خبرنامہ نمبر7924/2026
کوئٹہ، 18 ستمبر۔: صوبائی وزیر ظہور بلیدی نے کوہاٹ کے پرانا پولیس لائن مسجد میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پولیس اہلکار کی شہادت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔میرظہور بلیدی نے کہا کہ مسجد جیسی مقدس جگہ کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ معصوم شہریوں اور امن کے محافظوں پر حملے کسی صورت قابل قبول نہیں۔صوبائی وزیر نے شہید پولیس اہلکار کے اہلخانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔انہوں نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قوم کا عزم کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے قومی اتحاد اور اجتماعی جدوجہد کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔میر ظہور بلیدی نے شہید پولیس اہلکار کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی مکمل صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7925/2026
کوئٹہ، 18 ستمبر۔ بلوچستان سینٹر آف ایکسیلنس محکمہ داخلہ بلوچستان اور پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (PPAF) کے اشتراک سے کوئٹہ کے ایک مقامی ہوٹل میں ایک اہم راونڈ ٹیبل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاءاللہ لانگو اور اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب کچی تھے، جبکہ حکومت بلوچستان کے مختلف محکموں کے افسران، متعلقہ اداروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔راونڈ ٹیبل کانفرنس میں بلوچستان کو درپیش مختلف اہم امور، باہمی تعاون، اداروں کے درمیان روابط، سماجی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکائنے اس امر پر زور دیا کہ حکومت، متعلقہ اداروں اور سول سوسائٹی کے درمیان موثر رابطہ، باہمی تعاون اور مشترکہ کاوشیں صوبے میں مثبت، دیرپا اور پائیدار اقدامات کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔کانفرنس کے دوران شرکاءکی جانب سے صوبے کی ترقی، سماجی بہتری اور عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں، جبکہ متعلقہ اداروں کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے عوامی مسائل کے موثر حل کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ اس موقع پر شرکاء نے بلوچستان میں پائیدار ترقی اور عوامی فلاح کے لیے مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7926/2026
گوادر18 ستمبر ۔: رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی زیرِ صدارت گوادر شہر میں شجرکاری، ماحولیاتی تحفظ، پھولوں کی نمائش، شہری صفائی اور شہر کی خوبصورتی سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر کو سرسبز و صاف ستھرا بنانے اور شہری ماحول کو مزید بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، رکن صوبائی اسمبلی کے معاون خصوصی وسیم صمد، چیئرمین میونسپل کارپوریشن گوادر ماجد جوہر، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع مقبول احمد، ڈپٹی کنزرویٹر جنگلات اسد اللہ بلوچ، ضلعی آفیسر امورِ حیوانات ڈاکٹر صابر علی، ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات ادارہ ترقیات گوادر عبدالرحیم بلوچ، محکمہ ماحولیات کے حفیظ جعفر، ادارہ ترقیات گوادر کے حمل آفرین، یحیی وڈیلا سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گوادر میں شجرکاری اور شہر کی خوبصورتی کے فروغ کے لیے ھفتہ روزہ خصوصی نمائش کا انعقاد کیا جائے گا، جو تین اہم حصوں پر مشتمل ہوگی، جن میں آگاہی مہم، شجرکاری اور پھولوں کی نمائش شامل ہوں گے۔ نمائش میں شہریوں، سرکاری اداروں، تعلیمی اداروں، نوجوانوں، سول سوسائٹی اور غیر سرکاری ادارے کو بھرپور شرکت کی دعوت دی جائے گی، جبکہ مختلف اقسام کے پھولدار اور سایہ دار پودے بھی نمائش میں پیش کیے جائیں گے اجلاس میں اکتوبر کے مہینے میں شجرکاری ہفتہ منانے کا بھی فیصلہ کیا گیا، جس میں سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں، علمائ کرام، سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں، کونسلرز، نوجوانوں اور سول سوسائٹی کو شریک کیا جائے گا۔ اس موقع پر زیادہ سے زیادہ پودے لگانے کے ساتھ ساتھ شہریوں میں ماحولیاتی تحفظ اور شجرکاری کی اہمیت کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جائے گی اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ جنگلات اور ادارہ ترقیات گوادر کے پاس شجرکاری کے لیے پودے دستیاب ہیں، جنہیں مختلف سرکاری اداروں، سڑکوں، گرین بیلٹس اور دیگر موزوں مقامات پر لگایا جائے گا۔ فروری میں پھولدار پودوں کے لیے موزوں موسم کے پیشِ نظر پھولوں اور پودوں کی ایک خصوصی مہم اور نمائش کرنے پر اتفاق ھو ھے اجلاس میں گوادر شہر میں کھلے عام گھومنے والے مویشیوں اور جگہ جگہ کچرے کے ڈھیروں کے مسئلے کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ شہری علاقوں میں بے راہ رو مویشیوں کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں، جبکہ مویشی مالکان کو پابند کیا جائے کہ وہ شہر کے اندر مویشی کھلے نہ چھوڑیں اور انہیں شہر سے باہر مناسب باڑوں میں رکھیں شہر میں کچرے کے پھیلاوکی روک تھام کے لیے بھی موثر کارروائی کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ خلاف ورزی کرنے والے ہوٹل مالکان اور دیگر ذمہ دار افراد کے خلاف ضابطے کے مطابق جرمانے اور قانونی کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس میں تمام سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں، صحت مراکز، محکمہ زراعت اور دیگر اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے دفاتر اور احاطوں میں زیادہ سے زیادہ پھولدار و سایہ دار پودے لگا کر ماحول کو خوبصورت اور سرسبز بنائیں اجلاس میں نوجوانوں، این جی اوز اور مختلف یوتھ پروگرامز کو بھی شجرکاری اور ماحولیاتی آگاہی مہم کا حصہ بنانے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ چند روز میں شجرکاری ہفتے اور ہفتہ روزہ نمائش کے حوالے سے جامع ایکشن پلان مرتب کرکے پیش کیا جائے۔رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ گوادر کی خوبصورتی، صاف ستھرا ماحول اور سرسبز شہر کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی تعاون اور مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے شجرکاری کو صرف ایک مہم تک محدود رکھنے کے بجائے اسے مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے اور لگائے گئے پودوں کی حفاظت و دیکھ بھال یقینی بنانے پر زور دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7927/2026
گوادر 18 ستمبر ۔: رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی جانب سے گوادر میں نرسنگ کالج کے قیام کے لیے جاری کوششوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ محکمہ صحت بلوچستان کی ٹیم نے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کے ہمراہ نرسنگ کالج کے لیے مجوزہ عمارت اور جگہ کا تفصیلی دورہ کرکے مختلف پہلووں کا جائزہ لیا ان کا کہنا تھا گوادر کے عوام کو صحت کے شعبے میں بہتر اور معیاری سہولیات کی فراہمی، بالخصوص مقامی نوجوانوں کے لیے طبی تعلیم و تربیت کے مواقع پیدا کرنے کے لیے گوادر میں نرسنگ کالج کے قیام کا معاملہ محکمہ صحت بلوچستان کے حکام کے سامنے پیش کیا تھا۔ اس سلسلے میں مناسب جگہ کے انتخاب اور عمارت کے جائزے کے لیے محکمہ صحت بلوچستان کی ٹیم نے گوادر کا دورہ کیا اس موقع پر چیف پلاننگ آفیسر محکمہ صحت بلوچستان نوید احمد رئیسانی، سیکشن آفیسر شئے مرید بلوچ اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سمیت متعلقہ حکام نے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کے ہمراہ مجوزہ عمارت کا معائنہ کیا۔ ٹیم نے عمارت کی دستیابی، گنجائش اور دیگر ضروری امور کا جائزہ لیا، جبکہ حکام کے مطابق مجوزہ عمارت نرسنگ کالج کے قیام کے لیے موزوں قرار دی گئی ہے۔محکمہ صحت کی ٹیم اپنے دورے اور جائزے سے متعلق رپورٹ سیکریٹری صحت بلوچستان کو پیش کرے گی، جس کے بعد نرسنگ کالج کے قیام کے حوالے سے مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی رکن صوبائی اسمبلی نے کہا کہ گوادر کے عوام کو صحت کی بنیادی و معیاری سہولیات کی فراہمی اور مقامی نوجوانوں کو صحت کے شعبے میں تعلیم و تربیت کے مواقع فراہم کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں نرسنگ کالج کا قیام نہ صرف مقامی نوجوانوں کے لیے پیشہ ورانہ تعلیم کے نئے مواقع پیدا کرے گا بلکہ مستقبل میں ضلع گوادر اور گردونواح کے طبی مراکز کے لیے مقامی تربیت یافتہ نرسنگ اسٹاف کی دستیابی میں بھی معاون ثابت ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7928/2026
گوادر /سربندن18 ستمبر ۔ گوادر کے یونین کونسل سربندن میں ماہی گیری کے شعبے کے فروغ اور مقامی ماہی گیروں کو بہتر کاروباری مواقع کی فراہمی کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں فشنگ جیٹی مول کا باقاعدہ افتتاح رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کردیا۔افتتاحی تقریب میں ڈائریکٹر جنرل ادارہ ترقیات گوادر معین الرحمن خان، چیف انجینئر حاجی سید، پروجیکٹ ڈائریکٹر حاجی حنیف، یونین کونسل چیئرمین سربندن نصیب نوشیروانی، کہدہ حمید عیسیٰ، معروف کاروباری شخصیت سیٹھ وحید خداداد سمیت سیاسی، سماجی و کاروباری شخصیات اور علاقہ مکینوں نے شرکت کی فشنگ جیٹی مول کی تکمیل اور باقاعدہ فعالیت کو سربندن کے ماہی گیری کے شعبے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ منصوبے کے فعال ہونے سے سربندن میں مچھلی کی خرید و فروخت اور متعلقہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملنے کے امکانات ہیں، جبکہ دیگر علاقوں سے مچھلی کے خریدار اور کاروباری افراد بھی سربندن کا رخ کرسکیں گے اس موقع پر عوامی حلقوں نے فشنگ جیٹی مول کے افتتاح کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ منصوبے کو موثر اور مستقل بنیادوں پر فعال رکھا جائے گا، جس سے مقامی ماہی گیروں کو اپنی پیداوار کی بہتر مارکیٹنگ اور مناسب قیمت کے حصول کے مواقع میسر آئیں گے فشنگ جیٹی مول کی فعالیت سے مچھلی کی خرید و فروخت کے ساتھ ساتھ برف، جال، نقل و حمل اور دیگر متعلقہ شعبوں میں بھی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملنے اور مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ ماہی گیروں کی معاشی بہتری اور ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ افراد کو بہتر سہولیات کی فراہمی ضروری ہے۔ انہوں نے فشنگ جیٹی مول کو سربندن کے ماہی گیروں اور مقامی کاروباری طبقے کے لیے ایک اہم سہولت قرار دیتے ہوئے اس کی موثر فعالیت اور مناسب دیکھ بھال پر زور دیا
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7929/2026
گوادر18 ستمبر ۔صوبائی حکومت کی عوام دوست پالیسی کے تحت سرکاری خدمات کو عوام کی دہلیز کے قریب پہنچانے اور دور دراز علاقوں کے شہریوں کو بنیادی سہولیات تک آسان رسائی فراہم کرنے کے لیے یونین کونسل سربندن میں نادرا کا ون ونڈو کاونٹر قائم کردیا گیا، جس کا افتتاح رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کیا افتتاحی تقریب میں نادرا کے افسران عارف بلوچ اور سعید احمد سمیت دیگر متعلقہ افراد موجود تھے سربندن میں قائم ون ونڈو کاونٹر سے سربندن کے علاوہ گردونواح کے متعدد دیہی علاقوں کے عوام بھی مستفید ہوسکیں گے، جن میں کلاچ، نلینٹ، کپر، نوگڈو، زیارت مچی سمیت دیگر علاقے شامل ہیں۔ اس سہولت کے ذریعے شہریوں کو شناختی کارڈ اور رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے دور دراز علاقوں میں قائم نادرا دفاتر کا سفر نہیں کرنا پڑے گا اس موقع پر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے ون ونڈو کاو¿نٹر کے قیام پر نادرا حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو بنیادی شناختی دستاویزات کے حصول کی سہولت ان کے قریبی علاقوں میں فراہم کرنا عوامی خدمت کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے بالخصوص دیہی علاقوں کے عوام، خواتین، بزرگوں اور دیگر شہریوں کو وقت اور سفری اخراجات کی بچت کے ساتھ آسان رسائی حاصل ہوگی رکن صوبائی اسمبلی نے امید ظاہر کی کہ نادرا کی جانب سے ضلع گوادر کی دیگر یونین کونسلز میں بھی اسی نوعیت کے سہولت مراکز قائم کیے جائیں گے تاکہ دور دراز علاقوں کے عوام کو شناختی دستاویزات کے حصول میں درپیش مشکلات کا خاتمہ اور سرکاری خدمات تک ان کی رسائی مزید آسان بنائی جاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7930/2026
بارکھان/رکھنی، 18ستمبر ۔: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور حکومتِ بلوچستان کی پالیسی کے مطابق محکمہ صحت کوہِ سلیمان ڈویژن میں ڈاکٹرز کی مختلف کیٹیگریز کی 85 آسامیوں پر واک اِن انٹرویوز کا سلسلہ چوتھے روز بھی جاری رہا۔انٹرویوز کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی کی زیرِ صدارت منعقد ہوئے، جہاں مختلف آسامیوں کے لیے امیدواروں کی جانب سے شرکت کی گئی۔ اس موقع پر ایڈیشنل کمشنر عبدالباسط بزدار، ڈپٹی کمشنر نارتھ ڈیرہ بگٹی ریاض احمد داوڑ، ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ کوہِ سلیمان ڈویڑن ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی، ڈی ایچ او کوہلو ڈاکٹر شیر زمان اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔انٹرویوز کے دوران امیدواروں کی تعلیمی قابلیت، پیشہ ورانہ تجربے، متعلقہ دستاویزات اور مقررہ معیار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ امیدواروں کو میرٹ اور شفاف طریقہ کار کے تحت انٹرویو کے مواقع فراہم کیے گئے جبکہ تمام مراحل مقررہ ضوابط کے مطابق مکمل کیے جا رہے ہیں۔کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی نے کہا کہ ڈاکٹرز کی خالی آسامیوں پر تعیناتی سے کوہِ سلیمان ڈویژن کے دور دراز علاقوں میں عوام کو صحت کی بہتر اور معیاری سہولیات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ انٹرویوز اور بھرتی کے تمام مراحل میرٹ، شفافیت اور مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کیے جائیں تاکہ اہل امیدواروں کا انتخاب یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان دور دراز علاقوں میں صحت کے شعبے کو مزید مستحکم کرنے اور عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی و معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ڈاکٹرز کی تعیناتی سے سرکاری ہسپتالوں اور مراکزِ صحت میں طبی سہولیات کی فراہمی میں مزید بہتری آئے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7931/2026
قلعہ سیف اللہ18ستمبر۔ پولیو SNID کی تیاری کے حوالے سے اجلاس.پولیو کے آئندہ سب نیشنل امیونائزیشن ڈیز (SNID) کی تیاریوں کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر ساگر کمار کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں DHO وحید الرحمن کاکڑ، WHO ڈسٹرکٹ ہیڈ علی محمد، پولیو آفیسر رازق شوانی، ٹریڑری آفیسر اورنگزیب مندوخیل، ہارون صاحب اور DSP ظریف خان نے شرکت کی۔اجلاس میں آئندہ پولیو مہم کے لیے انتظامات، پولیو ٹیموں کی بروقت تعیناتی، سیکیورٹی انتظامات، عوامی آگاہی اور متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ پولیو مہم کی کامیابی کے لیے تمام ضروری انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں اور مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس کے شرکاءنے پولیو کے خاتمے کے لیے بھرپور تعاون اور موثر کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7932/2026
قلعہ سیف اللہ: 18ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر ساگر کمار کی زیرِ صدارت ضلعی ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر مسلم باغ ماجد سلیم، ڈی ایچ او وحید الرحمن کاکڑ، پی پی ایچ آئی ڈی ایس ایم سہیل الاسلام، پاپولیشن آفیسر حبیب اللہ جوگیزئی اور وسیم کاکڑ سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع کے مختلف علاقوں میں صحت عامہ کی صورتحال، بنیادی مراکزِ صحت کی کارکردگی، طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام صحت مراکز میں بنیادی سہولیات اور ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جائے اور عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔اجلاس میں صحت کے شعبے سے متعلق مختلف مسائل، تجاویز اور آئندہ کے لائح? عمل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7933/2026
ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان کی گوادر میں زیر تعمیر ٹف ٹائل اور پیورز کے جدید پلانٹ کا دورہ، نجی شعبے کی جانب سے گوادر کے تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری خوش آئند ہے، معین الرحمٰن خان گوادر، 18 ستمبر ۔ ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان نے گوادر میں ٹف ٹائلز اور پیورز تیار کرنے والے مقامی پلانٹ کا دورہ کیا، جہاں پلانٹ کے مالک اور معروف کنٹریکٹر حاجی شریف زیمل نے انہیں پلانٹ کے مختلف حصوں، پیداواری صلاحیت اور تیار کیے جانے والے تعمیراتی مٹیریلز کے حوالے سے بریفنگ دی۔اس موقع پر چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، سپرنٹنڈنگ انجینئر روڈز نادر بلوچ اور دیگر متعلقہ حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔حاجی شریف زیمل نے ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے کو بتایا کہ یہ پلانٹ گوادر کا پہلا اور واحد مقامی پلانٹ ہے جہاں اعلیٰ معیار اور مقررہ تعمیراتی معیارات کے مطابق ٹف ٹائلز اور پیورز تیار کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں اس نوعیت کے تعمیراتی مٹیریل کی مقامی سطح پر تیاری تعمیراتی شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ ماضی میں ٹف ٹائلز اور پیورز سمیت دیگر تعمیراتی مٹیریل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کراچی سے سامان منگوانا پڑتا تھا، جس کے باعث ٹرانسپورٹیشن کے اضافی اخراجات کی وجہ سے یہ مٹیریل مہنگا پڑتا تھا۔انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر ٹف ٹائلز اور پیورز کی دستیابی سے نہ صرف تعمیراتی منصوبوں کی ضروریات پوری کرنے میں آسانی ہوگی بلکہ ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات اور وقت کی بھی بچت ہوگی۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے کہا کہ نجی شعبے کی جانب سے گوادر کے تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری خوش آئند ہے۔ مقامی سطح پر تعمیراتی مٹیریل کی پیداوار سے گوادر کی تعمیر و ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی اور تعمیراتی منصوبوں کے لیے ضروری مٹیریل کی بروقت دستیابی ممکن ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مقامی صنعتی یونٹس سے نہ صرف سرکاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے ٹف ٹائلز اور پیورز کی ضروریات پوری کرنے میں سہولت ہوگی بلکہ نجی شعبے اور مقامی سطح پر تعمیرات کرنے والے شہریوں کو بھی معیاری تعمیراتی مٹیریل دستیاب ہوگا۔ڈی جی جی ڈی اے نے کہا کہ گوادر میں مقامی سطح پر تیار ہونے والی مصنوعات اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ جی ڈی اے گوادر میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے اور مقامی کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ گوادر کی تعمیر و ترقی میں سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کا کردار بھی اہم ہے اور مقامی صنعت و کاروبار کا فروغ شہر کی معاشی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع میں اضافے کا باعث بنے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7934/2026
قلعہ سیف اللہ: 18ستمبر۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کے اجلاس کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر قلعہ سیف اللہ ماجد سلیم نے کی۔ اجلاس میں ڈی ای او ساجد حسین، اے سی قلعہ سیف اللہ صادق یوسفزئی، ESP (UNICEF) کے ڈسٹرکٹ ہیڈ حمید اللہ کاکڑ، RTSM ممبران، GTA ممبران اور BEEF سپروائزر نصرالدین کاکڑ نے شرکت کی۔اجلاس میں تعلیم کے حوالے سے اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی، جن میں اسکولوں کی ریشنلائزیشن، تعلیمی معیار اور دیگر اہم تعلیمی معاملات شامل تھے۔ اجلاس کے شرکاءنے محکمہ تعلیم سے متعلق مختلف امور پر اپنی تجاویز اور آراء بھی پیش کیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7935/2026
گوادر18ستمبر ۔: جامعہ گوادر کے شعبہ کیمسٹری کے طلبہ نے طبی تشخیصی عمل اور کلینیکل لیبارٹری کے طریقہ کار سے عملی واقفیت حاصل کرنے کے لیے جی ڈی اے پاک چین فرینڈشپ ہسپتال، زیر انتظام انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹورک کا مطالعاتی دورہ کیا۔مطالعاتی دورہ فیکلٹی آف سائنس اینڈ انجینئرنگ کے ڈین ڈاکٹر محب اللہ کی ہدایات پر جبکہ شعبہ کیمسٹری کے چئیرپرسن وسیم حمید کے نے کیا۔ طلبہ کے ہمراہ شعبہ کیمسٹری کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ اور فیکلٹی ممبر محترمہ شلی انور بھی موجود تھیں۔ دورے کے دوران انڈس ہسپتال گوادر میں طلبہ کو ہسپتال کی لیبارٹری سہولیات، کلینیکل لیبارٹری سروسز اور مریضوں کی تشخیص میں ان کے اہم کردار کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے طلبہ کو معمول کے مختلف تشخیصی ٹیسٹوں، جن میں سی بی سی، بلڈ گلوکوز، سیرم الیکٹرولائٹس، گردوں اور جگر کے افعال کے ٹیسٹ، لپڈ پروفائل، یورین انیلیسس اور دیگر بائیوکیمیکل و ہیماٹولوجیکل ٹیسٹ شامل ہیں، سے آگاہ کیا۔ طلبہ نے سیمپل ہینڈلنگ، لیبارٹری تجزیے، کوالٹی کنٹرول اور مریضوں کے علاج و نگہداشت میں درست تشخیصی نتائج کی اہمیت کے بارے میں بھی عملی معلومات حاصل کیں۔ ہسپتال انتظامیہ نے کیمسٹری کے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے کلینیکل اور ڈائیگناسٹک لیبارٹریز میں موجود کیریئر کے مواقع پر روشنی ڈالتے ہوئے تکنیکی مہارت اور عملی تربیت کی اہمیت پر زور دیا۔ دورے کے دوران کیمسٹری کے طلبہ کے لیے ممکنہ انٹرن شپ اور عملی تربیت کے مواقع کے ساتھ ساتھ جامعہ گوادر اور انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے درمیان مستقبل میں ممکنہ تعاون کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ گوادر یونیورسٹی کے انتظامیہ اور شعبہ کیمسٹری نے طلبہ کو قیمتی رہنمائی، تعاون اور بہترین میزبانی فراہم کرنے پر انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک، گوادر، اور ڈاکٹر عدنان کا شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7936/2026
جیوانی18 ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر جیوانی طارق امام بلوچ نے دو بیست پنجا(250) کے دورے کے موقع پر مختلف ہوٹلز، دکانوں، میڈیکل اسٹورز اور کلینکس کا معائنہ کیا اورچ زائد نرخوں پر اشیاءکی فروخت اور صفائی کے ناقص انتظامات پر تین ہوٹلز سیل کرکے جرمانے عائد کیے گئے، جبکہ زائد المیعاد اشیائ اور نان کسٹم پیڈ سگریٹس قبضے میں لے لیے گئے۔ کارروائی کے دوران 15 غیر قانونی ڈپوز بھی سیل کیے گئے۔اسسٹنٹ کمشنر نے میڈیکل اسٹورز اور کلینکس میں لائسنسز، ادویات کے ریکارڈ اور دیگر قانونی تقاضوں کا بھی جائزہ لیا، جہاں ممنوعہ ادویات برآمد ہونے پر انہیں قبضے میں لے کر ضبط کرلیا گیا اس موقع پر متعلقہ دکانداروں، ہوٹل م اور میڈیکل اسٹورز و کلینکس مالکان کو ہدایت کی گئی کہ مقررہ نرخوں کی پابندی، صفائی کے مناسب انتظامات اور تمام قانونی تقاضوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔انتظامیہ نے واضح کیا کہ عوام کو معیاری اشیاء مناسب نرخوں اور محفوظ طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7937/2026
قلعہ سیف اللہ 18ستمبر۔ اجلاس کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر قلعہ سیف اللہ ماجد سلیم نے کی۔ اس میں محکمہ تعلیم، ضلعی انتظامیہ اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ مختلف اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اہم موضوعات1. اسکولوں کی ریشنلائزیشناس کا مطلب ہے کہ اسکولوں اور وہاں موجود اساتذہ و طلبہ کی تعداد کا جائزہ لیا جائے، تاکہ جہاں طلبہ زیادہ اور اساتذہ کم ہیں وہاں مناسب تعداد میں اساتذہ فراہم کیے جائیں، اور جہاں طلبہ بہت کم ہیں وہاں وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔2. تعلیمی معیار میں بہتریاجلاس میں اس بات پر بھی بات ہوئی کہ اسکولوں میں پڑھائی کا معیار کیسے بہتر بنایا جائے، طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کیسے بڑھائی جائے اور اساتذہ کی کارکردگی و حاضری کو کیسے موثر بنایا جائے۔3. دیگر تعلیمی مسائلاسکولوں سے متعلق مختلف انتظامی اور تعلیمی مسائل، سہولیات اور محکمہ تعلیم کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی۔4. مختلف اداروں کی تجاویزاجلاس میں موجود RTSM، GTA، UNICEF کے ESP اور BEEF کے نمائندوں نے اپنے تجربات اور تجاویز پیش کیں تاکہ ضلعی سطح پر تعلیم کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکتاہیں ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7938/2026
برشور:18 ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس نے ضلع برشور کے قبائلی و سیاسی عمائدین کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے قائم شدہ ضلع کی انتظامی و معاشی بہتری اور پائیدار ترقی کے لیے انقلابی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے،جس کے تحت ضلع بھر میں ترقیاتی منصوبوں کے تسلسل کے ساتھ منشیات اور تجاوزات کے خلاف بھی سخت فیصلوں کی منظوری دے دی گئی ہے،جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ہدایات پر “بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو” (BSDI) کے تحت عوامی شکایات کے بروقت آزالے کے لیے کھلی کچہریوں کا انعقاد تسلسل کے ساتھ جاری ہے،تاہم ان کچہریوں کے دوران ضلع برشور کے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے اہم اور مناسب فیصلے کیے گئے ہیں،ڈپٹی کمشنر خالد شمس نے واضح کیا کہ انتظامیہ کے ان فیصلوں کے تحت ضلع بھر میں منشیات کی غیر قانونی کاشت اور فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے،جبکہ نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے میدان آباد کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے،اس کے علاوہ سرکاری املاک و پلاٹوں میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افراد کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے تمام سرکاری آراضی کو فوری واگزار کرانے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں،تاہم ترقیاتی عمل کو موثر اور شفاف بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور رکن اسمبلی و پارلیمانی سیکرٹری اسفند یار خان کاکڑ مقامی قبائلی عمائدین کی مشاورت سے پینے کے صاف پانی،صحت کے مراکز کی بحالی،اسکولوں کی اپ گریڈیشن اور سولر سسٹمز کی تنصیب کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کر رہی ہے، اس موقع پر مقامی قبائلی و و سماجی شخصیات نے ڈپٹی کمشنر خالد شمس کے ان تیز رفتار ترقیاتی اقدامات،منشیات کے خلاف کریک ڈاون اور ضلع برشور کے بہتر مستقبل کے لیے کیے گئے فیصلوں پر گہرے اطمینان اور کامل اعتماد کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7940/2026
خضدار 18 ستمبر۔ کی انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلا کر مہم کا افتتاح کردیا۔ ضلع خضدار میں اس مہم کے دوران 90 ہزار سے زائد پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے پولیو ٹیمیں ضلع کے مختلف علاقوں میں گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین پلائیں گی۔ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر بچے کو ویکسین کی ہر خوراک پلانا انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام اور پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران کوئی بھی بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہ رہے اور فیلڈ میں ٹیموں کی موثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔سیاسی، سماجی اور قبائلی رہنماوں نے بھی انسدادِ پولیو مہم کی کامیابی کے لیے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو بروقت پولیو کے قطرے پلوائیں اور معاشرے کو پولیو سے پاک بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7941/2026
بارکھان/رکھنی۔ 18 ستمبر۔:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر ،کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی کی زیرِ صدارت ماڈل بازار اور مین بازار کے منصوبوں کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تعمیراتی کام کی پیش رفت، ٹریفک کی روانی اور شہریوں کو درپیش مسائل کے حل سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر بارکھان تا رکھنی روڈ محمد ظفر کھوسہ، ایس ای سی اینڈ ڈبلیو محمد رزاق، ایکسیئن بی اینڈ آر فضل محمد زرکون، انجینئر عبدالرحمٰن کھیتران، اسسٹنٹ کمشنر رکھنی فہد حسین عمرانی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ماڈل بازار کے تعمیراتی کام کو مقررہ تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانے اور منصوبے سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ شہر میں ٹریفک مینجمنٹ، عدالت والے روڈ کی کلیئرنس، بائی پاس سے مین روڈ تک راستہ کھولنے اور مین بازار میں سڑک کو کشادہ کرنے کے معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔متعلقہ ایس ی نے کمشنر کو شہر میں ٹریفک کی روانی، سڑکوں پر رکاوٹوں اور تجاوزات سے متعلق مسائل سے آگاہ کیا۔کمشنر مجیب الرحمٰن قمبرانی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور شہریوں کے لیے آمدورفت آسان بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے عدالت والے روڈ کو کلیئر کرنے، بائی پاس سے مین روڈ تک راستہ کھولنے اور مین بازار میں سڑک کی کشادگی کے کام کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھانے کی ہدایت کی۔کمشنر نے کہا کہ ماڈل بازار اور مین بازار کی بہتر منصوبہ بندی سے نہ صرف شہریوں کو سہولت ملے گی بلکہ شہر میں ٹریفک کا نظام بھی بہتر ہوگا۔ شہریوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکمے باہمی رابطے کے ساتھ اقدامات یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7942/2026
بارکھان/رکھنی 18 ستمبر ۔:کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی کی زیرِ صدارت ستمبر 2026ء کی پولیو مہم کے حوالے سے ڈویژنل ٹاسک فورس کا اجلاس کمشنر آفس رکھنی میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنرز ،ایڈیشنل کمشنر عبدالباسط بزدار، ڈونل ڈائریکٹر ہیلتھ/ڈی ایچ او بارکھان ڈاکٹر حسن ڈومکی، ڈاکٹر عبداللہ، ڈویڑنل پولیو سپورٹ آفیسر، ڈی پی او ڈاکٹر ناصر کھیتران، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر ماجد امین، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی غلام رسول کھیتران، ایم اینڈ ای آفیسر محمد ایوب سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ستمبر کی آئندہ پولیو مہم کے لیے اضلاع کی تیاریوں، ہائی رسک یونین کونسلز، پولیو سے رہ جانے والے بچوں، سیکیورٹی پلان، نقل مکانی کرنے والی آبادی کی ویکسی نیشن، ویکسین، ضروری سامان اور کولڈ چین کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر پولیو مہم کی موثر نگرانی، زیرو ڈوز بچوں کی نشاندہی اور ویکسی نیشن کوریج، کمیونٹی انگیجمنٹ اور اے ایف پی سرویلنس سمیت مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں پولیو مہم کے دوران تمام بچوں تک ویکسین کی رسائی یقینی بنانے اور مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کے درمیان موثر رابطہ اور مربوط اقدامات پر زور دیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7943/2026
کوئٹہ 18 ستمبر۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کوہاٹ کے پرانا پولیس لائن میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ دہشت اور وحشت پر مبنی ذہنیت کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس مقصد کیلئے ہمیں قومی اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ مشترکہ کوشوں سے ہم دہشتگردوں اور تخریب کاروں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا سکتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کوہاٹ دھماکے میں شہدائ کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی اور سوگوار خاندانوں کے ساتھ زخمیوں سے یکجہتی و ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7944/2026
استا محمد18ستمبر۔ صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی نے کوٹ نور محمد جمالی میں نئی تعمیر کردہ جدید ویٹرنری ہسپتال کا افتتاح کر دیاتفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی نے آج ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال کے ہمراہ کوٹ نور محمد جمالی میں نئی تعمیر کردہ اور جدید سہولیات سے آراستہ ویٹرنری ہسپتال کا باقاعدہ افتتاح کیا افتتاحی تقریب میں سردار زادہ جاوید خان بلیدی ،ایس پی استا محمد حافظ معاذ الرحمٰن، تمام ضلعی محکموں کے سربراہان، لائیو اسٹاک محکمہ کے افسران، علاقے کے معزز عمائدین صحافی برادری اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کیاس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک ڈاکٹر رب نواز نے صوبائی وزیر لائیو اسٹاک کو جدید ویٹرنری ہسپتال کے مختلف شعبوں دستیاب سہولیات اور طبی خدمات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ویٹرنری ہسپتال نہ صرف ضلع استا محمد بلکہ نصیرآباد ڈویڑن اور بلوچستان کے جدید ویٹرنری ہسپتالوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے ہسپتال کے قیام سے علاقے کے مالداروں اور مویشی پال حضرات کو اپنے جانوروں کے علاج معالجے کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر نہیں کرنا پڑے گا بلکہ انہیں اپنے علاقے کے قریب ہی جدید ویٹرنری طبی سہولیات میسر ہوں گیڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک نے بتایا کہ ہسپتال میں جدید لیبارٹری بھی قائم کی گئی ہے، جہاں جانوروں کے مختلف ٹیسٹ اور بیماریوں کی تشخیص کی سہولت دستیاب ہوگی جبکہ جدید سرجیکل سیکشن بھی قائم کیا گیا ہے جہاں ضرورت کے مطابق جانوروں کے آپریشن اور دیگر جراحی کے علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی انہوں نے کہا کہ جدید سہولیات کی فراہمی سے مویشیوں کی صحت بہتر بنانے بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج میں نمایاں مدد ملے گی جس سے علاقے کے مالداروں کو بھی سہولت حاصل ہوگی اس موقع پر ایکسین بلڈنگز محمد یٰسین چانڈیو نے بھی صوبائی وزیر کو منصوبے کے تعمیراتی کام اور مختلف کمپوننٹس کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی انہوں نے بتایا کہ مذکورہ منصوبہ صوبائی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت سال 2021ئمیں منظور کیا گیا تھا جس پر مجموعی طور پر 9 کروڑ 40 لاکھ روپے لاگت آئی ہے۔ منصوبے میں ویٹرنری ہسپتال کے علاوہ دفاتر اور رہائشی سہولیات بھی شامل ہیں جن میں ایک افسر بنگلہ سپرنٹنڈنٹ کوارٹر اور نچلے درجے کے ملازمین کے لیے پانچ کوارٹرز تعمیر کیے گئے ہیںافتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور ایسے منصوبے عوام کو براہِ راست سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں صوبائی وزیر نے کہا کہ کوٹ نور محمد جمالی میں جدید ویٹرنری ہسپتال کا منصوبہ سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی جان محمد جمالی کی جانب سے تجویز کیا گیا تھا جبکہ انہوں نے اس مقصد کے لیے اپنی زمین بھی فراہم کی جو علاقے کے عوام کی خدمت کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے انہوں نے کہا کہ منصوبہ 2021ء میں منظور ہونے کے باوجود مختلف وجوہات کی بنا پر تاخیر کا شکار رہا تاہم انہوں نے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ضروری اقدامات کیے تاکہ علاقے کے عوام کو جدید ویٹرنری سہولیات میسر آسکیںسردارزادہ فیصل خان جمالی نے کہا کہ علاقے میں جدید ویٹرنری ہسپتال کی اشد ضرورت تھی کیونکہ پرانے ویٹرنری ہسپتال تک جانوروں کو لے کر جانا علاقے کے لوگوں کے لیے دشوار تھا۔ نئے ہسپتال کے قیام سے مالداروں کو اپنے جانوروں کے علاج کے لیے سہولت اور آسان رسائی حاصل ہوگی انہوں نے واضح کیا کہ یہاں جانوروں کا علاج مفت کیا جائے گا اور مالدار حضرات اس جدید ہسپتال میں دستیاب طبی تشخیصی اور جراحی سہولیات سے استفادہ کر سکیں گے۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ بلوچستان میں لائیو اسٹاک کا شعبہ نہ صرف دیہی معیشت بلکہ ہزاروں خاندانوں کے روزگار اور معاشی استحکام سے بھی براہِ راست منسلک ہے جانوروں کی بہتر صحت اور بروقت علاج سے مویشی پالنے والے افراد کو معاشی نقصان سے بچانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہسپتال میں موجود جدید سہولیات کو فعال رکھا جائے اور عوام و مالداروں کو بہترین طبی خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی اور ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا معائنہ بھی کیا اور وہاں دستیاب طبی، لیبارٹری، سرجیکل اور دیگر سہولیات کا جائزہ لیا بعد ازاں صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی نے کمپوننٹ لائیو اسٹاک مارکیٹ کا سنگ بنیاد رکھا جس پر۔790۔56 ملین لاگت آئے گی
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7945/2026
کوئٹہ، 18 ستمبر۔ صوبائی وزیر و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی ہدایات پر ملاوٹی اور غیر صحت بخش دودھ و دہی کی فراہمی کے خلاف بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی خصوصی مہم تیسرے روز بھی بھرپور انداز میں جاری رہی۔ بی ایف اے کی مختلف انسپیکشن ٹیموں نے کوئٹہ کے متعدد علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد دودھ کی دکانوں، دودھ بردار گاڑیوں و موٹر سائیکلوں اور گھروں میں قائم دودھ کے یونٹس کی خصوصی چیکنگ کی۔ ترجمان بی ایف اےکے مطابق کارروائیوں کے دوران رئیسانی روڈ، طوغی روڈ، علمدار روڈ، جان محمد روڈ، سی پیک روڈ اور نواں کلی بائی پاس میں مجموعی طور پر 19 دودھ کی دکانوں، 52 دودھ بردار گاڑیوں/موٹر سائیکلوں اور گھروں میں قائم 3 یونٹس کا معائنہ کیا گیا۔ملاوٹی دودھ کی فروخت پر 16 یونٹس پر جرمانے عائد جبکہ سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب 2 مقامات کو سیل کر دیا گیا۔کارروائیوں کے دوران بی ایف اے کی موبائل لیبارٹریز کے ذریعے موقع پر دودھ کے معیار کی فوری جانچ کی گئی۔ مختلف مقامات پر مجموعی طور پر 16,150 لیٹر دودھ کا معیار چیک کیا گیا، جس میں سے ملاوٹ شدہ اور غیر معیاری قرار پانے والا 570 لیٹر دودھ تلف کر دیا گیا۔ اسی طرح 360 کلو دہی بھی چیک کیا گیا، جس میں ملاوٹ اور ناقص معیار کے باعث 200 کلو دہی تلف کیا گیا۔موبائل لیبارٹری ٹیسٹنگ کے دوران تلف کیے گئے دودھ و دہی میں پانی اور اسکمڈ ملک کی ملاوٹ کے کیسز سامنے آئے۔ مختلف نمونوں میں دودھ کے اندر 10 فیصد، 14 فیصد، 20 فیصد اور 37 فیصد تک پانی کی ملاوٹ پائی گئی جبکہ بعض کیسز میں اسکمڈ ملک کی ملاوٹ بھی ثابت ہوئی۔بی ایف اے کے مطابق کارروائیوں کے دوران متعدد مراکز پر بغیر لائسنس کاروبار، ناقص صفائی، آلودہ دودھ کے کین، غیر مناسب اسٹوریج اور حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی سمیت دیگر فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزیاں بھی سامنے آئیں جس پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی گئی۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ دودھ اور دہی میں ملاوٹ کے خلاف جاری خصوصی مہم کا مقصد شہریوں کو معیاری، محفوظ اور صحت بخش خوراک کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ مہم کے دوران موقع پر جدید موبائل لیبارٹریز کے ذریعے دودھ کے معیار کی تفصیلی جانچ کا سلسلہ بھی جاری رکھا جا رہا ہے۔ترجمان بی ایف اے نے واضح کیا کہ ملاوٹی و غیر صحت بخش دودھ اور دہی کی فراہمی کے خلاف خصوصی مہم مسلسل جاری رہے گی اور فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر و مراکز مالکان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7946/2026
گوادر، 18 ستمبر ۔رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن اور ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان نے سربندر فش لینڈنگ جیٹی پر فش آکشن ہال اور مول ہولڈرز سیکشن کا باقاعدہ افتتاح کردیا۔ اس موقع پر ماہی گیروں کی بڑی تعداد سمیت چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، سپرنٹنڈنگ انجینئر روڈز نادر بلوچ، پروجیکٹ ڈائریکٹر سربندر جیٹی حاجی حنیف حسین، ایگزیکٹو انجینئر قاسم بلوچ، یونین کونسل چیئرمین سربندر نصیب نوشروانی، معروف کاروباری و سماجی شخصیت کہدہ حمید عصا اور دیگر متعلقہ حکام و شخصیات موجود تھیں۔اس موقع پر ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن اور ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے مول ہولڈرز کو ان کے الاٹمنٹ آرڈرز بھی حوالے کیے۔فش آکشن ہال اور مول ہولڈنگ سیکشن ایک عرصے سے غیر فعال تھے، جنہیں ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان کی ہدایت پر متعلقہ شعبے نے فعال کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی فش آکشن کے باقاعدہ نظام کا آغاز بھی کیا جارہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سربندر کے ماہی گیروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا، مچھلی کی خرید و فروخت کے عمل کو منظم بنانا اور ماہی گیری کے شعبے کو مزید فروغ دینا ہے۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ جی ڈی اے کی جانب سے سربندر فش لینڈنگ جیٹی پر مول ہولڈنگ کا نظام متعارف کرانا اور فش آکشن ہال کو فعال کرنا سربندر کے ماہی گیروں کے لیے ایک اہم سہولت اور تحفہ ہے۔ اس نظام سے مقامی سطح پر ماہی گیروں کی شکار کی گئی مچھلی کی خرید و فروخت اور سپلائی چین کے عمل کو باضابطہ اور منظم بنانے میں مدد ملے گی، جس سے ان کی معاشی اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ فش آکشن اور مول ہولڈنگ کا نظام سربندر فش لینڈنگ جیٹی کے لیے معاشی سرگرمیوں اور آمدن میں اضافے کا بھی ذریعہ بنے گا۔ اس سے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ حاصل ہونے والی آمدن کو جیٹی کی دیکھ بھال، آپریشن اور مینٹیننس پر بھی خرچ کیا جاسکے گا، جس سے اس اہم سہولت کو بہتر انداز میں برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے کہا کہ فش آکشن ہال کی تعمیر کئی سال قبل مکمل ہوچکی تھی، تاہم بعض وجوہات کی بنا پر یہ فعال نہیں تھا۔ آج اس ہال کو فعال کرنے کے ساتھ فش آکشن کے باقاعدہ نظام کا بھی آغاز کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ فش آکشن کے باقاعدہ نظام سے سربندر کے ماہی گیروں کو اپنی شکار کی گئی مچھلی کی بہتر اور مناسب قیمت کے حصول میں مدد ملے گی اور مچھلی کی خرید و فروخت کا عمل زیادہ منظم اور شفاف انداز میں آگے بڑھ سکے گا۔ڈی جی جی ڈی اے نے کہا کہ فش آکشن ہال اور دیگر سہولیات سے حاصل ہونے والی آمدن کو اسی جیٹی کے آپریشن، دیکھ بھال، مینٹیننس اور سہولیات کی مزید بہتری پر خرچ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی منصوبوں پر خرچ ہونے والے فنڈز عوام ہی کے وسائل ہیں اور ان منصوبوں کا حقیقی فائدہ بھی عوام تک پہنچنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سربندر فش لینڈنگ جیٹی پر فش آکشن اور مول ہولڈنگ کے نظام کا آغاز اسی سوچ کا عملی مظہر ہے، جس سے ماہی گیروں کے ساتھ ساتھ مقامی کاروباری طبقے اور پوری کمیونٹی کو فائدہ پہنچے گا۔بعد ازاں ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن اور ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے سربندر لنک روڈ پر مجوزہ کازوے کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے متعلقہ شعبے کو ہدایت کی کہ کازوے کی تعمیر اور ڈیزائن علاقے کے موسمی حالات، بارشوں، سیلابی ریلے اور سمندری دباو کو مدنظر رکھتے ہوئے Climate Resilient اصولوں کے مطابق تیار کیا جائے۔انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبے میں ایسے پائیدار اور مضبوط ڈیزائن و تعمیراتی تقاضوں کو شامل کیا جائے جو شدید موسمی حالات میں بھی سڑک اور کازوے کو محفوظ رکھنے میں معاون ہوں، تاکہ سربندر لنک روڈ پر ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو اور عوام کو سال بھر آمدورفت کی بہتر سہولت میسر رہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7947/2026
کوئٹہ18 ستمبر۔ آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد کے لیے انٹرنل اکاونٹیبلٹی برانچ (IAB) کو مضبوط بنانے کی خاطر جامع ایس او پی جاری کر دی ہے۔ ایس او پی کے تحت IAB کو ایک بااختیار اور فیصلہ کن احتسابی فورم کے طور پر فعال کیا گیا ہے، ڈی آئی جی IAB صوبہ بھر سے موصولہ شکایات کا روزانہ جائزہ لیں گے، ریجنل ایس پیز ایس آئی اور اس سے اوپر کے افسران کے خلاف کرپشن انکوائریاں براہ راست خود کریں گے اور کیسز کو اضلاع کو واپس نہیں بھیجا جائے گا تاکہ اثر و رسوخ کو ختم کیا جا سکے، ضرورت پر پرانی بند شکایات دوبارہ کھولی جائیں گی، تفتیش سے متعلق شکایات ایس پی رینک کو دی جائیں گی اور محکمانہ کارروائیوں کی نگرانی سنٹرل پولیس آفس کرے گا۔ ایس او پی میں اے آئی جی انکوائریز کی نئی آسامی کے قیام، ریجنل ایس پیز اور ڈی ایس پیز کی خالی آسامیوں پر ترجیحی تعیناتی، IAB کو مالی و بجٹ خودمختاری دینے اور اسپیشل برانچ کی انٹیلی جنس کو احتساب کے عمل میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جبکہ عملدرآمد کی ہفتہ وار رپورٹ سنٹرل پولیس آفس کو پیش کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7948/2026
گوادر، 18 ستمبر ۔ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان نے گوادر میں ٹف ٹائلز اور پیورز تیار کرنے والے مقامی پلانٹ کا دورہ کیا، جہاں پلانٹ کے مالک اور معروف کنٹریکٹر حاجی شریف زیمل نے انہیں پلانٹ کے مختلف حصوں، پیداواری صلاحیت اور تیار کیے جانے والے تعمیراتی مٹیریلز کے حوالے سے بریفنگ دی۔اس موقع پر چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، سپرنٹنڈنگ انجینئر روڈز نادر بلوچ اور دیگر متعلقہ حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔حاجی شریف زیمل نے ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے کو بتایا کہ یہ پلانٹ گوادر کا پہلا اور واحد مقامی پلانٹ ہے جہاں اعلیٰ معیار اور مقررہ تعمیراتی معیارات کے مطابق ٹف ٹائلز اور پیورز تیار کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں اس نوعیت کے تعمیراتی مٹیریل کی مقامی سطح پر تیاری تعمیراتی شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ ماضی میں ٹف ٹائلز اور پیورز سمیت دیگر تعمیراتی مٹیریل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کراچی سے سامان منگوانا پڑتا تھا، جس کے باعث ٹرانسپورٹیشن کے اضافی اخراجات کی وجہ سے یہ مٹیریل مہنگا پڑتا تھا۔انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر ٹف ٹائلز اور پیورز کی دستیابی سے نہ صرف تعمیراتی منصوبوں کی ضروریات پوری کرنے میں آسانی ہوگی بلکہ ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات اور وقت کی بھی بچت ہوگی۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے کہا کہ نجی شعبے کی جانب سے گوادر کے تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری خوش آئند ہے۔ مقامی سطح پر تعمیراتی مٹیریل کی پیداوار سے گوادر کی تعمیر و ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی اور تعمیراتی منصوبوں کے لیے ضروری مٹیریل کی بروقت دستیابی ممکن ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مقامی صنعتی یونٹس سے نہ صرف سرکاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے ٹف ٹائلز اور پیورز کی ضروریات پوری کرنے میں سہولت ہوگی بلکہ نجی شعبے اور مقامی سطح پر تعمیرات کرنے والے شہریوں کو بھی معیاری تعمیراتی مٹیریل دستیاب ہوگا۔ڈی جی جی ڈی اے نے کہا کہ گوادر میں مقامی سطح پر تیار ہونے والی مصنوعات اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ جی ڈی اے گوادر میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے اور مقامی کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ گوادر کی تعمیر و ترقی میں سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کا کردار بھی اہم ہے اور مقامی صنعت و کاروبار کا فروغ شہر کی معاشی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع میں اضافے کا باعث بنے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7949/2026
کوئٹہ۔18ستمبر۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کی جانب سے یورپی یونین کے مالی تعاون سے جاری ریوائیول آف بلوچستان واٹر ریسورسز پروگرام (آر بی ڈبلیو آر پی) کے تحت محکمہ زراعت و کوآپریٹو حکومت بلوچستان کے ساتھ مل کر بلوچستان ایگریکلچر مارکیٹ انفارمیشن سسٹم (بی اے ایم آئی ایس) کو مزید موثر اور فعال بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں، جن کا مقصد زرعی شعبے میں بروقت، معیاری اور قابلِ اعتماد منڈی معلومات کی دستیابی اور استعمال کو یقینی بنانا ہے تاکہ شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ دیا جا سکے۔اس سلسلے میں 8 سے 10 ستمبر تک ایف اے او آفس کوئٹہ میں باغبانی کی پیداوار کی قیمتوں سے متعلق حقیقی وقت کے اعداد و شمار جمع کرنے کے موضوع پر تین روزہ تربیتی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں ہزار گنجی فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ کوئٹہ میں عملی مشق بھی کرائی گئی۔ تربیتی پروگرام کے دوران محکمہ زراعت کے افسران و اہلکاروں کو بی اے ایم آئی ایس کے ذریعے منڈی کی قیمتوں سے متعلق معلومات جمع کرنے، تصدیق، انتظام اور رپورٹنگ کے جدید اور معیاری طریقہ کار سے آگاہ کیا گیا۔تربیتی پروگرام کے پہلے روز ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع مسعود بلوچ، اسپیشل سیکریٹری محکمہ زراعت و کوآپریٹو محمد ایوب بنگلزئی اور ایف اے او بلوچستان کے صوبائی دفتر کے سربراہ ولید مہدی نے مشترکہ طور پر محکمہ زراعت کے نامزد اہلکاروں میں ایف اے او کی جانب سے فراہم کردہ 28 ٹیبلیٹس تقسیم کیے۔ ڈیجیٹل آلات کی فراہمی کا مقصد نامزد منڈیوں سے قیمتوں کے اعداد و شمار بروقت اور منظم انداز میں جمع کرنے اور محکمہ زراعت کی معمول کی مارکیٹ مانیٹرنگ کی استعداد کو مزید مضبوط بنانا ہے۔تربیتی پروگرام میں منڈی کی قیمتوں کے اعداد و شمار جمع کرنے کے طریقہ کار، زرعی اجناس کی شناخت و درجہ بندی، نمونہ لینے، ڈیٹا کے معیار کو یقینی بنانے اور بی اے ایم آئی ایس سمیت ایگری کلیکٹ آن لائن فیصلہ سازی و منصوبہ بندی معاون پلیٹ فارمز کے استعمال سے متعلق تربیت فراہم کی گئی۔ شرکائ نے ہزار گنجی فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ میں عملی مشق کے دوران حقیقی مارکیٹ حالات میں قیمتوں کے اعداد و شمار جمع کرنے کے طریقہ کار کا عملی اطلاق کیا، جس سے مختلف زرعی اجناس کی قیمتوں کی رپورٹنگ اور ڈیٹا کی تصدیق کے حوالے سے ان کی استعداد میں اضافہ ہوا۔تربیتی سرگرمی کے اختتام پر محکمہ زراعت کی جانب سے منڈی کی قیمتوں کے اعداد و شمار کی باقاعدہ وصولی، ڈیٹا مینجمنٹ، نظام کی نگرانی اور رپورٹنگ کے لیے ایک عملی ایکشن پلان بھی مرتب کیا گیا۔اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ایف اے او بلوچستان کے سربراہ ولید مہدی نے کہا کہ محکمہ زراعت کے ساتھ مل کر بی اے ایم آئی ایس کو مضبوط بنانا بلوچستان میں زرعی معلومات اور ادارہ جاتی استعداد کار کو بہتر بنانے کے لیے ایف اے او کی وسیع تر کاوشوں کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابلِ اعتماد مارکیٹ انفارمیشن زرعی شعبے میں ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی اور فیصلہ سازی، آفات و خطرات سے موثر نمٹنے، توسیعی خدمات کو بہتر بنانے اور وسائل کی موثر تقسیم میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مارکیٹ انفارمیشن سسٹم کو مضبوط بنانے سے منڈی میں شفافیت، زرعی ویلیو چینز میں بہتر روابط اور کاشتکاروں سمیت متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے لیے زیادہ باخبر فیصلوں میں مدد ملے گی۔ایڈیشنل سیکریٹری محکمہ زراعت و کوآپریٹو حکومت بلوچستان محمد یونس نے ایف اے او کے تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ قابلِ اعتماد اور بروقت مارکیٹ معلومات کی دستیابی زرعی شعبے کی موثر منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی اے ایم آئی ایس کی استعداد میں اضافے سے محکمہ زراعت بروقت مارکیٹ معلومات تک رسائی حاصل کرنے اور اسے موثر انداز میں استعمال کرنے کے قابل ہوگا، جبکہ تربیت اور فراہم کردہ ڈیجیٹل آلات کے ذریعے محکمہ کی ٹیمیں منڈی کی قیمتوں سے متعلق اعداد و شمار کی باقاعدہ وصولی اور رپورٹنگ مزید موثر انداز میں انجام دے سکیں گی۔بلوچستان ایگریکلچر مارکیٹ انفارمیشن سسٹم (بی اے ایم آئی ایس) ابتدائی طور پر انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر (آئی ٹی سی) نے یورپی یونین کے مالی تعاون سے جاری گروتھ فار رورل ایڈوانسمنٹ اینڈ سسٹین ایبل پروگریس (گراسپی) منصوبے کے تحت تیار کیا تھا، جسے اب ایف اے او کے تعاون اور تکنیکی معاونت سے مزید مضبوط اور ادارہ جاتی سطح پر فعال بنایا جا رہا ہے۔ اس نظام کو یورپی یونین کے مالی تعاون سے جاری ریوائیول آف بلوچستان واٹر ریسورسز پروگرام کے تحت مزید اضلاع تک توسیع دی جا رہی ہے، جس سے صوبے میں زرعی منڈیوں سے متعلق بروقت اور قابلِ اعتماد معلومات کی دستیابی اور استعمال کو مزید فروغ ملے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7950/2026
قلعہ عبداللہ18ستمبر۔ : کیڈٹ کالج قلعہ عبداللہ میں علم، مطالعہ اور ادب کے فروغ کے لیے قائم کی گئی اقبال لائبریری کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی لاہور ڈاکٹر عبدالروف رفیقی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کرتے ہوئے لائبریری کا افتتاح کیا۔تقریب کے دوران اقبال لائبریری کے قیام کو طلبہ میں مطالعے کے رجحان، علمی و ادبی سرگرمیوں اور تحقیقی صلاحیتوں کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ اس موقع پر پرنسپل کیڈٹ کالج قلعہ عبداللہ بریگیڈیئر عمران خان نے کہا کہ یہ علمی منصوبہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور تعاون سے پای تکمیل کو پہنچا، جو طلبہ کے لیے علم و تحقیق کے نئے مواقع فراہم کرے گا۔شرکائنے اقبال لائبریری کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ لائبریری طلبہ، اساتذہ، محققین اور اہلِ علم کے لیے مطالعہ و تحقیق کا موثر مرکز ثابت ہوگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرناممہ نمبر7951/2026
تربت. 18 ستمبر ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا.جس میں ضلع کیچ کے تعلیمی اداروں کی مجموعی صورتحال، اسکولوں کی مانیٹرنگ، بنیادی سہولیات کی فراہمی، اساتذہ کی کارکردگی اور تعلیمی معیار میں بہتری کے حوالے سے مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد، ڈی او ای اصغر علی، ڈی ڈی او ای ممتاز علی، اے ڈی او ای دشت نبی بخش، ڈی ڈی او ای ہوشاب عبیداللہ، ڈی ڈی او ای تربت محمد نعیم، ڈی پی ایم یونیسیف فیض الرحمن، ڈی ڈی او ای دشت مہوش نعمت، ڈی ڈی او ای تربت جنت عزیز، ڈی ڈی او ای ہوشاب ماہ پری سربلند، ڈی او ایف سی ایف کیچ شاہستہ حاصل، ڈی ایم آر ٹی ایس ایم عبدالحلیم، ایس ڈی اے او کیچ صدام حسین سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے افسران اور ذمہ داران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد نے ضلع کیچ میں قائم تعلیمی اداروں، اسکولوں کی تعداد اور حالیہ مانیٹرنگ سرگرمیوں کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی انہوں نے بتایا کہ ضلع کیچ میں مجموعی طور پر 571 اسکول قائم ہیں جبکہ رواں ماہ کے دوران 259 اسکولوں کے دورے کیے گئے ہیں بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ضلع میں 4 غیر فعال اسکولوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔اس موقع پر آر ٹی ایس ایم کے نمائندے عبدالحلیم بلوچ نے مانیٹرنگ رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ آر ٹی ایس ایم کی جانب سے رواں ماہ 262 اسکولوں کے دورے کیے گئے ہیں بیشتر اسکولوں میں پینے کے صاف پانی اور شدید گرمی کے دوران بجلی کی سہولت سے متعلق مسائل سامنے آئے ہیں.ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کیچ میں تعلیمی اداروں کی بہتری، طلبہ و طالبات کو سازگار تعلیمی ماحول کی فراہمی اور اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی دستیابی ضلعی انتظامیہ کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ آر ٹی ایس ایم کی مانیٹرنگ رپورٹس کی بنیاد پر اسکولوں کی ضروریات کا جائزہ لے کر عملی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ تعلیمی اداروں میں موجود مسائل کو مرحلہ وار حل کیا جا سکے اور طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم ہوں۔جلاس میں ڈی پی ایم یونیسیف فیض الرحمن نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ای ایس پی یونیسیف کی فنڈنگ کے تحت مجموعی طور پر 7 اسکولوں کو گرانٹ فراہم کی گئی ہے جبکہ طلبہ کے اسکول چھوڑنے کی شرح میں کمی لانے کے لیے 100 اسکولوں میں اساتذہ کو تربیت فراہم کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ تربیت یافتہ اساتذہ بچوں کے اسکول داخلے، ان کی صورتحال کی نگرانی اور کیس مینجمنٹ کے حوالے سے کام کر رہے ہیں تاکہ اسکول سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں برقرار رکھنے اور ڈراپ آوٹ کی روک تھام میں مدد مل سکے۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے مزید ہدایت کی کہ آنے والے بی ایس ڈی آئی پروگرام میں ضلع کیچ کے اسکولوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک خصوصی اسکیم شامل کی جائے جس کے تحت اسکولوں میں پینے کے پانی، بجلی، واش رومز اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں کی بہتری محض عمارتوں کی تعمیر تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسکولوں میں ضروری سہولیات کی دستیابی، اساتذہ کی حاضری، تعلیمی سرگرمیوں کی نگرانی اور طلبہ کی تعلیمی پیش رفت پر بھی مسلسل توجہ دی جائے۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے اجلاس کے دوران نجی تعلیمی اداروں کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی نجی اسکولوں کے دورے کرکے وہاں دستیاب بنیادی سہولیات، اساتذہ کو دی جانے والی تنخواہوں اور طلبہ سے ماہانہ وصول کی جانے والی فیسوں سمیت دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لے گی تاکہ تعلیمی اداروں میں سہولیات اور تعلیمی معیار سے متعلق صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اسکولوں کی مانیٹرنگ کو مزید موثر بنایا جائے مسائل کی بروقت نشاندہی کی جائے اور تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے باہمی رابطے اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت اقدامات جاری رکھے جائیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع کیچ میں تعلیم کے شعبے کو مزید مستحکم بنانے، اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور طلبہ و طالبات کے لیے بہتر تعلیمی ماحول کی تشکیل کے لیے ضلعی انتظامیہ تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7952/2026
حب 18ستمبر۔ کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءنے کہا ہیکہ حکومت بلوچستان معذورافرادکومعاشرے کا فائدہ مند شہری بنانے کیلئے پالیسی پر وعملدرآمد کررہی ہے سرکاری ملازمتوں میں معذورافرادکیلئے خصوصی کوٹہ مقررکیا گیاہےیہ بات انہوں نے معڑور افرادکی اسکل ڈیولپمنٹ کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کے دوران گفتگوکرتے ہو ئے ہیں ۔کمشنرلسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءسے معذور افرادکی بحالی اورانہیں ہنرمند شہری بنانے کے حوالے سےنیشنل لیول پراجیکٹ پرکام کرنیوالی تنظیم کے پراجیکٹ منیجربابراقبال نے ملاقات کی کمشنر کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ انکی تنظیم کے بانی جاوید رئیس کوفلاحی خدمات پر حکومت نے تمغہ امتیازسے نوازایےاب ہماری تنظیم لسبیلہ ڈویژن میں بھی معذورطبقے کے حوالے سے کام کرباچاہتی ہے انہوں نے بتایا کہ حادثات میں یا قدرتی طورہر معذورافراد کو فزیوتھراپی کی سہولت کے علاوہ انہیں مختلف ہنرسکھانے ویل چیئر فراہمی پر بھی کام کیا جارہا یے کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے تنظیم کے فلاحی خدمات کوسراہتے ہوئے کہا کہ لسبیلہ ڈویژن کی انتظامیہ ویلفئر پر کام کرنیوالی تنظیموں کی یرممکن حوصلہ افزاءکریگی ۔کمشنر نے ہدایات جاری کیں پہلے مرحلے میں نادرا سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ سے مستند ڈیٹاحاصل کیا جائے اوررجسٹریشن ایپ سوشل میڈیا کے ذریعے وائرل کیا جائے تاکہ معذور طبقے کو رجسٹریشن کیلئے سہولت میسر ہو اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں لسبیلہ آواران اورحب ڈسٹرکٹ کے معذوران کی رجسٹریشن اوردوسرے مرحلے میں انکی ہنرسازی کے پروگرام پر کام شروع کیاجائیگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7953/2026
تربت18ستمبر۔ : یونیورسٹی آف تربت کے بی ایس سوشیالوجی پروگرام کے چھٹے سمسٹر کے طلبہ نے فیکلٹی ممبر نورال برکت کی سربراہی میں کیچ تھیلیسیمیا کیئر سینٹر (KTCC) تربت کا مطالعاتی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد طلبہ کو کمیونٹی ہیلتھ کیئر کے عملی نظام، طویل مدتی مریضوں کی نگہداشت کے سماجی و نفسیاتی پہلوو¿ں اور تھیلیسیمیا سے متعلق آگاہی و روک تھام کے اقدامات سے روشناس کرانا تھا۔اس موقع پر کیچ تھیلیسیمیا کیئر سینٹر کے بانی و چیئرمین مسٹر ارشاد عارف نے طلبہ کو ادارے کے قیام، خدمات، انتظامی و عملی مشکلات، مریضوں کی صورتحال اور تھیلیسیمیا کے موروثی پھیلاو کی روک تھام کے لیے خطے میں جاری اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ طلبہ نے مریضوں کے وارڈ، سیمپلنگ روم اور تشخیصی لیبارٹری کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں خون کے نمونے لینے کے طریقہ کار، اسکریننگ، کراس میچنگ اور خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں سے متعلق حفاظتی اصولوں کا عملی مشاہدہ کرایا گیا۔یونیورسٹی آف تربت کے ترجمان کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے اس سرگرمی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی اور کمیونٹی کے درمیان اس نوعیت کے تعلیمی روابط طلبہ میں سماجی شعور، کمیونٹی سے وابستگی اور حقیقی عوامی صحت کے مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سرگرمیاں کلاس روم میں حاصل ہونے والے علمی و نظریاتی علم کو عملی تجربے سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور یونیورسٹی کے اسٹریٹجک پلان 2030 کے مقاصد سے بھی ہم آہنگ ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7954/2026
حب18ستمبر ۔ : وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور صوبائی حکومت کی جانب سے عوام کو معیاری بنیادی صحت کی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کی پالیسی کے تحت ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی حب ڈاکٹر مرشد دشتی نے مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن (M&E) افسر کے ہمراہ بنیادی مراکز صحت (BHU) مراد شاہیدی اور ڈام کا تفصیلی مانیٹرنگ دورہ کیا۔دورے کے دوران پی پی ایچ آئی حکام نے دونوں بنیادی مراکز صحت کی مجموعی فعالیت، سروس ڈیلیوری اور عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر طبی و معاون عملے کی حاضری، مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات، ادویات کے اسٹاک اور دستیابی، ریکارڈ کیپنگ، متعلقہ رجسٹرز اور دیگر انتظامی امور کا بھی تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرشد دشتی نے مراکز صحت کے روزمرہ انتظامی و طبی امور کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے، ادویات کی دستیابی اور مناسب اسٹاک برقرار رکھا جائے جبکہ تمام ضروری ریکارڈز کو باقاعدگی سے مکمل اور اپ ڈیٹ رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ بنیادی مراکز صحت میں سروس ڈیلیوری کو مزید موثر بنانا، عملے کی حاضری یقینی بنانا اور عوام کو بلا تعطل طبی سہولیات فراہم کرنا پی پی ایچ آئی کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ عملے پر زور دیا کہ عوامی خدمت میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی سے گریز کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7955/2026
تربت، 18 ستمبر ۔: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کیچ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع کے سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی فراہمی، عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی، ترقیاتی امور، غیر قانونی الاٹمنٹس اور عوام کو درپیش صحت کے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیچ ڈاکٹر عبدالروف بلوچ، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ٹیچنگ ہسپتال تربت ڈاکٹر وحید بلیدئی، ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرتضیٰ بلوچ سمیت متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کیچ نے سرکاری ہسپتالوں میں عملے کی حاضری، انتظامی امور اور طبی سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملازمین کی غیر حاضری، انتظامی غفلت اور ترقیاتی امور میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ غیر حاضر ملازمین کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی اور تنخواہوں سے کٹوتی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی۔اجلاس میں سول ہسپتال تربت کے سات میڈیکل اسٹورز کی الاٹمنٹس کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ ڈپٹی کمشنر نے مذکورہ الاٹمنٹس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری منسوخی کی ہدایت کی اور کہا کہ میڈیکل اسٹورز کی الاٹمنٹ کا عمل دوبارہ باقاعدہ اشتہار کے ذریعے شفاف انداز میں مکمل کیا جائے۔ انہوں نے تمام غیر قانونی الاٹمنٹس کے خلاف بھی قواعد کے مطابق کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی۔سٹی اسکین اور ایم آر آئی کی سہولیات اور ان کے اخراجات کا جائزہ لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوام، بالخصوص غریب اور مستحق مریضوں کو درپیش مشکلات کے پیشِ نظر فیس میں کمی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اجلاس کے دوران سول ہسپتال تربت میں ادویات کی عدم دستیابی کا بھی نوٹس لیا گیا، جس پر ڈپٹی کمشنر نے محکمہ صحت کوئٹہ کے حکام سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے ضروری ادویات کی فوری فراہمی اور تربت منتقلی کے احکامات جاری کیے۔اجلاس میں ڈی ایچ او کیچ ، میڈیکل سپرنٹینڈنٹ اور پی پی ایچ آئی کی جانب سے محکمہ صحت کے ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائیوں کا حوالہ بھی دیا گیا۔ جس میں ڈاکٹروں لیڈی ہیلتھ وزیٹرز کے خلاف کارروائی کے لیے سیکریٹری صحت کو سفارشات ارسال کی گئی تھیں۔ اجلاس میں ویکسینیشن اسٹاف کی کمی کے مسئلے پر بھی غور کیا گیا اور بتایا گیا کہ ضرورت پوری کرنے کے لیے جلد بھرتیوں کا عمل شروع کیا جائے گا۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے ہدایت کی کہ ضلع کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات، صفائی، ادویات کی دستیابی، عملے کی حاضری اور انتظامی امور کی موثر نگرانی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے، اس لیے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر بروقت عمل درآمد اور عوامی مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان موثر اور مربوط تعاون یقینی بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7956/026
کوئٹہ 18سبر۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت 21 ستمبر سے شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کے انتظامات کےحوالے سے ریڈینس میٹنگ منعقد ہوئی۔اجلاس میں نیشنل ای او سی ممبر، ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر پولیو، متعلقہ افسران اور دیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں پولیو مہم کے پلان، ٹیموں کی تعیناتی، سکیورٹی انتظامات اور دیگر امور کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ مہم کے دوران 4 لاکھ 41 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 1800 ٹیمیں مہم میں حصہ لیں گی۔ مہم کے لیے سکیورٹی پلان بھی مرتب کر لیا گیا ہے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں اور ہر بچے تک پولیو ویکسین کی رسائی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔
خبرنامہ نمبر7957/026
کوئٹہ 18ستمبر۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کی زیرِ صدارت کوئٹہ گرین بس سروس میں عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات، ڈیجیٹلائزیشن، بزنس پلان، مانیٹرنگ اور دیگر امور کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نعمت اللہ ترین، ڈویژنل ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ کوئٹہ ڈویژن ظہور احمد، محکمہ ٹرانسپورٹ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور دیگر کنسلٹنٹ فرم سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو کوئٹہ گرین بس سروس میں عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات، بزنس پلان، مانیٹرنگ اور دیگر معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔کمشنر ذیشان لاشاری نے ہدایت کی کہ کوئٹہ گرین بس سروس کے تمام معاملات کو مرحلہ وار ڈیجیٹلائز کیا جائے۔ انہوں نے ٹکٹنگ سسٹم کو اپ گریڈ کرتے ہوئے الیکٹرانک ٹکٹنگ مشینوں اور کارڈ سسٹم کے اجرا کے لیے اقدامات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ اس سلسلے میں کنسلٹنٹ کے ذریعے پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر جدید الیکٹرانک ٹکٹنگ مشینری اور کارڈ سسٹم متعارف کرایا جائے گا، جس کی کامیابی کے بعد اسے دیگر تمام بسوں میں بھی نافذ کیا جائے گا۔اجلاس میں بس اسٹاپس پر مسافروں کی سہولت کے لیے الیکٹرانک ڈسپلے اسکرینز اور بیٹھنے کے لیے کرسیاں فراہم کرنے کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
حکام نے اجلاس کو بتایا کہ گرین بس سروس کی مانیٹرنگ کرنے کے لیے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر بھی بنایا جائے گا جبکہ شہریوں کی سہولت کے لیے ڈیجیٹل ایپ کو بھی متحرک کیا جائے گا۔موجودہ روٹ کے علاوہ 22 فیڈر روٹس کے فزبیلٹی سروے کا کام مکمل کر لیا گیا ہے، جن کے لیے مجموعی طور پر 97 بسوں کی ضرورت ہوگی۔ ان روٹس پر سروس کے آغاز کے لیے بھی ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔کمشنر نے سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ کوئٹہ گرین بس سروس کی تمام بسوں کی باقاعدگی سے انسپیکشن اور جانچ پڑتال کی جائے۔ بس اسٹاپس کی حالت، مسافروں کو درپیش مشکلات اور بسوں کی کنڈیشن کی مسلسل مانیٹرنگ کرتے ہوئے خامیوں کو دور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے کہا کہ کوئٹہ گرین بس سروس حکومت بلوچستان کا ایک اہم عوامی منصوبہ ہے، جس کے ذریعے شہریوں کو کم کرایوں میں بہتر اور معیاری سفری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ عوام کی سہولت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے سروس کی بہتری اور معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔
خبرنامہ نمبر7958/026
کوئٹہ 18ستمبر۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کی زیر صدارت کوئٹہ شہر میں شہریوں کو پانی کی فراہمی، واسا کی کارکردگی اور انتظامی امور کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایم ڈی واسا مجیب الرحمن کاکڑ سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ایم ڈی واسا مجیب الرحمن کاکڑ نے کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو شہر میں فراہمی آب کی صورتحال، واسا کو درپیش مشکلات، غیر فعال ٹیوب ویلز، مالی مسائل اور دیگر انتظامی امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ کوئٹہ شہر میں واسا کے مجموعی طور پر 544 ٹیوب ویلز موجود ہیں، جن میں سے 387 فعال ہیں جبکہ 167 ٹیوب ویلز فنڈز کی کمی کے باعث غیر فعال ہیں اور ان کی مرمت نہیں ہو سکی۔ ایم ڈی واسا کے مطابق واسا کوئٹہ میں فراہمی آب کے نظام کو دو زونز، چلتن زون اور زرغون زون میں تقسیم کرکے شہریوں کو پانی فراہم کر رہا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کوئٹہ شہر میں شہریوں کی روزانہ پانی کی ضرورت تقریباً 60 ملین گیلن ہے، جبکہ واسا اس وقت تقریباً 31 ملین گیلن پانی روزانہ فراہم کر رہا ہے۔ یوں طلب اور رسد میں نمایاں فرق موجود ہے، جسے بڑی حد تک نجی ٹیوب ویلز کے ذریعے پورا کیا جا رہا ہے۔
ایم ڈی واسا نے بتایا کہ واسا کے ٹیوب ویلز کے علاوہ شہر میں تقریباً 998 زرعی ٹیوب ویلز اور 1400 کے قریب کمرشل ٹیوب ویلز بھی موجود ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ان میں سے بیشتر نجی کمرشل ٹیوب ویلز غیر رجسٹرڈ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ واسا کو اپنے غیر فعال ٹیوب ویلز کی بحالی کے ساتھ ساتھ ملازمین کی تنخواہوں، بجلی کے بلوں، کنٹیجنسی اخراجات، ٹیوب ویلز کی مرمت اور دیگر ضروری مینٹیننس کے لیے اضافی فنڈز کی ضرورت ہے۔ مالی وسائل کی کمی کے باعث متعدد ٹیوب ویلز کی مرمت اور بحالی کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ کوئٹہ شہر میں گھریلو و کمرشل صارفین کی تعداد 97 ہزار سے زائد ہے، جن سے واسا کو تقریباً 240 ملین روپے سالانہ ریونیو حاصل ہوتا ہے۔ بریفنگ کے مطابق صوبائی بجٹ میں واسا کے لیے تقریباً 3 ارب 705 ملین روپے مختص کیے جاتے ہیں، جبکہ واسا کے مجموعی اخراجات 4 ارب 64 ملین روپے سے زائد ہیں، جس کے باعث ادارے کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ دشت وال فیلڈ بند ہونے کے باعث سریاب کے بعض علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثر ہے، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کوئٹہ کے شہریوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے واسا کے غیر فعال ٹیوب ویلز کی بحالی اور مرمت کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو درپیش پانی کے مسئلے کے حل کے لیے دستیاب وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لایا جائے۔کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی (سولر) پر منتقل کرنے کے حوالے سے جامع تجاویز مرتب کی جائیں تاکہ بجلی کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے اور فراہمی آب کے نظام کو زیادہ مؤثر اور پائیدار بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ واسا کے انتظامی اور مالی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بلا تعطل پانی کی فراہمی کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے، جبکہ غیر فعال ٹیوب ویلز کی بحالی اور توانائی کے متبادل ذرائع کے استعمال پر خصوصی توجہ دی جائے۔
خبرنامہ نمبر7959/026
کوئٹہ، 18 ستمبر: صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے گورنمنٹ گرلز کالج جناح ٹاؤن میں منعقدہ پروقار تقریب میں ڈائریکٹر کالجز پروفیسر حسین بلوچ اور جوائنٹ ڈائریکٹر کالجز سعیدہ نیاز بلوچ ,ڈائریکٹر سکالرشپ قیصر بلوچ کے ہمراہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو اسکالرشپ پروگرام کے تحت صوبے کے 31 اضلاع سے سیشن 2025 کے ایف اے اور ایف ایس سی امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے 186 طلباء و طالبات میں مجموعی طور پر 3 لاکھ روپے کے اسکالرشپ چیکس تقسیم کیے۔اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء و طالبات قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں، حکومت ان کی حوصلہ افزائی اور اعلیٰ تعلیم کے حصول میں ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔تقریب میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام، کالجز کے پرنسپلز، طلباء و طالبات اور ان کے والدین نے شرکت کی اور ہونہار طلباء کی حوصلہ افزائی کے اقدام کو سراہا۔
خبرنامہ ممبر7960/026
کیپ ٹاؤن 18 ستمبر 2026:
وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان مینا مجید بلوچ نے 69ویں کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان کسی بھی ملک کی ترقی اور مستقبل کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، پاکستان کی 62 فیصد جبکہ بلوچستان کی 72 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان ایک متحرک اور نوجوان قوم ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں 30 فیصد سے زائد نوجوان اراکین کی موجودگی جمہوری اداروں میں نئی نسل کی مؤثر نمائندگی کا مظہر ہے۔ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی خاتون مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان کی حیثیت سے نوجوانوں کو جمہوری اور ریاستی امور میں مؤثر طور پر شامل کرنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ مینا مجید بلوچ نے کہا کہ پاکستان میں 18 سال کی عمر میں ووٹ کا حق اور بلدیاتی اداروں میں شمولیت کے مواقع نوجوانوں کو حاصل ہیں، تاہم نوجوان نسل کو درپیش سب سے بڑا اور حقیقی چیلنج روزگار کے مواقع کی فراہمی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ایک نوجوان معاشی طور پر مستحکم اور باوقار روزگار سے وابستہ نہیں ہوگا، وہ مکمل یکسوئی اور مؤثر انداز میں سیاسی و جمہوری عمل میں اپنا کردار ادا نہیں کرسکتا۔ اس لیے نوجوانوں کی معاشی بااختیاری کو پالیسی سازی میں مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔ مشیر کھیل و امورِ نوجوانان نے کہا کہ موجودہ دورِ حکومت میں بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار جامع یوتھ پالیسی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت صوبے کے نوجوانوں کو بین الاقوامی اداروں کے ساتھ منسلک کرکے فنی تربیت، عالمی سطح کی سرٹیفیکیشنز اور بیرونِ ملک روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب جوان پروگرام کے ذریعے بھی ملک کے چاروں صوبوں میں نوجوانوں کے لیے انٹرپرینیورشپ اور قیادت کے مواقع پیدا کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے نوجوانوں کی جمہوری تربیت کا اہم مرکز ہیں، جہاں کالجز اور جامعات میں طلبہ تنظیموں اور مختلف کیبنٹس کے ذریعے نوجوانوں کو جمہوری روایات، اجتماعی فیصلہ سازی اور مسائل کے حل کے طریقہ کار سے روشناس کرایا جارہا ہے۔مینا مجید بلوچ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں جغرافیائی حدود کی اہمیت کم جبکہ ہنر، علم اور تخلیقی صلاحیت کی قدر میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ دنیا کو نوجوانوں کے لیے ایسے عالمی پلیٹ فارمز تشکیل دینے کی ضرورت ہے جہاں مختلف ممالک کے نوجوان ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے خیالات کا تبادلہ اور باہمی اشتراک کرسکیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ عالمی سطح پر ایک “گلوبل یوتھ ہب” قائم کیا جائے، جو دنیا بھر کے نوجوانوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرے اور انہیں تعلیم، ہنر، روزگار، انٹرپرینیورشپ، ٹیکنالوجی اور قیادت کے شعبوں میں ایک دوسرے سے منسلک کرنے میں معاون ثابت ہو۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مناسب معاشی مواقع، جدید ہنر اور عالمی سطح کے پلیٹ فارمز فراہم کرکے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک باصلاحیت اور پیداواری قوت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
خبرنامہ نمبر7961/026
مچھ 18 ستمبر: مچھ میں انسپکٹر آف مائنز مچھ قربان علی عمرانی کی قیادت میں کان کنوں کی حفاظت، سلامتی، پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے فروغ اور محفوظ کان کنی کے حوالے سے آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا، جس میں محکمہ مائنز کے متعلقہ افسران و اہلکاروں کے علاوہ بڑی تعداد میں کان کنوں اور عوام نے شرکت کی۔ واک کے شرکاء نے مختلف بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر حفاظتی تدابیر، حفاظتی آلات کے استعمال، حادثات سے بچاؤ اور محفوظ کان کنی کے حوالے سے آگاہی پیغامات درج تھے۔ اس موقع پر الیکٹرک انسپکٹر آف مائنز مچھ عارف حسین عمرانی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کانوں میں بجلی کے نظام، برقی آلات کے محفوظ استعمال، مناسب ارتھنگ اور دیگر حفاظتی اقدامات کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جبکہ انسپکٹر آف مائنز مچھ قربان علی عمرانی نے کان کنوں کو حفاظتی قوانین و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد، حفاظتی آلات کے استعمال، گیس کی بروقت نشاندہی، مؤثر وینٹی لیشن، کانوں کی چھت کو محفوظ بنانے اور خطرناک یا متروک حصوں کو مناسب طریقے سے بند کرنے کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ اس موقع پر جونیئر انسپکٹر آف مائنز مچھ محمد اسامہ ترین نے بھی آگاہی واک کے شرکاء کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کان کنی کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، حفاظتی سامان کے درست استعمال اور ہنگامی صورتحال میں مقررہ حفاظتی طریقہ کار پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کان کنوں کی جانب سے حفاظتی اصولوں پر سنجیدگی سے عملدرآمد حادثات کی روک تھام اور قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ افسران نے اس امر پر بھی زور دیا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو انتظامات، ہنگامی راستوں اور حفاظتی طریقہ کار سے کان کنوں کا مکمل طور پر آگاہ ہونا ضروری ہے اور معمولی سی غفلت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ مائنز کی جانب سے کان کنوں میں حفاظتی شعور اجاگر کرنے کے لیے ایسی آگاہی سرگرمیوں کا مقصد محفوظ اور ذمہ دارانہ کان کنی کے کلچر کو فروغ دینا اور مزدوروں کو دورانِ کام ممکنہ خطرات سے مؤثر انداز میں آگاہ کرنا ہے۔ آگاہی واک کے دوران کان کنوں اور عوام میں حفاظتی شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ کان کنی کے شعبے میں پیشہ ورانہ مہارت، احتیاط اور ذمہ داری کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔ عوامی حلقوں اور کان کنوں نے محکمہ مائنز کی جانب سے منعقدہ آگاہی واک کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی عملی آگاہی مہمات کان کنوں کو حفاظتی اصولوں سے روشناس کرانے، حادثات کی روک تھام اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔
خبرنامہ نمبر7962/026
کوئٹہ، 18 ستمبر
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوہاٹ میں بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے دھماکے میں شہید افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا جبکہ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے، بزدلانہ کارروائیوں سے دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کو کمزور نہیں کیا جاسکتا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گرد عناصر ملک کے امن و استحکام کے دشمن ہیں، پوری قوم اور ریاستی ادارے ان کے خلاف یکسو ہیں۔ انہوں نے شہید افراد کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندانوں کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔
خبرنامہ نمبر7963/026
کوئٹہ: بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) میں چیئرپرسن بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی زیرِ صدارت کنٹریکچوئل ایگزیکیوشن اور کنسلٹنسی سروسز کے حوالے سے ڈیجیٹل اصلاحات اور پیش رفت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر نے شعبے کی رجسٹریشن، محصولات کی وصولی، مقررہ اہداف کے حصول، درپیش چیلنجز اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔چیئرپرسن نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ محصولات میں مزید اضافے کے لیے ڈیسک آڈٹس، نئی رجسٹریشنز، ٹیکس تعمیل کے مؤثر نفاذ اور فیلڈ مانیٹرنگ کو مزید مؤثر بنایا جائے، جبکہ ٹیکس دہندگان کو قانون کے مطابق بروقت رہنمائی اور سہولت فراہم کی جائے۔اجلاس میں آئی ٹی ٹیم کو بھی ہدایت کی گئی کہ جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال سے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے عمل کو مزید تیز کیا جائے اور رجسٹریشن، ٹیکس رپورٹنگ، مانیٹرنگ اور کلیکشن کے عمل کو مزید مؤثر، شفاف اور ڈیجیٹل بنایا جائے۔چیئرپرسن نے اس امر پر زور دیا کہ ڈیٹا پر مبنی نگرانی، جدید ڈیجیٹل نظام اور مؤثر ٹیکس تعمیل کے ذریعے محصولات کی وصولی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ٹیکس دہندگان کے لیے خدمات کو مزید آسان بنایا جائے۔
خبرنامہ نمبر7964/026
کوئٹہ 18 ستمبر: گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ چیزوں کی فیوچر ویلیو اور انٹرنیشنل رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے وویمن یونیورسٹی میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس، میڈیکل لیب ٹیکنالوجی، ہیومن نیوٹریشن اینڈ ڈائٹری سمیت جدید اور مارکیٹ ڈریون مضامین متعارف کرائے جا رہے ہیں جن سے طالبات کو جدید سائنسی علوم اور ٹیکنالوجیکل مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ مقامی سطح کے ساتھ ساتھ قومی اور عالمی روزگار کی مارکیٹ میں بھی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ضلع ژوب میں وویمن یونیورسٹی کے کیمپس کا قیام پورے ڈویژن کی ہزاروں طالبات کیلئے اعلیٰ تعلیم کے نئے مواقع پیدا کریگا۔ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والی بہت سی باصلاحیت طالبات مالی مشکلات، سفری مسائل اور دیگر سماجی و معاشی رکاوٹوں کے باعث اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ پاتیں۔ ژوب کیمپس کا قیام ان طالبات کو ان کی دہلیز پر ہائیر ایجوکیشن کے قریب لانے اور ان کے تعلیمی خوابوں کو عملی شکل دینے میں مدد دیگا۔ یہ بات انہوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں سردار بہادرخان وویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر روبینہ مشتاق سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا میں بعض روایتی مضامین کی مارکیٹ ویلیو کم ہو رہی ہے جبکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس، جدید لیبارٹری ٹیکنالوجی، نیوٹریشن ، ڈیٹا سائنسز اور دیگر نئے شعبے انسانی زندگی اور جدید معیشت کی اہم ضرورت بنتے جا رہے ہیں۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ہمیں پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو بھی اپنے تعلیمی پروگرامز کو مستقبل قریب کی ضروریات، ہائیر ایجوکیشن پالیسی اور مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیح صرف اکیڈمک ڈگریاں جاری کرنا نہیں بلکہ ایسی کوالٹی ایجوکیشن فراہم کرنا ہے جو نئی نسل کو جدید علم، ڈیجٹل اسکلز اور روزگار کے نئے مواقعوں سے منسلک کر سکے۔ تعلیمی نصاب اور مارکیٹ کی ضرورت کے درمیان موجود خلا کو کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ہمارے نوجوان ڈگری کے ساتھ قابلِ روزگار مہارتیں بھی حاصل کر سکیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس محض ایک نیا مضمون نہیں بلکہ صنعت، تعلیم، صحت، زراعت، فنانس اور گوڈ گورننس سمیت تقریباً ہر شعبے میں تبدیلی کا ذریعہ بن رہی ہے۔ اسلیے ہماری سرکاری یونیورسٹیوں کو مستقبل قریب کے ان شعبوں میں افرادی قوت تیار کرنے کیلئے ابھی سے سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ خواتین کو معیاری اور جدید تعلیم فراہم کرنا صرف انفرادی ترقی کا معاملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی معاشی اور سماجی ترقی سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو تحقیق، اختراع، ڈیجیٹل مہارتوں، انٹرپرینیورشپ اور صنعت سے روابط پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی تاکہ طالبات تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنے کاروبار اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکیں۔ اس موقع پر وائس چانسلر سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق نے گورنر بلوچستان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چانسلر آفس کی بھرپور معاونت، رہنمائی اور مسلسل سرپرستی کے نتیجے میں یونیورسٹی نہ صرف مختلف انتظامی و مالی بحرانوں سے نکلنے میں کامیاب ہوئی بلکہ اس کی رینکنگ اور اسکورنگ میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے اور یونیورسٹی کی مجموعی کارکردگی میں تقریباً دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں جدید تعلیمی پروگرامز کا اجراء، تحقیق کے فروغ، تعلیمی معیار میں بہتری اور طالبات کیلئے نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے عملی اقدامات جاری ہیں۔
خبرنامہ نمبر7965/025
گوادر/پسنی: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے عوامی شکایات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شہر کے مختلف پٹرول پمپس کا اچانک معائنہ کیا۔ اس دوران پٹرولیم مصنوعات کی مقررہ سرکاری نرخوں کے مطابق فروخت، پیمانے اور فی لیٹر ایندھن کی مقدار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
معائنے کے دوران ایک پٹرول پمپ پر مقررہ مقدار سے کم ایندھن فراہم کرنے کی شکایت درست ثابت ہونے پر اسے موقع پر سیل کر دیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے پٹرول پمپ انتظامیہ کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو مقررہ نرخوں پر درست مقدار میں ایندھن کی فراہمی یقینی بنائی جائے، جبکہ پیمانے میں کمی، زائد نرخ وصول کرنے یا صارفین کو کسی بھی صورت میں نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسسٹنٹ کمشنر خسرو دلاوری نے پٹرول پمپ مالکان کو خبردار کیا کہ مقررہ نرخوں اور پیمانے کی خلاف ورزی پر بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ عوامی مفاد اور صارفین کے حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر نے مین بازار پسنی میں مختلف جنرل اسٹورز کا بھی معائنہ کیا اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں، معیار اور زائد المیعاد مصنوعات کی موجودگی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے دکانداروں کو ہدایت کی کہ عوام کو معیاری اور مقررہ نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنائیں اور زائد المیعاد اشیاء کی فروخت سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف کی فراہمی، ناجائز منافع خوری اور غیر معیاری و زائد المیعاد اشیاء کی فروخت کی روک تھام ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اس ضمن میں بازاروں اور کاروباری مراکز کی نگرانی کا سلسلہ مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر7966/026
زیارت18 ستمبر 2026
*ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی کی زیر صدارتڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ اجلاس: غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی، اسکولوں کی نگرانی کے لیے کمیٹیاں تشکیل، اساتذہ کی حاضری اور کارکردگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی کا فیصلہ۔ ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں تعلیمی امور، سرکاری اسکولوں کی کارکردگی، اساتذہ کی حاضری، طلبہ کے تعلیمی معیار اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی سمیت دیگر متعلقہ امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لطیف اللہ غرشین، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن عبدالمالک تاج، اکاؤنٹس آفیسر عبدالغنی پانیزئی، ڈی ڈی او فیمیل زیارت فرزانہ ارباب، ڈی ڈی او فیمیل سنجاوی فرزانہ کلثوم، ڈی ڈی او زیارت نقیب اللہ کاکڑ، جے ٹی اے کے صدر محمد نور دمڑ، جے ٹی اے آئینی کے صدر فیروز خان اور آر ٹی ایس ایم بدرالدین سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں ضلع زیارت کے دونوں تحصیلوں میں تعلیمی اداروں کی مجموعی صورتحال، تدریسی و انتظامی امور، اساتذہ کی حاضری، طلبہ کے تعلیمی معیار اور اسکولوں میں دستیاب سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے تعلیمی نظام میں مزید بہتری کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلع کی دونوں تحصیلوں میں اسسٹنٹ کمشنرز کی سربراہی میں کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، جو مختلف سرکاری اسکولوں کے باقاعدہ دورے کرکے تعلیمی و انتظامی صورتحال، اساتذہ کی حاضری اور دیگر امور کا موقع پر جائزہ لیں گی اور اپنی رپورٹ پیش کریں گی۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مسلسل غیر حاضر رہنے والے اساتذہ کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ غیر حاضر اساتذہ کو شوکاز نوٹس جاری کرکے ان سے جواب طلب کیا جائے گا، جبکہ غیر حاضری کی وجوہات معلوم کرنے کے بعد ضابطے کے مطابق تنخواہوں سے کٹوتی سمیت دیگر محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ سرکاری ملازمین بالخصوص اساتذہ کی بروقت حاضری اور ذمہ دارانہ کارکردگی تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فرائض میں غفلت، غیر حاضری اور طلبہ کے تعلیمی مستقبل سے متعلق کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/7969
کوئٹہ 18 ستمبر:ـوزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی نے گورنمنٹ گرلز کالج کوئٹہ کینٹ کی ہونہار طالبہ سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے، جس کے تحت ڈائریکٹوریٹ آف کلچر میں طالبہ کے اعزاز میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل کالج کی تقریب میں طالبہ کی شاندار موسیقی کی کارکردگی پر وزیراعلیٰ نے ان کی باقاعدہ تعلیم و تربیت کے لیے ہر ممکن سرکاری سرپرستی کی یقین دہانی کرائی تھی، اور اسی سلسلے میں آج طالبہ کو ڈائریکٹوریٹ آف کلچر بلایا گیا جہاں وزیراعلیٰ کی خصوصی ہدایت پر انہیں نقد انعام، ایک جدید میوزک کیبورڈ اور ڈائریکٹوریٹ میں جاری میوزک کلاسز میں باقاعدہ تربیت کا اہتمام کر کے دیا گیا، جبکہ ڈائریکٹوریٹ کے حکام نے اعادہ کیا کہ صوبے کے نوجوان اور باکمال استعداد کے حامل طالب علموں کی سرپرستی اور فن و ثقافت کا فروغ حکومتِ بلوچستان کی اولین ترجیح ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7970
مچھ 18 ستمبر: مچھ میں انسپکٹر آف مائنز مچھ قربان علی عمرانی کی قیادت میں کان کنوں کی حفاظت، سلامتی، پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے فروغ اور محفوظ کان کنی کے حوالے سے آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا، جس میں محکمہ مائنز کے متعلقہ افسران و اہلکاروں کے علاوہ بڑی تعداد میں کان کنوں اور عوام نے شرکت کی۔ واک کے شرکاء نے مختلف بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر حفاظتی تدابیر، حفاظتی آلات کے استعمال، حادثات سے بچاؤ اور محفوظ کان کنی کے حوالے سے آگاہی پیغامات درج تھے۔ اس موقع پر الیکٹرک انسپکٹر آف مائنز مچھ عارف حسین عمرانی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کانوں میں بجلی کے نظام، برقی آلات کے محفوظ استعمال، مناسب ارتھنگ اور دیگر حفاظتی اقدامات کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جبکہ انسپکٹر آف مائنز مچھ قربان علی عمرانی نے کان کنوں کو حفاظتی قوانین و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد، حفاظتی آلات کے استعمال، گیس کی بروقت نشاندہی، مؤثر وینٹی لیشن، کانوں کی چھت کو محفوظ بنانے اور خطرناک یا متروک حصوں کو مناسب طریقے سے بند کرنے کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ اس موقع پر جونیئر انسپکٹر آف مائنز مچھ محمد اسامہ ترین نے بھی آگاہی واک کے شرکاء کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کان کنی کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، حفاظتی سامان کے درست استعمال اور ہنگامی صورتحال میں مقررہ حفاظتی طریقہ کار پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کان کنوں کی جانب سے حفاظتی اصولوں پر سنجیدگی سے عملدرآمد حادثات کی روک تھام اور قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ افسران نے اس امر پر بھی زور دیا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو انتظامات، ہنگامی راستوں اور حفاظتی طریقہ کار سے کان کنوں کا مکمل طور پر آگاہ ہونا ضروری ہے اور معمولی سی غفلت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ مائنز کی جانب سے کان کنوں میں حفاظتی شعور اجاگر کرنے کے لیے ایسی آگاہی سرگرمیوں کا مقصد محفوظ اور ذمہ دارانہ کان کنی کے کلچر کو فروغ دینا اور مزدوروں کو دورانِ کام ممکنہ خطرات سے مؤثر انداز میں آگاہ کرنا ہے۔ آگاہی واک کے دوران کان کنوں اور عوام میں حفاظتی شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ کان کنی کے شعبے میں پیشہ ورانہ مہارت، احتیاط اور ذمہ داری کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔ عوامی حلقوں اور کان کنوں نے محکمہ مائنز کی جانب سے منعقدہ آگاہی واک کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی عملی آگاہی مہمات کان کنوں کو حفاظتی اصولوں سے روشناس کرانے، حادثات کی روک تھام اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/7971
گوادر18 ستمبر: ضلع گوادر میں ماں اور بچے کی صحت کا ہفتہ جاری ہے، جو 14 ستمبر2026 کو شروع ھوا ھے مہم کا مقصد بچوں اور ماؤں کو بنیادی حفاظتی و صحت کی سہولیات فراہم کرنا اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے عوام میں آگاہی پیدا کرنا ہے اس حوالے سے ضلعی نیشنل پروگرام کوآرڈینیٹر ڈاکٹر عبدالوحد نے بتایا کہ مہم کے دوران ضلع بھر میں بچوں کو روٹین حفاظتی ٹیکہ جات فراہم کیے جا رہے ہیں، بچوں کو کرم کُش گولیاں دی جا رہی ہیں جبکہ حاملہ خواتین کو ٹی ٹی ویکسینیشن فراہم کی جا رہی ہے ڈاکٹر عبدالوحد نے والدین سے اپیل کی کہ وہ ماں اور بچے کی صحت کے ہفتے میں بھرپور حصہ لیں اور اپنے بچوں کو مقررہ مراکز پر لے جا کر حفاظتی ٹیکہ جات اور کرم کُش گولیاں ضرور دلوائیں تاکہ بچوں کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے ساتھ ان کی صحت مند نشوونما کو یقینی بنایا جا سکے ان کا کہنا تھا کہ
بچوں کی صحت مند زندگی کے لیے بروقت ویکسینیشن اور صحت کی حفاظتی سہولیات سے استفادہ کرنا والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔ عوام مہم کے دوران محکمۂ صحت کی ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔
خبر نامہ نمبر 2026/7972
گوادر 18 ستمبر:-ضلع گوادر میں شعبہ تعلیم کے فروغ، اساتذہ کی حوصلہ افزائی اور طلبہ کے لیے مثبت و تعمیری سرگرمیوں کے انعقاد میں مسلسل تعاون اور قابلِ قدر خدمات کے اعتراف میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر گوادر زاہد حسین اور یونیسیف کے ضلعی ایجوکیشن سپورٹ منیجر عادل نودیزئی کی جانب سے میر عبدالغفور کلمتی ویلفیئر فاؤنڈیشن گوادر کے چیئرمین میر ارشد کلمتی کو تعریفی سرٹیفکیٹ اور سووینئر پیش کیا گیا میر ارشد کلمتی کی جانب سے ضلع گوادر میں تعلیم کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات میں بھرپور معاونت فراہم کی گئی، جن میں ٹیچرز ڈے کی تقریب، ریٹائرڈ اساتذہ کو خراجِ تحسین اور اعزازات، اسپورٹس فیسٹیول، اسکول لائبریریوں کے لیے کتب کی فراہمی اور سائنس ایجوکیشنل گالا کا انعقاد شامل ہے ضلعی ایجوکیشن آفیسر زاہد حسین اور یونیسیف کے ضلعی ایجوکیشن سپورٹ منیجر عادل نودیزئی نے میر ارشد کلمتی کی تعلیمی سرگرمیوں میں معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے اساتذہ کی حوصلہ افزائی، طلبہ میں تعلیمی، سائنسی، تخلیقی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ اور معاشرے میں تعلیم کی اہمیت اجاگر کرنے میں مدد مل رہی ہے۔اس موقع پر میر ارشد کلمتی نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زاہد حسین اور یونیسیف کے ضلعی ایجوکیشن سپورٹ منیجر عادل نودیزئی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ضلع گوادر میں تعلیم کے فروغ اور طلبہ و اساتذہ کے لیے مثبت سرگرمیوں میں تعاون جاری رکھنے کو سہرا۔
خبر نامہ نمبر 2026/7973
قلات18ستمبر:ـوزیراعلی بلوچستام سرفرازبگٹی کی ہدایت پر منعقدہ کھلی کچہری کے مثبت نتائج سامنے آناشروع ہوگئے ہیں گزشتہ دنوں ڈپٹی کمشنر انجینیئر عائشہ زہری کی زیرصدارت عوامی مسائل کے حل کے لیے منعقدہ کھلی کچہری مجں خواتین سائلین کی جانب سے کلی پندرانی واٹر سپلائی کی بندش کے حوالے سے شکایات سامنے آئیں تھیں ًڈپٹی کمشنر قلات نے ترجیحی بنیادوں پر کلی پندرانی واٹر سپلائی کے لیے نیا انورٹر نصب کرکے علاقہ مکینوں کو پینے کے پانی کی فراہمی بحال کردی گئی۔ہے
ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری اور ایکسین پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) سہیل باروزئی کی خصوصی ہدایات پر ایس ڈی او ہدایت اللہ بلوچ نے فوری اقدامات کرتے ہوئے کلی پندرانی واٹر سپلائی کا نیا انورٹر نصب کیا، جس کے بعد علاقے میں پانی کی فراہمی دوبارہ شروع کردی گئی ہے۔علاقہ مکینوں نے پانی کی فراہمی بحال ہونے پر وزیراعلی بلوچستان ضلعی انتظامیہ اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں کلی پندرانی واٹر سپلائی کی عدم۔فنکشنل سے علاقے میں پانی کی فراہمی معطل ہوگئی تھی۔علاقہ مکینوں نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے منعقدہ کھلی کچہریوں کے دوران پانی کی بندش کا مسئلہ ڈپٹی کمشنر کے نوٹس میں لایا، جس پر ڈپٹی کمشنر انجینیئر عائشہ زہری نے فوری ایکشن لیتے ہوئے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کو علاقے میں پانی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ڈپٹی کمشنر کی ہدایات پر محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نیا انورٹر نصب کیا اور کلی پندرانی میں پانی کی فراہمی بحال کردی۔
علاقہ مکینوں نے امید ظاہر کی کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکمے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اسی طرح عملی اقدامات جاری رکھیں گے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7974
قلات18ستمبر:ـڈپٹی کمشنر قلات انجینیئر عائشہ زہری کے زیرِ صدارت ریونیو اسٹاف کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سپرنٹنڈنٹ ریونیو ملک حبیب محمدشہی، تحصیلدار قلات حاجی عبدالغفار لہڑی، نائب تحصیلدار خالق آباد رضا محمد سمیت قلات اور خالق آباد کے قانون گو اور پٹواریوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں زرعی انکم ٹیکس، گرداوری، ریونیو ریکارڈ کی درستگی و تکمیل اور دیگر متعلقہ امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ریونیو امور میں شفافیت، ریکارڈ کی بروقت تکمیل اور عوام کو درپیش مسائل کے فوری حل کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر انجینیئر عائشہ زہری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زرعی انکم ٹیکس اور گرداوری کے عمل میں شفافیت، میرٹ اور درست ریکارڈ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ ریونیو ریکارڈ عوام کے بنیادی حقوق سے براہِ راست وابستہ ہے، اس لیے تمام ریونیو افسران اور اہلکار اپنی ذمہ داریاں ایمانداری، غیر جانب داری اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں۔انہوں نے کہا کہ گرداوری کے عمل میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ عوام کو ریونیو سے متعلق امور میں غیر ضروری مشکلات سے بچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ریونیو معاملات کو مقررہ وقت کے اندر نمٹایا جائے اور عوامی شکایات کے ازالے کو ترجیح دی جائے۔



