16th-June-2026

خبرنامہ نمبر4862/2026
کوئٹہ، 16 جون ۔بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے کہا ہے کہ امریکا /ایران امن معاہدے میں پاکستان کے کلیدی کردار اور اس کی میزبانی نے عالمی سطح پر ملک کے بڑھتے ہوئے وقار اور سفارتی ساکھ کو اجاگر کیا ہے۔ اپنے بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ معاہدہ محاذ آرائی پر سفارتکاری کی فتح ہے جو وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی موثر کاوشوں سے ممکن ہوا۔ میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ اس امن معاہدے سے پوری دنیا ایک خطرناک جنگ اور اس کے سنگین نتائج سے محفوظ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کے کھلنے سے تیل سمیت دیگر اشیاء کی ترسیل میں سہولت ہوگی جس سے عالمی تجارت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ صوبائی وزیر نے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت خطے میں استحکام اور عالمی اقتصادی بہتری کے لیے معاون ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے عالمی سطح پر قیامِ امن کے لیے سنجیدہ کوششیں کی ہیں اور توقع ہے کہ ان کوششوں کے ثمرات سے پاکستان بھی مستفید ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4863/2026
موسی خیل 16جون ۔ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت موسی’ خیل شمس الحق کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر پلانٹ پروڈکشن خدا? نور زراعت آفیسر فضل الدین فیلڈ اسسٹنٹز اور بیلدار سٹاف نے شرکت کی ججس میں مختلف دفتری ایجنڈوں پر تفصیلی بات چیت اور زمینداروں کو اسانی اور سہولیات فراہم کرنے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ڈپٹی ڈائریکٹر شمس الحق نے کہا کہ پورے ضلع میں زمینداروں کے مسائل کے حل کے لئے فیلڈ وزٹ کی اشد ضرورت ہے جس کے لئے مختلف ٹیمیں تشکیل دی جائینگی جو پورے ضلع میں زمینداروں کو درپیش مسائل کا جائزہ لیکر اپنی رپورٹ پیش کرینگے اور فوری طور پہ ان مسائل کے حل کے لئے کارواءعمل میں لائی جائیگی اجلاس میں خاص طور پہ ضلع موسی’ خیل میں ایک خطرناک جڑی بوٹی پارتھینیم گاجر بوٹی زیر بحث لاءگءجس نے پورے ضلع کے 65 فیصد علاقے کو لپیٹ میں لیا ہوا ہے ڈپٹی ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن خدائے نور نے اجلاس میں اس بوٹی پہ تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تدارک کے لئے آگاہی مہم بہت ضروری ہے جس کے لئے پورے ضلع میں فیلڈ ورک کے لئے ٹیمیں تشکیل دیکر اس کا تدارک کیا جاسکتا ہے اجلاس کے اختتام پہ یہ عہد کیا گیا کہ اس عمل کو جہاد سمجھ کر کیا جائیگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4864/2026
لورالائی:16جون۔ محرم الحرام 2026 کے پرامن انعقاد اور فول پروف سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی پولیس کی جانب سے تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایکسین واپڈا لورالائی، علماءکرام، ہزارہ برادری کے نمائندگان، انجمن تاجران کے ضلعی عہدیداران، میونسپل کمیٹی کے حکام، پولیس افسران اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں محرم الحرام کے دوران امن و امان کی مجموعی صورتحال، مجالس اور جلوسوں کی سیکیورٹی، ٹریفک مینجمنٹ پلان، رضاکاروں کے کردار، حساس مقامات کی نگرانی اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوران شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور مذہبی رسومات کا پرامن انعقاد ضلعی پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل اور افرادی قوت کو موثر انداز میں استعمال کیا جائے گا۔انہوں نے علماءکرام، ہزارہ برادری، تاجروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ مذہبی رواداری، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں معاشرے کے تمام طبقات کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا غیر معمولی صورتحال کی فوری اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں اور غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہوں سے گریز کریں۔اجلاس کے دوران محرم الحرام کے لیے مرتب کیے گئے جامع سیکیورٹی پلان پر بھی غور کیا گیا، جس کے تحت حساس مقامات پر اضافی نفری کی تعیناتی، جلوسوں اور مجالس کی مسلسل نگرانی، داخلی و خارجی راستوں کی سخت چیکنگ، سی سی ٹی وی مانیٹرنگ اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے خصوصی اقدامات شامل ہیں۔ متعلقہ اداروں کو باہمی رابطے اور موثر کوآرڈینیشن مزید بہتر بنانے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔شرکاءنے محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ضلعی پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اجلاس کے اختتام پر ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلعی پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ اور محرم الحرام کی مذہبی رسومات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محرم الحرام کے دوران مرکزی جلوسوں کے روٹس پر صفائی، روشنی اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ ادارے خصوصی اقدامات کریں گے، جبکہ ہنگامی طبی امداد اور ریسکیو سروسز کو بھی الرٹ رکھا جائے گا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4865/2026
نصیر آباد16جون ۔کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیرِ صدارت ضلع کچھی کے محکمہ تعلیم کی سی آر سی (CRC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن عبدالواسع کاکڑ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کچھی بیگ محمد ،پروفیسر خادم سلطان،عبدالصمند سپرنٹنڈنٹ سمیت کمیٹی کے دیگر اراکین نے شرکت کی اجلاس کے دوران میل و فیمیل امیدواروں سمیت مجموعی طور پر 13 امیدوار کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے، جنہوں نے اپنے اعتراضات اور داد رسی سے متعلق معاملات پیش کیے کمشنر کی سربراہی میں کمیٹی کے تمام اراکین نے امیدواروں کے تحفظات کو نہایت توجہ اور تفصیل کے ساتھ سنا جبکہ ان کے متعلقہ دستاویزات اور تعلیمی اسناد کا باریک بینی سے جائزہ بھی لیا گیا اس موقع پر کمشنر نصیرآباد ڈویژن، صلاح الدین نورزئی نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ اعتراضات جمع کرانے والے تمام امیدواروں کی داد رسی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور ان کی ڈگریوں و دستاویزات کی مکمل جانچ پڑتال شفاف انداز میں کی جائے تاکہ کسی بھی امیدوار کے ساتھ ناانصافی نہ ہو انہوں نے مزید کہا کہ میرٹ اور شفافیت کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا اور تمام فیصلے حکومتی پالیسی قواعد و ضوابط اور مروجہ قوانین کے مطابق کیے جائیں گے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف اہل، قابل اور میرٹ پر پورا اترنے والے امیدواروں کے انتخاب کو یقینی بنایا جائے تاکہ محکمہ تعلیم میں بہترین افرادی قوت کی شمولیت ممکن ہو سکے ۔کمشنر نے واضح کیا کہ مفادِ عامہ کے تحت تمام اقدامات شفاف انداز میں انجام دیے جا رہے ہیں اور کسی بھی امیدوار کی حق تلفی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اجلاس میں امیدواروں کے اعتراضات کے بروقت ازالے اور بھرتیوں کے عمل کو مکمل طور پر میرٹ کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچانے سے متعلق مختلف امور پر بھی غور کیا گیا۔مزید برآں سی آر سی میں آنے والے تمام امیدواروں کی شکایات کو نہایت اطمینان اور سنجیدگی کے ساتھ سنا گیا، اور ان کے اعتراضات کے منصفانہ حل، عدل کے تقاضوں کی تکمیل اور امیدواروں کو مطمئن کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے گئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4866/2026
لورالائی، 16 جون ۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی (بی ایف اے) کے ڈپٹی ڈائریکر کی ہدایت پر زونل فوڈ سیفٹی ٹیم لورالائی نے دودھ کے معیار اور خوراک کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مختلف ڈیری فارمز کا معائنہ کیا۔معائنے کے دوران چار ڈیری فارمز میں سنگین خلاف ورزیاں سامنے آنے پر جرمانے عائد کیے گئے، جبکہ متعدد دیگر ڈیری فارمز کو معمولی نقائص کی نشاندہی پر اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔بی ایف اے حکام کے مطابق جرمانہ کیے گئے ڈیری فارمز سے آکسیٹوسن انجیکشن کی موجودگی، دودھ میں اسکمڈ ملک پاوڈر کی ملاوٹ، صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات، حشرات کی موجودگی اور بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مقررہ ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے جیسے عوامل سامنے آئے، جن پر قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی گئی۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی کے لیے صوبہ بھر میں معائنہ جاتی کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی۔ ڈیری فارم مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حفظانِ صحت کے اصولوں اور فوڈ سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں، بصورت دیگر خلاف ورزیوں کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4867/2026
چمن 16جون ۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (DEO) چمن عبدالقدوس کے ہمراہ مختلف تعلیمی اداروں کا اچانک دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے گورنمنٹ ماڈل ہائر سیکنڈری اسکول چمن اور گورنمنٹ ہائی اسکول بوغرا روڈ چمن میں جاری تعلیمی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر نے تدریسی سرگرمیوں، اساتذہ اور طلبہ کی حاضری، صفائی ستھرائی اور مجموعی انتظامی امور کا معائنہ کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے، طلبہ کو سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنے اور اداروں میں نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ڈپٹی کمشنر چمن نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں دیانتداری، ایمانداری اور بھرپور صلاحیتوں کے ساتھ انجام دیں اور طلبہ کی تعلیمی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں تاکہ ضلع میں تعلیمی معیار کو مزید فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم چمن، تعلیم کے شعبے کی بہتری اور سرکاری تعلیمی اداروں کی موثر نگرانی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لا رہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے مختلف کلاسوں کا دورہ کیا، طلبہ سے ان کے مضامین کے حوالے سے سوالات کیے اور ان کی تعلیمی استعداد کا جائزہ لیا۔ڈپٹی کمشنر چمن نے کہا کہ جدید دور میں کوئی بھی قوم یا ملک معیاری اور جدید تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا، لہٰذا تعلیم کے فروغ اور تعلیمی معیار کی بہتری ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔یہ متن پریس ریلیز، اخباری خبر یا سوشل میڈیا پوسٹ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4868/2026
چمن 16جون ۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (DEO) چمن عبدالقدوس کے ہمراہ مختلف تعلیمی اداروں کا اچانک دورہ کر رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے گورنمنٹ ماڈل ہائر سیکنڈری اسکول چمن اور گورنمنٹ ہائی اسکول بوغرا روڈ چمن میں جاری تعلیمی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔اور طلباء سے انکے سبجیکٹس کے حوالے سوالات پوچھ رہے ہیں دورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر تدریسی سرگرمیوں، اساتذہ اور طلبہ کی حاضری، صفائی ستھرائی اور مجموعی انتظامی امور کا معائنہ کر رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4869/2026
کوئٹہ 16جون ۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) نے صوبے بھر میں خدمات فراہم کرنے والے پراپرٹی ڈویلپرز اور پروموٹرز کو ہدایت کی ہے کہ اگر وہ تاحال رجسٹرڈ نہیں ہیں تو فوری طور پر بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے ساتھ اپنی رجسٹریشن مکمل کریں اور بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2015 کے تحت اپنی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔اتھارٹی کے مطابق پراپرٹی ڈویلپرز اور پروموٹرز کی جانب سے: خریدی گئی یا لیز پر حاصل کردہ زمین کو رہائشی یا تجارتی پلاٹس میں تبدیل کرنے کی خدمات پر فی مربع گز 100 روپے سیلز ٹیکس لاگو ہوگا۔ رہائشی یا تجارتی یونٹس کی تعمیراتی خدمات پر فی مربع فٹ تعمیر شدہ کورڈ ایریا 50 روپے سیلز ٹیکس عائد ہوگا۔بی آر اے نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ شعبے کیلئے ان پٹ ٹیکس کریڈٹ یا ایڈجسٹمنٹ کی اجازت نہیں ہوگی۔اتھارٹی کے مطابق تمام پراپرٹی ڈویلپرز اور پروموٹرز کیلئے لازم ہے کہ وہ بروقت رجسٹریشن کروائیں، مقررہ مدت کے اندر ٹیکس ریٹرنز فائل کریں اور واجب الادا ٹیکس جمع کرائیں۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ اور ٹیکس ادائیگی کے تمام مراحل کو مکمل طور پر آن لائن اور ڈیجیٹل بنا دیا ہے تاکہ کاروباری برادری کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔بی آر اے نے خبردار کیا ہے کہ ٹیکس قوانین کی عدم تعمیل کی صورت میں قانون کے مطابق نوٹسز کے اجراء ، جرمانوں، بینک اکاونٹس کی اٹیچمنٹ اور دیگر قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اتھارٹی نے تمام پراپرٹی ڈویلپرز اور پروموٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹیکس قوانین کی مکمل پاسداری کو یقینی بناتے ہوئے بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر4870/2026
کوئٹہ، 16 جون:۔حکومت بلوچستان کا ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے متعارف کرایا گیا منفرد بزنس آئیڈیا کامیابی سے ہمکنار ہوگیا ہے جس کے تحت 20 کروڑ روپے کی ابتدائی سرمایہ کاری سے ایک ارب روپے سے زائد ریونیو حاصل کیا گیا اس کامیابی کے اعتراف میں چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران بلوچستان کے دس نمایاں ڈیجیٹل انفلوئنسرز کو اعزازی سرٹیفکیٹس سے نوازا گیا جبکہ صوبے میں ڈیجیٹل اکانومی کو مزید وسعت دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا تقریب میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے دس ٹاپ پوزیشن حاصل کرنے والے انفلوئنسرز میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو، پارلیمانی سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی میر عبدالصمد گورگیج، مشیر امور نوجوانان و کھیل مینا مجید بلوچ، سردار کوہیار خان ڈومکی، حاجی علی مدد جتک سمیت اعلیٰ سرکاری حکام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں صرف 20 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے ایک ارب روپے کی آمدن حاصل ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جدید دور میں دانشمندانہ اور سمارٹ سرمایہ کاری کے ذریعے غیر معمولی معاشی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں پوری دنیا میں بے شمار مواقع موجود ہیں اور نوجوانوں کو ان مواقع سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے جدید مہارتوں سے آراستہ ہونا ہوگا میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ عالمی سطح پر آئی ٹی کے شعبے میں تقریباً 50 کروڑ ملازمتوں کے مواقع موجود ہیں اور بلوچستان کے نوجوان اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ان مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں پسماندہ طبقات، نوجوانوں اور محروم علاقوں کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے تاریخی اقدامات کیے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ہارڈ انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ سافٹ انٹریکشن اور انسانی وسائل کی ترقی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اسی تناظر میں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں انسانی استعداد کار، تحقیق، مہارتوں کی ترقی اور جدید علوم کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی صوبائی وزیر نے بتایا کہ بلوچستان میں تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے تین ہزار سے زائد اسکول فعال کیے گئے ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران صوبے کی جامعات کو آٹھ ارب روپے کی گرانٹ فراہم کی گئی انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ بجٹ میں تحقیق، مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے کام کرنے والی جامعات اور تعلیمی اداروں کو ترجیح دی جائے گی انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے تحت اقلیتوں، ٹرانس جینڈر افراد اور دیگر پسماندہ طبقات کے طلبہ و طالبات کے لیے دنیا کی ممتاز جامعات تک رسائی کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں تاکہ معاشرے کے تمام طبقات ترقی کے مساوی مواقع حاصل کر سکیں تقریب کے اختتام پر شرکاء نے حکومت بلوچستان کی جانب سے ڈیجیٹل معیشت، نوجوانوں کی استعداد کار میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کو ڈیجیٹل ترقی اور معاشی استحکام کی نئی منزلوں تک پہنچانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی تقریب میں ڈی جی بز کے دس پوزیشن ہولڈرز کو شیلڈ دی گئیں جبکہ پروگرام ڈائریکٹر جواد خان کو پارلیمانی سیکرٹری و سیکرٹری آئی ٹی نے خصوصی شیلڈ سے نوازا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4871/2026
چمن 16جون ۔ چمن میں نئے تعینات ہونے والے ڈی ایس پی/ایس ڈی پی او سرکل چمن اشفاق احمد نے پولیس تھانہ سٹی چمن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے تھانے کے مختلف شعبہ جات، دفاتر اور سرکاری ریکارڈ کا تفصیلی معائنہ کیا۔دورے کے دوران تھانے کا تمام عملہ اپنی اپنی ڈیوٹی پر موجود پایا گیا جبکہ دفتری امور منظم انداز میں جاری تھے۔ ڈی ایس پی نے تھانے میں نظم و ضبط، صفائی ستھرائی اور انتظامی معاملات کا جائزہ لیا اور انہیں تسلی بخش قرار دیا۔انہوں نے کوت کا معائنہ کرتے ہوئے سرکاری اسلحہ اور ایمونیشن کی دستیابی، صفائی اور دیکھ بھال کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر اسلحہ کی مناسب دیکھ بھال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اہلکاروں کو ہدایت کی کہ سرکاری اسلحہ ہر وقت قابلِ استعمال حالت میں رکھا جائے اور اس کی باقاعدہ صفائی و مینٹیننس کو یقینی بنایا جائے۔ڈی ایس پی/ایس ڈی پی او سرکل چمن اشفاق احمد نے تھانے کے مجموعی انتظامی امور پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے افسران اور اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ایمانداری، محنت اور فرض شناسی کے ساتھ انجام دیں، عوام کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور بہترین پولیس خدمات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس فورس عوام کیساتھ کوآپریشن کریں اور تمام مشکوک سرگرمیوں اور افراد پر کڑی نظر رکھیں انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے خدمات انجام دیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4872/2026
چمن 16جون ۔اسسٹنٹ کمشنر چمن عزیز اللہ کاکڑ کا مختلف برف کارخانوں پر چھاپہ، متعدد کارخانے سیل، کئی افراد گرفتاراسسٹنٹ کمشنر چمن عزیز اللہ کاکڑ نے آج چمن شہر کے مختلف برف کارخانوں کا اچانک معائنہ کیا۔ کارروائی کے دوران صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات، حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی اور غیر معیاری حالات میں برف کی تیاری پر متعدد برف کارخانوں کو سیل کر دیا گیا۔معائنے کے دوران متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی پر کئی افراد کو گرفتار بھی کیا گیا، جبکہ کارخانہ مالکان کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے صفائی اور حفظانِ صحت کے تمام اصولوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر عزیز اللہ کاکڑ نے کہا کہ عوام کی صحت کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور غیر معیاری و غیر صحت بخش اشیائ کی تیاری اور فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ضلعی انتظامیہ چمن عوام کو معیاری اور محفوظ اشیائے خورونوش کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اپنی نگرانی اور کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے گی
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4873/2026
بارکھان 16 جون ۔ڈپٹی کمشنر بارکھان جناب سعید الرحمن کاکڑ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندگان، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) بارکھان، ضلعی افسران اور مختلف محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر بارکھان نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے عوام دوست وژن کے تحت بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے تحت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ محکمے اپنی ترقیاتی تجاویز بروقت اور مکمل تیاری کے ساتھ پیش کریں تاکہ ضلع کی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی کو حتمی شکل دی جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، سڑکوں اور دیگر ضروری شعبوں میں بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کے انتخاب میں مقامی ضروریات اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھا جائے تاکہ دستیاب وسائل کا موثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس کے دوران بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (فیز III) کے لیے مختلف شعبوں سے متعلق مجوزہ منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور انہیں حتمی منظوری کے لیے مرتب کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون سے ایسے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی جو ضلع بارکھان کی پائیدار ترقی اور عوامی فلاح میں موثر کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر4874/2026
کوئٹہ16 جون۔ گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ مختلف سیاسی نقطہ نظر اور تنوع کے باوجود پشتون بلوچ سیاسی اکابرین اور بلوچستان کے قبائلی عمائدین نے باہمی احترام، رواداری اور ہم آہنگی کو برقرار رکھا ہے۔ آج بھی ہمارے معززین اور متعبرین باہمی اعتماد کے ستون کے طور پر کھڑے ہیں۔ وہ صرف اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرتے بلکہ پل بناتے ہیں اور تحفظ کا احساس پیدا کرتے ہیں جو بدلتے ہوئے حالات میں بہت ضروری ہے۔ یہ ہماری بقائے باہمی کا جذبہ ہے جو مشترکہ اقدار سے طاقت حاصل کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند، اراکین صوبائی اسمبلی رحمت صالح بلوچ، سید ظفر آغا اور فائق جمالی سے علیحدہ علیحدہ ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ علم و سیاست سے وابستہ وہ گراں قدر ہستیاں جو نئی نسل کو سیاسی شعور اور دوسروں کا احترام سکھاتی ہیں بہت تیزی سے معدوم ہو رہی ہیں جو ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کا سوشل فیبرکس بہت نرالہ ہے جس کا صحیح ادراک حاصل کرنا ہر کسی کی پہنچ میں نہیں ہے۔ ہماری شاندار قومی اقدار اور روایات میں سمائے ہوئے یہاں کے سیاسی اور قبائلی تعلقات باہمی احترام، رواداری اور ہم آہنگی پر مبنی ہیں لیکن ہماری سیاسی اور سماجی روایات جامد نہیں ہیں بلکہ وہ متحرک، موافقت پذیر اور پرامن ہیں جو بشردوستی اور ترقی پسندی کی نئی راہیں متعین کرتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم روایت اور ترقی کے درمیان اس توازن کا احترام کریں اور اپنے نوجوانوں کو ترقی، بشردوستی اور رواداری کی پائیدار انسانی اقدار سکھائیں۔ یہ فخر کی بات ہے کہ ہمارا صوبہ قیمتی معدنیات کے ساتھ ساتھ شاندار تاریخ، روایات اور دوستانہ تعلقات سے مالا مال سرزمین ہے۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اسلاف کا احترام کریں، اختلاف رائے کا احترام کرنا سیکھیں اور دوسروں کے ساتھ ناچاقی اور ناراضگی کی صورت میں پہلے آپ خود پہل کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4875/2026
کوئٹہ، 16 جون ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے منگل کے روز یہاں صوبائی وزیر نوابزادہ میر طارق خان مگسی، پارلیمانی سیکرٹری نوابزادہ میر زرین خان مگسی، میر عبدالمجید بادینی ،رکن صوبائی اسمبلی نوابزادہ میر ظفر اللہ زہری، پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے جنرل سیکرٹری ربانی خان کاکڑ، سابق رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ خان زیرے ، میر طارق حسین بگٹی نے الگ الگ ملاقاتیں کیں ملاقاتوں کے دوران صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال، عوامی فلاح و بہبود، ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، آئندہ مالی سال کے ترقیاتی اہداف، امن و امان اور عوام کو درپیش مسائل کے حل سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مختلف اضلاع میں جاری ترقیاتی اسکیموں اور عوامی ضروریات سے متعلق تجاویز بھی وزیراعلیٰ بلوچستان کے سامنے پیش کی گئیں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کی توقعات پر پورا اترنے، ترقی کے ثمرات کو نچلی سطح تک پہنچانے اور بلوچستان کے تمام علاقوں کی متوازن ترقی کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اور نتیجہ خیز اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کی مشاورت اور تعاون سے حکومت کی پالیسیوں اور ترقیاتی منصوبوں کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں ترقی، خوشحالی اور پائیدار استحکام کے لیے تمام سیاسی و سماجی طبقات کو ساتھ لے کر چلنا حکومت کی پالیسی کا اہم جزو ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی مسائل کے بروقت حل، شفاف طرز حکمرانی اور ترقیاتی عمل کی تیز رفتار تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4876/2026
کوئٹہ 16 جون ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک کے ایم پی اے فنڈ سے کلی ٹکری عبدالغفار جتک اور گردونواح کے علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام تیزی کے ساتھ جاری ہے، جسے علاقے کے مکینوں نے خوش آئند قرار دیتے ہوئے صوبائی وزیر کی عوامی خدمت کے جذبے کو سراہا ہے۔تفصیلات کے مطابق کلی ٹکری عبدالغفار جتک میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت، گلیوں کی پختگی، نکاسی آب کے نظام کی بہتری اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے منصوبوں پر پیش رفت تسلی بخش انداز میں جاری ہے۔ ان ترقیاتی منصوبوں کا مقصد علاقے کے دیرینہ مسائل کا خاتمہ کرتے ہوئے عوام کو بہتر طرزِ زندگی اور جدید شہری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔علاقہ مکینوں اور عوامی حلقوں نے جاری ترقیاتی کاموں پر اطمینان اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، تاہم حاجی علی مدد جتک کی خصوصی دلچسپی اور کاوشوں سے علاقے کی محرومیوں کے خاتمے کی جانب عملی پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل سے آمدورفت کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی، نکاسی آب کا نظام بہتر ہوگا اور عوام کو روزمرہ زندگی میں سہولت میسر آئے گی۔عوامی نمائندوں اور مقامی افراد کا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے ہمیشہ عوامی مسائل کو ترجیح دیتے ہوئے عملی اقدامات کیے ہیں اور وہ محض اعلانات کے بجائے ترقیاتی منصوبوں کی خود نگرانی کرکے ان کی بروقت تکمیل کو یقینی بنا رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عوامی خدمت، علاقائی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے صوبائی وزیر کی کاوشیں قابل تحسین ہیں، جن کے مثبت اثرات مستقبل میں بھی نمایاں طور پر محسوس کیے جائیں گے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاری منصوبے مقررہ مدت میں مکمل ہونے کے بعد علاقے کی ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی، نوجوانوں اور عام شہریوں کے لیے سہولیات میں اضافہ ہوگا اور کلی ٹکری عبدالغفار جتک ترقی یافتہ اور مثالی علاقوں میں شمار ہوگا۔عوامی حلقوں نے صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک سے مطالبہ کیا کہ ترقیاتی عمل کے اس تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے علاقے میں تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں پر بھی خصوصی توجہ دی جائے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے اور علاقہ حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4877/2026
کو ئٹہ 16جون ۔چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت صوبہ میں ترقیاتی امور کی ترجیحات اور بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی کو یقینی بنانے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی اور ضلعی سطح پر جاری مختلف اسٹریٹجک منصوبوں کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور منصوبوں کی بروقت تکمیل، معیار کنٹرول اور عوامی فوائد کو یقینی بنانے کے لیے ہدایات دی گئیں۔ چیف سیکرٹری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسٹریٹیجک منصوبوں کی بروقت اور شفاف تکمیل نہ صرف بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرتی ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کر کے معاشی استحکام بھی لاتی ہے۔ بہتر سڑکیں، صاف پانی، معیاری صحت و تعلیم کی سہولیات اور توانائی کے پائیدار ذرائع عوام کی روزمرہ زندگی کو آسان اور محفوظ بناتے ہیں، جس سے خاندانوں کی خوشحالی، بچوں کی تعلیم میں بہتری اور صحت کے بہتر نتائج ممکن ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے مختلف اضلاع میں سیف سٹی منصوبے شروع کیے ہیں جس میں شہری حفاظتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کیمروں، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز اور دیگر سکیورٹی کے نظام میں بہتری آئے گی۔ اجلاس میں انفراسٹرکچر کی تنصیب کے مراحل کا جائزہ لیا گیا۔ تعلیمی انفرااسٹرکچر کو پرکشش اور معیاری بنانے کے مقصد سے اسکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر کا پروگرام کا آغاز کیا ہے اور 3000 میں سے 704 کمرے رواں ماہ مکمل کئے جائیں گے۔ زرعی کمانڈ ایریاز میں آبپاشی سہولیات کی توسیع اور جدید زراعتی انتظامات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا جس سے کاشتکاروں کی پیداوار اور آمدنی میں بہتری متوقع ہے۔ اجلاس میں اٹھائے گئے منصوبوں کی بروقت مالی منظوری اور فنڈز کے شفاف استعمال پر زور دیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے معیاری تعمیرات اور حفاظتی پیمانوں کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے مربوط نگرانی کی ہدایت کی گئی۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ منصوبوں کی شفاف اور موثر تکمیل صوبے کی ترجیح ہے اور تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کے اس سلسلے میں ہر ممکن اقدامات اٹھ ہے جائے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی، زراعت، بی۔ ٹیوٹا، تعلیم اور صحت، پبلک ہیلتھ، انٹرپرائز ڈیویلپمنٹ، لائیو اسٹاک کے شعبوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں جو حوصلہ افزا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4878/2026
کوئٹہ 16جون ۔ صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے وڑن کے مطابق عوام کو محفوظ اور صحت بخش اشیائ خوردونوش کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی انسپیکشن ٹیموں کی صوبہ بھر میں کارروائیاں جاری ہیں۔ کوئٹہ سمیت حب، لورالائی اور اوستہ محمد میں ریسٹورنٹس، بیکنگ یونٹس، بیکریز، فاسٹ فوڈ پوائنٹس، جنرل اسٹورز، واٹر پلانٹس، ڈیری فارمز اور آئس فیکٹریوں کے معائنے کے دوران مجموعی طور پر ایک واٹر پلانٹ سیل، 33 فوڈ کاروباروں کو جرمانے جبکہ 18 مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق کوئٹہ کے مختلف علاقوں سریاب روڈ، بھوسہ منڈی، ڈبل روڈ، ایئرپورٹ روڈ، جی او آر کالونی، کلی شابو، مشن روڈ، طوغی روڈ، شاوکشاہ روڈ، فقیر محمد روڈ، گوردت سنگھ روڈ، مسجد روڈ، اسپنی روڈ، جبل نور اور گردونواح میں قائم خوراک کے مراکز کی چیکنگ کے دوران ایک واٹر پلانٹ کو پراڈکٹ رجسٹریشن نہ ہونے جبکہ مختلف برانڈز کے لیبل استعمال کرنے اور ضابطہ کار کی سنگین خلاف ورزیوں پر سیل کر دیا گیا جبکہ متعدد ریسٹورنٹس، بیکنگ یونٹس، پیزا پوائنٹس، واٹر پلانٹس، نمکو یونٹس، آئس کریم شاپس، بیکریز، نان شاپس اور دیگر مراکز کو جرمانے عائد کیے گئے۔ کارروائیوں کے دوران زائد المیعاد اشیائ، خراب گوشت، ممنوعہ چائنیز نمک، مضر صحت رنگوں کا استعمال، آلودہ اور غیر صحت بخش پانی سے برف کی تیاری، ناقص صفائی، کھلے کوڑے دان، حشرات کی موجودگی، زنگ آلود ریفریجریٹرز و کنٹینرز، نکاسی آب کے ناقص انتظامات، فوڈ بزنس لائسنس کی عدم دستیابی، غیر رجسٹرڈ مصنوعات اور اشیائ پر مینوفیکچرنگ و ایکسپائری تاریخوں کے اندراج نہ ہونے جیسے سنگین نقائص سامنے آئے۔ مزید برآں دودھ اور دہی کے معیار کی جانچ کیلئے مختلف دکانوں سے حاصل کردہ نمونوں کے ٹیسٹ کے دوران دو دکانوں کے ملک سیمپلز میں پانی اور خشک دودھ پاوڈر کی ملاوٹ ثابت ہونے پر مالکان کو جرمانہ کیا گیاجبکہ مختلف فوڈ پراڈکٹس کے سیمپلز لیبارٹری تجزیے کیلئے بھی حاصل کیے گئے۔حب شہر میں بی ایف اے انسپیکشن ٹیم نے مختلف جنرل اسٹورز اور ریسٹورنٹس کی چیکنگ کے دوران ایکسپائرڈ اشیائ ، ممنوعہ گٹکا، ناقص ذخیرہ کاری، مضر صحت رنگوں کی ملاوٹ، ممنوعہ چائنیز نمک کے استعمال اور زائد المیعاد خوراک کی موجودگی پر متعدد کاروباروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے جرمانے عائد کیے۔دوسری جانب لورالائی میں ڈیری فارمز کے معائنے کے دوران دودھ میں اسکمنڈ ملک پاوڈر کی ملاوٹ، آکسیٹوسن انجیکشن کی موجودگی، ناقص صفائی اور فوڈ سیفٹی ایس او پیز کی خلاف ورزیوں پر چار ڈیری فارمز کو جرمانے جبکہ معمولی نقائص پر متعدد فارمز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔اسی طرح اوستہ محمد میں جناح روڈ، ڈیرہ اللہ یار روڈ اور محراب پور روڈ پر قائم مختلف کریانہ و جنرل اسٹورز کے معائنے کے دوران فوڈ بزنس لائسنس کے بغیر کاروبار کرنے والے متعدد مراکز مالکان کے خلاف جرمانے عائد کیے گئے جبکہ چند مراکز کو معمولی نقائص دور کرنے کیلئے اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی حبیب اللہ خان کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ عوام کی بہتر صحت کیلئے محفوظ خوراک کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے خوراک کے کاروبار سے منسلک ورکرز خصوصاً مراکز مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے قوانین، صفائی و حفظانِ صحت کے اصولوں اور فوڈ سیفٹی معیارات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں بصورت دیگر خلاف ورزی کے مرتکب عناصر کے خلاف مزید سخت قانونی کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4879/2026
بارکھان، 16 جون ۔ڈپٹی کمشنر بارکھان جناب سعیدالرحمن کاکڑ کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر بارکھان احسام الدین کاکڑ نے ضلع کے مختلف سرکاری تعلیمی اداروں کا دورہ کرکے تعلیمی و انتظامی امور کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران گورنمنٹ پرائمری سکول قلعہ خمیس ناہڑکوٹ، گورنمنٹ بوائز ہائی سکول وٹاکڑی، گورنمنٹ بوائز ہائی سکول بھانڈا، گورنمنٹ پرائمری سکول خاجو، گورنمنٹ مڈل سکول طوطا داہمانی اور کمیونٹی سکول بستی بہودرا گامن شاہ کا معائنہ کیا گیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے اساتذہ کی حاضری، طلبہ کی موجودگی، تدریسی سرگرمیوں، کلاس رومز کی صورتحال، صفائی ستھرائی اور مجموعی تعلیمی ماحول کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے مختلف کلاسوں میں جا کر طلبہ سے سوالات کیے اور ان کی تعلیمی استعداد اور تدریسی معیار کا مشاہدہ بھی کیا۔اسسٹنٹ کمشنر احسام الدین کاکڑ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ تعلیم کے شعبے میں بہتری، اساتذہ کی حاضری، طلبہ کی باقاعدہ شرکت اور معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کے ذمہ داران کو ہدایت کی کہ تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے اور سکولوں میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں۔انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر بارکھان کی ہدایات کے مطابق تعلیمی اداروں کے باقاعدہ دوروں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ ضلع بھر میں تعلیمی نظام کو مزید موثر، فعال اور عوامی توقعات کے مطابق بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4880/2026
جعفرآباد: 16جون ۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت سرکاری واجبات کی وصولی کے حوالے سے ریونیو افسران کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلع بھر کے تمام تحصیلداروں اور متعلقہ ریونیو افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران عشر، آبیانہ اور زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ ریونیو اہداف کے حصول کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں تمام تحصیلداروں نے اپنے اپنے حلقوں میں عشر، آبیانہ اور زرعی انکم ٹیکس کی وصولی سے متعلق پیش رفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور وصولیوں میں درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے افسران کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ سرکاری واجبات کی وصولی کے عمل کو مزید تیز اور موثر بنایا جائے تاکہ مقررہ اہداف بروقت حاصل کیے جا سکیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ سرکاری محصولات کی وصولی حکومت کے ترقیاتی اور عوامی فلاحی منصوبوں کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس لیے اس عمل میں کسی قسم کی کوتاہی یا سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے تمام ریونیو افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے علاقوں میں فیلڈ سرگرمیوں میں اضافہ کریں، کاشتکاروں اور زمینداروں سے رابطے مزید موثر بنائیں اور واجبات کی وصولی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں۔انہوں نے کہا کہ ریونیو محکمے کے افسران اپنی ذمہ داریاں قومی خدمت کے جذبے کے تحت انجام دیں اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنائیں۔ ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع جعفرآباد میں سرکاری واجبات کی وصولی کے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے تمام متعلقہ افسران کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا اور بہتر نتائج دینے والے افسران کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ غفلت برتنے والوں کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4881/2026
جعفرآباد:16جون ۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، میڈیکل سپرنٹنڈنٹس، محکمہ صحت کے افسران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ضلع بھر کے سرکاری ہسپتالوں، بنیادی مراکز صحت اور دیہی مراکز صحت میں عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، دستیاب ادویات، طبی عملے کی حاضری، طبی مراکز کو درپیش مسائل اور صحت کے شعبے کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس میں محکمہ صحت کے افسران نے ضلع بھر کے طبی مراکز میں جاری خدمات اور درپیش چیلنجز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے مختلف طبی مراکز کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوام کو بہتر، بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ صحت کا شعبہ عوامی فلاح و بہبود سے براہ راست وابستہ ہے، اس لیے اس میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں اور مراکز صحت میں ادویات کی دستیابی، طبی عملے کی حاضری اور مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ طبی مراکز میں صفائی ستھرائی کے انتظامات کو بہتر بنایا جائے، مشینری اور طبی آلات کو فعال رکھا جائے اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کو بھی بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ صحت کے شعبے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں اور عوامی شکایات کا بروقت ازالہ کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر خالد خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ محکمہ صحت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی اور عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ ضلع جعفرآباد میں صحت عامہ کے نظام کو مزید موثر اور فعال بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4882/2026
قلات16جون ۔ ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کے زیرصدارت BSDI فیز ون اور فیز ٹو کے تحت ترقیاتی اسکیمات سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ضلع بھر میں جاری اسکیمات کے ٹھیکدار وں نے شرکت کی۔اجلاس میں فیز ون فیزٹو کے تحت جاری اسکیمات کام کی رفتار کام کے معیار اور دیگر اہم امورپر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔کنٹریکٹرز نے ڈپٹی کمشنر کو اپنے اپنے اسکیمات کام کی رفتار اور معیار سے متعلق بریفنگ دی اور بلوں کی عدم ادائیگی ودیگر درپیش مسائل سے بھی ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیاگیا۔ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے کہاکہ علاقے کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیئے تمام تروسائل بروے کار لارہے ہیں BSDI کے تحت جاری اسکیمات میں آبنوشی اسکیمات سڑکیں سکولوں میں اضافی کمروں واش رومز کی تعمیر مرمت کے کام رنگ روغن گلی محلوں اور نیشنل ہائی وے سڑک پر اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب سمیت دیگر اہم اسکیمات شامل ہیں ان ترقیاتی اسکیمات کو ٹھیکدار برادری جلداز جلد مقررہ وقت پر مکمل کرین ترقیاتی اسکیمات کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائیگا اسکیمات میں غفلت اور لاپروائی کی کوئی گنجائش نہیں ناقص کارکردگی پیش کرنے والے ٹھیکداروں کے خلاف سخت کاروائی کرکے انہیں بلیک لسٹ کیاجائیگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر 4883/2026
نصیرآباد ڈویژن16جون:۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ مختلف سرکاری محکموں کے ضلعی سربراہان اور ان کے نمائندوں نے شرکت کی اجلاس کے دوران تمام محکموں کے افسران نے اپنے اپنے اداروں کی کارکردگی، جاری ترقیاتی منصوبوں اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کہا کہ حکومت نے تمام سرکاری افسران کو عوامی خدمت اور فلاح و بہبود کے لیے ذمہ داریاں سونپی ہیں، لہٰذا ہر محکمہ اپنی ذمہ داریوں کو دیانتداری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ نبھائے۔انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں میں جاری سرکاری ترقیاتی منصوبے عوام کے وسیع تر مفاد کے لیے ہیں، جن کی بروقت اور معیاری تکمیل متعلقہ انجینئرز اور محکموں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ڈیرہ مراد جمالی کے شہریوں کو مالکانہ حقوق کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے اعلیٰ حکام کی جانب سے بھی واضح ہدایات موصول ہو چکی ہیں اور ضلعی انتظامیہ ان پر عملدرآمد کو یقینی بنا رہی ہے تاکہ عوام کو ان کا جائز حق فراہم کیا جا سکے وریندر لعل نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تعلیم، صحت، آبنوشی اور بلدیاتی خدمات کے شعبوں میں عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے شہری علاقوں میں صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنانے، نکاسی آب کے مسائل کے حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے تمام محکموں کا متحرک اور فعال ہونا ناگزیر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام افسران اپنی جائے تعیناتی پر موجود رہیں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے دفاتر میں دستیاب رہ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تاکہ سائلین کو غیر ضروری مشکلات اور پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ تمام محکموں کے باہمی تعاون سے عوامی فلاح و بہبود، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور بہتر طرزِ حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے گی۔
خبرنامہ نمبر 4884/2026
نصیرآبادڈویژن16جون:۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت محرم الحرام کے انتظامات کے سلسلے میں علمائے کرام، ذاکرین اور ضلعی افسران کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایس ایس پی اسد ناصر، اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز جمالی، چیف آفیسر سلیم ڈومکی، حساس اداروں کے نمائندگان، علمائے کرام، ذاکرین، سادات کرام، امن کمیٹی کے اراکین اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران علمائے کرام اور ذاکرین نے خطاب کرتے ہوئے محرم الحرام کے دوران درپیش مسائل اور انتظامی امور سے متعلق تجاویز پیش کیں۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ ضلع نصیرآباد میں حسبِ روایت مقررہ روٹس پر ماتمی جلوس برآمد ہوں گے اور کسی نئے روٹ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں جن مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے، ان کا بروقت تدارک یقینی بنایا جائے گا انہوں نے کہا کہ عشرہ اول محرم الحرام کے دوران سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جائیں گے جبکہ محکمہ صحت کی جانب سے ٹراما سینٹر میں ایمرجنسی نافذ رہے گی۔ یومِ عاشورہ کے ماتمی جلوسوں کے شرکاء کو فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور ایمبولینسز ہمراہ موجود ہوں گی، جبکہ تین مقامات پر عارضی طبی مراکز بھی قائم کیے جائیں گے۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ ماتمی جلوسوں کے روٹس پر سکیورٹی، صفائی ستھرائی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ جلوسوں کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی سخت حفاظتی انتظامات کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی خطیب ضلع سے باہر سے تشریف لا رہا ہو تو انتظامیہ کو پیشگی اطلاع دی جائے تاکہ ضروری سکیورٹی اقدامات بروقت مکمل کیے جا سکیں۔وریندر لعل نے علمائے کرام اور ذاکرین پر زور دیا کہ وہ اپنے خطابات میں مذہبی ہم آہنگی، بھائی چارے اور رواداری کو فروغ دیں اور کسی بھی مسلک یا مکتبہ فکر کی دل آزاری سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے پرامن انعقاد کے لیے علمائے کرام اور انتظامیہ کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔
خبرنامہ نمبر 4885/2026
دکی16جون:۔ ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ (DEG) کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر امیر شاہ، آر ٹی ایس ایم ہیڈ محمد جمیل خان، اکاؤنٹ آفیسر عبد الباقی، محکمہ تعلیم کے افسران اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع بھر میں تعلیمی سرگرمیوں، اسکولوں میں طلبہ و اساتذہ کی حاضری، تعلیمی معیار، اسکولوں کو درپیش مسائل اور جاری تعلیمی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران مختلف تعلیمی اداروں کی کارکردگی، بنیادی سہولیات کی دستیابی، غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی اورتعلیمی ماحول کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر محمد نعیم خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اسکولوں میں اساتذہ اور طلبہ کی حاضری یقینی بنانے، تدریسی عمل کو مؤثر بنانے اور تعلیمی اداروں میں درپیش مسائل کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع دکی میں تعلیمی شعبے کی بہتری اور طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

خبر نامہ نمبر 2026/4886
کوئٹہ16 جون:ـوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گورنر بلوچستان، صوبائی وزراء، لیڈر آف دی اپوزیشن، پارلیمانی سیکرٹریز، حکومتی و اپوزیشن اراکین اسمبلی بشمول خواتین پارلیمنٹرینز کے اعزاز میں عشائیہ دیا عشائیے میں آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ اور مجموعی سیاسی و پارلیمانی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی اسمبلی کے تمام اراکین کو آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کی باہمی عزت، احترام اور جمہوری روایات صوبے کے سیاسی نظام کا قابلِ فخر سرمایہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں اختلافِ رائے کے باوجود باہمی احترام کی فضا برقرار رہتی ہے جو اسے دیگر پارلیمانی اداروں سے ممتاز بناتی ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ عوامی خواہشات، زمینی حقائق اور صوبے کی ترقیاتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت تعلیم، صحت، آبنوشی، زراعت، انفراسٹرکچر اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بجٹ میں دور دراز اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کو خصوصی اہمیت دی جائے گی تاکہ ترقی کے ثمرات صوبے کے ہر خطے تک پہنچ سکیں انہوں نے کہا کہ مالی نظم و ضبط، شفافیت اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جائے گا۔ میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت تمام سیاسی جماعتوں اور منتخب نمائندوں کی تجاویز کو اہمیت دیتے ہوئے ایک متوازن، عوام دوست اور ترقی پسند بجٹ پیش کرے گی عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں بلوچستان کی مخلوط حکومت عوام کی فلاح و بہبود، معاشی استحکام اور صوبے کی ترقی کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز کی بات ہے کہ صوبائی حکومت مکمل اتفاق رائے اور مثبت سیاسی ماحول میں اپنا تیسرا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے۔
گورنر بلوچستان نے کہا کہ جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مؤثر رابطہ اور مشاورت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل کے حل اور صوبے کی ترقی کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ بجٹ صوبے کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کے نئے مواقع پیدا کرے گا اس موقع پر لیڈر آف دی اپوزیشن میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ بجٹ سازی کے عمل میں باہمی اتفاق رائے ایک مثبت اور خوش آئند روایت ہے اور اس کا سہرا وزیر اعلیٰ بلوچستان کو جاتا ہے کہ مسلسل تیسرے بجٹ کی تیاری میں بھی اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں تنقید اپوزیشن کا حق ہے تاہم مثبت اقدامات کی حوصلہ افزائی اور عوامی مفاد میں کی جانے والی کاوشوں کو سراہنا بھی سیاسی بلوغت اور اخلاقی ذمہ داری کا تقاضا ہے میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ بلوچستان کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اجتماعی سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن صوبے کے عوام کے مفاد، ترقی اور خوشحالی کے لیے ہر مثبت اقدام میں حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔ عشائیے میں شرکاء نے صوبے میں جمہوری روایات کے فروغ، سیاسی ہم آہنگی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کاوشوں کے عزم کا اعادہ کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *