14th-June-2026

خبرنامہ نمبر4815/2026
کوئٹہ 14 جون :ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی زاہد سلیم نے اتوار کو گورنمنٹ پرنٹنگ پریس کا تفصیلی دورہ کیا جس کا مقصد مالی سال 2026-27کے صوبائی بجٹ کی کتب کی طباعت سے متعلق جاری انتظامات اور تیاریوں کا جائزہ لینا تھا دورے کے دوران ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور بجٹ دستاویزات کی پرنٹنگ کے مراحل، معیار اور ٹائم لائنز پر تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ انہوں نے مجموعی پیش رفت کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے اس پر اطمینان کا اظہار کیا انہوں نے متعلقہ حکام کو واضح ہدایت کی کہ بجٹ کتب کی طباعت کے تمام مراحل نہ صرف بروقت مکمل کیے جائیں بلکہ معیار اور سکیورٹی کے اعلیٰ ترین تقاضوں کو بھی ہر صورت یقینی بنایا جائے انہوں نے کہا کہ بجٹ دستاویزات کی بروقت ترسیل ایک اہم ٹاسک ہے جس کو بروقت پایا تکمیل تک پہنچانا ضروری ہے ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے کہا کہ پرنٹنگ کے عمل میں جدید تقاضوں کے مطابق موثر انتظامی نگرانی، کوآرڈینیشن اور کوالٹی کنٹرول کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ تمام بجٹ کتب مقررہ وقت سے قبل مکمل طور پر تیار ہو کر متعلقہ محکموں کو فراہم کی جا سکیں انہوں نے پرنٹنگ پریس انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جاری اقدامات کی بدولت آئندہ چند دنوں میں تمام بجٹ دستاویزات کی طباعت کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر4816/2026
کوئٹہ 14 جون۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اتوار کے روز صوبائی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کی رہائش گاہ گئے جہاں انہوں نے ان سے انکے چچا محمد رمضان کاکڑ کی وفات پر تعزیت و فاتحہ خوانی کی ۔وزیراعلیٰ نے مرحوم کے روح کے ایصال ثواب بلند درجات اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعاکی۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ اور رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ, صوبائی وزیر علی مدد جتک اور سابق صوبائی وزیر میر خالد لانگو بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔

خبرنامہ نمبر4817/2026
کوئٹہ 14 جون : قومی احتساب بیورو بلوچستان نے ریاستی عملداری کی بحالی اور سرکاری وسائل کے تحفظ کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی واگزار کرائی۔ یہ کارروائیاں نیب ہیڈ کواٹر کی ہدایات پر عمل میں لائی گئیں، جن کا مقصد غیر قانونی قبضوں کا خاتمہ، شفاف احتساب کا فروغ اور لوٹی گئی قومی دولت کی واپسی کو یقینی بنانا ہے، یہ کامیابی وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر صوبائی حکومت، محکمہ مال اور جنگلات کے تعاون کے نتیجے میں حاصل ہوئی۔تفصیلات کے مطابق سال 2025 میں بلوچستان میں جنگلاتی اراضی کی ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ محکمہ جنگلات کی تقریباً 28 لاکھ ایکڑ اراضی کے حوالے سے سرکاری سطح پر انتقال اراضی کا با قاعدہ ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین نیب کی ہدایات پر نیب بلوچستان نے فوری اور بلا امتیاز کارروائیوں کا آغاز کیا۔تفصیلات کے مطابق سال 2025 کے دوران دس لاکھ ایکڑ سے زائد سرکاری زمین واگزار کروا کر 1370 ارب روپے کی ریکوری ممکن بنائی گئی، جو پاکستان کی تاریخ کی بڑی اراضی واگزاری کارروائیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے سال 2026 میں کارروائیوں کو مزید تیز کیا گیا، جس کے تحت کوئٹہ، سبی، شیرانی، حب، لسبیلہ اور گوادر میں مجموعی طور پر تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار ایکڑ زمین واگزار کرائی گئی، جسکی مالیت 414.2 ارب روپے بنتی ہے۔ جسکی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں ۔ضلع کوئٹہ میں محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کی 47 ہزار ایکڑ اراضی جس کی مالیت تقریباً 354 ارب روپے ہے واگزار کرائی گئی۔ اسی طرح ضلع سبی میں بھی محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کی28,61 ایکڑ اراضی جس کی مالیت 2.3 ارب روپے ، ضلع شیرانی میں 15 ہزار ایکڑ اراضی جس کی مالیت 29 ارب روپے بنتی ہے واگزار کرائی گئی ہے۔ اسی طرح محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کی ضلع حب میں 153 ایکڑ اراضی جس کی مالیت 50 کروڑ روپے ہے، ضلع لسبیلہ میں 17 ہزار ایکڑ اراضی محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کی جس کی مالیت 2.2 ارب روپے ہے، جبکہ محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کی ضلع گوادر میں 1 لاکھ 76 ہزار ایکڑ اراضی جس کی مالیت 25 ارب روپے بنتی ہے، واگزار کرائی گئی ہے۔اس کامیابی میں حکومت بلوچستان کی مکمل معاونت حاصل رہی، جبکہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو (SMBR) بلوچستان اور محکمہ جنگلات نے بھی کلیدی کردار ادا کیا کیوں کہ بین الادارہ تعاون کے بغیر اس نوعیت کی کامیابیاں ممکن نہیں تھیں۔واضح رہے کہ نیب پُر عزم ہے کہ کرپشن اور قبضہ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد جاری رکھے گا اور ریاستی زمین پر غیر قانونی قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کارروائیاں بلا امتیاز، قانون کے مطابق اور مکمل شفافیت کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی۔مزید برآں باقی ماندہ سرکاری اراضی کی واگزاری کو ترجیح دی جا رہی ہے جبکہ مستقبل میں غیر قانونی قبضوں کی روک تھام کے لیے جدید ریکارڈ سسٹم، ڈیجیٹلائزیشن اور مؤثر مانیٹرنگ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں گوادر کی اراضی کی ڈیجیٹلائزیشن بھی آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے، جو آئندہ ایسے مسائل کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرے گی۔واضح رہے واگزار شدہ زمین محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کے حوالے کی جا رہی ہے تاکہ اسے عوامی مفاد اور ماحول دوست منصوبوں میں بروئے کار لایا جا سکے، جبکہ صوبے بھر میں یہ مہم اسی جذبے کے ساتھ زیادہ متاثرہ اضلاع میں ترجیحی بنیادوں پر جاری رہے گی۔

خبرنامہ نمبر4818/2026
صحبت پور14 جون:حکومتِ بلوچستان کی جانب سے عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اور صحت کے شعبے کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے عزم کے تحت ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو BSDI فیز-II کے تحت ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال صحبت پور کی الیکٹریفیکیشن کا منصوبہ کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے اس منصوبے کو ہسپتال کی دیرینہ اور بنیادی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجلی کی عدم دستیابی کے باعث ہسپتال میں مریضوں ڈاکٹروں اور طبی عملے کو شدید مشکلات کا سامنا تھا بجلی نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف طبی آلات کی کارکردگی متاثر ہو رہی تھی بلکہ ہنگامی طبی خدمات اور روزمرہ انتظامی امور بھی بری طرح متاثر ہو رہے تھے انہوں نے مزید کہا کہ عوامی ضرورت اور ہسپتال کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس منصوبے کو BSDI فیز-II میں شامل کیا گیا جس کی بروقت تکمیل حکومتِ بلوچستان کے عوام دوست وژن کی عکاس ہے منصوبے کی تکمیل کے بعد اب ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال صحبت پور کو بجلی کی مستقل اور بلا تعطل فراہمی ممکن ہو گئی ہے اس اہم سہولت کی فراہمی سے جدید طبی آلات کی مؤثر کارکردگی یقینی بنے گی، ہنگامی خدمات میں بہتری آئے گی اور مریضوں کو بروقت، معیاری اور محفوظ طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں گی۔یہ منصوبہ ضلع صحبت پور میں صحت کے شعبے کی ترقی، عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جو حکومتِ بلوچستان کی جانب سے عوام کی خدمت اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے عزم کا عملی مظہر ہے۔

خبرنامہ نمبر4819/2026
نصیرآباد 14 جون :ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کہا ہے کہ ضلع نصیرآباد میں مشتبہ ہیضہ کیسز کی روک تھام اور عوام کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت مکمل طور پر متحرک ہیں اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈیرہ مراد جمالی میں خصوصی آئسولیشن وارڈ قائم کر دیا گیا ہے جہاں بیک وقت 50 مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مشتبہ ہیضہ کیسز سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز جمالی، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر حبیب پندرانی، ایگزیکٹو انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ظفر اقبال زہری، پی پی ایچ آئی کے نمائندہ منیر احمد گرانی اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے ہدایت کی کہ ضلع بھر کے تمام آر ایچ سیز، بی ایچ یوز اور دیگر سرکاری طبی مراکز میں مشتبہ ہیضہ کیسز سے نمٹنے اور متاثرہ افراد کے علاج معالجے کے لیے ضروری ادویات، طبی عملے اور دیگر سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ مریضوں کی بروقت تشخیص، مؤثر علاج اور مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو ابلا ہوا یا صاف پانی فراہم کریں، حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کریں اور بیماری کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر قریبی طبی مرکز سے رجوع کریں۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد نے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں پانی کے معیار کا فوری جائزہ لیا جائے، پانی کے ممکنہ آلودہ ذرائع کی نشاندہی کی جائے، فلٹریشن پلانٹس اور واٹر سپلائی اسکیموں کی فعالیت کا معائنہ کیا جائے اور ضرورت کے مطابق حفاظتی و اصلاحی اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسسٹنٹ کمشنرز کی نگرانی میں محکمہ صحت، پی پی ایچ آئی، ایل ایچ وی اور ویکسی نیٹرز پر مشتمل خصوصی ٹیمیں متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گی، عوام میں آگاہی مہم چلائیں گی، کلورین ٹیبلٹس تقسیم کریں گی اور احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گی۔اجلاس میں مشتبہ ہیضہ کیسز کی صورتحال، طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی، صاف پانی کی فراہمی، سرویلنس اور عوامی آگاہی مہم کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا جبکہ متعلقہ اداروں کو باہمی رابطے کے ساتھ مؤثر حکمت عملی اپنانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر4820/2026
نصیرآباد 14جون۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کے احکامات کی روشنی میں ضلع نصیرآباد میں مشتبہ ہیضہ کی روک تھام اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے ایک اہم اجلاس اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز جمالی، ایگزیکٹو انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ظفر اقبال زہری، ڈی ایس وی ثناء اللہ چکھڑا، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز جمالی نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کی ہدایات پر ضلع بھر کے تمام سرکاری طبی مراکز میں مشتبہ ہیضہ سے نمٹنے اور متاثرہ مریضوں کو بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے خصوصی مراکز قائم کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف علاقوں میں طبی ٹیمیں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں جو صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں اور عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کو یقینی بنا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور محکمہ صحت کے افسران کی جانب سے مختلف بی ایچ یوز، آر ایچ سیز اور دیگر طبی مراکز کا باقاعدگی سے معائنہ کیا جا رہا ہے تاکہ مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع کے تمام بی ایچ یوز اور آر ایچ سیز میں ہیضہ سے بچاؤ اور علاج کے لیے ضروری ادویات اور طبی سہولیات دستیاب کر دی گئی ہیں۔

خبرنامہ نمبر4821/2026
ہرنائی14 جون:عوامی صحت کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے اور ضلع بھر کے طبی مراکز کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے پی پی ایچ آئی ڈسٹرکٹ آفس ہرنائی کا ایک اہم ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت ڈسٹرکٹ مینیجر پی پی ایچ آئی ہرنائی اور اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل نے کی۔اجلاس میں انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے اعلیٰ حکام، ڈسٹرکٹ سرویلنس آفیسر ڈاکٹر زاہد اللہ اور ضلع بھر کے تمام بنیادی صحت کے مراکز کے انچارجز نے شرکت کی۔کارروائی کا باقاعدہ آغاز کلامِ پاک کی تلاوتِ سے کیا گیا، جس کے بعد اپریل 2026ء کے دوران تمام بنیادی ہیلتھ یونٹس کی کارکردگی کا مرکز وار انفرادی اور تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ دور دراز مراکز میں طبی خدمات کی فراہمی، ادویات کی دستیابی اور مریضوں کے ریکارڈ کے حوالے سے جہاں بھی خامیاں یا کمی بیشی سامنے آئی، ان پر کھل کر بحث کی گئی۔ اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل اور ڈی ایس او ڈاکٹر زاہد اللہ نے نشاندہی کیے گئے مسائل کے فوری حل کے لیے اپنی قیمتی آراء دیں اور کارکردگی کو مزید نکھارنے کے لیے انچارجز کو اہم ہدایات جاری کیں۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ضلع ہرنائی کے پسماندہ علاقوں کے عوام کو صحت کی بہترین اور بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور مانیٹرنگ کا یہ عمل مسلسل جاری رہے گا۔

خبرنامہ نمبر4822/2026
ہرنائی14 جون:عوامی مسائل کے حل، سرکاری اداروں کی کارکردگی کو فعال بنانے اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ڈی ایس پی ہرنائی ملک حبیب اللہ ترین نے پولیس تھانہ ناکس، پولیس تھانہ شاہرگ اور شاہرگ ہسپتال کا اچانک دورہ کیا۔ اس اہم اور سرپرائز وزٹ کے موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین اور ایس ایچ او شاہرگ عبدالمجید دشتی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے ۔ ڈی ایس پی ملک حبیب اللہ ترین نے اپنے دورے کے دوران تھانوں میں موجود پولیس نفری، روزنامچہ، حاضری رجسٹر اور مجموعی سیکیورٹی انتظامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے ہسپتال میں تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی اور ان کی مستعدی کو بھی چیک کیا ۔اس موقع پر پولیس جوانوں اور افسران سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی ایس پی ہرنائی ملک حبیب اللہ ترین کا کہنا تھا کہ پولیس کے جوان اپنے فرائضِ منصبی پوری ذمہ داری، دیانتداری اور خوش اسلوبی سے سرانجام دیں۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے اہلکاروں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ ڈیوٹی کے دوران کسی بھی قسم کی غفلت، لاپرواہی یا فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی کو ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور غیر حاضر یا سست روی کا مظاہرہ کرنے والے ملازمین کے خلاف قانون کے مطابق سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ملک حبیب اللہ ترین نے مزید کہا کہ سرکاری اداروں کی کارکردگی کو مزید نکھارنے اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے ایسے اچانک اور سرپرائز دوروں کا سلسلہ آئندہ بھی بلا تعطل جاری رہے گا، لہٰذا تمام ملازمین اور پولیس کے جوان وقت اور ڈیوٹی کی پابندی کو ہر حال میں یقینی بنائیں۔

خبرنامہ نمبر4823/2026
نصیرآباد14جون:ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا ہے کہ ہنگامی صورتحال میں عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور انہیں رہائش کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے این جی اوز کے تعاون سے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایکٹڈ کی جانب سے ضلع جعفرآباد کے مختلف علاقوں میں عوام کے تحفظ کے لیے شیلٹرز تعمیر کیے جا رہے ہیں، جن کا بنیادی مقصد مشکل اور ہنگامی حالات میں متاثرہ افراد کو بروقت ریلیف فراہم کرنا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایکٹڈ کی جانب سے زیر تعمیر شیلٹرز کے جائزہ دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایکٹڈ کے نمائندوں نے ڈپٹی کمشنر کو جاری تعمیراتی کام اور منصوبے کی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ مفاد عامہ کے لیے خدمات انجام دینے والی تمام این جی اوز کی ہر ممکن سطح پر معاونت کی جائے گی تاکہ وہ مزید بہتر انداز میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے مکمل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام این جی اوز اس بات کو یقینی بنائیں کہ اپنے منصوبوں میں مقامی افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ ترقیاتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مقامی نوجوانوں کو بھی روزگار میسر آ سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ جاری منصوبوں کی شفافیت اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے مانیٹرنگ کا عمل بھی مسلسل جاری رکھا جائے گا تاکہ عوامی مفاد کے منصوبوں کے ثمرات حقیقی معنوں میں عوام تک پہنچ سکیں۔

خبرنامہ نمبر4824/2026
سوراب14 جون:ضلعی انتظامیہ شہید سکندر آباد سوراب کے جاری کردہ اعلامیہکیمطابق حکومت بلوچستان کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر شہید سکندر آباد سوراب، صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت 16جون 2026 بروز منگل دوپہر 11:30 بجے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کلی دمب میں کھلی کچہری منعقد ہوگی۔اس موقع پر عوام کو اپنے مسائل اور شکایات براہ راست ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا تاکہ ان کے فوری اور مؤثر حل کو یقینی بنایا جا سکے عوام الناس اورعلاقائی عمائدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کھلی کچہری میں شرکت کریں۔

خبرنامہ نمبر4825/2026
کوئٹہ14 جون: بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے صوبے میں رینٹ اے کار اور آٹوموبائل رینٹل سروسز فراہم کرنے والے تمام کاروباری اداروں اور افراد کو ہدایت کی ہے کہ اگر وہ تاحال رجسٹرڈ نہیں ہیں تو فوری طور پر بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے ساتھ اپنی رجسٹریشن مکمل کریں اور بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2015 کے تحت اپنی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔اتھارٹی کے مطابق رینٹ اے کار اور آٹوموبائل رینٹل سروسز پر سیلز ٹیکس کی شرح 8 فیصد مقرر ہے۔ تمام سروس فراہم کنندگان کیلئے لازم ہے کہ وہ مقررہ ٹیکس ادوار کے اندر اپنے ٹیکس گوشوارے (Returns) بروقت جمع کرائیں اور واجب الادا ٹیکس کی ادائیگی یقینی بنائیں۔ مزید برآں، اس شعبے کیلئے ان پٹ ٹیکس کریڈٹ یا ایڈجسٹمنٹ کی اجازت نہیں ہوگی۔بی آر اے نے واضح کیا ہے کہ ٹیکس قوانین کی تعمیل نہ صرف قانونی ذمہ داری ہے بلکہ یہ شفاف کاروباری ماحول، منصفانہ مسابقت اور صوبے کی ترقی کیلئے وسائل کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اتھارٹی نے کاروباری برادری کی سہولت کیلئے رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ اور ٹیکس ادائیگی کے تمام مراحل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور آن لائن بنا دیا ہے۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے تمام رینٹ اے کار اور آٹوموبائل رینٹل سروس فراہم کنندگان سے اپیل کی ہے کہ وہ بروقت رجسٹریشن، ٹیکس ادائیگی اور ریٹرن فائلنگ کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی قانونی کارروائی، جرمانے یا کاروباری پیچیدگی سے بچا جا سکے اور صوبے کی ترقی میں اپنا مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر4826/2026
کوئٹہ، 14 جون :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے شروع کی گئی پیپلز ائر ایمبولینس سروس دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے مریضوں کو بروقت طبی امداد اور بہتر علاج کی سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ اس سروس کے ذریعے منتقل کیے جانے والے مریضوں کی جان بچانے میں محفوظ خون کی دستیابی کلیدی اہمیت رکھتی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے انسانیت کی خدمت، ایثار اور سماجی ذمہ داری کے جذبے کو اجاگر کرنے کا دن ہے۔ خون کا ایک عطیہ کسی انسان کے لیے نئی زندگی، امید اور تحفظ کا پیغام بن سکتا ہے، جبکہ محفوظ اور رضاکارانہ خون کی دستیابی ایک مؤثر اور مستحکم نظامِ صحت کی بنیادی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ حادثات، سرجریوں، زچگی اور مختلف امراض میں مبتلا مریضوں کی زندگی بروقت خون کی فراہمی سے وابستہ ہوتی ہے۔ ایسے میں رضاکارانہ طور پر خون عطیہ کرنے والے افراد انسانیت کے حقیقی محسن ہیں جو بے لوث خدمت کے جذبے کے تحت قیمتی انسانی جانوں کو بچانے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے صحت کے شعبے میں تاریخی اصلاحات متعارف کرا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے نظام کو مزید مؤثر اور عوام دوست بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر عمل درآمد جاری ہے تاکہ ہر شہری کو بہتر طبی سہولیات میسر آسکیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے نوجوانوں، تعلیمی اداروں، سماجی کارکنوں اور فلاحی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ معاشرے میں خون عطیہ کرنے کے کلچر کے فروغ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں تاکہ ضرورت مند مریضوں کو بروقت خون کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے انہوں نے کہا کہ ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے ہمیں اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ رضاکارانہ طور پر خون عطیہ کرنے کی روایت کو فروغ دے کر قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ اور انسانیت کی خدمت میں اپنا کردار ادا کریں۔

خبرنامہ نمبر4827/2026
کوئٹہ، 14 جون :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر کوئٹہ کے ایک شہری کی درخواست پر فوری کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے دھوکہ دہی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جناح ٹاؤن کوئٹہ کے رہائشی رفاقت علی نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو دی گئی درخواست میں بعض افراد پر لین دین کے معاملات میں دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنی جان کو لاحق خطرات سے آگاہ کیا تھا اور داد رسی کی اپیل کی تھی شاہد رند نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری کارروائی کی ہدایت جاری کی۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر ان کے اسٹاف آفیسر سید امین نے متاثرہ شہری سے رابطہ کرکے مکمل تعاون، شفاف شنوائی اور قانونی معاونت کی یقین دہانی کرائی انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ہدایت پر قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہوئے اور مقدمے میں نامزد ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی اور تفتیش کا عمل شروع کر دیا گیا ہے شاہد رند نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان عوام کے جان و مال کے تحفظ اور انہیں فوری انصاف کی فراہمی کے لیے پرعزم ہیں اور کسی بھی شہری کے ساتھ ناانصافی یا قانون شکنی کو برداشت نہیں کیا جائے گا دریں اثناء درخواست گزار رفاقت علی نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی درخواست پر فوری توجہ، مؤثر کارروائی اور داد رسی حکومت کی عوام دوست پالیسی کا مظہر ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں وزیر اعلیٰ بلوچستان، ان کے عملے اور متعلقہ اداروں کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انصاف کے تقاضے مکمل طور پر پورے کیے جائیں گے۔

خبرنامہ نمبر4828/2026
کوئٹہ14 جون۔ صوبائی مشیر برائے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمٰن خان ملاخیل نے عالمی یومِ عطیہ خون کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خون کا عطیہ دینا ایک عظیم انسانی، اخلاقی اور سماجی فریضہ ہے جو کسی ضرورت مند انسان کی جان بچانے کا سبب بن سکتا ہے۔ دنیا بھر میں یہ دن انسانیت کی خدمت، ایثار اور ہمدردی کے جذبے کو فروغ دینے کے لیے منایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہزاروں تھیلیسیمیا کے بچے ایسے ہیں جن کی زندگی باقاعدگی سے خون کی فراہمی پر منحصر ہے۔ یہ معصوم بچے ہر ماہ خون کے منتظر رہتے ہیں اور معاشرے کے صاحبِ استطاعت اور صحت مند افراد کے عطیہ کردہ خون سے اپنی زندگی کا سفر جاری رکھتے ہیں۔ تھیلیسیمیا کے بچوں سمیت حادثات، آپریشنز اور دیگر پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے خون کی مسلسل دستیابی انتہائی ضروری ہے۔ نسیم الرحمٰن خان ملاخیل نے نوجوانوں، سماجی تنظیموں، تعلیمی اداروں اور فلاحی اداروں پر زور دیا کہ وہ خون عطیہ کرنے کی مہمات میں بھرپور حصہ لیں اور معاشرے میں رضاکارانہ خون عطیہ کرنے کے شعور کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بیگ خون کسی کی پوری زندگی بچا سکتا ہے اور انسانیت کی خدمت کا یہ جذبہ ایک مہذب اور ذمہ دار معاشرے کی پہچان ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان نسل پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہے اور وہ معاشرتی خدمت کے میدان میں ہمیشہ نمایاں کردار ادا کرتی رہی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان آگے بڑھ کر تھیلیسیمیا کے بچوں اور دیگر ضرورت مند مریضوں کے لیے خون عطیہ کرنے کے عمل کو اپنی سماجی ذمہ داری سمجھیں۔آخر میں صوبائی مشیر برائے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمٰن خان ملاخیل نے عوام سے اپیل کی کہ وہ عالمی یومِ عطیہ خون کے موقع پر انسانیت کی خاطر خون عطیہ کرنے کے عزم کی تجدید کریں اور اس پیغام کو گھر گھر پہنچائیں۔

خبرنامہ نمبر4829/2026
چمن 14جون :چمن شہر اور گرد و نواح میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ڈی پی او چمن اعتزاز عارف کی ہدایات پر سی آئی اے انچارج انسپکٹر محمد صادق نے پولیس نفری کے ہمراہ مختلف پولیس چوکیوں اور ناکوں پر سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ پولیس کی جانب سے مشکوک گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور پیدل چلنے والے افراد کی جامع تلاشی اور جانچ پڑتال کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران شناختی دستاویزات کی پڑتال سمیت مشتبہ افراد کی نقل و حرکت پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔پولیس حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں کی روک تھام، عوام کے جان و مال کا تحفظ اور علاقے میں پائیدار امن کا قیام یقینی بنانا ہے۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔

خبرنامہ نمبر 4830/2026
لورالائی: حکومت بلوچستان اور چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے اشتراک سے لورالائی میں جدید سہولیات سے آراستہ چائلڈ ایمرجنسی یونٹ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمٰن پانیزئی، کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) کے صدر پروفیسر محمد شعیب شفیع، سینئر نائب صدر پروفیسر خالد مسعود گوندل، محمد عامر زمان (DGME)، پروفیسر ایم اصغر بٹ (DGIR)، پروفیسر جہانگیر خان، پروفیسر عائشہ صدیقہ، پروفیسر بسمہ خان، پروفیسر سعد عظیم، ڈاکٹر سائمہ شبیر، پروفیسر اورنگزیب خان، پروفیسر زاہد اختر، انصار احمد (ڈائریکٹر آپریشنز) اور جاوید غفار (جنرل منیجر) سمیت دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر شرکاء نے چائلڈ ایمرجنسی یونٹ کا دورہ کیا اور بچوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ مقررین نے اس اقدام کو بلوچستان میں بچوں کی ہنگامی طبی خدمات کی بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے میں اصلاحات اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔
تقریب کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ چائلڈ لائف فاؤنڈیشن اور حکومت بلوچستان کے باہمی تعاون سے صوبے کے مختلف اضلاع میں بچوں کے لیے جدید اور معیاری ایمرجنسی طبی خدمات کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ عوام کو ان کے علاقوں میں بہتر علاج معالجے کی سہولیات میسر آ سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *