خبر نامہ نمبر7808/2026
گوادر16 ستمبر۔ ڈائریکٹر جنرل فشریز بلوچستان عتیق اللہ خان سے گوادر ماہیگیر اتحاد کے حاجی خداداد واجو کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی، جس میں غیر قانونی ٹرالنگ کے تدارک، ماہی گیروں کے مسائل، سمندری ماحولیات کے تحفظ اور ماہی گیروں کے بچوں کے لیے بہتر تعلیمی مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا ڈائریکٹر جنرل فشریز نے غیر قانونی ٹرالنگ کے خلاف کارروائی مزید مو¿ثر بنانے، سمندری گشت فعال کرنے اور ماہی گیروں کے جان و مال و معاش کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے ماہی گیر ویلفیئر فنڈز کے استعمال میں کمیونٹی سے مشاورت کو ترجیح دینے کی یقین دہانی کرائی۔وفد نے جدید مانیٹرنگ نظام اور گشتی ٹیم کو ضروری سہولیات سے لیس کرنے پر زور دیا اور ماہی گیر ویلفیئر فنڈز کو موثر انداز میں فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کی تجویز پیش کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7809/2026
گوادر16 ستمبر۔ عملی تعلیم، مشاہدے اور جدید معلومات سے طلبہ کو روشناس کرانے کے حکومتی وژن کے تحت گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول شمبے اسماعیل گوادر کی طالبات کے لیے گوادر پورٹ اور سی بی سی بزنس سینٹر کا مطالعاتی دورہ کرایا گیا۔ مطالعاتی دورے کا مقصد طالبات میں تحقیق، مشاہدے اور سیکھنے کا جذبہ اجاگر کرنے کے ساتھ انہیں گوادر کی معاشی و تجارتی اہمیت اور مستقبل کے مواقع سے آگاہ کرنا تھا۔معروف کاروباری شخصیت میر فاروق غفور کلمتی کے تعاون اور سرپرستی میں منعقدہ اس دورہ میں طالبات نے گوادر پورٹ کے مختلف حصوں کا مشاہدہ کیا اور پورٹ کی سرگرمیوں، تجارت اور ملکی معیشت میں اس کے کردار کے بارے میں معلومات حاصل کیں یہ مطالعاتی دورہ اسکول کی ہیڈ مسٹریس بلقیس سلیمان کی سرپرستی میں کیا گیا طالبات نے سی بی سی بزنس سینٹر کا بھی دورہ کیا، جہاں خلیل احمد نےانہیں کاروباری سرگرمیوں، تجارت اور معاشی مواقع کے حوالے سے بریفنگ دی۔ طالبات نے مختلف امور سے متعلق سوالات کیے اور عملی معلومات حاصل کیں اس موقع پر میر فاروق غفور کلمتی کی جانب سے طالبات کے لیے خصوصی ریفریشمنٹ اور تحائف کا بھی اہتمام کیا گیا۔ طالبات نے گوادر پورٹ اور کاروباری مراکز کے عملی مشاہدے کو مفید اور معلوماتی تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے انہیں کتابی علم کے ساتھ اپنے علاقے کی معاشی و تجارتی اہمیت کو سمجھنے کا موقع ملا اسکول کے ہیڈ مسٹریس بلقیس سلیمان اور طالبات نے تعلیمی دورے کے انعقاد، خصوصی میزبانی، ریفریشمنٹ اور تحائف فراہم کرنے پر میر فاروق غفور کلمتی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے طالبات کی تعلیمی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کو سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7810/2026
گوادر16 ستمبر۔ڈپٹی کنزرویٹر جنگلات و جنگلی حیات گوادر اسداللہ نے کہا ہے کہ جنگلی حیات کا تحفظ محکمہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، غیر قانونی شکار کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی یہ بات انہوں نے بٹیر کے غیر قانونی شکار کے خلاف محکمہ جنگلات و جنگلی حیات گوادر کی مختلف علاقوں میں کارروائی کے حوالے سے جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں کہی۔ ان کی ہدایات پر محکمہ کی ٹیموں نے مختلف علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے شکاریوں کو آئندہ غیر قانونی شکار سے باز رہنے کی سختی سے تنبیہ کی ڈپٹی کنزرویٹر نے کہا کہ جنگلی حیات قدرتی ماحول اور ماحولیاتی توازن کا اہم حصہ ہے، اس کے تحفظ کے لیے غیر قانونی شکار کی روک تھام اور قانون پر موثر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی اور ایف آئی آر کا اندراج کیا جائے گا انہوں نے شہریوں اور بالخصوص والدین سے اپیل کی کہ وہ بچوں کو غیر قانونی شکار سے روکیں اور جنگلی حیات کے تحفظ میں محکمہ کے ساتھ تعاون کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7811/2026
گوادر16 ستمبر۔ اساتذہ معاشرے کی علمی و فکری تربیت اور نئی نسل کی کردار سازی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، ان کی خدمات کا اعتراف اور حوصلہ افزائی تعلیمی معیار کی بہتری اور مثبت تعلیمی ماحول کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں 5 اکتوبر کو گوادر میں تکریمِ اساتذہ کی خصوصی تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر گوادر زاہد حسین کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس گوادر میں اجلاس منعقد ہوا، جس میں میر کاروان کے سربراہ میر ارشد کلمتی نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں عالمی یومِ اساتذہ کے اغراض و مقاصد، اساتذہ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کے حوالے سے مختلف امور پر غور کیا گیا اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ گزشتہ برسوں کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس سال بھی 5 اکتوبر کو میر کاروان کے زیرِ اہتمام اور میر ارشد کلمتی کی سربراہی میں تکریمِ اساتذہ کی خصوصی تقریب منعقد کی جائے گی، جس میں سرکاری و نیم سرکاری اسکولوں، کالجوں، جامعہ گوادر اور اکیڈمیوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈز سے نوازا جائے گا میر ارشد کلمتی نے کہا کہ اساتذہ کی حوصلہ افزائی دراصل تعلیم کے فروغ اور نئی نسل کے بہتر مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ کی پذیرائی سے دیگر اساتذہ کو بھی مزید محنت اور تعلیمی معیار بلند کرنے کی ترغیب ملتی ہے اجلاس میں اساتذہ کے عالمی دن کی تقریب کو موثر، باوقار اور اساتذہ کی خدمات کے شایانِ شان بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7812/2026
گوادر16 ستمبر ۔رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ ایجوکیشن سپورٹ پروگرام کے تحت یونیسیف ضلع گوادر میں تعلیم کے فروغ، تعلیمی معیار کی بہتری اور طلبہ کی اسکول حاضری یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں تعلیم کے شعبے میں بہتری یونیسیف اور محکمہ تعلیم کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کو محض حاضری کے اندراج تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے طلبہ کی تعلیمی بہتری، دلچسپی اور مو¿ثر تدریس کے لیے بھی بروئے کار لائیں یہ بات انہوں نے ضلع گوادر میں تعلیمی معیار کی بہتری، طلبہ کی حاضری یقینی بنانے اور اسکول چھوڑنے کی شرح میں کمی لانے کے لیے یونیسیف اور محکمہ تعلیم گوادر کے اشتراک سے ڈراپ آوٹ پریونشن انیشیٹو کے تحت مختلف اسکولوں کے اساتذہ میں ٹیبلیٹس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زاہد حسین اور دیگر متعلقہ حکام و اساتذہ نے شرکت کی اس موقع پر ڈسٹرکٹ پروجیکٹ منیجر ایجوکیشن سپورٹ پروگرام یونیسیف عادل نودیزئی نے اساتذہ کو ٹیبلیٹس کے استعمال، ڈیجیٹل حاضری کے نظام اور اس کے ذریعے طلبہ کی روزانہ حاضری و تعلیمی سرگرمیوں کی موثر نگرانی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ان کا کہنا تھا کہ ڈراپ آوٹ پریونشن انیشیٹو کے پہلے مرحلے میں ضلع گوادر کے 79 اسکولوں میں مکمل ٹیب سسٹم فراہم کیا گیا ہے، جس میں ٹیبلیٹس، سولر سسٹم اور رجسٹرڈ ڈیجیٹل حاضری کا نظام شامل ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 16 اسکولوں میں مکمل ٹیب سسٹم فراہم کیا جا رہا ہے، جس سے طلبہ کی حاضری اور اسکولوں سے متعلق ڈیٹا کی بروقت نگرانی مزید موثر ہوگی انہوں نے بتایا کہ ڈیجیٹل حاضری کے ذریعے طلبہ کی روزانہ اسکول حاضری کی نگرانی، غیر حاضر طلبہ کی بروقت نشاندہی اور والدین و متعلقہ اداروں کے تعاون سے اسکول سے باہر ہونے کے خدشے سے دوچار بچوں کی فوری معاونت ممکن ہوگی رکن صوبائی اسمبلی نے کہا کہ اساتذہ خلوصِ نیت سے بچوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ دیں اور انہیں بہتر مستقبل کے لیے تیار کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا موثر استعمال تعلیمی نگرانی کے ساتھ ساتھ تدریس کے معیار کو بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے تقریب میں رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زاہد حسین نے اساتذہ میں ٹیبلیٹس تقسیم کیے اور انہیں ہدایت کی کہ ڈیجیٹل نظام کو موثر اور ذمہ دارانہ انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کی حاضری اور تعلیمی سرگرمیوں کی باقاعدہ نگرانی یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7813/2026
گوادر 16 ستمبر ۔گورنمنٹ ڈگری کالج گوادر میں ”بچوں کے تعلیمی سفر میں والدین کا کردار“ کے عنوان سے سیمینار منعقد ھواجس کے مہمانِ خصوصی رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ تھے سیمینار میں ڈائریکٹر کالجز مانیٹرنگ مکران برکت اسماعیل، پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج گوادر نصیر احمد، واجہ خدابخش ہاشم، آر سی ڈی کونسل کے ناصر رحیم سہرابی سمیت اساتذہ اور طلباء نے شرکت کی اور مختلف پہلووں پر اظہارِ خیال کیا مقررین نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی تعلیمی کامیابی کے ساتھ ان کی بہتر تربیت اور کردار سازی میں والدین کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کی سرگرمیوں، دوستوں، ماحول اور معمولات سے باخبر رہیں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ بچے اپنا وقت کہاں اور کن لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ والدین اور اساتذہ باہمی تعاون سے طلباء کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیں، کیونکہ بچے قوم کا قیمتی اثاثہ اور مستقبل کے معمار ہیںمقررین کا کہنا تھا کہ اچھی صحبت، مثبت ماحول، محنت، نظم و ضبط اور تعلیم بچوں کو کامیاب اور باکردار انسان بناتے ہیں، جبکہ منفی ماحول اور بری صحبت ان کے مستقبل کو متاثر کرسکتی ہے۔ انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ وقت کی قدر کریں، اسے تعلیم اور مثبت سرگرمیوں میں صرف کریں اور محنت، وقت کی پابندی اور نظم و ضبط کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں سیمینار میں مقررین نے رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی جانب سے حلقے کے تعلیمی اداروں پر خصوصی توجہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ تعلیمی اداروں کے مسلسل دورے کرکے طلباء اور اداروں کے مسائل کا جائزہ لے رہے ہیں اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات پر توجہ دے رہے ہیں۔ مقررین نے ان کی تعلیمی شعبے میں دلچسپی اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا مقررین نے سیمنار میں والدین کی محدود شرکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی مقصد والدین کو بچوں کی تعلیم و تربیت میں ان کے اہم کردار سے آگاہ کرنا تھا، اس لیے والدین کی زیادہ سے زیادہ شرکت ضروری ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کی تعلیمی کارکردگی کے ساتھ ان کی اخلاقی تربیت، صحبت اور روزمرہ سرگرمیوں پر بھی بھرپور توجہ دیں تاکہ انہیں ایک ذمہ دار، باصلاحیت اور کامیاب شہری بنایا جاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7814/2026
گوادر 16 ستمبر ۔ رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے محکمہ زراعت توسیع کے دفتر کا اچانک دورہ کیا، جہاں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع مقبول احمد بلوچ نے انہیں محکمانہ کارکردگی، عملے کی حاضری، جاری زرعی سرگرمیوں اور زمینداروں کو درپیش مسائل پر بریفنگ دی مولانا ہدایت الرحمن نے زمینداروں کی پیمائش کا عمل جاری رکھنے، مکمل رجسٹریشن والے زمینداروں کو انکم ٹیکس سے متعلق رہنمائی فراہم کرنے اور خشک سالی و پانی کی قلت کے پیش نظر مستحق زمینداروں کے لیے ٹیکس ریلیف کی سفارش متعلقہ حکام کو ارسال کرنے کی ہدایت کی انہوں نے ملازمین کی باقاعدہ حاضری یقینی بنانے، غیر حاضر اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی اور آبپاشی و پانی ذخیرہ کرنے سمیت قابلِ عمل ترقیاتی منصوبے PSDP میں شامل کرنے پر زور دیا۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ علاوالدین بلوچ سے واٹر مینجمنٹ منصوبوں، تالابوں، واٹر پورٹنگ اور سولر سسٹمز کی تکمیل و فعالیت کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کی گئی دورہ کے موقع پر زراعت آفیسر بابو نواز احمد سمیت محکمہ زراعت توسیع و واٹر مینجمنٹ کے افسران و اہلکار موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7815/2026
خضدار 16 ستمبر۔ صوبائی حکومت کی تعلیم دوست پالیسی کے تحت ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق سا سولی نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج خضدار کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے گرلز کالج کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ، طلبہ و اساتذہ کی حاضری چیک کرنے سمیت تدریسی عمل کا جائزہ لیا اس موقع پر پرنسپل صاحبہ نے گرلز ڈگری کالج خضدار کے انتظامی امور، تعلیمی سرگرمیوں اور تدریسی عمل سے متعلق ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق سا سولی نے مختلف کلاس رومز کا دورہ کرتے ہوئے طالبات سے تعلیمی سوالات کیے اور ان کی تعلیمی استعداد کا جائزہ لیا۔ درست جوابات دینے والی طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم، باقاعدہ حاضری اور سازگار تعلیمی ماحول صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔انہوں نے گرلز ڈگری کالج کے انتظامیہ اور تدریسی عملے پر زور دیا کہ طالبات کی بہتر تعلیم و تربیت، حاضری میں بہتری اور تعلیمی معیار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں مزید موثر انداز میں انجام دیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7816/2026 نصیرآباد16ستمبراستامحمد۔ ڈسٹرکٹ پولیس کی بروقت کارروائی مبینہ طور پر اغواءہونے والا نومولود بچہ چند گھنٹوں میں بحفاظت بازیاب کرایا گیا واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈسٹرکٹ پولیس استامحمد نے فوری اور موثر کارروائی کرتے ہوئے سول ہسپتال استامحمد سے مبینہ طور پر اغواء ہونے والے نومولود بچے کو چند ہی گھنٹوں میں بحفاظت بازیاب کر لیا پولیس نے بازیاب بچے کو والدین کے حوالے کر دیا جس پر اہلِ خانہ نے پولیس کی بروقت کارروائی پر اطمینان اور تشکر کا اظہار کیاتفصیلات کے مطابق سول ہسپتال استامحمد سے نومولود بچے کے مبینہ اغواء کی اطلاع پولیس کو موصول ہوتے ہی ایس پی استامحمد حافظ معاذ الرحمٰن نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ پولیس افسران کو بچے کی بحفاظت بازیابی اور واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی ہدایات جاری کیںڈی ایس پی سرکل استامحمد محمد داود کھوسہ کی نگرانی میں ایس ایچ او تھانہ سٹی استامحمد ندیم احمد بہرانی اور انچارج اینٹی نارکوٹکس استامحمد محمد اسلم رند نے پولیس ٹیم کے ہمراہ فوری طور پر کارروائی کا آغاز کیا پولیس ٹیم نے مختلف پہلووں سے تحقیقات کرتے ہوئے دستیاب معلومات اور شواہد کی بنیاد پر نومولود بچے کی تلاش کا عمل تیز کر دیاپولیس کی مسلسل اور بروقت کوششوں کے نتیجے میں چند ہی گھنٹوں کے اندر نومولود بچے کو بحفاظت بازیاب کر لیا گیا بچے کو ضروری کارروائی کے بعد والدین کے حوالے کر دیا گیا پولیس حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ مبینہ طور پر واقعے میں ملوث افراد کی شناخت گرفتاری اور دیگر قانونی پہلووں کا جائزہ لیا جا رہا ہے پولیس کا کہنا ہے کہ شواہد کی روشنی میں قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی اس موقع پر ایس پی استامحمد حافظ معاذ الرحمٰن نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور قانون کے مطابق کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور کسی بھی شہری کو درپیش مسئلے پر پولیس فوری ردِعمل کو یقینی بنائے گیانہوں نے پولیس ٹیم کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ نومولود بچے کی بحفاظت بازیابی پولیس کی پیشہ ورانہ ذمہ داری فوری رسپانس اور موثر تفتیش کا نتیجہ ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7817/2026
گوادر/پسنی16ستمبر۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق تعلیمی اداروں میں دستیاب وسائل کے موثر، شفاف اور بروقت استعمال کو یقینی بنانے کے سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری کی زیرِ صدارت مختلف سرکاری اسکولوں کے ہیڈ ماسٹرز و ہیڈ مسٹریسز کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں کلسٹر بجٹ کے استعمال اور اس کے ذریعے اسکولوں کی ضروریات پوری کرنے سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر خسرو دلاوری نے ہدایت کی کہ کلسٹر بجٹ کو مکمل شفافیت، قواعد و ضوابط اور اسکولوں کی حقیقی ضروریات کے مطابق استعمال کیا جائے تاکہ دستیاب وسائل سے طلبہ کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے واضح کیا کہ کلسٹر بجٹ کے استعمال میں شفافیت اور جوابدہی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور فنڈز کے استعمال کا باقاعدہ ریکارڈ برقرار رکھا جائے۔اسسٹنٹ کمشنر پسنی نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں سہولیات کی فراہمی اور کلسٹر بجٹ کے موثر استعمال کی زمینی صورتحال جانچنے کے لیے مختلف اسکولوں اور کلسٹر فیڈنگ اسکولوں کے دورے کیے جائیں گے، جہاں سہولیات اور ترقیاتی ضروریات کا موقع پر جائزہ لیتے ہوئے فزیکل ویریفکیشن بھی کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7818/2026
پسنی16 ستمبر۔ اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول پراہگ پسنی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے تدریسی سرگرمیوں، طالبات کی حاضری اور مجموعی تعلیمی ماحول کا جائزہ لیا جہاں پر جماعت نہم کی طالبہ رخسار نے نامیاتی کیمسٹری کے عملی مطالعے کے تحت روزمرہ استعمال ہونے والے صابن کی تیاری کا عملی تجربہ پیش کیا۔ طالبہ نے تجربے کے مختلف مراحل کی وضاحت کرتے ہوئے عملی طور پر اپنی سائنسی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔اسسٹنٹ کمشنر خسرو دلاوری نے طالبہ رخسار کی محنت، دلچسپی اور عملی اندازِ تعلیم کو سراہتے ہوئے دیگر طالبات کو بھی سائنسی تجربات، عملی تعلیم اور تخلیقی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینے کی ترغیب دی انہوں نے کہا کہ عملی تعلیم طلبہ میں سائنسی سوچ، اعتماد اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7819/2026
پسنی16 ستمبر۔ اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج پسنی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے تدریسی سرگرمیوں، طالبات کی حاضری، اساتذہ کی موجودگی، تعلیمی سہولیات اور انتظامی امور کا جائزہ لیا۔اس موقع پر کالج انتظامیہ نے اسسٹنٹ کمشنر کو تعلیمی سرگرمیوں اور دستیاب سہولیات سے متعلق بریفنگ دی۔ اسسٹنٹ کمشنر نے تعلیمی سرگرمیوں میں مزید بہتری، اساتذہ کی باقاعدہ حاضری اور دستیاب سہولیات کے موثر استعمال کو یقینی بنانے پر زور دیا تاکہ طالبات کو معیاری تعلیم اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانا اور طالبات کے لیے معیاری و قابلِ رسائی تعلیمی مواقع کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7820/2026
کوئٹہ،16ستمبر۔صوبائی مشیر برائے محکمہ ترقیِ نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے نوجوان خصوصاً ہماری بیٹیاں بے پناہ صلاحیتوں کی مالک ہیں، کھیل کے میدانوں میں ان کی کامیابیاں نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کے لیے بھی باعثِ فخر ہیں۔ نوجوانوں کو کھیلوں کے بہتر مواقع اور سہولیات فراہم کرکے ان کی صلاحیتوں کو ملک و قوم کی خدمت کے لیے بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔7ویں خواتین بلوچستان ووشو چیمپئن شپ 2026 کی اختتامی تقریب میں بطور چیف گیسٹ خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ کھیل کے میدان نوجوانوں میں خوداعتمادی، نظم و ضبط، برداشت اور قیادت کی صلاحیتیں پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ بلوچستان کے نوجوانوں نے مختلف کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور وہ قومی و بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بیٹیاں کھیل کے میدان میں کامیابیاں حاصل کرکے بلوچستان کی ایک مثبت اور روشن تصویر دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ محکمہ ترقیِ نسواں خواتین اور بچیوں کی فلاح و بہبود، ان کے حقوق کے تحفظ، تعلیم، صحت، خوداعتمادی اور معاشرے میں باوقار و فعال کردار کے لیے موثر اقدامات کررہا ہے۔ خواتین اور بچیوں کو کھیلوں سمیت مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کرنا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ترقیِ نسواں کا مقصد خواتین اور بچیوں کو ایسا سازگار ماحول فراہم کرنا ہے جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں بروئے کار لاسکیں۔ کھیلوں کی سرگرمیاں بچیوں میں خوداعتمادی، جسمانی صحت، نظم و ضبط اور قیادت کی صلاحیتیں پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اس لیے خواتین کے لیے کھیلوں کے مواقع میں مزید اضافہ ضروری ہے۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ جب بلوچستان کا نوجوان کھیل کے میدان میں کامیابی حاصل کرتا ہے تو اس کامیابی کی خوشی پورے پاکستان کی خوشی ہوتی ہے، کیونکہ ہمارے نوجوان ہی ملک کا روشن مستقبل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ووشو سمیت دیگر کھیلوں میں بلوچستان کی بچیوں کی بڑھتی ہوئی شرکت ایک مثبت اور حوصلہ افزا رجحان ہے۔ ہماری بیٹیاں اپنی محنت، عزم اور صلاحیت کے ذریعے یہ ثابت کر رہی ہیں کہ انہیں اگر مناسب مواقع، تربیت اور سہولیات فراہم کی جائیں تو وہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کا نام بھی روشن کرسکتی ہیں۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کی بچیاں تعلیم، کھیل، ہنر اور دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کررہی ہیں۔ حکومت خواتین اور بچیوں کی سرپرستی اور ان کے لیے مواقع پیدا کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اقدامات جاری رکھے گی تاکہ بلوچستان کی بیٹیاں نہ صرف صوبے بلکہ پاکستان کا نام قومی و بین الاقوامی سطح پر روشن کرسکیں۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ کھیل صرف جسمانی صحت اور فٹنس کا ذریعہ نہیں بلکہ نوجوان نسل میں مثبت سوچ، خوداعتمادی، برداشت، نظم و ضبط اور آگے بڑھنے کا جذبہ بھی پیدا کرتے ہیں۔ خصوصاً لڑکیوں کے لیے کھیلوں کے میدان انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار، اعتماد میں اضافے اور معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کے بہتر مواقع فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کھیلوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ بچیوں اور نوجوان خواتین کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی توانائیاں مثبت اور تعمیری سرگرمیوں میں صرف کریں۔ ووشو جیسے کھیل نہ صرف جسمانی صحت اور فٹنس کو بہتر بناتے ہیں بلکہ نوجوانوں میں حوصلہ، عزم، نظم و ضبط اور مثبت طرزِ فکر کو بھی فروغ دیتے ہیں۔صوبائی مشیر نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ کھیلوں کے میدانوں کو مزید آباد کیا جائے، نوجوان کھلاڑیوں بالخصوص ہماری بیٹیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں صوبائی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔ صحت مند، باصلاحیت اور پراعتماد نوجوان ہی ایک مضبوط، پرامن اور ترقی یافتہ بلوچستان کی بنیاد بن سکتے ہیں۔اس موقع پر بطور چیف گیسٹ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کا شاندار اور پرتپاک استقبال کیا گیا۔ انہوں نے ووشو کھلاڑیوں کی جانب سے پیش کیے گئے شاندار فنون اور کھیل کے مظاہرے دیکھے جبکہ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کھلاڑیوں میں گولڈ میڈلز بھی تقسیم کیے۔صوبائی مشیر نے چیمپئن شپ کے کامیاب انعقاد پر منتظمین، کوچز، کھلاڑیوں اور والدین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کھیل کے میدان آباد ہوں گے تو بلوچستان کے نوجوانوں کے مستقبل روشن ہوں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7821/2026
موسیٰ خیل ، 16 ستمبر۔موسیٰ خیل: ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر موسیٰ خیل کی جانب سے ضلع میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی انعامات اور اسپورٹس کٹس کی تقسیم کی تقریب منعقد کی گئی۔تقریب میں محکمہ کھیل موسیٰ خیل کی طرف سے مقامی کلبوں، تعلیمی اداروں اور انفرادی کھلاڑیوں میں کیش پرائز اور کھیل کا سامان تقسیم کیا گیا۔تفصیلات:کھیل کا سامان: کلی نالی میردادزئی / صحرائی فٹبال کلب کو مکمل اسپورٹس یونیفارم اور 2 عدد فٹبال فراہم کیے گئے۔کیش انعام: مسلم پبلک اسکول محلہ نیو بازار موسیٰ خیل کی بہترین کارکردگی پر ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر کی جانب سے اسکول کے لیے 10,000 (دس ہزار) روپے کا نقد انعام دیا گیا۔انفرادی حوصلہ افزائی: کھلاڑی ہدایت اللہ کو محکمہ کھیل موسیٰ خیل کی طرف سے 1 عدد فٹبال جبکہ کھلاڑی شہزاد خان کو 1 عدد فٹبال یونیفارم پیش کیا گیا۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر نے کہا کہ محکمہ کھیل موسیٰ خیل نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے اور مقامی سطح پر ٹیلنٹ کی سرپرستی کے لیے تمام دستیاب وسائل فراہم کرتا رہے گا۔نشر و اشاعت:ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفس، ضلع موسیٰ خیل۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7822/2026
لورالائی16ستمبر ۔ ڈسٹرکٹ ٹیکنیکل فورم (DTF) کا اہم اجلاس ایڈیشنل کمشنر لورالائی ڈویژن اعجاز احمد کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں لورالائی سمیت ڈویڑن کے مختلف اضلاع میں انسدادِ پولیو سرگرمیوں، ویکسینیشن مہم کی پیش رفت اور بچوں کو پولیو کے موذی مرض سے محفوظ بنانے کے لیے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس میں ڈپٹی کمشنرلورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لورالائی ڈاکٹر مقبول احمد، ڈبلیو ایچ او کے ڈی ایس پی او ڈاکٹر ذَرک خان، یونیسیف کے سی سی او محمد ہاشم، این-ایس او وزیر خان اور پی پی ایچ آئی کے اے ڈی ایس ایم محیب اللہ نے بالمشافہ شرکت کی، جبکہ د±کی، زیارت اور موسیٰ خیل کے متعلقہ حکام نے بذریعہ زوم لنک اجلاس میں شرکت کی اجلاس کے دوران متعلقہ حکام کی جانب سے انسدادِ پولیو مہم کی مجموعی صورتحال، پولیو ٹیموں کی کارکردگی، بچوں کو پولیو سے بچاو¿ کے قطرے پلانے، رہ جانے والے بچوں کی کوریج، مائیکرو پلاننگ، فیلڈ مانیٹرنگ اور مختلف علاقوں میں درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اس موقع پر اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پانچ سال تک کی عمر کے کسی بھی بچے کو پولیو سے بچاو¿ کے قطرے پلانے سے محروم نہیں رہنے دیا جائے گا اور پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ، عالمی ادارہ صحت، یونیسیف اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنایا جائے گااجلاس میں پولیو ٹیموں کی فیلڈ میں موجودگی، گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین پلانے کے عمل، مسنگ چلڈرن کی دوبارہ کوریج اور حساس علاقوں میں خصوصی توجہ دینے پر بھی زور دیا گیا۔ حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے ہر بچے تک رسائی، موثر نگرانی اور والدین میں آگاہی بنیادی اہمیت رکھتی ہےایڈیشنل کمشنر اعجاز احمد نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ انسدادِ پولیو سرگرمیوں کی موثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے، فیلڈ میں موجود ٹیموں کو درپیش مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں اور پولیو مہم کے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں انہوں نے کہا کہ پولیو کے خلاف جنگ مشترکہ قومی ذمہ داری ہے اور ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، والدین، علماء کرام، قبائلی عمائدین اور معاشرے کے تمام طبقات کے تعاون سے ہی اس موذی مرض کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔ والدین سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ اپنے پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو ہر پولیو مہم کے دوران حفاظتی قطرے ضرور پلوائیں تاکہ بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکےاجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے جاری مہمات کو محض ایک سرکاری سرگرمی کے بجائے بچوں کے محفوظ اور صحت مند مستقبل کی مشترکہ جدوجہد کے طور پر آگے بڑھایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7823/2026
کوئٹہ، 16 ستمبر۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے دیرینہ دوست سردار سرفراز خان ڈومکی کی برسی کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقت کتنی تیزی سے گزر جاتا ہے، اس کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب اپنے کسی عزیز کی جدائی کو برسوں بیت جائیں، تاہم بعض لوگ اپنی محبت، خلوص اور خوبصورت یادوں کے باعث کبھی فراموش نہیں ہوتے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سردار سرفراز ڈومکی ان کے جاننے والے انتہائی شفیق، منکسر المزاج اور مخلص لوگوں میں شامل تھے۔ وہ سادہ طبیعت، زمین سے جڑے ہوئے، محبت کرنے والے اور دوسروں کا خیال رکھنے والے انسان تھے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سردار سرفراز ڈومکی ہر شخص سے گرمجوشی، محبت اور احترام سے پیش آتے تھے۔ ان کی دوستی میرے لیے باعثِ اعزاز تھی اور آج بھی ان کی موجودگی، شفقت اور ان کے ساتھ گزارا ہوا خوبصورت وقت شدت سے یاد آتا ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سردار سرفراز ڈومکی کی شخصیت اور ان کے ساتھ وابستہ یادیں ہمیشہ دل میں زندہ رہیں گی۔ ان کی وفات ایک ذاتی نقصان تھی جس کا احساس آج بھی اسی شدت سے موجود ہے۔ وزیر اعلیٰ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم سردار سرفراز ڈومکی کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کے اہل خانہ سمیت تمام چاہنے والوں کو صبر و حوصلہ عطا فرمائے۔میر سرفراز بگٹی نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ عزیز دوست، آپ ہمیشہ یاد رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی روح کو سکون اور اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7824/2026
سیوی 16 ستمبر ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی خصوصی ہدایت پر سرکٹ ہاوس سیوی میں ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں خواتین کے لیے خصوصی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری میں ایس ایس پی سیوی عبدالحمید، اسسٹنٹ کمشنر سیوی عمران مندوخیل، مختلف محکموں کے افسران اور خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سیوی نے کہا کہ اسلامی قوانین ہوں یا سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے، دونوں میں خواتین کے حقوق کو اولین ترجیح حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلی کچہری بلانے کا مقصد یہی تھا کہ عوامی مسائل کا جو پہلو نظرانداز رہ جاتا ہے، اسے براہِ راست سن کر حل کیا جائے۔ کھلی کچہری میں خواتین نے اپنے مسائل ڈپٹی کمشنر کے سامنے بیان کیے اور تحریری درخواستیں بھی جمع کروائیں۔ ڈپٹی کمشنر نے متعدد قابلِ حل مسائل موقع پر ہی نمٹا دیے، ڈپٹی کمشنر سیوی نے کہا کہ اس نوعیت کی کھلی کچہریاں آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ منعقد کی جاتی رہیں گی تاکہ عوام، بالخصوص خواتین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکے اور انتظامیہ اور عوام کے درمیان براہِ راست رابطے کو مزید موثر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے اور کسی بھی مسئلے کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کے اس اہم منصوبے کے تحت ضلع سیوی میں تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے وسیع پیمانے پر ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے ہیں، جن سے علاقے کے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان عوام کی فلاح و بہبود کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7825/2026
لورالائی16ستمبر ۔ ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن لورالائی ڈویژن و کوہِ سلیمان ڈویژن کے اضافی چارج عبدالواسع خان کاکڑ نے دونوں ڈویژنوں کے مختلف تعلیمی اداروں کا خصوصی دورہ کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ سپرنٹنڈنٹ ملک نجیب خان کاکڑ بھی موجود تھے۔دورے کے دوران گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کنگری موسیٰ خیل، گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کنگری موسیٰ خیل . گورنمنٹ گرلز ہائی سکول رکنی اور گورنمنٹ بوائز ہائی سکول رکھنی سمیت مختلف تعلیمی اداروں کا معائنہ کیا گیا۔ اس دوران طلبہ و طالبات کی حاضری، تدریسی سرگرمیوں تعلیمی ماحول، اساتذہ کی کارکردگی اور سکولوں کے انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا اس موقع پر ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن عبدالواسع خان کاکڑ نے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی اورخوشحالی کی بنیادی بنیاد ہے، جبکہ بنیادی تعلیم بچے کے روشن مستقبل کی پہلی سیڑھی ہے۔ اگر بچوں کو ابتدائی سطح پر معیاری تعلیم، اچھی تربیت اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے تو وہ مستقبل میں معاشرے اور ملک کی ترقی میں موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیم صرف کتابیں پڑھنے کا نام نہیں بلکہ شعور، کردار، اخلاق، ذمہ داری اور بہتر مستقبل کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔ ہر بچے اور بچی کو بلاامتیاز تعلیم حاصل کرنے کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔عبدالواسع خان کاکڑ نے کہا کہ تعلیم ہر بچے اور بچی کا بنیادی حق ہے اور اس حق کی فراہمی کے لیے والدین، اساتذہ، محکمہ تعلیم اور معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بالخصوص اساتذہ کرام قوم کے معمار ہیں، اس لیے وہ اپنی ڈیوٹی ایمانداری، محنت اور خلوص کے ساتھ سرانجام دیں اور طلبہ و طالبات کی تعلیمی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں میں باقاعدہ حاضری، موثر تدریس، نظم و ضبط اور بچوں کے ساتھ مثبت رویہ تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اساتذہ اپنے فرائض میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی نہ برتیں، کیونکہ تعلیم کے شعبے میں ہماری آج کی محنت ہی آنے والی نسل کے مستقبل کو بہتر بنائے گی ڈویژنل ڈائریکٹر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لورالائی اور کوہِ سلیمان ڈویژن میں تعلیمی معیار کی بہتری، بنیادی تعلیم کے فروغ اور بچوں کو بہتر تعلیمی مواقع کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔دورے کے دوران سکول انتظامیہ اور اساتذہ سے تعلیمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور تعلیمی سرگرمیوں کو مزید مو¿ثر بنانے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7826/2026
د±کی16ستمبر۔پانی، بجلی، تعلیم، صحت اور BSDI کے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق عوامی مسائل براہِ راست سنے گئے، متعلقہ محکموں کو فوری اقدامات کی ہدایات ڈپٹی کمشنر د کی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت ڈپٹی کمشنر آفس میں عوامی مسائل کے حل اور شہریوں کو براہِ راست اپنے مسائل ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام تک پہنچانے کے لیے ایک اہم عوامی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیاکھلی کچہری میں 87 ونگ کے کمانڈنگ آفیسر کرنل شاہد بلال، ایس پی د±کی منصور احمد بزدار، چیئرمین میونسپل کمیٹی د±کی ملک کلیم اللہ خان ترین، ڈی ایچ او ڈاکٹر بہادر خان لونی، ایم ایس ڈاکٹر جوہر خان شادوزئی سمیت مختلف سرکاری محکموں کے افسران، متعلقہ حکام، عمائدینِ علاقہ اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے پانی، بجلی، تعلیم، صحت، صفائی ستھرائی، بلدیاتی سہولیات اور دیگر بنیادی عوامی مسائل کے علاوہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اپنے مسائل اور شکایات براہِ راست ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ حکام کے سامنے پیش کیں ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری افسران عوام پر حکم چلانے کے لیے نہیں بلکہ عوام کے خادم کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت، دیانت داری، بروقت فیصلہ سازی اور مسائل کا فوری ازالہ ضلعی انتظامیہ اور تمام سرکاری محکموں کی اولین ذمہ داری ہےانہوں نے کہا کہ سرکاری فنڈز عوام کی امانت ہیں اور ان کا ہر ممکن حد تک شفاف اور درست استعمال عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر یقینی بنایا جائے۔ ترقیاتی منصوبوں کا اصل مقصد عوام کو سہولت پہنچانا اور ان کے معیارِ زندگی میں بہتری لانا ہے، لہٰذا تمام متعلقہ محکمے اس امر کو یقینی بنائیں کہ سرکاری وسائل حقیقی معنوں میں عوام کی بہتری اور فلاح کے لیے استعمال ہوں ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ BSDI کے تحت ضلع د±کی میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد عام شہریوں تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی اسکیموں میں معیار، شفافیت اور رفتار کو ہر صورت مقدم رکھا جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا غیرضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے پانی، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق عوامی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے دائر اختیار میں مسائل کے حل کے لیے فوری، عملی اور موثر اقدامات کریں اور عوام کو سرکاری دفاتر کے غیرضروری چکروں سے بچایا جائےکھلی کچہری کا مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان فاصلے ختم کرنا ہےڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے کہا کہ کھلی کچہریوں کے انعقاد کا بنیادی مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطے کو مضبوط بنانا اور شہریوں کے مسائل کو بروقت متعلقہ فورمز تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے گی اور شہریوں کی جائز شکایات کے ازالے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ فیلڈ میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں، عوام سے رابطے میں رہیں اور مسائل پیدا ہونے کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے بروقت نگرانی اور موثر منصوبہ بندی کے ذریعے ان کے حل کے لیے پیشگی اقدامات کریں اس موقع پر شہریوں نے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے عوامی مسائل براہِ راست ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کے سامنے رکھے۔ متعلقہ افسران نے مسائل کا جائزہ لیا اور متعدد شکایات کے حل کے لیے ضروری ہدایات اور اقدامات سے آگاہ کیا گیا، جبکہ دیگر مسائل کو متعلقہ محکموں کے ذریعے ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی عوامی حلقوں نے کھلی کچہری کے انعقاد کو ضلعی انتظامیہ کا ایک مثبت اور عوام دوست اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے براہِ راست عوامی رابطہ پروگرام شہریوں کو اپنے مسائل اعلیٰ حکام تک پہنچانے کا موثر موقع فراہم کرتے ہیں اور انتظامیہ کی کارکردگی میں مزید بہتری کا ذریعہ بنتے ہیں۔کھلی کچہری کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ عوامی مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی فراہمی، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور سرکاری اداروں کی عوامی خدمت کے عمل کو مزید موثر اور فعال بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7827/2026
د کی16, ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر د±کی فضل الرحمن کبدانی نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) پروگرام کے تحت مکمل ہونے والی واٹر سپلائی اسکیم فیض آباد جنگل کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر متعلقہ محکمہ کے افسران اور حکام بھی ان کے ہمراہ تھے ڈپٹی کمشنر نے واٹر سپلائی اسکیم کے مختلف حصوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے منصوبے کے تعمیراتی معیار، پانی کی دستیابی و فراہمی، تنصیب شدہ سہولیات اور مقامی آبادی کو فراہم کی جانے والی بنیادی سہولت کا معائنہ کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے منصوبے کی موجودہ صورتحال اور عوام کو پانی کی فراہمی سے متعلق امور پر بریفنگ بھی لی اس موقع پر ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے کہا کہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے تحت مکمل کیے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کا بنیادی مقصد دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، معیارِ زندگی میں بہتری اور عوامی مسائل کا عملی و موثر ازالہ ہےانہوں نے کہا کہ صاف پینے کا پانی عوام کی بنیادی ضرورت ہے، اس لیے واٹر سپلائی اسکیموں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ ان کی پائیداری، موثر نگرانی اور بروقت دیکھ بھال بھی انتہائی ضروری ہےڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ واٹر سپلائی اسکیم کی باقاعدہ نگرانی، مناسب دیکھ بھال اور فعال آپریشن کو یقینی بنایا جائے تاکہ فیض آباد جنگل کی مقامی آبادی کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی سہولت مستقل بنیادوں پر میسر رہےانہوں نے مزید ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں تعمیراتی معیار اور عوامی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جائے اور مکمل شدہ منصوبوں کے ثمرات حقیقی معنوں میں عوام تک پہنچانے کے لیے موثر اقدامات جاری رکھے جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7828/2026
کوئٹہ16 ستمبر۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) کے عملہ کو کوئٹہ میٹرو کارپوریشن کی جانب سے آگ بجھانے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے حوالے سے عملی تربیت فراہم کی گئی۔تربیتی سیشن کے دوران عملہ کو آگ لگنے کی صورت میں اختیار کیے جانے والے ضروری حفاظتی اقدامات، فائر ایکسٹنگوشر کے درست استعمال اور آگ پر قابو پانے کے عملی طریقہ کار سے آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر شرکاء کو ہنگامی حالات میں بروقت ردِعمل، احتیاطی تدابیر اور جانی و مالی نقصان سے بچاو کے حوالے سے بھی رہنمائی فراہم کی گئی۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے اس تربیتی اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ افسران اور عملے کی فائر سیفٹی سے متعلق آگاہی اور عملی استعداد میں اضافہ ادارے میں محفوظ اور بہتر کام کے ماحول کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 7829/2026
کوئٹہ ،16 ستمبر ۔ تھانہ شہید عبدالخالق کے علاقے خلجی کالونی علی زئی اسٹریٹ میں فائرنگ کے واقع میں شہید ہونے والے پولیس کانسٹیبل محمد عباس کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔نماز جنازہ میں آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر، ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان ملک لطیف کاکڑ، ایڈیشنل آئی جی کمانڈنٹ بی سی اشفاق احمد، ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت سمیت پولیس کے دیگر اعلیٰ حکام، اہلکاروں اور شہید کے اہلخانہ و لواحقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر نے شہید کانسٹیبل محمد عباس کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور اہلخانہ سے اظہار تعزیت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7830/2026
لسبیلہ ڈویژن 16ستمبر ۔ کمشنر لسبیلہ ڈو یژ ن سائرہ عطاءکے احکامات پر ایریگیشن کینال حب سے پانی چوری کی روک تھام اورمستقل نگرانی کےمﺅثر میکانزم پر کام شروع کردیا گیا یے ایکسئن ایریگیشن کینال جب کی زیرنگرانی حب ڈیم سے لیڈاہائیڈریٹ تک 33کلومیٹر طویل کینال کی سرویلنس کیلئے ایریگیشن کی پٹرولنگ ٹیم نے کاروائیاں شروع کردی ہیں حب شہر کے انڈسٹریل ایریاززرعی وشہری علاقوں کو کیٹگرائزیشن کرکے پانی سپلاءبحال کردی گءیے ایک عرصے سے صنعتکارزمیندار اور شہری آبادی پانی کی کمی اور مبینہ پانی چوری کی شکایات کرتے آرہے ہیں کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے عوامی شکایات پر اس مسئلے کا نوٹس لے کر ترجیحی بنیادوں پر متعلقہ ذمہ داران کواحکامات جاری کی ہیں کینال سے غیرقانونی طورپرواٹرٹینکرزاورٹریکٹرزکو پانی کمرشل استعمال کیلئے لیجانے پر مکمل پابندی عائد کردی گءہے حکومت بلوچستان ہوم سیکرٹری کے احکامات پر دفعہ 144کے مﺅثر نفاذکو یقینی بنانے کیلئے ضلعی انتظامیہ پولیس کو کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے سختی سے عنلدرآمدکرانے کا حکم جاری کیا کمشنر لسبےلہ ڈویژ ن سائرہ عطاءکا کہنا ہیکہ پانی کی غیرقانونی طورپرکراچی ترسیل میں ملوث مافیا کیخلاف سخت کارروائی کی جارہی ہے اس سلسلے میں انتظامیہ کو دفعہ 144کے نفاذ کی خلاف ورزی پر فوری ایکشن کا حکم بھی دیا گیا یے ایریگیشن کینال مانیٹرنگ ٹیم کی تابڑتوڑکاروائیوں کی بدولت لیڈا اورہی ایچ ای کے تالاب تک پانی پہنچنا شروع ہوگیا یےلیڈا نے صنعتی زون اورپی ایچ ای نے گڈانی جیل سمیت دیگرعلاقوں کوہانی سپلاءکیلئئے پمپنگ اسٹیشن کھول دیے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7831/2026
کوئٹہ 16 ستمبر۔ بلوچستان سینٹر اف ایکسیلنس حکومت بلوچستان اور پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے اشتراک سے سردار بہادر خان یونیورسٹی میں ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت, اورنگزیب خان کچی, وزیر تعلیم بلوچستان, مس راحیلہ حمید درانی, سی ای او, پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ, نادر گل بڑیچ فیڈرل سیکرٹری اسد رحمان گیلانی, چیف کورڈنیشن افیسر, بلوچستان سینٹر اف ایکسیلنس, ڈاکٹر دوست محمد, ڈپٹی کوارڈینیشن افیسر ڈاکٹر عصمت خان, وائس چانسلر سردار بہادر خان یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق ایگزیکٹو ڈائریکٹر لوک ورثہ, ڈاکٹر محمد وقاص سلیم اور انچارج ریہیبلیٹیشن سینٹر فمیدہ کاکڑ نے شرکت کی اس سیمینار کا مقصد قومی ثقافتی بیانیہ کی اہمیت کو اجاگر کرنے، فروغ دینے ,نوجوانوں اور طالب علموں کو مثبت، تعمیری اور مو¿ثر کردار ادا کرنے کے لیے متحرک کرنا تھا۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کی ثقافتی شناخت کا حاشیہ نہیں بلکہ اس کا ایک بنیادی باب ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے بغیر پاکستان کی تاریخ، تہذیب اور قومی شناخت کی تصویر مکمل نہیں ہو سکتی۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جس میں کسی شہری کو یہ محسوس نہ ہو کہ اس کی زبان، ثقافت یا علاقائی شناخت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔وزیر تعلیم بلوچستان, راحیلہ حمید درانی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ثقافت کو کبھی بھی تقسیم کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے بلکہ یہ لوگوں کو آپس میں جوڑنے کا بہترین وسیلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ثقافتوں کا احترام کرنا اور باہمی اتحاد کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ مزید برآں، انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ بلوچستان اپنے روایتی ہنر، ہستکاری اور سیاحت کے شعبے کے ذریعے ثقافتی تنوع سے باآسانی آمدنی حاصل کر سکتا ہے۔پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (پی پی اے ایف) کے سی ای او, نادر گل بڑیچ نے کہا کہ ان کا ادارہ بلوچستان کے 41 اضلاع میں پائیدار ترقی، سماجی ہم آہنگی اور امن کے فروغ کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہنر مند افراد اور خصوصاً خواتین کو قرضے اور تربیت فراہم کرنے سے وہ مع طور پر خودمختار ہو کر اپنے خاندانوں کا سارا بن رہی ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کو تعلیم، معاشی خودمختاری اور امن کے قیام میں فعال کردار دے کر ہی معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔مقررین نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے قومی ثقافتی بیانیے (نقوشِ وطن) کی اہمیت اور ثقافتی فروغ پر روشنی ڈالی، اور معاشرے میں امن کے قیام، روایات کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے خواتین کے کلیدی اور بااختیار کردار کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ثقافت کو تقسیم کے بجائے قوم کو جوڑنے اور سماجی ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ایک موثر وسیلے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہئے۔ مزید برآں، مقررین نے بلوچستان کے بھرپور ثقافتی ورثے اور ہنر مند خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے ذریعے خطے کی ترقی کے عزم کا اعادہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 7832/2026
لورالائی16ستمبر ۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت انجمن تاجران اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، کم تولنے، بازار میں تجاوزات، ٹریفک کے مسائل اور دیگر شہری مشکلات کے حل کے لیے تفصیلی غور و خوض کیا گیااجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) علی نواز جمالی اور متعلقہ افسران سمیت تاجر برادری کے نمائندگان نے شرکت کی اجلاس کے دوران اشیائے ضروریہ کی سرکاری نرخ نامے کے مطابق فروخت، قیمتوں میں استحکام، اشیاء کے معیار کی بہتری اور عوام کو مناسب نرخوں پر معیاری اشیائے خورونوش کی فراہمی یقینی بنانے کے حوالے سے اہم امور زیرِ بحث آئےڈپٹی کمشنر نے کہا کہ عوام کو مقررہ نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مارکیٹوں میں باقاعدگی سے چیکنگ کا عمل جاری رکھا جائے اور ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، کم تولنے اور ملاوٹ جیسے عوام دشمن اقدامات کے خلاف قانون کے مطابق موثر کارروائی عمل میں لائی جائےانہوں نے تاجر برادری پر بھی زور دیا کہ وہ سرکاری نرخ نامے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں، اشیائے ضروریہ کی مصنوعی قلت پیدا کرنے، غیر ضروری قیمتیں بڑھانے اور عوام کو غیر معیاری اشیاء کی فراہمی سے گریز کریں اجلاس میں شہر کے مختلف بازاروں میں قائم تجاوزات اور ٹریفک کی روانی میں حائل رکاوٹوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تاجر برادری اور ضلعی انتظامیہ باہمی تعاون سے بازاروں کو تجاوزات سے پاک کرنے، ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور پیدل چلنے والے شہریوں کے لیے راستے کشادہ رکھنے کے لیے مربوط اقدامات کریں گےڈپٹی کمشنر نے کہا کہ منظم، صاف ستھرا اور ٹریفک کے بہتر نظام والا بازار نہ صرف شہریوں کے لیے سہولت کا باعث بنتا ہے بلکہ تاجر برادری کے کاروبار کے لیے بھی سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بازار کے مسائل کے حل کے لیے تاجروں، انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ ضروری ہےتاجر یونین کے نمائندگان نے ضلعی انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی کہ وہ سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد، بازاروں کی بہتری، تجاوزات کے خاتمے اور ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گےڈپٹی کمشنر نے اجلاس کے اختتام پر کہا کہ انتظامیہ اور تاجر برادری مل کر عوام کو بہتر سہولیات، مناسب قیمتوں پر معیاری اشیاء اور منظم کاروباری ماحول فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7833/2026
لورالائی16ستمبر ۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت سرکاری اراضی پر قائم تجاوزات اور غیر قانونی قبضوں کے حوالے سے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سرکاری اراضی کے تحفظ، تجاوزات کی نشاندہی اور غیر قانونی قبضوں کے خاتمے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر غور کیا گیااجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) علی نواز جمالی، تحصیلدار محمد عظیم اور پٹواری حضرات نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ضلع بھر میں سرکاری اراضی کی موجودہ صورتحال، ریونیو ریکارڈسرکاری زمینوں پر قائم تجاوزات اور مبینہ غیر قانونی قبضوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیااس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے متعلقہ ریونیو افسران کو ہدایت کی کہ سرکاری اراضی کا ریکارڈ مکمل طور پر مرتب اور اپ ڈیٹ کیا جائے جبکہ سرکاری زمین کی نشاندہی، پیمائش اور حد بندی کے عمل کو ریونیو ریکارڈ کے مطابق یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سرکاری اراضی سے متعلق تمام معاملات میں شفافیت، قانونی تقاضوں اور مقررہ طریقہ کار کو ہر صورت ملحوظِ خاطر رکھا جائےڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ سرکاری اراضی پر کسی بھی قسم کے غیر قانونی قبضے یا تجاوزات کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور قانون کے مطابق جلد مرحلہ وار کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی طور پر زیرِ قبضہ سرکاری اراضی کو واگزار کرا کے سرکاری تحویل میں لیا جائے گا، جبکہ کارروائی کے دوران کسی فرد کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گاانہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ کارروائی سے قبل تمام متعلقہ ریکارڈ، انتقالات، کھاتہ جات، رجسٹر اور دیگر ریونیو دستاویزات کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے تاکہ حقائق کی بنیاد پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری املاک قومی اثاثہ ہیں، جن کا تحفظ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی مشترکہ ذمہ داری ہےاجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ سرکاری اراضی پر مستقبل میں تجاوزات کی روک تھام کے لیے مو¿ثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے گا اور کسی بھی نئی تجاوز یا غیر قانونی تعمیر کی بروقت نشاندہی کرتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور سرکاری اراضی کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری زمین عوامی مفاد اور ریاستی ضرورت کے لیے ہوتی ہے، اس پر غیر قانونی قبضہ یا تجاوز کسی صورت قابلِ قبول نہیں انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کا مقصد صرف تجاوزات کا خاتمہ نہیں بلکہ ریونیو ریکارڈ کی درستگی، سرکاری املاک کا تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا بھی ہے، تاکہ سرکاری اراضی کو مستقبل میں کسی بھی غیر قانونی استعمال سے محفوظ رکھا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7834/2026
کوئٹہ16 ستمبر۔ صوبائی وزیر و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ کی خصوصی ہدایات پر ملاوٹی اور ناقص معیار کے دودھ و دہی کے خلاف بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے صوبے بھر میں خصوصی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ مہم کے تحت کوئٹہ اور لورالائی میں دودھ فروشوں، دکانوں، دودھ بردار گاڑیوں، ملک سپلائرز اور دیگر مشتبہ مقامات کی بڑے پیمانے پر چیکنگ اور دودھ کے معیار کی جانچ کی گئی۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی انسپیکشن ٹیموں نے خصوصی مہم کے پہلے روز کوئٹہ اور لورالائی میں کارروائیاں کرتے ہوئے 2 یونٹس سیل جبکہ 18 مراکز اور ملک سپلائرز کو جرمانے کیے۔ کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 59 دودھ بردار گاڑیوں و موٹر سائیکلوں سمیت 7 دودھ کی دکانوں کا معائنہ کیا گیا۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 19,221 لیٹر دودھ جبکہ بڑی مقدار میں دہی کے معیار کی جانچ کی گئی۔ ملاوٹ، ناقص معیار اور انسانی صحت کے لیے مضر پائے جانے والے تقریباً 2,000 لیٹر دودھ اور بڑی مقدار میں دہی کو موقع پر تلف کردیا گیا۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی موبائل لیبارٹری کے ذریعے دودھ کے نمونوں کی موقع پر جانچ کی گئی جس میں دودھ میں پانی اور اسکمڈ ملک کی ملاوٹ کی نشاندہی کی گئی۔ خلاف ورزی ثابت ہونے پر موقع پر ہی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے مشتبہ دودھ کے ڈبے بھی ضبط کیے گئے۔انسپیکشن ٹیموں نے دودھ فروشوں اور ملک سپلائرز کے خلاف کارروائیوں کے دوران حفظانِ صحت کے ناقص انتظامات، غیر مناسب اسٹوریج، آلودہ برتنوں، صفائی کی ابتر صورتحال اور بغیر لائسنس کاروبار سمیت مختلف خلاف ورزیوں کا بھی نوٹس لیا۔خصوصی ملک ٹیسٹنگ مہم سے متعلق ڈائریکٹر آپریشنز بلوچستان فوڈ اتھارٹی ہیڈکوارٹر فخرالدین مری کا کہنا ہے کہ دودھ بنیادی اور روزمرہ استعمال کی اہم غذا ہے اس لیے دودھ کے معیار اور خالص پن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موبائل لیبارٹری کے ذریعے موقع پر دودھ کی جانچ کا عمل مزید موثر بنایا گیا ہے تاکہ ملاوٹ کی فوری نشاندہی کرکے عوام کو غیر معیاری دودھ کی فراہمی روکی جاسکے۔فخرالدین مری نے کہا کہ دودھ میں پانی، اسکمڈ ملک یا دیگر غیر مجاز اجزا کی ملاوٹ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے، اس لیے دودھ فروشوں اور ملک سپلائرز کو مقررہ فوڈ سیفٹی قوانین اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے، سیلنگ اور دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ڈائریکٹر آپریشنز نے مزید کہا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں دودھ کے معیار کی نگرانی کے لیے مختلف علاقوں میں باقاعدگی سے چیکنگ جاری رکھیں گی،انہوں نےعوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ملاوٹی ، مشتبہ یا غیر معیاری دودھ کی فروخت کی اطلاع بلوچستان فوڈ اتھارٹی کو دیں تاکہ صحت دشمن عناصر کے خلاف بروقت کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7835/2026
نصیرآبادڈویژن16ستمبر۔جعفرآباد ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلا کر ضلع بھر میں انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز کردیا، مہم کے دوران ضلع بھر میں 72 ہزار 886 بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ اس موقع پر محکمہ صحت کے افسران نے بھی بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے اور والدین کو انسدادِ پولیو مہم کی اہمیت و افادیت کے حوالے سے آگاہی فراہم کی۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پولیو ورکرز قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا مثبت اور موثر کردار ادا کریں اور ضلع بھر میں مقررہ ہدف کے مطابق ہر بچے تک رسائی یقینی بنائی جائے، جبکہ جن محکموں کے افسران کو مہم کی مانیٹرنگ کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں وہ اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں انجام دیتے ہوئے فیلڈ میں پولیو ٹیموں کی کارکردگی کی موثر نگرانی کریں تاکہ کوئی بچہ پولیو سے بچاو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7836/2026
کوئٹہ16 ستمبر۔صوبائی وزیر و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ کی خصوصی ہدایات پر ملاوٹی اور ناقص معیار کے دودھ و دہی کے خلاف بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے صوبے بھر میں خصوصی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ مہم کے تحت کوئٹہ اور لورالائی میں دودھ فروشوں، دکانوں، دودھ بردار گاڑیوں، ملک سپلائرز اور دیگر مشتبہ مقامات کی بڑے پیمانے پر چیکنگ اور دودھ کے معیار کی جانچ کی گئی۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی انسپیکشن ٹیموں نے خصوصی مہم کے پہلے روز کوئٹہ اور لورالائی میں کارروائیاں کرتے ہوئے 2 یونٹس سیل جبکہ 18 مراکز اور ملک سپلائرز کو جرمانے کیے۔ کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 59 دودھ بردار گاڑیوں و موٹر سائیکلوں سمیت 7 دودھ کی دکانوں کا معائنہ کیا گیا۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 19,221 لیٹر دودھ جبکہ بڑی مقدار میں دہی کے معیار کی جانچ کی گئی۔ ملاوٹ، ناقص معیار اور انسانی صحت کے لیے مضر پائے جانے والے تقریباً 2,000 لیٹر دودھ اور بڑی مقدار میں دہی کو موقع پر تلف کردیا گیا۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی موبائل لیبارٹری کے ذریعے دودھ کے نمونوں کی موقع پر جانچ کی گئی جس میں دودھ میں پانی اور اسکمڈ ملک کی ملاوٹ کی نشاندہی کی گئی۔ خلاف ورزی ثابت ہونے پر موقع پر ہی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے مشتبہ دودھ کے ڈبے بھی ضبط کیے گئے۔انسپیکشن ٹیموں نے دودھ فروشوں اور ملک سپلائرز کے خلاف کارروائیوں کے دوران حفظانِ صحت کے ناقص انتظامات، غیر مناسب اسٹوریج، آلودہ برتنوں، صفائی کی ابتر صورتحال اور بغیر لائسنس کاروبار سمیت مختلف خلاف ورزیوں کا بھی نوٹس لیا۔خصوصی ملک ٹیسٹنگ مہم سے متعلق ڈائریکٹر آپریشنز بلوچستان فوڈ اتھارٹی ہیڈکوارٹر فخرالدین مری کا کہنا ہے کہ دودھ بنیادی اور روزمرہ استعمال کی اہم غذا ہے اس لیے دودھ کے معیار اور خالص پن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موبائل لیبارٹری کے ذریعے موقع پر دودھ کی جانچ کا عمل مزید موثر بنایا گیا ہے تاکہ ملاوٹ کی فوری نشاندہی کرکے عوام کو غیر معیاری دودھ کی فراہمی روکی جاسکے۔فخرالدین مری نے کہا کہ دودھ میں پانی، اسکمڈ ملک یا دیگر غیر مجاز اجزا کی ملاوٹ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے، اس لیے دودھ فروشوں اور ملک سپلائرز کو مقررہ فوڈ سیفٹی قوانین اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے، سیلنگ اور دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ڈائریکٹر آپریشنز نے مزید کہا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں دودھ کے معیار کی نگرانی کے لیے مختلف علاقوں میں باقاعدگی سے چیکنگ جاری رکھیں گی،انہوں نےعوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ملاوٹی ، مشتبہ یا غیر معیاری دودھ کی فروخت کی اطلاع بلوچستان فوڈ اتھارٹی کو دیں تاکہ صحت دشمن عناصر کے خلاف بروقت کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7837/2026
نصیرآبادڈویژن16ستمبر۔جعفرآباد۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیرِ صدارت آج تین اہم اجلاس منعقد ہوئے جن میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (ڈی سی سی)، ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کوآرڈینیشن کمیٹی (ڈی آئی سی سی) اور ڈسٹرکٹ امپلیمنٹیشن کمیٹی (ڈی آئی سی) کے اجلاس شامل تھے۔ ڈی آئی سی کے اجلاس میں دینی مدارس کی رجسٹریشن، غیر قانونی لیبر، سیکیورٹی صورتحال، ایرانی تیل کی اسمگلنگ، منشیات، غیر قانونی نقل و حمل اور ضلع جعفرآباد میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ضروری فیصلے کیے گئے۔ ڈی آئی سی سی کے اجلاس میں ریلوے ٹریک، بس اڈوں، نیشنل ہائی وے اور ضلع کے اہم و حساس مقامات کی سیکیورٹی کا جائزہ لیتے ہوئے امن و امان کو درپیش خطرات، تھریٹ میپنگ اور پروفائلنگ پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ ڈی سی سی اجلاس میں سرکاری امور اور مختلف محکموں کی کارکردگی سمیت دیگر انتظامی معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا کہ ضلع میں امن و امان کا قیام، عوام کے جان و مال کا تحفظ اور قانون کی عملداری ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات ہیں، تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور موثر حکمت عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دیں، حساس مقامات کی سیکیورٹی مزید موثر بنائی جائے اور غیر قانونی سرگرمیوں، اسمگلنگ، منشیات، غیر قانونی نقل و حمل اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے، جبکہ سرکاری ملازمین یا دیگر افراد کی جانب سے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق سخت اقدامات کیے جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7838/2026
کوئٹہ 16ستمبر۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کی زیرِ صدارت غیر ملکیوں اور افغان مہاجرین کی واپسی، جاری کارروائیوں اور پیش رفت کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ میر اللہ بادینی، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی، اسسٹنٹ کمشنر ریونیو کوئٹہ ڈویژن سید کلیم اللہ، اسپیشل برانچ، پولیس، ایف آئی اے،نادرا ،محکمہ داخلہ، اقوامِ متحدہ کے افغان مہاجرین سے متعلق اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے اب تک کی جانے والی کارروائیوں، انتظامی اقدامات، پیش رفت، درپیش مشکلات اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے بھر سے اب تک تقریباً 8 لاکھ افغان مہاجرین کو واپس افغانستان بھیجا جا چکا ہے، جبکہ کوئٹہ میں 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد افغان مہاجرین رضاکارانہ واپسی یا انتظامیہ کی جانب سے کی گئی کارروائیوں کے نتیجے میں افغانستان واپس جا چکے ہیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کو موثر بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور ایف سی سمیت متعلقہ اداروں پر مشتمل مشترکہ کارروائیاں جاری ہیں۔ کوئٹہ میں اس وقت تقریباً 23 ہزار افغان مہاجرین باقی ہیں جن کی واپسی کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔اجلاس میں افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کے دوران درپیش مختلف انتظامی اور عملی مشکلات پر بھی غور کیا گیا اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی کہ باہمی رابطہ کاری کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ واپسی کے عمل کو قواعد و ضوابط کے مطابق آگے بڑھایا جا سکے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ایسے افغان مہاجرین جو واپسی کے بعد دوبارہ پاکستان آ رہے ہیں یا جن کی دوبارہ آمد کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، ان کے خلاف کارروائی کے حوالے سے محکمہ داخلہ سے باقاعدہ ہدایات حاصل کی جائیں گی، جس کے بعد قانون اور حکومتی پالیسی کے مطابق آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل میں تمام متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری یقینی بنائی جائے اور حکومتی احکامات و پالیسی کے مطابق کارروائیوں کو آگے بڑھایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7839/2026
کوئٹہ 16ستمبر۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کی زیر صدارت 21 ستمبر سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کے انتظامات اور کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ڈویژنل ٹاسک فورس کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی کوآرڈینیٹر ای سی او بلوچستان انعام الحق، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی، ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام خان ،ڈی ایچ او کوئٹہ، ڈپٹی ڈی ایچ او کوئٹہ، این اسٹاپ، عالمی ادارہ صحت (WHO)، نیشنل پروگرام، یونیسف اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو آئندہ انسداد پولیو مہم کے انتظامات، ٹیموں کی تشکیل، سیکیورٹی، ویکسین کی دستیابی اور کوریج کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کوئٹہ میں اگست کے دوران پولیو کے ماحولیاتی نمونے مثبت آئے ہیں، جس کے باعث آئندہ مہم کے دوران کوئٹہ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ انسداد پولیو مہم کے دوران ایک سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کے ساتھ حفاظتی ٹیکے بھی لگائے جائیں گے، تاکہ بچوں کو مختلف متعدی بیماریوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کوئٹہ ڈویژن میں انسداد پولیو مہم 92 یونین کونسلوں اور 9 تحصیلوں میں چلائی جائے گی۔ مہم کے لیے 92 یو سی ایم اوز، 500 ایریا انچارجز، 10 ہزار 818 پولیو ٹیمیں اور 26 ٹرانزٹ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کے علاوہ مختلف مقامات پر بچوں کی ویکسی نیشن یقینی بنائیں گی۔بریفنگ کے مطابق کوئٹہ ڈویژن میں مجموعی طور پر 47 لاکھ 74 ہزار 447 بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اجلاس میں ملیریا سمیت دیگر حفاظتی اور متعدی بیماریوں کے حوالے سے بھی ویکسینیشن کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری نے ہدایت کی کہ کم کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی یونین کونسلوں پر خصوصی توجہ دی جائے اور زیرو ڈوز بچوں کی نشاندہی کرکے انہیں لازمی طور پر ویکسین پلائی جائے۔انہوں نے مہم کے دوران ہجرت کرنے والے اور نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے بچوں پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی تاکہ کوئی بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہ رہے اور سو فیصد کوریج کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مہم کے دوران ویکسین واپس نہ کرنے والے یو سی ایم اوز کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ تمام متعلقہ افسران اور ٹیموں کو ہدایت کی گئی کہ مہم سے متعلق رپورٹس بروقت جمع کرائی جائیں اور فیلڈ میں ٹیموں کی نگرانی موثر انداز میں یقینی بنائی جائے۔کمشنر ذیشان لاشاری نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ انسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے باہمی رابطہ مزید موثر بنایا جائے، فیلڈ میں موجود ٹیموں کی نگرانی کی جائے اور رہ جانے والے بچوں کو تلاش کرکے انہیں پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جائیں، تاکہ مہم کے مقررہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7840/2026
کوئٹہ 16ستمبر۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کی زیر صدارت آرچر روڈ پر متروکہ اوقاف املاک بورڈ کی اراضی پر زیر تعمیر کمرشل پلازہ کے معاملے پر اہم اجلاس منعقد ہوا،جس میں منصوبے سے متعلق قانونی تقاضوں، تعمیراتی اجازت ناموں اور سکھ برادری کے تحفظات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ میر اللہ بادینی، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی، سکھ برادری کے نمائندوں اور متروکہ اوقاف املاک بورڈ کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران آرچر روڈ پر متروکہ اوقاف کی اراضی پر کمرشل پلازہ کی تعمیر کے حوالے سے مختلف قانونی اور انتظامی امور پر غور کیا گیا۔ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ منصوبے کے کنٹریکٹر کی جانب سے میٹروپولیٹن کارپوریشن سے این او سی اور منظور شدہ نقشہ اور دیگر ضروری قانونی دستاویزات مکمل کیے بغیر ڈبل بیسمنٹ کی تعمیر شروع کر دی گئی تھی، جس پر میٹروپولیٹن کارپوریشن نے فوری کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی تعمیراتی کام رکوا دیا۔انہوں نے بتایا کہ سڑک کو کلیئر رکھنے اور عوام کی حفاظت کے لیے پروٹیکشن وال بھی لگائی گئی ہے، جبکہ منصوبے کے حوالے سے میونسپل قوانین اور دیگر قانونی تقاضوں کی پابندی ضروری ہے۔دوسری جانب متروکہ اوقاف املاک بورڈ کے حکام نے اجلاس کو بتایا کہ مذکورہ اراضی پر کوئی گوردوارہ موجود نہیں تھا بلکہ یہ متروکہ اوقاف کی ملکیتی اراضی ہے، جسے ماضی میں ایک اسکول کو کرائے پر دیا گیا تھا۔حکام کے مطابق اراضی کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال میں لانے سے قبل متعلقہ قانونی کارروائی، ٹینڈرنگ اور دیگر ضابطے مکمل کیے گئے، جس کے بعد کمرشل پلازہ کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کیا گیا۔متروکہ اوقاف حکام نے مزید بتایا کہ منصوبے کے متعلقہ کنڈکٹر کی جانب سے میٹروپولیٹن کارپوریشن سے نقشہ منظور نہ کروانے اور این او سی حاصل نہ کرنے کی ذمہ داری متعلقہ کنٹریکٹر پر عائد ہوتی ہے۔ اس معاملے میں ٹینڈر کی شرائط کے مطابق متعلقہ کنٹریکٹر کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس میں سکھ برادری کے نمائندوں نے بھی اراضی پر کمرشل پلازہ کی تعمیر کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔نمائندوں کا موقف تھا کہ منصوبے کے معاملے میں سکھ برادری کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جس کے باعث ان کے تحفظات تاحال برقرار ہیں۔اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری نے متروکہ اوقاف املاک بورڈ کے افسران کو ہدایت کی کہ آرچر روڈ پلازہ منصوبے سے متعلق تمام قانونی دستاویزات، ٹینڈر کی تفصیلات، متعلقہ کنٹریکٹر کے ساتھ معاہدے کی نقول اور منصوبے کے آئندہ لائحہ عمل کے حوالے سے مکمل رپورٹ پیش کی جائے۔کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ منصوبے کے قانونی پہلووں کا مکمل جائزہ لیا جائے اور سکھ برادری کے تحفظات کو باہمی مشاورت اور شفاف انداز میں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7841/2026
کوئٹہ 16ستمبر۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کی زیرِ صدارت کوئٹہ گرین بس میں سہولیات کی فراہمی اور بہتری کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کوئٹہ نعمت اللہ ترین، متعلقہ آپریٹنگ کنسلٹنٹ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے افسران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران آپریٹنگ ایجنسی کی جانب سے کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو کوئٹہ گرین بس سروس کے مختلف امور، روٹس، بس اسٹاپس، آپریشنل نظام اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی سفری سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس وقت کوئٹہ شہر میں 25 گرین بسیں فعال ہیں، جن میں سے 4 بسیں خصوصی طور پر خوسد اتین کے لیے مختص کی گئی ہیں۔ خواتین کے لیے مختص بسوں پر خواتین اسٹاف بھی تعینات کر دیا گیا ہے، تاکہ خواتین مسافروں کو محفوظ اور بہتر سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔حکام نے بتایا کہ گرین بس سروس کوئٹہ شہر میں چار مختلف روٹس پر صبح 7 بجے سے رات 9 بجے تک چلائی جا رہی ہے۔ مختلف روٹس پر مسافروں کی سہولت کے لیے متعدد بس اسٹاپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔ بریفنگ کے مطابق کچلاک روٹ پر تقریباً 40 بس اسٹاپس جبکہ میٹروپولیٹن سے سریاب روڈ تک کے روٹ پر 50 بس اسٹاپس قائم کیے گئے ہیں۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ گرین بس سروس کا دائرہ کار کوئٹہ کے علاوہ تربت تک بھی بڑھایا گیا ہے، جہاں چار بسیں چلائی جا رہی ہیں۔اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ گرین بس اسٹاپس پر شہریوں کی سہولت کے لیے تمام ضروری بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بس سروس کو شہریوں کے لیے مزید آسان، قابلِ اعتماد اور موثر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے بھی استفادہ کیا جائے۔کمشنر نے ہدایت کی کہ مسافروں کے لیے موبائل ایپ، بسوں کی لائیو لوکیشن، روٹس اور آمد و روانگی کے اوقات سے متعلق معلومات کی فراہمی کا مو¿ثر نظام وضع کیا جائے، تاکہ شہری اپنے سفر کی بہتر منصوبہ بندی کر سکیں اور انہیں بس کے انتظار میں غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے آپریٹنگ فرم کے حکام کو ہدایت کی کہ بس روٹس، بس اسٹاپس، ٹکٹنگ و کرایہ داری کے نظام، بزنس ماڈل، منصوبے کے معاہدے اور آپریشن سے متعلق دیگر ضروری ریکارڈ آئندہ اجلاس میں مکمل طور پر پیش کیا جائے، تاکہ منصوبے کے مختلف پہلووں کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔کمشنر ذیشان لاشاری نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ گرین بس سروس میں شفافیت، موثر نگرانی اور شہریوں کو معیاری سفری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کوئٹہ نعمت اللہ ترین کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ کوئٹہ گرین بس سروس کے حوالے سے مانیٹرنگ، روٹس، بس اسٹاپس اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور اس سلسلے میں درپیش مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں سے موثر رابطہ رکھیں۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے کہاکہ کوئٹہ گرین بس سروس کو مزید بہتر بنانے کے لیے 17مزید الیکٹرانک بسیں جلد شامل ہونگےجوکہ کویٹہ کے دیگر فیڈر روٹس پر چلائی جائیں گی اس کے علاو¿ہ گرین بس سروس کو مزید منظم اور شہری دوست بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور تعاون سے اقدامات جاری رکھیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7842/2026
قلات 16ستمبر۔بلوچستان کی تاریخی شہر قلات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادرخان کے احکامات کی روشنی میں خواتین کے لیے خصوصی کھلی کچہری کا انعقادکیا گیا ۔ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے ھلی۔ کچہری سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ خواتین کے مسائل کے حل، ان کی شکایات کے ازالے اور انہیں باعزت طریقے سے اپنی آواز متعلقہ حکام تک پہنچانے کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا ہے۔خواتین معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ، فلاح و بہبود اور مسائل کا بروقت حل ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہےانہوں نے کہا کہ خواتین بلاجھجک اپنی شکایات اور مسائل پیش کریں، ضلعی انتظامیہ ان کے مسائل کے حل کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے گی۔ خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر مو¿ثر اقدامات کیے جائیں گے۔ڈپٹی کمشنر نے سائلین کو مخاطب کرتے ہوئے یقین دہانی کراء کہ خواتین کے مسائل کے حل کے لیے خصوصی کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، تاکہ خواتین کو اپنی شکایات کے اندراج اور ان کے ازالے کے لیے براہِ راست ضلعی انتظامیہ تک رسائی حاصل ہوکھلی کچہری میں خواتین نے بلاجھجک اپنی شکایات پیش کیں، جن میں دستکاری مرکز خیل کی ٹرینی طالبات کے گزشتہ دو سال سےوظائف کی بندش بیت المال کے تحت چلنے والے دستکاری مرکز کے لیے عمارت کی فراہمی، طالبات کو لیپ ٹاپ اور ہنرمند خواتین کو سلائی مشینوں کی فراہمی،، ستار نیچاری کے قاتلوں کی عدم گرفتاری، سرکاری ملازمتوں میں خواتین کے کوٹے میں اضافے، رحیم آباد کوئنگ میں پینے کے پانی کی فراہمی، قلات کِلی پندرانی کی واٹر سپلائی کے لیے انورٹر کی فراہمی، محلہ شیشہ ڈغار میں بارش کے سیلابی پانی سے پیدا ہونے والی مشکلات، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے باعث طلبہ و طالبات کے مطالعے میں خلل سمیت دیگر اہم مسائل بیان کئے ڈپٹی کمشنر عائشہ زہری نے خواتین کے مسائل اور شکایات غور سے سنیں اور بعض مسائل کے فوری حل کے لیے متعلقہ محکموں کو احکامات جاری کیے۔کھلی کچہری میں ایس پی قلات سید زاہد حسین شاہ، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (فیمیل) فرزانہ احمدزئی، گیاوان اینڈ کرافٹس بلوچستان کی سی ای او شازیہ اکبر زہری سمیت مختلف سرکاری محکموں کے سربراہان اور قلات و خالق آباد سے تعلق رکھنے والی کثیر تعداد میں خواتین نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7843/2026
کوئٹہ، 16 ستمبر 2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے آڑنجی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء اور ممتاز قبائلی شخصیت میر شفیق الرحمان مینگل کے مہمان خانے پر دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے حملے میں ایک پولیس اہلکار اور میر شفیق الرحمان مینگل کے چار ذاتی محافظوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گرد عناصر امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ریاست ان کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ بلوچستان میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر7844/2026
اورماڑہ16 ستمبر 2026: صوبائی حکومت بلوچستان کی عوام دوست پالیسی اور عوامی مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کی ہدایات کے تحت اورماڑہ میں میونسپل کمیٹی کے ھال میں خواتین کی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر اورماڑہ ڈاکٹر ماہ نور برکت نے کی کھلی کچہری میں علاقے کی خواتین نے تعلیم، پینے کے صاف پانی، صحت، صفائی ستھرائی، اسکولوں میں سہولیات، آئی ٹی اور ڈیجیٹل مواقع سمیت مختلف مسائل اور تجاویز پیش کیں۔ اس موقع پر متعلقہ افسران نے خواتین کے مسائل تفصیل سے سنے اور ان کے حل کے لیے ضروری اقدامات سے آگاہ کیا اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ محکموں کو عوامی مسائل کے بروقت ازالے اور شکایات پر مؤثر پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایات کی ۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ہدایت کے مطابق کھلی کچہریوں کا مقصد عوام، بالخصوص خواتین، کو براہِ راست انتظامیہ تک رسائی فراہم کرنا اور ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہے ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی تعلیم، صحت، صاف پانی، بہتر تعلیمی سہولیات اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ خواتین کی مؤثر شمولیت کے بغیر پائیدار ترقی کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا خواتین کی کھلی کچہری کو عوامی مسائل کے فوری ازالے، خواتین کو بااختیار بنانے اور حکومتی خدمات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے حوالے سے صوبائی حکومت کی عوام دوست پالیسی کا حصہ ھے
خبرنامہ نمبر7845/2026
چمن: اسسٹنٹ کمشنر چمن سٹی عزیز اللہ کاکڑ نے آج چمن شہر کے مختلف بازاروں کا دورہ کرتے ہوئے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں، معیار اور سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر انہوں نے جنرل اسٹورز، آٹا ڈیلرز اور دیگر اشیائے ضروریہ فروخت کرنے والی دکانوں کا معائنہ کیا اور دکانوں پر آویزاں سرکاری نرخناموں کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ خریداری کے لیے موجود شہریوں سے بھی اشیاء کی قیمتوں اور نرخنامے پر عملدرآمد کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔اسسٹنٹ کمشنر نے دکانداروں کو ہدایت کی کہ اشیائے ضروریہ کی خرید و فروخت سرکاری نرخنامے کے مطابق یقینی بنائی جائے اور صارفین کو مقررہ نرخوں پر معیاری اشیاء فراہم کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف کی فراہمی، اشیائے ضروریہ کی مناسب قیمتوں اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ کسی بھی دکاندار کو من مانی قیمتیں مقرر کرنے یا سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ زائد المیعاد، غیر معیاری اور مضرِ صحت اشیاء کی خرید و فروخت کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ عوامی مفاد کے تحفظ اور مارکیٹ میں قیمتوں و معیار کی نگرانی کا سلسلہ باقاعدگی سے جاری رکھا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر7846/026
کوئٹہ 16ستمبر۔وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر (صدر)کوئٹہ محمد یوسف ہاشمی نے ایس پی ٹریفک کے ہمراہ مین نواں کلی روڈ پر تجاوزات کے خلاف کارروائی کی۔کارروائی کے دوران سڑک پر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بننے والے ریڑھی بانوں اور دیگر عارضی تجاوزات کو ہٹا دیا گیا، جبکہ سڑک کے متاثرہ حصوں کو کلیئر کر کے عوام اور ٹریفک کی آمدورفت بحال کر دی گئی۔تجاوزات اور انتظامی قوانین کی خلاف ورزی پر 10 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ عوامی شاہراہوں اور سڑکوں پر تجاوزات کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی، جبکہ سڑکوں کو عوام کے لیے قابلِ رسائی اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔
خبرنامہ نمبر7847/026
سیوی 16 ستمبر2026:
کمشنر سیوی ڈویژن اسداللہ فیض کی زیرِ صدارت (سی آر سی) کمپلینٹ ریڈریسل کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ تعلیم فیز فور کے تحت حالیہ اساتذہ کی تعیناتیوں سے متعلق امیدواروں کی جانب سے دائر کردہ اعتراضات اور شکایات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈویژنل ڈائریکٹر تعلیم بلال خان بڑیچ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیوی عبد الستار لانگو سمیت محکمہ تعلیم اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بالخصوص خواتین امیدواروں کی جانب سے پیش کیے گئے اعتراضات اور شکایات کو سنا گیا اور ان کے حوالے سے دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر کمشنر سیوی ڈویژن اسداللہ فیض نے واضح کیا کہ کسی بھی امیدوار کی حق تلفی نہیں ہونے دی جائے گی اور میرٹ و شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھرتیوں کے عمل میں سامنے آنے والے ہر اعتراض کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے گا۔کمشنر نے جعلی ڈگریوں سے متعلق سامنے آنے والے اعتراضات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ان معاملات کی بھرپور تحقیقات کی جائیں گی۔ انہوں نے ایس ایس پی کو ہدایات جاری کیں کہ جن امیدواروں کی ڈگریوں پر اعتراضات سامنے آئے ہیں، ان کی ڈگریوں کی مکمل جانچ پڑتال اور متعلقہ اداروں سے تصدیق کرائی جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ اگر کسی امیدوار کی ڈگری جعلی ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ فرد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ کمشنر اسداللہ فیض نے کہا کہ شکایات اور اعتراضات کے ازالے کا مقصد بھرتیوں کے عمل کو شفاف بنانا اور حقدار امیدواروں کو ان کا حق دلانا ہے، اس ضمن میں تمام معاملات کو میرٹ، قانون اور دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر نمٹایا جائے گا۔ واضح رہے کہ سی آر سی کمپلینٹ ریڈریسل کمیٹی کے اجلاس میں آج خواتین امیدواروں کی جانب سے دائر کیے گئے اعتراضات اور شکایات سنی گئیں اور ان کا جائزہ لیا گیا، جبکہ مرد امیدواروں کے اعتراضات اور شکایات کی سماعت اور جائزہ آج بروز جمعرات کیا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 7848/026
رکنی: ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن سکولز کوہِ سلیمان ڈویژن عبدالواسع کاکڑ نے گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری سکول رکنی کا اچانک دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ابہادر شاہ ور ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر طارق محمود کھیتران بھی ان کے ہمراہ تھے۔ڈویژنل ڈائریکٹر نے سکول کے مختلف شعبہ جات، کلاس رومز، عمارت اور دیگر سہولیات کا تفصیلی معائنہ کیا جبکہ کلسٹر سامان کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے سکول میں جاری تعلیمی سرگرمیوں اور انتظامی امور کا مشاہدہ کرتے ہوئے سکول کی مجموعی کارکردگی کو سراہا۔اس موقع پر ہیڈماسٹر حاجی محمد صدیق کھیتران نے ڈویژنل ڈائریکٹر کو سکول کو درپیش مسائل اور تعلیمی امور سے متعلق مختلف معاملات سے آگاہ کیا۔ڈویژنل ڈائریکٹر عبدالواسع کاکڑ نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنی حاضری یقینی بنائیں اور طلبہ کی تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی معیار میں بہتری، اساتذہ کی ذمہ داری اور طلبہ کی بہتر تعلیم محکمہ تعلیم کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے سکول کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انتظامیہ اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اسی جذبے کے ساتھ تعلیمی سرگرمیوں کو مزید بہتر بنائیں تاکہ طلبہ کو معیاری تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر7849/026
گوادر16 ستمبر 2026: ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر کالجز مکران ڈویژن پروفیسر برکت اسماعیل نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج گوادر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے تعلیمی سرگرمیوں، تدریسی عمل، طالبات کی حاضری اور کالج میں دستیاب تعلیمی و بنیادی سہولیات کا جائزہ لیا انہوں نے فرسٹ ایئر کی کلاس کا معائنہ کیا اور طالبات سے مختلف موضوعات پر سوال و جواب کیے۔ انہوں نے طالبات کی علمی صلاحیتوں اور کلاس روم میں فعال شرکت کو سراہتے ہوئے زور دیا کہ وہ اپنی تعلیمی استعداد کو بروئے کار لاتے ہوئے محنت، تحقیق اور عملی سیکھنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ انہوں نے کہا کہ دورانِ تعلیم سوال کرنا سیکھنے کے عمل کا اہم حصہ ہے، کیونکہ سوالات طالبات میں تحقیق، جستجو اور تنقیدی سوچ کو فروغ دیتے ہیں۔
بعد ازاں یونیورسٹی آف گوادر کی الحاق کمیٹی کا اجلاس گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج گوادر میں منعقد ہوا، جس میں ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر کالجز مکران ڈویژن پروفیسر برکت اسماعیل، رجسٹرار یونیورسٹی آف گوادر دولت خان، میڈم رابعہ اسلم، پروفیسر رحیم مہر اور دیگر متعلقہ افسران و اساتذہ نے شرکت کی۔ کالج کی پرنسپل پروفیسر سبین بلوچ بھی اجلاس میں موجود تھیں اجلاس میں گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج گوادر کے یونیورسٹی آف گوادر سے الحاق سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا اور کالج کی تعلیمی، انتظامی و بنیادی سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی الحاق کمیٹی کے اراکین نے کالج کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرتے ہوئے سائنس و کمپیوٹر لیبارٹریز، لائبریری، کلاس رومز اور زیرِ تعمیر عمارت کا جائزہ لیا۔ کمیٹی نے دستیاب تعلیمی سہولیات اور ادارے میں جاری تعلیمی سرگرمیوں کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے طالبات کے لیے معیاری اعلیٰ تعلیم کے مواقع کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
پروفیسر برکت اسماعیل نے کالج کی انتظامیہ اور تدریسی عملے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ طالبات کو معیاری تعلیم، جدید علمی تقاضوں اور عملی مہارتوں سے آراستہ کرنا تعلیمی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی معیار میں بہتری کے ساتھ طالبات میں تحقیق، تخلیقی صلاحیت، سوال کرنے کی عادت اور عملی علم کو فروغ دے کر انہیں مستقبل کے چیلنجز کے لیے بہتر طور پر تیار کیا جاسکتا ہے
خبرنامہ نمبر 7850/026
گوادر، 16 ستمبر 2026
رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن نے ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد اور پی اے ٹو ایم پی اے وسیم صمد بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران گوادر میں جاری اور مکمل کیے جانے والے مختلف ترقیاتی منصوبوں، بالخصوص اولڈ ٹاؤن میں جاری بحالی و ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر اولڈ ٹاؤن بحالی منصوبے کے تحت مکمل کیے گئے بعض اہم منصوبوں کا باقاعدہ افتتاح کل بروز جمعرات کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جن میں تعلیمی ادارے اور کھیلوں کے میدان بھی شامل ہیں۔ملاقات میں شہر میں پانی کی فراہمی کی موجودہ صورتحال اور دیگر اہم شہری و ترقیاتی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے جاری ترقیاتی منصوبوں اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے ایم پی اے گوادر کو آگاہ کیا۔
خبرنامہ نمبر7851/026
کوئٹہ16 ستمبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے وزیراعظم پاکستان پروگرام کے تحت بلا سود قرضے دینے خواتین کاروباری شخصیات کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے اور مضبوط ادارہ جاتی معاونت فراہم کرنے سے خواتین میں معاشی خودانحصاری کو فروغ مل رہا ہے۔ جس خاندان میں پڑھی لکھی اور ںاروزگار خاتون پیدا ہوتی ہے اس سے پورے خاندان کی ترتیب بدل جاتی ہے۔ ضروری ہے پی پی اے ایف کے سربراہ نادر گل نادر گل بڑیچ اور بی آر ایس پی کے سربراہ ڈاکٹر طاہر رشید اپنی سرگرمیوں کو دیہاتی علاقوں تک وسعت فراہم کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں گورنر ہاؤس کوئٹہ”خواتین کاروباری شخصیات کیلئے پائیدار ایکو سسٹم” کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کبھی، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گولہ، رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر سمیعہ راحیل قاضی، ایڈوائزر ٹو چیف منسٹر ربابہ بلیدی، سابقہ سینٹر روشن خورشید بروچہ، پاکستان پاورٹی ایلیوشن فنڈز کے سربراہ نادرگل بڑیچ، پارلیمانی سیکرٹری محمد خان لہڑی، رکن صوبائی اسمبلی کلثوم نیاز، بی آر ایس پی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر طاہر رشید، محترمہ قرتالعین اور سی پی ڈی کے سربراہ نصراللہ بڑیچ سمیت خواتین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ پی پی اے ایف کے زیر اہتمام ایک روزہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ واضح رہے کہ سیمینار میں اعلیٰ سرکاری حکام، ترقیاتی شراکت داروں، مالیاتی اداروں، تعلیمی شعبے، سول سوسائٹی، نجی شعبے، میڈیا اور خواتین کاروباری شخصیات بھی شریک تھیں۔ انہوں نے خواتین کیلئے تعلیم، ہنرمندی، مالی معاونت، ٹیکنالوجی، مارکیٹ تک رسائی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی معاشی خودمختاری خاندانوں کو مضبوط، معاشروں کو زیادہ مستحکم اور مجموعی معاشی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا خواتین، خصوصاً دیہی اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو درپیش رکاوٹوں کا ازالہ ضروری ہے۔ خواتین کو مناسب پلیٹ فارمز، وسائل اور ادارہ جاتی معاونت فراہم کرنا اسلئے ضروری ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں اور کاروباری استعداد کو پائیدار روزگار کے ذرائع میں تبدیل کر سکیں۔ انہوں نے پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (PPAF) کی بلاسود قرضوں کی فراہمی میں کاوشوں** کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات محض مالی معاونت تک محدود نہیں بلکہ خواتین کو روزگار فراہم کرنے والی اور معاشی طور پر خودمختار بنانے میں بھی معاون ہیں۔ انہوں نے خواتین کی تعلیم کے مواقع کو مزید وسعت دینے اور خواتین کیلئے پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں پروفیشنل ٹریننگ اور کوئٹہ میں اسلامیہ خواتین یونیورسٹی کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کیلئے میں امریکہ سے پاکستانی سرمایہ کاروں اور مخیر حضرات کو لاوں گا۔ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے پاکستان کے ثقافتی ورثے، روایتی فنون، دستکاری اور تخلیقی معیشت میں خواتین کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے خواتین کی مہارتوں اور خدمات کو تسلیم کرنے اور انہیں ثقافتی و روایتی علم کو پائیدار معاشی سرگرمیوں میں تبدیل کرنے کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وفاقی وزیر نے پاکستان کے متنوع ثقافتی ورثے کے تحفظ اور ملک کے سماجی و معاشی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں خواتین کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ سیمینار کے دوران پی پی اے ایف کے بااختیار پروجیکٹ کے تحت ٹریننگ مکمل کرنے والی خواتین میں اسناد، بلاسود قرضوں کے چیکس اور دخترانِ پاکستان ایکسیلنس ایوارڈز بھی تقسیم کیے گئے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7852
کوئٹہ 16 ستمبر: ـتحقیقاتی کمیشن کے ایک اعلامیہ کے مطابق مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن، ضلع زیارت میں پیش آنے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ تحقیقاتی کمیشن کے جناب جسٹس محمد عامر نواز رانا نے آج مورخہ 16 ستمبر 2026 کو کھلی عدالت میں تحقیقاتی کمیشن کی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے سماعت کی۔سماعت کے دوران علاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد پیش ہوئی، جن میں سے گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔علاوہ ازیں، تحقیقاتی کمیشن کے استفسار پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے کمیشن کو صوبہ بھر میں مدارس کو باقاعدہ رجسٹر کرنے کے سلسلے میں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے اب تک اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں مختصر تفصیلات سے آگاہ کیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ یہ اقدامات ’’بلوچستان چیریٹیز رجسٹریشن اینڈ ریگولیشن اتھارٹی‘‘ کے ذریعے کیے جا رہے ہیں، جو محکمہ داخلہ کے ماتحت کام کر رہی ہے۔ان کے مطابق بلوچستان میں تقریباً 3,000 مدارس موجود ہیں، جن میں سے 2,100 کی رجسٹریشن کا عمل اتھارٹی کی جانب سے مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ مزید مدارس کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔اس ضمن میں، غیر قانونی حیثیت اور تقاضے پورے نہ ہونے کی بنا پر 300 مدارس کو سیل بھی کیا گیا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کے لیے مزید وقت طلب کیا، جسے کمیشن نے اگلی سماعت تک پیش کرنے کی ہدایت جاری کی۔
خبر نامہ نمبر 2026/7852Recast
کوئٹہ 16 ستمبر: ـتحقیقاتی کمیشن کے ایک اعلامیہ کے مطابق مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن، ضلع زیارت میں پیش آنے والے دہشت گردی کے حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ تحقیقاتی کمیشن کے جناب جسٹس محمد عامر نواز رانا نے آج مورخہ 16 ستمبر 2026 کو کھلی عدالت میں تحقیقاتی کمیشن کی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے سماعت کی۔سماعت کے دوران علاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد پیش ہوئی، جن میں سے گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔علاوہ ازیں، تحقیقاتی کمیشن کے استفسار پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے کمیشن کو صوبہ بھر میں مدارس کو باقاعدہ رجسٹر کرنے کے سلسلے میں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے اب تک اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں مختصر تفصیلات سے آگاہ کیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ یہ اقدامات ’’بلوچستان چیریٹیز رجسٹریشن اینڈ ریگولیشن اتھارٹی‘‘ کے ذریعے کیے جا رہے ہیں، جو محکمہ داخلہ کے ماتحت کام کر رہی ہے۔ان کے مطابق بلوچستان میں تقریباً 3,000 مدارس موجود ہیں، جن میں سے 2,100 کی رجسٹریشن کا عمل اتھارٹی کی جانب سے مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ مزید مدارس کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔اس ضمن میں، غیر قانونی حیثیت اور تقاضے پورے نہ ہونے کی بنا پر 300 مدارس کو سیل بھی کیا گیا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کے لیے مزید وقت طلب کیا، جسے کمیشن نے اگلی سماعت تک پیش کرنے کی ہدایت جاری کی۔
خبرنامہ نمبر7853/026
کوئٹہ، 16 ستمبر 2016
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے بی این پی مینگل کے ترجمان کے اس بیان کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کو سردار اختر مینگل فوبیا ہوگیا ہے۔شاہد رند نے اپنے سخت ردعمل میں کہا کہ ترجمان بی این پی اور پارٹی سیکریٹری اطلاعات کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ چیف منسٹر بلوچستان کو کوئی بی این پی فوبیا نہیں ہے، البتہ اپنی ہر تقریر میں یاد کرنے کا ٹھیکہ سردار اختر مینگل نے لیا ہوا ہے۔ اس سے عوام اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کسے فوبیا ہوا ہے اور کون سیاسی فرسٹریشن کا شکار ہے۔ سرفراز بگٹی نے گزشتہ ڈھائی سالوں میں، جب تک بی این پی مینگل کی جانب سے ان پر بیانات جاری نہیں ہوئے، انہوں نے بی این پی مینگل یا نام نہاد قوم پرست سردار کے خلاف اپنی طرف سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ البتہ یہ سرفراز بگٹی کا واضح موقف ہے کہ جب بھی کوئی اپنی سرداری سے مرعوب کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے اس کی زبان میں جواب دیا جائے گا۔ چند روز قبل بھی جو مغلظات استعمال کی گئیں، جو گھٹیا گفتگو ایک نام نہاد سردار و قوم پرست کی جانب سے کی گئی، ان کی زبان میں اس کا جواب دیا جاسکتا تھا، تاہم ان کے اور ہمارے ظرف میں یہ فرق ہے کہ اس کا جواب بھی ہم نے سیاسی انداز میں دیا۔اور جس مقبولیت کا دعویٰ بی این پی کے ترجمان اپنے نام نہاد سردار اور قوم پرست رہنماء کے لیے کررہے ہیں، ان کی مقبولیت کا پیمانہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صوبے بھر کی مقبولیت کا دعویٰ کرنے والی جماعت خضدار قومی اسمبلی کی نشست جمعیت علماء اسلام کی حمایت کے بغیر نہیں جیت سکتی۔ 2013 میں جب جمعیت علمائے اسلام نے نیشنل پارٹی سے اتحاد کیا تو موصوف کی جماعت قومی اسمبلی کی نشست نہیں جیت سکی۔ جب 2018 میں جمعیت علمائے اسلام نے بلوچستان نیشنل پارٹی سے اتحاد کیا، تب جاکر انہیں قومی اسمبلی کی نشست مل سکی۔ 2018 میں جہاں وفاق میں تحریک انصاف فیض یاب ہوئی، وہاں بلوچستان میں فیضیاب ہونے والی جماعت موصوف نام نہاد قوم پرست سردار کی تھی۔ 2018 سے پہلے کون سے ایسے الیکشن تھے جس میں اس جماعت کو اتنا بھاری مینڈیٹ فیضیاب ہوئے بغیر ملا ہو؟ اس کے بعد وہ خود اندازہ لگائیں کہ وہ صوبے میں کتنی مقبول جماعت ہیں، اور مقبولیت کا دعویٰ کرنے والی اس جماعت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ 2018 میں جب تحریک انصاف بینیفشری تھی تو صوبے میں بلوچستان نیشنل پارٹی تھی۔ اس سے پہلے یا بعد میں اسے کبھی اتنی نشستیں اگر اس جماعت کے حصے میں آئی ہیں تو الیکشن کمیشن کا ریکارڈ چیک کرلیں، وہ ترجمان بی این پی کا منہ چڑانے کے لیے کافی ہیں۔لاپتہ افراد کے حوالے سے جنرل ریٹائرڈ باوجودہ کو ووٹ دے کر کریڈٹ سمیٹنے اور گناہ چھپانے کی کوشش کرنے والی جماعت، جام کمال خان حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو گناہ اور ثواب کا کھیل بنانے والی جماعت، یہ بتائے کہ جن پانچ سو افراد کو چھڑایا تھا، وہ پانچ سو افراد اس وقت کدھر ہیں؟ کیا وہ اپنے اپنے گھروں میں ہیں یا واپس انہی دہشت گردوں کے کیمپوں میں چلے گئے ہیں جہاں سے انہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے گرفتار کرکے لائے تھے؟ شاہد رند نے کہا کہ ان سوالات کے جوابات آج کے انقلابی نام نہاد قوم پرست سردار کے پاس ہیں تو عوام کو بتائیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/7854
کوئٹہ 16ستمبر:۔وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گرانفروشوں اور سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔کارروائیوں کے دوران کم وزن روٹی فروخت کرنے والے تندوروں، قصابوں اور ملک شاپس کا معائنہ کیا گیا، جبکہ مقررہ نرخوں اور وزن کی خلاف ورزی پر 24 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کر دیا گیا۔ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں نے سیٹلائٹ ٹاؤن، بھوسہ منڈی، غوث آباد، کاسی روڈ، سرکی روڈ، طوغی روڈ اور دیگر علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے مختلف دکانوں اور کاروباری مراکز کا معائنہ کیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے واضح کیا کہ شہریوں کو مقررہ نرخوں پر معیاری اشیائے خورونوش کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے گرانفروشی، کم وزن اور سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/7855
لسبیلہ16ستمبر:ـ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سراج احمد بلوچ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ضلع بھر کے سرکاری اسپتالوں، بنیادی مراکز صحت اور دیہی ہیلتھ سینٹرز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صحت کے شعبے کو درپیش مسائل، ادویات کی دستیابی، عملے کی حاضری اور صفائی کی صورتحال پر غور کیا گیا۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرنے ہدایت دی کہ اسپتالوں میں مریضوں کو تمام بنیادی سہولیات بروقت فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ادویات کی عدم دستیابی اور عملے کی غیر حاضری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس صحت کی سہولیات کی فراہمی کے اقدامات کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر اوتھل ڈاکٹر میرمن کاکڑ،اسسٹنٹ کمشنر کنراج کشش چوہدری،ڈسٹرکٹ خزانہ آفیسر کامران یونس ،ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرلسبیلہ ڈاکٹر قمر رونجھو،ایم ایس DHQ ہسپتال اوتھل ڈاکٹر اویس واجد،ایم ایس سول ہسپتال بیلہ ڈاکٹر عبدالحکیم،ڈرگ انسپکٹر عید محمد بلوچ، ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر ڈاکٹر شاہینہ قاضی،M&EآفیسرPPHI عمران ستار کھوسہ،سمیت سپرینٹنڈینٹ ڈی سی آفس سلیم اللہ رونجھواور سپرینٹڈینٹ ہیلتھ آفس حضور بخش کھوسہ نے شرکت کی۔
خبر نامہ نمبر 2026/7856
گوادر 16 ستمبر :ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن گوادر و میر عبدالغفور کلمتی ویلفیئر فاؤنڈیشن کے چیئرمین میر ارشد کلمتی نے ینگ جان والی بال و فٹسال گراؤنڈ گوادر کی تکمیل پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گراؤنڈ گوادر کے نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے بہتر مواقع کی فراہمی کی جانب اہم قدم ہے انہوں نے کہا کہ ینگ جان والی بال و فٹسال گراؤنڈ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں پہلی مرتبہ میر انٹر ایجوکیشنل اسپورٹس فیسٹیول کا انعقاد ہوا، جس میں بوائز کے ساتھ گرلز یونٹ کے مقابلے بھی منعقد کیے گئے۔ محکمہ تعلیم اور ادارہ ترقیات گوادر کے اشتراک سے منعقدہ فیسٹیول نے نوجوانوں اور طالبات کو صحت مند سرگرمیوں اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا میر ارشد کلمتی نے کہا کہ کھیل نوجوانوں میں صحت، نظم و ضبط، ٹیم ورک اور مثبت سوچ کو فروغ دیتے ہیں، جبکہ ینگ جان گراؤنڈ گوادر کے مقامی کھیلوں کے ٹیلنٹ کو سامنے لانے میں اہم کردار ادا کرے گاانہوں نے کہا کہ گوادر کے نوجوان باصلاحیت ہیں، انہیں صرف مواقع اور بہتر سہولیات کی ضرورت ہے۔ ینگ جان گراؤنڈ اسی مقصد کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے، جس پر وہ وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے شکر گزار ہیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/7857
چمن16ستمبر: ڈی ایچ او آفس چمن میں 21 ستمبر سے شروع ہونے والی خصوصی انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے عمائدینِ شہر کے لیے آگاہی پروگرام منعقد ہوا۔ پروگرام میں ڈی ایچ او ڈاکٹر اویس، ڈاکٹر اسد صافی، ضلعی پولیو افسر محمد اشرف اچکزئی، قبائلی رہنما ملک عبدالخالق اچکزئی اور ڈاکٹر نادر اچکزئی نے شرکت کی اور شرکاء کو مہم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی مقررین نے عمائدین پر زور دیا کہ وہ پولیو سے بچاؤ کے قطروں کی اہمیت کے حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کریں اور والدین کو پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلانے کی ترغیب دیں۔ حکام کے مطابق خصوصی مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے جائیں گے۔اس موقع پر عمائدینِ شہر نے خصوصی پولیو مہم کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون اور عوامی آگاہی میں اپنا کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/7858
چمن16ستمبر:ـوزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ عبدالخالق اچکزئی کی ہدایات پر چمن شہر کو صاف، سرسبز اور خوبصورت بنانے کے لیے 10 روزہ خصوصی صفائی، تزئین و آرائش اور شجرکاری مہم بھرپور انداز میں جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ، میونسپل کارپوریشن اور لوکل گورنمنٹ باہمی تعاون سے شہر کی صفائی و خوبصورتی کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں۔ شہریوں سے اپیل ہے کہ صفائی کا خیال رکھتے ہوئے کچرا مقررہ مقامات پر ڈالیں اور صاف، سرسبز و خوبصورت چمن کے لیے انتظامیہ کا بھرپور ساتھ دیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/7859
ضلع چمن16ستمبر:ـچمن شہر کو صاف، خوبصورت اور سرسبز بنانے کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ عبدالخالق اچکزئی کی ہدایات پر چمن میں 10 روزہ خصوصی صفائی، تزئین و آرائش اور شجرکاری مہم بھرپور انداز میں جاری ہے۔
مہم کے دوران شہر کے مختلف علاقوں، سڑکوں، گلیوں اور میدانوں سے کچرے کے ڈھیروں کو ہٹایا جا رہا ہے، جبکہ شہر کی خوبصورتی اور ماحول کو بہتر بنانے کے لیے مختلف مقامات پر شجرکاری بھی کی جا رہی ہے۔خصوصی مہم میں ضلعی انتظامیہ چمن، میونسپل کارپوریشن چمن اور لوکل گورنمنٹ و ڈسٹرکٹ کونسل باہمی تعاون سے صفائی، تزئین و آرائش اور شجرکاری کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں۔مہم کا بنیادی مقصد صاف چمن، سرسبز چمن اور خوبصورت چمن کے تصور کو عملی شکل دینا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ شہریوں کا تعاون بھی نہایت اہم ہے۔آئیں، مل کر چمن کو صاف، سرسبز اور خوبصورت بنائیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/7860
خضدار 16 ستمبر:شہر میں جاری بجلی کی لوڈشیڈنگ اور عوامی شکایات کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی زیر صدارت ایک اہمللل مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی خضدار اور کیسکو حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد بجلی کے اوقات کار کو بہتر بنانا، لوڈشیڈنگ میں کمی لانا اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا تھا. اجلاس میں کیسکو خضدار کے ایگزیکٹو انجینئر عبدالقیوم بنگلزئی، ایس ڈی او کیسکو عبدالرئوف سومرو جبکہ آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی خضدار کے چیئرمین بشیر احمد جتک، عبدالحمید بلوچ، مولانا محمد اسحاق شاہوانی، حافظ حمیداللہ مینگل، میر اشرف علی مینگل، جمعہ خان شکرانی، سمیت دیگر ممبران نے شرکت کی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر وڈھ اکبر علی مزارزئی اور سپرنٹنڈنٹ مراد گزوزئی بھی موجود تھے۔اجلاس میں شہر اور گرد و نواح میں بجلی کی لوڈشیڈنگ، کے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے نمائندوں نے موقف اختیار کیا کہ خضدار جیسے بڑے اور گرم ترین شہر میں لوڈشیڈنگ سے کاروباری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، طلبہ کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے اور عام شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجلی عوام کی بنیادی ضرورت ہے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے حکم کے مطابق ہر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں صرف دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی تو مجھے امید ہے ان کی ہدایت پر عمل درامد ہوگا اور ضلعی انتظامیہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ انہوں نے کیسکو حکام کو ہدایت کی کہ وہ بجلی کے اوقات کار کو عوام دوست بنائیں اور غیر ضروری لوڈشیڈنگ میں کمی لائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔کیسکو کے ایگزیکٹو انجینئر عبدالقیوم بنگلزئی نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ خضدار میں بجلی کی فراہمی میں بہتری کے لیے کیسکو ہر ممکن تعاون کرے گا۔ کیسکو کو لائن لاسز اور بروقت بلوں کی ادائیگی سے ہی کیسکو مکمل بجلی کی فراہمی کو ممکن بناسکے گا اس سلسلے میں صارفین تعاون کریں جس کے بعد کیسکو خضدار بجلی کی بلا تعطل فراہمی اور لوڈشیڈنگ میں کمی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔ دوسری جانب آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ کیسکو کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔
اجلاس میں ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے امید ظاہر کی کہ خضدار کے غریب عوام کو غیر طریقے سے بجلی کے بل بھیجے جائیں گے تو وہ کہاں سے پوری کریں گے تو واپڈا انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ بھی عوام سے تعاون کریں اور گھر گھرجا کے اپنے میٹرریڈریس کے حساب سے ان کے میٹر چیک کر لیا کریں جتنے یونٹس ہیں اتنے یونٹس کے حساب سے ان کے لیے بلز بھجوا دیا کریں اس مشترکہ تعاون سے خضدار میں بجلی کا دیرینہ مسئلہ حل ہونے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام، ضلعی انتظامیہ اور کیسکو جب ایک پیج پر ہوں گے تو نہ صرف بجلی چوری میں کمی آئے گی بلکہ ریکوری میں بھی اضافہ ہوگا جس کا براہ راست فائدہ خضدار کے شہریوں کو پہنچے گا۔






