11th-October-2026

خبرنامہ نمبر8823/2026
ڈیرہ بگٹی، 11 اکتوبر : فراری کمانڈر نور خان بگٹی نے اپنے ساتھیوں اور خاندان سمیت مجموعی طور پر 60 افراد کے ہمراہ پاکستان ہاؤس سوئی میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے سامنے ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں واپسی اختیار کرلی۔ اس موقع پر نور خان بگٹی اور ان کے ساتھیوں نے پاکستان سے وفاداری کا حلف بھی اٹھایا۔ یہ پیش رفت وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی سوئی میں منعقدہ کھلی کچہری کے دوران سامنے آئی۔ نور خان بگٹی گزشتہ 20 سال سے پہاڑوں میں روپوش تھے اور ماضی میں متعدد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔ قومی دھارے میں واپسی کے بعد نور خان بگٹی اپنے خاندان سمیت سوئی میں آباد ہوں گے۔ ان کی واپسی کو علاقے میں امن و امان کی بہتری اور پائیدار استحکام کی کوششوں کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاست پاکستان کے ساتھ وفاداری، آئین و قانون کی پاسداری اور قومی یکجہتی ہی پائیدار امن اور ترقی کی بنیاد ہیں۔ بلوچستان سمیت ملک کے ہر علاقے میں امن و استحکام کا قیام قومی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے ریاست کی رٹ کو تسلیم کرنا اور تشدد کا راستہ ترک کرکے قومی دھارے میں واپس آنا ناگزیر ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان ہم سب کا مشترکہ وطن ہے اور اس کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوکر ہی عوام کے جان و مال کا تحفظ، معاشی ترقی، تعلیم کے فروغ اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ تشدد اور بدامنی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں، بلکہ قومی تعمیر و ترقی کا راستہ امن، باہمی اعتماد، قانون کی بالادستی اور اجتماعی کوششوں سے ہوکر گزرتا ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ صوبے کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیتیں قومی ترقی کے لیے بروئے کار لائیں اور پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ قومی دھارے میں واپسی اور ریاست کے ساتھ وابستگی کا فیصلہ نہ صرف متعلقہ افراد بلکہ ان کے خاندانوں اور علاقے کے مستقبل کے لیے بھی مثبت ثابت ہوسکتا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، جبکہ قومی یکجہتی، قانون کی پاسداری اور ترقی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کا تعاون بھی ضروری ہے۔

خبرنامہ نمبر8824/2026
سوئی، 11 اکتوبر : چیف آف بگٹی وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اتوار کو سوئی میں شاہ علی کاڑچو اور جمعہ کاڑچو کے درمیان جاری خونی قبائلی تنازعے کا صلح کے ذریعے خاتمہ کروا دیا جس کے بعد فریقین آپس میں شیر و شکر ہوگئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دونوں فریقین کے درمیان مصالحت کراتے ہوئے امن، بھائی چارے اور باہمی احترام کے فروغ پر زور دیا۔ اس موقع پر قبائلی تنازعات کے پُرامن حل کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا گیا کہ باہمی دشمنیوں اور خونریزی کا خاتمہ علاقے میں دیرپا امن کے قیام اور سماجی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ چیف آف بگٹی میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہا کہ امن، بھائی چارہ اور قبائلی تنازعات کا پُرامن حل ایک مضبوط، پُرامن اور خوشحال معاشرے کی بنیاد ہیں۔ قبائل کے مابین پائے جانے والے تنازعات کو بات چیت اور مصالحت کے ذریعے حل کرنے سے نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ ممکن ہے بلکہ معاشرے میں باہمی اعتماد اور ہم آہنگی کو بھی فروغ ملتا ہے۔ اس موقع پر علاقے کے دیگر قبائلی عمائدین اور زعماء بھی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ہمراہ موجود تھے.

خبرنامہ نمبر8825/2026
کوئٹہ 11ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ کے آفس سے جاری ہونے والے ایک سرکلر کے مطابق ضلع ویسٹ کے تمام نجی اسکولوں کے سربراہان کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے ہدایت کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے مطابق موسمِ سرما کی تعطیلات کی مکمل فیس وصول نہ کی جائے۔مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ تعطیلات کی فیس وصول کرنے والے نجی اسکول طلبہ سے وصول شدہ فیس کا 50 فیصد واپس کریں یا آئندہ ماہ کی فیس میں ایڈجسٹ کریں۔مراسلے کے مطابق احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے تعلیمی اداروں کے خلاف اسکول سیل کرنے، رجسٹریشن منسوخی کی سفارش اور توہینِ عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کوئٹہ ویسٹ کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ تمام نجی اسکولوں کو ان احکامات پر عمل درآمد کا پابند بنایا جائے اور تین دن کے اندر تعمیلی رپورٹ ڈپٹی کمشنر آفس میں جمع کرائی جائے۔مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ موسمِ سرما کی تعطیلات کے دوران کلاسز جاری رکھنے والے اسکول حاضری کا ریکارڈ اور تعلیمی سرگرمیوں کے ثبوت متعلقہ ڈائریکٹوریٹ کو فراہم کرنے کی شرط پر اس مدت کی فیس وصول کر سکتے ہیں۔

خبرنامہ نمبر8826/2026
صحبت پور۔۔ ڈپٹی کمشنر صحبت پور محترمہ فریدہ ترین کی زیر صدارت ضلعی صحت کمیٹی DHC کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع بھر کے سرکاری مراکز صحت کی مجموعی کارکردگی عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات طبی عملے کی حاضری نئے قائم ہونے والے بنیادی مراکز صحت BHUs کو ضروری فرنیچر کی فراہمی اور صحت کے شعبے میں درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا.اجلاس کے دوران نئے قائم ہونے والے بنیادی مراکز صحت میں فرنیچر اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی بی ایچ یو نورپور کو 24 گھنٹے فعال بنانے، ڈیوٹی سے غیر حاضر ملازمین کے خلاف کارروائی مانیٹرنگ رپورٹس کی جانچ پڑتال اور متعلقہ افسران کے فیلڈ وزٹس سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ ضلعی سطح پر صحت کی سہولیات کو مؤثر اور فعال بنانے کے لیے تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور عوام کو درپیش طبی مسائل کے حل کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے.ڈپٹی کمشنر محترمہ فریدہ ترین نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نئے قائم ہونے والے بنیادی مراکز صحت میں ضروری فرنیچر اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان مراکز کو مکمل طور پر فعال بنا کر عوام کو ان کی دہلیز پر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں انہوں نے خصوصی طور پر بی ایچ یو نورپور کو 24 گھنٹے فعال بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ صحت کی سہولیات تک بروقت رسائی عوام کا بنیادی حق ہے، لہٰذا اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی.ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ ضلع بھر کے تمام سرکاری مراکز صحت میں ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر متعلقہ ملازمین کی حاضری کو یقینی بنایا جائے انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمین کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقررہ اوقات میں اپنی ڈیوٹی انجام دیں اور مریضوں کو بروقت طبی امداد فراہم کریں۔ ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے والے اہلکاروں کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ سرکاری اداروں میں نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے اور عوام کو علاج معالجے کے حصول میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ صحت کے مراکز کے باقاعدگی سے فیلڈ وزٹس کریں، وہاں دستیاب طبی سہولیات، عملے کی حاضری اور انتظامی امور کا خود جائزہ لیں اور مانیٹرنگ رپورٹس میں نشاندہی کیے گئے مسائل اور خامیوں کے فوری ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کریں ان کا کہنا تھا کہ صرف رپورٹس مرتب کرنا کافی نہیں بلکہ ان پر عمل درآمد اور عملی طور پر بہتری لانا بھی ضروری ہے تاکہ صحت کے مراکز کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی جا سکے۔ڈپٹی کمشنر صحبت پور نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ضلعی صحت کمیٹی کے اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں پر سنجیدگی سے عمل درآمد کیا جائے اور متعلقہ حکام اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے باہمی رابطے اور تعاون کو فروغ دیں انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی سرکاری صحت مراکز کی فعالیت اور صحت کے نظام میں موجود انتظامی خامیوں کا خاتمہ شامل ہے۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ضلع صحبت پور میں صحت کے شعبے کو مزید فعال بنانے بنیادی مراکز صحت میں ضروری سہولیات کی فراہمی اور عوام کو بروقت طبی خدمات کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں گے۔

خبرنامہ نمبر8827/2026
خضدار: وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں امن و امان کی بحالی، دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں اور ملک کو درپیش سکیورٹی بحران اور سیاسی عدم استحکام پر قابو پانے کے لیے کیے گئے حالیہ اقدامات کی حمایت میں خضدار میں یومِ نجات جوش و خروش سے منایا گیا۔یومِ نجات کے سلسلے میں تقریب ڈپٹی کمشنر آفس خضدار میں منعقد ہوئی، جہاں کیک کاٹنے کی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سمیت وفاقی حکومت کے تمام آئینی و انتظامی اقدامات کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء میں مٹھائیاں بھی تقسیم کی گئیں۔کیک کاٹنے کی تقریب کے بعد ڈپٹی کمشنر آفس خضدار سے ایک ریلی بھی نکالی گئی، جس میں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ امن استحکام اور دہشت گردی کے خاتمے کے حق میں نعرے لگائے گئے۔شرکاء نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت جن چیلنجز سے گزر رہا ہے اس میں قومی یکجہتی اور ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت کے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔تقریب اور ریلی میں ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی، ایس ایس پی خضدار محمد بلوچ، آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے عہدیداران ہندو پنچات کے رہنما سیٹ جواہری لال اور مختلف سرکاری محکموں کے افسران، قبائلی عمائدین اور عام شہریوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ خضدار میں گزشتہ روز منعقدہ تاریخی خواتین کھلی کچہری کے مثبت ثمرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے خواتین کے دیرینہ مطالبے پر خضدار میں پہلے وومن پولیس اسٹیشن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔اس سلسلے میں آج ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن خضدار وڈیرہ صالح محمد جاموٹ کے ہمراہ سابق لیویز تحصیل آفس کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر ایکسئن لیاقت علی اور ایکسئن سلیم عمرانی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے اعلان کیا کہ سابق لیویز تحصیل آفس میں عمارت کو باقاعدہ طور پر وومن پولیس اسٹیشن کے لیے مختص کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت جاری کی کہ عمارت کی فوری مرمت، تزئین و آرائش اور پولیس تھانہ کے قیام کے لیے درکار تمام اسٹیبلشمنٹ کا کام جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ گزشتہ روز خواتین کھلی کچہری میں خواتین نے جن مسائل کی نشاندہی کی تھی، ان پر ترجیحی بنیادوں پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ وومن پولیس اسٹیشن کا قیام خواتین کو انصاف کی فراہمی اور ان کے تحفظ کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین بلا خوف و خطر اپنی شکایات درج کرا سکیں گی اور ان کی داد رسی ممکن ہو سکے گی۔دوسری جانب چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن خضدار وڈیرہ صالح محمد جاموٹ نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن خواتین کی فلاح و بہبود کے ہر منصوبے میں ضلعی انتظامیہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ وومن پولیس اسٹیشن کے لیے عمارت کی منتقلی اور دیگر میونسپل سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کھلی کچہری میں کیا گیا ہر وعدہ پورا کیا جائے گا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر آفس خضدار میں خواتین کھلی کچہری منعقد ہوئی تھی جس میں خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے اپنے مسائل پیش کیے تھے اور ڈپٹی کمشنر خضدار نے ان مسائل کو فوری حل کرنے کا اعلان کیا تھا، جس پر اب عملی پیش رفت شروع ہو چکی ہے۔

خبرنامہ نمبر8828/2026
خاران: حکومتِ بلوچستان کے رائیز پروگرام اور بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کے مشترکہ تعاون سے جاری رخشان سپورٹس و کلچر فیسٹیول کے سلسلے میں والی بال (شوٹنگ) ٹورنامنٹ کا شاندار اور انتہائی سنسنی خیز فائنل میچ اختتام پذیر ہو گیا۔?فائنل مقابلہ دانیال جان کبدانی کی ٹیم اور شہید مصدق جان کی ٹیم کے درمیان کھیلا گیا، جس میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے اعلیٰ درجے کی کھیل کی مہارت، بہترین اسپورٹس مین شپ اور بے مثال جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا۔ کانٹے دار مقابلے کے بعد دانیال جان کبدانی کی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائنل اپنے نام کر لیا اور ٹورنامنٹ کی چیمپئن بن گئی۔فائنل میچ کے مہمانِ خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر خاران عمر جمالی تھے۔ انہوں نے فائنل جیتنے والی ٹیم کو مبارکباد دی اور تمام کھلاڑیوں کے کھیل کو سراہا۔ اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا:? کھیلوں کی سرگرمیاں نہ صرف جسمانی اور ذہنی نشوونما کا ذریعہ ہیں بلکہ یہ نوجوانوں میں نظم و ضبط، ٹیم ورک، برداشت، باہمی ہم آہنگی اور مثبت مسابقت کے جذبے کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ضلع خاران میں اس نوعیت کے ایونٹس کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔? جبکہ حکومت بلوچستان کے تعاون سے جاری رائیز پروگرام کے تحت ہونے والے کھیلوں کے اس طرح کے ایونٹس سے کھلاڑیوں کے حوصلہ افزائی ممکن ہوگی خاران کے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہیں کھیلوں کے میدانوں کو آباد کرنے کے لیے سماجی برائیوں کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہیں رائیز پروگرام کے منتظمین خراج تحسین کے لائق ہیں جھنوں نے ضلع خاران میں اس پروگرام کے توسط سے کھیلوں کے فروغ کیلئے ایسے اقدامات کررہے ہیں اس موقع پر مانیٹرنگ آفیسر سید یسین شاہ احسان نے ٹورنامنٹ کے اہداف اور اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس فیسٹیول اور ٹورنامنٹ کے انعقاد کا بنیادی مقصد خاران اور رخشان ڈویژن کے نوجوانوں کو صحت مند و مثبت سرگرمیوں کے بھرپور مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ ان کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو سامنے لایا جا سکے اور معاشرے میں مثبت رویوں کو فروغ دیا جا سکے۔فائنل میچ کو دیکھنے کے لیے شائقینِ کھیل کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے ہر بہترین شاٹ پر کھلاڑیوں کو بھرپور داد دی۔ تقریب میں سرکاری آفیسران، بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کی ضلعی ٹیم کے اراکین، ڈسٹرکٹ نیٹ ورک کے نمائندگان، علاقائی معتبرین اور سماجی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے ایونٹ کی رونق کو دوبالا کیا۔?رخشان سپورٹس و کلچر فیسٹیول کے تحت انعقاد پذیر مختلف کھیلوں اور ثقافتی مقابلے علاقے کے نوجوانوں کے لیے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے اور مثبت سرگرمیوں سے جڑے رہنے کے لیے ایک بہترین اور مضبوط پلیٹ فارم ثابت ہو رہے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں اور ونر اور رنر ٹیموں میں ٹرافی اور دیگر مہمانان کو شیلڈ تقسیم کیے گئے۔

خبرنامہ نمبر8829/2026
کوئٹہ11 اکتوبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ ہم لیبر یونینز کے رہنماؤں کی مشاورت سے صوبے بھر کے مزدوروں کو درپیش مسائل و مشکلات ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔ ہم اپنے تمام صوبائی وزراء کو پابند بنا رہے ہیں کہ وہ عوامی مسائل اور شکایات کے ازالے کیلئے مزید فعال کردار ادا کریں اور مزدوروں سمیت تمام شہریوں کو ریلیف کی فراہمی یقینی بنائیں۔ میاں محمد نواز شریف ہمیشہ مزدوروں کی فلاح و بہبود کو خصوصی اہمیت دیتے رہے ہیں۔ مزدور طبقہ ملکی معیشت اور ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، اس لیے ان کے مسائل کا حل اور حقوق کا تحفظ ہماری ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے نسیم الرحمٰن ملاخیل کو کنوینر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہیں سیاست میں نچلی سطح سے لیکر اعلیٰ سطح تک کام کرنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ (ن) لیبر ونگ اور دیگر لیبر یونینز کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لیبر ونگ کی تقریب میں صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو، رکن قومی اسمبلی اختر بی بی، وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر نسیم الرحمٰن ملاخیل، رکن صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل، عامر خان مندوخیل، زمان ملاخیل، یونس بلوچ، چوہدری شبیر اور وحید کاسی سمیت مزدور رہنماؤں، لیبر ونگ کے عہدیداروں، مختلف یونینز کے نمائندوں اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ لیبر ونگ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کوئٹہ میں رکن صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل کے سب سے متحرک کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تمام منتخب نمائندوں نے اپنے دفاتر کے دروازے عوام کیلئے کھلے رکھے ہیں تاکہ شہریوں کی شکایات سنی جا سکیں اور ان کے حل کی خاطر موثر اقدامات کیے جائیں۔ گورنر بلوچستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مزدور رہنماؤں اور متعلقہ یونینز کی تجاویز کی روشنی میں مسائل کی نشاندہی کرکے ان کے حل کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت، منتخب نمائندوں اور مزدور تنظیموں کے درمیان موثر رابطہ اور تعاون مزدوروں کی فلاح و بہبود اور انکے جائز مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تقریب سے خطاب میں صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو نے مسلم لیگ لیبر ونگ کو کامیاب پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد دی ۔ انہوں نے کہا مزدوروں کی ملک و قوم ترقی میں کلیدی کردار ہے۔ رکن قومی اسمبلی اختر بی بی نے کہا کہ مزدوروں کی خوشحالی پاکستان کی خوشحالی کا باعث بنے گا ۔ ضروری ہے کہ ہم کارخانوں کے تمام مزدوروں کی آواز بنیں۔ نسیم الرحمٰن ملاخیل نے کہا کہ جعفرخان مندوخیل نے طالب علمی کے زمانے سے اب تک مسلم لیگ کو جوڑ رکھا ہے اور ان کی لیبر ونگ کی تقریب میں چھٹی والے دن شرکت پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ایم پی اے زرک خان مندوخیل نے کہا کہ ہم مزدوروں کے مسائل و حقوق کیلئے کوشاں ہیں اور لیبر ونگ کے مسائل کے حل کی یقین دھانی کرائی۔ عامر خان مندوخیل نے لیبر ونگ کی تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی میں مزدوروں کا بنیادی کردار ہیں اس لئے ہم سب مزدوروں کے مسائل کرنے کیلئے سرگرم عمل ہیں ۔

خبرنامہ نمبر8830/2026
صوبائی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں یہ فیصلہ امن و امان کے قیام، ریاستی رٹ کی بحالی اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام ملک میں امن، استحکام اور ریاستی نظم و نسق کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی لیڈر، سیاسی جماعت یا سیاسی قیادت آئین، قانون اور ریاست سے سپیریر نہیں ہو سکتی۔ جمہوریت میں اختلافِ رائے ہر شہری کا حق ہے، لیکن اس حق کو انتشار، قانون شکنی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔محترمہ مینا مجید بلوچ نے کہا کہ کسی سیاسی رہنما کی رہائی یا بحالی کے نام پر ہجوم کو قانون ہاتھ میں لینے، سرکاری نظام کو مفلوج کرنے اور ریاست کو دباؤ میں لانے کے لیے استعمال کرنا کسی طور قابل قبول نہیں۔ دنیا کی سیاسی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ بڑے سے بڑے سیاسی رہنماؤں نے بھی قید و بند اور قانونی کارروائیوں کا سامنا کیا، مگر اپنے دفاع اور سیاسی جدوجہد کے لیے آئینی و قانونی راستے اختیار کیے۔ متعلقہ سیاسی فسادیوں کو بھی چاہیے تھا کہ وہ انتشار اور تصادم کے بجائے constitutional Framework میں رہتے ہوئے اپنی قانونی جنگ لڑتا۔ ریاستی اداروں کو چیلنج کرنے اور امن و امان کی صورتِ حال کو خراب کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتیبلکہ قومی استحکام کو نقصان پہنچتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتِ حال، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ تصادم کے خدشات کے تناظر میں وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ قومی مفاد اور ریاستی استحکام کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ، امن و امان کا قیام اور آئین و قانون کی عمل داری یقینی بنانا ہے۔صوبائی مشیر نے واضح کیا کہ سیاسی وابستگیاں اور جماعتی مفادات اپنی جگہ، لیکن جب معاملہ پاکستان کے امن، سلامتی اور ریاستی استحکام کا ہو تو قومی مفاد کو ہر دوسری ترجیح پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔ سیاسی قیادت کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ مشکل حالات میں جذبات کے بجائے آئین، قانون اور قومی ذمہ داری کا راستہ اختیار کرے۔محترمہ مینا مجید بلوچ نے گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کی ایک بار پھر پُرزور حمایت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے خیبر پختونخوا میں امن و استحکام کی بحالی، ریاستی رِٹ کے مؤثر نفاذ اور قانون کی حکمرانی کو تقویت ملے گی۔
پاکستان پہلے، سیاست بعد میں!

خبرنامہ نمبر8831/2026
خاران .گورنمنٹ آف بلوچستان کے ‘رائیز پروگرام’ کے تحت گورنمنٹ گرلز ہائی سکول اللہ آباد خاران میں خواتین اور طالبات کے لیے منعقدہ دو روزہ رنگا رنگ رخشان سپورٹس اینڈ کلچر فیسٹیول کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔اس دو روزہ فیسٹیول میں خاران کے مختلف گرلز سکولوں اور کالجز کے طالبات نے پرجوش انداز میں شرکت کی۔ طالبات نے باسکٹ بال، رسہ کشی، پریزبی، نشانہ بازی، رنگ گیم اور دیگر مقامی و رواں کھیلوں میں اپنی بہترین جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اس کے علاوہ طالبات نے مختلف ثقافتی اسٹالز اور تابناک خاکہ جات کے ذریعے بلوچستان کی امیر ثقافت اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا شاندار اظہار کیا۔فیسٹیول کی افتتاحی تقریب کی مہمانِ خصوصی ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) محترمہ زرگل قاسم شاہ تھیں، جنہوں نے فیسٹیول کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ جبکہ اختتامی تقریب کی مہمانِ خصوصی ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز محترمہ ساجدہ میر تھیں۔ تقریب میں اسسٹنٹ ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن حاجی فضل الرحمن، ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن محمد حسین، تعلیمی افسران، اساتذہ اور علاقائی اسٹیک ہولڈرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور طالبات کی حوصلہ افزائی کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ اس فیسٹیول کا بني ادی مقصد طالبات میں صحت مند طرزِ زندگی، خود اعتمادی، ٹیم ورک، مثبت مسابقت اور ثقافتی شعور کو اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سرگرمیاں طالبات میں قیادت کی صلاحیتیں بیدار کرنے اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔فیسٹیول کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والی طالبات اور ٹیموں میں انعامات اور اسناد تقسیم کی گئیں۔ تمام شرکاء ا نے حکومتِ بلوچستان اور بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام رائیز پروگرام کے انتظامیہ کے اس اقدام کو انتہائی سراہا۔

خبرنامہ نمبر8832/2026
اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزء نے کہاہے گورنر راج کا نفاذ آئین پاکستان کا حصہ ہے، اسے غیر آئینی اقدام قرار دینا درست عمل نہیں ہے جب صوبائی حکومت اپنے فرائض موثر انداز میں انجام دینے میں قاصر ہو تو وہاں آئینی تقاضوں کے مطابق گورنر راج کے نفاذ حکام زیر غور لایا جاسکتا ہے انہوں نیکہا کہ موجودہ حالات میں خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی اور حکومتی امور چلانے کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں.دہشت گردی جیسے ناسور سے نمٹنے کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کا ہم آہنگ نہ ہونا لیکن جب ایسے سنگین حالات میں صوبائی حکومت کی جانب سے عدم تعاون کا مظاہرہ کیا جائے تو گورنر راج جیسے آئینی اقدام پر غور ناگزیر ہو جاتا ہے، اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ عبد الخالق اچکزئی نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے کو آئینی اور قانونی تناظر میں دیکھنا چاہیے، اسے محض سیاسی تنقید کا موضوع نہ بنایا جائے،بلوچستان میں بھی 2013 میں گورنر راج نافذ کیا گیا تھا، اس لیے گورنر راج کی بات کرنا کوئی انہونی بات نہیں ہے انہوں نے اس تناظر میں کہاکہ گورنر راج آئین میں موجود ایک انتظامی و آئینی طریقہ کار ہے، اس پر سیاسی اختلاف ہو سکتا ہے، مگر اسے تنقید کی بنیاد بنا کر غیر معمولی معاملہ قرار دینا مناسب نہیں، صوبائی حکومتوں کی اولین ذمہ داری عوام کو انتظامی استحکام اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہیآئینی معاملات پر بحث سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر حقائق اور آئین کی روشنی میں ہونی چاہیے، ۔کسی بھی صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کا فیصلہ آئین میں درج طریقہ کار اور متعلقہ قانونی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

خبرنامہ نمبر 8834/2026
کوئٹہ11 اکتوبر:صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان صوبے کے ہر بچے اور بچی کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات کے تحت 14 ہزار اساتذہ کی بھرتی، اسکولوں کی اپ گریڈیشن، مضمون کے ماہر اساتذہ کی تعیناتی، بند اسکولوں کی بحالی اور کالجوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔میر ظہور احمد بلیدی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری بیان میں کہا کہ بلوچستان حکومت تعلیم کے فروغ اور نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ سائنسی مضامین کی بہتر تدریس کے لیے سبجیکٹ اسپیشلسٹس کی تعیناتی اور تعلیمی اداروں کی بہتری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔صوبائی وزیر کے مطابق جامعات کے لیے 10 ارب روپے کی گرانٹ، بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے ہر سال 20 ہزار نوجوانوں کے لیے تعلیمی وظائف اور متعدد طلبہ کے لیے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا بھی حکومت کے تعلیمی وژن کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم پر سرمایہ کاری درحقیقت بلوچستان کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔ ان اقدامات کا مقصد نوجوانوں کو جدید تعلیم اور بہتر مواقع فراہم کرنا، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور صوبے کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔میر ظہور احمد بلیدی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ صوبے کے بچوں اور نوجوانوں کو روشن مستقبل کی تعمیر کے لیے یکساں مواقع میسر آ سکیں۔

خبرنامہ نمبر 8835/2026
کوئٹہ 11 اکتوبر: صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ ان کے بیان کا مقصد معاشرے میں پائے جانے والے دوہرے معیار کی نشاندہی کرنا ہے، جہاں بعض افراد کے لیے الگ پیمانے اختیار کیے جاتے ہیں، جبکہ عام بلوچ نوجوانوں کو پسماندگی اور شناخت کی سیاست کے نام پر بغاوت کی طرف مائل کیا جاتا ہے۔میر ظہور احمد بلیدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر اپنے بیان میں کہا کہ قوم پرست گروہوں کے رہنماؤں کے اہلِ خانہ قوم بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب عام بلوچ نوجوانوں کو مختلف سیاسی بیانیوں کے ذریعے بغاوت کی طرف راغب کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو دوہرے معیار کا معاملہ قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی۔صوبائی وزیر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنا کوئی غلط بات نہیں، تاہم ان کے بقول جب ایک طرف تعلیم اور بہتر مواقع سے استفادہ کیا جائے اور دوسری طرف عام نوجوانوں کو بغاوت کی طرف مائل کیا جائے تو اس طرزِ عمل پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔میر ظہور بلیدی نے کہا کہ ان کے بیان کا بنیادی مقصد اس تضاد کو اجاگر کرنا اور نوجوانوں کے مستقبل، تعلیم اور ترقی کے حوالے سے سنجیدہ مکالمے کو فروغ دینا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *