خبر نامہ نمبر9320/2026
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون، سیاحت و ثقافت نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی کی خصوصی ہدایات پر ڈائریکٹوریٹ آف کلچر، حکومتِ بلوچستان کے زیرِ اہتمام بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی 150ویں سالگرہ کے سلسلے میں آل پاکستان محفل مشاعرہ منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے نامور شعراء کرام اور ادبی شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر کلچر بلوچستان ڈاکٹر داود ترین نے ملک بھر سے تشریف لانے والے شعراء کرام اور معزز مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا اور اپنے استقبالیہ خطاب میں ان کی آمد کو بلوچستان کے لیے باعثِ مسرت قرار دیا۔محفلِ مشاعرہ میں معروف شعرا ءکرام حمیدہ شاہین، عباس تابش، عاطف یاسر، فاضل جمیلی، فریدہ نقوی، اکرم عارف اور نجم سلیم سمیت دیگر شعراء نے اپنے منتخب کلام پیش کیے۔ شعراءکرام نے اپنی شاعری کے ذریعے محبت، امن، قومی یکجہتی، حب الوطنی اور معاشرتی ہم آہنگی کے جذبات کو اجاگر کیا۔ تقریب نے شرکاء کو فن، ثقافت اور شاعری سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کیا اور ملک کے مختلف علاقوں کی ادبی روایات کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کیا۔اس موقع پر ڈاکٹر داود ترین نے ثقافتی اور ادبی سرگرمیوں کے فروغ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ آف کلچر بلوچستان صوبے کے ادبی و ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تقریبات نہ صرف اہل ادب کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرتی ہیں بلکہ قومی سطح پر ثقافتی روابط کو مضبوط بنانے اور نئی نسل میں ادب و فن سے دلچسپی پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9321/2026
زیارت 27 اکتوبر۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی ہدایت پر 27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر اسسٹنٹ کمشنر حبیب الرحمن کاکڑ کی قیادت میں ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں ضلعی افسران اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ریلی سے تحصیلدار نور احمد کاکڑ نے بھی خطاب کیا اس موقع پر صبح 10 بجے کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ شرکاءنے کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی اور حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔ اسسٹنٹ کمشنر حبیب الرحمن کاکڑ نے کہا کہ یومِ سیاہ کشمیر منانے کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا اور عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام طویل عرصے سے اپنے بنیادی حقوق اور حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور پاکستانی قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو کشمیر میں پیش آنے والے واقعات کی یاد میں ہر سال یومِ سیاہ منایا جاتا ہے تاکہ کشمیری عوام کی مشکلات کو اجاگر کیا جا سکے اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے عالمی سطح پر آواز بلند کی جا سکے۔ ریلی کے اختتام پر شرکاءنے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھی جائے گی اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے عالمی برادری کو اپنا موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9322/2026
قلعہ عبداللہ،27 اکتوبر۔ ضلع قلعہ عبداللہ کی تحصیل گلستان میں انسدادِ بھنگ مہم 2026 کے تحت مشترکہ کارروائی کے دوران 225 ایکڑ اراضی پر کاشت کی گئی بھنگ کی فصل تلف کر دی گئی، جس کے بعد ضلع بھر میں تلف کی جانے والی فصل کا مجموعی رقبہ 1,602 ایکڑ تک پہنچ گیا۔محمکہ ایکسائز اینڈ ٹیکسشن ومنشیات ،ضلعی انتظامیہ قلعہ عبداللہ ، فرنٹیئر کور، اینٹی نارکوٹکس فورس ANF،پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کے نمائندوں نے مشترکہ کارروائی میں حصہ لیا۔ یہ آپریشن گلستان کے علاقے زم حبیب زئی میں جاری مہم کے چھٹے روز کیا گیا۔کارروائی کے دوران 225 ایکڑ اراضی سے بھنگ کی فصل مختلف طریقوں سے تلف کی گئی، جن میں 26 ایکڑ پر پانی کی عدم دستیابی، 89 ایکڑ پر دستی طریق کار، 68 ایکڑ پر ٹریکٹر اور 42 ایکڑ پر ویڈ کٹرز کا استعمال شامل تھا۔ افسران کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کوششوں سے انسدادِ منشیات مہم کو موثر انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے افسران نے مزید کہا کہ حکام کے مطابق ضلع قلعہ عبداللہ میں بھنگ کی کاشت کے مکمل خاتمے تک یہ مہم جاری رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9323/2026
کوئٹہ، 27 اکتوبر۔صوبائی وزیر برائے منصوبہ بندی میر ظہور بلیدی نے یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہدِ حقِ خودارادیت کی حمایت پاکستان کے اصولی موقف کا حصہ ہے، جبکہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شہریوں کو درپیش مشکلات پر عالمی برادری کو موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔میر ظہور بلیدی نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9324/2026
27 اکتوبرنصیرآباد۔ ڈپٹی کمشنر وریندر لعل کی قیادت میں کشمیری بھائیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے یومِ سیاہ ریلی کا انعقاد کیا گیا تفصیلات کے مطابق آج نصیرآباد میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی قیادت میں یومِ سیاہ ریلی نکالی گئی ریلی میں ایس ایس پی نصیرآباد ضلعی محکموں کے سربراہان سرکاری افسران و ملازمین اساتذہ طلبہ اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کیریلی کے شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت آزادی اور ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے حوالے سے نعرے درج تھے اس موقع پر شرکاءنے کشمیر بنے گا پاکستان سمیت دیگر نعرے بلند کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے، کشمیری عوام پر پابندیوں اور ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاج کیااس موقع پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھی جائے گی اور کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑا جائے گا ریلی کے ذریعے عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کراتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائےریلی میں شریک افراد نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار صرف ایک دن تک محدود نہیں بلکہ ان کے جائز حقوق کے حصول اور پائیدار امن کے لیے عالمی سطح پر موثر اقدامات کی ضرورت ہے یومِ سیاہ کے موقع پر منعقدہ اس ریلی کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار اور مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا تھا
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9325/2026
27اکتوبرجعفرآباد۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا ہے کہ نام نہاد جمہوریت کا دعوے دار بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے، کشمیری عوام کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے، ان کی آزادی سلب کرنے اور مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ برقرار رکھنے والے بھارت کو رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ کشمیری عوام پر جاری ظلم و جبر، انسانی حقوق کی پامالی اور بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف آج ملک بھر کی طرح ضلع جعفرآباد میں بھی یومِ سیاہ منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کرانا اور مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے 27 اکتوبر یومِ سیاہ کے موقع پر ڈپٹی کمشنر آفس جعفرآباد سے نکالی گئی ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ریلی صبح 10 بجے ڈپٹی کمشنر آفس سے روانہ ہوئی، جو شہر کی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی واپس ڈپٹی کمشنر آفس پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی کے آغاز سے قبل کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ان کی جدوجہدِ آزادی کی حمایت میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ ریلی میں شریک افسران، ملازمین اور دیگر شرکاءنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے خلاف نعرے درج تھے۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے مزید کہا کہ 27 اکتوبر کشمیری عوام کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے، جب 1947 میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوجیں اتار کر کشمیری عوام کی امنگوں کے برخلاف قبضے کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے بھارتی مظالم کا سامنا کرنے کے باوجود اپنے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے ثابت قدم ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا تسلیم شدہ حقِ خودارادیت دلانے کے لیے موثر کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گی اور ان کی جدوجہدِ آزادی میں ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9326/2026
تربت، 27 اکتوبر ۔ملک کے دیگر حصوں کی طرح ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت میں بھی یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک عظیم الشان ریلی نکالی گئی۔
اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی کی قیادت میں ریلی ڈپٹی کمشنر کیچ آفس تربت سے شروع ہوئی، جو کمشنر مکران ڈویڑن آفس سے ہوتی ہوئی ڈی پی او چوک پہنچی۔ بعد ازاں ریلی مختلف مقامات سے گزرتی ہوئی واپس ڈپٹی کمشنر کیچ آفس پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ریلی میں سرکاری محکموں کے افسران و ملازمین، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکائ نے کشمیری عوام کے حق میں بینرز اور پاکستان و کشمیر کے پرچم اٹھا رکھے تھے، جبکہ اس موقع پر کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔اس موقع پر ریلی کے شرکاء نے بھارتی غاصبانہ قبضہ سے آزادی حاصل کرنے کے لیے کشمیریوں کے حمایت میں پرجوش نعرہ بازی کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی نے کشمیری عوام کی جدوجہد اور لازوال قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے اپنے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، جنہیں کسی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947ءکو بھارتی افواج کی سری نگر آمد اور جموں و کشمیر پر بھارتی قبضے کے بعد سے کشمیری عوام مسلسل مشکلات اور مصائب کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ دن کشمیری عوام کی جدوجہد اور ان کے حقِ خودارادیت کی یاد تازہ کرتا ہے۔اسسٹنٹ کمشنر تربت نے مزید کہا کہ حکومتِ پاکستان جموں و کشمیر پر بھارتی قبضے کو تسلیم نہیں کرتی اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کے لیے پاکستان اپنی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ریلی کے انعقاد کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا، ان کی جدوجہد کو اجاگر کرنا اور عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی جانب مبذول کرانا تھا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9327/2026
لسبیلہ ہینڈآﺅٹ 27اکتوبر۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءکی خصوصی ہدایات پر لسبیلہ ڈویژن کے اضلاع حب، لسبیلہ اور آواران میں یومِ سیاہ کشمیر (27 اکتوبر 2026) کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کے افسران کی نگرانی میں اضلاع کے مرکزی مقامات پر کشمیر یکجہتی واک اور ریلیوں کا اہتمام کیاگیا یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر ڈویژن بھر میں ڈی آءجی پولیس لسبیلہ رینج عبدالقیوم پتافی ڈی ایس پی اسپیشل برانچ ذولفقاربلوکی زیرنگرانی تمام سیکیورٹی اداروں نے حفاظتی انتظامات بھرپوراندازمیں نبھائے ریلیوں میں سول سوسائٹی کے ارکان، معززینِ علاقہ، تاجر برادری، اساتذہ، طلبہ اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے ہیں جن پر کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے حق میں اور بھارتی جارحیت کے خلاف نعرے درج تھے
ڈپٹی کمشنر حب کیپٹن (ریٹائرڈ) جمعہ داد خان مندوخیل کی زیرِ نگرانی ضلع حب کی تمام سب ڈویژنز میں خصوصی تقریبات اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔ضلع کے مختلف اسکولوں میں خصوصی تقریبات منعقد کی گئیں، جبکہ کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلیاں بھی نکالی گئیں۔ تقریبات اور ریلیوں میں سرکاری افسران، اساتذہ، طلبہ کے نمائندوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ لسبیلہ ڈویژن کی سول سوسائٹی نےحضرت مولانا یعقوب ساسولی کی زیرقیادت پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر یہ ثابت کیا کہ بلوچستان کے عوام اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔مقررین اور شرکاء نے واضح کیا کہ عوامِ کشمیر اور پاکستان ہر قسم کے بھارتی غاصبانہ قبضے اور ہتھکنڈوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ تقاریب کے دوران اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے دیرینہ مسئلے کو حل کرنے اور وہاں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کو فوری طور پر بند کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔حکومتِ بلوچستان کے نوٹیفکیشن کے تحت صوبے بھر کی طرح لسبیلہ ڈویژن میں بھی صبح 10 بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی تاکہ کشمیری شہداءکی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9328/2026
گوادر27 اکتوبر۔ ملک بھر کی طرح ساحلی شہر گوادر میں بھی صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ کے زیرِ اہتمام یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ریلی نکالی گئی، جس میں طلبہ، شہریوں اور مختلف سرکاری اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ ریلی سید ہاشمی چوک سے شروع ہوکر میرین ڈرائیو پر اختتام پذیر ہوئیشرکاء نے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی افواج کے کشمیر میں داخلے اور قبضے کے بعد سے کشمیری عوام مشکلات اور مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر سال یومِ سیاہ منا کر عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کراتا ہے انہوں نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق دلانے کے لیے موثر کردار ادا کرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9329/2026
گوادر27 اکتوبر ۔ صوبائی حکومت کی تعلیم دوست پالیسی اور معیاری تعلیم کے فروغ کے وژن کے تحت ضلع گوادر کے کالجوں کے پرنسپلز کا اجلاس ڈائریکٹر کالجز پروفیسر محمد حسین بلوچ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے کالجوں کے سربراہان نے شرکت کی اور اداروں کی تعلیمی کارکردگی، انتظامی امور اور تدریسی سرگرمیوں سے متعلق پیش رفت سے اجلاس کو آگاہ کیا اجلاس میں طلبہ کی حاضری، ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرامز ،پر پیش رفت، معاوضوں سے متعلق امور اور کالجوں کی موثر فعالیت سمیت مختلف تعلیمی و انتظامی معاملات کا جائزہ لیا گیا اس موقع پر ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر کالجز مکران پروفیسر برکت اسماعیل نے ضلع گوادر کے کالجوں کی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ موجودہ تعلیمی سیشن کے دوران طالبات کی اعلیٰ ثانوی تعلیم تک رسائی بڑھانے کے لیے تین نئے گرلز انٹر کالجز قائم کیے گئے ہیں، جن میں گورنمنٹ گرلز انٹر کالج اورماڑہ، گورنمنٹ گرلز انٹر کالج پسنی اور گورنمنٹ گرلز انٹر کالج سربندر شامل ہیں۔ یہ پیش رفت علاقے میں طالبات کے لیے تعلیمی مواقع کی توسیع کی جانب اہم پیش رفت ہے ڈائریکٹر کالجز پروفیسر محمد حسین بلوچ نے پرنسپلز کی تعلیمی بہتری کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ طلبہ کی باقاعدہ حاضری یقینی بنانے، تدریسی معیار بلند کرنے اور تعلیمی نتائج بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے، تاکہ طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی اور کالجوں کی مجموعی کارکردگی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9330/2026
سیوی 27 اکتوبر ۔ 27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی قیادت میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلی نکالی گئی، جس میں ضلعی و سول افسران، معتبرین، اساتذہ، طلباءسمیت شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ریلی کے شرکاءنے کشمیری شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور مظلوم کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ اور کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ریلی کے شرکاءنے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ 27 اکتوبر کشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے، جب 1947 میں بھارتی افواج مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوئیں۔ اس دن کو ہر سال یومِ سیاہ کے طور پر منانے کا مقصد عالمی برادری کی توجہ کشمیری عوام کی مشکلات اور ان کے حقِ خودارادیت کی جانب مبذول کرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے بنیادی حقوق، آزادی اور حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ پاکستان کے عوام کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے تحفظ اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ یومِ سیاہ کشمیر منانے کا مقصد نئی نسل میں مسئلہ کشمیر سے متعلق شعور اجاگر کرنا اور کشمیری عوام کی قربانیوں کو یاد رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور ان کے جائز حقوق کی حمایت جاری رہے گی۔ اس موقع پر طلباء نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کشمیری عوام کی جدوجہد ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتے ہیں۔ طلباءنے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق دلانے اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے موثر اقدامات کرے۔ ریلی کے اختتام پر کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستانی قوم کشمیری عوام کی جدوجہد اور ان کے جائز حقوق کی حمایت جاری رکھے گی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے وڑن کے مطابق حکومت بلوچستان کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی، قومی شعور کے فروغ اور عوامی سطح پر اہم قومی و بین الاقوامی معاملات کے حوالے سے آگاہی اجاگر کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9331/2026
سیوی 27 اکتوبر۔یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے 27 اکتوبر کی تاریخی اہمیت، مسئلہ کشمیر کے پس منظر اور کشمیری عوام کی جدوجہد کے حوالے سے آگاہی فراہم کی۔ ڈپٹی کمشنر نے اپنے خطاب میں کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی افواج مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوئیں، جس کے بعد کشمیری عوام اپنے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یومِ سیاہ کشمیر منانے کا مقصد اس تاریخی دن کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور نئی نسل کو کشمیری عوام کی قربانیوں اور مشکلات سے آگاہ کرنا ہے۔ انہوں نے طلبائ پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر، کشمیری عوام کے بنیادی حقوق اور حقِ خودارادیت کے حوالے سے آگاہی حاصل کریں اور اپنے تعلیمی اداروں میں اس اہم قومی مسئلے پر شعور اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ نوجوان نسل کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتی ہے، اس لیے طلباءکو قومی و بین الاقوامی امور سے باخبر رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور ان کے جائز حقوق کی حمایت جاری رکھے گی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے وڑن کے مطابق نوجوان نسل میں قومی شعور، تاریخی آگاہی اور اہم قومی معاملات سے متعلق معلومات کے فروغ کے لیے ایسے اقدامات نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 9332/2026
سیوی 27 اکتوبر ۔ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی قیادت میں 2 نومبر سے شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا، جس میں محکمہ صحت کے افسران، طلبائ، معززین اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔ واک کا مقصد عوام میں پولیو کے خاتمے کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا اور والدین کو انسدادِ پولیو مہم کی اہمیت سے آگاہ کرنا تھا۔ اس موقع پر شرکاء نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے لازمی پلوائیں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے اس موقع پر کہا کہ پولیو کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ والدین اپنے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر انسدادِ پولیو مہم کے دوران پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بچہ پولیو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے۔ حکومت بلوچستان بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے اور صوبے سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے موثر اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ 2 نومبر سے شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کے دوران پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں اور اپنے پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے لازمی پلوائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9333/2026
کوئٹہ 27 اکتوبر ۔بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے 27 اکتوبر یومِ سیاہ کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ 27 اکتوبر یومِ سیاہ منانے کا مقصد کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور ان کی جدوجہدِ آزادی کی حمایت کرنا ہے۔ میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے کشمیر پر ناجائز قبضہ کر کے کشمیری عوام کے حقوق کو پامال کیا۔ اس دن کو یومِ سیاہ کے طور پر منا کر ہم دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی شروع دن سے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حامی رہی ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے ہمیشہ کشمیر کاز کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ کشمیری عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، وہ دن دور نہیں جب کشمیر آزاد ہوگا اور کشمیری عوام اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کریں گے۔انہوں نے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کو ان کا حق خودارادیت دلانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9334/2026
گوادر27 اکتوبر ۔ صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول جدید گوادر میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر تقریب منعقد ہوئی، جس کا آغاز مولانا عامر صاحب کی تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سر عبدالعزیز کے بی نے انجام دیے تقریب کے اسکول سے ہیڈماسٹر طارق محمود اور اساتذہ کرام نے خطاب کرتے ہوئے طلبہ کو مسئلہ کشمیر، کشمیری عوام کی جدوجہد اور حقِ خودارادیت کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر طلبہ شبیر احمد، شہزاد، سیف اللہ، احمد علی اور طیب نے بھی تقاریر کیں اور کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔مقررین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دلانے اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے موثر کردار ادا کرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9335/2026
27 اکتوبر استا محمد۔ ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال کی ہدایت پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی اور بھارتی قبضے کے خلاف یومِ سیاہ کے موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد اسماعیل لاشاری اور اسسٹنٹ کمشنر استا محمد ماریہ شمعون کی قیادت میں ایک پرامن ریلی نکالی گئی جس میں ضلعی افسران سرکاری ملازمین اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کیریلی ڈپٹی کمشنر آفس استا محمد سے شروع ہوئی اور تحصیل روڈ سے گزرتے ہوئے واپس ڈپٹی کمشنر آفس پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی اس موقع پر شرکاء نے کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ہر مشکل گھڑی میں کھڑی ہےریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اسماعیل لاشاری اور اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947ء کشمیری تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے جب بھارتی افواج نے جموں و کشمیر میں مداخلت کرتے ہوئے قبضے کی بنیاد رکھی اس دن کو ہر سال یومِ سیاہ کے طور پر منانے کا مقصد عالمی برادری کی توجہ کشمیری عوام کی طویل جدوجہد قربانیوں اور ان کے بنیادی حقوق کی جانب مبذول کرانا ہےمقررین نے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے اپنے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور اس دوران انہوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پرامن حل اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہو سکےانہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور کشمیریوں کی جائز جدوجہد کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ یومِ سیاہ منانے کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک حل طلب تنازع ہے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اس کا منصفانہ حل ناگزیر ہے مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ متحد ہے اور ان کی جدوجہدِ آزادی اور حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گی
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9336/2026
پسنی 27 اکتوبر ۔ صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں گورنمنٹ ہائی اسکول مستانی ریک بازار پسنی میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر تقریب منعقد ہوئی، جس میں طلبہ نے تقاریر کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتے ہوئے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔تقریب کا مقصد طلبہ میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے شعور و آگاہی پیدا کرنا اور کشمیری عوام کی جدوجہد سے روشناس کرانا تھا۔ اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کشمیری عوام کی جائز جدوجہد اور حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9337/2026
گوادر 27 اکتوبر۔ صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول شمبے اسماعیل میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس کا مقصد طالبات میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے شعور و آگاہی پیدا کرنا اور کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے جذبات کو فروغ دینا تھا تقریب کے دوران طالبات نے تقاریر اور ٹیبلو کے ذریعے کشمیری عوام کی جدوجہد، قربانیوں اور حقِ خودارادیت کو اجاگر کیا۔ اس موقع پر ہیڈمسٹریس بلقیس سلیمان اور طالبات نے خطاب کرتے ہوئے یومِ سیاہ کشمیر کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا تقریب میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کشمیری عوام کی جائز جدوجہد کی حمایت جاری رکھی جائے گی اور عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9338/2026
27 اکتوبر صحبت پور ۔ ملک بھر کی طرح ضلع صحبت پور میں بھی 27 اکتوبر یومِ سیاہ کے موقع پر کشمیری بھائیوں اور بہنوں سے اظہارِ یکجہتی اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے ایک ریلی نکالی گئی جس کی قیادت ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے کی ریلی میں تمام ضلعی محکموں کے سربراہان، سرکاری افسران، طلباءاور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی
ریلی کے شرکاء نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت میں نعرے لگائے اور مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کیا اس موقع پر شرکاءنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستانی قوم کشمیری عوام کی سیاسی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گی اور ان کے جائز حقوق کے حصول کے لیے ان کے ساتھ کھڑی ہے اس موقع پر یومِ سیاہ منانے کا مقصد عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال اور کشمیری عوام کی جدوجہد کی جانب مبذول کرانا تھا شرکائنے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے تاکہ انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہو سکے ریلی میں شریک افراد نے کشمیری عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یومِ سیاہ کے موقع پر منعقدہ اس ریلی کے ذریعے ضلع صحبت پور کے عوام نے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو پیغام دیا کہ وہ اس مشکل وقت میں تنہا نہیں ہیں اور پاکستانی قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9339/2026
27 اکتوبر صحبت پور۔۔ ملک بھر کی طرح ضلع صحبت پور میں بھی 27 اکتوبر یومِ سیاہ کے موقع پر کشمیری بھائیوں اور بہنوں سے اظہارِ یکجہتی اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے ایک ریلی نکالی گئی جس کی قیادت ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے کی ریلی میں تمام ضلعی محکموں کے سربراہان، سرکاری افسران، طلباء اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کیریلی کے شرکاءنے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت میں نعرے لگائے اور مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کیا اس موقع پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستانی قوم کشمیری عوام کی سیاسی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گی اور ان کے جائز حقوق کے حصول کے لیے ان کے ساتھ کھڑی ہےاس موقع پر یومِ سیاہ منانے کا مقصد عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال اور کشمیری عوام کی جدوجہد کی جانب مبذول کرانا تھا شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے تاکہ انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہو سکےریلی میں شریک افراد نے کشمیری عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یومِ سیاہ کے موقع پر منعقدہ اس ریلی کے ذریعے ضلع صحبت پور کے عوام نے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو پیغام دیا کہ وہ اس مشکل وقت میں تنہا نہیں ہیں اور پاکستانی قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9340/2026
اورماڑہ 27 اکتوبر۔ صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول اورماڑہ میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں طالبات نے تقاریر کے ذریعے مسئلہ کشمیر کی اہمیت، کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو اجاگر کیا۔تقریب میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی جائز جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ تقریب کا مقصد طالبات میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے شعور و آگاہی پیدا کرنا اور کشمیری عوام کے ساتھ اتحاد و یکجہتی کے جذبات کو فروغ دینا تھا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9341/2026
گوادر27 اکتوبر ۔ صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول گھٹی ڈھور گوادر میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس کا مقصد طلبہ میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے شعور و آگاہی پیدا کرنا اور کشمیری عوام کی جدوجہد کو اجاگر کرنا تھا تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ طلبہ نے ملی نغمے اور تقاریر پیش کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر، کشمیری عوام کی قربانیوں اور حقِ خودارادیت کی اہمیت پر روشنی ڈالی تقریب کی صدارت ہیڈماسٹر علی اکبر نے کی، جبکہ اسٹیج سیکریٹری کے فرائض یار محمد بشام نے انجام دیے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا گیا کہ 27 اکتوبر 1947 کشمیری تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے، جب بھارتی افواج کشمیر میں داخل ہوئیں۔ مقررین نے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9342/2026
گوادر 27 اکتوبر۔ صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج گوادر میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر خصوصی تقریب اور ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں طالبات اور اساتذہ نے بھرپور شرکت کرتے ہوئے کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول سے ہوا۔ اس موقع پر طالبات اور فیکلٹی ممبران نے تقاریر کے ذریعے مسئلہ کشمیر کی تاریخی اہمیت، کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو اجاگر کیا۔ کالج پرنسپل سبین بلوچ نے اپنے خطاب میں یومِ سیاہ کشمیر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے طالبات کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آگاہی فراہم کی تقریب کے دوران مضمون نویسی سمیت مختلف مقابلے بھی منعقد کیے گئے، جن میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ بعدازاں پرنسپل سبین بلوچ کی قیادت میں کالج کے احاطے میں ریلی نکالی گئی، جس کے ذریعے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا پیغام دیا گیا اور عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9343/2026
لسبیلہ27 اکتوبر۔ پولیو ٹیموں کی ناقص کارکردگی پر سخت برہمی، غفلت برتنے والے افسران اور ٹیموں کو کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی وارننگ حب / لسبیلہ (ہینڈآﺅٹ27اکتوبر)کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی زیرِ صدارت ڈویڑنل پولیو ٹاسک فورس کا ایک اہم جائزہ اجلاس لیڈاکانفرنس ہال میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈویژن بھر خصوصاً لسبیلہ اور حب کے مختلف علاقوں میں انسدادِ پولیو مہم کی حالیہ کوریج، انکاری والدین، اور فیلڈ مانیڑرنگ ٹیموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کیہٹن ریٹائرڈ جمعدادمندوخیل ڈویژنل پولیو افسر ڈاکٹر احسان ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر لیاقت رند کے علاوہ پولیو افسران اورڈبلیو ایچ او کے نمائندگان شریک ہوئے ڈویژنل ٹاسک فورس برائے پولیو کی آن لائن میٹنگ میں ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹرجواد ڈی سی آواران عقیل کریم اوردیگر شریک ہوئے پو لیو ٹیموں کی کارکردگی سے کمشنر بریفنگ دی گءاجلاس کے دوران بعض یونین کونسلز (UCs) اور علاقوں میں پولیو ٹیموں کی ناقص کارکردگی اور مائیکرو پلاننگ میں کوتاہی سامنے آنے پر کمشنر لسبیلہ سائرہ عطاء نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو وارننگ جاری کی۔کہ جن علاقوں یا یونین کونسلز میں پولیو مہم کا ہدف پورا نہیں ہوا، وہاں کے ذمہ دار ایریا انچارجز اور مانیٹرز کو فوری جوابدہ بنایا جائےغفلت کی سزا فرائض میں سستی، لاپرواہی یا ڈیوٹی سے غیر حاضری برتنے والے فیلڈ سٹاف اور سپروائزرز کے خلاف فوری ڈسپلنری ایکشن عمل میں لائی جائے۔کمشنر لسبیلہ نے کہا کہ کم رساءکوریج اور انکاری کیسزکم کوریج والے علاقوں (Low-coverage UCs) میں انکاری والدین کو قائل کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ، مقامی علماءاور معززین پر مشتمل خصوصی ٹیمیں دوبارہ متحرک کی جائیں۔سیکیورٹی اور مانیٹرنگ ٹرانزٹ پوائنٹس اور حساس فکسڈ سائیٹس پر پولیو ٹیموں کی مانیٹرنگ سخت کی جائے اور پولیس و انتظامیہ مقامی کمیونٹی کے تعاون سے پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی بہتر بناءجائے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر سائرہ عطاء نے واضح الفاظ میں کہا کہ پولیو کا خاتمہ ایک اہم قومی فریضہ اور ہماری اولین ترجیح ہے۔ اس مہم میں کسی بھی قسم کی غفلت، سستی یا ڈیٹا میں ہیرا پھیری کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جو افسران یا ٹیمیں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کریں گی، وہ اپنے عہدوں پر نہیں رہیں گی۔ ہمیں ہر صورت 100 فیصد ہدف حاصل کر کے بلوچستان کے بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ بنانا ہے۔”اجلاس میں ڈپٹی کمشنرز، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز (DHOs)، عالمی ادارہ صحت (WHO) اور یونیسف (UNICEF) کے نمائندگان سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور کمشنر کی ہدایات پر فوری عملدرآمد کی یقین دہانی کروائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9344/2026
نصیرآبادڈویژن27اکتوبر ۔ یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت، بھارتی جارحیت اور مقبوضہ جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضے کے خلاف گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول ڈیرہ مراد جمالی میں پرنسپل عبدالبصیر بھٹو کی سربراہی میں ایک پرامن احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں اسکول کے تمام اساتذہ کرام اور طلبہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر شرکاءنے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام کی جائز جدوجہدِ آزادی اور حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ ریلی کا مقصد نئی نسل میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے شعور و آگاہی پیدا کرنا، کشمیری عوام کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال کی جانب مبذول کرانا تھا۔ریلی سے پرنسپل عبدالبصیر بھٹو، صدر سینئر ایجوکیشنل اسٹاف ایسوسی ایشن (SESA) ضلع نصیرآباد فرمان علی مگسی اور دیگر اساتذہ کرام نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 27 اکتوبر کشمیری تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے، جب بھارتی افواج جموں و کشمیر میں داخل ہوئیں اور خطے میں ایک طویل تنازعے کا آغاز ہوا۔ یہ دن کشمیری عوام کی مشکلات، قربانیوں اور حقِ خودارادیت کے لیے جاری جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔مقررین نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ انسانی حقوق، انصاف، آزادی اور بنیادی انسانی اقدار کا مسئلہ ہے۔ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے، اور ان کی آواز کو عالمی سطح پر موثر انداز میں سنا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ میں قومی شعور، انسانی حقوق، امن، انصاف اور مظلوم اقوام کے ساتھ یکجہتی کے جذبات پیدا کریں۔ اساتذہ کرام نے طلبہ کو یومِ سیاہ کشمیر کی تاریخی اہمیت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کسی بھی قوم کی آزادی، عزتِ نفس اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔مقررین نے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے اپنا موثر کردار ادا کریں اور کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دلانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ریلی کے اختتام پر کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے، نئی نسل میں شعور بیدار کرنے اور کشمیری عوام کی جائز جدوجہد کی حمایت کے لیے ایسے آگاہی پروگراموں کا انعقاد جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9345/2026
بارکھان، 27 اکتوبر۔: محکمہ تعلیم بلوچستان کے زیرِ اہتمام گورنمنٹ گرلز ہائی سکول گدائی رکھنی، ضلع بارکھان میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کا مقصد مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا، کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت میں یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔تقریب کے دوران طالبات کو یومِ سیاہ کشمیر کے تاریخی پس منظر اور اہمیت سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر کشمیری عوام کی لازوال قربانیوں، عزم و استقامت اور حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جاری جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔شرکاءنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیتکےلیےاپناموثرکرداراداکرناچاہیے۔تقریب کے اختتام پر کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جدوجہدِ آزادی کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9346/2026
بارکھان،خبر نامہ 27 اکتوبر ۔گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول بارکھان میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی، جس کی صدارت اسکول کے پرنسپل میر ہزار خان نے کی۔ تقریب میں اساتذہ کرام اور طلباء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے 27 اکتوبر 1947ء کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کی آمد اور قبضے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن کشمیری عوام کی جدوجہد، قربانیوں اور حقِ خودارادیت کی یاد دہانی کراتا ہے۔مقررین نے کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گی۔تقریب کے اختتام پر کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل تک کشمیری عوام کی حمایت جاری رہے گی۔
کشمیر بنے گا پاکستان!
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9347/2026
گوادر 27 اکتوبر۔ صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول جہلی ڈھور میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ایک تقریب منعقد ہوئی، جس کا مقصد طالبات میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے شعور و آگاہی پیدا کرنا اور کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا تھا تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد طالبات نے کشمیر کے موضوع پر تقاریر اور ٹیبلو پیش کیے، جن کے ذریعے کشمیری عوام کی جدوجہد، قربانیوں اور حقِ خودارادیت کو اجاگر کیا گیا تقریب کے اختتام پر طالبات نے ریلی نکالی اور کشمیری عوام کے حق میں نعرے بلند کرتے ہوئے ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی اہمیت پر زور دیا گیا
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9348/2026
قلات27 اکتوبر (ہینڈآﺅٹ)۔ملک بھر کی طرح قلات میں بھی 27 اکتوبر کو مظلوم کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر “یومِ سیاہ” بھرپور طریقے سے منایا گیا۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ قلات کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان ریلی نکالی گئی، جس کی قیادت تحصیلدار قلات حاجی عبد الغفار لہڑی نے کی۔ تحصیلدار قلات حاجی عبد الغفار لہڑی کی سربراہی میں منعقدہ ریلی میںقلات کے سیاسی و قبائلی رہنما، ضلعی افسران اور شہریوں کی بڑی تعداد۔نے شرکت کی جبکہ اقلیتی برادری کی نمائندگی ہندو پنچائت کے نمائندوں نے کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے ریلی میں خصوصی شرکت۔کی شرکاءنے پلے کارڈز اور پینا فلیکس اٹھا رکھے تھے، جن پر کشمیریوں کے حقِ خودارادیت اور آزادی کی حمایت میں نعرے درج تھے۔ریلی کے اختتام پر شرکاء نے کشمیر کی آزادی اور مظلوموں کے حقوق کے لیے خصوصی دعا کی اور عالمی برادری سے بھارتی مظالم کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ریلی ڈی سی کمپلیکس سے شروع ہوئی اور شہر کی مختلف شاہراہوں پر مارچ کرتے ہوئے واپس ڈی سی کمپلیکس پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9349/2026
قلات27 اکتوبر۔ بلوچستان کے تاریخی شہرقلات کی سب ڈویژن خالق آباد کی تاریخ میں پہلی بارخواتین کے مسائل کے حل کے لیے خصوصی کھلی کچہری ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری کی سربراہی میں منعقد ہوئی، جس میں خواتین اور طالبات کو اپنے مسائل براہِ راست ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔خصوصی کھلی کچہری میں ایف سی 64 ونگ کے کرنل رضوان، ڈی ایس پی خالق آباد قادر لانگو، ایس ایچ او فیاض شاہوانی، تحصیلدار امجد علی، محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران سمیت خواتین اور طالبات کی بڑی تعدادشریک ہو اس موقع پر خواتین اور طالبات نے اپنے مسائل اور مشکلات سے ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری کو آگاہ کیا۔ انہوں نے گرلز ہائی اسکول میں نان ٹیچنگ اسٹاف کی کمی، گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول میں کلاس رومز کی قلت، تعلیمی اداروں میں پریکٹیکل لیبارٹریز کی عدم دستیابی، این سی ایچ ڈی اساتذہ کی مستقلی اور تنخواہوں میں اضافے، خالق آباد میں پبلک لائبریری کے قیام، شہر میں کئی روز سے بجلی کی مکمل بندش، گیس کی عدم دستیابی، خالق آباد انٹر کالج کی بندش، شہر میں صفائی ستھرائی کی ابتر صورتحال اور کلی گزک کے مکینوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی سمیت دیگر اہم مسائل پیش کیے۔ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے خواتین اور طالبات کے مسائل نہایت توجہ اور سنجیدگی سے سنے اور ان کے فوری حل کے لیے متعلقہ محکموں کے افسران کو ضروری احکامات جاری کیے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے حل میں تاخیر سے گریز کیا جائے اور تعلیم، بنیادی سہولیات اور شہری مسائل کے حوالے سے موثر اقدامات اٹھائے جائیں۔ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری نے کہا کہ خواتین معاشرے کا ایک اہم اور باوقار حصہ ہیں، اور ان کے مسائل کا حل، حقوق کا تحفظ اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ خواتین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے خصوصی کھلی کچہری کا انعقاد اسی عزم کا حصہ ہے، تاکہ خواتین بلا جھجک اپنی شکایات اور مشکلات براہِ راست انتظامیہ کے سامنے پیش کر سکیں۔کھلی کچہری کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر انجینئرعائشہ زہری اور دیگر افسران نے خواتین اور طالبات میں گرم شال بھی تقسیم کی اور انکی حوصلہ افزائی کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9350/2026
کوئٹہ27 اکتوبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ اگر صوبے کی واحد وویمن یونیورسٹی کے طور اس کو نمبرون ترجیح دی جا رہی ہے تو پھر آپ بھی اپنی بہترین کارکردگی سے نمبرون بن کر دکھائیں۔ ہمارا عزم ہے کہ اس یونیورسٹی کو مزید بہتر بنا کر پورے ملک کی ماڈل یونیورسٹی بنائینگے۔ اپنے چالیس سالہ سیاسی کیریئر کے تجربے کی بنیاد پر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ایوارڈ دینے سے زیادہ اہم کام اس حقدار کا درست انتخاب ہے جو واقعی اس اعزاز کا مستحق ہو کیونکہ اگر حقدار کی پہچان درست نہ ہو تو ایوارڈ اور ایوارڈ دینے والے دونوں کی قدر اور اعتبار کم ہو جاتا ہے۔ گویا ہر قسم کی اقربا پروری سے پاک میرٹ کی پاسداری، دیانتداری اور غیرجانبداری ہی کسی اعزاز کو حقیقی وقار عطا کرتی ہے۔ انہوں نے وائس چانسلر ڈاکٹر روبینہ مشتاق اور ان کی پوری ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وویمن یونیورسٹی کی تقریبِ تقسیمِ ایوارڈز میں ریسرچرز، فیکلٹی ممبرز اور ایڈمنسٹرشن آفیسرز کو بیسٹ پرفارمینس ایوارڈ سے نوازتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سردار بہادرخان وویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر زینب بی بی اور پرنسپل سیکرٹری عبدالناصر دوتانی سمیت فیکلٹی ممبرز اور طالبات کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ تقریب تقسیم ایوارڈز کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ جس معاشرے میں محنت اور خدمت کرنے والوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، وہاں اہلیت اور قابلیت کو فروغ ملتا ہے اور مایوسی کی جگہ امید جنم لیتی ہے۔آج کی اس پروقار تقریب کا یہی پیغام ہے کہ محنت، خدمت اور انسانی ضروریات سے ہم آہنگ تحقیق کی قدر کی جاتی ہے۔ اسطرح ایک فرد کی کامیابی پورے ادارے کیلئے نئی تحریک بن جاتی ہے۔ موجودہ حکومت بھی اپنی کارکردگی میں شفافیت لا کر اور میرٹ کی پاسداری کو یقینی بنا کر ہی صوبے بھر کے نوجوانوں کا پورا اعتماد حاصل کر سکتی ہے۔ گورنر مندوخیل نے اس بات پر زور دیا کہ بلا تفریق کسی دوسرے شخص کی غیرمعمولی محنت، خدمت اور قابلیت کو تسلیم کرنا بذاتِ خود ایک سماجی خدمت ہے۔ ایوارڈ دینا محض ایک اعزاز نہیں بلکہ ان لوگوں کی جدوجہد کو معاشرے کے سامنے اجاگر کرنا ہے جن کی خدمات اور تخلیقات اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو معاشرہ اپنے محسنوں کی قدر کرتا ہے وہی معاشرہ حقیقی معنوں میں ترقی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی نہ تو اپنے اور اپنے خاندان کو معاشی طور پر آسودہ زندگی فراہم کرنے کا نام ہے اور نہ ہی صرف اپنی منزل حاصل کرنے کا نام ہے۔ اصل کامیابی سماج کو جہالت، پسماندگی اور استحصال سے نجات دلانے، ماتحتوں کے حقوق و اختیارات کی پاسداری کو یقینی بنانے اور زیردست طبقے کیلئے آگے بڑھنے کے راستے ہموار کرنے کا نام ہے۔ ایک بہترین استاد وہ نہیں جو صرف خود وسیع علم رکھتا ہو بلکہ وہ ہے جو اپنے طلبہ میں تحقیق، جستجو، تنقیدی اور تخلیقی سوچ کو پروان چڑھائے۔ اسی طرح ایک کامیاب ریسرچر کی اصل اہمیت اس کے کام کے معاشرے پر مثبت و تعمیری اثرات سے متعین ہوتی ہے لہٰذا میں یہاں موجود تمام ریسرچرز کو یہی کہوں گا کہ وہ صرف تحقیقی مقالوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے درپیش انسانی چیلنجوں کا پائیدار حل تلاش کریں۔ گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ جب کسی ٹیچر ، ریسرچر یا اسکالر کی محنت کو بروقت سراہا جاتا ہے تو یہ صرف اس کے ماضی کی کامیابی کا اعتراف نہیں ہوتا بلکہ اس کی مستقبل کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ آج دیا جانے والا ایک باوقار ایوارڈ کل کسی نئی تحقیق، ایجاد یا سماجی تبدیلی کا محرک بن سکتا ہے۔ اسلیے ایوارڈز کو سفر زندگی کے اختتام کے بجائے اپنی نئی ذمہ داری اور نئی کامیابی کے آغاز کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ قبل ازیں گورنر بلوچستان جعفرخان نے بیسٹ پرفارمینس ایوارڈز تقسیم کیے اور لگائے گئے اسٹالز کا معائنہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9351/2026
کوئٹہ، 27 اکتوبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع خضدار کے علاقے کرخ میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران پانچ دہشت گردوں کی ہلاکت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کی کاوشوں کو سراہا ہے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ خضدار کے علاقے کرخ میں پولیس اور ایف سی کی کامیاب کارروائی دہشت گردی کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور باہمی ہم آہنگی کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر موثر کارروائی کرتے ہوئے پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کرنا امن دشمن عناصر کے خلاف جاری کوششوں میں اہم پیش رفت ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کا قیام اور عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔ پولیس، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اس مقصد کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دے رہے ہیں، جنہیں سراہا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف موثر حکمت عملی کے لیے انٹیلیجنس معلومات کا بروقت تبادلہ، اداروں کے درمیان مربوط تعاون اور قانون کے مطابق کارروائیاں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ صوبے میں امن کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں پائیدار امن کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ کاوشیں اور عوام کا تعاون ناگزیر ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 9352/2026
کویٹہ 27 اکتوبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان انٹرا اسکول ہاکی ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب اج یہاں ایوب اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی اس پروقار تقریب کے مہمان خصوصی پارلیمانی سیکرٹری برائے ٹرانسپورٹ میر لیاقت لہڑی تھے اس موقع پر پاکستان ھاکی ایسوسی ایشن بلوچستان کے جنرل سکریٹری سعید امین معاون خصوصی برائے داخلہ بابر یوسفزئی ڈپٹی کمشنر کویٹہ ای ڈی او تعلیم کویٹہ اور دیگر آفیسران بھی موجود تھے
اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری برائے ٹرانسپورٹ میر لیاقت لہڑی نے اپنے خطاب میں نوجوانوں کے لیے کھیلوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کے فروغ سے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے، ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور قومی سطح پر ٹیلنٹ سامنے لانے کے مواقع میسر آئینگے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی بلوچستان کی یہ دلی خواہش ہے کہ نوجوانوں کو کھیلوں کی جانب راغب کرنے کے لیے انہیں زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے چاہیے اس موقع پر کھلاڑیوں کا تعارف حاصل کیا گیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔پارلیمانی سیکرٹری برائے ٹرانسپورٹ میر لیاقت لہڑی نے ہاکی ایسوسی ایشن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ نوجوانوں کو کھیلوں کے بہتر مواقع فراہم کرنے اور ہاکی سمیت دیگر کھیلوں کے فروغ کے لیے اقدامات کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد نوجوان نسل میں نظم و ضبط، ٹیم ورک اور مثبت سوچ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے ٹورنامنٹس کا تسلسل برقرار رکھا جانا چاہیے تاکہ اسکولوں کے باصلاحیت کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مزید مواقع مل سکیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے بھی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے ہاکی ایسوسی ایشن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9353/2026
کوئٹہ، 27 اکتوبر ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے ضلع خضدار کے علاقے کرخ میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران پانچ دہشت گردوں کی ہلاکت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کی کاوشوں کو سراہا ہے۔ اپنے ایک بیان میں شاہد رند نے کہا کہ خضدار کے علاقے کرخ میں پولیس اور ایف سی کی مربوط کارروائی دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں اور امن و امان کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر موثر کارروائی کرتے ہوئے پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کرنا سیکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور باہمی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ شاہد رند نے کہا کہ بلوچستان میں امن و استحکام کے قیام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پولیس، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ ان اداروں کے اہلکار مشکل حالات میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور ان کی کاوشیں صوبے میں امن کے تسلسل کے لیے اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے انٹیلیجنس کی بنیاد پر مربوط کارروائیاں، اداروں کے درمیان موثر رابطہ اور قانون کی عمل داری ناگزیر ہے حکومت بلوچستان امن و امان برقرار رکھنے اور عوام کے تحفظ کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گی۔ معاون وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی اور بدامنی کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون اور موثر اقدامات کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے تاکہ عوام کو پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9354/2026
بر کوئٹہ 27 اکتوبر ۔: صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دومڑ سے بوائز ڈگری کالج زیارت کے پرنسپل نقیب اللہ کاکڑ نے سول سیکرٹریٹ کوئٹہ میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران کالج کو درپیش مسائل، واٹر سپلائی کی فراہمی اور طلباء کے لیے دو کوچز کی ضرورت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صوبائی وزیر نے کالج کے مسائل حل کرنے، واٹر سپلائی کی فراہمی کے لیے اقدامات اور دو کوچز کی منظوری کے لیے کوششوں کی یقین دہانی کرائی دریں اثناء صوبائی وزیر حاجی نور محمد خان دومڑ کی خصوصی معاونت سے زیارت بوائز ڈگری کالج کے طلباءکے آل پاکستان ٹور کے لیے ایک لاکھ روپے کا چیک چیئرمین میونسپل کمیٹی سنجاوی حاجی خان محمد دومڑ اور نوجوان سیاسی رہنما سردار ثناء اللہ دومڑ نے کالج کے پرنسپل نقیب اللہ کاکڑ کے حوالے کیا اس مالی معاونت کا مقصد طلباء کے تعلیمی و تفریحی دورے میں تعاون فراہم کرنا اور انہیں ملک کے مختلف علاقوں کی سیر، تاریخی مقامات کے مشاہدے اور معلومات میں اضافے کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے اس موقع پر طلباء کی تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ، کالج میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور نوجوان نسل کے روشن مستقبل کے لیے عملی اقدامات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9355/2026
پنجگور 27 اکتوبر۔ یونیورسٹی آف مکران پنجگور میں 27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام کے ساتھ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے آغاز میں کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی اور ان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔تقریب کے دوران شرکاء نے 27 اکتوبر 1947 کے تاریخی پس منظر اور یومِ سیاہ کشمیر کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی۔ مقررین نے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے اپنے بنیادی حقوق، آزادی اور حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کے اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے، جس کا منصفانہ اور پرامن حل خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے موثر کردار ادا کرنا چاہیے اور کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت عالمی ضمیر کا تقاضا ہے۔گفتگو کے دوران تعلیمی اداروں کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ جامعات نوجوان نسل میں قومی و بین الاقوامی مسائل، انسانی حقوق، امن، انصاف اور حقِ خودارادیت کے حوالے سے شعور و آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس نوعیت کی تقریبات طلبہ کو تاریخی حقائق سے روشناس کرانے اور مظلوم اقوام کے ساتھ یکجہتی کے جذبے کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔وائس چانسلر یونیورسٹی آف مکران، ڈاکٹر میر سادات بلوچ نے 27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد، قربانیاں اور حقِ خودارادیت کے حصول کی خواہش تاریخ کا ایک اہم باب ہیں۔ 27 اکتوبر کا دن ہمیں مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی مشکلات اور ان کے بنیادی حقوق کی اہمیت کی یاد دلاتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9356/2026
موسیٰ خیل 27 اکتوبر ملک بھر کی طرح ضلع موسیٰ خیل میں بھی 27 اکتوبر “یومِ سیاہ کشمیر” کے موقع پر کشمیری عوام سے یکجہتی کے لیے ایک پروقار اور شاندار ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کی قیادت ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خان خجک نے کی۔ریلی میں ایس پی پولیس کلیم اللہ کاکڑ، لائن ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان، قبائلی عمائدین، سکول کے طلباء اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ریلی کے شرکاءنے بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں جبکہ ان کے ہاتھوں میں کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے بینرز، پاکستان اور آزاد کشمیر کے قومی پرچم لہرارہے تھے۔یہ ریلی شہر کی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی ڈسٹرکٹ کمپلیکس موڑ پر اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر مقبوضہ کشمیر کے مظلوم اور غیور بھائیوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خان خجک نے کہا کہ پاکستان کا ہر شہری اپنے کشمیری بھائیوں کی جدوجہدِ آزادی میں ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت ملنے تک پاکستان اخلاقی، سیاسی اور سفارتی سطح پر ان کی حمایت جاری رکھے گا۔ ریلی کے اختتام پر مقبوضہ کشمیر کی آزادی، کشمیری شہدائ کے درجات کی بلندی، اور ملکِ پاکستان کی سلامتی، بقا اور استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ ایڈمن
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9357/2026
کوئٹہ، 27 اکتوبر. یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کے زیرِ اہتمام کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک عظیم الشان ریلی نکالی گئی، جس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی، تحریکِ آزادی کے رہنما سید فیض نقشبندی، وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ، معاونِ خصوصی برائے داخلہ بابر یوسفزئی، انتظامی افسران اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ریلی ڈپٹی کمشنر آفس کوئٹہ سے شروع ہوئی اور مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی سرینا چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔ شرکاء نے کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت میں نعرے لگائے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 27 اکتوبر کشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے، جب 1947 میں بھارتی افواج نے جموں و کشمیر میں داخل ہو کر قبضے کا آغاز کیا۔ یہ دن کشمیری عوام کی جدوجہد، قربانیوں اور حقِ خودارادیت کی یاد دلاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے بنیادی حقوق اور آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ پاکستانی قوم کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گی۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ یومِ سیاہ کشمیر منانے کا مقصد عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کرانا اور کشمیری عوام کی آواز کو موثر انداز میں اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رہے گی۔ریلی کے شرکائ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے رہیں گے اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9358/2026
ہرنائی 27اکتوبر۔ 1947 کے غاصبانہ بھارتی قبضے اور کشمیری عوام پر جاری مظالم کے خلاف دنیا بھر کی طرح ہرنائی میں بھی “یومِ سیاہ کشمیر” بھرپور عقیدت و احترام اور روایتی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ ہرنائی کے زیرِ اہتمام ڈی سی کمپلیکس سے گاڑیوں کی ایک عظیم الشان ریلی نکالی گئی، جس میں سرکاری افسران، پولیس اہلکاروں اور شہریوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ریلی کی قیادت اور شرکاءگاڑیوں پر مشتمل اس ریلی کی قیادت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین نے کی۔ ریلی ڈی سی کمپلیکس سے روانہ ہو کر شہر کے مختلف شاہراہوں اور بازاروں سے گزری۔ ریلی میں شامل تمام گاڑیوں پر پاکستان اور آزاد کشمیر کے سبز ہلال پرچم لہرائے گئے تھے، جبکہ شرکاء نے کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے نعرے بلند کیے۔ریلی میں ضلعی انتظامیہ اور مختلف محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جن میں شامل تھے غلام حیدر ترین (ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، ہرنا ئی,ئیاسرار احمد (اسسٹنٹ کمشنر، غلام محمد کھوسہ (ڈی ایس پی، عمر رند (ایس ایچ او)ملک حبیب اللہ ترین (ایس ایچ او ?اس کے علاوہ علاقہ مکینوں اور عوامی حلقوں کی ایک بڑی تعداد نے گاڑیوں میں سوار ہو کر ریلی میں شمولیت اختیار کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مقررین اور ضلعی انتظامیہ کے افسران نے 27 اکتوبر کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ?27 اکتوبر 1947 وہ سیاہ دن تھا جب بھارتی افواج نے تمام بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئے وادیِ کشمیر میں قدم رکھا اور غیر قانونی قبضہ کیا۔ اس کے بعد سے کشمیری قوم اپنے بنیادی حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔?انہوں نے مزید کہا کہ ہر سال اس دن کو یومِ سیاہ کے طور پر منانے کا بنیادی مقصد بھارتی مظالم اور جابرانہ تسلط کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا اور اپنے مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ پورا پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کا شعبہ شعبہ ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9359/2026
کوئٹہ 27اکتوبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں مختلف محکموں کی کارکردگی، جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تمام متعلقہ محکموں کے افسران نے اپنے اپنے محکموں سے متعلق پیش رفت اور کارکردگی رپورٹس پیش کیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے ہدایت کی کہ تمام محکمے باہمی رابطوں اور موثر حکمتِ عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات یقینی بنائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری امور میں غفلت اور تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ تمام محکمے اپنی کارکردگی بہتر بناتے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9360/2026
27اکتوبرہرنائی۔ ضلعی انتظامیہ ہرنائی کے زیرِ اہتمام گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول ہرنائی میں 27 اکتوبر ‘یومِ سیاہِ کشمیر’ کے حوالے سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد مظلوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار اور بھارتی غاصبانہ تسلط کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ سیمینار کی قیادت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین نے کی۔تقریب میں پولیس و سویلین انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کی اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی حاضرین میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (DEO) غلام حیدر ترین، ہیڈ ماسٹر شمس الدین، اسسٹنٹ کمشنر ہرنائی اسرار احمد، ڈی ایس پی غلام محمد کھوسہ، ایس ایچ او سٹی محمد عمر رند، ایس ایچ او ڈیلکونہ ملک حبیب اللہ ترین، اور ایس ایچ او صدر سید کامل شاہ نمایاں تھے۔ ان کے علاوہ علاقائی معززین، اساتذہ کرام اور اسکول کے طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کر کے کشمیریوں سے محبت کا عملی ثبوت دیا۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے 27 اکتوبر کے دن کی تاریخی اہمیت اور مسئلہ کشمیر کے پس منظر پر تفصیلی روشنی ڈالی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین اور دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ 27 اکتوبر 1947 تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن ہے جب بھارتی افواج نے تمام تر بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کو پامال کرتے ہوئے وادیِ کشمیر میں قدم رکھا۔ اس غاصبانہ اقدام کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ چھڑ گئی اور تب سے لے کر آج تک مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان ایک دیرینہ اور خونچکاں تنازع کی شکل اختیار کیے ہوئے ہے۔?مقررین نے مزید کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس دن کو ہر سال “یومِ سیاہ” کے طور پر منانے کا مقصد عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ کی توجہ مقبوضہ وادی میں جاری بھارتی مظالم کی جانب مبذول کروانا اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرنا ہے۔?سیمینار کے دوران اسکول کے طلبہ نے بھی کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے ملی نغمے اور تقاریر پیش کیں۔ تقریب کے اختتام پر مقبوضہ کشمیر کی آزادی، شہدائے کشمیر کے درجات کی بلندی اور ملک و قوم کی سلامتی و استحکام کے لیے خصوصی اجتماعی دعا کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9361/2026
شارگ :::ہرنائیگورنمنٹ بوائز ہائیر سیکنڈری اسکول شارگ میں دنیا بھر کی طرح 27 اکتوبر کا دن کشمیریوں سے بھرپور یکجہتی اور بھارتی جارحیت و مظالم کے خلاف “یوم سیاہ کشمیر” کے طور پر انتہائی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ تقریب کا بنیادی مقصد کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت اور مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا تھا۔اس پروقار تقریب کا اہتمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ہرنائی جناب غلام حیدر ترین کے احکامات اور اسکول کے سینئر ہیڈ ماسٹر سید نصیب اللہ کی خصوصی ہدایات پر کیا گیا اساتذہ کرام اور طلبہ نے “یوم سیاہ کشمیر” کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی اور پرجوش تقاریر کے ساتھ ملی نغمے پیش کیے۔ تقریب میں حصہ لینے والے طلبہ مقررین میں ہیواد خان، زرین داد، ایمل خان، زبیر احمد، جاوید خان، محمد سرور، بہرام شاہ، رضوان خان، جواد اللہ اور شوکت اللہ شامل تھے۔مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ 27 اکتوبر 1947 کو انگریزوں، مہاراجہ کشمیر اور بھارتی سامراج کے ناپاک گٹھ جوڑ کے نتیجے میں کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کو غصب کیا گیا۔ انہوں نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے دوٹوک مطالبہ کیا کہ وہ اپنی مجرمانہ خاموشی توڑیں اور کشمیریوں کو ان کا بنیادی اور دیرینہ حق یعنی “حقِ خود ارادیت” دلوانے میں اپنا عملی کردار ادا کریں پروگرام کے اختتام پر تقریب میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اور ملی نغمے و تقاریر پیش کرنے والے تمام طلباءمیں حوصلہ افزائی کے لیے انعامات تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر پورا اسکول ہال “کشمیر بنے گا پاکستان” کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا۔ تقریب کا اختتام استادِ محترم مولانا عطاء الحق کی رقت آمیز دعا پر ہوا، جس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی آزادی، ان کے حوصلے کی بلندی اور مملکتِ خداداد پاکستان کی سلامتی و استحکام کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9362/2026
27 اکتوبر استا محمد۔ ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال کی ہدایت پر ضلع استا محمد میں آئندہ پولیو مہم کو موثر اور کامیاب بنانے کے لیے پولیو ورکرز کا تفصیلی تربیتی و آگاہی سیشن منعقد کیا گیا جس کا مقصد پولیو ورکرز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے ویکسینیشن کے عمل کو بہتر بنانا اور مہم کے دوران درپیش مسائل کا موثر تدارک یقینی بنانا تھا
اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد اسماعیل لاشاری نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر امیر علی جمالی کے ہمراہ تربیتی سیشن کا دورہ کیا اور ورکرز کو ہدایت کی کہ وہ پولیو مہم کے دوران اپنی ذمہ داریاں پوری لگن محنت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں انہوں نے کہا کہ پانچ سال تک کی عمر کے ہر بچے کو پولیو سے بچاوکے قطرے پلانا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ کوئی بھی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے مہم کی بنیادی ترجیح ہونی چاہیےتربیتی سیشن کے دوران پولیو ورکرز کو بچوں کو قطرے پلانے کے درست طریق کار بچوں کی انگلیوں پر نشان لگانے گھروں اور بچوں کا ریکارڈ مرتب کرنے رجسٹریشن و اندراج مہم کے دوران ڈیٹا کی درستگی اور فیلڈ میں پیش آنے والے مسائل سے نمٹنے کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی اس کے علاوہ والدین کو پولیو ویکسین کی اہمیت سے آگاہ کرنے، ان کے خدشات دور کرنے اور انہیں اپنے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے پر آمادہ کرنے کے طریقوں پر بھی روشنی ڈالی گئیایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اسماعیل لاشاری نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس قومی فریضے کی ادائیگی میں پولیو ورکرز کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ فیلڈ ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں تک رسائی یقینی بنائیں رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی کریں اور متعلقہ حکام کو بروقت رپورٹ فراہم کریں تاکہ مہم کے مقررہ اہداف حاصل کیے جا سکیںانہوں نے مزید کہا کہ پولیو ورکرز والدین کے ساتھ خوش اخلاقی، تحمل اور موثر رابطے کو یقینی بنائیں اور ہر بچے کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کے لیے بھرپور کوششیں کریں ضلعی انتظامیہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی تاکہ بچوں کا مستقبل محفوظ اور صحت مند بنایا جا سکے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9363/2026
27 اکتوبرضلع چمن: یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن چمن کے زیرِ اہتمام اسسٹنٹ کمشنر سٹی چمن عزیز اللہ خان کاکڑ کی سربراہی میں ڈپٹی کمشنر کمپلیکس چمن سے کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک پروقار ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں تحصیلدار احمد خان، کالج پرنسپل عجب خان، قبائلی عمائدین، علمائے کرام، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
ریلی کے شرکاء نے کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جدوجہد، قربانیوں اور حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر شرکاء نے ”کشمیر بنے گا پاکستان“، ”کشمیری عوام کا حقِ خودارادیت تسلیم کرو“ اور کشمیری عوام کے حق میں پرجوش نعرے لگائے، جبکہ ضلع چمن کے عوام نے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اپنی غیرمتزلزل وابستگی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔مقررین اور شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور ان کی خواہشات کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے موثر کردار ادا کرےیومِ سیاہ کشمیر ہر سال 27 اکتوبر کو منایا جاتا ہے، جس کا مقصد کشمیری عوام کی مشکلات، ان کی جدوجہد اور بنیادی حقوق کے مسئلے کو اجاگر کرنا اور عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کرانا ہے ریلی کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع چمن کے عوام کشمیری عوام کی جائز جدوجہد، امن، انصاف اور حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھیں گے۔ ریلی کے ذریعے کشمیری عوام کو یہ پیغام دیا گیا کہ وہ اپنی جدوجہد میں تنہا نہیں، بلکہ پاکستان کے عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9364/2026
27 اکتوبرضلع چمن ۔ریلی ویڈیو یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن چمن کے زیرِ اہتمام اسسٹنٹ کمشنر سٹی چمن عزیز اللہ خان کاکڑ کی سربراہی میں ڈپٹی کمشنر کمپلیکس چمن سے ایک پروقار ریلی نکالی گئی، جس میں قبائلی عمائدین، علمائے کرام، طلبہ اور شہریوں نے بھرپور شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے ”بن کے رہے گا کشمیر پاکستان“ اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت میں پرجوش نعرے لگاتے ہوئے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ضلع چمن کے عوام نے کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے جائز حقوق اور حقِ خودارادیت کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9365/2026
سیوی 27 اکتوبر ۔کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان کی زیرِ صدارت ڈویژنل ٹاسک فورس برائے پولیو اور ای پی آئی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی، ڈپٹی کمشنر کچھی ممتاز علی کھیتران، ڈویژنل ڈائریکٹر صحت ڈاکٹر عبدالخالق، ڈی ایچ او ڈاکٹر قادر ہارون، این اسٹاپ آفیسر ڈاکٹر شہلا، اے آئی جی پی سیوی رینج محمد یونس سمیت محکمہ صحت، آئی ایس ڈی اور ڈبلیو ایچ او کے دیگر افسران نے شرکت کی، جبکہ ضلع ڈیرہ بگٹی کے افسران نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کےوژن اور صوبائی حکومت کی ہدایات کے مطابق اجلاس میں دو نومبر سے شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں، موثر نگرانی، مائیکرو پلان پر عملدرآمد اور ای پی آئی ویکسینیشن کوریج کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان نے ہدایت کی کہ پولیو کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے اور مہم کے دوران کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مہم کی کامیابی کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور موثر حکمت عملی کے تحت کام کریں، رئیل ٹائم ڈیٹا بروقت شیئر کیا جائے اور ڈیش بورڈ کو باقاعدگی سے اپڈیٹ رکھا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ڈویژن کے تمام اضلاع میں پولیو سے متعلق اجلاس ماہانہ بنیادوں پر منعقد کیے جائیں اور مائیکرو پلان کے مطابق ہر علاقے میں مہم پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اجلاس میں صوبائی کوآرڈینیٹر ای پی آئی نے بھی بذریعہ ویڈیو لنک ای پی آئی ویکسینیشن کے حوالے سے بریفنگ دی اور سیوی ڈویژن میں ویکسینیشن کی مجموعی کوریج سے متعلق آگاہ کیا۔ کمشنر عرفان اللہ خان نے ویکسینیشن کے عمل کو مزید موثر بنانے پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ بچوں کی ویکسینیشن کوریج کو بہتر بنایا جائے اور تمام ویکسینیٹرز اپنی حاضری یقینی بناتے ہوئے ذمہ داریاں پوری کریں۔آخر میں کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان نے تمام ڈپٹی کمشنرز، محکمہ صحت، ڈبلیو ایچ او، آئی ایس ڈی اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ آنے والی انسدادِ پولیو مہم کے دوران اپنی ذمہ داریاں بھرپور محنت، لگن اور موثر حکمت عملی کے ساتھ انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام کرتے ہوئے مہم کے معیار کو یقینی بنائیں، مائیکرو پلان پر مکمل عملدرآمد کریں اور ہر بچے تک پولیو ویکسین کی رسائی ممکن بنائیں، تاکہ 100 فیصد مقررہ ہدف حاصل کرنے کے ساتھ مہم کو معیاری، موثر اور کامیاب بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور اس قومی فریضے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
کویٹہ 27 اکتوبر صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک کی سابق رکن صوبائی اسمبلی میر احمد نواز بنگلزئی سے ان کے بھتیجے شہید جنید منظور بنگلزئی کی شہادت پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔اس موقع پر صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے شہید جنید منظور بنگلزئی کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔اس موقع پر یوسف بنگلزئی، محمد خان جتک، بیبرگ جتک اور دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9366/2026
27 اکتوبر ضلع چمن: یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن چمن کے زیرِ اہتمام اسسٹنٹ کمشنر سٹی چمن عزیز اللہ خان کاکڑ کی سربراہی میں ڈپٹی کمشنر کمپلیکس چمن سے کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک پروقار ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں تحصیلدار احمد خان، کالج پرنسپل عجب خان، قبائلی عمائدین، علمائے کرام، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
ریلی کے شرکاء نے کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جدوجہد، قربانیوں اور حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر شرکائ نے ”کشمیر بنے گا پاکستان“، ”کشمیری عوام کا حقِ خودارادیت تسلیم کرو“ اور کشمیری عوام کے حق میں پرجوش نعرے لگائے، جبکہ ضلع چمن کے عوام نے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اپنی غیرمتزلزل وابستگی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔
مقررین اور شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور ان کی خواہشات کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے موثر کردار ادا کرے۔یومِ سیاہ کشمیر ہر سال 27 اکتوبر کو منایا جاتا ہے، جس کا مقصد کشمیری عوام کی مشکلات، ان کی جدوجہد اور بنیادی حقوق کے مسئلے کو اجاگر کرنا اور عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کرانا ہے۔ریلی کے اختتام پر شرکاءنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع چمن کے عوام کشمیری عوام کی جائز جدوجہد، امن، انصاف اور حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھیں گے۔ ریلی کے ذریعے کشمیری عوام کو یہ پیغام دیا گیا کہ وہ اپنی جدوجہد میں تنہا نہیں، بلکہ پاکستان کے عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9367/2026
27 اکتوبر ضلع چمن ۔ ریلی ویڈیویومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن چمن کے زیرِ اہتمام اسسٹنٹ کمشنر سٹی چمن عزیز اللہ خان کاکڑ کی سربراہی میں ڈپٹی کمشنر کمپلیکس چمن سے ایک پروقار ریلی نکالی گئی، جس میں قبائلی عمائدین، علمائے کرام، طلبہ اور شہریوں نے بھرپور شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے ”بن کے رہے گا کشمیر پاکستان“ اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت میں پرجوش نعرے لگاتے ہوئے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ضلع چمن کے عوام نے کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے جائز حقوق اور حقِ خودارادیت کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9368/2026
27اکتوبرنصیرآباد۔صوبائی سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمن بلوچ کی زیر صدارت محکمہ آبپاشی کی کارکردگی، نہری نظام کے ذریعے زرعی پانی کی فراہمی اور درپیش مسائل کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں چیف انجینئر کینالز قربان علی جتوئی، سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل مدثر ظفر کھوسہ ایگزیکٹو انجینئر کیرتھر کینال غلام محمد بادینی، ایگزیکٹو ٹیکنیکل صلاح الدین سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران چیف انجینئر کینالز قربان علی جتوئی نے صوبائی سیکرٹری آبپاشی کو نہری نظام کے ذریعے زرعی اراضی کی آبپاشی، زمینداروں کو پانی کی فراہمی اور دیگر درپیش مسائل کے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمن بلوچ نے کہا کہ محکمہ آبپاشی کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور کاشتکاروں کے وسیع تر مفاد میں موثر اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے تاکہ حکومت بلوچستان کی جانب سے زمینداروں اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے ثمرات براہ راست ان تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ زرعی پانی کی منصفانہ تقسیم ہر صورت یقینی بنائی جائے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ انجینئرز اپنی جائے تعیناتی پر موجود رہیں اور نہری نظام، پانی کی فراہمی اور جاری امور کی مسلسل نگرانی کرتے ہوئے تمام اقدامات کا باقاعدگی سے جائزہ لیں۔ صوبائی سیکرٹری آبپاشی نے مزید ہدایت کی کہ زرعی پانی کی بروقت اور منصفانہ فراہمی کے ساتھ ساتھ محکمہ آبپاشی کے زیر نگرانی جاری تعمیر و ترقی کے منصوبوں پر بھی خصوصی توجہ دی جائے اور ان کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ زراعت کے شعبے کو فروغ دینے اور کاشتکاروں کو درپیش مشکلات کے ازالے میں مدد مل سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9369/2026
27 اکتوبر ۔ضلع چمن ۔ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کے بنیادی حقِ خودارادیت اور آزادی کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے سفارتی، سیاسی اور اخلاقی محاذوں پر اپنی حمایت جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔ڈپٹی کمشنر چمن نے کہا کہ 27 اکتوبر کشمیری عوام کے لیے ایک اہم دن ہے، جو انہیں درپیش مشکلات اور حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے ان کی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کی امنگوں کا احترام کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرے۔حبیب احمد بنگلزئی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام کی جائز جدوجہد اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رہے گی، جبکہ پائیدار امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی کوششیں کی جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9370/026
موسیٰ خیل 27 اکتوبر 2026:
ملک بھر کی طرح ضلع موسیٰ خیل میں بھی 27 اکتوبر “یومِ سیاہ کشمیر” کے موقع پر کشمیری عوام سے یکجہتی کے لیے ایک پروقار اور شاندار ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کی قیادت ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خان خجک نے کی ریلی میں ایس پی پولیس کلیم اللہ کاکڑ، لائن ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان، قبائلی عمائدین، سکول کے طلباء اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں جبکہ ان کے ہاتھوں میں کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے بینرز، پاکستان اور آزاد کشمیر کے قومی پرچم لہرارہے تھے ریلی شہر کی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی ڈسٹرکٹ کمپلیکس موڑ پر اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر مقبوضہ کشمیر کے مظلوم اور غیور بھائیوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خان خجک نے کہا کہ پاکستان کا ہر شہری اپنے کشمیری بھائیوں کی جدوجہدِ آزادی میں ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت ملنے تک پاکستان اخلاقی، سیاسی اور سفارتی سطح پر ان کی حمایت جاری رکھے گا۔ ریلی کے اختتام پر مقبوضہ کشمیر کی آزادی، کشمیری شہداء کے درجات کی بلندی، اور ملکِ پاکستان کی سلامتی، بقا اور استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
خبرنامہ نمبر9371/026
کوئٹہ 27 اکتوبر:2026 گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل سے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر علامہ حافظ طاہر اشرفی نے وفد کے ہمراہ گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ملاقات کی۔ اس موقع پر علامہ طاہر اشرفی نے گورنر بلوچستان کو قومی پیغامِ امن کے فروغ اور علمائے کرام سمیت مختلف مسالک اور مذاہب کے اکابرین کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ پاکستان کا امن، اتحاد اور بین المذاہب ہم آہنگی قومی ترقی کیلئے نہایت اہم ہے۔ تمام مذاہب اور مسالک کے ماننے والوں کے درمیان باہمی احترام، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان تمام شہریوں کو مذہبی آزادی اور مساوی حقوق فراہم کرتا ہے جبکہ معاشرے میں امن و استحکام کی خاطر علمائے کرام اور مذہبی رہنماؤں کا کردار قابلِ قدر ہے۔ اس موقع پر علامہ حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان ہم سب کا ہے اور پاکستان مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا ملک ہے جہاں تمام مذاہب کے پیروکار آزادانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ آئینِ پاکستان ایک دوسرے کے مذاہب اور مسالک کے احترام کا درس دیتا ہے جبکہ قومی پیغامِ امن کمیٹی بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے
خبرنامہ نمبر9372/026
کوئٹہ 27اکتوبر2026: وزیر اعلیٰ بلوچستان کے تعلیمی وژن کے مطابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے زیرِ صدارت کوئٹہ کے مختلف سرکاری اسکولوں میں ترقیاتی اسکیمات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے سی ایس آر کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، ڈی او ای، ڈسٹرکٹ یونیسف کوآرڈینیٹر کوئٹہ اور اسسٹنٹ کمشنر سٹی نے شرکت کی۔اجلاس میں کوئٹہ کے مختلف سرکاری اسکولوں میں درکار بنیادی سہولیات کا جائزہ لیا گیا، جن میں اضافی کمروں کی تعمیر، واش رومز، باؤنڈری والز اور دیگر ضروری ترقیاتی کام شامل ہیں۔ اس سلسلے میں متعلقہ حکام سے اسکولوں کی ضروریات اور مجوزہ ترقیاتی اسکیمات کی تفصیلی رپورٹس طلب کر لی گئیں۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور تعلیمی ماحول کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ طلبہ کو بہتر اور محفوظ تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اسکولوں کی ضروریات کا درست تعین کرکے ترقیاتی اسکیمات کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کوئٹہ معیاری تعلیم کے فروغ اور تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر اقدامات جاری رکھے گی۔
خبرنامہ نمبر9373/026
کوئٹہ 27اکتوبر2016۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) کوئٹہ حافظ محمد طارق کے زیرِ صدارت ماہانہ ریونیو ریویو اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام ریونیو افسران اور متعلقہ عملے نے شرکت کی۔اجلاس میں ریونیو سے متعلق مختلف امور، کھلی کچہری میں موصول ہونے والی درخواستوں پر عمل درآمد، زرعی انکم ٹیکس، میٹرو انکم ٹیکس اور دیگر محکمانہ معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران نے اپنے اپنے شعبوں کی کارکردگی، زیرِ التوا درخواستوں اور جاری امور کے حوالے سے رپورٹس پیش کیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) حافظ محمد طارق نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات اور کھلی کچہری کی درخواستوں کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے، جبکہ ریونیو سے متعلق معاملات اور ٹیکس وصولیوں کے عمل کو مؤثر اور شفاف بنایا جائے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام افسران اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں اور زیرِ التوا امور کو بروقت مکمل کرنے کے لیے عملی اقدامات یقینی بنائیں، تاکہ عوام کو ریونیو سے متعلق مسائل کے حل میں سہولت فراہم کی جا سکے۔
خبرنامہ نمبر9374/026
کوئٹہ 27اکتوبر2026:۔ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ نے شہر کے مختلف علاقوں کلی شابو، ہدہ منوجان روڈ اور سرینا چوک کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ سینیٹیشن اور دیگر متعلقہ شعبوں کے افسران و عملہ بھی موجود تھا۔دورے کے دوران ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن نے روڈز پر موجود مختلف کچرہ پوائنٹس، سیوریج لائنوں اور چھوٹے بڑے نالوں کا باریک بینی سے معائنہ کیا اور صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات کا سخت نوٹس لیا۔ انہوں نے موقع پر موجود شہریوں اور علاقہ مکینوں کے مسائل براہ راست ان کی دہلیز پر سنے اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔بشیر احمد بڑیچ نے سرینا چوک پر بند سیوریج لائن اور ہدہ منوجان روڈ پر نکاسی آب کے مسائل کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ مرمتی اور صفائی کے کام کو ہنگامی بنیادوں پر جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ ٹریفک کی روانی بحال ہو سکے اور شہریوں کو آمدورفت میں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے واضح کیا کہ کوئٹہ شہر کی خوبصورتی، صفائی اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی دہلیز پر فراہمی ہماری اولین ذمہ داری ہے، اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ علاقہ مکینوں نے ایڈمنسٹریٹر کی جانب سے فوری دورے اور مسائل کے حل کے احکامات جاری کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔
خبرنامہ نمبر9375/026
27 اکتوبر2026:صوبائی مشیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمان خان ملاخیل نے 27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ 27 اکتوبر 1947ء کشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے، جب بھارتی افواج نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں داخل ہو کر کشمیری عوام کی آزادی سلب کرنے کی کوشش کی یہ دن کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم اور ان کی جدوجہدِ آزادی کی یاد دلاتا ہے انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن ان کے حوصلے اور آزادی کے عزم کو کمزور نہیں کیا جا سکا کشمیری عوام کی قربانیاں ان کی جدوجہد اور حقِ خودارادیت سے وابستگی کا واضح ثبوت ہیں صوبائی مشیر ماحولیات نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دلانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے نسیم الرحمان خان ملاخیل نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کشمیری عوام کی سیاسی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے انہون نے کہا کہ27 اکتوبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیری عوام کی جائز جدوجہد کی حمایت جاری رہے گی اور ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔۔
خبرنامہ نمبر9376/026
کوئٹہ، 27 اکتوبر 2026:
بلوچستان ہائی کورٹ نے صوبے میں سرکاری گندم کے ذخیرے، گوداموں کی تحویل، گندم کی خریداری و تقسیم اور مبینہ طور پر سرکاری گودام ڈی سیل کرکے گندم کا اسٹاک قبضے میں لینے کے معاملے پر سیکرٹری محکمہ خوراک اور ڈائریکٹر جنرل محکمہ خوراک کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے اور مختلف امور پر جامع، مصدقہ رپورٹس جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔
جسٹس اقبال احمد کاسی اور جسٹس میاں محمد رؤف عطا پر مشتمل بلوچستان ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے آئینی درخواست کی سماعت کے دوران محکمہ خوراک کے ڈائریکٹر محمد رحیم بنگلزئی کے بیان اور پیش کردہ وضاحت کا جائزہ لیا، جسے عدالت نے غیر تسلی بخش قرار دیا۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل راہب خان بلیدی، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل چنگیز دشتی اور ڈائریکٹر محکمہ خوراک محمد رحیم بنگلزئی عدالت میں پیش ہوئے۔ ڈائریکٹر محکمہ خوراک نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار نے مبینہ طور پر سرکاری گندم کے گودام کو غیر مجاز طور پر ڈی سیل کرکے مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر وہاں موجود گندم کا پورا ذخیرہ اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔عدالت کے استفسار پر کہ آیا اس معاملے میں درخواست گزار کے خلاف کوئی قانونی کارروائی شروع کی گئی یا ایف آئی آر درج کرائی گئی، ڈائریکٹر محکمہ خوراک نے بتایا کہ اعلیٰ حکام کو بعض درخواستیں جمع کرائی گئی تھیں، تاہم کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔
عدالت نے قرار دیا کہ یہ معاملہ سرکاری گندم کے ذخائر کی تحویل، حفاظت، انتظام، فروخت اور تقسیم سے متعلق اہم قانونی و انتظامی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ عدالت نے اس امر پر زور دیا کہ بلوچستان میں گندم کی مبینہ قلت اور عوام کو درپیش مشکلات کے تناظر میں اس بنیادی غذائی جنس کے سرکاری ذخیرے کو محفوظ بنانا اور قابل اطلاق قوانین و قواعد کے مطابق اس کی منصفانہ اور شفاف تقسیم یقینی بنانا ضروری ہے۔ سرکاری ذخائر تک غیر مجاز رسائی یا انہیں ہٹانے کے الزامات کی صورت میں قانون کے مطابق مناسب کارروائی بھی ناگزیر ہے۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ صوبے میں سرکاری گندم کے مجموعی ذخیرے، گوداموں کے انتظامی و حفاظتی نظام، خریداری سے لے کر فروخت اور تقسیم تک کے طریقہ کار اور اس ضمن میں نافذ قانونی فریم ورک کے بارے میں تفصیلی وضاحت پیش کریں۔
حکم نامے کے مطابق سیکرٹری اور ڈائریکٹر جنرل محکمہ خوراک کو الگ الگ، جامع اور مصدقہ رپورٹس جمع کرانا ہوں گی، جن میں صوبے بھر کے سرکاری گوداموں میں موجود گندم کی مجموعی مقدار، ہر گودام میں دستیاب ذخیرے، اس کے محل وقوع اور اسٹاک کی تصدیق کی تاریخ کی تفصیلات شامل ہوں گی۔ اس کے علاوہ سرکاری گوداموں کی مکمل فہرست اور ان کی تحویل، نگرانی، انتظام اور حفاظت کے ذمہ دار افسران کے نام و عہدے بھی فراہم کرنا ہوں گے۔
عدالت نے گندم کی خریداری، ذخیرہ اندوزی، حفاظت، فروخت اور تقسیم کے مقررہ طریقہ کار، متعلقہ حکام کے اختیارات، قیمتوں کے تعین کے معیار، اہل خریداروں اور مستحقین کی اقسام اور فروخت و تقسیم کے لیے اجازت نامے جاری کرنے کے نظام کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ اسی طرح گوداموں کو کھولنے، سیل کرنے یا ڈی سیل کرنے اور گندم کے ذخیرے کو منتقل کرنے یا نکالنے سے متعلق قوانین، قواعد، ضوابط، نوٹیفکیشنز اور محکمانہ پالیسیوں کی نقول پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
درخواست گزار کی جانب سے گودام کو مبینہ طور پر ڈی سیل کرنے اور گندم کا ذخیرہ قبضے میں لینے کے معاملے پر محکمہ خوراک کو حقائق پر مبنی رپورٹ کے ساتھ معائنہ رپورٹس، اسٹاک رجسٹرز، سرکاری خط و کتابت اور دیگر متعلقہ ریکارڈ بھی پیش کرنا ہوگا۔ محکمہ سے یہ وضاحت بھی طلب کی گئی ہے کہ واقعے کا علم ہونے کے بعد کیا اقدامات کیے گئے، آیا کوئی انکوائری ہوئی، اعلیٰ حکام کو دی گئی درخواستوں پر کیا پیش رفت ہوئی اور ایف آئی آر درج نہ ہونے کی وجوہات کیا ہیں۔ عدالت نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ معاملہ پولیس یا کسی دوسرے مجاز فورم کو قانونی کارروائی کے لیے بھجوایا گیا یا نہیں۔
حکم نامے میں زیرِ بحث گندم کے موجودہ ذخیرے کی مقدار، اس کی ملکیت یا قانونی تحویل اور اس امر کی وضاحت بھی طلب کی گئی ہے کہ آیا گندم کا کوئی حصہ فروخت، منتقل یا تقسیم کیا گیا ہے۔ محکمہ خوراک کو ذخیرے کے تحفظ اور سرکاری گندم کے شفاف، جوابدہ اور قانونی استعمال کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات سے بھی عدالت کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ اس آرڈر کی نقل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کے دفتر کو ارسال کی جائے تاکہ متعلقہ حکام تک تعمیل کے لیے پہنچائی جا سکے۔
کیس کی مزید سماعت 12 نومبر 2026ء تک ملتوی کر دی گئی۔
خبرنامہ نمبر9377/026
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون، سیاحت و ثقافت نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی کی خصوصی ہدایات پر ڈائریکٹوریٹ آف کلچر، حکومتِ بلوچستان کے زیرِ اہتمام بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی 150ویں سالگرہ کے سلسلے میں آل پاکستان محفل مشاعرہ منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے نامور شعراء کرام اور ادبی شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر کلچر بلوچستان ڈاکٹر داؤد ترین نے ملک بھر سے تشریف لانے والے شعراء کرام اور معزز مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا اور اپنے استقبالیہ خطاب میں ان کی آمد کو بلوچستان کے لیے باعثِ مسرت قرار دیا۔محفلِ مشاعرہ میں معروف شعراء کرام حمیدہ شاہین، عباس تابش، عاطف یاسر، فاضل جمیلی، فریدہ نقوی، اکرم عارف اور نجم سلیم سمیت دیگر شعراء نے اپنے منتخب کلام پیش کیے۔ شعراء کرام نے اپنی شاعری کے ذریعے محبت، امن، قومی یکجہتی، حب الوطنی اور معاشرتی ہم آہنگی کے جذبات کو اجاگر کیا۔ تقریب نے شرکاء کو فن، ثقافت اور شاعری سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کیا اور ملک کے مختلف علاقوں کی ادبی روایات کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کیا۔اس موقع پر ڈاکٹر داؤد ترین نے ثقافتی اور ادبی سرگرمیوں کے فروغ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ آف کلچر بلوچستان صوبے کے ادبی و ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تقریبات نہ صرف اہل ادب کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرتی ہیں بلکہ قومی سطح پر ثقافتی روابط کو مضبوط بنانے اور نئی نسل میں ادب و فن سے دلچسپی پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
خبرنامہ نمبر9378/026
قلعہ عبداللہ: یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ضلعی انتظامیہ قلعہ عبداللہ کے زیرِ اہتمام ڈی سی کمپلیکس جنگل پیر علیزئی میں کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلی نکالی گئی، جبکہ پرچم کشائی کی تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر شرکاء نے گول دائرہ بنا کر کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔ریلی کی قیادت ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی نے کی، جبکہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خلیل احمد بگٹی، مختلف سرکاری محکموں کے افسران اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘، ’’پاکستان زندہ باد‘‘ اور ’’پاک فوج زندہ باد‘‘ کے نعرے لگائے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 27 اکتوبر 1947ء کشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے، جب بھارتی فوجیں کشمیر میں داخل ہوئیں۔ یومِ سیاہ منانے کا مقصد کشمیری عوام کی جدوجہد کو اجاگر کرنا، ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرنا اور مسئلہ کشمیر کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ تاریخی، سیاسی اور اخلاقی وابستگی رکھتا ہے اور ان کے جائز حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے سفارتی، سیاسی اور اخلاقی سطح پر حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر9379/026
27 اکتوبر 2026:
ضلع: قلعہ عبداللہ
یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ضلعی انتظامیہ قلعہ عبداللہ کے زیرِ اہتمام ڈی سی کمپلیکس جنگل پیر علیزئی میں ریلی اور پرچم کشائی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی کی قیادت میں منعقدہ ریلی میں ڈی پی او خلیل احمد بگٹی، سرکاری محکموں کے افسران اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘، ’’پاکستان زندہ باد‘‘ اور ’’پاک فوج زندہ باد‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
خبرنامہ نمبر9379/026
نصیرآباد27 اکتوبر 2026:
اُستا محمد۔۔ ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال کی خصوصی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اسماعیل لاشاری نے DHQ سردار یار محمد ہسپتال کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ادویات کے اسٹاک روم میں صفائی ستھرائی کی صورتحال ٹمپریچر میٹر کی درستگی ادویات پر شناختی ٹیگ نہ ہونے، اسٹاک کی ترتیب کے لیے ریکس کی عدم موجودگی اور ادویات کی نامکمل فہرست پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو تمام نشاندہی شدہ خامیوں کو دور کرنے اور انتظامات بہتر بنانے کے لیے تین دن کی مہلت دیتے ہوئے واضح کیا کہ مقررہ مدت کے بعد دوبارہ معائنہ کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اسماعیل لاشاری نے ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر DHQ سردار یار محمد ہسپتال کا دورہ کیا جس کا مقصد ہسپتال میں طبی سہولیات کی فراہمی ادویات کے اسٹاک ریکارڈ کی درستگی اور صفائی ستھرائی کے انتظامات کا جائزہ لینا تھا اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر امیر علی جمالی، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر احمد علی گوپانگ اور فارماسسٹ ڈاکٹر ایاز احمد بھی موجود تھے
دورے کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے ادویات کے اسٹاک روم کا تفصیلی معائنہ کیا اور وہاں ادویات کی حفاظت ذخیرہ کرنے کے طریقہ کار اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی۔ معائنے کے دوران اسٹاک روم میں صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات ٹمپریچر میٹر کی درستگی سے متعلق خامیوں، ادویات پر شناختی ٹیگ کی عدم موجودگی ادویات کو منظم انداز میں رکھنے کے لیے مناسب ریکس نہ ہونے اور اسٹاک کی مکمل و واضح فہرست دستیاب نہ ہونے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اسماعیل لاشاری نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی حفاظت مناسب درجۂ حرارت برقرار رکھنا اسٹاک کی منظم ترتیب اور ریکارڈ کی بروقت تکمیل بنیادی اہمیت کے حامل امور ہیں۔ ادویات کے انتظامات میں کسی بھی قسم کی غفلت سے نہ صرف ان کی حفاظت متاثر ہو سکتی ہے بلکہ مریضوں کو بروقت طبی سہولیات فراہم کرنے میں بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہسپتال انتظامیہ تمام امور کو قواعد و ضوابط کے مطابق یقینی بنائے
انہوں نے متعلقہ افسران اور ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ادویات کے اسٹاک روم میں صفائی ستھرائی کے انتظامات فوری طور پر بہتر بنائے جائیں ٹمپریچر میٹر کی درستگی یقینی بنائی جائے تمام ادویات پر واضح شناختی ٹیگ لگائے جائیں اور ادویات کو مناسب ریکس میں منظم انداز سے رکھا جائے اس کے علاوہ اسٹاک میں موجود تمام ادویات کی مکمل فہرست مرتب کرکے ریکارڈ کو درست واضح اور باقاعدہ اپ ڈیٹ رکھا جائے، تاکہ ہر دوا کی دستیابی مقدار اور میعادِ استعمال کی جانچ پڑتال آسانی سے ممکن ہو سکے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے تمام نشاندہی شدہ خامیوں کی اصلاح اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے متعلقہ حکام کو تین دن کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ مقررہ مدت کے اندر تمام اقدامات مکمل کیے جائیں انہوں نے واضح کیا کہ تین دن بعد ہسپتال کا دوبارہ دورہ کرکے ادویات کے اسٹاک روم ٹمپریچر میٹر کی درستگی، ادویات کی ترتیب اور ریکارڈ کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے گا تاکہ ہدایات پر عمل درآمد اور عملی بہتری کا تعین کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو معیاری اور مؤثر طبی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں نظم و ضبط، شفافیت اور انتظامی امور کی بہتری ناگزیر ہے۔ متعلقہ حکام اپنی ذمہ داریاں پوری سنجیدگی اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ادا کریں اور ادویات کے تحفظ و دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات بروقت مکمل کریں
خبرنامہ نمبر9380/026
کوئٹہ، 26 اکتوبر 2026:
عدالت عالیہ بلوچستان کے جسٹس محمد عامر نواز رانا اور جسٹس عبدالقیوم لہڑی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے میڈیکل کالجز میں داخلوں کے لیے منعقدہ ایم ڈی کیٹ 2026ء میں حصہ لینے والے امیدواروں کی آئینی درخواست نمبر 1479 آف 2026 منظور کرتے ہوئے بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کو حکم دیا ہے کہ تین روز کے اندر ایم ڈی کیٹ کے تمام سوال نامے (Question Papers) یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جائیں تاکہ امتحان کی شفافیت کو یقینی بنایا جائے ۔درخواست گزاروں کی جانب سے آئینی درخواست کی پیروی نصیب اللہ ترین اور دوست محمد مندوخیل ایڈووکیٹس نے کی۔
خبرنامہ نمبر9381/026
چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت بلوچستان انرجی کمپنی لمیٹڈ (BECL) کے اجلاس میں کمپنی کی موجودہ کارکردگی، مستقبل کے منصوبوں اور ادارہ جاتی مضبوطی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ چیف سیکرٹری نے کمپنی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ تین ماہ کے اندر ایک جامع، قابلِ عمل اور شفاف بزنس پلان تیار کیا جائے جس میں کمپنی کے وسائل، منصوبوں، آمدنی کے ذرائع، انتظامی اصلاحات اور عوامی مفاد کو مؤثر انداز میں شامل کیا جائے۔
اجلاس میں بلوچستان انرجی کمپنی لمیٹڈ کے حکام نے کمپنی کے ادارہ جاتی ڈھانچے، جاری منصوبوں، مالی و انتظامی صورتحال، ممکنہ سرمایہ کاری کے مواقع اور توانائی کے شعبے میں صوبے کے لیے دستیاب مواقع پر بریفنگ دی۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ بلوچستان انرجی کمپنی صرف ایک انتظامی ادارہ نہیں بلکہ صوبے کی توانائی کی خود کفالت، سرمایہ کاری کے فروغ اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ تین ماہ کے اندر ایک جامع بزنس پلان تیار کیا جائے، جس میں مختصر، درمیانی اور طویل مدتی اہداف کے علاوہ ذمہ داریاں، ٹائم لائنز، مالی وسائل اور نگرانی کا واضح نظام شامل ہو۔ انہوں نے کہا کہ بزنس پلان محض دستاویز نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ ایک ایسا عملی روڈ میپ ہونا چاہیے جس کے نتائج قومی مفاد اور عوامی خدمت کے لحاظ سے واضح طور پر نظر آئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان انرجی کمپنی کو اپنی حکمتِ عملی ایسے انداز میں مرتب کرنی چاہیے جس میں صوبے کی توانائی کی ضروریات، مقامی وسائل کا بہترین استعمال، شفافیت، احتساب اور پائیدار ترقی کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی کو اپنے منصوبوں میں نجی شعبے، بین الاقوامی اداروں اور متعلقہ صوبائی و وفاقی اداروں کے ساتھ مؤثر شراکت داری کے مواقع تلاش کرنے چاہئیں تاکہ صوبے کے توانائی کے شعبے کو مستحکم اور خود کفیل بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر9381/026
سوراب27 اکتوبر 2026: ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت گیس و بجلی کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا جس میں واپڈا حکام اور گیس پلانٹ کے ذمہ داران نے شرکت کی اجلاس میں گیس کی بندش، کم وولٹیج، لوڈشیڈنگ، کم بلنگ، کنڈا سسٹم، نئے قانونی کنکشنز اور ٹیوب ویلز کے بجلی استعمال سے متعلق مسائل کا جائزہ لیا گیا واپڈا حکام نے بتایا کہ ضلع سوراب میں صرف تقریباً 20 فیصد بجلی کے بل جمع ہو رہے ہیں اور کم بلوں کی ادائیگی کے حوالے سے سوراب صوبے میں دوسرے نمبر پر ہے ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ شہریوں کے ساتھ ساتھ محکمہ PHE کے ٹیوب ویلز کے بجلی کے واجبات بھی بروقت جمع کرائے جائیں اور نئے قانونی بجلی کنکشنز کی فراہمی کا عمل تیز کیا جائے انہوں نے بجلی چوری، کنڈا سسٹم اور PHE کے غیر قانونی ٹیوب ویلز کے خلاف مؤثر کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سولر سسٹم کی سہولت رکھنے والے ٹیوب ویلز غیر ضروری طور پر بجلی استعمال کرنے سے گریز کریں بصورت دیگر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی واپڈا حکام نے بتایا کہ بجلی کا سابقہ ٹائم ٹیبل بحال کرنے کیلئے متعلقہ حکام کو خط ارسال کیا گیا ہے جس پر ڈپٹی کمشنر نے لوڈشیڈنگ میں کمی اور بجلی کی ٹائمنگ بہتر بنانے کیلئے متعلقہ حکام سے رابطہ کی یقین دہانی کرائی گیس حکام نے اجلاس میں واضح کیا کہ سوراب میں گیس سپلائی کی بحالی کیلئے اقدامات جاری ہیں اور صارفین سے وصول کیے گئے اضافی چارجز واپس کیے جائیں گے ڈپٹی کمشنر نے گیس سپلائی جلد بحال کرنے اور اضافی چارجز کی واپسی کے عمل کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔*
بجلی سے متعلق شکایات کیلئے رابطہ:
0333-8877974
0334-3549086
گیس سے متعلق شکایات کیلئے رابطہ:
0333-8495981
0336-2096695
خبرنامہ نمبر9382/026
سوراب27 اکتوبر 2026؛ حکومت بلوچستان اور ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر محمد طحہٰ بلوچ کی زیر صدارت لکڑی اور گیس فروشوں کا اجلاس منعقد ہوا جس میں عوامی مفاد اور موسم کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے لکڑی اور ایل پی جی کے نرخ مقرر کیے گئے اجلاس میں ایل پی جی گیس کی قیمت 520 روپے جبکہ مکس لکڑی کی قیمت 1550 روپے مقرر کی گئی فیصلہ کیا گیا کہ گیس کے مقررہ نرخ تین روز جبکہ لکڑی کے نرخ 15 روز تک نافذ العمل ہوں گے اسسٹنٹ کمشنر نے تمام دکانداروں اور فروخت کنندگان کو ہدایت کی کہ مقررہ نرخوں پر سختی سے عمل درآمد کرتے ہوئے نرخنامے نمایاں مقامات پر آویزاں کریں زائد قیمت وصول کرنے ناجائز منافع خوری یا مقررہ نرخوں کی خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی ضلعی انتظامیہ سوراب نے واضح کیا کہ عوام کو ریلیف کی فراہمی اور ناجائز منافع خوری کے تدارک کے لیے مارکیٹ کی نگرانی کا عمل مسلسل جاری رکھا جائے گا۔*
خبرنامہ نمبر9383/026
تربت 27 اکتوبر 2026: جامعہ تربت کے شعبہ نیچرل اینڈ بیسک سائنسز کے زیر اہتمام طلباء کی علمی و تحقیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے “لٹریچر ریویو و سائنٹیفک رائٹنگ” اور “بین الاقوامی و ملکی اسکالرشپس اور اعلی تعلیم کے مواقع” کے عنوانات پر دو معلوماتی سیشنز منعقد کیے گئے۔ جامعہ تربت کے اسمارٹ کلاس روم میں منعقدہ پہلے بالمشافہ سیشن کے ریسورس پرسن جامعہ تربت کے فیکلٹی ممبر ڈاکٹر محمد ہارون تھے۔ انہوں نے طلباء کو لٹریچر سرچنگ، سائنٹیفک رائٹنگ کی جدید تکنیکوں اور بنیادی تحقیقی مہارتوں کے بارے میں جامع رہنمائی فراہم کی۔ دوسرا سیشن آن لائن منعقد ہوا، جس میں چین کی ژی جیانگ یونیورسٹی میں زیرتعلیم پی ایچ ڈی اسکالر دلیپ احمد نے بین الاقوامی اسکالرشپس، عالمی اداروں میں داخلے کے طریقۂ کار اور غیر ملکی جامعات میں اعلی تعلیم کے مواقع پر تفصیلی گفتگو کی۔ دونوں سیشنز کا بنیادی مقصد طلبہ کو عالمی تعلیمی معیار سے ہم آہنگ کرنا اور ان کی تحقیقی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا تھا۔ جامعہ تربت کے ترجمان کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے اپنے پیغام میں شعبہ نیچرل اینڈ بیسک سائنسز کی اس کاوش کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ ایسے سیشنز کے انعقاد سے طلباء کو عالمی سطح کے اعلی تعلیمی و تحقیقی اداروں تک رسائی میں مدد ملے گی، جبکہ ایسے اقدامات یونیورسٹی کے اسٹریٹجک پلان 2026-30 کے اہداف کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔
خبرنامہ نمبر9384/026
لسبیلہ:لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر واٹر اینڈ میرین سائنسس اوتھل کے شعبۂ پولیٹیکل سائنسز کے بی ایس آٹھویں اور چھٹے سمسٹر کے طلبہ نے ڈپٹی کمشنر آفس لسبیلہ کا مطالعاتی دورہ کیا، جہاں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل سراج احمد بلوچ نے طلبہ کا خیرمقدم کیا اور انہیں ضلعی انتظامیہ کے فرائض، اختیارات اور مختلف شعبہ جات کی ذمہ داریوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔دورے کے دوران طلبہ کو ضلع لسبیلہ میں ضلعی انتظامیہ کے انتظامی امور، حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد، عوامی مسائل کے حل، سرکاری محکموں کے درمیان رابطہ کاری اور دیگر اہم ذمہ داریوں سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر ضلعی انتظامیہ کے طریقۂ کار اور عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق مختلف امور پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل سراج احمد بلوچ نے طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے سرکاری اداروں کے عملی طریقۂ کار کو سمجھنے اور انتظامی امور کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے طلبہ کے سوالات کے جوابات بھی دیے اور ضلعی انتظامیہ کے کام سے متعلق مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی طلبہ نے ضلعی انتظامیہ کے فرائض اور اختیارات سمیت مختلف انتظامی امور سے متعلق سوالات کیے، جن پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مطالعاتی دورے کا مقصد طلبہ کو نصابی تعلیم کے ساتھ سرکاری اداروں کے عملی نظام اور ضلعی سطح پر انتظامی معاملات کو سمجھنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔
یہ دورہ طلبہ کے لیے انتظامی ڈھانچے، سرکاری اداروں کی ذمہ داریوں اور عوامی خدمات کی فراہمی کے نظام کو عملی طور پر سمجھنے کے حوالے سے اہمیت کا حامل رہا۔
اس موقع ڈپارٹمنٹ آف پولیٹیکل سائنس کیے لیکچرر محمد عمر اور عادل بلوچ بھی ہمراہ تھے






