18th-June-2026

خبرنامہ نمبر4925/2026
کوئٹہ 18جون ۔ صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بلوچستان اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کیا۔ بجٹ کا مجموعی حجم 1089 ارب روپے تھا۔ بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کیلئے 797 ارب روپے مختص کیے جبکہ صوبائی ترقیاتی پروگرام کے لیے 206 ارب روپے رکھے اس کے علاوہ نئے سکیمات کے لیے 106ارب روپے جبکہ جاری منصوبوں کے لیے 100 ارب روپے رکھے گئے ہیں بلوچستان صوبائی حکومت نے مشکل مالی حالات کے باوجود وفاق کے طرز پر صوبائی ملازمین کے تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد کا اضافہ کیا۔ حالیہ بجٹ میں زندگی کی ہر شعبے کے محرومی اور پسماندگی دور کرنے کا احاطہ کیا ہے انفراسٹرکچر، روزگار کی فراہمی اور ترقیاتی پروگرام کو خصوصی اہمیت دی جائی گی تاکہ عوامی مسائل کی دیر پا حل یقینی بنایا جاسکے اس کے علاوہ تعلیم ، صحت اور پینے کے صاف پانی کی سہولیات ان کی دہلیز پر میسر ہو۔ حالیہ بجٹ بلوچستان کی تمام اضلاع کے خوشحالی اور پائیدار ترقی کی ضامن ہوگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4926/2026
نصیرآباد: 18جون ۔ سپرنٹنڈنٹگ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد ڈویژن مدثر ظفر کھوسہ نے کہا ہے کہ سندھ سے بلوچستان کے جائز حصے کے پانی کے حصول کے لیے صوبائی سطح پر اعلیٰ حکام مسلسل رابطے میں ہیں اور پٹ فیڈر کینال میں پانی کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کے لیے بھرپور اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گڈو بیراج پر موجود سب ڈویژنل آفیسر حاجی ممتاز علی سومرو پانی کی فراہمی اور ترسیل کے عمل کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں جبکہ ایگزیکٹو انجینئر پٹ فیڈر کینال فرید احمد پندرانی کی ہدایات کی روشنی میں دستیاب پانی تمام ذیلی شاخوں میں منصفانہ اور مرحلہ وار تقسیم کیا جا رہا ہے تاکہ کمانڈ ایریا کے تمام کاشتکاروں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ حاجی ممتاز علی سومرو پٹ فیڈر کینال کے آر ڈی 109 پر موجود رہ کر زرعی پانی کے حصول اور ترسیل کے تمام امور کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ پٹ فیڈر کینال کے لیے محکمہ کی مجموعی ڈیمانڈ 6500 کیوسک پانی ہے تاہم تاحال صرف 4700 کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے جس کے باعث زرعی شعبے کو مشکلات کا سامنا ہے اور کاشتکار متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ایریگیشن کو کاشتکاروں کو درپیش مسائل کا مکمل ادراک ہے اور اس حوالے سے تمام صورتحال سے حکام بالا کو تحریری طور پر آگاہ کیا گیا ہے۔مدثر ظفر کھوسہ نے کہا کہ صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی اور صوبائی سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمان بلوچ کی خصوصی کاوشوں کے نتیجے میں پٹ فیڈر کینال میں پانی کی فراہمی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ایریگیشن نے ہمیشہ سندھ حکام کے سامنے بلوچستان کے جائز حصے کے پانی کا بھرپور مقدمہ پیش کیا ہے اور پانی کی عدم فراہمی یا کمی کے معاملے پر ہر سطح پر احتجاج اور موثر رابطے کیے گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری اولین ترجیح بلوچستان کے کاشتکاروں کو ان کا حق دلانا ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ اگر پٹ فیڈر کینال کو 6500 کیوسک پانی فراہم کیا جائے تو موجودہ شارٹ فال کا کافی حد تک خاتمہ ہو سکتا ہے اور زرعی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گڈو بیراج میں پانی کی وافر مقدار موجود ہونے کے باوجود بلوچستان کو اس کے جائز حصے کے مطابق پانی فراہم نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے نہ صرف پانی کی ترسیل متاثر ہوئی بلکہ کاشتکاروں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا۔سپرنٹنڈنٹ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد ڈویژن مدثر ظفر کھوسہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ ایریگیشن کاشتکاروں کے وسیع تر مفاد کے تحفظ اور زرعی ضروریات کی تکمیل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب پانی کی منصفانہ تقسیم کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا تاکہ کمانڈ ایریا کے تمام کاشتکاروں کو یکساں طور پر فائدہ پہنچ سکے اور ان کے مسائل کے حل میں مدد ملے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4927/2026
نصیرآباد18جون ۔ : ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل سے انجمن تاجران کے صدر تاج بلوچ کی قیادت میں تاجروں کے ایک نمائندہ وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں جنرل سیکرٹری لیاقت علی چکھڑا، داسو مل، حاجی عبدالنبی مغیری، گھنشام داس، میرجان مینگل، علی محمد بوہڑ، حاجی قدیر قریشی، لعل بخش مغیری، ہرپال داس، عبدالعزیز کھوسہ، صابر علی سولنگی، ظہور احمد عمرانی سمیت دیگر تاجران شریک تھے۔ اس موقع پر وفد نے ضلع میں امن و امان کی صورتحال، پانی کی فراہمی،آٹے کی فراہمی میں درپیش چیلنجوں کاروباری سرگرمیوں اور تاجروں کو درپیش دیگر مسائل کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کہا کہ تاجران ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور کاروباری طبقہ ملکی ترقی اور معاشی استحکام میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، ضلعی انتظامیہ تاجروں کے مسائل کے حل اور انہیں ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ تاجروں کو درپیش تمام مسائل کا موثر حل نکالا جائے اور ان کے جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے، تاہم تاجران برادری پر بھی لازم ہے کہ وہ عوامی مفاد اور امن و امان کے قیام کے لیے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کو یقینی بنائیں۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ محرم الحرام کے مقدس ایام کے دوران ضلع بھر میں سکیورٹی کے غیر معمولی اور مو¿ثر انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عزاداروں، جلوسوں اور مجالس کے شرکاء کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے تاجران سے اپیل کی کہ وہ محرم الحرام کے دوران انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور سکیورٹی اقدامات پر عملدرآمد میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جلوسوں اور حساس روٹس پر واقع دکانوں کو متعلقہ ایام میں سکیورٹی پلان کے تحت عارضی طور پر سیل کیا جائے گا جس کا مقصد صرف اور صرف امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچاوکو یقینی بنانا ہے۔ تاجران نے ضلعی انتظامیہ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور عوامی مفاد میں مشترکہ کوششوں کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4928/2026
نصیرآباد:18جون ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کہا ہے کہ ضلع نصیرآباد میں خدمات انجام دینے والی تمام غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو موثر، شفاف اور نتیجہ خیز انداز میں مکمل کریں تاکہ مقامی آبادی کو ان کے ثمرات براہ راست حاصل ہو سکیں۔ انہو ں نے اس بات پر زور دیا کہ این جی اوز کے سربراہان اور ذمہ داران پر لازم ہے کہ وہ اپنے منصوبوں میں مقامی نوجوانوں کو ترجیحی بنیادوں پر روزگار کے مواقع فراہم کریں تاکہ ضلع کے تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوانوں کو اپنے ہی علاقے میں باعزت روزگار میسر آ سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع نصیرآباد میں کام کرنے والی مختلف این جی اوز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی اور اپنے جاری منصوبوں اور سرگرمیوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ این جی اوز اپنے دفاتر بھی ضلع نصیرآباد میں قائم کریں تاکہ مقامی سطح پر رابطوں کو فروغ ملے، عوامی مسائل کا بروقت ادراک ہو اور منصوبوں کی نگرانی موثر انداز میں ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ تمام این جی اوز کی کارکردگی، منصوبوں کی شفافیت، فنڈز کے استعمال اور عوامی مفاد میں حاصل ہونے والے نتائج کا باریک بینی سے جائزہ لے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام منصوبے مقررہ اہداف کے مطابق مکمل ہوں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جن این جی اوز کے مختلف ترقیاتی، فلاحی، تعلیمی، صحت یا دیگر شعبوں سے متعلق منصوبے جاری ہیں وہ ضلعی انتظامیہ کو باقاعدگی سے اپنی سرگرمیوں، پیش رفت اور منصوبوں کی تفصیلات سے آگاہ رکھیں تاکہ باہمی رابطے اور تعاون کے ذریعے عوامی خدمت کے عمل کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ ایسے تمام اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی جو خلوص نیت کے ساتھ عوامی فلاح، ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کر رہے ہیں اور مقامی آبادی کے مسائل کے حل میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4929/2026
کوئٹہ، 18 جون۔ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس/کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری اشفاق احمد نے ہیڈ کوارٹر بدر لائن میں محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال، سیکیورٹی انتظامات اور بلوچستان کانسٹیبلری کی تیاریوں کے حوالے سے ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں صوبے بھر بالخصوص کوئٹہ شہر میں محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی انتظامات، حساس مقامات کی نگرانی، مجالس اور جلوسوں کی سیکیورٹی، نفری کی تعیناتی، گشت کے نظام اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بلوچستان کانسٹیبلری کے تمام زونل کمانڈرز اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس/کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری اشفاق احمد نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سمیت صوبے کے تمام اضلاع میں فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں اور ڈیوٹی پر مامور افسران و اہلکار انتہائی چوکسی، پیشہ ورانہ مہارت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔انہوں نے تمام زونل کمانڈرز کو ہدایت دی کہ اپنے زیرِ کمان اہلکاروں کو ہر وقت الرٹ رکھا جائے اور حساس مقامات، داخلی و خارجی راستوں، اہم تنصیبات، امام بارگاہوں، مجالس اور جلوسوں کے راستوں پر خصوصی نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مشکوک افراد، اشیاء اور غیر معمولی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے۔اشفاق احمد نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران عوام کے تحفظ اور پرامن ماحول کے قیام کے لیے بلوچستان کانسٹیبلری دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل رابطے اور تعاون کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیکیورٹی پلان پر عملدرآمد میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اہلکاروں کی فلاح و بہبود کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تمام زونل کمانڈرز کو ہدایت کی کہ دورانِ ڈیوٹی جوانوں کو صاف ستھرا، معیاری اور مقررہ اوقات میں کھانا فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کی ضروریات کا مکمل خیال رکھا جائے تاکہ وہ یکسوئی اور بھرپور توجہ کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں اور انہیں کھانے یا دیگر ضروریات کے لیے اپنی ڈیوٹی پوسٹ چھوڑنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ایڈیشنل آئی جی پولیس/کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ اور شہریوں کو محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے بلوچستان کانسٹیبلری اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری لگن اور جذبے کے ساتھ ادا کرے گی۔اجلاس کے اختتام پر محرم الحرام کے سیکیورٹی پلان پر موثر عملدرآمد، نفری کی بروقت تعیناتی، مسلسل نگرانی اور بین الادارہ جاتی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے متعدد اہم ہدایات جاری کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4930/2026
لورالائی18جون ۔: کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی زیر صدارت بلوچستان سوشل ڈویلپمنٹ اینڈ انفراسٹرکچر (BSDI) پروگرام کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کے فیز ون، فیز ٹو اور فیز تھری کی پیش رفت کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان، ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک، ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ (پی اینڈ ڈی) لورالائی ڈویژن سردار رفیق ترین سمیت متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر دکی اور ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل نے اپنے اپنے اضلاع میں BSDI پروگرام کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فیز ون اور فیز ٹو کے تقریباً 80 فیصد منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں، جن میں واٹر سپلائی اسکیمیں، نکاسی آب کے نظام کی بہتری، سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر و مرمت، تعلیمی اداروں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی، اسکولوں کی مرمت اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فیز تھری کے ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے اور انہیں مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے کہا کہ BSDI پروگرام کے تحت جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد ان کے ثمرات حاصل ہو سکیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کاموں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور منصوبوں میں اعلیٰ معیار کے تعمیراتی میٹریل کے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔کمشنر نے واضح کیا کہ ناقص میٹریل کے استعمال، غیر معیاری تعمیرات یا غفلت کا مظاہرہ کرنے والے ٹھیکیداروں اور متعلقہ اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کا مقصد عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، معیارِ زندگی میں بہتری اور پسماندہ علاقوں میں ترقی کے عمل کو تیز کرنا ہے، لہٰذا تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں دیانتداری اور پیشہ ورانہ انداز میں سرانجام دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ BSDI کے تحت جاری منصوبے نہ صرف علاقے کی سماجی و معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے بلکہ صاف پانی، بہتر سڑکوں، تعلیمی سہولیات اور بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی کے ذریعے عوامی مسائل کے حل میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔ اجلاس میں منصوبوں کی شفاف نگرانی، فنڈز کے موثر استعمال اور عوامی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھنے پر بھی زور دیا گیا۔اجلاس کے شرکاءنے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ معیار اور ٹائم لائن کے مطابق مکمل کیے جائیں گے تاکہ عوام ان سہولیات سے بھرپور استفادہ حاصل کر سکیں اور علاقے میں پائیدار ترقی کے اہداف کو یقینی بنایا جا سکے۔۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4931/2026
لورالائی18جون کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی زیر صدارت ریونیو ریکارڈ، محصولات کی وصولی اور زرعی انکم ٹیکس سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈویژن کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، تحصیلداروں، نائب تحصیلداروں اور پٹواریوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کمشنر لورالائی ڈویژن نے ریونیو ریکارڈ کی تکمیل، محصولات کی وصولی اور سرکاری واجبات کی شفاف نگرانی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ اس موقع پر ڈاک ٹکٹ، آبیانہ، عشر، میوٹیشن فیس، زیلا فیس، میونسپل فیس اور کیپٹل ویلیو ٹیکس کی وصولیوں کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ربیع اور خریف سیزن کے دوران فصلوں کے معائنے، مجوزہ ہدف کے مقابلے میں حاصل شدہ وصولیوں اور زرعی شعبے سے متعلق مالیاتی ریکارڈ کا تفصیلی تجزیہ بھی پیش کیا گیا۔ کمشنر نے زرعی انکم ٹیکس کی مجموعی وصولی، بقایا جات، وصولی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کی رپورٹس طلب کیں۔مزید برآں زرعی انکم ٹیکس کی رجسٹریشن مہم، کسانوں اور زمینداروں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے جاری مواصلاتی مہم، زرعی انکم ٹیکس ایپلیکیشن کے استعمال اور ہر ضلع میں رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔کمشنر ولی محمد بڑیچ نے ہدایت کی کہ ریونیو ریکارڈ کو مکمل، درست اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے تاکہ محصولات کی وصولی کے نظام میں شفافیت اور بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ زرعی انکم ٹیکس کی وصولی میں مزید تیزی لائی جائے، بقایا جات کی ریکوری کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں اور ریونیو سے متعلق تمام ریکارڈ کی بروقت اپ ڈیٹ یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق ریونیو نظام کو مضبوط، شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، جبکہ محصولات کی وصولی کے اہداف کے حصول میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر کمشنر لورالائی ڈویژن نے تمام ضلعی افسران کو ہدایت کی کہ ریونیو ریکارڈ کی درستگی، زرعی انکم ٹیکس کی رجسٹریشن اور وصولیوں کے عمل کو مزید موثر بنانے کے لیے باہمی رابطے اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے تاکہ حکومتی محصولات میں اضافہ اور ریونیو انتظامیہ کی کارکردگی میں بہتری ممکن ہو سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4932/2026
خضدار، 18جون ۔: جھالاوان میڈیکل کالج (جے ایم سی) خضدار کی طالبات نے ایک تاریخی اور غیر معمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے بلوچستان بھر میں منعقد ہونے والے سالانہ فائنل ایئر ایم بی بی ایس امتحان 2026 میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشنیں اپنے نام کر لیں۔یہ امتحان بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (بی یو ایم ایچ ایس) کوئٹہ کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا، جس کے نتائج 16 جون 2026 کو جاری کیے گئے۔ امتحان میں جھالاوان میڈیکل کالج خضدار، بولان میڈیکل کالج کوئٹہ، مکران میڈیکل کالج تربت اور لورالائی میڈیکل کالج لورالائی کے مجموعی طور پر 368 طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔اعلان کردہ نتائج کے مطابق:انیسہ نور (رول نمبر 190280) نے 1525 نمبرات اور 84.7 فیصد حاصل کرکے بلوچستان بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔جویریہ جیلانی (رول نمبر 190247) نے 1476 نمبرات اور 82.0 فیصد کے ساتھ دوسری پوزیشن اپنے نام کی۔کائنات مینگل (رول نمبر 190281) نے 1434 نمبرات اور 79.7 فیصد حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کی۔جھالاوان میڈیکل کالج خضدار کی یہ شاندار کامیابی اس لحاظ سے بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے کہ کالج تاحال مستقل عمارت، مکمل کیمپس اور ہاسٹل جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ محدود وسائل اور انفراسٹرکچر کے باوجود کالج کے اساتذہ اور طلبہ نے اپنی محنت، لگن اور تعلیمی قابلیت کے بل بوتے پر بلوچستان کے تمام میڈیکل کالجوں میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔تعلیمی و طبی حلقوں نے اس کامیابی کو جھالاوان میڈیکل کالج کی انتظامیہ، فیکلٹی اور طلبہ کی انتھک محنت کا ثمر قرار دیتے ہوئے اسے خضدار اور بلوچستان کے لیے باعثِ فخر قرار دیا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ نتیجہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر طلبہ کو مناسب مواقع اور سہولیات فراہم کی جائیں تو بلوچستان کے نوجوان قومی سطح پر بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ جھالاوان میڈیکل کالج خضدار کی یہ کامیابی صوبے میں طبی تعلیم کے فروغ اور معیار کی بہتری کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4933/2026
لورالائی:18جون ۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی سرپرستی میں سرمالاک ادوڑزہی اور مڑہ تنگی ادوڑزہی کے علاقوں میں دو فریقین کے درمیان عرصہ دراز سے جاری زمینی تنازع کے حل کے لیے موقع پر کھلی سماعت کا انعقاد کیا گیا، جہاں متنازعہ اراضی کا تفصیلی معائنہ کرتے ہوئے زمینی حقائق کا جائزہ لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق کمشنر ولی محمد بڑیچ خود جائے وقوعہ پر پہنچے اور دونوں فریقین کو ساتھ لے کر متنازعہ زمین کی حدود، ملکیتی دعووں اور متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر فریقین نے اپنے اپنے موقف پیش کیے جنہیں تفصیل سے سنا گیا تاکہ مسئلے کے منصفانہ، شفاف اور دیرپا حل کے لیے موثر اقدامات کیے جا سکیں۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم، اسسٹنٹ کمشنر تحصیل مخیتر یحییٰ خان کاکڑ اور اعظم خان بھی موجود تھے، جبکہ ریونیو اور انتظامی عملے نے زمین سے متعلق دستیاب ریکارڈ اور نقشہ جات پیش کیے۔اس موقع پر کمشنر لورالائی ڈویژن نے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ زمینی تنازعات کے حل میں قانون، میرٹ اور انصاف کے اصولوں کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی مسائل کے فوری اور موثر حل کے لیے ضلعی انتظامیہ عوام سے قریبی رابطہ برقرار رکھے اور ایسے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے تاکہ علاقے میں امن، استحکام اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ مل سکے۔کمشنر نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے فیلڈ وزٹس اور کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے ریونیو حکام کو ہدایت دی کہ متنازعہ اراضی سے متعلق تمام ریکارڈ کی ازسرِنو جانچ مکمل کرکے جامع رپورٹ مقررہ وقت میں پیش کی جائے۔دونوں فریقین نے کمشنر کی جانب سے ذاتی طور پر موقع پر پہنچ کر مسئلے کا جائزہ لینے اور براہِ راست سماعت کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ مقامی عمائدین اور قبائلی مشران نے بھی انتظامیہ کی اس کاوش کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ تنازع کا حل افہام و تفہیم اور قانونی تقاضوں کے مطابق جلد ممکن بنایا جائے گا۔ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے علاقے میں دیگر عوامی مسائل، بالخصوص اراضی ریکارڈ، بنیادی سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کے بروقت ازالے کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4934/2026
خضدار، 18جون ۔: جھالاوان میڈیکل کالج (جے ایم سی) خضدار کی طالبات نے ایک تاریخی اور غیر معمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے بلوچستان بھر میں منعقد ہونے والے سالانہ فائنل ایئر ایم بی بی ایس امتحان 2026 میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشنیں اپنے نام کر لیں۔یہ امتحان بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (بی یو ایم ایچ ایس) کوئٹہ کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا، جس کے نتائج 16 جون 2026 کو جاری کیے گئے۔ امتحان میں جھالاوان میڈیکل کالج خضدار، بولان میڈیکل کالج کوئٹہ، مکران میڈیکل کالج تربت اور لورالائی میڈیکل کالج لورالائی کے مجموعی طور پر 368 طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔اعلان کردہ نتائج کے مطابق:انیسہ نور (رول نمبر 190280) نے 1525 نمبرات اور 84.7 فیصد حاصل کرکے بلوچستان بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔جویریہ جیلانی (رول نمبر 190247) نے 1476 نمبرات اور 82.0 فیصد کے ساتھ دوسری پوزیشن اپنے نام کی۔کائنات مینگل (رول نمبر 190281) نے 1434 نمبرات اور 79.7 فیصد حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کی۔جھالاوان میڈیکل کالج خضدار کی یہ شاندار کامیابی اس لحاظ سے بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے کہ کالج تاحال مستقل عمارت، مکمل کیمپس اور ہاسٹل جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ محدود وسائل اور انفراسٹرکچر کےباوجود کالج کے اساتذہ اور طلبہ نے اپنی محنت، لگن اور تعلیمی قابلیت کے بل بوتے پر بلوچستان کے تمام میڈیکل کالجوں میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔تعلیمی و طبی حلقوں نے اس کامیابی کو جھالاوان میڈیکل کالج کی انتظامیہ، فیکلٹی اور طلبہ کی انتھک محنت کا ثمر قرار دیتے ہوئے اسے خضدار اور بلوچستان کے لیے باعثِ فخر قرار دیا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ نتیجہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر طلبہ کو مناسب مواقع اور سہولیات فراہم کی جائیں تو بلوچستان کے نوجوان قومی سطح پر بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ جھالاوان میڈیکل کالج خضدار کی یہ کامیابی صوبے میں طبی تعلیم کے فروغ اور معیار کی بہتری کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4935/2026
لورالائی18جون ۔: ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی) لورالائی رینج، جنید احمد شیخ نے محرم الحرام کے سلسلے میں سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے امام بارگاہ لورالائی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے امام بارگاہ کمیٹی کے اراکین، مذہبی رہنماوں اور منتظمین سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران محرم الحرام کے دوران امن و امان کی مجموعی صورتحال، مجالس و جلوسوں کی سیکیورٹی، بین المسالک ہم آہنگی اور باہمی تعاون کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ڈاکٹر فہد احمد بھی موجود تھے، جنہوں نے ڈی آئی جی کو ضلع بھر میں محرم الحرام کے حوالے سے کیے گئے سیکیورٹی اقدامات پر جامع بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ تمام حساس اور انتہائی حساس مقامات کی نشاندہی کر لی گئی ہے، جبکہ مجالس اور جلوسوں کے روٹس پر اضافی پولیس نفری تعینات کی جائے گی۔ اس کے علاوہ سی سی ٹی وی کیمروں، واک تھرو گیٹس، میٹل ڈیٹیکٹرز، موبائل گشت اور خصوصی نگرانی کے نظام کو بھی فعال بنایا جا رہا ہے۔ڈی آئی جی جنید احمد شیخ نے اس موقع پر کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کا قیام پولیس کی اولین ترجیح ہے اور عزاداران کو پرامن اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے امام بارگاہ کمیٹی کے اراکین کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور مذہبی تنظیموں کے درمیان موثر رابطہ اور ہم آہنگی ہی پرامن ماحول کے قیام کی ضمانت ہے۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ سیکیورٹی پلان پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے، داخلی و خارجی راستوں کی کڑی نگرانی کی جائے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری رسپانس ٹیمیں الرٹ رکھی جائیں۔دریں اثنا، امام بارگاہ کمیٹی کے اراکین نے محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ محرم الحرام کے دوران رابطہ کمیٹیوں کو مزید فعال بنایا جائے گا تاکہ کسی بھی مسئلے یا ہنگامی صورتحال کی صورت میں فوری اور موثر اقدامات کیے جا سکیں۔ذرائع کے مطابق لورالائی رینج میں محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی کے لیے خصوصی کنٹرول روم بھی قائم کیا جا رہا ہے، جبکہ حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ رابطوں کو بھی مزید موثر بنایا جائے گا تاکہ عزاداری کے تمام پروگرام پرامن اور محفوظ ماحول میں منعقد ہو سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4936/2026
تربت18جون ۔ .ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیر صدارت انجمن تاجران کیچ کا اجلاس منعقد ہوا.جس میں انجمن تاجران کے تمام عہدیداران نے شرکت کی اجلاس میں زیر تربیت اسسٹنٹ کمشنر نعمان منیر، چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن تربت شعیب ناصر، پی ڈی ایم اے مکران ڈویڑن کے ڈپٹی ڈائریکٹر ملک ریحان دشتی، مارکیٹ کمیٹی کے سیکرٹری محبوب علی اور ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت ریاض احمد بھی موجود تھے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ جوسک کے مقام پر قائم نئی سبزی منڈی مکمل طور پر تیار ہے اور موجودہ سبزی منڈی کے تمام ہول سیل تاجروں کو جلد از جلد وہاں منتقل ہونا چاہیے انہوں نے انجمن تاجران کو ہدایت کی کہ آئندہ دس روز کے اندر نئی مارکیٹ کا تفصیلی جائزہ لے کر منتقلی کے عمل کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے بتایا کہ شہر کے اندر موجود پرانی سبزی منڈی میں صرف 40 دکانیں ہیں جبکہ جوسک میں تعمیر ہونے والی نئی سبزی منڈی میں 60 سے زائد دکانیں مکمل ہو چکی ہیں اور مزید 20 دکانوں کی تعمیر جاری ہے۔ نئی سبزی منڈی 12 ایکڑ رقبے پر محیط ہے جہاں تاجروں اور خریداروں کے لیے تمام بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے کہا کہ موجودہ سبزی منڈی کے باعث شہر کے مرکزی بازار میں گندگی، ماحولیاتی آلودگی اور ٹریفک کے مسائل جنم لے رہے ہیں جن پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے اس کے برعکس نئی سبزی منڈی میں سیوریج سسٹم، پینے کے صاف پانی، مسجد اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے، جس سے تاجروں اور عوام کو بہتر ماحول میسر آئے گا۔اجلاس کے دوران چیف آفیسر شعیب ناصر نے بتایا کہ انتظامیہ ایک سال قبل نئی سبزی منڈی میں منتقلی کے حوالے سے اشتہارات جاری کر چکی ہے اور متعدد مرتبہ تاجروں کو ہدایات بھی دی گئی ہیں، تاہم بعض حلقوں کی جانب سے سست روی کے باعث منتقلی کا عمل تاخیر کا شکار ہے۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ شہر کے اندر بھاری ٹرکوں اور مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت ٹریفک کی روانی کو متاثر کر رہی ہے اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ نئی سبزی منڈی سے متعلق تاجروں کو درپیش تمام جائز مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔اجلاس میں شہر کے پارکنگ مسائل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا ڈپٹی کمشنر کیچ نے ہدایت کی کہ دکانداروں کے لیے میونسپل کارپوریشن کی جانب سے مخصوص پارکنگ ایریاز فراہم کیے جائیں گے جبکہ شہریوں کی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو دکانوں کے سامنے بے ہنگم انداز میں پارک کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تاکہ بازاروں میں ٹریفک کی روانی برقرار رہے۔اس موقع پر انجمن تاجران کے نمائندوں نے متعدد شہری مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بعض دکاندار تعمیر و مرمت کے دوران اپنی دکانوں کا ملبہ سڑکوں پر پھینک دیتے ہیں جس سے راستے بند ہو جاتے ہیں اور پیدل چلنے والوں سمیت ٹریفک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم میونسپل کارپوریشن کی جانب سے موثر کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے چیف آفیسر شعیب ناصر کو ہدایت جاری کی کہ ایسے دکانداروں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے اور سڑکوں پر ملبہ ڈالنے والوں کے تعمیراتی کام کو فوری طور پر بند کیا جائے انہوں نے مزید ہدایت کی کہ شہر میں پارکنگ کے لیے موزوں مقامات کی نشاندہی کرکے ان کا سروے کیا جائے اور سرکاری اراضی پر قائم غیر قانونی قبضوں کو ختم کرکے عوامی مفاد کے لیے استعمال میں لایا جائے۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ تربت شہر کو صاف، منظم اور ٹریفک مسائل سے پاک بنانے کے لیے انتظامیہ اور تاجر برادری باہمی تعاون سے عملی اقدامات کریں گے، جبکہ جوسک سبزی منڈی میں منتقلی کے عمل کو جلد مکمل کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4937/2026
نصیرآباد18جون ۔ ڈائریکٹر ان لینڈ فشریز بلوچستان عبدالحمید سارنگزئی نے کہا ہے کہ نصیرآباد ڈویژن بلوچستان کا گرین بیلٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ماہی گیری کے شعبے میں بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے اور حکومت بلوچستان کی خصوصی توجہ کے باعث اس شعبے کو مزید فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کینال سسٹم کے ذریعے مچھلیوں کے حصول کو یقینی بنا کر نہ صرف مقامی سطح پر غذائی ضروریات پوری کی جا رہی ہیں بلکہ ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فشریز آرڈیننس 1961رولز 1965 کے تحت نصیرآباد ڈویڑن کی مختلف نہروں اور آبی گزرگاہوں جن میں پٹ فیڈر کینال، کیرتھر کینال، سم فیز ون، سم فیز ٹو، نصیر شاخ، ٹیمپل شاخ، اوچ کینال، مانجھوٹی شاخ اور درگھی شاخ شامل ہیں، کی شفاف اور میرٹ پر مبنی اوپن ٹینڈرنگ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ صوبائی سیکرٹری فشریز طارق قمر بلوچ اور ڈائریکٹر جنرل فشریز عتیق اللہ خان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں کمشنر نصیرآباد ڈویژن کے نمائندے کی موجودگی میں تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ٹینڈرنگ کا عمل پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف نہروں سے مچھلیوں کی غیر قانونی شکار اور چوری کی روک تھام ممکن ہو سکے گی بلکہ متعلقہ ٹھیکیداروں کی نگرانی میں ماہی گیری کے نظام کو مزید منظم اور موثر بنایا جا سکے گا۔ اس موقع پر خیر اللہ محمد حسنی بھی موجود تھے۔ عبدالحمید سارنگزئی نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ اور چیف سیکرٹری بلوچستان کے وڑن کے مطابق محکمہ فشریز کی بہتر حکمت عملی اور اصلاحات کے باعث نصیرآباد ہچری سینٹر کی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں ماضی میں سالانہ تقریباً تین لاکھ روپے آمدن حاصل ہوتی تھی، اب جدید خطوط پر استوار کیے جانے اور موثر انتظامی اقدامات کے نتیجے میں 34 لاکھ روپے آمدن حاصل کی جا رہی ہے جو سابقہ ادوار کے مقابلے میں تقریباً گیارہ گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نصیرآباد ڈویژن کی نہروں میں مختلف اقسام کی قیمتی دریائی مچھلیاں پائی جاتی ہیں جن میں روہو، گلفام، تھیلا اور ڈمبرا شامل ہیں جبکہ ہچری سینٹر میں انہی مچھلیوں کے بیج بھی فروخت کیے جاتے ہیں تاکہ ماہی پروری کے شعبے کو مزید وسعت دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ فشریز ماہی گیری کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اس کی ترقی کے لیے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کر رہا ہے تاکہ کاشتکار روایتی زراعت کے ساتھ ساتھ سیم و تھور سے متاثرہ زمینوں میں فش فارمنگ کے ذریعے اضافی اور خاطر خواہ آمدن حاصل کر سکیں، جس سے دیہی معیشت مضبوط ہوگی اور علاقے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4938/2026
قلات.18جون ۔ ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کے زیرصدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ماہانہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نثاراحمدنورزئی ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن میل ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن فیمیل سمیت محکمہ تعلیم قلات اورخالق آباد کے سربراہان کالجز کے پرنسپل صاحبان آرٹی ایس ایم سوشل ویلفیئر کے نمائندے نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ تعلیم قلات کی مجموعی کارکردگی سکولوں میں اساتزہ کی حاضریوں زیرتعمیر سکولوں کی تکمیل بلڈنگ مرمت کے کام سکولوں میں اساتزہ کی کمی ٹرانسفرپوسٹنگ اٹیچمنٹ اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔محکمہ تعلیم قلات کے سربراہان نے ڈپٹی کمشنر کو غیر حاضر اساتزہ کے تنخواوں کی کھٹوتی سکولوں میں دستیاب بنیادی سہولیات اور درپیش مسائل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنرمنیراحمددرانی نے کہاکہ تعلیم کے شعبے پر خصوصی توجہ کی اشد ضرورت ہے محکمہ تعلیم قلات کو درپیش مسائل کے حل کیلئے تمام تروسائل بروے کار لارہے ہیں سکولوں میں اساتزہ کی غیرحاضری کسی صورت قبول نہیں ہے غیرحاضر اساتزہ کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لارہے ہیں اساتزہ کرام اپنا تمام تر توجہ بچوں کی بہترتعلیم پر دیں بچے ہمارے مستقبل کے معمار ہیں انہیں بہترین تعلیم کی زیور سے آراستہ کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ڈپٹی کمشنر نے محکمہ تعلیم کے سربراہان اور آرٹی ایس ایم کو سختی سے ہدایات جاری کرتے ہوے کہاکہ وہ روزانہ کی بنیاد پر سکولوں کے وزٹس کریں تاکہ سکولوں میں اساتزہ کی حاضریوں کو یقینی بنایاجاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4939/2026
خضدار 18 جون ۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر خضدار ڈاکٹر عبدالحمید لہڑی نے (BHU) بی ایچ یو باغبانہ کا اچانک دورہ کیا۔ دورے میں انہوں نے عملے کی حاضری AI بیسڈ اٹینڈنس سے اسٹاف کا حاضری چیک کیا۔ زیادہ اسٹاف موجود تھے۔ دو ملازمین غیر حاضر پائے گئے جنہیں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر خضدار ڈاکٹر عبدالحمید لہڑی نے ایکسپلینیشن جاری کر دیا۔ بی ایچ یو باغبانہ میں ادویات کے سپلائی اور دستیابی یقینی اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں انہوں نے EPI پروگرام کے تحت جاری آوٹ ریچ ORT ویکسینیشن سرگرمیوں کا جائزہ لیا، جہاں ویکسینیشن ٹیمیں محنت اور لگن سے اپنے خدمات انجام دے رہی تھیں۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر خضدار ڈاکٹر عبدالحمید لہڑی نے ٹیموں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے بچوں کی بروقت ویکسینیشن کو خوش آئند قرار دیا اور متعلقہ عملے کو اپنی ذمہ داریاں مزید محنت اور لگن سے انجام دینے کی تاکید کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر4940/2026
کوئٹہ 18جون ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے جمعرات کو یہاں کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین عبدالکریم جعفری کی قیادت میں کیسکو حکام کے ایک وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں کیسکو کی مجموعی کارکردگی، بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نظام میں بہتری، صارفین کو درپیش مسائل، واجبات کی وصولی، لائن لاسز میں کمی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور اے آئی بیسڈ میٹر ریڈنگ سسٹم سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا کیسکو حکام نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو ادارے کی کارکردگی، جاری اصلاحاتی اقدامات اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی وفد نے بجلی کے نظام کو مزید موثر اور شفاف بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی میٹر ریڈنگ سسٹم کے نفاذ اور دیگر جدید اقدامات سے بھی آگاہ کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر ہدایت کی کہ عوام کو بجلی کی بلاتعطل اور مستحکم وولٹیج کے ساتھ فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شفافیت، کارکردگی اور صارفین کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنے گا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ واجبات کی وصولی اور بجلی چوری کے خاتمے کے لیے موثر حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ قومی وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی مفاد کے منصوبوں میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی اور بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے وفاقی اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا دریں اثنائ ویمن پارلیمنٹرین کاکس کے ایک وفد نے بھی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پارلیمانی امور میں خواتین اراکین کے کردار، خواتین کی سیاسی شمولیت، قانون سازی کے عمل میں ان کی موثر نمائندگی اور خواتین کو درپیش مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا وفد نے خواتین کی فلاح و بہبود، بااختیار بنانے اور فیصلہ سازی کے عمل میں ان کی موثر شرکت کے لیے صوبائی حکومت کے اقدامات کو سراہا اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ خواتین معاشرے کا اہم اور موثر حصہ ہیں اور بلوچستان کی ترقی و خوشحالی میں ان کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور سیاسی نمائندگی کے شعبوں میں مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خواتین اراکین اسمبلی کی آراءاور تجاویز حکومت کے لیے نہایت اہم ہیں اور ان کی مشاورت سے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو مزید موثر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی ترقی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ملاقاتوں میں باہمی تعاون کے فروغ، عوامی مسائل کے حل اور صوبے کی مجموعی ترقی سے متعلق مختلف امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4941/2026
کوئٹہ، 18 جون ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے تعلیم دوست وژن اور صوبے کے نوجوانوں کو معیاری تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے عزم کے تحت شہید بینظیر بھٹو میٹرک ڈسٹرکٹ ٹاپرز اسکالرشپ پروگرام میں بلوچستان کے تین نو تشکیل شدہ ریونیو اضلاع ویسٹ/اپر ڈیرہ بگٹی، برشور اور تمپ کو بھی شامل کر لیا گیا ہے اس اہم اقدام کے بعد مذکورہ اضلاع کے میٹرک امتحانات میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ٹاپ پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات بھی اسکالرشپ پروگرام سے مستفید ہو سکیں گے، جس سے ان کے لیے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے نئے مواقع میسر آئیں گے بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد ماندائی نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات اور تعلیم کے فروغ کے لیے جاری اصلاحاتی اقدامات کے تحت اسکالرشپ پروگرام کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ صوبے کے تمام اضلاع کے باصلاحیت طلبہ کو یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں انہوں نے کہا کہ نئے اضلاع کی شمولیت سے وہاں کے ہونہار اور محنتی طلبہ کی حوصلہ افزائی ہوگی اور انہیں اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کا موقع ملے گا انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت تعلیم کے شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر ترقی دینے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور شہید بینظیر بھٹو میٹرک ڈسٹرکٹ ٹاپرز اسکالرشپ پروگرام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے خالد ماندائی نے کہا کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ صوبے کے مستحق اور ذہین طلبہ کو تعلیمی معاونت فراہم کرنے کے مشن پر گامزن ہے اور حکومت کی پالیسی کے مطابق کسی بھی باصلاحیت طالب علم کو مالی مشکلات کے باعث تعلیم سے محروم نہیں رہنے دیا جائے گا انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اسکالرشپ پروگرام میں نئے اضلاع کی شمولیت سے تعلیمی میدان میں مثبت مسابقت کو فروغ ملے گا اور نوجوان نسل کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مزید مواقع حاصل ہوں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4942/2026
کوئٹہ 18جون ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے تعلیم دوست وڑن اور صوبے کے نوجوانوں کو معیاری تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے عزم کے تحت شہید بینظیر بھٹو میٹرک ڈسٹرکٹ ٹاپرز اسکالرشپ پروگرام میں بلوچستان کے تین نو تشکیل شدہ ریونیو اضلاع ویسٹ/اپر ڈیرہ بگٹی، برشور اور تمپ کو بھی شامل کر لیا گیا ہے اس اہم اقدام کے بعد مذکورہ اضلاع کے میٹرک امتحانات میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ٹاپ پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات بھی اسکالرشپ پروگرام سے مستفید ہو سکیں گے، جس سے ان کے لیے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے نئے مواقع میسر آئیں گے بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد ماندائی نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات اور تعلیم کے فروغ کے لیے جاری اصلاحاتی اقدامات کے تحت اسکالرشپ پروگرام کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ صوبے کے تمام اضلاع کے باصلاحیت طلبہ کو یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں انہوں نے کہا کہ نئے اضلاع کی شمولیت سے وہاں کے ہونہار اور محنتی طلبہ کی حوصلہ افزائی ہوگی اور انہیں اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کا موقع ملے گا انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت تعلیم کے شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر ترقی دینے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور شہید بینظیر بھٹو میٹرک ڈسٹرکٹ ٹاپرز اسکالرشپ پروگرام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے خالد ماندائی نے کہا کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ صوبے کے مستحق اور ذہین طلبہ کو تعلیمی معاونت فراہم کرنے کے مشن پر گامزن ہے اور حکومت کی پالیسی کے مطابق کسی بھی باصلاحیت طالب علم کو مالی مشکلات کے باعث تعلیم سے محروم نہیں رہنے دیا جائے گا انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اسکالرشپ پروگرام میں نئے اضلاع کی شمولیت سے تعلیمی میدان میں مثبت مسابقت کو فروغ ملے گا اور نوجوان نسل کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مزید مواقع حاصل ہوں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4943/2026
کوئٹہ 18 جون۔وزیراعلی بلوچستان کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات نسیم الرحمان خان ملاخیل نے بلوچستان حکومت کے مالی سال 2026،2027 کے بجٹ کو عوام دوست اور متوازن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلی میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں قائم صوبائی حکومت نے محدود وسائل میں اپنے درست ترجیحات کا تعین کرکے عوام دوست اور ٹیکس فری بجٹ پیش کیا ہے جس پر وزیراعلی سرفراز بگٹی ، وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور محکمہ خزانہ کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے،جمعرات کو اپنے بیان میں وزیراعلی بلوچستان کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات نسیم الرحمان خان ملاخیل نے کہا کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں تعلیم،صحت،زراعت،ٹرانسپورٹ اور امن و امان کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے،انھوں نے کہ بجٹ میں طلبا و طالبات کو تعلیم کی فراہمی کے لیے اسکالرشپ کی مد میں خطیر رقم مختص کی گءہے جبکہ روزگار کی فراہمی کے لیے 5 ہزار اسامیوں پر میرٹ پر بھرتیاں کی جائیگی،صوبائی مشیر نے کہا کہ مشکل حالات اور محدود وسائل میں ٹیکس فری بجٹ پیش کرکے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ریلیف دینے کی بھرپور کوشش کی گءہے جبکہ تنخواہوں اور پنشن میں وفاق اور دیگر صوبوں کی طرح 7 فیصد اضافہ کرکے ملازمین کے دیگر مسائل کو بھی بتدریج حل کیا جایئگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4944/2026
کوئٹہ، 18 جون ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند نے نوشکی کے علاقے احمدوال چوک میں فائرنگ کے واقعے میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکار بابا جان محمد حسنی کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اپنے ایک بیان میں شاہد رند نے کہا کہ بابا جان محمد حسنی فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے کے بعد ہسپتال منتقل کیے گئے تھے، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ انہوں نے کہا کہ شہید اہلکار نے صوبے میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قابل قدر خدمات انجام دیں اور ان کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی شاہد رند نے شہید اہلکار کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان غم کی اس گھڑی میں سوگوار خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اور امن دشمن عناصر اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے اور شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو فوری تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام ضروری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کے مختلف پہلووں کا جائزہ لے رہے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان حکومت دہشت گردی، انتہاپسندی اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف اپنی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گی اور صوبے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے انہوں نے شہید بابا جان محمد حسنی کے درجات کی بلندی، مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4945/2026
کوئٹہ: 18جون ۔ سنٹر آف ایکسیلنس کے زیرِ اہتمام نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں سنٹر آف ایکسیلنس کے چیف کوارڈینیشن آفیسر ڈاکٹر دوست محمد، ڈپٹی کوارڈینیشن آفیسر ڈاکٹر عصمت اللہ، ایس بی کے کی لیکچرار ڈاکٹر شازیہ علی، مائنڈ سکیپ یونیورسٹی کے فاونڈر رافع بلوچ، زنیرا گل درانی اور محمد یوسف نے شرکائ سے خطاب کیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف کوارڈینیشن آفیسر ڈاکٹر دوست محمد نے کہا کہ صوبائی حکومت نے نوجوانوں کو جدید فنی تعلیم فراہم کرنے کے لیے مختلف شعبوں میں ڈپلومہ اور ٹریننگ پروگرام شروع کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جدید تکنیکی ہنر کے تحت بلیو اکانومی، زراعت، مائنز اینڈ منرلز، قابلِ تجدید توانائی اور دیگر شعبوں میں ڈپلومہ، پروگرامز اور ٹریننگ سیشنز شروع کیے گئے ہیں، جو حکومت کا ایک احسن اقدام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے اور نوجوانوں کو ہنر سیکھنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔اس موقع پر ڈپٹی کوارڈینیشن آفیسر ڈاکٹر عصمت اللہ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے “بلوچستان ایمپلائمنٹ پروگرام” کے نام سے ایک نیا پروگرام لانچ کیا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس اور دیگر جدید کورسز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے اپنا مستقبل سنوارنے کا ایک مثالی پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ حکومت بلوچستان کی جانب سے فراہم کردہ روزگار کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور کسی بھی قسم کی انتہا پسندی کی حوصلہ شکنی کریں۔کانفرنس سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ بلوچستان میں نوجوانوں کی استعداد بڑھا کر روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنے مستقبل کو روشن بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4946/2026
موسی خیل 18 جون ۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نادر ایسوٹ نے BHU حاجی خانان عمرزئی کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد ای پی آئی پروگرام کی سرگرمیوں کا جائزہ لینا تھا۔ اس میں ویکسینیٹرز کی حاضری، آئی ایل آر (ILR) کی مینٹیننس، ویکسین کے دستیاب اسٹاک اور ای پی آئی روم کے ریکارڈ کا معائنہ شامل تھا دورے کے دوران ڈاکٹر نادر ایسوٹ نے تمام متعلقہ ریکارڈ کا بغور جائزہ لیا اور ویکسینیشن خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔ بعد ازاں انہوں نے ویکسینیٹر کے ہمراہ مختلف کمیونٹیز کا دورہ کیا تاکہ فالو اپ سرگرمیوں کا جائزہ لیا جا سکے اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی بچہ حفاظتی ٹیکوں سے محروم نہ رہے فیلڈ وزٹ کے دوران ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے ویکسینیٹرز کی حاضری چیک کی اور گھر گھر جا کر والدین سے ملاقات کی۔ انہوں نے عوام میں حفاظتی ٹیکوں کی اہمیت کے بارے میں آگاہی دی اور والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی بروقت ویکسینیشن یقینی بنائیں تاکہ انہیں مختلف مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے.ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع بھر میں حفاظتی ٹیکوں کی کوریج کو مزید بہتر بنایا جائے گا اور ہر بچے تک ویکسینیشن کی سہولت پہنچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4947/2026
کوئٹہ 18جون۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات پر ضلعی انتظامیہ نے ائیرپورٹ روڈ پر شیشہ کیفیز کے خلاف کریک ڈاون کیا۔ کارروائی کے دوران 4 شیشہ کیفے سیل کر دیے گئے جبکہ مالکان کو گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔یہ کارروائی اسسٹنٹ کمشنر صدر محمد یوسف ہاشمی کی نگرانی میں عمل میں لائی گئی۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ شیشہ، چلم اور اس سے متعلق سامان کی فروخت یا استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جہاں بھی شیشہ یا اس کا سامان پایا گیا، وہاں فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ جگہ کو سیل، مالکان کو گرفتار اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4948/2026
کوئٹہ 18جون۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات پر اسسٹنٹ کمشنر (کچلاک) کیپٹن (ر) کبیر مزاری نے متعلقہ پولیس اور ڈی ایس پی کے ہمراہ اسٹرائیک اینڈ ڈائن شیشہ کیفے کے خلاف کارروائی کی۔کارروائی کے دوران شیشہ (چلم) کا سامان اور فلیورز ضبط کر لیے گئے جبکہ کیفے کو سیل کرکے منیجر کو گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید قانونی کارروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شیشہ (چلم) کے استعمال اور فروخت کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4949/2026
کوئٹہ 18جون۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ اور صوبائی مشیر بابر خان یوسفزئی نے کوئٹہ شہر کی مختلف امام بارگاہوں کا دورہ کیا۔دورے کے دوران علمدار روڈ، نچاری روڈ، سعید آباد اور سولہ ایکڑ کی امام بارگاہوں میں سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر علماءکرام اور شیعہ عمائدین سے بھی ملاقات کی گئی۔علماءکرام اور عمائدین نے محرم الحرام کے دوران حکومت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کیے گئے سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان اقدامات کو سراہاشہریوں نے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے پر حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4950/2026
ہرنائی18جون ۔ : ہرنائی میں عوامی نوعیت کے بنیادی مسائل اور بالخصوص صحت کی سہولیات میں نمایاں بہتر لانے کے لیے محکمہ صحت نے انقلابی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں یونین کونسل (یو سی) بابہان ٹو کے چیئرمین شاداد خان نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) ہرنائی ڈاکٹر شعیب اکرم مینگل سے ایک اہم ملاقات کی۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ سپروائزر فار ویکسینیشن (ڈی ایس وی) غلام فاروق ترین بھی موجود تھے، جہاں ضلع میں جاری طبی اصلاحات اور عوامی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ملاقات کے دوران یو سی چیئرمین شاداد خان نے ڈی ایچ او اور ایم ایس کی جانب سے اٹھائے گئے حالیہ اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ نئی انتظامیہ کے چارج سنبھالنے کے بعد سے محکمہ صحت کی کارکردگی میں واضح اور مثبت تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر ذکر کیا کہ ضلعی ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال ہرنائی کو اب 24 گھنٹے مکمل طور پر فعال بنا دیا گیا ہے۔اس دور اندیشانہ اقدام سے نہ صرف شہر بلکہ مضافاتی اور دور دراز کے پسماندہ علاقوں سے آنے والے غریب مریضوں کو رات کے وقت بھی ایمرجنسی اور دیگر طبی سہولیات بلا تعطل میسر آ رہی ہیں۔ شاداد خان نے مزید کہا کہ مخلص اور فرض شناس افسران کی بدولت اب عوام کو علاج معالجے کے لیے دوسرے شہروں کے مہنگے چکر نہیں کاٹنے پڑتے۔ عوامی خدمات کے اسی اعتراف میں انہوں نے ڈی ایچ او ڈاکٹر شعیب اکرم مینگل اور ایم ایس کی بہترین طبی خدمات کو زبردست الفاظ میں سراہا اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا ملاقات کے اختتام پر ڈی ایچ او ہرنائی ڈاکٹر شعیب اکرم مینگل نے عوامی نمائندوں کی آمد اور حوصلہ افزائی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع کے ہر شہری تک صحت کی بہترین اور معیاری سہولیات پہنچانا ان کی اولین ترجیح ہے اور تمام دور دراز علاقوں میں طبی عملے کی حاضری کو یقینی بنا کر اس مشن کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4951/2026
صحبت پور18جون ۔ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے متعلقہ افسران کے ہمراہ آج بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو کے تحت زیرِ تعمیر پبلک پارک کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے پارک کے مختلف حصوں کا باریک بینی سے معائنہ کیا اور جاری تعمیراتی کام کے معیار، رفتار اور منصوبہ بندی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ حکومت کی جانب سے عوام کو معیاری تفریحی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے شروع کیا گیا ہے، تاکہ شہری اپنے فارغ اوقات میں اہلِ خانہ، خصوصاً بچوں کے ساتھ محفوظ اور خوشگوار ماحول میں وقت گزار سکیں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منصوبے کی تکمیل مقررہ مدت کے اندر یقینی بنائی جائے اور تمام تر کام شفافیت اور اعلیٰ معیار کے مطابق انجام دیا جائے مزید برآں، انہوں نے ہدایت کی کہ پارک میں سہولیات کی فراہمی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رکھا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام اس سے مستفید ہو سکیں ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور منصوبے کی بروقت تکمیل ہر صورت یقینی بنائی جائےصحبت پور۔۔ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے متعلقہ افسران کے ہمراہ آج بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو کے تحت زیرِ تعمیر پبلک پارک کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے پارک کے مختلف حصوں کا باریک بینی سے معائنہ کیا اور جاری تعمیراتی کام کے معیار، رفتار اور منصوبہ بندی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ حکومت کی جانب سے عوام کو معیاری تفریحی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے شروع کیا گیا ہے، تاکہ شہری اپنے فارغ اوقات میں اہلِ خانہ، خصوصاً بچوں کے ساتھ محفوظ اور خوشگوار ماحول میں وقت گزار سکیں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منصوبے کی تکمیل مقررہ مدت کے اندر یقینی بنائی جائے اور تمام تر کام شفافیت اور اعلیٰ معیار کے مطابق انجام دیا جائے مزید برآں، انہوں نے ہدایت کی کہ پارک میں سہولیات کی فراہمی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رکھا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام اس سے مستفید ہو سکیں ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور منصوبے کی بروقت تکمیل ہر صورت یقینی بنائی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
کوئٹہ: 18جون ۔ چیئرمین نیب کے وژن اور ڈائریکٹر جنرل نیب بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں نیب بلوچستان نے یونیورسٹی آف لورالائی کے باہمی اشتراک سے “نیب کے کام کا طریقہ کار اور بدعنوانی کے خاتمے میں طلبائ کے کردار” کے عنوان سے بدعنوانی کے خلاف جاری آگاہی مہم کے سلسلے میں ایک ویبینار کا انعقاد کیا۔ ویبینار کا بنیادی مقصد نوجوانوں بالخصوص طلبائ کو بدعنوانی کے مضر اثرات سے آگاہ کرنا اور بدعنوانی سے پاک معاشرے کی تعمیر کے لیے اجتماعی کوششوں کو فروغ دینا تھا۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب بلوچستان احتشام الحق، وائس چانسلر یونیورسٹی آف لورالائی احسان اللہ کاکڑ اور دیگر مقررین نے یونیورسٹی کے طلبائ اور فیکلٹی ممبرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے نیب کے وژن، مشن اور بدعنوانی کی لعنت کے خاتمے میں طلبائ کے اہم کردار پر تبادلہ خیال کیا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر نیب خرم شہزاد نے طلباء سے خطاب کے دوران اس بات پر زور دیا کہ نوجوان طلبائ معاشرے میں تبدیلی کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ انہوں نے طلبائ کو تلقین کی کہ وہ اپنی زندگیوں میں دیانتداری اور احتساب کو بنیاد بنائیں اور بدعنوانی سے نفرت کو اپنی شخصیت کا حصہ بنائیں۔اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خود احتسابی اور دیانت داری اسلام کے بنیادی اصول ہیں، اور بدعنوانی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اقربا پروری، رشوت، سفارش، زور زبردستی اور جانبداری کو کرپشن کی اقسام کے طور پر گرداناگیا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ یہ رویے ہمارے معاشرے میں معمول بن چکے ہیں۔ اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ طلبائ بدعنوانی کے خلاف شعور حاصل کر یں تا کہ ایمانداری، دیانتداری اور جوابدہی کے درس کومزید فروغ دیا جا سکے۔ معاشرے کے اہم ارکان کے طور پر طلبائ کی اجتماعی کوششیں بدعنوانی سے پاک معاشرے کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب احتشام الحق نے طلباء سے پروگرام کے عنوان کے حوالے سے خطاب کیا اور ان پر واضح کیا کہ وہ پاکستان کا مستقبل ہیں اور آنے والے دنوں میں اس ملک کی قیادت انہوں نے ہی سمبھالنی ہے اور وہ اپنے آپ کو اس کام کے لیے صرف ایک بہترین سٹوڈنٹ بن کر ہی سر انجام دے سکتے ہیں۔ بعد ازاں طلبائ اور فیکلٹی کی جانب سے کیے گئے سوالات کا انہوں خندہ پیشانی سے جوابات دئیے۔ یونیورسٹی آف لورالائی کے وائس چانسلر احسان اللہ کاکڑ اور ڈائریکٹر اسلم زیب نے بھی اپنے خطابات میں اس امر پر زور دیا کہ طلبائ اگے بڑھیں اور کرپشن کے خاتمے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔سیشن کے اختتام پر انہوں نے نیب بلوچستان کی جانب سے انسداد بدعنوانی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی سراہا اور آئندہ بھی اس مہم میں یونیورسٹی کی جانب سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Press Release
NAB (Balochistan) Organized a Webinar on “Functions of NAB and Role of Students in Eradication of Corruption” in collaboration with University of Loralai
Quetta: In pursuance of Chairman NAB vision and directions of DG NAB (Balochistan), a Webinar on “Role of Students in Eradication of Corruption” was organized in collaboration with University of Loralai, as part of NAB’s ongoing anti-corruption awareness campaign.
Vice Chancellor Mr. Ehsan Ullah Kakar, University of Loralai, professors, faculty members and a fair gathering of students attended the event. The primary objective of the webinar was to spread awareness in youth about detrimental effects of corruption and to promote collective efforts for building a corruption-free society.
Mr. Ehtisham-ul-Haq, Addl Director NAB (Balochistan), Vice Chancellor Mr. Ehsan Ullah Kakar and other speakers engaged with students and faculty, discussing NAB’s vision, mission and the significant role, students can play in eradicating menace of corruption.
The Deputy Director NAB (Balochistan) Mr. Khuram Shehzad delivered comprehensive lecture and emphasized on students to adopt moral standards wherein abhorrence against corruption become integral part of their personalities. He also deliberated that the teachings of Islam also assert on self-accountability and do not allow an iota of dishonesty and corruption. He added that nepotism, influence peddling, bribery, extortion and favouritism are the underlining cause of corruption, but unfortunately, these have been taken by the society as a norm. The collective efforts of students, as crucial members of society, can play a pivotal role for laying foundation of a corruption-free society. Mr. Ehtisham ul Haq, Addl Director, NAB (B) also spoke in webinar and emphasized on students that they are the future of Pakistan and by being best at their endeavor of seeking knowledge they will become the backbone of future Pakistan. Thereafter, he patiently responded to the questions raised by the students and faculty members.
On this occasion, Vice Chancellor Mr. Ehsan Ullah Kakar and Director University of Loralai Mr. Aslam Zaib also shared their thoughts on the topic. They appreciated the efforts of NAB Balochistan with assurance to extend all possible assistance in the anti-corruption awareness drive of NAB Balochistan. The Webinar concluded with mutual expression of gratitude and a note of thanks by both sides.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر4952/2026
کوئٹہ18جون:۔گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ سماجی اصلاحات اور نیٹ ورکنگ کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ سماجی اصلاحات نے تعلیم، صحت، بنیادی حقوق، اختیارات، صنفی مساوات اور سماجی انصاف کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے تاہم اصلاحات کو اکثر دانشوروں، کمیونٹی لیڈروں، سول سوسائٹی، میڈیا مراکز اور عام شہریوں پر مشتمل سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے متحرک اور برقرار رکھے جاتے ہیں۔ یہ نیٹ ورک خیالات کے تبادلے میں سہولت فراہم کرتے ہیں، رائے عامہ کو متحرک کرتے ہیں، تنقیدی شعور پیدا کرتے ہیں اور تبدیلی کیلئے اجتماعی کاوشوں کو تیز کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاوس کوئٹہ میں بلوچستان ریفارمز سوشل نیٹ ورک کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفد کی قیادت چیئرمین بلوچستان ریفارمز سوشل نیٹ ورک سید سلیم رضا ایڈووکیٹ نے کی۔ اس موقع پر بلوچستان ریفارمز سوشل نیٹورک کے ممبران حاجی اسحاق مینگل، ڈاکٹر فرحت حسین، فائزہ سکندر، ڈاکٹر آمنہ سومرو، فاریہ بتول، شاکرہ علی، سحرش کاشف، ڈاکٹر ہما ظفر، فاطمہ خان، فردوس، ناہید کریم، ملیحہ حسین، ثریا جان، حمیدہ نورانی، عمران خان، نورانی، ہما، رضوانہ، انور علی خمیسانی اور سرمد علی ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔ شرکائ سے گفتگو میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ موثر سماجی اصلاحات کے نیٹ ورک دراصل اکیڈمک ڈائیلاگ اور عام شہریوں کی شرکت کو فروغ دیتے ہیں، جو معاشروں کو دیرینہ چیلنجوں سے نمٹنے اور بدلتی ہوئی حقیقتوں کے مطابق ڈھالنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، کامیاب اصلاحات کے لیے مضبوط اداروں، عوامی اعتماد اور مشترکہ بھلائی کے لیے مشترکہ عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ضروری ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کو سماجی اصلاحات اور سماجی بہتری کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرہں۔ اس ضمن میں بلوچستان ریفارمز سوشل نیٹ ورک کی سماجی اور فلاحی سرگرمیاں قابل تحسین ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ خواتین کسی بھی معاشرے کا بنیادی ستون ہوتی ہیں اور انہیں نظر انداز کرکے ترقی کا خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ وفد نے گورنر بلوچستان کو بلوچستان ریفارمز کی مختلف سماجی، فلاحی، تعلیمی اور خواتین کی ترقی کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور ایکسپو کے افتتاح کرنے کیلئے دعوت دی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4953/2026
کوئٹہ18جون۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کوئی مہذب اور ترقی پسند معاشرہ سماجی انصاف کے بغیر پائیدار امن حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ امتیازی سلوک، عدم مساوات، کرپشن اور بنیادی حقوق کی پامالی اکثر ناراضگی، تصادم اور عدم استحکام کا باعث بنتے ہیں۔ امن اور انصاف وہ دو بنیادی ستون ہیں جن کی بنیاد پر ایک مستحکم، خوشحال اور مہذب معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ امن ایک ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جس میں افراد بغیر کسی خوف کے رہ سکتے ہیں اور اپنے اپنے علاقوں میں مثبت و تعمیری کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے گورنر ہاوس میں یشنل پیس اینڈ جسٹس کونسل کے سیکرٹری پریس اینڈ انفارمیشن محمد جبیر صدیقی کے ساتھ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ وفد میں عبدالخالق کاکڑ، خالد خان خیلجی، سید خالق شاہ، مسز عصمت جبیر صدیقی، نعیم کریم (پراجیکٹ ڈائریکٹر NCLSW) اور دیگر معزز اراکین شامل تھے۔ ملاقات کے دوران بلوچستان میں پائیدار امن، بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری، سماجی استحکام اور پائیدار ترقی کے موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کوئی مذہب معاشرہ انصاف کے بغیر پائیدار امن حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ امتیازی سلوک، عدم مساوات، بدعنوانی اور حقوق سے انکار اکثر ناراضگی، تصادم اور عدم استحکام کا باعث بنتے ہیں۔ جب حکومت قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھتی ہے، انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بناتی ہے اور تمام شہریوں کو یکساں مواقع فراہم کرتی ہیں، تو پھر عوام اور حکومتی اداروں کے درمیان اعتماد کے رشتے اور زیادہ مضبوط ہو جاتے ہیں۔اسطرح سماجی ہم آہنگی اور قومی اتحاد کی نئی راہیں متعین ہو جاتی ہیں۔ وفد نے گورنر بلوچستان کو صوبے میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی، جن میں خصوصاً ژوب میں یونیورسٹی کے قیام، مصنوعی ذہانت (AI)، ٹیکنیکل ایجوکیشن کے فروغ، صحت کے شعبے کی بہتری، لاءکالج کے قیام اور دیگر عوامی فلاحی منصوبے شامل تھے۔ گورنر بلوچستان جناب شیخ جعفر خان مندوخیل نے وفد کی تجاویز کو سراہتے ہوئے محمد جبیر صدیقی اور وفد کے دیگر اراکین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بلوچستان میں امن، سماجی ہم آہنگی، معاشی استحکام اور ترقیاتی منصوبوں کے فروغ کے لیے مستقبل میں باہمی تعاون اور اشتراکِ عمل کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4954/2026
کوئٹہ، 18 جون ۔ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار آٹومیشن سافٹ ویئر کے ذریعے بجٹ کی ڈیجیٹائزڈ تشکیل کو صوبائی کابینہ نے ایک اہم انتظامی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے اس پر مسرت اور اطمینان کا اظہار کیا ہے گزشتہ روز وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں مالی سال کے بجٹ کی جدید، شفاف اور ڈیجیٹل بنیادوں پر تیاری کو سراہا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ بجٹ مکمل طور پر آٹومیشن سافٹ ویئر کے ذریعے تیار کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف شفافیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے بلکہ مالی نظم و نسق کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملی ہے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی زاہد سلیم نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جدید آٹومیشن نظام کے نفاذ سے بجٹ سازی کے عمل میں رفتار، درستگی اور شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے، جبکہ انسانی مداخلت کو کم کرتے ہوئے فیصلوں کو ڈیٹا بیسڈ بنیادوں پر استوار کیا گیا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بجٹ کی تیاری کے دوران انتھک محنت اور پیشہ ورانہ خدمات پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی زاہد سلیم اور محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی پوری ٹیم کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیم کی اجتماعی محنت کا نتیجہ ہے کہ بلوچستان نے بجٹ سازی کے عمل میں ڈیجیٹل اصلاحات کی سمت ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شفافیت، کارکردگی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور آٹومیشن پر مبنی یہ نظام گڈ گورننس کے فروغ میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4955/2026
کوئٹہ، 18 جون ۔بلوچستان کابینہ نے چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کو بہترین انتظامی امور کی انجام دہی، گڈ گورننس کے فروغ اور حکومتی پالیسیوں پر موثر اور شفاف عملدرآمد کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے گزشتہ روز وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان کی انتظامی صلاحیتوں، پیشہ ورانہ مہارت اور اصلاحاتی اقدامات کو بھرپور انداز میں سراہا گیا۔ اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ شکیل قادر خان نے صوبے میں انتظامی نظم و نسق کی بہتری، ادارہ جاتی کارکردگی میں تسلسل اور گڈ گورننس کے قیام کے لیے قابل قدر کردار ادا کیا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے ابتدائی کلمات میں چیف سیکرٹری بلوچستان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے لیے باعثِ فخر ہے کہ شکیل قادر خان اپنی محنت، دیانت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث صوبائی حکومت کے تیسرے مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے تمام مراحل میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ شکیل قادر خان پاکستان سول سروس کے ایک انتہائی قابل، باصلاحیت اور تجربہ کار افسر ہیں جنہوں نے اپنی عملی کارکردگی سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پالیسی سازی حکومت کا اختیار ہوتی ہے جبکہ ان پالیسیوں پر موثر، شفاف اور بروقت عملدرآمد متعلقہ انتظامی اداروں کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے جس کی تکمیل کو حکومت انتہائی اہمیت دیتی ہے انہوں نے بجٹ کی تیاری کے عمل میں صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی زاہد سلیم، سیکرٹری خزانہ جہانگیر خان، پرنسپل سیکرٹری عمران زرکون اور محکمہ خزانہ بلوچستان کی پوری ٹیم کی محنت، تعاون اور پیشہ ورانہ خدمات کو بھی سراہا اور اسے قابلِ تحسین قرار دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4956/2026
کوئٹہ 18جون ۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت صوبے کے مختلف شہروں میں سیف سِٹیز (Safe Cities) سے متعلق صوبائی اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں منصوبے کی مجموعی پیشرفت اور آئندہ کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات ذاہد سلیم، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات، سیکرٹری آئی ٹی ایاز مندوخیل، کمشنرز اور متعلقہ محکموں اور اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ چیف سیکرٹری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیف سِٹیز پروجیکٹ صوبے کی عوامی حفاظت اور جدید نگرانی نظام کے قیام کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ منصوبے کی مکمل تکمیل مقررہ مدت کے اندر ممکن بنائی جائے۔ اس موقع پر اجلاس کے شرکائ کو کوئٹہ اور گوادر کے علاوہ نو (9) دیگر شہروں میں بھی سیف سِٹیز کے کام کے آغاز پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کوئٹہ اور گوادر میں بنیادی انفراسٹرکچر اور نیٹ ورک کی تنصیب کے کلیدی مراحل مکمل ہو چکے ہیں۔ نو (9) دیگر شہروں (خضدا، حب، سوئی، بیکڑ، لورالائی، تربت، دالبندین وغیرہ)میں ابتدائی تنصیب اور سائٹ سیلیکشن کے کام تیزی سے جاری ہیں۔ چیف سیکرٹری نے متعلقہ محکموں کو واضح ہدایات دیں کہ منصوبے کے آئندہ مرحلوں کے لیے ٹائم لائنز سختی سے نافذ کی جائیں۔ معیارِ کار اور تکنیکی ضوابط کی پابندی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے لاجسٹک اور تکنیکی رکاوٹوں کی بروقت نشاندہی اور حل کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ سیف سِٹیز منصوبہ عوامی تحفظ اور صوبے میں جدید سیکیورٹی مینجمنٹ کے فروغ کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا، اس لیے منصوبے کی جلد تکمیل اور موثر آپریشن کے لیے تمام محکمے ذمہ دارانہ انداز میں کام کریں۔ انہوں نے جولائی کے مہینے میں دوبارہ اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کی جس میں منصوبے کی مزید پیشرفت اور کام کی رفتار کا جائزہ لیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4957/2026
ہرنائی، 18 جون: ڈپٹی کمشنر ہرنائی میر ارشد حسین جمالی پاکستان پیپلز پارٹی ضلع ہرنائی کے جنرل سیکرٹریشین گل ترین کے انتقال پر ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت و فاتحہ خوانی کی اس موقع پر ایس پی ہرنائی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر ضلعی افسران بھی ان کے ہمراہ تھے ڈپٹی کمشنر و ضلعی افسران نے مرحوم کے درجات کی بلندی، مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی ڈپٹی کمشنر میر ارشد حسین جمالی نے کہا کہ مرحوم شین گل ترین ایک باوقار سیاسی و سماجی شخصیت تھے اور علاقے کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا انہوں نے سوگوار خاندان کو یقین دلایا کہ اس مشکل گھڑی میں ضلعی انتظامیہ ان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4958/2026
سوراب18 جون ۔ ڈپٹی کمشنر شہید سکندر آباد سوراب، صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایف سی بلوچستان 61 ونگ کمانڈر کرنل سید فخر رفیق طلحہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) سلمان علی بلیدی سمیت مختلف ضلعی محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع شہید سکندر آباد سوراب کی مجموعی ترقی، عوامی فلاح اور بہتر طرز حکمرانی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی نمائندوں اور متعلقہ اداروں کی مشاورت سے آئندہ پانچ سال کے لیے ضلع کی جامع ترقیاتی حکمت عملی مرتب کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ چار بنیادی شعبوں پر مشتمل ہوگا، جن میں صحت، تعلیم، امن و امان اور روزگار (Livelihood) شامل ہیں۔ ان شعبوں میں عوام کی ضروریات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی اور دیرپا منصوبہ بندی کی جائے گی تاکہ ضلع کی پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر نے اجلاس کے دوران تمام ضلعی محکموں کے سربراہان سے تفصیلی آرائ اور تجاویز حاصل کیں اور ہدایت کی کہ ہر محکمہ اپنے شعبے سے متعلق قابل عمل منصوبے اور سفارشات جلد از جلد پیش کرے۔ انہوں نے اس موقع پر ضلع سوراب کے عوام، منتخب نمائندوں، سماجی شخصیات، نوجوانوں، اساتذہ اور دیگر متعلقہ حلقوں سے بھی اپیل کی کہ وہ صحت، تعلیم، امن و امان اور روزگار سے متعلق اپنی قیمتی تجاویز ضلعی انتظامیہ تک پہنچائیں تاکہ عوامی مشاورت سے ایک موثر اور جامع پانچ سالہ ترقیاتی منصوبہ تشکیل دیا جا سکے، جو ضلع شہید سکندر آباد سوراب کے روشن مستقبل کی بنیاد ثابت ہو۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4959/2026
چمن18جون ڈپٹی کمشنر چمن، حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت آئندہ انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ صحت چمن اور پولیو پروگرام کے افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈی ایچ او چمن عبدالرشید، ایم ایس نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن ڈاکٹر اویس، پولیو آفیسران اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔اجلاس کے دوران پولیو مہم کی تیاریوں، ٹیموں کی تعیناتی، سیکیورٹی انتظامات، ویکسین کی دستیابی اور بچوں تک موثر رسائی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ مہم کے دوران تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور موثر رابطہ کاری کو یقینی بنائیں تاکہ ضلع بھر میں ہر بچے کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جا سکیں اور مہم کو کامیاب بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4960/2026
لورالائی18جون ۔: ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے ایک اہم اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے طویل عرصے سے غیر قانونی قبضے میں موجود مائنز ریسٹ ہاوس کو واگزار کرا کے متعلقہ محکمہ کے حوالے کر دیا۔ اس اقدام کو سرکاری املاک کے تحفظ، قانون کی عملداری اور ریاستی رٹ کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی خصوصی ٹیم نے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے مائنز ریسٹ ہاوس کا قبضہ واگزار کرایا، جس کے بعد مذکورہ سرکاری اثاثہ باقاعدہ طور پر محکمہ مائنز اینڈ منرلز کے حوالے کر دیا گیا تاکہ اسے عوامی مفاد اور سرکاری مقاصد کے لیے مو¿ثر انداز میں استعمال میں لایا جا سکے۔اس کامیاب کارروائی میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اسماعیل مینگل نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی نگرانی اور انتظامی صلاحیتوں کی بدولت کارروائی پرامن، شفاف اور قانونی تقاضوں کے مطابق مکمل کی گئی۔ بہترین کارکردگی کے اعتراف میں ڈپٹی کمشنر لورالائی کی جانب سے محمد اسماعیل مینگل سمیت کارروائی میں حصہ لینے والے افسران اور اہلکاروں کو تعریفی اسناد (Certificates of Appreciation) سے نوازا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری زمینوں اور عمارتوں پر غیر قانونی قبضے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اثاثے عوام کی امانت ہیں اور ان کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی ٹیم کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، فرض شناسی اور قانون کے نفاذ کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلع بھر میں سرکاری اراضی اور املاک کی نشاندہی، ریکارڈ کی جانچ اور غیر قانونی قبضوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ ضلعی انتظامیہ قانون کی بالادستی، شفاف حکمرانی اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھاتی رہے گی۔شہری حلقوں نے مائنز ریسٹ ہاو¿س کی واگزاری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کی اس کارروائی کو سرکاری وسائل کے تحفظ اور بہتر طرز حکمرانی کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4961/2026
لورالائی:18جون ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے تعلیمی وژن اور صوبائی وزیر تعلیم محترمہ راحیلہ درانی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں تعلیمی شعبے میں شفافیت، احتساب اور موثر مالی نظم و نسق کے فروغ کے لیے لورالائی ڈویژن کے محکمہ تعلیم کے کلسٹر ہیڈز کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کی صدارت سی ایم ٹی چیئرمین محمد زمان بازئی نے کی، جبکہ ڈاکٹر خیر محمد نے خصوصی شرکت کرتے ہوئے مختلف امور پر شرکاء کی رہنمائی کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد کلسٹر فنڈز کے شفاف، موثر اور قواعد و ضوابط کے مطابق استعمال کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات اور اصلاحات کا جائزہ لینا تھا۔اس موقع پر محمد زمان بازئی اور ڈاکٹر خیر محمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیمی اداروں میں مالی شفافیت، جوابدہی اور دستیاب وسائل کے درست استعمال کے ذریعے ہی تعلیمی معیار میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ فنڈز کے استعمال میں دیانت داری اور نگرانی کے موثر نظام کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں کلسٹر فنڈز کی منصفانہ اور بروقت تقسیم، شفاف مالی نظم و نسق، فنڈز کے موثر استعمال، ممکنہ بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کی روک تھام، متوقع ریکوری کے طریقہ کار، مالی نگرانی کے نظام اور آئندہ کے لیے قابلِ عمل اصلاحی تجاویز پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ شرکاء کو درپیش عملی مسائل بھی زیر بحث آئے، جن کے حل کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس کے دوران کلسٹر فنڈز کے استعمال کو مزید شفاف، موثر اور حکومتی قواعد و ضوابط کے مطابق بنانے کے لیے مختلف تجاویز طلب کی گئیں۔ پیش کردہ سفارشات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ وسائل کے بہترین استعمال کے لیے احتساب اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے۔اجلاس میں ڈائریکٹر ایجوکیشن لورالائی ڈویژن عارف شاہ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لورالائی بختیار احمد کاکڑ، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (ڈی ڈی او میل) عبدالرازق میاں خیل، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فی میل) فوزیہ درانی، پرنسپل جمال الدین اتمانخیل، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر دکی امیر شاہ بخاری، پروجیکٹ منیجر یونیسیف نوید لطیف، عبید ترین سمیت مختلف تعلیمی افسران، کلسٹر ہیڈز اور پرنسپلز نے شرکت کیاجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کلسٹر فنڈز کی شفافیت، بروقت تقسیم، موثر نگرانی، مکمل جوابدہی اور بہترین استعمال کو یقینی بنانے کے لیے باہمی مشاورت، مربوط حکمتِ عملی اور مسلسل تعاون کے ساتھ عملی اقدامات جاری رکھے جائیں گے، تاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے تعلیمی وژن کے مطابق صوبے میں معیاری، شفاف اور جدید تعلیمی نظام کے قیام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4962/2026
چمن 18جون ۔پراپرٹی ٹیکس نادہندگان کے خلاف ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اینڈ اینٹی نارکوٹکس کی کارروائی ای ٹی او حبیب الرحمن اور انسپکٹر رفیق ناصر کی زیر نگرانی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے چمن شہر کے تاج روڈ اور مختلف علاقوں میں پراپرٹی ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 16 دکانوں کو سیل کر دیا۔محکمہ کے مطابق دکانداروں کو ٹیکس کی ادائیگی کے لیے متعدد بار نوٹسز جاری کیے گئے تھے، تاہم مقررہ وقت میں سرکاری واجبات جمع نہ کروانے پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی گئی۔ای ٹی او حبیب الرحمن نے کہا کہ سرکاری ٹیکس کی وصولی ریاستی امور کی بہتری اور عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے ضروری ہے، جبکہ انسپکٹر رفیق ناصر نے واضح کیا کہ تمام نادہندگان اپنے واجبات متعلقہ بینکوں میں جمع کرا کے رسید پیش کریں، جس کے بعد ان کی دکانیں فوری طور پر کھول دی جائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی تاکہ حکومتی محصولات کی وصولی یقینی بنائی جا سکے اور قانون کی عملداری برقرار رہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنا مہ نمبر4963/2026
چمن 18جون ۔ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی، چیئرمین امان اللہ اور ایم ایس نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن ڈاکٹر اویس احمد نے گزشتہ پولیو مہم کے دوران زخمی ہونے والے پولیس اہلکار حافظ عبدالقادر کو 5 لاکھ روپے کا امدادی چیک پیش کیا۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار عوام کی جان و مال کے تحفظ اور قومی فرائض کی انجام دہی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حافظ عبدالقادر نے پولیو مہم کے دوران اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے زخمی ہو کر فرض شناسی، بہادری اور قربانی کی مثال قائم کی۔ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے اپنے فرض شناس اہلکاروں کی ہر ممکن حوصلہ افزائی اور معاونت جاری رکھیں گے تاکہ وہ مزید جذبے اور عزم کے ساتھ افرائض انجام دے سکیں۔ انہوں نے حافظ عبدالقادر کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4964/2026
زیارت 18جون ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی جانب سے کلی منہ میں عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری میں ایف سی کے میجر نوید، اسسٹنٹ کمشنر زیارت عبداللہ کاشانی، مختلف محکموں کے ضلعی افسران، عمائدین علاقہ اور دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے عوام الناس نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔کھلی کچہری کے دوران عوام نے اپنے انفرادی اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے متعدد درخواستیں پیش کیں۔ جن مسائل کا تعلق ضلعی انتظامیہ سے تھا، ان پر ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے موقع پر ہی احکامات جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری کارروائی کی ہدایت دی۔اس موقع پر ملک محمد زمان سارنگزئی نے سپاسنامہ پیش کیا، جبکہ ملک ظاہر خان کاکڑ اور اخندزادہ حافظ خلیل احمد بھی موجود تھے۔کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے واضح احکامات ہیں کہ عوام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں اور عوام کی دہلیز پر جا کر ان کے مسائل سن کر فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ بی ایس ڈی آئی فیز تھری اسکیمات کے تحت خوازی کی تعمیر و مرمت، کلی اعظم کی باونڈری وال کی تعمیر و بحالی، جبکہ سسن منہ میں گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کے واش رومز اور واٹر ٹینک کی تعمیر و مرمت کا کام انجام دیا جائے گا۔ مزید برآں بی ایچ یو منہ کو آئندہ تین ہفتوں کے اندر پی پی ایچ آئی کے ذریعے فعال کیا جائے گا تاکہ مقامی آبادی کو صحت کی بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی بھرپور کوشش ہے کہ عوام کو تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، مواصلات اور دیگر بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریوں کا مقصد عوام کے مسائل براہِ راست سن کر ان کا بروقت اور موثر حل یقینی بنانا ہے انہوں نے مزید کہا کہ جن مسائل کا حل ضلعی سطح پر ممکن ہوگا انہیں فوری طور پر حل کیا جائے گا، جبکہ اجتماعی نوعیت کے مسائل کو متعلقہ اعلیٰ حکام تک پہنچا کر ان کے حل کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی رابطے اور کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ عوامی مشکلات کا بروقت ازالہ اور حکومتی خدمات کی موثر فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر4965/2026
قلعہ سیف اللہ، 18 جون :۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ (DEG) کا اجلاس ڈپٹی کمشنر ساگر کمار کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام اسٹیک ہولڈرز اور تعلیم سے منسلک محکمہ جات نے ڈی ای جی فورم کو ضلع میں اپنی پیش رفت اور کلیدی سرگرمیوں سے باقاعدہ آگاہ کیا۔اجلاس میں گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کے نمائندے، ESP ہیڈ حمید اللہ کاکڑ ، آر ٹی ایس ایم، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (DOE)، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (DDOs) اور خواتین افسران نے شرکت کی۔شرکائنے ضلع میں تعلیمی معیار کی بہتری، اسکولوں میں طلباءکی حاضری، اساتذہ کی کارکردگی، اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر تفصیلی رپورٹس پیش کیں۔ ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے تمام محکموں کو باہمی تعاون سے کام کرنے اور تعلیمی اہداف کے حصول کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانے کی ہدایت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر 2026/4966
کوئٹہ 18 جون: ـمحکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے ٹیکس نادہندگان کے خلاف جاری مہم کے دوران آج سخت کارروائی کرتے ہوئے ایک پیٹرول پمپ، چار گوداموں اور 30 دکانوں کو سیل کر دیا۔ محکمہ ایکسائز ٹیکس برانچ نے یہ کارروائیاں سرکی روڈ، اولڈ ٹرک اڈہ اور سیٹلائٹ ٹاؤن کی مختلف علاقوں میں کی گئیں۔ کارروائی کا مقصد طویل عرصے سے واجب الادا کوٹہ ٹیکس کی وصولی کو یقینی بنانا اور ٹیکس نادہندگان کے خلاف قانون کے مطابق اقدامات کرنا ہے۔ای ٹی او ایکسائز کا کہنا ہے کہ ٹیکس نادہندگان کو متعدد بار نوٹسز جاری کیے گئے تھے، تاہم عدم ادائیگی پر جائیدادوں کو سیل کرنے کی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے واضح کیا ہے کہ ٹیکس وصولی مہم بلاامتیاز جاری رہے گی اور سرکاری واجبات کی ادائیگی تک سیل شدہ املاک نہیں کھولی جائیں گی۔محکمہ نے شہریوں سے انتباہ کی ہے کہ وہ بروقت ٹیکس ادا کریں تاکہ قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *