13th-May-2026

خبرنامہ نمبر 3999/2026
کوئٹہ 13مئی۔ گورنر ہاوس کوئٹہ میں یوم پاکستان کی مناسبت سے تقسیم صدارتی ایوارڈز ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ صدر پاکستان کی جانب سے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی صوبے کی مختلف شخصیات کو صدارتی سول اعزازات ستارہ شجاعت اور تمغہ امتیاز سے نوازے۔ صدارتی ایوارڈز کی اس پروقار تقریب میں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نوابزادہ خالد حسین مگسی، صوبائی وزراء ، اراکین اسمبلی سے صوبائی وزیر میرعاصم کرد گیلو، میر محمد خان لہڑی، حاجی برکت رند، کلثوم نیاز بلوچ، اعلیٰ سرکاری افسران اور معزز مہمانان سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور اعزازات وصول کرنے والوں کے رشتہ دار بھی موجود تھے۔ صدارتی اعزازات، ستارہ شجاعت اور تمغہ امتیاز وصول کرنے والوں میں شہید غلام فرید، ڈائریکٹر زراعت ڈاکٹر سید حبیب اللہ شاہ، محمد کریم ثاقب، سلطان جاوید جمال، نور محمد بلوچ، شاہزیب خان، شہید مظفر حسین جمالی، بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے بانی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی، بیوٹمز یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد حفیظ، مایہ ناز آرٹسٹ اے ڈی بلوچ اور فضل محمد کے نام شامل ہیں۔ واضح رہے کہ مذکورہ صدارتی اعزازات 23 مارچ 2026 کو یوم پاکستان کے موقع پر دیے جانے تھے تاہم چند ناگزیر وجوہات کی بنا پر اس پروگرام کو منسوخ کرکے 13 مئی کیلئے دوبارہ شیڈول کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4000/2026
کوئٹہ، 13 مئی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے زیرِ تعمیر چشمہ پل منصوبے کا تفصیلی دورہ کیا اور جاری تعمیراتی کام کا جائزہ لیادورے کے موقع پر چیف انجینئر کوئٹہ زون عبدالرحیم بنگلزئی ایگزیکٹو انجینئر روڈز کچلاک ڈویژن قاضی ثناء اللہ سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے حکام نے منصوبے کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا جبکہ جاری تعمیراتی سرگرمیوں معیارِ تعمیر اور منصوبے کی رفتار کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ایگزیکٹو انجینئر روڈز کچلاک ڈویژن قاضی ثناء اللہ نے منصوبے کے تکنیکی پہلووں فنڈز کے استعمال درپیش چیلنجز اور متوقع مدتِ تکمیل سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پل کی تعمیر جدید تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے جاری ہے انہوں نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل سے گرد نواح کے علاقوں کو بہتر سفری سہولیات میسر ہوں گی اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ چشمہ پل کافی عرصے سے زیرِ تعمیر ہے جس کے باعث علاقہ مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لہٰذا منصوبے کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے انہوں نے تعمیراتی کام میں مزید تیزی لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مفاد کے اس اہم منصوبے کی بروقت تکمیل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے دورے کے دوران علاقہ مکینوں کے مسائل بھی سنے اور ایگزیکٹو انجینئر روڈز کچلاک ڈویژن کو ہدایت دی کہ پل سے متعلق عوام کو درپیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں تاکہ شہری جلد از جلد اس منصوبے کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4001/2026
کوئٹہ 13مئی ۔صوبائی سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود، عصمت اللہ قریش نے ضلع خضدار کی ڈسٹرکٹ سپروائزر لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن، مس صبیحہ کو ان کی شاندار کارکردگی کے اعتراف میں تعریفی سند اور 50 ہزار روپے نقد انعام سے نوازا۔یہ اعزاز بالخصوص Jhalawan Summer Festival 2026 کے دوران کامیاب اسٹال مینجمنٹ، عوامی آگاہی سیشنز کے موثر انعقاد اور خواندگی کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے پر دیا گیا۔ فیسٹیول کے دوران مس صبیحہ اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو عوامی سطح پر بے حد سراہا گیا، جبکہ نان فارمل ایجوکیشن سے متعلق آگاہی مہم کو بھی کامیاب قرار دیا گیا۔اس موقع پر سیکرٹری سماجی بہبود عصمت اللہ قریش نے کہا کہ محکمہ ایسے محنتی، باصلاحیت اور فرض شناس افسران کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گا جو عوامی خدمت، تعلیمی شعور اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواندگی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں اور محکمہ اس سلسلے میں اپنی کوششیں مزید موثر بنائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4002/2026
نصیرآباد13مئی ۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز جمالی، ایم ایس ڈاکٹر حبیب پندرانی، ڈرگ انسپکٹر اعجاز علی، اکاونٹس آفیسر امجد بہرانی، پی پی ایچ آئی کے نمائندہ منیر احمد گرانی اور ڈپٹی کمشنر کے پرسنل سیکرٹری منظور شیرازی سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع بھر میں عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی، غیر حاضر ڈاکٹرز و پیرا میڈیکل اسٹاف کے خلاف کارروائی، ادویات کی دستیابی، طبی مراکز کو درپیش مسائل اور صحت کے شعبے میں حکومتی احکامات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران متعلقہ افسران نے ڈپٹی کمشنر کو صحت کے شعبے میں موجود مسائل، سہولیات کی فراہمی اور عوامی مشکلات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان کے وڑن کے مطابق عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی بنیادی ذمہ داری اور اولین ترجیح ہے، صحت کے شعبے میں غفلت، لاپرواہی اور غیر حاضری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر حاضر ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر متعلقہ اہلکاروں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی کیونکہ ان کی غفلت سے نہ صرف عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ حکومتی اقدامات بھی متاثر ہوتے ہیں، جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے سختی سے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ضلع بھر میں آٹو ڈس ایبل (آٹو ڈیکارٹ) سرنج کے علاوہ دیگر سرنج فروخت کرنے والے میڈیکل اسٹورز کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ انسانی جانوں کو لاحق خطرات کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری بلوچستان کے احکامات پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے اور صحت کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے عوام کو درپیش طبی مسائل کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری، فرض شناسی اور عوامی خدمت کے جذبے کے تحت سرانجام دیں تاکہ ضلع نصیرآباد میں صحت کے نظام کو مزید بہتر، فعال اور عوام دوست بنایا جا سکے۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت کے مرتکب عناصر کے خلاف فوری اور سخت ایکشن لیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4003/2026
صحبت پور13۔ڈپٹی کمشنر صحبت پور محترمہ فریدہ ترین کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے تمام اراکین اور متعلقہ محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی اجلاس کا مقصد ضلع میں جاری صحت عامہ سے متعلق مختلف اقدامات اور پروگرامز کا تفصیلی جائزہ لینا اور عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کو مزید بہتر بنانا تھا اجلاس کے دوران شرکاءنے ضلع بھر میں صحت کی موجودہ صورتحال بنیادی مراکز صحت BHU رورل ہیلتھ سینٹرز RHC اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں دستیاب سہولیات عملے کی کارکردگی اور ادویات کی فراہمی کے نظام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اس موقع پر صحت کی سہولیات کی بہتری اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں، جن پر عملدرآمد کے لیے متفقہ حکمت عملی ترتیب دینے پر زور دیا گیااجلاس میں اس امر پر خصوصی توجہ دی گئی کہ ضلع میں جعلی اور زائدالمیعاد ایکسپائرڈ ادویات کی غیر قانونی فروخت ایک سنگین مسئلہ ہے، جس کے خاتمے کے لیے فوری اور موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی گئی کہ وہ مارکیٹوں، میڈیکل اسٹورز اور نجی کلینکس کی باقاعدہ انسپکشن کریں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں اسی طرح عطائی ڈاکٹروں Quacks کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تاکہ عوام کو غیر معیاری اور غیر محفوظ علاج سے بچایا جا سکے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ عوام کی جانوں سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی مزید برآں، ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی حاضری کو ہر صورت یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ اس حوالے سے سخت مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرانے اور غیر حاضر عملے کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ساتھ ہی صحت کے مراکز میں ضروری ادویات کی بروقت اور بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سپلائی چین کو مزید موثر بنانے کی ہدایت دی گئی ڈپٹی کمشنر صحبت پور محترمہ فریدہ ترین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحت عامہ کے شعبے میں بہتری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ موثر نگرانی بروقت فیصلے اور اداروں کی فعال کارکردگی کے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتےاجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلع صحبت پور میں صحت کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور عوام کو محفوظ معیاری اور آسان طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4004/2026
صحبت پور13مئی ۔ڈسٹرکٹ مینجمنٹ کمیٹی DMC برائے بلوچستان ڈی وارمنگ انیشی ایٹو پروگرام 2026 کا ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر صحبت پور محترمہ فریدہ ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا اجلاس میں محکمہ صحت، محکمہ تعلیم اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران پروگرام کے اغراض و مقاصد اور ضلعی سطح پر اس کے موثر، منظم اور شفاف نفاذ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد 5 سے 14 سال کی عمر کے بچوں کی صحت کا تحفظ، غذائی قلت میں کمی، اور پیٹ کے کیڑوں سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے اجلاس کو بتایا گیا کہ پروگرام کے تحت ضلع بھر میں مجموعی طور پر 67,258 بچوں کو ڈی وارمنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس کے لیے 224 ٹیمیں تشکیل دی جا چکی ہیں۔ اجلاس میں عوامی آگاہی مہم کو موثر بنانے، ادویات کی بروقت فراہمی یقینی بنانے، فیلڈ سطح پر سخت مانیٹرنگ کرنے، اور پروگرام کے کامیاب انعقاد کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا گیا اجلاس کے اختتام پر مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ اداروں کو ضروری ہدایات جاری کی گئیں تاکہ پروگرام کے اہداف مقررہ وقت میں موثر، شفاف اور کامیاب انداز میں حاصل کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4005/2026
تربت۔ 13 مئی ۔ مکران میڈیکل کالج (ایم ایم سی) شعبہ امراضِ نسواں و زچہ و بچہ،کے زیرِ اہتمام فائنل ایئر ایم بی بی ایس کے سالانہ پروفیشنل زبانی امتحان (وائیوہ) برائے شعبہ گائنی و آبسٹیٹرکس کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔امتحان مکران میڈیکل کالج کے شعبہ امراضِ نسواں و زچہ و بچہ کے وارڈ اور ڈیمانسٹریشن روم میں منعقد کیا گیا، جہاں طلبہ و طالبات نے بھرپور انداز میں شرکت کی۔ امتحانی عمل کے دوران او ایس سی ای (OSCE) اسٹیشنز اور ٹیبل وائیوہ بمعہ عملی مہارتوں کا جائزہ بزریعہ داخلی و خارجی ممتحنین لیا گیا۔امتحانی سرگرمیوں کا مشاہدہ پرنسپل مکران میڈیکل کالج ڈاکٹر افضل، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ٹیچنگ ہسپتال تربت ڈاکٹر وحید بلیدی، وائس پرنسپل ایم ایم سی ڈاکٹر عادل آدم، جبکہ سرجری اور میڈیسن کے فیکلٹی اراکین نے بھی کیا۔اس موقع پر کالج انتظامیہ نے امتحانی عمل کو خوش اسلوبی سے مکمل کرنے پر فیکلٹی ممبران اور معاون عملے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کی خدمات کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ادارہ ہذا کی جانب سے تمام طلبہ و طالبات کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے روشن مستقبل اور بہترین نتائج کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4006/2026
گوادر/اورماڑہ: 13مئی ۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے دور اورماڑہ کے موقع پر گورنمنٹ گرلز ہائی سکول اورماڑہ کا تفصیلی دورہ کیا اور تعلیمی ادارے میں جاری تدریسی و انتظامی امور کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے سکول میں درپیش مسائل، زیرِ التوائتعمیراتی منصوبوں اور تعلیمی سہولیات کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے سکول اسٹاف، ہیڈ مسٹریس اور مقامی کمیونٹی کے نمائندوں کے ساتھ ایک تفصیلی اجلاس کی صدارت بھی کی، جس میں ادارے کو درپیش چیلنجز پر جامع بریفنگ دی گئی۔ہیڈ مسٹریس کی جانب سے سکول کے مختلف مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جن میں بنیادی سہولیات، تدریسی ضروریات اور زیرِ تعمیر منصوبے شامل تھے۔دورے کے موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری، تحصیلدار اورماڑہ نورخان بلوچ، ایس ڈی او بی اینڈ آر جنید کاشانی، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اورماڑہ محمد حنیف، پاک فوج کے کرنل اور دیگر سول و عسکری افسران بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے پی ایس ڈی پی کے تحت زیرِ تعمیر کلاس رومز اور ہال کا معائنہ کرتے ہوئے متعلقہ انجینئر اور کنٹریکٹر کو واضح ہدایت جاری کی کہ تعمیراتی کام کو ہر صورت موسمِ گرما کی تعطیلات کے اختتام سے قبل مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی تاخیر کی صورت میں ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔مزید برآں، ڈپٹی کمشنر نے بی ایس ڈی آئی فیز 3 کے تحت اسکول کی طالبات کے لیے علیحدہ واش روم بلاک کی منظوری کا اعلان بھی کیا، جسے تعلیمی ماحول کی بہتری کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے طالبات کے مسائل بھی سنے اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ اسکول کو درپیش تمام بنیادی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت جلد اسکول کی بچیوں کو نصابی کتب کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے گی تاکہ تعلیمی سرگرمیوں میں کسی قسم کا خلل پیدا نہ ہو۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4007/2026
گوادر/پسنی: 13مئی ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن اور موثر قیادت کے تحت پاک عمان 50 بیڈڈہسپتال پسنی عوام کو معیاری اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اسپتال انتظامیہ عوامی خدمت کے جذبے کے تحت شب و روز کوشاں ہے تاکہ شہریوں کو صحت کے شعبے میں بہتر، بروقت اور باوقار طبی سہولیات میسر آسکیں۔پاک عمان ہسپتال نہ صرف پسنی بلکہ گرد و نواح کے ساحلی علاقوں کے عوام کے لیے امید کی ایک اہم کرن بن چکا ہے، جہاں مریضوں کو بہتر طبی سہولیات، علاج معالجے، تشخیص اور ہنگامی طبی امداد کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ اسپتال انتظامیہ طبی شعبے میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ خدمات کی فراہمی، مریضوں کی سہولت اور علاج کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی سربراہی میں ضلعی انتظامیہ بھی صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے متحرک کردار ادا کر رہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر باقاعدگی سے پاک عمان اسپتال کے مختلف شعبہ جات کے دورے کرتے ہیں، جہاں وہ طبی سہولیات، مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات، صفائی ستھرائی، ادویات کی دستیابی اور انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے اسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وڑن کے مطابق صحت، تعلیم اور بنیادی عوامی خدمات کے شعبوں میں مزید بہتری لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاک عمان ہسپتال میں جاری ترقیاتی اور انتظامی اصلاحات سے نہ صرف طبی خدمات کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ عوام کو علاج معالجے کی بہتر اور باوقار سہولیات بھی میسر ہوں گی۔ ضلعی انتظامیہ اورہسپتال انتظامیہ باہمی تعاون سے عوامی خدمت کے مشن کو مزید موثر انداز میں آگے بڑھا رہی ہیں تاکہ ساحلی علاقوں کے عوام کو صحت کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4008/2026
کوئٹہ، 13 مئی:۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کے احکامات پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت شہر میں صفائی کی صورتحال، ٹریفک مسائل، تجاوزات کے خلاف جاری کارروائیوں اور شہری سہولیات کی بہتری کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں تمام اسسٹنٹ کمشنرز، میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ، ٹریفک پولیس، کیو ڈی پی، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران شہر میں صفائی کے نظام کو مزید موثر بنانے، ٹریفک کی روانی بہتر کرنے اور غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے کیلئے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو صاف، منظم اور خوشگوار ماحول کی فراہمی کیلئے تمام ادارے باہمی تعاون سے اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں تاکہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رہے اور عوام کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اجلاس میں شہر کے مختلف علاقوں میں صفائی مہم کو مزید تیز کرنے، ٹریفک نظم و ضبط بہتر بنانے اور غیر قانونی پارکنگ کے خلاف اقدامات کو موثر بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ شہری مسائل کے فوری حل کیلئے فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں اور روزانہ کی بنیاد پر کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4009/2026
کوئٹہ 13مئی۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کے وژن کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کا مشترکہ انسدادِ تجاوزات آپریشن ایئرپورٹ روڈ، اسپنی روڈ اور سبزل روڈ پر جاری رہا۔ آپریشن کا مقصد تجاوزات کے خاتمے، ٹریفک نظام کی بہتری اور شہریوں کو بہتر و خوشگوار ماحول کی فراہمی ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان کے وڑن اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی و ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ زاہد خان کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر سٹی امیر حمزہ اور زون انچارج علی رضا درانی کی نگرانی میں کارروائی کے دوران سڑکوں، فٹ پاتھوں اور عوامی گزرگاہوں سے تجاوزات ہٹا کر غیر قانونی اشیاءضبط کی گئیںانتظامیہ کے مطابق عوامی مفاد میں انسدادِ تجاوزات کارروائیاں مستقل بنیادوں پر جاری رہیں گی تاکہ شہریوں کو محفوظ، صاف اور منظم ماحول فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4010/2026
نصیرآباد13مئی ۔ : ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حفیظ اللہ کھوسہ، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن میل فیمیل آفیسران آر ٹی سی ایم رسول بخش کھوسہ ڈپٹی کمشنر کے پرنسل سیکرٹری منظور شیرازی سمیت دیگر اساتذہ تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ضلع بھر میں تعلیمی صورتحال، تدریسی عمل کی بہتری، اساتذہ کی حاضری اور اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ غیر حاضر اساتذہ کے خلاف سخت کارروائی، تنخواہوں سے کٹوتی اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے اور سرکاری اسکولوں میں تدریسی عمل کو موثر اور فعال بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام اساتذہ اپنی حاضری کو یقینی بنائیں اور طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں جبکہ غیر حاضر رہنے والے اساتذہ کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور اسکولوں کی باقاعدہ مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ طلبہ کے تعلیمی معیار کو بلند کیا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں جا کر اسکولوں کا معائنہ کریں، اساتذہ کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور درپیش مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں تاکہ ضلع میں تعلیم کے شعبے میں واضح بہتری لائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4011/2026
خضدار 13 مئی ۔ بولان مائنگ انٹرپرائزز خضدار کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لئیے کوشاں ہے اور عوام کی فلاحی و خوشحالی کے منصوبوں پر تسلسل کے ساتھ کام کررہی ہے۔خضدار پی پی ایل کے زیر انتظام کام کرنے والی صنعت بولان مائنگ انٹرپرائزز نے خضدار کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کے عزم کا اعادہ کیا ہے جو تسلسل سے فلاحی و سماجی بہبود کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ پی پی ایل ریزیڈنٹ مینیجر محمد جواد بیگ کی قیادت اور مینیجر خضدار آپریشن محمد ندیم کی براہ راست نگرانی میں بی ایم ای مقامی آبادی کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئیے مربوط حکمت عملی کے تحت متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ فیروزآباد سمیت خضدار کے مختلف علاقوں میں تعلیم، صحت، صاف پانی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں بی ایم ای ٹیم کی خدمات قابل تحسین ہیں اور کمپنی سماجی ذمہ داری کے تحت مقامی لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئیے شب و روز مصروف عمل ہے۔ بی ایم ای تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل مشاورت اور شفافیت کو اپنی پالیسی کا اہم جزو سمجھتی ہے۔ مینجر خضدار آپریشن محمد ندیم سے ان کے آفس میں خضدار پریس کلب کے صدر عبداللہ شاہوانی نے ایک خصوصی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران عبدالباقی سینئر ایڈمن آفیسر اور سید نورالحق لیگل ایڈمن آفیسر بھی موجود تھے۔ ملاقات میں بی ایم ای کے جاری و آئندہ فلاحی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مینیجر محمد ندیم نے بتایا کہ بولان مائنگ انٹرپرائزز مقامی شہریوں کو روزگار کے باوقار مواقع فراہم کرنے، مستحق طلبہ کے لئیے میرٹ بیسڈ اسکالرشپس، تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن، جدید لیبارٹریز کے قیام اور صحت کی بنیادی سہولیات تک بروقت رسائی کو یقینی بنانے کے لئیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ مینیجر آپریشنز خضدار محمد ندیم کا کہنا تھا کہ دور دراز دیہات کے لئیے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے، سولر انرجی پر مبنی واٹر سپلائی اسکیمیں اور خواتین کو بااختیار بنانے کے اقدامات بی ایم ای کے ترقیاتی ایجنڈے کا کلیدی حصہ ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مقامی کمیونٹی کی فعال شراکت داری، مانیٹرنگ اور شفافیت کے بغیر پائیدار ترقی کا ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں، اس لئیے تمام منصوبے مقامی ضروریات اور ترجیحات کو مدنظر رکھ کر تشکیل دیے جاتے ہیں۔ افسران نے بتایا کہ بی ایم ای نے حالیہ سہ ماہی میں متعدد دیہات میں صحت کے مفت کیمپس کا انعقاد کیا جس میں ماہر ڈاکٹرز نے ہزاروں مریضوں کا معائنہ کیا، سرکاری اسکولوں میں فرنیچر، کمپیوٹر لیب اور تدریسی مواد کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا، سولر بیسڈ واٹر سپلائی اسکیموں کی تنصیب مکمل کی گئی۔ خضدار پریس کلب کے صدر عبداللہ شاہوانی نے بولان مائنگ انٹرپرائزز کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ نجی شعبے کا مقامی ترقی، روزگار کے فروغ، تعلیمی بہتری اور سماجی ہم آہنگی میں تعاون لائق تحسین ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ بی ایم ای مستقبل میں بھی عوامی فلاح کے منصوبوں کو وسعت دے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4012/2026
موسیٰ خیل 13 مئی۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل کی زیر صدارت “کھلی کچہری برائے عوام الناس” کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔تاریخ: 20 مئی 2026 (بروز بدھ)وقت: صبح 11:00 بجے بمقام: ڈسٹرکٹ کمپلیکس فٹسال گراونڈ، موسیٰ خیل:اس کچہری میں تمام ضلعی افسران موجود ہوں گے تاکہ آپ کے مسائل سنے جائیں اور تعلیم، صحت و دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ تحصیل درگ اور کنگری کے عوام کے لیے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز اپنی اپنی تحصیلوں میں الگ سے کچہریوں کا انعقاد کریں گے۔عوام الناس سے گزارش ہے کہ کھلی کچہری میں تشریف لائیں اور اپنے مسائل و تجاویز پیش کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4013/2026
جعفرآباد13مئی ۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر حضور بخش بگٹی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، پی پی ایچ آئی کے نمائندگان اور متعلقہ محکمہ صحت کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ضلع بھر میں عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، بنیادی مراکز صحت کی کارکردگی، ادویات کی دستیابی، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی حاضری، حفاظتی ٹیکہ جات، زچہ و بچہ کی صحت، پولیو مہم اور دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کی بہتری سے متعلق تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ افسران نے ڈپٹی کمشنر کو مختلف اسپتالوں، بنیادی مراکز صحت اور دیہی ہیلتھ سینٹرز میں جاری طبی سہولیات، درپیش مسائل اور مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات جاری ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا کہ صحت کا شعبہ عوامی خدمت کا بنیادی ستون ہے اور شہریوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام سرکاری اسپتالوں اور مراکز صحت میں ڈاکٹرز، عملہ اور ادویات کی دستیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو علاج معالجے کیلئے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ دیہی اور دور دراز علاقوں میں بھی طبی سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کیلئے موثر اقدامات کیے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر نے زور دیا کہ محکمہ صحت کے افسران اپنی ذمہ داریاں ایمانداری اور فرض شناسی سے ادا کریں کیونکہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ہدایات کے مطابق صحت کے شعبے میں بہتری، صفائی کی صورتحال، ویکسینیشن پروگرام اور ہنگامی طبی سہولیات کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ جعفرآباد کے عوام کو بہترین طبی سہولیات میسر آسکیں۔ اجلاس میں مختلف امور پر غور کے بعد صحت کے نظام کو مزید فعال اور بہتر بنانے کیلئے متعدد اہم فیصلے بھی کیے گئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4014/2026
تربت۔ 13 مئی ۔: کمشنر مکران ڈویژن قادر بخش پرکانی کی زیرِ صدارت ضلع کیچ میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کے جائزے سے متعلق ایک اہم اجلاس کمشنر مکران آفس تربت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں جاری ترقیاتی اسکیمات کی پیش رفت، درپیش مسائل اور منصوبوں کی بروقت تکمیل سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر تمپ برکت علی بلوچ نے بذریعہ آن لائن شرکت کی، جبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ تابش علی بلوچ، ڈویژنل ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی مکران ڈویژن خالد حسین، پروجیکٹ ڈائریکٹر بلیدہ ٹاون، ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر تربت سٹی ڈویلپمنٹ پروجیکٹ بہرام خان گچکی، پروجیکٹ ڈائریکٹر یونیورسٹی آف تربت شاہد بلوچ، مکران میڈیکل کالج، گیشکور ڈیم پروجیکٹ، میرانی ہاوسنگ اسکیم تربت سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر مکران قادر بخش پرکانی نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ تمام جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی منصوبے کو فنڈز کی کمی یا دیگر انتظامی مسائل کا سامنا ہو تو فوری طور پر آگاہ کیا جائے تاکہ اعلیٰ حکام سے رابطہ کرکے ان مسائل کے حل کو یقینی بنایا جاسکے۔انہوں نے متعلقہ پروجیکٹ ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ اگر کسی منصوبے کو سیکیورٹی کے حوالے سے مشکلات درپیش ہوں تو ضلعی انتظامیہ کو بروقت آگاہ کیا جائے، تاکہ ترقیاتی منصوبوں کی نوعیت کے مطابق مناسب سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جاسکے۔دریں اثناء کمشنر مکران نے ڈپٹی کمشنر تمپ برکت علی بلوچ سے نو تشکیل شدہ ضلع تمپ کے انتظامی معاملات اور جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی حاصل کی۔اجلاس کے دوران تربت سٹی ڈویلپمنٹ پروجیکٹ، بلیدہ ٹاون، گیشکور ڈیم پروجیکٹ، یونیورسٹی آف تربت اور مکران میڈیکل کالج کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ منصوبوں کی پیش رفت اور درپیش چیلنجز سے متعلق شرکائکو آگاہ کیا گیا۔کمشنر مکران نے میرانی ہاوسنگ اسکیم کے حکام کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کی سائٹ پر انجینئرز کی مستقل موجودگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ الاٹ شدہ پلاٹس کی حدبندی کا عمل جلد از جلد شروع کیا جاسکے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ میرانی ہاوسنگ اسکیم کے قسطیں جمع نہ کرنے والے الاٹیز کو باقاعدہ نوٹس جاری کیے جائیں اور انہیں مطلع کیا جائے کہ اگر 31 مئی 2026 تک واجب الادا اقساط جمع نہ کرائی گئیں تو متعلقہ پلاٹس کی الاٹمنٹ منسوخ کردی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر کمشنر مکران نے ڈویژنل ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی مکران کو ہدایت کی کہ ضلع کیچ میں جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کی باقاعدہ نگرانی اور مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوامی فلاح و بہبود کے یہ منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل ہوکر عوام کو ان کے ثمرات بروقت فراہم کرسکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر4015/2026
کوئٹہ13 مئی ۔رکن قومی اسمبلی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان سے ملاقات کی جس میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے سریاب میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاحی اسکیموں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیاملاقات کے دوران سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی کو سریاب میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے جامع بریفنگ دی بریفنگ میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت نکاسی آب کے منصوبوں شہری انفراسٹرکچر کی بہتری گلیوں کی پختگی اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب اور دیگر عوامی سہولیات سے متعلق منصوبوں کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا گیاسیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے بتایا کہ سریاب کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں اور ان منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان شہری انفراسٹرکچر کی بہتری اور عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہےاس موقع پر رکن قومی اسمبلی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے سریاب میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ علاقے کے عوام دیرپا ثمرات سے مستفید ہو سکیں انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جاری منصوبوں کی نگرانی مزید موثر بنائی جائے اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی عمل کو تیز کیا جائے ملاقات میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ سریاب کی ترقی اور شہری مسائل کے حل کے لیے تمام ادارے باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام جاری رکھیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4016/2026
لورالائی13مئی ۔ لورالائی، 13 مئی 2026۔ محکمہ بہبودِ آبادی لورالائی کے زیر اہتمام میونسپل کمیٹی لورالائی کے مرکزی ہال میں مانع حمل “سیلف انجکشن سیانہ پریس” کے استعمال فوائد اور محفوظ طریقہ ہائے مانع حمل پر آٹھ روزہ خصوصی تربیتی پروگرام کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔تربیتی پروگرام کا انعقاد خواتین کی تولیدی صحت سے متعلق آگاہی میں اضافہ، خاندانی منصوبہ بندی کے جدید اور محفوظ طریقہ کار کو فروغ دینے اور شعب صحت سے وابستہ عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید موثر بنانے کے مقصد سے کیا گیا۔تربیتی پروگرام میں محکمہ صحت، پی پی ایچ آئی، محکمہ بہبودِ آبادی کے لیڈی ہیلتھ وزیٹرز، لیڈی ہیلتھ ورکرز، فیملی ویلفیئر ورکرز، کمیونٹی بیسڈ فیملی پلاننگ ورکرز اور اسکولوں کی سطح پر متحرک رضاکاروں نے بھرپور شرکت کی۔ پروگرام کی نگرانی تربیتی مرکز کی ڈسٹرکٹ پاولیشن ویلفیئر آفیسر ڈاکٹر نسیرین گل نے کی جبکہ عوامی پی پی ایچ آئی کی ڈاکٹر ماریہ نے بطور مرکزی تربیت کار اپنے فرائض انجام دیے۔تربیت کے دوران شرکاءکو “سیانہ پریس” کے محفوظ اور موثر استعمال، احتیاطی تدابیر، خواتین کی تولیدی صحت، ماں اور بچے کی نگہداشت، خاندانی منصوبہ بندی کے جدید طریقوں اور عوامی سطح پر صحت سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے مختلف پہلووں پر تفصیلی رہنمائی فراہم کی گئی۔ اس موقع پر عملی مشقوں، تربیتی سرگرمیوں اور سوال و جواب کے سیشنز کے ذریعے شرکاء کی فنی و پیشہ ورانہ استعداد کار کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ وہ شہری و دیہی علاقوں میں خواتین تک معیاری صحت سہولیات اور درست معلومات موثر انداز میں پہنچا سکیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ پاولیشن ویلفیئر آفیسر ڈاکٹر نسیرین گل نے کہا کہ “سیانہ پریس” ایک جدید، محفوظ اور موثر مانع حمل انجکشن ہے جو خواتین کو تین ماہ تک حمل سے بچاو کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس انجکشن کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ مناسب تربیت کے بعد خواتین اسے گھر پر خود بھی استعمال کرسکتی ہیں، جس سے انہیں بار بار مراکز صحت کے دورے کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی اور دور دراز علاقوں میں رہنے والی خواتین کو خصوصی سہولت میسر آتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان خواتین اور بچوں کی صحت کے تحفظ، آبادی میں توازن، شرحِ پیدائش میں بہتری اور خاندانی منصوبہ بندی کے فروغ کے لیے جدید اور موثر پروگراموں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے تربیتی پروگراموں کا مقصد فیلڈ میں خدمات انجام دینے والے عملے کو جدید معلومات اور عملی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے تاکہ عوام کو بروقت، درست اور معیاری رہنمائی فراہم کی جاسکے۔اختتامی تقریب میں RIZ کنسلٹنگ کے ڈاکٹر نسیم اللہ، صبور احمد اور دیگر معزز مہمانوں نے تربیت مکمل کرنے والے شرکائ میں اسناد، تربیتی کتابچے اور تدریسی مواد تقسیم کیا۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ تربیت یافتہ عملہ نہ صرف خواتین میں صحت سے متعلق شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا بلکہ خاندانی منصوبہ بندی کے قومی پروگرام کو موثر اور مستحکم بنانے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر نسرین گل نے تمام شراکت دار اداروں، تربیت کاروں اور شرکائ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع لورالائی میں خواتین کی صحت، فلاح و بہبود اور خاندانی منصوبہ بندی کے فروغ کے لیے ایسے تربیتی اور آگاہی پروگرام آئندہ بھی باقاعدگی کے ساتھ جاری رکھے جائیں گے تاکہ عوام کو جدید طبی سہولیات اور موثر رہنمائی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 4017/2026
لورالائی13 مئی ۔: ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی (DDC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، فنڈز کے اجراءاور تکمیل شدہ منصوبوں کے قابلِ ادائیگی بلوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں کمانڈر 53 ونگ میجر کامران، اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) نور علی کاکڑ، ایکسین روڈز محمد داود خان، ایکسین بلڈنگز احمد دین، ایکسین محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اختر محمد مندوخیل، لوکل گورنمنٹ کے نمائندگان اور مختلف محکموں کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران بی ایس ڈی آئی پروگرام کے تحت جاری ترقیاتی اسکیموں کے موصول شدہ بلوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ مختلف محکموں کی جانب سے پیش کردہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل شدہ مراحل کے مطابق بلوں کی ادائیگی کی منظوری دی گئی، جبکہ بعض منصوبوں کے تکنیکی اور مالی امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ جاری ترقیاتی کاموں میں شفافیت، معیار اور رفتار کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ جن منصوبوں پر کام مکمل ہو چکا ہے، ان کے بل فوری طور پر جمع کرائے جائیں تاکہ ادائیگی کے عمل میں تاخیر نہ ہو۔ اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ تمام ترقیاتی اسکیموں کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے اور فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جائے۔اجلاس کے شرکاء کو مختلف شعبوں خصوصاً سڑکوں، سرکاری عمارتوں، پینے کے صاف پانی اور بلدیاتی سہولیات سے متعلق جاری منصوبوں کی پیش رفت پر بریفنگ بھی دی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ عوامی مفاد کے منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کیے جائیں۔اجلاس کے اختتام پر ضلع لورالائی میں ترقیاتی عمل کو مزید موثر اور تیز بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر 4017/2026
کوئٹہ13 مئی:_وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ بچے کسی بھی قوم کا قیمتی اثاثہ اور ہمارا مستقبل ہیں، ان کی بہترین نشوونما اور صحت مند زندگی کی فراہمی وہ بنیاد ہے جس پر ہمارے صوبے کی بقا کا انحصار ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن (بلوچستان چیپٹر) کی صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوانہ ترین سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ملاقات میں بلوچستان میں بچوں کی صحت کی مجموعی صورتحال، طبی سہولیات کی بہتری، قانون سازی اور اس ضمن میں مشترکہ کوششوں کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے صوبے میں بچوں کی صحت کے حوالے سے تشویشناک اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات کا گراف دیگر صوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، جو ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے حقائق بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بلوچستان میں تقریباً 40 فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کے باعث ‘اسٹنٹنگ’ (جسمانی و ذہنی نشوونما میں کمی) کا شکار ہیں، جو براہ راست ہماری آنے والی نسل کی صلاحیتوں کو متاثر کر رہا ہے۔۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے زور دیا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نہ صرف طبی مداخلت بلکہ سماجی آگاہی اور مضبوط قانون سازی کی بھی ضرورت ہے تاکہ زچگی کے دوران اور پیدائش کے بعد بچوں کو بہترین طبی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ حکومت بلوچستان بچوں کے حقوق اور ان کی صحت کے تحفظ کے لیے موجودہ قوانین میں ترامیم اور نئی قانون سازی کے لیے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو بیماریوں سے بچانے کے لیے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) کی کوریج کو دور دراز علاقوں تک پہنچانا اور ماں کے دودھ کی اہمیت (Breastfeeding promotion) سے متعلق قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروانا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے پی پی اے (PPA) کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ تنظیموں کا تعاون پالیسی سازی میںانتہائی اہمیت رکھتا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ماہرینِ اطفال کی تجاویز کو حکومتی اقدامات کا حصہ بنایا جائے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے مزید کہا کہ محکمہ ترقی نسواں خواتین کے حقوق کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں کی صحت کے لیے بھی متحرک ہے، کیونکہ خواتین کی بااختیاری کا ایک اہم پہلو خواتین اور ان کے بچوں کو صحت کی بہترین سہولیات تک آسان رسائی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے بلوچستان میں بچوں کی صحت کی بہتری کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا جو مستقبل کی حکمت عملی اور قانون سازی کے عمل میں تکنیکی معاونت فراہم کرے گا۔
خبر نامہ نمبر 4018/2026
گوادر/اورماڑہ13 مئی: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے دورہ اورماڑہ کے دوران گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج اورماڑہ کی عمارت اور ملحقہ سرکاری اراضی کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے ضلعی انتظامیہ کے افسران کے ہمراہ گرلز ڈگری کالج کے سرکاری اراضی پر قائم غیر قانونی تعمیرات اور ناجائز تجاوزات کے خلاف بھرپور، منظم اور فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے بڑی چار دیواری سمیت غیر قانونی ڈھانچوں کو مسمار کروا دیا اور قیمتی سرکاری اراضی قبضہ مافیا سے واگزار کرا لی۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے اس موقع پر واضح کیا کہ سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے اور عوامی و تعلیمی مفادات کے تحفظ کے لیے ضلعی انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں پوری عزم اور قانون کے مطابق ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ واگزار کرائی گئی اراضی کی مستقل نگرانی یقینی بنائی جائے تاکہ دوبارہ تجاوزات قائم نہ ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی اراضی کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور گرلز ڈگری کالج اورماڑہ کی اراضی کو محفوظ بنا کر طالبات کے لیے بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔آپریشن کی قیادت ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے خود کی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، اسسٹنٹ کمشنر طارق بلوچ، تحصیلدار اورماڑہ نورخان بلوچ اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔
Hand Out Number 4019/2026
QUETTA (May 13, 2026)
Advisor to the Chief Minister of Balochistan for the Women Development Department, Dr. Rubaba Khan Buledi has stated that children are a nation’s most precious asset and the foundation upon which the future survival of the province depends. She expressed these views during a detailed meeting with Professor Dr. Rizwana Tareen, President of the Pakistan Pediatric Association (PPA) Balochistan Chapter. The discussion centered on the overall state of child health in Balochistan, the improvement of medical facilities, and the need for collaborative legislative efforts. During the meeting, Dr. Rubaba Khan Buledi presented concerning statistics regarding the health of children in the province, noting that the infant mortality rate in Balochistan is significantly higher compared to other provinces, which serves as a moment of serious reflection. She highlighted the stark reality that over 40% of children in Balochistan currently suffer from stunting—a deficiency in physical and mental growth—due to malnutrition, which directly hinders the potential of the future generation. She emphasized that addressing these challenges requires not only medical intervention but also widespread social awareness and robust legislation to ensure the best possible medical protection for children during and after birth. Dr. Rubaba Buledi further remarked that the Government of Balochistan is serious about amending current laws and introducing new legislation to protect children’s rights and health. Key priorities include extending the coverage of the Expanded Program on Immunization (EPI) to remote areas and strictly enforcing laws related to the promotion of breastfeeding. Commending the services of the PPA, she noted that the cooperation of professional medical organizations is vital for effective policymaking and expressed the government’s desire to incorporate the recommendations of pediatric experts into official initiatives.
Dr. Rubaba Khan Buledi added that the Women Development Department is actively working for the health of children alongside women’s rights, as a crucial aspect of women’s empowerment is ensuring easy access to quality health facilities for both mothers and their children. To conclude the session, both leaders emphasized the necessity of forming a joint working group to provide technical support for future strategies and the legislative process aimed at improving child health in Balochistan.

خبر نامہ نمبر 4020/2026
لورالائی13مئی:ـ میں زیرِ زمین پانی کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ، غیر قانونی بورنگ پر مکمل پابندی
لورالائی ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ واٹر کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں زیرِ زمین آبی وسائل کے تحفظ، پانی کے مؤثر استعمال اور بلوچستان گراؤنڈ واٹر رائٹس ایڈمنسٹریشن رولز پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم، اسسٹنٹ کمشنر میختر یحییٰ خان کاکڑ، ایس ڈی پی او لورالائی محمد اکبر، ایکسین ایریگیشن اسد کاکڑ، ایس ڈی او پی ایچ ای محمد علی، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محیب اللہ بلوچ، محکمہ زراعت کے نمائندے عبدالہادی، نمائندہ زمیندار کمیٹی حاجی عصمت اللہ کدیذئی سمیت مختلف متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع میں زیرِ زمین پانی کی تیزی سے گرتی سطح، غیر قانونی بورنگ اور پانی کے بے دریغ استعمال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ پانی کے ذخائر کے تحفظ کے لیے موجود قوانین پر سختی سے عملدرآمد ناگزیر ہے۔ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ این او سی کے بغیر کسی بھی قسم کی نئی بورنگ کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ غیر قانونی ٹیوب ویلز اور غیر مجاز پانی کے استعمال کے خلاف مشترکہ کارروائیاں تیز کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ پانی قدرت کا قیمتی سرمایہ ہے اور اس کے ضیاع کو روکنے کے لیے حکومت، متعلقہ اداروں اور عوام کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں پانی کی قلت جیسے سنگین بحران سے بچنے کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔اجلاس میں پانی کے تحفظ اور مؤثر استعمال کے لیے متعدد تجاویز اور عملی اقدامات پر اتفاق کیا گیا، جن میں بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے چھوٹے ڈیمز، چیک ڈیمز اور واٹر ہارویسٹنگ سسٹمز کی تعمیر، زرعی شعبے میں جدید ڈرپ اریگیشن نظام کا فروغ، نہروں اور واٹر چینلز کی بہتری، اور عوامی سطح پر آگاہی مہم چلانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلع بھر میں پانی کے استعمال اور بورنگ کے عمل کی نگرانی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی، جو مختلف علاقوں کا باقاعدہ معائنہ کرکے اپنی رپورٹس ضلعی انتظامیہ کو پیش کریں گی۔ اس کے علاوہ پانی کے تحفظ سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے تعلیمی اداروں، زمیندار تنظیموں اور مقامی عمائدین کو بھی مہم میں شامل کیا جائے گا۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لورالائی میں آبی وسائل کے تحفظ اور پائیدار استعمال کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے پانی کے ذخائر محفوظ بنائے جا سکیں۔
خبرنامہ نمبر 2026/4021
سبی13 مئی:وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی ہدایات پر بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (بی ایس ڈی آئی) کے تیسرے مرحلے کے آغاز اور عوامی مسائل کے فوری و مؤثر حل کے لیے ڈپٹی کمشنر سبی میجر (ر) الیاس کبزئی کی زیرِ صدارت سرکٹ ہاؤس سبی میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے اپنے مسائل براہِ راست ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کیے۔کھلی کچہری میں ونگ کمانڈر کرنل عبدالمنان، اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی سمیت مختلف محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔اس موقع پر مقررین اور عوامی نمائندوں نے کہا کہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے تحت ضلع سبی میں نمایاں ترقیاتی کام مکمل کیے گئے، جبکہ عوام کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے متعدد منصوبے منظور کیے گئے ہیں، جن سے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بہتری آئی ہے۔کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے بجلی کے ٹرانسفارمرز کی فراہمی، پینے کے صاف پانی کے لیے واٹر سپلائی لائنوں کی بحالی، سرکاری اسکولوں کی سولرائزیشن، شیلٹر لیس اسکولوں کی تعمیر، تعلیمی اداروں کی چار دیواری، لائبریری کے قیام اور پکی گلیوں کی تعمیر سمیت مختلف مطالبات پیش کیے۔ڈپٹی کمشنر سبی میجر (ر) الیاس کبزئی نے متعدد عوامی منصوبوں کی فوری منظوری دیتے ہوئے متعلقہ افسران کو بعض منصوبوں کے سائٹ سروے کے احکامات جاری کیے۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے تمام جائز مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے اور ضلعی انتظامیہ عوامی خدمت کے لیے ہر وقت دستیاب ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے تحت جاری ترقیاتی منصوبے علاقے کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کریں گے، جبکہ تیسرے مرحلے میں مزید عوامی فلاحی منصوبے شامل کرکے ترقیاتی عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔کھلی کچہری کے اختتام پر عوام نے ضلعی انتظامیہ اور بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے تحت جاری ترقیاتی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ دہائیوں پرانے مسائل کے حل کی عملی پیش رفت نظر آ رہی ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/4022
کوئٹہ13 مئی:ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے آئی ڈی ایس پی (IDSP) کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر صدر اور ایکسین ایریگیشن بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے آئی ڈی ایس پی جانے والے راستے اور وہاں قائم پروٹیکشن وال کا معائنہ کیا اور متعلقہ حکام سے حفاظتی اقدامات اور تعمیراتی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ ادارے اور اطراف کے علاقوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔اس کے علاؤہ ڈپٹی کمشنر نے آئی ڈی ایس پی کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کیا، جہاں ادارے کی کارکردگی، سہولیات اور جاری سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دورے کے دوران ڈاکٹر قرۃ العین نے ڈپٹی کمشنر کو ادارے کے مختلف حصوں کا وزٹ کرایا جبکہ ڈاکٹر صفدر نے ادارے کی مجموعی کارکردگی، جاری منصوبوں اور مختلف شعبہ جات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر نے گیس بنانے والے پلانٹ، آفس، ڈیجیٹل لیب، میڈیا سیل، لائبریری، ہاسٹل اور دیگر مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ادارے میں فراہم کی جانے والی سہولیات، جدید نظام اور انتظامی امور کو سراہتے ہوئے متعلقہ حکام کی کاوشوں کی تعریف کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے کہا کہ ایسے ادارے معاشرتی ترقی، جدید تعلیم اور نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی فلاح اور تعلیمی و سماجی اداروں کی بہتری کیلئے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔

خبر نامہ 4023/2026
کوئٹہ13 مئی:ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے آئی ڈی ایس پی (IDSP) کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر صدر اور ایکسین ایریگیشن بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے آئی ڈی ایس پی جانے والے راستے اور وہاں قائم پروٹیکشن وال کا معائنہ کیا اور متعلقہ حکام سے حفاظتی اقدامات اور تعمیراتی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ ادارے اور اطراف کے علاقوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔اس کے علاؤہ ڈپٹی کمشنر نے آئی ڈی ایس پی کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کیا، جہاں ادارے کی کارکردگی، سہولیات اور جاری سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دورے کے دوران ڈاکٹر قرۃ العین نے ڈپٹی کمشنر کو ادارے کے مختلف حصوں کا وزٹ کرایا جبکہ ڈاکٹر صفدر نے ادارے کی مجموعی کارکردگی، جاری منصوبوں اور مختلف شعبہ جات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر نے گیس بنانے والے پلانٹ، آفس، ڈیجیٹل لیب، میڈیا سیل، لائبریری، ہاسٹل اور دیگر مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ادارے میں فراہم کی جانے والی سہولیات، جدید نظام اور انتظامی امور کو سراہتے ہوئے متعلقہ حکام کی کاوشوں کی تعریف کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے کہا کہ ایسے ادارے معاشرتی ترقی، جدید تعلیم اور نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی فلاح اور تعلیمی و سماجی اداروں کی بہتری کیلئے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/4024
کوئٹہ13 مئی:ـ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے صوبے کے مختلف اضلاع میں مربوط کارروائیاں کرتے ہوئے ناقص صفائی، زائدالمیعاد اشیاء، غیر قانونی کاروبار اور فوڈ سیفٹی ایس او پیز کی خلاف ورزیوں پر سخت ایکشن لیتے ہوئے ایک یونٹ سیل، 32 یونٹس پر جرمانے اور درجنوں کو اصلاحی نوٹسز جاری کردئیے ۔کوئٹہ میں کارروائی کے دوران ایک آئس کریم مینوفیکچرنگ یونٹ کو سنگین خلاف ورزیوں، ناقص صفائی، لائسنس و رجسٹریشن کی عدم موجودگی، غیر معیاری اسٹوریج، ورکرز کی ناقص ذاتی صفائی اور فوڈ سیفٹی ایس او پیز پر عدم عملدرآمد کے باعث موقع پر سیل کردیا گیا۔ مختلف اضلاع میں کیے گئے معائنے کے دوران جنرل اسٹورز، بیکریوں، ریسٹورنٹس، فاسٹ فوڈ پوائنٹس، دودھ کی دکانوں اور واٹر پلانٹس سمیت متعدد فوڈ یونٹس کی جانچ پڑتال کی گئی۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق جنرل اسٹورز سے زائدالمیعاد کولڈ ڈرنکس، بسکٹس، چپس، مصالحہ جات، جوسز اور دیگر غیر معیاری اشیاء برآمد ہوئیں جن پر جرمانے عائد کیے گئے، جبکہ بیکری یونٹس میں کھلی خوراک، بغیر لیبلنگ ( MFG/EXP تواریخ) مصنوعات، ورکرز کی ناقص ذاتی صفائی اور حشرات کی موجودگی جیسے سنگین مسائل سامنے آئے۔ ریسٹورنٹس اور فاسٹ فوڈ پوائنٹس میں کھلے کوڑے، غیر محفوظ فوڈ ہینڈلنگ، کچا اور پکا کھانا اکٹھا رکھنے، پی پی ایز کے استعمال نہ ہونے اور ممنوعہ چائنیز نمک کے استعمال جیسی خلاف ورزیاں پائی گئیں۔ملک شاپس اور واٹر پلانٹس کے معائنے کے دوران کھلے دودھ کی غیر محفوظ فروخت، ناقص اسٹوریج اور آر او پلانٹس میں رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی عدم دستیابی سامنے آئی، جس پر مالکان کو فوری بہتری کی ہدایت اور رجسٹریشن حاصل کرنے کی سخت ہدایات جاری کی گئی۔ متعدد یونٹس سے چائنیز نمک، گٹکا/ماوا، ایکسپائرڈ بسکٹس، جوسز اور غیر معیاری فوڈ کلرز بھی برآمد کرکے موقع پر تلف کر دیے گئے۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق مجموعی طور پر 159 یونٹس کا معائنہ کیا گیا، 32 یونٹس کو جرمانہ، 63 کو بہتری نوٹسز جبکہ ایک یونٹ کو سیل کیا گیا۔ مزید یہ کہ فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کی جا رہی ہیں۔حکام نے واضح کیا کہ بغیر فوڈ بزنس لائسنس کاروبار کرنا قانوناً جرم ہے اور ایسے یونٹس کو کسی صورت کام جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تمام فوڈ بزنس آپریٹرز کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر فوڈ سیفٹی ایس او پیز، حفظان صحت اصولوں اور قانونی تقاضوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں، بصورت دیگر مزید سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خبر نامہ نمبر 4025/2026
لورالائی13 مئی: کمشنر آفس میں ایڈیشنل کمشنر اعجاز احمد جعفر کی زیرِ صدارت پولیو ڈویژنل ٹاسک فورس کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اسماعیل مینگل ،ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مقبول احمد کاکڑ، این سٹاف ڈاکٹر فرحان انجم ،یو سی ایم اوز، ایریا انچارجز اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں آئندہ انسدادِ پولیو مہم کو مزید مؤثر، شفاف اور کامیاب بنانے کے لیے مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران پولیو مہم کے دوران رہ جانے والے بچوں، انکاری والدین، زیرو ڈوز بچوں، نامکمل ریکارڈ، یو سی ایم اوز اور ایریا انچارجز کی کارکردگی کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا۔ شرکاء نے فیلڈ میں ٹیموں کو درپیش مسائل، سیکیورٹی اقدامات، ویکسین کی بروقت فراہمی، ٹرانسپورٹ اور دیگر انتظامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ایڈیشنل کمشنر اعجاز احمد جعفر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ہر بچے تک پولیو ویکسین کی رسائی یقینی بنائی جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس میں پولیو ٹیموں کی ٹریننگ کے طریقہ کار، مانیٹرنگ سسٹم اور عوامی آگاہی مہم کی افادیت پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔ متعلقہ ضلعی محکموں نے سیکیورٹی پلان، حساس علاقوں میں اضافی نفری کی تعیناتی اور ٹیموں کے تحفظ کے حوالے سے بریفنگ دی۔ڈی ایچ او ڈاکٹر مقبول احمد کاکڑ نے بتایا کہ پولیو مہم کے دوران ٹیموں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کی جائے گی جبکہ انکاری والدین کو قائل کرنے کے لیے علماء، قبائلی عمائدین اور مقامی نمائندوں کا تعاون بھی حاصل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کی ٹیمیں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر بچوں کو موذی مرض سے محفوظ بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ پولیو مہم کو سو فیصد کامیاب بنانے کے لیے تمام محکمے باہمی رابطے اور مؤثر حکمت عملی کے تحت کام کریں گے تاکہ لورالائی ڈویژن کو پولیو فری بنانے کے قومی ہدف کے حصول میں اہم پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔

خبر نامہ نمبر 2026/4026
حب 13 مئی:ـڈپٹی کمشنر حب کپیٹن (ر) جمعہ داد مندوخیل کی سربراہی میں گڈانی میں کھلی کچہری، عوامی مسائل کے فوری حل کی یقین دہانی۔ ضلع حب کی انتظامیہ کی جانب سے عوامی مسائل کے حل اور براہِ راست شکایات کے اندراج کے لیے میونسپل کمیٹی گڈانی میں ایک پروقار کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری کی صدارت ڈپٹی کمشنر حب کیپٹن (ر) جمعہ داد مندوخیل نے کی، جبکہ اس موقع پر پولیس، ایف سی، مختلف ضلعی محکموں کے سربراہان، چیئرمین میونسپل کمیٹی گڈانی وڈیرہ جانشیر بلوچ اور دیگر متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔کھلی کچہری میں گڈانی اور گردونواح سے تعلق رکھنے والے عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے مسائل و شکایات براہِ راست ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کیے۔ شہریوں نے بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، بجلی کی فراہمی میں تعطل، پینے کے صاف پانی کی قلت، غیر قانونی ٹرالنگ کے باعث ماہی گیروں کو درپیش مشکلات، ڈی جی سیمنٹ کمپنی میں مقامی نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور شپ بریکنگ یارڈ میں مقامی افراد کو ملازمتوں میں ترجیح دینے جیسے اہم مسائل اجاگر کیے۔عوام کی جانب سے گڈانی کراس پر قائم شراب کی دکان کے خلاف بھی شکایات پیش کی گئیں اور مطالبہ کیا گیا کہ علاقے کے امن و امان اور نوجوان نسل کے تحفظ کے لیے اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ علاوہ ازیں طلبہ و طالبات کے لیے بسوں کی فراہمی، دور دراز علاقوں سے آنے والے طلبہ کو سفری سہولیات مہیا کرنے، سرکاری اسکولوں میں سولر سسٹم کی تنصیب اور گورنمنٹ ہائی اسکول گڈانی میں جدید کمپیوٹر لیب کے قیام کے مطالبات بھی پیش کیے گئے تاکہ طلبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم اور آئی ٹی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔مقامی ماہی گیروں اور معززین نے غیر قانونی ٹرالنگ کو سمندری حیات اور مقامی ماہی گیروں کے روزگار کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح نوجوانوں نے صنعتی اداروں اور شپ بریکنگ سیکٹر میں مقامی افراد کو روزگار نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کیا۔
ڈپٹی کمشنر حب جمعہ داد مندوخیل نے عوامی مسائل تفصیل سے سنے اور متعلقہ محکموں کے افسران کو موقع پر ہی ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ گڈانی میں پانی کے مسئلے کو بی ایس ڈی آئی فیز تھری (BSDI Phase-III) منصوبے کے ذریعے مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ بجلی، پانی، تعلیم، آئی ٹی سہولیات اور روزگار سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں اور عوامی شکایات کے ازالے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریوں کا مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان فاصلے کم کرنا اور شہریوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ عوامی فلاح و بہبود اور علاقے کی ترقی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2027/4027
گڈانی 13 مئی :ـگڈانی میں ڈپٹی کمشنر حب جمعہ داد مندوخیل کی زیر صدارت ٹاؤن آفس گڈانی میں ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں ایف سی حب کے کیپٹن سعد، چیئرمین گڈانی وڈیرہ جانشیر حمید بلوچ، چیف آفیسر حب، اسسٹنٹ کمشنر حب، اسسٹنٹ کمشنر دریجی، ایس ایچ او گڈانی، ڈی ایچ او حب، کے الیکٹرک حکام سمیت مختلف محکموں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے گڈانی موڑ پر قائم وائن اسٹور کے خلاف شکایات پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ مذکورہ دکان قواعد و ضوابط کے برخلاف قائم ہے۔ جس پر ڈپٹی کمشنر حب جمعہ داد خان مندوخیل نے موقع پر اسسٹنٹ کمشنر حب اور ایس ایچ او گڈانی کو فوری طور پر مکمل جانچ پڑتال کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر وائن اسٹور غیر قانونی ثابت ہوا تو اسے فوری طور پر سیل کیا جائے۔
عوام کی جانب سے بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور دیگر مسائل کے حوالے سے بھی شکایات پیش کی گئیں، جبکہ پانی کی قلت اور فراہمی کے مسائل پر بھی شہریوں نے تفصیلی درخواستیں جمع کروائیں۔ اس موقع پر متعلقہ حکام کو مسائل کے فوری حل کیلئے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی۔کھلی کچہری میں مقامی نوجوانوں اور علاقہ مکینوں نے ڈی جی کمپنی اور شپ بریکنگ یارڈ میں مقامی افراد کو روزگار فراہم نہ کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ عوام نے مطالبہ کیا کہ مقامی نوجوانوں کو ترجیحی بنیادوں پر ملازمتیں دی جائیں اور علاقے کی ترقی کیلئے سی ایس آر فنڈز مختص کیے جائیں۔نوجوانوں نے گڈانی میں پبلک لائبریری کے قیام کیلئے بھی درخواست پیش کی، جس پر ڈپٹی کمشنر حب نے تین ماہ کے اندر پبلک لائبریری قائم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایت جاری کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر حب جمعہ داد مندوخیل نے محکمہ فشریز کے نمائندوں کی عدم شرکت پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور حکم جاری کیا کہ محکمہ فشریز کا دفتر حب سے گڈانی منتقل کیا جائے تاکہ ساحلی علاقے کے ماہی گیروں اور مقامی افراد کے مسائل مقامی سطح پر حل کیے جاسکیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ محکمہ فشریز ساحل کے قریب اپنا دفتر تعمیر کرکے گڈانی میں مستقل بنیادوں پر اپنی خدمات انجام دے۔آخر میں ایف سی حب اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ایف سی بلوچستان کی جاری بھرتی مہم کے حوالے سے نوجوانوں کو آگاہی دی گئی۔ حکام نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ایف سی بلوچستان میں بھرتی ہو کر ملک و قوم کی خدمت میں اپنا کردار ادا کریں۔
خبر نامہ نمبر 2026/4028
کوئٹہ/گوادر 13 مئی:_گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کے تحت پائیدار، متوازن، عوام دوست ترقیاتی عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور بلیدی کی زیر صدارت گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مجوزہ 10 سالہ ترقیاتی پروگرام کا ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں گوادر شہر کی مستقبل کی ترقی، بنیادی شہری سہولیات، مقامی آبادی کی ضروریات، ماہی گیروں کی فلاح و بہبود اور اولڈ ٹاؤن کی بحالی سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ڈویلپمنٹ زاہد سلیم، ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان، چیف انجینئر فیڈرل پروجیکٹس ڈاکٹر سجاد بلوچ، چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ شاہد علی، چیئرمین تحصیل میونسپل کمیٹی گوادر ماجد جوہر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے جی ڈی اے کی جانب سے مرتب کردہ مجوزہ 10 سالہ ترقیاتی پروگرام پر بریفنگ دی، جس میں روڈ سیکٹر میں شاہراؤں کی تعمیر و توسیع، نئے واٹر سپلائی لائن، 20 لاکھ گیلن کا واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ، انڈر گراؤنڈ پاور کیبلنگ، سولرائزیشن، ماحولیاتی بہتری کیلئے نئے درخت لگانے، گراب بیچ پارک، سیاحتی ترقی کیلئے جی ڈی اے کلب، فارنرز ریزورٹ، کوسٹل بیچ ریزورٹ و انفراسٹرکچر، سیوریج، ڈرینج، فشریز، ریونیو جنریشن، بزنس ماڈلز اور جدید شہری منصوبہ بندی کے مختلف منصوبے تجویز کی گئی ہیں۔ سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ، اسپشل اکنامک زون، جی ڈی اے ہاؤسنگ سکیم، ماسٹر پلان کی مائیکرو پلاننگ پر عملدرآمد سمیت دیگر تجاویز بھی ائندہ ترقیاتی پروگرام کے حصہ ہیں۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے کہا کہ مجوزہ ترقیاتی پروگرام گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کی گائیڈ لائنز کے تحت تیار کیا گیا ہے، جو ماسٹر پلان کے دوسرے مرحلے 2025-2035 کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد گوادر کو آنے والے برسوں میں ایک جدید، پائیدار اور عالمی معیار کے معاشی و تجارتی مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام میں ایسے ترقیاتی منصوبے تجویز کیے گئے ہیں جو مستقبل کی شہری ضروریات اور جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے ہیں تاکہ گوادر میں بنیادی سہولیات، شہری خوبصورتی، ماحولیاتی تحفظ، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان کی پالیسی کے مطابق گوادر کی ترقی کو مقامی آبادی کے مفادات سے ہم آہنگ بنایا جا رہا ہے تاکہ ترقی کے ثمرات براہ راست یہاں کے عوام تک منتقل ہوں۔ ان منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد سے نہ صرف شہر کا انفراسٹرکچر بہتر ہوگا بلکہ جی ڈی اے کی مالی خودمختاری اور شہر کی معاشی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل میں مقامی آبادی کی ضروریات، عوامی مشاورت اور زمینی حقائق کو اولین ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت گوادر کی ترقی کو صرف بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ ایسی ترقی چاہتی ہے جس سے عام شہری، مقامی نوجوان، ماہی گیر اور کاروباری طبقہ براہ راست مستفید ہو۔انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے ایسے بزنس ماڈلز اور ریونیو جنریشن منصوبے سامنے لائے جن کی مستقبل میں کامیابی یقینی ہو اور جو ادارے کو مالی و معاشی طور پر خودمختار بنانے میں معاون ثابت ہوں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ ایسے پائیدار معاشی ماڈلز بھی ناگزیر ہیں جو مستقبل میں جی ڈی اے کی استعداد اور مالی استحکام کو مضبوط بنا سکیں۔صوبائی وزیر نے مزید ہدایت دی کہ جی ڈی اے اپنے مجوزہ ترقیاتی پروگرام کا دوبارہ تفصیلی جائزہ لے، اسے موجودہ وسائل، ترقیاتی ترجیحات اور زمینی حقائق کے مطابق مزید ریشنلائز کرے، جس کے بعد اس پروگرام کو وزیر اعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں پیش کیا جائے گا تاکہ اس کی حتمی منظوری اور ترجیحی بنیادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت محدود وسائل کے باوجود گوادر کی ترقی اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ گوادر کی ترقی کو جدید تقاضوں، عوامی ضروریات اور مقامی آبادی کے مفادات کے مطابق آگے بڑھایا جائے گا تاکہ گوادر نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک کامیاب معاشی، تجارتی اور ساحلی شہر کے طور پر ابھر سکے۔رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن نے اجلاس میں کہا کہ جی ڈی اے نے اولڈ ٹاؤن بحالی سمیت مختلف اور متعدد ترقیاتی اسکیمیں مکمل کی ہیں، جن کے باعث شہری انفراسٹرکچر، خوبصورتی اور نکاسی آب کے نظام میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں کے دوران شہر کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں کافی بہتر رہی، تاہم گوادر شہر، سربندر اور پشکان کے مختلف علاقوں میں اب بھی سڑکوں، گلیوں، سیوریج، ڈرینج اور بنیادی شہری سہولیات کی شدید ضرورت موجود ہے، جنہیں مجوزہ ترقیاتی پروگرام میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کرنا ناگزیر ہے۔اجلاس میں چیف انجینئر فیڈرل پروجیکٹس ڈاکٹر سجاد بلوچ نے ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی منصوبے شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت ماہی گیروں سے متعلق منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر فنڈ فراہم کرے گی۔ انہوں نے گوادر نادرن بائی پاس منصوبے کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ذریعے مکمل کرنے کی تجویز بھی پیش کی تاکہ شہر میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرتے ہوئے مستقبل کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے جدید روڈ نیٹ ورک مہیا کیا جا سکے۔

خبر نامہ نمبر 2026/4029
گوادر 13 مئی: ـ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے واضح احکامات اور ریاستی رٹ کے قیام کے وژن کے تحت ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی خصوصی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے کلانچی پھاڑا کے علاقوں میں دوسرے روز بھی سرکاری اراضی پر قائم غیر قانونی تعمیرات، ناجائز تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف بھرپور، سخت اور فیصلہ کن آپریشن جاری رکھا۔ کارروائی کے دوران متعدد غیر قانونی ڈھانچے مسمار کر دیے گئے جبکہ قیمتی سرکاری اراضی واگزار کرا لی گئی۔آپریشن کی قیادت اسسٹنٹ کمشنر طارق بلوچ اور اسسٹنٹ کمشنر سرفراز رحمدل نے کی، جبکہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور اینٹی انکروچمنٹ ٹیموں نے مشترکہ کارروائی میں حصہ لیا۔ بھاری مشینری کے ذریعے غیر قانونی تعمیرات کو مکمل طور پر ختم کیا گیا جبکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری موقع پر تعینات رہی۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق بعض عناصر منظم انداز میں سرکاری اراضی پر ناجائز قبضے، غیر قانونی پلاٹنگ اور تعمیرات میں ملوث تھے، جن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ ریاستی زمینوں پر قبضہ، تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی اور قانون شکن عناصر کے خلاف سخت قانونی شکنجہ مزید سخت کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ سرکاری اراضی کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق قبضہ مافیا، لینڈ گریبرز اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلا رعایت کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضے اور غیر قانونی تعمیرات میں ملوث افراد کے خلاف نہ صرف فوری آپریشن کیا جائے گا بلکہ مقدمات کے اندراج، گرفتاریوں اور دیگر سخت قانونی اقدامات بھی عمل میں لائے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مفاد، شہری نظم و ضبط اور ریاستی رٹ کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے، جبکہ قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے ساتھ کسی قسم کی نرمی یا رعایت نہیں برتی جائے گی۔ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ سرکاری اراضی پر کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی، قبضے یا تجاوزات سے مکمل اجتناب کریں، بصورت دیگر خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/4030
تربت13 مئی:ـتربت یونیورسٹی میں ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹس افیئرز کے زیراہتمام سچائی کے فروغ اور پروپیگنڈہ و جھوٹی خبروں کے سدباب میں نوجوانوں کے کردار کے عنوان پر ایک آن لائن سیشن کا انعقاد کیا گیا۔اس سیشن میں تربت یونیورسٹی کے علاوہ بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار کے مین کیمپس اور تربت سب کیمپس، لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر، واٹر اینڈ میرین سائنسز اوتھل، گوادر یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف مکران پنجگور کے اساتذہ، انتظامی عملے اور طلبہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔معروف دانشور، سماجی و سیاسی شخصیت اور ممتاز مقرر محمد عبداللہ حمید گل نے بطور ریسورس پرسن ویڈیو لنک کے ذریعے سیشن میں شرکت کی، جبکہ تربت یونیورسٹی کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز اعجاز احمد نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ اس موقع پر رجسٹرار گنگزار بلوچ، ڈائریکٹر اسٹوڈنٹس افیئرز چاکر حیدر، اساتذہ کرام، انتظامی عملہ اور طلبہ نے بھی شرکت کی۔اپنے خطاب میں مرکزی مقرر محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ نوجوان معاشرے میں سچائی کے علمبردار اور امن کے سفیر ہوتے ہیں۔ انہوں نے عالمی و علاقائی صورتحال، خطے کو درپیش چیلنجز اور عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی خبر کو آگے بڑھانے سے قبل اس کی تصدیق ضرور کریں۔انہوں نے شرکاء کی جانب سے بلوچستان، علاقائی اور عالمی امور سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جامع اور مدلل جوابات بھی دیے۔سیشن کے اختتام پر تربت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی جانب سے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز نے مہمان خصوصی محمد عبداللہ حمید گل اور تمام شریک جامعات کے اساتذہ، انتظامیہ اور طلبہ کا سیشن میں شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

خبر نامہ نمبر 4031/2026
کوئٹہ13 مئی:ـوزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے بدھ کے روز یہاں مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے ملاقاتیں کیں، جن میں صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال، باہمی دلچسپی کے امور اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات کرنے والوں میں نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان، سابق صوبائی وزراء نواب ایاز جوگیزئی اور عبدالرحیم زیارتوال، جبکہ ملک غفار ناصر، ملک مرزا خان اور اقصیٰ میروانی شامل تھیں ملاقاتوں کے دوران صوبے میں سیاسی ہم آہنگی کے فروغ، ترقیاتی عمل کی رفتار بڑھانے، عوامی مسائل کے حل اور مختلف جاری منصوبوں سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے میں سیاسی ہم آہنگی، باہمی مشاورت اور مفاہمتی عمل کے فروغ پر یقین رکھتی ہے انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی و سماجی حلقوں کو ساتھ لے کر چلنا اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کاوشیں کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

خبر نامہ نمبر 4032/2026
گوادر/اورماڑہ13مئی :۔ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے دورہ? اورماڑہ کے موقع پر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) کے پمپنگ اسٹیشن اور جاری و مکمل شدہ ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران ان کے ہمراہ تھے۔دورے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری، اسسٹنٹ کمشنر طارق بلوچ، ایس ڈی او پی ایچ ای صلاح الدین بلوچ، ایس ڈی او بی اینڈ آر جنید کاشانی، تحصیلدار اورماڑہ نورخان بلوچ سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔
خبر نامہ نمبر 4033/2026
موسیٰ خیل 13 مئی:۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے وژن اور ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خان خجک کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر درگ گل نواز بلوچ نے سب ڈویژن کے مختلف علاقوں میں تعلیمی اداروں اور جاری تعمیراتی کاموں کا اچانک دورہ کیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے گورنمنٹ بوائز ہاء اسکول درگ کا معائنہ کیا، جہاں تمام اسٹاف حاضر پایا گیا۔ انہوں نے ہیڈماسٹر کو ہدایت کی کہ طلباء کے لیے اسکول یونیفارم کی پابندی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔تونسہ شبوزئی روڈ کے پیکیج 06 پر جاری تعمیراتی کام کے معیار کا جائزہ لیا گیا، جس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ٹھیکیدار کو مقررہ وقت میں کام مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔نیلی کے مقام پر زیرِ تعمیر پولیس چیک پوسٹ ”ڈب” (BSDI فیز 1) کا معائنہ کیا گیا۔ کام کا معیار بہتر پایا گیا اور ٹھیکیدار کو بروقت تکمیل کے احکامات جاری کیے گئے۔درگ بازار روڈ (BSDI فیز 1) کے معائنے کے دوران تعمیراتی کام میں کنکریٹ کی کیورنگ (ترائی) کی کمی پائی گئی، جس پر متعلقہ ٹھیکیدار کو معیار برقرار رکھنے اور کوتاہی دور کرنے کی سخت تنبیہ کی گئی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر درگ نے واضح کیا کہ عوامی منصوبوں میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور تمام پراجیکٹس کی شفافیت اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 4034/2026
ضلع چمن 13مئی :۔آل بلوچستان بنیان المرصوص معرکہ حق کرکٹ ٹورنامنٹ کاصادق کرکٹ گراونڈ چمن میں شاندار افتتاح کر دیا گیا۔ تقریب کا افتتاح اے ڈی سی چمن فدا بلوچ اور کمانڈنٹ چمن سکاؤٹس بریگیڈ بریگیڈیئر شکیل احمد نے کیا جبکہ سی او چالیس ایف ایف لیفٹیننٹ کرنل محمد عثمان، ڈسٹرکٹ چیرمین حاجی امان اللہ اچکزئی، جمعیت علماء اسلام تحصیل امیر مولانا مفتی محمد قاسم، قبائلی مشر حاجی ملک عبدالخالق اچکزئی، چمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر و چیرمین ٹریڈ ایسوسی ایشن حاجی عمران خان کاکڑ، ممتاز عالم دین قاری محمد اسلم علم یار، سوشل ایکٹوسٹ محمد علی اچکزئی، پاکستان مسلم لیگ ق ڈاکٹر رفیع اللہ، حاجی محمد صدیق المعروف اچکزئی صاحب، صالحزئی قوم کے سربراہ خان عبدالغفار خان،رفیع اللہ ٹھیکدار،اقلیتی برادری ویندر کمار،دولت زئی قومی اتحاد،ملک عبدالحمید خان اور دیگر نے شرکت کی۔ افتتاحی تقریب کا آغاز قومی ترانے سے ہوا۔ یونین ٹائیگرز کرکٹ کلب نے ٹاس جیت کر مقررہ 20 اوورز میں 178 رنز کا ہدف کوژک کرکٹ کلب کو دیا جواب میں ہدف کے تعاقب میں کوژک کرکٹ کلب 156 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔اس موقع پر اے ڈی سی چمن کمانڈر چمن سکاوٹس برگیڈ برگیڈئیر شکیل احمد اور دیگر مہمان گرامی کا دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے ساتھ تعارف کرایا گیا جبکہ اے ڈی سی چمن فدا بلوچ اورکمانڈر چمن سکاوٹس برگیڈ برگیڈئیر شکیل نے پیچ پر کھڑے ہوکر سی او چالیس ایف ایف اور قبائلی مشر ملک عبدالخالق کے بال پر شارٹ لگا کر ٹورنامنٹ کا باقاعدہ آغاز کیا۔کھلاڑیوں اور آفیشلز سے اپنے اپنے مختصر خطاب میں اے ڈی سی چمن کمانڈر چمن سکاوٹس نے کہا کہ کھیل کے فروغ کے لئے ضلعی انتظامیہ ایف سی چمن سکاوٹس برگیڈ ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں تا کہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جا سکیں انہوں نے کہا کہ جہاں کھیل کے میدان آباد ہوں تو وہاں ہسپتال ویران ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ بنیان المرصوص صرف ایک آپریشن نہیں تھا یہ پاکستانی قوم کی غیرت، پاک فوج کی بہادری اور اللّٰہ کی مدد کی نشانی تھی۔ آپریشن بنیان المرصوص کو ایک سال ہو گیا لیکن یہ جیت آج بھی قوم کے دلوں میں زندہ ہے۔ یہ صرف ایک آپریشن نہیں تھا، یہ پاکستانی قوم کی غیرت، پاک فوج کی بہادری اور اللّٰہ کی مدد کی نشانی تھی۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو آج نفرت نہیں امن برداشت اور انسانیت کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے مگر جب وطن کی حرمت پر آنچ آئے تو پوری قوم ایک دیوار بن جاتی ہے۔آپریشن بنیان المرصوص نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ طاقت صرف ہتھیاروں میں نہیں بلکہ اتحاد، ایمان اور سچائی میں ہوتی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر کھلاڑیوں اور آفیشلز میں بنیان المرصوص معرکہ حق کے پرینٹیڈ شرٹس بھی تقسیم کئے جبکہ ٹورنامنٹ آرگنائزر اختر گلفام کو بہترین ایونٹ شروع کرنے پر سراہا گیا ٹورنامنٹ کے پہلے دن دو میچز کھیلیں گئے الخدمت کرکٹ کلب اور یونین ٹائیگرز کرکٹ کلب نے اگلے راونڈ کے لئے کوالیفائی کر لیا۔
خبر نامہ نمبر 4035/2026
ضلع چمن 13مئی :۔سپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن ر عبدالخالق خان اچکزئی کے خصوصی فنڈز سے سپینہ تیژہ میں حاجی حبیب اللہ عثمانزئی ڈیم پر ترقیاتی کام کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔اس اہم منصوبے کا مقصد علاقے میں پانی ذخیرہ کرنے کی سہولت بہتر بنانا، زراعت کو فروغ دینا اور عوام کو درپیش پانی کے مسائل میں کمی لانا ہے۔ علاقہ مکینوں، قبائلی عمائدین اور سیاسی و سماجی شخصیات نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے سپیکر بلوچستان اسمبلی کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر منصوبے کی کامیابی اور علاقے کی ترقی کیلئے خصوصی دعا بھی کی گئیں
خبر نامہ نمبر 4036/2026
ضلع چمن 13مئی :۔چمن شہر و اطراف میں امن و امان کی قیام کیلئے شہر کے خارجی و داخلی راستوں پر گشت کے دوران ناکوں پولیس چوکیوں اور سنیپ چیکنگ کے دوران مشکوک گاڑیوں موٹر سائیکلوں اور پیدل چلنے والوں کی جامع تلاشی اور تفتیش کا سلسلہ جاری ہے ایس ایچ او پولیس تھانہ ژڑہ بند سب انسپکٹر محمد حنیفاء نے پولیس اہلکاروں کے ہمراہ شہر و اطراف میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے، جرائم پیشہ عناصر کی نقل و حرکت کی روک تھام اور مشکوک افراد کی نگرانی کے سلسلے میں مختلف مقامات پر ناکہ بندیاں قائم کرکے سنیپ چیکنگ کا آغاز کیا۔ اور پولیس فورس کی طرف سے گشت کے دوران اور ناکوں پر تفتیش کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے دورانِ چیکنگ آنے جانے والی گاڑیوں، موٹرسائیکلوں اور مشتبہ افراد کی جامع تلاشی اور مکمل جانچ پڑتال کی جاتی ہے اس دوران پولیس فورس نیمتعدد گاڑیوں کی کالے شیشے صاف کئے گئے جبکہ ڈبل سواری کرنے والے موٹرسائیکل سواروں کو چیکنگ جاری رہی تاکہ اس موقع پر انسپیکٹر محمد حنیفیاء نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد کسی بھی ناخوشگوار واقعہ، جرائم پیشہ سرگرمی یا امن و امان میں خلل ڈالنے والے عناصر کی بروقت نشاندہی اور روک تھام کو ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے یہ کارروائیاں عوام کے جان و مال کے تحفظ اور علاقے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی۔

خبر نامہ نمبر 4037/2026
کوئٹہ، 13 مئی :۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع بارکھان کے علاقے نوشم میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران جوانوں کی شہادت پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وطن کے دفاع اور امن کے قیام کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر سپوت قوم کا فخر ہیں سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے شہداء میجر توصیف احمد بھٹی، نائب فدا حسین، سپاہی ذاکر حسین، سپاہی سہیل احمد اور سپاہی محمد ایاز کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی عظیم قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور قوم ان پر فخر کرتی ہے انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے بہادر جوانوں نے جرات اور بہادری کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے سات دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا وزیراعلیٰ نے کہا کہ وطن کے دفاع، امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قربانیاں دینے والے قوم کے حقیقی ہیرو ہیں جن کی قربانیوں کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کار کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں اور ریاست دشمن قوتوں کے مذموم عزائم ہر صورت ناکام بنائے جائیں گے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام، دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور عوام کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں قابلِ فخر، قابلِ ستائش اور ناقابلِ فراموش ہیں حکومت بلوچستان سیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی اور صوبے میں امن و استحکام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *