خبرنامہ نمبر9031/2026
کوئٹہ، 17 اکتوبر: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات عزت و احترام پر مبنی ہیں اور وہ ان کی سیاسی بصیرت اور تجربے کا احترام کرتے ہیں۔ تاہم، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ کرتے ہوئے، خصوصاً دہشت گردی، قومی سلامتی اور قومی و عسکری قیادت کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے وقت زمینی حقائق، ریاست کو درپیش چیلنجز اور دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت خود بھی دہشت گردی کے واقعات کا نشانہ بنتے رہے ہیں، اس لیے توقع ہے کہ وہ اس حساس قومی مسئلے پر رائے قائم کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ریاستی کوششوں اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو بھی ملحوظ رکھیں گے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے دونوں صوبوں میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات، سیاسی قیادت کے طرزِ عمل اور عملی عزم کو سامنے رکھنا چاہیے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلافات کے باوجود دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف قومی مفاد کو ترجیح دینے کی اہم مثال ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی، اہم فیصلوں اور متعلقہ معاملات پر اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جاتا ہے اور حکومت تمام پارلیمانی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری مختلف مواقع پر اس طرزِ عمل کا اعتراف کر چکے ہیں، جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے پارلیمانی لیڈر میر جہانزیب مینگل کی اسمبلی میں حالیہ تقریر بھی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ صوبے کی سیاسی قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی ذمہ داری اور کردار کو تسلیم کرتی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام، نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور دیگر پارلیمانی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف رکھتی ہیں۔ یہ سیاسی ہم آہنگی اس بات کا اظہار ہے کہ بلوچستان میں امن و امان اور قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی ضرورت تسلیم کی جاتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض بیانات یا سیاسی دعوؤں کا معاملہ نہیں بلکہ ریاست اور پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے سنگین خطرے کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے اور اس جنگ میں پاک فوج سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کے افسران اور جوان بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ ہر شہادت کے پیچھے ایک خاندان کا دکھ، والدین کی جدائی اور ادھورے خوابوں کی داستان ہوتی ہے۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے اور دہشت گردی کے خلاف قومی جدوجہد کو سیاسی اختلافات کی نذر نہ ہونے دیا جائے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن سینئر سیاست دان ہیں اور ان کی جماعت دہشت گردی کے باعث خود بھی جانی و سیاسی نقصانات برداشت کر چکی ہے۔ ایسے میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ کرتے ہوئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ دونوں صوبوں میں دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات کیا ہیں، سیاسی قیادت کس حد تک مشترکہ حکمت عملی اختیار کر رہی ہے اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کی صورت حال کیا ہے۔ دہشت گردی کے معاملے پر غیر واضح مؤقف یا حقائق سے صرفِ نظر قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبے کی سیاسی قیادت اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ پائیدار امن کے بغیر ترقی، عوامی فلاح اور معاشی استحکام کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ اسی لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافِ رائے کے باوجود دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف کو اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ طرزِ عمل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیاسی اختلافات جمہوری عمل کا حصہ ہیں، لیکن قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے معاملات پر اتفاقِ رائے اور تعاون ناگزیر ہیں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے اور اس کے سیاسی و انتظامی نتائج پر بحث ہو یا بلوچستان کی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ، ہر معاملے میں حقائق، عملی اقدامات اور عوام کو فراہم کیے گئے نتائج کو معیار بنانا چاہیے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور حکومتوں پر تنقید جمہوری حق ہے، تاہم دہشت گردی جیسے حساس قومی مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے ریاست کو درپیش چیلنجز، سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے دکھ کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ ان کا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی وابستگیوں اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھا جانا چاہیے۔ قومی یکجہتی، سیاسی قیادت کی ذمہ دارانہ گفتگو، ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون اور زمینی حقائق کی بنیاد پر مؤقف اختیار کرنا ہی وہ راستہ ہے جس سے ملک میں پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کو تقویت دی جا سکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مولانا فضل الرحمٰن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی سیاست سے بالاتر ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر خدارا ریاست کو سیاست کی نذر نہ کیجیے۔
خبرنامہ نمبر9032/2026
کوئٹہ، 17 اکتوبر: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے نواں کلی میں تربیتی طیارے کے حادثے کے دوران انسانی جانیں بچانے کے لیے آگے بڑھنے والے نوجوان حکمت اللہ نے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے نوجوان کی بہادری اور جرات کو سراہتے ہوئے حکومت بلوچستان کی جانب سے انہیں تعریفی سرٹیفکیٹ پیش کیا۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے نوجوان حکمت اللہ کے جذب? انسانیت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسے باہمت نوجوانوں پر فخر ہے جو مشکل اور ہنگامی حالات میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر دوسروں کی مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمت اللہ جیسے نوجوان بلوچستان کا قابل فخر سرمایہ اور دوسروں کے لیے قابل تقلید مثال ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری سیکیورٹی فورسز ملک و قوم کے تحفظ اور ایک محفوظ و روشن مستقبل کے لیے قربانیاں دے رہی ہیں۔ نواں کلی میں طیارہ حادثے کے مقام پر انسانی جانیں بچانے کے لیے نوجوانوں کا آگے بڑھنا اس حقیقت کا عملی اظہار ہے کہ بلوچستان کے عوام اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ محبت اور وابستگی رکھتے ہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بے بنیاد پروپیگنڈے کے ذریعے بلوچستان کے عوام اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوششیں حقیقت کے برعکس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام ہر جگہ اور ہر حال میں اپنی بہادر سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے نوجوان حکمت اللہ کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ انسانیت کی خدمت، جرات اور دوسروں کی جان بچانے کے لیے عملی کردار ادا کرنا قابل تحسین عمل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ معاشرے میں ایسے مثبت کرداروں کی حوصلہ افزائی جاری رکھی جائے گی تاکہ نوجوانوں میں خدمتِ خلق، ذمہ داری اور قومی یکجہتی کے جذبات مزید فروغ پائیں۔
خبرنامہ نمبر9033/2026
کوئٹہ: صوبائی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر حیات سے ان کے دفتر میں ملاقات کی، جس میں مکران ڈویژن، بالخصوص ضلع کیچ اور نئے ضلع تمپ میں ٹرانسپورٹرز کے تحفظ اور پولیس میں مقامی نوجوانوں کی بھرتیوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران مینا مجید بلوچ نے کالعدم تنظیموں کی جانب سے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز سے مبینہ بھتہ خوری اور بھتہ نہ دینے پر ان کی گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات سے محنت کشوں کے معاشی حالات متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ کئی خاندانوں کی روزی روٹی کا انحصار ایک ہی گاڑی پر ہوتا ہے۔صوبائی مشیر نے آئی جی پولیس پر زور دیا کہ بھتہ خوری اور ٹرانسپورٹرز کو ہراساں کرنے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی کی جائے اور تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور محنت کشوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر سیکیورٹی اقدامات کیے جائیں۔اس موقع پر آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر حیات نے یقین دہانی کرائی کہ تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کے تحفظ، بھتہ خوری میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی اور سیکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ملاقات میں ضلع تمپ کے نوجوانوں کے لیے پولیس میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بھی بات چیت ہوئی۔ آئی جی پولیس نے بتایا کہ ضلع کیچ اور گوادر کے بعد اگلے مرحلے میں ضلع تمپ کے لیے پولیس بھرتیوں کا عمل شروع کرنے کا منصوبہ ہے، جس سے مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور علاقے میں پولیسنگ کے نظام کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔مینا مجید بلوچ نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان عوام کے جان و مال کے تحفظ، تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے متعلقہ سیکیورٹی اور انتظامی اداروں کے ساتھ مل کر اقدامات جاری رکھے گی۔
خبرنامہ نمبر9034/2026
کوئٹہ: بلوچستان میں بھنگ کی کاشت کے خاتمے کے لیے انسدادِ بھنگ مہم 2026 کے تحت ضلع قلعہ عبداللہ، دوبندی اور گلستان سمیت مختلف علاقوں میں مرحلہ وار کارروائیوں کا شیڈول مرتب کر لیا گیا ہے۔ محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و انسدادِ منشیات بلوچستان اس مہم میں متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر انسدادِ منشیات کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔محکمہ ایکسائز کے افسران نے کہا کہہ دوبندی کے مختلف علاقوں میں 15 سے 22 اکتوبر جبکہ گلستان اور قلعہ عبداللہ میں 21 اکتوبر سے یکم نومبر 2026 تک انسدادِ بھنگ مہم جاری رہے گی مہم کے دوران بھنگ کی کاشت کے خاتمے کے لیے متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کارروائیاں کی جائیں گی۔اور اس سلسلے میں چمن اسکاؤٹس، مسلم باغ اسکاؤٹس اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر قلعہ عبداللہ سے نفری کی تعیناتی اور تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔محکمہ ایکسائز کے افسران نے کہا کہ منشیات کی کاشت اور پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے مربوط اقدامات اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری ناگزیر ہے۔
خبرنامہ نمبر9035/2026
اُستا محمد۔ ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال کا ٹی ایچ کیو ہسپتال اُستا محمد کا دورہ کیا طبی سہولیات ادویات کی دستیابی عملے کی حاضری اور صفائی ستھرائی کا تفصیلی جائزہ لیا واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال نے تحصیل ہیڈکوارٹر ٹی ایچ کیو ہسپتال اُستا محمد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرتے ہوئے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، انتظامی امور اور علاج معالجے کے لیے کیے گئے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا دورے کا مقصد ہسپتال میں طبی خدمات کی فراہمی، عملے کی حاضری، صفائی ستھرائی اور ادویات کی دستیابی سمیت دیگر ضروری امور کا جائزہ لینا تھا تاکہ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کی صورتحال کا مشاہدہ کیا جا سکے۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور طبی عملے کی حاضری چیک کرنے کے ساتھ ساتھ ہسپتال کے احاطے، وارڈز اور دیگر حصوں میں صفائی ستھرائی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا انہوں نے ہسپتال میں دستیاب طبی سہولیات اور انتظامی امور کا مشاہدہ کرتے ہوئے اس امر کا جائزہ لیا کہ مریضوں کو علاج معالجے کے دوران درپیش ضروریات کو کس حد تک پورا کیا جا رہا ہے۔ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے گائنی وارڈ کا دورہ کیا جہاں خواتین کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق خدمات کا جائزہ لیا اس کے علاوہ انہوں نے پیڈز بچوں کے شعبے کا بھی معائنہ کیا جہاں بچوں کے علاج معالجے اور ان کی صحت سے متعلق سہولیات کا مشاہدہ کیا گیا۔ خواتین اور بچوں کی صحت کے حوالے سے طبی خدمات کی دستیابی سرکاری ہسپتالوں کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے جس کے لیے ضروری طبی سہولیات اور مناسب انتظامات کی اہمیت پر خصوصی توجہ دی گئی۔انہوں نے ہسپتال میں ادویات کی دستیابی اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا بھی جائزہ لیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ علاج معالجے کے لیے ضروری ادویات کی فراہمی کے انتظامات کس نوعیت کے ہیں ادویات کی دستیابی طبی عملے کی بروقت حاضری اور صفائی ستھرائی کے مناسب انتظامات مریضوں کو بہتر طبی خدمات فراہم کرنے میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال میں قائم بی آئی ایس پی اور نشوونما سینٹر کا بھی دورہ کیا اور وہاں فراہم کی جانے والی متعلقہ سہولیات اور خدمات کا معائنہ کیا۔ ان مراکز میں مستحق خاندانوں خواتین اور بچوں سے متعلق خدمات کی فراہمی کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ ایسے مراکز کی فعالیت اور متعلقہ سہولیات تک مستحق افراد کی رسائی عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کا اہم حصہ ہے۔سرکاری ہسپتال عوام کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ طبی عملہ اپنی ذمہ داریاں باقاعدگی سے انجام دے، ہسپتال میں صفائی ستھرائی برقرار رکھی جائے اور مریضوں کو ضروری ادویات اور طبی سہولیات کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے مؤثر انتظامات کیے جائیں ہسپتالوں کے دورے اور معائنے ضلعی انتظامیہ کو صحت کے شعبے میں موجود ضروریات اور انتظامی امور کا جائزہ لینے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال کا یہ دورہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سرکاری صحت کے مراکز کی نگرانی اور عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لینے کے سلسلے کی کڑی ہے ضلعی انتظامیہ اُستا محمد عوامی خدمات کی بہتری سرکاری اداروں کی کارکردگی کی نگرانی اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے متعلقہ محکموں کے امور کا جائزہ لینے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔
خبرنامہ نمبر9036/2026
اُستا محمد۔ ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال کی ہدایت پر جناح روڈ پر تجاوزات کے خلاف آپریشن متعدد عارضی تجاوزات ختم تجاوزات میں استعمال ہونے والی بینچیں کرسیاں اور میزیں ضبط کر لی گئیں واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں آج اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون نے چیف آفیسر میونسپل کمیٹی کے ہمراہ شہر کے مرکزی علاقے جناح روڈ پر تجاوزات کے خاتمے کے لیے کارروائی کی۔ آپریشن کے دوران سڑک اور فٹ پاتھوں پر قائم متعدد عارضی تجاوزات کو ہٹا دیا گیا، جبکہ عوامی گزرگاہوں اور سڑک کے حصوں پر رکھی گئی بینچیں، کرسیاں اور میزیں بھی ضبط کر لی گئیں، جو آمدورفت میں رکاوٹ کا باعث بن رہی تھیں۔اس موقع پر تجاوزات کے خلاف کارروائی کا مقصد واضح کرتے ہوئے بتایا گیا کہ شہر کی اہم شاہراہوں بازاروں اور عوامی گزرگاہوں کو تجاوزات سے پاک رکھنا انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، تاکہ ٹریفک کی روانی برقرار رہے، پیدل چلنے والوں کو آمدورفت میں آسانی میسر آئے اور شہریوں کو روزمرہ خریداری اور دیگر ضروری امور کی انجام دہی کے دوران مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر غیر ضروری سامان رکھنے سے نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے بلکہ شہریوں، خصوصاً خواتین، بچوں اور بزرگوں کو بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔انتظامیہ کی جانب سے شہر میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے، بازاروں کو منظم رکھنے اور عوامی مقامات پر شہریوں کی سہولت یقینی بنانے کے لیے تجاوزات کے خلاف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں میونسپل کمیٹی کے عملے کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شہر کی اہم شاہراہوں اور تجارتی مراکز میں تجاوزات کی روک تھام کے لیے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں اور عوامی راستوں کو آمدورفت کے لیے کھلا رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔انتظامیہ نے دکانداروں، تاجروں اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی دکانوں اور کاروباری مراکز کا سامان سڑکوں، فٹ پاتھوں اور عوامی گزرگاہوں پر رکھنے سے گریز کریں اور شہر کو صاف ستھرا، منظم اور ٹریفک کے لیے موزوں بنانے میں ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی سے تعاون کریں۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق اُستا محمد شہر میں تجاوزات کے خاتمے، ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور شہریوں کو آمدورفت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایسی کارروائیاں باقاعدگی سے جاری رکھی جائیں گی، تاکہ عوامی مقامات کو تجاوزات سے پاک کرکے شہریوں کے لیے ایک بہتر، منظم اور سہل ماحول فراہم کیا جا سکے
خبرنامہ نمبر9037/2026
اُستا محمد۔ وزیراعظم فیول ریلیف پروگرام کے تحت اہل شہریوں کو ریلیف کی فراہمی رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے اور تمام مراحل میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر اُستا محمد ماریہ شمعون نے شہر کے تمام رجسٹرڈ پیٹرول پمپس کا تفصیلی معائنہ کیا اس موقع پر انہوں نے پروگرام پر عمل درآمد کی صورتحال شہریوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور رجسٹریشن کے طریقہ کار کا جائزہ لیتے ہوئے عوامی شکایات کے ازالے پر خصوصی توجہ دی۔معائنے کا بنیادی مقصد وزیراعظم فیول ریلیف پروگرام کے حوالے سے شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کی جانچ پڑتال کرنا تھا جن میں رجسٹریشن کے عمل میں پیش آنے والی مشکلات مبینہ بے ضابطگیوں اور ریلیف کے حصول یا رجسٹریشن کے نام پر غیر مجاز فیسوں کی وصولی سے متعلق شکایات شامل تھیں اسسٹنٹ کمشنر نے پیٹرول پمپس پر موجود متعلقہ عملے سے پروگرام کے طریقہ کار اور شہریوں کو درپیش مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور ہدایت کی کہ رجسٹریشن کے عمل کو سہل منظم اور شفاف بنایا جائے تاکہ اہل شہری بلاوجہ کی مشکلات کے بغیر اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون نے پیٹرول پمپ مالکان اور متعلقہ عملے کو سختی سے ہدایت کی کہ وزیراعظم فیول ریلیف پروگرام پر حکومتی پالیسی اور مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آیا جائے رجسٹریشن کے لیے آنے والے اہل افراد کو درست رہنمائی فراہم کی جائے اور کسی بھی مرحلے پر غیر ضروری تاخیر یا رکاوٹ پیدا نہ کی جائے انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے شروع کیے گئے اس پروگرام کے مقاصد کی تکمیل میں کسی قسم کی غفلت غیر ذمہ داری یا دانستہ رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔اسسٹنٹ کمشنر نے مزید خبردار کیا کہ رجسٹریشن یا ریلیف کی فراہمی کے نام پر شہریوں سے کسی قسم کی غیر مجاز فیس وصول نہ کی جائے اور نہ ہی انہیں غیر ضروری طور پر پریشان کیا جائے۔ اگر کسی پیٹرول پمپ یا متعلقہ اہلکار کے خلاف غیر قانونی وصولی، بدعنوانی یا پروگرام میں بے ضابطگی کی شکایت درست ثابت ہوئی تو ذمہ داران کے خلاف قانون اور متعلقہ قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوامی شکایات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ان کے فوری ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں ضلعی انتظامیہ اُستا محمد کے مطابق وزیراعظم فیول ریلیف پروگرام کے ثمرات مستحق اور اہل شہریوں تک پہنچانا، عوام کو رجسٹریشن کے عمل میں زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا، غیر قانونی وصولیوں کی روک تھام اور پروگرام کی شفاف نگرانی انتظامیہ کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں اس سلسلے میں متعلقہ اداروں اور پیٹرول پمپ انتظامیہ کے اقدامات کی نگرانی جاری رکھی جائے گی تاکہ حکومتی ریلیف حقیقی معنوں میں عوام تک پہنچ سکے اور شہریوں کو درپیش مشکلات کا بروقت ازالہ یقینی بنایا جا سکے
خبرنامہ نمبر9038/2026
تربت: مکران میڈیکل کالج (ایم ایم سی) تربت کے دوسرے بیچ کے چھ فارغ التحصیل طلبہ نے ایف سی پی ایس پارٹ ون کے امتحان میں پہلی ہی کوشش میں کامیابی حاصل کرکے کالج اور علاقے کا نام روشن کر دیا۔تفصیلات کے مطابق مکران میڈیکل کالج تربت کے چھ فارغ التحصیل طلبہ نے میڈیسن اینڈ الائیڈ اور سرجری اینڈ الائیڈ کے شعبوں میں فیلو آف کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (ایف سی پی ایس) پارٹ ون کا امتحان پہلی ہی کوشش میں کامیابی سے پاس کر لیا۔کامیاب ہونے والے طلبہ میں ڈاکٹر جیہند بوہیر، ڈاکٹر اسد خان، ڈاکٹر قدیر احمد، ڈاکٹر عزیر، ڈاکٹر انعم علی رضا اور ڈاکٹر بلال احمد شامل ہیں۔ان طلبہ کی کامیابی کو ان کی مسلسل محنت، لگن، تعلیمی قابلیت اور شعب? طب میں پیشہ ورانہ مہارت حاصل کرنے کے عزم کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کی یہ نمایاں کامیابی نہ صرف ان کے لیے بلکہ مکران میڈیکل کالج اور پورے علاقے کے لیے باعثِ فخر ہے۔اس موقع پر مکران میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر افضل خالق نے تمام کامیاب فارغ التحصیل طلبہ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے ان کی کامیابی پر خوشی اور مسرت کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے فارغ التحصیل طلبہ کی یہ غیر معمولی کامیابی ان کی محنت، لگن، تعلیمی برتری اور پختہ عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کو طلبہ کی انفرادی کوششوں اور معیاری طبی تعلیم کے حصول کے لیے ان کی سنجیدہ کاوشوں کا مظہر قرار دیا۔مکران میڈیکل کالج کے دوسرے بیچ کے طلبہ کی یہ کامیابی علاقے میں طبی تعلیم کے فروغ اور مستقبل کے ماہر ڈاکٹروں کیتیاری کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ یہ نوجوان ڈاکٹر مستقبل میں شعبہ صحت میں اپنی خدمات کے ذریعے عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
خبرنامہ نمبر9039/2026
جھل مگسی 16 اکتوبر:گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللّٰہ شاہ کی زیرِ صدارت ضلع جھل مگسی کے محکمہ تعلیم کے کلسٹر ہیڈز کے ساتھ کلسٹر بجٹ کی تقسیم، مالیاتی ریکارڈ کی جانچ و پڑتال اور تعلیمی اداروں کو فراہم کردہ فنڈز کے استعمال سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جھل مگسی قرت العین مگسی صاحبہ، ودیگر ضلع کے کلسٹر ہیڈز نے شرکت کیں۔اجلاس کا مقصد تعلیمی اداروں کے لیے مختص بجٹ کی تقسیم کے طریقہ کار، مالیاتی معاملات میں شفافیت اور ریکارڈ کی درستگی کا جائزہ لینا تھا۔اجلاس کے دوران محکمہ تعلیم کے کلسٹر ہیڈز سے متعلقہ مالیاتی ریکارڈ، بجٹ کی تقسیم اور اخراجات کی تفصیلات کے حوالے سے امور زیرِ غور آئے۔ اس موقع پر اس امر کی اہمیت اجاگر کی گئی کہ تعلیمی اداروں کے لیے مختص فنڈز کو مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق استعمال کیا جائے اور مالیاتی معاملات میں شفافیت، جواب دہی اور باقاعدہ ریکارڈ کی تیاری کو یقینی بنایا جائے۔ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللّٰہ شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ محکمہ تعلیم کے تحت کلسٹر بجٹ کی تقسیم اور استعمال کے تمام مراحل میں قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کی جائے۔ انہوں نے کلسٹر ہیڈز کو ہدایت کی کہ بجٹ اور اخراجات سے متعلق تمام ضروری دستاویزات اور ریکارڈ کو باقاعدہ ترتیب دیا جائے، تاکہ مالیاتی امور کی جانچ پڑتال کے دوران متعلقہ معلومات بروقت دستیاب ہوں اور کسی قسم کی بے ضابطگی یا ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے۔انہوں نے مزید واضح کیا کہ سرکاری وسائل عوام کی امانت ہیں اور ان کا درست، شفاف اور مؤثر استعمال متعلقہ افسران کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ تعلیمی اداروں کے لیے مختص فنڈز کو ان کی ضروریات اور مقررہ مقاصد کے مطابق بروئے کار لانا ضروری ہے، تاکہ دستیاب وسائل سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جا سکے اور تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے میں مدد ملے۔انھوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ محکمہ تعلیم کے افسران اور کلسٹر ہیڈز اپنے فرائض ذمہ داری، دیانت داری اور پیشہ ورانہ اصولوں کے مطابق انجام دیں۔ بجٹ کی تقسیم، اخراجات کی تفصیلات اور مالیاتی ریکارڈ کی درستگی کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام کے درمیان مؤثر رابطہ کاری برقرار رکھی جائے، تاکہ تعلیمی شعبے میں انتظامی امور کو مزید منظم بنایا جا سکے۔اجلاس میں کلسٹر بجٹ کے معاملات کو قواعد و ضوابط کے مطابق چلانے، مالیاتی ریکارڈ کو مکمل رکھنے اور تعلیمی اداروں کے انتظامی امور میں بہتری لانے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللّٰہ شاہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع میں سرکاری تعلیمی اداروں کے انتظامی و مالیاتی امور کو بہتر بنانے، دستیاب وسائل کے شفاف استعمال اور تعلیمی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے متعلقہ محکموں کے ساتھ رابطہ کاری اور نگرانی کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر9040/2026
پشین:16 اکتوبر ڈویژنل کمشنر پشین قائم خان لاشاری نے کہا ہے کہ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی سستی یا غفلت کو قطعاً برداشت نہیں کیا جائے گا اور سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرنے والے ہر شہری کو عزتِ نفس کے احترام کے ساتھ بہترین اور جدید علاج معالجے کی فراہمی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے،اس عزم کا اظہار انہوں نے نو تشکیل شدہ پشین ڈویژن میں صحت کے شعبے کو درپیش سنگین چیلنجز،انتظامی اصلاحات اور بجٹ کے امور کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا,اجلاس میں ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر فضل محمد کاکڑ،ضلعی ناظم صحت ڈاکٹر گل زمان،میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر نصراللہ لانگو،میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ٹیچنگ ہسپتال پشین اور اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر محمد جہانگیر بابر سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی،جبکہ کمشنر پشین کو انتظامی و مالیاتی امور سمیت ہسپتالوں کی آپریشنل حالت پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی،اجلاس کے دوران ڈویژن بھر کے ہسپتالوں میں زندگی بچانے والی لازمی ادویات اور جدید ترین تشخیصی و طبی آلات کی بلاتعطل فراہمی سمیت عملے اور افرادی قوت کی کمی کو ہنگامی بنیادوں پر پورا کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا,کمشنر پشین ڈویژن نے پسماندہ اضلاع اور دور دراز علاقوں میں طبی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بجلی کے متبادل نظام کے طور پر تمام مراکزِ صحت کو فوری طور پر شمسی توانائی پر منتقل کرنے،ہسپتالوں کی عمارات کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت کرنے اور شعبہ حادثات (ایمرجنسی خدمات) کو چوبیس گھنٹے فعال اور معیاری بنانے کی مکتوب ہدایات بھی جاری کیں،انہوں نے متعلقہ آفسران کو سخت تاکید کی کہ وہ ان اصلاحات کے زمینی اثرات جلد از جلد عوام تک پہنچائیں کیونکہ شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے میں کسی بھی سطح پر کوتاہی کی گنجائش نہیں ہے۔
خبرنامہ نمبر9041/2026
کوئٹہ، 17 اکتوبر 2026 بلوچستان پولیس ڈسٹرکٹ اوستہ محمد میں کانسٹیبل کی بھرتی کے سلسلے میں امیدواروں کے قد اور چھاتی کی پیمائش کا مرحلہ مکمل کر لیا گیا۔ یہ عمل ڈی آئی جی پولیس کرائمز برانچ بلوچستان و چیئرمین ریکروٹمنٹ کمیٹی ضلع اوستہ محمد عبدالحمید سنجرانی کی نگرانی میں مکمل کیا گیا۔پولیس میں بھرتی کے سلسلے میں امیدواروں کی جسمانی پیمائش کا مرحلہ مقررہ معیار اور قواعد و ضوابط کے مطابق انجام دیا گیا جس کا مقصد بھرتی کے عمل میں شفافیت برقرار رکھنے اور اہل امیدواروں کے انتخاب کو یقینی بنانا ہے۔ڈی آئی جی پولیس کرائمز برانچ بلوچستان نے کہا کہ بھرتی کے تمام مراحل میں میرٹ، شفافیت اور قواعد و ضوابط کی پاسداری کو بنیادی اہمیت دی جا رہی ہے۔ امیدواروں کی جانچ پڑتال مقررہ طریقہ کار کے تحت کی جا رہی ہے تاکہ بھرتی کے عمل کو منصفانہ بنایا جا سکے اور کسی بھی امیدوار کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔اس موقع پر کمیٹی پر مشتمل ممبران اے آئی جی ویلفیئر طاہر مصطفیٰ، ایس پی اوستہ محمد حافظ معاذ الرحمٰن، پاک فوج کے افسران اور ایف سی کرنل بھی موجود تھے۔ڈی آئی جی پولیس کرائمز برانچ بلوچستان و چیئرمین ریکروٹمنٹ کمیٹی ضلع اوستہ محمد عبدالحمید سنجرانی کی نگرانی میں بھرتی کے عمل کو ضابطے کے مطابق آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ قد و چھاتی کی پیمائش کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد بھرتی کے آئندہ مراحل بھی مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت مکمل کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ بھرتی کے تمام مراحل میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے تاکہ جسمانی اور دیگر مقررہ معیار پر پورا اترنے والے اہل امیدواروں کو پولیس فورس میں خدمات انجام دیے جائینگے۔a
خبرنامہ نمبر9042/2026
کوئٹہ 17اکتوبر۔سیکرٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان محمد حیات کاکڑ اور سیکرٹری پروونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (PTA) بلوچستان عبدالمجید جونجو کی خصوصی ہدایات پر پی ٹی اے کے عملے نے قومی شاہراہ این اے 25 (کراچی–چمن) پر غیر قانونی اور بغیر پرمٹ اور کاغذات سمیت دیگر دستاویزات کے چلنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی۔کارروائی کے دوران گاڑیوں کے روٹ پرمٹس، ضروری کاغذات اور فٹنس سرٹیفکیٹس کی جانچ پڑتال کی گئی، جبکہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لاتے ہوئے تقریباً 27 گاڑیوں کے چالان کیے گئے۔اس مشترکہ کارروائی میں پروونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے عملے کے ساتھ موٹروے پولیس کے اہلکاروں نے بھی حصہ لیا۔ حکام نے گاڑیوں کی قانونی حیثیت، سفری دستاویزات اور فٹنس سرٹیفکیٹس کا جائزہ لیا تاکہ قومی شاہراہ پر ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔کارروائی کے دوران غیر قانونی طور پر چلنے والی گاڑیوں اور دستاویزات کی عدم دستیابی سمیت دیگر خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی۔ حکام نے واضح کیا کہ روٹ پرمٹ، فٹنس سرٹیفکیٹ اور دیگر لازمی دستاویزات کے بغیر گاڑیاں چلانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی۔حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد قومی شاہراہوں پر ٹریفک قوانین کی پابندی یقینی بنانا، مسافروں کے تحفظ کو بہتر بنانا اور غیر قانونی ٹرانسپورٹ کی روک تھام ہے۔ غیر ملکی افراد سے متعلق قانونی تقاضوں کی جانچ پڑتال بھی کارروائی کا حصہ تھی۔سیکرٹری ٹرانسپورٹ اور سیکرٹری پروونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی ہدایات کی روشنی میں متعلقہ عملے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قومی شاہراہوں پر نگرانی اور چیکنگ کا عمل مؤثر بنائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی آئند بھی جاری رکھیں۔
خبرنامہ نمبر9043/2026
دُکی، 17 اکتوبر 2026: ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت آئندہ پولیو مہم کی تیاریوں، انتظامات اور مؤثر حکمتِ عملی کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوااجلاس میں ڈی ایم پی پی ایچ آئی قاہر خان درانی، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان، این اسٹاپ ڈاکٹر عزیز اللہ، ایم اینڈ ای آفیسر ای پی آئی پیر محمد، سی سی او سعید احمد ناصر سمیت متعلقہ افسران اور دیگر ذمہ داران نے شرکت کی اجلاس کے دوران آئندہ پولیو مہم کے حوالے سے مائیکرو پلاننگ، پولیو ٹیموں کی تشکیل و تربیت، بچوں تک رسائی، حساس علاقوں کی نشاندہی، مانیٹرنگ اور مہم کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے مہم کے دوران درپیش ممکنہ چیلنجز اور ان کے بروقت تدارک کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیااس موقع پر ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے ہدایت کی کہ پولیو مہم کی کامیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور تمام متعلقہ محکمے و ادارے باہمی رابطے اور مؤثر کوآرڈینیشن کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں انہوں نے کہا کہ پانچ سال سے کم عمر کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے سے محروم نہیں رہنا چاہیے، اس مقصد کے لیے گھر گھر رسائی، انکاری خاندانوں کی مؤثر کاؤنسلنگ اور رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی پر خصوصی توجہ دی جائیڈپٹی کمشنر نے پولیو ٹیموں کی تربیت اور فیلڈ میں نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ مشترکہ قومی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو بھرپور کردار ادا کرنا ہوگااجلاس میں آئندہ پولیو مہم کو کامیاب بنانے، بچوں کو موذی مرض سے محفوظ رکھنے اور ضلع دُکی میں پولیو کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
خبرنامہ نمبر9044/2026
دُکی:17اکتوبر2026 ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر دُکی محمد اکرم خان حریفال نے شہر کے مختلف بازاروں اور شاہراہوں کا دورہ کرتے ہوئے تجاوزات، غیر قانونی ریڑھیوں اور گراں فروشی کے خلاف کارروائی کی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے دکانوں کے سامنے غیر ضروری اور اضافی سامان رکھ کر عوامی راستوں میں رکاوٹ پیدا کرنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائی کی، جبکہ متعدد دکانیں سیل کر دی گئیں۔ اسی طرح مقررہ سرکاری نرخوں سے زائد قیمتوں پر اشیائے ضروریہ فروخت کرنے والے دکانداروں کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی گئی اسسٹنٹ کمشنر محمد اکرم خان حریفال نے دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ سرکاری نرخ نامے کے مطابق اشیائے ضروریہ فروخت کریں، دکانوں کے سامنے تجاوزات قائم کرنے اور عوامی راستوں میں رکاوٹیں پیدا کرنے سے گریز کریں۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کو ریلیف کی فراہمی، ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور بازاروں میں نظم و ضبط قائم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت یا خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی ضلعی انتظامیہ دُکی نے واضح کیا کہ تجاوزات، گراں فروشی اور سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ شہریوں کو ریلیف کی فراہمی اور شہر کو تجاوزات سے پاک رکھنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے نگرانی کا عمل مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر9045/2026
دُکی، 17 اکتوبر 2026: ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال دُکی میں قائم ای پی آئی سنٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام، ویکسین کی فراہمی و محفوظ ذخیرہ کاری اور طبی فضلے کی محفوظ تلفی کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیااس موقع پر ای پی آئی آفیسر پیر محمد نے ڈپٹی کمشنر کو حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام، بچوں کو ویکسین کی فراہمی، طبی فضلے کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کے طریقہ کار اور ماحول دوست ای پی آئی ویسٹ شریڈنگ یونٹ کی فعالیت کے حوالے سے بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے ای پی آئی سنٹر کے مختلف حصوں کا معائنہ کرتے ہوئے حفاظتی ٹیکہ جات کی مؤثر اور بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حفاظتی ٹیکہ جات بچوں کو مختلف مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہیں، اس لیے ویکسینیشن پروگرام میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے طبی فضلے کی محفوظ تلفی کے انتظامات پر بھی خصوصی توجہ دیتے ہوئے کہا کہ ہسپتالوں اور مراکز صحت سے پیدا ہونے والے طبی فضلے کو مقررہ حفاظتی اصولوں کے مطابق تلف کرنا نہ صرف ماحول کے تحفظ بلکہ عوامی صحت کے لیے بھی انتہائی ضروری ہیڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ای پی آئی سنٹر میں صفائی ستھرائی، ویکسین کی دستیابی، کولڈ چین اور طبی فضلے کی محفوظ تلفی کے نظام کو مؤثر اور فعال رکھا جائے تاکہ عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
خبرنامہ نمبر9046/2026
دکی: 17اکتوبر:ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) پروگرام کے تحت وانگی روڈ اور پارک سے ملحقہ روڈ پر جاری ترقیاتی کاموں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر ایکسین روڈ ماجد ترین بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے سڑکوں کی تعمیر کے مختلف مراحل، کام کے معیار، رفتار اور مجموعی پیش رفت کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام سے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔ ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے ہدایت کی کہ جاری ترقیاتی کاموں میں تعمیراتی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے، کام کی رفتار کو مزید بہتر بنایا جائے اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی باقاعدہ نگرانی کی جائے تاکہ تعمیراتی کام مقررہ معیار کے مطابق مکمل ہوں اور عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آسکیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ BSDI پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کی پیش رفت پر مسلسل نظر رکھی جائے اور عوامی مفاد کے ان منصوبوں کی تکمیل میں معیار، شفافیت اور مقررہ اہداف کو خصوصی اہمیت دی جائے۔
خبرنامہ نمبر9047/2026
دُکی، 17 اکتوبر 2026: ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ پروگرام (BSDI) کے تحت جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ انہوں نے ٹیکسی اسٹینڈ، ایس سی اسکول اور قائداعظم چوک پر جاری تعمیراتی و ترقیاتی کاموں کا معائنہ کرتے ہوئے منصوبوں کی پیش رفت، کام کی رفتار اور تعمیراتی معیار کا جائزہ لیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے متعلقہ حکام اور تعمیراتی عملے کو ہدایت کی کہ BSDI کے تحت جاری تمام منصوبوں میں معیارِ تعمیر پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور ترقیاتی کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں انہوں نے منصوبوں میں استعمال ہونے والے تعمیراتی میٹریل کے معیار، منظور شدہ ڈیزائن اور مقررہ منصوبہ بندی کے مطابق کام کی تکمیل کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کا بنیادی مقصد عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور علاقے میں پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہیڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ BSDI کے تحت جاری منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی جاری رکھی جائے گی، جبکہ کام کے معیار، رفتار یا مقررہ ضوابط میں کسی قسم کی غفلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کرتے ہوئے انہیں معیاری انداز میں بروقت مکمل کیا جائے تاکہ عوام جلد از جلد ان ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔
خبرنامہ نمبر 9048/2026
کوئٹہ (17 اکتوبر 2026): اقوامِ متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (UNESCO) کے زیرِ اہتمام منائے جانے والے غیر مادی ثقافتی ورثے کے بین الاقوامی دن (17 اکتوبر) کے موقع پر، وزیر اعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ہدایت پر محکمہ ثقافت، حکومتِ بلوچستان نے صوبے کی صدیوں پرانی، نایاب اور تاریخی فنکارانہ روایت “نَر سُر” (Nar Sur) کو یونیسکو کے غیر مادی ثقافتی ورثے (ICH) کی عالمی نمائندہ فہرست میں شامل کرنے کے پروسیس کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نے محکمہ ثقافت کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ بلوچستان کے بے مثال لوک ورثے، روایتی موسیقی اور نایاب فنون کو نہ صرف محفوظ کیا جائے بلکہ انہیں بین الاقوامی سطح پر شایانِ شان پذیرائی دلائی جائے۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے، محکمہ ثقافت نے تمام تر تکنیکی تیاریوں، آڈیو ویژول دستاویزات، اور یونیسکو کے 2003 کے کنونشن کے مطابق درکار عالمی معیار کے ڈوزیئر کی تیاری کا کام ہنگامی بنیادوں پر تیز کر دیا ہے۔”نَر سُر” بلوچستان کی ایک نایاب اور پیچیدہ ترین لوک صنف ہے، جس میں روایتی بانسری (نل یا الگوزہ) کی تال کے ساتھ مخصوص گلے اور سانس کی تکنیک (Guttural/Throat Singing) کو یکجا کیا جاتا ہے۔ یہ فن نسل در نسل منتقل ہونے والی بلوچ لوک داستانوں، رزمیہ نظموں، صوفیانہ کلام اور تاریخی واقعات کو زندہ رکھنے کا ایک اہم ترین ذریعہ رہا ہے۔ یونیسکو کی فہرست میں نامزدگی سے جہاں بلوچستان کی اس نایاب صنف کو عالمی سطح پر پہچان ملے گی، وہاں اس فن سے وابستہ ماسٹر فنکاروں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور اس قدیم ورثے کو معدوم ہونے سے بچایا جا سکے گا۔محکمہ ثقافت، حکومتِ بلوچستان اس بات کے لیے پُرمسرت ہے کہ وہ صوبائی اِنوینٹری اور ماہرینِ ثقافت و لوک فنکاروں کے ساتھ مل کر اس پروسیس کو مکمل کر رہا ہے تاکہ بلوچستان کی ثقافت اور رنگا رنگ شناختی ورثے کا پرچم عالمی افق پر بلند کیا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر 9049/2026
سوراب۔آل سوراب ڈی سی کپ لیدر بال کرکٹ ٹورنامنٹ کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ضلعی انتظامیہ سوراب کی جانب سے کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کو مثبت اور صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے وژن کے تحت اس ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا گیا ہے ضلعی انتظامیہ کا مقصد نوجوانوں کو کھیلوں کے میدانوں میں زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا، صحت مند تفریح کو فروغ دینا اور نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے آل سوراب ڈی سی کپ کے انعقاد سے ضلع سوراب کے نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے اور کرکٹ کے میدان میں آگے بڑھنے کا بہترین موقع میسر آیا ہے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کھیلوں کے فروغ کے لیے مستقبل میں بھی ایسی سرگرمیوں کے انعقاد کا سلسلہ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔*
خبرنامہ نمبر 9050/2026
قلات:غربت کے عالمی دن کی مناسبت سے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے اشتراک سے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول پولیس لائن میں پروقار تقریب کا انعقادکیاگیا۔
تقریب سے ہیڈماسٹر ہائی سکول پولیس لائن عبدالسلام اقبال عزیز اوردیگر نے خطاب کرتے ہوے کہاکہ غربت کا خاتمہ ایک خوشحال، مستحکم اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہے۔ غربت کے خلاف جدوجہد صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس مقصد کے حصول کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگاغربت کے خاتمے کے لیے تعلیم، صحت، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور ہنر مندی کے فروغ پر خصوصی توجہ دینا ناگزیر ہے۔ معاشرے کے مستحق اور کم آمدنی والے افراد کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور انہیں معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے مؤثر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ضلعی انتظامیہ عوام کی فلاح و بہبود، مستحق افراد کی معاونت اور سرکاری فلاحی اقدامات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستحق افراد کی مدد، ضرورت مند خاندانوں کی معاونت اور معاشرے میں مساوات و ہمدردی کے فروغ سے غربت کے خاتمے کی کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
خبرنامہ نمبر 9051/2026
موسیٰ خیل17اکتوبر :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور صوبے بھر میں مواصلاتی و بنیادی ڈھانچے کی بحالی و ترقی کے عزم کے تحت، محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ایس ڈی او اور شبوزئی لورالائی تا تونسہ شریف روڈ کے ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر احمد سعید جعفر نے ضلع موسیٰ خیل میں جاری مختلف اہم ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔دورانِ دورہ احمد سعید جعفر نے شبوزئی تا تونسہ شریف روڈ، موسیٰ خیل تا کنگری روڈ اور جدید سبزی منڈی کے تعمیری کاموں کا موقع پر جا کر جائزہ لیا۔ انہوں نے تعمیراتی کام کی رفتار، کوالٹی اور مواد کی معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ٹھیکیداروں اور انجینئرز کو ہدایات دیں کہ تمام کاموں کو مقررہ ٹائم لائن اور اعلیٰ معیاری ضوابط کے مطابق جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو درپیش سفری و تجارتی مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔اس موقع پر بات کرتے ہوئے ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر احمد سعید جعفر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ترجیحات میں دور دراز اور پسماندہ اضلاع کو مرکزی شاہراہوں سے جوڑنا اور بنیادی سہولیات کی فراہمی شامل ہے۔ شبوزئی تا تونسہ شریف اور موسیٰ خیل تا کنگری روڈ جیسے اہم منصوبے نہ صرف بین الصوبائی اور بین الاضلاعی رابطہ کاری کو بہتر بنائیں گے بلکہ اس سے علاقائی تجارت اور معیشت کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ جبکہ سبزی منڈی کی تعمیر سے مقامی زمینداروں اور تاجروں کو بہترین معاشی و تجارتی پلیٹ فارم میسر آئے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی کاموں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور عوامی مفاد کے ان منصوبوں کی شفافیت اور بروقت تکمیلیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 9052/2026
کوئٹہ: وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ریاستی اداروں اور حکومت کے خلاف دیے گئے بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت معاشی، سیکیورٹی اور جغرافیائی سیاسی نوعیت کے سنگین چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے نازک حالات میں سیاسی قیادت سے ذمہ داری، سنجیدگی، تحمل اور قومی اتحاد کے فروغ کی توقع کی جاتی ہے۔اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری بیان میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان کے دشمن خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ملکی خودمختاری اور امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی سازشیں کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں قومی اداروں کے خلاف غیر ذمہ دارانہ بیانات اور سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کرنے والی گفتگو نہ تو جمہوریت کے مفاد میں ہے اور نہ ہی پاکستان کے قومی مفادات سے مطابقت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں سیاسی اختلافات ایک فطری اور ناگزیر حقیقت ہیں۔ ہر سیاسی رہنما کو حکومتی پالیسیوں پر سوال اٹھانے، تنقید کرنے اور حکومت کو جواب دہ بنانے کا آئینی و جمہوری حق حاصل ہے، تاہم تنقید تعمیری، ذمہ دارانہ اور حقائق پر مبنی ہونی چاہیے۔ سیاسی اختلاف کو قومی اداروں کی تضحیک یا ریاستی معاملات میں غیر ضروری محاذ آرائی کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان آرمی ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور دفاع کی ذمہ دار ایک اہم قومی ریاستی قوت ہے۔ ایسے وقت میں جب ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے اور قوم اپنے قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کر رہی ہے، ریاستی اداروں کے خلاف توہین آمیز اور تضحیک آمیز بیانات دینا قومی ذمہ داریوں سے انحراف کے مترادف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کی سلامتی کے لیے قربانیاں دینے والے اداروں اور اہلکاروں کے کردار کو سیاسی اختلافات کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے۔جام کمال خان نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایوان میں تفصیل کے ساتھ سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے متعلق دہشت گردی کے خلاف تعاون کے معاملے پر حکومتی مؤقف اور اٹھائے گئے نکات کی وضاحت کی۔ حکومت کی جانب سے بنیادی مطالبہ یہی رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں مکمل تعاون کریں، سیاسی قیادت آگے بڑھ کر ذمہ داری قبول کرے اور امن و امان کے قیام کے لیے مشترکہ حکمت عملی کے تحت ایک پیج پر ہوں۔ اس جدوجہد کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی فریضہ سمجھنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو بھی آئین کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے، جبکہ اس کی کارکردگی جمہوری عمل اور عوام کے سامنے جواب دہی کے اصولوں کے تابع رہنی چاہیے۔ پاکستان کو اس وقت سیاسی استحکام، ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور قومی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ عزم کی ضرورت ہے۔ سیاسی قیادت کو جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ریاست کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، نہ کہ غیر یقینی، انتشار اور تصادم کی فضا کو فروغ دینا چاہیے۔وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ موجودہ علاقائی اور عالمی حالات پاکستان سمیت دنیا بھر کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ خطے میں جاری جنگوں اور کشیدگی کے باعث توانائی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے، عالمی تجارتی روابط اور سپلائی چینز میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں، جبکہ عالمی معیشت اور مہنگائی پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کے قومی مفادات کا تقاضا ہے کہ داخلی سطح پر اتحاد، استحکام اور ذمہ دارانہ سیاسی رویے کو فروغ دیا جائے۔جام کمال خان نے کہا کہ اختلافات کے حل کے لیے حکومت نے جمہوری مکالمے، آئینی طریقہ کار اور مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ وزیراعظم نے بھی اپنے سیاسی مخالفین کی جانب دوبارہ ہاتھ بڑھا کر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ قومی معاملات کو محاذ آرائی کے بجائے بات چیت اور مفاہمت کے ذریعے آگے بڑھایا جائے۔ اس لیے سیاسی قوتوں کو بھی مثبت ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی مسائل کے حل میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف پاکستان ایک اہم عالمی سفارتی اور جنگی تنازع کے حل کے لیے ثالثی اور مذاکراتی کوششوں میں کردار ادا کر رہا ہے، جہاں عالمی برادری پاکستان پر اعتماد کا اظہار کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف ملک کے اندر بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی کوششیں جاری ہیں۔ قومی سطح پر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اگر پاکستان ان عالمی مذاکراتی کوششوں میں کامیابی حاصل کرتا ہے تو اس کے ثمرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا، بالخصوص جنگ اور عدم استحکام سے متاثرہ خطے کے عوام کو بھی فائدہ پہنچے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی سطح پر کشیدگی میں کمی، توانائی کی فراہمی میں بہتری، سپلائی چینز کی بحالی اور عالمی مہنگائی میں کمی جیسے مثبت نتائج پوری انسانیت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کامیابی سے پاکستان کی عالمی ساکھ، سفارتی حیثیت اور معاشی امکانات بھی مضبوط ہوں گے۔ آج دنیا میں پاکستان کے بارے میں پائے جانے والے اعتماد اور پاکستانی قوم کے لیے بڑھتے ہوئے احترام کو ایک اہم پیش رفت سمجھنا چاہیے۔جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان کی کامیابی کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت کی کامیابی نہیں بلکہ پوری قوم کی کامیابی ہوگی۔ اس لیے ضروری ہے کہ قومی مفادات کو محدود سیاسی فوائد پر ترجیح دی جائے اور ایسی کسی سرگرمی کا حصہ نہ بنا جائے جو ملک کی عالمی ساکھ، داخلی استحکام یا ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو نقصان پہنچائے۔انہوں نے سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرے، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد میں حکومتوں اور اداروں کا ساتھ دے اور سیاسی اختلافات کو قومی یکجہتی کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دے۔وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ پاکستان کو کامیاب، مستحکم اور خوشحال ملک بنانے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو وسیع تر قومی تناظر میں سوچنا ہوگا۔ معمولی سیاسی فوائد کے لیے بڑے قومی اہداف کو نقصان پہنچانا دانش مندی نہیں۔ ہمیں ان عناصر کے عزائم سے ہوشیار رہنا چاہیے جو پاکستان کو کامیاب اور خوشحال دیکھنا نہیں چاہتے۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ قوم متحد رہے، ریاستی اداروں کا احترام کیا جائے اور پاکستان کے قومی مفادات کو ہر قسم کی سیاسی مصلحت پر مقدم رکھا جائے۔
خبرنامہ نمبر 9053/2026
رکن صوبائی اسمبلی و بلوچستان عوامی پارٹی کے راہنماں صادق سنجرانی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سیاسی مفادات کے لیے قومی سلامتی پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان کو حکومتی فیصلوں کی مخالفت کرنے کا پورا حق حاصل ہے، لیکن اس مخالفت کو پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفادات پر بیانیے کے بہانے کے طور پر استعمال کرنا دشمن کے بیانیے کو تقویت دینے کا باعث بن سکتا ہے۔ دہشت گردی ایک قومی المیہ ہے، سیاسی سودے بازی کا آلہ نہیں۔ ہمارے شہداء کی قربانیاں اور ان کے خاندانوں کے مصائب احترام کے مستحق ہیں، نہ کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے۔ پاکستان کے مستقبل کا انحصار ذمہ داری، مقصد کی وضاحت اور دہشت گردی کو شکست دینے کے پختہ عزم پر ہے۔
خبرنامہ نمبر 9054/2026
کوئٹہ: بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے رہنما اور سابق سینیٹر کہدہ بابر بلوچ نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے قومی اداروں کے خلاف مبینہ توہین آمیز بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی اور پاکستان کی خودمختاری جیسے حساس معاملات کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر اپنے بیان میں سابق سینیٹر کہدہ بابر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی قومی اداروں کے خلاف مولانا فضل الرحمان کے توہین آمیز ریمارکس کی سخت مذمت کرتی ہے۔ ان کے مطابق سیاسی تنہائی کے تاثر کے باوجود قومی سلامتی اور ملکی خودمختاری کو سیاسی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنانا ایک نامناسب طرزِ عمل ہے، جس کی کسی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی۔کہدہ بابر بلوچ نے کہا کہ وطن کے دفاع اور سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی عظیم قربانیوں کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ شہداء کی قربانیوں کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ان کے مشن سے وفاداری کا عملی مظاہرہ کیا جائے اور ملک کے امن، استحکام اور سلامتی کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر کردار ادا کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور تمام سیاسی قوتوں کو چاہیے کہ وہ قومی مفادات کو ذاتی اور جماعتی سیاسی ترجیحات پر مقدم رکھیں۔ ریاستی اداروں کے احترام، ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف قومی جدوجہد میں ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔سابق سینیٹر نے مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار کے حصول کے لیے کسی مختصر راستے کی تلاش کے بجائے جمہوری اور انتخابی عمل کا انتظار کیا جانا چاہیے۔ عوامی حمایت اصولی سیاست، واضح سیاسی مؤقف اور قومی مفادات سے غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ ایسے بیانیے سے جس میں دوہرے معیار کا تاثر پیدا ہو۔






