آبی حصے میں موجود شارٹ فال کو جلد ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا گیا ہے تاکہ نصیرآباد ڈویڑن سمیت متاثرہ علاقوں کو ان کا مقررہ پانی فراہم کیا جا سکے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر صوبائی حکومت بلوچستان کے آبی حقوق کے تحفظ اور کسانوں کو ان کا جائز حصہ دلانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بین الصوبائی تعاون اور مسلسل رابطوں کے ذریعے پانی کی فراہمی سے متعلق مسائل جلد حل ہوں گے اور بلوچستان کے حصے کے پانی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے گی انہوں نے پارلیمانی کمیٹی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام اور بالخصوص نصیرآباد ڈویژن کے کاشتکاروں کے مفادات کا ہر سطح پر موثر انداز میں دفاع کیا جا رہا ہے اور صوبے کے آئینی و قانونی آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta, July 20Dr. Rubaba Khan Buledi, Adviser to the Chief Minister of Balochistan, held a telephone conversation with Haji Muhammad Khan Lehri, a member of the Balochistan Assembly’s Parliamentary Committee currently in Sukkur, to discuss water-related issues between Sindh and Balochistan, particularly the water situation in the canals of the Nasirabad Division.During the conversation, they discussed in detail the availability of water in the Nasirabad Division, Balochistan’s allocated water share, and the ongoing consultative process with Sindh.Haji Muhammad Khan Lehri informed Dr. Rubaba Khan Buledi that during a meeting with senior officials of the Sindh Irrigation Department in Sukkur, the Parliamentary Committee strongly raised Balochistan’s concerns, particularly the reduction in the province’s allocated water share.He said that officials of the Sindh Irrigation Department assured the committee that the existing shortfall in Balochistan’s water allocation would be addressed promptly. The meeting also agreed on taking the necessary measures to ensure that the Nasirabad Division and other affected areas receive their due share of water.Dr. Rubaba Khan Buledi stated that, on the instructions of Chief Minister of Balochistan Mir Sarfraz Bugti, the provincial government is taking all possible measures to safeguard Balochistan’s water rights and ensure that farmers receive their rightful share.She expressed hope that through continued inter-provincial cooperation and sustained dialogue, issues related to water supply would be resolved soon and the uninterrupted provision of Balochistan’s allocated water share would be ensured.Appreciating the efforts of the Parliamentary Committee, Dr. Buledi said that the interests of the people of Balochistan, particularly the farmers of the Naseerabad Division, are being effectively defended at every level. Dr. Rubaba Khan Buledi reaffirmed that there would be no compromise on the province’s constitutional and legal water rights.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6295/2026
کوئٹہ 20جولائی۔صوبائی حکومت کے احکامات، صوبائی سیکرٹری ٹرانسپورٹ محمد حیات کاکڑ کی ہدایات اور سیکرٹری صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی بلوچستان وحید شریف عمرانی کی نگرانی میں پی ٹی اے کے عملے نے ایئرپورٹ روڈ پر قائم مختلف کوچ کمپنیوں کے بکنگ آفسز کا دورہ کرکے حکومتی ایس او پیز پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔معائنے کے دوران مختلف ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے ریکارڈ، بکنگ سسٹم، مسافروں کے اندراج اور دیگر انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا۔انہوں نے متعلقہ کمپنیوں کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ تمام ایس او پیز پر مکمل اور مو¿ثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔اس موقع پر حکام نے واضح کیا کہ بغیر قانونی دستاویزات کے کسی بھی شخص کو نہ ٹکٹ جاری کیا جائے اور نہ ہی سفر کی اجازت دی جائے۔ تمام مسافروں کا مکمل ریکارڈ، شناختی معلومات اور سفری تفصیلات بکنگ آفس اور متعلقہ گاڑی میں موجود ہونا لازمی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی یا ناگہانی صورتحال میں انتظامیہ کو معلومات کی فراہمی میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام بکنگ آفسز اپنے دستی (مینول) ریکارڈ کو روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ رکھیں اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ حکام کو فوری طور پر پیش کرنے کے قابل ہوں۔ حکام نے خبردار کیا کہ حکومتی ہدایات اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مسافروں کی حفاظت، سفری نظام میں شفافیت اور قانون کی مکمل پاسداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6296/2026
نصیرآباد20جولائی۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے مختلف محکموں کے افسران نے شرکت کی اجلاس کا مقصد جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات ،امن وامان کی صورتحال پر تفصیلی غور، ٹریفک نظام کی بہتری کیلئے اقدامات، ناجائز تجاوزات کا خاتمہ، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام اور سرکاری امور کی موثر نگرانی کو یقینی بنانا تھا اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر نے تمام محکموں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے محکموں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں۔ انہوں نے خاص طور پر صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، صفائی ستھرائی اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ لی۔ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دیے گئے اہداف کے حصول کے لیے تمام اداروں کے درمیان باہمی رابطہ نہایت ضروری ہے، تاکہ عوامی مسائل کو فوری اور موثر انداز میں حل کیا جا سکے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری افسران اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے فیلڈ میں متحرک رہیں اور عوامی شکایات کے ازالے کو ترجیح دیں۔اجلاس میں مختلف محکموں کی جانب سے جاری ترقیاتی اسکیموں، فنڈز کے استعمال، درپیش مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے بعض منصوبوں میں سست روی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی کارکردگی میں بہتری لائیں اور مقررہ وقت کے اندر اہداف مکمل کریںآخر میں ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع نصیرآباد میں ترقیاتی عمل کو تیز کیا جائے گا اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6297/2026
کوئٹہ 20 جولائی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرصدارت انتظامی افسران کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا،اجلاس میں ضلع بھر میں پرائس کنٹرول، افغان مہاجرین کے انخلا، شیشہ پوائنٹس کے خلاف کارروائیوں اور دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو)، اسسٹنٹ کمشنر سٹی، اسسٹنٹ کمشنر صدر، اسسٹنٹ کمشنر کچلاک اور اسسٹنٹ کمشنر سریاب نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر نے پرائس کنٹرول مہم کو مزید موثر اور تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ناجائز منافع خوروں اور گرانفروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں کا حکم دیا۔ دودھ، دہی، گوشت اور آٹے کی قیمتوں کے تعین اور ان پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے انخلا سے متعلق جاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور اس عمل کو قانون کے مطابق مزید موثر بنانے کے لیے ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔ڈپٹی کمشنر نے شہر بھر میں غیر قانونی شیشہ پوائنٹس کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مفاد اور قانون کی عملداری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر فیلڈ مانیٹرنگ کو یقینی بنائیں، اشیائے ضروریہ کی مقررہ نرخوں پر دستیابی، سرکاری احکامات پر عملدرآمد اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے موثر اقدامات کریں تاکہ عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6298/2026
نصیرآباد20جولائی ۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت آج ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی (DDC) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں ایکسین بلڈنگز، ایکسین پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای)، ایکسین روڈز، ایکسین اریگیشن، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کیاجلاس کے دوران بی ایس ڈی آئی فیز ٹو کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، درپیش مسائل، فنڈز کے استعمال اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ متعلقہ افسران نے اپنے اپنے شعبوں سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے مختلف منصوبوں کی موجودہ صورتحال، معیارِ تعمیر اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے اقدامات پر روشنی ڈالی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، اور اس سلسلے میں جاری ترقیاتی منصوبے نہایت اہمیت کے حامل ہیں انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ افسران اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دیں اور منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کریں انہوں نے مزید تاکید کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور رفتار کو برقرار رکھا جائے، اور کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف علاقے کی ترقی ممکن ہوگی بلکہ عوام کا حکومتی اقدامات پر اعتماد بھی مزید مستحکم ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6299/2026
کوئٹہ 20جولائی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) کوئٹہ، حافظ محمد طارق کی زیرِ صدارت محکمہ جنگلات کی اراضی سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں تمام ریونیو افسران، جی آئی ایس (GIS) ٹیم اور محکمہ جنگلات کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران محکمہ جنگلات کی اراضی کے ریکارڈ، حدود کے تعین، ڈیجیٹل میپنگ، تحفظ اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر حافظ محمد طارق نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ محکمہ جنگلات کی اراضی کے تحفظ، ریکارڈ کی درستگی اور بین المحکمہ رابطے کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ سرکاری اراضی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6300/2026/2026
کوئٹہ 20 جولائی۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کو درپیش پیچیدہ چیلنجز سنجیدہ اقدامات اور پائیدار حل کے متقاضی ہیں۔ پاکستان کا معاشی مستقبل بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی سے جڑا ہوا ہے۔ جسطرح امن کے بغیر ترقی پروان نہیں چڑھ سکتی اسی طرح سماجی انصاف اور عوامی اعتماد کے بغیر امن قائم نہیں رہ سکتا۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے عمل میں نوجوانوں کی شمولیت کو یقینی بنانا اشد ضروری ہے تاکہ ہر نوجوان پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں فعال شراکت دار بنے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ اور صوبائی امیر اور رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہداہت رحمان سے گورنر ہاوس کوئٹہ میں گفتگو کرنے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ روشن مستقبل کی تعمیر کو یقینی بنانے کی خاطر پہلی شرط ہمارے نوجوانوں کے اصل کردار کو پہچاننا ہے۔ ہماری کل آبادی کا سب سے بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی توانائی اور تخلیقی صلاحیتیں ہماری سب سے بڑی طاقت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ آج حالات کا تقاضا ہے کہ ہم پر قسم کے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ملکر کام کریں۔ سیاسی رہنماوں، مذہبی سکالرز اور معاشرے کے باشعور اشخاص کی ذمہ داری ہے کہ وہ اجتماعی مفادات کو اجاگر کریں، پولیٹیکل ڈائیلاگ کی حوصلہ افزائی کریں، سماجی ہم آہنگی کو مضبوط کریں اور قوم کی ترقی میں عملی تعمیری کردار ادا کریں۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہم مشترکہ کوششوں کے ذریعے ایک پرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ بلوچستان کی تعمیر کر سکتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6301/2026
گوادر:20جولائی ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن کے مطابق ضلع گوادر میں معیاری تعلیم کے فروغ، تعلیمی نظام کو مزید موثر بنانے اور طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور بلوچ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ (DEG) کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر گوادر رومیل نعیم جان ،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زاہد حسین، ڈی ایس پی پولیس چاکر بلوچ محکمہ تعلیم کے افسران، سوشل ویلفیئر، این جی اوز، ترقیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع میں تعلیم کو درپیش مسائل، ان کے پائیدار حل اور تعلیمی شعبے کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر کلسٹر بجٹ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن ایکشن پلان، داخلہ مہم، اسکول چھوڑنے والے بچوں (Dropout) کی شرح میں کمی، غیر فعال (Non-Functional) اسکولوں کی بحالی، تعلیمی اہداف اور مجموعی پیش رفت پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں سرکاری ترقیاتی پروگراموں PSDP، PSDI اور BSDI کے تحت جاری اور مکمل ہونے والے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو اسکولوں کی نئی عمارتوں، تکمیل شدہ ترقیاتی منصوبوں، BSDI فیز ون کے مکمل منصوبوں، زیر تعمیر اسکیموں اور اسکولوں کی سولرائزیشن سے متعلق پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور احمد بلوچ نے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ معیار اور ٹائم لائن کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ طلبہ کو جدید اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔اجلاس میں SST اساتذہ کی کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتیوں کے حوالے سے بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ اعلیٰ حکام سے منظوری حاصل ہونے کے بعد ضلع گوادر بلوچستان کا پہلا ضلع ہوگا جہاں ایس ایس ٹی اساتذہ کی کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتی کا عمل شروع کیا جائے گا۔ اس ضمن میں ریکروٹمنٹ کمیٹی، پالیسی اور آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔اجلاس میں سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے نان فارمل ایجوکیشن سینٹرز اور مدارس سے متعلق امور پر بھی بریفنگ دی گئی، جبکہ سرکاری نصابی کتب اور پروف امپروومنٹ بکس کی بروقت تقسیم کا جائزہ لیتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران سے پیش رفت دریافت کی اور ہدایت کی کہ تمام طلبہ کو بروقت نصابی کتب کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کے اجلاسوں میں ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز کے نمائندوں کو بھی باقاعدگی سے مدعو کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور بلوچ نے کہا کہ حکومت بلوچستان وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں تعلیمی شعبے کی بہتری، جدید تعلیمی سہولیات کی فراہمی، اساتذہ کی استعداد کار میں اضافہ اور ہر بچے کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے مو¿ثر اقدامات کر رہی ہے، اور ضلعی انتظامیہ ان اہداف کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6302/2026
زیارت 20 جولائی ۔ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹیی اور ڈی آئی سی سی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈی آئی جی پولیس لورالائی رینج جنید احمدشیخ ،ایف سی 155 ونگ کے لیفٹیننٹ کرنل ڑیشان، میجر عامر، ایس پی زیارت عبدالمالک،اسسٹنٹ کمشنر زیارت شیر شاہ غلزئی،ڈی ایچ او ڈاکٹر محمد رفیق مستوئی ،سی ٹی ڈی انچارج عبدالمجید، اسپیشل برانچ کے محمد شاکر اور دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں تعمیراتی سرگرمیوں کی سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اور ڈسٹرکٹ زیارت میں امن وامان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا شرکائ نے منصوبوں کی حفاظت، تعمیراتی عمل کی بلا تعطل تکمیل اور متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کیں۔اس موقع پر ضلع زیارت کی مجموعی امن و امان کی صورتحال کا بھی ازسرِ نو جائزہ لیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر6303/2026
خضدار 20 جولائی: خضدار میں بولان مائننگ انٹرپرائزز BME کے خلاف گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا اور مختلف پلیٹ فارمز پر چلنے والی خبروں کے بعد معاملے کی وضاحت سامنے آ گئی ہے۔ذرائع کے مطابق BME نے قانون اور ضابطے کے تحت جن ٹھیکیداروں کو کام سونپا ہے، ان کے مزدوروں کی بھرتی اور اجرت کی ادائیگی کی مکمل ذمہ داری متعلقہ ٹھیکیدار پر عائد ہوتی ہے۔ یہی طریقہ کار تمام سرکاری اداروں میں رائج ہے۔بتایا گیا ہے کہ اس وقت دو مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے ٹھیکیداروں کے درمیان آپسی مسائل چل رہے ہیں۔ انہی اختلافات کو بنیاد بنا کر BME کو غیر ضروری طور پر متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ BME فیکٹری میں کام کرنے والے مستقل مزدوروں کو ہر ممکن سہولت اور سپورٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ جبکہ ٹھیکیدار اور ان کے مزدوروں کے درمیان ہونے والے معاملات براہِ راست ٹھیکیدار کی ذمہ داری ہے۔ BME گزشتہ کئی سالوں سے خضدار میں فلاح و بہبود کے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔ ادارے کی جانب سے علاقے میں تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں طلباء کو اسکالرشپس دی جارہی ہے۔ مقامی آبادی کو ترجیحی بنیادوں پر روزگار دینے کے ساتھ سماجی فلاح کے کاموں میں بھی BME پیش پیش ہے۔ سوشل میڈیا صارفین اور میڈیا سے وابستہ افراد کوئی بھی خبر شائع کرنے سے قبل حقائق کی تصدیق اور مکمل تحقیق کو یقینی بنائیں تاکہ غلط فہمیوں اور پروپیگنڈے سے بچا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر6304/2026
گوادر20جولائی:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست ویژن کے مطابق شہریوں کو ان کی دہلیز پر معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ضلع بھر میں بنیادی مراکز صحت کی مسلسل نگرانی کا عمل جاری ہے۔اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی گوادر ڈاکٹر مرشد دشتی نے بنیادی مرکز صحت (BHU) شادوبند کا تفصیلی مانیٹرنگ دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے طبی و پیرامیڈیکل عملے کی حاضری، او پی ڈی رجسٹر، ای پی آئی سائٹ، ماں اور بچے کی صحت (MNCH) سینٹر، ادویات کی دستیابی، صفائی کی صورتحال، ریکارڈ کی تکمیل اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ڈاکٹر مرشد دشتی نے عملے کو ہدایت کی کہ عوام کو معیاری، بروقت اور خوش اخلاقی پر مبنی طبی خدمات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، جبکہ حفاظتی ٹیکہ جات، زچہ و بچہ کی صحت اور بنیادی طبی سہولیات کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ریکارڈ کو مکمل اور اپ ڈیٹ رکھنے، ادویات کی دستیابی برقرار رکھنے اور سرکاری اوقاتِ کار کی سختی سے پابندی کرنے کی بھی ہدایت کی۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق دور دراز علاقوں کے عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات کی فراہمی پی پی ایچ آئی کی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام بنیادی مراکز صحت کی باقاعدہ مانیٹرنگ، مؤثر نگرانی اور کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو بہتر، شفاف اور معیاری طبی خدمات میسر آ سکیں۔واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرشد دشتی کی جانب سے ضلع بھر کے بنیادی مراکز صحت کے باقاعدہ مانیٹرنگ دوروں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کے نظام میں مزید بہتری لائی جا رہی ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6305
کوئٹہ20 جولائی:ـوزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گرینڈ الائنس کے قائدین کی درخواست پر فراخدلانہ اور مثبت فیصلہ کرتے ہوئے گزشتہ احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے تمام سرکاری ملازمین کی رہائی کا حکم دے دیا ہے ، وزیراعلیٰ کے احکامات پر ضلعی انتظامیہ کوئٹہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے تقریباً 50 سرکاری ملازمین کو رہا کر دیا حکومت بلوچستان نے اس موقع پر اس امید کا اظہار کیا ہے کہ سرکاری ملازمین مستقبل میں سرکاری ملازمت کے نظم و ضبط، قواعد و ضوابط اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کو یقینی بناتے ہوئے عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں گے حکومت کو یقین ہے کہ آئندہ ایسے کسی طرزِ عمل سے گریز کیا جائے گا جو سرکاری ملازم کے وقار، ذمہ داری اور ضابطۂ اخلاق سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔
خبر نامہ نمبر 2026/6306
تربت 20 جولائی:ـتربت سٹی پولیس تھانہ میں ڈی ایس پی محسن بلوچ کی زیر صدارت ایک اہم کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں شہر کی سیکیورٹی صورتحال، امن و امان کے قیام، اور ٹریفک کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔کھلی کچہری میں ایس ایچ او سٹی تھانہ زمان شیر، ایڈیشنل ایس ایچ او حسین دشتی، سی آئی اے انچارج عبدالغفار دشتی، سب انسپکٹر عبدالسلام بلوچ، تفتیشی افسر آسمی بلوچ سمیت پولیس حکام نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ آل پارٹیز کیچ کے نمائندے، نیشنل پارٹی کے تحصیل صدر طارق بابل، انجمن تاجران کیچ کے نمائندے جمیل عمر اور علاقے کے معززین و عمائدین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کر کے شہر کے درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے تجاویز پیش کیں۔کھلی کچہری کے دوران تربت شہر میں سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال، گاڑیوں کے کالے شیشوں کے استعمال اور آمد و رفت اور شہر کے چند مخصوص روٹس پر ٹریفک کا رخ تبدیل کرنے جیسے اہم امور پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے پولیس حکام کو عوامی مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے ٹریفک کی روانی اور امن و امان کی بہتری کے لیے اپنی قیمتی آراء دیں۔کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے ڈی ایس پی تربت محسن بلوچ نے واضح کیا کہ انجمن تاجران، سول سوسائٹی اور علاقے کے عام لوگوں کی مشاورت اور تعاون کے بغیر شہر میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔ پولیس اور عوام کے درمیان قریبی روابط ہی سے جرائم کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے اہم فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگست کی آمد سے قبل تربت شہر کے ریڈ زون میں سیکیورٹی کے سخت ترین اقدامات کیے جائیں گے۔ شہر کے امن کو برقرار رکھنے کے لیے کالے شیشے والی گاڑیوں کے خلاف سخت مہم شروع کی جا رہی ہے، جس کے تحت شیشوں سے کالی اتارنے سمیت دیگر قانونی اقدامات بلاامتیاز اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے عوام اور تاجر برادری سے اپیل کی کہ وہ شہر کو پرامن اور محفوظ بنانے کے لیے پولیس کا ساتھ دیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/6307
تربت 20 جولائی:ـ میئر میونسپل کارپوریشن تربت بلخ شیر قاضی نے پیر کے روز شمالی چاہسر کا دورہ کرکے میونسپل کارپوریشن کے فنڈز سے جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے جامع مسجد گلی میں ٹف ٹائلز بچھانے کے منصوبے سمیت دیگر جاری اسکیموں کا جائزہ لیا اور کام کے معیار پر اطمینان کا اظہار کیا۔میئر بلخ شیر قاضی نے متعلقہ ٹھیکیدار کو ہدایت کی کہ تمام منصوبے جلد از جلد مکمل کیے جائیں تاکہ تعمیراتی کام کے دوران شہریوں کو آمدورفت میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔دورے کے دوران علاقے کے کونسلرز، نیشنل پارٹی کے کارکنان اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کو سراہتے ہوئے میئر کی جانب سے شہری مسائل کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی تعریف کی۔علاقہ مکینوں نے میئر سے ملاقات کے دوران کہا کہ شمالی چاہسر اور شہر کے دیگر دور افتادہ علاقے جو ماضی میں نظرانداز ہوتے رہے اب ترقیاتی سرگرمیوں کا مرکز بن رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات مقامی آبادی کے لیے حوصلہ افزا ہیں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوں گے. اس موقع پر میئر بلخ شیر قاضی نے عوام، کونسلرز اور سیاسی کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ میونسپل کارپوریشن کے وسائل محدود ہیں تاہم عوام کی خدمت کا جذبہ غیرمحدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی محبت اور اعتماد ہی ان کی طاقت ہے، اور وہ دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے شہر کے ہر علاقے میں عوامی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی کاموں کے تسلسل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔







