28th-October-2026

خبر نامہ نمبر 9385/2026
کوئٹہ 28 اکتوبر۔ وزیر اعظم پاکستان کے وژن کے تحت اکاونٹنٹ جنرل بلوچستان کے دفتر میں بروز منگل، 3 نومبر 2026 کو صبح 11 بجے کھلی کچہری منعقد کی جائے گی، جس میں اکاونٹنٹ جنرل بلوچستان ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران (DDOs)، صوبائی سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے مسائل سنیں گے اور ان کے فوری حل کے لیے موقع پر ہی ضروری احکامات جاری کریں گے۔اکاونٹنٹ جنرل بلوچستان نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کھلی کچہری اور شکایات سیل جیسی سہولیات سے بھرپور استفادہ کریں اور اپنے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے متعلقہ دفتر سے رابطہ کریں، تاکہ شکایات کا بروقت ازالہ یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9386/2026
کوئٹہ، 28 اکتوبر۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے ذریعے توجہ حاصل کرنے والے ڈھابے پر کام کرنے والے یتیم بچے منیر احمد سمیت پانچ بہن بھائیوں اور ان کی والدہ کی مکمل کفالت کی ذمہ داری اٹھا لی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سے منیر احمد نے ملاقات کی، جس کے دوران میر سرفراز بگٹی نے بچوں کی مشکلات اور حالاتِ زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور ان کی بہتر تعلیم و تربیت اور محفوظ مستقبل کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ نے منیر احمد، اس کے چھوٹے بھائی اور تینوں بہنوں کو تعلیمی اداروں میں داخل کرانے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ بچوں کو تعلیم کے ساتھ مناسب رہائش اور دیگر ضروری سہولیات بھی فراہم کی جائیں تاکہ وہ گھریلو مسائل اور معاشی مشکلات سے آزاد ہو کر اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ میر سرفراز بگٹی نے پانچوں بچوں اور ان کی والدہ کی کفالت کی ذمہ داری خود اٹھاتے ہوئے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ خاندان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے اور بچوں کی تعلیم، رہائش اور فلاح و بہبود کے لیے موثر اقدامات یقینی بنائے جائیں اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اپنے عملے کے ذریعے ذاتی اخراجات سے بچوں کو موسم سرما کے لیے گرم کپڑوں اور دیگر ضروری اشیا کی خریداری بھی کروائی۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کو سرد موسم میں درکار بنیادی سہولیات فراہم کرنا تھا۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ معاشرے کے بے سہارا اور ضرورت مند بچوں کی تعلیم، تربیت اور بہتر زندگی کے مواقع کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9387/2026
بارکھان، 28 اکتوبر ۔ ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کاکڑ کی زیرِ صدارت کیمیکل و پریکرسرز کی نگرانی اور پریکرسرز ٹریکنگ اینڈ ٹریس ایبلٹی سسٹم (PTTS) کے موثر نفاذ کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعلقہ محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کیمیکل و پریکرسرز کے ذخیرے، ترسیل، نقل و حرکت اور استعمال کی نگرانی، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام اور متعلقہ ریکارڈ کی درستگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سعید الرحمٰن کاکڑ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ پریکرسرز کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جائے اور PTTS کے تحت تمام متعلقہ معلومات اور ریکارڈ بروقت اپ ڈیٹ کیے جائیں۔ انہوں نے محکموں کے درمیان موثر رابطہ کاری اور معلومات کے تبادلے کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9388/2026
گوادر 28 اکتوبر ۔جامعہ گوادر کے زیرِ اہتمام انڈس ہسپتال گوادر اور پنک ربن پاکستان کے اشتراک سے بریسٹ کینسر سے آگاہی اور جینیٹکس کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد ہوا، جس کا مقصد خواتین میں بریسٹ کینسر سے متعلق شعور اجاگر کرنا اور خطرات کی بروقت شناخت و ابتدائی تشخیص کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔ سیمینار میں ماہرینِ صحت نے بریسٹ کینسر کی علامات، جینیاتی عوامل، احتیاطی تدابیر اور بروقت طبی معائنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ بیماری کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص موثر علاج اور بہتر صحت کے نتائج کے لیے نہایت اہم ہے۔ سیمینار کی کلیدی مقرر ڈاکٹر شازیہ، گائناکالوجسٹ، انڈس ہسپتال گوادر نے بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی اور خواتین کی صحت کے حوالے سے گفتگو کی۔ پینل ڈسکشن میں ڈاکٹر یاسر طاہر، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر، مس شلی انور، جینیٹک کونسلر و لیکچرر کیمسٹری ڈپارٹمنٹ جامعہ گوادر، اور ڈاکٹر رفعت وہاب، شعب سرجری، انڈس ہسپتال نے شرکت کی۔ پینل کی نظامت مس سنگین ولید، لیکچرر کیمسٹری ڈپارٹمنٹ جامعہ گوادر نے انجام دی۔ اس موقع پر ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز، پروفیسر جان محمد، ڈین فیکلٹی آف سائنس اینڈ انجینئرنگ، ڈاکٹر محب اللہ، انڈس ہسپتال کے ہیڈ آف کیمپس ڈاکٹر ناصر شیخ، کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر رحیم مہر ، جامعہ گوادر کے اساتذہ، انتظامی افسران اور دیگر شرکاء نے شرکت کی۔ سیمینار کے اختتام پر پنک ربن پاکستان کے لیے جامعہ گوادر کی فوکل پرسن میڈم شمع سلیمان نے وائس چانسلر جامعہ گوادر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کی جانب سے شرکاء کو یادگاری شیلڈز پیش کیں۔ بعد ازاں شرکاء نے جامعہ گوادر کے احاطے میں آگاہی واک کی، جس کا مقصد بریسٹ کینسر سے متعلق شعور اجاگر کرنا اور خواتین کو بروقت تشخیص و احتیاطی تدابیر اپنانے کی ترغیب دینا تھا
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9389/2026
گوادر28 اکتوبر۔ رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے آج رات انڈس ہسپتال گوادر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ہسپتال کے مختلف وارڈز کا معائنہ کیا اور زیرِ علاج مریضوں اور ان کے لواحقین سے ملاقات کرکے خیریت دریافت کی۔ اس موقع پر انہوں نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور انہیں درپیش مشکلات کے بارے میں معلومات حاصل کیں مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر احتجاج کرنے والے ہسپتال کے سیکیورٹی گارڈز سے بھی ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ہسپتال کے ایچ او سی سے رابطہ کرکے تنخواہوں کے اجرا میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور متاثرہ ملازمین کو ان کی واجب الادا تنخواہوں کی ادائیگی یقین دہانی کرائی رکن صوبائی اسمبلی نے اس بات پر زور دیا کہ صحت عامہ کی سہولیات کی موثر فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں، جبکہ ہسپتال میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کے جائز مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں، تاکہ طبی خدمات کا تسلسل برقرار رہے اور عوام کو بہتر صحت کی سہولیات میسر آسکیںدورے کے موقع پر حق دو تحریک بلوچستان کے ضلعی چیئرمین اکرم فدا اور جنرل سیکریٹری بابر شہزاد بھی ان کے ہمراہ تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9390/2026
گوادر28 اکتوبر۔ ضلعی اکاونٹس آفیسر گوادر سوبان بلوچ نے ضلع کے تمام ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران کو ہدایت کی ہے کہ سرکاری ملازمین کے قومی شناختی کارڈ نمبرز کی ایس اے پی (SAP) سسٹم میں درستگی کے لیے مکمل کیسز 31 دسمبر 2026 تک ضلعی اکاونٹس آفس میں جمع کروائیں محکمہ خزانہ حکومتِ بلوچستان کی ہدایات کے مطابق، متعلقہ کیسز کے ساتھ ڈی ڈی او کے دستخط شدہ اصل چینج فارم، شناختی کارڈ کی تصدیق شدہ نقول، نادرا ویری سِس رپورٹ اور ڈی ڈی او کا تصدیقی سرٹیفکیٹ منسلک کرنا لازمی ہوگا ضلعی اکاونٹس آفیسر کے مطابق، اگر کوئی شناختی کارڈ نمبر پہلے ہی کسی دوسرے حاضر سروس یا سابق ملازم کے نام پر درج پایا گیا تو متعلقہ کیس مزید کارروائی کے لیے محکمہ خزانہ حکومتِ بلوچستان کو ارسال کیا جائے گا انہوں نے تمام متعلقہ افسران پر زور دیا کہ مقررہ مدت میں مکمل اور درست دستاویزات جمع کروائیں تاکہ سرکاری ریکارڈ کی درستگی اور مالیاتی امور میں شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9391/2026
گوادر 28 اکتوبر ۔ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر (کالجز) مکران ڈویژن پروفیسر برکت اسماعیل نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج گوادر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے فیکلٹی ممبران کے ساتھ اجلاس میں تعلیمی و تدریسی سرگرمیوں، طالبات کی حاضری اور کالج کے انتظامی امور کا جائزہ لیا اس موقع پر کالج کے پرنسپل سبین بلوچ نے ڈویڑنل مانیٹرنگ آفیسر مکران کو کالج کے کارکردگی اور اب تک کی پیش رفت سے انہیں آگاہ کیا ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر مکران ڈویژن پروفیسر برکت اسماعیل نے طالبات کی حوصلہ افزا تعداد اور بہترین حاضری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے معیاری تعلیم کے فروغ، تدریسی عمل میں بہتری اور طالبات کی تعلیمی استعداد بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی موثر نگرانی، اساتذہ کی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور طالبات کے لیے سازگار تعلیمی ماحول کا قیام تعلیمی معیار میں بہتری کے لیے نہایت اہم ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9392/2026
گوادر28 اکتوبر۔ صوبائی حکومت کے عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے وژن کے تحت ادارہ ترقیات گوادر کی زیرِ نگرانی میرین ڈرائیو پر پلیری کور ہور کے مقام پر کازوے کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے منصوبے سے پشکان سمیت گردونواح کے علاقوں میں آمدورفت کو بہتر بنانا اور بارشوں کے دوران عوام کو درپیش سفری مشکلات میں کمی لانا ہے۔ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان کی ہدایات پر سپرنٹنڈنگ انجینئر روڈز نادر بلوچ نے گزشتہ دنوں اپنی ٹیم کے ہمراہ تعمیراتی سائٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے منصوبے پر جاری کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور تعمیراتی سرگرمیوں کا معائنہ کیا واضح رہے کہ صوبائی حکومت گوادر شہر اور گردونواح میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، سفری سہولیات کے فروغ اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9393/2026
گوادر 28 اکتوبر ۔جامعہ گوادر اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز پاکستان نے تعلیمی و تحقیقی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے، جس میں بالخصوص بلیو اکانومی، چین پاکستان اقتصادی راہداری اور میرین بائیوٹیکنالوجی پر توجہ دی جائے گی۔ اس سلسلے میں دونوں اداروں کے نمائندوں کے درمیان آن لائن اجلاس منعقد ہوا۔ جامعہ گوادر کی جانب سے رجسٹرار ڈاکٹر دولت خان، ڈپٹی رجسٹرار عبدالماجد کے علاوہ شعبہ کیمسٹری کی لیکچرر سنگین ولید، شعبہ زولوجی کی لیکچرر عتیقہ بلوچ اور شعبہ اکنامکس کی چئیرپرسن شمع سلیمان نے شرکت کی، جبکہ NIMA پاکستان کی نمائندگی ڈائریکٹر کمانڈر اویس انور، ڈپٹی ڈائریکٹر لیفٹیننٹ کمانڈر ڈاکٹر وقاص اور تحقیقی عملے نے کی۔ اجلاس کا اہم فیصلہ جامعہ گوادر کے طلبہ کو NIMA پاکستان میں انٹرن شپ کے مواقع فراہم کرنا تھا، جس کے ذریعے طلبہ کو بحری امور، بلیو اکانومی، سی پیک سے متعلق اقدامات اور میریئن بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں میں عملی تجربہ اور پیشہ ورانہ مہارتیں حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ اجلاس میں گوادر یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران نے بحری مطالعات اور سمندری تحقیق میں اپنے اپنے شعبوں کے ممکنہ کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں اداروں نے مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور باہمی دلچسپی کے دیگر علمی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ اجلاس کے اختتام پر جامعہ گوادر کے رجسٹرار ڈاکٹر دولت خان نے NIMA پاکستان کے تعاون اور طلبہ کے لیے انٹرن شپ کے مواقع فراہم کرنے کے عزم پر شکریہ ادا کیا۔ دونوں اداروں نے انٹرن شپ کے انتظامات کو حتمی شکل دینے، طلبہ کے انتخاب اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں کی نشاندہی کے لیے باہمی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اس تعاون سے گوادر اور دیگر علاقوں میں طلبہ کے لیے عملی تعلیمی مواقع، بین الشعبہ جاتی تحقیق اور بحری امور سے متعلق علمی سرگرمیوں کے فروغ میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9394/2026
گوادر / نگور شریف 28 اکتوبر۔ ڈسٹرکٹ چیئرمین گوادر شئے مختار نے گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول نگور شریف کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے تدریسی عمل، طلبہ کی تعلیمی استعداد اور اساتذہ کی حاضری کا جائزہ لیا اور مختلف کلاسوں میں طلبہ سے تعلیمی اور عمومی معلومات کے سوالات کیے، جن کے طلبہ نے اعتماد کے ساتھ جوابات دینے پر انہوں نے طلبہ کی کارکردگی کو سراہا جبکہ اسکول کے حاضری رجسٹر اور دیگر ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران دو اساتذہ غیر حاضر پائے گئے، جس پر ڈسٹرکٹ چیئرمین نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ذمہ داران کو غیر حاضر اساتذہ کے خلاف فور نوٹس لینے کی ہدایت کی ضلعی چیئرمین شئے مختار نے واضح کیا کہ تعلیم کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت اور لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اساتذہ کی بروقت حاضری اور تدریسی ذمہ داریوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے تاکہ طلبہ کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع نہ ہو اور انہیں معیاری تعلیم کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9395/2026
بارکھان: 28 اکتوبر ۔ضلع بارکھان میں این-70 بیواٹا تا دادا حاجی روڈ فیز ون کے تحت بلیک ٹاپ (بی ٹی) سڑک کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے۔ منصوبے پر تعمیراتی سرگرمیاں ایگزیکٹو انجینئر روڈز، محکمہ مواصلات و تعمیرات ضلع بارکھان کی نگرانی میں جاری ہیں، جس کا مقصد علاقے میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا اور عوام کو آمدورفت کی بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔یہ اہم ترقیاتی منصوبہ علاقے میں سفری سہولیات کی بہتری، رابطہ سڑکوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور مقامی آبادی کو درپیش سفری مشکلات میں کمی لانے کے حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ سڑک کی تعمیر سے نہ صرف آمدورفت میں آسانی پیدا ہوگی بلکہ مقامی لوگوں کو مختلف علاقوں تک رسائی میں بھی سہولت میسر آئے گی۔منصوبے کی تکمیل سے علاقے میں سفری وقت اور مشکلات میں کمی آنے کے ساتھ ساتھ تجارتی سرگرمیوں اور عوامی نقل و حرکت کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔ معیاری سڑکوں کی تعمیر سے علاقے کے بنیادی ڈھانچے کو مستحکم بنانے اور عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔حکومتِ بلوچستان کی ترقیاتی ترجیحات کے تحت سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے اور دور دراز علاقوں کو ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ این-70 بیواٹا تا دادا حاجی روڈ فیز ون کی تکمیل سے علاقے میں رابطوں کے نظام کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9396/2026
اورماڑہ28 اکتوبر۔صوبائی حکومت کی تعلیم دوست پالیسی کے تحت سرکاری تعلیمی اداروں میں معیارِ تعلیم کی بہتری اور تعلیمی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر اورماڑہ ڈاکٹر ماہ نور بارکت نے مزید چار سرکاری اسکولوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول اسلامیہ لین، گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول جونا لین، گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول کوہ بن اور گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول کوہ بن میں تعلیمی سرگرمیوں اور دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا اور اساتذہ کی حاضری، طلبہ کے داخلوں، تدریسی عمل، بنیادی ڈھانچے اور مجموعی تعلیمی ماحول کا معائنہ کیا گیا۔ ان دوروں کا مقصد تعلیمی اداروں کی کارکردگی کی نگرانی، تدریسی عمل کو موثر بنانا اور طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے سازگار ماحول یقینی بنانا ہے۔اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر ماہ نور بارکت کی جانب سے سرکاری اسکولوں کے مسلسل دورے تعلیمی شعبے میں نگرانی کے عمل کو موثر بنانے اور تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہیں، تاکہ طلبہ کی تعلیمی ضروریات پر توجہ دیتے ہوئے سرکاری تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط اور تدریسی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9397/2026
برشور:28 اکتوبر ۔مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف ملک بھر کی طرح ضلع برشور میں بھی “یومِ سیاہ کشمیر” روایتی جوش و جذبے اور اتحاد و یکجہتی کے عزم کے ساتھ منایا گیا،اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ برشور کے زیرِ اہتمام ڈی سی کمپلیکس میں ایک مرکزی ریلی کا انعقاد کیا گیا اور ساتھ ہی تمام تعلیمی اداروں میں خصوصی تقریبات منعقد کی گئیں۔ڈپٹی کمشنر برشور فلائٹ لیفٹیننٹ(ر) خالد شمس کی قیادت میں نکالی جانے والی اس بڑی ریلی میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) عبدالستار دشتی،اسسٹنٹ کمشنر برشور سید رضی ہریرہ،اور اسسٹنٹ کمشنر توبہ کاکڑی معید جاموٹ سمیت تمام سرکاری محکموں کے افسران،معززینِ علاقہ اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی،ریلی کے شرکاءنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے،جن پر کشمیری بھائیوں سے یکجہتی اور بھارتی مظالم کے خلاف نعرے درج تھے،شرکاء نے ”کشمیر بنے گا پاکستان“، ”پاکستان زندہ باد“ اور ”پاک فوج پائندہ باد“ کے فلک شگاف نعرے لگائے،اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی سیاسی،سفارتی اور اخلاقی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک انہیں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادی نہیں مل جاتی۔علاوہ ازیں،ضلع بھر کے اسکولوں اور کالجوں میں بھی سیمینارز اور تقریری مقابلوں کا انعقاد کیا گیا، جہاں اساتذہ اور طلبہ نے کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم کو اجاگر کیا اور تحریکِ آزادیِ کشمیر کے شہداءکو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9398/2026
موسیٰ خیل27 اکتوبر۔حکومت بلوچستان کے مواصلات و تعمیرات کی ترقی کے ویژن اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خصوصی احکامات کی روشنی میں ضلع موسیٰ خیل کی تحصیل درگ میں کھجی روڈ کی تعمیر و مرمت کا کام انتہائی تیزی سے جاری ہے۔ اس سلسلے میں ایس ڈی او مواصلات و تعمیرات احمد سعید جعفر نے کھجی روڈ پر جاری ترقیاتی کام کا تفصیلی معائنہ کیا۔معائنے کے دوران ایس ڈی او نے سڑک کی تعمیر میں استعمال ہونے والے مواد کی جانچ پڑتال کی اور کام کے معیار اور رفتار کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے موقع پر موجود ٹھیکیداروں اور تکنیکی عملے کو ہدایات جاری کیں کہ منصوبے میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور تمام کام مقررہ معیارات اور مدت کے اندر مکمل کیے جائیں۔اس موقع پر سوشل میڈیا کے نمائندوں اور علاقے کے لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ڈی او نے کہا کہوزیر اعلیٰ بلوچستان کے واضح احکامات ہیں کہ صوبے کے دورافتاد اور پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی عمل کو تیز کیا جائے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز تک میسر آ سکیں۔ محکمہ مواصلات و تعمیرات اسی وڑن کے تحت دن رات کوشاں ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کھجی روڈ کی تعمیر سے تحصیل درگ اور ملحقہ علاقوں کے مکینوں کو آمدورفت میں درپیش طویل مدتی مشکلات کا خاتمہ ہوگا، جس سے نہ صرف سفری سہولیات بہتر ہوں گی بلکہ علاقے میں معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی زبردست فروغ ملے گا۔علاقے کے قبائلی عمائدین، کسانوں اور مقامی عوام نے کھجی روڈ پر کام کے آغاز اور اس کی پیشرفت پر بھرپور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت بلوچستان، محکمہ مواصلات و تعمیرات کی کاوشوں کو سراہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9399/2026
لورالائی:28اکتوبر۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت زرعی انکم ٹیکس کی وصولی اور محکمہ مال کے انتظامی امور سے متعلق گیارہواں جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ریونیو معاملات، محصولات کی وصولی اور محکمہ مال کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس میں زرعی انکم ٹیکس کی وصولی، گزشتہ واجبات کی بازیابی، ریونیو ریکارڈ کی درستگی و تکمیل، زیرِ التواء ریونیو مقدمات، سرکاری اراضی کے تحفظ اور محکمہ مال کے مختلف شعبہ جات کی کارکردگی سمیت دیگر اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیااس موقع پر متعلقہ ریونیو افسران نے زرعی انکم ٹیکس کی وصولی اور دیگر ریونیو امور کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو پیش رفت سے آگاہ کیا، جبکہ مختلف تحصیلوں میں محصولات کی وصولی، نادہندگان کے خلاف کارروائی اور زیرِ التواء مقدمات کی موجودہ صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیاڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ زرعی انکم ٹیکس اور دیگر سرکاری محصولات کی وصولی کے مقررہ اہداف ہر صورت حاصل کیے جائیں اور نادہندگان سے سرکاری واجبات کی وصولی کے عمل میں مزید تیزی لائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریونیو کی مد میں واجب الادا رقوم کی وصولی میں کسی قسم کی غفلت یا غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گیانہوں نے زیرِ التواء ریونیو مقدمات کو قانون اور قواعد و ضوابط کے مطابق ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو ریونیو معاملات میں غیر ضروری تاخیر سے بچانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں اور ہر کیس کو مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق بروقت نمٹایا جائےڈپٹی کمشنر نے ریونیو ریکارڈ کی درستگی اور اسے جدید تقاضوں کے مطابق محفوظ بنانے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اراضی ریکارڈ میں کسی قسم کی غلطی، بے ضابطگی یا ریکارڈ کی عدم تکمیل مستقبل میں عوام اور انتظامیہ کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے متعلقہ افسران ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور تصدیق کے عمل کو یقینی بنائیں۔انہوں نے سرکاری اراضی کے تحفظ کے حوالے سے بھی متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری زمین پر کسی بھی قسم کے غیر قانونی قبضے یا تجاوزات کی بروقت نشاندہی کی جائے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائےڈپٹی کمشنر نے کہا کہ محکمہ مال ضلعی انتظامیہ کا ایک اہم شعبہ ہے، جس کی کارکردگی کا براہِ راست تعلق عوامی مسائل کے حل اور سرکاری محصولات کی وصولی سے ہے۔ اس لیے ریونیو افسران اپنے فرائض ایمانداری، شفافیت اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں اور عوام کو ریونیو سے متعلق امور میں بروقت سہولیات فراہم کریںانہوں نے مزید کہا کہ محکمہ مال کے نظام میں شفافیت، جوابدہی، موثر نگرانی اور عوام کو بروقت ریلیف کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ تمام متعلقہ افسران کی کارکردگی کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا، جبکہ فرائض کی انجام دہی میں غفلت، غیر ضروری تاخیر یا کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کو برداشت نہیں کیا جائے گااجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اجلاس میں دی گئی ہدایات پر مقررہ مدت کے اندر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور آئندہ جائزہ اجلاس میں پیش رفت کی مکمل رپورٹ پیش کی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9400/2026
لورالائی:28اکتوبر۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت شہر میں پینے کے پانی کی مسلسل قلت، عوامی شکایات اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایکسین پی ایچ ای نے شرکت کی اجلاس میں شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی عدم فراہمی اور اس حوالے سے شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی مسلسل شکایات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پینے کا صاف پانی عوام کی بنیادی ضرورت اور بنیادی حق ہے، جس کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں شہر کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی پانی کے کنکشنز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے متعدد غیر قانونی کنکشنز منقطع کیے گئے، تاہم اس کے باوجود بعض علاقوں میں شہریوں کو پانی کی قلت کا سامنا ہے اور پانی کی فراہمی کے نظام میں خاطر خواہ بہتری سامنے نہیں آئی ڈپٹی کمشنر نے محکمہ پی ایچ ای کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ پانی کی فراہمی، تقسیم، نگرانی اور نظام کو موثر انداز میں چلانے کی بنیادی ذمہ داری محکمہ پی ایچ ای اور متعلقہ افسران پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے ایکسین پی ایچ ای سے پانی کی تقسیم کے نظام اور عوامی شکایات کے ازالے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی حاصل کیاجلاس کے دوران ایکسین پی ایچ ای کی جانب سے پانی کی تقسیم اور انتظامی معاملات کی ذمہ داری ماضی میں قائم کی گئی ایک کمیٹی پر عائد کرنے پر ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ اس وقت ایسی کوئی کمیٹی بااختیار یا فعال نہیں، لہٰذا پانی کی فراہمی اور تقسیم کے تمام انتظامی امور کی ذمہ داری محکمہ پی ایچ ای کے متعلقہ افسران پر عائد ہوتی ہےڈپٹی کمشنر نے ایکسین پی ایچ ای کو سختی سے ہدایت کی کہ محکمہ کے اندر موجود ایسے عناصر کی فوری نشاندہی کی جائے جو غیر قانونی پانی کے کنکشنز کی سہولت کاری، بدعنوانی، غفلت یا محکمانہ بے ضابطگیوں میں ملوث ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائےانہوں نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ محکمہ پی ایچ ای کی موجودگی اور نگرانی کے باوجود شہر میں بڑی تعداد میں غیر قانونی پانی کے کنکشنز قائم ہوئے اور طویل عرصے تک فعال رہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ غیر قانونی کنکشنز کے خلاف کارروائی کو موثر نگرانی کے ساتھ جاری رکھا جائے اور آئندہ ایسے کنکشنز کے قیام کی روک تھام کے لیے مستقل میکنزم وضع کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر محمد حسیب شجاع نے واضح کیا کہ پانی کی منصفانہ تقسیم میں کسی فرد، گروہ یا بااثر شخص کی غیر قانونی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اگر کوئی شخص سرکاری امور میں غیر قانونی مداخلت، پانی کی تقسیم میں رکاوٹ یا عوام کے بنیادی حق کی فراہمی میں خلل ڈالنے کی کوشش کرے گا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں ایف آئی آر کا اندراج بھی شامل ہےانہوں نے ایکسین پی ایچ ای کو ہدایت کی کہ پانی کی تقسیم کے موجودہ نظام کی خامیوں کو فوری طور پر دور کیا جائے، تمام علاقوں میں دستیاب پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ پی ایچ ای کی کارکردگی میں عملی بہتری نظر آنی چاہیے اور شہریوں کو پانی کی فراہمی کے حوالے سے واضح ریلیف ملنا چاہیےڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور پانی کی قلت کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر موثر حکمت عملی اختیار کی جائے گی انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ عوام کو پینے کے پانی جیسی بنیادی سہولت کی فراہمی میں غفلت، غیر ذمہ داری، محکمانہ بے عملی یا فرائض سے چشم پوشی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کا احتساب یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر
لورالائی:28 اکتوبر ۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے لورالائی ٹیچنگ ہسپتال کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے ہسپتال میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ڈاکٹرز و طبی عملے کی حاضری، صفائی ستھرائی، ادویات کی دستیابی اور دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیادورے کے موقع پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نقیب اللہ نیازی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فہیم خان اور ڈپٹی ایم ایس ڈاکٹر زین اللہ کاکڑ بھی ان کے ہمراہ تھےکمشنر ولی محمد بڑیچ نے ہسپتال کے مختلف وارڈز، ڈاکٹرز کے او پی ڈی رومز، لیبارٹری، آپریشن تھیٹر، ایم آر آئی، سی ٹی اسکین سینٹر، ادویات سنٹر، ہسپتال میں قائم کنٹرول روم اور پانی کے بور سمیت مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے ہر شعبے کی کارکردگی، دستیاب سہولیات، مریضوں کو درپیش مشکلات اور ان کے حل کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ حاصل کی کمشنر نے ہسپتال میں زیرِ علاج مریضوں اور ان کے لواحقین سے بھی ملاقات کی اور انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی، ڈاکٹروں کی موجودگی، تشخیص اور علاج کے معیار کے بارے میں براہِ راست معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے مریضوں سے ہسپتال میں کی جانے والی اصلاحات اور انہیں درپیش مسائل کے حوالے سے بھی آگاہی حاصل کیادویات سنٹر کے دورے کے موقع پر کمشنر نے ہسپتال میں دستیاب ادویات، مریضوں کو فراہم کی جانے والی ادویات اور ادویات کی تقسیم کے طریقہ کار کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مریضوں کو ضروری ادویات کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے کہا کہ صحت عامہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور عوام کو معیاری، بروقت اور باعزت طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ لورالائی ٹیچنگ ہسپتال نہ صرف ضلع لورالائی بلکہ پورے لورالائی ڈویژن اور ملحقہ اضلاع کے عوام کے لیے ایک اہم طبی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں دور دراز علاقوں سے مریض علاج معالجے کے لیے آتے ہیں انہوں نے کہا کہ ٹیچنگ ہسپتال نے محدود وسائل کے باوجود عوام کو مختلف شعبوں میں طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے قابلِ ذکر اقدامات کیے ہیں، تاہم ہسپتال کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے مسلسل نگرانی، موثر انتظامی اقدامات اور دستیاب وسائل کے بہتر استعمال کی ضرورت ہے کمشنر نے ڈاکٹرز اور طبی عملے کی حاضری کے حوالے سے واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی بروقت اور یقینی حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائےمریضوں کو ڈاکٹرز کی عدم دستیابی یا غیر ضروری انتظار کی شکایت نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ سرکاری ذمہ داری کو خدمتِ خلق کے جذبے کے ساتھ انجام دیں اور مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ اور شائستہ رویہ اختیار کریں انہوں نے مزید کہا کہ او پی ڈی، ایمرجنسی، آپریشن تھیٹر، لیبارٹری، تشخیصی مراکز اور دیگر اہم شعبہ جات میں عملے کی موجودگی اور کارکردگی کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے تاکہ مریضوں کو بروقت تشخیص اور علاج کی سہولت میسر آسکےکمشنر ولی محمد بڑیچ نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ صفائی ستھرائی کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے، مریضوں اور ان کے لواحقین کو ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور ہسپتال میں دستیاب مشینری و طبی آلات کو فعال حالت میں رکھا جائے تاکہ عوام کو علاج کے لیے دیگر شہروں کا رخ نہ کرنا پڑےانہوں نے کہا کہ عوامی صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے انتظامیہ، محکمہ صحت اور ہسپتال انتظامیہ کو باہمی رابطے اور موثر حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے کمشنر نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ مریضوں کی شکایات کے فوری ازالے، ڈاکٹرز و عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی اور طبی سہولیات کی فراہمی کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے، جبکہ ہسپتال میں جاری اصلاحات اور بہتری کے اقدامات کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9401/2026
لورالائی:28اکتوبر کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر لورالائی کی ہدایات پر چیئرمین میونسپل کمیٹی طاہر خان ناصر اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محیب اللہ بلوچ کی نگرانی میں شہر بھر میں صفائی مہم جاری ہے، جس کے تحت مختلف محلوں، سڑکوں اور عوامی مقامات پر صفائی کا کام باقاعدگی سے انجام دیا جا رہا ہے۔میونسپل کمیٹی کے صفائی عملے نے سپروائزرز کی نگرانی میں دوبیگاٹ زون کے محلہ حاجی رازق موسیٰ خیل، ہزارہ زون کے محلہ امیر زمان اور اسلامی مسجد روڈ سمیت مختلف علاقوں میں نالیوں کی صفائی کی۔ اس کے علاوہ بھنڈار محلہ میں کوڑا کرکٹ صاف کیا گیا، جبکہ قادری کمپلیکس، پرانے ہسپتال اور سلطانی ٹپس کے مقامات پر بھی صفائی کے اقدامات کیے گئے۔شہر سے کوڑا کرکٹ اٹھانے اور اسے مناسب طریقے سے منتقل کرنے کے لیے میونسپل کمیٹی کی جانب سے ٹریکٹر ٹرالی اور سوزوکی بھی استعمال کی جا رہی ہیں، تاکہ مختلف علاقوں میں جمع ہونے والے کچرے کو بروقت ہٹایا جا سکے اور شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کیا جا سکے۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کے احکامات اور ضلعی انتظامیہ کی ہدایات کے مطابق صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے میونسپل کمیٹی کا عملہ متحرک ہے۔ اس مہم کا مقصد شہر میں صفائی ستھرائی برقرار رکھنا، نالیوں کی صفائی کے ذریعے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانا اور شہریوں کو درپیش صفائی کے مسائل کا ازالہ کرنا ہے۔شہر کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے میونسپل کمیٹی کی یہ کوششیں قابلِ تحسین ہیں، جبکہ شہریوں سے بھی اپیل کی جاتی ہے کہ وہ کوڑا کرکٹ مقررہ مقامات پر ڈالیں اور شہر کی صفائی برقرار رکھنے میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9402/2026
تربت28اکتوبر.ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیچ ڈاکٹر عبدالروف بلوچ اور ڈپٹی ڈی ایچ او کیچ ڈاکٹر محسن منیر بلیدئی نے ملاقات کی جس میں ضلع کیچ میں صحت عامہ کی مجموعی صورتحال ٹیچنگ ہسپتال تربت کو درپیش مسائل، طبی سہولیات کی بہتری اور ہسپتال میں مختلف آسامیوں پر تقرریوں سمیت اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ملاقات کے دوران ضلع بھر میں عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی، ہسپتالوں کی کارکردگی میں بہتری، طبی عملے کی دستیابی اور ٹیچنگ ہسپتال تربت کو درپیش انتظامی و دیگر مسائل کے حل سے متعلق امور زیرِ بحث آئے۔ اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ صحت کے شعبے میں عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے موثر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ مریضوں کو بروقت اور بہتر طبی سہولیات میسر آسکیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کیچ میں صحت عامہ کے شعبے کی بہتری اور ٹیچنگ ہسپتال تربت کو درپیش مسائل کا حل ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتال عوام کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اس لیے ان اداروں کو درپیش مسائل کے حل انتظامی امور کی بہتری اور طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے مزید کہا کہ ہسپتال میں مختلف آسامیوں پر تقرریاں میرٹ، شفافیت اور متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق ہونی چاہئیں تاکہ اہل اور مستحق امیدواروں کو یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھرتیوں کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے کیونکہ موثر اور اہل افرادی قوت ہی صحت کے نظام کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ ٹیچنگ ہسپتال تربت کے مسائل کی نشاندہی کرکے ان کے حل کے لیے قابلِ عمل اقدامات تجویز کیے جائیں اور صحت عامہ سے متعلق امور کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے، تاکہ ضلع کیچ کے عوام کو بہتر، معیاری اور موثر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر9402/202
6 کوئٹہ،28 اکتوبر۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے وژن اور ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ کے احکامات کی روشنی میں فروٹ مارکیٹ کے قیام کے لیے مختلف مقامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس سلسلے میں مجسٹریٹ میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ عمران زیب اور مجسٹریٹ عامر قیصرانی نے زون انچارج قاسم خان کے ہمراہ ٹیکسی اسٹینڈ، رمزی روڈ اور ایئرپورٹ روڈ کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر فروٹ مارکیٹ کے قیام کے لیے جگہ کا معائنہ کیا گیا اور موزوں مقام کی نشاندہی کے حوالے سے جائزہ لیا گیا۔دورے کا مقصد فروٹ فروشوں کو ایک مناسب اور منظم جگہ فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا ہے، تاکہ فروٹ فروش اپنا کاروبار بہتر انداز میں جاری رکھ سکیں اور شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی جانب سے فروٹ مارکیٹ کے قیام کے لیے مناسب جگہ کے انتخاب کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ شہر میں ٹریفک کے نظام کو بہتر اور کاروباری سرگرمیوں کو منظم بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9403/202
خضدار 28 اکتوبر ۔خضدار سٹی پولیس تھانہ میں جدید سہولیات سے آراستہ لاک اپ رومز کا اپوزیشن لیڈر بلوچستان اسمبلی میڈ یونس عزیز زہری نے باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری تھے۔تقریب میں ڈی آئی جی خضدار عمران قریشی، ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی سمیت ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر سٹی پولیس تھانہ کے احاطے میں پولیس افسران اور اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔افتتاحی تقریب میں لاک اپ رومز کی تختی کی نقب کشائی اپوزیشن لیڈر بلوچستان اسمبلی میر یونس عزیز زہری اور ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کی۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر ڈی ائی جی اور ڈپٹی کمشنر خضدار نے نئے تعمیر شدہ لاک اپ رومز کا تفصیلی معائنہ بھی کیا اور انتظامات کو سراہا۔ افتتاحی تقریب میں ایکسیئن محکمہ مواصلات و تعمیرات خضدار انجینئر سلیم رزاق عمرانی، انجینئر مقبول، انجینئر ہدایت اللہ زہری، عبدالسلام مینگل شریک تھے، ڈی ائی جی خضدار رینج عمران قریشی نے اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری کو لاک اپ رومز میں فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ نئے لاک رومز میں قیدیوں کے لیے انسانی حقوق کے تقاضوں کے مطابق تمام بنیادی سہولیات کا خیال رکھا گیا ہے۔اس موقع پر اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خضدار پولیس کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور جدید سہولیات کی فراہمی سے پولیسنگ کا نظام مزید مضبوط ہوگا۔ انہوں نے پولیس افسران کی کاوشوں کو سراہا۔میر یونس عزیز زہری نے مزید کہا کہ خضدار ایک بڑا ضلع ہے اور یہاں خواتین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ خضدار میں جلد وومن پولیس اسٹیشن کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔وومن پولیس اسٹیشن کے قیام سے خواتین اپنے مسائل بلا خوف و خطر بیان کر سکیں گی اور انہیں انصاف کی فراہمی میں آسانی ہوگی۔ یہ اقدام خواتین کے تحفظ اور بااختیار بنانے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔ڈی آئی جی خضدار رینج عمران قریشی نے اس موقع پر کہا کہ پولیس تھانوں میں سہولیات کی بہتری ہماری اولین ترجیح ہے۔ لاک اپ رومز کی بہتری سے نہ صرف قیدیوں کے حقوق کا تحفظ ہوگا بلکہ تفتیشی عمل میں بھی شفافیت آئے گی۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔ امن و امان کے قیام کے لیے پولیس اور انتظامیہ مشترکہ طور پر کام کر رہی ہے اور مستقبل میں بھی ایسے ترقیاتی کام جاری رہیں گے۔انجمن تاجران کے صدر حافظ حمید اللہ مینگل نے اس موقع پر تاجروں کی جانب سے پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری شہر میں امن و امان کے قیام کے لیے پولیس کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔تقریب کے موقع پر اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے نے وومن پولیس اسٹیشن کے قیام کے اعلان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جلد اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی، جس پر شرکاءنے ان کا شکریہ ادا کیا اور اس فیصلے کو خضدار کی خواتین کے لیے خوش آئند قرار دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9404/202
دکی، 28 اکتوبر ۔: ضلعی انتظامیہ دکی کے زیرِ اہتمام یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلی اور خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کی قیادت اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال نے کی، جس میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد، سرکاری افسران، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی ریلی ڈپٹی کمشنر آفس دکی سے شروع ہو کر گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول دکی پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ شرکا نے کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جدوجہدِ آزادی اور حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیابعد ازاں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول دکی میں یومِ سیاہ کشمیر کے حوالے سے ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی، جس میں اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال، ایس پی دکی محمد یونس رضا ہزارہ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سید امیر شاہ بخاری، چیئرمین میونسپل کمیٹی ملک کلیم اللہ ترین، اساتذہ، طلبہ اور دیگر معززین نے شرکت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے یومِ سیاہ کشمیر کی تاریخی اہمیت، کشمیری عوام کی لازوال قربانیوں اور حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے ان کی جدوجہد کو اجاگر کیا۔ مقررین نے کہا کہ کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی پاکستان کی قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے موثر کردار ادا کرے اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دلانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائےمقررین نے کہا کہ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا تقریب کے اختتام پر ملک و قوم کی سلامتی، استحکام،خوشحالی و ترقی، پاکستان کی سربلندی اور کشمیری عوام کی آزادی و کامیابی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9405/202
28 اکتوبر چمن۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر چمن جناب اشوک کمار راجپوت نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول پرانا چمن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف کلاس رومز کا معائنہ کیا اور طلبہ سے نصابی سرگرمیوں سے متعلق سوالات پوچھ کر ان کی تعلیمی استعداد اور سیکھنے کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈی ای او چمن نے اساتذہ کی حاضری کا رجسٹر چیک کیا اور تمام اساتذہ کو حاضر پایا۔ انہوں نے اسکول میں جاری تدریسی سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تعلیمی معیار میں مزید بہتری، تدریسی عمل کی موثر نگرانی اور طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے واضح کیا کہ اساتذہ کی حاضری، پابندی وقت اور تدریسی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور محنت کے ساتھ انجام دیں تاکہ طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔اس موقع پر اسکول کے ہیڈ ماسٹر جناب طاہر محمود بھی موجود تھے۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر چمن اشوک کمار راجپوت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی اداروں کی موثر نگرانی، اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانا اور طلبہ کی بہتر تعلیمی کارکردگی کے لیے عملی اقدامات ضلعی محکمہ تعلیم کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9406/202
تربت: 28 اکتوبر۔ ضلع کیچ کی یونین کونسل ڈنڈار، تحصیل ہوشاب، کی چیئرمین کی نشست پر انتخابی عمل مکمل کر لیا گیا، جس کے نتیجے میں غلام جان ولد علی محمد بلا مقابلہ چیئرمین منتخب ہوگئے۔
انتخابی عمل اسسٹنٹ کمشنر و ریٹرننگ آفیسر ابوبکر میروانی کی سربراہی میں مکمل ہوا، جبکہ اس موقع پر ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کیچ اصغر علی بھی موجود تھے۔اسسٹنٹ کمشنر و ریٹرننگ آفیسر ابوبکر میروانی نے انتخابی عمل کی نگرانی کی اور اس کی تکمیل کے لیے متعلقہ مراحل کو ضابطے کے مطابق مکمل کرنے کو یقینی بنایا۔غلام جان ولد علی محمد کے بلا مقابلہ انتخاب کے بعد یونین کونسل ڈنڈار میں چیئرمین کی نشست کا انتخابی عمل مکمل ہوگیا۔ اس موقع پر انتخابی عمل کو مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9407/202
نصیرآبادڈویژن28اکتوبر۔برڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جعفرآباد حضور بخش بگٹی، محکمہ آبپاشی، تعلیم۔میونسپل کارپوریشن، محکمہ مواصلات و تعمیرات سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران اور نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو پروگرام کے فیز ون، فیز ٹو اور فیز تھری کے تحت ضلع جعفرآباد میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت، مالی ادائیگیوں اور مختلف اسکیموں کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ محکموں کے افسران نے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے دستیاب معلومات اور پیشرفت سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ منصوبوں پر عملدرآمد کے دوران پیش آنے والے مختلف معاملات اور مالی ادائیگیوں کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، متعلقہ محکموں کے درمیان موثر رابطے اور ترقیاتی سرگرمیوں کے تسلسل کی اہمیت پر زور دیا تاکہ دستیاب وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو عملی شکل دی جا سکے۔ اجلاس میں اس امر پر بھی توجہ دی گئی کہ ترقیاتی اسکیموں سے متعلق امور کو باہمی مشاورت اور محکمانہ رابطہ کاری کے ذریعے آگے بڑھایا جائے، تاکہ منصوبوں کی تکمیل کے مراحل میں درپیش مسائل کی نشاندہی کرکے ان کے حل کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس کا مقصد مختلف محکموں کی کارکردگی اور جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت کا جائزہ لے کر ترقیاتی عمل کو موثر انداز میں آگے بڑھانا تھا۔ اس موقع پر تمام متعلقہ محکموں کے نمائندگان کی شرکت کو اہم قرار دیا گیا، کیونکہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت پیشرفت، مالی معاملات کی نگرانی اور محکمانہ تعاون کے ذریعے ضلع جعفرآباد میں بنیادی سہولیات کی بہتری اور عوامی ضروریات کے مطابق ترقیاتی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9408/202
قلات (ہینڈآﺅٹ)28 اکتوبر۔ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اہم ماہانہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نثار احمد نورزئی، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (میل) ثناء اللہ ثناء سمیت محکمہ تعلیم قلات و خالق آباد کے افسران اور آر ٹی ایس ایم (RTSM) شاہنواز نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر قلات شاہنواز بلوچ نے ضلع بھر میں تعلیمی نظام کی بہتری اور اساتذہ کی حاضری کو سو فیصد یقینی بنانے کے لیے سخت انتظامی گائیڈ لائنز جاری کیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ نے واضح کیا کہ اسکولوں میں اساتذہ کی غیر حاضری کسی صورت قابلِ قبول نہیں، غفلت برتنے والوں کے خلاف قواعد کے تحت سخت ایکشن جاری رہے گا۔محکمہ تعلیم کے افسران اور RTSMs کو سختی سے پابند کیا گیا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اسکولوں کے دورے کریں اور حاضری کی باقاعدہ نگرانی کریں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر قلات نے مزید کہا کہ بچے ہمارے مستقبل کے معمار ہیں، انہیں معیاری تعلیم اور بہتر ماحول فراہم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9409/202
قلات (ہینڈآﺅٹ)28 اکتوبر۔ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ مینجمنٹ کمیٹی (DHMC) کا ایک اہم ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالمالک، ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر سومار خان، ڈی ایم پی پی ایچ آئی جہانگیر زہری، ایم اینڈ ای غلام فاروق، اور دیگر اعلیٰ طبی و انتظامی افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ضلع بھر میں صحت کی سہولیات کی بہتری، ہسپتالوں کی کارکردگی اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈی سی قلات انجینئر عائشہ زہری نے کہا کہ صحت مند معاشرے کے لیے معیاری طبی سہولیات ناگزیر ہیں؛ ضلعی انتظامیہ محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی اور عوامی مشکلات کے حل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ہسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت کی کڑی نگرانی کریں تاکہ دور افتادہ علاقوں کے غریب عوام کو بروقت ادویات اور علاج کی سہولت مل سکے۔ڈپٹی کمشنر قلات نے واضح کیا کہ تمام ڈاکٹرز اور طبی عملہ اپنی جائے تعیناتی پر حاضری یقینی بنائیں۔ ڈیوٹی میں غفلت، لاپروائی یا غیر حاضری کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9410/202
گوادر۔ 28 اکتوبر ۔رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن نے آج ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی، جس میں سربندر، پشکان اور گوادر کے مختلف علاقوں میں جاری و مجوزہ ترقیاتی منصوبوں، بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی اور تعلیمی اداروں کی بہتری سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ڈائریکٹر ٹاون پلاننگ شاہد علی اور ایم پی اے کے پرسنل اسسٹنٹ وسیم صمد بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران سربندر میں لنک روڈ پر پل کی تعمیر کے مجوزہ منصوبے کے لیے تیار کردہ پی سی ون کو ریشنلائز کرنے پر اتفاق کیا گیا، تاکہ منصوبے کو ضروری تکنیکی و مالیاتی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھایا جا سکے۔ اسی طرح پشکان لنک روڈ کو چوک تک تعمیر اور توسیع دینے کے منصوبے کے لیے پی سی ون تیار کرنے پر بھی اتفاق ہوا، اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے ایم پی اے گوادر کو سید ظہور شاہ ہاشمی وارڈ سمیت اولڈ ٹاون میں شروع کیے گئے سوریج لائن کے ایک نئے منصوبے کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ ملاقات میں سربندر فش لینڈنگ جیٹی پر مول کی افتتاح کے بعد آپریشنل سرگرمیوں کے آغاز میں تاخیر پر ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ مول کو جلد از جلد فعال بنایا جائے تاکہ ماہی گیروں اور متعلقہ شعبے سے وابستہ افراد کو اس سہولت کے ثمرات حاصل ہو سکیں۔ اس پر ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے متعلقہ شعبے کو ہدایت کی کہ مول کو آپریشنل کرنے کے لیے درکار تیاریوں اور ضروری اقدامات کو فوری طور پر حتمی شکل دی جائے۔ملاقات میں جی ڈی اے پبلک ہائیر سیکنڈری اسکول گوادر کو ایک خودمختار اور معاشی طور پر خود کفیل تعلیمی ادارہ بنانے کے لیے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ضمن میں شہید ایوب بلیدی ماڈل ہائیر سکینڈری سکول اسکول بلیدہ، اور میر غلام قادر بگٹی اسکول آف ایکسیلینس بیکڑ کے طرز پر ایک مجوزہ ماڈل تیار کرکے صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے کے امکان پر غور کیا گیا، تاکہ ادارے کے انتظامی و مالیاتی ڈھانچے کو موثر بنایا جا سکے اور تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے پائیدار بنیادیں فراہم کی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9411/202
گوادر: 28 اکتوبر ۔ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان نے میرین ڈرائیو سرکل پر جاری شجرکاری منصوبے کا دورہ کیا اور پودوں کی آبپاشی، دیکھ بھال اور نشوونما کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا۔اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر ہارٹیکلچر عبدالرحیم بلوچ اور انوائرمنٹ آفیسر حمل دشتی نے ڈائریکٹر جنرل کو منصوبے کے مختلف پہلووں، جدید ڈرپ ایریگیشن نظام اور شجرکاری کے تحت لگائے جانے والے پھولدار پودوں اور درختوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ڈائریکٹر جنرل معین الرحمٰن خان نے اس موقع پر ہدایت کی کہ شجرکاری کے منصوبے کو محض پودے لگانے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کی باقاعدہ دیکھ بھال، حفاظت اور نشوونما کو بھی یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ درخت اور پودے لگانا اہم اقدام ہے، تاہم ان کی حفاظت اور مناسب نگہداشت زیادہ توجہ اور مسلسل محنت کا تقاضا کرتی ہے۔ اس لیے متعلقہ عملہ اس سلسلے میں پوری ذمہ داری کے ساتھ اقدامات کرے اور پودوں کو خشک ہونے یا نقصان سے بچانے کے لیے موثر انتظامات یقینی بنائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

﴿
خبر نامہ نمبر9412/202
سیوی 27 اکتوبر ۔کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج سیوی کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے کالج کے مختلف شعبہ جات، کلاس رومز، سائنس لیبارٹریز، لائبریری، ملٹی فنکشنل ہال اور گراونڈ سمیت دیگر سہولیات کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر کمشنر نے مختلف کلاس رومز میں جا کر تدریسی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور طالبات سے براہِ راست گفتگو کرتے ہوئے ان سے تعلیمی مسائل، تدریسی سہولیات اور کالج میں دستیاب وسائل کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ کمشنر سیوی ڈویژن نے دورے کے دوران کلاس رومز میں طالبات کی زیادہ تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کلاسز کو مناسب سیکشنز میں تقسیم کیا جائے تاکہ اساتذہ ہر طالبہ پر انفرادی توجہ دے سکیں اور تدریسی عمل کو مزید موثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے طالبات کی حاضری کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور ہدایت کی کہ طالبات کی باقاعدہ حاضری یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ ان کا تعلیمی سلسلہ متاثر نہ ہو۔ دورے کے دوران کالج میں موجود مختلف مسائل اور بنیادی سہولیات کی کمی بھی سامنے آئی، جن میں سولرائزیشن، کمپیوٹر لیب، ڈیجیٹل لائبریری، انٹرنیٹ کنکشن، اسمارٹ بورڈز اور ملٹی میڈیا کی عدم دستیابی شامل ہیں۔ طالبات نے کمشنر کو آگاہ کیا کہ فرسٹ ایئر کے نصاب میں تبدیلی کے باعث نئی درسی کتب کی عدم دستیابی سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ بعض مضامین کے اساتذہ کی کمی اور کالج بس کی عدم دستیابی بھی ان کے لیے مسائل کا باعث بن رہی ہے۔ کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان نے طالبات کے مسائل اور کالج کی ضروریات کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ان مسائل کے حل کے لیے ڈائریکٹر کالجز اور سیکرٹری متعلقہ محکمہ کے ساتھ رابطہ کیا جائے گا اور درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں جدید تدریسی سہولیات کی فراہمی، اساتذہ کی دستیابی اور طالبات کے لیے سازگار تعلیمی ماحول کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ طالبات بہتر انداز میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9413/202
سیوی 28 اکتوبر ۔کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان نے گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج سیوی کا دورہ کیا، جہاں کالج کے پرنسپل محمد نعیم نے انہیں ادارے کی مجموعی کارکردگی، تعلیمی سرگرمیوں، دستیاب سہولیات اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ کمشنر نے کالج کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا، جن میں باٹنی، زوالوجی، کیمسٹری اور فزکس کی لیبارٹریز شامل تھیں۔ اس موقع پر انہوں نے طلبا سے مختلف سوالات بھی کیے اور ان کی تعلیمی استعداد، دلچسپی اور سیکھنے کے عمل کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران کمشنر عرفان اللہ خان نے ایک ایسے طالب علم سے بھی ملاقات کی جس نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک ایپ تیار کی تھی۔ انہوں نے طالب علم کی تخلیقی صلاحیتوں، جدید ٹیکنالوجی میں دلچسپی اور انفرادی کاوش کو سراہتے ہوئے اسے یقین دہانی کرائی کہ اس کے ایپ پروجیکٹ کو مزید بہتر بنانے اور آگے بڑھانے کے لیے مالی معاونت کی فراہمی کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی اور انہیں جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر عرفان اللہ خان نے کہا کہ موجودہ دور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور جدید علوم کا دور ہے، جہاں علم کے حصول کے بے شمار ذرائع دستیاب ہیں۔ طلباء کو دورانِ تدریس کسی موضوع کو سمجھنے میں دشواری پیش آئے تو وہ موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے یوٹیوب سمیت دیگر تعلیمی ذرائع سے متعلقہ موضوع کی ویڈیوز دیکھ کر اپنی سمجھ بوجھ میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی کے لیے محض وسائل ہی کافی نہیں بلکہ محنت، مستقل مزاجی، لگن اور سیکھنے کا جذبہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ کمشنر نے اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے طلباء کو بتایا کہ ماضی میں محدود وسائل کے باوجود طلباء محنت اور لگن سے تعلیم حاصل کرتے تھے اور ان کے بزرگوں نے چاند کی روشنی میں بیٹھ کر بھی پڑھائی کی۔ انہوں نے طلبا پر زور دیا کہ وہ دستیاب جدید سہولیات سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، اپنی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں اور مستقبل میں ملک و صوبے کی ترقی میں اپنا موثر کردار ادا کرنے کے لیے خود کو تیار کریں۔ اس موقع پر کالج انتظامیہ کی جانب سے امتحانی ہال کی تعمیر، واٹر سپلائی کی مرمت، کالج کی چار دیواری پر خاردار تاروں کی تنصیب، تدریسی عملے کی کمی اور دیگر مسائل سے کمشنر کو آگاہ کیا گیا۔ کمشنر عرفان اللہ خان نے یقین دہانی کرائی کہ جن مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ حکام کی توجہ درکار ہے، ان کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جائے گا، جبکہ ایسے مسائل جو مقامی سطح پر حل کیے جا سکتے ہیں، ان کے حل کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل کے حل اور طلباء کو بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی کے لیے مربوط کوششیں ناگزیر ہیں۔ کمشنر نے کالج انتظامیہ کو ہدایت کی کہ طلباءکی فیسوں کی وصولی اور جمع کرانے کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے فیسیں بینک کے ذریعے جمع کرائی جائیں اور دستی طریقہ کار سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں کے انعقاد پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ کالج میں ٹیلنٹ ہنٹ پروگرامز، مباحثوں، تقریری مقابلوں، کھیلوں اور دیگر مثبت سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے تاکہ طلباء کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ان کی شخصیت کی ہمہ جہت نشوونما کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق تعلیمی اداروں میں بہتری، طلباء کی حوصلہ افزائی اور نوجوان نسل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مو¿ثر اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9414/202
سیوی 28 اکتوبر ۔کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان کو محکمہ لیبر اینڈ مین پاور سیوی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے محکمے کی مجموعی کارکردگی، انتظامی امور اور متعلقہ سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر محکمے کی ذمہ داریوں اور کارکردگی سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔ کمشنر عرفان اللہ خان نے ہدایت کی کہ محکمہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کرے اور محنت کش طبقے کے حقوق کے تحفظ، متعلقہ قوانین پر عمل درآمد اور مزدوروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری محکموں کی موثر کارکردگی اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور اداروں کی استعدادِ کار میں اضافہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9415/202
سیوی 28 اکتوبر ۔کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان کو محکمہ کموڈیٹی مینجمنٹ ڈسٹرکٹ سیوی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے محکمے کی مجموعی کارکردگی، ذمہ داریوں اور جاری امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر محکمہ کموڈیٹی مینجمنٹ کے انتظامی ڈھانچے اور عوام کو بنیادی غذائی ضروریات کی فراہمی کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ کمشنر عرفان اللہ خان نے ہدایت کی کہ محکمہ اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کرے اور سرکاری امور کی انجام دہی میں شفافیت، مستعدی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی مفاد سے متعلق امور کو ترجیحی بنیادوں پر انجام دیا جائے اور محکمے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9416/202
کوئٹہ 28 اکتوبر: صوبائی سیکریٹری اطلاعات حکومتِ بلوچستان عمران خان نے کہا ہے کہ معلومات تک رسائی کا حق شفاف طرزِ حکمرانی، جوابدہی اور عوامی اعتماد کے فروغ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ سرکاری اداروں میں معلومات کی بروقت اور موثر فراہمی سے عوام کو حکومتی امور سے باخبر رکھنے اور ادارہ جاتی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے زیرِ اہتمام، بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے اشتراک سے بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021 کے سیکشن 5، یعنی ازخود معلومات کی تشہیر (Proactive Disclosure)، کے موضوع پر پبلک انفارمیشن آفیسرز (PIOs) کی تربیتی ورکشاپ سے اپنے تفصیلی خطاب میں کیا۔ انہوں نے سرکاری محکموں میں شفافیت کے فروغ، قانونی تقاضوں پر عملدرآمد اور شہریوں کو درست، مستند اور بروقت معلومات کی فراہمی کے لیے پبلک انفارمیشن آفیسرز کے کردار کو اہم قرار دیا۔ اس موقع پر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمین جسٹس (ر) ضیاءپرویز نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے شرکاءکو خوش آمدید کہا اور معلومات تک رسائی کے حق کو اچھی حکمرانی اور ادارہ جاتی شفافیت کے لیے اہم قرار دیا۔ بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے انفارمیشن کمشنر عبدالشکور خان نے بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021 کے اہم پہلووں، بالخصوص سیکشن 5 کے تحت ازخود معلومات کی تشہیر کی اہمیت اور افادیت پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ازخود معلومات کی تشہیر سے مراد ضروری سرکاری معلومات کو پیشگی عوام کے لیے دستیاب بنانا ہے تاکہ شہریوں کو ہر معلومات کے حصول کے لیے الگ سے درخواست دینے کی ضرورت نہ پڑے اور سرکاری معاملات میں شفافیت کو فروغ حاصل ہو۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کاشف علی نے اپنے خطاب میں قانون پر موثر عملدرآمد، متعلقہ افسران کی استعدادِ کار میں اضافے اور سرکاری اداروں میں شفافیت کے اصولوں کو عملی طور پر اپنانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ آر ٹی آئی ماہر، سابق رکن بلوچستان نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق (NCHR) اور سابق ڈائریکٹر جنرل وزارتِ انسانی حقوق اسلام آباد، پروفیسر فرخندہ اورنگزیب نے پورے پاکستان بالخصوص بلوچستان میں معلومات تک رسائی کے قانونی نظام، اس کی اہمیت اور عملی اطلاق کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے پبلک انفارمیشن آفیسرز کی ذمہ داریوں اور شہریوں کی معلومات تک رسائی کے حق کے مختلف پہلووں کو اجاگر کیا۔ ورکشاپ کا مقصد پبلک انفارمیشن آفیسرز کو بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021 کے تقاضوں، خصوصاً سیکشن 5 کے تحت ازخود معلومات کی تشہیر، کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا اور سرکاری محکموں میں معلومات کی فراہمی کے نظام کو مزید موثر بنانا تھا۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ قانون پر موثر عملدرآمد، معلومات کی بروقت فراہمی اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ تربیتی ورکشاپ کے اختتام پر شرکاءمیں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر9417/026
تربت. 28اکتوبر 2026: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی سے بی آر ایس پی BRSP اور رائز RISE بلوچستان ضلع کیچ کیچ کے ڈسٹرکٹ پروجیکٹ کوآرڈینیٹر فراز امین اور ڈسٹرکٹ کیپیسٹی بلڈنگ آفیسر زوہیب حسن نے ملاقات کی۔ملاقات میں ضلع کیچ میں رائز بلوچستان پروگرام کے تحت جاری ترقیاتی سرگرمیوں، گھر گھر سروے، سماجی تنظیم سازی اور نوجوانوں کو مختلف سرگرمیوں میں شامل کرنے سمیت ایکسپوژر وزٹس پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے بی آر ایس پی اور رائز بلوچستان ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے ایسے اقدامات کو اہم قرار دیا اور ضلعی انتظامیہ کیچ کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

خبرنامہ نمبر9418/026
کوئٹہ 28 اکتوبر2026: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن (MSF) کے زیرِ اہتمام پروگرام کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں، اور ہم ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں بااختیار بنانے کیلئے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں۔ نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ دوسرے نوجوانوں کو بھی قومی دھارے میں لانے کیلئے اپنا موثر کردار ادا کریں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب پاکستانیت کو اپنائیں اور اپنی صلاحیتوں کو ملک و قوم کے بہترین مفاد میں بروئے کار لائیں۔ بلوچستان اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے لہٰذا نوجوانوں کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی پڑھائی پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اس موقع پر سردار عبدالرحمن کیتھران، سینٹر سعیدالحسن مندوخیل، پارلیمانی سیکرٹری نوابزادہ زرین خان مگسی، اہم پی اے زرک خان مندوخیل، خلیل جارج اور میر نوراللہ لہڑی اایم ایس ایف ڈسٹرکٹ صدر ہمایوں کاکڑ بھی موجود تھے ۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ پارلیمانی سیکرٹری نوابزادہ زرین مگسی اور ایم پی اے زرک مندوخیل ہماری پارٹی کے انتہائی فعال اور متحرک پارلیمانی ارکان ہیں جبکہ سردار عبدالرحمن کھیتران بھی نوجوانوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج متعدد پارلیمانی ارکان ایم ایس ایف کے اس پروگرام میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کیلئے شریک ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوانوں کی تعلیم، ترقی اور مستقبل ہماری ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تقسیم لیپ ٹاپس اور اسکالرشپس کی فراہمی میں بھی آپ کا خاص خیال رکھا جائیگا۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ صوبےبھر کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے بھرپور کوششیں کی گئی ہیں جن کے نتیجے میں صوبے بھر کی تمام سرکاری یونیورسٹیوں کی رینکنگ اینڈ اسکورنگ 80 فیصد تک پہنچائی گئی ہے جو ہم سب کیلئے ایک اعزاز ہے۔ رکن صوبائی اسمبلی سردار عبدالرحمن کھیتران نے مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیرِ اہتمام پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قلم کی طاقت بندوق سے زیادہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان قلم کے ذریعے جہاد کریں کیونکہ قلم کے جہاد کے سامنے دنیا کی کوئی رکاوٹ دیرپا ثابت نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ نوجوانوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پاکستان اور بلوچستان کو آگے لے جائیں۔پارلیمانی سیکرٹری نوابزادہ زرین خان مگسی نے کہا کہ بلوچستان کی آبادی کا 70 فیصد سے زائد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ملک کا قیمتی اثاثہ اور مستقبل کے معمار ہیں۔ نوجوانوں کو قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے بلا تفریق پاکستان کی ترقی وخوشحالی کیلئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو آگے لے جائیں۔
رکن صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے منشور میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا اہمیت رکھتا ہے۔ نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ محض بلوچستان کے نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مستقبل ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کو تعلیم اور مثبت سرگرمیوں کے ذریعے نکھاریں اور ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔سابق وفاقی وزیر خلیل جارج نے کہا کہ نوجوان ہمارے مستقبل کے معمار ہیں اور انکی تعلیم اور ترقی ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے نوجوانوں کو یقین دلایا کہ ہم آپ کو کبھی مایوس نہیں کریں گے ۔

خبرنامہ نمبر9419/026
کوئٹہ 28اکتوبر2026: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے وژن اور ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ کے احکامات کی روشنی میں فروٹ مارکیٹ کے قیام کے لیے مختلف مقامات کا جائزہ لیا گیا۔
اس سلسلے میں مجسٹریٹ میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ عمران زیب اور مجسٹریٹ عامر قیصرانی نے زون انچارج قاسم خان کے ہمراہ ٹیکسی اسٹینڈ، رمزی روڈ اور ایئرپورٹ روڈ کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر فروٹ مارکیٹ کے قیام کے لیے جگہ کا معائنہ کیا گیا اور موزوں مقام کی نشاندہی کے حوالے سے جائزہ لیا گیا۔دورے کا مقصد فروٹ فروشوں کو ایک مناسب اور منظم جگہ فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا ہے، تاکہ فروٹ فروش اپنا کاروبار بہتر انداز میں جاری رکھ سکیں اور شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو۔میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی جانب سے فروٹ مارکیٹ کے قیام کے لیے مناسب جگہ کے انتخاب کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ شہر میں ٹریفک کے نظام کو بہتر اور کاروباری سرگرمیوں کو منظم بنایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر9420/026
کوئٹہ 28اکتوبر2026: ایڈ منسٹر یٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ نے ادارے کے بینکاری امور کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے اور محصولات کی وصولی کو خودکار بنانے کے لیے نیشنل بینک آف پاکستان (NBP) کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے۔معاہدے کے تحت بلدیاتی محصولات کی وصولی کو ڈیجیٹل بنانے، آن لائن ادائیگیوں اور جدید بینکاری سہولیات متعارف کرانے کے ساتھ مالی لین دین کا ریکارڈ بہتر بنانے اور مختلف مدات میں آمدن کی تفصیلات مرتب کرنے کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔اس اقدام کا مقصد میٹروپولیٹن کارپوریشن کے مالیاتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا، مالی لین دین میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانا اور دستی طریقہ کار پر انحصار کم کرنا ہے۔ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے بینک ریکارڈ کی مطابقت، مالیاتی نگرانی اور محصولات کے مؤثر انتظام کو بھی بہتر بنایا جا سکے گا۔ایڈمنسٹریٹر بشیر احمد بڑیچ کی سربراہی میں یہ اقدام میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے انتظامی و مالیاتی امور کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہے، جس سے ادارہ جاتی کارکردگی، مالیاتی کنٹرول اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔

خبرنامہ نمبر9421/026
نصیرآباد
28 اکتوبر 2026:
گنداخہ: ضلعی انتظامیہ اُستا محمد کی جانب سے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول گنداخہ میں ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال کی زیرِ صدارت کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں شہریوں نے اپنے اجتماعی اور انفرادی مسائل پیش کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کی توجہ بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی مشکلات کے حل کی جانب مبذول کروائی
کھلی کچہری میں چیئرمین میونسپل کمیٹی گنداخہ ڈاکٹر جاوید جمالی، اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر امیر جمالی، ڈی ایس پی سرکل گنداخہ محمد علی جمالی، ایس ایچ او گنداخہ نواب علی جمالی، تحصیلدار عبدالمنان شیخ، نائب تحصیلدار میران بخش، جنرل کونسلر میونسپل کمیٹی گنداخہ میر شیراز خان جمالی، ایکسین پبلک ہیلتھ شکراللہ، زراعت آفیسر فرمان لاشاری، ذوالفقار علی راہوجہ، ایس ڈی او ایریگیشن زیشان جمالی، مہدی حسن جمالی سمیت مختلف لائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران اور علاقائی معززین نے شرکت کی کھلی کچہری میں شہریوں اور زمینداروں نے مطالبہ کیا کہ ٹیل تک گندم کی کاشت کے لیے زرعی پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، گنداخہ شاخ کی بھل صفائی کے لیے فوری طور پر ایکسکیویٹر مشین کے ذریعے 50 گھنٹے کام کروایا جائے، بیروں میں قائم غیر قانونی واٹر کورسز بند کیے جائیں اور واٹر کورسز کا سائز مقررہ معیار کے مطابق کیا جائے۔ اسی طرح سیم شاخ کینال میں پانی کی فراہمی بند کرنے، سیر مائنر پر خرچ کیے گئے فنڈز کی انکوائری کروانے، خانپور سے قبولا تک کھیرتھر کینال کی صفائی، تاج محمد آکسیلری کو فعال کرنے اور اس کے نامکمل کام مکمل کرنے کے مطالبات بھی پیش کیے گئے
شرکاء نے تحصیل گنداخہ کے غیر آباد مواضعات کو قحط زدہ قرار دینے اور کسان کارڈ کے تحت رقوم کی جلد ادائیگی یقینی بنانے پر بھی زور دیا شہریوں نے مطالبہ کیا کہ آر ایچ سی گنداخہ کی عمارت مکمل کرکے اسے فعال بنایا جائے، گاؤں میر حسن جمالی میں واٹر سپلائی اسکیم بحال کی جائے اور جی بی پی ایس علی اختر میں آر او پلانٹ فراہم کیا جائے تاکہ مقامی آبادی کو پینے کے صاف پانی کی سہولت میسر آ سکے
کھلی کچہری میں سرکاری تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی مرمت اور بحالی کے حوالے سے بھی متعدد مسائل پیش کیے گئے شہریوں نے جی بی ایم ایس باغٹیل، جی جی پی ایس میر حسن جمالی، جی بی ایم ایس چوکی جمالی، جی بی پی ایس علی اختر اور جی بی پی ایس ولی محمد کی مرمت کروانے کا مطالبہ بھی کیا گیا
اس کے علاوہ جی بی ایم ایس اور جی جی ایم ایس غلام محمد کے کوڈ سے متعلق مسئلہ حل کرنے اور سرکاری اسکولوں میں شجرکاری مہم شروع کرنے کی تجاویز بھی پیش کی گئیں.عوام نے گاؤں غلام محمد میں اسکول اور بنیادی مرکز صحت تک ٹف ٹائل والی سڑک تعمیر کرنے، باغٹیل پتوجہ روڈ کو پختہ کرنے، ساسولی روڈ کی تعمیر اور گاؤں علی مراد بگٹی سے عبدالغنی بگٹی تک سڑک کی بحالی کا مطالبہ کیا تاکہ آمدورفت کی سہولیات بہتر بنائی جا سکیں
علاقہ مکینوں نے باغٹیل تھانے میں پولیس نفری بڑھانے اور بھالو چیک پوسٹ بحال کرنے پر زور دیا تاکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد مل سکے.شہریوں نے آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور سرکاری نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے، گاؤں جعفر فقیر کو بجلی فراہم کرنے اور میونسپل کمیٹی گنداخہ کو کنٹیجنسی فنڈ جاری کرنے کے مطالبات پیش کیے تاکہ مقامی سطح پر شہری مسائل کا بروقت تدارک کیا جا سکے
مزید برآں گنداخہ میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دفتر قائم کرنے اور گاؤں علی اکبر سے متعلق پیش کیے گئے عوامی مسئلے کے حل کے لیے متعلقہ محکمے کو ضروری اقدامات کرنے کی درخواست کی گئی
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال نے شہریوں کے مسائل اور شکایات تفصیل سے سنیں اور متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ پیش کیے گئے مسائل کا جائزہ لے کر ان کے حل کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ محکمے عوام کو درپیش بنیادی مسائل کے حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں اور عوامی شکایات کے ازالے کو ترجیح دیں
انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ اور باہمی تعاون ضروری ہے تاکہ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنائی جا سکے .کھلی کچہری کے انعقاد کا بنیادی مقصد عوام کو اپنے مسائل براہِ راست ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا، عوامی شکایات کا بروقت ازالہ اور مسائل کے حل کے لیے بے عملی اقدامات کو یقینی بنانا تھا علاقائی معززین اور شہریوں نے کھلی کچہری کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پیش کیے گئے مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے اور تحصیل گنداخہ میں آبپاشی، صحت، تعلیم، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بہتری آئے گی

خبرنامہ نمبر9422/026
کوئٹہ، 28 اکتوبر2026:
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے سے دہشت گردی کی فضا ختم کرکے دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا، بزدلانہ حملے حکومت کے عزم اور حوصلے پست نہیں کرسکتے۔ بلوچ بچیوں اور بچوں کو تعلیم سے دور رکھنا دہشت گردوں کا مقصد ہے، تاہم بلوچستان حکومت کسی صورت تعلیمی ادارے بند نہیں کرے گی بلکہ اپنے بچوں کو تعلیم، شعور اور روزگار کے مواقع فراہم کرے گی۔ جو لوگ ریاست کے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے دلیل کی بنیاد پر بات کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے ریاست کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے نوشکی کے گرلز کالج میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز کالج میں بی ایل اے کے دہشت گرد داخل ہوئے اور تین طالبات کو زخمی کیا۔ زخمی طالبات میں سے دو کو شدید چوٹیں آنے کے باعث فوری طور پر کوئٹہ منتقل کیا گیا، جہاں حکومت ان کے بہترین علاج اور دیکھ بھال کو یقینی بنا رہی ہے، جبکہ تیسری طالبہ کو معمولی چوٹیں آئیں اور اس کا علاج نوشکی میں کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ پہلے دن سے یہ سوال اٹھاتے آ رہے ہیں کہ دہشت گرد آخر چاہتے کیا ہیں؟ بلوچ بچیوں کو تعلیم سے دور کرنا، ان پر حملے کرنا اور معصوم طالبات کو گولیوں کا نشانہ بنانا کون سی بلوچیت اور کون سی روایات ہیں؟ بلوچ معاشرہ اپنی روایات کا امین ہے، لیکن اب بلوچستان کے لوگوں پر واضح ہو چکا ہے کہ یہ عناصر بلوچ بچیوں کو تعلیم سے دور رکھنے اور انہیں خودکش حملہ آور بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بلوچستان کے بچے اور بچیاں تعلیم حاصل نہیں کریں گے تو دہشت گرد انہیں ریاست پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے ذریعے استعمال کرنے کی کوشش کریں گے اور وہ ان کے لیے آسان ہدف بن جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے اس بزدلانہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے بلوچستان کے عوام، بالخصوص زخمی طالبات اور ان کے والدین کو یقین دلایا کہ حکومت ان قاتلوں کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ سیکیورٹی فورسز ان ظالموں اور دہشت گردوں تک پہنچ کر انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں گی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ واقعہ بلوچستان کے دانشوروں، پروفیسرز اور سول سوسائٹی کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ ایسے حملوں سے دہشت گرد کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف بلوچستان حکومت اپنی بچیوں کے لیے آکسفورڈ اور ہارورڈ جیسے تعلیمی اداروں کے دروازے کھولنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف دہشت گرد انہیں خودکش جیکٹیں پہنانے اور علم سے دور رکھنے کے درپے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی دہشت گرد متعدد پروفیسرز کو قتل کر چکے ہیں اور اب ان کی کارروائیوں کا دائرہ طلبہ اور طالبات تک پہنچ گیا ہے۔ یہ عناصر مسلسل اپنی حدود عبور کر رہے ہیں، تاہم ریاست اور حکومت بلوچستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور بلوچستان پولیس کے ساتھ مل کر اس دہشت گردی اور بربریت کا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے بشیر زیب، رحمان گل، اللہ نذر اور دیگر دہشت گردوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارتی مفادات کے لیے کام کرتے ہوئے اس حد تک گر چکے ہیں کہ اب نہتی بلوچ بچیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جو صرف تعلیم حاصل کرنے کے لیے کالج آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد پروپیگنڈے کے ذریعے بچیوں کو ریاست کے خلاف خودکش حملوں پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی متعدد بچیوں کو حکومت میڈیا کے سامنے بھی پیش کر چکی ہے، جن سے پوچھ گچھ کے دوران ان عناصر کی گھناؤنی سرگرمیوں کے شرمناک پہلو سامنے آئے، تاہم ان کی تفصیلات میڈیا یا دیگر فورمز پر بیان کرنا مناسب نہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ حکومت بلوچستان اپنے اسکول اور کالج کسی صورت بند نہیں کرے گی۔ حکومت پہلے ہی 3,200 بند اسکول کھول چکی ہے اور اب ان اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے مزید آباد کرے گی۔ انہوں نے نوشکی گرلز کالج میں زخمی ہونے والی طالبات سے اظہار یکجہتی کے لیے اعلان کیا کہ بیوٹمز یونیورسٹی میں اسپورٹس گالا منعقد کیا جائے گا، جبکہ نوشکی کے اسی کالج میں زخمی طالبات کے نام سے اسپورٹس فیسٹیول بھی منعقد ہوگا۔ محکمہ کھیل دونوں مقامات پر ان بہادر، غیور اور دلیر بچیوں کے نام سے اسپورٹس فیسٹیول منعقد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان سرگرمیوں کے ذریعے دہشت گردوں کو واضح پیغام دیا جائے گا کہ وہ جتنی بھی کوشش کرلیں، حکومت کو اسکول اور کالج بند کرنے پر مجبور نہیں کرسکتے۔ حکومت ان تعلیمی اداروں کو آباد رکھے گی اور بلوچستان کی گلیوں کو بھی زندگی اور سرگرمیوں سے بھرپور بنائے گی۔ دہشت کی فضا مستقل طور پر ختم کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ کئی روز سے سیکیورٹی فورسز لازوال قربانیاں دے کر پہاڑوں اور ان ٹھکانوں میں دہشت گردوں کا تعاقب کر رہی ہیں جہاں وہ چھپ کر پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں شہری مراکز سے بھی نکالا جائے گا اور پہاڑوں سے بھی، اور ان کے انجام تک پہنچنے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ جو لوگ دلیل کی بنیاد پر اور ریاست کے آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بات کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے ریاست کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اللہ نذر کے اپنے بچے فرانس اور دیگر مقامات پر تعلیم حاصل کر سکتے ہیں تو کیا بلوچ بچیوں کو نوشکی کے کالج میں تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں؟ کیا انہیں آگے بڑھنے کا حق نہیں؟ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی بچیوں کو تعلیم، شعور اور ترقی کے مواقع فراہم کرے گی اور نوجوانوں کے لیے روزگار، کاروبار اور ذریعہ معاش کے پروگراموں پر توجہ مرکوز رکھے گی۔ یوتھ پالیسی سمیت حکومت کی تمام کوششوں کا مرکز بلوچستان کے نوجوان ہوں گے۔میر سرفراز بگٹی نے عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردوں کے ایسے سفاکانہ حملے حکومت کے ارادوں کو کمزور نہیں کرسکتے بلکہ اس عزم کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ حکومت پاک فوج کے ساتھ مل کر بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

خبرنامہ نمبر9423/026
بارکھان/رکھنی28 اکتوبر 2026: کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی کی زیرِ صدارت ڈویژنل ٹاسک فورس برائے انسدادِ پولیو و ای پی آئی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں نومبر کی انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں، ویکسینیشن کوریج اور مؤثر نگرانی کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈی آئی جی کوہ سلیمان رینج ایاز احمد بلوچ، ڈویژنل ڈائریکٹر محکمہ صحت ڈاکٹر مہر دین کھیتران، محکمہ صحت کے افسران اور ڈبلیو ایچ او کے نمائندے شریک ہوئے۔ ڈپٹی کمشنرز اور ایس پیز بارکھان، نارتھ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔کمشنرکوہ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی نے ہدایت کی کہ تمام ادارے مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام کریں، مائیکرو پلان پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور ٹیموں کی حاضری و کارکردگی کی مؤثر نگرانی کریں۔ انہوں نے بروقت اعداد و شمار اور ڈیش بورڈ اپ ڈیٹ رکھنے، ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد کرنے اور مہم میں مقررہ اہداف کے حصول پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ غفلت ولاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ہر بچے تک پولیو ویکسین پہنچانا تمام اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے-

خبرنامہ نمبر 9424/026
کویٹہ 28 اکتوبر2026:
بلوچستان کی ہنر مند خواتین کے لیے روزگار کے نئے مواقع، جاب فیئر میں 61 خواتین کو ملازمتوں کی پیشکش، 110 کے لیے بامعاوضہ انٹرن شپ کا اعلان۔ سیکریٹری محنت و افرادی قوت بلوچستان صالح محمد ناصر نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نوجوانوں اور خواتین کو معاشی طور پر خود مختار بنانے اور انہیں روزگار کے پائیدار مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جبکہ خواتین کو ہنر کے مطابق روزگار کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنر مند خواتین صوبے کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں اور انہیں مناسب مواقع فراہم کرکے معاشی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت یقینی بنائی جا سکتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (بی ٹیوٹا) کے زیراہتمام جی آئی زیڈ، یورپی یونین اور برٹش کونسل کے اشتراک سے منعقدہ ویمن جاب فیئر سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جاب فیئر صوبے کی ہنر مند خواتین کو صنعتی اداروں اور کمپنیوں کے ساتھ براہ راست رابطے، انٹرویوز اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا۔جاب فیئر کے دوران 365 ہنر مند خواتین نے 12 صنعتی اداروں اور کمپنیوں کے نمائندوں کے سامنے انٹرویوز دیے، جن میں سے 61 خواتین کو ملازمتوں کی پیشکش کی گئی، جبکہ 110 خواتین کو بامعاوضہ انٹرن شپ کے لیے منتخب کیا گیا۔ یہ اقدام خواتین کو عملی تجربہ فراہم کرنے اور انہیں پیشہ ورانہ میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع دینے کی جانب اہم قدم ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈی بی ٹیوٹا عبدالکبیر زرکون نے کہا کہ بی ٹیوٹا مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق نوجوانوں کو جدید فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کر رہی ہے تاکہ تربیت یافتہ افراد کو روزگار کے حصول میں آسانی ہو۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کے جاب فیئرز منعقد کیے جائیں گے اور قومی و بین الاقوامی کمپنیوں کو مدعو کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں، بالخصوص خواتین، کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا کیے جا سکیں۔وائس چیئرمین بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ بلال خان کاکڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت بلوچستان سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کر رہی ہے تاکہ صوبے میں نئے معاشی زونز اور صنعتی ادارے قائم ہوں اور مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو۔اس موقع پر بی ٹیوٹا کے حکام نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت صوبے بھر کے 25 ہزار نوجوانوں کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ جدید ہنر سے آراستہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ موجودہ دور میں روایتی تعلیم کے ساتھ عملی اور تکنیکی مہارتوں کا حصول ناگزیر ہو چکا ہے۔ بی ٹیوٹا اور اس کے شراکت دار اداروں کی جانب سے منعقدہ یہ جاب فیئر بلوچستان کی ہنر مند خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے، ان کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھولنے اور صوبے کی معاشی ترقی میں ان کی مؤثر شرکت یقینی بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔

خبرنامہ نمبر9425/026
Quetta, October 28, 2026: In line with the vision of Chief Minister Balochistan Mir Sarfraz Bugti, the Women Entrepreneurs Network (WEXNET) Quetta 2026 exhibition will be held on October 31 and November 1, 2026, to economically empower women, promote entrepreneurial activities, and provide local products with access to national and international markets. Women entrepreneurs from across Balochistan will showcase their products at the exhibition.
In this regard, the Balochistan Board of Investment and Trade (BBoIT) and the Trade Development Authority of Pakistan (TDAP) have signed a collaborative agreement. The agreement was signed by BBoIT Chief Executive Abdul Mannan and TDAP Provincial Director Noor Ali Achakzai. BBoIT Vice Chairman Bilal Khan Kakar and other officials were also present on the occasion.
Under the agreement, both institutions will work jointly to ensure the successful organization of the Women Entrepreneurs Network (WEXNET) Quetta 2026 exhibition, scheduled to take place at the BUITEMS Expo Centre, Quetta, on October 31 and November 1, 2026. The exhibition aims to provide women entrepreneurs with a platform to showcase their products, establish business connections, and explore opportunities to access new markets.
Speaking on the occasion, BBoIT Vice Chairman Bilal Khan Kakar said that, in line with the vision of Chief Minister Balochistan Mir Sarfraz Bugti and Federal Minister for Commerce Jam Kamal Khan, the Balochistan Board of Investment and Trade is taking effective measures to promote investment, improve the business environment, and create new opportunities for the private sector in the province. He said that facilitating women entrepreneurs is also an important component of this vision.
He observed that women in Balochistan possess tremendous entrepreneurial potential, creative skills, and the capacity to play an effective role in economic development. The WEXNET exhibition will provide women from across the province with an effective platform to display their products, highlight their business capabilities, and explore new commercial opportunities.
Bilal Khan Kakar emphasized that encouraging women’s active participation in business is essential not only for their economic empowerment but also for strengthening the provincial economy, promoting local industries and products, and generating new employment opportunities. He reaffirmed that BBoIT would continue to play its role in supporting women entrepreneurs and helping them access wider markets for their products.
TDAP Provincial Director Noor Ali Achakzai thanked BBoIT Vice Chairman Bilal Khan Kakar for his support and said that women entrepreneurs from across Balochistan had been invited to participate in the exhibition. He noted that the initiative would provide women with opportunities to showcase their products, establish business networks, and explore avenues for expanding their businesses in the future.
He further stated that, to facilitate women’s participation, BBoIT would cover the stall fees and accommodation expenses of participating women entrepreneurs, enabling more women to take part in this important business initiative.

خبرنامہ نمبر9426/026
کوئٹہ 28 اکتوبر2026: صوبائی سیکریٹری اطلاعات حکومتِ بلوچستان عمران خان نے کہا ہے کہ معلومات تک رسائی کا حق شفاف طرزِ حکمرانی، جوابدہی اور عوامی اعتماد کے فروغ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ سرکاری اداروں میں معلومات کی بروقت اور مؤثر فراہمی سے عوام کو حکومتی امور سے باخبر رکھنے اور ادارہ جاتی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے زیرِ اہتمام، بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے اشتراک سے بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021 کے سیکشن 5، یعنی ازخود معلومات کی تشہیر (Proactive Disclosure)، کے موضوع پر پبلک انفارمیشن آفیسرز (PIOs) کی تربیتی ورکشاپ سے اپنے تفصیلی خطاب میں کیا۔ انہوں نے سرکاری محکموں میں شفافیت کے فروغ، قانونی تقاضوں پر عملدرآمد اور شہریوں کو درست، مستند اور بروقت معلومات کی فراہمی کے لیے پبلک انفارمیشن آفیسرز کے کردار کو اہم قرار دیا۔ اس موقع پر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمین جسٹس (ر) ضیاء پرویز نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور معلومات تک رسائی کے حق کو اچھی حکمرانی اور ادارہ جاتی شفافیت کے لیے اہم قرار دیا۔ بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے انفارمیشن کمشنر عبدالشکور خان نے بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021 کے اہم پہلوؤں، بالخصوص سیکشن 5 کے تحت ازخود معلومات کی تشہیر کی اہمیت اور افادیت پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ازخود معلومات کی تشہیر سے مراد ضروری سرکاری معلومات کو پیشگی عوام کے لیے دستیاب بنانا ہے تاکہ شہریوں کو ہر معلومات کے حصول کے لیے الگ سے درخواست دینے کی ضرورت نہ پڑے اور سرکاری معاملات میں شفافیت کو فروغ حاصل ہو۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کاشف علی نے اپنے خطاب میں قانون پر مؤثر عملدرآمد، متعلقہ افسران کی استعدادِ کار میں اضافے اور سرکاری اداروں میں شفافیت کے اصولوں کو عملی طور پر اپنانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ آر ٹی آئی ماہر، سابق رکن بلوچستان نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق (NCHR) اور سابق ڈائریکٹر جنرل وزارتِ انسانی حقوق اسلام آباد، پروفیسر فرخندہ اورنگزیب نے پورے پاکستان بالخصوص بلوچستان میں معلومات تک رسائی کے قانونی نظام، اس کی اہمیت اور عملی اطلاق کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے پبلک انفارمیشن آفیسرز کی ذمہ داریوں اور شہریوں کی معلومات تک رسائی کے حق کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ ورکشاپ کا مقصد پبلک انفارمیشن آفیسرز کو بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021 کے تقاضوں، خصوصاً سیکشن 5 کے تحت ازخود معلومات کی تشہیر، کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا اور سرکاری محکموں میں معلومات کی فراہمی کے نظام کو مزید مؤثر بنانا تھا۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ قانون پر مؤثر عملدرآمد، معلومات کی بروقت فراہمی اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ تربیتی ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔

خبرنامہ نمبر9427/026
چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت بلوچستان منرل ریسورسز لمیٹڈ (بی ایم آر ایل) اور بلوچستان منرلز ایکسپلوریشن کمپنی (بی ایم ای سی) کے امور و کارکردگی سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں دونوں سرکاری کمپنیوں کے موجودہ منصوبوں، ادارہ جاتی کارکردگی، معدنی وسائل کی تلاش اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ چیف سیکرٹری نے کمپنیوں کے انتظامی امور کا جامع جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے معدنی وسائل صوبے کی معاشی ترقی، روزگار کے مواقع میں اضافے اور مقامی کاروباری سرگرمیوں کی وسعت کے لیے ایک بڑا سرمایہ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان وسائل کا استعمال شفافیت، پیشہ ورانہ مہارت اور عوامی مفاد کے مطابق کیا جائے۔ انہوں نے بی ایم آر ایل اور بی ایم ای سی کو ہدایت کی کہ وہ اپنی مختصر، درمیانی اور طویل مدتی ترجیحات کے تحت جامع بزنس پلان تیار کریں۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ بزنس پلان میں معدنی وسائل کی شناخت، سروے و ایکسپلوریشن، سرمایہ کاری کے مواقع، مارکیٹنگ، قدر و قیمت میں اضافے اور پائیدار آپریشنز کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیاں محض انتظامی ادارے نہیں بلکہ صوبے کی معدنیات کی ترقی کے لیے کاروباری و تکنیکی اداروں کی حیثیت رکھتی ہیں، لہٰذا ان کی کارکردگی کا جائزہ واضح اہداف، نتائج اور وقت کی حد بندی کے تحت کیا جائے گا۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ بلوچستان میں معدنیات کے شعبے کی ترقی کے لیے نجی شعبے کی شرکت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کمپنیوں کو ہدایت کی کہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار، شفاف اور قابلِ اعتماد ماحول فراہم کیا جائے تاکہ معدنی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کو فروغ دینے، کاروباری عمل کو آسان بنانے اور سرمایہ کاروں کے مسائل کے حل کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات کے شعبے کی بہتر کارکردگی سے نہ صرف صوبائی معیشت مضبوط ہوگی بلکہ مقامی افراد کو روزگار اور ہنر کے نئے مواقع بھی میسر آئیں گے۔ چیف سیکریٹری نے دونوں کمپنیوں کی اب تک کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور دونوں کمپنیوں کی انتظامیہ کو مستقبل قریب میں اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

خبرنامہ نمبر9428/026
جعفرآباد۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت بلاک شناختی کارڈ کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں نادرا سمیت انٹیلی جنس اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بلاک شناختی کارڈ والے افراد کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور اپنی مشکلات اور مسائل سے کمیٹی کو آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے اجلاس کے موقع پر کہا کہ بلاک شناختی کارڈ کا مسئلہ سنگین نوعیت کا ہے، جن افراد کے شناختی کارڈ بلاک ہیں ان کی مکمل تصدیق کے بعد انہیں ان کا حق دلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نادرا اور سیکیورٹی ادارے مشترکہ طور پر ان کیسز کی جانچ پڑتال کو یقینی بنائیں تاکہ کوئی بھی حقدار شناختی کارڈ سے محروم نہ رہے جبکہ کسی غیر متعلقہ فرد کو شناختی کارڈ جاری نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلاک شناختی کارڈ کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات درپیش ہیں، شناختی کارڈ کے بغیر نہ روزگار ملتا ہے اور نہ ہی سرکاری سہولیات، اس لیے اس مسئلے کا حل اولین ترجیح ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ بلاک شناختی کارڈ کیسز کو میرٹ پر فوری نمٹائیں اور حتمی رپورٹ پیش کریں تاکہ مستحق افراد کو جلد ریلیف دیا جا سکے۔

خبر نامہ نمبر 2026/9430
قلعہ عبداللہ28 اکتوبر:ضلع قلعہ عبداللہ کی تحصیل گلستان میں انسدادِ منشیات مہم 2026 کے تحت سکیورٹی فورسز اور ضلعی انتظامیہ کی مشترکہ کارروائی کے دوران مزید 125 ایکڑ اراضی پر کاشت کی گئی چرس بھنگ کی فصل کا خاتمہ کر دیا گیا، جس کے بعد مہم کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 1,816 ایکڑ اراضی کو بھنگ کی کاشت سے پاک کیا جا چکا ہے۔28 اکتوبر کو جاری رہنے والی اس کارروائی کی قیادت 77 ونگ کے ونگ کمانڈر اور ضلعی انتظامیہ قلعہ عبداللہ نے مشترکہ طور پر کی۔ آپریشن میں ایف سی ،اینٹی نارکوٹکس فورس اے این ایف ،پولیس، انٹیلی جنس بیورو ائی بی ،ملٹری انٹیلی جنس اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے حصہ لیا۔مشترکہ ٹیم نے تحصیل گلستان کے علاقے نورک سلیمان خیل میں انسدادِ بھنگ مہم کے آٹھویں روز کارروائی کرتے ہوئے 125 ایکڑ اراضی سے بھنگ ،چرس کی فصل کا خاتمہ کیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ انسدادِ بھنگ مہم کا مقصد علاقے میں منشیات کی غیر قانونی کاشت کا مکمل خاتمہ اور نوجوان نسل کو منشیات کے مضر اثرات سے محفوظ بنانا ہے۔ متعلقہ اداروں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ بھنگ کی کاشت کے مکمل خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/9430
صحبت پور28 اکتوبر:ـصوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ کے زیر صدارت نصیر آباد زون میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے جاہزہ اجلاس صحبت پور میں منعقد ہوا اجلاس میں چیف انجینئر نصیر آباد زون محمد بشیر ناصر کے علاؤہ نصیر آباد زون کے سپریٹنڈنگ انجینئرز اور نصیر آباد زون کے تمام روڈ اور بلڈنگ سیکٹر کےضلعی انجینئرز آفیسران نے شرکت کی اس موقع پر چیف انجنیر نصیر آباد زون محمد بشیر ناصر نے نصیر آباد زون میں جاری تمام ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق اسکیم واہس تفصیلی بریفنگ دی اسکے علاؤہ جن منصوبوں پر درپیش تیکنیکی یا مالی مسائل تھے ان تمام منصوبوں کا بغور جاہزہ لیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نے تمام جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کو تسلی بخش کرار دیتے ہوئے کہا کہ نصیر آباد ڈویژن صوبے کا گرین بیلٹ ہے جہاں زراعت کے حوالے سے سال بھر زمینداروں کی مصروفیات ہوتی ہیں اور انھیں وقت پر اپنے زرعی اجناس کو منڈی تک پہنچانا ہوتا ہے لہذا جتنے بھی روڈ ساہیڈ کے جاری ترقیاتی منصوبے ہیں ان کی تکمیل میں تیزی لائی جائے اور جو منصوبے فنڈز یا کسی اور تیکنیکی مساہل کی وجہ سے سست روی کا شکار ہیں انہیں فوری طور پر حل کریں صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نے تمام متعلقہ انجینئرز آفیسران کو یہ ہدایات بھی دیں کہ ان منصوبوں کے کنٹریکٹرز کی مسلسل نگرانی کریں اگر کوئی بھی کنٹریکٹر غیر معیاری مٹیریل یا سست روی کا مرتکب ہوں تو ان کو نوٹسز جاری کریں اگر پھر بھی کوئی پیش رفت نا ہو تو بلیک لسٹنگ کی کارروائی عمل میں لائی جائے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نے مذید کہا کہ اپنے اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں تیزی لانے کے ساتھ ساتھ اسکے معیار کا خاص خیال رکھیں انہوں نے کہا کہ بلڈنگ سیکٹر کی جو بھی سیکم مکمل ہوتی ہے اسے جلد ہی متعلقہ محکمے کے حوالے کیا جائے اور اس حوالے کیا جائے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نے محکمہ کے چیف انجینئرز آفیسران اور باقی متعلقہ انجینئرز آفیسران کو سختی سے ہدایات دی کہ اپنے متعلقہ اضلاع میں اپنے عملہ کی حاضری کو یقینی بنائیں اور تمام ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی مسلسل بنیادوں پر کرنے کی ہدایات بھی دیں اور خود بھی اپنے سرکل میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے دورے بھی کیا کریں۔

خبر نامہ نمبر 2026/9431
کوئٹہ28 اکتوبر:_رجسٹرار ہائی کورٹ آف بلوچستان کے ایک اعلامیے کے مطابق تمام امیدواران جو ہائی کورٹ آف بلوچستان میں اسسٹنٹ پروٹوکول آفیسر کی آسامی کے لیے تحریری امتحان میں شرکت کے خواہشمند ہیں، کو بذریعہ ہٰذا مطلع کیا جاتا ہے کہ مورخہ 29 اکتوبر 2026ء کو منعقد ہونے والا تحریری امتحان ملتوی کر دیا گیا ہے۔امتحان کے التوا کا فیصلہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات، جو ہائی کورٹ کی عمارت میں منعقد ہونے ہیں، اور ان کے پیشِ نظر درپیش سیکیورٹی کے ممکنہ خدشات کے باعث کیا گیا ہے۔تحریری امتحان کی نئی تاریخ سے تمام امیدواران کو مناسب وقت پر مطلع کر دیا جائے گا۔تمام متعلقہ امیدواران سے گزارش ہے کہ اس اعلان کو نوٹ فرما لیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *