خبر نامہ نمبر8435/2026
کوئٹہ، 30 ستمبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ کے سینئر صحافی عبدالستار کاکڑ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مرحوم کے اہل خانہ اور لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، انہیں جوار رحمت میں جگہ عطا کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل دے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ عبدالستار کاکڑ کی صحافتی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، ان کے انتقال سے صحافتی حلقے ایک سینئر اور تجربہ کار صحافی سے محروم ہوگئے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8436/2026
کوئٹہ، 30 ستمبر۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ورلڈ فوڈ پروگرام پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش نے ملاقات کی، جس میں بلوچستان میں غذائی قلت کے خاتمے، غذائی تحفظ، غذائیت کی بہتری اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت جاری منصوبوں میں وسعت سمیت باہمی تعاون مزید بڑھانے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں بلوچستان میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت جاری منصوبوں، صوبے میں غذائی صورتحال اور مستقبل کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر غذائی قلت سے نمٹنے، بچوں اور خواتین کو معیاری غذائیت کی فراہمی اور غذائی تحفظ کے لیے مشترکہ اقدامات کو مزید موثر بنانے پر بھی بات چیت ہوئی۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں غذائی قلت ایک سنگین مسئلہ ہے جس کے تدارک کے لیے حکومت، عالمی اداروں اور متعلقہ شراکت داروں کے درمیان مربوط اور مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان غذائی قلت کے خاتمے اور غذائی تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے اور اس ضمن میں عالمی اداروں کے تعاون کو اہمیت دیتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بچوں اور خواتین کو مناسب اور معیاری غذائیت کی فراہمی صحت مند اور توانا معاشرے کی تشکیل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ غذائی قلت کا براہ راست تعلق انسانی صحت، بچوں کی نشوونما اور مجموعی انسانی ترقی سے ہے، اس لیے اس مسئلے کے حل کے لیے طویل المدتی اور پائیدار اقدامات ناگزیر ہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے مشترکہ اقدامات صوبے میں غذائی قلت کے خاتمے اور غذائی تحفظ کے فروغ کے لیے نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔ انہوں نے ورلڈ فوڈ پروگرام کے جاری منصوبوں کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت باہمی تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان غذائی تحفظ اور انسانی ترقی کے شعبوں میں عالمی اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید موثر بنائے گی تاکہ صوبے کے عوام بالخصوص بچوں اور خواتین کو بہتر غذائی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ ملاقات میں ورلڈ فوڈ پروگرام کی جانب سے بلوچستان میں جاری اقدامات اور مستقبل کے پروگرامز کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8437/2026
وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق صوبائی سیکرٹری اسکولز لعل جان جعفر کی زیر نگرانی ٹیکنیکل ماڈل ہائی اسکول کوئٹہ میں بلوچستان اسٹوڈنٹ لرننگ امپروومنٹ پروگرام (BSLIP) کے تحت طلبہ کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے، سیکھنے کے عمل کو موثر بنانے اور تعلیمی معیار میں بہتری لانے کے لیے طلبہ میں مختلف نوعیت کا تعلیمی سامان تقسیم کیا گیا۔پروگرام کے تحت ضلع کوئٹہ کے لیے اسکول بیگز، ایم ایچ ایم کٹس، کلر پنسل سیٹس، اسٹوری بکس، ڈی آر آر کٹس اور فلیش کارڈ سیٹس تقسیم کیے گئے۔اس موقع پر سیکرٹری اسکولز نے کہا کہ صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق معیاری تعلیم کے فروغ، طلبہ کو ضروری تعلیمی وسائل کی فراہمی اور اسکولوں میں سازگار تعلیمی ماحول کے قیام کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے بچوں کو معیاری تعلیمی سہولیات اور ضروری سامان کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ سیکرٹری اسکولز نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعلیمی سامان کی شفاف، منصفانہ اور بروقت تقسیم کو یقینی بنایا جائے اور طلبہ کو درپیش تعلیمی مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔اس موقع پر سیکریٹری اسکول ایجوکیشن بلوچستان لعل جان جعفر کی زیر نگرانی بلوچستان کے سرکاری اسکولوں میں بچوں کی صحت کے تحفظ، بروقت طبی مسائل کی نشاندہی اور صحت مند تعلیمی ماحول کے فروغ کے لیے Health Screening Initiative in Balochistan کے تحت ہیلتھ اسکریننگ کا عمل جاری ہے۔سیکریٹری اسکولز لعل جان جعفر نے کہا کہ بچوں کی صحت اور تعلیم باہم منسلک ہیں، صحت مند بچے ہی بہتر انداز میں تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں میں ہیلتھ اسکریننگ کے ذریعے بچوں کے صحت کے مسائل کی بروقت نشاندہی اور مناسب طبی رہنمائی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان بچوں کو صحت مند، محفوظ اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مربوط اقدامات جاری رکھے گی۔یہ اقدام یونیسف اور حکومتِ ناروے کے تعاون سے بچوں کو صحت مند آغاز اور بہتر مستقبل فراہم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن اسکولز بلوچستان کے تحت ہیلتھ اسکریننگ سرگرمیوں کو موثر انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8438/2026
بیکڑ نارتھ ڈیرہ بگٹی 30ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر نارتھ ڈیرہ بگٹی ریاض احمد داوڑ نے محکمہ صحت اور میر غلام قادر بگٹی میموریل ہسپتال بیکڑ (IHHN) کی انتظامیہ کے ہمراہ ہسپتال میں نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ (NICU) کی توسیع اور لیول اپ گریڈیشن کا باقاعدہ افتتاح کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ NICU کی توسیع اور اپ گریڈیشن سے کم عمر اور نازک حالت میں پیدا ہونے والے نوزائیدہ بچوں کو اپنے ہی علاقے میں بروقت اور معیاری طبی نگہداشت کی سہولت میسر آئے گی۔ بالخصوص زچگی کے دوران پیچیدگیوں کا سامنا کرنے والے بچوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے گی۔انہوں نے کہا کہ اس سہولت کے باعث نوزائیدہ بچوں کو علاج کے لیے دور دراز شہروں میں منتقل کرنے کی ضرورت میں کمی آئے گی، جبکہ علاقے میں ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ کے لیے طبی سہولیات مزید بہترہوں گی۔دور افتادہ علاقے کے عوام کے لیے NICU کی یہ توسیع و اپ گریڈیشن ایک اہم طبی پیش رفت ہے، جو نوزائیدہ بچوں کو بہتر اور بروقت علاج کی فراہمی میں موثر کردار ادا کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8439/2026
نصیرآبادڈویژن30ستمبر۔ وزیراعظم پٹرول ریلیف اسکیم کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال اور اسسٹنٹ کمشنر استامحمد ماریہ شمون نے طاہر پی ایس او پٹرول پمپ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ایس ایچ او سٹی ندیم بہرانی بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ موجود تھے۔دورے کے دوران پٹرول پمپ مالکان کو عوام کو وزیراعظم پٹرول ریلیف کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کا پابند کیا گیا۔ پٹرول پمپ انتظامیہ کا آئل مارکیٹنگ کمپنی (او ایم سی) سے رابطہ کروا کر آئی ڈی فعال کروانے کا مسئلہ حل کیا گیا، جبکہ ریلیف کی رقم حکومت کی جانب سے پٹرول پمپ مالک کے اکاونٹ میں واپس منتقل ہونے کے طریقہ کار سے متعلق مسئلہ بھی حل کر دیا گیااسی سلسلے میں یوسف پمپ کی جانب سے او ایم سی سے مطلوبہ رابطہ نہ رکھنے اور عوام کو ریلیف کی فراہمی میں سستی کا مظاہرہ کرنے پر پٹرول پمپ کو سیل کر دیا گیا جبکہ کاشف پمپ (گو) کی انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کل تک او ایم سی سے پاس ورڈ حاصل کرکے عوام کو وزیراعظم پٹرول ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ مقررہ وقت میں عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں پمپ انتظامیہ کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ عوام کے لیے فراہم کردہ وزیراعظم پٹرول ریلیف کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت، تاخیر یا رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8440/2026
اورماڑہ 30 ستمبر ۔ ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن میل گوادر عبدالوہاب مجید نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم کی فراہمی، اساتذہ کی حاضری اور طلبہ کے تعلیمی نتائج میں بہتری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، غیر حاضر اور فرائض میں غفلت کے مرتکب اساتذہ کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی جاری ہے۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اپنی تمام تر پیشہ ورانہ صلاحیتیں تدریس کے عمل میں بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کی تعلیمی استعداد بہتر بنانے میں اپنا موثر کردار ادا کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل اورماڑہ کے مختلف تعلیمی اداروں کے دورے کے موقع پر کیا، جہاں انہوں نے گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول بسول، گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول ہڈ اور گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول پنجگ کا معائنہ کیا اور اساتذہ و طلبہ کی حاضری، تدریسی سرگرمیوں، انتظامی امور اور مجموعی تعلیمی ماحول کا جائزہ لیا۔ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن نے کلاس رومز میں جاری تدریسی سرگرمیوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے اسکول انتظامیہ اور اساتذہ کو طلبہ کی باقاعدہ حاضری، معیاری تدریس اور بہتر تعلیمی نتائج کے لیے موثر اقدامات کی ہدایت کی انہوں نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول اورماڑہ میں جاری چھ روزہ لٹریسی و نیومریسی ورکشاپ کا بھی دورہ کیا اور مختلف تربیتی سیشنز کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ورکشاپ میں شریک اساتذہ پر زور دیا کہ ورکشاپ سے حاصل ہونے والی جدید تدریسی مہارتوں کو کلاس روم میں موثر انداز میں استعمال کیا جائے تاکہ طلبہ کی بنیادی خواندگی، عددی مہارت اور مجموعی تعلیمی استعداد میں پائیدار بہتری لائی جا سکے انہوں نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں کی مسلسل نگرانی، اساتذہ کی حاضری اور تدریسی معیار کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا اور طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8441/2026
گوادر30 ستمبر ۔ یونیورسٹی آف گوادر کے فیکلٹی ممبر مرزا غالب نے ایشیائی مطالعات کی انجمن کے زیرِ اہتمام ایشیا میں انجمن 2026 کانفرنس میں یونیورسٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے گوادر کے ماہی گیروں کے مقامی علم اور روایتی دانش کے موضوع پر تحقیقی مقالہ پیش کیا۔ تین روزہ کانفرنس 25 تا 27 ستمبر لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز، لاہور میں منعقد ہوئی، جس کا مرکزی موضوع “ایشیا کو مرکزیت دینا: روابط کی ازسرنو تشکیل، مستقبل کی نئی نقشہ بندی” تھا مزرا غالب کی تحقیق میں گوادر کے ساحلی معاشرے کے روایتی علم، ماہی گیری کے تجربات اور سمندر و موسمی حالات سے متعلق مقامی دانش کا جائزہ پیش کیا گیا، جو نسل در نسل منتقل ہوتی آ رہی ہے۔ تحقیق نے بلوچستان کے ساحلی معاشرے کے علمی و ثقافتی ورثے اور سماجی و معاشی زندگی میں مقامی علم کی اہمیت کو اجاگر کیا یونیورسٹی آف گوادر کی انتظامیہ نے مرزا غالب کی بین الاقوامی علمی کانفرنس میں شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی مقامی و علاقائی موضوعات پر معیاری تحقیق اور اسے قومی و بین الاقوامی علمی فورمز تک پہنچانے کے لیے فیکلٹی کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8442/2026
پسنی 30 ستمبر ۔ گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن (GPE) اور یونیسیف (UNICEF) کے تعاون سے پرووینشل انسٹیٹیوٹ فار ٹیچر ایجوکیشن (PITE) بلوچستان کے زیرِ اہتمام خواندگی اور عددی مہارتوں (Literacy & Numeracy) کے فروغ کے لیے اساتذہ کا 16 روزہ تربیتی پروگرام جاری ہے اس تربیتی ورکشاپ میں ماسٹر ٹرینرز نذیر باہوٹ اور حاکم حکیم اساتذہ کو جدید تدریسی طریقوں، موثر تعلیمی حکمتِ عملیوں اور طلبہ کی بنیادی تعلیمی صلاحیتوں میں بہتری کے حوالے سے عملی تربیت فراہم کر رہے ہیں ورکشاپ میں پسنی سے 31 اساتذہ شریک ہیں، جبکہ جاری تربیتی سیشن میں انگریزی زبان اور تدریسی مہارتوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8443/2026
ساوتھ ڈیرہ بگٹی 30 ستمبر۔ڈپٹی کمشنر ساوتھ ڈیرہ بگٹی زوہیب الحق کی ہدایات پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ساوتھ ڈیرہ بگٹی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن مانیٹرنگ آفیسر اور دیگر متعلقہ افسران نے گورنمنٹ بوائز مڈل سکول غلام حیدر پٹ کا دورہ کیا۔ دورے کا مقصد سکول کے بند اور غیر فعال ہونے سے متعلق موصولہ شکایت کی موقع پر جانچ پڑتال کرنا تھا۔معائنے کے دوران افسران نے سکول کی حاضری، تدریسی عمل، طلبہ کی موجودگی اور بنیادی سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر مجموعی طور پر 54 طلبہ میں سے 29 طلبہ حاضر پائے گئے جبکہ سکول میں 13 اساتذہ تعینات ہیں۔ طلبہ کی تعداد کے مقابلے میں اساتذہ کی تعداد زیادہ ہونے کے پیش نظر متعلقہ حکام نے ڈپٹی کمشنر ساوتھ ڈیرہ بگٹی کی ہدایات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اضافی اساتذہ کو ایسے سکولوں میں تعینات کیا جائے جہاں طلبہ کی تعداد زیادہ ہے، تاکہ دستیاب تدریسی وسائل کو موثر انداز میں بروئے کار لایا جا سکے۔ افسران کے معائنے کے دوران سکول کی بنیادی سہولیات اور مجموعی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا، جو ناکافی پائی گئی، تاہم سکول موقع پر فعال پایا گیا۔ اس موقع پر تدریسی عملے کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں باقاعدگی سے ادا کریں، طلبہ کی تعلیم پر بھرپور توجہ دیں اور مقررہ اوقات کار کے دوران سکول کو کسی بھی صورت غیر فعال یا بند نہ رکھا جائے۔ متعلقہ افسران نے واضح کیا کہ اساتذہ کی غیر حاضری، فرائض میں غفلت اور سکول کی بندش یا عدم فعالیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا جبکہ تعلیمی اداروں کی فعالیت اور طلبہ کو تعلیمی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ نگرانی جاری رکھی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8444/2026
ضلع چمن 30 ستمبر ۔ضلع چمن سپیکر بلوچستان اسمبلی اور ڈپٹی کمشنر چمن کی زیرِ صدارت کھلی کچہری، عوامی مسائل کے بروقت حل کی ہدایات* ضلع چمن میں عوامی مسائل کے براہِ راست ازالے، گورننس میں بہتری اور ترقیاتی امور کا جائزہ لینے کے لیے آج ڈی سی کمپلیکس اسمبلی ہال چمن میں *کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت سپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی اور ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے مشترکہ طور پر کی۔کھلی کچہری میں ضلع چمن کے قبائلی عمائدین، علمائے کرام، قومی مشران، معززینِ علاقہ اور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر شہریوں نے نادرا، بجلی، بے روزگاری صفائی ستھرائی کے موثر نظام کے لیے گلیوں، نالیوں اور سڑکوں کی باقاعدگی سے صفائی، گندے اور کھڑے پانی کی بروقت نکاسی، کوڑا کرکٹ کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے اور گلی محلوں میں صفائی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت خصوصاً ہسپتالوں اور دیگر عوامی مقامات کے اطراف صفائی ستھرائی کے حوالےسے تاکہ گندگی، بدبو اور آلودگی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو صاف ستھرا اور صحت مند ماحول فراہم کرنے اور دیگر مختلف عوامی، انتظامی، ترقیاتی اور بنیادی سہولیات سے متعلق اپنے مسائل، شکایات اور تجاویز براہِ راست سپیکر بلوچستان اسمبلی اور ڈپٹی کمشنر چمن کے سامنے پیش کیں۔سپیکر بلوچستان اسمبلی اور ڈپٹی کمشنر چمن نے شرکاءکے مسائل اور شکایات توجہ اور تحمل کے ساتھ براہِ راست سنیں اور موقع پر موجود متعلقہ محکموں کے افسران کو متعدد امور کے فوری حل اور ضروری اقدامات کے لیے ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور متعلقہ حکام ہر ممکن طور پر شہریوں کو ریلیف کی فراہمی یقینی بنائیں۔کھلی کچہری کے دوران BSDI اسکیم سمیت ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولیات کی فراہمی، شہری مسائل اور دیگر اہم انتظامی امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ محکموں کے افسران نے اپنے اپنے شعبوں سے متعلق جاری اقدامات اور پیش رفت سے اجلاس کو آگاہ کیا۔سپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطے کے ذریعے مسائل کے حل کو مزید موثر بنایا جا سکتا ہے۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ کھلی کچہری میں عوام کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل اور درخواستوں پر فوری اور ترجیحی بنیادوں پر کارروائی کی جائے اور جن امور کا تعلق ضلعی انتظامیہ یا متعلقہ محکموں سے ہے، انہیں مقررہ مدت میں نمٹانے کے لیے موثر اقدامات یقینی بنائے جائیں۔اس موقع پر ضلعی انتظامیہ، پولیس، چمن اسکاوٹس، مختلف سرکاری محکموں کے افسران اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ کھلی کچہری میں عوام کی بھرپور شرکت اس امر کی عکاس رہی کہ عوامی رابطہ، شفاف طرزِ حکمرانی اور مسائل کے بروقت حل کے لیے موثر رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز8445/2026
ہرنائی 30 ستمبر ۔شہر کو صاف ستھرا بنانے اور عوام کو صحت بخش ماحول کی فراہمی کے پیش نظر میونسپل کمیٹی ہرنائی کے سینیٹیشن عملے کی جانب سے روزمرہ کی صفائی ستھرائی کی سرگرمیاں بلا تعطل جاری ہیں۔ اس سلسلے میں ضلع انتظامیہ اور بلدیاتی حکام کی خصوصی ہدایات پر شہر کے اہم تجارتی و رہائشی علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر جامع صفائی ڈرائیو چلائی جا رہی ہے آج مورخہ 30 ستمبر 2026 کو سینیٹیشن ٹیموں نے ہرنائی بازار کے مرکزی تجارتی مراکزی علاقوں کے علاوہ نیو جلال آباد اور گنج روڈ میں خصوصی صفائی آپریشن میں حصہ لیا ہرنائی بازارمرکزی بازار اور دکانوں کے اطراف جمع شدہ کوڑا کرکٹ اور کچرے کے ڈھیر فوری طور پر تلف کر دیے گئے، جبکہ نالیوں کی صفائی کر کے نکاسی آب کے نظام کو روان رکھا گیا رہائشی گلیوں اور عمومی شاہراوں پر سینیٹیشن عملے نے کچرا اٹھا کر صفائی ستھرائی کے بہترین انتظامات کو یقینی بنایا گنج روڈ اور اس کے ملحقہ راستوں سے ملبہ و کچرا جمع کر کے مخصوص مقامات پر منتقل کیا گیا میونسپل کمیٹی انتظامیہ نےشہریوں اور تاجر برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ کچرا گلیوں اور سڑکوں پر پھینکنے کے بجائے مقررہ ڈسٹ بنز اور صفائی کے پوائنٹس پر ڈالیں تاکہ شہر کو خوبصورت اور بیما ریوں سے پاک رکھا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز 8446/2026
کوئٹہ30 ستمبر۔محکمہ ثقافت (کلچر ڈیپارٹمنٹ) کے زیرِ اہتمام منعقدہ پروقار “علامہ اقبال صوبائی ادبی ایوارڈ” کی شاندار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم میڈم راحیلہ حمید خان درانی نے کہا ہے کہ علم و ادب سے گہرا لگاو اور کتابوں سے وابستگی کسی بھی باحیات اور بیدار معاشرے کی روح ہوتی ہے۔ ہمارے ادیب، محققین، اور شعرا ہمارا عظیم قومی و فکری سرمایہ ہیں جن کی کاوشیں معاشرے کو سمت اور شعور فراہم کرتی ہیں۔تقریب کا باقاعدہ افتتاح سیکرٹری کلچر نے کیا، جبکہ اختتامی نشست کی مہمانِ خاص صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی تھیں۔ تقریب میں صوبے کی پانچ اہم زبانوں—اردو، پشتو، بلوچی، براہوی اور ہزارگی—میں بہترین نثر نگاری، شاعری، ناول نگاری اور تحقیق و تصنیف پر تقریباً 70 ممتاز قلمکاروں اور اہلِلِ علم کو ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں صوبائی ادبی ایوارڈز سے نوازا گیا۔اپنے تفصیلی خطاب میں صوبائی وزیر تعلیم نے تمام ایوارڈ یافتگان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی علمی و ادبی خدمات کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا وقت کی ضرورت ہے، تاہم ڈیجیٹل فن اور جدید ٹیکنالوجی کی آمد کے باوجود کتاب کی اہمیت و افادیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنی نئی نسل کو ڈیجیٹل دنیا کے ساتھ ساتھ کتب بینی اور مطالعے کی طرف راغب کرنا ہوگا تاکہ ان کی فکری و اخلاقی تربیت پائیدار بنیادوں پر ہو سکے۔راحیلہ حمید خان درانی نے خطے کی مختلف زبانوں میں تخلیق کیے جانے والے ادب کو باہمی یگانگت، امن اور ثقافتی تنوع کا عکس قرار دیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ادیبوں، شاعروں اور مصنفین کی سرپرستی جاری رکھے گی تاکہ علم و ادب کا یہ سفر مزید توانائی کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔انہوں نے اس باوقار تقریب کے بہترین انعقاد پر محکمہ ثقافت اور تمام منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ حکومت صوبے میں تعلیمی و ادبی ماحول کی ترویج کے لیے ہر ممکن وسائل فراہم کرتی رہے گی۔ تقریب میں کثیر تعداد میں ادیبوں، دانشوروں، شعرا اور شائقینِ ادب نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8447/2026
لورالائی30ستمبر ۔بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز (BIITMS) لورالائی میں ڈیجیٹل آفس منیجمنٹ کورس کی تقریبِ تقسیمِ اسناد منعقد ہوئی، جس کے مہمانِ خصوصی کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ تھے۔ کورس میں لورالائی کے 36 مختلف سرکاری محکموں سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں نے شرکت کی اور جدید دفتری امور، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور کمپیوٹرائزڈ نظام سے متعلق تربیت حاصل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے کہا کہ موجودہ دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی محض ایک سہولت نہیں بلکہ موثر، شفاف اور تیز رفتار انتظامی نظام کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ سرکاری اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے دفتری امور کو بہتر انداز میں منظم کرنے، ریکارڈ کو محفوظ بنانے، معلومات تک بروقت رسائی، وقت اور وسائل کی بچت اور عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی میں نمایاں مدد ملتی ہےانہوں نے کہا کہ سرکاری محکموں کے اہلکاروں کو جدید آئی ٹی مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ ڈیجیٹل گورننس کے ذریعے روایتی دفتری طریقہ کار کو مزید موثر، شفاف اور جوابدہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے تربیتی کورس کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام سرکاری ملازمین کی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ اداروں کی مجموعی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کمشنر نے اس امر پر بھی زور دیا کہ سرکاری محکموں میں پیپر لیس آفس، ڈیجیٹل ریکارڈ، آن لائن کمیونیکیشن اور جدید ڈیٹا مینجمنٹ کو فروغ دیا جائے تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی میں تیزی لائی جا سکے اور دفتری معاملات میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے تقریب سے ریکٹر بائٹمز لورالائی انجینئر عزیز خلجی نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ بائٹمز لورالائی نوجوانوں اور سرکاری و نجی اداروں سے وابستہ افراد کو جدیدٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے عملی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے باعث سرکاری اداروں میں کام کرنے والے اہلکاروں کے لیے جدید ڈیجیٹل مہارتوں کا حصول ناگزیر ہو چکا ہےانہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل آفس منیجمنٹ جیسے تربیتی پروگرام سرکاری اہلکاروں کو جدید دفتری سافٹ ویئر، ڈیجیٹل ریکارڈ مینجمنٹ، آن لائن ڈیٹا ہینڈلنگ اور موثر دفتری رابطہ کاری کے حوالے سے عملی مہارت فراہم کرتے ہیں، جس سے اداروں کی کارکردگی میں بہتری آ سکتی ہےتقریب کے اختتام پر کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ اور ایم ایم ڈی آفیسر محمد گل خروٹی اور دیگر معززین نے کامیاب تربیت مکمل کرنے والے مختلف سرکاری محکموں کے اہلکاروں میں اسناد تقسیم کیں۔ شرکاءنے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دورانِ تربیت حاصل ہونے والی جدید آئی ٹی مہارتوں کو اپنے متعلقہ محکموں میں بروئے کار لاتے ہوئے دفتری امور کو مزید موثر اور جدید بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8448/2026
لورالائی، 30 ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت ضلعی انٹیلیجنس کوآرڈینیشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع کی مجموعی امن و امان، سیکیورٹی صورتحال، حساس مقامات کی نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باہمی رابطہ کار کو تفصیلی طور پر زیرِ غور لایا گیااجلاس میں متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی اور ضلع میں موجودہ سیکیورٹی صورتحال، ممکنہ خطرات، حفاظتی انتظامات اور مختلف علاقوں میں نگرانی کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی۔شرکاء نے ضلع کے مختلف حساس مقامات، سرکاری تنصیبات، اہم شاہراہوں اور دیگر اہم مقامات پر سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا، جبکہ مشتبہ سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی، معلومات کے تبادلے اور انٹیلیجنس شیئرنگ کے نظام کو مزید موثر بنانے پر بھی غور کیا گیاڈپٹی کمشنر محمد حسیب شجاع نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اور ضلع میں امن و امان کا قیام ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں باہمی رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنایا جائے اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائےانہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں موثر نگرانی جاری رکھیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی یا قابلِ تشویش اطلاع کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ حکام کو آگاہ کیا جائے، تاکہ بروقت اقدامات اٹھائے جا سکیں اجلاس میں قانون و ضابطے کی خلاف ورزیوں کی روک تھام، مشکوک افراد اور سرگرمیوں کی نگرانی، حساس تنصیبات کے حفاظتی انتظامات، داخلی و خارجی راستوں پر نگرانی اور مختلف اداروں کے درمیان معلومات کے بروقت تبادلے سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئےڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ سیکیورٹی معاملات میں تمام ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون اور موثر رابطہ برقرار رکھیں، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اہلکاروں کی تیاری اور رسپانس میکنزم کو فعال رکھا جائی انہوں نے مزید کہا کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ، پولیس، لیویز اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط حکمتِ عملی کے تحت اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گےاجلاس کے اختتام پر ضلعی انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ لورالائی میں امن و امان کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر مربوط اور موثر اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8449/2026
ژوب، 30 ستمبر ۔ ضلعی انتظامیہ ژوب اور میونسپل کمیٹی کی جانب سے شہر میں صفائی ستھرائی کے نظام کو مزید موثر بنانے اور شہری ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے خصوصی صفائی مہم بھرپور انداز میں جاری ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر ژوب محمد نوید عالم اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی ژوب جہانگیر خان کی نگرانی میں شہر کے مختلف علاقوں میں صفائی کا کام کیا جا رہا ہےصفائی مہم کے دوران آج بابو محلہ، این-50 کمال خان چوک تا شاہین چوک، چائنا روڈ، جیل روڈ اور نیو آبادی نزد شیخان ٹاون میں مین نالیوں، اہم شاہراہوں، گلیوں اور دیگر مقامات کی صفائی کی گئی، جبکہ سڑکوں کے اطراف جمع کچرے اور گندگی کو بھی ہٹایا گیاصفائی کے عمل کو موثر بنانے کے لیے مجموعی طور پر تین خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو شہر کے مختلف علاقوں میں بیک وقت صفائی کی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں۔ ان میں سے ایک ٹیم کو خصوصی طور پر بند اور گندگی سے بھری نالیوں کی صفائی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، تاکہ نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے اور بارش یا دیگر وجوہات کی وجہ سے پانی جمع ہونے کے مسائل میں کمی لائی جا سکےضلعی انتظامیہ کے مطابق خصوصی صفائی مہم پورے ایک ماہ تک جاری رہے گی، جس کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں مرحلہ وار صفائی، نالیوں کی صفائی، کوڑا کرکٹ اٹھانے اور شاہراہوں و گلیوں کو صاف رکھنے کے اقدامات کیے جائیں گےاس موقع پر انتظامیہ کی جانب سے شہریوں اور بالخصوص تاجروں سے اپیل کی گئی کہ وہ صفائی کے عمل میں ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور کوڑا کرکٹ مقررہ مقامات پر ڈالیں۔ انتظامیہ کے مشاہدے کے مطابق مین شاہراہوں پر واقع بعض دکانوں سے کوڑا کرکٹ براہِ راست مین نالیوں میں پھینکا جا رہا ہے، جس کے باعث نالیاں بند ہونے کے ساتھ ساتھ نکاسی آب کا نظام بھی متاثر ہوتا ہےاس حوالے سے متعلقہ دکانداروں کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نالیوں میں کچرا پھینکنے سے فوری طور پر گریز کریں اور صفائی کے ضابطوں کی پابندی کریں۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ صفائی کے حوالے سے جاری ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی اسسٹنٹ کمشنر محمد نوید عالم اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی جہانگیر خان نے متعلقہ صفائی ٹیموں کو ہدایت کی کہ شہر میں صفائی کے معیار کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ روزانہ کی بنیاد پر صفائی کی صورتحال کی نگرانی کی جائے اور عوامی مقامات، اہم شاہراہوں اور نکاسی آب کی نالیوں کو خصوصی طور پر صاف رکھا جائے ضلعی انتظامیہ نے کہا کہ صاف ستھرا اور صحت مند ماحول عوام کے بنیادی مفاد میں ہے، تاہم شہر کو صاف رکھنے کی ذمہ داری صرف انتظامیہ یا میونسپل کمیٹی تک محدود نہیں بلکہ شہریوں، تاجروں اور تمام طبقات کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انتظامیہ کی جانب سے صفائی مہم کو کامیاب بنانے کے لیے عوام سے تعاون کی اپیل کی گئی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8450/2026
دکی30 ستمبر ۔ ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) پروگرام کے تحت فٹسال گراونڈ تا مائنز روڈ پر جاری ترقیاتی کام کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے منصوبے پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں، کام کی رفتار، پیش رفت اور تعمیراتی معیار کا جائزہ لیاڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام اور تعمیراتی عملے سے منصوبے کے مختلف مراحل کے حوالے سے بریفنگ لی اور ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبے میں معیاری تعمیراتی مواد کے استعمال، تکنیکی اصولوں کی پابندی اور تعمیراتی معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائےانہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی کام کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں ہوگا، جبکہ غیر معیاری تعمیراتی مواد کے استعمال یا کام میں غفلت کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کے تعمیراتی مراحل کو مقررہ معیار اور منصوبہ بندی کے مطابق مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ کام کی رفتار میں بھی بہتری لائی جائے تاکہ منصوبہ مقررہ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچ سکے ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے BSDI پروگرام کے تحت مختلف علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان منصوبوں کا بنیادی مقصد عوام کو بہتر بنیادی سہولیات کی فراہمی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا اور شہریوں کو آمدورفت کی بہتر سہولت فراہم کرنا ہےانہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل سے نہ صرف شہریوں کو سفری سہولیات میں آسانی حاصل ہوگی بلکہ علاقے میں تجارتی و معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ منصوبے کی مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے اور کام کے معیار و رفتار سے متعلق پیش رفت سے ضلعی انتظامیہ کو باقاعدگی سے آگاہ کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8451/2026
دکی30 ستمبر ۔ ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی نے کمانڈر 87 ونگ کرنل شاہد بلال کے ہمراہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز تھری کے تحت جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے مختلف منصوبوں پر جاری تعمیراتی کام، پیش رفت، تعمیراتی معیار اور کام کی رفتار کا جائزہ لیاڈپٹی کمشنر اور کمانڈر 87 ونگ نے ختمِ نبوت چوک، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور قائداعظم مونومنٹ چوک پر جاری ترقیاتی کاموں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر متعلقہ حکام اور کنٹریکٹرز نے انہیں منصوبوں کی موجودہ پیش رفت، تعمیراتی مراحل اور مقررہ مدت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے متعلقہ حکام اور تعمیراتی عملے کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبے منظور شدہ ڈیزائن، تکنیکی اسپیسفکیشن اور مقررہ معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعمیراتی کاموں میں ناقص یا غیر معیاری میٹریل کے استعمال کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی اور منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام کی مسلسل نگرانی کی جائے اور منصوبوں کے ہر مرحلے میں معیار کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی صرف تعمیراتی کام مکمل کرنے میں نہیں بلکہ پائیدار اور معیاری سہولیات کی فراہمی میں ہے، اس لیے تمام متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کریں ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ تمام منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے اور کام کی رفتار میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے، تاکہ عوام کو ان ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات اور بہتر بنیادی سہولیات بروقت میسر آ سکیں انہوں نے کہا کہ BSDI پروگرام کے تحت جاری منصوبے علاقے میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور عوام کو جدید و بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے اہمیت کے حامل ہیں، جن کی بروقت اور معیاری تکمیل ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہےدورے کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق باقاعدہ نگرانی جاری رکھی جائے اور کام کے معیار، رفتار اور تکمیل کے مقررہ اہداف کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8452/2026
ژوب 30ستمبر۔ ضلعی انتظامیہ اور ایف سی کی اشتراک سے شیغالو تحصیل کاکڑ خراسان میں عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر کلیم اللہ نے کی کھلی کچہری میں ایف سی بلوچستان ایس ایچ او تھانہ شیغالو محمد یاسین تفتیشی آفیسر ولی خان محکمہ لائیو اسٹاک کے نمائندے قبائلی معتبرین علماءکرام اور علاقہ مکینوں نے شرکت کی کھلی کچہری میں عوام نے اپنے مسائل مہذب اور مدلل انداز میں پیش کئے علاقہ مکینوں نے بتایا کہ بجلی لوڈ شیڈنگ اور پینے کے صاف پانی کی شدید قلت نے عوام کا جینا دو بھر کر رکھا ہےشعبہ صحت تباہ حالی کا شکار ہے بنیادی مرکزِ صحت ڈسپنسری گذشتہ 15 سالوں سے غیر فعال اور ویران پڑی ہے تعلیمی نظام زبوں حالی کا شکار ہے گورنمنٹ مڈل اسکول شیغالو عرصہ دراز سے بند پڑا ہے جس سے بچوں کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور ناقابلِ استعمال ہیں متعلقہ ٹھیکیدار کام ادھورا چھوڑ کر چلا گیا ہے امن و امان کے قیام کے لیے لیویز فورس کی فوری بحالی اور تھانہ شیغالو میں پولیس نفری کی کمی کو پورا کیا جائے مال مویشی جو کہ یہاں کے عوام کا ذریعہ معاش ہے کے لیے ادویات اور ویکسین کی عدم دستیابی ایک سنگین مسئلہ ہے انسانی ادویات کی قلت اور نایاب جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار پر فی الفور پابندی عائد کی جائے خانہ بدوشوں کی مشکلات کا ازالہ اور ترقیاتی منصوبوں میں پسماندہ علاقہ شیغالو کو خصوصی ترجیح دی جائے اسسٹنٹ کمشنر کلیم اللہ اور ایف سی حکام نے عوام کے تمام مسائل انتہائی تحمل توجہ اور ہمدردی سے سنیں اور یقین دہانی کرائی گئی کہ ان کے تمام جائز و قانونی مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حکام کے سامنے پیش کیے جائینگے متعلقہ محکمہ جات کو پابند کیا جائے گا کہ وہ جلد از جلد ان مسائل کا سدباب کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8453/2026
کوئٹہ 30 ستمبر۔صوبائی مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات نسیم الرحمان خان ملا خیل سے مختلف وفود نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفود نے اپنے علاقوں میں درپیش مسائل پر تفصیل سے گفتگو کی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔نسیم الرحمان خان ملا خیل نے وفود کو بتایا کہ صوبائی حکومت ترقی اور عوامی فلاح کے ساتھ ساتھ ماحول کے تحفظ کو بھی اپنی پالیسیوں کا اہم حصہ بنا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں تعلیم، صحت، روزگار، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے ساتھ ساتھ ماحول دوست منصوبوں پر تیزی سے عمل جاری ہے۔ شجرکاری مہمات، آلودگی کے خاتمے اور قدرتی وسائل کے موثر استعمال جیسے اقدامات موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔صوبائی مشیر نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف ترقیاتی منصوبے مکمل کرنا نہیں بلکہ عوام کے لیے ایک صاف، سرسبز اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی شمولیت کے بغیر ترقی کا عمل ادھورا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہر شہری ماحولیاتی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ وفود نے اس موقع پر حکومت کی ماحولیاتی پالیسیوں اور عملی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے عوامی زندگی میں بہتری اور صوبے میں پائیدار ترقی کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8454/2026
قلات 30 ستمبر۔ تحصیلدار قلات حاجی عبدالغفار لہڑی کے زیر صدارت لوکل کمیٹی کا ہفتہ وار اجلاس منعقد ہوااجلاس میں لوکل کمیٹی ممبران موسی خان مینگل میر عبدالخالق پندرانی علی رودینی شیراحمدمینگل وڈیرہ رحیم مینگل چوہدری مدن لال نے شرکت کی اجلاس میں لوکل سرٹیفکیٹ حصول کے لئے درخواست گزاران کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے کمیٹی ممبران نے درخواستوں کی جانچ پڑتال کےبعد کوائف مکمل نہ ہونے پر متعدد لوکل سرٹیفکیٹ درخواستیں مسترداورمکمل کوائف رکھنے والی درخواستیں منظور کیںتحصیلدار حاجی عبدالغفار لہڑی نے تمام لوکل کمیٹی ممبران کو سختی سے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہر بدھ کو لوکل کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوگا کمیٹی میں شامل تمام ممبران اپنی شرکت یقینی بنائیں تاکہ لوکل سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیئے لوگوں کو کسی قسم کی مشکلات در پیش نہ ہوں ۔.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8455/2026
سوراب 30 ستمبر۔ حکومت بلوچستان اور ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر عبدالجبار بلوچ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج سوراب امان اللہ زہری، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن سوراب عبدالحق، سپریڈنٹ فضل محمد قمبرانی سمیت محکمہ تعلیم کے افسران، آر ٹی ایس ایم، خزانہ افسر، میل و فیمیل ڈی ڈی اوز، ہیڈ ماسٹرز و ہیڈ مسٹریس اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس میں ضلع بھر کی تعلیمی صورتحال، اساتذہ کی حاضری، تدریسی معیار، طلبہ کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، کلسٹر بجٹ کے استعمال، غیر حاضری اور دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس موقع پر تعلیمی معیار میں بہتری اور اسکولوں میں نظم و ضبط و حاضری یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8456/2026
کوئٹہ 30 ستمبر۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے بدھ کے روز پشین کے علاقے کلی ہیکلزئی سے تعلق رکھنے والے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ میں بلوچستان بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم ولی اللہ ترین ولد عین الدین نے ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ میں بلوچستان میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرنے پر ولی اللہ ترین کو مبارکباد دیتے ہوئے شاباش دی اور ان کی کامیابی کو قابلِ فخر قرار دیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان اپنی صلاحیت، محنت اور عزم کے ذریعے مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ ایسے باصلاحیت طلبہ نہ صرف اپنے والدین بلکہ پورے صوبے کے لیے باعثِ فخر ہیں میر سرفراز بگٹی نے ولی اللہ ترین کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی محنت اور لگن کو برقرار رکھتے ہوئے مستقبل میں بھی کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھیں۔ ملاقات کے موقع پر رکن صوبائی اسمبلی سید ظفر آغا بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8457/2026
کوئٹہ30 ستمبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ڈائریکٹر جنرل صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) جہانزیب خان غوریزئی کے والد کے انتقال پر ان کے گھر جاکر تعزیت کی اور مرحوم کی مغفرت کے لیے دعا کی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے رکن صوبائی اسمبلی محترمہ سلمہ خان کاکڑ کے دیور حاجی محمد جعفر خان کاکڑ کے انتقال پر ان کی رہائش گاہ پر جاکر تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے مرحومین کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے دعا کی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور سوگوار خاندانوں کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8458/2026
کوئٹہ30 ستمبر ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایت پر منیجنگ ڈائریکٹر بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (بی ٹیوٹا) عبد الکبیر خان زرکون نے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ کراچی کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ‘وزیر اعلیٰ بلوچستان یوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام’ کے تحت زیرِ تربیت صوبے کے نوجوانوں کے لیے کیے گئے تمام انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس انقلابی پروگرام کے تحت بلوچستان کے ایک ہزار (1000) ہونہار نوجوانوں کو کراچی کے معروف ادارے کیو ٹیک (QTech) کے ذریعے جدید آئی ٹی اور تکنیکی شعبوں میں عالمی معیار کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ تربیت کی مکمل فراہمی کے بعدان تمام نوجوانوں کو نامور سافٹ ویئر ہاوسز میں باقاعدہ روزگار (جابز) فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ صوبے کی معاشی ترقی میں اپنا فعال کردار ادا کر سکیں۔کراچی دورے کے دوران ایم ڈی بی ٹیوٹا عبد الکبیر خان زرکون اور دیگر افسران نے تربیتی مراکز، رہائشی سہولیات اور کلاس رومز کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے خصوصی پیغام کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی تمام تر ترجیح صوبے کے نوجوانوں کو بہترین اور معیارِ زندگی کے مطابق تمام ممکنہ سہولیات فراہم کرنا ہے۔عبد الکبیر خان زرکون نے دورے کے دوران زیرِ تربیت نوجوانوں سے براہِ راست ملاقات کی، ان سے مسائل دریافت کیے اور جائے وقوعہ پر ہی ان کے فوری حل کا حکم جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنا اور انہیں خود کفیل بنانا موجودہ صوبائی حکومت کا اولین منشور ہے۔علاوہ ازیں، بی ٹیوٹا کے اس دورے کا ایک اہم مقصد کراچی کی متعدد دیگر آئی ٹی کمپنیوں اور صنعتی اداروں کے ساتھ مستقبل کی شراکت داری کی راہیں ہموار کرنا بھی ہے۔ دورے میں مزید ایسے مواقع تلاش کیے جا رہے ہیں جن کے ذریعے بلوچستان کے مزید سینکڑوں نوجوانوں کے لیے مختلف شعبوں میں معیاری تربیت کے دروازے کھولے جا سکیں تاکہ انہیں ہنر مند بنا کر ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تیار کیا جا سکے۔ وفد میں ڈائریکٹر غلام مصطفیٰ رئیسانی،ڈائیریکٹر سربلند خان،اور دیگر افسران بھی انکے ہمراہ ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8459/2026
کوئٹہ، 30 ستمبر ۔بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی کمیٹی رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے بلوچستان کی پہلی ماس ٹرانزٹ ٹرین / جناح پیپلز ٹرین کو صوبائی حکومت کی جانب سے کوئٹہ کے عوام کے لیے ایک عظیم تحفہ قرار دیا ہے۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ماس ٹرانزٹ ٹرین کا افتتاح وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں عوام کو جدید، محفوظ، آرام دہ اور کم خرچ سفری سہولت کی فراہمی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ جناح پیپلز ٹرین کے لیے 32 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ صرف 120 روز میں مکمل کر لیا گیا ہے، جو صوبائی حکومت کی مثالی کارکردگی اور عوام دوستی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جناح پیپلز ٹرین کے روٹ میں کچلاک سے سریاب تک 7 اسٹیشنز شامل ہیں، جو کوئٹہ اور گردونواح کے شہریوں کے لیے سفری سہولیات میں بہتری کا ذریعہ بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ، ملازمین، کاروباری افراد اور عام شہریوں کے لیے یہ منصوبہ روزمرہ سفر کو مزید آسان بنانے، وقت اور سفری اخراجات میں کمی لانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ حکومت بلوچستان وزیراعلیٰ کے وڑن کے تحت عوامی سہولیات کی بروقت تکمیل اور بہتر سفری نظام کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جس سے صوبے کے عوام کا اعتماد اپنے منتخب نمائندوں پر مزید بڑھ رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8460/2026
کوئٹہ، 30 ستمبر ۔بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی کمیٹی رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے بلوچستان کے سینئر صحافی و تجزیہ نگار عبدالستار کاکڑ کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک تعزیتی بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ مرحوم عبدالستار کاکڑ ایک متحرک اور باصلاحیت صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نفیس طبع انسان بھی تھے۔ ان کی وفات سے صحافت کے شعبے پیدا ہونے والا خلاءکبھی بھی پر نہیں ہو سکے گا۔ صوبائی وزیر نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8461/2026
کوئٹہ 30ستمبر۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن زیشان لاشاری کی زیرصدارت گرین بس سروس کو ڈیجیٹائز اور عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا ، جس میں شہریوں کو بہتر، آسان اور جدید سفری سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ گرین بس سروس کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے ڈیجیٹل نظام سے ہم آہنگ کرنے کے امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری ٹرانسپورٹ،ایم ڈی پی ایم ٹی اے،ڈائیریکٹر جنرل پی ٹی سی بی،سی ای او پی پی پی ،سیکرٹری آر ٹی اے کوئٹہ،اسسٹنٹ کمشنر سٹی کوئٹہ،سی سی او ٹی ایس پی ایل اور چیف آپریٹنگ آفیسر کے علاو¿ہ دیگر افسران موجود تھے۔اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ عوام کو سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے گرین بس سروس کے نظام کو مرحلہ وار جدید اور ڈیجیٹلائزڈ کیا جائے، تاکہ شہریوں کو بس سروس سے متعلق تمام ضروری معلومات اپنے موبائل فون کے ذریعے باآسانی دستیاب ہوسکیں۔تجویز کردہ ڈیجیٹل نظام کے تحت شہری موبائل ایپ یا ویب پورٹل کے ذریعے گرین بس کے روٹس، بس اسٹاپس، اوقاتِ کار، کرایوں اور متعلقہ سفری معلومات حاصل کرسکیں گے، جبکہ لائیو بس ٹریکنگ کی سہولت بھی فراہم کرنے کی تجویز دی گئی تاکہ مسافروں کو معلوم ہوسکے کہ ان کی مطلوبہ بس اس وقت کہاں موجود ہے اور اگلی بس متوقع طور پر کتنے وقت میں متعلقہ اسٹاپ پر پہنچے گی۔اجلاس میں گرین بس سروس میں ڈیجیٹل ٹکٹنگ، الیکٹرانک ادائیگی، بس اسٹاپس پر ڈیجیٹل ڈسپلے، مسافروں کے لیے معلوماتی نظام، شکایات و تجاویز کے آن لائن اندراج اور ان کے بروقت ازالے سمیت دیگر جدید عوامی سہولیات متعارف کرانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔کمشنر زیشان لاشاری نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو شہریوں کے لیے زیادہ آسان، شفاف، قابلِ اعتماد اور صارف دوست بنایا جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ گرین بس سروس کی ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے قابلِ عمل تجاویز اور جامع منصوبہ تیار کیا جائے، تاکہ شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جاسکیں۔اجلاس میں گرین بس سروس کے روٹس، آپریشنل امور، مسافروں کو درپیش مشکلات اور سروس کو مزید مو¿ثر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8462/2026
کوئٹہ 30ستمبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ممبر قومی اسمبلی جمال شاہ کاکڑ، ماڑی گیس کمپنی کے نمائندگان، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں اسکولوں، تعلیمی اداروں اور دیگر عوامی اداروں میں CSR کے تحت جاری و مجوزہ ترقیاتی کاموں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر مختلف منصوبوں کی پیش رفت، عوامی ضروریات اور ترقیاتی کاموں کو مزید موثر بنانے کے حوالے سے بھی امور کا جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ CSR کے تحت جاری منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جائے اور عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح دی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8463/2026
کوئٹہ 30ستمبر۔بلوچستان ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر عبدالکبیر زرکون کی وفد کے ہمراہ برٹش ڈپٹی ہائی کمیشنر
Alison Blackburne کے ساتھ ایک اہم اور خوشگوار ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے دوران بلوچستان میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم (TVET) کے شعبے میں ان کی شاندار خدمات کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور صوبے میں اس شعبے کو مزید فروغ دینے کے لیے باہمی تعاون کو بڑھانے اور مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ گفتگو کے دوران بلوچستان میں فنی تربیت کی بہتری اور نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے حوالے سے برٹش کونسل کے مثبت اور متحرک کردار کی بھی پزیرائی کی گئی۔ برٹش ڈپٹی ہائی کمیشن نے اس موقع پر مہمانوں کا گرمجوشانہ خیرمقدم کیا اور بلوچستان میں فنی تعلیم کے فروغ کے لیے اپنے مکمل، مسلسل اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ ملاقات کے اختتام پر باہمی تعلقات اور تعاون کی علامت کے طور پر یادگاری شیلڈ کا تبادلہ بھی عمل میں آیا، جو صوبے کے نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
BTVTA Delegation Meets British Deputy High Commissioner to Bolster Technical and Vocational Education in Balochistan
Karachi : Managing Director of the Balochistan Technical and Vocational Education and Training Authority (B-TEVTA), Abdul Kabeer Zarkoon, along with a delegation, held an important and warm meeting with the British Deputy High Commissioner, Alison Blackburne.
During the interaction, the Deputy High Commissioner commended the outstanding contributions of B-TEVTA in advancing technical and vocational education and training (TVET) across Balochistan. Both sides agreed to strengthen bilateral cooperation and work together to further enhance the province’s vocational education sector.
The discussions highlighted the active and positive role of the British Council in improving skill development and empowering youth in Balochistan. Welcoming the delegation warmly, Alison Blackburne reaffirmed the British High Commission’s full, continuous, and unwavering support for the promotion of technical education in the region.
To conclude the meeting, commemorative shields were exchanged.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8464/2026
کوئٹہ30 ستمبر۔ صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا ہے کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ڈیزائن ونگ کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ ڈیزائن ونگ محکمہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے انہوں نے کہا کہ جدید مشینری آلات اور تکنیکی عملے کی فراہمی سے نہ صرف محکمہ کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی تیاری اور تکمیل کا عمل بھی مزید تیز اور مو¿ثر ہو جائے گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ڈیزائن ونگ کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ کے موقع پر کیا اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان چیف انجینئر ڈیزائن ونگ جمال احمد بگٹی چیف انجینئر فیڈرل پروجیکٹس ڈاکٹر سجاد بلوچ اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھےبریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے ڈیزائن ونگ کی موجودہ کارکردگی تکنیکی عملے کی دستیابی جدید مشینری کے حصول اور دیگر انتظامی امور سے متعلق تفصیلات پیش کیں انہوں نے بتایا کہ ڈیزائن ونگ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مزید جدید آلات اور تربیت یافتہ تکنیکی عملے کی ضرورت ہےاس سلسلے میں ایڈہاک بنیادوں پر تکنیکی عملے کی بھرتی کا عمل شروع کیا جا چکا ہےجس کے مکمل ہونے کے بعد ڈیزائن ونگ کی استعداد کار میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور منصوبہ بندی و ڈیزائننگ کے عمل میں مزید بہتری آئے گی صوبائی وزیر میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا کہ حکومت محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ڈیزائن ونگ کی استعداد بڑھانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی اور درکار مشینری جدید آلات اور افرادی قوت کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا انہوں نے کہا کہ تکنیکی عملے میں اضافے اور جدید سہولیات کی دستیابی سے ڈیزائن ونگ زیادہ تیز معیاری اور مو¿ثر انداز میں خدمات انجام دے سکے گا انہوں نے مزید کہا کہ ڈیزائن ونگ کی مضبوطی سے محکمہ کا نجی کنسلٹنسی اداروں پرانحصار کم ہوگا جس کے نتیجے میں سرکاری وسائل کی بچت اور ریونیو میں اضافہ ممکن ہوگاانہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کو جدید تقاضوں کے مطابق فعال اور خود کفیل ادارہ بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8465/2026
کوئٹہ، 30 ستمبر ۔بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی کمیٹی رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی سے یہاں کوئٹہ میں اہم ملاقات کی ہے، ملاقات کے دوران ملکی سیاسی صورتحال، باہمی دلچسپی کے مختلف امور اور بلوچستان میں ریلوے کے نظام کی بہتری پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر میر محمد صادق عمرانی نے وفاقی وزیر ریلوے سے جیکب آباد لاڑکانہ براستہ اوستہ محمد ریلوے ٹرین کی بحالی کا خصوصی مطالبہ کیا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ اوستہ محمد، گنداخہ، گڑھی خیرو، شہدادکوٹ سے لاڑکانہ تک کا ریلوے ٹریک آج بھی موجود ہے جو 1947 سے قبل سے چلتا آ رہا تھا۔ یہ ٹریک تقریباً 136 کلومیٹر طویل ہے اور 2005 میں بند کر دیا گیا تھا جس کے بعد اس علاقے کے لاکھوں عوام سفری سہولت سے محروم ہیں۔ میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ جیکب آباد، اوستہ محمد، گڑھی خیرو اور لاڑکانہ کے عوام غریب ہیں اور ان کے لیے سستی سواری ریلوے ہی ہے۔ اس ٹرین کی بحالی سے نہ صرف بلوچستان اور سندھ کے عوام کو فائدہ ہوگا بلکہ کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔اس پر وفاقی وزیر ریلوے خواجہ محمد حنیف عباسی نے صوبائی وزیر کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے چیئرمین ریلویز کو فوری طور پر ٹریک کا جائزہ لینے اور ٹرین بحالی کے لیے اقدامات اٹھانے کی ہدایات جاری کر دیں۔ صوبائی وزیر نے وفاقی وزیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں عوام کو سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8466/2026
کوئٹہ،30 ستمبر۔ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور صوبے میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کا کردار اہم ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ادارہ مستقبل میں بھی سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے اور صوبے میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مو¿ثر کردار ادا کرتا رہے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سبکدوش ہونے والے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) قائم لاشاری کے اعزاز میں الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، تقریب میں قائمقام سی ای او عبدالمنان،، بورڈ کے افسران و اہلکاروں اور دیگر اسٹاف نے شرکت کی۔ بلال خان کاکڑ نے قائم لاشاری کی بورڈ کے لیے خدمات کو سراہا اور کہا کہ انہوں نے سرمایہ کاری کے فروغ اور ادارے کے امور کو آگے بڑھانے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔بلال خان کاکڑ نے کہا کہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری صوبے کی معیشت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے، کاروباری سرگرمیوں میں اضافے اور مختلف شعبوں میں ترقی کی رفتار تیز کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے سرمایہ کاروں کے ساتھ موثر رابطہ اور ان کے مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ قائم لاشاری کی پیشہ ورانہ خدمات اور تجربہ ادارے کے لیے قابل قدر رہے ہیں جبکہ ان کی محنت اور کاوشوں کو یاد رکھا جائے گا۔اس موقع پر قائم لاشاری نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے افسران اور عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اپنے دورِ ذمہ داری کے دوران انہیں ادارے کے افسران اور ملازمین کا بھرپور تعاون حاصل رہا۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کی ترقی اور اہداف کے حصول کے لیے ٹیم ورک بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta, September 30: Vice Chairman of the Balochistan Investment Board, Bilal Khan Kakar, has said that Balochistan offers vast investment opportunities and that the Balochistan Investment Board has an important role to play in promoting domestic and foreign investment in the province. He expressed the hope that the institution would continue to play an effective role in facilitating investors and promoting business activities in the province in the future as well.
He expressed these views while addressing a farewell ceremony held in honour of outgoing Chief Executive Officer (CEO) Qaim Lashari. Acting CEO Abdul Manan, officers and officials of the Board, and other staff members attended the ceremony.
Bilal Khan Kakar appreciated Qaim Lashari’s services to the Board and said that he had played an important role in promoting investment and advancing the affairs of the institution.
Bilal Khan Kakar said that domestic and foreign investment could not only strengthen the provincial economy but also create employment opportunities at the local level, increase business activities and accelerate development in various sectors. He said that effective engagement with investors and focused attention on resolving their issues were essential for achieving these objectives.
He said that Qaim Lashari’s professional services and experience had been valuable to the institution, while his hard work and efforts would be remembered.
Speaking on the occasion, Qaim Lashari also addressed the ceremony. He thanked the officers and staff of the Balochistan Investment Board, saying that he had received their full cooperation and support throughout his tenure. He said that teamwork was of fundamental importance for the development of an institution and the achievement of its objectives.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8467/2026
ضلع چمن 30ستمبر ۔ضلع چمن اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی اور ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے آج نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے ہسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات، لیبارٹری، صفائی ستھرائی اور دیگر انتظامی امور کا جائزہ لیا۔اس موقع پر ایم ایس نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر محمد اویس نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی اور ڈپٹی کمشنر چمن کو ہسپتال کے مختلف شعبہ جات، وارڈز، طبی سہولیات اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی نے ہسپتال کے مختلف وارڈز اور شعبہ جات کا معائنہ کیا اور وہاں زیرِ علاج مریضوں کی عیادت کی۔ انہوں نے مریضوں اور ان کے لواحقین سے ملاقات کرکے ہسپتال میں دستیاب طبی سہولیات، ادویات، علاج معالجے اور دیگر ضروری خدمات کے بارے میں براہِ راست معلومات حاصل کیں۔دورے کے دوران اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے ہسپتال کی ادویات کے اسٹاک، لیبارٹری اور دیگر طبی سہولیات کا بھی معائنہ کیا، جبکہ ہسپتال میں صفائی ستھرائی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو صفائی کے معیار کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے اس موقع پر کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ پر زور دیا کہ مریضوں کو علاج معالجے، ادویات اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے اور عوام کو بہتر طبی خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے بھی ہسپتال انتظامیہ کو صفائی ستھرائی، ادویات کی دستیابی اور مریضوں کو درکار سہولیات کی مسلسل نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو صحت سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8468/2026
کوئٹہ، 30 ستمبر ۔ ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر بلوچستان میر سیف اللہ خان کھیتران نے کہا ہے کہ خصوصی بچے کسی بھی معاشرے پر بوجھ نہیں بلکہ ہماری طاقت، صلاحیت اور قومی اثاثہ ہیں، ان کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی حکومت سمیت معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہےخصوصی بچوں نے کھیلوں کے میدان میں اپنی صلاحیتیں منوا کر ثابت کردیا ہے کہ انہیں اگر مناسب مواقع، سہولیات اور حوصلہ افزائی فراہم کی جائے تو وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ملک و صوبے کا نام روشن کرسکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیف ریچ اسکول کوئٹہ کے دورے کے موقع پر آل پاکستان اسپیشل چلڈرن اسپورٹس مقابلوںمیںبلوچستان کی نمائندگی کرنے والی خصوصی بچوں کی مختلف کھیلوں کی ٹیموں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر بلوچستان کے باہمت اور باصلاحیت خصوصی بچوں نے مختلف کھیلوں میں شاندارکارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نمایاں پوزیشنز حاصل کیں اور میڈلز، شیلڈز اور ٹرافیاں جیت کر بلوچستان کا نام قومی سطح پر روشن کیا۔ ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر میر سیف اللہ خان کھیتران نے کامیاب کھلاڑیوں کو مبارکباد پیش کی اور ان میں میڈلز، شیلڈز اور ٹرافیاں تقسیم کیں میر سیف اللہ خان کھیتران نے خصوصی بچوں کی صلاحیتوں، محنت، عزم اور جذبے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے ان چیمپئنز نے اپنی کامیابی سے یہ ثابت کردیا ہے کہ عزم و حوصلہ ہو تو کوئی رکاوٹ کامیابی کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بچے ہمارے لیے باعثِ فخر ہیں اور ان کی کامیابیاں پورے بلوچستان کے لیے اعزاز ہیں۔انہوں نے کہا کہ خصوصی بچوں کو محض ہمدردی نہیں بلکہ برابری کے مواقع، اعتماد، تعلیم، تربیت، کھیلوں کی سہولیات اور عملی میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ محکمہ سوشل ویلفیئر بلوچستان خصوصی افراد کی فلاح و بہبود، ان کے حقوق کے تحفظ اور انہیں معاشرے کا فعال اور بااختیار حصہ بنانے کے لیے مختلف اقدامات کررہا ہے۔ڈی جی سوشل ویلفیئر نے کہا کہ کھیل خصوصی بچوں کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ان میں خود اعتمادی، نظم و ضبط، ٹیم ورک اور قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ محکمہ سوشل ویلفیئر بلوچستان خصوصی بچوں اور افراد کی کھیلوں سمیت مختلف شعبوں میں صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور انہیں مزید مواقع فراہم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ آج ان بچوں کی کامیابی صرف چند میڈلز یا ٹرافیوں تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کے لیے ایک مثبت پیغام ہے کہ صلاحیت کسی جسمانی رکاوٹ کی محتاج نہیں ہوتی۔ اگر خصوصی بچوں کو سازگار ماحول، رہنمائی اور ضروری سہولیات میسر ہوں تو وہ زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں مقام حاصل کرسکتے ہیں۔میر سیف اللہ خان کھیتران نے خصوصی بچوں کے والدین، اساتذہ، کوچز اور منتظمین کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ بچوں کی کامیابی کے پیچھے والدین اور اساتذہ کی مسلسل محنت، تربیت اور حوصلہ افزائی کا بنیادی کردار ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ان باہمت چیمپئنز کو سلام ہے جنہوں نے کھیل کے میدان میں اپنی محنت اور صلاحیت سے صوبے کا پرچم بلند کیا۔ آپ کی کامیابی صرف آپ کی اپنی کامیابی نہیں بلکہ بلوچستان کے ہر شہری کے لیے باعثِ فخر ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے کامیاب کھلاڑیوں کو یقین دلایا کہ محکمہ سوشل ویلفیئر بلوچستان ان کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کا سلسلہ جاری رکھے گا اور خصوصی افراد کی صلاحیتوں کو مزید اجاگر کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8469/2026
کوئٹہ، 30 ستمبر۔ ملاوٹی دودھ اور دہی کی فروخت روک تھام کیلئے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جانب سے کارروائیاں مزید تیز کردی گئی ہیں۔کوئٹہ کے مشرقی بائی پاس اور جتک اسٹاپ پر بی ایف اے فوڈ سیفٹی ٹیمز نے ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ اچانک انسپیکشن کرتے ہوئے متعدد ڈیری فارمز اور ملک شاپس کی جانچ پڑتال کی۔ کارروائی کے دوران دودھ اور دہی میں ملاوٹ سمیت متعدد فوڈ سیفٹی خلاف ورزیاں سامنے آنے پر 4 یونٹس کو جرمانے، ایک ملک شاپ سیل جبکہ آکسی ٹوسن انجیکشن کے 12 پیکٹ ضبط کرلیے گئے۔کارروائی اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ سریاب کبیر احمد مزاری اور اسپیشل مجسٹریٹ عزت اللہ کے ہمراہ ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے کی گئی۔ بی ایف اے کی فوڈ سیفٹی ٹیموں اور موبائل لیبارٹری ٹیم نے مجموعی طور پر 8 ڈیری یونٹس و متعدد ملک شاپس و ملک سپلائرز کا تفصیلی معائنہ کیا۔معائنے کے دوران دو ڈیری فارمز میں غیر صحت بخش صفائی کے حالات، دودھ کی ہینڈلنگ و اسٹوریج کے مقررہ معیار پر عملدرآمد نہ کرنے، ضروری دستاویزات کی عدم دستیابی اور ورکرز کے میڈیکل ریکارڈز موجود نہ ہونے پر جرمانے عائد کیے گئے۔کارروائی کے دوران مویشیوں کو آکسی ٹوسن انجیکشن لگانے کا بھی انکشاف ہوا جس پر آکسی ٹوسن انجیکشن کے 12 پیکٹ موقع پر ضبط کرلیے گئے۔اسی طرح دو ملک شاپس کے دہی میں خشک پاوڈر کی ملاوٹ پائی گئی جبکہ متعلقہ دودھ فروشوں کے پاس بی ایف اے لائسنس بھی موجود نہیں تھا جس پر دونوں کو جرمانہ کیا گیا۔علاوہ ازیں ایک ملک شاپ میں دودھ میں 21 فیصد پانی جبکہ دہی میں اسکمڈ ملک کی ملاوٹ پائی گئی۔ فوڈ سیفٹی خلاف ورزیوں اور بی ایف اے لائسنس کے بغیر کاروبار کرنے پر مذکورہ ملک شاپ کو سیل کردیا گیا۔بی ایف اے ٹیموں نے ڈیری فارمز مالکان اور دودھ فروشوں کو فوڈ سیفٹی SOPs پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے 2 اصلاحی نوٹسز بھی جاری کیے اور فوڈ سیفٹی تقاضوں کے حوالے سے ضروری رہنمائی فراہم کی۔اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی حبیب اللہ خان کا کہنا تھا کہ عوام کو معیاری، خالص اور محفوظ دودھ و غذائی اشیاء کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیری فارمز اور ملک شاپس میں صفائی، معیاری ہینڈلنگ، لائسنسنگ اور ملاوٹ سے متعلق فوڈ سیفٹی قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی صحت کا تحفظ بی ایف اے کی اولین ترجیح ہے اور محفوظ خوراک کی فراہمی کے لیے فیلڈ آپریشنز کا سلسلہ جاری رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8470/2026
نصیرآبادڈویژن30ستمبر۔جعفرآبادڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ای پی آئی (توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات) کا ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں محکمہ صحت کے افسران نے شرکت کی اور ڈپٹی کمشنر کو ضلع جعفرآباد میں بچوں کو مختلف وبائی و متعدی امراض سے محفوظ رکھنے کے لیے جاری ویکسینیشن پروگرام، حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج اور بچوں کو ویکسین کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ بچوں کو مختلف خطرناک اور متعدی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے حفاظتی ٹیکہ جات کی بروقت فراہمی اور ویکسینیشن کا مقررہ اہداف کے مطابق مکمل ہونا انتہائی ضروری ہے، محکمہ صحت کے افسران اور متعلقہ عملہ اپنے فرائض پوری ذمہ داری اور محنت سے انجام دیں اور دور دراز علاقوں سمیت ضلع بھر میں کوئی بھی بچہ حفاظتی ٹیکوں سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ای پی آئی پروگرام کے تحت ویکسینیشن کے عمل کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے، فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے اور جہاں کہیں کمی یا غفلت سامنے آئے اسے فوری طور پر دور کیا جائے تاکہ بچوں کو بروقت حفاظتی ٹیکے لگا کر انہیں مختلف بیماریوں سے محفوظ بنایا جاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8471/2026
نصیرآبادڈویژن30ستمبر۔جعفرآباد: ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت سرکاری واجبات کی وصولی کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ مال کے افسران اور متعلقہ عملے نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران محکمہ مال کے افسران کی جانب سے ضلع جعفرآباد میں سرکاری واجبات کی وصولی، موجودہ صورتحال، مقررہ اہداف اور اس حوالے سے جاری اقدامات کے بارے میں ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں سرکاری واجبات کی وصولی کے عمل کو مزید موثر بنانے، بقایاجات کی وصولی میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے اور متعلقہ ریکارڈ کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھنے سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خالد خان نے متعلقہ افسران اور عملے کو ہدایت کی کہ سرکاری واجبات کی وصولی کے عمل میں تیزی لائی جائے اور مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جائے، جبکہ تمام امور شفاف اور قواعد و ضوابط کے مطابق انجام دیے جائیں تاکہ سرکاری محاصل میں اضافہ اور واجبات کی بروقت وصولی ممکن ہو سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8472/2026
نصیرآبادڈویژن30ستمبر۔َنصیرآباد: ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام (EPI) کے حوالے سے ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ صحت کے افسران، ای پی آئی پارٹنرز اور ویکسینیٹرز نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ضلع نصیرآباد میں بچوں کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے جاری حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ ویکسینیشن مہم کے دوران درپیش مسائل، کمی کوتاہیوں اور فیلڈ میں پیش آنے والی رکاوٹوں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں ویکسینیشن کوریج کو مزید بہتر بنانے، رہ جانے والے بچوں تک رسائی یقینی بنانے اور حفاظتی ٹیکہ جات کی بروقت فراہمی سمیت دیگر اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے متعلقہ افسران اور ویکسینیٹرز کو ہدایت کی کہ بچوں کو حفاظتی ٹیکہ جات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت یا سستی نہ برتی جائے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے فیلڈ سرگرمیوں کو مزید موثر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حفاظتی ٹیکہ جات بچوں کو مختلف موذی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کا اہم ذریعہ ہیں، اس لیے محکمہ صحت کے افسران اور تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں سرانجام دیں تاکہ ضلع میں ویکسینیشن کوریج کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8473/026
ساؤتھ ڈیرہ بگٹی 30 ستمبر2026:
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ ڈیرہ بگٹی زوہیب الحق کی ہدایات پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ساؤتھ ڈیرہ بگٹی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن مانیٹرنگ آفیسر اور دیگر متعلقہ افسران نے گورنمنٹ بوائز مڈل سکول غلام حیدر پٹ کا دورہ کیا۔ دورے کا مقصد سکول کے بند اور غیر فعال ہونے سے متعلق موصولہ شکایت کی موقع پر جانچ پڑتال کرنا تھا۔معائنے کے دوران افسران نے سکول کی حاضری، تدریسی عمل، طلبہ کی موجودگی اور بنیادی سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر مجموعی طور پر 54 طلبہ میں سے 29 طلبہ حاضر پائے گئے جبکہ سکول میں 13 اساتذہ تعینات ہیں۔ طلبہ کی تعداد کے مقابلے میں اساتذہ کی تعداد زیادہ ہونے کے پیش نظر متعلقہ حکام نے ڈپٹی کمشنر ساؤتھ ڈیرہ بگٹی کی ہدایات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اضافی اساتذہ کو ایسے سکولوں میں تعینات کیا جائے جہاں طلبہ کی تعداد زیادہ ہے، تاکہ دستیاب تدریسی وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جا سکے۔ افسران کے معائنے کے دوران سکول کی بنیادی سہولیات اور مجموعی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا، جو ناکافی پائی گئی، تاہم سکول موقع پر فعال پایا گیا۔ اس موقع پر تدریسی عملے کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں باقاعدگی سے ادا کریں، طلبہ کی تعلیم پر بھرپور توجہ دیں اور مقررہ اوقات کار کے دوران سکول کو کسی بھی صورت غیر فعال یا بند نہ رکھا جائے۔ متعلقہ افسران نے واضح کیا کہ اساتذہ کی غیر حاضری، فرائض میں غفلت اور سکول کی بندش یا عدم فعالیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا جبکہ تعلیمی اداروں کی فعالیت اور طلبہ کو تعلیمی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ نگرانی جاری رکھی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر8474/026
ساؤتھ ڈیرہ بگٹی / سوئی 30 ستمبر
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ ڈیرہ بگٹی زوہیب الحق نے سوئی میں زیرِ تعمیر میر چاکر خان رند یونیورسٹی کے میر غلام قادر بگٹی سب کیمپس کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے جاری تعمیراتی کام کی رفتار، معیار اور پیش رفت کا جائزہ لیا۔ دورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر کو سائٹ پر منصوبے کے نقشہ جات اور تعمیراتی پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے زیرِ تعمیر عمارت کے مختلف حصوں کا معائنہ کرتے ہوئے تعمیراتی کام میں استعمال ہونے والے میٹریل اور مجموعی معیار کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ساؤتھ ڈیرہ بگٹی زوہیب الحق نے کہا کہ میر غلام قادر بگٹی سب کیمپس ایک اہم تعلیمی منصوبہ ہے، جو وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس کی بروقت تکمیل سے علاقے کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے تعمیراتی کام کی سست روی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ کام کی رفتار میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے اور اس وقت تک ٹھیکیدار کی سائٹ پر موجودگی یقینی بنائی جائے جب تک تعمیراتی کام مطلوبہ رفتار سے جاری نہ ہو۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ منصوبے میں استعمال ہونے والا تعمیراتی میٹریل اور کام کا معیار ہر لحاظ سے اعلیٰ ہونا چاہیے۔ تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ، غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کی تعمیراتی سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی جاری رکھی جائے تاکہ کام مقررہ معیار کے مطابق اور بروقت مکمل کیا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر8475/026
بارکھان، 30 ستمبر 2026: ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کاکڑ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر رکنی فہد حسین عمرانی نے ایکسیئن روڈ فضل محمد زرکون کے ہمراہ رکنی بازار کا دورہ کیا اور بازار میں قائم تجاوزات اور دکانوں کے سامنے بنائے گئے غیر ضروری شیڈز کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے تمام دکانداروں کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ اپنی دکانوں کے سامنے قائم شیڈز اور دیگر تجاوزات آج شام تک ازخود ہٹا دی جائیں تاکہ بازار میں آمدورفت اور شہریوں کے لیے راستہ کشادہ رکھا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ وقت کے بعد تجاوزات کے خلاف انتظامیہ کی جانب سے کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس کے دوران ہونے والے کسی بھی نقصان کی ذمہ داری متعلقہ دکاندار پر عائد ہوگی۔ انتظامیہ نے دکانداروں سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ مقررہ وقت کے اندر تجاوزات ختم کرکے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔
خبرنامہ نمبر8476/026
چمن 30 ستمبر 2026:
چمن میں کھلی کچہری کے دوران اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی اور ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے قبائلی عمائدین، مشران اور عوام کے مسائل و مشکلات تفصیل سے سنے۔ اس موقع پر شہریوں نے اپنے مطالبات اور مختلف عوامی مسائل پیش کیے، جبکہ ضلعی افسران بھی موجود رہے اور متعلقہ امور پر ضروری اقدامات اور ہدایات جاری کی گئیں۔
خبرنامہ نمبر8477/026
زیارت 30 ستمبر 2026
نئے تعینات اسسٹنٹ کمشنر حبیب الرحمن کاکڑ کے اعزاز میں ڈپٹی کمشنرعبدالقدوس اچکزئی کی جانب سے ڈی سی آفس زیارت میں ٹی پارٹی کا انعقاد
ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی کی جانب سے نئے تعینات ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر حبیب الرحمن کاکڑ کے اعزاز میں ڈپٹی کمشنر آفس زیارت میں ایک پروقار ٹی پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔تقریب میں ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عبدالمالک درانی، ایف سی 155 ونگ کے میجر عامر، اسسٹنٹ کمشنر حبیب الرحمن کاکڑ، تحصیلدار نور احمد کاکڑ، کلرکس ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور ڈپٹی کمشنر آفس کے افسران و اہلکاروں نے شرکت کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے اسسٹنٹ کمشنر حبیب الرحمن کاکڑ کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح عوام کو بروقت اور مؤثر خدمات کی فراہمی، سرکاری امور میں شفافیت اور اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تمام افسران اور اہلکار باہمی رابطے اور ٹیم ورک کے جذبے کے تحت اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں تاکہ عوامی مسائل کے حل اور ضلع کی مجموعی ترقی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
اس موقع پر شرکاء نے نئے تعینات اسسٹنٹ کمشنر حبیب الرحمن کاکڑ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔
خبرنامہ نمبر8478/026
30 ستمبر 2026ء، کوئٹہ:
بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) نے ٹیکس قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ٹیکس کی عدم ادائیگی کرنے والے تمام افراد، اداروں اور سروس پرووائیڈرز کے خلاف کارروائی کا عمل مزید تیز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹرز، میڈیکل پریکٹیشنرز، کنسلٹنٹس اور دیگر سروس فراہم کرنے والوں کو ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر نوٹسز اور شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔
بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے تمام ٹیکس دہندگان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے قانونی ٹیکس واجبات بروقت ادا کریں اور بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز سے متعلق قوانین اور قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کو یقینی بنائیں۔
اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنا اس کی ترجیحات میں شامل ہے، تاہم قانون کی خلاف ورزی اور ٹیکس واجبات کی عدم ادائیگی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر8479/026
کویٹہ 30ستمبر 2026 صوبائی مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ کی یوتھ اسپورٹس پالیسی سیمینار میں شرکت
کوئٹہ: صوبائی مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے سیکریٹری کھیل و امورِ نوجوانان اور ڈائریکٹر جنرل اسپورٹس کے ہمراہ ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ میں منعقدہ یوتھ اسپورٹس پالیسی کے سیمینار میں شرکت کی۔
سیمینار میں مختلف کھیلوں کی ایسوسی ایشنز کے نمائندوں، کھلاڑیوں، نوجوانوں اور دیگر متعلقہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے شرکاء نے شرکت کی۔ اس موقع پر شرکاء نے کھیلوں کے فروغ، نوجوانوں کے لیے مواقع، اسپورٹس انفراسٹرکچر اور پالیسی سے متعلق مختلف تجاویز اور سوالات پیش کیے۔
صوبائی مشیر محترمہ مینا مجید بلوچ نے شرکاء کے سوالات کے جوابات دیے، ان سے براہِ راست گفتگو کی اور کھیلوں کے شعبے سے متعلق ان کی تجاویز اور آراء کو غور سے سنا اور نوٹ کیا۔
انہوں نے کہا کہ یوتھ اسپورٹس ریویو پالیسی کا مقصد کھیلوں کے شعبے کو مزید مؤثر بنانا، نوجوانوں اور کھلاڑیوں کو بہتر مواقع فراہم کرنا اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز کو پالیسی سازی کا حصہ بنانا ہے۔
مینا مجید بلوچ نے کہا کہ کھیلوں کے شعبے کی بہتری کے لیے کھلاڑیوں، اسپورٹس ایسوسی ایشنز اور نوجوانوں کی رائے انتہائی اہم ہے، اور ان کی تجاویز کو آئندہ کے لائحہ عمل میں مدنظر رکھا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر8480/026
بارکھان، 30 ستمبر 2026: ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کاکڑ نے آج ضلع بارکھان کے مختلف سرکاری دفاتر کا اچانک دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے ایریگیشن آفس، بی اینڈ آر روڈ آفس، بی اینڈ آر بلڈنگ آفس، محکمہ تعلیم میل و فیمیل اور پی ایچ ای آفس کا معائنہ کیا۔
ڈپٹی کمشنر نے مختلف دفاتر میں افسران و اہلکاروں کی حاضری، دفتری نظم و ضبط اور سرکاری امور کی انجام دہی کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعدد دفاتر میں متعلقہ عملہ ڈیوٹی سے غیر حاضر پایا گیا، جس پر ڈپٹی کمشنر نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور متعلقہ افسران سے غیر حاضری کے بارے میں وضاحت طلب کی۔
انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ تمام سرکاری ملازمین مقررہ اوقات کار کے مطابق اپنی ڈیوٹی پر بروقت موجود رہیں اور سرکاری امور کو ذمہ داری اور باقاعدگی سے انجام دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فرائض میں غفلت، غیر حاضری اور دفتری نظم و ضبط کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر نے دفاتر میں حاضری رجسٹر اور دیگر دفتری امور کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ حاضری کے نظام کو مؤثر بنایا جائے تاکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر ہو اور عوام کو بروقت خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔محکمہ تعلیم کے فیمیل آفس کے دورے کے دوران عملہ موجود پایا گیا، جس پر ڈپٹی کمشنر نے اطمینان کا اظہار کیا اور دفتری امور کی باقاعدہ انجام دہی کو سراہا۔
ڈپٹی کمشنر سعید الرحمٰن کاکڑ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سرکاری دفاتر کی نگرانی اور اچانک معائنوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سرکاری دفاتر میں بروقت حاضری، دفتری نظم و ضبط، ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور عوام کو مؤثر و بروقت خدمات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر8481/026
کوئٹہ: چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرِ صدارت ڈپٹی کمشنرز کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں، ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی، عوامی شکایات کے ازالے، پرائس کنٹرول، زرعی انکم ٹیکس، صفائی مہم، تعلیمی سہولیات اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
کانفرنس میں محکمہ مانیٹرنگ اینڈ ایویلوایشن کی جانب سے جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں مجموعی طور پر 2,935 ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور جائزہ لیا گیا ہے، جن میں سے 1,667 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ باقی ماندہ منصوبوں پر کام جاری ہے۔ جبکہ (BSDI) پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ بی ایس ڈی آئی کے تحت صوبے میں 4,052 منصوبے شامل ہیں، جن کی پیش رفت کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔ چیف سیکرٹری نے متعلقہ حکام اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ زیرِ تکمیل ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے اور منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کی باقاعدگی سے مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے۔
چیف سیکرٹری نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ خواتین کے مسائل کے فوری حل اور انہیں باعزت انداز میں اپنی شکایات پیش کرنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے خواتین کے لیے الگ کھلی کچہریوں کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ضلعی سطح پر مؤثر اور فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سکولوں میں موجود مسنگ فیسیلیٹیز کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ و طالبات کو بنیادی تعلیمی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اہم ترجیح ہے، اس لیے سکولوں میں پانی، واش رومز، بجلی، چار دیواری اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ کانفرنس میں لوکل گورنمنٹس کی کارکردگی اور صفائی کے نظام کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے کی 38 لوکل کونسلز میں صفائی مہم شروع کی جا چکی ہے۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ صفائی مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے، شہری علاقوں میں صفائی کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے اور عوام کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور لوکل کونسلز باہمی تعاون سے کام کریں۔ اجلاس میں معذور افراد کی فلاح و بہبود کے لیے شروع کیے گئے۔ کومک (KUMAK) پروگرام کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ معذور افراد کو سرکاری سہولیات، خدمات اور معاشرتی تحفظ تک مؤثر رسائی فراہم کی جائے اور پروگرام کے ثمرات مستحق افراد تک پہنچانے کے لیے شفاف طریقہ کار اپنایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بازاروں کا باقاعدگی کے ساتھ دورے کریں تاکہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھی جا سکے تاکہ سرکاری مقررہ نرخوں کی خلاف ورزی روکی جا سکے۔خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز حکومت اور عوام کے درمیان بنیادی رابطے کا کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے انہیں عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، صفائی کے نظام، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی کا بنیادی مقصد عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی اور حکومتی اقدامات کے ثمرات نچلی سطح تک پہنچانا ہے۔
خبرنامہ نمبر8482/026
کوئٹہ: بلوچستان میں انسدادِ دہشت گردی اور پُرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام، مؤثر قانون سازی اور ادارہ جاتی رابطہ کاری کے حوالے سے محکمہ داخلہ بلوچستان اور برٹش ہائی کمیشن اسلام آباد کے تعاون سے پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد کیا گیا۔صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جبکہ ارکان اسمبلی انجینئر زمرک خان اچکزئی، شاہدہ رؤف اور دیگر متعلقہ حکام و نمائندگان بھی موجود تھے۔پالیسی ڈائیلاگ میں انسدادِ دہشت گردی اور پُرتشدد انتہا پسندی کے تدارک کے لیے قانون سازی کو مؤثر بنانے، پارلیمانی کردار کو مضبوط کرنے اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری و تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ نوجوان نسل ملک اور معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، اس لیے نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پُرتشدد انتہا پسندی کے تدارک کے لیے قانون سازی کے ساتھ ساتھ معاشرے میں مثبت سوچ، برداشت اور ذمہ دارانہ رویوں کو فروغ دینا بھی اہم ہے۔اسپشل سیکرٹری داخلہ سلام خان اچکزئی نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی اور پُرتشدد انتہا پسندی کے مؤثر تدارک کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط رابطہ کاری اور معلومات کے بروقت تبادلے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی، ادارہ جاتی تعاون اور مربوط حکمتِ عملی کے ذریعے انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پالیسی سازی میں پارلیمنٹیرینز، متعلقہ سرکاری اداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اہم ہے تاکہبلوچستان میں امن و استحکام کے لیے مؤثر اور قابلِ عمل اقدامات کو آگے بڑھایا جا سکے۔تقریب سے دیگر مقررین محترمہ طاہرہبلوچ،منظور احمد بلوچ،محترمہ ثنا درانی محترمہ ستارہ بلوچ رافع بلوچ سلام جوگیزئی و دیگر مقررین نے خطاب کیا
خبرنامہ نمبر8483/026
کوئٹہ: بلوچستان کمیشن برائے حیثیتِ نسواں (BCSW) کی چیئرپرسن کرن بلوچ نے جناح پیپلز ٹرین کے افتتاح کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی اور جدید و مؤثر عوامی خدمات کی فراہمی حکومت بلوچستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، سفری سہولتوں میں بہتری اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہے ہیں۔ جناح پیپلز ٹرین کا آغاز بھی اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے شہریوں کو سفری سہولت میسر آئے گی اور مختلف علاقوں کے درمیان رابطوں کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ کرن بلوچ نے کہا کہ عوامی سہولیات میں بہتری براہِ راست معاشی اور سماجی ترقی سے منسلک ہے۔ مؤثر اور قابلِ رسائی سفری نظام نہ صرف عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے بلکہ خواتین، طلبہ، ملازمین اور دیگر شہریوں کے لیے محفوظ اور باکفایت سفر کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بلوچستان عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو اسی جذبے کے ساتھ جاری رکھتے ہوئے صوبے کے عوام کو مزید سہولیات فراہم کرے گی۔
خبرنامہ نمبر8484/026
کوئٹہ، 30 ستمبر : ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات پر اسسٹنٹ کمشنر سریاب کیپٹن (ر) کبیر زرکون اور اسپیشل مجسٹریٹ عزت اللہ نے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی ٹیم کے ہمراہ ایسٹرن بائی پاس اور جتک اسٹاپ پر کارروائی کی۔کارروائی کے دوران 8 ڈیری فارمز اور متعدد ملک شاپس کی چیکنگ کی گئی، جبکہ ملاوٹ اور دیگر خلاف ورزیوں پر 8 افراد گرفتار، 4 کو جرمانہ اور ایک ملک شاپ سیل کی گئی۔معائنے کے دوران دودھ میں 21 فیصد پانی اور دہی میں اسکمڈ ملک پاؤڈر کی ملاوٹ پکڑی گئی، جبکہ مویشیوں کے لیے استعمال ہونے والے آکسی ٹوسن انجیکشن کے 12 پیکٹ بھی ضبط کیے گئے۔ضلعی انتظامیہ نے ڈیری فارمز اور ملک شاپ مالکان کو فوڈ سیفٹی SOPs پر عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا عزم کیا۔
خبرنامہ نمبر8485/026
کوئٹہ، 30 ستمبر 2026: ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات پر اسسٹنٹ کمشنر سریاب کیپٹن (ر) کبیر مزاری اور اسپیشل مجسٹریٹ عزت اللہ نے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی ٹیم کے ہمراہ ایسٹرن بائی پاس اور جتک اسٹاپ پر کارروائی کی۔
کارروائی کے دوران 8 ڈیری فارمز اور متعدد ملک شاپس کی چیکنگ کی گئی، جبکہ ملاوٹ اور دیگر خلاف ورزیوں پر 8 افراد گرفتار، 4 کو جرمانہ اور ایک ملک شاپ سیل کی گئی۔
معائنے کے دوران دودھ میں 21 فیصد پانی اور دہی میں اسکمڈ ملک پاؤڈر کی ملاوٹ پکڑی گئی، جبکہ مویشیوں کے لیے استعمال ہونے والے آکسی ٹوسن انجیکشن کے 12 پیکٹ بھی ضبط کیے گئے۔ضلعی انتظامیہ نے ڈیری فارمز اور ملک شاپ مالکان کو فوڈ سیفٹی SOPs پر عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا عزم کیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/8486
حب30ستمبر:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور صوبائی حکومت کی جانب سے عوام کو معیاری بنیادی طبی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے عزم کے تحت ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی حب ڈاکٹر مرشد دشتی نے بنیادی مرکز صحت علانگڈور کا مانیٹرنگ دورہ کیا۔دورے کے دوران ڈاکٹر مرشد دشتی نے مرکز صحت میں اسٹاف کی حاضری، او پی ڈی رجسٹر، ای پی آئی سروسز کی فعالیت اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے مرکز میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، مریضوں کی رہنمائی اور سروس ڈیلیوری کے مختلف امور کا بھی معائنہ کیا۔اس موقع پر ڈاکٹر مرشد دشتی نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ مرکز صحت میں اسٹاف کی بروقت حاضری، ریکارڈ کی باقاعدہ تکمیل اور حفاظتی ٹیکہ جات سمیت بنیادی طبی سہولیات کی مؤثر فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ علاقے کے عوام کو صحت کی سہولیات ان کی دہلیز پر میسر آسکیں۔انہوں نے کہا کہ پی پی ایچ آئی کے تحت بنیادی مراکز صحت کی مسلسل مانیٹرنگ کا مقصد سروس ڈیلیوری کو مزید بہتر بنانا، عوام کو بروقت طبی سہولیات فراہم کرنا اور صحت کے شعبے میں حکومتی اقدامات کے ثمرات عام شہری تک پہنچانا ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/8487
کوئٹہ30ستمبر:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات،عوامی شکایات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر صدر نے نواں کلی مین روڈ پر تجاوزات کے خلاف کارروائی کی۔آپریشن کے دوران سڑک کے دونوں اطراف قائم غیر قانونی اسٹالز، ڈھانچوں اور دیگر تجاوزات کو ہٹا کر عوامی راستہ اور ٹریفک کی روانی بحال کر دی گئی۔سرکاری ہدایات کی خلاف ورزی اور کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے پر 5 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر صدر نے متعلقہ حکام کو تجاوزات کے خلاف مستقل نگرانی کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ دوبارہ تجاوزات قائم کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/8488
کوئٹہ30ستمبر:مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے الپر اسکول اینڈ کالجز کے اسپورٹس ویک کی اختتامی تقریب میں شرکت کی۔اس موقع پر محترمہ مینا مجید بلوچ نے اساتذہ، طلبہ و طالبات سے ملاقات کی اور ان سے تعلیمی و کھیلوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے گفتگو کی۔ انہوں نے مختلف کلاس رومز کا دورہ بھی کیا اور تعلیمی ماحول، طلبہ کی سرگرمیوں اور ادارے میں جاری تعلیمی و غیر نصابی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔تقریب کے دوران مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان نے اسپورٹس ویک میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات میں انعامات تقسیم کیے اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک لاکھ روپے کے انعام کا اعلان بھی کیا۔
مینا مجید بلوچ نے اسپورٹس ویک کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں کھیلوں کی سرگرمیاں طلبہ کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ان میں نظم و ضبط، ٹیم ورک اور خود اعتمادی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے اساتذہ اور طلبہ کی کھیلوں میں بھرپور شرکت اور دلچسپی کو بھی سراہا۔
خبر نامہ نمبر 2026/8489
کوئٹہ30ستمبر:صوبائی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات میرظہور بلیدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ماس ٹرانزٹ دنیا بھر میں ترقی اور جدید شہری ٹرانسپورٹ نظام کا اہم جزو ہے۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر کوئٹہ کے ساتھ ساتھ تربت میں گرین بسوں کے ذریعے عوام کو جدید، محفوظ اور کم لاگت سفری سہولیات فراہم کرنا ایک اہم عوامی خدمت ہے۔اپنی ایک پوسٹ میں ظہور بلیدی نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں موجودہ صوبائی حکومت تعلیم، صحت، پینے کے پانی، آبپاشی، ماہی گیری اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں اصلاحات اور متعدد فلیگ شپ منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جن کا مقصد عوام کو براہِ راست سہولیات فراہم کرنا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ منصوبوں کے افتتاح کی تقریبات کوئی غیر معمولی یا قابلِ تمسخر عمل نہیں ہیں۔ مختلف ادوار میں حکومتیں اور سیاسی جماعتیں اپنے ترقیاتی منصوبوں کے سنگِ بنیاد اور افتتاح کے پروگرام منعقد کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اپنی جماعت کے قائدین بھی ماضی میں ایسے منصوبوں کے سنگِ بنیاد اور افتتاحی تقریبات میں شریک ہوتے رہے ہیںمیرظہور بلیدی نے اپنے ایکس پیغام میں واضح کیا کہ اصل بحث تقریب پر نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس پر ہونی چاہیے کہ منصوبہ عوام کے لیے کتنا مفید، مؤثر اور پائیدار ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/8490
کوئٹہ30 ستمبر:بلوچستان سینٹر آف ایکسیلنس ، حکومتِ بلوچستان, سسٹینیبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (SSDO) اور برطانوی ہائی کمیشن اسلام آباد کے اشتراک سے کوئٹہ میں پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی مہمان خصوصی صوبائی وزیرِ تعلیم راحیلہ حمید خان درانی تھی. اس پالیسی ڈائیلاگ میں ممبر بلوچستان اسمبلی انجینیئر زمرک خان اچکزئی ، ممبر بلوچستان اسمبلی محترمہ شاہدہ روف، سپیشل سیکرٹری محکمہ داخلہ عبدالسلام خان اچکزئی, ڈاکٹر دوست محمد بڑیچ, ڈاکٹر عصمت خان اچکزئی, سیکرٹری وومن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ شیر شاہ غلزئی، ایڈیشنل سیکرٹری کالجز عبدالمالک اچکزئی، صوبائی محتسب طاہرہ بلوچ، ایڈیشنل سیکرٹری سوشل ویلفیر عنایت اللہ کاسی، ایڈیشنل سیکرٹری سپورٹس اینڈ یوتھ افیر امجد حسین، سیکیورٹی ایکسپرٹ آصف صاحب, علاؤ الدین خلجی (عورت فاؤنڈیشن) سمیت مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے شخصیات نے شرکت کی۔ اس ڈائیلاگ کا مقصد بلوچستان میں انسداد دہشتگردی (CT)، انسداد دہشتگردی کے مالی معاونت (CFT) اور پُرتشدد انتہاءپسندی کے خاتمے (CVE) کے لیے قانون ساز اور ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔مہمان خصوصی محترمہ راحیلہ حمید خان درانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان دہشت گردی اور انتہا پسندانہ کارروائیوں کا ایک بڑا ہدف رہا ہے، اور وزیرِ تعلیم ہونے کی حیثیت سے اس معاملے پر، خاص طور پر نوجوانوں کے ساتھ بات کرنا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس طرح کی گفتگو کا سلسلہ جاری رہا تو ہم لوگوں کو اس میں شامل کرنے کے قابل ہو جائیں گے.
ممبر بلوچستان اسمبلی انجینیئر زمرک خان نے کہا کہ ہمیں دہشتگردی، انتہاءپسندی اور ان کی وجوہات کو گہرائی سے سمجھنا چاہیے تاکہ دہشت گردی کا سد باب ہو سکے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو دہشتگردی کے انڈیکس سے باہر نکالنے کے لیے وزیراعظم کو بلوچستان کی ترقی پر خصوصی توجہ دینی چاہیے کیونکہ صوبے مضبوط ہوں گے تو ہی وفاق مضبوط ہوگا۔ممبر بلوچستان اسمبلی شاہدہ رؤف نے کہا کہ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پارلیمنٹرینز کو انسداد دہشتگردی سے متعلق موجودہ قوانین پر بھرپور توجہ دینی چاہیے، اور اس صوبے میں تمام فریقین کی اجتماعی کوششوں سے ہی امن قائم ہو سکتا ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم دہشتگردی اور انتہاءپسندی سے کائینیٹک اور نان-کائینیٹک دونوں طریقوں سے نمٹ سکتے ہیں، جہاں کائینیٹک کا کام سیکیورٹی ایجنسیاں کرتی ہیں جبکہ نان-کائینیٹک اقدامات ہماری اپنی ذمہ داری ہیں، اس لیے ہمیں گڈ گورننس، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور نفاذ کے خلا کو پُر کرتے ہوئے اپنی سیکیورٹی فورسز کو مزید مضبوط کرنا ہوگا. پالیسی ڈائیلاگ سے دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتہاءپسندی اور دہشتگردی کے خلاف پوری سوسائٹی اور تمام محکموں کو مل کر کام کرنا ہوگا، جبکہ خواتین کو انگیج کر کے اور بچوں کی مثبت ذہن سازی اور تربیت کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نوجوانوں کی فلاح و بہبود، ہنر مندانہ پلیٹ فارمز، اساتذہ کی تربیت اور فکری و اخلاقی تعلیم کو فروغ دیا جائے ۔ پالیسی ڈائیلاگ کے اختتام پر اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سیاسی و جمہوری مکالمے کی فضائیں بنانا اور صوبوں کو مضبوط کرنے پر زور دیا گیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/8491
خضدار 30 ستمبر:ـوزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکریٹری بلوچستان کے عوام دوست وژن کے تحت ڈپٹی کمشنر خُضدار عبدالرزاق ساسولی کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ کونسل ہال خُضدار میں منعقدہ کھلی کچہری میں شہریوں نے ترقیاتی منصوبوں سمیت صحت، تعلیم، آب نوشی، بجلی، امن و امان، سڑکوں، زراعت اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق درپیش مسائل اور مشکلات کھل کر بیان کردیں، جبکہ متعلقہ حکام نے متعدد شکایات کا موقع پر ہی نوٹس لیتے ہوئے بعض مسائل کے فوری حل کے لیے اقدامات کیے اور دیگر معاملات متعلقہ محکموں کو کارروائی کے لئے بھجوا دیے۔
کھلی کچہری کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر خُضدار عبدالحفیظ کاکڑ کررہے تھے جبکہ ایف سی قلات اسکاؤٹس کی جانب سے میجر اسرار نمائندگی کررہے تھے اس کے علاؤہ ڈی ایس پی خُضدار پولیس محمد عالم لہڑی، انجینئر نصراللہ پی ایچ ای، ڈاکٹر محمد انور زہری ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک، ناصر احمد پی پی ایچ آئی، رئیس علی احمد ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، عبدالقیوم ڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچر، محمد سلیم محکمہ ایریگیشن، ہدایت اللہ زہری ایم ایم ڈی، ڈاکٹر نصیر احمد لائیو اسٹاک، عبیداللہ پلانٹ پروٹیکشن آفیسر، منظور احمد ایگریکلچر، سنئیر پولیس آفیسر عبدالحق نوتانی سمیت مختلف سرکاری محکموں کے افسران اور نمائندگان نے شرکت کی۔کھلی کچہری کا بنیادی مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطے کو مضبوط بنانا، شہریوں کو اپنے مسائل متعلقہ حکام کے سامنے براہِ راست رکھنے کا موقع فراہم کرنا اور ایسے معاملات کو موقع پر حل کرنا ہے جن کے لیے شہریوں کو مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ حکومت بلوچستان کی جانب سے مختلف اضلاع میں کھلی کچہریوں کے انعقاد کو عوامی مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے لیے اہم انتظامی اقدام قرار دیا جاتا رہا ہے۔
کھلی کچہری میں BSDI فیز سمیت مختلف ترقیاتی اور عوامی نوعیت کے مسائل زیرِ بحث آئے، تاہم شہریوں کی جانب سے صرف BSDI تک محدود رہنے کے بجائے خُضدار کو درپیش متعدد بنیادی مسائل کی نشاندہی کی گئی۔ عوام نے صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی، واٹر سپلائی، بجلی، سڑکوں، زراعت، امن و امان، منشیات اور منچلوں کی جانب سے موٹر سائیکلوں کی ون ویلنگ اور دیگر شعبوں سے متعلق مشکلات حکام کے سامنے رکھیں اور ان کے مستقل حل کے لئے توجہ دلائی۔اس موقع پر جمعہ خان شکرانی نے امن و امان کی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں صورتحال اس حد تک مشکل ہے کہ ہم کرخ بھی آیت الکرسی پڑھتے ہوئے جاتے ہیں۔ ان کے اس بیان نے علاقے میں امن و امان سے متعلق عوامی تشویش کو نمایاں کیا اور متعلقہ حکام کی توجہ اس اہم مسئلے کی جانب مبذول کرائی۔اسی طرح حافظ جمیل ابرار، غلام قادر چھٹہ، آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے جنرل سیکرٹری قدیر زہری، صحافی بشیر احمد رئیسانی، طلحہ قمر سمیت دیگر شرکاء نے بھی شہر میں مختلف مسائل بیان کیے۔ شرکاء نے خصوصاً صحت، تعلیم اور واٹر سپلائی کے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی سہولیات کی دستیابی عوام کی روزمرہ زندگی سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے، اس لیے ان مسائل کے حل کے لیے عملی اور مستقل اقدامات کی ضرورت ہے۔اس موقع پر سماجی کارکن غلام قادر چھٹہ نے پریس کلب کے بانی اور موجودہ نائب صدر علی شیر ناز کے لیے آواز اٹھائی، جو کہ اس وقت شدید علیل ہیں اور پچھلے چھ مہینوں سے بستر پر ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ علی شیر ناز کا سرکاری سطح پر مکمل علاج کروایا جائے۔ سماجی کارکن غلام قادر چھٹہ نے سینئر صحافیوں ماما حیدر موسیانی، بشیر احمد رئیسانی اور دانش مینگل کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان سینئر صحافیوں نے علی شیر ناز کے لیے سوشل میڈیا پر آواز اٹھائی، جس کے نتیجے میں مالی مدد کے طور پر چار لاکھ روپے سے زائد جمع ہوئے، لیکن اب علی شیر ناز کا سرکاری طور پر کسی اچھے ہسپتال میں علاج کروانا انتہائی ضروری ہے۔ اس پر ضلعی انتظامیہ نے باقاعدہ یقین دہانی کرائی کہ بہت جلد، جتنی بھی ممکن ہو سکے، علی شیر ناز کا کسی بڑے ہسپتال میں سرکاری سطح پر علاج ممکن بنایا جائے گا۔شرکاء کی جانب سے نشاندہی کیے گئے مسائل میں بعض ایسے معاملات بھی شامل تھے جن کا تعلق طویل عرصے سے عوام کو درپیش مشکلات سے تھا۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ کھلی کچہری میں پیش کیے جانے والے مسائل کو صرف شکایات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان پر باقاعدہ پیش رفت بھی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام کو عملی ریلیف مل سکے۔
اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر خُضدار عبدالحفیظ کاکڑ نے شہریوں کے مسائل تفصیل سے سنے اور موقع پر موجود متعلقہ محکموں کے افسران کو شکایات کے ازالے اور ضروری اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔ کھلی کچہری میں مختلف محکموں کے افسران نے شہریوں کے سوالات کے جوابات بھی دیے اور اپنے متعلقہ شعبوں سے متعلق مسائل پر بریفنگ دی۔
کھلی کچہری میں ایف سی قلات اسکاؤٹس کے میجر اسرار، محکمہ تعلیم، محکمہ صحت، لائیو اسٹاک، پی ایچ ای، بی اینڈ آر، پی پی ایچ آئی، جنگلات اور دیگر محکموں کے افسران و نمائندگان شریک تھے۔ مختلف محکموں کے افسران کی موجودگی نے شہریوں کو اپنے مسائل براہِ راست متعلقہ ذمہ داران تک پہنچانے کا موقع فراہم کیا۔
کھلی کچہری میں بعض مسائل پر فوری نوٹس لیے جانے اور متعلقہ افسران کو موقع پر ضروری اقدامات کی ہدایت دیے جانے سے شہریوں کو یہ امید پیدا ہوئی کہ عوامی شکایات کو محض سنا ہی نہیں جائے گا بلکہ ان کے حل کے لیے عملی پیش رفت بھی سامنے آئے گی۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق کھلی کچہری کا مقصد ہی یہی ہے کہ عوامی مسائل کو براہِ راست سن کر ان کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔اس موقع پر شہریوں کا کہنا تھا کہ کھلی کچہری جیسے فورمز عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان فاصلے کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ یہاں شہری بغیر کسی واسطے کے اپنے مسائل متعلقہ افسران کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کھلی کچہری میں سامنے آنے والے مسائل پر مسلسل فالو اَپ بھی جاری رکھا جائے تو اس عمل سے عوامی اعتماد مزید مضبوط ہوسکتا ہے۔





