17th-September-2026

خبر نامہ نمبر7861/2026
گوادر17ستمبر۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور صوبائی حکومت کی جانب سے معیاری تعلیم کے فروغ کے اقدامات کے تحت اسسٹنٹ کمشنر گوادر رومیل نعیم جان نے گزشتہ دنوں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سربندن کا دورہ کیا تھا، جہاں طالبات سے ملاقات اور تعلیمی سرگرمیوں کے جائزے کے دوران ریاضی اور فزکس کے اساتذہ کی کمی کی نشاندہی ہوئی تھی۔اس حوالے سے محکمہ تعلیم کے متعلقہ افسران سے رابطہ کیا گیا، جنہوں نے بتایا کہ مطلوبہ ایس ایس ٹی اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق کنٹریکٹ بنیادوں پر تعیناتی کے اقدامات کیے جا رہے ہیںگزشتہ دورے کے دوران طالبات کے ساتھ گفتگو میں اسسٹنٹ کمشنر نے انہیں یقین دلایا تھا کہ وہ اپنی مصروفیات اور دستیابی کے مطابق گاہے بگاہے ان کے ساتھ تعلیمی نشستوں میں شریک ہو کر بالخصوص ریاضی اور فزکس کے مضامین میں عمومی رہنمائی فراہم کرتے رہیں گےااسی سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر گوادر رومیل نعیم جان آج خصوصی طور پر ایک تعلیمی نشست کے لیے دوبارہ گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سربندن پہنچے اور طالبات کے ساتھ وقت گزارا۔ طالبات نے نشست میں بھرپور دلچسپی، خوشی اور جوش و خروش کا اظہار کیا۔ گزشتہ ملاقات کے بعد طالبات کی جانب سے بھی ایسی تعلیمی نشست کے لیے خاصا اشتیاق اور اصرار سامنے آیا تھا، جس پر آج کی نشست کا انعقاد کیا گیا۔نشست کے دوران طالبات نے مختلف سوالات کیے اور تعلیمی موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے مختلف تصورات کو آسان انداز میں سمجھانے کے ساتھ طالبات کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں سوال کرنے، تجسس برقرار رکھنے اور مشکل مضامین کو سمجھ کر سیکھنے کی تلقین کی۔اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ اسکول میں اساتذہ کی کمی کے مستقل حل کے لیے متعلقہ محکمہ تعلیم کے ساتھ رابطہ جاری رکھا جائے گا، جبکہ وہ بھی موقع اور دستیابی کے مطابق طالبات کی تعلیمی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کے لیے ایسی نشستوں میں شریک ہوتے رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7862/2026
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وزیرِ خزانہ میر شعیب نوشیروانی کے وژن کے تحت، چیئرپرسن بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی ہدایات پر بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) کی ٹیم نے بیکریوں اور مٹھائی کی دکانوں کا دورہ کیا۔دورے کے دوران نانی جان، کیک اینڈ کوکیز، ایل ڈوراڈو اور دیگر بیکریوں و سویٹس شاپس کو بلوچستان پروفیشنز، ٹریڈز، کالنگز اینڈ ایمپلائمنٹ ٹیکس ایکٹ 2026 کے تحت رجسٹریشن اور پروفیشنل ٹیکس کی ادائیگی کے حوالے سے نوٹسز جاری کیے گئے۔اس موقع پر متعلقہ کاروباری افراد کو پروفیشنل ٹیکس سے متعلق آگاہی فراہم کرتے ہوئے قانون کے مطابق بروقت رجسٹریشن، درست معلومات کی فراہمی اور واجب الادا ٹیکس کی ادائیگی کی ہدایت کی گئی۔ BRA حکام نے واضح کیا کہ ٹیکس قوانین پر عملدرآمد سے صوبائی محصولات میں اضافہ، ٹیکس نظام میں شفافیت اور کاروباری سرگرمیوں کی بہتر دستاویز بندی ممکن ہوگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7863/2026
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وزیرِ خزانہ میر شعیب نوشیروانی کے وژن کے تحت، چیئرپرسن بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی ہدایات پر بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) کی ٹیم نے بیکریوں اور مٹھائی کی دکانوں کا دورہ کیا۔دورے کے دوران نانی جان، کیک اینڈ کوکیز، ایل ڈوراڈو اور دیگر بیکریوں و سویٹس شاپس کو بلوچستان پروفیشنز، ٹریڈز، کالنگز اینڈ ایمپلائمنٹ ٹیکس ایکٹ 2026 کے تحت رجسٹریشن اور پروفیشنل ٹیکس کی ادائیگی کے حوالے سے نوٹسز جاری کیے گئے۔اس موقع پر متعلقہ کاروباری افراد کو پروفیشنل ٹیکس سے متعلق آگاہی فراہم کرتے ہوئے قانون کے مطابق بروقت رجسٹریشن، درست معلومات کی فراہمی اور واجب الادا ٹیکس کی ادائیگی کی ہدایت کی گئی۔ BRA حکام نے واضح کیا کہ ٹیکس قوانین پر عملدرآمد سے صوبائی محصولات میں اضافہ، ٹیکس نظام میں شفافیت اور کاروباری سرگرمیوں کی بہتر دستاویز بندی ممکن ہوگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7864/2026
پیشکان 17 ستمبر ۔ ڈائریکٹر کالجز مانیٹرنگ مکران پروفیسر برکت اسماعیل بلوچ نے ضلع گوادر کے علاقے پیشکان میں گورنمنٹ بوائز انٹر کالج کا دورہ کیا، جہاں پر انہوں نے فرسٹ اور سیکنڈ ایئر کی کلاسز کا معائنہ اور تدریسی عمل کا جائزہ لیا اور طلبہ سے براہِ راست گفتگو کرتے ہوئے تعلیمی اہمیت، کیریئر کونسلنگ، مطالعے کے فروغ اور کلاسز میں باقاعدگی کی اہمیت پر زور دیا جبکہ کالج پرنسپل عادل بلوچ نے ڈائریکٹر مانیٹرنگ کو کالج ہذا انتظامی امور اور درس و تدریسی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی جبکہ طلبہ نے انہیں دور دراز علاقوں سے کالج آنے کے لیے ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے مسئلے سے بھی آگاہ کیا بعدازاں کالج عملے کے اجلاس میں کالج کی زیرِ تعمیر عمارت پر کام دوبارہ شروع کرنے، لیکچررز سمیت دیگر مستقل آسامیوں پر تعیناتی اور دور دراز علاقوں کے طلبہ کے لیے پک اینڈ ڈراپ بس کی فراہمی سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ڈائریکٹر کالجز مانیٹرنگ نے کالج کے مسائل کے حل کے لیے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کالج انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اپنی عمارت کی عدم دستیابی کے باوجود اسکول کی عمارت میں کالج کو فعال رکھنا اور تعلیمی سرگرمیوں کا تسلسل قابلِ تحسین ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7865/2026
گوادر 17 ستمبر ۔ رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو PPHI کے ضلعی دفتر گوادر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ضلعی منیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر منیر احمد بلوچ سے ملاقات کی اور ضلع گوادر میں غیر فعال ہسپتالوں کی بحالی، ڈاکٹرز و طبی عملے کی تعیناتی اور بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ دور دراز علاقوں کے لوگوں کوان کی دہلیز پر صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے غیر حاضر ڈاکٹرز اور طبی عملے کے خلاف بلاامتیاز محکمانہ کارروائی اور ہسپتالوں میں عملے کی حاضری یقینی بنانے پر بھی زور دیا اس موقع پر ضلعی منیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر منیر احمد بلوچ نے یقین دہانی کرائی کہ ہسپتالوں کی بحالی، ڈاکٹرز کی تعیناتی اور ضروری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں گے۔ مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطہ اور پیروی جاری رکھی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7866/2026
گوادر17 ستمبر ۔رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے ڈائریکٹر جنرل فشریز بلوچستان عتیق الرحمن سے ان کے دفتر گوادر میں ملاقات کی، جس میں گوادر کے ساحلی علاقوں میں غیر قانونی ٹرالنگ کی روک تھام، مقامی ماہی گیروں کے روزگار کا تحفظ، ماہی گیروں کی شفاف رجسٹریشن اور فشریز کے شعبے کی پائیدار ترقی و فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا رکن صوبائی اسمبلی
نے کہا کہ گوادر کے مقامی ماہی گیر نسلوں سے سمندر سے وابستہ ہیں اور ماہی گیری نہ صرف ان کا ذریعہ معاش بلکہ ساحلی معیشت کا اہم حصہ ہے مقامی ماہی گیروں کے روزگار کے تحفظ، سمندری وسائل کی پائیداری اور فشریز صنعت کی ترقی کے لیے موثر نگرانی اور قانون پر عملدرآمد ناگزیر ہے انہوں نے فشریز حکام پر زور دیا کہ گوادر کے ساحلی علاقوں میں پٹرولنگ اور نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے اور غیر قانونی ٹرالنگ کے خلاف قانون و ضوابط کے مطابق عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر وزیراعلیٰ بلوچستان سمیت متعلقہ حکام سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ملاقات میں ماہی گیروں کی رجسٹریشن کے عمل پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ رجسٹریشن کا عمل شفاف، میرٹ پر مبنی اور قابلِ تصدیق ہونا چاہیے تاکہ حقیقی اور مقامی ماہی گیروں کی درست شناخت کے ساتھ انہیں حکومتی سہولیات اور فلاحی پروگراموں تک موثر رسائی فراہم کی جا سکے اس موقع پر ڈی جی فشریز عتیق الرحمن نے کہا کہ محکمہ فشریز سمندری وسائل کے تحفظ، قانونی ماہی گیری کے فروغ اور ساحلی علاقوں میں نگرانی کے نظام کو موثر بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے ماہی گیروں کی رجسٹریشن کے عمل میں شفافیت اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے قانون و پالیسی کے مطابق اقدامات کی یقین دہانی کرائی ملاقات میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ فشریز کے شعبے کی ترقی کے لیے ماہی گیروں کی فلاح و بہبود، جدید سہولیات کی فراہمی، بہتر مارکیٹ رسائی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور پائیدار ماہی گیری کے فروغ کو یکساں اہمیت دی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7867/2026
گوادر/بیجنگ 17 ستمبر ۔صوبائی حکومت بلوچستان کی سرمایہ کاری، صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کی پالیسی کے تحت گوادر کو سی فوڈ پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کا اہم مرکز بنانے کی کوششوں میں پیش رفت سامنے آئی ہے گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جیہند ہوت نے چین کے معروف فوڈ سپلائی چین گروپ Optimize Integration Group (OIG) کے وائس پریذیڈنٹ بن بن یانگ سے ملاقات کی، جس میں گوادر میں سرمایہ کاری، سی فوڈ پروسیسنگ، کولڈ چین، فوڈ لاجسٹکس اور چینی مارکیٹ تک براہِ راست رسائی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں گوادر چیمبر کے سیکریٹری جنرل خالد سیف بھی موجود تھے ترجمان گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ساجد بن رحیم کے مطابق جیہند ہوت نے کہا کہ گوادر کو صرف بندرگاہ نہیں بلکہ پیداوار، پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن، تجارت اور برآمدات کے مربوط مرکز کے طور پر ترقی دینے سے مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وسیع سمندری وسائل کو جدید فش پروسیسنگ، فریزنگ، کولڈ اسٹوریج، معیاری پیکیجنگ اور ریفریجریٹڈ لاجسٹکس سے منسلک کرکے عالمی، بالخصوص چینی، منڈیوں تک برآمدات بڑھائی جاسکتی ہیں ان کا کہنا تھا کہ چینی سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کو گوادر میں سی فوڈ، کولڈ چین، فوڈ پروسیسنگ اور لاجسٹکس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سی فوڈ ویلیو چین کے قیام سے مقامی ماہی گیروں اور کاروباری طبقے کے لیے نئے مواقع، روزگار میں اضافہ اور ملکی برآمدات کو فروغ ملے گا ملاقات میں گوادر اور چین کے درمیان تجارتی روابط کے فروغ اور نجی شعبے کے اشتراک سے سرمایہ کاری کے نئے منصوبوں پر پیش رفت کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7868/2026
گوادر/بیجنگ 17 ستمبر ۔: صوبائی حکومت بلوچستان کی سرمایہ کاری، صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کی پالیسی کے تحت گوادر کو سی فوڈ پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کا اہم مرکز بنانے کی کوششوں میں پیش رفت سامنے آئی ہے گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جیہند ہوت نے چین کے معروف فوڈ سپلائی چین گروپ Optimize Integration Group (OIG) کے وائس پریذیڈنٹ بن بن یانگ سے ملاقات کی، جس میں گوادر میں سرمایہ کاری، سی فوڈ پروسیسنگ، کولڈ چین، فوڈ لاجسٹکس اور چینی مارکیٹ تک براہِ راست رسائی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں گوادر چیمبر کے سیکریٹری جنرل خالد سیف بھی موجود تھے ترجمان گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ساجد بن رحیم کے مطابق جیہند ہوت نے کہا کہ گوادر کو صرف بندرگاہ نہیں بلکہ پیداوار، پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن، تجارت اور برآمدات کے مربوط مرکز کے طور پر ترقی دینے سے مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وسیع سمندری وسائل کو جدید فش پروسیسنگ، فریزنگ، کولڈ اسٹوریج، معیاری پیکیجنگ اور ریفریجریٹڈ لاجسٹکس سے منسلک کرکے عالمی، بالخصوص چینی، منڈیوں تک برآمدات بڑھائی جاسکتی ہیں ان کا کہنا تھا کہ چینی سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کو گوادر میں سی فوڈ، کولڈ چین، فوڈ پروسیسنگ اور لاجسٹکس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سی فوڈ ویلیو چین کے قیام سے مقامی ماہی گیروں اور کاروباری طبقے کے لیے نئے مواقع، روزگار میں اضافہ اور ملکی برآمدات کو فروغ ملے گا ملاقات میں گوادر اور چین کے درمیان تجارتی روابط کے فروغ اور نجی شعبے کے اشتراک سے سرمایہ کاری کے نئے منصوبوں پر پیش رفت کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7869/2026
پسنی 17 ستمبر ۔ صوبائی حکومت کے زرعی شعبے کی ترقی، جدید آبپاشی نظام کے فروغ، پانی کے موثر استعمال اور زرعی پیداوار میں اضافے کے وڑن کے تحت کوکونٹ فارم پسنی میں نئے واٹر چیمبرز کی تعمیر مکمل کرلی گئی ہےنئے واٹر چیمبرز کی تعمیر سے فارم میں پانی کی ذخیرہ کاری، ترسیل اور آبپاشی کے نظام کو مزید موثر، منظم اور پائیدار بنانے میں مدد ملے گی، جس سے ناریل کی کاشت سمیت دیگر زرعی سرگرمیوں کے فروغ اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے سازگار ماحول میسر آئے گا۔ یہ اقدام صوبائی حکومت کی اس پالیسی کا عملی اظہار ہے جس کے تحت پانی کے دستیاب وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔کوکونٹ فارم پسنی میں آبپاشی کی بنیادی سہولیات میں بہتری کو زرعی ترقی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے فارم انچارج و ایگریکلچر آفیسر ایکسٹینشن محمد وسیم نور ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ایکسٹینشن بلوچستان مسعود احمد بلوچ اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن گوادر مقبول احمد بلوچ کی خصوصی کاوشوں، موثر رہنمائی اور تعاون کو سراہا گیا اس موقع پر محکمہ زراعت کے متعلقہ حکام کی عملی کاوشوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جن کی بدولت کوکنٹ فارم میں پانی کے بہتر انتظام، آبپاشی کی سہولیات میں بہتری اور زرعی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنایا گیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7870/2026
کوئٹہ، 17 ستمبر ۔صوبائی وزیر ظہور بلیدی نے آواران میں دہشتگردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن کے دوران دہشتگردوں کا خاتمہ سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت، بروقت کارروائی اور موثر حکمت عملی کا واضح ثبوت ہے۔اپنے بیان میں ظہور بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔ دہشتگرد اور ان کے سہولت کار صوبے کے امن، ترقی اور خوشحالی کے سفر میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھرپور عزم اور استقامت کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے امن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سکیورٹی فورسز کے جوان پوری قوم کے لیے قابلِ فخر ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا، جبکہ ریاستی ادارے امن دشمن عناصر کے عزائم کو ہر سطح پر ناکام بنانے کے لیے متحد اور پرعزم ہیں۔ظہور بلیدی نے مزید کہا کہ بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ امن کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ریاستی اداروں کا ساتھ دیا ہے۔ سکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور صوبے میں پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7871/2026
گوادر 17 ستمبر ۔: صوبائی حکومت کی ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ، حفاظتی ٹیکہ جات کے فروغ اور بیماریوں سے موثر بچاوکی پالیسی کے تحت ضلع گوادر میں ماں اور بچے کی صحت کا ہفتہ 14ستمبر سے شروع ہوا ہے جو19 ستمبر تک جاری رہے گا نیشنل پروگرام کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر عبدالوحد کے مطابق مہم کے دوران مختلف علاقوں میں بچوں کی روٹین امیونائزیشن، حاملہ خواتین کو ٹی ٹی ویکسینیشن اور 2 سے 5 سال تک کے بچوں کو ڈی ورمنگ کی گولیاں فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ خواتین کو بچوں کی صحت، صفائی اور بروقت حفاظتی ٹیکہ جات کی اہمیت سے متعلق آگاہی بھی دی جا رہی ہے ان کا کہنا تھا کہ مہم کا مقصد ماوں اور بچوں کو قابلِ تدارک بیماریوں سے محفوظ بنانا، ویکسینیشن کوریج کو بہتر کرنا اور عوام میں صحت مند طرزِ زندگی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ صحت مند ماں اور صحت مند بچہ ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7872/2026
گوادر 17 ستمبر ۔صوبائی حکومت کے پائیدار ماہی گیری، ساحلی وسائل کے تحفظ، ماہی گیروں کی سہولت اور بلیو اکانومی کے فروغ کے وژن کے تحت محکمہ ماہی گیری و ساحلی ترقی بلوچستان کی جانب سے ماہی گیروں اور کشتی مالکان کے لیے خصوصی لائسنس مہم شروع کی گئی ہے ڈائریکٹر جنرل فشریز بلوچستان عتیق اللہ خان نے کہا ہے کہ خصوصی لائسنس مہم 10 روز تک جاری رہے گی، جس کا مقصد ماہی گیروں اور کشتی مالکان کو اپنی کشتیوں کی باقاعدہ رجسٹریشن اور قانونی لائسنس کے حصول کے لیے سہولت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے تمام ماہی گیروں سے اپیل کی کہ وہ مقررہ مدت کے دوران متعلقہ محکمہ ماہی گیری کے دفاتر سے رجوع کرتے ہوئے اپنے ضروری کوائف اور دستاویزات کی تصدیق کرائیں اور لائسنس کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرائیں ان کا کہنا تھا کہ لائسنس یافتہ اور باقاعدہ رجسٹرڈ کشتیاں نہ صرف قانونی تقاضوں کی تکمیل کا ذریعہ ہیں بلکہ ماہی گیروں کے ریکارڈ کو منظم بنانے، سرکاری سہولیات تک رسائی بہتر کرنے اور مستقبل میں ماہی گیری کے شعبے کی منصوبہ بندی میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔ بلوچستان کی پائیدار ماہی گیری و ایکوا کلچر پالیسی کے تحت لائسنسنگ کے موثر نظام، کشتیوں کے معائنے اور ماہی گیری کے پائیدار انتظام کو اہمیت دی گئی ہے ڈائریکٹر جنرل فشریز نے واضح کیا کہ ماہی گیری کے علاوہ تجارتی یا دیگر کاروباری سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے والی کشتیوں کے مالکان بھی متعلقہ محکمہ ماہی گیری کے دفتر سے فارم حاصل کرکے ضروری دستاویزات کے ساتھ لائسنس کے لیے درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ تصدیق اور مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد مقررہ طریقہ کار کے مطابق لائسنس جاری کیا جائے گا محکمہ ماہی گیری کا مقصد ماہی گیروں کو مشکلات سے دوچار کرنا نہیں بلکہ انہیں قانونی دائرہ کار میں لاتے ہوئے محفوظ، منظم، پائیدار اور معاشی طور پر مضبوط ماہی گیری کے نظام کو فروغ دینا ہے۔ ماہی گیر اس خصوصی مہم سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، اپنی کشتیوں کا ریکارڈ مکمل اور لائسنس باقاعدہ بنائیں تاکہ بلوچستان کے ساحلی وسائل کا پائیدار استعمال اور ماہی گیروں کی معاشی ترقی یقینی بنائی جاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7873/2026
لورالائی:17ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن(ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت ریونیو کورٹ ڈے کا انعقاد کیا گیا، جس میں اراضی، انتقالات، ریونیو ریکارڈ اور دیگر متعلقہ معاملات سے متعلق مختلف مقدمات کی سماعت کی گئی ریونیو کورٹ ڈے کے دوران زیرِ التواءمقدمات اور عوام کو درپیش ریونیو مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ متعدد کیسز کو قانون اور مروجہ قواعد و ضوابط کے مطابق نمٹاتے ہوئے فریقین کو ریلیف فراہم کیا گیااس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیپٹن(ر) محمد حسیب شجاع نے متعلقہ ریونیو افسران و اہلکاروں کو ہدایت کی کہ عوامی نوعیت کے ریونیو معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور زیرِ التواء مقدمات کی جلد از جلد قانونی تقاضوں کے مطابق یکسوئی یقینی بنائی جائےانہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کا مقصد عوام کو ریونیو سے متعلق مسائل کے حل کے لیے بروقت اور شفاف سہولیات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے ریونیو ریکارڈ کی درستگی، شفافیت اور عوامی شکایات کے ازالے پر خصوصی توجہ دینے کی بھی ہدایت کی۔ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی تاخیر یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور ریونیو معاملات کو قانون و قواعد کے مطابق شفاف انداز میں نمٹانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7874/2026
کوئٹہ 17ستمبر ۔ 69 ویں کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس میں صوبائی مشیر کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے بلوچستان اور پاکستان کے نوجوانوں کی نمائندگی کی۔نوجوانوں کے مسائل، مواقع اور مستقبل پر اظہار خیال ،فیصلہ سازی اور پالیسی سازی میں موثر شمولیت پر زوربلوچستان اور پاکستان کے لیے یہ یقیناً فخر اور اعزاز کی بات ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی نڈر اور نوجوان ایم پی اے رہنما نے جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاون میں منعقدہ 69ویں Commonwealth Parliamentary Conference کے عالمی پارلیمانی فورم پر 16 ستمبر کو منعقدہ Youth Roundtable میں پورے ایشیا ریجن کے نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان، بالخصوص بلوچستان کے نوجوانوں کی موثر ترجمانی کی۔راونڈ ٹیبل سیشن میں ایشیا ریجن کے نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے مینا مجید بلوچ نے خطے کے نوجوانوں کے مسائل، ان کی صلاحیتوں، توانائی، مواقع اور مستقبل کے امکانات کو گلوبل پارلیمانی برادری کے سامنے موثر انداز میں اجاگر کیا۔انہوں نے اس اہم فورم پر پاکستان کے نوجوانوں کی آواز کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ یہ فخر کی بات ہے کہ پاکستان کی جمہوری اسمبلیوں میں تقریباً 30 فیصد نوجوان نمائندگی کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان کی 62 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان توانائی، صلاحیت، ہنر اور عزم سے مالا مال ہیں اور ملک کو ترقی، خوشحالی اور ایک روشن مستقبل کی جانب لے جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
Commonwealth Parliamentary Conference دولتِ مشترکہ کے ممالک کی پارلیمانوں کا ایک اہم سالانہ عالمی پلیٹ فارم ہے، جہاں مختلف ممالک کے پارلیمنٹیرینز، پارلیمانی حکام اور پالیسی سے وابستہ افراد مشترکہ عالمی، پارلیمانی اور سماجی امور پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ رواں سال کی 69ویں کانفرنس میں Commonwealth کی مختلف پارلیمانوں سے سینکڑوں پارلیمنٹیرینز، پارلیمانی اسٹاف اور decision-makers نے شرکت کی۔ایسے عالمی فورم پر بلوچستان کی ایک نوجوان خاتون کی جانب سے پورے ایشیا کے نوجوانوں کی نمائندگی، پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کے نوجوانوں کی صلاحیتوں اور امکانات کو اجاگر کرنا اور ان کی آواز کو عالمی پارلیمانی گفتگو کا حصہ بنانا، بلوچستان کے لیے یقیناً ایک قابلِ فخر لمحہ ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7875/2026
اورماڑہ، 17 ستمبر ۔ عوامی شکایات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر اورماڑہ ڈاکٹر ماہ نور برکت نے مکران کوسٹل ہائی وے کے زیرو پوائنٹ پر قائم ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس پر اچانک چھاپہ مار کارروائی کی۔ اس دوران کھانے پینے کی اشیاءکے معیار، صفائی ستھرائی، حفظانِ صحت، واش رومز اور مقررہ نرخوں کا سختی سے جائزہ لیا گیا معائنہ میں چار ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کی مکمل چیکنگ کی گئی، جبکہ غیر معیاری اشیائے خورونوش اور دیگر خلاف ورزیوں پر متعلقہ ہوٹل مالکان کو جرمانے کیے گئے۔ اسسٹنٹ کمشنر نے ہوٹل مالکان کو سختی سے ہدایت کی کہ شہریوں اور مسافروں کو صاف ستھرا، معیاری اور محفوظ کھانا فراہم کیا جائے اور حفظانِ صحت کے تمام اصولوں پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ڈاکٹر ماہ نور برکت نے واضح کیا کہ عوام کی صحت اور جانوں سے کھیلنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ ناقص، غیر معیاری یا زائدالمیعاد اشیائے خورونوش کے استعمال، صفائی میں غفلت اور مقررہ نرخوں کی خلاف ورزی پر آئندہ مزید سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ان کو کہنا تھا کہ عوامی شکایات کا فوری ازالہ اور شہریوں و مسافروں کو محفوظ خوراک کی فراہمی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اس حوالے سے اچانک معائنوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7876/2026
کو ئٹہ17 ستمبر۔ حکومت بلوچستان نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی کنوینس الاونس (Special Conveyance Allowance) میں اضافہ کر دیا۔محکمہ خزانہ بلوچستان کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق خصوصی کنوینس الاونس کی شرح 4 ہزار روپے ماہانہ سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کر دی گئی ہے۔ نئی شرح یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگی۔نوٹیفکیشن کے مطابق یہ الاونس معمول کے کنوینس الاو¿نس کے علاوہ دیا جائے گا۔ اس سہولت کے حقدار وہ سرکاری ملازمین ہوں گے جو معذور ملازمین کے کوٹے پر بھرتی ہوئے ہیں یا دورانِ ملازمت مجاز میڈیکل بورڈ کی جانب سے معذور قرار دیے گئے یا سرٹیفائیڈ ہوئے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7877/2026
کوئٹہ، 17 ستمبر ۔ صوبائی وزیر ظہور بلیدی نے آواران میں دہشتگردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن کے دوران دہشتگردوں کا خاتمہ سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت، بروقت کارروائی اور موثر حکمت عملی کا واضح ثبوت ہے۔اپنے بیان میں ظہور بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔ دہشتگرد اور ان کے سہولت کار صوبے کے امن، ترقی اور خوشحالی کے سفر میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھرپور عزم اور استقامت کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے امن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سکیورٹی فورسز کے جوان پوری قوم کے لیے قابلِ فخر ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا، جبکہ ریاستی ادارے امن دشمن عناصر کے عزائم کو ہر سطح پر ناکام بنانے کے لیے متحد اور پرعزم ہیں۔ظہور بلیدی نے مزید کہا کہ بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ امن کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ریاستی اداروں کا ساتھ دیا ہے۔ سکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور صوبے میں پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7878/2026
خضدار 16 ستمب ۔شہر میں جاری بجلی کی لوڈشیڈنگ اور عوامی شکایات کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی زیر صدارت ایک اہمللل مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی خضدار اور کیسکو حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد بجلی کے اوقات کار کو بہتر بنانا، لوڈشیڈنگ میں کمی لانا اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا تھا. اجلاس میں کیسکو خضدار کے ایگزیکٹو انجینئر عبدالقیوم بنگلزئی، ایس ڈی او کیسکو عبدالرﺅف سومرو جبکہ آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی خضدار کے چیئرمین بشیر احمد جتک، عبدالحمید بلوچ، مولانا محمد اسحاق شاہوانی، حافظ حمیداللہ مینگل، میر اشرف علی مینگل، جمعہ خان شکرانی، سمیت دیگر ممبران نے شرکت کی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر وڈھ اکبر علی مزارزئی اور سپرنٹنڈنٹ مراد گزوزئی بھی موجود تھے۔اجلاس میں شہر اور گرد و نواح میں بجلی کی لوڈشیڈنگ، کے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے نمائندوں نے موقف اختیار کیا کہ خضدار جیسے بڑے اور گرم ترین شہر میں لوڈشیڈنگ سے کاروباری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، طلبہ کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے اور عام شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجلی عوام کی بنیادی ضرورت ہے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے حکم کے مطابق ہر ڈویڑنل ہیڈ کوارٹر میں صرف دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی تو مجھے امید ہے ان کی ہدایت پر عمل درامد ہوگا اور ضلعی انتظامیہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ انہوں نے کیسکو حکام کو ہدایت کی کہ وہ بجلی کے اوقات کار کو عوام دوست بنائیں اور غیر ضروری لوڈشیڈنگ میں کمی لائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔کیسکو کے ایگزیکٹو انجینئر عبدالقیوم بنگلزئی نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ خضدار میں بجلی کی فراہمی میں بہتری کے لیے کیسکو ہر ممکن تعاون کرے گا۔ کیسکو کو لائن لاسز اور بروقت بلوں کی ادائیگی سے ہی کیسکو مکمل بجلی کی فراہمی کو ممکن بناسکے گا اس سلسلے میں صارفین تعاون کریں جس کے بعد کیسکو خضدار بجلی کی بلا تعطل فراہمی اور لوڈشیڈنگ میں کمی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔ دوسری جانب آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ کیسکو کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے امید ظاہر کی کہ خضدار کے غریب عوام کو غیر طریقے سے بجلی کے بل بھیجے جائیں گے تو وہ کہاں سے پوری کریں گے تو واپڈا انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ بھی عوام سے تعاون کریں اور گھر گھرجا کے اپنے میٹرریڈریس کے حساب سے ان کے میٹر چیک کر لیا کریں جتنے یونٹس ہیں اتنے یونٹس کے حساب سے ان کے لیے بلز بھجوا دیا کریں اس مشترکہ تعاون سے خضدار میں بجلی کا دیرینہ مسئلہ حل ہونے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام، ضلعی انتظامیہ اور کیسکو جب ایک پیج پر ہوں گے تو نہ صرف بجلی چوری میں کمی آئے گی بلکہ ریکوری میں بھی اضافہ ہوگا جس کا براہ راست فائدہ خضدار کے شہریوں کو پہنچے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر7882 /2026
کوئٹہ17ستمبر۔ حکومت بلوچستان نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی کنوینس الاونس میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ محکمہ خزانہ بلوچستان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق خصوصی کنوینس الاونس 4 ہزار روپے ماہانہ سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کر دیا گیا ہے، جس کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔اعلامیے کے مطابق نظرثانی شدہ خصوصی کنوینس الاونس معمول کے کنوینس الاونس کے علاوہ دیا جائے گا۔ معذور کوٹے پر بھرتی ہونے والے سرکاری ملازمین کے علاوہ میڈیکل بورڈ کی جانب سے معذور قرار دیے گئے سرکاری ملازمین بھی اس الاونس کے حقدار ہوں گے۔حکومت بلوچستان کے اس اقدام سے معذور سرکاری ملازمین کو آمدورفت کے اخراجات میں اضافی مالی سہولت فراہم ہوگی۔
خبر نامہ نمبر7883/2026
کوئٹہ 17ستمبر۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی نے ایس پی ٹریفک کے ہمراہ مین نواں کلی روڈ پر تجاوزات کے خلاف کارروائی کی۔کارروائی کے دوران سڑک پر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بننے والے ریڑھی بانوں اور دیگر عارضی تجاوزات کو ہٹا دیا گیا، جبکہ سڑک کے متاثرہ حصوں کو کلیئر کر کے عوام اور ٹریفک کی آمدورفت بحال کر دی گئی۔تجاوزات اور انتظامی قوانین کی خلاف ورزی پر 10 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ عوامی شاہراہوں اور سڑکوں پر تجاوزات کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی، جبکہ سڑکوں کو عوام کے لیے قابلِ رسائی اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7884/2026
گوادر 17ستمبر۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی تعلیم کے فروغ، شفافیت اور سرکاری وسائل کے موثر استعمال کی پالیسی کے تحت ضلع گوادر میں کلسٹر ہیڈ اسکولز کے بجٹ سال 2025-26 کے استعمال کا تفصیلی آڈٹ مکمل کرلیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر گوادر رومیل نعیم جان کی ہدایات پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) گوادر زراتون بلوچ کی جانب سے ضلع کے تین اہم کلسٹر ہیڈ اسکولز کا تفصیلی آڈٹ کیا گیا، جس کا مقصد بجٹ کے استعمال، فراہم کردہ سامان کے رسیونگ سرٹیفکیٹس، بلز واوچرز، اسٹاک رجسٹرز اور فیڈنگ اسکولز کے متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لینا تھا۔آڈٹ کے دوران گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول بخشی کالونی، گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول گوادر اور گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول ملا بند کے بجٹ و انتظامی ریکارڈ کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ تینوں اسکولوں میں مجموعی طور پر بجٹ کے استعمال اور متعلقہ ریکارڈ کو تسلی بخش قرار دیا گیا جبکہ ضروری دستاویزات اور ثبوت بھی محفوظ پائے گئے۔گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول گوادر کا ریکارڈ خصوصی طور پر منظم، شفاف اور سسٹمیٹک انداز میں مرتب پایا گیا۔ فیڈنگ اسکولز سے متعلق ریکارڈ بھی مکمل اور بہترین طریقے سے محفوظ کیا گیا تھا۔ آڈٹ رپورٹ میں کلسٹر ہیڈ میڈم رشیدہ اور ان کی معاون علی شاہ کی محنت، ذمہ داری اور ریکارڈ کی موثر دیکھ بھال کو سراہا گیا اور سفارش کی گئی کہ دیگر کلسٹر ہیڈز بھی اس اسکول کے بہترین انتظامی ماڈل سے استفادہ کریں۔گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول ملا بند کا مالی اور انتظامی ریکارڈ بھی درست اور تسلی بخش پایا گیا، تاہم آڈٹ کے دوران اسکول کی عمارت کی خستہ حال اور غیر محفوظ صورتحال کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کی فوری مرمت و بحالی کے لیے ضروری اقدامات کی سفارش کی گئی، تاکہ طالبات کو محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کیا جاسکے اور تدریسی عمل متاثر نہ ہو۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق تینوں کلسٹر ہیڈ اسکولز میں بجٹ کا استعمال شفاف طریقے سے کیا گیا جبکہ تمام متعلقہ ریکارڈ اور ثبوت محفوظ ہیں۔ محکمہ تعلیم کے مطابق ایسے آڈٹس کا مقصد نہ صرف سرکاری فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنانا ہے بلکہ تعلیمی اداروں میں مالی نظم و نسق، جوابدہی اور انتظامی معیار کو مزید بہتر بنانا بھی ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی پالیسی کے تحت صوبے میں تعلیمی اداروں کے معیار، شفاف مالیاتی نظام اور طلبہ و طالبات کو بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے، جبکہ ضلع گوادر میں بھی اس سلسلے میں نگرانی اور اصلاحی اقدامات کا عمل جاری ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7885/2026
کوئٹہ/گوادر 17 ستمبر۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرِ صدارت گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے انتظامی، مالیاتی اور ترقیاتی امور سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ڈویلپمنٹ بلوچستان زاہد سلیم سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی، جبکہ ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے چیف سیکرٹری بلوچستان کو گوادر میں جاری اور مکمل کیے گئے مختلف ترقیاتی منصوبوں، شہر کی تعمیر و ترقی، شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ادارے کی مجموعی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ جی ڈی اے گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کے تحت شہر کو جدید تقاضوں اور عالمی معیار کے مطابق ترقی دینے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے روزانہ کی بنیاد پر مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جی ڈی اے کی میونسپل سروسز کے تحت شہر کی شاہراہوں اور گلیوں کی صفائی، بیچز کی صفائی، ڈرینج اور سیوریج لائنوں کی صفائی و دیکھ بھال، گرین بیلٹس اور مختلف گراونڈز میں شجرکاری، درختوں کی حفاظت و دیکھ بھال، واٹر سپلائی اور ڈسٹری بیوشن کے نظام کی نگرانی سمیت مختلف شہری خدمات انجام دی جا رہی ہیں۔ اسی طرح شہر میں غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام اور تعمیراتی سرگرمیوں کو قواعد و ضوابط کے مطابق لانے کے لیے بھی باقاعدہ کارروائیاں جاری ہیں۔اجلاس میں جی ڈی اے کے انتظامی ڈھانچے، ہیومن ریسورس، مالیاتی امور اور بجٹ کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل نے ادارے کے جاری و نئے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، رواں مالی سال میں مختص ترقیاتی فنڈز اور مختلف منصوبوں کے لیے درکار اضافی مالی وسائل سے متعلق بھی تفصیلی آگاہ کیا۔گوادر میں پانی کی فراہمی کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ سوڈ ڈیم میں پانی کا سطح کم ہونے کے بعد اس وقت شادی کور سے روزانہ پانی پمپ کرکے گوادر شہر کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ شادی کور پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی سہولت دستیاب نہ ہونے کے باعث جنریٹرز کے ذریعے مسلسل پمپس چلائے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ایندھن اور آپریشنل اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں اضافی فنڈز کی ضرورت سے بھی آگاہ کیا گیا۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ شادی کور پمپنگ اسٹیشن کو پسنی گرڈ اسٹیشن سے بجلی کی فراہمی کے لیے علیحدہ فیڈر کی تنصیب سے متعلق پی سی ون صوبائی حکومت کو منظوری کے لیے پیش کیا جا چکا ہے، جس پر جلد پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے گوادر کے شہریوں کو فراہم کی جانے والی مختلف سہولیات، جن میں کھیلوں کے میدان، پارکس اور تفریحی مقامات، جی ڈی اے اسکول، جی ڈی اے ہسپتال، شاہراہوں کا نیٹ ورک، ماہی گیری کے شعبے کے لیے سہولیات، جیٹیز اور بریک واٹرز سمیت دیگر منصوبے شامل ہیں، کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر جی ڈی اے اولڈ ٹاون بحالی منصوبے کے تحت مکمل کیے گئے منصوبوں کا بھی خصوصی طور پر ذکر کیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ ملا فاضل چوک، جو گوادر کا ایک دیرینہ اور اہم تجارتی مرکز ہے جو گزشتہ کئی ادوار سے سیوریج اور ڈرینج کا ابلتا تالاب بن گیا تھا جی ڈی اے نے اس کی تعمیر و توسیع کرکے اسے جدید اور خوبصورت چوک میں تبدیل کیا گیا ہے، جس سے علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملا ہے۔اسی طرح ایک عرصے سے سیوریج اور گندے پانی کے جوہڑ کا منظر پیش کرنے والے دیمی زر پر سڑک کی تعمیر، جدید ڈرینج نظام کی تنصیب اور بیچ ایریا کی صفائی و خوبصورتی کے اقدامات کے ذریعے اسے ایک بہتر اور صاف ستھری شہری جگہ میں تبدیل کیا گیا ہے۔اجلاس میں جی ڈی اے کی آمدن میں اضافے کے امکانات اور ادارے کے مالی وسائل کو مستحکم بنانے کے لیے مختلف اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری بلوچستان نے جی ڈی اے کی آمدن میں اضافے کے لیے نئے ذرائع تلاش کرنے، موجودہ وسائل کے موثر استعمال اور مالی استحکام کے لیے قابلِ عمل تجاویز مرتب کرنے کی ہدایت کی۔جی ڈی اے اسکول کے مستقبل کے حوالے سے بھی اجلاس میں اہم غور و خوض کیا گیا۔ چیف سیکرٹری بلوچستان نے جی ڈی اے ہسپتال کی آوٹ سورسنگ کے کامیاب تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے جی ڈی اے اسکول کو بھی کسی مستند اور تجربہ کار ادارے کے ذریعے چلانے کے امکان کا جائزہ لینے کی ہدایت کی، تاکہ طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ادارے کے انتظامی و مالی اخراجات کو بھی موثر انداز میں کم کیا جا سکے۔چیف سیکرٹری بلوچستان نے ہدایت کی کہ جی ڈی اے بورڈ گورننگ باڈی کے آئندہ اجلاس میں ادارے کی آمدن میں اضافے کے امکانات، مالی خود انحصاری، جی ڈی اے اسکول کے مستقبل کے لیے موزوں انتظامی ماڈل اور جی ڈی اے کے نان ڈویلپمنٹ بجٹ سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل پیدا کرنے سے متعلق جامع سفارشات پیش کی جائیں۔اجلاس میں گوادر کی پائیدار شہری ترقی، بنیادی سہولیات کی بہتری، جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل اور ادارے کے انتظامی و مالی نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے جی ڈی اے کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7886/2026
کوئٹہ17ستمبر۔ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ نوجوان نسل ملک کا قیمتی اثاثہ ہے، اس کی علمی، ادبی اور فکری تربیت کے لیے تعلیمی اداروں کا کردار نہایت اہم ہے۔ قومی ورثے، زبان و ادب اور ثقافتی اقدار سے نئی نسل کو روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔تعمیر نو ٹرسٹ بلوچستان تعلیمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے،وہ جمعرات کو رحمت للعالمین و خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کلب تعمیر نو ٹرسٹ بلوچستان کے زیر اہتمام تعمیر نو کالج غزالی کیمپس کوئٹہ میں منعقدہ خصوصی انٹرایکٹو سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں طلبہ و طالبات، اساتذہ، ٹرسٹ کے عہدیداران اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی کی تقریب میں آمد پر طلبہ و طالبات نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ پھول پیش کیے گئے، ریڈ کارپٹ بچھایا گیا جبکہ روایتی انداز میں مہمان خصوصی کو تقریب میں خوش آمدید کہا گیا۔تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، جس کی سعادت قاری محمد انس نے حاصل کی۔ اس کے بعد نعت رسول مقبول ?، اسمائے حسنیٰ اور دیگر پروگرام پیش کیے گئے۔ طلبہ کی جانب سے کلامِ اقبال بھی پیش کیا گیا۔سیکرٹری تعمیر نو ٹرسٹ بلوچستان محمد نسیم لہڑی نے خطب استقبالیہ پیش کرتے ہوئے مہمان خصوصی اور دیگر معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے تعمیر نو ٹرسٹ کی تعلیمی، تربیتی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ادارہ طلبہ کو معیاری تعلیم کے ساتھ قومی اقدار، ادب اور ثقافت سے جوڑنے کے لیے مختلف پروگرام منعقد کرتا ہے۔تقریب کا اہم حصہ حاجی مصدق علی اسکالرشپ 2026 تھا، جس کے تحت تین طلبہ میں اسکالرشپ تقسیم کی گئی۔ ہر طالب علم کو دو لاکھ روپے دیے گئے، اس طرح تین طلبہ میں مجموعی طور پر چھ لاکھ روپے کی رقم تقسیم ہوئی۔ اسکالرشپ کا مقصد مستحق اور قابل طلبہ کی حوصلہ افزائی اور اعلیٰ تعلیمی کارکردگی کی پذیرائی تھا۔تقریب میں انٹرنیشنل اقبال کانفرنس 2025 کی جھلکیاں بھی پیش کی گئیں، جس کے ذریعے تعمیر نو ٹرسٹ کی ادبی و فکری سرگرمیوں کو اجاگر کیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل نیشنل لینگویج پروموشن ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر مظہر سلیم نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے زبان و ادب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے طلبہ کو مطالعہ اور ادبی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ زبان کسی بھی قوم کی شناخت اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کا اہم ذریعہ ہے۔اس موقع پر تعمیر نو ٹرسٹ بلوچستان پر دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی، جس میں ادارے کے تعلیمی سفر اور مختلف سرگرمیوں کو اجاگر کیا گیا۔اس موقع پر طلبہ کی جانب سے کلامِ اقبال پیش کیا گیا، جبکہ پرائمری اسکول کے طلبہ نے استقبالیہ ٹیبلو پیش کیا۔ مہمان خصوصی کو روایتی ٹوپی، اور اقبال کانفرنس کی یادگای شال بھی پیش کی گئی۔چیئرمین تعمیر نو ٹرسٹ بریگیڈیئر (ر) عبدالجلیل خان نے اختتامی کلمات میں وفاقی وزیر، ڈاکٹر مظہر سلیم، معزز مہمانوں، اساتذہ اور طلبہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ تعمیر نو ٹرسٹ تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کی علمی، ادبی اور اخلاقی تربیت کو بھی اہمیت دیتا ہے اور مستقبل میں بھی ایسی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر کو یادگاری سووینئر پیش کیا گیا، جس کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا۔ پروگرام کے کنڈکٹر اور میزبان پیٹرن رحمت للعالمین و خاتم للنبین صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کلب تعمیر نو ٹرسٹ بلوچستان۔ سیکرٹری حکومت بلوچستان حافظ محمد طاہر تھے۔ بعد ازاں گوشاقبال میں شرکاءکے لیے ریفریشمنٹ کا اہتمام کیا گیا۔واضح رہے کہ تقریب میں وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھیچی، تعمیر نو ٹرسٹ کے سیکرٹری محمد نسیم لہڑی، چیئرمین بریگیڈیئر (ر) عبدالجلیل خان اور ڈائریکٹر جنرل نیشنل لینگویج پروموشن ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر مظہر سلیم سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7887/2026
لورالائی17ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن(ر) محمد حسیب شجاع کے احکامات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ نے شہر اور گردونواح میں سرکاری اراضی، ایریگیشن نالے اور بازار میں قائم غیر قانونی تجاوزات کے خلاف باقاعدہ کارروائی کا آغاز کر دیا ہےاس سلسلے میں نائب تحصیلدار محمد عظیم کی سربراہی میں متعلقہ عملے نے مختلف علاقوں کا معائنہ کرتے ہوئے ایریگیشن نالے، بازار اور دیگر عوامی مقامات پر قائم تجاوزات کی نشاندہی کا عمل شروع کر دیا۔ انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی تعمیرات، دکانوں کے باہر قائم تجاوزات اور سرکاری حدود میں قائم دیگر رکاوٹوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ متعلقہ حکام کو تجاوزات کی مکمل نشاندہی کرکے انہیں فوری طور پر ہٹانے اور سرکاری اراضی واگزار کرانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق غیر قانونی تجاوزات کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات، ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ اور سرکاری و عوامی املاک کے استعمال میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایریگیشن نالوں پر قائم تجاوزات نہ صرف سرکاری اراضی پر قبضے کے زمرے میں آتی ہیں بلکہ نکاسی آب اور آبپاشی کے نظام کو بھی متاثر کر سکتی ہیں ڈپٹی کمشنر کیپٹن(ر) محمد حسیب شجاع نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی مکمل طور پر قانون اور ضابطے کے مطابق اور بلاامتیاز کی جائے، جبکہ سرکاری اراضی پر دوبارہ تجاوزات قائم ہونے کی روک تھام کے لیے موثر نگرانی کا نظام بھی یقینی بنایاجائےانتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ سرکاری اراضی، ایریگیشن نالوں، بازاروں، سڑکوں، فٹ پاتھوں اور دیگر عوامی مقامات پر کسی بھی قسم کی غیر قانونی تعمیرات یا تجاوزات ہرگز برداشت نہیں کی جائیں گی۔ تجاوزات کے خلاف کارروائی مرحلہ وار جاری رکھتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں کو تجاوزات سے پاک بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے ضلعی انتظامیہ نے دکاندارں اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری حدود میں کسی قسم کی غیر قانونی تعمیر یا تجاوزات قائم کرنے سے گریز کریں اور اپنی دکانوں و کاروباری مراکز کے سامنے عوامی گزرگاہوں کو کھلا رکھیں انتظامیہ نے عوام الناس سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کسی مقام پر سرکاری اراضی، ایریگیشن نالے یا بازار میں غیر قانونی تجاوزات قائم کی جا رہی ہوں تو اس کی اطلاع ضلعی انتظامیہ کو دیں تاکہ بروقت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے ضلعی انتظامیہ کے مطابق شہر کو صاف، منظم، تجاوزات سے پاک اور شہریوں کے لیے محفوظ و آسان بنانے کے لیے کارروائی کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا، جبکہ اس مقصد کے حصول کے لیے عوامی تعاون کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7888/2026
تربت17. ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر ابوبکر میروانی نے ٹیچنگ ہسپتال تربت کا اچانک دورہ کیا.جہاں انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرکے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، عملے کی حاضری اور صفائی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔اس موقع پر ٹیچنگ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالوحید بلیدی اور ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر محسن منیر بلیدی اور ویکسینیشن کے ڈسٹرکٹ سپرٹنڈنٹ ڈاکٹر عبد الطیف بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر ابوبکر میروانی نے ایمرجنسی وارڈ، او پی ڈی سمیت ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی دورہ کیا اور وہاں موجود عملے کی حاضری اور ڈیوٹی کے اوقات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔اسسٹنٹ کمشنر نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک او پی ڈی میں تمام ڈاکٹرز کی موجودگی اور ڈیوٹی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کو بروقت طبی معائنہ اور علاج کی سہولت میسر آسکے۔انہوں نے پیرامیڈیکل اسٹاف کو بھی ہدایت کی کہ وہ مقررہ ڈیوٹی اوقات میں مکمل وردی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں اور مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کریں۔اسسٹنٹ کمشنر نے ہسپتال میں صفائی کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام وارڈز، او پی ڈی، ایمرجنسی، راہداریاں اور دیگر شعبہ جات کو صاف ستھرا رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں صفائی کا معیار بہتر ہونا چاہیے کیونکہ مریضوں اور ان کے لواحقین کو صاف اور صحت مند ماحول فراہم کرنا ہسپتال انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ صفائی کے عملے کی حاضری اور روزانہ کی بنیاد پر صفائی کو بھی یقینی بنایا جائے۔دورے کے دوران ایم ایس ڈاکٹر عبدالوحید بلیدی نے اسسٹنٹ کمشنر کو ٹیچنگ ہسپتال کو درپیش مختلف مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے ہسپتال میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سمیت دیگر انتظامی و بنیادی مسائل، مریضوں کو درپیش مشکلات اور ہسپتال کی ضروریات سے آگاہ کیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے ہسپتال انتظامیہ کو یقین دلایا کہ دورے کے دوران سامنے آنے والے مسائل اور مشکلات سے ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کیا جائے گا اور ان کے حل کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی، ڈاکٹرز اور طبی عملے کی بروقت حاضری اور ہسپتال میں صفائی کے بہتر انتظامات پر خصوصی توجہ دی جائے، جبکہ تمام متعلقہ اہلکار اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7890/2026
گوادر/اورماڑہ: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر تحصیلدار اورماڑہ نور خان بلوچ کی سربراہی میں پرائس کنٹرول کمیٹی نے اورماڑہ بازار کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر مختلف دکانوں، ہوٹلوں، سبزی اور مرغی فروشوں سمیت دیگر کاروباری مراکز کا معائنہ کیا گیا۔پرائس کنٹرول کمیٹی نے مختلف اشیائے ضروریہ کے نرخ، سرکاری نرخ ناموں کی دستیابی اور ان پر عملدرآمد کا جائزہ لیا، جبکہ دکانداروں کو مقررہ نرخوں کے مطابق اشیاء فروخت کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اس کے علاوہ بازار میں صفائی ستھرائی کی صورتحال کا بھی تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے دکانداروں کو صفائی کے انتظامات بہتر بنانے اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی گئی۔معائنے کے دوران خلاف ورزیوں اور ناقص انتظامات پر 8 دکانداروں اور 2 ہوٹل مالکان کو وارننگ جاری کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ مقررہ نرخوں کی خلاف ورزی، صفائی ستھرائی میں غفلت اور عوام کو غیر معیاری اشیاء کی فراہمی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔پرائس کنٹرول کمیٹی نے کہا کہ عوام کو مناسب نرخوں پر معیاری اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بازاروں کی نگرانی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7891/2026
گوادر17 ستمبر ۔ صوبائی حکومت کی کھیلوں کے فروغ، نوجوانوں کو مثبت اور صحت مند سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنے اور تعلیمی اداروں میں کھیلوں کے کلچر کو پروان چڑھانے کی پالیسی کے تحت منعقدہ میر کلمتی انٹر ایجوکیشنل اسپورٹس فیسٹیول گوادر 2026 شاندار اور پ±رجوش اختتام پذیر ہوگیا 7 ستمبر سے جاری فیسٹیول میں گوادر کے مختلف سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی، جبکہ میراتھن، رسہ کشی، کرکٹ اور فٹبال سمیت مختلف کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کیا گیا۔ فیسٹیول نے طلبہ کو اپنی کھیلوں کی صلاحیتوں کے اظہار اور مثبت مسابقت کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔
فیسٹیول کے بوائز فٹبال مقابلوں کا فائنل میچ بابا بزنجو فٹبال اسٹیڈیم میں گورنمنٹ جدید ہائی اسکول گوادر اور گورنمنٹ گوتری ہائی اسکول کے درمیان کھیلا گیا، جس میں گوتری اسکول نے دلچسپ مقابلے کے بعد 3-2 سے کامیابی حاصل کرکے چیمپئن شپ اپنے نام کرلی اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ظہور احمد بلوچ تھے، جبکہ میر ارشد کلمتی، ڈی ای او زاہد حسین، ضلعی پروگرام مینیجر عادل نودیزی، پرنسپل مجید کے بی، ہیڈ ماسٹر وحید ہمدرد سمیت اساتذہ، طلبہ، والدین اور شائقینِ کھیل نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک، قومی ترانے اور ملی نغمے سے ہوا اختتامی
تقریب میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اسکاوٹ پریڈ دستے، کھلاڑیوں اور ٹیموں میں ٹرافیاں، نقد انعامات اور اسناد تقسیم کی گئیں۔ گوتری اسکول کے اصغر اکبر کو بہترین گول کیپر، عاصم حاصل کو بہترین کھلاڑی جبکہ جدید اسکول کے واجو شعبان کو ٹاپ اسکورر قرار دیا گیا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے میر ارشد کلمتی نے فیسٹیول کی کامیابی میں تعاون کرنے والے مہمانانِ گرامی، محکمہ تعلیم، ڈی ای او گوادر، سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے سربراہان، اساتذہ، صحافیوں، فیسٹیول کمیٹی کے اراکین، گراونڈ ورکرز اور ریفریز کا شکریہ ادا کیا۔فیسٹیول کے انعقاد کا بنیادی مقصد طلبہ میں کھیلوں کا جذبہ اجاگر کرنا، صحت مند سرگرمیوں کو فروغ دینا، تعلیمی اداروں کے درمیان مثبت مسابقت کو تقویت دینا اور نوجوانوں کو تعمیری سرگرمیوں سے جوڑنا تھا۔ شرکاء نے کہا کہ گوادر میں نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے مزید مواقع پیدا کرنے اور تعلیمی اداروں میں کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7892/2026
لسبیلہ ڈویژن 17ستمبر۔ کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءنے انڈسٹریل زون میں واقع ورکرزویلفئیر اسکول کادورہ کیااور اسکول کی تدریسی سرگرمیوں کا جائزہ لیا طلباءاورٹیچرزسے ملاقات.کی اسکول کے مسائل سے آگہی حاصل کی دورے کے موقع پراسکول اساتذہ اور طلباءکی جانب سے صنعتی آلودگی سے تدریسی سرگرمیاں متاثرہونے کی شکایت سامنے آئے کمشنر لسبیلہ نےصنعتی آلودگی کے سنگین مسئے کا نوٹس لیکرخود فیکرٹری کادورہ کیااورحقائق سے آگہی کے بعد محکمہ تحفظ ماحولیات کے افسران کوفوری طلب کرکےاحکامات جاری کیں کمشنر لسبیلہ ڈویڑن سائرہ عطاء نےماحولیاتی قوانین پر عمل نہ کرنے پر ضلع حب کی 6صنعتی فیکرٹریوں کو سیل کرنے کا حکم دیدیا کمشنر لسبیلہ کی انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی ایکٹ 2012 پر عملدرآمد کی ایڈوازری پراسسٹنٹ کمشنر حب مہیم خان گچکی اورڈپٹی ڈائریکٹر انوائرمنٹ طارق نے ماحولیاتی ٹیم کے ہمراہ فوری کارواءکرتے ہوئے چھ صنعتی یونٹس سیل کیں کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءکا کہنا ہیکہ ماحولیاتی تحفظ ایکٹ2012 کی خلاف ورزی پر سخت کارواءہوگیای پی اے افسران تحفظ ماحولیات کے حوالے سے اہداف اورقوانین پرعملدرآمد یقینی بنائیں کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے ماحولیاتی انسپکشن ٹیموں پر واضح کیا کہ وہ فرائض منصبی کی ادائیگی میں کوتاہی و غفلت برتنے پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ڈپٹی ڈائریکٹر انوائرمنٹ نے کمشنر لسبیلہ ڈویژن کو بتایا کہ ای پی اے ریجنل آفس کی جانب سے 72 کیسز انوائرمنٹل ٹریبوینل میں زیرسماعت ہیں ای پی اے ایکٹ پر عملدرآمد کیلئے ڈویژنل انتظامیہ ڈی جی انوائرمنٹ اور سیکرٹری ماحولیات کےاحکامات پر مکمل عملدرآمد کیاجارہاہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 7893/2026
گوادر، 17 ستمبر ۔: رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن اور ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان نے جی ڈی اے اولڈ ٹاون بحالی منصوبے کے تحت مکمل کیے گئے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا باقاعدہ افتتاح کردیا۔ افتتاح کیے گئے منصوبوں میں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول گوادر کی تعمیر و توسیع و تزئین و آرائش کے مختلف کاموں کے علاوہ کیپٹن یعقوب راہی والی بال گراونڈ اور عبداللہ عاصم فٹسال گراونڈ شامل ہیں۔افتتاح کے موقع پر چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، سپرنٹنڈنگ انجینئر روڈز و کنٹرولر بلڈنگ جی ڈی اے نادر بلوچ، سپرنٹنڈنگ انجینئر بلڈنگ شے آصف غنی، پروجیکٹ ڈائریکٹر اولڈ ٹاون بحالی منصوبہ میر دودا خان مری، پروجیکٹ ڈائریکٹر واٹر میر جان بلوچ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زاہد حسین، ایجوکیشن آفیسر فیمیل زرخاتوں، اسکول ایڈمنسٹریس اور دیگر متعلقہ افسران و شخصیات موجود تھیں۔افتتاح کے بعد ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن اور ڈی جی جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے اسکول اور کھیلوں کے میدانوں کے احاطے میں شجرکاری بھی کی۔ اس موقع پر انہوں نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کیا اور وہاں جی ڈی اے کی جانب سے فراہم کی جانے والی تعلیمی و بنیادی سہولیات کا جائزہ لیا۔اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جی ڈی اے کے اولڈ ٹاون بحالی منصوبے کے تحت گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول گوادر میں طلبہ و طالبات کے لیے تعلیمی ماحول اور بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے تعمیر، توسیع، تزئین و آرائش اور دیگر ضروری کام مکمل کیے گئے ہیں۔ منصوبے کے مختلف کمپوننٹس میں اضافی کلاس رومز کی تعمیر، ٹف ٹائلنگ، چار دیواری، دو مین گیٹ، امتحانی ہال، آڈیٹوریم، کیفے ٹریا، واٹر ٹینک، شیڈز، پلے ایریا، بجلی کے ٹرانسفارمر، فرنیچر، کلاس رومز سمیت اولڈ اسٹرکچر کی بحالی سمیت دیگر ضروری سہولیات شامل ہیں۔اسی طرح کھیلوں کے میدانوں کے منصوبوں کے تحت فٹسال اور والی بال گراونڈز کی تعمیر و بہتری، چار دیواری، بنیادی انفراسٹرکچر، تزئین و آرائش اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں، تاکہ نوجوانوں اور طلبہ کو صحت مند سرگرمیوں اور کھیلوں کے لیے بہتر ماحول میسر آسکے۔اس موقع پر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ جی ڈی اے کے تحت مکمل کیے گئے تعلیمی اور کھیلوں کے منصوبوں کا افتتاح گوادر کے عوام، بالخصوص تعلیم اور کھیلوں سے وابستہ افراد کے لیے ایک اہم تحفہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے کی کاموں کی بدولت گرلز ہائی سکول کے انفراسٹرکچر اب کوئی عام سرکاری اسکول نہیں بلکہ ایک جدید اور اعلی تعلیمی ادارے کا شکل اختیار کر گیا ہے ان منصوبوں کے ذریعے تعلیمی اداروں اور کھیلوں کے بنیادی انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا گیا ہے، جس سے مقامی آبادی کو براہ راست سہولیات میسر آئیں گی۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی گوادر میں مختلف شاہراہوں، چوکوں، مونومنٹس، بازاروں، ڈرینج اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا جاچکا ہے، جبکہ منصوبوں کی تکمیل کے بعد ان کے افتتاح کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ مکمل ہونے والے منصوبے گوادر کی ترقی اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے جاری اقدامات کا عملی مظہر ہیں۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اولڈ ٹاون بحالی منصوبے کا بنیادی مقصد گوادر کی مقامی آبادی کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا اور انہیں بنیادی شہری، تعلیمی، کھیلوں اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت اولڈ ٹاون کے مختلف علاقوں میں سڑکوں، کھیلوں کے میدانوں اور دیگر شہری سہولیات کی بہتری کے لیے متعدد اقدامات کیے جارہے ہیں۔ڈی جی جی ڈی اے نے کہا کہ گوادر کے نوجوانوں اور طلبہ میں کھیلوں کے حوالے سے بھرپور دلچسپی پائی جاتی ہے، اسی لیے کھیلوں کے میدانوں اور متعلقہ انفراسٹرکچر کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کے قریب تعمیر کیا گیا فٹسال گراونڈ طالبات اور نوجوانوں کے لیے کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔انہوں نے گوادر کے عوام سے اپیل کی کہ جی ڈی اے کی جانب سے فراہم کردہ تمام سہولیات اور تعمیر کیے گئے منصوبوں کو اپنی ذاتی و اجتماعی ملکیت سمجھتے ہوئے ان کی حفاظت اور مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنائیں، کیونکہ یہ منصوبے گوادر کے عوام ہی کے لیے اور عوامی وسائل سے مکمل کیے جارہے ہیں۔معین الرحمٰن خان نے کہا کہ جی ڈی اے گوادر کی مقامی آبادی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ شہر کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق جدید، منظم اور بہتر شہری سہولیات سے آراستہ کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7894/2026
کوئٹہ 17ستمبر۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کی زیر صدارت سولڈ ویسٹ مینجمنٹ اور شہر میں صفائی کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر کی صفائی، کچرے کو ٹھکانے لگانے، ڈور ٹو ڈور ویسٹ کلیکشن، ڈرینج کی صفائی اور شہری شکایات کے ازالے سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن بشیر احمد بڑچ، سی ای او صفا کوئٹہ دل نواز شاہ، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، ڈویژنل ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ ظہور احمد سمیت میٹروپولیٹن کارپوریشن اور صفاء کوئٹہ کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران صفاء کوئٹہ حکام کی جانب سے کمشنر کوئٹہ ڈویڑن کو شہر میں جاری صفائی کے اقدامات، کچرے کو ٹھکانے لگانے اور دیگر معاملات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ صفاء کوئٹہ اس وقت روزانہ تقریباً 14 ٹن کچرا اٹھا کر ٹھکانے لگا رہا ہے، جبکہ شہر میں روزانہ تقریباً 16 ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے۔ کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے مشرقی بائی پاس اور کچلاک میں دو ڈمپنگ سائٹس قائم ہیں۔حکام کے مطابق صفاء کوئٹہ کی جانب سے کوئٹہ شہر کے تمام 58 وارڈز میں سویپنگ، صفائی ستھرائی، کچرے کو اٹھانے اور ڈرینج کی صفائی کا کام جاری ہے۔گزشتہ دو سال کے دوران 7 لاکھ 35 ہزار سے زائد مقدار میں کوڑا کرکٹ اٹھا کر ڈمپنگ یارڈز تک منتقل کیا جا چکا ہے،جبکہ شہر میں موجود 123 پرانے ڈمپنگ پوائنٹس کو بھی صاف کرکے ختم کیا گیا ہے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ صفاءکوئٹہ نے صفائی کے نظام کو موثر بنانے کے لیے 1829 لوکل افراد کو ملازمت پر بھرتی کیا ہے۔ اس کے علاوہ شہریوں خصوصاً طلبہ میں صفائی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے کوئٹہ کے مختلف اسکولوں اور کالجوں میں 100 سے زائد آگاہی سیشنز بھی منعقد کیے جا چکے ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ صفا کوئٹہ کی جانب سے اس وقت شہر میں 28 اسکیموں میں ڈور ٹو ڈور کچرا کلیکشن کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔صفائی کے موثر انتظام کے لیے کوئٹہ شہر کو چار زونز میں تقسیم کیا گیا ہے، جہاں روزانہ صبح 8 بجے سے دوپہر 2 بجے تک صفائی ستھرائی کا کام انجام دیا جاتا ہے۔شہریوں کی شکایات کے بروقت ازالے کے لیے کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم بھی فعال ہے۔ حکام کے مطابق ستمبر کے دوران موصول ہونے والی 91 شکایات کا ازالہ کیا جا چکا ہے۔اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے اور شہر میں صفائی ستھرائی کی صورتحال میں مزید بہتری لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صفائی کے نظام کو موثر بنانے کے ساتھ ساتھ شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے کو بھی یقینی بنایا جائے۔کمشنر نے کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کے حوالے سے شہریوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے ایک ماہ پر محیط خصوصی آگاہی مہم شروع کرنے کی ہدایت بھی کی، تاکہ شہری زیادہ سے زیادہ کمپلینٹ نمبر اور شکایات کے اندراج کے طریقہ کار سے آگاہ ہو سکیں۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ڈور ٹو ڈور ویسٹ کلیکشن کے لیے بلنگ کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے اور صفاء کوئٹہ کے بزنس ماڈل کو بھی بتدریج ڈیجیٹلائز کرنے کی ہدایت کی۔ کمشنر نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے صفائی کے نظام میں شفافیت، موثریت اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ بھی شہر میں صفائی ستھرائی کے کام کی نگرانی کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7895/2026
برشور17 ستمبر ۔ ڈپٹی کمشنر برشور فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس نے کہا ہے کہ ضلع برشور کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے عوام کو زندگی کی تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سنجیدگی سے اقدامات کیے جا رہے ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے انتظامی امور اور عوامی مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے کیا،انہوں نے تمام متعلقہ محکموں کے آفسران کو ہدایت کی کہ وہ پسماندہ علاقوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں،ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ اس سلسلے میں موجودہ صوبائی حکومت کی جانب سے بھی ضلع برشور کو ترقی دینے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کیے جا رہے ہیں،جس کے تحت صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی اور مواصلات کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا حکومت اور انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے،انہوں نے مزید کہا کہ ان تمام ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے مقامی سطح پر تعاون انتہائی ضروری ہے،ضلع برشور کے قبائلی عمائدین کی رہنمائی اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون برقرار رکھنے سے ترقی کی راہ ہموار ہوگی،اور مستقبل قریب میں ضلع برشور کو ایک ماڈل ضلع بنانے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7896/2026
سیوی 17 ستمبر۔کمشنر سیوی ڈویژن اسداللہ فیض کی زیرِ صدارت کمپلینٹ ریڈریسل کمیٹی (CRC) کا اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ تعلیم فیز فور کے تحت اساتذہ کی حالیہ تعیناتیوں پر مرد امیدواروں کی جانب سے دائر اعتراضات و شکایات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈویڑنل ڈائریکٹر تعلیم بلال خان بڑیچ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیوی عبدالستار لانگو اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے۔ امیدواروں کے اعتراضات سنے گئے اور متعلقہ ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمشنر اسداللہ فیض نے واضح کیا کہ بھرتیوں کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی امیدوار کی حق تلفی نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام اعتراضات کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیتے ہوئے دستیاب ریکارڈ اور قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ جعلی ڈگریوں سے متعلق شکایات پر کمشنر نے سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ امیدواروں کی ڈگریوں کی مکمل تصدیق متعلقہ تعلیمی اداروں سے کرانے کا حکم دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈگری جعلی ثابت ہونے کی صورت میں ملوث فرد کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شکایات کے ازالے کا مقصد بھرتیوں کے عمل کو شفاف بنانا اور حقدار امیدواروں کو انصاف فراہم کرنا ہے، لہٰذا تمام معاملات میرٹ اور قانون کے مطابق نمٹائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7897/2026
سیوی 17 ستمبر۔کمشنر سیوی ڈویژن اسداللہ فیض کی زیرِ صدارت ڈویژنل ٹاسک فورس برائے پولیو کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی، ڈویڑنل ڈائریکٹر ہیلتھ، ڈویژنل پولیو آفیسر ڈاکٹر اشرف، ڈی ایچ او سیوی ڈاکٹر قادر ہارون سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی، جبکہ سیوی ڈویژن کے دیگر اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ڈی ایچ اوز اور ڈی ایم پی پی ایچ آئی نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں پولیو مہم کی تیاریوں، مائیکرو پلاننگ، زیرو ڈوز بچوں کی نشاندہی، پوسٹ کمپین ویلڈیشن، ٹیموں کی تعیناتی اور دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمشنر سیوی ڈویژن اسداللہ فیض نے ہدایت کی کہ پولیو مہم کی موثر نگرانی اور سو فیصد نتائج کے حصول کے لیے مائیکرو سینسز کا عمل مکمل کیا جائے اور ایسے بچوں کی نشاندہی کی جائے جو اب تک زیرو ڈوز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹ کمپین ویلڈیشن کو موثر بنایا جائے تاکہ مہم کے نتائج کی درست جانچ اور رہ جانے والے بچوں کی بروقت نشاندہی ممکن ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈسٹرکٹ لیول پر پولیو مہم سے متعلق تمام تعیناتیاں ڈی او سی کے ذریعے کی جائیں گی، جبکہ تمام اضلاع میں جامع اور زمینی حقائق کے مطابق مائیکرو پلان تیار کرکے اسی کے مطابق عملی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ پولیو کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں، فیلڈ ٹیموں کی موثر نگرانی کی جائے اور مہم کے دوران سامنے آنے والے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ انہوں نے صحتِ عامہ کے مسائل کے حل کے لیے سیوریج کے نظام پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیوریج کے مسئلے کو حل کیے بغیر صحتِ عامہ سے متعلق دیگر مسائل پر قابو پانا مشکل ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ سیوریج کی صورتحال کا جائزہ لے کر بہتری کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں۔ اجلاس میں پولیو مہم کو کامیاب بنانے، بچوں تک رسائی یقینی بنانے اور پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ضلعی و ڈویژنل سطح پر مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7898/2026
سیوی 17 ستمبر۔کمشنر سیوی ڈویژن اسداللہ فیض نے 21 ستمبر سے شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کا افتتاح بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلا کر کر دیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی، ڈویڑنل ڈائریکٹر صحت، ڈویژنل پولیو آفیسر ڈاکٹر اشرف، ڈی ایچ او سیوی ڈاکٹر قادر ہارون سمیت دیگر متعلقہ افسران موجود تھے۔ کمشنر سیوی ڈویژن اسداللہ فیض نے اس موقع پر کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ قومی ذمہ داری ہے، جس کے لیے والدین اور معاشرے کے تمام طبقات ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مہم کے دوران پانچ سال تک عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کو یقینی بنایا جائے اور کوئی بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہ رہے۔ انسدادِ پولیو مہم 21 سے 24 ستمبر تک جاری رہے گی، جس کے دوران محکمہ صحت اور پولیو پروگرام کی ٹیمیں ضلع بھر میں پانچ سال تک عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائیں گی۔ ضلعی انتظامیہ نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اپنے پانچ سال تک عمر کے بچوں کو لازمی طور پر پولیو سے بچاو کے قطرے پلوائیں تاکہ بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7899/2026
قلات 17ستمبر۔ڈپٹی کمشنر قلات انجینیئر عائشہ زہری نے محکمہ جنگلات کے نرسری کادورہ۔کیا اس موقع پر ڈویژنل فاریسٹ آفیسر DFO علی اکبر بنگلزئی انکے ہمراہ تھے ڈویژنل ڈائریکٹر نے ڈپٹی کمشنر کو نرسری کا دورہ کرایا اور نرسری میں لگائے گئے مختلف قسم کے درختوں کوئٹہ پائن۔مورپنکی عیش۔سنجد۔چنبیلی اسمانی۔توت۔جونیپر اور دیگر پودوں سے متعلق بریفنگ دیڈپٹی کمشنر انجینیئرعائشہ زہری نے کہاکہ درخت ہماری آنے والی نسلوں کے لیے قیمتی سرمایہ ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے، صاف اور صحت مند ماحول کے قیام اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے شجرکاری کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔عوام، سرکاری اداروں، طلبہ اور سول سوسائٹی سے اپیل ہے کہ وہ لگائے گئے پودوں کی حفاظت کو اپنا قومی فریضہ سمجھیں۔ سرسبز و شاداب قلات ہی ہماری آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ اور بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر7900/026
کوئٹہ، 17 ستمبر 2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے آواران میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف کامیاب کارروائی میں تین دہشتگردوں کی ہلاکت پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف کامیاب کارروائی سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بروقت کارروائی کی عکاس ہے۔ بلوچستان میں قیام امن کے لیے سکیورٹی فورسز کے بہادر جوانوں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے مذموم عزائم ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو سلام پیش کرتے ہیں۔ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے کے لیے ریاستی ادارے پرعزم ہیں اور بلوچستان میں امن و استحکام کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائیاں دہشتگردی کے خلاف قومی عزم کی عکاس ہیں۔ قوم دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اپنی سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

خبرنامہ نمبر7901/026
کوئٹہ، 17 ستمبر 2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ورلڈ پیشنٹ سیفٹی ڈے کے موقع پر ہر مریض کو محفوظ، معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریضوں کو محفوظ اور معیاری طبی نگہداشت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اپنے پیغام میں کہا کہ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے میں اصلاحات اور طبی سہولیات کی بہتری کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہسپتالوں میں سہولیات کی بہتری، طبی عملے کی استعداد کار میں اضافے اور جدید نظام کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ مریضوں کا تحفظ صحت کے مؤثر نظام کی بنیادی ترجیح ہے، اس ضمن میں طبی مراکز میں علاج معالجے کے معیار، سہولیات اور خدمات کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دل، ذیابیطس، کینسر اور دیگر غیر متعدی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے محفوظ، معیاری اور مسلسل طبی نگہداشت ناگزیر ہے۔ بروقت تشخیص، مؤثر علاج اور مریضوں کی مسلسل نگہداشت سے صحت کے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان مریضوں کے تحفظ اور طبی خدمات کے معیار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ صحت کے شعبے میں اصلاحات کا مقصد عوام کو بہتر، محفوظ اور بااعتماد طبی سہولیات کی فراہمی ہے۔

خبرنامہ نمبر7902/026
کوئٹہ، 17 ستمبر 2026
کوئٹہ کے نواحی علاقے کچلاک میں کم سن بچی کے ضعیف العمر شخص سے نکاح کے معاملے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کی ہے ڈپٹی کمشنر چمن حبیب بنگلزئی کے مطابق کم سن بچی ببو کے والد عبدالباری کو چمن سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ گرفتار ملزم کی حوالگی اور ایف آئی آر کے اندراج کے لیے کوئٹہ پولیس سے رابطہ کیا جا رہا ہے ڈپٹی کمشنر چمن نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق واقعے کی کڑیاں کچلاک میں 15 سالہ بچی کے قتل کے واقعے سے ملتی ہیں، جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور کچلاک میں 15 سالہ بچی کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم کی گرفتاری سمیت تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ کم سن بچی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے میں ملوث کسی بھی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو کچلاک میں پیش آنے والے المناک واقعے کے مرکزی ملزم سمیت دیگر ممکنہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے اقدامات مزید تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے شاہد رند نے کہا کہ تین سالہ بچی کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے متعلقہ اداروں کو مؤثر اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے گی اور کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی معاون وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے تمام حقائق کو قانون کے مطابق دیکھا جائے گا۔ بلوچستان حکومت بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے اور کم سن بچوں کے حقوق و تحفظ کے معاملے پر حکومت کی پالیسی واضح اور دوٹوک ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کم عمری کی شادی کی روک تھام سے متعلق قانون موجود ہے اور قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر7903/026
کوئٹہ، 17 ستمبر 2026
صوبائی وزیر و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی ہدایات پر ملاوٹی اور غیر معیاری دودھ دہی کے خلاف بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی خصوصی مہم دوسرے روز بھی بھرپور انداز میں جاری رہی۔ فوڈ سیفٹی ٹیموں نے کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے ملاوٹی دودھ کی فروخت و سپلائی کے خلاف فوری ایکشن لیا۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی ٹیموں نے رئیسانی روڈ، ملحقہ علاقوں اور نواں کلی بائی پاس میں دودھ کی دکانوں، ملک سپلائرز، دودھ بردار گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور دیگر مشتبہ مقامات کی چیکنگ کی۔ کارروائیوں کے دوران 50 سے زائد مراکز، دودھ سپلائی کرنے والی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، رکشوں اور دیگر ذرائع نقل و حمل کی اسنیپ چیکنگ کی گئی۔دوسرے روزخصوصی مہم کے دوران موبائل لیبارٹریز کے ذریعے مجموعی طور پر 11,590 لیٹر دودھ کی موقع پر جانچ کی گئی، ملاوٹ ثابت ہونے پر 2,120 لیٹر ملاوٹی دودھ موقع پر تلف کر دیا گیا۔ ٹیسٹنگ کے دوران دودھ میں پانی کی ملاوٹ اور اسکمڈ ملک کی نشاندہی ہوئی۔کارروائیوں کے دوران خلاف ورزیوں پر 16 فوڈ بزنس یونٹس کو جرمانے عائد کیے گئے جبکہ ایک خفیہ یونٹ سیل کر دیا گیا۔ موبائل لیبارٹریز کے ذریعے موقع پر ہی دودھ کے معیار کی جانچ کرتے ہوئے غیر معیاری اور ملاوٹی دودھ کو تلف کیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی حبیب اللہ خان ان اس سلسلے میں کہا ہے کہ ملاوٹی اور غیر معیاری دودھ کی فروخت و سپلائی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ملاوٹ سے پاک اور محفوظ دودھ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے فیلڈ آپریشنز مزید مؤثر بنائے جا رہے ہیں ، دودھ کی سپلائی چین میں ملاوٹ کی روک تھام کے لیے دکانوں کے ساتھ ساتھ دودھ بردار گاڑیوں اور سپلائرز کی بھی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ڈی جی بی ایف اے نے کہا کہ موبائل لیبارٹریز کے ذریعے موقع پر فوری ٹیسٹنگ سے ملاوٹ کی بروقت نشاندہی اور فوری کارروائی کا عمل تیز کیا جا رہا ہے جبکہ خلاف ورزی کرنے والے فوڈ بزنس آپریٹرز کے خلاف قانون کے مطابق کارروائیاں جاری رہیں گی۔

خبرنامہ نمبر7904/026
زیارت 17 ستمبر 2026
کسٹم ویر میں شہید ہونے والے ایف سی افسران و اہلکاروں کے ایصالِ ثواب کے لیے دعائیہ تقریب
زیارت: ڈپٹی کمشنر آفس زیارت میں کسٹم ویر کے مقام پر شہید ہونے والے ایف سی افسران اور اہلکاروں کے ایصالِ ثواب اور درجات کی بلندی کے لیے دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی، ایف سی 155 ونگ کے میجر عامر، اسسٹنٹ کمشنر زیارت شیر شاہ غلزئی سمیت دیگر متعلقہ افسران و اہلکاروں نے شرکت کی۔اس موقع پر شہداء کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور ان کے درجات کی بلندی، مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی گئی۔ شرکاء نے شہید ایف سی افسران و اہلکاروں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ملکی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے ان کی خدمات کو سراہا۔ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ شہداء قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں، جنہوں نے ملک و قوم کی حفاظت اور امن و امان کے قیام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور قوم اپنے شہداء کی عظیم قربانیوں کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور جوان امن و سلامتی کے قیام کے لیے جس عزم اور جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، وہ قابلِ تحسین ہے۔ شہداء کی قربانیاں امن کے لیے ہماری مشترکہ ذمہ داری اور عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
تقریب کے اختتام پر شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی اور اجتماعی دعا کی گئی۔

خبرنامہ نمبر7905/026
دکی17 ستمبر 2026*
دکی: ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دُکی منصور احمد بزدار، لائن ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع دُکی میں جاری PSDP اور BSDI ترقیاتی اسکیمات کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے منصوبوں کی بروقت تکمیل اور معیار کو یقینی بنانے سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ سرکاری محکموں میں افسران و اہلکاروں کی حاضری، غیر حاضر ملازمین کے خلاف کیے گئے اقدامات، لائن ڈیپارٹمنٹس کی فعالیت، تجاوزات اور غیر قانونی پٹرول پمپس کے خلاف کارروائیوں سمیت دیگر اہم انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی امور پر مؤثر نگرانی برقرار رکھتے ہوئے مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جائے، قوانین پر عملدرآمد کے ساتھ عوامی سہولیات کو ترجیح دی جائے اور مختلف محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے جائیں۔

خبرنامہ نمبر7906/026
زیارت 17ستمبر 2026 ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے مرکزی جامع مسجد زیارت کے لیے منظور شدہ واٹر سپلائی اسکیم، ٹائلٹس اور دیگر ترقیاتی کاموں کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ایف سی 155 ونگ کے میجر عامر، اسسٹنٹ کمشنر شیر شاہ غلزئی، خطیب مرکزی جامع مسجد مولوی اللہ داد،ایکسین بلڈنگ عرفان مندوخیل سمیت مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اور اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ مساجد ہمارے معاشرے میں دینی، روحانی اور سماجی حوالے سے نہایت اہم مقام رکھتی ہیں، جہاں لوگ عبادات کے ساتھ ساتھ باہمی اخوت، بھائی چارے اور اتحاد کا پیغام حاصل کرتے ہیں۔ مساجد میں بنیادی سہولیات کی فراہمی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی جامع مسجد کے لیے واٹر سپلائی، ٹائلٹس اور دیگر ضروری ترقیاتی کاموں کی تکمیل سے نمازیوں اور شہریوں کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار اور شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری تمام ترقیاتی اسکیمات کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا رہا ہے، تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد حاصل ہو سکیں۔ انہوں نے متعلقہ محکموں اور عملے پر زور دیا کہ جاری اسکیمات کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور کام کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور ضلع زیارت میں بھی یہ بنیادی سہولیات، آبنوشی، سڑکوں، تعلیمی اداروں، صحت اور دیگر شعبوں میں ترقیاتی کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

خبرنامہ نمبر7907/026
موسیٰ خیل17ستمبر026
ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع شمس الحق اور ڈپٹی ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن خدائے نور نے فیلڈ اسٹاف کے ہمراہ یونین کونسل سرہ خواہ کے مختلف کھیتوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران افسران نے علاقے میں زیرِ کاشت لہسن کی فصل اور دیگر سبزیات کی نمو اور ان کی صحت کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر مقامی زمینداروں اور کاشتکاروں نے زراعت کے شعبے سے وابستہ اپنے متعدد مسائل سے افسران کو آگاہ کیا، جن میں فصلوں کو لاحق بیماریوں، کیڑے مار ادویات کی بروقت دستیابی اور جدید زرعی تکنیکوں کے بارے میں معلومات کی کمی جیسے امور شامل تھے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع شمس الحق اور ڈپٹی ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن خدائے نور نے زمینداروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں مسائل کے حل کی کامل یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت کاشتکاروں کی پیداوار بڑھانے اور فصلوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن فنی معاونت فراہم کر رہا ہے۔
حکام نے فیلڈ اسٹاف کو سخت ہدایات جاری کیں کہ وہ کاشتکاروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں اور فصلوں کی حفاظت، متوازن کھادوں کے استعمال اور جدید زرعی تدابیر سے متعلق موقع پر ہی کسانوں کی رہنمائی یقینی بنائیں۔ افسران نے اس بات پر بھی زور دیا کہ علاقے میں لہسن اور سبزیات کی پیداواری صلاحیت کو فروغ دے کر مقامی کسانوں کی معاشی حالت کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

خبرنامہ نمبر7908/026
خضدار 17 ستمبر 2026
بلوچستان کے ضلع خضدار میں ناخواندگی کے خاتمے اور اسکولوں سے باہر بچوں کو تعلیم کے دھارے میں لانے کے لیے گزشتہ ایک سال کے دوران انقلابی اقدامات کیے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن، چیف سیکریٹری بلوچستان اور سیکریٹری اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ حکومت بلوچستان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی کاوشوں سے بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن (BEF) نے ضلع بھر میں ایک بڑا تعلیمی نیٹ ورک کھڑا کر دیا ہے۔بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے مطابق یہ اقدام صوبائی سطح پر ایک حکمت عملی کے تحت شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد ان بچوں کو تعلیم دینا، داخلہ دلانا اور معاونت کرنا ہے جو باقاعدہ تعلیمی نظام سے باہر ہیں۔ یہ منصوبہ صوبہ بھر میں جدید اینگلز پرائیویٹ اور کمیونٹی شراکت داری ماڈل کے ذریعے تعلیمی رسائی کو پھیلانے کے لئے بی ای ایف کے دیرینہ مشن کی عکاسی کرتا ہے۔

ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے اس سنہرے موقع کو علاقہ میں تعلیم کے حق میں بہترین انداز میں لاگو کر کے ضلع خضدار کے لیے کل 190 نئے کمیونٹی اسکول منظور کروائے۔ یہ وہ اسکول ہیں جو ضلع کے پسماندہ ترین علاقوں میں قائم کیے گئے ہیں جہاں آج سے پہلے تعلیم کا کوئی تصور بھی نہیں تھا۔ ان اسکولوں کے قیام سے براہ راست 10 ہزار کے لگ بھگ بچے اور بچیاں زیور علم سے منور ہو رہی ہیں جس کے مثبت اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

اعداد و شمار کے مطابق ضلع خضدار میں BEF کے تحت اس وقت کل اسکولوں کی تعداد 190 ہے۔ جس میں 140 نئے اسکول ہیں جبکہ 50 پرانے اسکول پہلے سے فعال تھے۔ ان اسکولوں میں اس وقت کل داخلہ 9540 ہے جس میں 5760 لڑکے اور 3780 لڑکیاں شامل ہیں۔ یہ تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ والدین اب اپنی بچیوں کی تعلیم میں بھی دلچسپی لے رہے ہیں۔ان اسکولوں کو چلانے کے لیے کل 221 اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جن میں 101 مرد اساتذہ اور 120 خواتین اساتذہ شامل ہیں۔ خواتین اساتذہ کی بڑی تعداد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مقامی سطح پر خواتین کو روزگار بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان 221 اساتذہ میں سے 150 اساتذہ کو باقاعدہ پروفیشنل ٹریننگ دی جا چکی ہے جبکہ 71 اساتذہ کی ٹریننگ کا عمل جاری ہے تاکہ تعلیم کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔سہولیات کے حوالے سے بھی BEF خضدار نے قابل ذکر کام کیا ہے۔ 190 اسکولوں میں سے 160 اسکولوں میں پینے کا صاف پانی مہیا کر دیا گیا ہے جو کہ کل کا 84.2 فیصد بنتا ہے، جبکہ صرف 30 اسکول (15.8 فیصد) ایسے ہیں جہاں پانی کی سہولت پر کام جاری ہے۔تحصیل وار تقسیم کی بات کی جائے تو سب سے زیادہ اسکول تحصیل خضدار میں 90 قائم کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد تحصیل نال میں 46، تحصیل وڈھ میں 43، تحصیل زہری میں 7 اور تحصیل کرخ میں 4 کمیونٹی اسکول قائم کیے گئے ہیں۔ یوں دور دراز کے علاقے جیسے مولہ، کرخ اور زہری تک بھی تعلیم کی روشنی پہنچ گئی ہے۔ضلعی انتظامیہ اور BEF حکام کا کہنا ہے کہ یہ صرف آغاز ہے۔ اگلے مرحلے میں ان اسکولوں میں فرنیچر، واش رومز اور بجلی کی سہولیات کو بھی سو فیصد کیا جائے گا۔ اس اقدام سے خضدار جیسے وسیع و عریض ضلع میں جہاں خواندگی کی شرح انتہائی کم تھی، اب ایک نئے تعلیمی انقلاب کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔

خبرنامہ نمبر7909/026
کوئٹہ17ستمبر2026: محکمہ خزانہ بلوچستان کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر جامعہ بلوچستان کے ریٹائرڈ ملازمین کو درپیش دیرینہ مالی مشکلات کے حل کے لیے 502 ملین روپے کا بلا سود قرضہ فراہم کر دیا گیا ہے، جس سے ریٹائرڈ ملازمین کے پنشن بقایاجات کی ادائیگی میں مدد ملے گی۔محکمہ خزانہ کے مطابق یہ اقدام ریٹائرڈ ملازمین کے حقوق کے تحفظ، ان کی مالی مشکلات کے ازالے اور جامعہ بلوچستان کے مالی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔اس موقع پر اسپیشل سیکرٹری خزانہ عارف اچکزئی اور وائس چانسلر جامعہ بلوچستان پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی نے مفاہمت کی یادداشت (MOU) پر دستخط کیے۔ اس موقع پر وزیرِ تعلیم راحیلہ حمید درانی اور سیکرٹری کالجز، ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ہاشم غلزئی بھی موجود تھے۔محکمہ خزانہ کے مطابق 502 ملین روپے کی بلا سود مالی معاونت سے جامعہ بلوچستان کے ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن کے بقایاجات کی ادائیگی میں سہولت فراہم ہوگی، جبکہ یہ اقدام ادارے کے مالی استحکام اور ریٹائرڈ ملازمین کے حقوق کے تحفظ کی جانب بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔

خبرنامہ نمبر7010/026
کوئٹہ 17ستمبر۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ کوئٹہ، مجسٹریٹ کوئٹہ سٹی کی زیر نگرانی میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ (MCQ) اور ٹریفک پولیس کے تعاون سے لیاقت بازار اور مسجد روڈ پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کیا گیا۔کارروائی کے دوران 60 سے زائد غیر قانونی تجاوزات کو ہٹا دیا گیا جبکہ قبضے میں لیے گئے سامان کو قانون و ضابطے کے مطابق میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی ٹیموں کے حوالے کر دیا گیا۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شہریوں کو آمدورفت میں سہولت فراہم کرنے، ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے، عوامی مقامات کو تجاوزات سے پاک کرنے اور غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر7911/026
کوئٹہ 17ستمبر۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریوینیو) حافظ محمد طارق کی زیرِ صدارت لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تحصیلدار سٹی، تحصیلدار صدر، تحصیلدار سریاب، سب ڈویژن کچلاک کے نمائندوں اور دیگر ریونیو عملے نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع کے تمام سب ڈویژنز سے لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل میں پیش رفت، درپیش مسائل اور موجودہ صورتحال کے حوالے سے تفصیلی رپورٹس اور فیڈ بیک حاصل کیا گیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریوینیو) نے متعلقہ افسران و اہلکاروں کو ہدایت کی کہ لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو مقررہ اہداف کے مطابق تیز اور مؤثر انداز میں مکمل کیا جائے اور اس سلسلے میں درپیش مسائل کو بروقت حل کیا جائے۔

خبرنامہ نمبر7912/026
کوئٹہ 17ستمبر۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریوینیو) کوئٹہ حافظ محمد طارق کی زیر صدارت وی آئی پی ہینگر کے قیام، متعلقہ اراضی کی جانچ پڑتال اور دیگر امور کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں وی آئی پی اینگر کے قیام کے لیے مختص زمین کے ریکارڈ، ملکیت اور دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ ریونیو افسران و اہلکاروں سے اراضی کی جانچ پڑتال اور ریکارڈ کی تصدیق کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی لی گئی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریوینیو) حافظ محمد طارق نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اراضی کے ریکارڈ کی مکمل جانچ پڑتال اور تمام قانونی و انتظامی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

خبرنامہ نمبر7913/026
اوتھل:ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سراج احمدبلوچ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ایک اہم اجلاس ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں منعقد ہوا، جس میں ضلعی سطح پرتعلیم سے متعلق مسائل، اہداف،اسٹاف کی حاضری اور تعیلم میں بہتری کے اقدامات , پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں *اسسٹنٹ کمشنرکنراج محترمہ کشش چوہدری ،DEO (میل)حاجی نوید ہاشمی،DEO فیمیل,شمیم عزیز،ڈسٹرکٹ خزانہ آفیسر کامران یونس سمیت محکمہ ایجوکیشن کے آفیسران، اور NGOsکے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران تعلیمی اداروں میں سہولیات کی فراہمی، اسکول میں حاضری کی شرح جیسے اہم امور سمیت پولیو کمپین کو سپورٹ کرنے پرائیویٹ اسکولز کی ریگولیشن،محکمہ ایجوکیشن کی زمینوں کے معاملات زیر بحث آئےاور تفصیلی گفتگو کی گئ۔اجلاس میں کلسٹربجٹ کی رپورٹ بھی پیش کی گئ۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے تعلیم کو معاشرے کی ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ تعلیم کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلا نے کہاکہ ضلعی حکومت تمام اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے تاکہ تعلیم کے شعبے میں بہتری لائی جا سکے۔انہوں نے ہدایت کی کہ تمام اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور تعلیمی معیار کو یقینی بنایاجائے۔

خبرنامہ نمبر7914/026
چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت اجلاس میں سیکرٹریز محکمہ اطلاعات، کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی، گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور محکمہ ماحولیات نے اپنے متعلقہ محکموں کی دو سالہ کارکردگی رپورٹس اور مستقبل کا لائحہ عمل پیش کیا۔ اجلاس میں گزشتہ دو سالہ کارکردگی، مالیاتی معاملات، عوامی خدمات اور آئندہ منصوبہ بندی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
محکمہ اطلاعات نے عوامی آگاہی اور میڈیا روابط سے متعلق اقدامات کی تفصیل پیش کی، جس پر چیف سیکرٹری نے محکمہ کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ عوامی مفاد کے منصوبوں کی بروقت تشہیر اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ کویٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے آمدنی میں اضافے، محصولات اور انفراسٹرکچر منصوبوں پر بریفنگ دی۔ چیف سیکرٹری نے دونوں اتھارٹیوں کی آمدنی میں اضافے کے اقدامات کی حوصلہ افزائی کی اور آمدنی کے مزید شفاف اور مستقل ذرائع فروغ دینے پر زور دیا۔
چیف سیکرٹری نے کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو خاص ہدایت کی کہ وہ شہر میں “اربن فاریسٹ ” پروجیکٹ اور بزنس سنٹر منصوبے پر بروقت کام شروع کرے۔ محکمہ ماحولیات نے گزشتہ دو سال میں ماحولیاتی مانیٹرنگ، آلودگی کنٹرول اور تحفظ کے حوالے سے کیے گئے اقدامات رپورٹ کیے۔ اجلاس میں ماحولیاتی تحفظ کو صوبائی ترقیاتی ایجنڈے کا لازمی جز قرار دیا گیا اور صنعتی و شہری منصوبوں میں ماحولیاتی اثرات کے اندازے (EIA) پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی گئی۔
چیف سیکرٹری شکیل قادر خان نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح عوامی مفاد، شفافیت اور خدمات کی بروقت فراہمی ہے۔

خبرنامہ نمبر7915/026
گورنر بلوچستان / وویمن یونیورسٹی کا سینیٹ اجلاس۔
ہمیں ملک بھر کی سطح پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں دس لاکھ ماہرین تیار کرنے ہوں گے۔ اس عظیم خواب کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے تمام پبلک سیکٹر کی جامعات کے وائس چانسلرز کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ وویمن یونیورسٹی کی رینکنگ اینڈ اسکورنگ میں مسلسل اضافہ ہونا خوش آئند ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے تحت وویمن یونیورسٹی کے کیمپسز خضدار، پشین اور نوشکی ان تمام کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولرائز کیا جائیگا جنہیں بھرتی کے تمام قانونی تقاضے اور مقررہ ضوابط مکمل کرنے کے بعد کنٹریکٹ کی بنیاد پر تعینات کیا گیا تھا اور جو تاحال اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ریگولرائزیشن کے عمل سے قبل ملازمین کے دستاویزات اور دیگر مطلوبہ کوائف کی مکمل تصدیق کیلئے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔وویمن یونیورسٹی کی کوششیں لائق تحسین ہیں تاہم وویمن یونیورسٹی کو پاکستان کی ٹاپ یونیورسٹیز میں لانے کیلئے بہت کچھ کرنا باقی ہے

کوئتہ17 ستمبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہمیں ملک بھر کی سطح پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں دس لاکھ ماہرین تیار کرنے ہوں گے۔ اس عظیم خواب کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے تمام پبلک سیکٹر کی جامعات کے وائس چانسلرز کو کلیدی اور فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق اور ان کی پوری ٹیم کی کوششیں لائق تحسین ہیں تاہم وویمن یونیورسٹی کو پاکستان کی ٹاپ یونیورسٹیز میں لانے کیلئے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے تحت سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کے کیمپسز خضدار، پشین اور نوشکی کے ان تمام کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولرائز کیا جائیگا جنہیں بھرتی کے تمام قانونی تقاضے اور مقررہ ضوابط مکمل کرنے کے بعد کنٹریکٹ کی بنیاد پر تعینات کیا گیا تھا اور جو تاحال اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ریگولرائزیشن کے عمل سے قبل ملازمین کے دستاویزات اور دیگر مطلوبہ کوائف کی مکمل تصدیق کیلئے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سردار بہادرخان وویمن یونیورسٹی کے سولہویں سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس عامر رانا، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، رکن صوبائی اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ، صوبائی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ہاشم خان غلزئی، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی سینیئر عہدیدار ڈاکٹر نور آمنہ ملک، قومی کمیشن برائے وقار نسواں کی چیئرپرسن نورین بانو لہڑی، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی سمیت سینیٹ ممبران موجود ہیں۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے وویمن یونیورسٹی کے سولہویں سینیٹ اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے تمام امور و معاملات میں میرٹ کی پاسداری پر صورت میں یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج وویمن یونیورسٹی کی رینکنگ اینڈ اسکورنگ میں مسلسل اضافہ ہونا خوش آئند ہے۔ گورنر مندوخیل نے اس بات پر زور دیا کہ معیاری تعلیم اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ماڈرن اسکلز ڈیولپمنٹ پر خصوصی توجہ دیں تاکہ یونیورسٹی اسٹوڈنٹس معاشرے کی معاشی و معاشرتی تعمیر و ترقی میں بامعنی شراکت کے قابل بن سکیں۔سردار بہادرخان وویمن یونیورسٹی کے سولہویں سینیٹ اجلاس کے شرکاء کی تجاویز اور سفارشات کے نتیجے میں کئی اہم فیصلے کیے گئے ۔

خبرنامہ نمبر7916/026
کوئٹہ 17ستمبر۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے علاقہ مکینوں کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے طوغی روڈ پر بند راستہ فوری طور پر کھولنے کی ہدایت کی۔اس سلسلے میں اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسن کھوسہ نے میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ (MCQ) کے متعلقہ افسران کے ہمراہ موقع کا دورہ کیا، جہاں سڑک کے راستے میں تعمیر کی گئی دیوار کو گرا کر آمدورفت بحال کر دی گئی۔علاقہ مکینوں کی جانب سے شکایت کی گئی تھی کہ اسٹریٹ میں دیوار قائم کرکے راستہ بند کر دیا گیا ہے، جس کے باعث انہیں آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی راستوں اور سڑکوں پر غیر قانونی رکاوٹوں کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

خبر نامہ نمبر 7917/2026
چمن17ستمبر:۔ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع چمن کی مجموعی تعلیمی صورتحال، مختلف اسکولوں میں جاری ترقیاتی و تزئین و آرائش کے کاموں، بنیادی سہولیات اور کلاس رومز میں جاری درس و تدریس کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران محکمہ تعلیم کے افسران نے ڈپٹی کمشنر چمن کو اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں، طلبہ و طالبات کی حاضری، اساتذہ کی کارکردگی اور جاری کاموں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی اور تعلیمی اداروں میں سازگار ماحول کی فراہمی ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اسکولوں میں جاری کاموں کو مقررہ معیار کے مطابق بروقت مکمل کیا جائے، تعلیمی سرگرمیوں اور درس و تدریس کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے اور طلبہ و طالبات کو بہتر تعلیمی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع چمن میں تعلیم کے فروغ، اسکولوں کی بہتری اور طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیمی ماحول کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
خبر نامہ نمبر 7918/2026
کوئٹہ 17ستمبر:۔کوئٹہ میں پارلیمانی سیکرٹری برائے سماجی بہبود حاجی ولی محمد نورزئی اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچی نے مشترکہ طور پر سینٹر آف ایکسیلینس ڈیف ریچ سینٹر کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے حاجی ولی محمد نورزئی نے کہا کہ خصوصی بچوں کی تعلیم، تربیت، نگہداشت اور بحالی کے لیے ایسے اداروں کا قیام حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرکز خصوصی بچوں کو معیاری تعلیمی سہولیات، جدید تربیت اور معاون ماحول فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور خوداعتمادی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچی نے کہا کہ خصوصی بچوں کی فلاح و بہبود معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے، ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے سینٹر کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ خصوصی بچوں اور ان کے خاندانوں کے لیے سہولت، رہنمائی اور امید کا مرکز ثابت ہوگا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خصوصی افراد کے حقوق کے تحفظ، انہیں باوقار زندگی کی فراہمی اور معاشرے میں ان کی بھرپور شمولیت کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
خبر نامہ نمبر 7919/2026
کوئٹہ 17ستمبر:۔صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں امن، رواداری، باہمی احترام اور بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے میتھوڈسٹ چرچ کوئٹہ میں ایک اہم مکالمے کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف مذاہب، مکاتبِ فکر اور معاشرتی طبقات سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ مکالمے کا اہتمام وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ اور بلوچستان سینٹر آف ایکسیلنس کے تعاون سے کیا گیا تھا جس میں پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (پی پی اے ایف) کی خصوصی تعاون شامل تھی۔تقریب میں وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچی، صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی، ڈاکٹر سمعیہ راحیل قاضی سمیت مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات، مذہبی رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور دیگر شرکاء نے شرکت کی۔ مکالمے کے دوران معاشرے میں مذہبی رواداری، باہمی احترام، سماجی ہم آہنگی، امن کے فروغ اور مختلف طبقات کے درمیان مثبت روابط کے قیام سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچی نے کہا کہ پاکستان مختلف مذاہب، ثقافتوں، زبانوں اور روایات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا خوبصورت گلدستہ ہے، جہاں باہمی احترام، برداشت اور رواداری ہماری قومی شناخت اور اجتماعی قوت کا اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی، خوشحالی اور پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات ایک دوسرے کے عقائد، ثقافت اور روایات کا احترام کرتے ہوئے مشترکہ قومی اقدار کو فروغ دیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی ثقافتی اور مذہبی تنوع ہماری کمزوری نہیں بلکہ ایک اہم قومی اثاثہ ہے۔ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے ماننے والوں کے درمیان مکالمے اور باہمی رابطے سے نہ صرف غلط فہمیوں کا خاتمہ ممکن ہے بلکہ معاشرے میں برداشت، احترام اور بھائی چارے کی فضا بھی مضبوط ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی ورثہ اور ثقافت کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات کو ایک دوسرے کے قریب لایا جائے اور مشترکہ اقدار کو اجاگر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ امن اور رواداری کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ہر فرد، مذہبی رہنماؤں، دانشوروں، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور نوجوانوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مکالمے کے ذریعے مختلف نقط? نظر کو سمجھنے اور ایک دوسرے کے مؤقف کا احترام کرنے کی روایت کو فروغ دیا جائے تاکہ ایک پرامن، برداشت پر مبنی اور مضبوط معاشرے کی تشکیل یقینی بنائی جا سکے۔صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نے کہا کہ بلوچستان اپنی منفرد ثقافت، روایات اور مختلف برادریوں کے باہمی میل جول کے حوالے سے ایک وسیع اور متنوع معاشرہ ہے۔ صوبے میں امن، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے تمام طبقات کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دے کر معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔مکالمے کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مسلسل مکالمے، باہمی رابطے اور مشترکہ سماجی سرگرمیوں کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس موقع پر معاشرے میں امن، برداشت، احترام، بھائی چارے اور مثبت سماجی اقدار کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا۔مکالمے کا بنیادی مقصد مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا، باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینا، معاشرتی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا اور ایک ایسے پرامن معاشرے کی تشکیل کے لیے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھانا تھا جہاں تمام شہریوں کو مذہبی و ثقافتی تنوع کے احترام کے ساتھ مساوی مواقع اور باوقار زندگی میسر ہو۔
خبر نامہ نمبر 7920/2026
لسبیلہ 17ستمبر:۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سراج احمد بلوچ کی زیر صدارت ڈی سی آفس لسبیلہ میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کا بنیادی ایجنڈا موجودہ مون سون سیزن میں بارشوں کی کمی اور اس کے نتیجے میں ممکنہ قحط سالی کی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لینا تھا۔ یہ اجلاس پاک مشن سوسائٹی کے تعاون سے DRR فورم لسبیلہ کے تحت منعقد کیا گیا۔اجلاس میں ضلعی انتظامیہ کے مختلف محکموں کے سربراہان اور افسران کے علاوہ غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) کے نمائندگان نے بھی بھرپور شرکت کی۔ اجلاس کے دوران اس سال مون سون سیزن میں توقع سے کم بارشوں اور خدانخواستہ قحط سالی کی صورتحال پیدا ہونے کے احتمالات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ محکموں اور فلاحی اداروں کو باہم مل کر ایک مؤثر اور مربوط حکمت عملی اپنانی ہوگی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا پانی کی قلت سے بروقت نبردآزما ہوا جا سکے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سراج احمد بلوچ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کو پیشگی حتمی شکل دیں تاکہ عوام کو کسی بھی مشکل سے بچایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 7921/2026
چمن17ستمبر: ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع چمن کے تمام ہسپتالوں، بی ایچ یوز، ڈسپنسریز، ایم سی ایچ سی سینٹرز اور نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن میں طبی سہولیات اور صحت عامہ کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایم ایس نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن اور محکمہ صحت کے متعلقہ افسران نے ڈپٹی کمشنر کو ضلع بھر کے مختلف ہیلتھ یونٹس میں دستیاب سہولیات، ڈاکٹرز و طبی عملے کی حاضری، مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی خدمات اور درپیش مسائل و ضروریات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی اہم ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ہسپتالوں اور ہیلتھ یونٹس میں ڈاکٹرز سمیت تمام طبی و معاون عملے کی حاضری ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈاکٹرز کی غیر حاضری اور فرائض میں غفلت کے معاملے پر کسی قسم کی مصلحت پسندی یا نرمی کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شعبہ صحت انتہائی حساس اور اہم شعبہ ہے، جہاں معمولی سی غفلت یا لاپرواہی بھی مریض کی زندگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، لہٰذا تمام ڈاکٹرز اور طبی عملہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ایمانداری، دیانتداری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت، صوبائی حکومت اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات کے مطابق عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت میں ضروری سہولیات کی فراہمی، درپیش مسائل کے حل اور طبی خدمات میں بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

خبر نامہ نمبر 7922/2026
قلات17ستمبر:۔گورنمنٹ کالج آف ایلیمنٹری ایجوکیشن قلات میں قائم آئی ٹی حب کے افتتاح کی ہروقار تقریب منعقد کی گء ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری اور 329 بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈیئر غلام فاروق نے فیتہ کاٹ کر باقاعدہ افتتاح کیا۔افتتاحی تقریب میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ثناء اللہ ثناء، پرنسپل ایلیمنٹری کالج غزالہ رحیم، لیکچرار شمس پندرانی، ایس ڈی او بی اینڈ آر نوید موسیانی سمیت طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔آئی ٹی حب کے ماسٹر ٹرینر اکرام مینگل نے تقریب کے شرکاء کو آئی ٹی حب میں طلبہ و طالبات کی تعداد، مختلف کورسز، تربیت کے دورانیے، زیرِ تربیت طلبہ و طالبات کے لیے وظائف اور دیگر امور سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے کہا کہ گورنمنٹ کالج آف ایلیمنٹری ایجوکیشن قلات میں آئی ٹی حب کا قیام نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے اور ان کی تعلیمی و فنی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ آج کے دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی تعلیم، روزگار اور ترقی کے نئے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ ایسے مراکز کے ذریعے طلبہ و طالبات کو جدید کمپیوٹر اسکلز اور ڈیجیٹل تعلیم حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ ضلع قلات کے نوجوانوں میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں معیاری تعلیم، جدید سہولیات اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ آئی ٹی حب کے ذریعے طلبہ و طالبات کو ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھنے، آن لائن تعلیم حاصل کرنے اور مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ جدید دور میں ٹیکنالوجی سے آگاہی اور ڈیجیٹل مہارتیں نوجوانوں کی تعلیمی و پیشہ ورانہ ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ آئی ٹی حب کے ذریعے طلبہ و طالبات کو جدید کمپیوٹر سہولیات اور ٹیکنالوجی کے استعمال کا موقع ملے گا، جس سے ان کی صلاحیتوں میں مزید نکھار آئے گا۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ تعلیم اور نوجوانوں کی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ نوجوان کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ انہیں معیاری تعلیم، جدید ٹیکنالوجی اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرکے ملک و قوم کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ٹی حب کا قیام قلات کے طلبہ و طالبات کے لیے ایک مفید تعلیمی سہولت ہے، جس سے وہ جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکیں گے۔
خبر نامہ نمبر 7923/2026
لسبیلہ 17ستمبر:۔چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل لسبیلہ سردار غلام فاروق شیخ سے ان کے دفتر میں کے الیکٹرک لسبیلہ کے کمرشل منیجر سید ناصر عالم رضوی اور ڈپٹی منیجر عابد شبیر نے ملاقات کی، جس میں ضلع لسبیلہ میں بجلی کی فراہمی اور شہریوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی ملاقات میں نئے بجلی کے میٹرز کی تنصیب اور خراب میٹرز کی تبدیلی سمیت دیگر مسائل زیرِ بحث آئے۔ کے الیکٹرک حکام نے شہریوں سے اپیل کی کہ نئے میٹرز کے حصول یا خراب میٹرز کی تبدیلی کے لیے اپنی درخواستیں کے الیکٹرک دفتر میں جمع کرائیں تاکہ مسائل کے حل کے لیے ضروری کارروائی کی جا سکے۔اس موقع پر درگاہ بابا فدا حسین شاہ کے چار روزہ عرس کے دوران زائرین کی سہولت کے لیے لوڈشیڈنگ میں ریلیف دینے کا بھی اعلان کیا گیا ملاقات میں وائس چیئرمین لسبیلہ آغا محمد گدور بھی موجود تھے انہوں نے بھی بیلہ کے مضافاتی علاقوں میں بجلی کے مسائل پر کے الیکٹرک کے کمرشل منیجر سید ناصر عالم رضوی کو آگاہ کیا سید ناصر عالم رضوی نے کہا کہ بجلی کے مسائل کے حل کے لئیے ہرممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

خبر نامہ نمبر 2026/7924
بارکھان/رکھنی 17 ستمبر:ڈپٹی کمشنر بارکھان سعیدالرحمن کاکڑ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر رکھنی فہد حسین عمرانی نے مختلف پٹرول پمپس کا دورہ کیا اور وزیراعظم ریلیف اسکیم سے متعلق عوامی آگاہی بینرز آویزاں نہ کرنے والے پٹرول پمپس مالکان کو سخت وارننگ جاری کی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر رکھنی نے پٹرول پمپس انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وزیراعظم ریلیف اسکیم سے متعلق بینرز نمایاں مقامات پر فوری طور پر آویزاں کیے جائیں تاکہ عوام کو اسکیم اور اس کے طریقہ کار سے متعلق آگاہی حاصل ہو سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہدایات پر عملدرآمد نہ کرنے والے پٹرول پمپس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ پٹرول پمپ سیل بھی کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *