خبرنامہ نمبر6271/2026
کوئٹہ، 19 جولائی:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سابق وفاقی وزیر محترمہ زبیدہ جلال کے شوہر میر چنگیز خان کُرد کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے تعزیتی پیغام میں وزیراعلیٰ نے مرحوم کے انتقال کو ایک بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ وزیراعلیٰ نے سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال اور تمام اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم میر چنگیز خان کُرد کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔
خبرنامہ نمبر6272/2026
کوئٹہ29 جولائی: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے سابق وفاقی وزیر محترمہ زبیدہ جلال کے شوہر میر چنگیزخان کرد کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے محترمہ زبیدہ جلال اور سوگوار خاندان سے غمرازی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم چنگیز خان کرد کی روح کو ابدی سکون عطا فرمائے اور لواحقین کو یہ ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
خبرنامہ نمبر6273/2026
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تعاون سے سینڈمین صوبائی اسپتال کوئٹہ میں شعبہ امراضِ قلب کا جدید کانفرنس روم افتتاح، طبی تعلیم، تحقیق اور مریضوں کی بہتر نگہداشت کی جانب اہم پیش رفت بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام (BHCP) کے تعاون سے سینڈمین صوبائی اسپتال (SPH)، کوئٹہ کے شعبہ امراضِ قلب (کارڈیالوجی) میں قائم کیے گئے جدید کانفرنس روم کا باوقار افتتاح کے موقع پ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر احمد ولی، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سینڈمین صوبائی اسپتال ڈاکٹر عبد الہادی کبزئی، شعب کارڈیالوجی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر جلال الدین اچکزئی، ڈاکٹر فضل الرحمان پانیزئی، ڈاکٹر ہاشم بڑیچ، مسٹر اشتیاق قریشی (فوکل پرسن، بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام، سینڈمین صوبائی اسپتال)، فیکلٹی اراکین، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور شعبے کے دیگر عملے نے شرکت کی۔ڈاکٹر احمد ولی نے کہا کہ یہ جدید کانفرنس روم بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے ہسپتال مینٹیننس اینڈ ریپیئر شیئر کے تحت مختص فنڈز سے تعمیر کیا گیا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پروگرام نہ صرف مریضوں کو معیاری اور مفت علاج کی سہولت فراہم کر رہا ہے بلکہ ہسپتالوں کے بنیادی ڈھانچے، طبی تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بھی عملی اقدامات اٹھا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں پائیدار ترقی کے لیے جدید طبی سہولیات کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں اور طبی عملے کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر ہے۔ اسی مقصد کے تحت قائم کیا گیا یہ کانفرنس روم شعبہ کارڈیالوجی میں تدریسی، تحقیقی اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کو مزید مؤثر اور منظم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ڈاکٹر عبد الہادی کبزئی نے کہا کہ جدید کانفرنس روم تعلیمی لیکچرز، سیمینارز، ورکشاپس، تربیتی سیشنز اور سائنسی کانفرنسوں کے انعقاد کے لیے ایک مستقل اور جدید پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ اس کے ذریعے مختلف شعبوں کے ماہرین کے مشترکہ اجلاس، پیچیدہ طبی کیسز پر شواہد پر مبنی مشاورت، جرنل کلبز، تحقیقی پریزنٹیشنز اور سائنسی مباحثوں کا انعقاد مزید مؤثر انداز میں ممکن ہوگا۔ پروفیسر ڈاکٹر جلال الدین اچکزئی نے مزید کہا کہ کانفرنس روم میڈیکل طلبہ، پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹرز اور ہاؤس آفیسرز کے لیے جدید اور منظم تعلیمی ماحول فراہم کرے گا، جبکہ ڈاکٹروں کے درمیان مؤثر مشاورت اور بہتر کلینیکل فیصلہ سازی کے ذریعے مریضوں کے علاج کے معیار اور نتائج میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔اس موقع پر بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر احمد ولی نے کہا کہ بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کا وژن صرف عوام کو علاج کی سہولیات فراہم کرنا نہیں بلکہ صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں طبی خدمات کے معیار، بنیادی ڈھانچے اور تدریسی ماحول کو بہتر بنانا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال مینٹیننس اینڈ ریپیئر فنڈز کا مؤثر استعمال صحت کے نظام کو مزید مضبوط اور جدید بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبد الہادی کبزئی اور شعب کارڈیالوجی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر جلال الدین اچکزئی نے بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس جدید کانفرنس روم کے قیام سے شعبہ کارڈیالوجی میں تعلیمی، تحقیقی اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کو نئی جہت ملے گی، جس کا براہِ راست فائدہ مریضوں کو بہتر طبی خدمات کی صورت میں حاصل ہوگا۔تقریب کے اختتام پر بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر احمد ولی، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبد الہادی کبزئی اور پروفیسر ڈاکٹر جلال الدین اچکزئی نے مشترکہ طور پر فیتہ کاٹ کر کانفرنس روم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ بعد ازاں ڈاکٹر احمد ولی نے افتتاح کی خوشی میں کیک بھی کاٹا۔ شرکاء نے اس اقدام کو بلوچستان کے سرکاری ہسپتالوں میں طبی تعلیم، تحقیق، پیشہ ورانہ استعداد کار اور مریضوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک اہم اور قابلِ ستائش پیش رفت قرار دیا۔
خبرنامہ نمبر6274/2026
خضدار 19 جولائی: کمشنر قلات ڈویژن آفس کے جاری کردہ بیان کے مطابق لائبریری کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بیان کو من گھڑت اور حقائق کے منافی قرار دیاگیا ہے۔ جاری کردہ وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی خبریں طلبہ و عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ خضدار پبلک لائبریری خالصتاً تعلیمی مقاصد کے لیے قائم کی گئی ہے۔ اس سے متعلق تجارتی نوعیت کے الفاظ کا استعمال بدنیتی اور غیر پیشہ ورانہ رویہ ہے۔ ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اسی طرح جو طلبہ لائبریری میں بد نظمی پیدا کرنے کی کوشش کریں گے ان کی رکنیت منسوخ کر دی جائے گی۔کمشنر آفس کے مطابق لائبریریز مختلف تعلیمی سرگرمیوں کیلئے ہوتی ہیں جس میں اسٹیڈی کے علاوہ ورکشاپس سیمینار کیرئیر کاؤنسلنگ بک فئیرز کا انعقاد کیا جاتا ہے اسی وژن کے تحت خضدار کی پبلک لائبریری کو فعال بنایا جا رہا ہے۔لائبریری کے نچلا حصہ مطالعے کے لیے مخصوص ہے جبکہ اوپر والے حصے میں تعلیمی کلاسز کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ لائبریری میں موجود چار بڑے کلاس رومز پچھلے چار سال سے غیر فعال تھے۔ کمشنر قلات ڈویژن نے ان کمروں کو دوبارہ فعال کر دیا ہے اور ان میں تقریباً 10 لاکھ روپے مالیت کے سمارٹ بورڈز نصب کیے جا رہے ہیں۔تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے خضدار کے مقامی لیکچرارز کو مدعو کیا گیا ہے جن میں گولڈ میڈلسٹ بھی شامل ہیں۔ ان کلاسز کا مقصد کمزور طلبہ کی علمی استعداد میں اضافہ کرنا ہے۔ کلاسز میں فزکس کیمسٹری، ایم ڈی کیٹ کی تیاری، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور مقابلے کے امتحانات جیسے موضوعات شامل ہوں گے۔ لیکچرارز اپنی خدمات پیش کریں گے جس کی طلباء پر مناسب فیس ہوگی۔ جبکہ لائبریری میں موجود تمام بنیادی سہولیات طلبہ کو مفت فراہم کی جائیں گی۔سمارٹ بورڈز کے ذریعے طلبہ کو کیرئیر کاؤنسلنگ بھی دی جائے گی تاکہ وہ اپنے مستقبل کے لیے بہتر فیصلہ کر سکیں اگر ایک گھنٹے میں بھی کوئی طالبعلم کچھ نیا سیکھ لے تو یہ اس کے علمی سفر میں اضافے کا سبب بنے گا۔
خبرنامہ نمبر6275/2026
کوئٹہ: 19 جولائی صوبائی حکومت کے احکامات کی روشنی میں، سیکرٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان *محمد حیات کاکڑ کی ہدایت اور سیکرٹری پی ٹی اے بلوچستان وحید شریف عمرانی کی نگرانی میں پروونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور موٹر وے پولیس پر مشتمل ٹیم نے طور ناصر کراس پر کارروائی کی۔کارروائی کا مقصد افغان مہاجرین اور غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف اقدامات کے ساتھ ساتھ لانگ روٹ کوچز اور بسوں کی چیکنگ تھا۔ اس موقع پر مسافروں کے ڈیٹا اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی گئی۔ جبکہ گاڑیوں کے کاغذات، روٹ پرمٹ، فٹنس سرٹیفکیٹ اور ڈرائیونگ لائسنس کا بھی معائنہ کیا گیا۔ کارروائی کے دوران اوور لوڈنگ اور ضروری کاغذات کی عدم موجودگی پر متعدد کوچ مالکان کو جرمانے کیے گئے۔ حکام نے بتایا کہ صوبائی حکومت کے احکامات پر صوبے بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف مسلسل کارروائیاں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں تمام ٹرانسپورٹرز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ غیر ملکیوں کو بغیر قانونی دستاویزات کے اپنی گاڑیوں میں سوار نہ کریں۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی گاڑیوں کے کاغذات، پرمٹ اور فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی ساتھ رکھیں۔ حکام نے مزید کہا کہ قومی شاہراہوں پر حادثات کی روک تھام کے لیے ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کے حوالے سے کسی قسم کی رعایت نہیں کی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر6276/2026
کوئٹہ19 جولائی:صوبائی سیکرٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان محمد حیات کاکڑ اور سیکرٹری پروونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی بلوچستان وحید شریف کی ہدایت پر گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے کا فوری نوٹس لیا گیا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب النصیب کوچ کمپنی کی ایک بس نے مسافروں کو ان کی مقررہ منزل کراچی پہنچانے کے بجائے راستے میں ہی اتار دیا تھا، جس کے باعث مسافروں کو شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہدایات کی روشنی میں پروونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے عملے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جیل نور بس اڈہ میں واقع متعلقہ بس ٹرمینل کا معائنہ کیا۔ بس مالکان سے ملاقات کی اور واقعے سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد متعلقہ بس کا روٹ پرمٹ فوری طور پر معطل کر دیا گیا۔ مزید برآں بس مالکان کو ہدایت جاری کی گئی کہ وہ وضاحت پیش کرنے کے لیے فوری طور پر دفتر پروونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی میں حاضر ہوں تاکہ ضابطے کے مطابق مزید قانونی و انتظامی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ پروونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی بلوچستان نے واضح کیا ہے کہ مسافروں کی جان و مال کے تحفظ اور انہیں معیاری سفری سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ٹرانسپورٹ قوانین کی خلاف ورزی، مسافروں کے ساتھ غیر ذمہ دارانہ رویہ یا عوامی مشکلات کا باعث بننے والے عناصر کے خلاف آئندہ بھی بلاامتیاز سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر6277/2026
کوئٹہ 19 جولائی:فریکشنل آئی پی وی fIPV انسداد پولیو مہم کے چھٹے روز کا ایوننگ ریویو اجلاس ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللّٰہ بادینی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں نیشنل ای او سی، محکمہ صحت، ڈبلیو ایچ او، یونیسیف، ضلعی انتظامیہ، ڈسٹرکٹ مانیٹرز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بھر میں جاری پولیو مہم کی مجموعی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ ہیومن ریسورس کی تعیناتی، او پی وی اور fIPV کوریج، یونین کونسل وار کارکردگی، رفیوزلز، مس شدہ بچوں، آر سی اے نتائج اور فیلڈ مانیٹرز کی رپورٹس پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے ہدایت کی کہ جن علاقوں میں کوریج کم رہی یا رفیوزل اور مس شدہ بچوں کے کیسز سامنے آئے ہیں، وہاں فوری اقدامات کرتے ہوئے ہر بچے تک پولیو ویکسین کی رسائی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے اسسٹنٹ کمشنرز، محکمہ صحت اور پولیو پارٹنرز کو ہدایت کی کہ فیلڈ مانیٹرنگ مزید مؤثر بنائی جائے، ٹیموں کی کارکردگی پر مسلسل نظر رکھی جائے اور مہم کے مقررہ اہداف ہر صورت حاصل کیے جائیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ضلعی انتظامیہ اس قومی مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے گی۔
خبرنامہ نمبر6278/2026
جعفرآباد 19 جولائی:ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی کاوشوں سے گوٹھ حاجی خان کھوسہ میں عوامی مسائل کے حل اور سرکاری سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، اس میں پارلیمانی سیکرٹری برائے ایس اینڈ جی اے ڈی و رکن صوبائی اسمبلی انجینئر عبدالمجید بادینی نے خصوصی شرکت کی۔ کھلی کچہری میں شہریوں نے تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، پینے کے پانی اور دیگر بنیادی مسائل سے متعلق زبانی و تحریری درخواستیں پیش کیں، جبکہ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے متعدد شکایات موقع پر ہی متعلقہ محکموں کو حل کرنے کی ہدایت جاری کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انجینئر عبدالمجید بادینی اور ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں موجودہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دیتے ہوئے تعلیم، صحت اور ترقیاتی شعبوں میں مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے تحت ضلع جعفرآباد میں متعدد ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ کئی دیگر منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے، جن کی تکمیل سے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے اور ان کے مسائل میں نمایاں کمی لانے میں مدد ملے گی۔
خبرنامہ نمبر6279/2026
کوئٹہ: 19 جولائی بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر و وزیرِ آبپاشی *میر محمد صادق عمرانی نے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی خصوصی دلچسپی اور ہدایت پر بلوچستان کے گرین بیلٹ پٹ فیڈر کینال اور کھیر تھر کینال میں پانی کی کمی دور کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ گزشتہ روز سکھر کا دورہ کیا۔ وفد میں صوبائی وزراء میر محمد سلیم کھوسہ، میر محمد خان لہڑی اور سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمان بلوچ شامل تھے۔ وفد کے دورے کا مقصد پٹ فیڈر کینال اور کھیر تھر کینال میں حالیہ ہانی کی کمی پر حکومت سندھ کے متعلقہ حکام سے بات چیت کرنا تھا۔ وفد نے ہفتہ کے روز سکھر میں محکمہ آبپاشی سندھ کے متعلقہ حکام سے طویل بات چیت کے بعد آج کراچی پہنچ کر صوبائی وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو اور سیکرٹری آبپاشی ظریف احمد کھیوڑو سے باقاعدہ سرکاری مذاکرات کیے۔ اس موقع پر وفد کے دیگر شرکاء میں بلوچستان سے صوبائی وزیر سردار فیصل خان جمالی، چیف انجینئر کینالز قربان علی جتوئی، کوآرڈینیٹر سمیع بلوچ اور ایکسیئن پٹ فیڈر فرید احمد پندرانی شامل تھے۔ مذاکرات میں بلوچستان کے وفد نے واضح موقف اختیار کیا کہ سندھ حکومت محکمہ آبپاشی 1971 کے معاہدے کے مطابق بلوچستان کے حصے کا پانی فراہم کرے۔ معاہدے کے تحت پٹ فیڈر کینال کے لیے 6700 کیوسک اور کھیر تھر کینال کے لیے 2400 کیوسک پانی متعین ہے۔ پانی کی کمی سے ہمارا پورا علاقہ اور خصوصاً زمیندار و کسان بھائی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ دونوں صوبوں کے اعلیٰ حکام کے مابین چار گھنٹوں سے زائد طویل مذاکرات کے بعد صوبائی وزیر آبپاشی سندھ *جام خان شورو نے وفد کو یقین دہانی کروائی کہ بلوچستان کے حصے کا پانی ہر صورت میں جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پٹ فیڈر کینال میں شارٹ فال پورا کرنے کے لیے 700 کیوسک جبکہ کھیر تھر کینال میں 1000 کیوسک اضافی پانی کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔ دونوں وفود نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ گفت و شنید اور باہمی مشاورت کے ذریعے درپیش مسائل کے حل کو یقینی بنائیں گے۔ دریں اثناء صوبائی وزیر جام خان شورو نے بلوچستان کے وفد کے اعزاز میں پر تکلف ظہرانہ بھی دیا۔ صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ ہمیں بلوچستان کے مفادات شروع دن سے ہی عزیز ہیں۔ پانی کی کمی پر کسی قسم کی کوتاہی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہمیں بخوبی احساس ہے کہ پانی کی کمی سے لوگوں کو معاشی مسائل کا سامنا ہے، اس لیے صوبائی حکومت زمینداروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور وہ خود اس اہم مسئلے کے حل کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اقدامات کر رہے ہیں۔ سکھر اور کراچی میں ان مذاکرات کا مقصد ہی عوام کو پانی کی کمی سے درپیش مشکلات کا حل ہے۔ میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ چند مفاد پرست عناصر حکومت میں رہتے ہوئے اپنی متاثرہ سیاسی ساکھ بچانے کے لیے جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ صوبائی وزیر نے عوام سے گزارش کی کہ وہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ بلوچستان حکومت کو اپنے لوگوں کے مفادات انتہائی عزیز ہیں اور جلد پانی کی فراہمی سے چاول کی فصل سمیت دیگر ضروریات کے لیے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر6280/2026
چمن 19 جولائی:ضلع چمن:- ڈی پی او چمن اعتزاز عارف کی ہدایات پر سٹی پولیس فورس نے ایس ایچ او سٹی محسن بلوچ کی نگرانی میں چمن پریس کلب چورنگی اور شہر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور چیکنگ آپریشن کیا کارروائی کے دوران گاڑیوں کے کالے شیشے صاف کیے گئے، غیر قانونی نمبر پلیٹس ہٹائی گئیں، گاڑیوں کے کاغذات اور شہریوں کے قومی شناختی کارڈز جدید نظام کے ذریعے چیک کیے گئے سٹی پولیس نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ہر وقت اپنا قومی شناختی کارڈ اپنے پاس رکھیں، ٹریفک قوانین کی پابندی کریں اور کالے شیشوں و غیر قانونی نمبر پلیٹس کے استعمال سے اجتناب کریں۔ پولیس کے مطابق ایسے اقدامات کا مقصد عوام کی جان و مال کے تحفظ، سیکیورٹی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے، جرائم کی روک تھام اور ضلع چمن میں پائیدار امن و امان کو یقینی بنانا ہے۔
خبرنامہ نمبر6282/2026
کوئٹہ 19 جولائی: پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما و صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک سے پاکستان پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر کے سینئر رہنما اشرف ڈار کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی، جس میں آزاد جموں و کشمیر کے آئندہ انتخابات، پارٹی کی انتخابی حکمتِ عملی اور تنظیمی امور پر تفصیلی تبادلہ? خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے آزاد جموں و کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں، عوامی رابطہ مہم، کارکنوں کی تنظیم سازی اور انتخابی مہم کو مزید مؤثر بنانے کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا۔ اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پارٹی کے چیئرمین کے وژن اور عوامی خدمت کے منشور کو گھر گھر پہنچایا جائے گا تاکہ عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو۔صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک عوامی جماعت ہے جو ملک بھر کی طرح آزاد جموں و کشمیر میں بھی عوام کی خدمت، جمہوریت کے استحکام اور ترقی و خوشحالی کے ایجنڈے پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ آزاد جموں و کشمیر میں پارٹی کی کامیابی کے لیے ہر ممکن تعاون اور بھرپور سیاسی و اخلاقی حمایت فراہم کی جائے گی۔حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ پارٹی کارکن ہی پاکستان پیپلز پارٹی کا اصل سرمایہ ہیں اور آئندہ انتخابات میں کارکنوں کی محنت، عوامی حمایت اور پارٹی قیادت کی مؤثر حکمتِ عملی سے پاکستان پیپلز پارٹی نمایاں کامیابی حاصل کرے گی۔اس موقع پر وفد کے سربراہ اشرف ڈار نے حاجی علی مدد جتک کی جانب سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی قیادت کے وژن کو عوام تک پہنچانے اور آزاد جموں و کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تمام کارکن متحد ہو کر بھرپور کردار ادا کریں گے۔ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس میں باہمی رابطوں کو مزید مستحکم کرنے اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے مشترکہ سیاسی تعاون جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔







