خبرنامہ نمبر6783/2026
کوئٹہ 17اگست ۔ اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی کے جواں سال صاحبزادے مرحوم ثناء اللہ خان اچکزئی کی فاتحہ خوانی کوئٹہ میں 19 اور 20 اگست 2026 کو بلوچستان صوبائی اسمبلی کے لان میں صبح 10:00 بجے سے عصر تک لی جائے گی ۔ .
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6784/2026
کوئٹہ17 اگست ۔کوئٹہ: بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے زیرِ اہتمام بک رائٹرز، ایڈیٹرز اور جائزہ لینے والوں کی استعدادِ کار میں اضافے، درسی کتب کے معیار کو مزید بہتر بنانے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس کی افتتاحی تقریب سے سیکرٹری ثانوی تعلیم لعل جان جعفر ، چیئرمین بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ ڈاکٹر گلاب خان خلجی نے خطاب کیا۔اس موقع پر چیئرمین بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ ڈاکٹر گلاب خان خلجی، سیکرٹری بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ ڈاکٹر نیاز ترین ، ڈائریکٹر ادارہ نصابیات نعمت اللہ خان کاکڑ، ڈائریکٹر پائٹ فاطمیہ مندوخیل کے علاوہ محکمہ تعلیم کے مختلف مضامین کے بک رائٹرز (آتھر)اور کتابوں کے جائزہ لینے والے پروفیسرز ، اسسٹنٹ پروفیسرز کے ساتھ ساتھ محکمہ کے پی ایچ ڈی ڈاکٹرز کے علاو ا محکمہ تعلیم کے ماہرین اعلی حکام بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے آفیسران نے شرکت کی۔ سیکٹرٹری ثانوی تعلیم لعل جان جعفر نے کہا کہ معیاری اور موثر درسی کتب کی تیاری تعلیمی نظام کی بہتری میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ طلبہ کو معیاری، آسان فہم، تحقیقی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی مواد کی فراہمی کے لیے کتابوں کے اتھر( بک رائٹرز)، ایڈیٹرز اور جائزہ کاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ تربیتی ورکشاپ کا بنیادی مقصد کتابوں کی تیاری کے مختلف مراحل سے وابستہ ماہرین کی استعدادِ کار کو بہتر بنانا، جدید تعلیمی اصولوں سے آگاہی فراہم کرنا اور درسی کتب کے معیار، مواد، زبان، اسلوب اور تعلیمی افادیت کو مزید موثر بنانا ہے۔ڈاکٹر گلاب خان خلجی نے کہا کہ درسی کتاب محض معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ طلبہ کی فکری، علمی اور تخلیقی صلاحیتوں کی تشکیل کا اہم ذریعہ ہے، اس لیے اس کی تیاری میں معیار، درستگی، تحقیق، زبان و بیان اور طلبہ کی عمر اور تعلیمی سطح کو خصوصی طور پر مدنظر رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے تربیتی ورکشاپ کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے تربیتی پروگراموں کے ذریعے کتاب کی اتھر(رائٹرز)، ایڈیٹرز اور جائزہ لینے والوں کو جدید طریقہ تدریس، نصابی ضروریات اور موثر تعلیمی مواد کی تیاری کے حوالے سے اپنی صلاحیتیں مزید بہتر بنانے کا موقع ملتا ہے۔چیئرمین بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ صوبے کے طلبہ کو معیاری اور جدید تعلیمی کتب کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کرتا رہے گا اور درسی کتب کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ماہرین تعلیم، کتب اتھر اور دیگر متعلقہ شعبوں کے ماہرین سے استفادہ کیا جائے گا۔تین روزہ تربیتی ورکشاپ کے دوران شرکاءکو درسی کتب کی موثر تحریر، تدوین، جائزہ، مواد کی درستگی، زبان و بیان کی بہتری اور جدید تعلیمی تقاضوں کے مطابق نصابی مواد کی تیاری کے مختلف پہلووں سے آگاہ کیا جائے گا۔ اس موقع پر سیکرٹری ثانوی تعلیم لعل جان جعفر نے بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے آفیشل ویب سائڈ کا بھی افتتاح کیا جو کہ مکمل نصاب کی ای بکس ویڈیوز کورسز ، نصاب کا ریکارڈ اور پروفیسر، ڈاکٹر، لیکچرر تک رسائی فراہم کی جاے اویب سائڈ میں ایم خصیت یہ بھی ہیں کہ طلباء اور اساتذہ آپنے مطالعہ کردہ مواد پر اپنی رائے اور تاثرات دینے کیلے فیڈ بیک اور ریویو فراہم کرسکیں گے جس سے اساتذہ اور دیگر طلباء کو مفید معلومات حاصل ہوگی جوکہ صوبے بھر کے تمام بچوں کو ایکساں تعلیمی موقع مینگےتاکہ وہ اپنے روشن مستقبل کی بنیاد رکھ سیکھیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6785/2026
کوئٹہ: 17 اگست ۔بلوچستان نے حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج کے شعبے میں نمایاں پیش رفت حاصل کرلی۔ آغا خان یونیورسٹی کے آزادانہ سروے TPVICS راونڈ 3 کے مطابق بلوچستان میں حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج 56.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو ماضی کے مقابلے میں 19 فیصد اضافہ ہے۔محکمہ صحت بلوچستان کے مطابق حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج میں یہ نمایاں بہتری محکمہ صحت بلوچستان اور ای پی آئی (Expanded Programme on Immunization) کی مشترکہ اور مسلسل کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ اس کامیابی سے صوبے میں بچوں کو مختلف بیماریوں سے محفوظ بنانے کے لیے جاری حکومتی اقدامات کے موثر ہونے کی عکاسی ہوتی ہے۔صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج میں نمایاں اضافے پر محکمہ صحت بلوچستان اور ای پی آئی کی ٹیموں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔اپنے بیان میں صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ صحت مند اور خوشحال بلوچستان ہمارا خواب ہے، جس کی تعبیر کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ حکومت بچوں اور عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی اور انہیں قابلِ علاج بیماریوں سے محفوظ بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ ہم نے عہد کر رکھا ہے کہ اپنے مستقبل کو محفوظ بنائیں گے اور اپنی نئی نسل کو صحت مند، توانا اور اس ملک و قوم کے لیے سودمند بنائیں گے۔ حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج میں بہتری اسی عزم کی عملی تصویر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں حفاظتی ٹیکہ جات کے شعبے میں حاصل ہونے والی پیش رفت وزیراعلیٰ بلوچستان کی مضبوط قیادت، بہتر حکمرانی، موثر نگرانی اور شعبہ صحت کے لیے اضافی وسائل کی فراہمی کے باعث ممکن ہوئی ہے۔صوبائی وزیر صحت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج کو مزید بہتر بنانے، دور دراز علاقوں تک صحت کی سہولیات پہنچانے اور بچوں کو موذی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کا سلسلہ مزید تیز کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6786/2026
خضدار 17 اگست ۔: محکمہ اسپورٹس اور ڈی ایف اے خضدار کے زیر اہتمام پہلا آل خضدار انڈر 12 فٹسال ٹورنامنٹ اختتام پزیر محکمہ اسپورٹس اور ڈی ایف اے خضدار کی زیر اہتمام پہلا ال خضدار انڈر 12 ٹورنامنٹ اختتام پذیر ہوا اختتامی تقریب کا انعقاد چمروک فٹسال گراونڈ میں کیا گیا جس کی مہمان خاص ڈسٹرکٹ اسپورٹس افیسر خضدار رقیہ عبید تھے انہوں نے پہلا ال خضدار انڈر 12 فٹسال ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کی اور ان کی حوصلہ افزائی کی پہلا ال خضدار فٹسال ٹورنامنٹ کا فائنل فرحان اکیڈمی نے جیت کر چیمپین ٹرافی اپنے نام کر لیا : ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر خضدار رقیہ عبید اور ڈی ایف اے خضدار کے سیکرٹری نصر اللہ زہری پہلا ال خضدار انڈر 12 فٹسال ٹورنامنٹ کے شاندار فائنل میں فرحان اکیڈمی نے محسن حسن اکیڈمی کو پینلٹی ککس پر شکست دے کر چیمپئن ٹرافی اپنے نام کرلی۔مقررہ وقت تک دونوں ٹیموں نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے ایک، ایک (1-1) گول کیا، جس کے بعد میچ کا فیصلہ پینلٹی ککس پر ہوا۔ پینلٹی ککس میں فرحان اکیڈمی نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔اختتامی تقریب میں ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر خضدار میڈم رقیہ عبید اور ڈی ایف اے خضدار کے صدر نصر اللہ زہری سمیت دیگر معززین نے شرکت کی اور ننھے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی۔تقریب کے اختتام پر فاتح ٹیم فرحان اکیڈمی کو مہمان خصوصی ڈسٹرکٹ سپورٹس افیسر رقیہ عبید نے چیمپئن ٹرافی دی جبکہ محسن حسن اکیڈمی کو رنر اپ کے ٹرافی دی اور ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں میں بھی شیلڈ اور انعامات تقسیم کیے ۔ڈی ایف اے خضدار کے سیکرٹری نصر اللہ زیری نے کہا کہ یہ ٹورنامنٹ خضدار میں گراس روٹ لیول پر فٹسال کے فروغ اور نوجوان ٹیلنٹ کو سامنے لانے کی جانب ایک اہم اور قابلِ تحسین قدم ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6787/2026
موسیٰ خیل ۔مورخہ17اگست۔ضلع موسیٰ خیل میں بچوں کو مہلک اور متعدی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) کے نظام کو موثر بنانے اور فیلڈ و مراکز کی سطح پر صحت کی سہولیات کا جائزہ لینے کا سلسلہ جاری ہےاس سلسلے میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نادر ایسوٹ نے مختلف بنیادی مراکز صحت کشپان، خان محمد کوٹ اور ارد گرد کے فیلڈ علاقوں کا تفصیلی معائنہ کیا فیلڈ اور مراکز میں موجود بچوں کی صحت کا جائزہ لیا گیا اور والدین میں حفاظتی ویکسی نیشن کی اہمیت کے حوالے سے آگاہی فراہم کی گئی۔ مراکز میں ویکسین کی محفوظ منتقلی و سٹوریج کے لیے کولڈ چین سسٹم، آئس لائنڈ ریفریجریٹر (ILR) اور ویکسین کے موجودہ اسٹاک کا باریک بینی سے معائنہ کیا گیا ای پی آئی سائٹس پر پرمننٹ رجسٹر، مانیٹرنگ چارٹس اور ڈیلی کوریج رپورٹ کو چیک کیا گیا تاکہ ڈیٹا کی درستگی برقرار رہے طبی مراکز میں ڈاکٹرز، ویکسینیٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی حاضری اور صفائی کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نادر ایسوٹ نے موقع پر موجود فیلڈ اسٹاف اور ویکسینیٹرز کو ہدایت کی کہ ضلع کے دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں کوئی بھی بچہ ویکسی نیشن سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معصوم بچوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ڈیوٹی میں غفلت برتنے والے عملے کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6788/2026
استا محمد17اگست ۔ ایس پی استا محمد حافظ معاذ الرحمٰن نے کہا ہے کہ جب انہوں نے استا محمد میں بطور ایس پی چارج سنبھالا تو اس وقت علاقے میں امن و امان کی صورتحال تسلی بخش نہیں تھی تاہم پولیس افسران و جوانوں پر مشتمل ٹیم نے دن رات محنت بھرپور حکمتِ عملی اور مسلسل نگرانی کے ذریعے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جس کے نتیجے میں علاقے میں امن و سکون کی فضا قائم کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویژنل انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نصیرآباد نیک محمد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ایس پی حافظ معاذ الرحمٰن نے کہا کہ استا محمد میں امن و امان کی بہتری کے لیے پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ گشت کے نظام کو موثر بنایا حساس علاقوں میں نگرانی بڑھائی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دیانہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام میں پولیس افسران اور جوانوں کی مسلسل محنت اور عوام کے تعاون نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے پولیس اور عوام کے درمیان بہتر رابطے اور باہمی تعاون کے باعث جرائم کیج روک تھام اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے میں مدد ملیایس پی نے مزید کہا کہ امن و امان کی موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنا ایک مسلسل عمل ہے اس لیے پولیس آئندہ بھی اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی ایمانداری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کرے گی اور کسی بھی قسم کی شرپسندی یا جرائم پیشہ سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے حافظ معاذ الرحمٰن نے امن و امان کے قیام کے لیے صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی کے تعاون کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے پولیس کو بھرپور تعاون اور رہنمائی حاصل رہی ہے جس سے امن و امان کے قیام کی کوششوں کو مزید تقویت ملی۔انہوں نے کہا کہ آئندہ بھی ضلعی انتظامیہ پولیس منتخب نمائندوں اور عوام کے باہمی تعاون سے استا محمد میں امن و امان کو مزید مستحکم بنایا جائے گا تاکہ شہری بلاخوف و خطر اپنی روزمرہ زندگی اور کاروباری سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6789/2026
کوئٹہ17 اگست ۔سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کے زیر صدارت بلوچستان سوشیو اکنامک ڈیویلپمنٹ پراجیکٹس کے روڈ سیکٹر فیز ون اور ٹو پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں پراجیکٹ کوآرڈینیٹر بلوچستان سوشیو اکنامک ڈیویلپمنٹ پراجیکٹس شہزاد حسن جعفر چیف انجینئر قلات خضدار زون عزیز اللّٰہ کاسی چیف انجینئر نصیر آباد زون محمد بشیر ناصر ٹیکنیکل ایڈوائزر احسان اللہ خان دوتانی کے علاوہ جھل مگسی شیرانی گوادر خضدار نوشکی پنجگور ڑوب واشک اور آواران کے ضلعی انجینئرز آفیسران نے شرکت کی اجلاس کو روڈ سیکٹر فیز ون اور ٹو کے تمام ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کو اپنے مالی سال کے اندر وقت مقررہ سے بھی پہلے مکمل کرنا محکمہ مواصلات و تعمیرات کی اولین ترجیح ہے انہوں منصوبے کی تکمیل کے رفتار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہم نوعیت کی منصوبوں پر سست روی کسی بھی صورت برداشت نہیں اور سخت ہدایت دیں کہ تمام منصوبوں پر کام کی رفتار کو مذید تیز اور بہتر بناہیں سیکریٹری مواصلات و تعمیرات نے کہا کہ صوبے کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں ان منصوبوں کی تکمیل سے یہ علاقے ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن ہونگے ان علاقوں کا رابطہ آسانی سے شہروں کے ساتھ ہوگا جسکا فاہدہ ان علاقوں میں رہنے والے تمام مکتبہ فکر کے افراد کو ہوگا سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے کہا کہ صوبے میں انفراسٹرکچر کی بہتری اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کی بدولت صوبے میں ترقی اور خوشحالی آہیگی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے مذید کہا کہ صوبے کے دور افتادہ علاقوں کو ان منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد میسر ہونگے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6790/2026
دکی17 اگست ۔ ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لونی فتح خان بنگلزئی نے دکی بازار کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں مختلف دکانوں، پولٹری شاپس اور قصاب کی دکانوں کا معائنہ کیا گیا۔ اس موقع پر مرغی، گوشت اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، مقررہ نرخ ناموں، گرانفروشی، ناجائز منافع خوری اور صفائی ستھرائی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے دکانداروں کو مقررہ نرخوں کی پابندی یقینی بنانے، نرخ نامے نمایاں جگہوں پر آویزاں کرنے، گوشت اور مرغی کی فروخت کے دوران حفظانِ صحت کے اصولوں پر عملدرآمد اور دکانوں کے اطراف صفائی ستھرائی برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔ معائنے کے دوران مقررہ نرخوں کی خلاف ورزی اور صفائی کے ناقص انتظامات پر بعض دکانداروں کو جرمانے کیے گئے جبکہ بعض کو وارننگ جاری کی گئی۔ اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ عوام کو مقررہ نرخوں پر معیاری اشیائ کی فراہمی اور صاف ستھرا ماحول یقینی بنانے کے لیے بازار کی نگرانی کا عمل جاری رہے گا، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6791/2026
لورالائی،17 اگست ۔ یومِ آزادی پاکستان کی تقریبات کے سلسلے میں بلوچستان ریزیڈینشل کالج (BRC) لورالائی میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) لورالائی محمد اسماعیل مینگل، اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم، ایس ڈی پی او محمد اکبر، وائس چانسلر یونیورسٹی آف لورالائی احسان اللہ اور دیگر معززین، اساتذہ و طلبہ نے شرکت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل نے کہا کہ 14 اگست ہمارے لیے محض ایک قومی دن نہیں بلکہ آزادی کی قدر، قربانیوں کی یاد اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے عزم کی تجدید کا دن ہے۔ پاکستان ہمارے بزرگوں کی بے مثال قربانیوں، جدوجہد اور قائداعظم محمد علی جناح کی مدبرانہ قیادت کے نتیجے میں وجود میں آیا۔انہوں نے کہا کہ آج کی نوجوان نسل ملک کا مستقبل ہے اور طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام تر توجہ تعلیم، کردار سازی، نظم و ضبط اور مثبت سوچ پر مرکوز کریں۔ ایک مضبوط، ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریاں دیانت داری، محنت اور قومی جذبے کے ساتھ ادا کریں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی ترقی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی یکجہتی، بھائی چارے، رواداری اور قانون کی پاسداری کو فروغ دینا ہوگا۔ بلوچستان کے نوجوان بالخصوص تعلیم، ٹیکنالوجی، تحقیق اور مثبت سرگرمیوں کے ذریعے ملک کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ آزادی کی نعمت کو سمجھیں اور اپنے کردار و عمل سے پاکستان کو مضبوط بنانے میں حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسا پاکستان تشکیل دینا ہے جہاں تعلیم میرٹ، انصاف، امن اور ترقی ہر شہری کے لیے بنیادی ترجیحات ہوں۔تقریب کے اختتام پر ملک کی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور قومی یکجہتی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6792/2026
لورالائی17اگست ۔یونیورسٹی آف لورالائی میں 79ویں یومِ آزادی کے سلسلے میں منعقدہ دو روزہ تقریبات اختتامی سیشن اور اظہارِ تشکر کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئیں۔ اختتامی سیشن کی صدارت یونیورسٹی کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ نے کیاس موقع پر وائس چانسلر نے تقریبات کے کامیاب انعقاد پر پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اصیل زمان کاکڑ، رجسٹرار ڈاکٹر خالد خان، فیکلٹی ممبران، اساتذہ، افسران، انتظامی عملے اور طلبہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات میں یونیورسٹی کے تمام شعبوں سے وابستہ افراد کی بھرپور شرکت قابلِ تحسین ہےوائس چانسلر نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے تعاون کو بھی سراہتے ہوئے کمشنر لورالائی ولی محمد بارکزئی، ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) حسیب شجاع اور ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے تعاون سے تقریبات کے دوران بہترین انتظامات اور سکیورٹی کو یقینی بنایا گیاتقریب میں شہید وقار کاکڑ بی آر سی لورالائی کے پرنسپل ڈاکٹر عبدالصمد، فیکلٹی ممبران، اساتذہ اور طلبہ کی شرکت اور تعاون کو بھی سراہا گیاوائس چانسلر نے یومِ آزادی کی تقریبات کے چیف آرگنائزر اور ڈائریکٹر اسٹوڈنٹس افیئرز ڈاکٹر نقیب اللہ جوگیزئی کی انتظامی صلاحیتوں، بہترین منصوبہ بندی اور مسلسل محنت کو خصوصی طور پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ چیف سکیورٹی آفیسر کمال علی اور سکیورٹی ٹیم کی جانب سے تقریبات کے دوران فول پروف سکیورٹی اور بہترین انتظامات پر بھی ان کی خدمات کو سراہا گیا۔اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ آزادی ایک عظیم نعمت اور قومی ذمہ داری ہے، جس کے تحفظ اور ملک کی ترقی کے لیے ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تعلیم، تحقیق، نظم و ضبط اور قومی خدمت کو اپنا شعار بنائیں تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا اور پاکستان زندہ باد کے نعروں کے ساتھ 79ویں یومِ آزادی کی تقریبات اختتام پذیر ہوگئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6793/2026
لورالائی17اگست ۔ اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے 13 اگست 2026 کو یونیورسٹی آف لورالائی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بلوچستان سوشل اینڈ اکنامک ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) پروگرام کے تحت قائم کیے جانے والے آئی ٹی ہب (IT Hub) کا تفصیلی معائنہ کیا دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے آئی ٹی ہب کے مختلف حصوں کا جائزہ لیا اور منصوبے پر جاری کام کی پیش رفت، تعمیراتی و دیگر انتظامات کے بارے میں متعلقہ حکام سے تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ انہوں نے منصوبے سے متعلق سہولیات، تکمیل کے مراحل اور دیگر ضروری امور کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے کہا کہ جدید دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مہارتوں کا حصول نوجوانوں کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ یونیورسٹی آف لورالائی میں آئی ٹی ہب کا قیام علاقے کے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اسکلز سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کرے گاانہوں نے کہا کہ ایسے منصوبے نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے سیکھنے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور مستقبل کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ انہوں نے آئی ٹی ہب کو لورالائی کے نوجوانوں کے لیے ایک اہم اور مفید اقدام قرار دیااسسٹنٹ کمشنر نے منصوبے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ سے نوجوان نسل کو بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بہتر طور پر تیار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئی ٹی ہب کی تکمیل کے بعد یونیورسٹی اور علاقے کےنوجوان اس سہولت سے بھرپور استفادہ کریں گےدورے کے موقع پر متعلقہ حکام نے اسسٹنٹ کمشنر کو منصوبے کی موجودہ صورتحال، جاری کام اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ اسسٹنٹ کمشنر نے منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے اس کی اہمیت کو سراہا اور نوجوانوں کے لیے ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تعلیم کے مواقع بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا یونیورسٹی آف لورالائی میں آئی ٹی ہب کا قیام علاقے میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور نوجوانوں کی ڈیجیٹل استعدادِ کار میں اضافے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6794/2026
بارکھان/رکھنی، 17 اگست 2026: کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی سے زونل ڈائریکٹر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نارتھ زون ڈاکٹر اکبر خان ناصر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ظفر حیات نے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران بی آئی ایس پی کے تحت جاری مختلف پروگرامز، مستحق خاندانوں کو فراہم کی جانے والی مالی معاونت اور عوام کو درپیش مسائل کے حل سمیت پروگرام کی موثر انداز میں عملدرآمد کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر کمشنر مجیب الرحمٰن قمبرانی نے کہا کہ مستحق افراد تک حکومتی امدادی پروگرامز کے ثمرات شفاف اور موثر انداز میں پہنچانا ضروری ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ بی آئی ایس پی سے متعلق عوامی شکایات کے ازالے اور مستحقین کو سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ملاقات میں باہمی دلچسپی کے دیگر امور اور علاقے میں بی آئی ایس پی کی کارکردگی سے متعلق معاملات بھی زیرِ غور آئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6795/2026
استا محمد17اگست ۔ربیع الاول کے مقدس اور بابرکت ایام کے دوران منعقد ہونے والی محافلِ میلاد جلوسوں اور دیگر مذہبی اجتماعات کے سلسلے میں سیکیورٹی صفائی ستھرائی طبی سہولیات اور دیگر انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ڈپٹی کمشنر استا محمد کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر استا محمد رمضان اشتیاق ڈی ایس پی پولیس استا محمد داود کھوسہ ایم ایس ٹی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر زین اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماءکرام نے شرکت کی اجلاس کے دوران ربیع الاول کے مقدس ایام میں منعقد ہونے والی محافلِ میلاد جلوسوں اور مذہبی اجتماعات کے حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا شرکاءکو مختلف مذہبی پروگراموں کے شیڈول جلوسوں کے روٹس حساس مقامات، متوقع عوامی رش اور دیگر اہم امور سے متعلق بریفنگ دی گئی اس موقع پر امن و امان اور سیکیورٹی کے انتظامات کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ ربیع الاول کے دوران تمام محافلِ میلاد جلوسوں اور مذہبی اجتماعات کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات یقینی بنائے جائیں انہوں نے کہا کہ جلوسوں کے روٹس مساجد امام بارگاہوں محافل کے مقامات اور دیگر حساس مقامات پر مناسب پولیس نفری تعینات کی جائے جبکہ سیکیورٹی پلان پر عملدرآمد کے لیے تمام متعلقہ ادارے آپس میں موثر رابطہ رکھیں۔ اجلاس میں جلوسوں کے روٹس کو پیشگی طور پر کلیئر کرنے راستوں میں موجود تجاوزات کے خاتمے صفائی ستھرائی کے خصوصی انتظامات سڑکوں اور گلیوں کی بہتری اور مناسب روشنی کا انتظام یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی کہ عوام کو کسی قسم کی دشواری سے بچانے کے لیے تمام انتظامات پروگراموں کے آغاز سے قبل مکمل کیے جائیں۔ بجلی اور پانی کی فراہمی کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ محافلِ میلاد اور جلوسوں کے دوران بجلی اور پانی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے موثر انتظامات کیے جائیں تاکہ شرکاء کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ایم ایس ٹی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر زین نے اجلاس کو طبی سہولیات اور ایمرجنسی انتظامات کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بڑے مذہبی اجتماعات اور جلوسوں کے دوران طبی عملے ایمبولینس اور ابتدائی طبی امداد کی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضرورت کے مطابق مختلف مقامات پر میڈیکل ٹیمیں اور ایمبولینسز موجود رہیں گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے ڈپٹی کمشنر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ربیع الاول کے مقدس ایام کے دوران صفائی ستھرائی ٹریفک مینجمنٹ پبلک سہولیات اور دیگر انتظامات پر خصوصی توجہ دی جائے انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ محکمے اپنے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو باہمی رابطے اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ سرانجام دیں تاکہ مذہبی اجتماعات پرامن اور منظم انداز میں منعقد ہو سکیں علمائ کرام نے انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ربیع الاول کے مقدس ایام کے دوران امن و امان مذہبی ہم آہنگی رواداری اور بھائی چارے کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے علمائ کرام اور مذہبی حلقے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور مذہبی اجتماعات کے دوران نظم و ضبط کا خاص خیال رکھیں ڈپٹی کمشنر استا محمد نے اجلاس کے اختتام پر تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ربیع الاول کے دوران منعقد ہونے والے تمام پروگراموں کے انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کی جائے انہوں نے واضح کیا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ، امن و امان کا قیام اور مذہبی ہم آہنگی کا فروغ انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے کہا کہ ربیع الاول کے مقدس ایام ہمیں محبت اخوت برداشت اور بھائی چارے کا درس دیتے ہیں اس لیے تمام مکاتبِ فکر کے علمائ ، شہریوں اور انتظامیہ کو مل کر ایسا ماحول قائم کرنا ہوگا جہاں مذہبی عقائد و جذبات کا احترام کرتے ہوئے امن اور یکجہتی کو فروغ دیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6796/2026
موسیٰ خیل17اگست۔ایس پی کلیم اللہ کاکڑ کی ہدایت پر ایس ایچ او صدر محمد خان باتوزئی نے مرغہ کبزئی روڈ پر نا کہ بندی کے دوران ایک موٹر سائیکل کو رکنے کا اشارہ کیا۔ ملزمان نے رکنے کے بجائے موٹر سائیکل بھگانے کی کوشش کی۔ پولیس نے تعاقب کر کے ایک ملزم کو موقع پر گرفتار کر لیا جبکہ دوسرا فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔گرفتار ملزم کی موٹر سائیکل کے خفیہ خانے سے 4 کلو چرس برآمد ہوئی، جس پر دونوں ملزمان کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ 2022ء کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے گرفتار ملزم شاہد حسین ولد گل حسن قوم قیصرانی، ساکن پشتون آباد، موسیٰ خیل جبکہ فرار ملزم حبیب اللہ ولد پالے قوم نوحزئی ایس پی کلیم اللہ کاکڑ نے کہا کہ پولیس عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لئے ہر وقت چوکنا ہے چاہے وہ ملک دشمن دہشت گرد ہوں یا منشیات فروش اہلیان موسی’ خیل نے پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہر ممکن قانون کا ساتھ دینے کا عہد کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6797/2026
حب 17اگست ۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کے زیرصدارت لیڈاکانفرنس ہال میں حب ماسٹر پلان اورسیف سٹی پراجیکٹ کے حوالے سے اجلاس کاانعقادکیاگیااجلاس میں ڈی آءجی لسبیلہ رینج عبدالقیوم پتافی ڈپٹی کمشنرحب جمعدادمندوخیل ایس ایس پی لسبیلہ نجیب اللہ پندرانی حب کے ایس ایس پیرزابلال حسن چیئرمین ایم سی حب گل حسن محمد حسنی میونسپل کارہوریشن کےانجینئراور کنسلٹنٹ فرم کے نمائندے اوراسٹنٹ کمشنر اوتھل شریک ہوئے ڈی سی حب جمعدادمندوخیل اور پی ڈی حب ماسٹرپلان ارباب ایوب کاسی نے ماسٹر پلان پراجیکٹ کے حوالے سے کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی کمشنرسائرہ عطاء نے بریفنگ کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ماڈرنائزیشن کی جانب حب ماسٹرپلان اہم منصوبہ ہے شہری آبادی کو سہولیات فراہمی فیزیبلٹی اس میں شامل کی گءہے ماسٹر پلان پراجیکٹ پر کام کسی صورت نہیں رکناچاہیےکمشنر سائرہ عطاء نے کہا کہ جتنے فنڈزجاری ہوئے ہیں ماسٹرپلان میں شامل منصوبوں کی فزیکل فنانشل پروگریس خودچیک کرونگی ترقیاتی منصوبے ملٹی میڈیا پر نہیں آن گراﺅنڈ نظر آنے چاہیے کمشنر لسبیلہ ڈویڑن سائرہ عطاء نے احکامات جاری کیں کہ پروجیکٹ کی ضروریات کیمطابق فنڈزاجراءتک سڑکوں کی توڑ پھوڈ نہیں یونی چاہیے ۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے پراجیکٹ ڈائریکٹر ماسٹر نے بریفنگ میں کمشنر کو بتایاکہ حب کی شہری آبادی کا 30فیصد صنعتی اور70فیصدشہری اورزرعی ایریاز پر مشتمل ہےماسٹر پلان کےفیز ون میں چھ پراجیکٹ شامل کئے ہیںانہوں نے بتایا کہ حب ماسٹر پلان کے6بلین کے پراجیکٹ کیلئے رواں سال 14 کروڑ فنڈزکی منظوری ہوءہے حب سٹی کے انٹری مقام پر گیٹ اورماڈرن بس ٹرمینل بنانے جارہے ہیں انٹرسٹی بس ٹرمینل کی فاﺅنڈیشن اورگرین ایریا ماسٹرپلان کا حصہ ہےڈپٹی کمشنر حب جمعدادمندوخیل نے بریفنگ میں کمشنر کو بتایا کہ دوبلین کی لاگت سے ،ڈی سی کمپلکس حب اورافیسر کالونی پر کامجاری ہےڈی سی کمپلکس کی چالیس فیصد فزیکل اور32فیصد فنانشل پروگریس یوءہےآفیسر کالونی کی 30فیصد فزیکل اور20فیصد فنانشل پروگریس ہوءہے ڈپٹی کمشنرجمعدادمندوخیل نے بریفنگ میں بتایا کہ آرسی ڈی یائیوے روذکے5کلومیٹر ایریا میں ڈرینیج اورسیوریج منصوبے پرماسٹر پلان کے تحت کام جاری ہے ایک کلومیٹرسیوریج لائن ایک سو میٹر کی ڈرینیج لائن پر کام وچکا ہےپراجیکٹ ڈائریکٹر ارباب ایوب کاسی نے کمشنر کو بریفنگ میں بتایا کہ سروس کوریڈور دونوں اطراف بحریہ ٹاِون کی طرز پر ڈیزائن کی گءہےمستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے انڈرگراﺅنڈ الیکٹرک کیبل ہرکام جاری ہے پہلے مرحلے میں سیوریج واٹرسپلاءڈرینیج دوسرے مرحلے میں روڈ کی بلیک ٹاپنگ شامل ہےڈی سی جمعدادمندوخیل اور پراجیکٹ ڈائریکٹر ارباب ایوب کاسی نے مشترکہ بریفنگ میں کمشنر کو بتایا کہجون2026 تک منصوبوں کی تکمیل فنڈزفراہمی سےمشروط ہے بریفنگ میں بتایاگیا کہ واٹرسپلاءاپگریڈیشن مین آرسی ڈی روڑحب باءہاس سے منسلک لنک روڈ منصوبے میں شامل ہیںجام غلام قادر اسٹیڈیم میں جدید طرزتعمیر کااسپورٹس کمپلکس ڈیزائن کیا ہے آرسی ڈی ہائیوے ہر بس اسٹینڈخواتین کیلئےجم پارک کی تعمیر پرجلد کام شروع ہوگااورالہ آبادٹاﺅن اورجام غلام قادر کمپلکیس کا کام۔مکملہونےپراسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کو ہینڈاوورکئےجاہینگےسروس روڈ کی تعمیر کے حوالے میں کمشنرکوبریفنگ میں بتایاگیا سوءگیس رورکےالیکٹرک حکام سے کوآرڈینیشن میٹنگ جلد کال کی جائیگی حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ عدالت روڈمری چوک ٹولیڈاروڈ۔تجاوزات ختم کئے جارہےہیں عدالت روڈ سےلنک پیرکس روڈمیں سیوریج اورڈرینیج پر کام ہورہا ہے پراجیکٹ ڈائریکٹر ارباب ایوب کاسی نے کمشنر کو بریفنگ میں بتایا کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں 6بلین کے پراجیکٹ کا چار فیصد بھی ایلوکیشن نہیں ہوا ہے مطلوبہ فنڈزکےحصول کیلئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات سے رابطہ کیا جائیگا کمشنر نے حکام کوحب ماسٹر پلان پر کام تیز کرنے کیلئے سوءگیس اورکے الیکٹرک حکام سے جوائنٹ کوارڈینیشن میٹنگ کے احکامات جاری کردیے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6798/2026
کوئٹہ 17 آگست۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت ایف آئی پی وی اور او پی وی پولیو مہم کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں وِفاق المدارس کے نمائندگان، پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن، محکمہ تعلیم، پولیس اور محکمہ صحت کے متعلقہ افسران و اہلکاران نے شرکت کی۔اجلاس میں 31 اگست سے شروع ہونے والی خصوصی انسداد پولیو مہم کے انتظامات اور حکمتِ عملی کا جائزہ لیا گیا۔ اس مہم کے دوران کوئٹہ کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں اور مدارس میں زیرو سے 5 سال تک عمر کے بچوں کو پولیو ویکسین لگانے اور قطرے پلانے کے لیے جامع پلان تشکیل دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران تمام اسکولوں اور مدارس میں موثر انتظامات یقینی بنائے جائیں اور مقررہ عمر کے تمام بچوں تک ویکسین کی رسائی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے والدین، مدارس کے ذمہ داران، سرکاری و پرائیویٹ اسکولوں کے سربراہان اور منتظمین سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور اپنے زیرو سے 5 سال تک کے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے اور ویکسین لازمی دلوائیں تاکہ بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 6799/2026
زیارت خبرنامہ 17 اگست ۔ حاجی نور محمد خان دمڑ کے زیر اہتمام سانحہ زیارت کچھ زیارت کے شہداء کے چہلم کے موقع پر آج زیارت میں قرآن خوانی اور ختمِ قرآن کا روح پرور اور باوقار اہتمام کیا گیا۔ محفل کا مقصد شہدائے زیارت کے ایصالِ ثواب، مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں کرنا تھا۔اس موقع پر صوبائی وزیرِ سی ایم ڈی و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دمڑ اور ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ وزیر موصوف نے قرآنِ پاک کی تلاوت کی اور شہدائے زیارت کے درجات کی بلندی، مغفرت اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔ انہوں نے شہدائ کے غمزدہ لواحقین کے لیے صبرِ جمیل، حوصلے اور استقامت کی بھی دعا فرمائی۔تقریب میں ضلعی صدر عبدالستار کاکڑ،تحصیل صدر حبیب اللہ پانیزئی علمائ کرام، قبائلی و سیاسی رہنماوں، سرکاری افسران، معتبرین اور اہلِ علاقہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ شرکاءنے اجتماعی طور پر قرآنِ پاک کی تلاوت کی، ختمِ قرآن میں حصہ لیا اور شہدائے زیارت کی عظیم قربانیوں کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔صوبائی وزیر حاجی نور محمد خان دمڑنے کہا کہ شہدائے زیارت نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر بلوچستان کے امن، ریاست کی عزت اور قانون کی بالادستی کو قائم رکھا۔ قوم ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ شہداءکی یاد میں منعقد ہونے والی ایسی روحانی محافل نہ صرف ایصالِ ثواب کا ذریعہ ہیں بلکہ شہدائ کے اہلِ خانہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور عقیدت کا بھی عملی مظہر ہیں۔اختتام پر تمام شہدائے زیارت کے لیے اجتماعی دعائے مغفرت کی گئی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی کہ وہ شہداء کی قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو یہ صدمہ صبر کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آخر میں شرکاءکے لیے لنگر کا خصوصی اہتمام کیا گیا اور لنگر تقسیم کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6800/2026
کوئٹہ: 17اگست ۔ محکمہ آبپاشی بلوچستان کے قیمتی سرکاری اثاثوں، گاڑیوں اور بھاری مشینری کو مبینہ طور پر انتہائی کم قیمت پر نیلام کیے جانے کے معاملے پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان نے کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا، جبکہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ کارروائی کے دوران جیو لوجسٹ/ڈپٹی ڈائریکٹر طلحہ بگٹی کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ دیگر مبینہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ذرائع کے مطابق محکمہ آبپاشی بلوچستان کی قیمتی سرکاری گاڑیوں اور بھاری مشینری کی نیلامی میں مبینہ بے ضابطگیوں، اثاثوں کی کم قیمت مقرر کیے جانے اور قومی خزانے کو ممکنہ طور پر کروڑوں روپے کے نقصان کے الزامات سامنے آنے کے بعد اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان نے فوجداری کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں یہ جائزہ لیا جا رہا ہے کہ سرکاری گاڑیوں اور بھاری مشینری کی اصل مالیت کے مقابلے میں ان کی نیلامی کس بنیاد پر انتہائی کم قیمت پر کی گئی اور اس پورے عمل میں محکمہ آبپاشی کے متعلقہ افسران و اہلکاروں کا کیا کردار رہا۔طلحہ بگٹی گرفتار، مزید گرفتاریوں کا امکانذرائع کے مطابق مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے دوران جیو لوجسٹ/ڈپٹی ڈائریکٹر طلحہ بگٹی کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ مقدمے میں نامزد یا مبینہ طور پر ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے اینٹی کرپشن بلوچستان کی ٹیمیں مختلف مقامات پر کارروائیاں کر رہی ہیں۔ابتدائی تحقیقات میں اہم شواہد سامنے آنے کا دعویٰذرائع کے مطابق معاملے کی ابتدائی تحقیقات ڈپٹی ڈائریکٹر انویسٹی گیشن فرید سخی اور ڈپٹی ڈائریکٹر انویسٹی گیشن شیخ منیر مندوخیل نے کیں۔ تحقیقات کے دوران سرکاری ریکارڈ، نیلامی کے طریقہ کار، اثاثوں کی قیمتوں کے تعین اور متعلقہ افسران و اہلکاروں کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے شواہد سامنے آنے کے بعد معاملہ فوجداری کارروائی کے لیے آگے بڑھایا گیا، جبکہ مقدمے کی مزید تفتیش انویسٹی گیشن آفیسر عزیز احمد کے سپرد کر دی گئی ہے۔تحقیقاتی حکام کی جانب سے نیلامی کے پورے عمل کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں سرکاری گاڑیوں اور بھاری مشینری کی اصل مالیت، تخمینہ، مقررہ قیمت، نیلامی کے اشتہارات، بولی کے عمل، کامیاب بولی دہندگان اور سرکاری خزانے میں جمع ہونے والی رقم سمیت تمام متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم اس امر کا بھی تعین کر رہی ہے کہ نیلامی کے عمل میں شامل افسران اور اہلکاروں نے سرکاری قواعد و ضوابط اور اپنے قانونی فرائض کی کس حد تک پابندی کی۔قومی خزانے کو مبینہ کروڑوں روپے کے نقصان کا پہلو زیرِ تفیش تحقیقات میں سب سے اہم پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ اگر سرکاری اثاثوں کی نیلامی واقعی ان کی اصل مالیت سے غیر معمولی طور پر کم قیمت پر کی گئی تو اس کے نتیجے میں قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچنے کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا نیلامی کے عمل میں کسی فرد یا گروہ کو مبینہ طور پر مالی فائدہ پہنچایا گیا اور اگر ایسا ہوا تو اس میں کون کون سے افسران یا اہلکار ملوث تھے۔اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق تحقیقات کسی ایک شخص تک محدود نہیں بلکہ محکمہ آبپاشی بلوچستان میں مذکورہ نیلامی کے پورے عمل اور اس سے وابستہ تمام افراد کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔سرکاری دستاویزات، نیلامی کمیٹی کے ریکارڈ، مشینری کی قیمتوں کے تعین، اشتہارات، بولی کے مراحل اور کامیاب بولی دہندگان سے متعلق معلومات بھی تحقیقات کا حصہ بنائی جا رہی ہیں.۔اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان کی کارروائی کے بعد معاملہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق تحقیقات میں پیش رفت کے ساتھ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔ تاہم حتمی ذمہ داری کا تعین تفتیش مکمل ہونے اور متعلقہ قانونی فورم پر شواہد پیش کیے جانے کے بعد ہی ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6801/2026
کوئٹہ 17اگست۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ کی آٹے کی قیمتوں پر عملدرآمد کے حوالے سے کارروائیاں خلاف ورزی پر 15دکاندار گرفتار،تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی کی زیر نگرانی عالمو چوک میں آٹے کی قیمت کے کنٹرول کے حوالے سے کارروائی کی گئی۔کارروائی کے دوران مختلف دکانداروں سے گندم کے آٹے کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا اور سرکاری طور پر مقرر کردہ نرخوں پر عملدرآمد یقینی بنایا گیا۔قیمت کنٹرول ایکٹ کی خلاف ورزی پر 3 افراد کو گرفتار کرلیا گیا، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اس کے علاوہ اسپیشل مجسٹریٹ سریاب کی زیر نگرانی سب ڈویژن سریاب کے مختلف علاقوں ایسٹرن بائی پاس، مغل آباد اور معصوم اسٹریٹ میں پرائس کنٹرول آپریشن کیا گیا۔کارروائی کے دوران 25 دکانوں کا معائنہ کیا گیا، جہاں سرکاری نرخنامے کا جائزہ لیا گیا۔ مقررہ سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی پر 12 دکانداروں کو گرفتار کرلیا گیا۔ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کی جانب سے عوام کو مقررہ نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی اور ناجائز منافع خوری کے تدارک کے لیے قیمت کنٹرول کارروائیاں جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6802/2026
کوئٹہ 17آگست۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں شہریوں نے اپنے درپیش مسائل، شکایات اور مشکلات سے ضلعی انتظامیہ کو براہِ راست آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے شہریوں کی شکایات کو توجہ اور تحمل سے سنا اور متعلقہ محکموں کے افسران کو مسائل کے فوری ازالے کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔ اس کھلی کچہری کا بنیادی مقصد عوام اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطے کو مزید موثر بنانا، شہریوں کو اپنی شکایات کے اظہار کے لیے ایک آسان پلیٹ فارم فراہم کرنا اور سرکاری اداروں کی جانب سے عوامی مسائل کے حل کے عمل کو تیز کرنا تھا۔ اس موقع پر مختلف شعبوں سے متعلق شہریوں نے اپنے مسائل پیش کیے، جن میں بنیادی شہری سہولیات، صفائی ستھرائی، سڑکوں اور نکاسی آب، پانی، تجاوزات، ریونیو سے متعلق امور، سرکاری خدمات کی فراہمی اور دیگر انتظامی نوعیت کی شکایات شامل تھیں۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے شہریوں کو یقین دہانی کرائی کہ عوامی شکایات کا بروقت ازالہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ کھلی کچہری میں پیش کیے جانے والے مسائل کو محض شکایات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور مقررہ مدت کے اندر پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔انہوں نے افسران پر زور دیا کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت، تاخیر یا غیر ضروری رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کو ریلیف کی فراہمی کے لیے باہمی رابطے اور موثر کوآرڈی نیشن کے ساتھ کام کریں تاکہ شکایات کا مستقل اور قابلِ عمل حل یقینی بنایا جا سکے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور انتظامیہ کی کوشش ہے کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہ لگانے پڑیں بلکہ ان کی شکایات اور مسائل کو ان کی دہلیز پر سن کر موثر انداز میں حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریاں عوام اور انتظامیہ کے درمیان فاصلے کم کرنے اور مسائل کے فوری حل کا اہم ذریعہ ہیں۔مہراللہ بادینی نے مزید کہا کہ عوامی خدمت اور شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انتظامیہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے پرعزم ہے اور کھلی کچہریوں کے ذریعے عوامی مسائل کی براہِ راست نشاندہی اور ان کے حل کی نگرانی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6803/2026
17اگست 17اگست ۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی زیر صدارت ڈویژن بھر میں ماوا گٹکا کی غیر قانونی تیاری اور خرید و فروخت اور بجلی چوری کی روک تھام کیلئے کریک ڈاو¿ن کا فیصلہ کرلیا گیا ہے بجلی نادہندگان سے واجبات کی ریکوری کنڈا مافیا کیخلاف مقدمات کے اندراج اور زہریلا ماوا گٹکا فروخت کرنے والوں کیخلاف ایکشن لینے کیلئےجوائنٹ چھاپہ مار ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو فوری طور پر کاروائی کا آغاز کریگی یہ فیصلہ لیڈاکانفرنس ہال میں کمشنرلسبیلہ ڈویژن کی زیر صدارت لسبیلہ حب ضلع کی انتظامی افسران اور ڈی آئی جی رینج لسبیلہ ڈویژن عبدالقیوم پتافی کی مشاورت سے کیا گیا اجلاس میں کے الیکٹرک انتظامیہ،ڈپٹی کمشنر حب،جمعدادمندوخیل اسسٹنٹ کمشنر اوتھل،ایس ایس پی لسبیلہ نجیب اللہ پندرانی ایس پی حب مرزابلال حسن اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے،اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ شہر میں پیٹرول ڈیزل کے ڈپوز چلانے والوں کو فائر فائنٹنگ ایس او پیز کا پابند بنانے اور مسافر کوچوں میں ایرانی ڈیزل پیٹرول کی غیر قانونی ترسیل روکنے کے حوالے سے بھی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل مبینہ ڈکیت کی ہلاکت سے متعلق تحقیقات ڈی ایس پی رینک کے افسر کی زیر نگرانی کرنے کا فیصلہ کیاگیا،اجلاس میں کے الیکٹرک انتظامیہ کے افسران نے کمشنر لسبیلہ ڈویژن اور انتظامی افسران کو بتایا کہ ضلع حب میں 14 گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے،نیپرارولز کے مطابق ضلع حب میں 10 گھنٹے کی اوتھل،وندر،بیلہ میں 6 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے،بجلی چوری کی وجہ سے ٹیکنیکل لائن لاسز کے باعث ہمیں مجبورا لوڈ شیڈنگ کرنی پڑتی ہے جو صارفین باقاعدگی سے بل ادا کرتے ہیں وہ بھی کنڈا مافیا کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ سے متاثر ہوتے ہیں،بجلی چوری کی روک تھام کیلئے انتظامیہ بھرپور تعاون کررہی ہے، ڈپٹی کمشنر حب جمعداد مندوخیل نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ بجلی چوری اور کے الیکٹرک ایشوز حل کرنے کیلئے مسلسل کھلی کچہری منعقد کررہی ہے ہاﺅسنگ سوسائٹیز کو بجلی کے بلز دینے پڑیں گے کسی کو مفت بجلی نہیں ملے گی اور نہ ہی کسی کو بجلی چوری کی اجازت دی جائے گی انہوں نے کہا کہ بجلی چوری کرنے والے بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالا جائے گا جو بجلی چوری میں ملوث پایا گیا ان کیخلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی اور اخبارات میں ان کے نام نوٹسز اشتہارات جاری کئے جائیں گے کہ وہ بجلی چوری چھوڑ کر میٹر لگائیں بصورت دیگر ان کیخلاف ایکشن ہوگا،اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مسافر کوچیں چلانے والے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ میٹنگ کی جائے گی اور ایرانی تیل کی اسمگلنگ کی روک تھام پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے مسافروں کی تحفظ کیلئے اقدامات کئے جائیں گے.۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 2026/6804
کوئٹہ17اگست:حکومت بلوچستان نے مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن کے دہشت گردانہ واقعہ/حملہ بمقام مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن، ضلع زیارت اور اس کے نتیجے میں پولیس اہلکاران کی قیمتی جانوں کی شہادتوں پر عدالتی تحقیقات کے لیے محترم عزت مآب جناب چیف جسٹس، عدالت عالیہ بلوچستان کی مشاورت کے بعد عزت مآب جناب جسٹس محمد عامر نواز رانا صاحب کو تحقیقاتی (انکوائری) کمیشن نامزد کر لیا ہے۔جس کے فوراً بعد 15 اگست 2026 کو تحقیقاتی (انکوائری) کمیشن نے باقاعدہ کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے تحقیقاتی کمیشن کے رجسٹرار/سیکرٹری کو تعینات کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں تحقیقاتی کمیشن نے عوام الناس و تمام متعلقہ افراد، اداروں اور سکیورٹی ایجنسیز کو نوٹس جاری/مشتہر کر دیا ہے کہ وہ مورخہ 28 اگست 2026 تک دفتری اوقات کار کے دوران اس تحقیقاتی (انکوائری) کمیشن کی معاونت کے لیے کوئی بھی ضروری شواہد پیش کر سکتے ہیں۔نیز ہر وہ شخص جسے واقعہ/حملہ کے بارے میں کسی قسم کی کوئی بھی معلومات ہوں تو وہ عدالت عالیہ بلوچستان، کوئٹہ میں قائم کردہ رجسٹرار/سیکرٹری تحقیقاتی کمیشن کے دفتر میں مذکورہ تاریخ تک حاضر ہو کر اپنے نام و مکمل کوائف، موجودہ اور مستقل پتہ، رابطہ نمبر اور شناختی کارڈ کی نقل کے ساتھ جمع کر سکتے ہیں، تاکہ پیش کردہ معلومات اور دستاویزات معزز تحقیقاتی کمیشن کے سامنے پیش کی جائیں اور تحقیقاتی کمیشن کی جوڈیشل تحقیقات کی مزید کارروائی آگے بڑھائی جا سکے۔تاہم معزز تحقیقاتی کمیشن کی مزید کارروائی کی تاریخ، وقت اور مقام سے متعلق بعد ازاں مطلع کیا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/6805
تربت17اگست:۔ جامعہ تربت نے تعلیمی سال 2027 اسپرنگ کے لیے انڈرگریجویٹ اور گریجویٹ سطح کے 64 سے زائد تعلیمی پروگراموں میں داخلوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے،تفصیلات کے مطابق بی ایس کے 19 پروگرامز، ایسوسی ایٹ ڈگری کے 16پروگرامزاور پوسٹ ایسوسی ایٹ ڈگری (بی ایس پانچواں سمسٹر)کے 13 پروگرامزکے علاوہ پی ایچ ڈی کے 4 پروگرامز اورایم فل، ایم ایس اور ایم بی اے کے 12 پروگرامز میں داخلے جاری ہیں۔مستحق اور ذہین طلبہ کے لیے متعدد اسکالرشپس اور مالی امداد کی سہولیات بھی دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی میں طلبہ کے لیے چوبیس گھنٹے تیز رفتار انٹرنیٹ، ہاسٹلز، ٹرانسپورٹ، سمارٹ کلاس روم،جدید لیبارٹریز اور اے آئی لیب کی سہولیات بھی موجود ہیں۔یونیورسٹی ترجمان کے مطابق درخواست فارم یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے علاوہ یونیورسٹی کے مین کیمپس (داخلہ سیل) یا سٹی کیمپس (لاء ڈیپارٹمنٹ) سے حاصل اور جمع کیے جا سکتے ہیں۔داخلہ فارم جمع کروانے کی آخری تاریخ 15 ستمبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
مذید تفصیلات کے لئے یونیورسٹی کی ویب سائیٹ ملاحظہ کریں: https://uot.edu.pk/admission-open-for-spring-2027
آن لائن اپلائی کے لئے وزٹ کریں:
https://admissions.universityofturbat.com
مذید معلومات کے لئے درج ذیل فون نمبرز پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
0852400514، 0852400529 یا 0852400539
خبر نامہ نمبر6806/2026
گوادر17 اگست: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیر صدارت ضلع گوادر میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے نمائندگان کا تعارفی اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس گوادر میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) ڈاکٹر عبدالشکور سمیت مختلف این جی اوز اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع گوادر میں این جی اوز کی جاری سرگرمیوں، منصوبوں، رجسٹریشن، روزگار کے مواقع، مالی شفافیت، مقامی آبادی کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ گوادر میں کام کرنے والی این جی اوز کی بنیادی ذمہ داری مقامی آبادی کی فلاح و بہبود اور علاقے کی پائیدار ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنا ہے۔ ضلعی انتظامیہ حقیقی اور مثبت سرگرمیوں کے ذریعے عوام کو فائدہ پہنچانے والی تنظیموں کی حوصلہ افزائی کرے گی، تاہم تمام اداروں کے لیے شفافیت، جوابدہی اور قواعد و ضوابط کی پابندی ضروری ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ این جی اوز میں مقامی افراد کو روزگار کے مواقع میں ترجیح دی جائے، بالخصوص نچلے درجے اور غیر تکنیکی آسامیوں پر مقامی نوجوانوں کی بھرتی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تکنیکی اور خصوصی نوعیت کی آسامیوں کے لیے مطلوبہ قابلیت رکھنے والا مقامی امیدوار دستیاب نہ ہونے کی صورت میں دیگر علاقوں سے ماہر افراد کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلع گوادر میں 70 سے زائد این جی اوز رجسٹرڈ یا فعال ہیں، تاہم اجلاس میں محدود تعداد میں نمائندگان کی شرکت ہوئی۔ انہوں نے غیر حاضر تنظیموں کو ہدایت کی کہ وہ تین روز کے اندر ڈپٹی کمشنر آفس سے رابطہ کرکے اپنی سرگرمیوں، رجسٹریشن اور دیگر ضروری کوائف پیش کریں، بصورت دیگر متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ این جی اوز کی کارکردگی کا معیار صرف نام یا دعووں سے نہیں بلکہ زمینی سطح پر عوام کو پہنچنے والے حقیقی فوائد سے متعین ہوگا۔ ایسے منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جن کے نتائج قابلِ پیمائش ہوں اور جن سے مقامی آبادی کو دیرپا فائدہ حاصل ہو۔اجلاس میں این جی اوز کو اپنی خالی آسامیوں، تنظیمی مینڈیٹ، رجسٹریشن، دفاتر، جاری و مکمل منصوبوں، بجٹ، فنڈنگ ذرائع، ڈونرز، آڈٹ، بینک اکاؤنٹس، منصوبوں کے اثرات اور پائیداری سمیت دیگر متعلقہ معلومات ضلعی انتظامیہ کے ساتھ شیئر کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ڈپٹی کمشنر نے بالخصوص این جی اوز کی جانب سے فراہم کی جانے والی فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے معیار اور افادیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو ایسی تربیت فراہم کی جائے جو انہیں عملی طور پر روزگار یا خود روزگاری کے قابل بنا سکے۔انہوں نے بتایا کہ BRSP کے تحت گوادر کی 30 مقامی خواتین کو بیوٹیشن کورس کے لیے اسلام آباد بھیجا گیا ہے جبکہ مقامی نوجوانوں، بالخصوص لڑکوں کو سولر ٹیکنالوجی سمیت دیگر فنی شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ این جی اوز ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ سرکاری محکموں کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری یقینی بنائیں۔ این جی اوز کے این او سی کے اجراء یا تجدید کے لیے تمام قانونی و انتظامی تقاضوں کی تکمیل اور ضلعی انتظامیہ سے مطلوبہ رابطہ ضروری ہوگا۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ گوادر میں شفاف، عوام دوست اور نتیجہ خیز فلاحی سرگرمیوں کو فروغ دینے والی این جی اوز کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے گی، تاہم تمام تنظیموں کو مقامی روزگار، مالی شفافیت، مؤثر رابطہ کاری اور عوامی مفاد پر مبنی منصوبوں کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھنا ہوگا۔
خبر نامہ نمبر6806/2026
حب 17اگست:۔ڈی آئی جی پولیس لسبیلہ ڈویژن عبدالقیوم پتافی اورڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج حب کی سنجیدہ کوششوں سے وکلاء برادری نے احتجاج ختم۔ کرنے کا اعلان کردیا ہے پیرکے روز ڈی آء جی لسبیلہ ڈویژن اورڈپٹی کمشنر جب جمعدادمندوخیل نے سیشن کورٹ حب کا دورہ کیا وکلاء برادری نے انتظامی افسران کی حب بار آمدپر فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کا استقبال کیاگیاڈی آء جی لسبیلہ ڈویژن عبدالقیوم پتافی نے حب بار کا دورہ کیا اوروکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایس پیز اور ایس ایچ اوز کی جانب سے وکلاء کے پاس جا کر انہیں عزت و احترام دینا ایک مثبت اور خوش آئند عمل ہے حب بار اور پولیس کے درمیان راضی نامہ ایک اہم مثبت پیش رفت ہے،اس سے عدالتی امور معمول پر آنے کے ساتھ ساتھ شہر میں قانون اور انصاف کے ماحول کو بھی تقویت ملے گی۔انہوں نے وکلاء برادری کودرپیش مسائل حل کرنے کیلئے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کراء ڈی آء جی نے ڈپٹی کمشنر حب کے مثبت کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کے حل کے لیے ان کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں ڈی آء جی نے کہا ک پولیس اور وکلاء دونوں قانون اور انصاف کے نظام کے اہم ستون ہیں۔ دونوں کے درمیان باہمی احترام، تعاون اور بہتر رابطہ نہ صرف اداروں بلکہ عام شہریوں کے مفاد میں بھی ہے۔ امید ہے کہ آئندہ بھی کسی اختلاف یا غلط فہمی کو مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ درایں اثناء ڈپٹی کمشنر حب جمعدادمندوخیل نے وکلاء برادری، حب بار، پولیس افسران اور تمام متعلقہ ذمہ داران کو معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرنے پر دلی مبارکباد پیش کی۔
خبر نامہ خبر 6807/2026
گوادر/پسنی17اگست: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری کی سربراہی میں ضلعی انتظامیہ نے پروٹیکشن وال اور سمندری کٹاؤ سے متاثرہ ساحلی علاقوں میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے درجنوں غیر قانونی تعمیرات کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کر دیا۔کارروائی کے دوران تحصیلدار پسنی عبدالرحمان بلوچ اور انتظامیہ کی خصوصی ٹیم بھی موجود رہی۔ آپریشن کا مقصد سرکاری اراضی کو تجاوزات سے واگزار کرانے، ساحلی پٹی کو محفوظ بنانے اور شہریوں و سیاحوں کی آمدورفت میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ کرنا تھا۔انتظامیہ کی جانب سے پسنی کے اہم ساحلی تفریحی مقام جڈی اور زرین کے مرکزی آمدورفت کے راستے پر قائم تجاوزات بھی ہٹا دی گئیں، جس کے بعد راستہ شہریوں اور سیاحوں کے لیے بحال کر دیا گیا۔انتظامیہ کے مطابق تجاوزات کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا اور آئندہ مرحلے میں زرین ہاؤسنگ اسکیم کی سرکاری اراضی پر قائم غیر قانونی قبضوں کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے کہا کہ شہر اور ساحلی حدود میں کسی بھی قسم کی تعمیر یا کنسٹرکشن شروع کرنے سے قبل اسسٹنٹ کمشنر آفس پسنی سے این او سی (NOC) کا حصول لازمی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری اراضی پر قبضہ یا بغیر اجازت تعمیرات کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ شہریوں کے حقوق، سرکاری اراضی کے تحفظ، ساحلی علاقوں کی بہتری اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
خبر نامہ نمبر 6808/2026
کوئٹہ 17اگست:۔سانحہ مانگی ڈیم زیارت میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی چہلم کے موقع پر سنجاوی میں قرآن خوانی اور ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا۔صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ اور ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے چہلم کی تقریب میں شرکت کی اور شہید پولیس اہلکاروں کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ اس موقع پر شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی بھی کی گئی جبکہ شرکاء میں لنگر تقسیم کیا گیا۔تقریب میں اسسٹنٹ کمشنر سنجاوی شیر شاہ غلزئی سمیت دیگر افسران، اہلکاروں اور عمائدین نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ وطن اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر پولیس اہلکار قوم کے ہیروز ہیں، جن کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔آخر میں شہداء کے درجات کی بلندی، لواحقین کے لیے صبرِ جمیل اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور لنگر تقسیم کیا گیا۔
پریس ریلیز
مستونگ17اگست۔ بلوچستان رائٹرز فورم کے چیئرمین پروفیسر انور زیب نے وفد کے ہمراہ شعراء بلوچستان ادبی فاؤنڈیشن کے مرکزی دفتر مستونگ کا دورہ کیا، جہاں فاؤنڈیشن کے مرکزی صدر نذیر آبادی، جنرل سیکرٹری ملک لیاقت سیماب اور سرپرستِ اعلیٰ رحیم ویدن چوتوہی نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ بلوچستان رائٹرز فورم کے وفد میں سرپرستِ اعلیٰ استادالشعراء صابر ندیم، جنرل سیکرٹری سائر عزیز، فنانس سیکرٹری سلام صائم اور آفس سیکرٹری عمر گل بھی شامل تھے۔اس موقع پر دونوں ادبی تنظیموں کے عہدیداران کے درمیان ایک خصوصی ادبی نشست منعقد ہوئی، جس میں بلوچستان کے ادبی منظرنامے، براہوئی سمیت تمام مقامی زبانوں کے فروغ، ادبی سرگرمیوں کے دائر? کار کو وسیع کرنے اور نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ? خیال کیا گیا۔شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کی صدیوں پر محیط ادبی، ثقافتی اور لسانی روایات کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے قومی سطح پر مؤثر انداز میں متعارف کرایا جائے۔ اس موقع پر شاعری، نظم، نثر، افسانہ، داستان گوئی اور دیگر ادبی اصناف کے فروغ کے لیے مشترکہ سرگرمیوں کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا۔ادبی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جدید دور کے چیلنجز کے باوجود بلوچستان میں بے شمار باصلاحیت نوجوان شاعر اور ادیب موجود ہیں، جنہیں مناسب پلیٹ فارم اور مواقع فراہم کرکے نہ صرف ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جاسکتا ہے بلکہ بلوچستان کے ادبی تشخص کو بھی مزید مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔اجلاس میں نوجوان ادیبوں اور شعراء کو سامنے لانے کے لیے ادبی سیمینارز، تربیتی ورکشاپس، مشاعروں، مذاکروں، ثقافتی پروگراموں اور ایوارڈز کی تقریبات کے انعقاد پر بھی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ مقامی زبانوں کے ادب کو قومی ادبی حلقوں تک پہنچانے اور مختلف ادبی پلیٹ فارمز پر بلوچستان کی نمائندگی مؤثر بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر دونوں تنظیموں کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں بلوچستان میں ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ، مقامی زبانوں کی ترقی و ترویج، نوجوان ادیبوں اور شعراء کی حوصلہ افزائی اور نئے ٹیلنٹ کو مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے باہمی تعاون اور مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں تنظیموں کے سربراہان نذیر آبادی اور پروفیسر انور زیب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی ادبی شناخت کو مضبوط بنانے، مقامی زبانوں کے ادب کو تحفظ دینے اور بلوچستان کے ادب و ثقافت کو ملکی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6809
کوئٹہ 17 اگست:_بلوچستان ہائی کورٹ نے عدالتی آزادی کے تحفظ، عدالتی کارروائیوں میں بیرونی اثر و رسوخ کی روک تھام اور جوڈیشل افسران کی غیر جانب داری یقینی بنانے کے لیے تمام ماتحت عدالتوں کے جوڈیشل افسران کو سخت ہدایات جاری کر دیں چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم پر جاری ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام جوڈیشل افسران اپنے فرائض قانون کے مطابق آزادانہ، غیر جانب دارانہ، دیانت داری اور کسی بھی بیرونی دباؤ، سفارش، اثر و رسوخ، لالچ یا مداخلت سے بالاتر ہو کر انجام دیں گے۔
ہدایت نامے کے مطابق کسی بھی شخص، خواہ اس کا عہدہ، حیثیت یا اثر و رسوخ کچھ بھی ہو، کو عدالتی کارروائی، حکم، فیصلے، ضمانت، کیس مینجمنٹ، فہرست سازی، مقدمے کی منتقلی یا کسی دیگر عدالتی و انتظامی معاملے پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔جوڈیشل افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی فرد، وکیل، قانونی برادری کے عہدیدار، سرکاری افسر، آئینی یا قانونی ادارے کے رکن، حاضر سروس یا ریٹائرڈ جج، ہائی کورٹ کے افسر یا اہلکار سمیت کسی بھی شخص کی جانب سے کی جانے والی سفارش، درخواست، دباؤ یا مداخلت کو قبول یا زیرِ غور نہ لایا جائے، خواہ رابطہ ذاتی طور پر، ٹیلی فون، الیکٹرانک ذرائع یا کسی ثالث کے ذریعے کیا گیا ہو۔ہدایت نامے میں خاص طور پر واضح کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس، ہائی کورٹ کے کسی جج یا کسی مجاز اتھارٹی کی حمایت یا سفارش کا دعویٰ کرنے والے کسی شخص کی جانب سے کیا جانے والا کوئی بھی غیر رسمی رابطہ یا سفارش قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ کسی بھی معاملے میں صرف مقررہ سرکاری طریقہ کار اور قانونی چینل کے ذریعے موصول ہونے والی ہدایات ہی زیرِ غور لائی جائیں گی۔تمام جوڈیشل افسران کو پابند کیا گیا ہے کہ عدالتی یا انتظامی امور میں غیر قانونی یا بیرونی اثر و رسوخ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کی فوری طور پر رجسٹرار بلوچستان ہائی کورٹ کو اطلاع دیں۔ اطلاع میں، جہاں ممکن ہو، متعلقہ شخص کی شناخت، درخواست یا مداخلت کی نوعیت، اس کے ممکنہ اثرات اور اختیار کیے گئے طریقہ کار کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں گی۔ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی جوڈیشل افسر بیرونی اثر و رسوخ یا مداخلت کی کوشش سے آگاہ ہونے کے باوجود اسے فوری طور پر رجسٹرار کے علم میں نہیں لاتا اور معاملہ بعد ازاں کسی دوسرے ذریعے سے چیف جسٹس یا ہائی کورٹ کے کسی جج کے علم میں آتا ہے تو متعلقہ جوڈیشل افسر کی جانب سے رپورٹ نہ کرنا بھی سنگین معاملہ تصور کیا جائے گا اور قابلِ اطلاق قوانین و قواعد کے تحت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔مزید برآں تمام جوڈیشل افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی عدالتی یا انتظامی پوسٹنگ، تبادلے یا کسی دیگر سرکاری معاملے میں کسی ناجائز فائدے کی طلب، درخواست یا قبولیت سے مکمل طور پر گریز کریں گے اور عدالتی سالمیت، آزادی، غیر جانب داری، دیانت داری اور وقار کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھیں گے۔ہدایت نامے میں 30 مارچ 2026 کو جاری کیے گئے سابقہ لیٹر نمبر 1138/ایڈمن کا حوالہ دیتے ہوئے دوبارہ واضح کیا گیا ہے کہ جوڈیشل افسران اپنی پوسٹنگ یا تبادلے کے لیے براہِ راست یا بالواسطہ کسی فرد یا ذریعے سے سفارش یا رجوع نہیں کریں گے۔ اس ہدایت کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ جوڈیشل افسر کے خلاف قواعد کے تحت سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔بلوچستان ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ کسی عدالتی افسر کو متاثر کرنے، دباؤ ڈالنے، دھمکانے، ترغیب دینے یا عدالتی کارروائی میں مداخلت کی کوشش کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف قابلِ اطلاق قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی، جبکہ متعلقہ جوڈیشل افسر ایسی کوشش کی فوری اطلاع رجسٹرار کو دینے کا پابند ہوگا۔ہدایت نامے میں سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی دوسرے ذریعے سے جوڈیشل افسران کو بدنام، ہراساں، دھمکانے یا غیر ضروری دباؤ میں لانے کی کوششوں کو بھی سنجیدگی سے لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایسی کسی بھی کوشش کا مقصد اگر عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونا یا عدالتی آزادی، وقار اور اختیار کو مجروح کرنا ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے گی۔بلوچستان ہائی کورٹ نے تمام جوڈیشل افسران کو ہدایت کی ہے کہ مذکورہ احکامات پر مکمل اور غیر مشروط عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور عدالتی آزادی، غیر جانب داری، سالمیت، دیانت داری اور عدالتی منصب کے وقار کے اعلیٰ ترین تقاضوں کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے۔






