خبرنامہ نمبر4887/2026
کوئٹہ 17 جون۔سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا ہے کہ صوبے کی ترقی اور خوشحالی میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کا کردار نہایت اہم ہے صوبے میں انفراسٹرکچر کی بہتری اور پائیدار ترقی کا انحصار محکمہ کی موثر کارکردگی پر ہے اگر اس کارکردگی میں سستی یا کوتاہی ہو تو صوبے کے ترقی کا پہیہ جام ہو جائے گا جو کہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ان خیالات کا اظہار سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے صوبے میں جاری اسٹریٹجک منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں تمام چھ زونز کے چیف انجینئرز سپرنٹنڈنگ انجینئرز اور ضلعی ایگزیکٹو انجینئرز نے بذریعہ زوم شرکت کی اجلاس کے دوران مختلف اضلاع کے انجینئرز نے اپنے اپنے علاقوں میں جاری اسٹریٹجک منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور منصوبوں کو درپیش مالی اور تکنیکی مسائل سے آگاہ کیا سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے ہدایت کی کہ اہم نوعیت کے منصوبوں کی تکمیل میں کسی قسم کی سست روی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے کہا کہ وقت کم اور چیلنجز زیادہ ہیں لہٰذا تمام انجینئرز اس بات کو یقینی بنائیں کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل محکمہ کی اولین ترجیح رہے انہوں نے مزید ہدایت دی کہ منصوبوں کو درپیش تمام تکنیکی مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے تمام ایگزیکٹو انجینئرز بلڈنگز کو ٹاہم لاہن دیتے ہوئے کہا کہ مقررہ مدت تک ان منصوبوں کی تکمیل کو ہر صورت میں یقینی بنائی جائے بصورت دیگر متعلقہ حکام کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے مذید کہا کہ ان منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائےسیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے چیف انجینئرز اور ایس ایز کو ہدایت کی کہ وہ خود منصوبوں کا باقاعدگی سے دورہ کریں اور ہر دو ہفتے بعد پیش رفت رپورٹ ارسال کریں ان رپورٹس میں تکنیکی مسائل کی نشاندہی بھی شامل کی جائے تاکہ منصوبوں کی رفتار متاثر نہ ہو اور کام بلا تعطل جاری رہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4888/2026
لورالائی 17جون ۔ ضلع لورالائی میں امن و امان کی صورتحال کو مزید مستحکم بنانے، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے اور جرائم پیشہ و سماج دشمن عناصر کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم کے اظہار کے لیے لورالائی پولیس، فرنٹیئر کور (ایف سی) 53 ونگ، انسداد دہشت گردی فورس (اے ٹی ایف) اور اسپیشل آپریشن ونگ (ایس او ڈبلیو) کے اشتراک سے ایک بڑے پیمانے پر مشترکہ فلیگ مارچ کا انعقاد کیا گیا۔فلیگ مارچ کی قیادت ایس ڈی پی او دوسڑکہ سرکل اقبال لانگو، ایف سی 53 ونگ کے میجر کامران اور ایس ڈی پی او سرکی جنگل سرکل حیدر شیرانی نے کی، جبکہ پولیس، ایف سی، اے ٹی ایف اور ایس او ڈبلیو کے افسران و اہلکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔فلیگ مارچ شہر کے اہم شاہراہوں، تجارتی مراکز، بازاروں، حساس تنصیبات اور مختلف داخلی و خارجی راستوں سے گزرا۔ اس دوران سیکیورٹی فورسز کی منظم موجودگی اور گشت نے شہریوں میں اعتماد، تحفظ اور اطمینان کے احساس کو مزید تقویت بخشی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئبے افسران نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اور پ±رامن ماحول کی فراہمی ریاستی اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔ جرائم پیشہ عناصر، منشیات فروشوں، سماج دشمن قوتوں اور امن خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے باہمی تعاون، مربوط حکمت عملی اور موثر انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے ضلع بھر میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ عوامی مقامات، تعلیمی اداروں، بازاروں اور حساس علاقوں میں سیکیورٹی انتظامات کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا بروقت تدارک ممکن ہو سکے۔افسران نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ مشکوک افراد، غیر معمولی سرگرمیوں اور قانون شکنی کے واقعات سے متعلق فوری طور پر پولیس اور متعلقہ اداروں کو آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی تعاون کے بغیر پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں، لہٰذا شہری معاشرے کے ہر فرد کو امن و امان کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔فلیگ مارچ کے دوران شہریوں اور تاجروں نے سیکیورٹی اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس اقدام کو امن کے قیام اور جرائم کے خاتمے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔فلیگ مارچ کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ضلع لورالائی میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4889/2026
لورالائی17جون ۔ لورالائی پولیس نے ایک کامیاب کارروائی کرتے ہوئے مغوی ڈرائیور کو بحفاظت بازیاب کر لیا، چھینی گئی پروبوکس گاڑی بمعہ لاکھوں روپے مالیت کے ڈیزل برآمد کر لیا جبکہ واردات میں ملوث پانچ خطرناک ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔یہ بات ایس ڈی پی او سرکی جنگل سرکل حیدر شیرانی نے سی آئی اے انچارج محمد انور جلالزئی اور ایس ایچ او تھانہ چنجن مشتاق احمد کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کلی چنجن کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے ڈیزل سے لوڈ ایک فوربکس گاڑی چھین لی تھی اور گاڑی کے ڈرائیور کو اغواءکرکے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد نے فوری نوٹس لیتے ہوئے پولیس اور سی آئی اے پر مشتمل خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں اور مغوی کی بازیابی، گاڑی کی برآمدگی اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی پولیس نے بروقت اور موثر کارروائی کرتے ہوئے مغوی ڈرائیور کو بحفاظت بازیاب کر لیا، چھینی گئی فوربکس گاڑی بمعہ ڈیزل برآمد کر لی اور واردات میں ملوث پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والی ایک جی ایل آئی گاڑی اور ایک مشین گن بھی برآمد کی گئی پریس کانفرنس کے دوران بتایا گیا کہ گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر چھینی گئی فوربکس گاڑی اور اس میں موجود لاکھوں روپے مالیت کا ڈیزل برآمد کر لیا گیا، جبکہ دورانِ تفتیش ایک اور مشکوک سلور رنگ فوربکس گاڑی بھی تحویل میں لے لی گئی ہے۔پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان میں سے دو ملزمان بارکھان پولیس کو قتل اور اقدامِ قتل کے سنگین مقدمات میں مطلوب تھے۔ ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور ان سے دیگر سنگین جرائم کے حوالے سے بھی اہم انکشافات متوقع ہیں۔پولیس حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4890/2026
قلعہ سیف اللہ17جون ۔. ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ ساگر کمار کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال قلعہ سیف اللہ منظور ترین، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ مسلم باغ، ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی سہیل اسلام اور محکمہ صحت کے دیگر افسران نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ٹیچنگ ہسپتالوں، ڈی ایچ کیو ہسپتال، آر ایچ سیز اور بی ایچ یوز میں ادویات کی دستیابی، ڈاکٹروں کی حاضری اور مریضوں کو دی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ڈی ایس ایم PPHI سہیل اسلام نے اجلاس کو PPHI کے زیر انتظام بنیادی مراکز صحت کی کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع بھر کے بی ایچ یوز میں ادویات وافر مقدار میں موجود ہیں اور عملہ باقاعدگی سے ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حفاظتی ٹیکہ جات کے ہدف کے حصول اور ماں بچے کی صحت کے پروگرام پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام ہیلتھ یونٹس میں صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھا جائے اور عوامی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4891/2026
لورالائی 17جون ۔ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر میختر یحییٰ خان کاکڑ کی زیر صدارت رورل ہیلتھ سینٹر (آر ایچ سی) میختر میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری میں مختلف سرکاری محکموں کے افسران، علاقائی قبائلی عمائدین، معتبر شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر ایس ایچ او میختر ہمایوں خان ناصر سمیت متعلقہ محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔ کھلی کچہری میں عوام نے علاقے کو درپیش بنیادی مسائل بالخصوص صحت، تعلیم، صاف پانی، سڑکوں کی خستہ حالی، امن و امان اور دیگر شہری سہولیات سے متعلق اپنے تحفظات اور تجاویز تفصیل سے پیش کیں۔اسسٹنٹ کمشنر یحییٰ خان کاکڑ نے عوام کے مسائل کو بغور سنا اور موقع پر ہی متعلقہ محکموں کو متعدد شکایات کے فوری ازالے اور عملی اقدامات کے احکامات جاری کیے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اور مو¿ثر اقدامات کر رہی ہے او ر کھلی کچہریوں کا مقصد انتظامیہ اور عوام کےدرمیان براہِ راست رابطے کو مضبوط بنانا ہے تاکہ شکایات کا بروقت ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کی سہولت کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو متحرک رکھا جائے گا اور کسی بھی غفلت یا کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔شرکاء نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے ایک مثبت اور عوام دوست قدم قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ اس نوعیت کی کھلی کچہریاں مستقبل میں بھی باقاعدگی سے منعقد کی جاتی رہیں گی تاکہ عوامی مسائل کو مقامی سطح پر ہی حل کیا جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کھلی کچہری میں اٹھائے گئے نکات پر فوری عملدرآمد کے لیے ایک مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جو مختلف محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی۔ اس کے علاوہ آر ایچ سی میختر میں طبی سہولیات کی بہتری اور ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے بھی خصوصی اقدامات زیر غور ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4892/2026
ہرنائی 17جون ۔ہرنائی : عوام کے جان و مال کا تحفظ اور امن و امان کی مثالی صورتحال کو برقرار رکھنا پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈی ایس پی ہرنائی ملک حبیب اللہ ترین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہر کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے جرائم پیشہ اور مشکوک عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور اس ضمن میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ ایس پی پولیس ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی کی خصوصی ہدایات پر شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ ڈی ایس پی ملک حبیب اللہ ترین کی زیرِ نگرانی پولیس کی بھاری نفری نے کارروائی کرتے ہوئے شہر کے تمام چھوٹے بڑے داخلی و خارجی راستوں سمیت اہم شاہراہوں پر ہنگامی ناکہ بندی قائم کر دی۔ اس اہم مہم کے دوران پولیس اہلکاروں نے شہر میں داخل ہونے اور باہر جانے والی تمام چھوٹی بڑی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور مشکوک افراد کی کڑی تلاشی لی۔ سیکیورٹی کے اس سخت مینیجمنٹ کا مقصد شہر کے امن کو سبوتاڑ کرنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ ڈی ایس پی ملک حبیب اللہ ترین نے کہا ہے کہ شہریوں کا تحفظ ہماری ذمہ داری بھی ہے اور فرض بھی۔ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر شہر کی مختلف شاہراہوں پر ناکہ بندی اور سخت چیکنگ کا یہ سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سرگرمی کا بنیادی مقصد مشکوک افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور جرائم کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہے، تاکہ ہرنائی کے پرامن شہریوں کو ایک خوف سے پاک اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ ہرنائی پولیس کا یہ حالیہ اقدام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انتظامیہ شہر میں قانون کی بالادستی قائم رکھنے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہے۔ سیکیورٹی کے ان سخت اقدامات اور روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی چیکنگ سے جہاں جرائم پیشہ عناصر کی کمر ٹوٹے گی، وہاں عام شہریوں میں بھی تحفظ اور سلامتی کا احساس مزید گہرا ہوگا۔ مقامی حلقوں نے پولیس کے اس مستعد انداز کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ان اقدامات سے شہر میں امن و امان کی فضا مزید سازگار ہوگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4893/2026
دکی17جون ۔: ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان نے بی ایس ڈی آئی (BSDI) پروگرام کے تحت ضلع دکی کے مختلف علاقوں میں مکمل ہونے والی متعدد واٹر سپلائی سکیموں کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب میں متعلقہ محکموں کے افسران، عمائدینِ علاقہ اور مقامی شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔افتتاح کی جانے والی سکیموں میں واٹر سپلائی سکیم کلی فاروق ناصر، واٹر سپلائی سکیم کلی آفتاب شیخ ابراہیم نانا صاحب زیارت، واٹر سپلائی سکیم کلی اکبر خان ترین اور واٹر سپلائی سکیم کلی موسیٰ جان ترین، کلی دکی شامل ہیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے مذکورہ علاقوں کے مکینوں کو پینے کے صاف اور محفوظ پانی کی فراہمی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر محمد نعیم خان نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ صاف پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور ان واٹر سپلائی سکیموں کی تکمیل سے نہ صرف پانی کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ مقامی آبادی کی صحت اور معیارِ زندگی میں بھی بہتری آئے گی۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی مو¿ثر نگرانی، بروقت دیکھ بھال اور مستقل فعالیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام طویل مدت تک ان سکیموں سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع دکی میں عوامی فلاح و بہبود کے مزید ترقیاتی منصوبے بھی ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیے جائیں گے۔علاقہ مکینوں نے واٹر سپلائی سکیموں کی تکمیل اور افتتاح کا خیرمقدم کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایسے ترقیاتی اقدامات سے علاقے میں بنیادی سہولیات کی فراہمی مزید بہتر ہوگی اور عوامی مسائل کے حل میں نمایاں پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4894/2026
کوئٹہ17 جون۔گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے محرم الحرام کے آغاز پر پوری امت مسلمہ کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ نیا اسلامی سال سب کیلئے دیرپا امن، معاشی خوشحالی اور ترقی کا ذریعہ بنائے۔ محرم کا مہینہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت اور کربلا میں حضرت امام حسین اور ان کے وفادار ساتھیوں کی عظیم قربانی کی یاد دلاتا ہے جو کہ ہمت، انصاف اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا لازوال سبق ہے۔ ماہ مقدس کے پیش نظر گورنر مندوخیل نے تمام ضلعی انتظامیہ کو محرم الحرام کے دوران فول پروف سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ خاص طور پر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں عبادت گاہوں، امام بارگاہوں اور جلوس کے راستوں کے اردگرد سیکورٹی بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ تمام متعلقہ اداروں کو باہمی روابط کو بڑھانا چاہیے۔ ڈپٹی کمشنرز اور پولیس افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چوکس رہیں، کسی بھی مسئلے کو فوری طور پر حل کریں اور عاشورہ کی تقریبات اور جلوسوں کیلئے پرامن ماحول کو یقینی بنانے کیلئے حفاظتی اقدامات کی ذاتی طور پر نگرانی کریں۔ انہوں نے علمائے کرام اور خطیبوں پر زور دیا کہ وہ خطبات اور اجتماعات کے دوران رواداری، اتحاد، بھائی چارے اور باہمی احترام کے پیغام کو عام کریں۔ ان حساس دنوں میں گورنر مندوخیل نے میڈیا کے تمام نمائندوں اور صحافیوں سے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے پر زور دیا۔ میڈیا والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سنسنی خیزی سے گریز کریں، نشریات سے پہلے معلومات کی تصدیق کریں اور امن، صبر اور بین المذاہب ہم آہنگی کے جذبے کو اجاگر کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4895/2026
کوئٹہ، 16 جون ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے مجوزہ بجٹ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی وزراء، چیف سیکرٹری بلوچستان، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ دستاویزات پر تفصیلی غور و خوض کے بعد صوبائی کابینہ نے متفقہ طور پر بجٹ کی منظوری دے دی۔ کابینہ کو بجٹ کے مختلف پہلووں، ترقیاتی ترجیحات، مالی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی کابینہ کو بتایا گیا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے بلوچستان کے بجٹ کا مجموعی حجم 1089 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 797 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ مجموعی صوبائی ترقیاتی پروگرام (PSDP) کے لیے 206 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ترقیاتی پروگرام کے تحت نئی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 106 ارب روپے جبکہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ صوبے میں جاری ترقیاتی عمل کو مزید مو¿ثر اور تیز بنایا جا سکے اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ وفاقی فنڈڈ منصوبوں (Federal Funded Projects) کی مد میں 45 ارب روپے جبکہ فارن پراجیکٹ اسسٹنس (FPA) کی مد میں 40 ارب روپے بھی دستیاب ہوں گے، جو صوبائی ترقیاتی پروگرام کے علاوہ ہوں گے۔ ان اضافی وسائل کی بدولت بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، آبنوشی، مواصلات، زراعت، توانائی اور دیگر اہم شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد مزید موثر انداز میں ممکن ہو سکے گا کابینہ کو صوبائی آمدنی میں اضافے کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2026-27 کے دوران صوبائی محصولات میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے صوبائی آمدنی کو 170 ارب روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے محصولات کے نظام میں اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور وسائل کے موثر استعمال کو یقینی بنایا جائے گا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے محدود وسائل کے باوجود ایک متوازن، حقیقت پسندانہ اور عوام دوست بجٹ تیار کیا ہے جس کا بنیادی مقصد بلوچستان کے عوام کی فلاح و بہبود، پائیدار ترقی، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور بنیادی سہولیات کی بہتری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ ترقی اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرے گا اور صوبے کی معاشی بنیادوں کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو صحت، تعلیم، صاف پانی، بہتر انفراسٹرکچر اور روزگار کی فراہمی ہے۔ ترقیاتی پروگرام میں ان شعبوں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے تاکہ عوامی مسائل کے دیرپا حل کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے وسائل کے شفاف اور موثر استعمال کو یقینی بنائے گی اجلاس کے اختتام پر صوبائی کابینہ نے بجٹ تجاویز کی منظوری دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ کابینہ نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ صوبے کی ترقیاتی ضروریات، عوامی توقعات اور معاشی استحکام کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اور یہ بلوچستان کی پائیدار ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4896/2026
کوئٹہ،17جون ۔ ترجمان بلوچستان پولیس کے ایک پریس ریلیز کے مطابق صوبے بھر میں اشتہاریوں ،مفرور ملزمان اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری خصوصی مہم کے دوران گزشتہ تین ہفتوں میں 198 ملزمان کو گرفتار کرکے بھاری مقدار میں اسلحہ اور منشیات برآمد کر نے کے علاوہ 12 اغوائ شدہ افراد بازیاب کرا لئے گئے ہیں۔ترجمان بلوچستان پولیس کے مطابق انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہرکی ہدایات پر کوئٹہ سمیت صوبے کی ساتوں رینجز میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس رکھنے اور قانون پسند شہری کے تحفظ کو یقینی بنانےکے لئے خصوصی مہم جاری ہے۔ پریس ریلیز کے مطابق جاری مختلف کارروائیوں کے دوران گرفتار ملزمان کے قبضے سے 186 ریوالور و پسٹل، 12 کلاشنکوف، 12 شارٹ گن، 1011گولیاں اور کارتوس جبکہ 143 میگزین بھی برآمد کیے گئے۔بلوچستان پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیوں میں 117 ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے 364.900 کلوگرام چرس، 6.375 کلوگرام آئس، 10.200 کلوگرام افیون، 10 کلوگرام کرسٹل، 157 شراب کی بوتلیں اور 40 بیئر کین برآمد کیں۔پریس ریلیز کے مطابق مہم کے دوران 49 اشتہاری، 359 مفرور اور مختلف جرائم میں ملوث 730 ملزمان کو حراست میں لیا گیا جبکہ 12 مغویوں کو بازیاب کرایا گیا۔پریس ریلیز کے مطابق 7 مسروقہ گاڑیاں، 23 موٹر سائیکلیں اور 8 موبائل فون بھی برآمد کیے گئے۔پولیس نے مختلف وارداتوں کے دوران چوری کی گئی 6 لاکھ 91 ہزار 200 روپے کی رقم بھی برآمد کر لی۔پریس ریلیز کے مطابق دفعہ 550اور دفعہ 114کے دوران 34گاڑیوں اور موٹرسائیکلیں کو ضبط کر لیا گیاجبکہ2736 گاڑیوں سے کالے شیشے اتارے گئے اور 75لیٹر پیٹرول اور 10 لیٹر ڈیزل برآمد کیں۔ ترجمان کے مطابق عوام اور پولیس کے مابین تعاون کی فروغ کے لئے پولیس اہلکار کا عوام کے ساتھ خوش اخلاقی اور احترام پر مبنی رویہ اپنانے جبکہ تھانوں میں آنے والے سائلین کے مسائل کوترجیحی بنیائدوں پر حل کرنے اور عوامی شکایات کے بروقت ازالے و شفاف سطح پرکارروائی کی بھی ہدایات کی گئی ہے۔ترجمان نے کہا ہے کہ گرفتار ملزمان کے جرائم کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرنے کے لیے دیگر صوبوں کی پولیس سے مدد اور گرفتار ملزمان کا ڈیٹا کاتبادلہ بھی کیا جا رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق عوام کو پرامن اور محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔پولیس عوام کے تحفظ لئے دی گئی اپنی اہم ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے اس حوالے شہریوں سے بھی اپیل گئی ہے کہ امن کو قائم رکھنے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری مہم کو مزید کامیاب بنانے میں پولیس فورس کے ساتھ تعاون میں رہیں جبکہ شہر محلے اور علاقے کی سطح پر امن دشمن عناصر کی سرکوبی میں مدد کے لیے تھانوں کے باہر آویزاں شکایات کے لئے فون نمبر اور پولیس 15 کنٹرول کو منفی عناصرکی معلومات کے حوالے سے آگاہ کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4897/2026
ہرنائی : 17جون ۔ : ضلع ہرنائی کے علاقے وڑیخہ میں گزشتہ روز آتشزدگی کا ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس نے دو ہنستے بستے گھروں کو شدید متاثر کیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ فوری طور پر متحرک ہو گئی اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور انہیں فوری ریلیف کی فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا آغاز کر دیا گیا وڑیخہ میں اچانک بھڑک اٹھنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے دو رہائشی مکانات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں گھروں کو شدید نقصان پہنچا۔ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین نے متاثرہ مقام کا ہنگامی دورہ کیا اور آتشزدگی سے ہونے والے مالی و جانی نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کی فوری داد رسی کے لیے پی ڈی ایم اے (PDMA) کے تعاون سے امدادی سامان موقع پر پہنچایا گیا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین کی زیرِ نگرانی متاثرین میں ٹینٹ، کمبل، بستر، راشن اور دیگر ضروری گھریلو اشیائ تقسیم کی گئیں تاکہ کھلے آسمان تلے بیٹھے خاندانوں کی فوری رہائشی و دیگر بنیادی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔اس مشکل گھڑی میں سرکاری سطح پر فوری ردعمل اور امداد کی فراہمی پر متاثرہ خاندانوں کے سربراہان اور مقامی عمائدین نے گہرے اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے بروقت تلافی اور ہمدردی پر صوبائی حکومت، پی ڈی ایم اے اور خاص طور پر ضلعی انتظامیہ ہرنائی کا دل سے شکریہ ادا کیا اور ان کی اس مخلصانہ کاوش کو بھرپور الفاظ میں سراہا ہے ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4898/2026
قلات 17جون ۔ ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے کہا ضلعی انتظامیہ قلات شہریوں کو ببنیادی سہولیات فراہمی اورانکے مسائل کے حل کیلئے اقدامات کررہی ہے عوامی سطح پرکھلی کچہریوں کے انعقاد سے نہ صرف شہریوں کو ریلیف ملا ہے ہیکہ ترقیاتی منصوبوں اورسرکاری محکموں کی کارکردگی سے متعلق عوامی آرابھی سامنے آءہے ان خیالات کااظہارانہوں اپنے دفتر میں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے عوامی وفودسے گفتگوکرتے ہوئے کیا اس موقع پرایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ ڈسٹرکٹ اٹارنی جلیل احمدشیخ این آرایس پی کے ڈسٹرکٹ مینیجر کامریڈ رشید بلوچ گورنمنٹ بوائز ہائی سکول پولیس لائن قلات کے ہیڈ ماسٹر عبدالسلام نیچاری نامورادیب دانشور آغاامام شاہ سماجی کارکن عبدالغفور شاہوانی پیپلزپارٹی کے ضلعی رہنماءفضل الرحمن رحمانی جمہوری وطن پارٹی کے صوبائی نائب صدر زولقرنین نوشیروانی جمیعت علمائے اسلام قلات کے پریس سیکرٹری اسرار ساسولی پوسٹ گریجویٹ کالج کے لیکچرار دلمرادنیچاری اور دیگرنے بھی ملاقات کی ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے باری باری لوگوں کے مسائل سنے اور انکے فوری حل کے لیے احکامات جاری کردیئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4899/2026
خاران 17جون ۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک خبر کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خاران منیر احمد سومرو کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر خاران عمر سنان جمالی نے ٹیچنگ ہسپتال خاران کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے ایمرجنسی وارڈ سمیت مختلف وارڈز کا معائنہ کیا، مریضوں اور ان کے لواحقین سے ملاقات کی اور ہسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔اس موقع پر سوشل میڈیا پر زیرِ گردش خبر کے حوالے سے بھی تفصیلی معلومات حاصل کی گئیں۔ہسپتال انتظامیہ، ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر اور فارماسسٹ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ مریضہ گیسٹرو کی شکایت کے ساتھ ہسپتال لائی گئی تھی، جس کا بروقت طبی معائنہ کیا گیا، ضروری علاج فراہم کیا گیا اور طبی حالت بہتر ہونے پر اسے ڈسچارج کر دیا گیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر خاران نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ مریضوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد مزید مضبوط ہو۔انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور صحت کے شعبے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4900/2026
خاران 17جون ۔حکومت بلوچستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر خاران منیر احمد سومرو کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر خاران خادم حسین کھوسہ نے خاران شہر میں غیر قانونی اسمگل شدہ اشیائ کے خلاف موثر کارروائی کرتے ہوئے مختلف دکانوں کا معائنہ کیا۔کارروائی کے دوران متعدد دکانداروں کے قبضے سے غیر ملکی اسمگل شدہ سگریٹ اور گٹکا برآمد کرکے ضبط کر لیے گئے۔ اس موقع پر دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ غیر قانونی اور اسمگل شدہ اشیائ کی خرید و فروخت سے گریز کریں، بصورت دیگر قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ضلعی انتظامیہ خاران کی جانب سے اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی اور غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جا سکے اور سرکاری محصولات کے تحفظ کے ساتھ عوام کو معیاری اشیائ کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4901/2026
ژوب 17جون ۔ نیو ٹریشن انٹرنیشنل کے زیر اہتمام ڈی ایچ او آفس ژوب میں محکمہ صحت کے لیڈی ہیلتھ سپروائزرز اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے لیے ایک روزہ آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا سیشن میں خوردنی تیل و گھی کی لازمی غذائیت افزائی بڑے پیمانے پر گندم کے آٹے کی غذائیت افزائی اور آیوڈائزڈ نمک کی اہمیت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی زونل منیجر ڈاکٹر محمود خان نے شرکاء کو بتایا کہ خوردنی تیل و گھی میں وٹامن اے اور وٹامن ڈی جبکہ گندم کے آٹے میں آئرن زنک فولک ایسڈ اور وٹامن بی کی شمولیت غذائی کمی کے خاتمے بچوں اور خواتین کی بہتر نشوونما اور عوامی صحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے انہوں نے آیوڈائزڈ نمک کے استعمال کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ آیوڈین کی کمی مختلف جسمانی اور ذہنی مسائل کا سبب بن سکتی ہے لہٰذا آیوڈائزڈ نمک کا استعمال صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہے مشال پرویز خان اور پی پی ایم بلوچستان سید خلیل احمد نے جینڈر اینڈ ایکویلیٹی کے موضوع پر آن لائن سیشن لیا جس میں شرکاء کو صنفی مساوات خواتین کے حقوق مساوی مواقع اور صحت کے شعبے میں جینڈر حساس رویوں کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا سیشن کے اختتام پر شرکاء نے فورٹیفائیڈ خوردنی تیل و گھی فورٹیفائیڈ آٹے اور آیوڈائزڈ نمک کے استعمال کے فروغ اور کمیونٹی سطح پر عوامی آگاہی بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا پروگرام کو شرکائ نے مفید قرار دیتے ہوئے اس نوعیت کی سرگرمیوں کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فرید اللہ نے نیوٹریشن انٹرنیشنل کے فورٹیفیکیشن پروگرام کو سراہتے ہوئے کہا کہ غذائی قلت کے خاتمے اور عوامی صحت کے فروغ کے لیے ایسے اقدامات نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوردنی تیل و گھی، گندم کے آٹے کی غذائیت افزائی اور آیوڈائزڈ نمک کے استعمال کے فروغ سے معاشرے میں غذائی کمیوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی انہوں نے نیوٹریشن انٹرنیشنل اور دیگر شراکت دار اداروں کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ صحت ڑوب مستقبل میں بھی ایسے عوامی مفاد کے پروگراموں کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4902/2026
خاران 17جون ۔ڈپٹی کمشنر خاران منیر احمد سومرو کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر خاران خادم حسین کھوسہ نے خاران بازار کا وزٹ کرکے پٹرول ، گیس کی قیمتوں اور روٹی کے وزن کو چیک کیا۔اسسٹنٹ کمشنر خاران نے متعلقہ دکانداروں اور تندور مالکان کو ہدایت کی کہ سرکاری نرخ نامے اور مقررہ وزن کی مکمل پابندی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے واضح کیا کہ ذخیرہ اندوزی، منافع خوری، کم وزن روٹی کی فروخت اور سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، اور خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ضلعی انتظامیہ خاران عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور اشیائے ضروریہ کی سرکاری نرخوں پر دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی نگرانی اور کارروائیاں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4903/2026
ہرنائی 17جون ۔: انسانی اسمگلنگ اور جبری مشقت جیسے ناسور کا خاتمہ اور مظلوم مزدوروں کی بحالی قانون کی بالادستی کے لیے ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے ڈپٹی کمشنر آفس میں منعقدہ ضلعی نگرانی کمیٹی کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دکھی انسانیت کو جابر عناصر کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا اور اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔ڈپٹی کمشنر آفس ہرنائی میں منعقد ہونے والے اس اہم ترین اجلاس میں سیکیورٹی اور انتظامی امور کے اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی۔ شرکاء میں ایس پی پولیس ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی، اسسٹنٹ کمشنر عبدالرازق ترین، سینئر کلرک سید امین شاہ، متعلقہ محکموں کے نمائندے اور میڈیا کے وفود شامل تھے۔اجلاس کے دوران ضلع بھر میں انسانی اسمگلنگ کی روک تھام، جبری مشقت (بانڈڈ لیبر) کے مروجہ طریقوں کے خاتمے، اور چنگل سے آزاد کرائے گئے مزدوروں کی فوری بحالی جیسے حساس امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس کے علاوہ، متاثرہ مزدوروں اور ان کے خاندانوں کو قانونی، مالی اور سماجی امداد کی فراہمی کے لیے ضلعی سطح پر ایک جامع حکمت عملی تیار کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا.اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی نے تمام محکموں کو واشگاف الفاظ میں ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا انسانی اسمگلنگ اور جبری مشقت جیسے سنگین سماجی و قانونی جرائم کے خاتمے کے لیے پولیس، انتظامیہ اور سول سوسائٹی کو مل کر ایک پیج پر آنا ہوگا۔ تمام متعلقہ ادارے مشترکہ اور موثر اقدامات اٹھائیں تاکہ متاثرہ افراد کو نہ صرف فوری انصاف اور قانونی معاونت ملے، بلکہ انہیں بنیادی سہولیات فراہم کر کے معاشرے کا ایک باعزت شہری بنایا جا سکے۔اجلاس میں موجود تمام شرکاء اور ضلعی افسران نے ڈپٹی کمشنر کی ہدایات کی روشنی میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع ہرنائی میں جبری مشقت کے خلاف عوامی سطح پر آگاہی مہمات کو تیز کیا جائے گا اور قانون شکنی کرنے والے عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی کی زیر صدارت ضلعی نگرانی کمیٹی کا یہ اجلاس اس بات کا مظہر ہے کہ ہرنائی انتظامیہ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ اور پسماندہ طبقات کی داد رسی کے لیے سنجیدگی سے متحرک ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کا یہ اشتراکِ عمل ضلع سے جبری مشقت اور انسانی استحصال کے خاتمے میں سنگِ میل ثابت ہوگا، جس سے نہ صرف مزدور طبقے کا تحفظ یقینی بنے گا بلکہ علاقے میں قانون کی عملداری مزید مضبوط ہوگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4904/2026
اوتھل17جون ۔: ڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرا بلوچ کی زیر صدارت DICC کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، ووٹر رجسٹریشن شیڈول اور دیگر انتظامی معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔اجلاس میں ایس ایس پی لسبیلہ نجیب اللہ پندرانی, لیفٹینٹ کرنل شہزاد اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر حمیرا بلوچ کو ضلع میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے اقدامات اور سیکیورٹی پلان پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر لسبیلہ کا کہنا تھا کہ شہریوں جان و مال کا تحفظ اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ اجلاس کےدوران ووٹر رجسٹریشن شیڈول اور دیگرامور پر بھی بات چیت کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4905/2026
چمن 17جون ۔ اسسٹنٹ کمشنر سٹی چمن عزیز اللہ کاکڑ نے شہر میں ٹیکسی سٹینڈ کا دورہ کیا انہوں نے ٹیکسی ڈرائیورز کو سختی سے ہدایت جاری کی کہ وہ مسافروں سے مقررہ سرکاری کرایہ نامے کے مطابق کرایہ وصول کریں۔ مقررہ کرائے سے زائد رقم وصول کرنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے خبردار کیا کہ زائد کرایہ وصول کرنے والے ڈرائیورز کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور موقع پر جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے۔ انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اوورچارجنگ کی شکایات متعلقہ حکام تک پہنچائیں تاکہ فوری کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4906/2026
کوئٹہ 17جون۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت شہر میں ٹریفک کے نظام کی بہتری اور ٹریفک مسائل کے حل کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ٹریفک انجینئرنگ بیورو، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ، ڈائیریکٹر ڈویلپمنٹ کوئٹہ ڈویژن، ایس ایس پی ٹریفک کوئٹہ، سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کویٹہ،میٹروپولیٹن کارپوریشن کے افسران، مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں شہر میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے اور شہریوں کو درپیش مشکلات کے خاتمے کے لیے مختلف تجاویز اور اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ عبدالستار روڈ کو عام ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا، جبکہ مذکورہ سڑک کو نو پارکنگ زون قرار دیا گیا اس سلسلے میں دکانداروں سے تحریری طور پر یہ یقین دہانی بھی حاصل کی جائے گی کہ وہ تجاوزات قائم نہیں کریں گے۔اجلاس میں لیاقت بازار، پرنس روڈ، مسجد روڈ اور قندھاری بازار میں پیڈ پارکنگ سسٹم متعارف کرانے کے لیے جامع منصوبہ تیار کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، تاکہ مخصوص اوقات اور گھنٹوں کی بنیاد پر گاڑیوں کی پارکنگ کو منظم بنایا جا سکے اور ٹریفک کی روانی میں بہتری لائی جا سکے۔اجلاس کے دوران سرینا چوک پر ٹریفک کے دباو کو کم کرنے کے لیے سرینا ہوٹل کے مرکزی گیٹ کو اندر منتقل کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ اس موقع پر ہوٹل انتظامیہ کے نمائندے نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گیٹ کی منتقلی کا لے آوٹ ڈیزائن تیار کر لیا گیا ہے اور منظوری کے لیے کنٹونمنٹ بورڈ کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ منظوری کے بعد گاڑیوں کی سکیورٹی اسکیننگ ہوٹل کے اندر کی جائے گی، جس سے چوک پر ٹریفک کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی۔اس کے علاوہ عالی روڈ پر بجلی کے کھمبوں، بینکوں کے اے ٹی ایمز اور فٹ پاتھوں کی ازسرنو ترتیب اور ضروری حد تک کمی کا فیصلہ بھی کیا گیا تاکہ سڑک کو کشادہ بنایا جا سکے اور ٹریفک کی روانی میں رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔اجلاس کو ٹریفک انجینئرنگ بیورو کی جانب سے شہر میں نصب کیے گئے ٹریفک سگنلز کی فعالیت کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ تمام سگنلز کو جلد از جلد مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا،جس کے بعد شہر میں ٹریفک کی روانی اور نظم و ضبط میں مزید بہتری آئے گی۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ شہریوں کی سہولت اور ٹریفک مسائل کے مستقل حل کے لیے تمام اقدامات بروقت مکمل کیے جائیں اور مختلف محکمے باہمی تعاون کے ساتھ ٹریفک مینجمنٹ کو مزید موثر بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4907/2026
کوئٹہ 17جون۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے تعلیمی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں نان فنکشنل اسکولوں، کرونک غیر حاضر اساتذہ و عملے، تعلیمی انتظامات اور اسکولوں کی مجموعی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی رپورٹس پیش کی گئیں۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (میل و فیمیل)، آر ٹی سی ایم، متعلقہ ڈی ڈی اوز، پی ٹی سی ایم سی کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مسلسل غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی، تنخواہوں میں کٹوتی اور شوکاز نوٹسز کے اجراء سے متعلق تفصیلات پیش کی گئیں۔ آر ٹی سی ایم نے 228 اسکولوں کے دوروں پر مشتمل اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے غیر حاضر اساتذہ اور دیگر انتظامی مسائل سے آگاہ کیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) نے نان فنکشنل اسکولوں کے ریکارڈ کی عدم دستیابی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مکمل رپورٹ جلد از جلد پیش کی جائے اور غیر فعال اسکولوں کو فعال بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔اجلاس میں پی ٹی سی ایم سی کے تحت مختلف اسکولوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں، کلاس رومز کی تزئین و آرائش، سہولیات کی فراہمی اور تجاوزات کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے اختتام پر تعلیمی معیار کی بہتری اور اسکولوں کی موثر نگرانی یقینی بنانے کے لیے ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4908/2026
کوئٹہ 17جون۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلع بھر کے بی ایچ یوز، آر ایچ سیز، مفتی محمود ہسپتال اور بی ایم سی ہسپتال کی ماہانہ کارکردگی اور صحت کی سہولیات سے متعلق تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی، ڈرگ کنٹرولر، ایم ایس مفتی محمود ہسپتال اور ڈی ایم ایس بی ایم سی ہسپتال سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی نے بی ایچ یوز میں عملے کی دستیابی، ادویات کی فراہمی اور دیگر سہولیات کے حوالے سے رپورٹ پیش کی، جبکہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے آر ایچ سیز کی کارکردگی سے متعلق بریفنگ دی۔ ڈرگ کنٹرولر نے ضلع بھر میں ادویات اور فارمیسیوں سے متعلق ماہانہ رپورٹ پیش کی۔ اجلاس میں صحت کے شعبے کو مزید بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے ہدایت کی کہ تمام بی ایچ یوز اور آر ایچ سیز میں بنیادی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور عملے کی حاضری ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4909/2026
کوئٹہ 17جون ۔ صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بلوچستان اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کیا۔ بجٹ کا مجموعی حجم 1089 ارب روپے تھا۔ بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کیلئے 797 ارب روپے مختص کیے جبکہ صوبائی ترقیاتی پروگرام کے لیے 206 ارب روپے رکھے اس کے علاوہ نئے سکیمات کے لیے 106ارب روپے جبکہ جاری منصوبوں کے لیے 100 ارب روپے رکھے گئے ہیں بلوچستان صوبائی حکومت نے مشکل مالی حالات کے باوجود وفاق کے طرز پر صوبائی ملازمین کے تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد کا اضافہ کیا۔ حالیہ بجٹ میں زندگی کی ہر شعبے کے محرومی اور پسماندگی دور کرنے کا احاطہ کیا ہے انفراسٹرکچر، روزگار کی فراہمی اور ترقیاتی پروگرام کو خصوصی اہمیت دی جائی گی تاکہ عوامی مسائل کی دیر پا حل یقینی بنایا جاسکے اس کے علاوہ تعلیم ، صحت اور پینے کے صاف پانی کی سہولیات ان کی دہلیز پر میسر ہو۔ حالیہ بجٹ بلوچستان کی تمام اضلاع کے خوشحالی اور پائیدار ترقی کی ضامن ہوگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4910/2026
کوئٹہ 17جون ۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا ہے کہ صنفی بنیاد پر تشدد ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی، ادارہ جاتی تعاون اور عوامی آگاہی انتہائی ضروری ہے۔ آج ہم صوبے بھر میں صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف ملٹی سیکٹرل کوآرڈینیشن میکانزم (MSCM) کا باقاعدہ آغاز کر رہے ہیں۔ اس میکانزم کے ذریعے متعلقہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا اور متاثرین کو عزت، تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید موثر بنایا جا سکے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں بلوچستان بھر میں صنفی بنیاد پر تشدد کی روک تھام اور موثر ردعمل کے لیے ملٹی سیکٹرل کوآرڈینیشن میکانزم (MSCM) کے لانچنگ سیرمننی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین و بچوں کی حفاظت اور مساوی سماجی حقوق کے لیے صوبائی حکومت کا عزم ظاہر کرتا ہے۔ خواتین، بچیوں اور کمزور گروہوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ ہمارے صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس میکانزم کا بنیادی مقصد تمام متعلقہ محکموں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، ہیلتھ سیکٹر، سماجی بہبود، پولیس، مقامی حکومتوں اور سول سوسائٹی کےاس میکانزم کے ذریعے متعلقہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا اور متاثرین کو عزت، تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید موثر بنایا جا سکے گا۔ مابین مربوط ردعمل کو یقینی بنانا ہے۔ یہ میکانزم علاج، تحفظ، قانونی مدد، نفسیاتی سہولیات اور سماجی بحالی کے عمل کو ایک مربوط، تیز اور متاثر کن انداز میں منظم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم اقدام کا مقصد متعلقہ محکموں، اداروں اور شراکت دار تنظیموں کے درمیان موثر رابطہ کاری کو فروغ دینا اور متاثرہ افراد کو بروقت، مربوط اور معیاری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے شرح خواندگی بڑھانے کے لیے صوبے میں دو سال میں 7 لاکھ بچوں کو سکولوں میں داخل کرایا جس میں بچیوں کی بھی کافی تعداد ہے۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کے لیے تعلیم حاصل کرنے کی بہت ضرورت ہے کیونکہ تعلیم حاصل کرنے سے ہی وہ اپنے حقوق کی حصول کے لیے کر سکیں گے۔ صوبائی حکومت نے 4 ہزار غیر فعال سکولوں کو فعال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال صوبائی حکومت نے صوبے میں صحت شعبے میں ٹیلی میڈیسن کا آغاز کیا جو کہ کامیاب رہا اور اس 32 بنیادی صحت مراکز مستفید ہو رہے ہیں اور ان میں علاج کرنے والوں میں خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہیں جبکہ اس مالی سال میں 600 سے زیادہ بنیادی مراکز صحت میں ٹیلی میڈیسن کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ تقریب میں متعلقہ سرکاری حکام، ترقیاتی شراکت داروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4911/2026
کوئٹہ: 17 جون ۔عدالت عالیہ بلوچستان میں کیسکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کی تقرری کے خلاف دائر آئینی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے جواب دہندگان کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور تقرری کے عمل پر عبوری حکم جاری کرتے ہوئے تقرری کو معطل کر دیا ہے۔چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ولی محمد اچکزئی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ کیسکو میں سی ای او کی آسامی کے لیے اشتہار جاری کیا گیا تھا، جس کے تحت درخواست گزار نے بھی درخواست دی اور شارٹ لسٹ ہونے کے بعد انٹرویو کے لیے بلایا گیا، تاہم تاحال نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا۔درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ سابق سی ای او اور قائم مقام سی ای او کو براہ راست مستقل سی ای او تعینات کرنے کی پیشکش کی گئی، حالانکہ ریاستی ملکیتی اداروں سے متعلق قوانین اور وزارت توانائی کی ہدایات کے مطابق کم از کم تین شارٹ لسٹ امیدواروں کا پینل وفاقی حکومت کو بھجوایا جانا ضروری تھا۔ درخواست گزار نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ متعلقہ افسر کے خلاف ایف آئی اے میں انکوائری زیر التواء ہونے کے باوجود تقرری کا عمل مکمل کیا گیا۔عدالت نے ابتدائی طور پر معاملے کو قابلِ غور قرار دیتے ہوئے درخواست باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لی اور تمام جواب دہندگان کو نوٹس جاری کر دیے۔ عدالت نے عبوری حکم میں قرار دیا کہ 23 جنوری 2026 کو کی گئی تقرری کی پیشکش یا اس کے نتیجے میں جاری ہونے والے کسی بھی حکم پر عملدرآمد آئندہ سماعت تک معطل رہے گا۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت گرمیوں کی عدالتی تعطیلات کے بعد مقرر کر دی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4912/2026
کوئٹہ 17جون- رجسٹراربولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ھیلتھ سائنسسز کوئٹہ کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک پریس ریلیز کے مطابق تمام متعلقہ امیدواروں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ بی ایم ایچ ایس داخلہ ٹیسٹ (ایم کیٹ 2026) بروز اتوار 21 جون 2026 کو منعقد ہوگا۔ امیدوار صبح 7:30 بجے اپنے متعلقہ امتحانی مرکز پہنچ جائیں جبکہ امتحان 8:30 بجے شروع ہوگا۔ دیر سے آنے والے کسی امیدوار کو کسی صورت امتحانی ہال میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔امتحانی مرکز یونیورسٹی آف بلوچستان سریاب روڈ کوئٹہ مقرر کیا گیا ہےامیدواروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اپنے اصل شناختی کارڈ (CNIC) / فارم ب اور ایڈمٹ کارڈ ساتھ لائیں۔ اصل شناختی دستاویز کے بغیر امیدوار کو امتحان میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔موبائل فون، اسمارٹ واچ، کیلکولیٹر، نوٹس یا دیگر غیر مجاز اشیائ امتحانی مراکز میں لانا سختی سے ممنوع ہے۔تمام امیدوار متعلقہ امتحانی مرکز میں وقت سے پہلے پہنچنے کو یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4913/2026
کوئٹہ: 17جون۔ڈسٹرکٹ پولیو ایرڈیکیشن کمیٹی (DPEC) کا اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں 13 جولائی 2026ءسے شروع ہونے والی پانچ روزہ انسدادِ پولیو مہم کے انتظامات، سیکیورٹی اور دیگر امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ مہم کے دوران ضلع کوئٹہ میں 4 لاکھ 80 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جائیں گے، جبکہ اس مقصد کے لیے 1818 پولیو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین فراہم کریں گی۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) کوئٹہ، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر، پولیس اور متعلقہ محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں پولیو ٹیموں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے اور مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے پر اتفاق کیا گیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ قومی ذمہ داری ہے اور ہر بچے تک رسائی یقینی بنا کر ہی اس موذی مرض کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4914/2026
سبی 17 جون. ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں محکمہ تعلیم میں فیز-IV اساتذہ کی بھرتیوں کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں بھرتیوں سے متعلق پیش رفت اور درپیش امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، ڈویژنل ڈائریکٹر تعلیم بلال احمد خان، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالستار لانگو سمیت محکمہ تعلیم کے دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران محکمہ تعلیم میں فیز-IV اساتذہ کی بھرتیوں کے حوالے سے عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور تشویش پر ڈپٹی کمشنر نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ڈویڑنل ڈائریکٹر تعلیم ، اور محکمہ تعلیم کے دیگر افسران کو طلب کیا اور بھرتیوں کے عمل میں پیش رفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ ڈویڑنل ڈائریکٹر تعلیم نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں کی ڈگریوں کی تصدیق (ویریفکیشن) کا عمل تقریباً نصف امیدواروں کے لیے مکمل ہو چکا ہے، جبکہ باقی امیدواروں کی ویریفکیشن بھی جلد مکمل کر لی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تمام امیدواروں کی اسناد کی تصدیق مکمل ہونے کے بعد تقرری کے احکامات ایک ساتھ جاری کیے جائیں گے۔ ڈپٹی کمشنر میجر(ر) الیاس کبزئی نے ہدایت کی کہ ویریفکیشن کے عمل کو مزید تیز کیا جائے تاکہ بھرتیوں کا مرحلہ جلد از جلد مکمل ہو اور امیدواروں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بھرتیوں کے عمل میں ہونے والی پیش رفت سے عوام کو بروقت آگاہ رکھا جائے تاکہ افواہوں اور غلط معلومات کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ فیز-IV اساتذہ کی بھرتیوں کا عمل جلد پایہ? تکمیل تک پہنچے گا جس سے محکمہ تعلیم میں تدریسی سرگرمیوں کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4915/2026
سبی 17 جون۔ وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی خصوصی ہدایات کے تحت ضلعی انتظامیہ سبی کے تعاون سے شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے پیش نظر عوام کو صاف اور ٹھنڈے پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے اہم اقدام اٹھایا گیا۔اس سلسلے میں ضلع سبی کے مختلف مقامات پر سائبان کولڈ واٹر چلرز کا افتتاح کر دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی، چیئرمین میونسپل کمیٹی سردار محمد خان خجک، اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ اور سائبان ویلفیئر ٹرسٹ کے بانی عبیداللہ رند نے مشترکہ طور پر کولڈ واٹر چلرز کا افتتاح کیا۔ ضلعی انتظامیہ سبی کے تعاون سے سائبان واٹر چلرز کی بحالی اور بہتری کے اقدامات مکمل کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں شہریوں اور مسافروں کو صاف، ٹھنڈا اور معیاری پینے کا پانی میسر آئے گا۔ اس منصوبے کے تحت ضلع سبی کے مختلف علاقوں میں چار جبکہ ناڑی گیج کے مقام پر ایک کولڈ واٹر چلر نصب اور فعال کیا گیا ہے۔ س موقع پر ڈپٹی کمشنر سبی نے کہا کہ شدید گرمی کے موسم میں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے سائبان ویلفیئر ٹرسٹ کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے فلاحی اقدامات عوامی خدمت کے جذبے کی بہترین مثال ہیں۔شہریوں اور مسافروں نے صاف اور ٹھنڈے پینے کے پانی کی فراہمی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور سائبان ویلفیئر ٹرسٹ کے اس اقدام کو سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 2026/4916
کوئٹہ17 جون: محکمہ قانون و پارلیمانی امور بلوچستان کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق صوبائی قانون افسران آرڈیننس 2001 کے تحت ایڈووکیٹ سپریم کورٹ خلیل الرحمان کو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل تربت تعینات کر دیا گیا ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/4917
گوادر17جون: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ظہور احمد بلوچ نے تحصیل آفس گوادر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ریونیو امور، دفتری کارکردگی اور عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے موقع پر اسسٹنٹ کمشنر گوادر، تحصیلدار گوادر اور متعلقہ ریونیو عملہ بھی موجود تھا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کو تحصیل آفس میں جاری انتظامی و ریونیو معاملات، اراضی ریکارڈ کی دیکھ بھال، انتقالات، فردات کے اجرا اور دیگر عوامی خدمات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ظہور احمد بلوچ نے ریونیو ریکارڈ کا معائنہ کرتے ہوئے ریکارڈ کی درستگی، شفافیت اور بروقت اپ ڈیٹ رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ریونیو ریکارڈ کو جدید تقاضوں کے مطابق منظم رکھا جائے اور عوامی مسائل کے حل میں سہولت اور تیزی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ریونیو نظام کی بہتری، سرکاری اراضی کے تحفظ اور عوام کو مؤثر خدمات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں دیانتداری، شفافیت اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو نے اس موقع پر عوامی شکایات کے بروقت ازالے، دفتری امور میں بہتری اور ریونیو معاملات میں قانون و ضابطے کی مکمل پاسداری کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی خدمت، بہتر طرز حکمرانی اور ریونیو نظام کی مؤثر نگرانی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتی رہے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/4918
موسی خیل17جون :ـوزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے کسان دوست وژن کے تحت ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع شمس الحق کی زیر نگرانی کسان کارڈ کی تقسیم کےحوالے سے ڈسٹرکٹ زراعت دفتر میں ایک سادہ تقریب منعقد کی گئی تقریب میں دور دراز سے کسان حضرات نے شرکت کی تقریب میں ڈپٹی ڈائریکٹر ڈپٹی ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن خدائے نور زراعت آفیسر اور دوسرے سٹاف نے بھی شرکت کی جنہوں نے کسانوں کو کسان کارڈ کے حوالے سے آگاہی دی کہ حکومت بلوچستان کا وژن ہے کہ بلوچستان میں زراعت کے شعبے کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ترقی کی راہ پہ گامزن کرکے دنیا میں ایک مثال قائم کریں گے حکومت بلوچستان پورے صوبے میں زرعی سہولیات پہنچانے کا عزم رکھتی ہے یہ کسان کارڈ بھی اسی کی ایک کڑی ہے تقریب میں کسانوں نے اپنے مسائل بھی بیان کئے اس موقع پہ ڈپٹی ڈائریکٹرز نے توجہ سے ان کے مسائل نوٹ کئے اور کہا کہ اعلی حکام تک یہ مسائل پہنچا کر ان کا حل کسانوں کے کھیت تک بہت جلد پہنچ جائیگا کسانوں نے حکومت بلوچستان کی کاکردگی کو سراہا آخر میں کسانوں میں کسان کارڈز تقسیم کئے گئے۔
خبر نامہ نمبر 2026/4919
زیارت17 جون:ـڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر زیارت عبداللہ کاشانی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد رفیق مستوئی، ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈاکٹر عرفان الدین، ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی ممتاز علی، ایم ایس تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال سنجاوی ڈاکٹر نورالباقی، اکاؤنٹس آفیسر عبدالغنی پانیزئی، ڈرگ انسپکٹر محمد عدیل، امین اللہ اور فرمان اللہ نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بھر میں محکمہ صحت کی کارکردگی کو مزید بہتر اور فعال بنانے کے حوالے سے مختلف اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کے دوران غیر حاضر ڈاکٹرز اور عملے کی تنخواہوں سے کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا۔ مزید برآں، تحصیل زیارت اور تحصیل سنجاوی کے اسسٹنٹ کمشنرز پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی جو ہسپتالوں کے باقاعدہ دورے کرکے اپنی رپورٹ ڈپٹی کمشنر زیارت کو پیش کرے گی۔ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے واضح کیا کہ غیر حاضر ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی غیر موجودگی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور فرائض میں غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ شہریوں کو بروقت، معیاری اور بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/4920
تربت17 جون:ـگورنمنٹ بوائز ہائی سکول ہوشاب میں یونیسف اور یورپی یونین (EU) کے مالی تعاون سے قائم کیے گئے ہیلتھ کیئر اسکل ایجوکیشن سینٹر کی افتتاحی تقریب نہایت جوش و خروش اور بھرپور شرکت کے ساتھ منعقد ہوئی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی جناب نعمان منیر، ٹرینی اسسٹنٹ کمشنر تربت نے ربن کاٹ کر مرکز کا باقاعدہ افتتاح کیا۔اس موقع پر خصوصی مہمان ڈاکٹر اصغر علی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (مردانہ) کیچ، فیض الرحمٰن، ڈسٹرکٹ پروگرام منیجر یونیسف کیچ، سابق ہیڈماسٹر احمد علی، مختلف تعلیمی اداروں کے سربراہان، RHC ہوشاب کا عملہ، ریسکیو 1122 کے انچارج، یو سی وائس چیئرمین ہوشاب غلام مراد، PTSMC کے اراکین، لوکل ایجوکیشن کونسل کے اراکین اور گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول ہوشاب کا تمام عملہ شریک ہوا افتتاح کے بعد مہمانِ خصوصی نے مرکز کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کیا اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور عملی تربیت کے مواقع کو سراہا۔ طلبہ نے بھی تقاریر پیش کیں جن میں انہوں نے فنی تعلیم کی اہمیت اور صحت کے شعبے میں مستقبل کے مواقع کے لیے اس کی افادیت پر روشنی ڈالی۔مہمانِ خصوصی اور دیگر معزز مہمانوں نے اپنے خطابات میں یونیسف، یورپی یونین اور محکمہ تعلیم کی جانب سے اس مرکز کے قیام اور معاونت کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کے اقدامات طلبہ کو عملی مہارتیں سیکھنے، روزگار کے بہتر مواقع حاصل کرنے اور اپنی برادریوں کی خدمت کرنے کے قابل بناتے ہیں۔اس مرکز کا قیام اسکول جانے والے طلبہ کو صحت کے شعبے سے متعلق فنی اور عملی مہارتوں کی تعلیم فراہم کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا ہےتقریب کے اختتام پر گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول ہوشاب کے ہیڈماسٹر نے مہمانِ خصوصی، خصوصی مہمانوں، یو سی وائس چیئرمین، PTSMC اور لوکل ایجوکیشن کونسل کے اراکین، مختلف اداروں کے نمائندوں، محکمہ تعلیم، یونیسف، یورپی یونین اور تمام شرکاء کا شرکت اور تعاون پر دلی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ تمام متعلقہ اداروں اور افراد کی مشترکہ کاوشوں سے ہیلتھ کیئر اسکل ایجوکیشن سینٹر کا قیام ممکن ہوا، جو ہوشاب کے طلبہ کے لیے ایک قیمتی اور دیرپا تعلیمی موقع ثابت ہوگا۔
پریس ریلیز
تمپ 17 جون:ـ صوبائی حکومت کی جانب سے عوامی مسائل کے فوری حل اور صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں رورل ہیلتھ سینٹر (آر ایچ سی) نظرآباد، تمپ میں پانی کی فراہمی کے دیرینہ مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کر دیا گیا ہے، جس سے ہسپتال کے عملے اور زیر علاج مریضوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہوگا۔صوبائی وزیر توانائی میر اصغر رند نے عوامی مفاد کے اس اہم معاملے پر ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے فوری احکامات جاری کیے۔ جس کے نتیجے میں آر ایچ سی نظرآباد کے لیے 200 فٹ گہرے بورنگ کے کام کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، صوبائی وزیر کی جانب سے ہسپتال کے لیے سولر موٹر اور سولر پینلز کی فراہمی کی بھی منظوری دے دی گئی ہے، جنہیں بورنگ کا کام مکمل ہوتے ہی نصب کر دیا جائے گا تاکہ ہسپتال کو بلا تعطل پانی اور بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔پانی کے مسئلے کے حل کے ساتھ ساتھ صوبائی وزیر توانائی میر اصغر رند نے نظرآباد میں قائم مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ (MCH) سینٹر کو مکمل طور پر فعال کرنے کے لیے اس کی فوری مرمت اور بحالی کے فنڈز جاری کرنے کے احکامات بھی صادر فرمائے ہیں۔ اس اقدام سے علاقے کی ماؤں اور بچوں کو علاج معالجے کی معیاری اور جدید سہولیات مقامی سطح پر ہی میسر آئیں گی۔اس اہم منصوبے کو پائے تکمیل تک پہنچانے میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) تمپ ڈاکٹر نوروز یعقوب نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے ہسپتال کو درپیش اس سنجیدہ مسئلے کو جامع انداز میں صوبائی وزیر کے سامنے پیش کیا اور انتھک محنت سے اس کا مستقل حل ممکن بنایا۔طویل عرصے بعد ہسپتال میں پانی کا مسئلہ حل ہونے اور ایم سی ایچ سینٹر کی بحالی کے احکامات پر اہلیانِ نظرآباد نے گہری خوشی کا اظہار کیا ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے صوبائی وزیر توانائی میر اصغر رند اور ڈی ایچ او ڈاکٹر نوروز یعقوب کی ان مخلصانہ اور عوامی خدمات کو بھرپور الفاظ میں سراہا گیا ہے اور ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/4921
کوئٹہ 17جون:۔بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن، پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے یکم محرم الحرام اور نئے اسلامی سال 1448 ہجری کے آغاز پر تمام امت مسلمہ کو مبارکباد پیش کی ہے، اپنے بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ محرم الحرام کا مقدس مہینہ ہمیں قربانی، صبر، ہمت اور حوصلے کا درس دیتا ہے, انہوں نے کہا کہ یکم محرم حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ کی شہادت سے شروع ہوکر حضرت امام حسین رضی اللّٰہ عنہ اور شہدائے کربلا کی لازوال قربانی امت مسلمہ کے لیے پیغام ہے کہ ہم ملک و ملت اور قانون وانصاف کی بالادستی کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں، صوبائی وزیر نے کہا کہ نئے اسلامی سال کے آغاز پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنے اعمال و کردار کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں گے امن، بھائی چارے، رواداری اور اتحاد کی فضا قائم کریں گے، صوبائی وزیر نے دعا کی کہ نیا اسلامی سال بلوچستان اور پورے پاکستان کے لیے امن، خوشحالی، ترقی اور برکتوں کا سال ثابت ہو۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو درپیش مشکلات سے نجات عطا فرمائے۔
خبر نامہ نمبر 2026/4922
قلات17جون:ـاسسٹنٹ کمشنر خالق آبادڈاکٹرعلی گل عمرانی کے زیر صدارت ریونیو کیسز اراضیات کے تنازعات سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ریونیو اسٹاف سمیت فریقین نے شرکت کی۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر نے دونوں فریقین کےاعتراضات سنے اور ریونیو اسٹاف کو سختی سے ہدایات جاری کردیئے کہ وہ اس مسلے کا فوری اور پائیدار حل نکالیں تاکہ علاقے میں صدیوں سے آبادبرادراقوام کے مابین دیرینہ رنجشوں کاخاتمہ اورامن وامان کی فضاء برقراررہ سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/4923
قلات 17جون:ـڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے خان میراحمدیارخان فٹبال اسٹیڈیم کا دورہ۔کیااور اسٹیڈیم میں جاری ترقیاتی کام گراسی فلڈ لائٹس اور دیگر منصوبوں سے متعلق حکام سے بریفنگ لی ۔ڈپٹی کمشنر نے اسٹیڈیم کے واٹرسپلائی ٹیوب ویل کی سولر سسٹم پرمنتقلی واٹر ٹینک کی تعمیر اسڈیڈیم کی رنگ وروغن تزہین آرائش اور دیگر ضروری کام کرانے کیلئے متعلقہ حکام کو احکامات جاری کئے اس موقع پر ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر کیپٹن سجادسعید جنرل سیکرٹری مصدق بلوچ فٹسال ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری شہید منظور فٹبال کلب کے کوچ میرسراج شاہوانی نے ڈپٹی کمشنر کو اسٹیڈیم کو ماڈرن بنانے کے حوالے سے تجاویز پیش کیں ڈپٹی کمشنر نے فٹسال گراونڈ کو ایک مرتبہ پھر فعال کرکے فٹسال ٹورنامنٹ کے انعقاد کی بھی یقین دہانی کرادی۔ڈپٹی کمشنر منیردرانی نے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی اورچیف سیکرٹری بلوچستان کی خصوصی توجہ سے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کیلئے کھیلوں کے فروغ کے لیئے حکومت تمام تروسائل بروے کار لارہی ہے نوجوان کھلاڑیوں کی ہرفورم پر حوصلہ افزائی کیاجائیگی نوجواں منفی سرگرمیوں سے دوررہیں اور اپنے تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلوں پر توجہ دیں اور اپنے جسمانی فٹنس کو برقرار رکھیں جہاں کھیل کے میدان آباد ہوں گے وہاں کے ہسپتال ویران ہوں گے ڈپٹی کمشنر قلات نے کہا کہ فٹبال اسٹیڈیم کو ایک شاندار اور مثالی اسٹیڈیم بنائیں گے تاکہ صوبائی اور ملکی سطح کے فٹبال ایونٹ کا یہاں بھی انعقاد ممکن ہوسکے۔
خبرنامہ نمبر 2026/4924
کوئٹہ17جون:ـوزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات اور وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء لانگو کے احکامات پر معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے اسسٹنٹ کمشنر سٹی کوئٹہ امیر حمزہ کے ہمراہ کوئٹہ شہر کی مختلف امام بارگاہوں کا دورہ کیا اور محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی و امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا دورے کے دوران علمدار روڈ، نچاری روڈ، سعید آباد اور سولہ ایکڑ میں واقع امام بارگاہوں کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ اس موقع پر سیکیورٹی انتظامات، داخلی و خارجی راستوں، نگرانی کے نظام اور عزاداروں کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیااس موقع پر علماء کرام اور شیعہ عمائدین نے معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی سے ملاقات کے دوران محرم الحرام کے سلسلے میں حکومت بلوچستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کیے گئے مؤثر سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے عزاداروں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر شہریوں نے بھی امن و امان کی بحالی اور بہترین سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنانے پر حکومت بلوچستان کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا۔معاون برائے داخلہ بابر یوسف زئی نے کہا کہ حکومت بلوچستان محرم الحرام کے دوران امن، رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور عزاداروں کو پرامن ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی کے جامع اور مؤثر انتظامات کیے گئے ہیں اور حکومت کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے تاکہ شہری مذہبی رسومات اور مجالس میں مکمل اطمینان کے ساتھ شرکت کر سکیں۔







