خبر نامہ نمبر8755/2026
کوئٹہ، 9 اکتوبر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اہم اجلاس میں صوبے کے عوامی مفاد، معاشی ترقی، تعلیم، صحت، صنعت، سیاحت، خواتین کے تحفظ، انتظامی اصلاحات اور شہری سہولیات سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دے دی گئی۔ کابینہ نے معدنی وسائل سے حاصل ہونے والے مالی فوائد کے موثر استعمال، غیر رسمی تعلیم کے فروغ، سرکاری اسکولوں میں دوہری تدریسی شفٹ، بند صنعتوں کی بحالی، سرکاری خریداری کے نظام میں شفافیت، کاروبار میں آسانی، ٹیلی میڈیسن، خواتین کے تحفظ اور عوام کو سرکاری خدمات کی فراہمی آسان بنانے سمیت مختلف شعبوں میں اصلاحات کی منظوری دی۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کابینہ اجلاس کے فیصلوں سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں منظور کیے گئے اقدامات صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ، انتظامی نظام کی بہتری اور عوامی ضروریات کے مطابق پالیسی سازی کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔انہوں نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے بلوچستان معدنی ترقیاتی فنڈ کے استعمال کی پالیسی کی منظوری دی ہے۔ بلوچستان قدرتی معدنی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے اور ان وسائل سے حاصل ہونے والے مالی فوائد کو محض آمدن تک محدود رکھنے کے بجائے صوبے کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے موثر انداز میں بروئے کار لانا ضروری ہے۔ اس پالیسی کا مقصد معدنی وسائل سے حاصل ہونے والے فنڈز کے استعمال کے لیے واضح سمت اور موثر طریق کار وضع کرنا ہے تاکہ ان وسائل کے ثمرات صوبے کے عوام تک پہنچ سکیں۔ کابینہ نے بلوچستان سیاحتی پالیسی اور بلوچستان ثقافتی پالیسی کے مسودوں کی بھی منظوری دی۔ بلوچستان قدرتی حسن، تاریخی مقامات، قدیم تہذیب، روایتی ثقافت اور منفرد جغرافیائی خصوصیات کا حامل صوبہ ہے۔ ان پالیسیوں کے ذریعے سیاحتی مقامات کی ترقی، سیاحت سے وابستہ معاشی سرگرمیوں کے فروغ، مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور تاریخی و ثقافتی ورثے کے تحفظ پر توجہ دی جائے گی۔تعلیم کے شعبے میں کابینہ نے بلوچستان غیر رسمی تعلیم ایکٹ 2025 کی منظوری دی۔ حکومت بلوچستان رواں سال شرح خواندگی میں اضافے کے لیے ایک نیا پروگرام شروع کر رہی ہے، جس کے تحت 10 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 16 لاکھ بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ شاہد رند نے کہا کہ مختلف وجوہات کی بنا پر رسمی اسکولوں میں داخل نہ ہونے والے بچوں کو غیر رسمی تعلیم کے ذریعے تعلیمی مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ انہیں دوبارہ تعلیم کے دھارے میں شامل کیا جا سکے اور کوئی بچہ تعلیم کے حق سے محروم نہ رہے۔اسی سلسلے میں صوبائی کابینہ نے سرکاری اسکولوں میں دوہری تدریسی شفٹ شروع کرنے کی پالیسی کی بھی منظوری دی۔ اس اقدام کے تحت موجودہ تعلیمی عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر انداز میں استعمال کرتے ہوئے شام کے اوقات میں تدریسی سرگرمیاں شروع کی جائیں گی۔ اس پالیسی کا مقصد موجودہ اسکولوں میں اضافی طلبہ کے لیے گنجائش پیدا کرنا اور جہاں ممکن ہو، نئے اسکولوں کی فوری تعمیر کے بجائے موجودہ وسائل کو زیادہ موثر انداز میں استعمال کرنا ہے۔ کابینہ نے بلوچستان ایجوکیشن فاونڈیشن کے انتظامی بورڈ کی تشکیل کی بھی منظوری دی تاکہ فاونڈیشن کے انتظامی اور تعلیمی امور کو مزید موثر بنایا جا سکے۔صنعتی شعبے میں کابینہ نے بلوچستان میں غیر فعال اور بند صنعتی یونٹس کو دوبارہ فعال بنانے کی پالیسی منظور کی۔ اس پالیسی کے تحت ایسے صنعتی یونٹس کی بحالی کے لیے مالی معاونت اور رعایتیں فراہم کی جائیں گی۔ حکومت کا مقصد پہلے سے قائم مگر مختلف وجوہات کی بنا پر بند صنعتوں کو دوبارہ چلانا ہے تاکہ موجودہ صنعتی ڈھانچے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔کابینہ نے سابق ضلع کوئٹہ کی ریونیو حدود میں ضروری ردوبدل اور شمالی کوئٹہ اور جنوبی کوئٹہ کی حدود کے ازسرنو تعین کی منظوری بھی دی۔ آبادی میں اضافے اور شہری پھیلاو کے پیش نظر اس اقدام کا مقصد انتظامی امور کو بہتر بنانا اور شہریوں کو ان کی ضروریات کے مطابق سرکاری سہولیات کی فراہمی آسان بنانا ہے۔ صحت کے شعبے میں کابینہ نے بلوچستان ادارہ برائے امراضِ گردہ کوئٹہ کے چیف ایگزیکٹو افسر کے طور پر پروفیسر عبدالرازق کی عبوری تعیناتی کی منظوری دی۔ یہ مستقل تعیناتی نہیں ہوگی بلکہ اس آسامی کو باقاعدہ مشتہر کرکے نجی شعبے سے ایک ماہر پیشہ ور کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ اس فیصلے کا مقصد ادارے کو جدید طبی اور انتظامی مہارت رکھنے والے ماہر کی سربراہی میں موثر طور پر فعال بنانا اور مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔کابینہ نے بلوچستان ٹیلی میڈیسن اور دور دراز طبی خدمات ایکٹ 2026 کی منظوری بھی دی۔ بلوچستان کے وسیع رقبے اور دور دراز علاقوں میں آباد آبادی کو ماہر ڈاکٹروں تک بروقت رسائی میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ اس قانون سازی کا مقصد جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے طبی ماہرین کی خدمات دور دراز علاقوں تک پہنچانے کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرنا ہے۔ اسی طرح بلوچستان صحتِ عامہ ایکٹ 2026 کی منظوری بھی دی گئی تاکہ صوبے میں صحتِ عامہ کے نظام کو واضح قانونی اور انتظامی بنیاد فراہم کی جا سکے۔ کابینہ کے فیصلوں میں امراضِ قلب کے ادارے میں ہاسٹل کی تعمیر کا معاملہ بھی شامل تھا۔ صوبائی کابینہ نے وفاقی منصوبے لولانگ ڈیم کو صوبائی ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دینے کی منظوری دی۔ اس فیصلے کا مقصد بڑے ترقیاتی منصوبے پر مالی بوجھ کم کرنا اور اس کی تکمیل میں سہولت پیدا کرنا ہے تاکہ منصوبے کی رفتار اور معاشی افادیت بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔ کابینہ نے بلوچستان میں نئے اعلان شدہ تمام اضلاع میں نئی ضلع کونسلوں کے قیام کی منظوری بھی دی۔ نئے اضلاع کے قیام کے بعد مقامی سطح پر انتظامی اور ترقیاتی ضروریات میں اضافے کے پیش نظر اس فیصلے سے مقامی ترقیاتی منصوبہ بندی اور عوامی نمائندگی کے نظام کو منظم کرنے میں مدد ملے گی۔خواتین کے حقوق اور تحفظ کے حوالے سے کابینہ نے بلوچستان کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن ترمیمی ایکٹ 2026 اور بلوچستان پناہ گاہوں اور دارالامان انتظامی کنٹرول ایکٹ 2026 کی منظوری دی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں خواتین کے لیے محفوظ دارالامان تعمیر کرنے سے متعلق جامع منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔ اس اقدام کا مقصد مشکل حالات سے دوچار خواتین کو محفوظ ماحول، قانونی معاونت اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے نظام کو مزید موثر بنانا ہے۔شہری ماحول کی بہتری کے لیے کابینہ نے ریڈیو پاکستان سریاب روڈ کی اراضی پر عوامی پارک اور شہری جنگلات قائم کرنے کا فیصلہ کیا، جس پر سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت کام کیا جائے گا۔ کوئٹہ میں آبادی اور تعمیرات میں اضافے کے باعث کھلی جگہوں، سبز مقامات اور تفریحی سہولیات کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ شہری جنگلات اور عوامی پارک کے قیام سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی، ماحول کی بہتری اور شہر کی خوبصورتی میں اضافے میں مدد ملے گی۔ کابینہ نے ڈیری فارمز کو کوئٹہ شہر سے باہر اغبرگ، سجدی روڈ منتقل کرنے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا۔ شہر کے اندر ڈیری فارمز کی موجودگی سے صفائی، ٹریفک، ماحول اور شہری صحت سے متعلق مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مجوزہ منتقلی سے شہری ماحول بہتر بنانے اور ڈیری کے شعبے کو منظم کرنے میں مدد ملے گی۔صوبائی کابینہ نے آسان کاروبار ایکٹ 2026 کی منظوری بھی دی۔ اس قانون سازی کا مقصد صوبے میں کاروبار شروع کرنے اور چلانے کے عمل کو آسان بنانا، غیر ضروری انتظامی پیچیدگیوں میں کمی لانا اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ کاروباری سرگرمیوں میں آسانی سے روزگار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ کابینہ نے موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کے شیڈول سولہ میں ترمیم کی منظوری دی، جس میں تیسرے فریق کے بیمے سے متعلق ضروری تبدیلی شامل ہے۔ اس کا مقصد موٹر گاڑیوں کے استعمال سے متعلق قانونی اور مالی ذمہ داریوں کو واضح کرنا اور متاثرہ افراد کے حقوق کے تحفظ کے نظام کو مزید موثر بنانا ہے۔ زرعی شعبے میں کابینہ نے کپاس کی مشینی کاشت کے پروگرام کے اہم منصوبے کی تخمینہ لاگت میں ضروری اضافے کی منظوری دی۔ اس اقدام کا مقصد جدید زرعی مشینری کے استعمال کو فروغ دینا، پیداوار میں اضافے کے امکانات پیدا کرنا، کاشتکاروں کی مشکلات کم کرنا اور زرعی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔سرکاری خریداری کے نظام میں اصلاحات کے حوالے سے صوبائی کابینہ نے بلوچستان سرکاری خریداری قواعد 2014 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دی۔ منیجنگ ڈائریکٹر بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (بی پی پی آر اے) حبیب الرحمن جاموٹ نے کابینہ کو قواعد میں مجوزہ ترامیم، الیکٹرانک خریداری کے فروغ اور سرکاری خریداری کے عمل کو مزید شفاف، موثر اور مسابقتی بنانے کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ صوبے میں سرکاری خریداری کے عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے الیکٹرانک بڈنگ کا دائرہ وسیع کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس کے تحت ورکس، اشیاء، خدمات اور کنسلٹنسی کے پانچ لاکھ روپے سے زائد مالیت کے تمام ٹینڈرز میں بولیاں الیکٹرانک طریقے سے وصول کرنا لازمی ہوگا۔ موجودہ نظام میں مختلف شعبوں کے لیے الیکٹرانک بڈنگ کی مالی حدود الگ الگ ہیں، جنہیں ختم کرکے تمام شعبوں کے لیے یکساں پانچ لاکھ روپے کی حد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اقدام سے الیکٹرانک خریداری کا دائرہ وسیع ہونے کے ساتھ شفافیت، مسابقت اور موثریت میں اضافہ ہوگا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ معاشی حالات، افراطِ زر اور قیمتوں میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے متبادل خریداری کے طریقوں، بشمول کوٹیشن اور چھوٹی نوعیت کی خریداری، کی مالی حدود پر نظرثانی کی تجویز پیش کی گئی ہے تاکہ غیر ضروری انتظامی مراحل اور بوجھ کم کیا جا سکے۔ چھوٹی نوعیت کی خریداری، جسے پیٹی پرچیز کہا جاتا ہے، کی حد ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر دو لاکھ روپے جبکہ کوٹیشن کے ذریعے خریداری کی حد دو لاکھ روپے سے بڑھا کر پانچ لاکھ روپے کرنے کی تجویز دی گئی الیکٹرانک خریداری کے فروغ اور بولی کے دستاویزات کی طباعت کی ضرورت کم ہونے کے پیش نظر بولی کے دستاویزات کی فیس ختم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی تاکہ بولی دہندگان پر غیر ضروری مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔ بولیوں کی توثیقی مدت سے متعلق مجوزہ ترامیم کے تحت یہ مدت مالی تجاویز کھولنے کے بجائے تکنیکی تجاویز کھولنے کی تاریخ سے شمار ہوگی۔ ورکس، کنسلٹنسی اور خدمات کے لیے قومی مسابقتی بولی میں توثیقی مدت 90 دن جبکہ بین الاقوامی مسابقتی بولی میں 120 دن مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ اسی طرح اشیائ کی قومی خریداری کے لیے 45 دن اور بین الاقوامی خریداری کے لیے 60 دن کی مدت تجویز کی گئی ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد تکنیکی جائزے میں تاخیر کی صورت میں بولی کی توثیقی مدت غیر ضروری طور پر طویل ہونے سے بچانا ہے۔کابینہ کو خریداری کا عمل منسوخ کرنے کے لیے واضح شرائط سے بھی آگاہ کیا گیا۔ مجوزہ قواعد کے مطابق معاہدہ تفویض کیے جانے سے قبل خریداری کا عمل صرف اس صورت میں منسوخ کیا جا سکے گا جب خریداری کی مزید ضرورت باقی نہ رہے، فنڈز دستیاب نہ ہوں، بولیوں کی قیمتیں غیر معمولی طور پر زیادہ ہوں یا کوئی اہم بے قاعدگی سامنے آئے۔ خریداری منسوخ ہونے کی صورت میں بی پی پی آر اے کی ویب سائٹ پر عوامی سطح پر اس کی تشہیر بھی لازم ہوگی۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ متعلقہ تجربے کو صرف ضرورت کی صورت میں اہلیت کی شرط بنانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں سمیت نئی فرموں کو سرکاری خریداری کے عمل میں شرکت کے زیادہ مواقع میسر آ سکیں۔ بی پی پی آر اے کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بنیادی نظام کو اپ گریڈ کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی تاکہ ٹینڈرنگ کے عمل کو مزید شفاف، تیز اور قابل نگرانی بنایا جا سکے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ مجوزہ ترامیم بی پی پی آر اے کے بورڈ سے منظور ہو چکی ہیں، محکمہ قانون ان کا جائزہ لے چکا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان بھی سمری کی توثیق کر چکے ہیں۔ کابینہ نے ان ترامیم کی منظوری دے دی۔ ان کا مقصد محکموں کی معمول کی اور ہنگامی خریداریوں میں غیر ضروری تاخیر کم کرنا اور تمام سرکاری خریداریوں میں شفافیت، مالی نظم و ضبط اور قواعد کی پابندی برقرار رکھنا ہے۔عوامی سہولت کے حوالے سے کابینہ نے نادرا کے ذریعے ای ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹس کے اجرا کی منظوری دی۔ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے تجویز کردہ 200 روپے فیس ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شہریوں کو یہ سرکاری فیس ادا نہیں کرنا ہوگی، تاہم نادرا کی مقررہ فیس لاگو ہوگی۔ اس اقدام سے طویل کاغذی کارروائی، مختلف دفاتر کے چکر اور غیر ضروری انتظار میں کمی آئے گی اور شہری نادرا مراکز کے ذریعے ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹس حاصل کر سکیں گے۔ یہ فیصلہ سرکاری خدمات کو آسان، شفاف اور جدید بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔کابینہ نے بلوچستان لیویز کے انضمام کے بعد پولیس تھانوں کے دائرہ اختیار کے تعین کے لیے محکمہ داخلہ بلوچستان کی سفارشات کی بھی منظوری دی۔ اس اقدام کا مقصد تھانوں کی حدود واضح کرنا ہے تاکہ شہریوں کو اپنی شکایات اور قانونی معاملات کے سلسلے میں متعلقہ تھانے سے رجوع کرنے میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔صوبائی کابینہ نے اوتھل میں نئے عدالتی حوالات کے قیام کی منظوری بھی دی تاکہ عدالتی کارروائی کے دوران زیر حراست افراد کے لیے مناسب سہولیات فراہم کی جا سکیں اور متعلقہ عدالتی نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔ کابینہ نے بلوچستان جیل خانہ جات پالیسی بورڈ کی تشکیل کی بھی منظوری دی۔ اس بورڈ کے ذریعے جیلوں کے انتظام، اصلاحات، قیدیوں کی فلاح اور جیلوں کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پالیسی سطح پر رہنمائی حاصل کی جا سکے گی۔ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے کابینہ نے مختلف محکموں کے پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی تعیناتی سے متعلق پالیسی اور نظرثانی شدہ مشاہروں کی منظوری دی۔ اس کا مقصد بڑے اور پیچیدہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے مارکیٹ سے اہل اور تجربہ کار پیشہ ور ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا طریق کار وضع کرنا ہے۔ منصوبوں کی کامیابی کے لیے مناسب بجٹ کے ساتھ موثر نگرانی، پیشہ ورانہ انتظام اور بروقت عمل درآمد ضروری ہے، اس لیے اس پالیسی کے ذریعے منصوبوں کی نگرانی اور تکمیل کے عمل کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔کابینہ نے بلوچستان سروس ٹریبونل ایکٹ 1974 میں ضروری ترامیم کے مسودے کی بھی منظوری دی۔ ان ترامیم کا مقصد سروس ٹریبونل کے قانونی اور انتظامی نظام کو موجودہ ضروریات سے ہم آہنگ کرنا اور سرکاری ملازمین سے متعلق مقدمات کے نظام کو مزید موثر بنانا ہے۔ شاہد رند نے کہا کہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے فیصلے محض معمول کے انتظامی اقدامات نہیں بلکہ حکومت بلوچستان کی مجموعی پالیسی سمت کی عکاسی کرتے ہیں۔ حکومت ایک طرف لاکھوں بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے، اسکولوں میں گنجائش بڑھانے اور غیر رسمی تعلیم کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، تو دوسری جانب صحت کے شعبے میں قانون سازی، ٹیلی میڈیسن اور خصوصی طبی اداروں کو فعال بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ صنعتوں کی بحالی، کاروبار میں آسانی، معدنی وسائل کے موثر استعمال، سیاحت و ثقافت کے فروغ اور زراعت کی جدید کاری کے ذریعے صوبے کی معاشی بنیاد مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی طرح خواتین کے تحفظ، نئے اضلاع میں مقامی اداروں کے قیام، ڈومیسائل کے اجرا کے نظام کو آسان بنانے، شہری ماحول بہتر کرنے اور سرکاری خریداری میں شفافیت یقینی بنانے کے فیصلے براہ راست عوامی سہولت اور ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اجلاس میں منظور کیے گئے فیصلے اس عزم کا اظہار ہیں کہ صوبے میں پالیسی سازی کو عوامی ضروریات، جدید تقاضوں اور عملی اصلاحات سے منسلک کیا جائے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ فیصلے صرف کاغذوں تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کے ثمرات بلوچستان کے عام شہری تک پہنچیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8756/2026
کوہلو، 9 اکتوبر ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور محکمہ اسکولز ایجوکیشن کی ہدایات کے تحت ڈویژنل ڈائریکٹر اسکولز کوہِ سلیمان ڈویژن ڈاکٹر محمد سلیم زرکون کی زیرِ صدارت گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکول کوہلو میں کلسٹر بجٹ، تعلیمی سہولیات اور اسکولوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کوہلو جعفر خان زرکون، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن میل حفیظ اللہ مری، پرنسپل حاجی تاج محمد مری اور کلسٹر سے منسلک فیڈنگ اسکولز کے اساتذہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد سلیم زرکون نے اساتذہ کے مسائل اور تجاویز سنے اور تعلیمی سہولیات کی بہتری سے متعلق امور کا جائزہ لیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کلسٹر کے تحت 17 فیڈنگ اسکولز کو مطلوبہ سامان فراہم کر دیا گیا ہے۔ ڈویژنل ڈائریکٹر اسکولز نے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میل کوہلو کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ اسکولوں میں فراہم کردہ سامان کی دستیابی، مقدار اور ریکارڈ کی باقاعدہ تصدیق کی جائے تاکہ شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8757/2026
کوئٹہ9 اکتوبر۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) صوبے میں پروفیشنز، ٹریڈز، کالنگز اور ایمپلائمنٹ سے وابستہ افراد اور کاروباری اداروں کو ٹیکس نظام میں شامل کرنے اور ٹیکس بیس کو وسعت دینے کے لیے اقدامات تیز کر رہی ہے۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی جانب سے متعلقہ شعبوں میں رجسٹریشن، ٹیکس تعمیل اور واجب الادا پروفیشنل ٹیکس کی ادائیگی کے حوالے سے آگاہی اور انفورسمنٹ کا عمل جاری ہے، تاکہ قابلِ ٹیکس سرگرمیوں کو موثر انداز میں دستاویزی شکل دی جا سکے۔اس سلسلے میں کاروباری افراد اور متعلقہ پیشہ ور افراد پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ قابلِ اطلاق قوانین کے تحت بروقت رجسٹریشن، درست معلومات کی فراہمی اور واجب الادا ٹیکس کی ادائیگی یقینی بنائیں۔
BRA حکام کے مطابق ٹیکس بیس میں توسیع، شفاف ٹیکس نظام اور مو¿ثر ٹیکس وصولی کے ذریعے صوبائی محصولات میں اضافہ اور عوامی خدمات و ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے وسائل میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8758/2026
کوئٹہ، 09 اکتوبر: سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا ہے کہ صوبے میں جاری اہم ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل تعمیراتی معیار اور موثر نگرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا جبکہ فرائض میں غفلت اور منصوبوں پر سست روی کا مظاہرہ کرنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے یہ ہدایات فورٹیفیکیشن آف تھانہ منصوبوں پر پیش رفت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں اجلاس میں تمام چھ زونز کے چیف انجینئرز اے آئی جی ڈیولپمنٹ احمد سلطان سپرنٹنڈنگ انجینئرز اور ضلعی ایگزیکٹو انجینئرز نے بذریعہ زوم شرکت کی اجلاس کے دوران فورٹیفیکیشن آف تھانہ کی 83 منصوبوں پر مختلف اضلاع کے انجینئرز نے اپنے اپنے علاقوں میں جاری پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور منصوبوں کو درپیش مالی اور تکنیکی مسائل سے آگاہ کیا سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے ہدایت کی کہ اہم نوعیت کے منصوبوں کی تکمیل میں کسی قسم کی سست روی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے کہا کہ وقت کم اور چیلنجز زیادہ ہیں لہٰذا تمام انجینئرز اس بات کو یقینی بنائیں کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل محکمہ کی اولین ترجیح رہے انہوں نے مزید ہدایت دی کہ منصوبوں کو درپیش تمام تکنیکی مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے سیکریٹری مواصلات و تعمیرات نے ایگزیکٹو انجینئرز بلڈنگز کو ٹاہم لاہن دیتے ہوئے کہا کہ مقررہ مدت تک ان منصوبوں کی تکمیل کو ہر صورت میں یقینی بنائی جائے بصورت دیگر متعلقہ حکام کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے مذید کہا کہ ان منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائےسیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے چیف انجینئرز اور ایس ایز کو ہدایت کی کہ وہ خود منصوبوں کا باقاعدگی سے دورہ کریں اور ہر دو ہفتے بعد پیش رفت رپورٹ ارسال کریں ان رپورٹس میں تکنیکی مسائل کی نشاندہی بھی شامل کی جائے تاکہ منصوبوں کی رفتار متاثر نہ ہو اور کام بلا تعطل جاری رہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8759/2026
کوئٹہ, 09 اکتوبر: بلوچستان کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (بی سی ایس ڈبلیو) کی چیئرپرسن محترمہ کرن بلوچ نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے بچیوں کو تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچیوں کی تعلیم پر توجہ دینا ایک ترقی یافتہ، باشعور اور خوشحال معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ہر بچی کا بنیادی حق ہے اور معیاری تعلیمی سہولیات تک رسائی فراہم کرکے نہ صرف ان کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے بلکہ خواتین کو معاشی اور سماجی طور پر بااختیار بنانے کی راہ بھی ہموار کی جا سکتی ہے۔ بلوچستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ بچیوں کو تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے صوبے کی ترقی میں مو¿ثر کردار ادا کر سکیں۔ محترمہ کرن بلوچ نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے بچیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بی سی ایس ڈبلیو خواتین اور بچیوں کے حقوق کے تحفظ، تعلیمی مواقع تک رسائی اور صنفی مساوات کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8760/2026
موسی خیل9 اکتوبر۔ بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام (BRSP) کے زیرِ اہتمام، ملیریا پروگرام کے تحت انٹیگریٹڈ کمیونٹی کیس مینجمنٹ (iCCM) کی مہارتوں کی منتقلی کے لیے دو روزہ تربیتی سلسلے کے پہلے بیچ کا آغاز 6 اکتوبر 2026 کو BRSP آفس، راڑاشم، ضلع موسیٰ خیل میں کیا گیا۔ تربیت کا انعقاد انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک (IHHN) کے تعاون سے کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی استعداد کار میں اضافہ اور بنیادی صحت کی سہولیات کو کمیونٹی کی سطح پر موثر بنانے کے لیے ان کی تکنیکی مہارتوں کو فروغ دینا ہے۔تربیت کے پہلے روز شرکاء کو تربیتی مقاصد اور iCCM پروگرام کے مختلف پہلووں سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر ملیریا، تپِ دق (ٹی بی) اور ایچ آئی وی جیسے امراض کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے کمیونٹی کی موثر شمولیت کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی، جبکہ صحت کے شعبے میں کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کے کردار اور ذمہ داریوں پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ملیریا سے متعلق خصوصی سیشن میں مرض کی نوعیت، پھیلاو کے طریقوں، علامات، مریضوں کی شناخت، تشخیص کے طریقہ کار اور ملیریا کی مختلف اقسام کے بارے میں شرکاءکو آگاہی فراہم کی گئی۔ تربیت کو مزید موثر بنانے کے لیے گروپ سرگرمیوں اور باہمی تبادلہ خیال پر مبنی سیکھنے کے طریقوں کو بھی شامل کیا گیا، تاکہ شرکاء حاصل کردہ معلومات کو عملی طور پر بروئے کار لانے کے قابل ہو سکیں۔تربیتی سیشنز میں محترمہ حنا علوی، ایم آئی ایس کوآرڈینیٹر، بی آر اے پی، اور ماسٹر ٹرینر محمد اقبال نے سہولت کاری کے فرائض انجام دیے، جبکہ شفیق جعفر، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر، بی آر ایس پی، ظہور احمد، ایم ای اے ایل آفیسر، آئی ایچ ایچ این، اور کمیونٹی ہیلتھ ورکرز نے بھی شرکت کی۔تربیت کا بنیادی مقصد کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کو ضروری معلومات اور عملی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے، تاکہ وہ مقامی سطح پر بیماریوں کی بروقت شناخت، ابتدائی تشخیص اور مناسب رہنمائی کے ذریعے صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے میں موثر کردار ادا کر سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8761/2026
پیشکان 09 اکتوبر 2026: گورنمنٹ بوائز انٹر کالج پیشکان ضلع گوادر میں سالانہ اساتذہ و والدین اجلاس پرنسپل محمد عادل بلوچ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں اساتذہ، طلباء کے والدین اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی اجلاس میں کالج کی سالانہ تعلیمی کارکردگی، طلباء کی حاضری و نظم و ضبط، تعلیمی معیار اور درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ پرنسپل نے کالج کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی معیار میں بہتری کے لیے اساتذہ کی مو¿ثر تدریس، والدین کی مسلسل رہنمائی و نگرانی اور طلباء کی باقاعدہ حاضری، محنت اور نظم و ضبط بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔والدین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے کالج کی بہتری کے لیے اپنے اپنےتجاویز پیش کرتے ہوئے انتظامیہ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور تعلیمی ماحول کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ باہمی تعاون کے ذریعے طلباء کی تعلیمی و اخلاقی تربیت اور مجموعی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جائے گا
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8762/2026
بارکھان.09اکتوبر 2026. ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید رحمن کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر بارکھان احسام الدین نے بارکھان بازار کا دورہ کیا اور مختلف پٹرول ایجنسیوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔
دورے کے دوران پٹرول کی پیمائش، پیمانوں اور دیگر ضروری امور کو چیک کیا گیا۔ چیکنگ کے دوران متعدد پٹرول ایجنسیوں میں پیمائش کے حوالے سے بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جس پر انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے کئی پٹرول ایجنسیوں کو سیل کر دیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ اہلکاروں کو ہدایت کی کہ شہریوں کو پٹرول کی مقررہ مقدار کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور کسی بھی قسم کی کم پیمائی یا خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بازار میں اس طرح کی چیکنگ اور کارروائی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایسی کارروائیاں مستقبل میں بھی باقاعدگی سے جاری رکھی جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8763/2026
اورماڑہ 09 اکتوبر 2026: صوبائی حکومت کی صحتِ عامہ پالیسی اور ادویات کے معیار سے متعلق ہدایات کی روشنی میں ڈرگ انسپکٹر گوادر ڈاکٹر محمد آصف نے اورماڑہ میں مختلف میڈیکل اسٹورز کا اچانک معائنہ کیا معائنے کے دوران ڈرگ لائسنس، وارنٹی و خریداری بلز، ادویات کی ایکسپائری، اسٹوریج کے مناسب انتظامات اور صفائی و ستھرائی کا جائزہ لیا گیا۔ بعض ادویات کے نمونے مزید تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے، جبکہ ضروری اصلاحات کی ہدایت کرتے ہوئے خلاف ورزی پر دو میڈیکل اسٹورز کو شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے ڈرگ انسپکٹر نے میڈیکل اسٹور مالکان کو ہدایت کی کہ ادویات کی خرید، ذخیرہ اور فروخت میں مقررہ قوانین و ضوابط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو محفوظ، معیاری اور موثر ادویات کی فراہمی یقینی ہو۔ میڈیکل اسٹورز کی نگرانی اور اچانک انسپکشن کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8764/2026
جھل مگسی9 اکتوبر۔ اکتوبر گنداواہ: ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللہ شاہ نے گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول گنداواہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وی ٹی سی کے تحت جاری امتحانات اور اسکول میں جاری تعلیمی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے مختلف کلاس رومز اور امتحانی مراکز کا معائنہ کیا اور طلبہ سے مختلف سوالات پوچھ کر ان کی تعلیمی استعداد اور تدریسی عمل کا جائزہ لیا۔
ڈپٹی کمشنر نے اسکول میں اساتذہ کی حاضری بھی چیک کی اور اسکول کے تعلیمی و انتظامی امور کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اسکول میں جاری مجموعی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ طلبہ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ طلبہ کی بہتر تعلیم و تربیت اور معیاری تعلیمی ماحول کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8765/2026
کوئٹہ9 اکتوبر۔ سی پی او کے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے مطابق سی پی او کوئٹہ میں تعیناتی کے منتظر محمد ہاشم (پی ایس پی، بی ایس 18) کو فوری طور پر اور آئندہ احکامات تک زونل کمانڈر بی سی زون فور ایلیٹ کوئٹہ تعینات کر دیا گیا ہے۔ ان کی تعیناتی سابقہ ایس پی علی نواز بگٹی کی ریٹائرمنٹ کے بعد خالی آسامی پر عمل میں لائی گئی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8766/2026
گوادر9 اکتوبر: ڈسٹرکٹ لائیو اسٹاک آفیسر ڈاکٹر صابر علی بلوچ نے کہا ہے کہ محکمہ امورِ حیوانات مویشی پال حضرات کو بروقت طبی سہولیات کی فراہمی اور مویشیوں کی صحت کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس سلسلے میں سول ویٹرنری ہسپتال گوادر میں ایک بکری کے تھن کی کامیاب سرجری انجام دی گئی، جس پر مالدار نے ہسپتال انتظامیہ اور ویٹرنری عملے کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ڈاکٹر صابر علی بلوچ نے کہا کہ مویشیوں کو بروقت علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنا محکمہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ محکمہ مالداروں کی معاونت، مویشیوں کی بہتر نگہداشت اور لائیو اسٹاک کے شعبے کی ترقی کے لیے اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہے ان کا کہنا تھا کہ محکمہ امورِ حیوانات گوادر کے مالداروں کو دستیاب وسائل کے مطابق ویٹرنری سہولیات فراہم کرنے اور مویشیوں کی صحت کے تحفظ کے ھر مکمن اقدامات کررہےہیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8767/2026
ہرنائی9 اکتوبر . پی پی ایچ آئی ہرنائی کے دفتر میں ماہِ ستمبر 2026ءکا اہم ماہانہ جائزہ اجلاس (MRM) انعقاد پذیر ہوا، جس کی مشترکہ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) ہرنائی اور ڈسٹرکٹ مینیجر (DM) پی پی ایچ آئی نے کی۔ اجلاس میں ضلع کے اہم طبی و انتظامی حکام اور صحت کے شعبے میں کام کرنے والے شراکت دار اداروں کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔?اجلاس میں ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال ہرنائی، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک (IHHN)، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر بے نظیر نشوونما پروگرام (BNP)، مانیٹرنگ اینڈ ایویلویشن (M&E) افسران برائے EPI و PPHI سمیت تمام بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) کے انچارجز نے شرکت کی اجلاس کے دوران ستمبر کے مہینے میں ضلع بھر کے تمام بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) کی کارکردگی کا یونٹ وائز تفصیلی تفتیشی جائزہ لیا گیا۔ انڈیکیٹرز کے مطابق درج ذیل شعبہ جات کا الگ الگ جائزہ لیا گیا تمام بی ایچ یوز میں مریضوں کی آمد اور علاج و معالجے کی سہولیات کی فراہمی کا جائزہ, دورانِ حمل دیکھ بھال، زچگی کے حفاظتی اقدامات اور نومولود بچوں کی نگہداشت سے متعلق سروسز پر اطمینان کا اظہار, بچوں کو موذی بیماریوں سے بچاو کی ویکسینیشن کوریج کا باریک بینی سے معائنہ اور کوریج بڑھانے پر زور ,سوئ ِ تغذیہ (Malnutrition) کے شکار بچوں کو بروقت شناخت کر کے انہیں بے نظیر نشوونما پروگرام اور انڈس نیٹ ورک کے غذائی پروگرامز میں ریفر کرنے کے طریقہ کار کو مزید موثر بنانے کا اعادہ .اجلاس میں ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی ہرنائی کی زیر صدارت بلائے گئے خصوصی ہیلتھ کانفرنس کے فیصلوں سے تمام شرکاءکو تفصیل سے آگاہ کیا گیا، جس میں ضلع میں خسرہ (Measles) اور چکن پاکس (Chickenpox) کے مشتبہ کیسز سے متعلق حکمتِ عملی طے کی گئی تھی۔ڈسٹرکٹ مینیجر پی پی ایچ آئی اور ڈی ایچ او نے تمام بنیادی مراکزِ صحت کے انچارجز کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے روایتی دائرہ کار سے آگے بڑھ کر اپنے علاقوں (Catchment Areas) میں خسرہ، چکن پاکس اور بچوں کی روٹین ویکسینیشن کے حوالے سے عوام میں پائی جانے والی غلط فہمیوں اور بے بنیاد خدشات کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر آگاہی مہمات چلائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ویکسینیشن کے خلاف افواہوں کا سدِباب کرنا اور والدین میں آگاہی پیدا کرنا انتظامیہ اور طبی عملے کی اولیں ترجیح ہے۔اجلاس کے اختتام پر ضلع میں صحت کی سہولیات کو مزید فعال بنانے اور عوام تک معیارِ صحت کی رسائی ممکن بنانے کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
قومی احتساب بیورو (بلوچستان)
کوئٹہ 9 اکتوبر۔ بلوچستان اکیڈمی فار کالج ٹیچرز (BACT)، کوئٹہ کے تربیتی شرکاء پر مشتمل ایک وفد نے آج آگاہی اور تعارفی پروگرام کے سلسلے میں NAB کمپلیکس کوئٹہ کا مطالعاتی دورہ کیا اور آگاہی سیشن میں شرکت کی۔وفد کا ڈائریکٹر آگاہی و انسدادِ بدعنوانی، جناب محمد سلیم احمد اور ان کی ٹیم نے ڈائریکٹر جنرل NAB بلوچستان کی جانب سے پرتپاک استقبال کیا۔ دورانِ دورہ شرکاء کو قومی احتساب بیورو (NAB) کے طریق کار اور امورِ کار کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں قومی احتساب آرڈیننس (NAO) 1999 کے تحت NAB کے مینڈیٹ، آگاہی (Awareness)، انسدادِ بدعنوانی (Prevention) اور نفاذِ قانون (Enforcement) پر مشتمل سہ جہتی حکمتِ عملی، شکایت کی تصدیق سے لے کر ریفرنس دائر ہونے تک کے مراحل، اور NAO میں حالیہ قانون سازی سے متعلق پیش رفت پر روشنی ڈالی گئی۔ڈپٹی ڈائریکٹر جناب شوکت سرپارا کی سربراہی میں ایک وفد نے آگاہی سیشن میں شرکت کی۔ وفد نے کارروائی میں حصہ لیتے ہوئے کالج اساتذہ اور طلبہ میں بدعنوانی کی روک تھام، شفافیت، دیانت داری اور اچھی حکمرانی کے فروغ کے حوالے سے آگاہی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔سیشن کے دوران کالج اساتذہ میں بدعنوانی کے اسباب اور اس کے منفی اثرات، سرکاری اداروں میں دیانت داری اور شفافیت کی اہمیت، اور معاشرے میں اخلاقی اقدار اور احتساب کے کلچر کے فروغ میں لیکچررز کے کردار کے حوالے سے آگاہی فراہم کی گئی۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ لیکچررز معاشرے کے بااثر ارکان ہونے کے ناطے نوجوان نسل میں ایمانداری، دیانت داری، ذمہ داری اور بدعنوانی کے خلاف عدم برداشت جیسے مثبت رویوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
شرکاء نے سیشن میں بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور طلبہ میں بدعنوانی کے تدارک کے اقدامات اور اخلاقی اقدار کے حوالے سے مزید آگاہی فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔سیشن کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا، جس کے دوران شرکاء کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف سوالات کے جوابات دیے گئے۔ تقریب کے اختتام پر ڈائریکٹر آگاہی و انسدادِ بدعنوانی، جناب محمد سلیم احمد نے ڈپٹی ڈائریکٹر جناب محمد شوکت سرپارا کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔ اس موقع پر شرکاء کے ہمراہ گروپ فوٹو بھی بنوائی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
National Accountability Bureau
(Balochistan)
PRESS RELEASE
Exposure Visit And Awareness Session For Training Participants Of Balochistan Academy For College Teachers (BACT), Quetta Visit NAB Balochistan Complex, Quetta
Quetta: 06th October, 2026. A delegation of Trainee Participants of Balochistan Academy for College Teachers (BACT),Quetta) visited the NAB Complex, Quetta today as part of an awareness and orientation programme.
The delegation was warmly welcomed by Director Awareness & Prevention, Mr. Muhammad Saleem Ahmed and his team, on behalf of Director General NAB Balochistan.
During the visit, the participants were given a comprehensive briefing on the working of the National Accountability Bureau. The briefing covered NAB’s mandate under the National Accountability Ordinance (NAO) 1999, its three-pronged approach of Awareness, Prevention and Enforcement, the journey of a complaint from verification to reference, and recent legislative developments under the NAO.
The Deputy Director, Mr. Shoukat Sarpara, led the delegation to attend the awareness session. The delegation participated in the proceedings and highlighted the importance of promoting awareness regarding corruption prevention, transparency, integrity, and good governance among college teachers and students.
The session focused on creating awareness among college teachers regarding the causes and adverse effects of corruption, the importance of integrity and transparency in public institutions, and the role of lecturers in promoting ethical values and a culture of accountability in society. The speakers highlighted that lecturers, being influential members of society, can play an important role in educating the younger generation about honesty, integrity, responsibility, and intolerance towards corruption.
The participants actively participated in the session and expressed their interest in further promoting awareness regarding anti-corruption measures and ethical values among students.
The session concluded with a question-and-answer session, during which various questions raised by the participants were addressed.
At the conclusion of the ceremony, Director Awareness & Prevention, Mr. Muhammad Saleem Ahmed, presented a shield to Mr. Muhammad Shaukat Sarpara, Deputy Director. A group photo was also taken.
خبر نامہ نمبر8768/2026
گوادر/پسنی9 اکتوبر. اسسٹنٹ کمشنر خسرو دلاوری نے گورنمنٹ ڈگری کالج پسنی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کالج کے مختلف شعبوں، کلاس رومز، لائبریری اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی دیگر سہولیات و انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے تدریسی ماحول، تعلیمی سرگرمیوں اور کالج میں دستیاب بنیادی سہولیات کا معائنہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو تعلیمی ادارے کے انتظامی امور اور سہولیات کی بہتری کے لیے ضروری اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر نے کالج کی ریزیڈنس کالونی کا بھی دورہ کیا اور وہاں زیرِ تعمیر کوارٹرز کے تعمیراتی کام کا معائنہ کیا۔ انہوں نے تعمیراتی کام کے معیار، پیش رفت اور دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لیتے ہوئے کام کو مقررہ معیار اور بروقت تکمیل کے مطابق یقینی بنانے پر زور دیا۔اسسٹنٹ کمشنر خسرو دلاوری نے کہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول اور بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ جاری ترقیاتی کاموں میں معیار اور شفافیت کو ہر صورت ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8769/2026
قلات9 اکتوبر ۔ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری کی کھیلوں کی ترقی کے لیے کی جانے والی خصوصی کاوشیں رنگ لے آئیں۔ قلات کے نوجوانوں اور کرکٹرز کے دیرینہ مطالبے پر کارروائی کرتے ہوئے قلات میں کرکٹ کا ٹرائل کوٹہ بحال کر دیا گیا ہے۔ اس اہم ترین فیصلے اور ذاتی دلچسپی پر قلات کے کرکٹرز اور کھیلوں کے حلقوں نے ڈپٹی کمشنر قلات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے انہوں نے قلات کے نوجوانوں کے دل جیت لیے قلات کا ٹیلنٹ اب قومی سطح پر چمکے گا:کرکٹرز اور مقامی اسپورٹس آرگنائزرز کا کہنا ہے کہ ٹرائل کوٹہ کی بحالی اب قلات کے باصلاحیت نوجوانوں اور کرکٹ ٹیلنٹ کو آگے بڑھنے کے بھرپور مواقع ملیں گے۔ قلات کا وہ ٹیلنٹ جو مواقع نہ ہونے کی وجہ سے پیچھے رہ جاتا تھا، اب ملکی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکے گا۔نوجوانوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری مستقبل میں بھی ضلع میں اسپورٹس کے انفراسٹرکچر کی بہتری اور کھیلوں کے میدان آباد کرنے کے لیے ایسے ہی انقلابی اور مثبت اقدامات جاری رکھیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8770/2026
کوئٹہ9 اکتوبر۔ پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (پی پی ایچ آئی) بلوچستان کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر ایم بی داریجو نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ڈیجیٹل گورننس، شفافیت، ادارہ جاتی اصلاحات اور میرٹ پر مبنی بھرتیوں کے وژن کے تحت پی پی ایچ آئی بلوچستان نے مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ڈیجیٹل بھرتی و جانچ کا نظام ProMetriX متعارف کرایا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بھرتی کے عمل کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا، انتخاب کے تمام مراحل میں شفافیت کو فروغ دینا اور اہل امیدواروں کی قابلیت و اہلیت کی بنیاد پر میرٹ کے مطابق انتخاب کو یقینی بنانا ہے۔ یہ نظام پی پی ایچ آئی بلوچستان کے تحت بنیادی صحت کی سہولیات، بشمول ٹیلی ہیلتھ سینٹرز، کے لیے درکار اہل اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی بھرتی کے عمل کو موثر اور منظم بنانے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ProMetriX کے ذریعے امیدواروں کی آن لائن درخواستوں کی جانچ پڑتال، شناخت کی تصدیق، تعلیمی اسناد اور دیگر متعلقہ دستاویزات کی جانچ، کمپیوٹرائزڈ ٹیسٹ، جوابات کی جانچ اور میرٹ لسٹوں کی تیاری سمیت بھرتی کے مختلف مراحل کو ڈیجیٹل طریقے سے انجام دیا جائے گا۔ اس نظام کے ذریعے بھرتی کے عمل کو زیادہ منظم، موثر اور قابلِ اعتماد بنانے کے ساتھ ساتھ امیدواروں کی صلاحیتوں کا جائزہ لینے اور انتخاب کے مراحل میں یکسانیت برقرار رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔ڈاکٹر ایم بی داریجو نے کہا کہ پی پی ایچ آئی بلوچستان صوبے کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے کوشاں ہے، جبکہ ٹیلی ہیلتھ سینٹرز کے ذریعے عوام کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے طبی مشاورت اور صحت سے متعلق خدمات تک رسائی فراہم کرنے کی کوششیں بھی اہمیت کی حامل ہیں۔ ان مراکز کی مو¿ثر فعالیت کے لیے موزوں، اہل اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل عملے کی دستیابی ضروری ہے۔ اس تناظر میں جدید ڈیجیٹل بھرتی کا نظام اہل افرادی قوت کے انتخاب اور ادارے کی ضروریات کے مطابق بھرتی کے عمل کو بہتر بنانے میں معاون کردار ادا کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ProMetriX متعارف کرانے کا بنیادی مقصد بھرتی کے عمل میں غیر ضروری انسانی مداخلت کے امکانات کو کم کرنا، اقربا پروری اور میرٹ کے منافی عوامل کی حوصلہ شکنی کرنا اور تمام امیدواروں کو مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس نظام کے ذریعے امیدواروں کی تعلیمی قابلیت، اہلیت اور ٹیسٹ میں کارکردگی کی بنیاد پر انتخاب کے عمل کو زیادہ شفاف اور منظم بنانے میں مدد ملے گی، تاکہ اہل اور مستحق امیدواروں کو منصفانہ طریقہ کار کے تحت روزگار کے مواقع میسر آسکیں۔چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے کہا کہ پی پی ایچ آئی بلوچستان صحت کے شعبے میں خدمات کی بہتری، انتظامی استعداد میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ بنیادی صحت مراکز اور ٹیلی ہیلتھ سینٹرز کے لیے درکار افرادی قوت کی دستیابی کے ساتھ شفاف بھرتی کا نظام ادارے کی مجموعی کارکردگی بہتر بنانے اور عوام کو صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے کی کوششوں کو تقویت دے سکتا ہے۔ڈاکٹر ایم بی داریجو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی پی ایچ آئی بلوچستان میرٹ، شفافیت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور ڈیجیٹل گورننس کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ProMetriX کا تعارف ادارہ جاتی اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بھرتی کے نظام کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جبکہ ٹیلی ہیلتھ سینٹرز سمیت بنیادی صحت کے نظام کے لیے اہل افرادی قوت کی دستیابی صوبے میں صحت کی خدمات کو مزید موثر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8771/2026
زیارت خبرنامہ 9اکتوبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ڈویژنل ڈائریکٹر لورالائی عبدالواسع کاکڑ نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زیارت لطیف اللہ غرشین اور ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (فیمیل) زیارت محترمہ میمونہ فہیم کے ہمراہ ضلع زیارت کے مختلف سرکاری اسکولوں کا مانیٹرنگ دورہ کیادورے کے دوران ڈویژنل ڈائریکٹر نے اسکولوں میں جاری تدریسی و تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لیا، اساتذہ کی تدریسی کارکردگی اور کلاس روم میں پڑھانے کے طریقہ کار کا مشاہدہ کیا اور تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔اس موقع پر انہوں نے موثر تدریس، تعلیمی سرگرمیوں میں بہتری اور اسکولوں میں اعلیٰ تعلیمی معیار کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ان مانیٹرنگ دوروں کا مقصد تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنانا، اساتذہ اور تعلیمی اداروں میں جواب دہی کے نظام کو مضبوط کرنا اور تمام طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8772/2026
کوہلو، 9 اکتوبر ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور محکمہ اسکولز ایجوکیشن کی ہدایات کے تحت ڈویژنل ڈائریکٹر اسکولز کوہِ سلیمان ڈویژن ڈاکٹر محمد سلیم زرکون کی زیرِ صدارت گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکول کوہلو میں کلسٹر بجٹ، تعلیمی سہولیات اور اسکولوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کوہلو جعفر خان زرکون، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن میل حفیظ اللہ مری، پرنسپل حاجی تاج محمد مری اور کلسٹر سے منسلک فیڈنگ اسکولز کے اساتذہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد سلیم زرکون نے اساتذہ کے مسائل اور تجاویز سنے اور تعلیمی سہولیات کی بہتری سے متعلق امور کا جائزہ لیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کلسٹر کے تحت 17 فیڈنگ اسکولز کو مطلوبہ سامان فراہم کر دیا گیا ہے۔ ڈویژنل ڈائریکٹر اسکولز نے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میل کوہلو کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ اسکولوں میں فراہم کردہ سامان کی دستیابی، مقدار اور ریکارڈ کی باقاعدہ تصدیق کی جائے تاکہ شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8773/2026
خضدار 9 اکتوبر ۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت کے مطابق ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی زیر صدارت خضدار میں پہلی بار خواتین کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا کھلی کچہری ڈسٹرکٹ کونسل ہال خضدار میں منعقد ہوئی منعقدہ کھلی کچہری میں ضلع بھر سے تعلق رکھنے والی خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق اپنے مسائل اور مشکلات سے خواتین نے بجلی پینے کے صاف پانی صحت تعلیم صفائی شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک ایشوز منشیات کی روک تھام نادرہ ریوینیو اراضی کے مسائل سڑکوں امن و امان سیکورٹی ایشوز اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق اپنے مسائل شکایات اور تجاویز پیش کیں اور ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کیا۔کھلی کچہری کی صدارت ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کی، جبکہ کمانڈنٹ تھری ڈویڑن قلات سکاوٹ عرفان بنگش ایس ایس پی خضدار محمد بلوچ قلات سکاوٹ کے میجر عثمان ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر خضدار نیاز اللہ سمالانی ایکسیئن بی اینڈ ار سلیم رزاق عمرانی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افیسر میر ذاکر باجوئی ڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچر عبدالقیوم زہری ایم ایس ٹیچنگ اسپتال خضدار شبیر احمد مینگل ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو سٹاک ڈاکٹر محمد انور زہری ڈسٹرکٹ منیجر خضدار پی پی ایچ ائی صدام حسین ڈسٹرکٹ سپورٹس افیسر رقیہ عبید ایس ڈی او پی ایچ ای محمد رحیم لہڑی اور دیگر محکموں کے افسران موجود تھے کھلی کچہری میں ضلعی انتظامیہ کے مختلف افسران اور تمام متعلقہ محکموں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔کھلی کچہری میں یونیورسٹی اور کالجز سے تعلق رکھنے والی طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور تعلیمی و تدریسی امور سمیت طلبہ کو درپیش مختلف مسائل کی نشاندہی کی۔ خواتین نے اپنے مسائل براہِ راست ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کیے اور ان کے حل کے لیے اقدامات اٹھانے کی درخواست کی۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے خواتین کی شکایات اور مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے بعض معاملات کا فوری نوٹس لیا اور قابلِ عمل مسائل کے حل کے لیے موقع پر ہی متعلقہ حکام کو ضروری احکامات جاری کیے، جبکہ دیگر حل طلب مسائل کے ازالے کے لیے افسران کو ہدایت کیں انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کہا کہ ضلع انتظامیہ کی اولین ترجیح عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان کے مسائل کا بروقت ازالہ ہے خضدار میں امن و امان تعلیم صحت کیل صفائی پینے کے صاف پانی منشیات کی روک تھام ریوینیو اراضی ٹریفک کے ایشوز سیکورٹی کے ایشوز اور دیگر شعبوں کی بہتری کے لیے تمام متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ خضدار کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بلا امتیاز کام کیا جائے گا اور عوامی نمائندوں اور شہریوں کے مشاورت سے مسائل کے حل کو یقینی بنایا جائے گا کھلی کچہری کا مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہ راست رابطے کو مزید موثر بنانا اور شہریوں کو ان کی دہلیز پر ریلیف فراہم کرنا ہے۔اس موقع پر خواتین کو اپنے مسائل کے اظہار کے لیے براہِ راست پلیٹ فارم فراہم کیا گیا، جہاں مختلف شعبوں سے متعلق شکایات اور تجاویز سنی گئیں۔ کھلی کچہری کا مقصد خواتین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے، سرکاری اداروں تک ان کی رسائی بہتر بنانے اور ضلعی انتظامیہ و عوام کے درمیان رابطے کو موثر بنانا تھا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8774/2026
سیوی 9 اکتوبر۔ کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان نے محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان کی کارکردگی اور جاری سرگرمیوں کے حوالے سے ڈپٹی ڈائریکٹر سپورٹس سیوی ڈویژن سے بریفنگ لی۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر سپورٹس نے کمشنر سیوی ڈویژن کو محکمہ کی مجموعی کارکردگی، کھیلوں کے فروغ، نوجوانوں کے لیے جاری سرگرمیوں اور متعلقہ امور کے حوالے سے آگاہ کیا۔ کمشنر عرفان اللہ خان نے محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کو مثبت و صحت مند سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو موثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ واضح رہے کہ کمشنر سیوی ڈویڑن عرفان اللہ خان کی جانب سے ڈویژن کے تمام محکموں کی کارکردگی اور پیش رفت کا مرحلہ وار جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں تمام محکموں کی پروگریس ریویو کا عمل ون بائی ون روزانہ کی بنیاد پر جاری رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8775/2026
دکی، 9اکتوبر ۔ ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) پروگرام کے تحت ایف سی سکول اینڈ کالج دکی میں زیرِ تعمیر جدید آئی ٹی حب کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر کمانڈر 87 ونگ کرنل شاہد بلال بھی ان کے ہمراہ تھےڈپٹی کمشنر نے آئی ٹی حب کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور جاری تعمیراتی کام کی پیش رفت، معیار اور منصوبے کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے تعمیراتی کام میں استعمال ہونے والے میٹریل، تعمیراتی معیار، ڈیزائن اور منظور شدہ منصوبے کے مطابق جاری سرگرمیوں کا بھی معائنہ کیااس موقع پر ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے متعلقہ حکام اور ذمہ داران کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور منصوبے کے تمام امور منظور شدہ ڈیزائن، مقررہ معیار اور تکنیکی تقاضوں کے مطابق مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر میں معیار کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ عوام اور طلبہ کو دیرپا اور معیاری سہولیات فراہم کی جا سکیں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ BSDI پروگرام کے تحت جاری ترقیاتی منصوبے ضلع دکی میں بنیادی سہولیات، تعلیم انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر اہم شعبوں کی بہتری میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ جدید آئی ٹی حب جیسے منصوبے طلبہ اور نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے اور انہیں دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں معاون ثابت ہوں گےانہوں نے مزید ہدایت کی کہ منصوبے کی بروقت تکمیل کے ساتھ تعمیراتی معیار کو بھی ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ اس اہم منصوبے کے ثمرات جلد از جلد طلبہ اور علاقے کے عوام تک پہنچ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8776/2026
دکی، 9 اکتوبر ۔ ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر تھل چوٹیالی عبدالسلام شاہوانی نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) پروگرام کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کیا اسسٹنٹ کمشنر نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کلی دکی اور گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج دکی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جاری تعمیراتی کام، منصوبوں کی پیش رفت، تعمیراتی معیار اور استعمال ہونے والے میٹریل کا تفصیلی جائزہ لیااس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر عبدالسلام شاہوانی نے متعلقہ حکام اور تعمیراتی عملے کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور تعمیراتی کام میں منظور شدہ ڈیزائن اور مقررہ تکنیکی معیار کو ہر صورت ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ انہوں نے ناقص یا غیر معیاری میٹریل کے استعمال سے اجتناب اور تعمیراتی کام کی مسلسل نگرانی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی انہوں نے کہا کہ BSDI کے تحت جاری منصوبے ضلع دکی میں تعلیمی اداروں کی بہتری اور طلبہ کو بہتر بنیادی و تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔ ان منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل سے طلبہ کو جدید اور بہتر تعلیمی ماحول میسر آئے گااسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ ذمہ داران کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں اور منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر یا غفلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8777/2026
09اکتوبرنصیراباد۔ کچھی پلین واٹر سپلائی اسکیم ڈیرہ مراد جمالی میں غیر قانونی واٹر کنکشن لگانے والوں کی خلاف کاروائی کی گئی درجنوں غیر قانونی واٹر کنکشن منقطع کر دیے گیے گیارہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا پولیس کے ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری کچھی پلین واٹر سپلائی اسکیم ڈیرہ مراد جمالی سے غیر قانونی واٹر کنکشن لگانے اور زرعی ابادی کے مقاصد کیلئے استعمال کی ہرگز اجازت نہیں دینگے ملوث افراد کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں معاف نہیں کیا جاے گا ایگزیکٹیو انجینئر کچھی پلین واٹر سپلائی اسکیم انجنییر ذاکر حسین جمالی کی قیادت میں جونئیر انجنیئر محمد ایوب بھٹو کی نگرانی میں پی ایچ ای کے عملے نے کچھی پلین واٹر سپلائی اسکیم ڈیرہ مراد جمالی میں لگے درجنوں غیر قانونی واٹر کنکشن کاٹ کر سیل کر دیے گیے اور پائپ ضبط کر لیے گیے غیر قانونی واٹر کنکشن جوکہ تین انچ ڈایہ دو انچ ڈایہ ڈیڈھ انچ ڈایہ اور ایک انچ ڈایہ ربی صدر پولیس تھانے کی حدود عزیز اباد عرفان کوٹ بلال کالونی پرکانی اباد وحیداباد مینگل ودیگر علاقوں میں لگاے گیے تھے جن کو مکمل طور پر کاٹ کر سیل کردئے گئے اس ضمن میں غیر قانونی طریقے سے اور خفیہ و گنجان ایریا میں پائپ لائن کو توڑ کر ابادی کرنے پر ایک بااثر شخص سمیت گیارہ افراد کے خلاف ایکسین ذاکر حسن جمالی کی مدعیت میں صدر پولیس تھانہ ڈیرہ مراد جمالی میں ایف آئی آر درج کرادی گئی ہے پولیس نے سرکاری مراسلے پر ایف آئی ار نمبر ایس ڈی ار 9/24/2026.81زیر دفعہ 430 ت پ اور 427 ت پ کے تحت درج کرکے نامزد افراد کی گرفتاریوں کے لیے کوشیش تیز کردی گئی ہے ایکسین کچھی پلین واٹر سپلائی اسکیم ڈیرہ مراد جمالی ذاکر حسین جمالی نے کہا کہ کچھی پلین واٹر سپلائی اسکیم ڈیرہ مراد جمالی غیر قانونی واٹر کنکشن لگانے والون کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا بلکہ ملوث افراد کتنے ہی بااثر کیون نہ ہون انکے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جاے گی ایسے عناصر کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ کچھی پلین واٹر سپلائی اسکیم ڈیرہ مراد جمالی سے غیر قانونی واٹر کنکشن لگانے و پائپ لائن کو توڑنے سے اجتناب کریں انہوں بتایا کہ پایپ لائن کی نگرانی اور مانیٹرنگ و پٹرولنگ کے لیے مذید سخت و موثر اقدامات کیے گئے ہیں پی ایچ ای کے عملے پر مشتمل مختلف ٹیمیں تشکیل دیکر ڈیرہ مراد جمالی ٹو ربی نوتال بختیاراباد بھاگ اور لانڈھی تک پائپ لائن کی نگرانی کی جارہی ہے انہوں نے کہا کچھی پلین واٹر سپلائی اسکیم ڈیرہ مراد جمالی سے نوتال لانڈھی بختیاراباد بھاگ ٹنگوٹی چھلگری و دیگر کثیر ابادی کو روزانہ کی بنیاد پر پینے کے صاف پانی کی سپلائی جارہی ہے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8778/2026
دکی، 9اکتوبر ۔ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) پروگرام کے تحت ایف سی سکول اینڈ کالج د±کی میں زیرِ تعمیر جدید آئی ٹی حب کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر کمانڈر 87 ونگ کرنل شاہد بلال بھی ان کے ہمراہ تھےڈپٹی کمشنر نے آئی ٹی حب کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور جاری تعمیراتی کام کی پیش رفت، معیار اور منصوبے کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے تعمیراتی کام میں استعمال ہونے والے میٹریل، تعمیراتی معیار، ڈیزائن اور منظور شدہ منصوبے کے مطابق جاری سرگرمیوں کا بھی معائنہ کیااس موقع پر ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے متعلقہ حکام اور ذمہ داران کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور منصوبے کے تمام امور منظور شدہ ڈیزائن، مقررہ معیار اور تکنیکی تقاضوں کے مطابق مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر میں معیار کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ عوام اور طلبہ کو دیرپا اور معیاری سہولیات فراہم کی جا سکیں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ BSDI پروگرام کے تحت جاری ترقیاتی منصوبے ضلع دکی میں بنیادی سہولیات، تعلیم انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر اہم شعبوں کی بہتری میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ جدید آئی ٹی حب جیسے منصوبے طلبہ اور نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے اور انہیں دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں معاون ثابت ہوں گےانہوں نے مزید ہدایت کی کہ منصوبے کی بروقت تکمیل کے ساتھ تعمیراتی معیار کو بھی ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ اس اہم منصوبے کے ثمرات جلد از جلد طلبہ اور علاقے کے عوام تک پہنچ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8779/2026
دکی، 9 اکتوبر ۔ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر تھل چوٹیالی عبدلسلام شاہوانی نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) پروگرام کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کیا اسسٹنٹ کمشنر نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کلی دکی اور گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج دکی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جاری تعمیراتی کام، منصوبوں کی پیش رفت، تعمیراتی معیار اور استعمال ہونے والے میٹریل کا تفصیلی جائزہ لیااس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر عبدالسلام شاہوانی نے متعلقہ حکام اور تعمیراتی عملے کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور تعمیراتی کام میں منظور شدہ ڈیزائن اور مقررہ تکنیکی معیار کو ہر صورت ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ انہوں نے ناقص یا غیر معیاری میٹریل کے استعمال سے اجتناب اور تعمیراتی کام کی مسلسل نگرانی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی انہوں نے کہا کہ BSDI کے تحت جاری منصوبے ضلع دکی میں تعلیمی اداروں کی بہتری اور طلبہ کو بہتر بنیادی و تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔ ان منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل سے طلبہ کو جدید اور بہتر تعلیمی ماحول میسر آئے گااسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ ذمہ داران کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں اور منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر یا غفلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 8780/2026
دکی:9اکتوبر۔ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی نے بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) پروگرام کے تحت ضلع دکی میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے تعمیراتی کاموں کی رفتار، معیار اور پیش رفت کا جائزہ لیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے منصوبوں پر جاری کام کے معیار کو برقرار رکھنے اور تعمیراتی سرگرمیوں کی موثر نگرانی کو یقینی بنانے پر ایکسین بلڈنگ جعفر خان زرکون کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ تعمیراتی کاموں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور منظور شدہ ڈیزائن، تکنیکی تقاضوں اور مقررہ معیار کے مطابق کام مکمل کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں پر کام منظور شدہ ڈیزائن، مقررہ معیار اور تکنیکی تقاضوں کے مطابق مکمل کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ تعمیراتی کاموں میں معیاری میٹریل کے استعمال کو یقینی بنایا جائے اور منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کا مقصد عوام کو بہتر بنیادی سہولیات فراہم کرنا اور ضلع میں تعمیر و ترقی کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی مسلسل نگرانی کرتے ہوئے ان کی بروقت اور معیاری تکمیل یقینی بنائی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8781/2026
کراچی /گوادر 9 اکتوبر ۔جامعہ گوادر کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید منظور احمد نے سندھ اور بلوچستان کی جامعات کے اشتراک سے منعقدہ عالمی طرزِ حکمرانی اور پاک چین تعلقات کے موضوع پر سیمینار میں شرکت کی، جس میں دونوں صوبوں کی مختلف جامعات کے وائس چانسلرز اور ریکٹرز سمیت کراچی میں عوامی جمہوریہ چین کے قونصل جنرل نے بھی شرکت کی سیمینار میں پاکستان اور چین کے درمیان تعلیمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے، اعلیٰ تعلیم کے فروغ، تعلیمی و تحقیقی اشتراک، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلوں اور جامعات کے مابین ادارہ جاتی روابط کے نئے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر سید منظور احمد نے پاک چین تعلیمی روابط کے فروغ کے لیے جامعہ گوادر کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ گوادر کی تزویراتی اہمیت دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی، علمی اور ادارہ جاتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اعلیٰ تعلیم، مشترکہ تحقیق اور اساتذہ و طلبہ کے تبادلوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو نئی جہت دی جا سکتی ہے جامعہ گوادر کے پرو وائس چانسلر کی اس سیمینار میں شرکت جامعہ کے علاقائی اور بین الاقوامی تعلیمی روابط کے فروغ، تحقیق و تدریس میں تعاون اور پاک چین دیرینہ دوستی کو مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ اس نوعیت کے علمی و سفارتی روابط اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں مشترکہ ترقی اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8782/2026
نارتھ ڈیرہ بگٹی.09اکتوبر۔ ڈپٹی کمشنر نارتھ ڈیرہ بگٹی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ پولیو ایریڈیکیشن کمیٹی (DPEC) کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ، پولیس، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، محکمہ زراعت، سماجی بہبود اور محکمہ صحت کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں نومبر کے پہلے ہفتے شروع ہونے والی پولیو مہم کی تیاریوں اور موثر منصوبہ بندی کا جائزہ لیا گیااجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پولیو کے خاتمے اور بچوں کو معمول کے حفاظتی ٹیکے لگانے کے لیے تمام متعلقہ محکمے مشترکہ ذمہ داری ادا کریں گے، تاکہ کوئی بھی بچہ حفاظتی قطرے اور ویکسین سے محروم نہ رہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8783/2026
کوئٹہ.09اکتوبر۔ محکمہ خزانہ حکومت بلوچستان نے مالی سال کے دوران جاری کیے گئے غیر کیش شدہ سرکاری چیکوں کی مدت میں 26 اکتوبر 2026 تک توسیع کر دی ہے۔محکمہ خزانہ بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اکاونٹنٹ جنرل بلوچستان کے دفتر، ضلعی اکاونٹس دفاتر، محکمہ ہائے تعمیرات و مواصلات اور متعلقہ منصوبہ جاتی اتھارٹیز کی جانب سے جاری کیے گئے غیر کیش شدہ چیکوں کی مدت میں 7 اکتوبر سے 26 اکتوبر 2026 تک توسیع کی گئی ہے۔ محکمہ خزانہ کے اس اقدام کا مقصد مقررہ مدت کے دوران کیش نہ ہونے والے سرکاری چیکوں کے لیے اضافی مہلت فراہم کرنا ہے، تاکہ متعلقہ چیکوں کیش کرانے کے عمل کو مکمل کرنے میں سہولت میسر آ سکے۔نوٹیفکیشن کے مطابق مذکورہ توسیع 7 اکتوبر 2026 سے موثر ہوگی اور 26 اکتوبر 2026 تک نافذ العمل رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8786/026
خضدار 9 اکتوبر 2026 وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت کے مطابق ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی زیر صدارت خضدار میں پہلی بار خواتین کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا کھلی کچہری ڈسٹرکٹ کونسل ہال خضدار میں منعقد ہوئی منعقدہ کھلی کچہری میں ضلع بھر سے تعلق رکھنے والی خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق اپنے مسائل اور مشکلات سے خواتین نے بجلی پینے کے صاف پانی صحت تعلیم صفائی شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک ایشوز منشیات کی روک تھام نادرہ ریوینیو اراضی کے مسائل سڑکوں امن و امان سیکورٹی ایشوز اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق اپنے مسائل شکایات اور تجاویز پیش کیں اور ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کیا۔
کھلی کچہری کی صدارت ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کی، جبکہ کمانڈنٹ قلات سکاؤٹ عرفان بنگش ایس ایس پی خضدار محمد بلوچ قلات سکاؤٹ کے میجر عثمان ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر خضدار نیاز اللہ سمالانی ایکسیئن بی اینڈ ار سلیم رزاق عمرانی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افیسر میر ذاکر باجوئی ڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچر عبدالقیوم زہری ایم ایس ٹیچنگ اسپتال خضدار شبیر احمد مینگل ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو سٹاک ڈاکٹر محمد انور زہری ڈسٹرکٹ منیجر خضدار پی پی ایچ ائی صدام حسین ڈسٹرکٹ سپورٹس افیسر رقیہ عبید ایس ڈی او پی ایچ ای محمد رحیم لہڑی اور دیگر محکموں کے افسران موجود تھے کھلی کچہری میں ضلعی انتظامیہ کے مختلف افسران اور تمام متعلقہ محکموں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔
کھلی کچہری میں یونیورسٹی اور کالجز سے تعلق رکھنے والی طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور تعلیمی و تدریسی امور سمیت طلبہ کو درپیش مختلف مسائل کی نشاندہی کی۔ خواتین نے اپنے مسائل براہِ راست ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کیے اور ان کے حل کے لیے اقدامات اٹھانے کی درخواست کی۔
ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے خواتین کی شکایات اور مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے بعض معاملات کا فوری نوٹس لیا اور قابلِ عمل مسائل کے حل کے لیے موقع پر ہی متعلقہ حکام کو ضروری احکامات جاری کیے، جبکہ دیگر حل طلب مسائل کے ازالے کے لیے افسران کو ہدایت کیں انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کہا کہ ضلع انتظامیہ کی اولین ترجیح عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان کے مسائل کا بروقت ازالہ ہے خضدار میں امن و امان تعلیم صحت کیل صفائی پینے کے صاف پانی منشیات کی روک تھام ریوینیو اراضی ٹریفک کے ایشوز سیکورٹی کے ایشوز اور دیگر شعبوں کی بہتری کے لیے تمام متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ خضدار کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بلا امتیاز کام کیا جائے گا اور عوامی نمائندوں اور شہریوں کے مشاورت سے مسائل کے حل کو یقینی بنایا جائے گا کھلی کچہری کا مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہ راست رابطے کو مزید موثر بنانا اور شہریوں کو ان کی دہلیز پر ریلیف فراہم کرنا ہے ۔
اس موقع پر خواتین کو اپنے مسائل کے اظہار کے لیے براہِ راست پلیٹ فارم فراہم کیا گیا، جہاں مختلف شعبوں سے متعلق شکایات اور تجاویز سنی گئیں۔ کھلی کچہری کا مقصد خواتین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے، سرکاری اداروں تک ان کی رسائی بہتر بنانے اور ضلعی انتظامیہ و عوام کے درمیان رابطے کو مؤثر بنانا تھا۔
خبرنامہ نمبر 8787/026
موسیٰ خیل: ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع شمس الحق نے ڈپٹی ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن خدائے نور، ایگریکلچرل آفیسر فضل الدین، فیلڈ اسسٹنٹس بادشاہ خان اور محمد یوسف کے ہمراہ ضلع موسیٰ خیل میں مختلف کھاد ڈیلران اور ڈسٹریبیوٹرز کی دکانوں کا تفصیلی دورہ کیا۔
دورے کے دوران ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت شمس الحق نے تمام دکانداروں کو کھاد کی غیر قانونی خرید و فروخت پر سخت تحریری نوٹسز جاری کیے اور کھاد کی شفاف اور منصفانہ فروخت کے حوالے سے تفصیلی ہدایت کاری فراہم کی۔انہوں نے تمام کھاد ڈیلران اور ڈسٹریبیوٹرز کو پابند کیا کہ وہ زراعت کے شعبے میں اپنی دکانوں کی رجسٹریشن کا عمل جلد از جلد مکمل کریں۔ اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ کھاد کی غیر قانونی خرید و فروخت، ذخیرہ اندوزی یا بنا رجسٹریشن کاروبار کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر8788/026
دُکی، 9 اکتوبر 2026: ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایکسپلوسیو کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع دُکی میں ایکسپلوسیو سے متعلق امور، دو کوئلہ کمپنیوں کے لائسنسوں کی تجدید، سکیورٹی معاملات اور قانونی تقاضوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا
اجلاس میں کمانڈر 87 ونگ کرنل شاہد بلال، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دُکی یونس رضا اسسٹنٹ کمشنر دُکی محمد اکرم حریفال، اسسٹنٹ کمشنر تھل چوٹیالی عبدالسلام شاہوانی، اسسٹنٹ کمشنر لونی فتح خان بنگلزئی سمیت متعلقہ انٹیلی جنس اداروں کے نمائندگان، انچارج سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ، انسپکٹر آف مائنز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران دو کوئلہ کمپنیوں کے ایکسپلوسیو لائسنسوں کی تجدید سے متعلق کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ محکموں کی رپورٹس، سکیورٹی کلیئرنس، قانونی تقاضوں، حفاظتی اقدامات اور دیگر ضروری امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا
ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ایکسپلوسیو لائسنسوں کی تجدید اور دیگر متعلقہ معاملات کو تمام قانونی و انتظامی تقاضے مکمل ہونے کے بعد ہی قواعد و ضوابط کے مطابق نمٹایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپلوسیو سے متعلق معاملات میں کسی قسم کی غفلت یا غیر ضروری تاخیر قابلِ قبول نہیں، جبکہ عوامی و کان کنی کے شعبے سے وابستہ افراد کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائےانہوں نے مزید ہدایت کی کہ ایکسپلوسیو کے استعمال، ذخیرہ اور نقل و حمل سے متعلق حفاظتی و قانونی ضوابط پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور متعلقہ ادارے اپنے فرائض ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایکسپلوسیو سے متعلق کسی بھی معاملے میں تمام متعلقہ ادارے باہمی مشاورت اور مکمل کوآرڈینیشن کے ساتھ اقدامات کریں تاکہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کا تدارک کیا جا سکےانہوں نے کہا کہ ضلع دُکی میں کان کنی کے شعبے کی اہمیت کے پیش نظر محفوظ اور قانونی کان کنی کے فروغ، حفاظتی معیار کی بہتری اور قوانین پر مؤثر عملدرآمد انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کی جانب سے باقاعدگی سے نگرانی اور قانونی تقاضوں کی تکمیل کو یقینی بنایا جائے گااجلاس کے اختتام پر متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی کہ ایکسپلوسیو سے متعلق تمام کیسز میں مقررہ قواعد و ضوابط، سکیورٹی تقاضوں اور قانونی طریقہ کار کی مکمل پابندی کرتے ہوئے اپنی رپورٹس اور ضروری کارروائی بروقت مکمل کریں۔
خبرنامہ نمبر8789/026
وندر۔ڈپٹی کمشنرحب جمعدادمندوخیل نے کہا ہیکہ ساحلی بستی ڈام کے ماہیگیروں کے بنیادی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے بی ایس ڈی آئ اسکیمات میں وندرکی ساحلی ماہیگیربستیوں کے مکینوں کوآبنوشی کی سہولیات فراہم کرینگے یہ بات انہوں نے تحصیل وندر سونمیانی کی ساحلی بستی ڈام کے ماہیگیروں کے مسائل سے متعلق منعقدہ کھلی کچہری سےخطاب کرتے ہوئے کہی ڈپٹی کمشنرنےماہیگیروں کے مسائل توجہ اورغورسے سنے انکے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ انکی شکایات پر انکوائری ہوگی ڈی سی نےاحکامات جاری کیں پی ایس ڈی پی کے جاری ترقیاتی منصوبوں کے تمام کنٹریکٹرزاورمتعلقہ محکمے سوموارکے دن ڈی سی آفس میں رہورٹ پیش کریں ڈپٹی کمشنر نے کھلی کچہری میں کہا کہ جن مسائل کی نشان دہی کی گئ یے منظم اندازمیں ایڈمنسٹریشن جامع پلان تیارکریگی وندرڈیم کینال سے ساحلی بستی ڈام تک پمپنگ اسٹیشن اورنئ پائپ لائنوں کی اسکیمات بی ایس ڈی آئ میں شامل کی جائینگی سیوریج لائن سمیت ڈام بندر کے مکینوں کے بنیادی مسائل حل کرینگے ماہیگیروں نے انتظامی افسرکو شکایات کیں کہ اربوں روہے لاگت کی اسکیمات منظورہوئیں لیکن ماہیگیری کی صنعت سےوابستہ غریب مچھیرے ان ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات سے محروم ہیں بلوچستان کی سمندری حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے ٹرالرز اور غیر قانونی شکار کرنے والی لانچوں کے خلاف فوری، مؤثر اور بلاامتیاز کارروائی کامطالبہ کیا گیا
ماہیگیر نمائندوں اورعلاقائ عمائدین وکونسلران نےکہا کہ سمندری حیات اور مچھلی کے ذخائر کا تحفظ صرف ماہی گیروں ہی نہیں بلکہ بلوچستان کی معیشت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے بھی ضروری ہے
ملکی معیشت کیلئےاربوں روپے کازرمبادلہ کمانے والی سی فوڈانڈسٹری کشتی سازی کی صنعت سے لیکرسی فوڈپراسیسنگ یونٹ تک بنیادی سہولتوں سے محروم ہے حکومتی ادارے گورننس بہتر بنائیں کرپشن کی روک تھام کریں توفش انڈسٹری ملکی معیشت کےاستحکام میں کلیدی کرداراداکرسکتی یے ڈپٹی کمشنر نے کھلی کچہری میں شریک ماہیگیروں کو یقین دہانی کرائ کہ بحیثیت انتظامی افسر وہ ان معاملات پر ایکشن لیں گے
خبرنامہ نمبر8790/026
تربت، 9 اکتوبر 2026: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ کو ہدایت جاری کی ہے کہ ضلع بھر میں محکمہ تعلیم کے تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی تمام منظور شدہ خالی آسامیوں کی تفصیلات مرتب کرکے ان کی باقاعدہ تشہیر کی جائے، تاکہ آسامیوں کو مشتہر کرنے کے عمل میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔اس حوالے سے جاری کردہ مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ محکمہ تعلیم میں تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی تمام منظور شدہ خالی آسامیوں کی جامع تفصیلات مرتب کرکے متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت ان کی تشہیر کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔مراسلے کے مطابق ضلع کیچ میں محکمہ تعلیم کے تدریسی اور غیر تدریسی عملے کے ہر قسم کے تبادلوں اور تعیناتیوں پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد رہے گی۔ متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ جاری کردہ احکامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
خبرنامہ نمبر8791/026
کوئٹہ 09اکتوبر۔صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی بلوچستان کوئٹہ کے ایک سرکلر کے مطابق تمام بین الصوبائی و بین اضلاع پبلک سروس وہیکل مالکان کو مطلع کیا جاتا ہے کہموجودہ صورتحال کے پیشِ نظر عوامی جان و مال کے تحفظ، ٹرانسپورٹ کے نظام کو محفوظ بنانے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے تمام ٹرانسپورٹ کمپنیز، مالکان اور متعلقہ انتظامیہ کو ہدایات جاری کی گئی ہےکہ تمام ٹرانسپورٹ کمپنیوں میں کام کرنے والے تمام ڈرائیورز، کنڈکٹرز، ہیلپرز، سیکورٹی گارڈز، مکینکس، منیجرز اور دیگر تمام متعلقہ ملازمین/عملے کے نام، ولدیت، قومی شناختی کارڈ نمبر، مستقل و موجودہ پتہ، موبائل نمبر اور دیگر مطلوبہ کوائف پر مشتمل مکمل فہرست تیار کرکے دفتر ہذا کو دس (10) ایام کے اندر فراہم کریں ، تمام ٹرانسپورٹ کمپنیز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ غیر ملکی شہریوں (بغیر قانونی دستاویزات) یا بالخصوص غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو ٹکٹ جاری نہ کیے جائیں اور نہ ہی انہیں کمپنی کی بسوں کے ذریعے سفر کروایا جائے۔ ٹرانسپورٹ کمپنیز مسافروں کی ٹکٹنگ جاری کرتے وقت مقررہ طریقہ کار کے مطابق ان کا ریکارڈ مرتب کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی مسافر کو بغیر شناخت/قانونی تقاضے پورے کیے بغیر سفر کی سہولت فراہم نہ کی جائے۔لہٰذا تمام پبلک سروس وہیکل مالکان/منتظمین کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ان ہدایات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ ٹرانسپورٹ کمپنی/مالکان کے خلاف مروجہ قوانین، موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 اور موٹر وہیکل رولز 1969 کے تحت قانونی کارروائی ہوگی، جس میں کمپنی کا سیل اور گاڑی کی بندش بھی شامل ہوگی۔
خبرنامہ نمبر8792/026
تربت9 اکتوبر 2026: جامعہ تربت کی ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ (ایچ آر ڈی) کمیٹی کا چھٹا اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین ڈاکٹر محمد طاہر حکیم، فیکلٹی آف بزنس اینڈ اکنامکس کے ڈین ڈاکٹر عدیل احمد، فیکلٹی آف لاء کے ڈین ڈاکٹر مظفر حسین، رجسٹرار گنگزار بلوچ، ڈائریکٹر فنانس شاہ بیک سید اور شعبہ نیچرل اینڈ بیسک سائنسز کے چیئرمین ڈاکٹر ارشاد معیار نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے کہا کہ اساتذہ کی استعداد کار میں اضافہ اور ان کو پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع کی فراہمی، جامعہ تربت کو ملک کے صف اول کے تعلیمی اداروں میں شامل کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے ملکی و غیر ملکی اعلی تعلیمی و تحقیقی اداروں میں زیر تعلیم اسکالرز کو ہر ممکن سہولیات اور رہنمائی فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ فیکلٹی ممبران کی پیشہ ورانہ ترقی سے نہ صرف تعلیمی معیار بلند ہوگا بلکہ یونیورسٹی کے اسٹریٹجک پلان 2026-30 کے اہداف کے حصول میں بھی پیش رفت ہوگی۔ یونیورسٹی ترجمان کے مطابق، اجلاس میں فیکلٹی ڈویلپمنٹ پروگرامز اور اسکالرشپس سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران ایڈوانسڈ اسٹڈیز کے لیے ملکی و غیر ملکی اداروں میں داخلہ لینے والے اساتذہ کو این او سی کے اجراء اور تعلیم مکمل کرنے والے اسکالرز کی دوبارہ یونیورسٹی جوائن کرنے کی منظوری سمیت دیگر اہم تعلیمی و انتظامی معاملات پر حتمی فیصلے کیے گئے۔
خبرنامہ نمبر8793/026
کوئٹہ09 اکتوبر 2026:
بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جانب سے کوئٹہ، خضدار، حب اور دکی میں ناقص و مضر صحت خوراک کے خلاف کارروائیاں کے دوران 19 فوڈ یونٹس پر جرمانے عائد، ایک نان شاپ اور ایک ملک شاپ سیل جبکہ 16 مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری کردئیے گئے۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق کوئٹہ میں سوشل میڈیا پر آٹے میں کیڑے مکوڑے پائے جانے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان کی فوری ہدایات پر بلوچستان فوڈ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ کریک ڈاؤن کیا۔ میزان چوک، سرکلر روڈ، کواری روڈ، مسجد روڈ اور خدائیداد روڈ پر کارروائی کے دوران ایک تندور میں آٹے کی ذخیرہ گاہ پر حشرات، گردوغبار، ناقص صفائی اور زائدالمیعاد لائسنس پائے جانے پر اسے سیل کر دیا گیا۔ نان شاپس میں آٹے میں کیڑوں اور پیڑے کے وزن میں کمی، جبکہ ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور کے گودام میں چوہوں کی بیٹ اور ناقص اسٹوریج کی خلاف ورزیاں بھی سامنے آئیں۔نواں کلی، بائی پاس اور ملحقہ علاقوں میں 28 فوڈ یونٹس کی چیکنگ کے دوران 8 یونٹس پر جرمانے عائد اور ایک ملک شاپ سیل کی گئی جبکہ آٹے کے پرانے اور نئے اسٹاک کو الگ نہ رکھنے اور حشرات سے بچاؤ کے ناقص انتظامات پر پانچ مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔دیگرکارروائیوں میں ہزارہ ٹاؤن، اسپنی روڈ، سرکی روڈ اور مشرقی بائی پاس پر بیکنگ یونٹس، پیزا شاپس، پکوان سینٹرز اور فاسٹ فوڈ پوائنٹس میں ناقص صفائی، خراب کوکنگ آئل، حشرات کی موجودگی، خوراک کو بغیر ڈھانپے رکھنے اور چکن کی نامناسب ذخیرہ کاری پر کارروائیاں کی گئیں۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
خبرنامہ نمبر8794/026
کوئٹہ،9 اکتوبر 2026
معروف سیاسی و قبائلی شخصیت سردارزادہ میر دینار خان ڈومکی نے کوئٹہ میں ڈپٹی کمشنر خاران منیر احمد سومرو سے ملاقات کی اور ان کی بحفاظت بازیابی پر دلی مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر سردارزادہ میر دینار خان ڈومکی نے منیر احمد سومرو کی خیریت دریافت کی اور ان کی بحفاظت بازیابی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں اور مستقبل میں سلامتی و کامیابی کی دعائیں کیں۔ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر میر معیز بگٹی، اسٹاف آفیسر محمد حنیف چھٹہ اور میر نثار رند بھی ان کے ہمراہ تھے۔
خبرنامہ نمبر8795/026
کوئٹہ9 اکتوبر2026: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں انصاف کی بروقت فراہمی عوام کے اعتماد کو مضبوط بنانے اور اداروں کی ساکھ بہتر کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ جب کسی مستحق سائل کو میرٹ اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق بروقت انصاف ملتا ہے تو یہ نہ صرف اس فرد کیلئے اطمینان کا باعث بنتا ہے بلکہ ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عوام کو سستا، فوری اور قابلِ رسائی انصاف فراہم کرنے کی خاطر صوبائی محتسب کے ادارے کو مزید فعال اور مؤثر بنانا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں صوبائی محتسب کو مختلف سرکاری محکموں کے خلاف موصول ہونے والی درخواستوں اور شکایات کی ہفتہ وار سماعت کے دوران کیا۔ اس موقع پر گورنر جعفرخان مندوخیل نے سرکاری محکموں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اداروں میں عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے، انتظامی امور میں شفافیت یقینی بنانے، بھرتیوں اور ترقیوں میں میرٹ کی پاسداری اور ہر قسم کی بدعنوانی و بےضابطگی کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات کریں۔ سرکاری اداروں کی کارکردگی کا اصل معیار عوام کو درپیش مسائل کا بروقت حل اور انکے جائز حقوق کا تحفظ ہونا ضروری ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر معاشرے کے غریب اور نادار طبقات کیلئے ایک سنگین مسئلہ ہے کیونکہ انہیں پہلے ناانصافی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعدازاں طویل قانونی و انتظامی کارروائیوں کے باعث مالی مشکلات، ذہنی اذیت اور غیرضروری پریشانیوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے صوبائی محتسب کے ادارے پر زور دیا کہ وہ شکایات کے اندراج، ان کی جانچ پڑتال اور فیصلوں کے عمل کو مزید موثر بنائے تاکہ عام شہریوں کو اپنے جائز حقوق کے حصول کیلئے طویل اور مہنگے قانونی مراحل سے نہ گزرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ بالخصوص معاشرے کے غریب اور کمزور طبقات کو انصاف کی فراہمی ریاست کی اہم ذمہ داری ہے، کیونکہ وہ اکثر وکلا کی بھاری فیسیں اور طویل عدالتی کارروائیوں کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ انہوں نے مختلف سرکاری محکموں اور اداروں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ دفتری امور میں عوام کی جائز شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اور شہریوں کو غیرضروری تاخیر، پیچیدہ طریقہ کار اور دفتری رکاوٹوں سے بچانے کیلئے موثر طریقہ کار وضع کریں۔ گورنر نے وضاحت کی کہ گورنر ہاؤس کے شکایات سیل کے ذریعے ہفتہ وار سماعت کا یہ طریقہ کار ایک نیم عدالتی فورم، جسے قانونی اصطلاح میں کوائزی کورٹ (Quasi Court) کہا جاتا ہے کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کا مقصد متعلقہ شکایات کا جائزہ لیکر قانون اور ضابطوں کے مطابق انکے حل کی راہ ہموار کرنا اور متاثرہ شہریوں کو مؤثر داد رسی فراہم کرنا ہے۔ اس موقع پر جعفر خان مندوخیل نے گورنر ہاؤس کی ٹیم بالخصوص ایڈیشنل سیکرٹری گورنر سیکرٹریٹ عبدالغفور کاکڑ کی کوششوں کو سراہا اور عوامی شکایات کے ازالے کی خاطر ان کی کارکردگی کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
خبرنامہ نمبر8796/026
موسیٰ خیل 09 اکتوبر 2026
ڈپٹی ڈسسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر نادر خان کی زیر صدارت ضلعی حفاظتی ٹیکہ جات رابطہ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر مجیب الرحمٰن ڈسٹرکٹ سپورٹ آفیسر عبدالروف ڈسٹرکٹ ویکسین انچارج گل داد اور دوسرے محکمہ صحت کے نمائندے شیر زمان عقل شاہ محیب اللہ اور نعمت اللہ نے شرکت کی
اجلاس کے دوران گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں اور طے شدہ اقدامات پر عملدرآمد کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ ضلع میں جاری EPI سرگرمیوں فیلڈ کارکردگی اور حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج کو مزید مؤثر اور بہتر بنانے کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
شرکاء نے EPI کوریج میں بہتری ویکسینیٹرز کی کارکردگی حاضری فیلڈ مانیٹرنگ اور یونین کونسل کی سطح پر مؤثر اور مکمل حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج کو یقینی بنانے کے لیے مختلف امور کا جائزہ لیا۔
اجلاس میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ فیلڈ ٹیموں کی مؤثر نگرانی ویکسینیٹرز کی کارکردگی میں مزید بہتری اور یونین کونسل کی سطح پر بچوں تک حفاظتی ٹیکہ جات کی رسائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ضلع موسیٰ خیل میں حفاظتی ٹیکہ جات کے مقررہ اہداف کو مؤثر انداز میں حاصل کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر تمام متعلقہ افسران و اہلکاروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں مزید محنت لگن اور مؤثر فیلڈ مانیٹرنگ کے ساتھ سرانجام دیں اور EPI پروگرام کی کوریج کو مزید بہتر بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔
خبرنامہ نمبر8797/026
موسیٰ خیل 09اکتوبر2026
ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع شمس الحق، ڈپٹی ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن خدائے نور اور زراعت آفیسر فضل الدین نے موسیٰ خیل بازار میں زرعی ادویات اور کھاد ڈیلروں کی دکانوں کا اچانک تفصیلی معائنہ کیا۔ معائنہ کے دوران ٹیم نے زرعی ادویات اور کھادوں کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کا جائزہ لیا دکانوں پر موجود کھادوں اور ادویات کے معیار، قیمتوں اور ایکسپائری ڈیٹس کو باریک بینی سے چیک کیا گیا۔اس موقع پر افسران نے ڈیلروں کو تنبیہ کی کہ وہ کاشتکاروں کو معیاری اشیاء کی مقررہ نرخوں پر فراہمی یقینی بنائیں اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی یا زائد المیعاد ادویات کی فروخت سے گریز کریں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی موقع پہ موجود مختلف ڈیلرز کو نوٹسز بھی جاری کیئے
خبرنامہ نمبر8798/026
کوئٹہ، 9 اکتوبر 2026:
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے نوجوانوں کا مستقبل پہاڑوں پر نہیں بلکہ کھیلوں کے میدانوں، روزگار کے مواقع اور ایک پُرامن پاکستان سے وابستہ ہے۔ بلوچ نوجوانوں کو ایک لاحاصل جنگ میں دھکیل کر ان کے ہاتھوں میں بندوق تھمائی گئی، تاہم صوبائی حکومت نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں، روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کرکے انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ بلوچستان کے تمام اضلاع میں کھیلوں کے میدان آباد رکھے جائیں گے اور نوجوانوں کے لیے تسلسل کے ساتھ بڑے کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ میں آل پاکستان وزیر اعلیٰ بلوچستان گولڈ کپ فٹبال ٹورنامنٹ کے فائنل کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ نے فائنل کے کامیاب انعقاد پر محکمہ کھیل، صوبائی وزیر کھیل، سیکرٹری کھیل، ٹورنامنٹ کے منتظمین اور مقابلہ دیکھنے کے لیے آنے والے شائقین کو مبارکباد دی اور چیمپئن شپ جیتنے والے افغان کلب سمیت فاتح اور رنر اپ ٹیموں کو ٹرافیاں بھی دیں۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ آج بلوچستان کے لیے انتہائی خوشی کا دن ہے۔ کھیلوں کے میدان آباد کرنا اور نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومت بلوچستان کے تمام اضلاع میں بڑے کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کرے گی تاکہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں منوانے کے مواقع میسر آئیں اور صوبے میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کے لیے روزگار اور ذریعہ معاش کے پروگرام شروع کر رہی ہے۔ نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کا مستقبل دہشت گردی اور تشدد میں نہیں بلکہ تعلیم، کھیل، روزگار اور پُرامن معاشرے کی تعمیر میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص اور گمراہ کن بیانیے کے ذریعے بلوچ نوجوانوں کو ریاست سے دور کرکے ان کے ہاتھوں میں بندوق تھمائی گئی اور انہیں ایک ایسی جنگ کا حصہ بنایا گیا جس سے انہیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ریاستی نمائندے عوام کے درمیان نہیں جا سکتے، لیکن آج ہم عوام کے درمیان موجود ہیں اور نوجوانوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کھیلوں کے میدان آباد کیے جائیں، ان کے ساتھ بامعنی مکالمہ کیا جائے اور میرٹ و بدعنوانی کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو کھیلوں، مثبت سرگرمیوں اور خوشیوں کے مواقع فراہم کرنے کے لیے جمع کرتی ہے، جبکہ دہشت گرد عناصر لوگوں کو اکٹھا کرکے شہروں پر حملوں اور تشدد کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو کھیلوں اور تفریحی میلوں کے لیے جمع کیا جانا چاہیے، نہ کہ وفاقی دارالحکومت پر دھاوا بولنے کے لیے۔ صادق شہید فٹبال گراؤنڈ اور اس کے قریب واقع فیملی پارک کی حالت کی نشاندہی پر وزیر اعلیٰ نے موقع پر موجود صوبائی وزیر کھیل کو دونوں مقامات کی فوری تزئین و مرمت کے احکامات جاری کیے تاکہ کھلاڑیوں اور شہری خاندانوں کو بہتر سہولیات میسر آسکیں۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ بلوچستان میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے حکومت اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت بلوچستان ریاست اور ریاستی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور امن و سلامتی کے قیام کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔
خبرنامہ نمبر8799/026
سوراب09 اکتوبر 2026 ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ سعید احمد ساسولی، اسسٹنٹ انجنیئر عبدالخالق سمیت دیگر افسران کے ہمراہ میونسپل کمیٹی سوراب کا دورہ کیا اس موقع پر وائس چیئرمین میونسپل کمیٹی سوراب شیخ محمد یاسین سمالانی اور جمیل احمد محمد حسنی نے ڈپٹی کمشنر کو میونسپل کمیٹی کے امور، جاری سرگرمیوں اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر نے میونسپل کمیٹی کے دفتر، فائر بریگیڈ، ٹریکٹر، چنگچی اور دیگر دستیاب مشینری کا تفصیلی معائنہ کرتے ہوئے کارکردگی اور انتظامات کا جائزہ لیا ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ نے میونسپل کمیٹی کو درپیش مسائل جلد حل کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ شہر میں صفائی ستھرائی کے مؤثر انتظامات یقینی بنائے جائیں اور عوام کو میونسپل کمیٹی سے متعلق سہولیات بشمول پیدائش و وفات کے سرٹیفکیٹس، نکاح نامہ اور دیگر ضروری دستاویزات کے حصول میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے انہوں نے عوامی مسائل کے فوری ازالے اور میونسپل سروسز کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کی بھی ہدایت کی۔*
خبرنامہ نمبر8800/026
موسیٰ خیل 09اکتوبر2026:
بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کے زیر اہتمام موسیٰ خیل میں ملیریا کنٹرول پروگرام اور انٹیگریٹڈ کمیونٹی کیس مینجمنٹ کی مہارتوں کی منتقلی کے حوالے سے چار روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ راڑہ شم میں منعقد کی گئی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مجیب الرحمن بگٹی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کیMIS کوآرڈینیٹر حنا علوی ماسٹر ٹرینر اقبال بی آر ایس پی ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر شفیق جعفر اور نمائندہ انڈس ہاسپٹل ظہور احمد خان نے بھی شرکت کی تقریب کا مقصدضلعی سطح پر صحت کے کارکنان اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو ملیریا اور دیگر موسمی بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج کے لیے جدید تکنیکی مہارتیں منتقل کرنا۔ اس ورکشاپ میں مقامی ہیلتھ ورکرز، کمیونٹی بیسڈ موٹیویٹرز اور صحت کے شعبے سے وابستہ ضلعی عہدیداران نے بھرپور شرکت کی۔
ماہرین نے شرکاء کو ICCM پروٹوکولز، ملیریا کی علامات، ٹیسٹنگ کے طریق کار، اور مریضوں کی بروقت دیکھ بھال کے بارے میں تفصیلی عملی تربیت دی۔ احتدادی تدابیر اور ترویج: کمیونٹی کی سطح پر ملیریا سے بچاؤ کے لیے حفاظتی تدابیر جیسے مچھر دانیوں کا استعمال اور صفائی ستھرائی کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ اس اقدام سے موسیٰ خیل کے دور دراز علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولیات بالخصوص ملیریا کی روک تھام اور اس کے موثر علاج میں نمایاں بہتری آنے کی توقع ہے۔
خبرنامہ نمبر8801/026
ہرنائی09 اکتوبر 2026:
انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک (IHHN) کے زیرِ اہتمام کمیونٹی سطح پر بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے منعقدہ چار روزہ آئی سی سی ایم (ICCM) تربیتی پروگرام کی شاندار اختتامی تقریب ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کی زیرِ صدارت منعقد ہوئی۔تقریب میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO)، ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی (PPHI)، انڈس ہسپتال کے نمائندگان، طبی ماہرین اور دیگر متعلقہ انتظامی افسران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ہرنائی نے کہا کہ عوام کو صحت کی بنیادی اور بہترین سہولیات کی ان کی دہلیز پر فراہمی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ملیریا، ٹی بی اور دیگر مہلک بیماریوں سے بچاؤ کے لیے جامع حکمت عملی، عوام میں صحت سے متعلق شعور و آگاہی بیدار کرنے، ماحول کو صاف ستھرا رکھنے اور بچوں کو موذی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بروقت ویکسینیشن کی اشد ضرورت پر زور دیا۔ڈپٹی کمشنر نے چار روزہ تربیت کی کامیاب اور باہم تدبیر انعقاد پر انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کی کاوشوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ تربیت حاصل کرنے والا عملہ میدانِ عمل میں جا کر عوام الناس کو موثر اور فوری طبی امداد فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔تقریب کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر اور دیگر مہمانانِ گرامی نے تربیت مکمل کرنے والے تمام شرکاء میں اسناد تقسیم کیں اور ان کی ہمت افزائی کی۔
خبرنامہ نمبر8802/026
ہرنائی :ضلع ہرنائی میں کانوں (مائنز) کی قانونی اور شفاف الاٹمنٹ کو یقینی بنانے کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کی زیرِ صدارت ‘ڈسٹرکٹ مائنز الاٹمنٹ کمیٹی’ کا ایک اعلیٰ سطح کا کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر مائنز، ڈویژنل فارسٹ آفیسر (ڈی ایف او) اور کمیٹی کے دیگر سینئر ممبران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع میں مائنز کی الاٹمنٹ سے متعلق مختلف زیرِ التوا کیسز کی موجودہ پیش رفت، درپیش مسائل اور فنی و قانونی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔کیسز کی جانچ پڑتال کے دوران ڈپٹی کمشنر ہرنائی نے محکمہ جنگلات، محکمہ مال اور پولیس کے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ مائنز الاٹمنٹ کے لیے تجویز کردہ علاقوں کا موقع پر جا کر مشترکہ معائنہ (سائٹ وزٹ) کریں۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کو مندرجہ ذیل احکامات جاری کیے الاٹمنٹ کے لیے مختص زمین کی نوعیت، حدود اور جغرافیائی موقع کا درست انداز میں تعین کیا جائے۔ متعلقہ رقبے پر محکمہ جنگلات کے دائرۂ اختیار اور قانونی پہلوؤں کی مکمل تصدیق کر کے جامع رپورٹ مرتب کی جائے۔ تمام ضروری کارروائی اور تصدیقی مراحل بلا تاخیر مکمل کر کے رپورٹس متعلقہ فورم پر پیش کی جائیں تاکہ کیسز کو قواعد و ضوابط کے مطابق آگے بڑھایا جا سکے ڈپٹی کمشنر نے محکموں کے مابین باہمی رابطہ کاری (کوآرڈینیشن) کو مزید فعال بنانے پر زور دیا تاکہ انتظامی تاخیر کے باعث مائنز کی الاٹمنٹ کے معاملا ت تعطل کا شکار نہ ہوں۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ضلع میں معدنی وسائل کی الاٹمنٹ کے تمام امور کو سرکاری قواعد و ضوابط، مروجہ قوانین اور زمینی حقائق کے مطابق مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدارانہ اور قانونی طریقے سے نمٹایا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/8803
اوتھل9اکتوبر:ـہندو پنچایت اوتھل کے وفد نےمُکھی شام لعل لاسی کی سربراہی میں کمشنر لسبیلہ ڈویژن محترمہ سائرہ عطا بلوچ سے کمشنر آفس اوتھل میں ملاقات کی۔ملاقات کے دوران وفد نے محترمہ سائرہ عطا بلوچ کو لسبیلہ ڈویژن کی پہلی کمشنر مقرر ہونے پر دلی مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ملاقات کے وقت ڈپٹی کمشنر لسبیلہ میڈم حمیرہ بلوچ اور ایس ایس پی لسبیلہ نجیب اللہ پندرانی بھی کمشنر آفس میں موجود تھے۔ملاقات انتہائی خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی، جس کے دوران لسبیلہ ڈویژن میں امن و امان، بھائی چارے، بین المذاہب ہم آہنگی، باہمی احترام اور مختلف برادریوں کے درمیان مثبت روابط کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔اس موقع پر مُکھی شام لعل لاسی، سربراہ ہندو پنچایت اوتھل نے کہا کہ ہندو برادری لسبیلہ میں دیگر تمام برادریوں کے ساتھ پرامن طریقے سے رہ رہی ہے اور علاقے کے امن و استحکام کو ہمیشہ مقدم رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لسبیلہ کی تمام برادریاں، بشمول ہندو برادری، ملکی قوانین کا احترام اور قانون کی مکمل پاسداری کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندو برادری لسبیلہ میں امن، بھائی چارے، مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گی اور انتظامیہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی۔وفد میں ہندو برادری اوتھل کے معزز ممبران آسن داس گنڈامل، جیٹھامل لیلانی، سومجھی مل رامچندانی، رام لعل مگن مل، میونسپل کمیٹی اوتھل کے اقلیتی کونسلر جیرام داس عرف جیرو، مولچند لیلانی، اِندر سین ہروانی، اشوک کمار گنڈامل اور کیشؤ کمار جیٹھانند شامل تھے۔ملاقات کے اختتام پر ہندو پنچایت اوتھل کی جانب سے کمشنر لسبیلہ ڈویژن محترمہ سائرہ عطا بلوچ کو بلوچی چادر کا تحفہ پیش کیا گیا، جبکہ وفد کی جانب سے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔ہندو پنچایت اوتھل نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ضلعی انتظامیہ اور ہندو برادری کے درمیان باہمی تعاون، اعتماد اور رابطے کا سلسلہ مزید مضبوط ہوگا۔


