خبرنامہ نمبر8804/2026
کوئٹہ10 اکتوبر: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ صوبے کے نوجوانوں کو آگے بڑھنے، تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے تاکہ وہ قومی دھارے میں شامل ہوکر ملک و صوبے کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ پاکستان نے ہمیں خوشی اور عزت دی ہے۔ ہم اپنے قائد میاں محمد نواز شریف کے وژن اور مشن کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں اور صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود اور ان کے مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پروگریسیو کلائمیٹ فاؤنڈیشن اور پاکستان مسلم لیگ ن یوتھ ونگ کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو، رکن قومی اسمبلی اختر بی بی، رکن صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل، وزیراعظم یوتھ پروگرام بلوچستان کے فوکل پرسن سجاد رئیسانی، یونس بلوچ، چوہدری شبیر اور عبدالوہاب اٹل اچکزئی بھی موجود ہیں۔ تقریب سے خطاب میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ نوجوان کسی بھی ملک کا قیمتی سرمایہ اور روشن مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار، عملی تربیت اور آگے بڑھنے کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔ نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے اور انہیں معیاری تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے انہوں نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں بھی آواز اٹھائی ہے۔ انہیں امید ہے کہ اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کے ثمرات آپ تک پہنچیں گے اور بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے ترقی کے نئے راستے کھلیں گے۔گورنر مندوخیل نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چئرمین رانا مشہود احمد خان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کیلئے لیپ ٹاپ کوٹے میں 18 فیصد اضافہ ایک اہم اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سہولیات تک رسائی سے طلبہ کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے، اپنی صلاحیتیں نکھارنے اور روزگار کے نئے مواقع حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے نوجوانوں کی بہتر رہنمائی اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نوجوان نسل کو سنبھالنے، ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں درست سمت میں گامزن کرنے میں کامیاب ہو گئے تو درحقیقت ہم پورے ملک کے مستقبل کو سنوارنے میں کامیاب ہونگے۔ نوجوانوں کی تعلیم، تربیت اور کردار سازی میں سرمایہ کاری پاکستان کی ترقی اور استحکام کیلئے ناگزیر ہے۔پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے کہا کہ مسلسل محنت، موثر نگرانی اور تعلیمی معیار میں بہتری کیلئے کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں صوبے کی تمام پبلک سیکٹر جامعات کی رینکنگ میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جامعات میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے، تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور طلبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم فراہم کرنے کیلئے کوششیں جاری رکھی جائیگی۔ گورنر مندوخیل نے تنظیمی فعالیت اور نوجوانوں کو متحرک کرنے کے حوالے سے صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو، رکن قومی اسمبلی اختر بی بی، رکن صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل، وزیراعظم یوتھ پروگرام بلوچستان کے فوکل پرسن سجاد رئیسانی، میر عطاء اللہ احمد زئی، یونس بلوچ، چوہدری شبیر اور عبدالوہاب اٹل اچکزئی کی کوششوں کو سراہا۔ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ نوجوانوں کا کردار ہر شعبے اور ہر سطح پر مسلمہ ہے۔ مستقبل نوجوانوں کا ہے اور وہی اپنی محنت اور عزم کے ذریعے پاکستان اور بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کرینگے۔ رکن قومی اسمبلی اختر بی بی نے کہا کہ نوجوان کسی بھی ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ اور مستقبل ہوتے ہیں۔ رکن صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل نے کہا کہ ہم اپنے نوجوانوں کی مثبت رہنمائی اور انہیں درست سمت میں آگے بڑھانے کیلئے پُرعزم ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ نوجوانوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھار کر انہیں ملک و قوم کے بہترین مفاد میں بروئے کار لائیں۔
خبرنامہ نمبر8805/2026
کوئٹہ، 10 اکتوبر : وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بارکھان کے علاقے راڑہ شم میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی کامیاب کارروائی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کو قابل تحسین قرار دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سی ٹی ڈی اور سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز، پولیس اور سی ٹی ڈی کا عزم غیر متزلزل ہے اور صوبے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام اور فتنہ الہندوستان کے مذموم عزائم ناکام بنانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
خبرنامہ نمبر8806/2026
کوئٹہ، 10 اکتوبر : وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی محکمہ مواصلات و تعمیرات کے سابق چیف انجینئر فیض الحق مندوخیل کے انتقال پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کے لیے ہفتہ کو ان کی رہائش گاہ گئے جہاں انہوں نے مرحوم کے فرزند انعام الحق مندوخیل سے تعزیت کا اظہار کیا۔اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
خبرنامہ نمبر8807/2026
کوئٹہ، 10 اکتوبر : وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کہا ہے کہ بارکھان کے علاقے راڑہ شم میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے مصدقہ خفیہ اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ کارروائی کے دوران ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، جبکہ آپریشن کے دوران سی ٹی ڈی کے دو اہلکار زخمی ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز، پولیس اور سی ٹی ڈی بلوچستان سے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
خبرنامہ نمبر8808/2026
کوئٹہ۔10اکتوبر 2026۔صوبائی مشیر کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے وزیر اعلی گولڈ فٹبال کوئیٹہ میں جاری چھٹے آل پاکستان وزیراعلیٰ بلوچستان فٹبال گولڈ کپ 2026 کے اختتام پر افغان فٹبال کلب چمن نے فائنل میچ جیت کر چیمپئن ہونے کا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔-95اس ٹورنامینٹ میں ونر ٹیم کو 30 لاکھ رنر ٹیم کو 20 لاکھ اور تیسری پوزیشن والے ٹیم کو 5 لاکھ روپے دئے گئے۔صوبوں میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے ریکارڈ 82 ٹیموں نے حصہ لیا۔* عوام کا جوش و خروش: میچز دیکھنے کے لیے کوئٹہ کے فٹبال شائقین کی ایک بہت بڑی تعداد لگ بھگ 50 ہزار تماشائی گراؤنڈ میں موجود تھے۔ شدید گرمی اور موسم کی سختی کے باوجود اسٹیڈیم تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرے رہے۔* صوبائی مشیر کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ کا فائنل کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “بلوچستان میں کھیل کے میدانوں کا آباد ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں کے عوام امن اور کھیلوں سے محبت کرتے ہیں۔ بلوچستان میں کھیل کے میدانوں کا آباد ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں کے عوام امن اور کھیلوں سے محبت کرتے ہیں۔
خبرنامہ نمبر8809/2026
بارکھان، 10 اکتوبر :بارکھان، رکھنی روڈ پیکیج C-1 پر تعمیراتی کام تیزی سے جاری، بھاری مشینری کے ذریعے اسفالٹ کنکریٹ بچھانے کا عمل جاری ہے۔کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی کی ہدایات کی روشنی میں بارکھان، رکھنی روڈ پیکیج C-1 پر تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے۔ منصوبے کے تحت سڑک پر اسفالٹ کنکریٹ (AC؍BC) بچھانے کا کام بھاری مشینری کے ذریعے زور و شور سے جاری ہے، جبکہ متعلقہ عملہ منصوبے کی جلد تکمیل کے لیے متحرک ہے۔واضح رہے کہ کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی نے پی ڈی رکھنی تا بارکھان روڈ محمد ظفر کھوسہ، ایڈیشنل کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن عبدالباسط بزدار اور دیگر متعلقہ افسران کے ہمراہ سڑک کے تعمیراتی کام کا معائنہ کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی تھی کہ تعمیراتی کام کو تیز رفتاری سے مکمل کرکے سڑک کو ٹریفک کے لیے کھولا جائے، تاکہ عوام کو آمدورفت کی بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔بارکھان، رکھنی روڈ علاقے کی اہم شاہراہ ہے، جس کی تکمیل سے عوام کو محفوظ اور بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی۔ اس کے علاوہ زرعی اجناس کی فارم سے مارکیٹ تک ترسیل میں آسانی پیدا ہوگی، جبکہ علاقے میں تجارتی سرگرمیوں اور معاشی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔
خبرنامہ نمبر8810/2026
گوادر10 اکتوبر:ضلعی خزانہ آفیسر گوادر سوبان بلوچ نے ضلع گوادر کے تمام ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسرز (DDOs) کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ماتحت تمام سرکاری ملازمین کے کوائف کی تصدیق شدہ فہرست 15 اکتوبر 2026 سے قبل ضلعی خزانہ آفس میں جمع کروائیں، بصورتِ دیگر متعلقہ ملازمین کی تنخواہیں تحریری تصدیق موصول ہونے تک جاری نہیں کی جائیں گی اس سلسلے میں ضلعی خزانہ آفیسر گوادر کی جانب سے جاری کردہ مراسلہ کے مطابق پے رول کے نظام میں شفافیت یقینی بنانے، غیر تصدیق شدہ ادائیگیوں کی روک تھام اور سرکاری مالیاتی قواعد پر عمل درآمد کے لیے تمام ڈی ڈی اوز کو اپنے ماتحت ملازمین کے کوائف کی مکمل اور مستند تصدیق کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔مراسلے کے مطابق تصدیق شدہ فہرست میں ہر ملازم کا نام، عہدہ، جائے تعیناتی اور ملازمت کی موجودہ حیثیت واضح طور پر درج ہونا ضروری ہے۔ متعلقہ ڈی ڈی اوز اس امر کو یقینی بنائیں کہ فراہم کردہ معلومات درست، مکمل اور سرکاری ریکارڈ کے مطابق ہوں مراسلہ میں ہدایت کی گئی ہے کہ جن ملازمین کے کوائف مقررہ مدت کے اندر متعلقہ ڈی ڈی اوز کی تصدیق شدہ فہرست میں شامل نہیں ہوں گے، ان کی تنخواہیں تحریری تصدیق موصول ہونے تک جاری نہیں کی جائیں گی ضلعی خزانہ آفیسر سوبان بلوچ نے تمام متعلقہ افسران پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو انتہائی اہمیت دیتے ہوئے مقررہ تاریخ سے قبل مطلوبہ ریکارڈ جمع کروائیں تاکہ تنخواہوں کی ادائیگی کے نظام میں شفافیت، درستگی اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے.
خبرنامہ نمبر8811/2026
نصیرآباد۔۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کا چھٹی کے روز عوامی فلاح و بہبود کے زیرِ تعمیر ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ تعمیراتی کاموں اور معیار کا جائزہ لیا واضح رہے کہ آج ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے آج چھٹی کے روز بھی ایس ڈی او بلڈنگ عابد علی پہنور ،اور ایس ڈی او روڈز ذوالفقار علی لہڑی کے ہمراہ سرکاری امور کی انجام دہی اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے ضلع میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا اس موقع پر انہوں نے واپڈا کالونی میں زیرِ تعمیر باؤنڈری وال (چار دیواری) اور حفاظتی دیوار ٹراما سینٹر کی بحالی و مرمت گورنمنٹ بوائز اسپیشل اسکول کی مرمت گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول شہید سہیل اسلم کی مرمتی سرگرمیوں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ہب (آئی ٹی ہب) کے قیام سے متعلق جاری کاموں کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ ترقیاتی منصوبوں پر جاری تعمیراتی اور مرمتی کاموں کی پیش رفت کا معائنہ کیا اور منصوبوں کے معیار تعمیراتی مراحل اور مقررہ مدت کے اندر تکمیل کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ترقیاتی منصوبے عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے اور بنیادی ڈھانچے کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لہٰذا ان منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔واپڈا کالونی میں باؤنڈری وال اور حفاظتی دیوار کی تعمیر کے حوالے سے انہوں نے ان منصوبوں کی اہمیت پر زور دیا جبکہ ٹراما سینٹر کی بحالی و مرمت کو صحت کی سہولیات میں بہتری کے لیے اہم قرار دیا۔ اسی طرح تعلیمی اداروں بالخصوص گورنمنٹ بوائز اسپیشل اسکول اور گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول شہید سہیل اسلم کی مرمت کو طلبہ کے لیے بہتر محفوظ اور سازگار تعلیمی ماحول کی فراہمی کے سلسلے میں اہم پیش رفت قرار دیا۔ڈپٹی کمشنر نے آئی ٹی ہب کے قیام سے متعلق کاموں کا بھی جائزہ لیا اور اس منصوبے کو جدید ٹیکنالوجی ڈیجیٹل سہولیات اور نوجوانوں کے لیے معلوماتی و تکنیکی مواقع کی فراہمی کے حوالے سے اہم قرار دیا۔انہوں نے متعلقہ حکام اور ذمہ داران کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے، تعمیراتی معیار کو یقینی بنایا جائے اور منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ ان منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد عوام تک پہنچ سکیں۔
خبرنامہ نمبر8812/2026
خضدار: اے ڈی سی نیشنل پروگرام رشیدہ زہری نے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ خضدار کی جانب سے خواتین کے لیے پہلی مرتبہ خصوصی کھلی کچہری کا انعقاد ایک مثبت اور قابلِ تحسین اقدام ہے، جس کے ذریعے خواتین کو اپنے مسائل، شکایات اور تجاویز براہِ راست حکام تک پہنچانے کا موقع فراہم کیا گیا،انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے خواتین کے لیے الگ کھلی کچہری کا انعقاد اس بات کا عکاس ہے کہ خواتین کے مسائل کو سننے اور ان کے حل کے لیے اقدامات کرنے کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس کھلی کچہری میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین، اساتذہ، طالبات، سماجی کارکنوں اور دیگر نمائندوں کی شرکت خوش آئند ہے،رشیدہ زہری نے کہا کہ تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں خواتین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ایسے اقدامات نہایت اہم ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے خواتین کو اپنی شکایات اور تجاویز پیش کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا، جہاں وہ بلا جھجھک اپنے مسائل بیان کر سکتی ہیں،انہوں نے ضلعی انتظامیہ خضدار کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کھلی کچہری میں پیش کیے گئے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکمے عملی اقدامات کریں گے، تاکہ خواتین کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور ان کی شکایات کا مؤثر ازالہ ممکن ہو۔
خبرنامہ نمبر8813/2026
تربت:* ٹیچنگ ہسپتال تربت کے شعب اطفال میں پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن (پی پی اے) بلوچستان کے مکران چیپٹر کے دفتر کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس کے مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر دشتی تھے۔ تقریب میں پرنسپل مکران میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر افضل خالق، ڈویژنل ڈائریکٹر ڈاکٹر محب اللہ، ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر راشدہ بلوچ، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر غنی بلوچ، سربراہ شعب امراضِ نسواں و زچگی ڈاکٹر یاسمین گل، سینئر ماہرِ اطفال ڈاکٹر مختار بلوچ، ماہرِ امراض اطفال ڈاکٹر اقبال بلوچ، ڈاکٹر قادر بلوچ اور سینئر ماہرِ امراضِ ناک، کان و گلا ڈاکٹر عظیم بلوچ سمیت دیگر سینئر فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔تقریب کی میزبانی شعب? اطفال، ٹیچنگ ہسپتال تربت کی سربراہ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر مصباح منیر نے اپنے فیکلٹی ممبران کے ہمراہ کی۔ اس موقع پر پی پی اے مکران چیپٹر کے دفتر کے قیام کو مکران ڈویژن میں بچوں کی صحت کی سہولیات بہتر بنانے، ماہرینِ اطفال کے درمیان پیشہ ورانہ روابط مضبوط کرنے اور طبی خدمات کے معیار میں بہتری لانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر دشتی نے شعب? اطفال کے مختلف حصوں کا دورہ کرکے بچوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ڈاکٹر مصباح منیر اور ان کی ٹیم کی پیشہ ورانہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے شعبے کی ترقی اور بہتری کے لیے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر شعبے کو درپیش انتظامی و طبی مسائل، دستیاب سہولیات میں بہتری اور مستقبل کے ترقیاتی اقدامات پر بھی تبا دلہ خیال کیا گیا۔تقریب کے دوران پی پی اے بلوچستان کی مرکزی قیادت کے ساتھ آن لائن اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوانہ ترین، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر پارس شہزاد اور پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے مرکزی نائب صدر ڈاکٹر بشیر ابڑو سمیت کابینہ کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں پی پی اے مکران چیپٹر کے کردار، ماہرینِ اطفال کے درمیان تعاون، مسلسل طبی تعلیم (سی ایم ای) اور علمی و تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔اجلاس کے شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ جدید طبی معلومات، تحقیق اور پیشہ ورانہ تربیت تک رسائی بڑھا کر بچوں کی بیماریوں کی تشخیص، علاج اور نگہداشت کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ متعلقہ اداروں، طبی ماہرین اور محکمہ صحت کے درمیان مؤثر تعاون کے ذریعے مکران ڈویژن میں بچوں کی صحت سے متعلق مسائل کے حل اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔تقریب کے اختتام پر پی پی اے مکران چیپٹر کے دفتر کے قیام کو خطے میں پیشہ ورانہ اتحاد، طبی علم و تحقیق کے فروغ اور بچوں کی صحت کے شعبے میں مشترکہ کوششوں کے لیے اہم قرار دیا گیا۔ شرکاء نے امید ظاہر کی کہ یہ پلیٹ فارم مکران کے ماہرینِ اطفال کو باہمی تجربات سے استفادہ کرنے، مقامی طبی مسائل پر مشاورت اور بچوں کی صحت و فلاح و بہبود کے لیے مؤثر حکمتِ عملی مرتب کرنے کے بہتر مواقع فراہم کرے گا۔
خبرنامہ نمبر8814/2026
گوادر 10 اکتوبر : ڈویژنل ڈائریکٹر تعلیم مکران صابر علی بلوچ نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول گھٹی ڈھور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اسکول کی صفائی ستھرائی، خوبصورتی، تعلیمی ماحول اور اسپورٹس گراؤنڈ کا معائنہ کیا، جبکہ مختلف کلاس رومز میں جاکر تدریسی عمل کا جائزہ لیا اور طلبہ سے سوالات کیے۔ درست جوابات دینے پر انہوں نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی اور ان کی تعلیمی صلاحیتوں کو سراہا۔اس موقع پر صابر علی بلوچ نے اسکول کے بہتر تعلیمی ماحول، صفائی ستھرائی اور خوبصورتی کو سراہتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں معیاری تدریس، سازگار تعلیمی ماحول اور کھیلوں کی سہولیات کو مزید فروغ دیا جائے تاکہ طلبہ کی تعلیمی و جسمانی نشوونما کو یقینی بنایا جا سکے اسکول آمد پر سینئر استاد یار محمد بشام نے ڈویژنل ڈائریکٹر تعلیم اور ان کے ہمراہ آنے والے مہمانوں کا استقبال کیا۔
خبرنامہ نمبر8815/2026
پسنی 10 اکتوبر :صوبائی حکومت کی تعلیم دوست پالیسی اور ضلعی ایجوکیشن آفیسر گوادر زاہد حسین کی ہدایات کی روشنی میں گورنمنٹ بوائز ہائیر سیکنڈری اسکول پسنی میں طلباء کی تعلیمی استعداد، ذہنی نشوونما اور سیکھنے کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے دلچسپ اور معلوماتی تعلیمی گیمز کے ذریعے تدریسی سرگرمیاں جاری ہیں اسکول میں فلیش کارڈز، ٹو اِن ون، پزلز، کوئز اور دیگر تعلیمی گیمز کو تدریسی عمل کا حصہ بنایا گیا ہے، جن کے ذریعے طلباء کو مختلف مضامین اور موضوعات آسان، دلچسپ اور عملی انداز میں سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں ان سرگرمیوں کا بنیادی مقصد روایتی تدریسی طریقوں کے ساتھ جدید اور طلباء مرکز تعلیمی حکمتِ عملیوں کو فروغ دینا ہے، تاکہ طلباء میں تنقیدی سوچ، مشاہدے، مسئلہ حل کرنے، باہمی تعاون، گروپ ورک اور مقابلے کا مثبت جذبہ پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ الفاظ کے ذخیرے اور معلومات میں بھی اضافہ کیا جا سکے اس تعلیمی گیمز کے ذریعے طلباء نہ صرف تدریسی سرگرمیوں میں بھرپور دلچسپی لیتے ہیں بلکہ عملی شرکت کے ذریعے تصورات کو بہتر طور پر سمجھنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے قابل بھی ہوتے ہیں۔ اس طریق? تدریس سے کلاس روم میں خوشگوار، دوستانہ اور فعال تعلیمی ماحول کو فروغ مل رہا ہے صوبائی حکومت کی تعلیم دوست پالیسی کے تحت ایسی سرگرمیاں معیاری تعلیم کے فروغ، طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں کی نشوونما اور تدریسی عمل کو زیادہ مؤثر بنانے کی جانب ایک مثبت قدم ہیں۔ ضلعی محکمہ اسکول ایجوکیشن گوادر کی جانب سے تعلیمی بہتری، جدید تدریسی طریقوں کے فروغ اور طلباء کی ہمہ جہت نشوونما کے لیے اقدامات کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
خبرنامہ نمبر8816/2026
تربت، 10 اکتوبر :عطا شاد ڈگری کالج تربت میں عالمی یومِ ذہنی صحت کے موقع پر 10 اکتوبر کو پروفیسر غلام رسول خالد آڈیٹوریم میں آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کا مقصد طلبہ اور اساتذہ میں ذہنی صحت، ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے طریقوں اور مجموعی نفسیاتی بہبود کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا تھا۔سیمینار میں مکران میڈیکل کالج کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور کنسلٹنٹ سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر شعیب احمد کاشانی نے بطور مہمان مقرر شرکت کی، جبکہ لیکچرر شعب? نفسیات امان یوسف نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔اپنے تفصیلی خطاب میں ڈاکٹر شعیب احمد کاشانی نے عالمی یومِ ذہنی صحت کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ 10 اکتوبر کو ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے عالمی سطح پر مخصوص دن کے طور پر منانے کی اہمیت کیا ہے۔ انہوں نے ذہنی صحت کے تصور اور اس کی اہمیت کو واضح کیا اور ذہنی دباؤ سے نمٹنے، مشکل حالات کا سامنا کرنے کی حکمتِ عملیوں اور نفسیاتی صحت کے دیگر اہم پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔سیمینار کے دوران سوال و جواب کا ایک انٹرایکٹو سیشن بھی منعقد کیا گیا، جس میں طلبہ اور اساتذہ نے بھرپور حصہ لیا۔ شرکاء کی جانب سے موجودہ سماجی مسائل، سوشل میڈیا کے رجحانات کے ذہنی صحت پر اثرات اور ان سے متعلق قانونی پہلوؤں کے بارے میں سوالات کیے گئے۔ اس نشست نے شرکاء کو عصرِ حاضر کے اہم سماجی موضوعات پر مہمان مقرر کے ساتھ تبادلہ خیال کا موقع فراہم کیا۔اختتامی کلمات میں عطا شاد ڈگری کالج تربت کے پرنسپل پروفیسر ظہیر احمد نے ڈاکٹر شعیب احمد کاشانی کی شرکت، قیمتی وقت اور معلوماتی و مفید گفتگو پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت اور عصرِ حاضر کے دیگر اہم مسائل پر اس نوعیت کے آگاہی سیمینارز کا انعقاد ایک صحت مند، باخبر اور معاون تعلیمی ماحول کے فروغ کے لیے نہایت اہم ہے۔
خبرنامہ نمبر8817/2026
سوراب :وزیراعلی بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی وژنری قیادت میں بلوچستان کیشہر سوراب میں بی ایس ڈی آء ہروگرام کے تحت صحت عامہ تعلیم آبنوشی سیکٹر میں نمایان بہتری آء ہے شہری حلقے سوراب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بنیادی سہولیات فراہمی ترقیاتی منصوبوں کے مختص کئے گئے فنڈزکے درست استعمال کی بدولت تبدیلی محسوس کررہے ییں وزیراعلی بلوچستان کے وژن اورچیف سیکرٹری شکیل قادرخان کے احکامات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیرنگرانی ترقیاتی منصوبوں کو تیزی سے مکمل کیا جارہا ہے بی ایس ڈی آء پروگرام کے تحت فیملی ہارک کے قیام اور دیگر ترقیاتی ہروگرامزکے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں وزیراعلی کی ہدایت پر کھلی کچہریوں کے انعقاداورعوامی مسائل کے حل کی جانب پیشرفت سے عوامی حلقے مطمئن انتظامی افسران کی سروسز ڈیلیوری سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم پیش رفت کاآغازہے۔
خبرنامہ نمبر8818/2026
جعفرآباد۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کے احکامات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر جھٹ پٹ دھیرج کالرہ اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جعفرآباد حضور بخش بگٹی نے محکمہ تعلیم کے اضافی کلاس رومز کے منصوبے کے تحت تعمیر کیے گئے گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول گوٹھ مبارک مینگل میں اضافی کلاس روم کا افتتاح کر دیا۔اس موقع پراسسٹنٹ کمشنر جھٹ پٹ دھیرج کالرہ اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جعفرآباد حضور بخش بگٹی نے کہاکہ تعلیمی سہولیات کی بہتری اور طلبہ کو معیاری تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اضافی کلاس روم کی تعمیر سے سکول میں تدریسی سرگرمیوں کے لیے مزید جگہ دستیاب ہوگی، جس سے طلبہ کو بہتر ماحول میں تعلیم حاصل کرنے اور اساتذہ کو تدریسی امور انجام دینے میں سہولت میسر آئے گی۔ ضلعی انتظامیہ جعفرآباد کی جانب سے تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں، تاکہ علاقے کے بچوں کو بہتر تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
خبرنامہ نمبر8819/2026
کوئٹہ، 10 اکتوبر :صوبائی مشیر کھیل و امورِ نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے کہا ہے کہ کھیلوں کا فروغ امن، اتحاد اور بھائی چارے کے پیغام کو تقویت دیتا ہے، بلوچستان میں کھیلوں کے میدانوں کا آباد ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہاں کے عوام امن، مثبت سرگرمیوں اور کھیلوں سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ کھیل نہ صرف نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، ان کی جسمانی و ذہنی نشوونما اور انہیں صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کا مؤثر ذریعہ ہیں بلکہ باہمی ہم آہنگی، اتحاد، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے چھٹے آل پاکستان وزیراعلیٰ بلوچستان فٹبال گولڈ کپ 2026 کے فائنل کے اختتام پر منعقدہ تقریبِ تقسیمِ انعامات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔واضح رہے کہ چھٹے آل پاکستان وزیراعلیٰ بلوچستان فٹبال گولڈ کپ 2026 کا فائنل جیت کر افغان فٹبال کلب چمن نے چیمپئن بننے کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب میں صوبائی مشیر کھیل و امورِ نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے منتظمین اور فٹبال شائقین کی کاوشوں کو سراہا۔ٹورنامنٹ میں ملک بھر کے مختلف صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے ریکارڈ 82 ٹیموں کی شرکت نے ایونٹ کو غیر معمولی اہمیت کا حامل بنا دیا۔ ٹیموں کی اتنی بڑی تعداد میں شرکت بلوچستان میں فٹبال کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور کھیلوں کے فروغ کے لیے جاری سرگرمیوں کی نمایاں عکاسی کرتی ہے۔ ایونٹ کے دوران کوئٹہ کے فٹبال شائقین نے بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کھیل کے ساتھ اپنی گہری وابستگی کا اظہار کیا۔محترمہ مینا مجید بلوچ نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان نوجوانوں کو کھیلوں کے بہتر اور سازگار مواقع فراہم کرنے اور صوبے میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔ ایسے بڑے اور قومی سطح کے کھیلوں کے مقابلے نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار، تجربات کے تبادلے اور قومی سطح پر اپنی پہچان بنانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ایونٹس بلوچستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے اور ملک بھر کے کھلاڑیوں کے درمیان روابط، ہم آہنگی اور یکجہتی کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی تمام ٹیموں، کھلاڑیوں، منتظمین اور فٹبال شائقین کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کے ایسے مقابلوں کا انعقاد نوجوانوں کی مثبت تربیت، ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور معاشرے میں امن، برداشت، اتحاد اور بھائی چارے کے پیغام کو عام کرنے کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔چھٹے آل پاکستان وزیراعلیٰ بلوچستان فٹبال گولڈ کپ 2026 کا کامیاب انعقاد بلوچستان میں فٹبال کی مقبولیت، نوجوانوں کے کھیلوں سے بڑھتے ہوئے رجحان اور عوام کی بھرپور دلچسپی کا مظہر ہے۔ یہ ایونٹ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ کھیلوں کے ذریعے نہ صرف نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں بلکہ امن، اتحاد، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے پیغام کو بھی مؤثر انداز میں فروغ دیا جا سکتا ہے۔
خبرنامہ نمبر8820/2026
سنجاوی 10 اکتوبر :وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ضلع زیارت میں سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیمی معیار کی بہتری اور طلباء کی تعلیمی استعداد کو جانچنے کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن زیارت عبدالملک تاج نے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول سمالن سنجاوی کا دورہ کیا۔دورے کے موقع پر سکول کے ہیڈ ماسٹر محمد یوسف دمڑ اور گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان (GTAB) کے صدر محمد نور دمڑ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن نے طلباء سے مختلف سوالات کیے تاکہ ان کی تعلیمی قابلیت، سبق کی سمجھ بوجھ اور سیکھنے کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔طلباء نے اعتماد اور بھرپور دلچسپی کے ساتھ سوالات کے جوابات دیے اور اپنی علمی استعداد، ذہانت اور حصولِ علم کے جذبے کا مظاہرہ کیا۔ طلباء کی جانب سے تسلی بخش جوابات اور تعلیمی سرگرمیوں میں دلچسپی قابلِ تحسین رہی۔
خبرنامہ نمبر8821/2026
سوئی، 10 اکتوبر :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی ہفتہ کو سوئی پہنچے، جہاں انہوں نے قبائلی عمائدین، معتبرین اور زعماء سے ملاقات کی اور روایتی بلوچی حال احوال کیا۔ اس موقع پر عوام کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی، جنہوں نے وزیر اعلیٰ کو اپنے مسائل اور مشکلات سے آگاہ کیا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبائی حکومت پسماندہ علاقوں کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ بلوچستان کے ایسے علاقے بھی ہیں جہاں قیام پاکستان سے اب تک ترقیاتی کام نہیں ہو سکے، تاہم اب ان علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تعلیم کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے کیونکہ تعلیم ہی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے۔ بالخصوص بچیوں کی تعلیم پر توجہ دینا ناگزیر ہے تاکہ انہیں تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں اور وہ ایک تعلیم یافتہ معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سوئی ماسٹر پلان کے تحت مختلف ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد جاری ہے، جن کا مقصد علاقے میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانا اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ترقیاتی عمل کو ان علاقوں تک وسعت دینے کے لیے کوشاں ہے جو ماضی میں نظرانداز رہے، تاکہ وہاں کے عوام بھی تعلیم، بنیادی سہولیات اور ترقی کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی مسائل کے حل اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر8822/2026
قلات :ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری کی زاتی دلچسپی اور کوششوں سے قلات میں پی سی بی ٹرائل بحال ہوگء ہیپاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے تحت قلات کے تاریخی آفیسر کلب میں انڈر 15 انڈر 17 اور اندر 19 کے باقاعدہ کرکٹ ٹرائلز کا انعقاد کیا گیا۔ ان ٹرائلز کا بنیادی مقصد نچلی سطح پر موجود ٹیلنٹ کو سامنے لانا اور صوبے کے دور دراز اضلاع سے ابھرتے ہوئے کرکٹرز کو قومی دھارے میں شامل ہونے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ان ٹرائلز کی سب سے خاص بات نوجوانوں کا بے پناہ جوش و خروش تھا۔ قلات کے علاوہ پڑوسی اضلاع مستونگ اور سوراب سے بھی سینکڑوں کی تعداد میں پرامید اور باصلاحیت نوجوان کرکٹرز ٹرائلز دینے کے لیے آفیسر کلب پہنچے۔ نوجوانوں کے اس بھاری رش سے واضح ہوتا ہے کہ ان علاقوں میں کرکٹ کا جنون کس حد تک پایا جاتا ہے۔یہ تمام ٹرائلز پی سی بی کے مقرر کردہ فوکل پرسن وحید مینگل کی سخت زیر نگرانی اور بہترین انتظامات کے ساتھ انجام پائے۔کھلاڑیوں کی تیکنیکی صلاحیتوں کو پرکھنے اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے پی سی بی کے آفیشل کوچ محمد حسن موجود تھے۔ انہوں نے تمام بچوں کی کارکردگی کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ٹرائلز کے دوران نوجوان کھلاڑیوں کو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا، جہاں انہوں نے کھیل کے تمام اہم شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کی کوشش کی فاسٹ بولرز اور اسپنرز نے نیٹ پر اپنی لائن اور لینتھ سے کوچ کو متاثر کیا۔بلے بازوں نے مختلف شاٹس کھیل کر اپنی تکنیک کا مظاہرہ کیا۔کھلاڑیوں کی چستی، کیچنگ اور گراؤنڈ فیلڈنگ کے بھی الگ سے ٹیسٹ لیے گئے مقامی کھیلوں کے حلقوں اور شائقینِ کرکٹ نے قلات میں اس طرح کے ٹرائلز کے انعقاد پر ڈپٹی کمشنر قلات اورپی سی بی کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قلات، سوراب اور مستونگ جیسے علاقوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ان بچوں کوپروفیشنلز کی رہنمائی میں آگے بڑھنے کے مسلسل مواقع فراہم کیے جائیں۔





