خبر نامہ نمبر7557/2026
2026گواد10ستمبر۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے تعلیمی شعبے میں اصلاحات، تعلیمی اداروں کی بہتری اور طلبہ کو معیاری و سازگار تعلیمی ماحول کی فراہمی کے وڑن کے تحت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) زرا تون بلوچ نے مختلف سرکاری گرلز اسکولوں کا دورہ کیا اور تدریسی سرگرمیوں، بنیادی سہولیات اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول کوہماڈی وارڈ میں کلاس رومز کی کمی کا جائزہ لیا گیا، جہاں محدود جگہ کے باعث ایک سے زائد جماعتوں کی طالبات کو ایک ہی کمرے میں بٹھا کر تدریسی عمل جاری رکھا جا رہا ہے۔ اسکول میں نان ٹیچنگ اسٹاف کی عدم دستیابی کے مسئلے کی بھی نشاندہی کی گئی، جبکہ انتظامی امور کو موثر بنانے کے لیے معاون عملے کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول سنیٹر اسحاق وارڈ میں اساتذہ تدریسی سرگرمیوں میں مصروف پائے گئے۔ تاہم مڈل سیکشن کی طالبات کو نصابی کتب کی عدم دستیابی کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کی توجہ مبذول کراتے ہوئے نصابی کتب کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ طالبات کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔اسی طرح گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول گھٹی ڈور میں کلاس رومز کی کمی کے باعث طالبات کو اسکول کے باہر کھلے ماحول میں تعلیم حاصل کرنے کی مشکلات کا جائزہ لیا گیا۔ نئی کلاس رومز کی تعمیر تک طالبات کے لیے عارضی شیڈ یا متبادل تعلیمی جگہ کی فراہمی کو فوری ضرورت قرار دیا گیا۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) نے اسکول انتظامیہ کو ہدایت کی کہ دستیاب وسائل کو موثر انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے تعلیمی سرگرمیوں میں تسلسل برقرار رکھا جائے، جبکہ درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر متعلقہ حکام کے سامنے پیش کیا جائے۔حکومت بلوچستان کی جانب سے تعلیمی اداروں کی مسلسل مانیٹرنگ، بنیادی سہولیات کی فراہمی، اساتذہ و عملے کی دستیابی، نصابی کتب کی بروقت فراہمی اور اسکول انفراسٹرکچر میں بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ صوبائی حکومت کی تعلیمی پالیسی کا بنیادی مقصد ہر بچے، بالخصوص دور دراز علاقوں کی طالبات، کو محفوظ، باوقار اور معیاری تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق تعلیمی شعبے میں اصلاحات کا عمل نچلی سطح تک جاری رکھتے ہوئے اسکولوں میں موجود مسائل کی نشاندہی، موثر مانیٹرنگ اور قابلِ عمل حل کے ذریعے تعلیمی نظام کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7558/2026
کوئٹہ10 ستمبر ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مستونگ میں مبینہ تیزاب گردی کے واقعے میں متاثر ہونے والی خاتون بی بی لائبہ زوجہ کلیم اللہ کے علاج معالجے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر متاثرہ خاتون کو مزید اور بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے حکومتی اخراجات پر آغا خان اسپتال کراچی میں علاج کرانے کے حوالے سے مراسلہ جاری کردیا گیا ہے معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے بتایا ہے کہ متاثرہ خاتون کو علاج معالجے کی بہترین ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں گی اور حکومت اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات یقینی بنائے گی انہوں نے کہا کہ مستونگ کے علاقے کلی ببری میں پیش آنے والے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ پولیس کی جانب سے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ متاثرہ خاتون کو طبی امداد کے ساتھ مکمل قانونی معاونت بھی فراہم کی جائے گی شاہد رند نے کہا کہ خواتین پر تشدد اور تیزاب گردی جیسے واقعات کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ایسے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاتون کے علاج معالجے اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے اپنا کردار ادا کریں گے جبکہ واقعے کی تحقیقات قانون کے مطابق آگے بڑھائی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7559/2026
کوئٹہ 10 ستمبر۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کسی نوجوان کی نوکری فروخت نہیں ہونے دی جائے گی، نوکریوں کی خرید و فروخت کے مصدقہ شواہد سامنے آئے تو کوئی وزیر بچے گا نہ کوئی سیکرٹری، جبکہ ملوث عناصر کے خلاف غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کے مستقبل اور ان کے حق روزگار پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے یہ بات سیکرٹریز کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی جس میں صوبائی محکموں کی کارکردگی، سالانہ ترقیاتی پروگرام کی فزیکل و فنانشل پیش رفت، بھرتیوں کے عمل اور مختلف انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا اجلاس میں صوبائی وزیر ترقیات و منصوبہ بندی میر ظہور احمد بلیدی، وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی ، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان سمیت تمام محکموں کے انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی ، اجلاس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے محکمہ جنگلات میں بھرتیوں کے حوالے سے موصول ہونے والی بے ضابطگیوں کی شکایات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا انہوں نے کہا کہ اگر مصدقہ شواہد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے نتیجے میں کسی فرد کا جرم ثابت ہوا تو ملوث کردار کسی صورت سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ انہوں نے روز اول ہی واضح کردیا تھا کہ بلوچستان میں کوئی نوکری نہیں بکے گی اور اس اصولی موقف پر صوبائی کابینہ کے اراکین، چیف سیکرٹری بلوچستان اور پوری حکومتی مشینری ایک پیج پر ہے انہوں نے کہا کہ نوکریوں کی خرید و فروخت روکنے کے لیے ہر طرح کا دباو¿ برداشت کریں گے تاہم بلوچستان کے نوجوانوں کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی امور میں بحیثیت چیف منسٹر انہوں نے کبھی کسی ذاتی مداخلت کو برداشت نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی بھی کبھی آپ کو سیکرٹریٹ میں کسی سرکاری یا نجی کام کے لیے نظر نہیں آئیں گے، چیف منسٹر سیکرٹریٹ سے کسی بھی خلاف قانون کام کے لئے کسی افسر کو اپروچ نہیں کی جاتی اور اگر کسی سیکرٹری کو فون یا اپروچ کی گئی ہے تو وہ برملا طور پر بلا خوف و خطر اس بااختیار فورم پر اظہار کرسکتا ہے اتنی انتظامی بااختیاری کے باوجود اگر کوئی سقم موجود ہو تو گورننس پر سوالات اٹھتے ہیں انہوں نے واضح کیا کہ حکومت میں میرٹ، شفافیت اور قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور کسی بھی فرد کو ذاتی تعلق یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر سرکاری امور پر اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ افسران پر انہیں مکمل اعتماد ہے، وہ باصلاحیت ہیں اور بلوچستان کو درست سمت میں لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ سیکرٹریز کی سطح پر نوکریوں کی خرید و فروخت کا الزام ناقابلِ فہم اور کسی اعلیٰ انتظامی عہدے کے شایانِ شان نہیں۔ ہمیں سیکرٹریز کی نیت اور مثبت کردار پر کوئی شک نہیں تاہم ماتحت اہلکاروں اور ریکروٹمنٹ کمیٹیوں کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے بلوچستان کے عوام اور پارلیمانی فورم پر کی گئی کمٹمنٹ اور ہمارے پختہ عزم کے تناظر میں کسی بھی سطح پر کوئی بے ضابطگی قطعی قابل برداشت نہیں، ہمیں سیکرٹریز کا احترام و عزت عزیز ہے اور سیکرٹریز کو بھی حکومتی پالیسیوں اور احکامات پر عمل کرتے ہوئے تکریم کرنی ہوگی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان سردی میں ٹھٹھرتے اور گرمی میں جھلستے ہوئے تعلیم اور محنت کے بعد روزگار کے حصول کے منتظر رہتے ہیں، ان کی نوکری فروخت ہونے دینا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ حکومتی احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے روز مرہ انتظامی امور اور بھرتیوں کے پورے عمل کو شفاف اور میرٹ پر مبنی رکھا جائے انہوں نے ہدایت کی کہ گریڈ پانچ سے بالائی تمام آسامیوں پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے میرٹ پر بھرتیوں کی منظور شدہ پالیسی پر بلا تاخیر عمل کیا جائے اور ٹیسٹ مقامی سطح پر منعقد کیے جائیں۔ تمام متعلقہ محکمے ٹیسٹ کے انعقاد کے لیے ضروری انتظامات کریں اور اگر آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹیسٹ کے انعقاد میں کسی بھی قسم کی معاونت درکار ہوئی تو چیف منسٹر سیکرٹریٹ مکمل تعاون فراہم کرے گا وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ درجہ چہارم کی آسامیوں پر نہ اقربائ پروری ہوگی اور نہ ہی ریکروٹمنٹ کمیٹی کا کوئی حصہ ہوگا انہوں نے کہا کہ نوکریوں کی خرید و فروخت کے معاملے میں کسی غلطی کی گنجائش نہیں اور اس پر کوئی معافی نہیں ہوگی میر سرفراز بگٹی نے تمام سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ وہ اللہ کو حاضر و ناظر جان کر حلف اٹھائیں کہ بلوچستان کے نوجوانوں کی نوکریاں فروخت نہیں ہونے دیں گے انہوں نے کہا کہ افسران اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری سے ادا کریں اور کسی بھی قسم کے دباو کو میرٹ اور شفافیت کی راہ میں حائل نہ ہونے دیں وزیر اعلیٰ نے چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ حکومتی مشینری میں بطور چیف پرنسپل ایڈوائزر انہوں نے ہمیشہ بہتر مشاورت اور گڈ گورننس کے قیام کے لیے معاونت فراہم کی ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور انتظامی افسران کے درمیان موثر مشاورت اور باہمی تعاون سے ہی حکومتی پالیسیوں پر موثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکتا ہے اجلاس میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کی فزیکل اور فنانشل پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے ترقیاتی پروگرام پر عملدرآمد کی رفتار میں تیزی کو صوبائی حکومت کے عملی اقدامات کا مظہر قرار دیا اور متعلقہ محکموں کو ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی وزیر اعلیٰ نے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو سراہتے ہوئے صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم کی کاوشوں کو سراہا انہوں نے کہا کہ سرکاری امور میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شفافیت، موثر نگرانی اور بہتر فیصلہ سازی کے لیے اہم ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ میرٹوکریسی قائم کرکے ہی بلوچستان کے نوجوانوں کا ریاستی نظام پر اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض پوری ذمہ داری، دیانت داری اور غیر جانب داری سے انجام دیں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی نوجوان کے حق پر کسی فرد، گروہ یا دباوکے باعث سمجھوتہ نہ ہو۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7560/2026
گوادر 10 ستمبر ۔ میر کلمتی انٹر ایجوکیشنل اسپورٹس فیسٹیول 2026 کے گرلز گیمز کے دوسرے اور تیسرے روز بھی مختلف کھیلوں کے سنسنی خیز مقابلے جاری رہے۔ کرکٹ اور فٹسال کے مقابلوں میں طالبات نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اگلے مرحلوں کے لیے کوالیفائی کیا، جبکہ کھلاڑیوں نے بھرپور جوش و جذبے سے مقابلوں میں حصہ لیا گزلز کرکٹ کے تیسرے روز گوادر گرائمر اسکول نے آرمی پبلک اسکول گوادر کو جبکہ گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کلانچی پاڑہ نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج گوادر کو شکست دے کر اگلے راونڈ میں جگہ بنائی۔ اسی روز فٹسال میں یونیورسٹی آف گوادر نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول ملابند اور دارالعلوم پبلک اسکول نے گوادر گرائمر اسکول کو شکست دے کر فائنل کے لیے کوالیفائی کیا دوسرے روز کرکٹ کے مقابلوں میں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول جہلی ڈھور نے دارالعلوم پبلک اسکول جبکہ گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول گوادر نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول شمبے اسماعیل کو شکست دے کر اگلے مرحلے، جبکہ گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول گوادر نے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔ مقابلوں کے مہمانانِ خصوصی میں ناصر رحیم سہرابی، شہناز ہوت، ڈاکٹر رابعہ اسلم، ایڈووکیٹ حمیدہ اختر نواز اور ڈاکٹر روبینہ نذیر شامل تھے۔ انہوں نے کھلاڑیوں سے ملاقات، مصافحہ اور حوصلہ افزائی کرتے ہوئے گرلز اسپورٹس کے فروغ کے لیے میر ارشد کلمتی اور ان کی مینجمنٹ کمیٹی کی کاوشوں کو سراہا۔فیسٹیول کے انعقاد میں محکمہ تعلیم گوادر، گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کا تعاون حاصل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7561/2026
گوادر 10 ستمبر 2026: یونیورسٹی آف گوادر میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کی ہدایات پر ”نسلِ نو کا تحفظ، تعمیرِ کردار سیرت النبیﷺ کی روشنی میں“ کے عنوان سے 25 اگست سے جاری سیرت النبی ﷺسیریز کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی، جس میں طلبہ و طالبات نے تقریری، نعت خوانی، مضمون نویسی، کوئز اور دیگر علمی و تربیتی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا تقریب کی صدارت رجسٹرار یونیورسٹی آف گوادر ڈاکٹر دولت خان نے کی۔ مقابلہ تقریر و نعت میں کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر رحیم مہر، ڈائریکٹر فنانس رحمت اللہ اور معروف بلوچی اسلامی اسکالر اسلم تگرانی نے بطور ججز خدمات انجام دیں تقریری مقابلے میں جان محمد نے پہلی، محمد اسلام نے دوسری اور خالدہ بیگم نے تیسری، نعت خوانی میں اللہ داد، نواب اور ماہ گنج نے بالترتیب پہلی، دوسری اور تیسری، جبکہ مضمون نویسی میں زینت گل، غلام عباس اور بدریعہ رفیق نے بالترتیب پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر دولت خان، ڈاکٹر رحیم مہر، ڈاکٹر رابعہ اسلم اور لیکچرار شہناز نور نے پوزیشن ہولڈرز اور شرکاءمیں تعریفی اسناد تقسیم کیں۔ سیرتالنبیﷺسیریز میں سیمینار، اسلامی خطاطی نمائش، کوئز، مضمون نویسی، تقریری اور نعت خوانی کے مقابلے شامل تھے سیریز کی آرگنائزر میڈم طیبہ نے کہا کہ ان سرگرمیوں کا مقصد نوجوان نسل کا سیرت النبی ﷺ سے تعلق مضبوط کرنا، اعلیٰ اخلاق و کردار کو اجاگر کرنا اور اسوہ رسول کو عملی زندگی کا حصہ بنانے کا شعور پیدا کرنا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7562/2026
گوادر 10 ستمبر ۔جامعہ گوادر کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کے بورڈ آف اسٹڈیز کا ساتواں اجلاس چیئرپرسن حفیظ اللہ کی زیرِ صدارت پاک چائنا ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ میں منعقد ہوا، جس میں اے آئی، ڈیٹا سائنس، سائبر سیکیورٹی اور دیگر جدید شعبوں کے نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور تحقیق و عملی تربیت کے فروغ کے لیے اہم تجاویز پیش کی گئیں اجلاس میں بی ایس کمپیوٹر سائنس (AI)، بی ایس کمپیوٹر سائنس (IT)، بی ایس انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بی ایس ڈیٹا سائنس کے اپ ڈیٹ شدہ کورس کیٹلاگز اور اسکیمز آف اسٹڈیز کا جائزہ لیا گیا، جبکہ نظرثانی شدہ نصاب اور کورس کوڈز کو اکیڈمک کونسل کے سامنے پیش کرنے کی سفارش کی گئی بورڈ نے Artificial Intelligence and Data Innovation Research Lab (AIDIRL) اور علیحدہ ہارڈویئر لیبارٹری کے قیام کی تجویز بھی دی، تاکہ AI، IoT، روبوٹکس اور ایمبیڈڈ سسٹمز میں تحقیق اور عملی تربیت کو فروغ دیا جا سکے۔ اجلاس میں 56 کمپیوٹنگ کورسز کے لیبارٹری مواد کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو AI، LLMs، NLP، کمپیوٹر وڑن، ڈیٹا سائنس، سائبر سیکیورٹی اور کلاوڈ کمپیوٹنگ جیسے جدید شعبے شامل ہیں اجلاس میں جامعہ گوادر اور دیگر جامعات کے ماہرینِ تعلیم سمیت متعلقہ شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7563/2026
گوادر 10 ستمبر ۔ جامعہ گوادر کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کے بورڈ آف اسٹڈیز کا ساتواں اجلاس چیئرپرسن حفیظ اللہ کی زیرِ صدارت پاک چائنا ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ میں منعقد ہوا، جس میں اے آئی، ڈیٹا سائنس، سائبر سیکیورٹی اور دیگر جدید شعبوں کے نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور تحقیق و عملی تربیت کے فروغ کے لیے اہم تجاویز پیش کی گئیں اجلاس میں بی ایس کمپیوٹر سائنس (AI)، بی ایس کمپیوٹر سائنس (IT)، بی ایس انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بی ایس ڈیٹا سائنس کے اپ ڈیٹ شدہ کورس کیٹلاگز اور اسکیمز آف اسٹڈیز کا جائزہ لیا گیا، جبکہ نظرثانی شدہ نصاب اور کورس کوڈز کو اکیڈمک کونسل کے سامنے پیش کرنے کی سفارش کی گئی بورڈ نے Artificial Intelligence and Data Innovation Research Lab (AIDIRL) اور علیحدہ ہارڈویئر لیبارٹری کے قیام کی تجویز بھی دی، تاکہ AI، IoT، روبوٹکس اور ایمبیڈڈ سسٹمز میں تحقیق اور عملی تربیت کو فروغ دیا جا سکے۔ اجلاس میں 56 کمپیوٹنگ کورسز کے لیبارٹری مواد کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو AI، LLMs، NLP، کمپیوٹر وڑن، ڈیٹا سائنس، سائبر سیکیورٹی اور کلاوڈ کمپیوٹنگ جیسے جدید شعبے شامل ہیں اجلاس میں جامعہ گوادر اور دیگر جامعات کے ماہرینِ تعلیم سمیت متعلقہ شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7564/2026
گوادر 10 ستمبر ۔ چائنا پاکستان گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول فقیری کالونی گوادر میں طالبات کی تخلیقی صلاحیتوں، سائنسی سوچ اور اختراعی استعداد کو اجاگر کرنے کے لیے سائنس و آرٹ نمائش 2026 کا انعقاد کیا گیا۔ نمائش کا افتتاح ضلعی آفیسر تعلیم زاہد حسین بلوچ اور سیاسی و سماجی شخصیت میر ارشد کلمتی نے کیا تقریب میں محکمہ تعلیم کے افسران، چائنا پاکستان گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کی ہیڈمسٹریس پروین نواز، ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر وہاب مجید، محمد حسن، ہیڈ ماسٹر طارق محمود و نادل علی اور اسکول کوآرڈینیٹر نسیم شیر محمد، یونیسیف کے ضلعی ایجوکیشن سپورٹ منیجر عادل نودیزئی سمیت مختلف اسکولوں کے اساتذہ، و طالبات نے شرکت کی۔نمائش میں طالبات نے مختلف سائنسی ماڈلز، تحقیقی منصوبوں، جدید و تخلیقی آئیڈیاز، سائنسی تجربات اور فن پاروں کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا۔ طالبات نے اپنے تیار کردہ سائنس اور آرٹ پراجیکٹس کے بارے میں شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی اور ان کے عملی پہلو، طریق کار اور افادیت سے آگاہ کیا، جسے شرکاءنے بے حد سراہا اس موقع شرکاءنے کہا کہ سائنس و آرٹ نمائش جیسی تعلیمی و تخلیقی سرگرمیاں طالبات میں تحقیق، تخلیق، جدت اور سائنسی طرزِ فکر کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ انہیں مستقبل کے چیلنجز کا موثر انداز میں سامنا کرنے کے لیے تیار کرتی ہیں۔ ایسی سرگرمیاں طلبہ کو روایتی تعلیم سے آگے بڑھ کر اپنے خیالات کو عملی شکل دینے اور نئے امکانات دریافت کرنے کا موقع فراہم کرتی جبکہ اسکول ہیڈ مسٹریس پروین نواز اور کوآرڈینیٹر چائنہ پاکستان گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول فقیر کالونی نیسم شیر محمد نے کہا کہ نمائش کا مقصد نوجوان ذہنوں میں سیکھنے، دریافت کرنے، تجربہ کرنے اور نئے آئیڈیاز کو عملی جامہ پہنانے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، جبکہ پاک چین دوستی کے جذبے کے تحت تعلیم، جدت اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کو بھی تقویت دینا ہے نمائش میں پیش کیے گئے منفرد سائنسی منصوبوں، ماڈلز اور فن پاروں نے حاضرین کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ شرکاءنے طالبات کی محنت، تخلیقی صلاحیتوں اور اساتذہ کی رہنمائی کو سراہتے ہوئے اسے تعلیمی میدان میں ایک مثبت اور حوصلہ افزا قرار دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7565/2026
گوادر10 ستمبر ۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس گوادر عطاالرحمن ترین نے چائنا پاکستان گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول فقیری کالونی میں منعقدہ سائنس و آرٹ نمائش 2026 کا دورہ کیا اس موقع پر ڈی ایس پی گوادر چاکر خان بھی ان کے ہمراہ تھے انہوں نے طلباء کی جانب سے پیش کیے گئے سائنسی منصوبوں، تخلیقی ماڈلز اور فن پاروں کا تفصیلی معائنہ کیا اس موقع پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایس پی گوادر عطاالرحمن ترین نے کہا کہ طلباء کی جانب سے پیش کیے گئے سائنسی پروجیکٹس اور تخلیقی فن پارے انتہائی شاندار اور قابلِ ستائش ہیں۔ کم عمری میں بچوں نے جس محنت، صلاحیت اور تخلیقی سوچ کا مظاہرہ کیا ہے، وہ ان کے روشن مستقبل کی واضح عکاسی کرتا ہے ان کا کہنا تھا کہ طلباء کی اس شاندار کارکردگی اور کامیاب نمائش کا سہرا اسکول انتظامیہ اور اساتذہ کے سر جاتا ہے، جنہوں نے بچوں کی بہترین رہنمائی اور حوصلہ افزائی کے ذریعے ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔ ایسی مثبت اور تعلیمی سرگرمیاں طلباء میں تحقیق، تخلیقی سوچ اور خود اعتمادی کو فروغ دیتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں کی صلاحیتوں اور کامیابیوں کو میڈیا اور دیگر مو¿ثر پلیٹ فارمز پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ مستقبل میں مزید نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7566/2026
گوادر10 ستمبر ۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس گوادر عطاالرحمن ترین نے چائنا پاکستان گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول فقیری کالونی میں منعقدہ سائنس و آرٹ نمائش 2026 کا دورہ کیا اس موقع پر ڈی ایس پی گوادر چاکر خان بھی ان کے ہمراہ تھے انہوں نے طلباء کی جانب سے پیش کیے گئے سائنسی منصوبوں، تخلیقی ماڈلز اور فن پاروں کا تفصیلی معائنہ کیا اس موقع پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایس پی گوادر عطاالرحمن ترین نے کہا کہ طلباء کی جانب سے پیش کیے گئے سائنسی پروجیکٹس اور تخلیقی فن پارے انتہائی شاندار اور قابلِ ستائش ہیں۔ کم عمری میں بچوں نے جس محنت، صلاحیت اور تخلیقی سوچ کا مظاہرہ کیا ہے، وہ ان کے روشن مستقبل کی واضح عکاسی کرتا ہے ان کا کہنا تھا کہ طلباء کی اس شاندار کارکردگی اور کامیاب نمائش کا سہرا اسکول انتظامیہ اور اساتذہ کے سر جاتا ہے، جنہوں نے بچوں کی بہترین رہنمائی اور حوصلہ افزائی کے ذریعے ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔ ایسی مثبت اور تعلیمی سرگرمیاں طلباء میں تحقیق، تخلیقی سوچ اور خود اعتمادی کو فروغ دیتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوںکی صلاحیتوں اور کامیابیوں کو میڈیا اور دیگر موثر پلیٹ فارمز پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ مستقبل میں مزید نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7567/2026
تربت ستمبر۔10اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر امتیاز سخی نے اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی کا پرتپاک استقبال کیا۔دورے کے موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر امتیاز سخی نے اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ کو محکمہ سوشل ویلفیئر کی جانب سے جاری مختلف فلاحی پروگرامز اور عوامی خدمت کے اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں معذور افراد کی رجسٹریشن اور فلاحی معاونت، کہمک پروگرام، ڈرگ ڈیٹوکسیفکیشن اینڈ ری ہیبلیٹیشن سینٹر، ویمن ووکیشنل ٹریننگ سینٹر، معذوری سرٹیفکیٹس کے اجرا، میڈیکل اسیسمنٹ بورڈ اور دیگر سماجی بہبود کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ نے ڈپٹی ڈائریکٹر کے ہمراہ دفتر کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کیا اور محکمہ کی جانب سے عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات، ریکارڈ کی دیکھ بھال اور جاری فلاحی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے محکمہ سوشل ویلفیئر کی کارکردگی اور عوامی فلاح کے لیے جاری اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے کمزور اور مستحق طبقات کی خدمت ایک اہم ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں محکمہ کی کاوشیں قابلِ تعریف ہیں۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر امتیاز سخی نے محکمہ کو درپیش مختلف انتظامی اور بنیادی نوعیت کے مسائل، وسائل کی کمی، اداروں کی ضروریات اور دیگر امور سے متعلق اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ کو آگاہ کیا۔ اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی نے مسائل کو غور سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ ڈپٹی کمشنر کیچ کے ساتھ اس حوالے سے ملاقات کرکے محکمہ سوشل ویلفیئر کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ سوشل ویلفیئر کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ عوام، بالخصوص معذور افراد، خواتین، بچوں اور دیگر مستحق طبقات کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ دورے کے اختتام پر اسسٹنٹ کمشنر نے محکمہ سوشل ویلفیئر کی عوامی خدمت کے لیے جاری کوششوں کو سراہتے ہوئے مستقبل میں بھی مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7568/2026
نصیرآباد10ستمبر۔نصیرآباد ڈویڑن میں نوے کی دہائی میں پٹواری کی سند حاصل کرنے والے امیدوار کو موجودہ حکومت کی میرٹ پالیسی کے مطابق تعیناتی کا آرڈر جاری کر دیا گیا۔کمشنر نصیرآباد ڈویڑن صلاح الدین نورزئی نے 1995ء میں پٹواری کی سند حاصل کرنے والے امیدوار گل محمد مستوئی کو پٹواری کے عہدے پر تعیناتی کا آرڈر دیا۔گل محمد مستوئی طویل عرصے سے تعیناتی کے انتظار میں تھے اور اس دوران دیہاڑی پر مزدوری کرکے اپنے خاندان کا گزر بسر کرتے رہے۔کمشنر نصیرآباد ڈویڑن صلاح الدین نورزئی نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی،چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور ایس ایم بی آر قمبر دشتی کی میرٹ پر مبنی پالیسی کے تحت گل محمد مستوئی کو جائے تعیناتی کے احکامات جاری کیےاس موقع پر کمشنر صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ موجودہ حکومت کے وڑن اور واضح پالیسی کے مطابق حقدار اور اہل امیدواروں کو میرٹ کی بنیاد پر تعیناتی کے آرڈرز جاری کرنے کا عمل جاری ہے، جو طویل عرصے سے اپنے حق اور میرٹ کے مطابق ملازمت کے منتظر تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج گل محمد مستوئی کو تعیناتی کا آرڈر دیتے ہوئے ہمیں خوشی محسوس ہو رہی ہے،حکومت کی جانب سے میرٹ اور حقدار افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو مزید وسعت دی جائے گی اور اہل امیدواروں کو ان کا جائز حق فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7570/2026
نصیرآباد 10 ستمبراستا محمد۔ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کی ہدایت کے تحت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد اسماعیل لاشاری نے آج گورنمنٹ ہائی سکول شہید رستم خان جمالی کا دورہ کیا اور سکول میں تعمیر کیے گئے اضافی کمرے کا باقاعدہ افتتاح کیا اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محکمہ تعلیم کے افسران سکول کے ہیڈ ماسٹر اساتذہ کرام اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھےافتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اسماعیل لاشاری نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے ضلع بھر کے تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کو بہتر اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں اسی سلسلے میں سکولوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات طلباء کی تعداد اور دستیاب کلاس رومز کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلع استا محمد میں 37 اضافی کمروں کی منظوری دی گئی ہے انہوں نے کہا کہ اضافی کلاس رومز کی تعمیر سے سکولوں میں طلباء کے لیے مزید گنجائش پیدا ہوگی اور انہیں بہتر تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی مناسب اور کشادہ کلاس رومز کی فراہمی سے تدریسی عمل میں بہتری آئے گی جبکہ اساتذہ بھی زیادہ موثر انداز میں اپنی تدریسی ذمہ داریاں انجام دے سکیں گےایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی انفراسٹرکچر کی بہتری اور تدریسی ماحول کو سازگار بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ تعمیراتی کاموں کے معیار کو یقینی بنایا جائے اور تمام منصوبے مقررہ معیار اور مدت کے مطابق مکمل کیے جائیں انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے تعلیمی شعبے میں کیے جانے والے اقدامات کا بنیادی مقصد بچوں کو ان کی دہلیز پر معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کرنا اور انہیں بہتر مستقبل کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ باہمی رابطے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دے رہے ہیںاس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اور دیگر متعلقہ افسران نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کو سکول میں جاری تعلیمی سرگرمیوں طلباءکی تعداد اور دیگر ضروریات کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7571/2026
تربت 10 ستمبر ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی سے ضلع کیچ کے مختلف وفود نے ملاقات کی۔ ملاقات میں ضلع کیچ کے عوام کو درپیش مختلف عوامی و اجتماعی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا
ملاقات میں ،میونسپل کارپوریشن تربت کے چیف آفیسر شعیب ناصر، پی ڈی ایم اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ملک ریحان دشتی, انجمن تاجران کیچ کے صدر نثار احمد جوسکی، اعجاز احمد جوسکی، اسحاق روشن، عبدالرحمن سنگر، ظریف زدگ، ٹھیکیدار زبیر، کہدہ نور، فضل کریم، گلزار دوست، سیٹھ یاسین، جمال شکیل، احسان سمیت دیگر افراد موجود تھے۔وفود نے ڈپٹی کمشنر کیچ کو ضلع کیچ میں امن و امان کی صورتحال، پاک ایران بارڈر کی بندش، بی ایس ڈی آئی منصوبے اور دیگر عوامی مسائل سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر شرکاءنے آبسر انٹر کالج کی طالبات کے لیے بس کی فراہمی سمیت دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور ضلع میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاک ایران سرحد سے متعلق معاملات کے حل اور سرحدی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ جاری ہے اور بارڈر کو جلد کھولنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے وفود کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ آبسر انٹر کالج کے لیے چھ کمروں کی تعمیر اور ضروری فرنیچر کی فراہمی کو بی ایس ڈی آئی پروگرام میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی فلاح و بہبود، تعلیمی سہولیات کی بہتری اور علاقے کی ترقی کے لیے دستیاب وسائل کو موثر انداز میں بروئے کار لا رہی ہے اور عوامی مسائل کے حل کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7572/2026
پشین (خ ن) 10 ستمبر۔ایس ایس پی پشین کیپٹن ریٹائرڈ نوید عالم کی خصوصی ہدایت پر ایس ایچ او چوہدری ادریس نے بمعہ پولیس نفری کاروائی کرتے ہوئے گزشتہ تین ہفتے قبل پشین کے علاقے غرشینان روڈ سے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والے کمسن مغوی بچہ وکیل احمد کو کوئٹہ سبزل روڈ سے بازیاب کرا کر ضروری قانونی کاروائی کے بعد والدہ کے حوالے کر دیا۔ایس ڈی پی او سید عظمت حسین شاہ گیلانی نے میڈیا ہاوس پشین کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مغوی بچے کو تین ہفتے قبل مبینہ طور پر اغواء کیا گیا جس کے بعد مغوی بچی کی والدہ نے واقع سے متعلق متعلقہ تھانے میں اطلاعی رپورٹ درج کرائی بعد ازاں ایسے ایچ او چوہدری ادریس نے اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گزشتہ روز پشین پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے کوئٹہ سبزل روڈ سے مغوی بچے کو باحفاظت بازیاب کرا کر ملزمان کی تلاش شروع کر دی۔مغوی بیٹے کی بازیابی پر والدہ نے متعلقہ تھانے کی کاروائی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7573/2026
پشین ( خ ن) 10 ستمبر۔ اسسٹنٹ کمشنر پشین مجیب الرحمن ساتکزئی نے کہا ہے کہ تجاوزات، خودساختہ مہنگائی، سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی اور ناپ تول میں کمی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی،خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اسسٹنٹ کمشنر مجیب الرحمن ساتکزئی نے کہا کہ سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہ کرنے والے دکانداروں کو جیل بھیجا جائے گا، جبکہ ناپ تول میں کمی کرنے والے افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے بازاروں میں نرخنامے کی پابندی، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور ناپ تول کے عمل کی نگرانی مزید موثر بنائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ شہر میں قائم تجاوزات کے خاتمے کیلئے بھی کارروائی جاری رہے گی، عوامی گزرگاہوں اور سڑکوں پر غیرقانونی تجاوزات قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اسسٹنٹ کمشنر مجیب الرحمن ساتکزئی نے کہا کہ عوام کو کسی بھی دکاندار کی جانب سے زائد قیمت وصول کرنے، سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی یا ناپ تول میں کمی کی شکایت ہو تو وہ براہِ راست انتظامیہ سے رابطہ کریں۔ عوام اپنی جائز شکایات کے ازالے کیلئے میرے دفتر آسکتے ہیں، انتظامیہ عوام کی شکایات پر فوری کارروائی کرے گی۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ عوام انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور خلاف ورزیوں کی نشاندہی کریں تاکہ ناجائز منافع خوری اور تجاوزات کے خلاف موثر کارروائی کو یقینی بنایا جاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 7574/2026
کوئٹہ 10 ستمبر ۔بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں بے روزگاری کے خاتمے، امن و امان کے قیام سمیت عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے جو سنجیدہ کوششیں جاری ہیں اس کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہو چکے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز سول سیکرٹریٹ کے سکندر جمالی آڈیٹوریم میں ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے ترقی پانے والے ملازمین کو آرڈرز فراہم کیے جانے کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر تقریب کے دیگر شرکاء میں محکمہ آبپاشی کے افسران و اہلکاروں کے علاوہ کلرک یونین کے عہدیداران و دیگر لوگ کثیر تعداد میں موجود تھے۔ تقریب سے خطاب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور صوبائی حکومت بے روزگاری کے خاتمے کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے، میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ انہیں وزارت کی ذمہ داری جب ملی تو انہوں نے لواحقین کوٹے کے تحت التواء کا شکار کیس پر کام شروع کرواکے اسی جگہ ایک پروکار تقریب میں 117 بیوہ، یتیم لواحقین کو تعیناتی کے آرڈرز فراہم کیے، انہوں نے کہا کہ کسی ضرورت مند حقدار کو نوکری یا ترقی کے آرڈرز دینا میرے لیے ایک اعزاز کی بات ہے اور اس نیک کام سے مجھے جو خوشی مل رہی ہے وہ میں بیان نہیں کرسکتا۔ میر محمد صادق عمرانی نے ترقی پانے والے ملازمین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اپنے فرائض منصبی کو ایمانداری سے انجام دیتے ہوئے محکمے اور صوبے کی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے، اس موقع پر تقریب سے محکمے کے افسران و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے ترقی پانے والے ملازمین کو مبارکباد پیش کی، انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر میر محمد صادق عمرانی اور سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمان بلوچ اور ان کی ٹیم کی بہترین کاوشوں کے نتیجے میں محکمہ ترقی کے منازل طے کررہا ہے، انہوں نے کہا کہ سینکڑوں حقدار ملازمین کو ترقی کے آرڈرز ملنے سے پورے محکمے میں خوشی کی لہر دوڑ اٹھی ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ ترقی پانے والے ملازمین مزید جانفشانی سے اپنے فرائض منصبی انجام دینے کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7575/2026
کوئٹہ10ستمبر۔ محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق محکمے کے سینئیر رجسٹرار / گائناکولوجسٹ بولان میڈیکل کالج ( B-18) ڈاکٹر مہرینہ زمرد دختر یاسر صادق کیخلاف 6 جنوری 2019 سے مسلسل غیر حاضر رہنے کی بناء پر بیڈا ایکٹ 2011 کے تحت کاروائی عمل میں لاتے ہوئے انہیں محکمے سے جبری ریٹائر کردیا گیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7576/2026
کوئٹہ، 10 ستمبر۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد کی خصوصی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوام کو مقررہ نرخ اور مکمل وزن کے مطابق نان کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر بروری کاشف امر نے سریاب کے مختلف علاقوں میں قائم تندوروں کا اچانک معائنہ کیا۔معائنے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے مختلف تندوروں پر نان کے مقررہ وزن، سرکاری نرخنامے اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انتظامیہ کی جانب سے تندور مالکان کو ہدایت کی گئی کہ وہ سرکاری نرخنامے کے مطابق نان فروخت کریں اور مقررہ وزن میں کسی قسم کی کمی نہ کی جائے۔کارروائی کے دوران بعض تندوروں پر مقررہ وزن سے کم نان فروخت کیے جانے کی نشاندہی ہوئی، جس پر انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 5 افراد کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار افراد کے خلاف ضابطے کے مطابق قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بروری کاشف امر نے تندور مالکان کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو مقررہ نرخ اور وزن کے مطابق نان کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی، کم وزن نان کی فروخت یا صارفین سے مقررہ قیمت سے زائد وصولی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7577/2026
کوئٹہ، 10 ستمبر ۔صوبائی وزیر و چیئرمین بی ایف اے کی ہدایت پر بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹیموں کا ناقص، ملاوٹی اور غیر معیاری خوراک کے خلاف صوبہ بھر میں کریک ڈاون جاری ہے۔ تازہ کارروائیوں کے دوران کوئٹہ، اوستہ محمد، ڑوب، تربت، حب اور سبی سمیت مختلف علاقوں میں فوڈ بزنس یونٹس کی چیکنگ کی گئی، جس کے دوران 36 یونٹس کو جرمانے ، 3 یونٹس کو سیل جبکہ متعدد مراکز کو اصلاحی نوٹسز بھی جاری کیے گئے۔ترجمان بی ہف اے کے مطابق کوئٹہ کے علاقوں علمدار روڈ اور طوغی روڈ میں ڈائریکٹر آپریشنز فخرالدین مری کی سربراہی میں کارروائی کے دوران سنگین خلاف ورزیوں پر 2 بیکریاں سیل، 2 فوڈ یونٹس جرمانہ اور 3 کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ سیل کی جانے والی بیکریوں میں بیکری مصنوعات پر تیاری و میعاد ختم ہونے کی تاریخ درج نہ ہونے، کیڑوں مکوڑوں سے بچاو¿ کے ناقص انتظامات، ورکرز کی جانب سے حفاظتی لباس کا استعمال نہ کرنے اور مصنوعات میں حشرات کی موجودگی سمیت متعدد خلاف ورزیاں پائی گئیں جبکہ گزشتہ جرمانوں کی عدم ادائیگی پر بھی کارروائی کی گئی۔علاوہ ازیں ایک ریسٹورنٹ کو بی ایف اے لائسنس کے بغیر کاروبار اور خراب کوکنگ آئل کے استعمال پر جرمانہ کیا گیا جبکہ ایک بیکری کو ناقص صفائی، ڈسٹ بنز کی عدم موجودگی، PPE کے نامناسب استعمال اور بیکری مصنوعات میں حشرات پائے جانے پر جرمانہ عائد کیا گیا۔اس طرح بروری روڈ اور خیزی چوک پر متفرق فوڈ بزنس یونٹس کی چیکنگ کے دوران 3 یونٹس جرمانہ اور ایک واٹر پیوریفکیشن پلانٹ سیل کیا گیا۔ دو ریسٹورنٹس میں ممنوعہ چائنیز نمک، نان فوڈ گریڈ رنگ کی موجودگی، مصالحہ جات کی نامناسب اسٹوریج، ناقص ریفریجریشن، کھلے ڈسٹ بنز اور آلودہ پانی کی ٹینکی سمیت متعدد خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ ایک جنرل اسٹور سے ممنوعہ گٹکا اور چائنیز نمک برآمد ہونے پر بھی کارروائی کی گئی۔سیٹلائٹ ٹاو¿ن میں ایک سویٹ مینوفیکچرنگ یونٹ، ایک کیٹرنگ یونٹ اور ایک جنرل اسٹور کو صفائی کی ابتر صورتحال، مضر صحت رنگوں اور چائنیز نمک کے استعمال، ایکسپائرڈ اشیاء غیر مناسب پیکنگ اور ممنوعہ اشیاءکی موجودگی پر جرمانے کیے گئے۔اوستہ محمد میں 9 کریانہ اسٹورز اور 2 ہوٹلوں کو صفائی کی ناقص صورتحال، ایکسپائرڈ اشیاء، ممنوعہ نان فوڈ گریڈ کلرز اور چائنیز نمک سمیت دیگر خلاف ورزیوں پر جرمانے کیے گئے۔ متعدد مراکز کو معمولی نقائص دور کرنے کے لیے اصلاحی نوٹسز بھی جاری ہوئے۔ڑوب میں ہوٹلز اور کولڈ ڈرنکس شاپس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ناقص صفائی، خراب گوشت و سبزیوں، ٹوٹے برتنوں، نامناسب پانی ذخیرہ کرنے، چائنیز نمک اور ایکسپائرڈ مشروبات کی موجودگی پر جرمانے کیے گئے جبکہ 5 مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ترجمان کے مطابق عوام کو محفوظ اور معیاری اشیاءخورونوش کی فراہمی بی ایف اے کی اولین ترجیح ہے۔فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی اور عوام کی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔ زیرِ التوا جرمانوں کی عدم ادائیگی اور مسلسل عدم تعمیل کی صورت میں قانون کے مطابق مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7578/2026
کوئٹہ ستمبر10۔ محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق محکمے کے اسسٹنٹ پروفیسر گائناکولوجسٹ ٹیچنگ ہسپتال نوشکی ( B-18) ڈاکٹر بریرہ صدف دختر علیم نواز کیخلاف 15 جولائی 2025 سے 3 دسمبر 2025 تک مسلسل غیر حاضر رہنے کی بناء پر بیڈا ایکٹ 2011 کے تحت کاروائی عمل میں لاتے ہوئے انکی سرزنش کی گئی ہے اور انکے اسی مدت کی سالانہ انکریمنٹ روک دی ہے جبکہ ان کے اسی مدت کی غیر حاضری کو ایکسٹرا آرڈینری لیو ( رخصت بغیر تنخواہ و الاونس) قرار دیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7579/2026
اوتھل 10ستمبر ۔ کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے کہا ہیکہ وزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی کے وژن کے تحت حکومت بلوچستان ہراسمنٹ ایکٹ 2016 کے ذریعے خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے متحرکانہ کرداراداکررہی ہےطالبات بلاخوف وخطر تعلیمی سفر جاری رکھیں کسی بھی ادارے میں ہراسمنٹ کیس ثابت ہونے ہر سرکاری افیشل کو ملازمت سے برطرف کیا جائیگا یہ بات کیرئیر کونسلنگ کے حوالے سے لسبیلہ یونیورسٹی میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے یوءکہی کمشنر لسبیلہ ڈویڑن نے کہا ہم نےبطورسیکرٹری وومن ڈیولپمنٹ وراثت میں خواتین کوانکاحق دلانے کیلئے قاونون سازی کی لیگل فریم ورک کے زریعے خواتین کوبااختیار بنانے اورانکے تحفظ کیلئے عملی اقدامات کئے ہیں تعلیمی درسگاہوں میں طالبات بلاخوف وخطر اپنی تعلیم جاری رکھیں انتظامیہ انہیں ٹیکنیکل ایجوکیشنل گائیڈلائن کے ساتھ یونیورسٹی فیکلٹیز کو بھرپورمعاونت فراہم کریگی کمشنر لسبیلہ ڈویڑن نے کہا کیرئر سازی کیلئے اسٹوڈنٹ اور ٹیچرزکے مابین کمیونیکیشن کوآرڈینیشن ہونی چاہیے فیمیل اسٹوڈنٹ کو جاب سلیکشن میں صرف میڈیکل اورٹیچنگ کا شعبہ نہیں بلکہ ایڈمنسٹریشن ودیگر فیلڈجوائن کرنی چاہیے کمشنر نے اپنی پیغام میں کہا کہ جاب اپلاءکے حوالے سے امیدوارکبھی بھی مایوسی کا شکار نہ ہوں اللہ پر توکل رکھیں خوداعتمادی کو برقراررکھیں کامیابی آپکے قدم چومے گی کمشنر نے پسماندہ علاقےآواران سے تعلیمی ترقی کے سفر سے طالبات کو آگاہ کیا اوربتایا کہ بلوچستان میں وومن امپاورمنٹ پالیسی کے تجت صوبے میں وومن بزنس مارکیٹ کاتصور لانے میں کامیاب ہوءہیں صوبے کے مختلف علاقوں میں چھ وومن بزنس سینٹر قائم کئے ہیں ہمیں اسکلڈڈیولپمنٹ اورڈیجیٹالائزیشن کی جانب بڑھنا چاہیے لائیو اسٹاک ہینڈی کرافٹ فری لانسنگ کوکنگ او ای کامرس سمیت دیگر شعبوں میں کاروبار کیلئے حکومت لون کی سہولت فراہم کررہی ہے ابتک 409خواتین اپنا بزنس وائم کرچکی ہیں کمشنر نے کہا کہ لسبیلہ ڈویژن میں چارانتظامی افسران کی تعیناتی سروسز ڈیلیوری چیلنج سے نمٹنے کی جانب اہم پیشرفت ہےخواتین زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیابیاں سمیٹ رہی ہیں ہم سب نے ملکر اس ڈویڑن صوبے اورملک کیلے کام کرنا یے کمشنر نے طالبات کے سوال کے جواب میں کہا کہ پی ایس پی افسر یا سول سروس افسر بننے سے معاشرے میں تبدیلی نہیں آتی بلکہ اس وقت ممکن ہے جب ہرشخص آپنا کردارذمہ دارشہری کے طورہر نبھائےہم اپنا ویسٹ سڑکوں پر نہ پھینکیں سوسائٹی چینج کیلئے ہرشخص کواپنا کرداراداکرنا ہوگاکمشنر لسبیلہ نے ضلع حب میں خواتین کے نشے کی لت میں مبتلا ہونےکو لمحہ فکریہ قراردیتے ہوئے کہا کہ حب انتظامیہ کیساتھ سوسائٹی کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگاانہوں نے نیشنل سمٹ کانفرنس میں یوتھ افیئرڈیپارٹمنٹ کی جانب سے لسبیلہ کونظراندازکرنے کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری یوتھ افیئر سے کوآرڈینیشن کے احکامات جاری کیں کمشنر نے اسٹوڈنٹ کونصیحت کی کہ وہ جاب سلیکشن کے حوالےسےوالدین کی رائے کو ترجیح دیں بہت سارے والدین ایسے ہوتے ییں جنہوں نے یونیورسٹی نہیں دیکھی لیکن بچوں کو یونیورسٹیز میں داخل کروارہی ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7580/2026
نصیرآبادڈویژن10ستمبر۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت بلاک شناختی کارڈ کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا ضلعی افسران سمیت انٹیلی جنس اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بلاک شناختی کارڈ والے افراد کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور اپنی مشکلات اور مسائل سے کمیٹی کو آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ بلاک شناختی کارڈ کا مسئلہ سنگین نوعیت کا ہے، جن افراد کے شناختی کارڈ بلاک ہیں ان کی مکمل تصدیق کے بعد انہیں ان کا حق دلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نادرا اور سیکیورٹی ادارے مشترکہ طور پر ان کیسز کی جانچ پڑتال کو یقینی بنائیں تاکہ کوئی بھی حقدار شناختی کارڈ سے محروم نہ رہے جبکہ کسی غیر متعلقہ فرد کو شناختی کارڈ جاری نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلاک شناختی کارڈ کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات درپیش ہیں، شناختی کارڈ کے بغیر نہ روزگار ملتا ہے اور نہ ہی سرکاری سہولیات، اس لیے اس مسئلے کا حل اولین ترجیح ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ بلاک شناختی کارڈ کیسز کو میرٹ پر فوری نمٹائیں اور حتمی رپورٹ پیش کریں تاکہ مستحق افراد کو جلد ریلیف دیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7581/2026
رکھنی10 ستمبر ۔ ڈپٹی کمشنر بارکھان سعیدالرحمن کاکڑ کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر رکنی فہد حسین عمرانی نے ویٹرنری ڈاکٹر سعید احمد کے ہمراہ گوشت مارکیٹ کا دورہ کیا۔دورانِ کارروائی قصائی کی فریج سے 8 کلو مضرِ صحت گوشت برآمد ہوا، جسے اسسٹنٹ کمشنر نے موقع پر ہی تلف کر دیا، جبکہ متعلقہ دکاندار پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے دکاندار کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی صحت سے کھیلنے اور مضرِ صحت گوشت فروخت کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ ایسی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ عوام کو معیاری اور صحت بخش گوشت کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے چیکنگ کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا کہ مضرِ صحت یا غیر معیاری گوشت فروخت کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7582/2026
خضدار 10 ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی خصوصی ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر خضدار حفیظ اللہ کاکڑ نے شہر بھر میں شیشہ کیفے چلانے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس اہم فیصلے کا مقصد نوجوان نسل کو منفی و مضرِ صحت سرگرمیوں سے محفوظ رکھنا اور علاقے میں امن و امان کی فضا کو بحال رکھنا ہے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تمام ہوٹل، ریسٹورنٹ اور کیفے مالکان کو سخت تنبیہ جاری کی گئی ہے کہ وہ شیشہ کیفے کا سلسلہ فوراً بند کر دیں۔انتظامیہ کے مطابق حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری اور بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں نہ صرف متعلقہ ہوٹل یا کیفے کو موقع پر ہی سیل کر دیا جائے گا، بلکہ ان کے مالکان کے خلاف قانونی مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔اسسٹنٹ کمشنر خضدار نے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ کی خاص ٹیمیں مختلف علاقوں کا باقاعدگی سے معائنہ کریں گی تاکہ حکم نامے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے عوام اور بالخصوص والدین سے اپیل کی کہ وہ اس مہم میں انتظامیہ کا ساتھ دیں اور اپنے بچوں کی مثبت سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7583/2026
کوئٹہ 10 ستمبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل سے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں سید کاشف حسین کی قیادت میں آرمی پبلک اسکول سیون اسٹریمز کے طلباء نے ملاقات کی۔ واضح رہے کہ بلوچستان کے طلبہ عبداللہ، عبدالرحمن اور عبدالرحیم نے ایک تاریخی اعزاز اپنے نام کیا ہے۔ انہوں نے 1947 سے 2026 تک پاکستانی عسکری فورسز سے متعلق جاری ہونے والے تمام ڈاک تکٹ / پوسٹل اسٹیمپس کو ایک جگہ جمع کیا ہے جو اس سے پہلے کبھی اکٹھی نہیں کی گئی تھیں۔ متروک سمجھے جانے والے اس مشغلہ کو ان طلبہ نے ازسرِنو زندہ کر دیا ہے جو بلوچستان اور اس سکول کیلئے قابلِ تحسین اقدام ہے۔ طلبہ نے اس کامیابی کو اپنے والدین، سکول کے پرنسپلز اور اساتذہ کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کا نتیجہ قرار دیا ہے جن سے تعلیمی اداروں میں رہنمائی کی اہمیت بھی نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے۔
خبر نامہ نمبر7584/2026
کوئٹہ10 ستمبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل سے صوبائی وزیر میرعاصم کرد گیلو اور رکن صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل کی قیادت میں مختلف وفود کے نمائندوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ملاقات کی، جس میں کوئٹہ شہر اور اس کے مضافاتی علاقوں میں عوام کو درپیش مسائل، بڑھتے ہوئے اسٹریٹ جرائم، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور شہریوں کی مشکلات سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ گورنر بلوچستان نے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ ایک تیزی سے پھیلتا ہوا شہر ہے، اسلیے شہری آبادی میں اضافے کے ساتھ انتظامی، ٹریفک، صفائی، صحت، تعلیم، پانی، نکاسی آب اور اسٹریٹ کرائمز کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔ ان مسائل سے نمٹنے کیلئے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط اور فعال رابطہ ضروری ہے۔ عوامی خدمت کا اصل معیار یہ ہے کہ عام شہری کو اپنے مسائل کے حل کیلئے غیرضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حکومت، انتظامیہ، پولیس اور عوامی نمائندوں کو باہمی تعاون سے شہریوں کو بہتر ماحول اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔ کوئٹہ شہر اور اس کے مضافات میں عوام کو درپیش مسائل و مشکلات کے حل کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنانے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، سڑکوں، صحت و صفائی، نکاسی آب، بجلی، پانی اور دیگر عوامی مسائل کے حل کیلئے متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں مزید موثر انداز میں ادا کرنا ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز پر قابو پانے کیلئے ٹھوس اور موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت اور متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، اسلیے پولیس اور انتظامیہ کو جدید تقاضوں کے مطابق اپنی کارکردگی مزید بہتر بنانا ہوگی۔ جرائم کی روک تھام کے ساتھ ساتھ شہریوں میں احساسِ تحفظ پیدا کرنا بھی ناگزیر ہے۔ گورنر نے کہا کہ منتخب عوامی نمائندے محض دفاتر تک محدود رہنے کی بجائے وقتاً فوقتاً اپنے حلقوں اور مختلف علاقوں کا دورہ کرکے عوام سے براہِ راست رابطہ اور ان کے مسائل سنیں۔ عوام اور منتخب نمائندوں کے درمیان براہِ راست رابطہ جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے ساتھ مسائل و مشکلات کے بروقت حل میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منتخب نمائندوں پر زور دیا کہ وہ عوامی مسائل متعلقہ محکموں اور اداروں کے سامنے موثر انداز میں اٹھانے کے ساتھ ساتھ ان کے پائیدار حل پر فالو اَپ وزٹ بھی کریں تاکہ مسائل صرف شکایات اور یقین دہانیوں تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی طور پر حل ہوں۔ ملاقات کے دوران وفود نے اپنے اپنے علاقوں کے مسائل اور عوام کو درپیش مشکلات سے گورنر بلوچستان کو آگاہ کیا، جبکہ گورنر نے ان کے سوالات اور مختلف امور سے متعلق نکات کا جواب دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایات اور مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
خبر نامہ نمبر7585/2026
کوئٹہ10 ستمبر:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو قمبر دشتی کی عوام دوست پالیسیوں اور میرٹ پر مبنی اقدامات کے نتیجے میں گزشتہ ایک سال کے دوران نصیر آباد ڈویژن میں صحت، تعلیم اور محکمہ ریونیو کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر تقرریاں عمل میں لائی گئی ہیں کمشنر نصیر آباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی سربراہی میں قائم ڈویژنل کمیٹی کے ذریعے مختلف محکموں میں برسوں سے خالی پڑی آسامیوں کو میرٹ کی بنیاد پر پُر کیا گیا جس کے باعث متعلقہ شعبوں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کا عمل بہتر ہوا ہے محکمہ صحت میں 296 ڈاکٹرز، فارماسسٹ اور ڈینٹل سرجنز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی، جس سے ڈویژن کے مختلف علاقوں میں طبی سہولیات کی فراہمی اور صحت عامہ کی خدمات میں بہتری آئی ہے محکمہ تعلیم میں بھی گزشتہ ایک سال کے دوران چار مراحل میں 2054 مرد و خواتین اساتذہ کو میرٹ کی بنیاد پر تعینات کیا گیا۔ کمشنر اور ڈپٹی کمشنرز کی نگرانی میں محکمہ تعلیم کی پالیسی پر عمل درآمد کے نتیجے میں ڈویژن کے 560 ایسے اسکول دوبارہ فعال ہو گئے جو اساتذہ کی عدم دستیابی کے باعث بند تھے محکمہ ریونیو میں بھی سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی خصوصی ہدایات پر اہم پیش رفت ہوئی۔ 66 ملازمین کو مستقل بنیادوں پر جبکہ 87 پٹواریوں کو عارضی بنیادوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ ان تقرریوں میں ایسے امیدوار بھی شامل ہیں جو طویل عرصے سے میرٹ پر اپنی تقرری کے منتظر تھے تقریباً تین دہائیوں سے پٹواری کی تقرری کے منتظر امیدوار عبدالجبار اور محمد صدیق کو بھی بالآخر میرٹ کی بنیاد پر تقرری کے احکامات جاری کیے گئے عبدالجبار نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مایوس ہو کر گھر بیٹھ گئے تھے، تاہم امید کی کرن کبھی نہ کبھی ضرور روشن ہوتی ہے۔ انہوں نے میرٹ کی بنیاد پر تقرریوں کے احکامات جاری کرنے والے اعلیٰ حکام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا محمد صدیق نے کہا کہ انہوں نے 1992 میں پٹوار کا کورس مکمل کیا تھا اور طویل عرصے تک مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگاتے رہے، تاہم اب وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، چیف سیکرٹری شکیل قادر خان اور کمشنر آفس کی کاوشوں سے انہیں میرٹ کے مطابق تقرری کا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ انہیں فون کرکے دفتر بلایا گیا اور تقرری کا حکم نامہ حوالے کیا گیا جو ان کے لیے طویل انتظار کے بعد بڑی خوشی کا باعث ہے حکام کے مطابق نصیر آباد ڈویژن میں ہونے والی یہ تمام تقرریاں اعلیٰ حکام کی ہدایات پر شفافیت، میرٹ اور قواعد و ضوابط کو یقینی بناتے ہوئے مکمل کی گئی ہیں ان اقدامات کا بنیادی مقصد سرکاری اداروں میں خالی آسامیوں کو پُر کرکے عوام کو صحت، تعلیم اور ریونیو سمیت بنیادی سرکاری خدمات کی بہتر فراہمی یقینی بنانا ہے۔
خبر نامہ نمبر7586/2026
برشور10 ستمبر۔ڈپٹی کمشنر برشور فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس نے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ برشور کے عوام کی فلاح و بہبود اور پسماندگی کے خاتمے کے لیے شب و روز کوشاں ہے۔ عوام کو سرکاری دفاتر کے چکروں سے نجات دلانے کے لیے بہت جلد کمپیوٹرائزڈ ریونیو ریکارڈ کو مستقل طور پر ضلع برشور منتقل کر دیا جائے گا، جس سے مقامی سطح پر شفافیت اور عوامی امور میں تیزی آئے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلعی افسران اور عوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ کمپیوٹرائزڈ ریونیو ریکارڈ کی برشور منتقلی سے شہریوں کو زمینوں کی خرید و فروخت، فرد کے حصول اور دیگر مالیاتی امور میں نہ صرف بڑی سہولت ملے گی بلکہ کرپشن اور تاخیری حربوں کا بھی خاتمہ ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ گڈ گورننس کا قیام اور سرکاری خدمات تک عوام کی آسان رسائی موجودہ انتظامیہ کا بنیادی ہدف ہے۔ ضلع برشور کے دیرینہ مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا رہا ہے تاکہ علاقے میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے اپنے دفاتر کے دروازے عوام کے لیے کھلے رکھیں۔
خبر نامہ نمبر7587/2026
اوتھل 10ستمبر:۔ڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرا بلوچ نے کہا ہیکہ طلبہ و طالبات اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، اپنے مستقبل کے لیے واضح اہداف مقرر کریں اور کامیابی کے حصول کے لیے مسلسل محنت کو اپنا شعار بنائیں۔ یہ بات انہوں نے لسبیلہ یونیورسٹی ایگریکلچر واٹر اینڈ میرین سائنسز میں کیریئر کاؤنسلنگ اور یوتھ آگاہی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب میں کہی ڈپٹی کمشنر حمیرابلوچ اوراسسٹنٹ کمشنر کنراج کشش چوہدری نے طلبہ طالبات کو CSS، PSC اور دیگر مسابقتی امتحانات کے طریق کار،،تمام ٹیسٹ کے ٹائم پیریڈز،تیاری، تعلیمی اہلیت، امتحانی مراحل اور مستقبل میں سرکاری و انتظامی شعبوں میں مواقع کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کیں۔تقریب کے اختتامی مرحلے میں یونیورسٹی کے مختلف طلبہ و طالبات نے کیریئر، CSS، PSC اور مستقبل کے مواقع سے متعلق سوالات کیے، جن کے کمشنر لسبیلہ اور اسسٹنٹ کمشنر کنراج نے تفصیلی اور اطمینان بخش جوابات دیے۔ سوال و جواب کا یہ سلسلہ طلبہ کے لیے خصوصی دلچسپی اور رہنمائی کا باعث بنا۔اس موقع پر ایجوکیشن ہال طلبہ و طالبات سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ نوجوانوں کی بھرپور شرکت اور کیریئر کاؤنسلنگ میں ان کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے معزز مہمانوں نے لسبیلہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے نوجوان نسل کی رہنمائی اور تعلیمی و فکری تربیت کے لیے کی جانے والی انتھک کوششوں کو سراہا۔کمشنر لسبیلہ۔ ڈویژن سائرہ عطاء کی ہدایت پر کیریر کونسلنگ تقریب کے انعقاد کامقصد نوجوانوں کو ڈگری کے حصول تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں عملی زندگی، مسابقتی امتحانات اور مستقبل کے بہتر کیریئر کے لیے بروقت رہنمائی فراہم کرنا تھا، جو کمشنر لسنیلہ ڈویژن کی جانب سے یقیناً نوجوان نسل کے روشن مستقبل کی جانب ایک مثبت اور قابلِ تحسین قدم ہے۔
خبر نامہ نمبر7588/2026
رکھنی10 ستمبر: ڈپٹی کمشنر بارکھان سعیدالرحمن کاکڑ کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر رکنی فہد حسین عمرانی نے ویٹرنری ڈاکٹر سعید احمد کے ہمراہ گوشت مارکیٹ کا دورہ کیا۔دورانِ کارروائی قصائی کی فریج سے 8 کلو مضرِ صحت گوشت برآمد ہوا، جسے اسسٹنٹ کمشنر نے موقع پر ہی تلف کر دیا، جبکہ متعلقہ دکاندار پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے دکاندار کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی صحت سے کھیلنے اور مضرِ صحت گوشت فروخت کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ ایسی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ عوام کو معیاری اور صحت بخش گوشت کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے چیکنگ کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا کہ مضرِ صحت یا غیر معیاری گوشت فروخت کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر7589/2026
خضدار 10 ستمبر: شیشہ کیفے چلانے پر مکمل پابندی عائد، خلاف ورزی پر ہوٹل سیل اور مالکان کے خلاف مقدمات درج کرنے کا حکم ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی خصوصی ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر خضدار حفیظ اللہ کاکڑ نے شہر بھر میں شیشہ کیفے چلانے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس اہم فیصلے کا مقصد نوجوان نسل کو منفی و مضرِ صحت سرگرمیوں سے محفوظ رکھنا اور علاقے میں امن و امان کی فضا کو بحال رکھنا ہے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تمام ہوٹل، ریسٹورنٹ اور کیفے مالکان کو سخت تنبیہ جاری کی گئی ہے کہ وہ شیشہ کیفے کا سلسلہ فوراً بند کر دیں۔انتظامیہ کے مطابق حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری اور بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں نہ صرف متعلقہ ہوٹل یا کیفے کو موقع پر ہی سیل کر دیا جائے گا، بلکہ ان کے مالکان کے خلاف قانونی مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔اسسٹنٹ کمشنر خضدار نے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ کی خاص ٹیمیں مختلف علاقوں کا باقاعدگی سے معائنہ کریں گی تاکہ حکم نامے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے عوام اور بالخصوص والدین سے اپیل کی کہ وہ اس مہم میں انتظامیہ کا ساتھ دیں اور اپنے بچوں کی مثبت سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کریں۔
خبر نامہ نمبر7590/2026
حب10ستمبر:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت صوبے کے ہر شہری کو اس کی دہلیز پر معیاری بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے محکمہ صحت کی جانب سے بنیادی مراکز صحت کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کا عمل جاری ہے۔ اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی حب ڈاکٹر مرشد دشتی نے بی ایچ یو پنیان اور بی ایچ یو لانگ لوہار کا مانیٹرنگ دورہ کیا۔دورے کے دوران دونوں مراکز صحت میں بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی، عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی، انفراسٹرکچر، ای پی آئی، ایم سی ایچ سروسز اور دیگر طبی خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر پی پی ایچ آئی کے مقررہ کے پی آئیز اور DHIS-2 پر ڈیٹا رپورٹنگ کی صورتحال بھی چیک کی گئی۔ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرشد دشتی نے مراکز صحت کے عملے کی کارکردگی اور عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے سروس ڈیلیوری کے معیار کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا۔
خبر نامہ نمبر7591/2026
لسبیلہ 10ستمبر:۔محکمہ صحت اورلسبیلہ انسٹی ٹیوٹ آف ماڈرن سائنس کے زیرنگرانی ڈپلومہ سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کی تقریب ریسٹ ہاؤس آڈیٹوریم اوتھل میں منعقد ہوئی تقریب میں ڈپٹی کمشنر اوتھل حمیرابلوچ اسسٹنٹ کمشنر کنراج کشش چوہدری شریک ہوئیں جبکہ کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے بطور مہمان خصوصی تقریب میں شرکت کی۔ تقریب میں ڈپلومہ پروگرام مکمل کرنے والی طالبات میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے۔پراجیکٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد حیات رونجھو نے تقریب میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آواران، وڈھ، گوادر، حب اور لسبیلہ سے تعلق رکھنے والی طالبات کے چھ بیچز ڈپلومہ پروگرام سے مستفید ہوچکے ہیں اور اببتک 150طالبات اسکلڈ میڈیکل ٹیکنیشن کہ تربیت حاصل کرچکی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ادارے کی جانب سے تھیلیسیمیا سینٹر کے قیام کے حوالے سے بھی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے، جس کا مقصد مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی اور معاشرے میں صحت سے متعلق خدمات کو مزید مؤثر بنانا ہے۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے ڈپلومہ پروگرام مکمل کرنے والی طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ فنی و پیشہ ورانہ تعلیم نوجوانوں بالخصوص خواتین کو بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے حکومت بلوچستان محکمہ صحت اور لسبیلہ انسٹی ٹیوٹ آف ماڈرن سائنس کے مابین کوآرڈینیشن سے ہیلتھ کے شعبے میں طالبات کو ڈپلومہ کورسز تعلیمی و فنی خدمات کو وزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی کی قیادت میں حکومت کی کامیاب پالیسی قراردیا۔اوراس عزم کا اظہار کیا کہ انتظامیہ محکمہ صحت اس ہنرمندپروگرام۔ کی بھرپورحوصلہ افزاء کریگی۔
خبر نامہ نمبر7592/2026
کوئٹہ10 ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی کی زیر صدارت ضلع کوئٹہ ویسٹ میں گداگری کے تدارک اور عوامی مقامات پر شہریوں کو درپیش مشکلات کے خاتمے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) کوئٹہ ویسٹ علی درانی، ایڈمنسٹریٹر سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ سمی اللہ بگٹی، اسسٹنٹ کمشنر پنچپائی عبدالقیوم بلوچ، اسسٹنٹ کمشنر بروری کاشف عمار بلوچ، اور اسسٹنٹ کمشنر کچلاک کبیر مزاری نے شرکت کی۔اجلاس میں شہر کے مختلف عوامی مقامات، بالخصوص بازاروں، ہوٹلز، تجارتی مراکز، اہم شاہراہوں اور دیگر مصروف مقامات پر گداگروں کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور اس کے باعث شہریوں کو پیش آنے والی مشکلات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلعی انتظامیہ کوئٹہ ویسٹ اور محکمہ سوشل ویلفیئر مشترکہ طور پر گداگری کے خلاف جامع کریک ڈاؤن کا آغاز کریں گے، جو مسلسل جاری رہے گا۔ڈپٹی کمشنر منیر احمد درانی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ضلع کے تمام اہم عوامی مقامات کی نشاندہی کرکے وہاں مربوط اور مؤثر کارروائیاں کی جائیں۔ کارروائی کے دوران گداگروں کو محض عوامی مقامات سے ہٹانے کے بجائے انہیں محکمہ سوشل ویلفیئر کے متعلقہ مراکز اور بحالی (Rehabilitation) کے اداروں میں منتقل کیا جائے تاکہ ان کی مناسب دیکھ بھال اور بحالی کے لیے ضروری اقدامات کیے جاسکیں۔ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ اس مہم کا بنیادی مقصد شہریوں کو پُرسکون اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ گداگری میں ملوث افراد کی مناسب بحالی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران ضلعی انتظامیہ اور محکمہ سوشل ویلفیئر کے درمیان مؤثر رابطہ اور مشترکہ کارروائی یقینی بنائی جائے۔
خبر نامہ نمبر7593/2026
سوراب10 ستمبر: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے وژن اور BSDI کے تحت ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول ہال میں سوراب کی تاریخ میں پہلی بار گرینڈ خواتین کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا کھلی کچہری میں ایف سی بلوچستان 61 ونگ کمانڈر کرنل سید فخر رفیق طلحہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سلمان علی بلیدی، اسسٹنٹ کمشنر سوراب شئے اکبر علی بلوچ، ڈی ایس پی سوراب بلاول محمد حسنی، ضلعی افسران، اساتذہ، طالبات اور 200 سے زائد خواتین نے شرکت کی خواتین نے بجلی، گیس، BISP، بینظیر انکم نشونما پروگرام، فیملی پارک، پبلک لائبریری، شاپنگ سینٹر، تعلیم، صحت، نادرا اور صاف پانی سمیت مختلف مسائل پیش کیے، جن پر ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو فوری کارروائی اور مسائل کے حل کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں اس موقع پر کرنل سید فخر رفیق طلحہ نے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل کے حل کے لیے جلد از جلد متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کارروائی کی جائے گی اور ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ نے کہا کہ خواتین کے مسائل کا حل اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ BSDI کے تحت سوراب کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات جاری رہیں گے۔
خبر نامہ نمبر7594/2026
نصیرآباد10ستمبر:۔محکمہ صحت ضلع نصیرآباد کی مختلف آسامیوں پر بھرتی کے سلسلے میں امیدواروں کے انٹرویوز آج ڈپٹی کمشنر نصیرآباد و چیئرمین سلیکشن کمیٹی وریندر لعل کی زیرِ صدارت ٹراما سینٹر نصیرآباد میں منعقد ہوئے انٹرویوز کے لیے تشکیل دیے گئے پینل میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد و چیئرمین سلیکشن کمیٹی وریندر لعل ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور دیگر متعلقہ پینل ممبران شامل تھے اس موقع پر محکمہ صحت کی مختلف آسامیوں بالخصوص BPS-01 تا15۔ BPS کی آسامیوں کے لیے درخواستیں جمع کرانے والے امیدواروں کے انٹرویوز مقررہ طریقہ کار اور شفافیت کے اصولوں کے مطابق لیے گئے انٹرویو کے دوران امیدواروں کی تعلیمی قابلیت متعلقہ تجربے اہلیت اور دیگر مقررہ معیار کا جائزہ لیا گیا جبکہ ہر امیدوار کو اپنی صلاحیتوں اور قابلیت پیش کرنے کا مساوی موقع فراہم کیا گیا۔ انٹرویو پینل نے امیدواروں کے کوائف اور متعلقہ دستاویزات کا بھی جائزہ لیا تاکہ بھرتی کا عمل میرٹ اور قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کیا جا سکے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد و چیئرمین سلیکشن کمیٹی وریندر لعل نے کہا کہ محکمہ صحت کی آسامیوں پر بھرتی کے عمل میں شفافیت، میرٹ اور غیر جانب داری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا کسی بھی امیدوار کے ساتھ ناانصافی یا امتیازی سلوک نہیں ہونے دیا جائے گا اور تمام امیدواروں کی اہلیت کو مقررہ معیار کے مطابق پرکھا جائے گا انہوں نے کہا کہ حقدار اور میرٹ پر پورا اترنے والے امیدوار ہی انتخاب کے مستحق ہوں گے اور سلیکشن کا تمام عمل حکومتی قواعد و ضوابط اور مقررہ بھرتی پالیسی کے تحت مکمل کیا جائے گا انہوں نے انٹرویو پینل کے ارکان کو بھی ہدایت کی کہ امیدواروں کی جانچ پڑتال کے دوران مکمل غیر جانب داری شفافیت اور میرٹ کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ محکمہ صحت میں اہل اور قابل افراد کی تعیناتی سے نہ صرف اداروں کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی میں بھی مزید بہتری آئے گی
خبر نامہ نمبر7595/2026
کوئٹہ10ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات پر اسسٹنٹ کمشنر صدر کوئٹہ محمد یوسف ہاشمی کی نگرانی میں صدر سب ڈویژن کے مختلف علاقوں میں آٹے کی مقررہ نرخ سے زائد قیمت پر فروخت کے خلاف کارروائی کی گئی۔کارروائی کے دوران آٹا ڈیلرز، ریٹیلرز اور مختلف دکانوں کا معائنہ کیا گیا اور سرکاری نرخ ناموں کی جانچ کی گئی۔ مقررہ نرخ سے زائد قیمت پر آٹا فروخت کرنے اور سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی پر 11 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ضلعی انتظامیہ نے تمام تاجروں کو ہدایت کی کہ سرکاری نرخ نامہ نمایاں جگہ پر آویزاں کریں اور آٹا سمیت تمام اشیائے ضروریہ مقررہ نرخوں پر فروخت کریں۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ عوامی شکایات کی روشنی میں ناجائز منافع خوری، مصنوعی مہنگائی اور صارفین کے استحصال کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
خبر نامہ نمبر7596/2026
کوئٹہ 10ستمبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات پر اسسٹنٹ کمشنر سٹی امیر حمزہ اور ان کی ٹیم نے سٹی سب ڈویژن کے مختلف علاقوں میں آٹے کی زائد قیمت پر فروخت کے خلاف پرائس کنٹرول کارروائی کی۔کارروائی کے دوران آٹا ڈیلرز، ریٹیلرز اور مختلف دکانوں کا معائنہ کیا گیا اور حکومتی نرخوں پر آٹے کی فروخت کو یقینی بنانے کے لیے قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔مقررہ نرخ سے زائد قیمت پر آٹا فروخت کرنے پر 6 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق آٹے کی زائد قیمت پر فروخت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ عوام کو مقررہ نرخوں پر آٹے کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔
خبر نامہ نمبر7597/2026
نصیرآباد10ستمبر:۔ محکمہ صحت ضلع نصیرآباد کی مختلف آسامیوں پر بھرتی کے سلسلے میں امیدواروں کے انٹرویوز آج ڈپٹی کمشنر نصیرآباد و چیئرمین سلیکشن کمیٹی وریندر لعل کی زیرِ صدارت ٹراما سینٹر نصیرآباد میں منعقد ہوئے انٹرویوز کے لیے تشکیل دیے گئے پینل میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد و چیئرمین سلیکشن کمیٹی وریندر لعل ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور دیگر متعلقہ پینل ممبران شامل تھے اس موقع پر محکمہ صحت کی مختلف آسامیوں بالخصوص BPS-01 تا BPS-04 کی آسامیوں کے لیے درخواستیں جمع کرانے والے امیدواروں کے انٹرویوز مقررہ طریقہ کار اور شفافیت کے اصولوں کے مطابق لیے گئے انٹرویو کے دوران امیدواروں کی تعلیمی قابلیت متعلقہ تجربے اہلیت اور دیگر مقررہ معیار کا جائزہ لیا گیا جبکہ ہر امیدوار کو اپنی صلاحیتوں اور قابلیت پیش کرنے کا مساوی موقع فراہم کیا گیا۔ انٹرویو پینل نے امیدواروں کے کوائف اور متعلقہ دستاویزات کا بھی جائزہ لیا تاکہ بھرتی کا عمل میرٹ اور قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کیا جا سکے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد و چیئرمین سلیکشن کمیٹی وریندر لعل نے کہا کہ محکمہ صحت کی آسامیوں پر بھرتی کے عمل میں شفافیت، میرٹ اور غیر جانب داری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا کسی بھی امیدوار کے ساتھ ناانصافی یا امتیازی سلوک نہیں ہونے دیا جائے گا اور تمام امیدواروں کی اہلیت کو مقررہ معیار کے مطابق پرکھا جائے گا انہوں نے کہا کہ حقدار اور میرٹ پر پورا اترنے والے امیدوار ہی انتخاب کے مستحق ہوں گے اور سلیکشن کا تمام عمل حکومتی قواعد و ضوابط اور مقررہ بھرتی پالیسی کے تحت مکمل کیا جائے گا انہوں نے انٹرویو پینل کے ارکان کو بھی ہدایت کی کہ امیدواروں کی جانچ پڑتال کے دوران مکمل غیر جانب داری شفافیت اور میرٹ کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ محکمہ صحت میں اہل اور قابل افراد کی تعیناتی سے نہ صرف اداروں کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی میں بھی مزید بہتری آئے گی۔
خبر نامہ نمبر7598/2026
کوئٹہ 10ستمبر:۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات اور عوامی شکایات پر اسسٹنٹ کمشنر سریاب مصور احمد کی ٹیم نے سیٹلائٹ ٹاؤن کے علاقے میں آٹے کی زائد قیمت پر فروخت کے خلاف کارروائی کی۔کارروائی کے دوران آٹا ڈیلرز، ریٹیلرز اور مختلف دکانوں کا معائنہ کیا گیا اور سرکاری طور پر مقرر کردہ نرخوں پر آٹے کی فروخت کو یقینی بنانے کے لیے قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔سرکاری نرخوں سے زائد قیمت پر آٹا فروخت کرنے والے 7 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ضلعی انتظامیہ کوئٹہ نے واضح کیا ہے کہ عوامی شکایات پر فوری کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا اور مقررہ سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر7599/2026
کوئٹہ10ستمبر:۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات پر اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ اور اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی کی نگرانی میں صدر سب ڈویژن کے مختلف علاقوں میں آٹے کی مقررہ نرخ سے زائد قیمت پر فروخت کے خلاف کارروائی کی گئی۔کارروائی کے دوران آٹا ڈیلرز، ریٹیلرز اور مختلف دکانوں کا معائنہ کیا گیا اور سرکاری نرخ ناموں کی جانچ کی گئی۔ مقررہ نرخ سے زائد قیمت پر آٹا فروخت کرنے اور سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی پر 11 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ضلعی انتظامیہ نے تمام تاجروں کو ہدایت کی کہ سرکاری نرخ نامہ نمایاں جگہ پر آویزاں کریں اور آٹا سمیت تمام اشیائے ضروریہ مقررہ نرخوں پر فروخت کریں۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ عوامی شکایات کی روشنی میں ناجائز منافع خوری، مصنوعی مہنگائی اور صارفین کے استحصال کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
خبر نامہ نمبر7600/2026
کوئٹہ 10ستمبر:۔بلوچستان پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیرِ صدارت بلوچستان صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس میں کمیٹی کے ارکان عبید اللہ گورگیج، صفیہ فضل، فضل قادر مندوخیل اور محمد خان لہڑی نے شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری جنگلات عمران گچکی، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ شجاع علی،اسپیشل سیکریٹری سراج لہڑی، ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال سمیت متعلقہ محکموں کے دیگر افسران شریک ہوئے۔اجلاس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر، ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام (فاریسٹری اینڈ وائلڈ لائف کمپوننٹس)، حکومت بلوچستان کے مالی سال 2019-22 کے خصوصی آڈٹ سے متعلق آڈٹ رپورٹ 2022-23 کے مختلف پیراز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ محکمہ کی جانب سے منصوبے کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی گئی، جس کے بعد آڈٹ اعتراضات پر تفصیلی غور کیا گیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ مذکورہ آڈٹ پیراز پر آڈٹ رپورٹ کی تکمیل سے قبل ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (DAC) کا اجلاس منعقد نہیں کیا گیا تھا، جس کے باعث پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے خصوصی آڈٹ کی ہدایت کی تھی۔ کمیٹی نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ خصوصی آڈٹ سے متعلق رپورٹ تاحال PAC کو موصول نہیں ہوئی۔آڈٹ پیرا 4.1.1 کے تحت ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام کی سرگرمیوں میں سست روی کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ کے مطابق منصوبے کی مدت کے دوران پروجیکٹ امپلیمنٹیشن یونٹس (PIUs) میں افسران کے بار بار تبادلوں اور پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (PMU) میں ضروری اسامیوں پر بروقت تعیناتی نہ ہونے کے باعث منصوبے کی مالی و طبعی پیش رفت متاثر ہوئی۔آڈٹ کے مطابق گزشتہ تین سال کے دوران منصوبے کی مجموعی طبعی پیش رفت صرف 12.43 فیصد جبکہ مالی پیش رفت 10 فیصد رہی۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام سے منصوبے کی سست روی کی وجوہات اور موجودہ صورتحال کے بارے میں وضاحت طلب کی۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ چونکہ مذکورہ پیراز پر پہلے DAC کا اجلاس منعقد نہیں ہوا تھا، اس لیے انہیں DAC کو بھیجا جائے اور DAC مقررہ مدت میں اجلاس منعقد کرکے اپنی سفارشات PAC کے آئندہ اجلاس میں پیش کرے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ DAC کا پہلا اجلاس 12 نومبر 2025 کو منعقد ہو چکا ہے، تاہم آڈٹ حکام کے مطابق محکمہ کی جانب سے منصوبے کی فزیکل ویری فکیشن کے عمل میں تاحال مطلوبہ تعاون نہیں کیا جا رہا۔کمیٹی نے محکمہ کو ہدایت کی کہ 20 روز کے اندر آڈٹ حکام کو مطمئن کرکے فزیکل ویری فکیشن کا عمل مکمل کیا جائے اور پیش رفت سے PAC کو آگاہ کیا جائے۔اجلاس میں منصوبے کے تحت نرسری انفراسٹرکچر کے اہداف پورے نہ ہونے سے متعلق 55.420 ملین روپے کے مالی نقصان کے آڈٹ پیرا کا بھی جائزہ لیا گیا۔آڈٹ کے مطابق منصوبے کے تحت صوبے میں 70 نرسری سائٹس قائم، ترقی یافتہ یا اپ گریڈ کی جانی تھیں، تاہم مختلف PIUs میں مطلوبہ نرسری انفراسٹرکچر قائم نہ کیے جانے کے باعث منصوبے کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔کمیٹی نے آڈٹ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کے تحت قائم کی جانے والی نرسریوں کی مجموعی تعداد، مکمل ہونے والی نرسریوں اور متعلقہ محکموں کے حوالے کی جانے والی نرسریوں کی تفصیلات حاصل کرکے PAC کے سامنے پیش کی جائیں۔اجلاس میں GIS/FMIS نظام کے عدم قیام سے متعلق آڈٹ پیرا بھی زیرِ غور آیا۔ آڈٹ کے مطابق مذکورہ نظام کے قیام کا مقصد منصوبے کی سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی، ڈیٹا کے حصول اور پیش رفت کا بروقت جائزہ لینا تھا، تاہم مطلوبہ نظام کے مؤثر قیام نہ ہونے کے باعث منصوبے کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ متاثر ہوئی۔محکمہ کی جانب سے GIS/FMIS نظام سے متعلق ریکارڈ اور تفصیلات کمیٹی کے سامنے پیش کی گئیں، جن کا جائزہ لیا گیا۔چیئرمین PAC اصغر علی ترین نے خصوصی محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس اور زیرِ التوا معاملات میں تاخیر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ کو بارہا وقت دیا گیا، تاہم مطلوبہ پیش رفت سامنے نہیں آئی۔کمیٹی نے متعلقہ محکمہ کو مزید 15 روز کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام زیرِ التوا معاملات مکمل کرکے آڈٹ حکام کو مطمئن کیا جائے اور PAC کو پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ ذمہ داری کا تعین ہونے کی صورت میں متعلقہ افسران کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔آڈٹ حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ بعض پیراز پر محکمہ کی جانب سے جوابات موصول ہو چکے ہیں جبکہ فراہم کردہ اعداد و شمار کی تصدیق بھی کی جا چکی ہے۔شجرکاری پر 1,236.719 ملین روپے کے اخراجات کا جائزہ اجلاس میں ضلع کوآرڈینیشن کمیٹیوں کے مؤثر کردار کے بغیر شجرکاری سرگرمیوں پر 1,236.719 ملین روپے کے اخراجات سے متعلق آڈٹ پیرا بھی تفصیلی طور پر زیرِ بحث آیا۔آڈٹ کے مطابق مختلف PIUs کی جانب سے شجرکاری کے لیے پودوں کی خرید و کاشت پر مذکورہ رقم خرچ کی گئی، تاہم متعلقہ اضلاع میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹیوں کے اجلاس منعقد نہیں کیے گئے اور شجرکاری کے مقامات کے انتخاب سمیت متعلقہ محکموں کی ضروریات کے تعین کے لیے مطلوبہ مشاورت نہیں کی گئی۔کمیٹی نے معاملے کی اہمیت اور خطیر عوامی رقم کے استعمال کے پیش نظر ہدایت کی کہ آڈٹ کو موصول ہونے والے ریکارڈ کی مزید تصدیق متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے کرائی جائے، تاکہ اخراجات، شجرکاری کے مقامات اور منصوبے کے عملی نتائج کی مکمل جانچ پڑتال کی جا سکے۔اجلاس میں محکمہ جنگلات و جنگلی حیات سے متعلق بعض آڈٹ پیراز کو مطلوبہ ریکارڈ اور وضاحتوں کی فراہمی کے بعد سیٹل کر دیا گیا، جبکہ دیگر پیراز کے لیے محکمہ کو مقررہ مدت میں مطلوبہ کارروائی مکمل کرنے کے لیے وقت دیا گیا۔دورانِ اجلاس چیئرمین PAC اصغر علی ترین نے آڈٹ حکام کو ہدایت کی کہ محکمہ جنگلات کی جانب سے ایک مقام پر تعمیر کیے جانے والے گھر کے معاملے کا بھی جائزہ لیا جائے، کیونکہ چیئرمین کے مطابق مذکورہ نوعیت کا تعمیراتی کام محکمہ جنگلات کے بجائے محکمہ مواصلات و تعمیرات (C&W) کے دائر? کار سے متعلق ہے۔ آڈٹ حکام کو معاملے کی جانچ کرکے حقائق کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی کمیٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ 15 ارب روپے سے زائد کا ایک وسیع اور اہم منصوبہ ہے، جس پر اب تک 6 ارب 35 کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کی جا چکی ہے۔ گزشتہ دس سال سے جاری اس پروجیکٹ میں اربوں روپے بہا دینے کے باوجود محکمہ کی عملی کارکردگی صفر رہی ہے، اس موقع پرعبیداللہ گورگیج نے کہا اسی لیے تمام نرسریوں کی شفافیت کی تصدیق متعلقہ ڈپٹی کمشنر یا کمشنر سے کروائی جائے گی۔ اگر محکمہ نے پی اے سی کی ہدایات پر عمل درآمد نہ کیا تو یہ کیس کارروائی کے لیے نیب (NAB) کے حوالے کر دیا جائے گا۔چیئرمین PAC اصغر علی ترین نے واضح کیا کہ کمیٹی غیر ضروری تاخیر اور بار بار وقت دینے کے عمل کو مزید برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر مطلوبہ ریکارڈ، جوابات اور رپورٹس فراہم کریں تاکہ عوامی فنڈز کے استعمال، منصوبے کی کارکردگی اور آڈٹ اعتراضات سے متعلق معاملات کو شفاف انداز میں منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر7601/2026
کوئٹہ 10ستمبر:۔چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت اہم اجلاس میں کوئٹہ ماسٹر پلان پر مؤثر عملدرآمد، شہر میں قائم ڈیری فارمز کو شہری حدود سے باہر منتقل کرنے، پانی کے وسائل کے بہتر استعمال، بلڈنگ کوڈز پر عملدرآمد اور سرکاری ملازمین کے طبی معاوضے کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں محکمہ شہری منصوبہ بندی و ترقی (UP&D)، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ شہری حدود میں قائم ڈیری فارمز سے فضلہ جات کی تلفی، صفائی و حفظانِ صحت، انسانی و حیوانی صحت، ٹریفک اور ماحولیاتی آلودگی سمیت مختلف مسائل پیدا ہو رہے ہیں، جس کے پیش نظر ڈیری فارمز کو مرحلہ وار شہری حدود سے باہر منتقل کرنے کی اصولی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں ڈیری فارمز کی منتقلی کے لیے اراضی کی دستیابی، لاجسٹکس اور متوقع اخراجات سے متعلق ابتدائی تجاویز اور تخمینے بھی پیش کیے گئے۔ چیف سیکرٹری نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ڈیری فارمز کی منتقلی کے لیے جامع اور قابلِ عمل نفاذی منصوبہ تیار کیا جائے، جس میں مرحلہ وار منتقلی کا شیڈول، ذمہ دار اداروں، ضروری سہولیات، لاجسٹکس اور عملدرآمد کی واضح ٹائم لائن شامل ہو۔ انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبے سے متعلق تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ عملدرآمد کے دوران کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ کوئٹہ ماسٹر پلان کے حوالے سے چیف سیکرٹری نے دستیاب ڈیٹا اور منصوبہ بندی کے عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ صنعتی، زرعی اور رہائشی زوننگ کے درمیان مناسب توازن برقرار رکھتے ہوئے شہری آبادی کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کو صاف، محفوظ، منظم اور پائیدار شہری ماحول فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اس لیے ماسٹر پلان کے نفاذ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط حکمت عملی کے تحت بروقت اقدامات کریں۔ چیف سیکرٹری نے کوئٹہ میں پانی کی قلت کو اہم چیلنج قرار دیتے ہوئے پانی کے تحفظ اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے ریچارج ویلز کے قیام اور مساجد کے وضو کے استعمال شدہ پانی کو مناسب طریقہ کار کے تحت دوبارہ قابلِ استعمال بنا کر زرعی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے اقدام کو سراہا اور اس حوالے سے عملی اقدامات مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے بلڈنگ کوڈز پر مؤثر اور بلاامتیاز عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شہری منصوبہ بندی کے ضوابط پر عملدرآمد میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں سرکاری ملازمین کے طبی معاوضے اور ری ایمبرسمنٹ کے موجودہ نظام کا بھی جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے موجودہ پالیسی کا ازسرنو جائزہ لے کر اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور طبی اخراجات کی ادائیگی کے لیے مؤثر، شفاف اور یکساں نظام وضع کرنے کی فوری ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ری ایمبرسمنٹ کے لیے باقاعدہ اور واضح قواعد و ضوابط وضع کیے جائیں اور پسند و ناپسند کی بنیاد پر کسی بھی قسم کا امتیازی سلوک ناقابلِ قبول ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ غریب اور مستحق عوام کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ چیف سیکرٹری نے متعلقہ حکام کو سرکاری ملازمین کے لیے ہیلتھ کارڈ کے نفاذ کے عمل کو تیز کرنے، مربوط ڈیجیٹل میکانزم قائم کرنے اور تمام متعلقہ محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ و ہم آہنگی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اصلاحاتی اقدامات میں غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور متعلقہ ادارے مقررہ اہداف کے مطابق پیش رفت یقینی بنائیں۔
خبر نامہ نمبر7602/2026
کوئٹہ10 ستمبر:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مستونگ کے علاقے کانک میں پولیس چوکی پر دہشت گردوں کی فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن کے محافظوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔ وزیر اعلیٰ نے فائرنگ کے نتیجے میں سپاہی عزت اللہ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے شہید پولیس اہلکار کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمی سپاہی نصیب اللہ کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ان کے علاج معالجے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے جوان اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر صوبے کے امن کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید سپاہی عزت اللہ کی قربانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ذریعے صوبے کے امن کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیوں میں کوئی کمزوری یا نرمی نہیں برتی جائے گی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں۔ ریاستی اداروں کی قربانیوں اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں صوبے میں امن کی صورتحال ضرور بہتر ہوگی اور امن دشمن عناصر کی باقیات کو بھی ختم کیا جائے گا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔ دہشت گرد چاہے جہاں بھی چھپے ہوں، انہیں تلاش کرکے انہیں ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے شہید سپاہی عزت اللہ کے درجات کی بلندی، لواحقین کے لیے صبر جمیل اور زخمی سپاہی نصیب اللہ کی جلد مکمل صحت یابی کے لیے دعا کی۔
خبر نامہ نمبر7603/2026
تربت 10ستمبر:۔جامعہ تربت کے شعبہ اکنامکس کی فیکلٹی گریجویٹ ریسرچ کمیٹی (ایف جی آر سی) کا پہلا اجلاس فیکلٹی آف بزنس اینڈ اکنامکس کے ڈین ڈاکٹر عدیل احمد کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں شعبہ اکنامکس میں جدید تحقیقی کلچر کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی گائیڈلائنز کی روشنی میں شعبہ اکنامکس میں پی ایچ ڈی پروگرام شروع کرنے کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں، تاکہ جامعہ تربت کو اعلی اور معیاری تحقیقی سرگرمیوں کے لیے اس خطے کا سب سے بڑا مرکز بنایا جا سکے۔کمیٹی نے ایم ایس اکنامکس کے اسکالرز کی جانب سے جمع کردہ تحقیقی عنوانات کا تفصیلی جائزہ لیا اور سپروائزر اور کو سپروائزر کی تقرری کی منظوری دی، تاہم کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ تحقیقی عنوانات میں مزید بہتری لانے کے بعد ہی ان کی باضابطہ منظوری دی جائے گی، تاکہ تحقیقی معیار کو مزید بلند کیا جا سکے۔تحقیقی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے کمیٹی نے ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی اسکالرز کی ریسرچ ورکشاپس اور سیمینارز میں شرکاء کی حاضری کو لازمی قرار دیا۔ اس کے علاوہ ہر اسکالر کی ریسرچ فائل بنانے اور اسے باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھنے پر بھی زور دیاگیا۔اجلاس میں گریجویٹ اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر وسیم برکت، شعبہ اکنامکس کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عبدالقیوم، شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر بدل خان اور پروگرام کوآرڈینیٹر امیر بخش نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر اپنے پیغام میں وائس چانسلر ڈاکٹر گل حسن نے یونیورسٹی کے آئینی اداروں کے اجلاسوں کے بروقت انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے جامعہ تربت کو قومی سطح پر تحقیق و تعلیم کے میدان میں جدید تحقیق کا مرکز بنانے میں مدد ملے گی۔ جامعہ تربت کے ترجمان کے مطابق، وائس چانسلر نے مزید کہا کہ یونیورسٹی نے اپنے اسٹریٹجک پلان 2030 کے تحت ایک سازگار تحقیقی ماحول کی فراہمی کا عزم کر رکھا ہے، تاکہ ملک اور بیرون ملک سے محققین معیاری تحقیق کے لیے جامعہ تربت کا رخ کریں۔
خبر نامہ نمبر7604/2026
کوئٹہ: حکومت بلوچستان کے محکمہ صحت نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے ڈاکٹر نور اللہ موسیٰ خیل (GC/B-19) پر عائد کی گئی تمام سزائیں ختم کر کے انہیں الزامات سے باوقار طور پر بری کر دیا ہے۔محکمہ صحت بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ڈاکٹر نور اللہ موسیٰ خیل کی اپیل پر غور کرتے ہوئے اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کی حتمی منظوری کے بعد مجاز حکام نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اس سے قبل 31 مارچ 2026ء کے نوٹیفکیشن کے تحت ڈاکٹر نور اللہ موسیٰ خیل پر جو سزائیں عائد کی گئی تھیں، انہیں فوری طور پر واپس لیتے ہوئے معطل کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمٰن کے حکم سے باقاعدہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔
خبر نامہ نمبر7605/2026
کوئٹہ10 ستمبر:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے مستونگ کے علاقے کانک میں پولیس چوکی پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد عناصر امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش میں کامیاب نہیں ہوں گے شاہد رند نے فائرنگ کے نتیجے میں پولیس اہلکار سپاہی عزت اللہ کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہید اہلکار کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمی سپاہی نصیب اللہ کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے دہشت گردوں کی فائرنگ کا بہادری سے مقابلہ کیا، جس کے نتیجے میں حملہ آور موقع سے فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔ پولیس اہلکاروں کی قربانیاں صوبے میں امن کے قیام کے لیے ان کے عزم اور پیشہ ورانہ فرض شناسی کا مظہر ہیں۔ معاون وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے امن کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی سے انجام دے رہے ہیں شاہد رند نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بلوچستان کے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا عزم غیر متزلزل ہے انہوں نے کہا کہ بزدلانہ حملوں سے امن دشمن عناصر کے خلاف ریاستی عزم کو کمزور نہیں کیا جاسکتا حکومت صوبے میں امن، استحکام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے شاہد رند نے شہید سپاہی عزت اللہ کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل جبکہ زخمی سپاہی نصیب اللہ کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا کی۔
خبر نامہ نمبر 2026/7606
تربت10ستمبر:ـسیکریٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی مکران ڈویژن، اے سی پی محمد جان دشتی کی زیرِ صدارت معذور افراد کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 50 فیصد رعایت پر مؤثر عملدرآمد کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر ضلع کیچ امتیاز سخی، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر محمد عیسیٰ مکران ڈویژن، اسسٹنٹ سوشل ویلفیئر شاکر علی شاکر، نائب صدر بس ٹرانسپورٹ یونین رفیق قاضی، جنرل منیجر آزاد دشت نصیر احمد، امام جان امران، معذور افراد کی تنظیم کے جنرل سیکریٹری محمد رحیم سمیت ٹرانسپورٹ یونین کے عہدیداران اور مختلف بس و وین ٹرانسپورٹرز کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر امتیاز سخی نے معذور افراد کو درپیش سفری مشکلات اور انہیں درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کو متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں کہ متعلقہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ میں معذور افراد کو مقررہ 50 فیصد کرایہ رعایت کی فراہمی پر مؤثر انداز میں عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معذور افراد کے لیے مقررہ سفری رعایت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، جبکہ ڈرائیورز، کنڈیکٹرز اور کلینرز کو بھی ہدایت کی جائے کہ دورانِ سفر معذور مسافروں کے ساتھ مناسب اور باعزت رویہ اختیار کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن تعاون اور سہولت فراہم کریں۔اس موقع پر معذور افراد کی تنظیم کے جنرل سیکریٹری محمد رحیم نے تجویز پیش کی کہ معذور مسافروں کو جاری کیے جانے والے ٹکٹ پر 50 فیصد کرایہ رعایت کو واضح طور پر درج کیا جائے، تاکہ رعایت کے حصول میں کسی قسم کا ابہام یا دشواری پیش نہ آئے۔ اجلاس کے شرکاء نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ معذور افراد کے سفری حقوق کے تحفظ اور رعایت پر شفاف عملدرآمد کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔اے سی پی محمد جان دشتی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرانسپورٹرز کو ہدایت کی کہ معذور افراد کے لیے 50 فیصد سفری رعایت کے حکومتی فیصلے اور متعلقہ نوٹیفکیشن پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ رعایت کی خلاف ورزی یا معذور افراد کی جانب سے شکایت موصول ہونے کی صورت میں ذمہ دار ٹرانسپورٹر یا متعلقہ فرد کے خلاف جرمانے سمیت قانونی و انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ ضرورت پڑنے پر متعلقہ دفتر کو سیل بھی کیا جا سکتا ہے۔اجلاس کے اختتام پر ٹرانسپورٹ یونین کے نمائندگان نے یقین دہانی کرائی کہ معذور افراد کے لیے مقررہ 50 فیصد سفری رعایت پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا اور دورانِ سفر انہیں ہر ممکن سہولت اور تعاون فراہم کیا جائے گا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر امتیاز سخی نے انتظامیہ اور ٹرانسپورٹرز کے تعاون کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ فیصلے پر مؤثر عملدرآمد سے معذور افراد کو درپیش سفری مشکلات میں کمی آئے گی اور انہیں باعزت، محفوظ اور آسان سفری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/7607
کوئٹہ 10ستمبر:۔وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز احمد بگٹی کے کوئٹہ کو صاف، منظم اور تجاوزات سے پاک شہر بنانے کے وژن کے تحت ضلعی انتظامیہ کوئٹہ اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کا مشترکہ آپریشن جاری ہے۔ اسی سلسلے میں بڑیچ مارکیٹ سمیت ملحقہ سڑکوں اور عوامی گزرگاہوں پر قائم تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تجاوزات ختم کر دی گئیں۔کارروائی اسسٹنٹ کمشنر سٹی امیر حمزہ، میونسپل مجسٹریٹ عمران زیب کاسی، زرغون زون مانیٹرنگ سیل کے سپروائزر عبد الحق بلوچ اور انسدادِ تجاوزات انچارج علی رضا درانی کی نگرانی میں کی گئی۔ کارروائی کے دوران سڑکوں اور عوامی راستوں پر رکھی گئی تجاوزاتی اشیاء ہٹا کر سرکاری تحویل میں لے لی گئیں، جبکہ عوامی گزرگاہوں کو آمدورفت کے لیے بحال کر دیا گیا۔اس موقع پر دکانداروں اور ریڑھی بانوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ مقررہ حدود میں کاروبار کریں اور فٹ پاتھوں، سڑکوں اور دیگر عوامی مقامات پر سامان رکھ کر شہریوں کی آمدورفت میں رکاوٹ پیدا نہ کریں۔ضلعی انتظامیہ کوئٹہ اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ شہریوں کو بہتر، صاف اور منظم ماحول فراہم کرنے کے لیے تجاوزات کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ شہر کو منظم رکھنے کے لیے انتظامیہ سے تعاون کریں۔
خبر نامہ نمبر 2026/7608
قلات10ستمبر:ـحکومت بلوچستان کے احکامات پرضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر قلات اسد سمالانی کے زیر صدارت کھلی کچہری کا انعقادکیاگیاکھلی کچہری میں ایف سی کرنل نوید تحصیلدارقلات حاجی عبدالغفار لہڑی ڈی ایس پی ماہیوال سمیت تمام محکموں کے سربراہان علاقہ معززین سیاسی سماجی رہنماوں اور صحافی برادری نے شرکت کی۔کھلی کچہری میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ شہر میں صفائی ستھرائی ٹیچنگ ہسپتال میں سرد خانہ کی تعمیر گیس کی عدم فراہمی قلات میں پرائیویٹ گیس پلانٹ کی تنصیب زاوہ ڈیم کی تعمیر میں تاخیر بازار میں تجاوزات کا خاتمہ ایل پی جی گیس کی قیمتوں میں اضافہ انعقادپولٹری فارم کے چار دیواری کی تعمیر مغلزئی میں واٹر ٹینک کی غیر فعالی اور دیگراہم مسائل اجاگر کیئے گئے۔اسسٹنٹ کمشنر اسد سمالانی نے لوگوں کے مسائل توجہ سے سنے اور انہیں فوری حل کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوے کہاکہ ڈپٹی کمشنر انجینیئر عائشہ زہری کی سربراہی میں علاقے کو درپیش مسائل کے حل کے لیئیے تمام تروسائل بروئے کار لایاجائیگا۔
خبر نامہ نمبر 2026/7609
موسیٰ خیل10ستمبر:ـضلع موسیٰ خیل میں بچوں کو مختلف موذی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے 16 روزہ خصوصی آؤٹ ریچ ویکسینیشن مہم کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ مہم ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر مجیب الرحمن کی زیرِ نگرانی چلائی جا رہی ہے، جبکہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نادر خان ایسوٹ اور محکمہ صحت کی ٹیمیں فیلڈ میں مہم کی پیش رفت اور معیار کی خود نگرانی کر رہی ہیں محکمہ صحت کی موبائل اور فیلڈ ٹیمیں ضلع کی مختلف یونین کونسلوں اور دور دراز علاقوں میں جا کر بچوں کو روٹین امیونائزیشن (EPI) کے تحت تمام ضروری حفاظتی ٹیکے اور قطرے فراہم کر رہی ہیں۔ مہم کے دوران بنیادی صحت مراکز (BHUs) میں ویکسین کے ذخائر، کولڈ چین برقرار رکھنے اور ریکارڈ کی اپ ڈیٹنگ کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نادر خان ایسوٹ نے فیلڈ وزٹ کے دوران ویکسینیٹرز کے کام، بچوں کے ویکسینیشن کارڈز اور تعاقبی کوریج کی جانچ پڑتال کی۔ اس موقع پر انہوں نے ویکسینیشن سے ہچکچانے والے والدین سے ذاتی طور پر ملاقات کی، ان کی غلط فہمیاں اور اندیشے دور کیے اور بچے کی صحت کے لیے ویکسین کی اہمیت سے آگاہ کیا۔محکمہ صحت کے حکام نے تمام والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کا بنیادی ویکسینیشن کورس لازمی مکمل کروائیں اور فیلڈ ویکسینیٹرز سے تعاون کریں تاکہ بچوں کی صحت اور مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7610
موسیٰ خیل10ستمبر:ـمحکمہ زراعت توسیع اور پلانٹ پروٹیکشن کی مشترکہ ٹیم نے ضلع موسیٰ خیل کی یونین کونسل صدر اور سرہ خواہ کا دورہ کر کے حالیہ برسات سے متاثرہ فصلوں کا تفصیلی جائزہ لیا فیلڈ معائنے کی قیادت ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع شمس الحق، ڈپٹی ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن خدائے نور، اور زراعت آفیسر فضل الدین نے کی، جبکہ ان کے ہمراہ محکمہ زراعت کا فیلڈ اسٹاف بھی موجود تھا۔
ٹیم نے مختلف زمینداروں اور کاشتکاروں کے کھیتوں کا بلاواسطہ وزٹ کیا حالیہ برسات کے موسم میں مکئی اور ماش کی فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات کی نشاندہی اور رپورٹ تیار کی گئی زرعی ماہرین نے کاشتکاروں کو برسات کے بعد پیدا ہونے والی بیماریوں سے فصلوں کے بچاؤ اور زمین کی بہتری کے لیے اہم فنی مشورے فراہم کیے۔
محکمہ زراعت کے حکام نے زمینداروں کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے مسائل اور نقصانات سے متعلق رپورٹ اعلیٰ حکام تک پہنچائی جائے گی تاکہ متاثرہ کسانوں کی بروقت مدد ممکن ہو سکے۔
پریس ریلیز
حب10ستمبر:ـترجمان ڈسٹرکٹ پولیس حب کے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہیکہ ایس پی حب مرزا بلال حسن کی ہدایات اور ایس ڈی پی او حب کی نگرانی میں ایس ایچ او حب سٹی انسپکٹر کی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری ہیں حب سٹی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مختلف مقدمات میں مطلوب و مفرور ملزمان کو گرفتار کرلیا۔پولیس کے مطابق ایک کارروائی کے دوران منشیات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ملزم کے قبضے سے 510 گرام چرس برآمد کرلی گئی، جس پر مقدمہ نمبر 479/2026 بجرم 3(1)8 درج کیا گیا۔دوسری کارروائی میں مقدمہ نمبر 477/2026 بجرم 324، 34 میں مطلوب نامزد ملزم کو گرفتار کیا گیا۔اسی طرح حب سٹی پولیس نے مقدمہ نمبر 284/2025 بجرم 149، 148، 147، 514، 506-B، 337-ADF سمیت دیگر دفعات میں مطلوب مفرور ملزم کو بھی گرفتار کرلیا۔ایس پی حب مرزابلال حسن نے اس عزم کا اظہار کہا ہیکہ جرائم پیشہ عناصر، منشیات فروشوں اور مفرور و اشتہاری ملزمان کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی، جبکہ علاقے میں امن و امان کے قیام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔








