خبرنامہ نمبر2960/2026
کوئٹہ، 14 اپریل ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت یونیورسٹی آف مکران پنجگور کیمپس کی کارکردگی، درپیش مسائل اور مستقبل کے اقدامات سے متعلق ایک اہم اجلاس منگل کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں جامعہ کی مجموعی صورتحال، انتظامی و تدریسی امور اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا اجلاس میں جامعہ آف مکران میں تدریسی و ضروری انتظامی اسٹاف کی بھرتی کے لیے سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا کمیٹی کو ہدایت کی گئی کہ وہ ادارے کی حقیقی ضروریات کا جامع جائزہ لے کر اسٹاف کے تعین، بھرتیوں، وسائل کی فراہمی اور مجموعی ادارہ جاتی بہتری سے متعلق ٹھوس اور قابلِ عمل سفارشات پیش کرے وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس موقع پر واضح ہدایت دی کہ غیر ضروری بھرتیوں سے ہر صورت اجتناب کیا جائے اور تمام تر توجہ معیاری تعلیم کے فروغ پر مرکوز رکھی جائے انہوں نے کہا کہ جامعات کو محض بھرتیوں کی فیکٹری بنانے کے بجائے علم، تحقیق اور جدت کے حقیقی مراکز میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے انہوں نے مصنوعی ذہانت کے فروغ پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ مقامی زبانوں میں موثر چیٹ بوٹس اور جدید ڈیجیٹل حل تیار کیے جائیں تاکہ طلبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم فراہم کی جا سکے وزیراعلیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جامعات کے وسائل کو طلبہ کے داخلوں اور ادارہ جاتی کارکردگی سے مشروط کیا جائے تاکہ اداروں میں بہتری اور مقابلے کا رجحان فروغ پائے میر سرفراز بگٹی نے تعلیمی اداروں میں میرٹ، شفافیت اور احتساب کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان اصولوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے پنجگور کیمپس کو جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل سہولیات کی بہتری کی بھی ہدایت کی وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ مقامی طلبہ کو معیاری اعلیٰ تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے انہوں نے جامعات میں تحقیق کو صنعت اور مقامی معیشت سے جوڑنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ تحقیق کے ثمرات براہ راست معاشی ترقی میں معاون ثابت ہوں اجلاس میں اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت اور استعداد کار میں اضافے کے لیے خصوصی پروگرامز متعارف کرانے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ تدریسی معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن کمیشن صالح بلوچ، وائس چانسلر یونیورسٹی آف مکران ڈاکٹر سعادت بلوچ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2961/2026
کوئٹہ:14اپریل ۔ صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کی زیر صدارت نیو ٹراما سینٹر کوئٹہ کے حوالے سے پروگریس ریویو میٹنگ منعقد ہوئی۔اجلاس میں نیو ٹراما سینٹر کی فعالیت، انتظامی امور، جدید طبی آلات کی دستیابی اور سروس ڈیلیوری کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر سیکرٹری صحت مجیب الرحمان، سابق سیکرٹری صحت پنجاب علی جان، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ امین مندوخیل، ایڈیشنل سیکرٹری صحت ثاقب کاکڑ، سی ای او ٹراما سینٹر ارباب کامران، بلوچستان ہیلتھ مینجمنٹ اینڈ انفارمیشن سسٹمز کے صوبائی کوآرڈینیٹر ابابگر بلوچ سمیت دیگر سینئر ڈاکٹرز اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کو ڈائریکٹر آپریشن نیو ٹراما سینٹر ڈاکٹر شیر افگن رہیسانی نے تفصیلی بریفنگ دی، جس میں نیو ٹراما سینٹر کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ اس دوران سروسز کے آغاز کے مختلف پہلووں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے ہدایت دی کہ تمام انتظامی اور طبی امور کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ ٹراما سینٹر کو فوری طور پر عوام کے لیے فعال کیا جا سکے اور ایمرجنسی کی صورت میں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے اور نیو ٹراما سینٹر کو جدید خطوط پر فعال کرنا اسی وڑن کا حصہ ہے۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ نیو ٹراما سینٹر کو جلد از جلد مکمل طور پر فعال کر کے عوام کی خدمت کے لیے پیش کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2962/2026
کوئٹہ 14اپریل ۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور وزیرِ صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کے اصلاحاتی ایجنڈا کے تحت صحت کے نظام میں شفافیت، جوابدہی اور کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ (IMU) کے لیے بھرتی کیے گئے 83 مانیٹرز کی باضابطہ شمولیت عمل میں لانے کے لے محکمہ صحت نے آغا خان یونیورسٹی کے کمیونٹی ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے اشتراک سے دو روزہ تربیتی پروگرام کا کے زہر اہتمام منعقدہ ورکشاپ سے چیف ایگزیکٹو آفیسر بلوچستان ایلتھ کارڈ ڈاکٹر احمد ولی، ڈائریکٹر جنرل محکمہ صحت ڈاکٹر امین خان مندوخیل، ڈبلیو ایچ او کے ٹیم لیڈر ڈاکٹر سیعد شیرانی ، اور ڈاکٹر داو¿د اچگزئی نے کہا کہ۔انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کے مانیٹرز صوبے بھر میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کی مسلسل نگرانی کرے گا، جس میں بنیادی مراکز صحت (BHUs)، دیہی مراکز صحت (RHUs)، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (DHQ) ہسپتالوں اور دیگر بڑے ہسپتال شامل ہیں۔ یہ مانیٹرز تمام اضلاع میں صحت کی سہولیات کی دستیابی، عملے کی حاضری، ادویات کی فراہمی، اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار کا باقاعدگی سے جائزہ لیں گے۔انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کے ان مانیٹرز کی استعداد کار بڑھانے کے لیےدو روزہ تربیتی سیشن میں مانیٹرنگ کے معیارات، ڈیٹا کلیکشن کے جدید طریقہ کار، رپورٹنگ کے اصول، اور صحت کے نظام میں مو¿ثر نگرانی کے عملی پہلوو¿ں پر خصوصی توجہ دی گئی، تاکہ مانیٹرز اپنی ذمہ داریاں پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دے سکیں۔انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ محکمہ صحت کے سیکریٹری کی براہِ راست نگرانی میں کام کرے گا، جبکہ مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن (M&E) کے ماہرین اس کی تکنیکی رہنمائی اور تجزیاتی معاونت فراہم کریں گے تاکہ شواہد پر مبنی فیصلے ممکن بنائے جا سکیں۔انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کے قیام سے محکمہ صحت کے نظام میں شفافیت اور جوابدہی میں اضافہ ہوگا، جس سے انتظامی فیصلوں کی موثریت بڑھے گئ۔مراکز صحت میں اسٹاف کی حاضری، ادویات کی دستیابی اور مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔مانیٹرنگ کے دوران سامنے آنےوالی خامیوں کو فوری طور پر متعلقہ حکام تک پہنچایا جائے گا، جس سے مسائل کا بروقت حل ممکن ہوگا، اورمستند ڈیٹا کی بنیاد پر پالیسی سازی اور وسائل کی بہتر تقسیم ممکن ہوگی۔جس سے صحت کے نظام میں بہتری کے نتیجے میں عوام کا اعتماد مضبوط ہوگا اور خدمات سے استفادہ بڑھ سکے گا۔حکومتِ بلوچستان کا یہ اقدام صوبے کے صحت کے شعبے میں پائیدار اصلاحات کی جانب ایک مضبوط قدم ہے، جس کے ذریعے عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2963/2026
لورالائی14اپریل ۔ لورالائی پولیس نے منشیات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے بڑی کامیابی حاصل کر لی۔ ایس ایچ او میختر ہمایوں نے نفری کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے 5 کلوگرام چرس برآمد کر لی جبکہ دو ملزمان کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔پولیس کے مطابق ملزمان سے برآمد ہونے والی چرس قبضے میں لے کر مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ایس ایچ او ہمایوں کا کہنا تھا کہ علاقے میں منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان نسل کو منشیات جیسے ناسور سے بچانے کے لیے پولیس ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں عوام کے تعاون کو بھی نہایت اہم قرار دیا۔واضح رہے کہ لورالائی پولیس کی جانب سے حالیہ دنوں میں منشیات کے خلاف کارروائیوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے، جسے شہری حلقوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2964/2026
صحبت پور14اپریل ۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی جانب سے عوامی مسائل کے براہِ راست حل اور عوام سے قریبی رابطے کو فروغ دینے کے لیے صوبہ بھر میں باقاعدگی سے کھلی کچہریوں کے انعقاد کی ہدایات کی روشنی میں، ڈپٹی کمشنر صحبت پور، میڈم فریدہ ترین کی زیرِ صدارت ایک اہم کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیااس کھلی کچہری میں ضلعی محکموں کے سربراہان سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے مسائل و مشکلات سے براہِ راست ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کیا۔ عوام کی جانب سے جن اہم مسائل کی نشاندہی کی گئی، ان میں امن و امان کی صورتحال، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، صحت کی بنیادی سہولیات کی کمی، نکاسی? آب کے مسائل، بجلی کی لوڈشیڈنگ، آمدورفت میں دشواریاں اور روڈ نیٹ ورک کی بہتری جیسے اہم امور شامل تھے۔ شہریوں نے اپنے مسائل زبانی اور تحریری دونوں صورتوں میں پیش کیے ڈپٹی کمشنر صحبت پور نے موقع پر موجود متعلقہ افسران کو متعدد مسائل کے فوری حل کے لیے احکامات جاری کیے، جبکہ دیگر پیچیدہ اور طویل المدتی نوعیت کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کو ہدایات دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ان کے تدارک کے لیے مو¿ثر اور عملی اقدامات کیے جائیں گےاس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کھلی کچہریوں کا مقصد عوام کو براہِ راست اپنی انتظامیہ تک رسائی فراہم کرنا اور ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئندہ بھی اسی جذبے کے تحت کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گےکھلی کچہری کے انعقاد پر شرکاء نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا اور ضلعی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس طرح کے اقدامات سے عوامی مسائل کے حل میں مزید بہتری آئے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2965/2026
استامحمد14اپریل ۔ڈپٹی کمشنر استامحمد، محمد رمضان پلال کی زیر صدارت نیشنل امیونائزیشن ڈیز NID اپریل 2026 مہم کے پہلے روز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایک اہم ایوننگ اجلاس منعقد ہوااجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے علاوہ عالمی ادارہ صحت WHO، یونیسف UNICEF، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر، این اسٹاپ NSTOP ای پی آئی ٹیم، کوم نیٹ اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی اس کے ساتھ ساتھ یونین کونسل میڈیکل آفیسرز UCMOs اور فیلڈ سپروائزرز بھی اجلاس میں شریک ہوئےاجلاس کے دوران مہم کے پہلے روز کی مجموعی کارکردگی، ٹیموں کی حاضری، کوریج اور درپیش چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ خاص طور پر ان بچوں پر توجہ مرکوز کی گئی جو کسی وجہ سے پولیو کے قطرے پینے سے رہ گئے مس شدہ بچے یا جن کے والدین نے انکار کیا انکاری کیسز متعلقہ افسران کو ہدایت دی گئی کہ ایسے کیسز کی فوری نشاندہی کر کے انہیں ترجیحی بنیادوں پر کور کیا جائےعالمی ادارہ صحت (WHO) اور یونیسف (UNICEF) کی مانیٹرنگ ٹیموں نے فیلڈ سے حاصل ہونے والی رپورٹس پیش کرتے ہوئے بعض علاقوں میں ٹیموں کی غیر حاضری، رسائی میں مشکلات اور مانیٹرنگ کے نظام میں بہتری کی ضرورت کی نشاندہی کی۔ ان مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات پر بھی غور کیا گیا ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح ہدایات جاری کیں کہ مس شدہ بچوں کی سو فیصد کوریج ہر صورت یقینی بنائی جائےفیلڈ ٹیموں کی حاضری اور کارکردگی کی سخت نگرانی کی جائےدور دراز اور مشکل علاقوں میں رسائی کو بہتر بنانے کے لیے موثر حکمت عملی اپنائی جائےمہم کے دوسرے روز کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے ہر بچے تک رسائی ناگزیر ہے اور اس مقصد کے حصول میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اجلاس کے اختتام پر ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور شراکت دار اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مشترکہ کاوشوں کے ذریعے ہر بچے تک پولیو کے قطرے پہنچا کر اس موذی مرض کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2966/2026
استامحمد14اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال نے نیشنل امیونائزیشن ڈیز (NID) اپریل 2026 کی جاری انسدادِ پولیو مہم کی موثر نگرانی کے سلسلے میں آج مسن محلہ استامحمد کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر استامحمد ڈاکٹر امیر علی اور کمیونیکیشن آفیسر منصور علی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے مسن محلہ کے مختلف علاقوں کا جائزہ لیتے ہوئے خود کلسٹر اٹھایا اور پولیو ٹیموں کی کارکردگی، فیلڈ میں موجود سہولیات اور مہم کے مجموعی معیار کا بغور معائنہ کیا۔ انہوں نے بچوں کو پلائے جانے والے پولیو قطرے، ٹیم ممبران کی حاضری مائیکرو پلان پر عملدرآمد، ہاوس ٹو ہاوس وزٹ اور ریکارڈ کی درستگی کا بھی تفصیلی جائزہ لیاڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے موقع پر موجود پولیو ٹیموں کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری محنت، دیانتداری اور جذبے کے ساتھ ادا کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی بچہ پولیو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ہر سطح پر مربوط اور موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو ہر انسدادِ پولیو مہم کے دوران پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں، کیونکہ یہ مہلک بیماری سے بچاو کا واحد اور موثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت پولیو کے مکمل خاتمے تک اپنی کوششیں جاری رکھیں گے ڈپٹی کمشنر نے مجموعی طور پر مہم کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم متعلقہ عملے کو ہدایت دی کہ وہ اپنی کارکردگی میں مزید بہتری لائیں اور مہم کے معیار کو مزید موثر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2967/2026
صحبت پور14اپریل ۔ میر سرفراز بگٹی کی جانب سے صوبے میں تعلیم کے فروغ اور بہتری کے لیے خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے مختلف عملی اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔اسی سلسلے میں آج ڈپٹی کمشنر صحبت پور، میڈم فریدہ ترین کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کمیٹی کے ممبران کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ تعلیم کی کارکردگی، جاری اقدامات، درپیش مسائل، اساتذہ کرام کی حاضری کو یقینی بنانے، اور بچوں کی داخلہ مہم کو کامیاب بنانے سمیت دیگر اہم امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیااجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ اسکولوں میں اساتذہ کی باقاعدہ حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ تعلیمی معیار میں بہتری لائی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ داخلہ مہم کو موثر انداز میں جاری رکھنے اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکولوں میں لانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر بھی اتفاق کیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے حکومتِ بلوچستان کی تعلیمی پالیسیوں اور ترجیحات پر روشنی ڈالی اور ہدایت کی کہ تدریسی عمل کو مزید موثر، منظم اور نتیجہ خیز بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے تمام متعلقہ افسران اور اساتذہ اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کریں تاکہ مثبت نتائج حاصل کیے جا سکیں غیر حاضر رہنے سے اجتناب کریں بصورت دیگر متعلقہ اساتذہ کرام کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2968/2026
کوئٹہ:14اپریل ۔ محکمہ کموڈٹی منجیمنٹ کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق یہ صوبائی کابینہ کے 23 فروری 2026 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلے کی روشنی میںاور سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (ایس اینڈ جی اے ڈی کے 26 مارچ 2026 کو مراسلے کے بعدحکومت نے ٹینڈر کمیٹی کے لیے نئی شرائطِ کار (ٹرمز آف ریفرنس) بھی مقرر کر دی ہیں، جن کے تحت نجی شعبے سے خدمات حاصل کر کے گندم کی خریداری کی جائے گی۔ یہ خریداری بلوچستان ویٹ پالیسی 2025-26 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد گندم کی بروقت اور شفاف خریداری کو یقینی بنانا، سپلائی کے نظام کو بہتر بنانا اور ممکنہ قلت سے بچاو ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف خریداری کے عمل میں تیزی آئے گی بلکہ نجی شعبے کی شمولیت سے کارکردگی میں بھی بہتری متوقع ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2969/2026
سبی 14 اپریل ۔ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں پولیو مہم کے پہلے روز کی کارکردگی کے حوالے سے گزشتہ شب ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں جاری پولیو مہم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ ،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر قادر ہارون، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آئی ایس ڈی میروائس خان، این سٹاپ ڈاکٹر شہزادہ کامران ، ڈی پی او صلاح الدین مری سمیت متعلقہ افسران، یو سی ایم اوز، ایریا انچارجز، مانیٹرز اور پولیو ٹیموں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران تمام یو سی ایم اوز نے اپنی اپنی یونین کونسلز میں پولیو مہم کی پیش رفت سے متعلق ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی، جس میں ریکارڈڈ این اے کیسز، زیرو ڈوز بچوں اور مجموعی کوریج سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے ہدایت کی کہ پولیو مہم کو انتہائی سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ جاری رکھا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی بچہ پولیو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ انکاری والدین کو موثر آگاہی دے کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر نے خصوصی ہدایت کی کہ فیلڈ میں مانیٹرنگ کے عمل کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ سو فیصد کوریج کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2970/2026
نصیرآباد 14اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار نے گورنمنٹ گرلز کالج کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انہوں نے کالج کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرتے ہوئے کلاس رومز اور آڈیٹوریم ہال کا جائزہ لیا۔ دورے کے موقع پر کالج کی پرنسپل سعدیہ خان نے انہیں ادارے کو درپیش مسائل، سہولیات کی کمی اور تعلیمی ماحول کی بہتری سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر نے مسائل کو بغور سنا اور فوری اقدامات کی یقین دہانی کراتے ہوئے سب ڈویژنل آفیسر عابد علی پہنور کو ہدایت جاری کی کہ کالج کو درپیش تمام مسائل کے حل کے لیے ایک جامع اور مفصل رپورٹ مرتب کی جائے تاکہ انہیں بی ایس ڈی آئی اسکیم میں شامل کرکے عملی اقدامات اٹھائے جا سکیں۔دورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے بچیوں سے تدریسی عمل کے متعلق سوالات بھی پوچھے اور مضامین کے متعلق لیکچر بھی دیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کے پرسنل سیکرٹری منظور شیرازی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کے مسائل کا حل ترقی کی بنیادی شرط ہے اور اس کے بغیر معاشرتی بہتری کا خواب ادھورا رہتا ہے، بالخصوص بچیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ کی بھرپور کوشش ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل ہنگامی بنیادوں پر حل کیے جائیں اور اس سلسلے میں بی ایس ڈی آئی ایک موثر اور بہترین پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم کے فروغ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ طالبات کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں اور انہیں ایک محفوظ اور معیاری تعلیمی ماحول میسر آئے۔بعد از ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ ذلفقار علی کرار نے کالج میں پودے بھی لگائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2971/2026
نصیرآباد14اپریل ۔ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں ضلع نصیرآباد میں پولیو مہم کو مزید بہتر طریقے سے کامیاب بنانے کے لیے عملی طور پر اقدامات جاری ہیں پولیو مہم کی مانیٹرنگ کا نظام پر نظر رکھی جارہی ہے اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار نے ضلع بھر میں جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوران مانیٹرنگ کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس سلسلے میں انہوں نے مختلف پوائنٹس کا دورہ کیا اور فیلڈ میں جاری سرگرمیوں کا معائنہ کیا۔ دورے کے موقع پر وہ ریلوے پھاٹک پوائنٹ بھی پہنچے جہاں انہوں نے پولیو ٹیم سے ملاقات کی، ٹیلی شیٹ کا بغور جائزہ لیا اور بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کے عمل کے حوالے سے تفصیلی آگاہی حاصل کی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کے پرسنل سیکرٹری منظور شیرازی اور سب ڈویڑنل آفیسر بی اینڈ آر عابد علی پہنور بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے پولیو ورکرز کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ہرگز غفلت یا سستی کا مظاہرہ نہ کریں اور اس بات کو ہر صورت یقینی بنائیں کہ اس پوائنٹ سے گزرنے والے تمام بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم قومی فریضہ ہے اور اس کے کامیاب انعقاد کے لیے تمام متعلقہ عملے کو پوری دلجمعی اور ایمانداری کے ساتھ اپنی خدمات سرانجام دینا ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ والدین میں شعور اجاگر کرنا بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے اور ملک کو اس موذی مرض سے مکمل طور پر پاک کیا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع انتظامیہ پولیو مہم کی کامیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی اور مانیٹرنگ کے عمل کو مزید موثر بنایا جائے گا تاکہ ہر بچے تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2972/2026
کوئٹہ 14اپریل۔ڈپٹی کمشنر کوہٹہ مہر اللہ بادینی کی ہدایت پر گزشتہ روز ہزارہ ٹاون واقعے میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کے لیے معاوضے سے متعلق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کوہٹہ محمد انور کاکڑ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کمپنسیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سی ٹی ڈی، ایم سی کیو، سوشل ویلفیئر، بی ایم سی اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ہزارہ ٹاون واقعے میں شہید اور زخمی افراد کے مالی معاوضے کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور متعلقہ کاغذات کی جانچ پڑتال مکمل کی گئی۔اس کے علاوہ دیگر واقعات میں شہید و زخمی افراد کے کیسز کے ساتھ ساتھ مختلف عمارتوں اور گاڑیوں کو ہونے والے نقصانات کی رپورٹ بھی مرتب کر لی گئی۔متعلقہ حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ متاثرین کو بروقت اور شفاف طریقے سے معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2973/2026
قلات14اپریل ۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ نے قلات شہر میں BSDI فیز ون کے تحت آبنوشی ٹیوب ویل کی مختلف اسکیمات کا دورہ کیا جاری ترقیاتی اسکیمات کے کام کی رفتار اور معیار کا جائزہ لیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نےقدیمی محلہ چشمہ محلہ کلی پندرانی محلہ دشت محمود محلہ مغلزئی میں BSDIکے تحت منظورشدہ آبنوشی ٹیوب ویلوں کا دورہ کیا اور کام کا جائزہ لیادورے کے موقع پراکثریتی ٹیوب ویلوں کے کام مکمل پائے گئے اور اہل علاقہ کو پانی کی فراہمی بھی شروع کردی گءہےایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ نے کہاکہ تمام آبنوشی اسکیمات جون سے قبل مکمل کی جائیں تاکہ عوام کو پانی کی فراہمی یقینی بنایاجاسکے۔۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2974/2026
دکی14اپریل ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات کی روشنی میں جاری پولیو مہم کو مزید موثر، اور کامیاب بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر بہادر خان لونی کے ہمراہ مہم کے دوسرے روز مختلف علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی، گھروں میں جاری ڈور ٹو ڈور ویکسینیشن، بچوں کی فنگر مارکنگ اور ٹیلی شیٹس کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ ڈپٹی کمشنر نے موقع پر موجود ٹیموں کو ہدایت کی کہ مقررہ اہداف کو بروقت، موثر اور شفاف انداز میں مکمل کیا جائے تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ مہم کی مسلسل نگرانی جاری رکھے گی اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2975/2026
قلات14اپریل ۔بچوں کے روشن مستقبل اور سو فیصد داخلوں کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر قلات فیمیل فرزانہ احمد زئی کی قیادت میں ایک پروقار “داخلہ مہم ریلی” کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کا آغاز گورنمنٹ ہائی سیکنڈری اسکول قلات سے ہوا، جو شہر کی مختلف شاہراہوں سے گزرتی ہوئی گرلز کالج پر اختتام پذیر ہوئی۔ریلی میں ایجوکیشن آفیسر فیمیل فرزانہ احمد زئی ڈپٹی ڈی او میڈم فرحانہ یونیسیف کے پروگرام مینجر عرفان اکبر قمبرانی ہیڈ مسٹریس باجی راشدہ ہارون قلات خالق آباد منگچر کے اساتذہ کرام اور مختلف اسکولوں کے طلبائ و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکائ نے ہاتھوں میں بینرز اورپلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر “علم روشنی ہے”، “پڑھے گا لکھے گا بلوچستان، بڑھے گا پاکستان” اور “ہر بچہ اسکول میں” جیسے نعرے درج تھے۔اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ہم جہالت کے اندھیروں کو ختم کر کے ترقی کی منزل حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے قریبی سرکاری اسکولوں میں بچوں کا داخلہ یقینی بنائیں تاکہ کوئی بھی بچہ زیورِ تعلیم سے محروم نہ رہے۔ایجوکیشن افسران کا کہنا تھا کہ اس مہم کا مقصد عوام میں شعور بیدار کرنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مفت کتابیں اور دیگر تعلیمی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، لہٰذا اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے۔ ریلی کے اختتام پر فرزانہ احمد زئی نے قلات سکاوٹ کے جوانوں کا شکریہ ادا کیا اورسیکیورٹی کے بہترین انتظامات ہرسیکیورٹی اداروں کی کاوشوں کو بھی سراہا جنہوں نےریلی کے دوران بہترین حفاظتی انتظامات کرکے پروگرام کو کامیاب بنایا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2976/2026
کوئٹہ: 14 اپریل۔ ناقص اور مضر صحت خوراک کے خاتمے کیلئے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا کریک ڈاون بلا تعطل جاری ہے۔ حالیہ کارروائیوں کے دوران کوئٹہ، قلعہ سیف اللہ، خضدار، گوادر اور کچلاک میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے مختلف مراکز کا معائنہ کیا۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق مجموعی کارروائیوں کے دوران 2 کارخانے سیل جبکہ 27 مراکز پر جرمانے عائد جبکہ 36 یونٹس کو معمولی نقائص پر اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔دوران انسپیکشن زائد المیعاد اور پابندی عائد اشیاءکی بڑی مقدار ضبط و تلف کی گئی۔سی پیک روڈ کوئٹہ پر قائم ایک آئس کریم و آئس قلفی بنانے والے یونٹ کو سنگین خلاف ورزیوں پر سیل کیا گیا۔ معائنے کے دوران یونٹ میں صفائی کے ناقص انتظامات، خام مال کی غیر محفوظ اسٹوریج، چِلرز میں درجہ حرارت برقرار رکھنے کا کوئی نظام نہ ہونا، درجہ حرارت کے ریکارڈ کی عدم دستیابی، بی ایف اے لائسنس اور پروڈکٹ رجسٹریشن نہ ہونا جیسے سنگین مسائل سامنے آئے۔ مزید برآں مصنوعات کی لیبلنگ میں بھی خامیاں پائی گئیں، جن میں مینوفیکچرر ایڈریس اور بیچ نمبر کی عدم موجودگی شامل ہے جبکہ صفائی، سینیٹیشن اور سیفٹی پروٹوکولز کا فقدان بھی واضح تھا۔اسی طرح سریاب روڈ پر قائم ایک بیکنگ یونٹ کو بھی سیل کر دیا گیا جہاں انتہائی غیر صحت بخش ماحول، گندے پلاسٹک اور اخبارات کے استعمال، مشینری میں لیکیج، مصنوعات پر تیاری و معیاد ختم ہونے کی تاریخ درج نہ ہونا اور پیسٹ کنٹرول سسٹم کی عدم موجودگی جیسے مسائل سامنے آئے۔ حکام کے مطابق اس یونٹ کو قبل ازیں نوٹس جاری کیا گیا تھا تاہم بہتری نہ لانے پر سخت کارروائی عمل میں لائی گئی۔علاوہ ازیں کارروائیوں کے دوران بیکنگ یونٹس، مصالحہ شاپس، جنرل سٹورز، ہوٹل و ریسٹورنٹس اور میٹ شاپس سمیت 27 مراکز کو قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ کیا گیا۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے کریک ڈاون کا سلسلہ جاری رہے گا اور خوراک کی تیاری و فراہمی کے عمل میں کسی بھی قسم کی غفلت یا خلاف ورزی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2977/2026
سنجاوی: 14 اپریل۔سنجاوی کے عوام کا دیرینہ اور اہم مطالبہ بالآخر پورا کر دیا گیا، جس پر علاقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین فوڈ اتھارٹی، حاجی نور محمد خان دومڑ اور میونسپل کمیٹی کے چیئرمین حاجی خان محمد دومڑ کی خصوصی کاوشوں سے سنجاوی میں فائر بریگیڈ کی فراہمی ممکن ہو گئی صوبائی وزیر حاجی نور محمد خان دومڑ نے کہا کہ سنجاوی کے عوام کا یہ ایک دیرینہ مطالبہ تھا، جس کی تکمیل سے علاقے میں ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ سنجاوی کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں مزید ترقیاتی منصوبے بھی جلد شروع کیے جائیں گے میونسپل کمیٹی کے چیئرمین حاجی خان محمد دومڑ نے بھی اس اقدام کو عوامی خدمت کا عملی مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ فائر بریگیڈ کی دستیابی سے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری امداد فراہم کی جا سکے گی علاقہ مکینوں نے اس اہم اقدام پر صوبائی وزیر اور میونسپل کمیٹی کے چیئرمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اسی طرح عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جاتا رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2978/2026
کوئٹہ 13اپریل۔ فرض شناس اور قابل افسران واہلکار محکمہ پولیس کا قیمتی اثاثہ ہیں جو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنی زندگی قانون کی عمل داری کیلئے وقف رکھتے ہیں انہوں نے دوران ملازمت محکمہ کی جانب سے تفویض کی گئی ذمہ داری کواحسن طور پر ادا کرکے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا عملی ثبوت پیش کیا۔پولیس افسران اور اہلکاروں نے محکمہ پولیس میں احسن طریقے سے فرائض منصبی کی ادائیگی نہایت ایمانداری کے ساتھ کرکے ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔ریٹائر ہونے والے افسران و اہلکار اپنی ڈیوٹی ذمہ داری و فر ض شناسی سے ادا کیے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار آئی جی پولیس بلوچستان نے سینٹرل پولیس آفس میں ریٹائر ہونے والے افسران کے اعزاز میں منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کیا۔آئی جی بلوچستان نے کہا کہ ریٹائرڈ پولیس افسران کے تجربات اور صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کرنا چاہئے ریٹائرڈ اافسران کے پنشن، جی پی فنڈ اور دیگر تمام امور کو مذکورہ مدت میں مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائرڈ پولیس ملازمین کی حاضر سروس اہلکاروں کی طرز پر ان کے اہل خانہ کی صحت اور تعلیمی بہبود ہماری اولین ترجیح ہے۔ ریٹائرڈ پولیس اہلکاروں کے پیشہ ورانہ تکنیکی اور تفتیشی امور پر تجاویز سے استفادہ حاصل کیا جائے جو کہ پولیسنگ لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔تقریب میں ایڈیشنل آئی جی ایڈمن جاوید علی مہر ،ڈی آئی جی ہیڈکوارٹر حسن اسد علی ، ڈی آئی جی فنانس سہیل احمد شیخ، ڈی آئی جی ٹیلی شاد بن مسیح ،ڈی آئی جی اکاونٹیبلیٹی بیورو سہیل احمد , اے آئی جی آپریشنز نوید عالم ، اے آئی جی جنرل عابد خان ،اے آئی جی ڈویلپمنٹ احمد سلطان،اے آئی جی کمپلینٹ محمد ہاشم ،ڈی ایس پی لیگل محمد عباس سمیت دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔ آئی جی پولیس بلوچستان نے پیشہ ورانہ ذمہ داری پوری کرکے ریٹائرڈ ہونے والے افسران کو یادگاری شیلڈ اور تحائف دی۔ آئی جی پولیس بلوچستان نے افسران کی محکمہ پولیس کیلئے خدمات کو سراہاتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پولیس انکے خدمات ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ افسران نے ریٹائرمنٹ کے موقع پر الوداعی تقریب کے انعقاد پر آئی جی پولیس بلوچستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ پولیس کو اپنا شان سمجھتے ہیں اور محکمے کی بہتری کیلئے اپنے تجربات کی روشنی میں قابل عمل تجاویز بھی دیں اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر محکمہ کو ان کی خدمات کی ضرورت پڑی تو ہر سطح پر معاونت اور مددگار ثابت ہونگے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2979/2026
چمن 14اپریل ۔ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں ضلع چمن میں پولیو مہم کے دوران ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی نے اج فیلڈ میں جا کر پولیو ٹیموں کی کارکردگی اور سیکیورٹی کا جائزہ لیا اور بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے بچوں کی فنگر مارکنگ کو چیک کیا گیا اور ڈور مارکنگ کا جائزہ لیا انہوں نے پولیو مہم کو مزید کامیاب بنانے کے لیے عملی طور پر اقدامات کو سراہا انہوں نے اس موقع پر کہا کہ پولیو مہم کی مانیٹرنگ کا عمل مسلسل جاری رہے گا اس سلسلے میں انہوں نے مختلف پوائنٹس کا دورہ کیا انہوں نے ٹیلی شیٹ کا بغور جائزہ لیا ڈپٹی کمشنر نے پولیو ورکرز کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ہرگز غفلت یا سستی کا مظاہرہ نہیں کریں انہوں نے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم قومی فریضہ ہے اور اس کے کامیاب انعقاد کے لیے تمام متعلقہ عملے کو پوری دلجمعی اور ایمانداری کے ساتھ اپنی خدمات سرانجام دیں انہوں نے پولیو افیسرز اور ورکروں سے کہا کہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے تاکہ ہم ملک کو اس موذی مرض سے مکمل طور پر پاک کرنے میں کامیاب ہوں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2980/2026
چمن 14اپریل ۔ ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی اور ڈی ایچ او چمن ڈاکٹر نوید بادینی نے اج نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن کا اچانک تفصیلی دورہ کیا اس دوران ڈی سی چمن اور ڈی ایچ او نے اسپتال میں موجود ڈاکٹروں پیرامیڈکس اور سٹاپ کی حاضریاں صفائی ستھرائی وارڈوں ادویات سٹور شعبہ ایمرجنسی لیبارٹریز اور دیگر آلات اور مشینری کا باریک بینی سے جائزہ لیا انہوں نے کہا کہ اسپتال کی تمام سٹاف اپنی حاضریوں کو یقینی بنائیں اور وقت کی پابندی کریں انہوں نے وارڈز میں داخل مریضوں کا حال احوال پوچھا اور ڈاکٹروں سٹاف اور انکو مہیا کی جانے والی علاج و معالجہ سے بھی تفصیلی معلومات حاصل کی گئیں انہوں نے ہسپتال کی مجموعی صورتحال صفائی ستھرائی اور مریضوں کو علاج و معالجہ کی سہولیات فراہم کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ تمام ڈاکٹرز اور سٹاف اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایمانداری اور سچائی کیساتھ مریضوں کی علاج و معالجہ کے وقت نرم مزاجی اور شائستگی اور پیار سے پیش آجائیں تاکہ مریضوں کو جسمانی ذہنی اور نفسیاتی سکون حاصل ہو جائیں انہوں نے کہا کہ شفائ دینے والا اللہ تعالیٰ کی ذات ہے پھر بھی مریضوں کی علاج و معالجہ ہماری ذمہواری ہے جس کیلئے ہمیں مل کر قربانی دینی ہوگی اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر محمد اویس نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال نے ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کو ہسپتال کے حوالےسے تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2981/2026
زیارت14اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر زیارت، عبدالقدوس اچکزئی کی جانب سے 23مارچ کو ہونے والے الہجرہ اسکول زیارت تقریری مقابلے میں پہلی دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والےحاصل کرنے والے طلباءکو ڈی سی آفس مدعو کیا گیا، اور ان کو انعامات دئیےجسے تعلیمی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے اس موقع پر ایف سی کیپٹن محمد حارث،ڈسٹرکٹ پولیس افسر سید طلال شاہ،پرنسپل الہجرہ اسکول پروفیسر شبیر احمد بڑیچ بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے نہ صرف کامیاب طالب علم کی حوصلہ افزائی کی بلکہ دیگر طلبہ کو بھی ضلع رابطہ کمیٹی (DCC) کے اجلاس میں بطور ممبر شرکت کا موقع فراہم کیا۔ اس موقع پر طلبہ نے سرکاری اجلاس کے طریقہ کار اور انتظامی فیصلوں کے عمل کو قریب سے دیکھا۔تعلیمی ماہرین کے مطابق، اس قسم کے عملی تجربات طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے، ان میں اعتماد پیدا کرنے اور قائدانہ خصوصیات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔طلبہ اور اساتذہ نے ڈپٹی کمشنر کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات تعلیم اور نوجوانوں کی مثبت تربیت کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2982/2026
زیارت، 14 اپریل ۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی کی زیرصدارت ڈسٹرکٹ زیارت میں جاری دوسرے روزانسداد پولیو مہم کے سلسلے میں مانیٹرنگ افسران اور زونل سپروائزرکی ایوننگ ریویو میٹنگ کا انعقاد کیا گیا اجلاس میں ایم ایس ڈاکٹر عرفان الدین ،ڈبلیوایچ او کے ڈاکٹر جہانزیب نے،تحصیلدار نور احمد کاکڑ بھی شرکت کی اجلاس میں دوسرے روز ڈسٹرکٹ زیارت میں جاری انسداد پولیو مہم کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ تمام یوسی انچارج سے ڈپٹی کمشنر نے فرداً فرداً بریفنگ لی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے انسداد پولیو مہم کا جائزہ لیا۔ تمام یوسی انچارج کو ہدایت دی کی انسداد پولیو مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرایا جائے پولیو مہم ایک قومی مہم ہے اس میں غفلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا جو بھی پولیو ورکر اس مہم میں سستی کرے گا اس کے خلاف کاروائی کی جائے گا۔ اگر غلطی سے ایک بچہ بھی مہم سے رہ گیا تو یہ مہم کامیاب نہیں ہوگا تمام پولیو ورکرز اس سلسلے میں اپنے کام کو ایمانداری سے ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 2983/2026
لورالائی14اپریل ۔: ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جدید سہولیات سے آراستہ ڈبل اسٹوری ڈیجیٹل لائبریری کے قیام کا منصوبہ موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک اہم اور قابلِ تحسین اقدام قرار دیا جا رہا ہے، جس سے علاقے میں علم و تحقیق کے فروغ کو نئی جہت ملنے کی توقع ہے۔ڈپٹی کمشنر لورالائی محمد حسیب شجاع نے بی ایس ڈی اے فیز ٹو کے تحت زیر تعمیر ڈیجیٹل لائبریری کے ترقیاتی کام کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر ایکسین بی انیڈ آر احمد دین نے انہیں منصوبے کی پیش رفت اور دستیاب سہولیات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ڈیجیٹل لائبریری کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، جو طلبہ، نوجوانوں اور محققین کو جدید تعلیمی وسائل تک رسائی فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا ہے، اور جدید لائبریریاں کسی بھی معاشرے کی علمی و فکری ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے تحت طلبہ کو آن لائن کتب، تحقیقی مواد، تیز رفتار انٹرنیٹ اور جدید آئی ٹی سہولیات میسر ہوں گی، جس سے وہ عالمی سطح کے علمی ذخائر سے مستفید ہو سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے نہ صرف تعلیمی معیار میں بہتری آئے گی بلکہ نوجوان نسل میں مطالعہ اور تحقیق کا رجحان بھی فروغ پائے گا۔ڈپٹی کمشنر محمد حسیب شجاع نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے تاکہ عوام، خصوصاً طلبہ، جلد از جلد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت تعلیم کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، اور لورالائی میں اس نوعیت کے منصوبے تعلیمی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔مزید پیش رفت: آئی ٹی لیب اور ای-لرننگ سینٹر کے قیام کا اعلان دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے لائبریری کے ساتھ ایک جدید آئی ٹی لیب اور ای-لرننگ سینٹر کے قیام کا بھی عندیہ دیا، جہاں طلبہ کو ڈیجیٹل اسکلز، آن لائن کورسز اور فری لانسنگ کی تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔حکام کے مطابق لائبریری میں علیحدہ اسٹڈی ایریاز، خواتین کے لیے مخصوص سیکشن، اور گروپ اسٹڈی رومز بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ ہر طبقے کے افراد کو یکساں تعلیمی سہولیات میسر آ سکیں۔ماہرین تعلیم نے اس منصوبے کو لورالائی کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نہ صرف تعلیمی ماحول بہتر ہوگا بلکہ علاقہ مجموعی طور پر علمی و سماجی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2984/2026
چمن14اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت آج ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے تمام متعلقہ محکموں کے سربراہان نے شرکت کی اجلاس کا مقصد جاری اور مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینا اور آئندہ کے لائحہ عمل کو موثر بنانا تھا اجلاس میں خصوصاً بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو BSDI فیز ون اور فیز ٹو کے تحت جاری اور مکمل ہونے والے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ متعلقہ افسران نے اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی، درپیش مسائل، اور منصوبوں کی پیش رفت سے آگاہ کیا اجلاس کے دوران اس امر پر زور دیا گیا کہ ترقیاتی منصوبے نہ صرف بروقت مکمل ہوں بلکہ ان کے معیار پر بھی کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اجتماعی نوعیت کے منصوبوں کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد مستفید ہو سکیں انہوں نے ہدایت کی کہ تمام محکمے باہمی رابطہ اور تعاون کو فروغ دیں اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں درپیش رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے منصوبوں کو مقررہ مدت میں شفافیت اور معیار کے مطابق مکمل کریں اس کے ساتھ ساتھ آئندہ اجلاس میں ایسے منصوبوں کی نشاندہی بھی کریں جن کی تکمیل سے عوام کو فوری اور زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکےاجلاس کے اختتام پر مختلف منصوبوں کی رفتار تیز کرنے، نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنانے، اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 2985/2026
کوئٹہ 14 اپریل .۔فرض شناس اور قابل افسران واہلکار محکمہ پولیس کا قیمتی اثاثہ ہیں جو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنی زندگی قانون کی عمل داری کیلئے وقف رکھتے ہیں انہوں نے دوران ملازمت محکمہ کی جانب سے تفویض کی گئی ذمہ داری کواحسن طور پر ادا کرکے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا عملی ثبوت پیش کیا۔پولیس افسران اور اہلکاروں نے محکمہ پولیس میں احسن طریقے سے فرائض منصبی کی ادائیگی نہایت ایمانداری کے ساتھ کرکے ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔ریٹائر ہونے والے افسران و اہلکار اپنی ڈیوٹی ذمہ داری و فر ض شناسی سے ادا کیے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار آئی جی پولیس بلوچستان نے سینٹرل پولیس آفس میں ریٹائر ہونے والے افسران کے اعزاز میں منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کیا۔آئی جی بلوچستان نے کہا کہ ریٹائرڈ پولیس افسران کے تجربات اور صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کرنا چاہئے ریٹائرڈ اافسران کے پنشن، جی پی فنڈ اور دیگر تمام امور کو مذکورہ مدت میں مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائرڈ پولیس ملازمین کی حاضر سروس اہلکاروں کی طرز پر ان کے اہل خانہ کی صحت اور تعلیمی بہبود ہماری اولین ترجیح ہے۔ ریٹائرڈ پولیس اہلکاروں کے پیشہ ورانہ تکنیکی اور تفتیشی امور پر تجاویز سے استفادہ حاصل کیا جائے جو کہ پولیسنگ لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔تقریب میں ایڈیشنل آئی جی ایڈمن جاوید علی مہر ،ڈی آئی جی ہیڈکوارٹر حسن اسد علی ، ڈی آئی جی فنانس سہیل احمد شیخ، ڈی آئی جی ٹیلی شاد بن مسیح ،ڈی آئی جی اکاونٹیبلیٹی بیورو سہیل احمد , اے آئی جی آپریشنز نوید عالم ، اے آئی جی جنرل عابد خان ،اے آئی جی ڈویلپمنٹ احمد سلطان،اے آئی جی کمپلینٹ محمد ہاشم ،ڈی ایس پی لیگل محمد عباس سمیت دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔ آئی جی پولیس بلوچستان نے پیشہ ورانہ ذمہ داری پوری کرکے ریٹائرڈ ہونے والے افسران کو یادگاری شیلڈ اور تحائف دی۔ آئی جی پولیس بلوچستان نے افسران کی محکمہ پولیس کیلئے خدمات کو سراہاتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پولیس انکے خدمات ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ افسران نے ریٹائرمنٹ کے موقع پر الوداعی تقریب کے انعقاد پر آئی جی پولیس بلوچستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ پولیس کو اپنا شان سمجھتے ہیں اور محکمے کی بہتری کیلئے اپنے تجربات کی روشنی میں قابل عمل تجاویز بھی دیں اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر محکمہ کو ان کی خدمات کی ضرورت پڑی تو ہر سطح پر معاونت اور مددگار ثابت ہونگے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2986/2026
ہرنائی 14اپریل ۔ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکول اور گرلز ہائی سکول ہرنائی کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے اساتذہ کی حاضری کے ساتھ تعلیمی معیار کا جائزہ لیا اور سکولوں کو درپیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ڈپٹی کمشنر ہرنائی نے تعلیمی نظام کی بہتری اور سرکاری اداروں میں نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکول کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے تدریسی و غیر تدریسی عملے کا حاضری رجسٹر چیک کیا اور غیر حاضر ملازمین کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کیا۔ ڈپٹی کمشنر مختلف کلاس رومز میں بھی گئے، جہاں انہوں نے طلباءسے ان کے نصاب اور مختلف مضامین کے حوالے سے سوالات کیے اور ان کی علمی قابلیت کو جانچا۔بعد ازاں، ڈپٹی کمشنر نے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ہرنائی کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے سکول انتظامیہ سے ملاقات کی اور طالبات کو فراہم کردہ سہولیات کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران سکول پرنسپل اور سٹاف نے ادارے کو درپیش بنیادی مسائل اور وسائل کی کمی کے بارے میں آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے مسائل کو تفصیل سے سنا اور موقع پر ہی متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کرتے ہوئے یقین دلایا کہ تعلیمی اداروں کی ضروریات کو ہر ممکن حد تک پورا کیا جائے گا۔?ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے اپنے دورے کے اختتام پر واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ تعلیم کے شعبے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اپنی حاضری کو سو فیصد یقینی بنائیں اور طلباء کی اخلاقی و علمی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مستحکم معاشرے کی بنیاد مضبوط تعلیمی نظام پر ہے، اور سکولوں کے ان معائنہ جات کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا تاکہ سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2987/2026
زیارت14اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر زیارت، عبدالقدوس اچکزئی کی جانب سے 23مارچ کو ہونے والے الہجرہ اسکول زیارت تقریری مقابلے میں پہلی دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والےحاصل کرنے والے طلباء کو ڈی سی آفس مدعو کیا گیا، اور ان کو انعامات دئیےجسے تعلیمی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے اس موقع پر ایف سی کیپٹن محمد حارث،ڈسٹرکٹ پولیس افسر سید طلال شاہ،پرنسپل الہجرہ اسکول پروفیسر شبیر احمد بڑیچ بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے نہ صرف کامیاب طالب علم کی حوصلہ افزائی کی بلکہ دیگر طلبہ کو بھی ضلع رابطہ کمیٹی (DCC) کے اجلاس میں بطور ممبر شرکت کا موقع فراہم کیا۔ اس موقع پر طلبہ نے سرکاری اجلاس کے طریقہ کار اور انتظامی فیصلوں کے عمل کو قریب سے دیکھا۔تعلیمی ماہرین کے مطابق، اس قسم کے عملی تجربات طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے، ان میں اعتماد پیدا کرنے اور قائدانہ خصوصیات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔طلبہ اور اساتذہ نے ڈپٹی کمشنر کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات تعلیم اور نوجوانوں کی مثبت تربیت کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2988/2026
زیارت، 14 اپریل ۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی کی زیرصدارت ڈسٹرکٹ زیارت میں جاری دوسرے روزانسداد پولیو مہم کے سلسلے میں مانیٹرنگ افسران اور زونل سپروائزرکی ایوننگ ریویو میٹنگ کا انعقاد کیا گیا اجلاس میں ایم ایس ڈاکٹر عرفان الدین ،ڈبلیوایچ او کے ڈاکٹر جہانزیب نے،تحصیلدار نور احمد کاکڑ بھی شرکت کی اجلاس میں دوسرے روز ڈسٹرکٹ زیارت میں جاری انسداد پولیو مہم کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ تمام یوسی انچارج سے ڈپٹی کمشنر نے فرداً فرداً بریفنگ لی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے انسداد پولیو مہم کا جائزہ لیا۔ تمام یوسی انچارج کو ہدایت دی کی انسداد پولیو مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرایا جائے پولیو مہم ایک قومی مہم ہے اس میں غفلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا جو بھی پولیو ورکر اس مہم میں سستی کرے گا اس کے خلاف کاروائی کی جائے گا۔ اگر غلطی سے ایک بچہ بھی مہم سے رہ گیا تو یہ مہم کامیاب نہیں ہوگا تمام پولیو ورکرز اس سلسلے میں اپنے کام کو ایمانداری سے ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2989/2026
زیارت خبرنامہ14اپریل ۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی کی زیرصدارت بلاک شناختی کے سلسلے میں افسران کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈسٹرکٹ پولیس افسر سید طلال شاہ ایف سی کیپٹن حارث، نادرا انچارج عبید اللہ اور دیگر افسران نےشرکت کی اجلاس میں سنجاوی اور زیارت کے دوردراز علاقوں سے آئے ہوئےسائلین نے درخواستیں ڈپٹی کمشنر اور کمیٹی کو پیش کیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2990/2026
ہرنائی 14اپریل ۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین نے چھپر لفٹ پولیس چوکی کا اچانک دورہ کر کے سیکورٹی صورتحال اور وائرلیس سسٹم کا معائنہ کیا، جبکہ اہلکاروں کو عوام کے ساتھ خوش اخلاقی اور فرض شناسی کی سخت تاکید کی۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے امن و امان کی صورتحال اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) ہرنائی محمد سلیم ترین نے چھپر لفٹ پولیس چوکی کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔ معائنے کے دوران انہوں نے چوکی پر موجود وائرلیس سسٹم اور مواصلاتی آلات کو چیک کیا جو مکمل طور پر فعال اور درست حالت میں پائے گئے۔ دورے کے موقع پر پولیس کی تمام نفری الرٹ اور اپنی ڈیوٹی کے مقامات پر موجود تھی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے پولیس اہلکاروں سے بات چیت کرتے ہوئے سیکورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے جوانوں کو ہدایت کی کہ ناکہ بندی اور پیٹرولینگ کے دوران عوام کے ساتھ رویہ انتہائی خوش اخلاق رکھیں اور شہریوں کو درپیش مشکلات کے فوری حل میں ان کا بھرپور ساتھ دیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ پولیس کا کام عوام کا تحفظ ہے، اس لیے عوامی شکایات کا ازالہ ترجیحی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین نے مزید تاکید کی کہ موجودہ حالات کے تناظر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اہلکاروں کو ہمہ وقت الرٹ رہنے اور اپنی ڈیوٹی انتہائی ذمہ داری اور پابندیِ وقت کے ساتھ سرانجام دینے کا حکم دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فرض شناس اہلکار ہی محکمے کا فخر ہیں اور جو اہلکار عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں گے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2991/2026
کوہلو 14 اپریل۔محکمہ تعلیم کوہلو کے زیر اہتمام EMIS اسکول مردم شماری 2025-26 کے سلسلے میں کلسٹر ہیڈز کے لیے دو روزہ تربیتی سیشن کا کامیابی سے انعقاد کیا گیا۔ اس سلسلے میں گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول کوہلو میں مرد کلسٹر ہیڈز جبکہ گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کوہلو میں خواتین کلسٹر ہیڈز کو جدید تقاضوں کے مطابق تربیت فراہم کی گئی۔ تربیتی سیشن کے دوران ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آر ٹی ایس ایم بہرام خان کالکانی نے ہیڈ ماسٹرز اور کلسٹر ہیڈز کو EMIS سسٹم، ڈیٹا اندراج، اسکول مردم شماری کے طریقہ کار اور درست معلومات کی بروقت فراہمی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مردم شماری کے عمل میں شفافیت اور درستگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ تعلیمی منصوبہ بندی میں بہتری لائی جاسکے۔ دورانِ ٹریننگ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کوہلو جعفر خان زرکون اور ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (میل) کوہلو حفیظ اللہ مری نے ٹریننگ سینٹرز کا دورہ کیا اور جاری تربیتی عمل کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ EMIS مردم شماری تعلیم کے شعبے میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے، جس کے ذریعے درست اعداد و شمار کی بنیاد پر پالیسی سازی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام متعلقہ افسران اور کلسٹر ہیڈز اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے انجام دیں اور مردم شماری کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔ شرکاءنے تربیتی سیشن کو مفید قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ حاصل کردہ تربیت کو عملی طور پر بروئے کار لاتے ہوئے محکمہ تعلیم کی کارکردگی میں بہتری لانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2992/2026
چمن14اپریل ۔ ضلعی انتظامیہ چمن اور دیگر متعلقہ اداروں کی طرف سے چمن میں پوست کی فصل کیخلاف آپریشن ضلعی انتظامیہ چمن کی نگرانی میں گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل اینٹی نارکوٹکس، پولیس فورس ایف سی، اور دیگر متعلقہ محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران و اہلکاران کی مشترکہ ٹیم چمن کے دور افتادہ پہاڑی و میدانی علاقوں میں افیون /پوست کی بڑے پیمانے پر کاشت کی گئی فصل کو تلف کرنے کی آپریشن کر رہےہیں افیون کی فصل کی بیخ کنی کیلئے ٹریکٹروں ڈرون سے کیمیکل اسپرے روایتی پمپوں سے زیریلی اسپرے اور اہلکاران ملکر فصل کو تہس نہس اور تباہ و برباد کرنے کی کارروائی کو کامیابی سے سر انجام دے رہے ہیں اس موقع پر ضلعی انتظامیہ کے ایک اس ذمہدار آفیسر نے کہا کہ مختلف علاقوں میں اب تک سینکڑوں ایکڑ پر پھیلی افیون کی فصل کو تلف کیا جا چکا ہے۔ حکام کے مطابق یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ضلع میں افیون کی کاشت کو مکمل طور پر ختم نہیں کر دیا جاتا۔یہ اقدام منشیات کی روک تھام اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے، کیونکہ افیون کی کاشت نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ اس سے منشیات کے پھیلاو میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ جوکہ معاشرے اور خاص کر نوجوان طبقے کیلئے ایک ناسور ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2993/2026
کوئٹہ14اپریل۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کی طویل ساحلی پٹی وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کو ملانے والا سہ فریقی اقتصادی مرکز بن سکتی ہے۔ پاکستان بلیو اکانومی کے اعتبار سے پورے خطے کی قیادت کرنے کی بےمثال صلاحیت رکھتا ہےلہٰذا ضروری ہے کہ ان اقتصادی اور تجارتی مواقعوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاک نیوی اور پبلک سیکٹر یونیورسٹی اب مشترکہ طور پر جدید ریسرچ پر مبنی ایک جامع حکمت عملی تیار کریگی جو تمام سمندری وسائل کو بروئے کار لانے میں ہمیں مدد اور رہنمائی کریگی۔ بلیو اکانومی کی ترقی سے ہم بیروزگاری اور غربت پر بآسانی قابو پا سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان نیوی وار کالج لاہور کے زیر تربیت آفیسرز سے کوئٹہ کے مطالعاتی دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر کمانڈنٹ پاکستان نیوی وار کالج لاہور ریئر ایڈمرل سہیل احمد عزمی اور معتدد ممالک کے زیر تربیت آفیسرز بھی موجود تھے۔ انٹر ایکشن کے دوران زیر تربیت آفیسرز نے مختلف سوالات کیے جن کا گورنر بلوچستان نے تفصیل سے جواب دیئے۔ اس موقع پر گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ پاکستان اس پورے خطے میں امن اور ہم آہنگی کے ستون کے طور پر کھڑا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ پائیدار امن کی اشد ضرورت ہے۔ مزید برآں، تباہ کن 40 روزہ حالیہ جنگ کے بعد، پاکستان کی دانشمندانہ اور کامیاب ڈپلومسی نے وہ کامیابی حاصل کی جسے بہت سے لوگ ناممکن سمجھتے تھے۔ نصف صدی میں پہلی بار امریکہ اور ایران کو براہ راست مذاکرات کیلئے ایک میز پر لایا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ الفاظ جب دانشمندی اور ڈپلومیسی سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں تو مہلک ہتھیاروں اور کشیدگی پر باآسانی قابو پا سکتے ہیں۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ اپنے نوجوانوں مختلف معاشی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقعوں کے ذریعے اپنے نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے اور ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔گورنر مندوخیل نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہ پاکستان نیوی وار کالج کے زیرِ تربیت آفیسرز کا مطالعاتی دورہ آپ کی یادداشت کا ایک یادگار حصہ بن جائیگا۔ یہ یاد رکھیں کہ آپ کوئٹہ میں مہمان بن کر آئے ہیں لیکن آپ اچھے دوست بن کر چلے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کا جغرافیہ اسے پورے خطے کا گیٹ وے بناتا ہے۔ پاکستان کا معاشی مستقبل بلوچستان سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری آبادی قلیل ہے لیکن دور دراز علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے جس کی وجہ سے عوام کو تمام بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ گورنر صاحب نے نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں آپ کا قیام محفوظ اور خوشگوار ہو۔ آخر میں مہمانان گرامی کے درمیان یادگاری شیلڈز کا تبادلہ ہوا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2994/2026
کوئٹہ : 14 اپریل ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر جنگلات و جنگلی حیات سردار مسعود خان لونی کی ہدایات کی روشنی میں سیکریٹری جنگلات و وائلڈ لائف میر عمران گچکی اور ان کی متحرک ٹیم صوبہ بھر میں جنگلات و جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے موثر اور مربوط اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس ضمن میں محکمہ کی ٹیموں کو زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت درختوں کی غیر قانونی کٹائی اور جنگلی حیات کے شکار کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں کی ہدایات جاری کی گئی ہیں اور ان سرگرمیوں پر سختی سے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔سیکریٹری جنگلات و وائلڈ لائف نے ایک نمائندہ وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ بلوچستان میں جنگلات و جنگلی حیات نہ صرف ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں بلکہ صوبے کی معیشت، موسمیاتی موافقت اور مقامی آبادی کے طرزِ زندگی سے بھی گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کل رقبے کا تقریباً 44 فیصد حصہ رکھنے والا بلوچستان رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے، تاہم یہاں جنگلات کا مجموعی رقبہ محض 1.5 سے 2 فیصد کے درمیان ہے، جو کہ قومی اوسط سے بھی کم ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ صوبہ دنیا کے قدیم ترین جونپر جنگلات کا حامل ہے، خصوصاً زیارت کے علاقے میں جہاں بعض درختوں کی عمر 5 ہزار سال تک بتائی جاتی ہے، جو اسے عالمی سطح پر منفرد حیثیت دیتی ہے۔ اسی طرح بلوچستان میں چنکارا ہرن، مارخور، سندھ آئی بیکس اور حبارة بسٹارڈ سمیت نایاب اور خطرے سے دوچار جنگلی حیات پائی جاتی ہے۔ یہ جنگلات کاربن کے اخراج میں کمی لا کر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے، جبکہ سیلاب اور خشک سالی جیسے خطرات کے خلاف قدرتی حفاظتی حصار فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مزید برآں، یہ مقامی آبادی کے لیے ایندھن، چارہ اور روزگار کا بھی اہم ذریعہ ہیں۔میر عمران گچکی نے کہا کہ بلوچستان جیسے وسیع و عریض صوبے میں، جہاں قدرتی وسائل کا تحفظ ایک بڑا چیلنج ہے، محکمہ جنگلات و جنگلی حیات محدود وسائل کے باوجود جنگلات کے تحفظ اور جنگلی حیات کے فروغ کے لیے قابلِ قدر خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ملاقات کے دوران مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ایک نمائندہ وفد نے شرکت کی، جس میں عشر تحریک اور دیگر رفاہی و رضاکارانہ تنظیموں کے نمائندگان بھی شامل تھے۔ سیکریٹری نے ان اداروں کی جانب سے اپنی مدد آپ کے تحت جنگلات و جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے جاری سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے انہیں قابلِ تقلید اور لائقِ تحسین قرار دیا۔اس موقع پر جنگلات کے تحفظ، درختوں کی غیر قانونی کٹائی کی روک تھام اور جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق اہم امور پر جامع اور نتیجہ خیز تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے حالیہ پیش رفت، درپیش چیلنجز اور ممکنہ حل پر تفصیل سے روشنی ڈالی، جبکہ ان نکات کا بھی حوالہ دیا گیا جو حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ساتھ زیرِ بحث آئے تھے۔ وفد نے حکومتِ بلوچستان کی موثر پالیسیوں اور اقدامات کو سراہتے ہوئے اس قومی مقصد کے لیے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ سیکریٹری جنگلات و وائلڈ لائف نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت درختوں کی غیر قانونی کٹائی اور جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان نہ صرف قوانین پر موثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنا رہا ہے بلکہ معاشرے کے باشعور، ذمہ دار اور ہم خیال افراد پر مشتمل ایک فعال نیٹ ورک بھی تشکیل دے رہا ہے، جو جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ملاقات خوشگوار اور تعمیری ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بلوچستان میں ماحولیات کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع کے فروغ اور قدرتی وسائل کی پائیدار بقا کے لیے حکومت اور عوام باہمی اشتراک سے اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2995/2026
زیارت، 14اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن اور انٹیلیجنس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سید طلال شاہ، ایف سی کیپٹن حارث علی ایم ایس ڈاکٹر عرفان الدین، نور احمد تحصیلدار زیارت، سی ٹی ڈی، سپیشل برانچ اور آئی بی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں امن و امان برقرار رکھنے، انسدادِ منشیات، غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے، غیر حاضر ملازمین، غیر قانونی افغان مہاجرین کی انخلا اور غیر قانونی منشیات کاشت کرنے والے ملزمان کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کرنے اور قانون کے موثر نفاذ پر تفصیلی غور کیا گیا۔ متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور مشترکہ کارروائیوں کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا تاکہ ضلع میں پائیدار امن برقرار رکھا جا سکے۔ اجلاس سےڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا زیارت میں امن وامان پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ زیارت میں امن وامان کے ساتھ ترقیاتی کاموں پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2996/2026
لورالائی۔خبر نامہ 14اپریل ۔کمشنر لورالائی ڈویژ ن ولی محمد بڑیچ نے ہفتے کے روز چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ بلوچ کے ہمراہ شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور جاری صفائی ستھرائی مہم کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر کمشنر نے مجموعی طور پر شہر میں صفائی کے نظام کو سراہا، تاہم چند مقامات پر کچرا فوری طور پر اٹھانے کی ہدایت جاری کی، جس پر میونسپل کمیٹی کے عملے نے بروقت عملدرآمد کرتے ہوئے کچرا اٹھا کر ٹھکانے لگا دیا۔دریں اثناء، میونسپل کمیٹی لورالائی کی جانب سے شہر بھر میں صفائی ستھرائی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھرپور مہم جاری ہے۔ مختلف زونز میں عملہ صفائی نے متحرک انداز میں کام کرتے ہوئے نالیوں کی صفائی، کچرا اٹھانے اور عوامی مقامات کی صفائی کو یقینی بنایا۔تفصیلات کے مطابق باران زون میں پہاڑی محلہ پرانہ نادرا کے مقام پر نالیوں کی صفائی کی گئی جبکہ ڈاکخانے کی نالی کو دوسری مرتبہ کھول کر نکاسی آب کی روانی بحال کی گئی۔ عبد الخالق زون کے تحت پہاڑی محلہ، گمبیلا سکول، پرانہ نادرا اور بلوچ کالونی میں کچرے کی صفائی کا عمل مکمل کیا گیا۔اسی طرح عجب زون میں شاہین سکول، باگڑی میدان اور ہاشم ہسپتال کے اطراف نالیوں کی صفائی کی گئی، جبکہ سلیم داد کمپلینٹ زون کے تحت ٹی ٹی سی محلہ اور الیکشن کمیشن دفتر کے قریب صفائی ستھرائی کے کام انجام دیے گئے۔ مزید برآں، سلام زون میں عملہ صفائی نے سوزوکی کے ذریعے کچرا اٹھانے کا عمل جاری رکھا جبکہ شہر میں ٹریکٹر ٹرالی کے ذریعے کچرے کی منتقلی کو بھی یقینی بنایا گیا۔دوسری جانب اطلاع ملی ہے کہ کتاب محلہ پٹھان کوٹ کے سرکاری باغ میں ایک سانپ کو زہر دے کر ہلاک کر دیا گیا۔شہریوں نے میونسپل کمیٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صفائی مہم کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے تاکہ شہر کو صاف، صحت مند اور خوشگوار ماحول فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2997/2026
قلات 14اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر قلات منیراحمددرانی کے زیرصدارت پولیو مہم کے دوسرے روز کے اختتام پر ایوننگ اجلاس کا انعقاد کیا گیااجلاس میں محکمہ صحت کے سربراہان ڈبلیو ایچ او کے زمہ داران سمیت مانیٹرنگ آفیسران یوسی ایم اوزنے شرکت کی۔ اجلاس میں آج کے پولیو مہم ٹیموں کی کارکردگی درپیش مسائل مقررکردہ ہدف اور سکیورٹی انتظامات سے متعلق تبادلہ خیال کیاگیا۔ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹرمجتبی باجوئی نے بزریعہ ملٹی میڈیا جاری پولیو مہم سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔یوسی ایم اوز اور مانیٹرنگ آفیسران نے آج کے مہم ٹیموں کی کارکردگی اور درپیش مسائل سے متعلق رپوٹ پیش کیئے۔ ڈپٹی کمشنر منیردرانی نے کل پولیو مہم کے تیسرے روز کے لیئے یوسی ایم اوز اور مانیٹرنگ آفیسر کو اہم ہدایات جاری کیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2998/2026
کوئٹہ 14اپریل۔ضلعی انتظامیہ کوئٹہ نے شہر میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے اور جرائم کی روک تھام کے لیے کرایہ داروں کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ اس سلسلے میں عوام الناس، مالکان مکان اور جائیداد کے کرایہ داروں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ کسی بھی شخص کو بغیر شناختی کارڈ کے مکان کرایہ پر نہ دیا جائے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اہم ہدایات میں ہر مالک مکان کے لیے لازم ہے کہ وہ کرایہ دار کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ چیک کرے اور اس کی کاپی اپنے پاس محفوظ رکھے اور کرایہ داری کا معاہدہ طے پانے کے فوراً بعد مالک اور کرایہ دار دونوں متعلقہ تھانے میں جا کر اپنی رجسٹریشن کروانے کے پابند ہوں گے۔اگر کوئی کرایہ دار 24 گھنٹے سے زائد کے لیے کسی مہمان کو ٹھہراتا ہے تو اس کی پیشگی اطلاع متعلقہ پولیس اسٹیشن کو دینا ضروری ہوگی۔تمام ہوٹلز، گیسٹ ہاوسز، ہاسٹلز اور دیگر کرایہ پر دیے جانے والے مقامات کے منتظمین اپنے یہاں مقیم تمام افراد کا مکمل ریکارڈ رکھنے اور طلب کرنے پر انتظامیہ کو فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ان ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں مالک مکان اور کرایہ دار دونوں کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج ،فوری گرفتاری اور متعلقہ جائیداد کو سیل کیا جا سکتا ہے۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر رجسٹرڈ افراد اکثر جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اپنی اور اپنے علاقے کی حفاظت کے لیے ہر کرایہ دار کو رجسٹر کروائیں اور مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع قریبی تھانے یا ضلعی کنٹرول روم کو دیں۔یہ اقدامات شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہیں۔ عوام کے تعاون سے ہی کوئٹہ کو ایک پرامن اور محفوظ شہر بنایا جا سکتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2999/2026
کوئٹہ 14اپریل۔ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن زاہد خان خلجی کی زیر صدارت صفا کوئٹہ کی کارکردگی بہتر بنانے، ویسٹ کلیکشن پوائنٹس، ڈمپنگ سائٹس میں اضافے اور شہر بھر میں جمع کچرے کو فوراً ٹھکانے لگانے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی اور صفا کوئٹہ نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں شہر کے مختلف علاقوں میں صفائی کی صورتحال، ویسٹ مینجمنٹ سسٹم اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ ویسٹنگ پوائنٹس اور ڈمپنگ پوائنٹس کی تعداد بڑھائی جائے گی تاکہ کچرے کی بروقت منتقلی یقینی بنائی جا سکے۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے شہر میں صفائی کی ناقص صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ بند راستوں اور نالیوں کو فوری طور پر صاف کیا جائے اور جہاں کہیں بھی کچرا جمع ہے اسے ہنگامی بنیادوں پر اٹھایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ صفائی کے نظام میں بہتری کے لیے فیلڈ عملے کی کارکردگی کو موثر بنایا جائے اور مسلسل نگرانی کا نظام قائم کیا جائے تاکہ شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3000/2026
چمن 14اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت انسداد پولیو مہم کی کارکردگی کے حوالے سے دوسرے روز کا جائزہ اجلاس (ایویننگ ریویو) منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈی ایچ او چمن، اسسٹنٹ کمشنر ڈپٹی ڈی ایچ او، ڈسٹرکٹ پولیو کوآرڈینیٹر، نیشنل ای او سی کے ممبران، مانیٹرز اور دیگر نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران دوسرے روز کے پولیو کمپین کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا۔ یونین کونسل وائز کارکردگی، سکیورٹی صورتحال، اور مجموعی ڈیٹا پر بریفنگ دی گئی۔ اسی طرح ریفیوزل کیسز، زیرو ڈوز، این ٹی اور مجموعی کوریج سے متعلق اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے۔جن علاقوں میں کوریج کم رہی، ان کی نشاندہی کرتے ہوئے بہتری کے لیے نیا لائحہ عمل ترتیب دیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی چمن نے کہا کہ انسداد پولیو مہم کو ہر صورت کامیاب بنایا جائے اور پانچ سال تک کے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں والدین کو خصوصاً طور پر بچوں کو قطرے پلانے پر آمادہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ پولیو کا مکمل ختم قومی ذمہ داری ہے لہذا معاشرے کی تمام اکائیوں کو اس قومی ذمہ داری میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنا ہوگا تب جاکر ہمیں پولیو سے پاک معاشرے کی تشکیل کو ممکن بناسکتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3001/2026
جعفرآباد14اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت انسانی حقوق کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع کے مختلف محکموں کے افسران اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران انسانی حقوق کی صورتحال، شہریوں کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر خالد خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنےمحکموں میں انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنائیں اور عوامی شکایات کے بروقت ازالے کے لیے موثر اقدامات کریں۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ خواتین، بچوں اور دیگر کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے خصوصی توجہ دی جائے اور ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ اس موقع پر آگاہی مہمات چلانے، قانون پر عملدرآمد کو مزید بہتر بنانے اور اداروں کے درمیان باہمی رابطوں کو مضبوط کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ انسانی حقوق کے حوالے سے اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں اور عوام کو انصاف کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3002/2026
خضدار 14 اپریل ۔ میں چار روزہ انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا آغاز کردیا۔خضدار میں انسدادِ پولیو کی قومی مہم کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے افتتاحی تقریب کے دوران بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے پلا کر مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عابد حسین بلوچ، کمیونیکیشن آفیسر رحیم جتک، این اسٹاف آفیسر ڈاکٹر فرمان اللہ، محکمہ صحت کے افسران، لیڈی ہیلتھ ورکرز سمیت و دیگر عہدیداران نے شرکت کی۔تقریب میں بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے گئے اور مہم کا باضابطہ آغازکردیا ضلع خضدار میں پانچ سال سے کم عمر کے ایک لاکھ 71 ہزار 820 بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے 542 ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ جوگھر گھر جاکر اپنی خدمات سر انجام دیں گے۔پولیو کے قومی مہم کے افتتاح پر ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق ساسولی نےخطاب کرتے ہوئے کہا ہیکہ کہ ملک بھرمیں پولیو کا خاتمہ قومی فریضہ ہے۔ اور اس میں عوام کا تعاون انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال سے کم عمرکے تمام بچوں کو پولیو سے بچاوکے قطرے ہر صورت پلائیں جائیں تاکہ کوئی بھی بچہ اس موذی مرض سے ہمیشہ کیلئے اپائج ہونے محفوظ رہیں انہوں نے پولیو ٹیموں کوہدایت کی کہ پولیو مہم کے دوران کسی بھی بچے کو نظر انداز نہ کیا جائے اور دور دراز و دشوار گزار علاقوں میں بھی ٹیمیں پوری طرح سے اپنی ذمہ داری کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ تاکہ پولیو جیسے موذی مرض سے ضلع کے تمام علاقے محفوظ رہ سکیں۔ ڈپٹی کمشنر خضدار نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قومی مہم میں پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ مشترکہ کوششوں سے پولیو کا مکمل خاتمہ ممکن بنائی جا سکے اور خضدار کو پولیو فری ضلع بنایا جائے۔تقریب کے دوران کمیونیکیشن آفیسر رحیم جتک نے بھی پولیو سے بچاو اور آگاہی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر بچے تک ویکسئین کی رسائی یقینی بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور ہر والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔ اور ہونہارمستقبل کے معماروں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلاکر اپناقومی اور اخلاقی فریضہ بہترین اندازمیں اداکریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3003/2026
نصیرآباد:14اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز کا ای آر ایم (ایوننگ ریویو میٹنگ) اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز جمالی محکمہ صحت کے افسران، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے نمائندگان، ایریا انچارجز اور دیگر پولیو مانیٹرز نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران انسداد پولیو مہم کے دوسرے روز کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ڈپٹی کمشنر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاوکے قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے ٹیموں کو ہدایت کی کہ وہ گھر گھر جا کر بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کے عمل کو مزید موثر بنائیں اور چھوٹ جانے والے بچوں کی نشاندہی کر کے انہیں ہر صورت کور کیا جائے۔اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ ٹیمیں اپنے مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنائیں اور مائیکرو پلان کے مطابق سو فیصد کارکردگی دکھائیں جبکہ نگرانی کے عمل کو مزید سخت کیا جائے۔ اس موقع پر والدین میں آگاہی بڑھانے اور مہم کو کامیاب بنانے کے لیے موثر حکمت عملی اپنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ افسران اور ٹیموں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری محنت اور دیانتداری کے ساتھ سرانجام دیں تاکہ نصیرآباد کو پولیو فری بنانے کے ہدف کو کامیابی سے حاصل کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3004/2026
کوئٹہ14اپریل۔حکومتِ بلوچستان کے محکمہ آبپاشی کے سیکریٹری،سہیل الرحمٰن بلوچ نے صوبے بھر میں آبپاشی اور پانی کے انتظام سے متعلق اہم چیلنجز پر غور کے لیے پارلیمانی نمائندوں کے ساتھ ایک غیر رسمی مگر نتیجہ خیز اجلاس منعقد کیا۔اجلاس میں اپوزیشن لیڈر اور گوادر سے رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن، جبکہ لورالائی سے رکن صوبائی اسمبلی حاجی محمد خان طور اتمانخیل نے شرکت کی۔ محکمہ آبپاشی کے سینئر افسران، جن میں سیکشن آفیسر انجم بشیر اور ایس ڈی او آبپاشی کوئٹہ ڈویژن محراب بلوچ بھی شامل تھے، اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس کے دوران شرکاءنے اضلاع سے متعلق مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جس میں پانی کی قلت، آبپاشی کے نظام کا انفراسٹرکچر، اور نہری نظام کی بحالی پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اراکین اسمبلی نے خاص طور پر گوادر اور لورالائی جیسے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی منصفانہ تقسیم کی فوری ضرورت پر زور دیا، جہاں زرعی پیداوار شدید متاثر ہو رہی ہے۔سہیل الرحمٰن بلوچ نے نمائندوں کو یقین دہانی کرائی کہ محکمہ آبپاشی قلیل مدتی ریلیف اقدامات اور طویل مدتی انفراسٹرکچر منصوبوں پر فعال طور پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے پانی کے وسائل کے بہتر انتظام کے لیے آبپاشی نظام کی جدید کاری اور مقامی سطح پر مربوط حکمت عملی کو فروغ دینے کے حکومتی عزم کو اجاگر کیا۔مولانا ہدایت الرحمٰن نے گوادر میں فوری اقدامات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی کی قلت اب ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے جو عوام کی روزمرہ زندگی اور روزگار دونوں کو متاثر کر رہی ہے۔ اسی طرح حاجی محمد خان طور اتمانخیل نے لورالائی میں تاخیر کا شکار آبپاشی منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مقامی کسانوں کو سہارا دیا جا سکے۔محکمہ کے ذرائع کے مطابق کئی نئے منصوبوں پر غور جاری ہے، جن میں پانی کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے نہروں کی لائننگ، خشک علاقوں میں چھوٹے چیک ڈیمز کی تعمیر، اور پانی کے تحفظ کی جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال شامل ہے۔ بلوچستان بھر میں آبپاشی کی ضروریات کا جامع سروے کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔، محکمہ وفاقی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ جاری ترقیاتی پروگراموں کے تحت ترجیحی منصوبوں کے لیے اضافی فنڈز حاصل کیے جا سکیں۔ حکام کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر ماحولیاتی لحاظ سے مضبوط انفراسٹرکچر پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ باہمی رابطے کو برقرار رکھا جائے گا اور زیرِ بحث مسائل پر بروقت پیش رفت کو یقینی بنایا جائے گا، جو صوبے میں پانی کے انتظام کے مسائل کے حل کے لیے ایک مشترکہ اور مربوط حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3005/2026
کوئٹہ14اپریل۔عوامی شکایات پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں تندوروں اور قصابوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ اس دوران مجموعی طور پر 105 دکانوں کا معائنہ کیا گیا۔ان کارروائیوں کے دوران 34 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے 22 کو جیل منتقل کر دیا گیا جبکہ 18 دکانیں سیل کی گئیں۔یہ کریک ڈاون زائد قیمتیں وصول کرنے اور وزن میں کمی کرنے والے دکانداروں کے خلاف کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ نے 40 دکانوں کا معائنہ کر کے 12 افراد کو گرفتار کیا جبکہ اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی نے 30 دکانوں کا معائنہ کیا اور 8 افراد کو گرفتار کیا۔ اس کے علاوہ اسپیشل مجسٹریٹ سریاب عزت اللہ نے 35 دکانوں کا معائنہ کر کے 13 افراد کو گرفتار کیا۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق گرانفروشی اور عوامی استحصال کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی تاکہ شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3006/2026
کوئٹہ 14اپریل۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت انسداد پولیو مہم کے دوسرے روز کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈی ایچ او کوئٹہ، ڈپٹی ڈی ایچ او، اسسٹنٹ کمشنر (سٹی)، اسسٹنٹ کمشنر (صدر)، نیشنل ای او سی اور پراونشل ای او سی کے نمائندگان، کوارڈینیٹرز، مانیٹرز سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران انسداد پولیو مہم کی مجموعی پیش رفت، ٹیموں کی کارکردگی، فیلڈ میں درپیش مسائل اور بچوں تک ویکسین کی رسائی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے ہدایت کی کہ انسداد پولیو مہم کے دوران کسی بھی بچے کو ویکسین سے محروم نہ رکھا جائے اور تمام ٹیمیں اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کریں۔انہوں نے مزید تاکید کی کہ مانیٹرنگ کے نظام کو موثر بنایا جائے اور فیلڈ میں درپیش مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ مہم کو کامیاب بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 2026/3007
تربت14اپریل:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کے وژن کے تحت ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی جانب سے 28 اپریل 2026 کو کیچ اسپرنگ فیسٹیول کے شاندار انعقاد کا اعلان کر دیا گیا ہے اس موقع پر انتظامات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ تابش علی بلوچ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں محکمہ تعلیم کے میل و فیمیل نمائندوں، گرلز و بوائز کالجز، تربت یونیورسٹی، مختلف سرکاری محکموں اور اسپورٹس تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیسٹیول کے انعقاد اور سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیاڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر ماہ رواں کے آخر میں منعقد ہونے والے اس فیسٹیول کے دوران کرکٹ، فٹ بال، والی بال اور بیڈمنٹن کے مقابلوں کے ساتھ ساتھ مقامی سطح کے ثقافتی کھیلوں کے انعقاد کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ اس اہم ایونٹ میں عوام، سیاسی و سماجی و مذہبی جماعتوں، غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی کی بھرپور شرکت یقینی بنانے کے لیے انہیں باقاعدہ دعوت دی جائے گی۔مزید برآں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کیچ اسپرنگ فیسٹیول 2026 پانچ روز تک جاری رہے گا جس میں اسکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں کی ٹیموں کے ساتھ ساتھ عام ٹیموں کو بھی شرکت کا موقع دیا جائے گااجلاس میں فٹ بال ایسوسی ایشن، ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن اور محکمہ اسپورٹس کے حکام نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر تابش علی بلوچ نے کہا کہ کیچ اسپرنگ فیسٹیول 2026 عوام کے لیے تفریح، ثقافت اور کھیلوں کا ایک یادگار ایونٹ ثابت ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عوام اس ایونٹ کو کامیاب بنانے میں ضلعی انتظامیہ کا بھرپور ساتھ دیں گے۔
خبرنامہ نمبر2026/3008
سبی 14 اپریل:ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر سبی و سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی منصور علی شاہ کی جانب سے پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے بعد مسافر گاڑیوں کے کرایوں میں کمی کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں مختلف روٹس پر چلنے والی مسافر گاڑیوں کے نئے کرایہ نامے کی منظوری دے دی گئی۔ جاری اعلامیے کے مطابق سبی سے مختلف شہروں کے نئے کرائے درج ذیل مقرر کیے گئے ہیں وینوں کے لیےسبی تا کوئٹہ 500 روپے، سبی تا جیکب آباد 500 روپے، سبی تا اوستہ محمد 600 روپے، سبی تا ڈھاڈر 120 روپے، سبی تا تلی 100 روپے، سبی تا ڈیرہ مراد جمالی 400 روپے، سبی تا مٹھڑی 100 روپے، سبی تا حاجی شہر 150 روپے، سبی تا بھاگ 300 روپے، سبی تا لہڑی 300 روپے، سبی تا غازی 250 روپے۔ کوچز کے لیے سبی تا کراچی 2800 روپے، سبی تا کوئٹہ 600 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ مذکورہ کرایہ نامے پر فوری عملدرآمد ہوگا، جبکہ تمام ٹرانسپورٹرز کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ مقررہ نرخوں سے زائد کرایہ وصول نہ کیا جائے۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ ٹرانسپورٹرز کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ضلعی انتظامیہ نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ زائد کرایہ وصولی کی شکایات فوری طور پر متعلقہ حکام کو رپورٹ کریں تاکہ کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔ خبرنامہ نمبر 2026/3009 سبی 14 اپریل:ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے انسداد پولیو مہم کے دوسرے روز گاؤں لونی کے نواحی علاقوں اور گاؤں تلی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے اور جاری مہم کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، ڈی ایچ او ڈاکٹر قادر ہارون، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر صلاح الدین مری اور دیگر متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے بی ایچ یو لونی کا بھی معائنہ کیا، جہاں انہوں نے طبی عملے سے ملاقات کی اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے پولیو کے ٹرانزٹ پوائنٹ کا جائزہ لیتے ہوئے ٹیلی شیٹس چیک کیں، ویکسین کا معائنہ کیا اور پولیو ٹیموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ڈپٹی کمشنر نے مختلف فکس سائٹس پر بھی جا کر ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی اور ہدایت کی کہ مہم کے دوران کسی بھی بچے کو پولیو کے قطرے پلانے سے محروم نہ رکھا جائے۔ بعدازاں ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے ایوننگ رویو اجلاس کی صدارت بھی کی، جس میں انسداد پولیو مہم کے دوسرے روز کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں تمام متعلقہ افسران شریک ہوئے، جبکہ مختلف یونین کونسلز سے موصول رپورٹس، ٹیموں کی پیش رفت، کوریج اور درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ باقی ماندہ بچوں تک رسائی یقینی بنانے کے لیے ٹیمیں مزید متحرک انداز میں کام کریں اور مہم کے اہداف مکمل کرنے میں کسی قسم کی غفلت نہ برتی جائے۔میجر(ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ قومی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ ادارے بھرپور انداز میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو لازمی پولیو کے قطرے پلوا کر انہیں عمر بھر کی معذوری سے محفوظ بنائیں۔
Handout Number 2026/3010
Quetta 14 April :_ Secretary of the Government of Balochistan for the Irrigation Department, Mr. Sohail-ur-Rehman, held an informal yet constructive meeting with key parliamentary representatives to deliberate on pressing irrigation and water management challenges across the province.
The meeting was attended by the Leader of the Opposition and MPA from Gwadar, Maulana Hidayat-ur-Rehman, along with MPA Loralai, Haji Muhammad Khan Toor Uthmankhail. Senior departmental officials, including Section Officer Mr. Anjum Bashir and SDO Irrigation Quetta Division Mr. Mehrab Baloch, were also present.
During the session, participants engaged in a detailed discussion on district-specific issues, particularly focusing on water scarcity, irrigation infrastructure, and the rehabilitation of existing canal systems. The lawmakers highlighted the urgent need for equitable water distribution, especially in drought-affected areas such as Gwadar and Loralai, where agricultural productivity has been significantly impacted.
Mr. Sohail-ur-Rehman assured the representatives that the Irrigation Department is actively working on both short-term relief measures and long-term infrastructure development projects. He emphasized the government’s commitment to improving water resource management through modernization of irrigation systems and enhanced coordination with local stakeholders.
Maulana Hidayat-ur-Rehman stressed the importance of immediate interventions in Gwadar, noting that water shortages have become a critical issue affecting both livelihoods and daily life. Similarly, Haji Muhammad Khan Toor Uthmankhail called for expedited work on delayed irrigation schemes in Loralai to support local farmers.
Sources within the department revealed that several new initiatives are under consideration, including the lining of canals to reduce water loss, installation of small check dams in arid مناطق, and the introduction of water conservation technologies. A proposal to conduct a comprehensive survey of irrigation needs across Balochistan is also being finalized.Furthermore, the department is reportedly coordinating with federal authorities to secure additional funding for priority projects under ongoing development programs. Officials indicated that special attention will be given to climate-resilient infrastructure in light of increasing environmental challenges.
The meeting concluded with a mutual understanding to maintain close coordination and ensure timely follow-up on the discussed issues, reflecting a collaborative approach toward addressing the province’s water management challenges.
خبر نامہ نمبر 3011/2026
تربت13اپریل:ـڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی کاروباری صلاحیتیں امن اور ترقی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کے زیر اہتمام رائز بلوچستان پروگرام کے پیس اینڈ سوشل کوہیزن کمپوننٹ کے تحت تربت یونیورسٹی میں ایک اہم تھیمیٹک سیمینار بعنوان “Entrepreneurial Youth as Catalyst of Development” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیمینار کی صدارت تربت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن بلوچ نے کی جب کہ مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی تھے۔سیمینار میں طلبہ و طالبات، اساتذہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر بی آر ایس پی کے ریجنل منیجر التاز سخی، کیمپس کوآرڈی نیٹر غوث بخش بزنجو و دیگر بھی موجود تھے جب کہ پروفیسر اعجاز احمد بلوچ نے نظامت کے فرائض سرانجام دیے۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے سیمینار سے خطاب میں کہا کہ پائیدار امن اور معاشی ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور نوجوان ان دونوں کے فروغ میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان کی پالیسی رہنمائی کے مطابق، رائز بلوچستان پروگرام کو ایک فلیگ شپ اقدام کے طور پر مؤثر انداز میں نافذ کرے گی تاکہ نوجوانوں، خواتین اور پسماندہ طبقات کو معاشی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے حکومت بلوچستان کے اس اہم اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ایک پرامن اور مستحکم معاشرے کی بنیاد بھی مضبوط ہوگی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوان جدید کاروباری آئیڈیاز کے ساتھ آگے آئیں اور دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، تربت یونیورسٹی ایسے نوجوانوں کی رہنمائی اور معاونت کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گی۔بی آر ایس پی کے ریجنل منیجر التاز سخی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رائز بلوچستان پروگرام ایک جامع ترقیاتی ماڈل ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو بااختیار بنانا، انہیں مواقع فراہم کرنا اور کمیونٹی سطح پر امن و ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس پی ٹیم بھرپور محنت کے ساتھ اس پروگرام کو ضلع کیچ کے ہر گھر تک پہنچائے گی، نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرے گی اور ایک پرامن، مستحکم اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ڈاکٹر غلام جان بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوانوں میں کاروباری رجحان ایک مثبت تبدیلی کی علامت ہے اور تعلیمی اداروں کا کردار ہے کہ وہ طلبہ کو صرف ڈگری تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں عملی میدان میں آگے بڑھنے کے قابل بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی اور ترقیاتی پروگرامز کے درمیان اشتراک سے نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔اس موقع پر ڈاکٹر مشتاق بادینی اور ڈاکٹر قیوم نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور نوجوانوں میں کاروباری رجحانات کو سراہتے ہوئے اسے علاقے کی مثبت پیش رفت قرار دیا۔سیمینار کے دوران طلبہ و طالبات ماریہ، جعفر خان اور حمل نے اپنے کاروباری پروپوزلز پیش کیے جنہیں شرکاء نے سراہا۔سیمینار کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ نوجوانوں کی مثبت شمولیت، ہنر مندی اور کاروباری سرگرمیاں نہ صرف معاشی ترقی کا ذریعہ ہیں بلکہ ایک پرامن اور ہم آہنگ معاشرے کی بنیاد بھی فراہم کرتی ہیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/3012
کوئٹہ14اپریل:ـوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر جنگلات و جنگلی حیات سردار مسعود خان لونی کی ہدایات کی روشنی میں سیکریٹری جنگلات و وائلڈ لائف میر عمران گچکی اور ان کی متحرک ٹیم صوبہ بھر میں جنگلات و جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مؤثر اور مربوط اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس ضمن میں محکمہ کی ٹیموں کو زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت درختوں کی غیر قانونی کٹائی اور جنگلی حیات کے شکار کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں کی ہدایات جاری کی گئی ہیں اور ان سرگرمیوں پر سختی سے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔سیکریٹری جنگلات و وائلڈ لائف نے ایک نمائندہ وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ بلوچستان میں جنگلات و جنگلی حیات نہ صرف ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں بلکہ صوبے کی معیشت، موسمیاتی موافقت اور مقامی آبادی کے طرزِ زندگی سے بھی گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کل رقبے کا تقریباً 44 فیصد حصہ رکھنے والا بلوچستان رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے، تاہم یہاں جنگلات کا مجموعی رقبہ محض 1.5 سے 2 فیصد کے درمیان ہے، جو کہ قومی اوسط سے بھی کم ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ صوبہ دنیا کے قدیم ترین جونپر جنگلات کا حامل ہے، خصوصاً زیارت کے علاقے میں جہاں بعض درختوں کی عمر 5 ہزار سال تک بتائی جاتی ہے، جو اسے عالمی سطح پر منفرد حیثیت دیتی ہے۔ اسی طرح بلوچستان میں چنکارا ہرن، مارخور، سندھ آئی بیکس اور حبارة بسٹارڈ سمیت نایاب اور خطرے سے دوچار جنگلی حیات پائی جاتی ہے۔ یہ جنگلات کاربن کے اخراج میں کمی لا کر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے، جبکہ سیلاب اور خشک سالی جیسے خطرات کے خلاف قدرتی حفاظتی حصار فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مزید برآں، یہ مقامی آبادی کے لیے ایندھن، چارہ اور روزگار کا بھی اہم ذریعہ ہیں۔میر عمران گچکی نے کہا کہ بلوچستان جیسے وسیع و عریض صوبے میں، جہاں قدرتی وسائل کا تحفظ ایک بڑا چیلنج ہے، محکمہ جنگلات و جنگلی حیات محدود وسائل کے باوجود جنگلات کے تحفظ اور جنگلی حیات کے فروغ کے لیے قابلِ قدر خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ملاقات کے دوران مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ایک نمائندہ وفد نے شرکت کی، جس میں عشر تحریک اور دیگر رفاہی و رضاکارانہ تنظیموں کے نمائندگان بھی شامل تھے۔ سیکریٹری نے ان اداروں کی جانب سے اپنی مدد آپ کے تحت جنگلات و جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے جاری سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے انہیں قابلِ تقلید اور لائقِ تحسین قرار دیا۔اس موقع پر جنگلات کے تحفظ، درختوں کی غیر قانونی کٹائی کی روک تھام اور جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق اہم امور پر جامع اور نتیجہ خیز تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے حالیہ پیش رفت، درپیش چیلنجز اور ممکنہ حل پر تفصیل سے روشنی ڈالی، جبکہ ان نکات کا بھی حوالہ دیا گیا جو حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ساتھ زیرِ بحث آئے تھے۔ وفد نے حکومتِ بلوچستان کی مؤثر پالیسیوں اور اقدامات کو سراہتے ہوئے اس قومی مقصد کے لیے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔سیکریٹری جنگلات و وائلڈ لائف نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت درختوں کی غیر قانونی کٹائی اور جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان نہ صرف قوانین پر مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنا رہا ہے بلکہ معاشرے کے باشعور، ذمہ دار اور ہم خیال افراد پر مشتمل ایک فعال نیٹ ورک بھی تشکیل دے رہا ہے، جو جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ملاقات خوشگوار اور تعمیری ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بلوچستان میں ماحولیات کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع کے فروغ اور قدرتی وسائل کی پائیدار بقا کے لیے حکومت اور عوام باہمی اشتراک سے اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3013
کوئٹہ13اپریل :ـصوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، سیکرٹری محکمہ صحت مجیب الرحمان پانیزئی اور ڈائریکٹر جنرل محکمہ صحت ڈاکٹر آمین مندوخیل کی ہدایت پر کوئٹہ میں محکمہ صحت کا پہلا پری فلڈ ٹیکنیکل ورکنگ گروپ اجلاس منعقد ہوا۔تفصیلات کے مطابق اجلاس کی صدارت ڈائریکٹر محکمہ صحت ڈاکٹر آصف شاہوانی نے کی۔ اجلاس میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے کو چیئر ڈاکٹر زبیر، فوکل پرسن برائے فلڈ شوکت علی بلوچ سمیت مختلف پروگرامز کے نمائندگان نے شرکت کی، جن میں ایم این سی ایچ، ملیریا، ہیپاٹائٹس، ٹی بی اور ایم ایس ٹی کے ڈیوروتھی گونواری ایم ایس ٹی اوکیے روز اکیرو اونیگا (Dorothy Gonware
Mst Any Okaiye
Rose Akiru Onega) شامل تھے۔ اس کے علاوہ ڈیولپمنٹ پارٹنرز میں ایم ایس ایف، انڈس اسپتال کے نمائندے اور دیگر اداروں کے افسران بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں الرٹ جاری کیا جائے گا تاکہ وہ کسی بھی ممکنہ سیلابی یا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پیشگی منصوبہ بندی کریں۔ اس سلسلے میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے اور ضلعی سطح پر اداروں کے درمیان رابطے مضبوط کرنے پر زور دیا گیااجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ پی ڈی ایم اے کی ہدایات کے مطابق ایمرجنسی فلڈ سے نمٹنے کیلئے تمام تیاریاں مکمل کی جائیں گی تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال میں فوری اور مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔اجلاس میں ٹیکنیکل ورکنگ گروپ نے فیصلہ کیا کہ واٹس ایپ کے ذریعے تمام اضلاع کے متعلقہ حکام کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ آفت کی صورت میں بروقت ردعمل دیا جا سکے اور محکمہ صحت اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3014
کوئٹہ13 اپریل:ـ بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک نہایت اہم اور حساس نوعیت کی آئینی درخواست (سی پی نمبر 444/2026) کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل بنچ نے پولیس حراست میں مبینہ ہلاکت کے کیس پر سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو طلب کر لیا۔درخواست گزار کی جانب سے ان کے وکیل غلام فاروق مینگل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا بیٹا حافظ اسرار احمد، جو پیشے کے لحاظ سے درزی تھا، کو 27 مارچ 2026 کو ایگل اسکواڈ نے سریاب روڈ کے علاقے قمبرانی سے گرفتار کیا۔ بعد ازاں پولیس کی جانب سے خاندان کو یقین دہانی کرائی گئی کہ وہ زیرِ تفتیش ہے اور جلد رہا کر دیا جائے گا۔تاہم چھ دن بعد سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سریاب ڈویژن کی جانب سے اطلاع دی گئی کہ حافظ اسرار احمد نے تھانہ نیو سریاب کے لاک اپ میں مبینہ طور پر خودکشی کر لی ہے۔ جب اہل خانہ بولان میڈیکل کالج ہسپتال پہنچے تو ڈیوٹی ڈاکٹر نے موت کو “غیر فطری” قرار دیا اور لاش کی تصاویر بھی فراہم کیں، جن سے اہل خانہ کے شکوک میں مزید اضافہ ہوا۔درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں نے شفاف تحقیقات میں تعاون نہیں کیا۔ انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان کو درخواست دینے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوئی، جبکہ سی سی ٹی وی ریکارڈ کے حصول، لاش کے طبی معائنے اور دیگر قانونی اقدامات کے لیے دائر درخواستوں پر بھی متعلقہ عدالتوں نے دائرہ اختیار کی بنیاد پر کارروائی سے انکار کر دیا۔عدالت عالیہ نے اس صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے درخواست کو قابلِ سماعت قرار دے دیا اور تمام متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کا دفتر کو ہدایت کی کہ وہ واقعے سے متعلق مکمل اور جامع رپورٹ بمعہ شواہد جمع کرائے۔مزید برآں، عدالت نے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سریاب، ایس ایچ او تھانہ کیچی بیگ اور ایس ایچ او تھانہ نیو سریاب کو ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت کی انسپکشن برانچ کو سیشن جج سریاب اور جوڈیشل مجسٹریٹ-II سریاب (مس فضا بختاور) سے بھی رپورٹس طلب کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 21 اپریل 2026 تک ملتوی کرتے ہوئے واضح کیا کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3015
کوئٹہ14 اپریل :ـبلوچستان ہائی کورٹ نے ایک اہم آئینی درخواست (سی پی نمبر 444/2026) پر فیصلہ سناتے ہوئے چیئرمین بلوچستان سروس ٹربیونل کی تعیناتی کے معاملے میں بڑا حکم جاری کر دیا۔چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل بینچ نے ریکارڈ اور قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد پٹیشن کو منظور کر لیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ متنازعہ نوٹیفکیشنز، بشمول نوٹیفکیشن نمبر 22-180(13)/2012/SO-I(S&GAD) مورخہ 13 ستمبر 2025 اور دیگر متعلقہ احکامات، کو کالعدم قرار دے کر ایک طرف رکھ دیا.فیصلے کے نتیجے میں نصیب اللہ ترین کی بطور چیئرمین بلوچستان سروس ٹربیونل تعیناتی (نوٹیفکیشن نمبر S&GAD/S-IV/2(6)/2023/146-256 مورخہ 2 مئی 2023) کو بحال کر دیا گیا۔عدالت نے مزید حکم دیا کہ عبدالہادی ترین کی بطور چیئرمین بلوچستان سروس ٹربیونل تعیناتی کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے، اور انہیں فوری طور پر عہدے کا چارج چھوڑنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت کے لیے 21 اپریل 2026 کی تاریخ مقرر کر دی۔
خبر نامہ نمبر 2026/3016
گوادر14اپریل: ـڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، ڈی ایس پی پولیس چاکر بلوچ، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرشد دشتی، ڈویژنل کوآرڈینیٹر ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر اشرف خان سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر نے انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز کی مجموعی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مقررہ ہدف 11 ہزار 888 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا تھا، جبکہ ٹیموں نے مؤثر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 11 ہزار 449 بچوں کو کور کیا۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے مہم کے دوران ٹیموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا اور مختلف علاقوں میں کوریج، درپیش مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے متعلقہ افسران سے استفسار کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کوئی بھی بچہ پولیو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے اور ٹیمیں گھر گھر جا کر اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں سرانجام دیں۔انہوں نے مزید تاکید کی کہ سیکیورٹی، مانیٹرنگ اور فیلڈ ٹیموں کے درمیان مؤثر رابطہ یقینی بنایا جائے تاکہ مہم کو سو فیصد کامیاب بنایا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر نے مہم میں شریک ٹیموں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع گوادر کو پولیو فری بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے مربوط حکمتِ عملی کے تحت اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ آنے والی نسلوں کو اس موذی مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3017
گوادر (14 اپریل:۔ ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان کی سربراہی میں فشرمین کالونی گوادر کے مجوزہ منصوبے سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں چیف انجینیئر جی ڈی اے حاجی سد محمد، ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ شاہد علی اور ڈپٹی ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ عبدالرزاق نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ نے منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ فشرمین کالونی کا اعلان تقریباً تین سال قبل وزیرِاعظم پاکستان نے اپنے دورہ گوادر کے موقع پر مقامی ماہی گیروں کی فلاح کے لیے کیا تھا۔ بعد ازاں جی ڈی اے نے اس منصوبے پر ابتدائی ورکنگ مکمل کی جبکہ حکومت بلوچستان کی جانب سے اس اسکیم کے لیے 200 ایکڑ اراضی آنکاڑہ جنوبی میں فراہم کر دی گئی ہے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے وفاقی حکومت سے درکار فنڈز کی فراہمی کی درخواست کی جا چکی ہے اور ان فنڈز کے اجراء کے منتظر ہیں۔ جیسے ہی مطلوبہ مالی وسائل دستیاب ہوں گے، اسکیم کے ترقیاتی کاموں کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا، جبکہ اگلے مرحلے میں ماہی گیروں کو پلاٹس کی الاٹمنٹ کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔ ”فشرمین کالونی“ ایک لو کاسٹ ہاؤسنگ اسکیم ہے جس کی تخمینہ لاگت 2439.6 ملین روپے ہے۔ یہ منصوبہ موزہ آنکاڑہ جنوبی میں جیونی اور آواران ایونیو کے سنگم پر اسپورٹس کمپلیکس کے قریب 200 ایکڑ اراضی پر قائم کیا جائے گا، جہاں ماہی گیروں کیلئے 120 مربع گز کے 2970 رہائشی پلاٹس مختص کیے جائیں گے۔حکومت بلوچستان اس منصوبے میں زمین کی قیمت اور ترقیاتی اخراجات پر نمایاں سبسڈی فراہم کرے گی تاکہ ماہی گیروں کو سستی اور معیاری رہائش میسر آ سکے۔ منصوبے کے تحت جدید شہری سہولیات جیسے پینے کے پانی کی فراہمی، سیوریج سسٹم، سڑکیں، بجلی، اسکول، مساجد، اسپتال اور پارکس شامل ہوں گے۔محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات (P&D) بلوچستان کی جانب سے منصوبے کے PC-II کی منظوری بھی دی جا چکی ہے، جس کے تحت کنسلٹنسی سروسز، ماسٹر پلاننگ، ڈیزائننگ اور دیگر تکنیکی امور مکمل کیے جائیں گے۔ شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے الاٹیز کا ڈیجیٹل ڈیٹا بیس بھی تشکیل دیا جائے گا۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمن خان نے اس موقع پر ہدایت دی کہ منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے تاکہ گوادر کے اصل اسٹیک ہولڈرز یعنی ماہی گیروں کو جلد از جلد جدید اور باوقار رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/3018
قلعہ سیف اللہ14اپریل :۔ اسسٹنٹ کمشنر عمران مندوخیل نے مین بازار چوک قلعہ عبداللہ میں تجاوزات کے خلاف باقاعدہ آپریشن کیا گیا۔آپریشن کے دوران میونسپل کمیٹی کے تعاون سے مین چوک میں باقاعدہ نشاندہی کرتے ہوئے ”نو پارکنگ ایریا” کا تعین کیا گیا۔ اس ایریا میں ہر قسم کی پارکنگ، ریڑھی بانوں، اور دکانداروں کو سامان رکھنے یا سڑک پر پھیلاؤ کی سختی سے ممانعت ہوگی۔انتظامیہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانا، شہریوں کو سہولت فراہم کرنا اور بازار میں نظم و ضبط قائم کرنا ہے۔مزید برآں، ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ نو پارکنگ ایریا کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔میونسپل کمیٹی اس نامزد کردہ ایریا کو روزانہ کی بنیاد پر کلیئر رکھنے کی ذمہ دار ہوگی تاکہ کسی قسم کی دوبارہ تجاوزات نہ ہو سکیں۔ضلعی انتظامیہ نے عوام، دکانداروں اور ریڑھی بانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قوانین کی پاسداری کریں اور شہر کی بہتری کے لیے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
خبر نامہ نمبر 2026/3019
استامحمد14اپریل:۔وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی ہدایات کی روشنی میں عوامی مسائل کی فوری حل کے لیے 18 اپریل 2026 بروز ہفتے کو ڈپٹی کمشنر اوستامحمد کی سربرائی میں بمقام ڈگری کالج ہال استامحمد میں صبح 10 بجے ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں ڈسٹرکٹ سربراہان موجودہوں گے تمام شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے مسائل اور شکایات کے حل کے لیے اس کھلی کچہری میں شرکت کریں اور متعلقہ حکام کو آگاہی فراہم کریں تاکہ ان کے مسائل کو بروقت اور موثر انداز میں حل کیا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3020
گوادر14اپریل:۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت ڈپٹی کمشنر آفس گوادر میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع میں پہلے ویمن بازار کے قیام کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں ویمن بازار کے لیے درخواستیں جمع کروانے والی خواتین سے ملاقات کی گئی اور ان کے کیسز کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ویمن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی نمائندہ ٹیم، روبینہ کریم شاہوانی اور روبینہ زہری بھی شریک تھیں، جنہوں نے موصول ہونے والی درخواستوں کی جانچ پڑتال میں معاونت فراہم کی۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہونے والی خواتین کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے انہیں آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ویمن بازار کو جلد از جلد فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ باصلاحیت اور ہنر مند خواتین کو ایک محفوظ، منظم اور باوقار کاروباری پلیٹ فارم مہیا کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اُن خواتین کے لیے ایک سنہری موقع ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے گھروں تک محدود رہ کر مختلف ہنر اور کاروبار سے وابستہ ہیں، مگر مناسب جگہ اور مواقع نہ ہونے کے باعث اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار نہیں لا پا رہی تھیں۔ اب انہیں باقاعدہ دکانوں اور مارکیٹ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جہاں وہ اپنی مصنوعات کی نمائش اور فروخت کے ذریعے اپنی آمدن میں اضافہ کر سکیں گی۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ویمن بازار نہ صرف خواتین کی معاشی خودمختاری میں سنگِ میل ثابت ہوگا بلکہ گوادر کی مقامی معیشت کو بھی نئی جہت دے گا۔ اس منصوبے کی کامیابی کے بعد ویمن بازار کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے اور نئی دکانوں کے قیام پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔انہوں نے اُن خواتین کو بھی حوصلہ دیا جو اس مرحلے میں منتخب نہیں ہو سکیں یا کسی وجہ سے درخواست جمع نہیں کرا سکیں، اور یقین دہانی کروائی کہ مستقبل میں بھی ایسے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین کو بااختیار بنایا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ گوادر کی خواتین کو معاشی طور پر مضبوط، خودمختار اور باوقار بنانے کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، تاکہ وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کی ترقی میں فعال کردار ادا کر سکیں۔
خبرنامہ نمبر 3020/2026
کوئٹہ: 14 اپریل ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وزیر خزانہ بلوچستان میر شعیب احمد نوشیروانی کے وژن اور بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے چیئرپرسن عبداللہ خان کی ہدایات پر بی آر اے بلوچستان میں سیلز ٹیکس آن سروسز قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے بھر پور نداز سے مصروف عمل ہے جس کے تحت بی آر اے کی ٹیم نے ٹیکس قوانین کی عدم تعمیل پر تین ریسٹورنٹس/کیفیز کو سیل کر دیا۔ سیل کیے جانے والے مراکز میں ٹی فور یو، زم زمہ کیفےاور بٹ کڑاہی شامل ہیں۔اتھارٹی کے مطابق مذکورہ جگہوں کی جانب سے رجسٹریشن، پوائنٹ آف سیل سسٹم انٹیگریشن، ٹیکس ریٹرن فائلنگ اور ٹیکس ادائیگی سے متعلق قوانین پر عمل نہیں کیا جا رہا تھا، جس پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی گئی۔بی آر اے نے تمام کاروباری مراکز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ٹیکس قوانین کی سختی سے پابندی کریں، اپنے POS سسٹمز کو اتھارٹی کے ساتھ منسلک کریں اور بروقت ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کے ساتھ واجبات ادا کریں تاکہ کسی بھی قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3021
زیارت14 اپریل :ـوزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات پرڈپٹی کمشنر زیارت عبد القدوس اچکزئی کی سربراہی میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے تعاؤن سے پراسپکٹ پوائنٹ سے آگے ڈومیارہ روڈ کو سفر کیلئے آسان بنانے کیلئے روسی ٹریکٹر کے ذریعےکام شروع کیا گیا ۔راستے کو پتھروں اور ملبے وغیرہ سے صاف کرنے اور لیول کرنے کیلیے ٹریکٹر کے ذریعے سے سارا دن کام کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ ضلع زیارت کی ایک بڑی آبادی موسمی نقل مکانی کے باعث ضلع ہرنائی منتقل ہو چکی تھی، تاہم اپریل کے مہینے میں ان کی واپسی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، اور یہ لوگ ڈومیارہ روڈ کا راستہ استعمال کرتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ان کے سفر کو آسان اور محفوظ بنانا ہے۔ اس عوامی سہولت کے اقدام پر مقامی افراد نے ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔
خبر نامہ نمبر 3022/2026
موسیٰ خیل 14 اپریل:ـڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم کا “ایوننگ ریویو” اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈبلیو ایچ او، محکمہ صحت اور انڈس ہسپتال کے نمائندوں سمیت یو سی ایم اوز نے شرکت کی
اجلاس میں دوسرے روز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے واضح اور دوٹوک ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مہم میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے افسران کو انکاری کیسز کے سو فیصد خاتمے اور مہم کی شفافیت کو ہر صورت یقینی بنانے کا حکم دیا تاکہ ضلع کا کوئی بھی بچہ پولیو کے خطرے سے دوچار نہ رہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3023
موسیٰ خیل14 اپریل:_ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے آج ضلع کے مختلف پولیو ٹرانزٹ پوائنٹس کا اچانک معائنہ کیا اور انسدادِ پولیو مہم کے سلسلے میں کیے گئے انتظامات کا جائزہ لیا۔
ڈپٹی کمشنر نے درج ذیل اہم پوائنٹس کا دورہ کیاٹرانزٹ پوائنٹ مرغہ لورالائی روڈ ٹرانزٹ پوائنٹ ایف سی چیک پوسٹ معائنے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے وہاں تعینات پولیو ٹیموں کی حاضری، ویکسین کے اسٹاک اور بچوں کو قطرے پلانے کے عمل کی نگرانی کی۔ انہوں نے ٹیموں کو ہدایت کی کہ ضلع میں داخل ہونے والے ہر بچے کی پولیو ویکسینیشن کو یقینی بنایا جائے تاکہ کوئی بھی بچہ اس موذی مرض سے بچاؤ کے قطروں سے محروم نہ رہے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ٹرانزٹ پوائنٹس کی اہمیت کلیدی ہے۔ ہم کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کریں گے۔ ضلعی انتظامیہ پولیو فری موسیٰ خیل کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ والدین سے بھی گزارش ہے کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں معذوری سے محفوظ رہ سکیں۔






