خبر نامہ نمبر8836/2026
کوئٹہ 12 اکتوبر۔گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے سابق جج ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن سعادت اللہ خان با زئی سے صوبائی محتسب بلوچستان کے عہدے کا حلف لیا۔ اس سلسلے میں سوموار کے روز گورنر ہاوس کوئٹہ میں ایک سادہ مگر پروقار حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر نسیم الرحمٰن، رکن صوبائی اسمبلی نعیم بازئی اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان عبدالطیف کاکڑ سمیت صوبائی سیکرٹریز، سینئر وکلا اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے توقع ظاہر کی کہ سعادت اللہ خان با زئی کی بطور صوبائی محتسب تقرری کے بعد صوبائی محتسب کا ادارہ شہریوں کی شکایات کے ازالے، سرکاری محکموں کی انتظامی بےضابطگیوں کی نشاندہی اور عوام کو بروقت ریلیف فراہم کرنے کیلئے اپنا کردار مزید موثر انداز میں ادا کریگا۔ صوبائی محتسب ادارہ واقعی ایک کارآمد ادارہ ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8837/2026
تربت12 اکتوبر۔ ضلع کیچ میں یومِ نجات کے سلسلے میں عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی جانب سے کار ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں عوامی حلقوں ، سول سوسائٹی کے نمائندگان کے علاوہ کاروباری افراد اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شریک تھے۔ریلی کے شرکاء نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے بھی یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر شرکاء نے یومِ نجات کی مناسبت سے اپنی شرکت کے ذریعے باہمی ہم آہنگی اور اجتماعی یکجہتی کا پیغام دیا۔کار ریلی میں عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی شرکت نے اس سرگرمی کو نمایاں بنایا۔ ریلی کا مقصد یومِ نجات کے حوالے سے آگاہی اجاگر کرنا اور خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق اپنے موقف کا اظہار کرنا تھا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8838/2026
گوادر 12 اکتوبر ۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ میر عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ ہسپتال گوادر ڈاکٹر حفیظ بلوچ کے مطابق ستمبر 2026 کے دوران ہسپتال کی او پی ڈی میں 10 ہزار 933 مریضوں کا معائنہ کیا گیا، جبکہ 1,552 مریضوں کو داخل کرکے علاج فراہم کیا گیا۔ اس دوران ایمرجنسی میں 1,228 مریضوں کو طبی امداد دی گئی، لیبارٹری میں 6,404 ٹیسٹ کیے گئے اور ملیریا کی 2,136 اسکریننگ کی گئیں جبکہ 200 الٹراساونڈ، 650 ایکسرے اور 50 ڈائیلاسز کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ بلڈ بینک میں 242 کیسز کا اندراج ھوئے ہیں ماہانہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق شعبہ چشم میں 531 اور شعبہ امراضِ نسواں کی او پی ڈی میں 790 مریضوں کا معائنہ کیا گیا۔ زچہ و بچہ کی نگہداشت کے سلسلے میں قبل از ولادت معائنے کے 499 اندراجات، بعد از ولادت نگہداشت کا ایک اندراج اور 38 زچگیوں کی رپورٹ درج کی گئی رپورٹ کے مطابق ہیپاٹائٹس بی کی 562 اور ایچ آئی وی کی 16 اسکریننگز بھی کی گئیں، جبکہ ہیپاٹائٹس سی کے 6 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ملیریا اسکریننگ میں 4 پی ایف، 74 پی وی ایک کیس درج کیا گیا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر حفیظ بلوچ کا کہنا تھا کہ ہسپتال انتظامیہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی، ہنگامی طبی خدمات کی بہتری، ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ اور بیماریوں کی بروقت تشخیص کو ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کو بہتر علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنا اور صحتِ عامہ کے معیار کو بہتر بنانا ہسپتال انتظامیہ کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8839/2026
لورالائی12 اکتوبر بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز (BIITMS) لورالائی میں بی ایس نرسنگ میں داخلے کے خواہشمند امیدواروں کے لیے نرسنگ کالجز ایڈمیشن ٹیسٹ (NCAT) منعقد کیا گیا، جس میں 120 مرد و خواتین امیدواروں نے شرکت کی۔ ٹیسٹ کے دوران امیدواروں کے لیے پرسکون، منظم اور شفاف امتحانی ماحول فراہم کیا گیاامتحان کے تمام انتظامات BIITMS لورالائی کے اسٹاف کی زیرِ نگرانی مکمل کیے گئے، جبکہ امتحانی ہال میں امیدواروں کی نشستوں، حاضری، نگرانی اور دیگر ضروری انتظامات کو موثر انداز میں یقینی بنایا گیا۔ امتحانی عمل کے دوران نظم و ضبط اور شفافیت کو خصوصی اہمیت دی گئی اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) لورالائی ڈاکٹر فہیم اتمانخیل اور پرنسپل نرسنگ کالج لورالائی نے امتحانی ہال کا دورہ کیا اور ٹیسٹ کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے امتحانی عمل، امیدواروں کے لیے فراہم کی گئی سہولیات اور انتظامی امور پر اطمینان کا اظہار کیا۔
DHO ڈاکٹر فہیم اتمانخیل اور پرنسپل نرسنگ کالج نے BIITMS لورالائی کے پرنسپل اور اسٹاف کی بہترین انتظامی کارکردگی، تعاون اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے منظم اور شفاف امتحانات سے میرٹ کی بنیاد پر اہل امیدواروں کے انتخاب میں مدد ملتی ہے اور نوجوانوں کو شعب صحت میں پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرنے کے بہتر مواقع میسر آتے ہیں۔اس موقع پر BIITMS لورالائی انتظامیہ کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ادارہ مستقبل میں بھی مختلف تعلیمی، پیشہ ورانہ اور داخلہ ٹیسٹس کے انعقاد کے لیے شفاف، منظم، محفوظ اور معیاری امتحانی ماحول فراہم کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گاواضح رہے کہ نرسنگ کے شعبے میں معیاری افرادی قوت کی تیاری صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، جبکہ ایسے داخلہ ٹیسٹس میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر قابل اور مستحق امیدواروں کے انتخاب میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8840/2026
حب 12اکتوبر۔ ڈسٹرکٹ لائیو اسٹاک آفیسر،حب ڈاکٹر محمد اشرف کے زیرصدارت ڈسٹرکٹ لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ حب کے تمام افسران اور اہلکاروں کا ایک اہم اجلاس سول ویٹرنری ہسپتال ساکران حب میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا بنیادی مقصد فیلڈ افسران اور عملے کی ڈیلی روٹین سے متعلق ان کی کارکردگی اور پروگریس رپورٹ کا جائزہ لینا تھااجلاس میں پروگریس رپورٹ کاجائزہ دیگرامور پر تفصیلی غور کیا گیاتمام فیلڈ آفیسرز اور اسٹاف نے اپنی روزمرہ کی ذمہ داریوں اور فیلڈ میں کی جانے والی کارکردگی کی تفصیلی رپورٹس پیش کیں۔مستقبل کی حکمتِ عملی (Future Planning): لائیو اسٹاک کے شعبے کو مزید فعال بنانے، کسانوں اور مال مویشی رکھنے والوں کو بہتر طبی اور حفاظتی سہولیات فراہم کرنے کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی۔اجلاس کے تمام شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے منصب اور عہدے کے تقاضوں کو پوری دیانت داری، حب الوطنی اور پیشہ ورانہ لگن کے ساتھ نبھائیں گے۔اجلاس کے آخر میں تمام ملازمین نے باہمی اتفاق اور خوشگوار ماحول میں اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن انجام دینے کا عہد کیا، اور اجلاس کا اختتام دعائے خیر کے ساتھ ہوا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8841/2026
لورالائی:12اکتوبر۔ڈویژنل ڈائریکٹر سکولز ایجوکیشن لورالائی ڈویژن عبدالواسع خان کاکڑ نے جی بی ایچ ایس دَرگئی سرگڑہ لورالائی اور جی جی ایم ایس دَرگئی سرگڑہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر بابو ملک نجیب خان کاکڑ بھی ان کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران ڈویژنل ڈائریکٹر نے مختلف کلاس رومز کا تفصیلی دورہ کیا، طلبہ سے سبق سنا اور مختلف مضامین کے حوالے سے سوالات کیے۔ انہوں نے بچوں کی تعلیمی استعداد، تدریسی سرگرمیوں، حاضری اور مجموعی تعلیمی ماحول کا جائزہ لیااس موقع پر ہیڈ ماسٹر عبدالروف نے اسکول کے حوالے سے ڈویژنل ڈائریکٹر کو تفصیلی بریفنگ دی اور ادارے میں جاری تعلیمی سرگرمیوں، طلبہ کی تعداد، تدریسی امور اور درپیش مسائل سے آگاہ کیاڈویژنل ڈائریکٹر عبدالواسع خان کاکڑ نے اساتذہ کرام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو معیاری تعلیم، بنیادی تعلیمی تصورات اور بہتر تربیت فراہم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف کتاب پڑھانا کافی نہیں بلکہ طلبہ کی فکری، اخلاقی اور عملی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہےانہوں نے کہا کہ دنیا میں جو قومیں ترقی اور خوشحالی کی منازل طے کرتی ہیں، ان کی ترقی کی بنیاد تعلیم پر ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنی قوم اور معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں بچوں کی تعلیم و تربیت کو اولین ترجیح دینا ہوگی انہوں نے اساتذہ کرام پر زور دیا کہ وہ طلبہ کو بنیادی تعلیمی مہارتوں پر خصوصی توجہ دیں، کمزور طلبہ کی نشاندہی کرکے ان پر اضافی محنت کریں اور کلاس رومز میں ایسا مثبت اور سازگار تعلیمی ماحول قائم کریں جہاں بچے اعتماد کے ساتھ سیکھ سکیں ڈویژنل ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ ایک بہترین استاد صرف سبق نہیں پڑھاتا بلکہ مستقبل کے معمار تیار کرتا ہے۔ اس لیے اساتذہ کی محنت، تربیت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور تعلیمی معیار میں بہتری براہِ راست قوم کے مستقبل سے وابستہ ہےدورے کے اختتام پر ڈویژنل ڈائریکٹر نے اسکول انتظامیہ اور اساتذہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ طلبہ کی تعلیم، حاضری، نظم و ضبط اور تربیت پر مسلسل توجہ دی جائے تاکہ علاقے کے تعلیمی اداروں میں معیارِ تعلیم کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8842/2026
کوئٹہ,اکتوبر12۔ بلوچستان میں فن، ثقافت اور پرفارمنگ آرٹس کے فروغ کے لیے ڈائریکٹریٹ آف کلچر، حکومت بلوچستان، اور نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (NAPA) کے درمیان مفاہمتی یاداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے۔اس سلسلے میں کوئٹہ میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں NAPA کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز سید جاوید اقبال، معروف سماجی کارکن اور سابق سینیٹر روشن خورشید بروچہ، سینئر فنکاروں، میڈیا نمائندوں، ثقافتی شخصیات اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔یہ معاہدہ بلوچستان میں فن و ثقافت کے فروغ اور پرفارمنگ آرٹس کے شعبے کو ترقی دینے کے لیے ڈائریکٹریٹ آف کلچر کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس سلسلے میں سیکرٹری کلچر، ٹورزم اینڈ آرکائیوز حمید اللہ ناصر اور ڈائریکٹر کلچر داود ترین کی کاوشیں قابلِ ذکر ہیں، جن کا مقصد صوبے میں فنونِ لطیفہ کے معیار کو بہتر بنانا اور مقامی فنکاروں کو تربیت اور ترقی کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔تقریب کے دوران سید جاوید اقبال، روشن خورشید بروچہ اور دیگر معزز مہمانوں نے اس اشتراک کو بلوچستان میں فن و ثقافت کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تعاون کے ذریعے صوبے کے نوجوانوں اور فنکاروں کو ڈرامہ، موسیقی، تھیٹر اور دیگر فنونِ لطیفہ میں پیشہ ورانہ تربیت اور رہنمائی کے مواقع میسر آئیں گے۔سیکرٹری کلچر حمید اللہ ناصر اور ڈائریکٹر کلچر داود ترین نے اس پیش رفت کو بلوچستان کے ثقافتی مستقبل کے لیے اہم قدم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس اشتراک سے صوبے کے فنکاروں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور بلوچستان کے ثقافتی ورثے کو قومی سطح پر اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔تقریب کے شرکاء نے اس معاہدے کو بلوچستان میں پرفارمنگ آرٹس کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات صوبے کے مثبت ثقافتی تشخص کو اجاگر کرنے اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8843/2026
گوادر 12 اکتوبر ۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی ہدایات کے تحت رائز بلوچستان پروگرام نوجوانوں اور خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے، غربت میں کمی اور خود روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پروگرام کے تحت گوادر میں 150 مستحق افراد میں ڈیڑھ، ڈیڑھ لاکھ روپے کی انکم جنریٹنگ گرانٹس جبکہ بیوٹیشن اور بیکنگ کے کورسز مکمل کرنے والی 40 بچیوں میں سرٹیفکیٹس اور پیشہ ورانہ کٹس تقسیم کی گئیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے رائز بلوچستان پروگرام کے تحت منعقدہ تقسیمِ اثاثہ جات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا رائز پروگرام کے تقریب میں اسلام آباد کے آئی آر ایم انسٹی ٹیوٹ سے بیوٹیشن کورس مکمل کرنے والی 27 بچیوں اور کراچی کے گوتم انسٹی ٹیوٹ سے بیکنگ کورس مکمل کرنے والی 13 بچیوں کو سرٹیفکیٹس اور پیشہ ورانہ کٹس فراہم کی گئیں، تاکہ وہ اپنے ہنر کو بروئے کار لاتے ہوئے روزگار حاصل کرنے اور ذاتی کاروبار شروع کرنے کے قابل ہوسکیں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ رائز بلوچستان پروگرام کے تحت صوبے کے چھ منتخب اضلاع میں تین سال کے دوران 16.79 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پروگرام کا مقصد مستحق خاندانوں کو معاشی طور پر مستحکم کرنا، نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کرنا اور خواتین کے لیے روزگار کے پائیدار مواقع پیدا کرنا ہے۔ ضلع گوادر میں بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام (BRSP) کے ذریعے مستحق خاندانوں کی نشاندہی اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے اقدامات جاری ہیں انہوں نے کہا کہ پروگرام کے تحت چھوٹے کاروبار کے قیام کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے تک بلاواپسی گرانٹ جبکہ بڑے کاروباری منصوبوں کے لیے مقررہ شرائط کے مطابق مالی معاونت کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ہنرمندی اور مالی معاونت کے ذریعے مستحق افراد کو خود کفالت کی جانب گامزن کرنا اور مقامی معیشت کو فروغ دینا پروگرام کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے تقریب میں سید طاہر اور طارق نے بھی خطاب کیا ھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8844/2025
کوئٹہ 12 اکتوبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ لیڈیز کلب بلوچستان کا قیام ایک خوش آئند اقدام ہے جس سے خواتین کی معاشی و سماجی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، اور انہیں اپنے حقوق و فرائض سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے مواقع میسر آئیں گے۔ اس ضمن میں ضروری ہے کہ لیڈیز کلب بلوچستان کو دیگر متعلقہ سرکاری و غیرسرکاری اداروں، سماجی تنظیموں اور ڈونرز کے ساتھ موثر روابط استوار کریں تاکہ خواتین کی فلاح و بہبود، ہنر مندی کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے مشترکہ منصوبے شروع کیے جا سکیں۔ گورنر مندوخیل نے لیڈیز کلب بلوچستان کو فعال اور موثر بنانے کیلئے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ خواتین کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ان کی معاشی و سماجی ترقی سے متعلق اقدامات کی حوصلہ افزائی کی جائیگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاوس کوئٹہ میں ستارہ محمد حسنی کی قیادت میں خواتین کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد میں سابق رکن صوبائی اسمبلی زینت شاہوانی، روبینہ ابراہیم زہری، مہوش رند، انزلہ بلوچ اور عائشہ ضیائ قلندرانی شامل تھیں۔ وفد نے گورنر بلوچستان کو لیڈیز کلب بلوچستان کے اغراض و مقاصد اور مجوزہ سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ کلب خواتین کو مثبت سماجی سرگرمیوں، پیشہ ورانہ روابط، ہنرمندی کے فروغ اور فلاحی منصوبوں میں شرکت کیلئے ایک موثر پلیٹ فارم فراہم کریگا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے خواتین کی معاشی خودمختاری، سماجی ترقی اور صوبے کی تعمیر و ترقی میں ان کے موثر کردار کو مزید مستحکم بنانے کیلئے باہمی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ خواتین کو درپیش مسائل کے حل، ان کے حقوق کے تحفظ اور ترقی کے یکساں مواقع کی فراہمی کیلئے مشترکہ آواز بلند کرنا ضروری ہے تاکہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے زیادہ موثر اور دیرپا نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8845/2025
کوئٹہ12 اکتوبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کوئٹہ میں پاک فوج کے تربیتی طیارے کو تیکنیکی خرابی کے باعث پیش آنے والے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے حادثے کے نتیجے میں انسٹرکٹر پائلٹ میجر حسنین شہزاد ہمایوں اور اسٹوڈنٹ پائلٹ کیپٹن عبدالصمد کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ دونوں افسران کی شہادت ایک افسوسناک سانحہ ہے۔ جعفر خان مندوخیل نے سوگوار خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہدائ کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو یہ ناقابلِ تلافی نقصان صبر و ہمت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8846/2025
کوئٹہ12 اکتوبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے ایف ایس سی کے طالب علم ولی اللہ ترین ولد عین الدین کی ایم ڈی کیٹ میں شاندار کامیابی کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں لیپ ٹاپ دینے کا اعلان کیا۔ ڈسٹرکٹ پشین کے ولی اللہ ترین نے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (MDCAT BUHMS University) میں ٪91 فیصد نمبر حاصل کرکے بلوچستان میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ گورنر بلوچستان نے فرسٹ پوزیشن ہولڈر کی محنت، لگن اور تعلیمی قابلیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی غیرمعمولی کامیابیاں نہ صرف ان کے والدین اور اساتذہ کیلئے باعثِ فخر ہیں بلکہ دوسرے طالب علموں کیلئے بھی مشعلِ راہ ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8847/2025
کوئٹہ، 12 اکتوبر ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ کے علاقے نواں کلی کے قریب پاک فوج کے تربیتی طیارے کے حادثے میں میجر حسنین شہزاد ہمایوں اور کیپٹن عبدالصمد کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے وزیر اعلیٰ نے شہداءکے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں پائلٹس کی شہادت پر دلی رنج و غم ہے۔ ان کی قربانی اور قومی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، جبکہ ان کی شہادت ملک و قوم کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دکھ اور غم کی اس گھڑی میں وہ شہداءکے سوگوار خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداءکے درجات بلند فرمائے، انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا کرے اور لواحقین کو یہ ناقابلِ تلافی نقصان برداشت کرنے کے لیے صبر جمیل عطا فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8848/2025
کوئٹہ، 12 اکتوبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت سوئی میں ترقیاتی منصوبوں اور مختلف محکموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت، تعلیم و صحت کی سہولیات، عوامی خدمات کی فراہمی اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرکے انہیں مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے اور منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ہدایت کی کہ گوپت واٹر سپلائی اسکیم کو یکم اپریل 2027 تک ہر صورت مکمل کیا جائے تاکہ علاقے کے عوام کو پانی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے سوئی میں نئے گرلز ہائی اسکول کے قیام کے لیے ضروری اقدامات کرنے اور سوئی رنگ روڈ کے اطراف شجرکاری اور جنگلات کے فروغ کے لیے موثر اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ نے انڈس ہسپتال سوئی کو ایمبولینس فراہم کرنے اور وہاں اضافی طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کرے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ دور دراز علاقوں میں فعال کیے گئے لیبر رومز کی فعالیت برقرار رکھی جائے اور زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ خواتین کو اپنے علاقوں میں ہی طبی سہولیات میسر آ سکیں۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے پولیو کے خاتمے کے لیے موثر نگرانی اور حفاظتی اقدامات کا تسلسل برقرار رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کی فعالیت برقرار رکھنے، تمام اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری مزید بہتر بنانے اور محکمہ صحت کے عملے کی باقاعدہ حاضری یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو تعلیم اور صحت کی سہولیات کی موثر فراہمی کے لیے متعلقہ محکموں کی کارکردگی میں بہتری اور جوابدہی ضروری ہے وزیر اعلیٰ نے تمام متعلقہ محکموں کو ترقیاتی منصوبوں کی باقاعدہ نگرانی کرنے اور کام کی رفتار کے ساتھ معیار کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے دور دراز علاقوں میں لیبر رومز کی فعالیت، معمول کی زچگی کی سہولیات کی فراہمی، تمام اسکولوں کے کھلے ہونے اور اساتذہ سمیت محکمہ صحت کے عملے کی حاضری میں بہتری کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ عوامی سہولیات کی فراہمی میں حاصل ہونے والی بہتری کو برقرار رکھتے ہوئے ترقیاتی عمل کو مزید تیز کیا جائے تاکہ سوئی اور ملحقہ علاقوں کے عوام مستفید ہو سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8849/2025
کوئٹہ: 12 اکتوبر ۔ صوبائی مشیر بلدیات و دیہی ترقی نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری نے کوئٹہ کے علاقے نواں کلی کے قریب پاک فوج کے تربیتی طیارے کو پیش آنے والے حادثے میں میجر حسنین شہزاد ہمایوں اور کیپٹن عبدالصمد کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے تعزیتی بیان میں انہوں نے کہا کہ دونوں پائلٹس کی شہادت ملک و قوم کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے شہداءکے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ سوگوار خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں صوبائی مشیر بلدیات و دیہی ترقی نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہدائ کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو یہ عظیم صدمہ صبر و ہمت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔ انہوں نے کہا کہ وطن کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والے بہادر سپوت پوری قوم کا فخر ہیں اور ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8850/2025
کوئٹہ، 12 اکتوبر: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ کی زیر صدارت 21 اکتوبر کو لاہور میں منعقد ہونے والے بلوچستان اکنامک اینڈ انویسٹمنٹ فورم کی تیاریوں کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں سی ای او عبدالمنان سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں فورم کے انعقاد کے انتظامات، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کی شرکت، مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کرنے اور تقریب کو موثر بنانے کے لیے تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر فورم کے اغراض و مقاصد اور بلوچستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مو¿ثر اقدامات کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بلال خان کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فورم کا مقصد بلوچستان میں موجود سرمایہ کاری کے وسیع مواقع کو قومی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کرنا اور صوبے میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے نئے امکانات تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وڑن کے مطابق بلوچستان کو سرمایہ کاری، تجارت اور معاشی ترقی کا ایک اہم مرکز بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ اس وڑن کو عملی جامہ پہنانے اور صوبے میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اکنامک اینڈ انویسٹمنٹ فورم اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا، جس سے صوبے کی معاشی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے اور کاروباری روابط کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta, October 12: A meeting was held under the chairmanship of Bilal Khan Kakar, Vice Chairman of the Balochistan Board of Investment and Trade (BBoIT), to review preparations for the Balochistan Economic and Investment Forum, scheduled to be held in Lahore on October 21. CEO Abdul Manan and other relevant officials attended the meeting.The meeting reviewed arrangements for the forum, participation of investors and business leaders, efforts to highlight investment opportunities across various sectors, and preparations to ensure the event’s effectiveness. Discussions also focused on the objectives of the forum and the importance of taking effective measures to promote investment in Balochistan.Addressing the meeting, Bilal Khan Kakar said that the forum aims to present Balochistan’s vast investment opportunities to national and international investors and explore new avenues for promoting business activities in the province.He said that, in line with the vision of Balochistan Chief Minister Mir Sarfraz Bugti, efforts are underway to transform Balochistan into a major hub for investment, trade, and economic development. The Balochistan Board of Investment and Trade is playing its role in translating this vision into reality and creating a conducive environment for investment in the province.He further said that the Balochistan Economic and Investment Forum would mark an important step in this direction, helping showcase the province’s economic potential, strengthen investor confidence, and foster business linkages.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8851/2025
کوئٹہ, 12 اکتوبر۔ بلوچستان میں فن، ثقافت اور پرفارمنگ آرٹس کے فروغ کے لیے ڈائریکٹریٹ آف کلچر، حکومت بلوچستان، اور نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (NAPA) کے درمیان مفاہمتی یاداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے۔اس سلسلے میں کوئٹہ میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں NAPA کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز سید جاوید اقبال، معروف سماجی کارکن اور سابق سینیٹر روشن خورشید بروچہ، سینئر فنکاروں، میڈیا نمائندوں، ثقافتی شخصیات اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔یہ معاہدہ بلوچستان میں فن و ثقافت کے فروغ اور پرفارمنگ آرٹس کے شعبے کو ترقی دینے کے لیے ڈائریکٹریٹ آف کلچر کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس سلسلے میں سیکرٹری کلچر، ٹورزم اینڈ آرکائیوز حمید اللہ ناصر اور ڈائریکٹر کلچر داود ترین کی کاوشیں قابلِ ذکر ہیں، جن کا مقصد صوبے میں فنونِ لطیفہ کے معیار کو بہتر بنانا اور مقامی فنکاروں کو تربیت اور ترقی کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔تقریب کے دوران سید جاوید اقبال، روشن خورشید بروچہ اور دیگر معزز مہمانوں نے اس اشتراک کو بلوچستان میں فن و ثقافت کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تعاون کے ذریعے صوبے کے نوجوانوں اور فنکاروں کو ڈرامہ، موسیقی، تھیٹر اور دیگر فنونِ لطیفہ میں پیشہ ورانہ تربیت اور رہنمائی کے مواقع میسر آئیں گے۔سیکرٹری کلچر حمید اللہ ناصر اور ڈائریکٹر کلچر داود ترین نے اس پیش رفت کو بلوچستان کے ثقافتی مستقبل کے لیے اہم قدم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس اشتراک سے صوبے کے فنکاروں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور بلوچستان کے ثقافتی ورثے کو قومی سطح پر اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔تقریب کے شرکاء نے اس معاہدے کو بلوچستان میں پرفارمنگ آرٹس کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات صوبے کے مثبت ثقافتی تشخص کو اجاگر کرنے اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8852/2025
گوادر 12 اکتوبر ۔ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی ہدایات کے تحت رائز بلوچستان پروگرام نوجوانوں اور خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے، غربت میں کمی اور خود روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پروگرام کے تحت گوادر میں 150 مستحق افراد میں ڈیڑھ، ڈیڑھ لاکھ روپے کی انکم جنریٹنگ گرانٹس جبکہ بیوٹیشن اور بیکنگ کے کورسز مکمل کرنے والی 40 بچیوں میں سرٹیفکیٹس اور پیشہ ورانہ کٹس تقسیم کی گئیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے رائز بلوچستان پروگرام کے تحت منعقدہ تقسیمِ اثاثہ جات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا رائز پروگرام کے تقریب میں اسلام آباد کے آئی آر ایم انسٹی ٹیوٹ سے بیوٹیشن کورس مکمل کرنے والی 27 بچیوں اور کراچی کے گوتم انسٹی ٹیوٹ سے بیکنگ کورس مکمل کرنے والی 13 بچیوں کو سرٹیفکیٹس اور پیشہ ورانہ کٹس فراہم کی گئیں، تاکہ وہ اپنے ہنر کو بروئے کار لاتے ہوئے روزگار حاصل کرنے اور ذاتی کاروبار شروع کرنے کے قابل ہوسکیں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ رائز بلوچستان پروگرام کے تحت صوبے کے چھ منتخب اضلاع میں تین سال کے دوران 16.79 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پروگرام کا مقصد مستحق خاندانوں کو معاشی طور پر مستحکم کرنا، نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کرنا اور خواتین کے لیے روزگار کے پائیدار مواقع پیدا کرنا ہے۔ ضلع گوادر میں بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام (BRSP) کے ذریعے مستحق خاندانوں کی نشاندہی اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے اقدامات جاری ہیں انہوں نے کہا کہ پروگرام کے تحت چھوٹے کاروبار کے قیام کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے تک بلاواپسی گرانٹ جبکہ بڑے کاروباری منصوبوں کے لیے مقررہ شرائط کے مطابق مالی معاونت کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ہنرمندی اور مالی معاونت کے ذریعے مستحق افراد کو خود کفالت کی جانب گامزن کرنا اور مقامی معیشت کو فروغ دینا پروگرام کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے تقریب میں سید طاہر اور طارق نے بھی خطاب کیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8853/2025
لورالائی:12اکتوبر۔رکن صوبائی اسمبلی حاجی محمد خان طور اوتمانخیل نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام نے جس اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ہمیں بھاری اکثریت سے کامیاب کیا ہے، ہم ان کے اعتماد کو ہرگز ٹھیس نہیں پہنچائیں گے۔ ان شاءاللہ عوام کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے لورالائی کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا اور علاقے سے بے روزگاری کے خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں گےانہوں نے کہا کہ لورالائی شہر کی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور شہری مسائل کا حل ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ میونسپل کمیٹی لورالائی کے ترقیاتی فنڈز میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے اسے 12 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ سالانہ فنڈز بھی 12 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دیے گئے ہیں، جس سے شہر میں صفائی، نکاسی آب، سڑکوں، گلیوں اور دیگر شہری سہولیات کی بہتری کے منصوبوں میں تیزی آئے گی حاجی محمد خان طور اوتمانخیل نے بتایا کہ لورالائی میونسپل کمیٹی کو جدید مشینری سے لیس کرنے کے لیے مزید 6 رکشے اور 2 ڈمپرز فراہم کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ 54 کلاس فور ملازمتوں کی منظوری بھی دی جائے گی، جس سے نہ صرف میونسپل کمیٹی کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گےانہوں نے کہا کہ لورالائی میونسپل کمیٹی کو بہت جلد میونسپل کارپوریشن کا درجہ دلانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جس سے شہر کے انتظامی و ترقیاتی نظام میں مزید بہتری آئے گی۔ اسی طرح سبزی منڈی اور گوشت مارکیٹ کو بھی جلد فعال کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو بہتر سہولیات میسر ہوں اور شہر میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکےرکن صوبائی اسمبلی نے کہا کہ شہر کے مختلف گلی محلوں میں مرحلہ وار ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا جائے گا، جبکہ باچاخان چوک سے بڑے نالے کی تعمیر کا کام بھی شروع کیا جائے گا۔ نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے، بارش کے پانی کی بروقت نکاسی اور شہری آبادی کو درپیش مسائل کے مستقل حل کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہےانہوں نے مزید کہا کہ تعلیم کے شعبے میں اسکولوں کی حالت بہتر بنانے، بنیادی سہولیات کی فراہمی، نئی تعلیمی سہولیات کے قیام اور طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ صحت کے شعبے میں ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت میں سہولیات کی بہتری، ڈاکٹرز و طبی عملے کی دستیابی، ادویات کی فراہمی اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے متعلقہ حکام سے مل کر اقدامات کیے جائیں گے۔حاجی محمد خان طور ض اوتمانخیل نے کہا کہ آبپاشی اور زراعت کے شعبے کو بھی ترقیاتی ایجنڈے میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ علاقے میں پانی کے مسائل کے حل، آبپاشی کے نظام کی بہتری، نہروں اور واٹر کورسز کی بحالی، نئے آبپاشی منصوبوں اور زرعی زمینوں تک پانی کی فراہمی کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ کسانوں کو سہولیات مل سکیں اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہوانہوں نے کہا کہ لورالائی میں سڑکوں، پلوں، نکاسی آب، پینے کے صاف پانی، بجلی، تعلیم، صحت، آبپاشی، کھیلوں اور دیگر بنیادی شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔ نوجوانوں کے لیے روزگار، ہنر اور کھیلوں کے مواقع پیدا کرنا بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہےانہوں نے کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں میںشفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا اور عوامی وسائل عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوں گےحاجی محمد خان طور اوتمانخیل نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان شاء اللہ اجتماعی کوششوں، موثر منصوبہ بندی اور عوامی تعاون سے لورالائی کو ترقی، خوشحالی اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے ایک مثالی اور ماڈل ضلع بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8854/2025
کوئٹہ 12اکتوبر۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت 2 نومبر سے شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کے انتظامات کے حوالے سے ڈی پیک (DPEC) اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈی ایچ او کوئٹہ، نیشنل ای او سی کے ممبران، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں انسداد پولیو مہم کے انتظامات، سکیورٹی پلان، ٹیموں کی تعیناتی اور مہم کو موثر بنانے کے لیے مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مہم کے دوران کوئٹہ میں تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے ہدایت کی کہ جن یونین کونسلز میں مہم کے دوران مشکلات کا سامنا ہے، وہاں خصوصی پولیو ٹیمیں تعینات کی جائیں تاکہ کوئی بھی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے علماء کرام، سیاسی و قبائلی عمائدین کو بھی مہم میں شامل کرنے اور عوام میں پولیو سے بچاو کے حوالے سے موثر آگاہی مہم چلانے کی ہدایت کی۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ پولیو مہم کے دوران سکیورٹی سمیت تمام انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں اور مہم کی کامیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8855/2025
نصیرآباد12اکتوبر۔ ۔ ڈپٹی کمشنر وریندر لعل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کا اجلاس ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا واضح رہے کہ آج ڈپٹی ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایکسین بی اینڈ آر، روڈز، بلڈنگز، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، کےایکسینز کے علاوہ لوکل گورنمنٹ کے افسران سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی اجلاس میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز ٹو کے تحت مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ فیز تھری کے منصوبوں پر پیش رفت اور ان پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی غور و خوض کیا گیااجلاس کے دوران متعلقہ افسران نے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کو بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو فیز ٹو کے تحت مکمل کیے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی اس موقع پر منصوبوں کی تکمیل، معیار اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کی بہتری سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا ڈپٹی کمشنر نے ترقیاتی منصوبوں کی افادیت کو یقینی بنانے اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی اقدامات کو مزید موثر بنانے کی اہمیت پر زور دیااجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز تھری کے تحت ضلع نصیرآباد میں مجموعی طور پر 29 ترقیاتی منصوبے شامل ہیں جن میں سے 23 منصوبوں کے ٹینڈرز کا عمل مکمل ہو چکا ہے جبکہ باقی 6 منصوبوں کے ٹینڈرز کا عمل ابھی مکمل ہونا باقی ہے ان منصوبوں پر بھی جلد پیش رفت متوقع ہے جس کے بعد ان پر عملی کام شروع کرنے کی راہ ہموار ہوگیڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل شفافیت اور تعمیراتی معیار کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے محکموں سے متعلق امور کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھائیں تاکہ منصوبوں پر عملدرآمد میں غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے اور عوام کو ان کے ثمرات جلد میسر آئیںانہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو فیز تھری کے تحت جاری ترقیاتی عمل سے ضلع نصیرآباد میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری عوامی سہولیات میں اضافے اور علاقے کی مجموعی ترقی میں مدد ملے گی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کی نگرانی اور متعلقہ محکموں کے ساتھ موثر رابطہ کاری کو بھی اہم قرار دیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8856/2025
صحبت پور12اکتوبر۔ ۔ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین کی زیر صدارت گزشتہ روز ڈسٹرکٹ ایمپلیمنٹیشن کوآرڈینیشن کمیٹی DICC کا اہم اجلاس ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت، عوامی فلاح و بہبود امن و امان اور مختلف محکموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین کی زیر صدارت گزشتہ روز ڈسٹرکٹ ایمپلیمنٹیشن کوآرڈینیشن کمیٹی DICC کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف متعلقہ سرکاری محکموں کے افسران نے شرکت کی اجلاس کا مقصد ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی صورت حال کا جائزہ لینا، عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کو موثر بنانا امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لینا اور سرکاری محکموں کے درمیان رابطہ کاری کو مزید بہتر بنانا تھااجلاس میں ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں عوامی مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی فراہمی امن و امان کے قیام منشیات کی روک تھام اسمگلنگ کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں اور مختلف سرکاری محکموں کی کارکردگی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ ضلعی سطح پر جاری تمام ترقیاتی اور فلاحی سرگرمیوں کو مقررہ اہداف کے مطابق آگے بڑھایا جائے تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات بروقت حاصل ہو سکیںاجلاس کے دوران متعلقہ محکموں کے افسران نے اپنے اپنے محکموں کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں انتظامی امور، عوامی خدمات کی فراہمی اور مختلف اقدامات پر ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ دی افسران نے اپنے محکموں کی کارکردگی اور درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا، جبکہ ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کے دوران حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور کام کی رفتار کو مزید تیز کرنے کے حوالے سے مختلف امور کا جائزہ لیا گیاڈپٹی کمشنر محترمہ فریدہ ترین نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ ترقیاتی منصوبوں کی موثر نگرانی کو یقینی بنائیں اور تمام منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں انہوں نے واضح کیا کہ عوامی فلاح و بہبود سے متعلق منصوبوں میں تاخیر سے گریز کیا جائے اور منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرکاری وسائل کا استعمال شفاف انداز میں کیا جائے اور ترقیاتی کاموں کی افادیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات میسر آ سکیںامن و امان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ ضلع میں قانون کی عملداری برقرار رکھنے جرائم کی روک تھام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات کیے جائیں انہوں نے منشیات کے کاروبار اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائیاں کرنے متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ قائم رکھنے اور مشکوک سرگرمیوں کے خلاف بروقت کارروائی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیاانہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام سرکاری محکمے عوامی شکایات کو سنجیدگی سے لیں اور ان کے حل کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں عوام کو صحت، تعلیم، صاف پانی، صفائی ستھرائی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بہتری لانے کے لیے متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں اور سرکاری امور میں عوامی مفاد کو اولین ترجیح دیںڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے کہا کہ ضلعی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام محکموں کے درمیان باہمی تعاون مو¿ثر رابطہ کاری اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل ناگزیر ہے انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے فرائض پیشہ ورانہ جذبے دیانت داری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں اور اپنے متعلقہ شعبوں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کریںاجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلع صحبت پور میں جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات، امن و امان کے قیام اور سرکاری محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مربوط کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ترقیاتی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی، محکموں کے مابین موثر رابطہ کاری اور عوامی مسائل کے بروقت حل کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کریں گے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8857/2025
نصیرآباد12اکتوبر۔ ڈپٹی کمشنر وریندر لعل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کا اجلاس ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا واضح رہے کہ آج ڈپٹی ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایکسین بی اینڈ آر، روڈز، بلڈنگز، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، کےایکسینز کے علاوہ لوکل گورنمنٹ کے افسران سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی اجلاس میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز ٹو کے تحت مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ فیز تھری کے منصوبوں پر پیش رفت اور ان پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی غور و خوض کیا گیااجلاس کے دوران متعلقہ افسران نے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کو بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو فیز ٹو کے تحت مکمل کیے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی اس موقع پر منصوبوں کی تکمیل، معیار اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کی بہتری سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا ڈپٹی کمشنر نے ترقیاتی منصوبوں کی افادیت کو یقینی بنانے اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی اقدامات کو مزید موثر بنانے کی اہمیت پر زور دیااجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز تھری کے تحت ضلع نصیرآباد میں مجموعی طور پر 29 ترقیاتی منصوبے شامل ہیں جن میں سے 23 منصوبوں کے ٹینڈرز کا عمل مکمل ہو چکا ہے جبکہ باقی 6 منصوبوں کے ٹینڈرز کا عمل ابھی مکمل ہونا باقی ہے ان منصوبوں پر بھی جلد پیش رفت متوقع ہے جس کے بعد ان پر عملی کام شروع کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل شفافیت اور تعمیراتی معیار کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے محکموں سے متعلق امور کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھائیں تاکہ منصوبوں پر عملدرآمد میں غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے اور عوام کو ان کے ثمرات جلد میسر آئیںانہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو فیز تھری کے تحت جاری ترقیاتی عمل سے ضلع نصیرآباد میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری عوامی سہولیات میں اضافے اور علاقے کی مجموعی ترقی میں مدد ملے گی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کی نگرانی اور متعلقہ محکموں کے ساتھ موثر رابطہ کاری کو بھی اہم قرار دیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8858/2025
نصیرآباد12اکتوبر۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اہم اجلاس عوامی مسائل کے حل اور فراہم کردہ ریلیف کا تفصیلی جائزہواضح رہے کہ آج ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے پلیٹ فارم کی افادیت مختلف محکموں کی کارکردگی عوامی مسائل کے حل اور شہریوں کو فراہم کیے جانے والے ریلیف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی اور ضلع بھر میں امن و امان کی صورتحال عوامی سہولیات کی فراہمی اور انتظامی امور کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیااجلاس کے دوران امن و امان کے قیام غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام منشیات کے خلاف موثر قانونی کارروائی پینے کے صاف پانی کی فراہمی ٹریفک کے نظام میں بہتری صحت کی بنیادی سہولیات کی دستیابی شہروں میں صفائی ستھرائی کے انتظامات اور جاری ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عام لوگوں تک پہنچانے سمیت دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور موثر حکمت عملی کے تحت اپنے فرائض انجام دیں تاکہ عوام کو درپیش مسائل کا بروقت ازالہ ممکن بنایا جا سکےڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے پلیٹ فارم کے ذریعے مختلف عوامی مسائل کے حل اور انتظامی معاملات میں تقریباً 60 سے 70 فیصد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے تاہم مکمل اور دیرپا نتائج کے حصول کے لیے مزید محنت بہتر منصوبہ بندی مو¿ثر نگرانی اور تمام متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطے کی ضرورت ہے انہوں نے واضح کیا کہ کمیٹی کا بنیادی مقصد محکموں کی کارکردگی کو مربوط بنانا عوامی شکایات کا ازالہ کرنا اور شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہےانہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ ناجائز تجاوزات کے خاتمے شہروں میں صفائی ستھرائی کی صورتحال بہتر بنانے امن و امان کے قیام اور ہسپتالوں میں ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کے حوالے سے اقدامات کر رہی ہے تاہم ان شعبوں میں مزید بہتری لانے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھنا ضروری ہے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مفاد سے متعلق امور کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپروائی کا مظاہرہ نہ کیا جائےڈپٹی کمشنر نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ ضلع میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر بنانے جرائم کی روک تھام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی کارکردگی کو مزید موثر بنایا جائے انہوں نے کہا کہ منشیات کے کاروبار اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ معاشرے کو ان برائیوں سے محفوظ رکھا جا سکےاسی طرح محکمہ ایکسائز کے حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے فرائض قانون اور ضابطوں کے مطابق انجام دیں اور کسی بھی شخص کے ساتھ ناانصافی نہ ہونے دیں تمام کارروائیوں میں شفافیت اور قانون کی یکساں عمل داری کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد مزید مستحکم ہواجلاس میں بجلی چوری کی روک تھام کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ڈپٹی کمشنر نے واپڈا حکام کو ہدایت کی کہ بجلی چوری کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں اور اس غیر قانونی عمل میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے مناسب شواہد کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کروائی جائے انہوں نے مزید ہدایت کی کہ بجلی کی غیر ضروری بندش اور لوڈشیڈنگ سے متعلق عوامی مسائل کے حل کے لیے واپڈا حکام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جائے تاکہ بجلی کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکےپبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے افسران کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلع بھر میں تمام واٹر سپلائی اسکیموں اور واٹر پلانٹس کو فعال رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا متعلقہ محکمے کی اہم ذمہ داری ہے لہٰذا غیر فعال پلانٹس کی بحالی پانی کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے اور عوامی شکایات کے فوری ازالے پر خصوصی توجہ دی جائےڈپٹی کمشنر نے صحت کے شعبے سے متعلق ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ہسپتالوں اور دیگر سرکاری مراکز صحت میں ادویات کی دستیابی بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی اور مریضوں کو بہتر خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جائے انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ صحت عامہ سے متعلق مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائے اور عوام کو علاج معالجے کے سلسلے میں غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑےاجلاس میں شہر کے ٹریفک نظام کو بہتر بنانے اور بس اڈے کو نئے بس ٹرمینل میں منتقل کرنے کے معاملے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا اس حوالے سے ضروری انتظامی اقدامات اور متعلقہ اداروں کے مابین رابطے کی اہمیت پر زور دیا گیا تاکہ ٹریفک کی روانی بہتر ہو شہریوں کو آمدورفت میں سہولت ملے اور شہر میں ٹریفک کے دباو کو کم کرنے میں مدد حاصل ہومزید برآں ہسپتال کی اراضی کے تحفظ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ ہسپتال کی زمین پر کسی قسم کا غیر قانونی قبضہ برداشت نہیں کیا جائے گا اور متعلقہ حکام اراضی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں انہوں نے ہدایت کی کہ سرکاری املاک اور عوامی مفاد کے منصوبوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان سہولیات سے شہری بلا رکاوٹ مستفید ہو سکیںاجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے تمام متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری لگن دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں عوامی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اور اپنے محکموں کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لیے عملی اقدامات کریں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے پلیٹ فارم کو مزید فعال اور موثر بنا کر عوامی مسائل کے حل بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ضلع میں بہتر انتظامی نظام کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8859/2026
کوئٹہ، 12 اکتوبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے حالات اور دونوں صوبائی حکومتوں کے کردار کا کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا، آئین بنانے والے اکابرین نے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین میں متعلقہ آرٹیکلز شامل کیے تھے، وفاق نے آئین کے تحت اقدام اٹھایا ہے اور کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا، ہم اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں خیبر پختونخوا کی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کیا۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حالات کا موازنہ کیا جا رہا ہے تاہم دونوں صوبوں میں دہشت گردی سے نمٹنے اور حکومتی ذمہ داریاں ادا کرنے کے حوالے سے واضح فرق ہے۔ پورا پاکستان سن لے کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حالات اور دونوں صوبائی حکومتوں کے کردار کا کوئی موازنہ نہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا اقدام صرف امن و امان کی صورتحال کی بنیاد پر نہیں بلکہ حکومتی کردار ادا نہ کرنے کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کے لیے مختص فنڈز سے سوشل میڈیا ٹیم بنائی گئی، جبکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی اداروں کو حکومتی معاونت، موثر قانون سازی اور بیانیے کی تشکیل میں تعاون فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کو اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوتی ہے۔ بلوچستان میں حکومت اس جنگ کو اپنی جنگ سمجھتے ہوئے اس کی ذمہ داری قبول کرتی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں ایسا نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر بننے والے ماحول میں وفاق پر حملہ آور ہونے کی باتیں کی جاتی ہیں، جو موجودہ حالات میں قابلِ غور ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن دہشت گردی کا نشانہ بنے اور شہید ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص جماعت پر آج تک ایک پٹاخہ بھی نہیں پھینکا گیا اور اس صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اللہ نہ کرے کہ کوئی حملہ ہو، لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ان کے پاس کون سی جادو کی چھڑی ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ روز سوئی کا دورہ کیا تو دور کہیں دستی بم اور کریکر پھوڑے گئے۔ اگر بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خلاف اس لڑائی کو اپنی جنگ نہ سمجھے تو پھر صورتحال مختلف ہوتی، تاہم صوبائی حکومت اس چیلنج کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس کا مقابلہ کر رہی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو، بشیر بلور اور میاں افتخار حسین کے بیٹے کے قاتلوں کو واپس بلانے کی باتیں کون کر رہا تھا، یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے تمام اراکین دہشت گردی کے خلاف ہیں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8860/026
کوئٹہ، 12 اکتوبر 2026ء
بلوچستان ہائیکورٹ نے سمنگلی روڈ کی توسیع کے منصوبے میں پیش آنے والی رکاوٹوں کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ اراضی کے معاوضے کی ادائیگی میں تاخیر کو منصوبے کی پیش رفت روکنے کا جواز نہ بنایا جائے اور کوئٹہ کے شہریوں کی وسیع تر سہولت کے پیش نظر توسیعی کام جاری رکھا جائے۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے آئینی درخواست نمبر 824/2016 کی سماعت کے دوران منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ سماعت کے موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کے مشیر اور ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر سمیت متعلقہ حکام اور وکلا پیش ہوئے اور عدالت کو پیش رفت و تعمیل رپورٹس سے آگاہ کیا۔سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ زرغون روڈ پر اسفالٹک ویئرنگ کورس کا کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ سائن بورڈز کی تنصیب جاری ہے۔ بعض مقامات پر سائن بورڈز کی تنصیب کا کام ٹھیکیدار کی جانب سے مطلوبہ سامان فراہم کیے جانے کے بعد مکمل کر لیا جائے گا۔ عدالت کو مزید بتایا گیا کہ یک طرفہ ٹریفک کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے یو ٹرنز پر اسپائکس نصب کیے جا رہے ہیں، جن کی تکمیل کے لیے 30 اکتوبر 2026ء کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔سمنگلی روڈ کی توسیع کے حوالے سے پراجیکٹ ڈائریکٹر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کام جاری ہے، تاہم کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کی جانب سے مطلوبہ تعاون نہ ملنے کے باعث سڑک کو مجوزہ چوڑائی تک وسیع کرنے کا کام شروع نہیں ہو سکا۔ فی الحال ان حصوں پر کام کیا جا رہا ہے جہاں اضافی اراضی کے حصول کی ضرورت نہیں ہے۔کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کے وکیل نے تعمیلی رپورٹ پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ دستیاب اراضی پر ضرورت کے مطابق کام کیا گیا ہے اور توسیعی کام کو روکا نہیں گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سمنگلی روڈ کی توسیع کے لیے درکار اضافی اراضی کے معاوضے کا تخمینہ لگانے کے معاملے پر وزیراعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں معاوضے کی رقم کا تخمینہ جلد از جلد مرتب کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ سمنگلی روڈ کی توسیع جیسے عوامی اہمیت کے منصوبے میں متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کے حوالے سے اختلافات کیوں برقرار ہیں۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ صوبائی حکومت اپنے وسائل سے کوئٹہ کے شہریوں کی سہولت کے لیے سڑکوں کی توسیع پر کام کر رہی ہے، جبکہ سمنگلی روڈ کی توسیع سے کنٹونمنٹ بورڈ کے علاقے اور وہاں قائم رہائشی آبادیوں کے مکین بھی مستفید ہوں گے۔
عدالت نے قرار دیا کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں ادارہ جاتی اختلافات اور معاوضے کی ادائیگی سے متعلق معاملات کو ترقیاتی کاموں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے عوامی مفاد کو مقدم رکھیں اور باہمی تعاون کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں۔عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ سرکاری اداروں کے عہدیدار ریاست اور عوام کے خادم ہیں، اس لیے ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ذاتی یا ادارہ جاتی مفادات کے بجائے عوامی سہولت اور وسیع تر قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ عدالت نے اس امر پر بھی زور دیا کہ موجودہ مالی مشکلات کے تناظر میں دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے ترقیاتی بلوچستان کو ہدایت کی کہ وہ صوبائی اور وفاقی سطح پر متعلقہ حکام کا اجلاس طلب کریں تاکہ سمنگلی روڈ کی توسیع کے حوالے سے اراضی کے حصول، معاوضے کی ادائیگی اور دیگر متعلقہ امور پر اتفاق رائے پیدا کرتے ہوئے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکے. عدالت نے واضح کیا کہ کوئٹہ کے شہریوں کے وسیع تر مفاد میں سمنگلی روڈ کی توسیع کا کام محض معاوضے کی ادائیگی میں تاخیر کے باعث معطل نہیں ہونا چاہیے۔ متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ ضروری اقدامات کرتے ہوئے منصوبے پر کام جاری رکھیں اور اس سلسلے میں تعمیلی رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔عدالت نے حکم نامے کی نقل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کے دفتر کے ذریعے چیف سیکرٹری بلوچستان اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے پرنسپل سیکرٹری کو اطلاع اور عمل درآمد کے لیے ارسال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
کیس کی مزید سماعت 5 نومبر 2026ء کو ہوگی۔
خبرنامہ نمبر 8861/026
نصیرآباد
12 اکتوبر 2026:
نصیرآباد۔۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ پولیو ایریڈیکیشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد نومبر 2026ء کی ایس این آئی ڈی مہم کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تفصیلات کے مطابق آج ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ پولیو ایریڈیکیشن کمیٹی (DPEC) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں نومبر 2026ء کے دوران منعقد ہونے والی ایس این آئی ڈی (SNID) پولیو مہم کی تیاریوں مائیکرو پلاننگ، سیکیورٹی انتظامات ٹیموں کی تشکیل بچوں تک رسائی اور مہم کے دوران درپیش ممکنہ عملی مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا
اجلاس میں محکمہ صحت ای پی آئی پروگرام اور پولیو کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے متعلقہ حکام اور نمائندوں نے شرکت کی اجلاس کے دوران پولیو مہم کو مؤثر منظم اور کامیاب بنانے کے لیے مختلف امور پر غور کیا گیا جبکہ مہم کے آغاز سے قبل تمام ضروری انتظامات مکمل کرنے اور متعلقہ محکموں کے درمیان باہمی رابطے کو مزید مؤثر بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا
اجلاس میں نومبر کی ایس این آئی ڈی مہم کے حوالے سے مائیکرو پلاننگ کا جائزہ لیتے ہوئے اس امر پر توجہ دی گئی کہ ضلع کے تمام علاقوں دیہات دور دراز آبادیوں اور ان مقامات کو منصوبہ بندی میں شامل کیا جائے جہاں بچوں تک رسائی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں اس سلسلے میں پولیو ٹیموں کی تعیناتی مقررہ علاقوں کی واضح نشاندہی بچوں کی درست تعداد اور رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی کے لیے مؤثر حکمت عملی کی اہمیت اجاگر کی گئی
اجلاس میں پولیو ٹیموں کی کارکردگی بہتر بنانے فیلڈ اسٹاف کی تربیت مہم کی نگرانی اور ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں تک دوبارہ رسائی کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا متعلقہ حکام کو اس بات کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا کہ مہم کے دوران ہر بچے تک رسائی یقینی بنانے کے لیے ٹیموں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی اور فیلڈ میں پیش آنے والے مسائل کا بروقت حل ضروری ہے
سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ پولیو ٹیمیں محفوظ ماحول میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں اور مہم کو بلا تعطل جاری رکھا جا سکے اس کے ساتھ ساتھ محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ والدین اور عوام میں پولیو ویکسین کی اہمیت سے متعلق آگاہی پیدا کی جائے تاکہ ویکسین کے بارے میں پائے جانے والے خدشات اور غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے جا سکیں پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے والدین کمیونٹی رہنماؤں اور معاشرے کے تمام طبقات کا تعاون ناگزیر قرار دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھنے اور پولیو کے مکمل خاتمے کے قومی مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی انہوں نے مہم کی تیاریوں ٹیموں کی کارکردگی سیکیورٹی اور نگرانی کے نظام کو مربوط بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں تاکہ نومبر 2026ء کی ایس این آئی ڈی مہم کو مؤثر انداز میں پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا سکے
خبرنامہ نمبر8862/026
سیوی 12 اکتوبر 2026ء
کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان نے ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال سیوی کا دورہ کیا، جہاں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر جہانزیب بلوچ نے انہیں ہسپتال کی مجموعی کارکردگی، طبی سہولیات، دستیاب وسائل اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ کمشنر سیوی ڈویژن نے دورے کے دوران ہسپتال کے مختلف شعبہ جات، او پی ڈی، ای پی آئی، ڈینٹل روم، آپریشن تھیٹر، میل و فی میل وارڈز، گائنی او پی ڈی سیکشن اور ادویات کے اسٹور کا معائنہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان نے میل وارڈ میں زیرِ علاج سانپ کے ڈسنے (Snake Bite) کے مریض کی عیادت بھی کی اور اس کی خیریت دریافت کی۔ انہوں نے مریض کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور ہسپتال انتظامیہ کو مریضوں کی بہتر نگہداشت اور علاج معالجے کی سہولیات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر کمشنر عرفان اللہ خان نے ہسپتال میں درپیش مسائل اور مزید سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈینٹل یونٹ کی فراہمی کے لیے بی ایس ڈی آئی کے تحت ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے ادویات کے اسٹور میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے احکامات بھی جاری کیے، جس پر ایم ایس ڈاکٹر جہانزیب بلوچ نے دو روز کے اندر کیمرے نصب کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ کمشنر سیوی ڈویژن نے ہسپتال میں کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہسپتال کی کارکردگی میں بہتری کے لیے مثبت اقدامات کیے گئے ہیں اور ایم ایس ہسپتال کے معاملات میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ موجودہ اقدامات کو مزید بہتر بنایا جائے، طبی سہولیات میں اضافہ کیا جائے اور عوام کو معیاری علاج معالجے کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان کو ہسپتال میں ڈاکٹروں اور سرجنز کی کمی کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں ڈاکٹروں اور سرجنز کی کمی دور کرنے اور طبی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے لیے سیکرٹری صحت بلوچستان سے رابطہ کیا جائے گا اور ضروری ڈاکٹروں و سرجنز کی تعیناتی کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے، تاکہ مریضوں کو بروقت اور بہتر علاج معالجے کی سہولیات میسر آ سکیں۔ بعد ازاں کمشنر سیوی ڈویژن نے بی ایس ڈی آئی فیز فور کے تحت ہسپتال میں زیرِ تعمیر مردہ خانے کے منصوبے کا بھی معائنہ کیا اور تعمیراتی کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے ایگزیکٹو انجینئر اور متعلقہ ٹھیکیدار کو طلب کرکے تعمیراتی کام کی کوالٹی چیک کروائی جائے گی، تاکہ منصوبہ مقررہ معیار کے مطابق مکمل ہو اور عوام کو اس سے بہتر سہولت میسر آسکے۔
خبرنامہ نمبر8863/026
سیوی 12 اکتوبر 2026:
ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں آئندہ پولیو مہم کے انتظامات اور تیاریوں کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسسٹنٹ کمشنر میر بہادر خان بنگلزئی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر قادر ہارون، عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے کوآرڈینیٹر سمیت دیگر ضلعی افسران اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں پولیو مہم کے انتظامات، ٹیموں کی تیاریوں اور مہم کو مؤثر انداز میں کامیاب بنانے کے حوالے سے امور زیرِ غور آئے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ پولیو مہم 2 نومبر سے 5 نومبر 2026ء تک جاری رہے گی۔ ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے ہدایت کی کہ مہم کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، جبکہ مہم کی کامیابی کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور تعاون کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھنے کے لیے پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر8864/026
لورالائی12اکتوبر 2023: ڈپٹی کمشنر لورالائی محمد حسیب شجاع کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی احمد زیب کاکڑ نے ناصر آباد میں مختلف بنیادی مراکزِ صحت اور سکولوں کا دورہ کیادورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے صحت اور تعلیم کی سہولیات کا جائزہ لیا اور متعلقہ اداروں میں عملے کی حاضری، عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، صفائی ستھرائی، تعلیمی سرگرمیوں اور طلبہ کو درپیش مسائل سے متعلق صورتحال کا معائنہ کیااسسٹنٹ کمشنر احمد زیب کاکڑ نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں، سرکاری اداروں میں نظم و ضبط برقرار رکھیں اور عوام کو بہتر طبی و تعلیمی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں. انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے، عوامی مسائل کے حل اور سرکاری امور میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے معائنوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گاضلعی انتظامیہ لورالائی عو ام کو بنیادی صحت اور معیاری تعلیم کی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
خبرنامہ نمبر8865/026
زیارت 12 ستمبر 2026: ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیرِ صدارت بی ایس ڈی آئی فیز ٹو اور فیز تھری کی ترقیاتی سکیمات کے حوالے سے اجلاس، منصوبوں کی بروقت تکمیل، شفافیت اور معیار کو یقینی بنانے کی ہدایت۔ ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیرِ صدارت بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز ٹو اور فیز تھری کے تحت جاری ترقیاتی سکیمات کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں لیفٹیننٹ کرنل و ونگ کمانڈر 155 ونگ کرنل زیشان، میجر عامر، ایکسین ایریگیشن عمیر علی، ایکسین پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) تیمور آغا، چیف آفیسر غلام مصطفیٰ، لائن سپرنٹنڈنٹ کیسکو اسرار احمد اور خدائے نور سمیت متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران متعلقہ حکام نے ڈپٹی کمشنر زیارت کو بی ایس ڈی آئی فیز ٹو اور فیز تھری کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی موجودہ صورتحال، پیش رفت اور تکمیل کے مراحل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بی ایس ڈی آئی فیز ٹو کے تحت شامل تمام ترقیاتی سکیمات کامیابی کے ساتھ تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں، جبکہ فیز تھری کی سکیمات کے ٹینڈرز مکمل ہونے کے بعد ورک آرڈرز بھی جاری کیے جا چکے ہیں اور ان پر آئندہ ایک ہفتے کے اندر عملی کام شروع کر دیا جائے گا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے متعلقہ محکموں کے افسران اور ذمہ داران کو ہدایت کی کہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے تحت جاری تمام ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور انہیں مقررہ مدت کے اندر شفافیت، اعلیٰ معیار اور تمام تر تکنیکی تقاضوں کے مطابق مکمل کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں کسی قسم کی غفلت، تاخیر یا ناقص اور غیر معیاری کام ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور مؤثر حکمتِ عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تاکہ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد عوام تک پہنچائے جا سکیں اور ضلع زیارت میں بنیادی سہولیات کی بہتری اور عوامی مسائل کے حل کو یقینی بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر8866/026
زیارت12 ستمبر 2026: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کی ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیرِ قیادت گورنمنٹ ڈگری کالج زیارت میں خواتین کے مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کی ہدایات کے مطابق ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیرِ قیادت گورنمنٹ ڈگری کالج زیارت میں خواتین کے مسائل سننے، ان کی شکایات کے ازالے اور جائز مسائل کے حل کے لیے خواتین کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری کا مقصد خواتین کو درپیش سماجی، انتظامی اور بنیادی سہولیات سے متعلق مسائل سے آگاہی حاصل کرنا، ان کی شکایات کو براہِ راست سننا اور متعلقہ محکموں کے تعاون سے ان کے حل کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کو یقینی بنانا تھا۔ اس موقع پر خواتین کو اپنے مسائل اور مشکلات ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے خواتین کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل اور شکایات کو غور سے سنا اور ان کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کے افسران کو ضروری ہدایات جاری کیں۔اس موقع پر ایف سی ونگ 155کرنل ذیشان،ڈسٹرکٹ پولیس افسر عبدالمالک درانی ڈسٹرکٹ افسران اور بڑی تعداد میں خواتین نے شرکت کی ڈپٹی کمشنرعبدالقدوس نے ہدایت کی کہ خواتین کی جانب سے پیش کیے گئے جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور جن معاملات کا تعلق مختلف سرکاری محکموں سے ہے، انہیں متعلقہ حکام کے ساتھ مؤثر رابطے کے ذریعے حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ خواتین کو درپیش مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت یا غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے اور ہر متعلقہ محکمہ اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے ادا کرتے ہوئے شکایات کے ازالے کے لیے عملی پیش رفت یقینی بنائے۔ ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ خواتین کے جائز حقوق کے تحفظ، انہیں درپیش مشکلات کے خاتمے، بنیادی سہولیات تک رسائی میں بہتری اور سرکاری اداروں میں ان کی شکایات کے مؤثر ازالے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور خواتین کو باعزت، محفوظ اور سہل ماحول فراہم کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھلی کچہریوں کا انعقاد عوام اور انتظامیہ کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے، مسائل کی بروقت نشاندہی اور ان کے پائیدار حل کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ ضلعی انتظامیہ اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ خواتین کی جانب سے پیش کیے جانے والے جائز مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور متعلقہ محکموں کی معاونت سے ان کی شکایات کے ازالے کو یقینی بنایا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر8867/026
12 اکتوبر 2026
کوئٹہ: صوبائی وزیر خوراک حاجی نور محمد خان دمڑ نے کوئٹہ میں پاک فوج کے تربیتی طیارے کے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے میجر حسنین شہزاد ہمایوں اور کیپٹن عبدالصمد کی شہادت پر دلی رنج و غم کا اظہار کیا ہے اپنے ایک تعزیتی بیان میں صوبائی وزیر خوراک حاجی نور محمد خان دمڑ نے کہا کہ دونوں پائلٹس کی شہادت نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ پوری قوم کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ دکھ اور غم کی اس گھڑی میں وہ شہداء کے سوگوار خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور ان کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں حاجی نور محمد خان دمڑ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداء کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور سوگوار خاندانوں کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
خبرنامہ نمبر8868/026
نصیرآباد
12 اکتوبر 2026:
ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اہم اجلاس عوامی مسائل کے حل اور فراہم کردہ ریلیف کا تفصیلی جائزہ
واضح رہے کہ آج ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے پلیٹ فارم کی افادیت مختلف محکموں کی کارکردگی عوامی مسائل کے حل اور شہریوں کو فراہم کیے جانے والے ریلیف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی اور ضلع بھر میں امن و امان کی صورتحال عوامی سہولیات کی فراہمی اور انتظامی امور کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے دوران امن و امان کے قیام غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام منشیات کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی پینے کے صاف پانی کی فراہمی ٹریفک کے نظام میں بہتری صحت کی بنیادی سہولیات کی دستیابی شہروں میں صفائی ستھرائی کے انتظامات اور جاری ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عام لوگوں تک پہنچانے سمیت دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور مؤثر حکمت عملی کے تحت اپنے فرائض انجام دیں تاکہ عوام کو درپیش مسائل کا بروقت ازالہ ممکن بنایا جا سکے
ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے پلیٹ فارم کے ذریعے مختلف عوامی مسائل کے حل اور انتظامی معاملات میں تقریباً 60 سے 70 فیصد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے تاہم مکمل اور دیرپا نتائج کے حصول کے لیے مزید محنت بہتر منصوبہ بندی مؤثر نگرانی اور تمام متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطے کی ضرورت ہے انہوں نے واضح کیا کہ کمیٹی کا بنیادی مقصد محکموں کی کارکردگی کو مربوط بنانا عوامی شکایات کا ازالہ کرنا اور شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ ناجائز تجاوزات کے خاتمے شہروں میں صفائی ستھرائی کی صورتحال بہتر بنانے امن و امان کے قیام اور ہسپتالوں میں ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کے حوالے سے اقدامات کر رہی ہے تاہم ان شعبوں میں مزید بہتری لانے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھنا ضروری ہے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مفاد سے متعلق امور کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپروائی کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ ضلع میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر بنانے جرائم کی روک تھام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی کارکردگی کو مزید مؤثر بنایا جائے انہوں نے کہا کہ منشیات کے کاروبار اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ معاشرے کو ان برائیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔اسی طرح محکمہ ایکسائز کے حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے فرائض قانون اور ضابطوں کے مطابق انجام دیں اور کسی بھی شخص کے ساتھ ناانصافی نہ ہونے دیں تمام کارروائیوں میں شفافیت اور قانون کی یکساں عمل داری کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد مزید مستحکم ہو۔اجلاس میں بجلی چوری کی روک تھام کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ڈپٹی کمشنر نے واپڈا حکام کو ہدایت کی کہ بجلی چوری کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اس غیر قانونی عمل میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے مناسب شواہد کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کروائی جائے انہوں نے مزید ہدایت کی کہ بجلی کی غیر ضروری بندش اور لوڈشیڈنگ سے متعلق عوامی مسائل کے حل کے لیے واپڈا حکام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جائے تاکہ بجلی کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکے
پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے افسران کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلع بھر میں تمام واٹر سپلائی اسکیموں اور واٹر پلانٹس کو فعال رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا متعلقہ محکمے کی اہم ذمہ داری ہے لہٰذا غیر فعال پلانٹس کی بحالی پانی کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے اور عوامی شکایات کے فوری ازالے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ڈپٹی کمشنر نے صحت کے شعبے سے متعلق ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ہسپتالوں اور دیگر سرکاری مراکز صحت میں ادویات کی دستیابی بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی اور مریضوں کو بہتر خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جائے انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ صحت عامہ سے متعلق مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائے اور عوام کو علاج معالجے کے سلسلے میں غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے
اجلاس میں شہر کے ٹریفک نظام کو بہتر بنانے اور بس اڈے کو نئے بس ٹرمینل میں منتقل کرنے کے معاملے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا اس حوالے سے ضروری انتظامی اقدامات اور متعلقہ اداروں کے مابین رابطے کی اہمیت پر زور دیا گیا تاکہ ٹریفک کی روانی بہتر ہو شہریوں کو آمدورفت میں سہولت ملے اور شہر میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد حاصل ہو۔مزید برآں ہسپتال کی اراضی کے تحفظ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ ہسپتال کی زمین پر کسی قسم کا غیر قانونی قبضہ برداشت نہیں کیا جائے گا اور متعلقہ حکام اراضی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں انہوں نے ہدایت کی کہ سرکاری املاک اور عوامی مفاد کے منصوبوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان سہولیات سے شہری بلا رکاوٹ مستفید ہو سکیں۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے تمام متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری لگن دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں عوامی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اور اپنے محکموں کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لیے عملی اقدامات کریں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے پلیٹ فارم کو مزید فعال اور مؤثر بنا کر عوامی مسائل کے حل بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ضلع میں بہتر انتظامی نظام کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی
خبرنامہ نمبر8869/026
بارکھان12 اکتوبر 2026ء
بارکھان،عوامی مسائل کے حل اور عوام کو ان کی دہلیز پر ریلیف فراہم کرنے کے لیے گورنمنٹ پرائمری اسکول بستی لنجانی میں سول انتظامیہ کی جانب سے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔کھلی کچہری میں لیفٹیننٹ کرنل محمد یونس، 129 ونگ بارکھان، اور اسسٹنٹ کمشنر بارکھان نے شرکت کی اور مقامی لوگوں سے ملاقات کرکے ان کے مسائل اور شکایات براہِ راست سنیں۔اس موقع پر اہلِ علاقہ کو اپنے مسائل پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جبکہ کھلی کچہری کے انعقاد کا مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان رابطے کو مزید مؤثر بنانا، مقامی آبادی کو درپیش مشکلات سے آگاہی حاصل کرنا اور مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام کی توجہ مبذول کرانا تھا۔اس اقدام سے دور دراز علاقوں کے عوام کو اپنی شکایات متعلقہ حکام تک پہنچانے کا موقع میسر آیا۔ سول انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کے درمیان باہمی تعاون عوامی مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے مؤثر اقدامات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
خبرنامہ نمبر8870/026
ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گولہ کا کوئٹہ میں پاک فوج کے تربیتی طیارے کے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار
ڈپٹی اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی غزالہ گولہ نے کوئٹہ میں پاک فوج کے تربیتی طیارے کو پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں انسٹرکٹر پائلٹ میجر حسنین شہزاد ہمایوں اور اسٹوڈنٹ پائلٹ کیپٹن عبدالصمد کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔اپنے تعزیتی بیان میں ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ نے کہا کہ دونوں افسران کی شہادت ایک افسوسناک سانحہ ہے، جس پر پوری قوم سوگوار ہے۔ انہوں نے شہداء کی خدمات اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک و قوم کے لیے فرائض کی انجام دہی کے دوران جان کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر افسران ہمیشہ قوم کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔
انہوں نے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہیں۔
ڈپٹی اسپیکر نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداء کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو یہ ناقابلِ تلافی نقصان صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
خبرنامہ نمبر8871/026
تربت.12 اکتوبر 2026: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی سے انجمن تاجران کیچ کے صدر نثار آدم جوسکی کی سربراہی میں تاجروں کے وفد نے ملاقات کی اور آبسر میں انجمن تاجران کیچ کے فنانس سیکرٹری اسلام قاسم کے گھر پر نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ کے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر وفد نے ڈپٹی کمشنر کیچ کو واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام قاسم کے گھر پر فائرنگ کے واقعے سے تاجر برادری میں تشویش پائی جاتی ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ دار عناصر کی نشاندہی کی جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے وفد کو یقین دلایا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے انہوں نے وفد کو ہدایت کی کہ واقعے کے حوالے سے ایس ایس پی کیچ سے بھی ملاقات کی جائے تاکہ پولیس کے ذریعے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر قانون کے مطابق ضروری کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور عوام کے تحفظ سے متعلق شکایات کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔انجمن تاجران کیچ کے وفد نے امید ظاہر کی کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس واقعے میں ملوث عناصر کی گرفتاری اور تاجر برادری سمیت عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کریں گے۔
خبرنامہ نمبر8872/026
تربت۔ڈپٹی کمشنر کیچ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر ندیم اقبال بنگلزئی کی زیرِ نگرانی سٹی پروجیکٹ کے تحت جاری سڑک کی توسیع کے منصوبے پر عمل درآمد کے سلسلے میں متعلقہ حکام نے موقع کا دورہ کیا۔ اس موقع پر چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن تربت شعیب ناصر اور سپرنٹنڈنٹ حضور بخش بھی ان کے ہمراہ تھے۔
دورے کے دوران سڑک کی توسیع کے لیے مختص جگہ پر قائم تجاوزات اور دیگر رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے انہدامی کارروائی عمل میں لائی گئی میونسپل کارپوریشن کے متعلقہ عملے نے موقع پر موجود تجاوزات ختم کیں تاکہ سڑک کی توسیع کا کام مقررہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھایا جا سکے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ندیم اقبال بنگلزئی نے دکانداروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنا کاروباری سامان اور سرگرمیاں نئی تعمیر شدہ دکانوں میں منتقل کریں اور اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشن کے عملے کے ساتھ مکمل تعاون یقینی بنائیں۔اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ سٹی پراجیکٹ کے تحت سڑک کی توسیع شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے عوام کو سفری سہولیات فراہم کرنے اور شہری بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے اہمیت کی حامل ہے انہوں نے متعلقہ دکانداروں پر زور دیا کہ وہ عوامی مفاد میں جاری ترقیاتی منصوبے کی تکمیل کے لیے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
خبرنامہ نمبر8873/026
بارکھان12 اکتوبر 2026: چیف انجینئر لورالائی ژوب زون زبیر احمد کھوسہ نے ضلع بارکھان میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر سپرنٹنڈنگ انجینئر بارکھان، موسیٰ خیل عبدالرزاق مندوخیل بھی ان کے ہمراہ تھے۔
دورے کے دوران ایگزیکٹو انجینئر روڈز ضلع بارکھان فضل محمد زرکون نے چیف انجینئر کو ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں، تعمیراتی کاموں کی پیش رفت اور معیار کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
جائزہ لیے گئے منصوبوں میں رکھنی اور بارکھان میں تھانوں کی فورٹیفیکیشن، فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ، بس ٹرمینل رکھنی، رکھنی بیکڑ روڈ، نور خان کالانی روڈ اور ضلع بارکھان میں پری فیبریکیشن رہائشی منصوبہ شامل ہیں۔
بعد ازاں چیف انجینئر نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی سائٹس کا دورہ کیا اور جاری تعمیراتی کاموں کا معائنہ کرتے ہوئے منصوبوں کے معیار اور پیش رفت کا جائزہ لیا۔
خبرنامہ نمبر8874/026
بارکھان12 اکتوبر 2026:
عوامی مسائل کے حل اور عوام کو ان کی دہلیز پر ریلیف فراہم کرنے کے لیے گورنمنٹ پرائمری اسکول بستی لنجانی میں سول انتظامیہ کی جانب سے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔کھلی کچہری میں لیفٹیننٹ کرنل محمد یونس، 129 ونگ بارکھان، اور اسسٹنٹ کمشنر بارکھان نے شرکت کی اور مقامی لوگوں سے ملاقات کرکے ان کے مسائل اور شکایات براہِ راست سنیں۔اس موقع پر اہلِ علاقہ کو اپنے مسائل پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جبکہ کھلی کچہری کے انعقاد کا مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان رابطے کو مزید مؤثر بنانا، مقامی آبادی کو درپیش مشکلات سے آگاہی حاصل کرنا اور مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام کی توجہ مبذول کرانا تھا۔اس اقدام سے دور دراز علاقوں کے عوام کو اپنی شکایات متعلقہ حکام تک پہنچانے کا موقع میسر آیا۔ سول انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کے درمیان باہمی تعاون عوامی مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے مؤثر اقدامات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
خبرنامہ نمبر 875/026
12اکتوبر 2026:
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن ’’خوشحال بلوچستان‘‘ کے تحت صوبے میں معیاری سڑکوں کی تعمیر اور عوام کو محفوظ سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔اس سلسلے میں کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی کی ہدایت پر ایڈیشنل کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن عبدالباسط بزدار نے این 70 بواٹہ تا ڈاڈا حاجی زیرِ تعمیر سڑک کا دورہ کیا اور جاری تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر ایکسین روڈز فضل محمد زرکون، پی ایس کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن حاجی حبیب خان اور دیگر متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران سڑک کی تعمیراتی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس منصوبے کا مقصد علاقے میں آمدورفت کو بہتر بنانے، عوام کو محفوظ سفری سہولیات فراہم کرنے اور مقامی آبادی کو بہتر مواصلاتی رابطوں کی سہولت دینا ہے۔
حکومتِ بلوچستان عوامی مفاد کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور تعمیراتی کاموں میں معیار کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
خبرنامہ نمبر8876/026
کوئٹہ، 12 اکتوبر 2026ء
بلوچستان ہائیکورٹ نے کوئٹہ شہر میں غیر قانونی اور بغیر روٹ پرمٹ چلنے والے رکشوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے، ضبط کیے گئے جعلی پرمٹس کے معاملے پر پیش رفت اور رکشوں کے روٹ پرمٹس کی کمپیوٹرائزیشن کے عمل کو جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو کارروائی میں تیزی لانے اور پیش رفت سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 8 اکتوبر 2026ء کو دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ظہور احمد بلوچ نے سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) کوئٹہ کی معاونت سے متعلقہ رپورٹ عدالت میں پیش کی۔رپورٹ کے مطابق بلوچستان ہائیکورٹ کے احکامات کی تعمیل میں 20 ستمبر 2026ء کو سیکرٹری آر ٹی اے کوئٹہ کے دفتر میں رکشہ یونین کے نمائندوں اور ان کے قانونی مشیر کے ساتھ اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں رکشہ یونین کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں نئے ڈپلیکیٹ پرمٹس کے اجرا کے لیے رکشوں پر سرخ رنگ کی مارکنگ ختم کرنے، غیر قانونی طور پر تحویل میں لیے گئے رکشوں کو نیلامی کے بجائے مناسب قانونی طریقہ کار کے تحت تلف یا اسکریپ کرنے اور موجودہ پرمٹ ہولڈرز کی بائیومیٹرک تصدیق سمیت مختلف امور زیر غور آئے۔ رپورٹ کے مطابق رکشہ یونین کے نمائندوں اور ان کے وکیل نے مجوزہ اقدامات سے اتفاق کیا اور مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کرنے پر اتفاق رائے پایا گیا۔عدالت کو مزید بتایا گیا کہ آر ٹی اے کوئٹہ نے ٹریفک پولیس کے تعاون سے 12 ستمبر سے 6 اکتوبر 2026ء تک شہر کے مختلف مقامات پر غیر قانونی اور بغیر پرمٹ چلنے والے رکشوں کے خلاف کارروائیاں کیں، جن کے دوران موٹر وہیکل آرڈیننس 1965ء کی خلاف ورزی پر 27 رکشے ضبط کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق مختلف چھاپوں کے دوران رکشوں کے 10 جعلی پرمٹس بھی تحویل میں لیے گئے، جبکہ اس نوعیت کی کارروائیاں جاری ہیں اور مزید پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کیا جائے گا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ رکشوں کے دستی روٹ پرمٹس کو کمپیوٹرائز کرنے کے عمل کے تحت اب تک مجموعی طور پر 9,222 روٹ پرمٹس کمپیوٹرائز کیے جا چکے ہیں۔سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل ظفر اقبال محمد حسنی اور شاہ رسول نے مؤقف اختیار کیا کہ آر ٹی اے حکام کے ساتھ ہونے والا اجلاس نتیجہ خیز رہا اور متعدد تجاویز پر غور کیا گیا، تاہم متعلقہ سرکاری حکام کو اقدامات میں تیزی لانے اور عدالت میں پیش رفت کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی جائے۔
عدالت نے معاملے پر مزید کارروائی کے لیے آئینی درخواست نمبر 230/2026 کو آئینی درخواست نمبر 1951/2022 کے ساتھ منسلک کرنے کا حکم دیا۔
خبرنامہ نمبر8877/026
کوئٹہ: 12اکتوبر2026 :
کوئٹہ: صوبائی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے کوئٹہ میں پاک فوج کے تربیتی طیارے کے حادثے میں میجر حسنین شہزاد ہمایوں اور کیپٹن عبدالصمد کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اپنے تعزیتی بیان میں محترمہ مینا مجید بلوچ نے کہا کہ فرائض کی ادائیگی کے دوران دو قیمتی جانوں کا ضیاع ایک افسوسناک سانحہ ہے جس پر پوری قوم رنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ شہداء کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہیں اور اس کٹھن وقت میں ان کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتی ہیں۔
صوبائی مشیر نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہید پائلٹس کی مغفرت فرمائے، انہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور سوگوار خاندانوں کو اس ناقابلِ تلافی نقصان پر صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
خبرنامہ نمبر8878/026
کوئٹہ، 12 اکتوبر 2026:
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے شہید امیر محمد دستی پولیس تھانے کی حدود میں میر ہوٹل کے قریب ایس ایچ او سٹیلائٹ ٹاؤن کی گاڑی پر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس کانسٹیبل کی شہادت اور چار اہلکاروں کے زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی ہے اپنے مذمتی بیان میں شاہد رند نے کہا کہ پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کا واقعہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس کانسٹیبل کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے شہید اہلکار کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں معاون برائے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ واقعے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور فائرنگ میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جاررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پولیس اہلکاروں کی خدمات اور قربانیاں قابل قدر ہیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/8879
صحبت پور12اکتوبر:ـڈپٹی کمشنر فریدہ ترین کی زیر صدارت گزشتہ روز ڈسٹرکٹ ایمپلیمنٹیشن کوآرڈینیشن کمیٹی DICC کا اہم اجلاس ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت، عوامی فلاح و بہبود امن و امان اور مختلف محکموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین کی زیر صدارت گزشتہ روز ڈسٹرکٹ ایمپلیمنٹیشن کوآرڈینیشن کمیٹی DICC کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف متعلقہ سرکاری محکموں کے افسران نے شرکت کی اجلاس کا مقصد ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی صورت حال کا جائزہ لینا، عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کو مؤثر بنانا امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لینا اور سرکاری محکموں کے درمیان رابطہ کاری کو مزید بہتر بنانا تھا
اجلاس میں ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں عوامی مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی فراہمی امن و امان کے قیام منشیات کی روک تھام اسمگلنگ کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں اور مختلف سرکاری محکموں کی کارکردگی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ ضلعی سطح پر جاری تمام ترقیاتی اور فلاحی سرگرمیوں کو مقررہ اہداف کے مطابق آگے بڑھایا جائے تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات بروقت حاصل ہو سکیں اجلاس کے دوران متعلقہ محکموں کے افسران نے اپنے اپنے محکموں کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں انتظامی امور، عوامی خدمات کی فراہمی اور مختلف اقدامات پر ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ دی افسران نے اپنے محکموں کی کارکردگی اور درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا، جبکہ ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کے دوران حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور کام کی رفتار کو مزید تیز کرنے کے حوالے سے مختلف امور کا جائزہ لیا گیاڈپٹی کمشنر محترمہ فریدہ ترین نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنائیں اور تمام منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں انہوں نے واضح کیا کہ عوامی فلاح و بہبود سے متعلق منصوبوں میں تاخیر سے گریز کیا جائے اور منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرکاری وسائل کا استعمال شفاف انداز میں کیا جائے اور ترقیاتی کاموں کی افادیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات میسر آ سکیں امن و امان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ ضلع میں قانون کی عملداری برقرار رکھنے جرائم کی روک تھام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات کیے جائیں انہوں نے منشیات کے کاروبار اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائیاں کرنے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ قائم رکھنے اور مشکوک سرگرمیوں کے خلاف بروقت کارروائی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیاانہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام سرکاری محکمے عوامی شکایات کو سنجیدگی سے لیں اور ان کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں عوام کو صحت، تعلیم، صاف پانی، صفائی ستھرائی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بہتری لانے کے لیے متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں اور سرکاری امور میں عوامی مفاد کو اولین ترجیح دیں ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے کہا کہ ضلعی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام محکموں کے درمیان باہمی تعاون مؤثر رابطہ کاری اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل ناگزیر ہے انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے فرائض پیشہ ورانہ جذبے دیانت داری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں اور اپنے متعلقہ شعبوں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلع صحبت پور میں جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات، امن و امان کے قیام اور سرکاری محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مربوط کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ترقیاتی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی، محکموں کے مابین مؤثر رابطہ کاری اور عوامی مسائل کے بروقت حل کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کریں گے۔
خبر نامہ نمبر 2026/8880
صحبت پور12اکتوبر:ـڈپٹی کمشنر فریدہ ترین کی کاوشوں سے گورنمنٹ گرلز انٹر کالج کی بس سروس بحال تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین کی خصوصی کاوشوں اور طالبات کو درپیش سفری مشکلات کے ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کے نتیجے میں گورنمنٹ گرلز انٹر کالج صحبت پور کی معطل بس سروس بحال کر دی گئی ہے بس سروس کی بحالی سے کالج میں زیرِ تعلیم طالبات کو آمدورفت کی بہتر سہولت میسر آئے گی جبکہ ان کی تعلیمی سرگرمیوں میں باقاعدہ شرکت کو بھی فروغ ملے گاواضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے گزشتہ دنوں گورنمنٹ گرلز انٹر کالج صحبت پور کا دورہ کیا تھا جہاں انہیں بتایا گیا کہ ڈرائیور کی عدم دستیابی کے باعث کالج کی بس سروس معطل ہے جس کی وجہ سے طالبات بالخصوص دور دراز علاقوں سے آنے والی طالبات کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے طالبات کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری اقدامات کیے جن کے نتیجے میں بس سروس بحال کر دی گئی بس سروس کی بحالی سے طالبات کو کالج آنے اور واپس گھر جانے میں سہولت حاصل ہوگی ان کے قیمتی وقت کی بچت ہوگی اور سفری مشکلات کے باعث حاضری متاثر ہونے کے امکانات میں کمی آئے گی اس اقدام سے طالبات کو اپنی تعلیمی سرگرمیوں تدریسی عمل اور امتحانات کی تیاری پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کا موقع ملے گا جبکہ والدین کو بھی اپنی بچیوں کی آمدورفت کے حوالے سے درپیش پریشانیوں میں ریلیف ملنے کی توقع ہےڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین کی جانب سے تعلیمی سہولیات کی بہتری اور طالبات کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات اس امر کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں کہ بچیوں کے لیے تعلیم کے حصول کو آسان محفوظ اور قابلِ رسائی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی نہ صرف طالبات کی حاضری اور تعلیمی کارکردگی میں بہتری کے لیے معاون ثابت ہوتی ہے بلکہ انہیں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور مستقبل میں معاشرے کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع بھی فراہم کرتی ہےاس موقع پر والدین سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنی بیٹیوں کی تعلیم کو اولین ترجیح دیں ان کی حوصلہ افزائی کریں اور انہیں باقاعدگی سے تعلیمی اداروں میں بھیجنے کو یقینی بنائیں بچیوں کی تعلیم کسی ایک خاندان تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ترقی شعور اور خوشحالی کی بنیاد ہے تعلیم یافتہ خواتین مستقبل کی نسلوں کی بہتر تربیت اور ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین اساتذہ اور تعلیمی ادارے باہمی تعاون کے ذریعے بچیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ کوئی بھی طالبہ سفری مشکلات یا بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث تعلیم سے محروم نہ رہے گورنمنٹ گرلز انٹر کالج صحبت پور کی بس سروس کی بحالی اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت ہے جس سے طالبات کے لیے حصولِ تعلیم میں آسانی پیدا ہوگی اور ان کے تعلیمی تسلسل کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/8881
قلات 12اکتوبر:ـ نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس قلات بیٹ کے زیرِ اہتمام گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول مغلزئی، قلات میں ایک روزہ روڈ سیفٹی آگاہی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں اسکول کے اساتذہ، انتظامیہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔پروگرام کے دوران موٹروے پولیس قلات بیٹ کے ماہر عملے نے شرکاء کو سڑک پر تحفظ اور حادثات سے بچاؤ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ سیشن کے دوران طلبہ اور اسٹاف کو محفوظ ڈرائیونگ کے اصولوں، ٹریفک قوانین کی پاسداری، اور سائن بورڈز کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔موٹروے پولیس حکام نے خاص طور پر موٹر سائیکل چلاتے وقت ہیلمٹ کے استعمال اور گاڑی میں سفر کے دوران سیٹ بیلٹ کی پابندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ معمولی نظر آنے والی احتیاطی تدابیر کسی بھی حادثے کی صورت میں قیمتی انسانی جانوں کو بچانے میں 75 فیصد تک مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ عملے نے طلبہ کو تاکید کی کہ وہ کم عمری میں ڈرائیونگ سے گریز کریں اور سڑک پار کرتے ہوئے ہمیشہ زیبرا کراسنگ یا مقررہ اصولوں کا خیال رکھیں۔اسکول انتظامیہ اور طلبہ نے موٹروے پولیس کی اس معلوماتی کاوش کو بے حد سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ان قوانین پر خود بھی عمل کریں گے اور اپنے خاندان اور معاشرے میں بھی روڈ سیفٹی کا پیغام پھیلائیں گے۔ تقریب کے اختتام پر طلبہ میں ٹریفک قوانین پر مبنی معلوماتی پمفلٹ بھی تقسیم کیے گئے۔
خبر نامہ نمبر2026/8882
کوئٹہ12 اکتوبر: صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے کوئٹہ میں پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے تربیتی طیارے کے حادثے میں میجر حسنین شہزاد اور کیپٹن عبدالصمد کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔اپنے ایکس (X) اکاؤنٹ پر جاری کردہ تعزیتی پیغام میں میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ دونوں افسران کی شہادت پوری قوم کے لیے انتہائی دکھ اور صدمے کا باعث ہے۔ انہوں نے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس المناک سانحے پر ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔صوبائی وزیر نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندانوں کو یہ ناقابلِ تلافی نقصان صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔انہوں نے اپنے پیغام میں شہداء کے اہلِ خانہ کے لیے دعائے مغفرت اور صبر جمیل کی دعا بھی کی۔
خبر نامہ نمبر 2026/8883
کوئٹہ12 اکتوبر:_وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بینظیر بھٹو ایمرجنسی رسپانس ٹراما سینٹر کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے قلعہ عبداللہ کے علاقے پیر علی زئی میں دہشت گردوں کے حملے کے دوران زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرنے پر مقامی افراد کے حوصلے، ہمت اور جرات کو سراہتے ہوئے ان کے عزم کو خراج تحسین پیش کیا اس موقع پر بینظیر بھٹو ایمرجنسی رسپانس ٹراما سینٹر کے منیجنگ ڈائریکٹر ملک کامران خان کاسی نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو زخمی افراد اور ٹراما سینٹر میں زیر علاج دیگر مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ اسپیشل سیکرٹری محکمہ صحت شہک بلوچ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ٹراما سینٹر کی طبی خدمات اور ہنگامی حالات میں مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمیوں کی نگہداشت اور علاج معالجے کے عمل کا جائزہ لیتے ہوئے مریضوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کی اہمیت پر زور دیا۔







