خبرنامہ نمبر7550/2026
تربت /بلیدہ9ستمبر۔ : صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی کی جانب سے یونیورسٹی آف تربت میں زیرِ تعلیم بلیدہ کے طلبہ و طالبات کے لیے فراہم کردہ بس نے باقاعدہ طور پر اپنی شٹل سروس کا آغاز کر دیا ہے۔ بس روزانہ صبح و شام بلیدہ سے تربت یونیورسٹی اور واپسی کے روٹ پر طلبہ و طالبات کو سفری سہولت فراہم کرے گی۔شٹل سروس کے آغاز سے بلیدہ اور گردونواح کے طلبہ و طالبات کے لیے یونیورسٹی آف تربت تک رسائی مزید آسان ہو گئی ہے، جس سے انہیں روزانہ آمدورفت کے مسائل اور اضافی سفری اخراجات سے بھی بڑی حد تک نجات ملے گی۔ اس اقدام سے علاقے کے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے مواقع مزید وسیع ہونے کی توقع ہے۔صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ طلبہ و طالبات کو سفری اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کوئی احسان نہیں بلکہ عوامی نمائندے کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محدود اور دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے کوشش کی جا رہی ہے کہ بلیدہ سمیت پورے علاقے کے عوام کو جدید اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ تعلیم کے معیار اور نوجوانوں کے مستقبل پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق نوجوان کسی بھی معاشرے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور انہیں معیاری تعلیم، بہتر تعلیمی ماحول اور ضروری سہولیات کی فراہمی علاقے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے تعلیم کے شعبے میں مزید سہولیات اور مواقع پیدا کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ بلیدہ کے طلبہ و طالبات کو یونیورسٹی آف تربت تک باقاعدہ شٹل سروس کی سہولت فراہم کرنا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو درپیش سفری مشکلات کم کرکے انہیں اپنی تعلیم پر بھرپور توجہ دینے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7551/2026
کوئٹہ 9 ستمبر: صوبائی مشیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمان خان ملاخیل نے روزنامہ جنگ کوئٹہ کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر اور بلوچستان کے سینئر صحافی خلیل الرحمٰن کی وفات پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تعزیتی بیان میں نسیم الرحمن خان ملاخیل نے کہا کہ مرحوم خلیل الرحمٰن ایک منجھے ہوئے، باوقار اور تجربہ کار صحافی تھے جنہوں نے بلوچستان میں صحافت کے فروغ اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مرحوم کی صحافتی خدمات اور عوامی کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔ انہونے نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو یہ صدمہ صبر و ہمت سے برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7552/2026
گوادر 9 ستمبر : بلوچستان یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام اور محکمہ امورِ نوجوانان حکومتِ بلوچستان کے زیرِ اہتمام گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج گوادر میں طالبات کی پیشہ ورانہ، قائدانہ اور عملی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے چار روزہ جامع تربیتی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں 62 سے زائد طالبات نے شرکت کی۔یہ اقدام وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی قیادت اور وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان مینا مجید بلوچ کی رہنمائی میں نوجوانوں بالخصوص طالبات کو تعلیم کے ساتھ عملی، پیشہ ورانہ اور روزگار سے متعلق مہارتیں فراہم کرنے کے حکومتی وژن کا حصہ ہے تربیتی ورکشاپ کے پہلے روز ڈاکٹر عبدالماجد ناصر نے ابلاغ اور باہمی روابط کی مہارتوں کے موضوع پر طالبات کو تربیت فراہم کی۔ دوسرے روز قر العین نے قائدانہ اور انتظامی صلاحیتوں کے حوالے سے عملی تربیتی سیشن منعقد کیا، جبکہ تیسرے اور چوتھے روز ڈاکٹر غلام جان کی زیرِ نگرانی کاروباری صلاحیتوں، کیریئر کاونسلنگ، سی وی رائٹنگ اور فرضی انٹرویوز کے موضوعات پر تربیت دی گئی۔چار روزہ تربیت کے دوران طالبات کو عملی زندگی میں درپیش چیلنجز کا موثر انداز میں سامنا کرنے، اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے، روزگار کے مواقع سے استفادہ کرنے اور مستقبل کے لیے پیشہ ورانہ طور پر خود کو تیار کرنے کے حوالے سے مفید رہنمائی فراہم کی گئی ورکشاپ میں اس امر پر زور دیا گیا کہ نوجوان بالخصوص خواتین کو معیاری تعلیم کے ساتھ جدید مہارتوں، پیشہ ورانہ رہنمائی اور روزگار و کاروبار کے مواقع فراہم کرنا صوبائی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ ایسے تربیتی پروگرام نوجوانوں میں خود اعتمادی، قیادت اور خود انحصاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7553/2026
کوئٹہ 9 ستمبر۔صوبائی محکمہ داخلہ بلوچستان کے نوٹس اور عدالت عالیہ کے احکامات پر عملدرآمد کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر بروری کاشف امر نے غیر قانونی کرش پلانٹس کے خلاف سخت اور وسیع پیمانے پر کارروائی کی۔کارروائی کے دوران مختلف علاقوں میں قائم کرش پلانٹس کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ عدالتی احکامات اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کرش پلانٹس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انتظامیہ نے متعدد مقامات پر سخت اقدامات کیے، جبکہ کارروائی کے دوران 13 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بروری کاشف امر نے کہا کہ غیر قانونی کرش پلانٹس کے خلاف کارروائی محکمہ داخلہ کے نوٹس اور عدالتی احکامات کی روشنی میں عمل میں لائی جا رہی ہے اور کسی بھی فرد یا ادارے کو قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ غیر قانونی کرش پلانٹس نہ صرف قوانین کی خلاف ورزی کا باعث بنتے ہیں بلکہ ماحولیاتی آلودگی اور گرد و غبار میں اضافے سمیت عوامی صحت کے لیے بھی مسائل پیدا کرتے ہیں۔ اس لیے عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا گیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7554/2026
گوادر9 ستمبر۔: ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فشریز عتیق اللہ خان کی ہدایات پر صوبائی حکومت کی ماہی گیروں کی فلاح و بہبود اور ماہی گیری کے شعبے کو منظم و قانونی بنیادوں پر فروغ دینے کی پالیسی کے تحت گوادر میں ماہی گیری کی کشتیوں کی رجسٹریشن، پیمائش، انسپکشن اور لائسنس کے اجرا کا عمل تیزی سے جاری ہے یہ کارروائیاں اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز گوادر شاہ فہد کی نگرانی میں گوادر فشریز اسٹیشن کی فیلڈ ٹیموں کے ذریعے انجام دی جا رہی ہیں۔ اس دوران کشتیوں کی پیمائش، ساخت، ضروری دستاویزات اور متعلقہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد اہل کشتیوں کو رجسٹریشن نمبر الاٹ کیے جا رہے ہیں جبکہ مقررہ ضوابط کے مطابق ماہی گیری کے لائسنس بھی جاری کیے جا رہے ہیں محکمہ فشریز کے مطابق کشتی کے سائز کے تعین کے بعد مقررہ چارجز وصول کرکے لائسنسنگ کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ ماہی گیروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مقررہ مدت میں اپنی کشتیوں کی رجسٹریشن، پیمائش اور انسپکشن مکمل کرائیں تاکہ ماہی گیری کے شعبے کو مزید منظم اور ماہی گیروں کے لیے سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7555/2026
رکنی،9ستمبر ۔ ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمن کاکڑ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر رکنی فہد حسین عمرانی نے تحصیل رکنی میں مختلف پیٹرول پمپس کا معائنہ کیا۔اس موقع پر پیٹرول پمپس پر نصب گیج، میٹر ریڈنگ، پیمانوں اور پیٹرول کی مقررہ مقدار کی فراہمی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے میٹر ریڈنگ اور پیمانوں کی درستگی چیک کرتے ہوئے اس امر کو یقینی بنایا کہ صارفین کو مقررہ مقدار کے مطابق پیٹرول فراہم کیا جا رہا ہے۔اسسٹنٹ کمشنر نے پیٹرول پمپ مالکان کو ہدایت کی کہ گیج اور میٹر ریڈنگ میں کسی قسم کی بے ضابطگی یا صارفین کو مقررہ مقدار سے کم پیٹرول کی فراہمی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ عوام کے حقوق کے تحفظ اور پیمانوں میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پیٹرول پمپس کی چیکنگ کا سلسلہ آئندہ بھی بلا تعطل جاری رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7556/2026
گوادر9ستمبر۔ ضلعی آفیسر محکمہ امورِ حیوانات گوادر ڈاکٹر صابر علی کی زیرِ نگرانی امبی کلانچ میں موبائل ویٹرنری ایڈ کیمپ کا کامیاب انعقاد کیا گیا، جہاں مالداروں کو ان کی دہلیز پر جانوروں کے علاج، ویکسینیشن اور ادویات سمیت ضروری سہولیات فراہم کی گئیں کیمپ کے دوران سینکڑوں جانوروں کا مفت طبی معائنہ اور علاج کیا گیا، جبکہ وبائی امراض سے بچاو کے لیے حفاظتی ویکسینیشن بھی کی گئی۔ مالداروں میں مفت ادویات تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ جانوروں کی بہتر دیکھ بھال، خوراک اور بیماریوں سے بچاو کے حوالے سے آگاہی بھی فراہم کی گئی۔ضلعی آفیسر محکمہ امورِ حیوانات گوادر نے کہا کہ محکمہ کی جانب سے مالداروں کو ان کی دہلیز پر ویٹرنری سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ جاری رہے گا، تاکہ مویشیوں کی صحت بہتر بنانے کے ساتھ مالدار برادری کو بھی زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7557/2026
کوئٹہ 9ستمبر۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) کے ٹیکس شیڈول کے مطابق بیوٹی پارلرز، بیوٹی کلینکس، سلمنگ کلینکس یا سینٹرز اور دیگر ذاتی نگہداشت (Personal Care) کی خدمات پر بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز (BSTS) کی شرح 5 فیصد مقرر ہے۔ٹیکس شیڈول کے مطابق وہ رجسٹرڈ سروس فراہم کنندگان جو POS مشین نصب کرکے اسے BRA کے ویب پورٹل سے منسلک کریں، تمام انوائسز، بلز یا رسیدیں الیکٹرانک طریقے سے جاری کریں اور صرف POS کے ذریعے ٹیکس انوائس/رسید جاری کریں، ان کیلئے ٹیکس کی شرح 2 فیصد مقرر کی گئی ہے۔شیڈول کے مطابق مذکورہ خدمات پر ان پٹ ٹیکس کریڈٹ/ایڈجسٹمنٹ قابلِ قبول نہیں ہوگی۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے متعلقہ سروس فراہم کنندگان پر زور دیا ہے کہ وہ ٹیکس قوانین کے تحت اپنی رجسٹریشن، درست ٹیکس رپورٹنگ، بروقت ریٹرن فائلنگ اور ٹیکس ادائیگی کو یقینی بنائیں، جبکہ POS انضمام کی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شفاف اور ڈیجیٹل ٹیکس نظام میں اپنا کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7558/2026
نصیرآباد9ستمبر۔نصیرآباد ڈویژن میں محکمہ صحت کی افرادی قوت کو مزید مستحکم کرنے کےلیے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کے احکامات کی روشنی میں بھرتی کے عمل کے دوسرے مرحلے میں لیڈی میڈیکل آفیسران اور فی میل اسٹاف نرسز کی خالی آسامیوں پر امیدواروں کے انٹرویوز کیے گئے۔ڈویڑنل ہیلتھ کمیٹی کے چیئرمین و کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی نگرانی میں ہونے والے اس عمل کے دوران لیڈی میڈیکل آفیسران کی 19 جبکہ فی میل اسٹاف نرسز کی 4 خالی آسامیوں کے لیے امیدواروں کے تعلیمی اسناد، تجربہ اور دیگر ضروری دستاویزات کی جانچ پڑتال کی گئی۔کمیٹی اراکین نے امیدواروں سے مختلف سوالات بھی کیے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور اہلیت کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین، ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ داﺅد خان کانسی، ایم ایس ڈاکٹر حبیب پندرانی سمیت ڈویژنل ہیلتھ کمیٹی کے دیگر اراکین موجود تھے۔کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ محکمہ صحت میں خالی آسامیوں پر میرٹ اور شفافیت کے ساتھ بھرتی کا عمل جاری ہے، جس کا مقصد طبی مراکز میں دستیاب افرادی قوت کو بہتر بنانا اور عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے طبی خدمات کی فراہمی میں لیڈی میڈیکل آفیسران اور فی میل اسٹاف نرسز کا کردار انتہائی اہم ہے،ان آسامیوں پر تقرری سے خصوصاً خواتین اور بچوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7559/2026
جیوانی 9 ستمبر ۔تحصیل انتظامیہ جیوانی کی ہدایت پر تحصیلدار محمد اعظم خان گچکی نے جیوانی کی مختلف مارکیٹوں کا دورہ کیا، جہاں اشیائے خوردونوش کے معیار، قیمتوں، زائدالمیعاد اشیاء اور سرکاری ریٹ لسٹ کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ دکانداروں کو ہدایت کی گئی کہ اشیائے ضروریہ مقررہ نرخوں کے مطابق فروخت کریں اور ریٹ لسٹ نمایاں جگہ پر آویزاں رکھیں اس موقع پر شہریوں سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ اشیائے خوردونوش ریٹ لسٹ کے مطابق خریدیں اور اگر کوئی دکاندار گراں فروشی یا زائدالمیعاد اشیاء فروخت کرتا پایا جائے تو فوری طور پر تحصیل انتظامیہ کو اطلاع دیں، جس پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7560/2026
قلات9ستمبر۔ ضلعی انتظامیہ قلات کے جاری کردہ اعلامیے کیمطابق عوامی مسائل سننے اور انکے حل سے متعلق ضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے کل مورخہ 10 ستمبر 2026 بروز جمعیرات بوقت 11:00بجے دن کھلی کچہری کا انعقاد کیاگیاہے کھلی کچہری اسسٹنٹ کمشنر قلات کے دفتر میں منعقد ہوگا۔ضلعی انتظامیہ نے متعلقہ افراد علاقہ معززین کے نام پیغام میں کہا ہے کہ وہ 10ستمبر کو ہونے والے کھلی کچہری میں شرکت کریں اور اپنے جائزمسائل بیان کریں تاکہ انکے حل کے لیئے ضلعی انتظامیہ بروقت اقدامات اٹھاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7561/2026
حب، 9ستمبر ستمبر۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول حب کا دورہ کیا۔ دورے کا مقصد اسکول میں تعلیمی و انتظامی امور، تدریسی سرگرمیوں، بنیادی سہولیات اور طالبات کو فراہم کی جانے والی تعلیمی سہولیات کا جائزہ لینا تھا۔اس موقع پر کمشنر نے اسکول کے مختلف شعبہ جات، کلاس رومز، سائنس لیبارٹری، کمپیوٹر لیب، لائبریری اور دیگر سہولیات کا معائنہ کیا۔ انہوں نے اساتذہ اور طالبات سے ملاقات کی اور تعلیمی معیار، حاضری، تدریسی نظام اور درپیش مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔کمشنر نے اساتذہ کی حاضری، وقت کی پابندی اور تدریسی معیار پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ طالبات کو معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اسکول انتظامیہ کو ہدایت کی کہ طالبات کی تعلیمی استعداد میں بہتری، نظم و ضبط اور ہم نصابی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے اسکول میں دستیاب بنیادی سہولیات کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو درپیش مسائل کے حل اور ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے مناسب اقدامات اٹھانے کی ہدایات جاری کیں۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے کہا کہ تعلیم خصوصاً بچیوں کی تعلیم معاشرے کی ترقی اور روشن مستقبل کی بنیاد ہے، اس لیے سرکاری تعلیمی اداروں میں معیارِ تعلیم کو بہتر بنانے اور طالبات کو سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔اس موقع پر اسکول کی انتظامیہ اور اساتذہ نے کمشنر لسبیلہ ڈویڑن کو اسکول کے تعلیمی و انتظامی امور اور درپیش مسائل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ بھی دی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7562/2026
اوتھل 9ستمبر۔ ضلع انتظامیہ لسبیلہ کے زیرِ اہتمام 9 ستمبر کو LUAWMS یونیورسٹی میں منعقد ہونے والا کیریئر کونسلنگ سیمینار ناگزیر وجوہات کی بنا پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ سیشن اب کل 10 ستمبر کو منعقد ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7562/2026
کوئٹہ، 9 ستمبر ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بدھ کو یہاں بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چوتھے اجلاس کی صدارت کی جس میں کمپنی سے متعلق اہم انتظامی، مالی اور آپریشنل امور کا جائزہ لیتے ہوئے متعدد اہم فیصلوں اور تجاویز اور گزشتہ بورڈ اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی منظوری دی گئی اجلاس میں بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کی کارکردگی، انتظامی امور، آپریشنل معاملات اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر کمپنی کے امور کو مزید موثر اور منظم بنانے، آپریشنل استعداد کار میں اضافے اور ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے سے متعلق مختلف امور زیر بحث آئے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ہدایت کی کہ بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اس کی آپریشنل اور انتظامی صلاحیتوں میں مزید بہتری لائی جائے تاکہ ادارہ صوبے میں فضائی سہولیات کے فروغ کے لیے موثر کردار ادا کرسکے وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کمپنی کے امور میں شفافیت، پیشہ ورانہ نظم و نسق اور موثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے جبکہ منظور کیے گئے فیصلوں پر بروقت عملدرآمد کے لیے واضح میکنزم وضع کیا جائے اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری خزانہ جہانگیر خان، ڈائریکٹر جنرل بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کیپٹن علی آزاد سمیت بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اراکین اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7563/2026
سیوی / لہڑی 09 ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر سبی میجر (ر) الیاس کبزئی کی ہدایت اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالستار لانگو کے احکامات پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لہڑی لیاقت علی نے تحصیل لہڑی کے مختلف دوردراز سرکاری پرائمری اسکولوں کا اچانک دورہ کیا۔ دورے کے دوران گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول کشمیر ہانبھی، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول کشمیر ابڑو، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول بستی نالہ اور گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول سومرو محلہ تنیہ کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے اسکولوں میں اساتذہ اور طلباءکی حاضری چیک کی جبکہ تدریسی عمل اور تعلیمی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر طلباءسے سلیبس کے مطابق مختلف سوالات پوچھے گئے اور ان کی تعلیمی استعداد کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لیاقت علی نے کہا کہ دوردراز علاقوں میں قائم اسکولوں میں تعلیمی معیار، اساتذہ و طلباءکی حاضری اور تدریسی سرگرمیوں کی باقاعدگی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل نگرانی جاری ہے۔ الحمدللہ تحصیل لہڑی کے پرائمری اسکولز روز بروز بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے اسکولوں میں تعلیمی ماحول کو مزید بہتر بنانے اور طلباءکو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7564/2026
سیوی / لہڑی 9 ستمبر۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سیوی ڈاکٹر عبدالقادر ہارون نے انچارج ڈسٹرکٹ میڈیسن اسٹور فارماسسٹ ڈاکٹر رضا شاہ کے ہمراہ رورل ہیلتھ سینٹر لہڑی کا اچانک دورہ کیا۔ دورے کے موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے مرکز صحت میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر عملے کی حاضری کا جائزہ لیا اور تمام اسٹاف سے ملاقات کرکے مرکز صحت کی مجموعی کارکردگی اور عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے مرکز صحت کے میڈیسن اسٹور، ای پی آئی سینٹر اور مختلف وارڈز کا تفصیلی معائنہ کیا، جبکہ متعلقہ ریکارڈ، ادویات کے اسٹاک اور انوینٹری کا بھی جائزہ لیا۔ معائنے کے دوران بعض انتظامی اور ریکارڈ سے متعلق امور میں بہتری کی ضرورت محسوس کی گئی، جن کے حوالے سے متعلقہ عملے کو موقع پر ہی ضروری ہدایات جاری کی گئیں اور مطلوبہ اقدامات عمل میں لائے گئے۔اس موقع پر اعلیٰ حکام کی جانب سے صحت کے شعبے میں بہتری اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی بروقت فراہمی سے متعلق ہدایات بھی مرکز صحتچ کے عملے تک پہنچائی گئیں۔ ڈاکٹر عبدالقادر ہارون نے عملے پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیتے ہوئے مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے کہا کہ ضلع کے تمام مراکز صحت کی کارکردگی کی باقاعدہ نگرانی کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ صحت کی سہولیات کو مزید موثر بنایا جا سکے اور عوام کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہم ہوں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7565/2026
ساوتھ ڈیرہ بگٹی/ سوئی9ستمبر۔ اسسٹنٹ کمشنر سوئی سید منصور علی شاہ نے سوئی بازار میں قائم مختلف پیٹرول پمپس کا دورہ کرکے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور پیمانے کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈی ایس پی سوئی اعظم گشکوری بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر سوئی نے مختلف پیٹرول پمپس پر پیٹرول اور ڈیزل کے پیمانے چیک کیے اور مقررہ قیمتوں کے مطابق فروخت کا بھی جائزہ لیا۔ معائنے کے دوران جن پمپ مالکان کی جانب سے مقررہ قیمتوں سے تجاوز یا کم پیمانے پر پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی خلاف ورزی سامنے آئی، ان پر جرمانے عائد کیے گئے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سوئی نے پیٹرول پمپ مالکان کو سختی سے ہدایت کی کہ پیمانے درست اور برابر رکھے جائیں اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت مقررہ نرخوں پر یقینی بنائی جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو مقررہ قیمت اور درست پیمانے کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت یا خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ پیٹرول پمپ کو سیل کرنے سمیت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7566/2026
نصیرآباد9ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز حسین جمالی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر حبیب اللہ پندرانی ڈسٹرکٹ منیجر طارق شہباز سمیت محکمہ صحت کے دیگر متعلقہ افسران اور کمیٹی ممبران نے شرکت کیاجلاس کے دوران ضلع بھر میں عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات سرکاری ہسپتالوں اور مراکزِ صحت میں موجود مسائل ڈاکٹرز نرسنگ اسٹاف اور پیرامیڈیکل عملے کی حاضری ادویات کی دستیابی صفائی ستھرائی اور مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی سمیت مختلف اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ضلع کے تمام سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر عملے کی بروقت حاضری ہر صورت یقینی بنائی جائے تاکہ دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے انہوں نے واضح کیا کہ فرائض میں غفلت اور غیر حاضری کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور غیر حاضر ملازمین کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ غیر حاضری کی صورت میں قواعد و ضوابط کے تحت تنخواہوں سے کٹوتی بھی کی جائے گیانہوں نے کہا کہ صحت عامہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے مریضوں کو بروقت طبی معائنہ اور ضروری علاج فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ادویات کی دستیابی کو بھی یقینی بنایا جائے ڈپٹی کمشنر نے محکمہ صحت کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ ضلع بھر کے ہسپتالوں اور مراکزِ صحت کے باقاعدگی سے دورے کریں، طبی سہولیات اور عملے کی کارکردگی کی نگرانی کریں اور درپیش مسائل کی نشاندہی کرکے ان کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے اور عوامی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے اجلاس میں ضلع بھر کے ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی بہتری دستیاب وسائل کے موثر استعمال عملے کی کارکردگی اور دیگر انتظامی امور کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ متعلقہ افسران نے صحت کے شعبے میں جاری اقدامات اور درپیش مسائل کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ دی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7567/2026
دکی:9ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم خان حریفال نے محکمہ داخلہ حکومتِ بلوچستان کی جانب سے جاری ہدایات کی روشنی میں سب جیل دکی کا تفصیلی دورہ کیا اور جیل میں قیدیوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات سمیت انتظامی و سکیورٹی امور کا جائزہ لیادورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے جیل کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا، جن میں بیرکس، صفائی ستھرائی، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، واش رومز، کچن، خوراک کے معیار اور قیدیوں کو دستیاب دیگر بنیادی سہولیات شامل تھیں۔ انہوں نے جیل کے سکیورٹی انتظامات کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام سے ضروری معلومات حاصل کیں اسسٹنٹ کمشنر محمد اکرم خان حریفال نے جیل انتظامیہ سے قیدیوں کی مجموعی تعداد، جیل کی گنجائش، رہائشی انتظامات اور دیگر متعلقہ امور کے بارے میں تفصیلی بریفنگ لی۔ اس موقع پر انہوں نے مختلف بیرکس کا دورہ کرکے قیدیوں سے ملاقات بھی کی اور ان کے مسائل، ضروریات اور دستیاب سہولیات کے بارے میں براہِ راست معلومات حاصل کیںاسسٹنٹ کمشنر نے جیل انتظامیہ کو صفائی ستھرائی، خوراک کے معیار، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی، جبکہ سکیورٹی انتظامات میں کسی قسم کی غفلت نہ برتنے پر بھی زور دیاانہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سرکاری اداروں میں انتظامی امور، سکیورٹی اور عوام و قیدیوں کو فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کی نگرانی کا سلسلہ جاری ہے۔ تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے فرائض ذمہ داری اور موثر انداز میں انجام دیتے ہوئے دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے سہولیات کی بہتری کو یقینی بنائیں ضلعی انتظامیہ کے مطابق سرکاری اداروں کے معائنوں اور انتظامات کے جائزے کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا تاکہ حکومتی ہدایات پر موثر عملدرآمد اور اداروں میں بہتر انتظامی نظم و نسق کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7568/2026
لورالائی: 9 ستمبر۔وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایات پر شیر خوار بچوں کے لیے بغیر لیبل اور ناقابلِ سراغ فارمولا دودھ کی فروخت کے خلاف جاری خصوصی مہم کے تحت بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی لورالائی زون فوڈ سیفٹی ٹیم نے ژوب روڈ پر مختلف خوراک کے مراکز کا تفصیلی معائنہ کیاکارروائی کے دوران فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر 3 جنرل اسٹورز اور ایک بیکری کو جرمانے عائد کیے گئے جبکہ 6 خوراکی یونٹس کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئےمعائنے کے دوران جنرل اسٹورز سے بغیر لیبل اور ناقابلِ سراغ فارمولا دودھ، زائدالمیعاد مصالحے اور نان فوڈ گریڈ رنگ برآمد کیے گئے۔ مختلف مراکز میں اشیائے خورونوش کی ناقص اسٹوریج اور صفائی ستھرائی کے مسائل بھی سامنے آئےفوڈ سیفٹی ٹیم نے بیکری کے معائنے کے دوران تیار شدہ اشیا کی پیکنگ میں پرنٹ شدہ کاغذ کے استعمال، مینوفیکچرنگ اور ایکسپائری تاریخ درج نہ ہونے، ناقص ذاتی و ماحولیاتی صفائی اور تیار شدہ خوراک کو مکھیوں و دیگر آلودگی سے محفوظ نہ رکھنے پر کارروائی عمل میں لائی فوڈ سیفٹی ٹیم نے کاروباری مراکز کے مالکان کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ فوڈ سیفٹی، لیبلنگ، ٹریس ایبلٹی، اسٹوریج اور حفظانِ صحت کے مقررہ اصولوں پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنائیں۔ ٹیم نے واضح کیا کہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی کے لیے خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7569/2026
دکی، 9 ستمبر ۔ ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت سرکاری ملازمین کے SAP سسٹم میں تاریخِ پیدائش (Date of Birth) کی درستگی سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف سرکاری محکموں کے متعلقہ افسران اور ملازمین نے شرکت کی اجلاس کے دوران سرکاری ملازمین کی جانب سے SAP سسٹم میں تاریخِ پیدائش کی درستگی کے لیے موصول ہونے والے کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ ملازمین کے سروس ریکارڈ، شناختی دستاویزات، تعلیمی اسناد اور دیگر معاون دستاویزات کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ ریکارڈ میں موجود کسی بھی ممکنہ غلطی یا تضاد کو قواعد و ضوابط کے مطابق دور کیا جا سکےڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تاریخِ پیدائش کی درستگی سے متعلق تمام کیسز کی مکمل چھان بین، دستیاب سرکاری ریکارڈ کی تصدیق اور ضروری دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد کارروائی عمل میں لائی جائےانہوں نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمین کے سروس ریکارڈ میں درج کوائف انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، اس لیے ریکارڈ کی درستگی کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت، غیر ضروری تاخیر یا غیر مصدقہ معلومات کی بنیاد پر ترمیم سے گریز کیا جائےاجلاس میں زیرِ غور کیسز پر متعلقہ قوانین، محکمانہ قواعد و ضوابط اور دستیاب سرکاری ریکارڈ کی روشنی میں غور و خوض کیا گیا، جبکہ متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی کہ تمام کیسز کو مقررہ طریقہ کار کے مطابق مکمل دستاویزات کے ساتھ نمٹایا جائےڈپٹی کمشنر نے اس امر پر بھی زور دیا کہ SAP سسٹم میں سرکاری ملازمین کا ڈیٹا درست، مکمل اور مستند ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں تنخواہوں، پنشن، ریٹائرمنٹ، سروس ریکارڈ اور دیگر محکمانہ امور کے حوالے سے کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑےاجلاس کے اختتام پر متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی کہ زیرِ التوا کیسز پر ضروری کارروائی تیز کی جائے اور تمام ریکارڈ کو مقررہ قواعد کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے کو یقینی بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
لسبیلہ ڈویژن 9ستمبر۔ اٹک سیمنٹ پاکستان لمیٹڈ کی جانب سے مقامی آبادی کی فلاح و بہبود کے لیے صحت اور روزگار کے شعبوں میں مختلف اہم اقدامات جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں مقامی آبادی کے لیے فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا، جہاں بڑی تعداد میں مریضوں کا مفت طبی معائنہ کیا گیا اور ادویات فراہم کی گئیں۔ اس موقع پر کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطا نے زرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران فوجی فاونڈیشن اور اٹک سیمنٹ کی انتظامیہ کی جانب سے علاقے کی بہتری اور عوامی فلاح کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو خصوصی طور پر سراہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اٹک سیمنٹ، جو فوجی فاونڈیشن کے زیر انتظام ادارہ ہے، مقامی آبادی کی فلاح و بہبود کے لیے قابلِ تحسین کردار ادا کر رہا ہے۔ اس موقع پر اٹک سیمنٹ کے زیر اہتمام قائم سلائی کڑھائی تربیتی مرکز کا بھی افتتاح کیا جہاں 20 مقامی خواتین کو تربیت فراہم کی جارہی ہے۔ تربیت کی تکمیل پر خواتین کو سلائی مشینیں بطور تحفہ فراہم کی جائیں گی تا کہ وہ اپنے گھروں سے باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔ تربیتی مرکز کی خواتین نے فوجی فاونڈیشن اور اٹک سیمنٹ کے اس اقدام کو بھر پور سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں اس سے قبل ایسی مواقع اور سہولیات میسر نہیں تھیں، جبکہ اٹک سیمنٹ نے انہیں ہنر سیکھنے، خود روزگار حاصل کرنے اور اپنے خاندانوں کی معاشی معاونت کا ایک باعزت موقع فراہم کیا ہے۔ اٹک سیمنٹ پاکستان لمیٹڈ ، فوجی فاونڈیشن کی فلاحی سوچ کے تحت، مقامی کمیونٹی کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنے CSR اقدامات آئندہ بھی جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 2026/7570
کوئٹہ9ستمبر:گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل سے سابق رکن صوبائی اسمبلی انیتا عرفان کی قیادت میں کرسچین، ہندو اور سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے ملاقات کی اور انہیں امریکہ کے کامیاب دورے، اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں منعقدہ یوتھ اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سمٹ میں شرکت اور خطاب پر مبارکباد پیش کی۔ ملاقات کے دوران سابق رکن صوبائی اسمبلی انیتا عرفان، عرفان بشیر، بشپ ولسن فضل، بشپ امانت مسیح، آمر جان، طارق گل اور راج کمار بھی موجود تھے۔ گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے امریکہ کے کامیاب دورے کے بعد وطن واپسی پر مبارکباد دینے پر تمام اقلیتی نمائندوں کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں یوتھ اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سمٹ سے خطاب ہم سب کیلئے باعثِ اعزاز ہے۔ گورنر ہاؤس میں آپ سب کی آمد میرے لیے باعثِ خوشی ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے سنجیدہ اور موثر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اپنے نوجوانوں کی آواز کو دنیا کے سب سے بڑے عالمی فورم پر مختلف ممالک کے مندوبین کے سامنے اجاگر کرنا ایک قابلِ فخر عمل ہے۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ امریکہ کے دورے کے دوران پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے جشن آزادی پاکستان کے سلسلے میں ٹیکساس، ہیوسٹن اور لاس اینجلس میں منعقدہ تقریبات میں بھی شرکت کی۔ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ ہمارا تعلق بلاشبہ مختلف قوموں، مذاہب اور اقلیتوں سے ہے مگر ہم سب پاکستانی ہیں۔ آئینِ پاکستان کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں۔ انہوں نے اقلیتی برادریوں کے نمائندوں کو یقین دلایا کہ حکومت کا تعاون ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گا اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائینگے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ’’مینارٹیز‘‘ کی اصطلاح کو تبدیل کرکے ’’انٹرفیتھ ہارمنی‘‘ کا نام دیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی اور صوبائی قیادت کی جانب سے بھی یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ جو کمیونٹیز ترقی کے عمل میں پیچھے رہ گئی ہیں، انہیں آگے لایا جائے اور انہیں مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیت ہوں یا اکثریت، ہم سب ایک ہی ملک کے باشندے ہیں اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں سب کا برابر کا کردار ہے۔ آخر میں مختلف اقلیتی برادریوں کے نمائندوں کی جانب سے گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی جبکہ دیگر نمائندوں نے انہیں ہار پہنائے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7571
کوئٹہ9 ستمبر:ـوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان سے سبکدوش ہوکر پنجاب تبادلہ ہونے والے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS) کے افسر حمود الرحمٰن کی بلوچستان میں خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں یادگاری شیلڈ پیش کی۔ حمود الرحمٰن نے بلوچستان میں اپنی تعیناتی کے دوران مختلف تفویض کردہ ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، انتظامی امور میں مؤثر کردار اور ذمہ داریوں کی ذمہ دارانہ انجام دہی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حمود الرحمٰن نے بلوچستان میں خدمات کے دوران سرکاری امور کی انجام دہی میں قابل قدر کردار ادا کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ افسران کی پیشہ ورانہ قابلیت، محنت اور ذمہ داری کا احساس انتظامی نظام کی بہتری اور عوامی خدمت کے عمل کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے حمود الرحمٰن کے لیے پنجاب میں نئی ذمہ داریوں پر نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ان کی کامیابی کے لیے دعا کی اس موقع پر حمود الرحمٰن نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں خدمات انجام دینا ان کے لیے ایک اہم اور یادگار پیشہ ورانہ تجربہ رہا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ کی جانب سے انتظامی امور میں فراہم کردہ معاونت، رہنمائی اور حوصلہ افزائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی سرپرستی میں انہیں اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دینے کا بھرپور موقع ملا حمود الرحمٰن نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بلوچستان میں تعیناتی کے دوران حاصل ہونے والا تجربہ ان کے پیشہ ورانہ سفر کا اہم حصہ رہے گا۔
خبرنامہ نمبر 2026/7572
کوئٹہ9ستمبر:ـصوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ سے ان کے دفتر میں مختلف وفود کے لوگوں نے ملاقات کی ملاقات کے دوران مختلف وفود نے صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ کو اپنے مسائل اور مشکلات سے آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر نے وفود کے مسائل توجہ سے سنے اور متعلقہ حکام سے رابطے کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کی یقین دہانی کرائی اس موقع پر حاجی نور محمد دمڑ نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل اور لوگوں کو ریلیف کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ عوامی نمائندوں کے دروازے عوام کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں اور لوگوں کے جائز مسائل کے حل کے لیے بھرپور کوششیں جاری رہیں گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/7573
کوئٹہ09 ستمبر:ـوزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے بگٹی قبیلے کے عمائدین، بزرگوں اور نوجوانوں کے وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں ڈیرہ بگٹی، سوئی اور گردونواح میں جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح و بہبود اور علاقے کی مجموعی ترقی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی، سوئی اور پورے علاقے کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لیے تاریخ ساز منصوبوں پر کام جاری ہے، جبکہ متعدد اہم منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔ حکومت بلوچستان علاقے میں تعلیم، صحت، ذرائع مواصلات اور روزگار کے مواقع کی فراہمی سمیت بنیادی سہولیات کی بہتری پر خصوصی توجہ دے رہی ہے انہوں نے کہا کہ گیس کمپنیوں میں مقامی افراد کو روزگار کے مواقع کی فراہمی اور مقامی آبادی کی فلاح و بہبود حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ گیس کمپنیوں کے سوشل رسپانسبلٹی اور بہبود کے فنڈز کو بھی عوامی مفاد کے منصوبوں پر خرچ کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے تاکہ ان وسائل سے مقامی آبادی کو براہ راست فائدہ پہنچ سکے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت ترقیاتی عمل کو محض اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے ڈیرہ بگٹی، سوئی اور ملحقہ علاقوں میں دیرپا ترقی کی بنیاد مضبوط کر رہی ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کے ساتھ سڑکوں اور دیگر مواصلاتی ذرائع کی بہتری، روزگار کے مواقع اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جا رہا ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ علاقے کے عوام کی ترقی اور خوشحالی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے دستیاب وسائل کو شفاف اور مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جا رہا ہے
خبر نامہ نمبر 2026/7574
کوئٹہ 09ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے اسسٹنٹ کمشنر سٹی کویٹہ امیر حمزہ اور ایکسین سٹی کے ہمراہ بلوچستان یونیورسٹی میں قائم کی جانے والی جدید ای کامرس و آئی ٹی لیب کا دورہ کیا اور منصوبے پر جاری کام کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کو منصوبے کے مختلف پہلوؤں، جدید آئی ٹی آلات کی فراہمی و تنصیب، لیب کی اپ گریڈیشن، مرمت و تزئین اور منصوبے کی مجموعی پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کے تمام کام منظور شدہ معیار، اسپیسفکیشنز اور مقررہ مدت کے مطابق مکمل کیے جائیں اور جدید آئی ٹی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ جدید ای کامرس و آئی ٹی لیب طلبہ کے لیے ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مہارتوں اور آن لائن کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ منصوبے کی بروقت اور معیاری تکمیل کے لیے متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور تعاون کو مزید مؤثر بنائیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/7575
تربت9ستمبر:ـڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی نے کوشک بلیدہ بازار کا تفصیلی دورہ کیا اور مختلف دکانوں کا معائنہ کرتے ہوئے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور معیار کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی نے مختلف دکانوں پر پرائس چیکنگ کی اور سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا اس موقع پر پرائس کنٹرول کمیٹی کے اہلکار بھی موجود تھے جنہوں نے انتظامیہ کے ہمراہ مارکیٹ میں اشیائے صرف کی قیمتوں اور معیار کا معائنہ کیا۔اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ نے دکانوں میں موجود مضرِ صحت اور ناقص اشیائے خوردونوش کو بھی چیک کیا اور دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ عوام کو معیاری محفوظ اور مقررہ نرخوں کے مطابق اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے دکانداروں کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری نرخ ناموں کی خلاف ورزی، گرانفروشی، ذخیرہ اندوزی اور مضرِ صحت اشیاء کی فروخت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی ہدایات کے مطابق ضلع بھر میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے، گرانفروشی کی روک تھام اور اشیائے ضروریہ کی مقررہ نرخوں پر فراہمی یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں اور مارکیٹوں کی نگرانی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ضلعی انتظامیہ کیچ عوامی مفادات کے تحفظ اور بازاروں میں قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7576
نصیرآباد9ستمبر:ـڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع نصیرآباد کے تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل کی بہتری اساتذہ اور دیگر ملازمین کی حاضری تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل طلباء کو معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے خلاف بلاامتیاز کارروائی سمیت دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا
اجلاس میں ضلع بھر کے تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے اور طلباء کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا اس موقع پر تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور تدریسی عمل میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی کو برداشت نہ کرنے پر زور دیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کہا کہ جدید اور معیاری تعلیم کے حصول کے بغیر کسی بھی معاشرے اور ملک کی حقیقی ترقی ممکن نہیں انہوں نے کہا کہ اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کرنا ہوگی کیونکہ علم تحقیق اور جدید تعلیم ہی ترقی کی بنیاد ہیں
انہوں نے کہا کہ اساتذہ کرام معاشرے کے معمار اور نئی نسل کے مستقبل کے ذمہ دار ہیں ان کی ذمہ داری صرف نصابی تعلیم تک محدود نہیں بلکہ وہ طلباء کی اخلاقی تربیت کردار سازی اور انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں خلوص، محنت اور پیشہ ورانہ جذبے کے ساتھ ادا کریں تاکہ طلباء کو معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک بہتر اور مثبت مستقبل بھی فراہم کیا جا سکے ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ضلع بھر کے تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور دیگر عملے کی حاضری کو یقینی بنایا جائے اور غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے انہوں نے کہا کہ سرکاری وسائل عوام کی امانت ہیں اور تعلیمی اداروں میں فرائض سے غفلت کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگی انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات اساتذہ کی دستیابی طلباء کی حاضری اور تدریسی معیار کو بہتر بنانے کے لیے تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور مؤثر حکمت عملی کے تحت اقدامات کریں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ نصیرآباد میں تعلیم کے فروغ اور تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/7677
تربت9ستمبر:ـجامعہ تربت کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کے بورڈ آف اسٹڈیزکاپانچواں اجلاس شعبے کے سربراہ انجینئر بلال الرحمن کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن گائیڈلائنز اور جامعہ تربت کے تعلیمی تقاضوں کی روشنی میں کمپیوٹر سائنس میں تین نئی اسپیشلائزیشنز، ڈیٹا سائنس، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سائبر سیکیورٹی متعارف کرانے کی منظوری دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ کمپیوٹنگ میں 14 سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری کے حامل امیدواروں کو بی ایس کمپیوٹر سائنس پروگرام کے پانچویں سمسٹر میں براہ راست داخلے کی سہولت دینے کی بھی سفارش کی گئی۔اجلاس میں ہائرایجوکیشن کمیشن جانب سے جاری کردہ فریم ورک کے مطابق بی ایس کمپیوٹر سائنس کے پروگرام لرننگ آؤٹ کمز اورکورس لرننگ آؤٹ کمز کے علاوہ نصاب کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ترجمان جامعہ تربت کے مطابق، وائس چانسلر ڈاکٹر گل حسن نے اس موقع پر اپنے پیغام میں کہاہے کہ یونیورسٹی کو روایتی تعلیمی نظام سے نکال کر قومی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید خطوط پر استوار کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے، تاکہ یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ قومی و عالمی جاب مارکیٹ کے چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جامعہ تربت اپنے اسٹریٹجک پلان 2030 پر عملدرآمد کرتے ہوئے اس خطے میں ہائی ٹیک تعلیم اور ڈیجیٹل انقلاب کا سب سے بڑا مرکز بننے کی طرف گامزن ہے۔وائس چانسلر نے واضح کیا کہ عصرحاضر کے تقاضوں پر مبنی نئے متعارف کرائے گئے ان پروگرامز کا بنیادی مقصد طلبہ کو کامیاب کیریئر کی ضمانت فراہم کرنا ہے۔اجلاس میں سبجیکٹ ایکسپرٹس کے طور پر جامعہ بلوچستان سے پروفیسر ڈاکٹر وحید نور اور سکھر آئی بی اے یونیورسٹی سے ڈاکٹر زکریا کے علاوہ ایپٹیک میڈیا پشاور سے انڈسٹری ایکسپرٹ عثمان خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اس کے علاوہ جامعہ تربت سے کوالٹی انہانسمنٹ سیل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ریاض احمد اور فیکلٹی ممبر بالاچ خان کے علاوہ عطاء شاد ڈگری کالج تربت سے محمد یوسف مجاہد اور گرلز ڈگری کالج تربت سے گوہر عزیز بھی اجلاس میں شریک تھے۔
خبرنامہ نمبر 7570/2026
کوئٹہ9 ستمبر:۔گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی بدولت انسان جسمانی طور پر معذور ہو سکتا ہے لیکن مجبور ہرگز نہیں ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے ایسے بے شمار امکانات پیدا کر دیے ہیں جن کے ذریعے جسمانی معذوری رکھنے والے افراد نہ صرف اپنی زندگی خودمختار انداز میں گزار سکتے ہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی خدمت اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں اسپیشل پرسن سید رفیع اللہ جیسے نوجوان ہمارے لیے صرف خصوصی افراد نہیں بلکہ عزم، ہمت اور امید کی روشن مثال ہیں۔ گورنر مندوخیل نے سید رفیع اللہ کی تعلیمی خواہش اور مستقبل کے عزائم کو سراہتے ہوئے انہیں لیپ ٹاپ فراہم کرنے اور ان کی خواہش کے مطابق متعلقہ تعلیمی شعبے میں فوری طور داخلہ دلانے کی ہدایت کی۔ یہ بات انہوں نے گورنر ہاوس کوئٹہ میں اسپیشل پرسن سید رفیع اللہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ دونوں ہاتھوں سے محروم سید رفیع اللہ نے عزم، حوصلے اور غیرمعمولی صلاحیتوں کی ایسی زندہ مثال قائم کی ہے جو اس حقیقت کا عملی ثبوت ہے کہ جسمانی معذوری انسان کے خوابوں، صلاحیتوں اور کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں مواقع، سہولیات اور حوصلہ فراہم کیا جائے۔ گورنر مندوخیل نے عالمی شہرت یافتہ سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ شدید جسمانی معذوری کے باعث اپنی زندگی کا بیشتر حصہ وہیل چیئر تک محدود رہے لیکن اپنی غیرمعمولی ذہانت، ریسرچ اور بلند عزم کی بدولت کائنات کے اسرار کو سمجھنے میں دنیا کی فکری رہنمائی کی اور سائنس کی تاریخ میں اپنا نام ہمیشہ کے لیے رقم کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر عزم زندہ ہو تو ہاتھ نہ ہونے کے باوجود انسان نئے کارنامے سر انجام دے سکتا ہے۔ سید رفیع اللہ جیسے باہمت نوجوان بلوچستان کے دوسرے نوجوانوں کیلئے امید، حوصلے اور خوداعتمادی کا پیغام ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7571/2026
کوئٹہ9 ستمبر۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل سے سابق رکن صوبائی اسمبلی انیتا عرفان کی قیادت میں کرسچین، ہندو اور سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے ملاقات کی اور انہیں امریکہ کے کامیاب دورے، اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں منعقدہ یوتھ اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سمٹ میں شرکت اور خطاب پر مبارکباد پیش کی۔ ملاقات کے دوران سابق رکن صوبائی اسمبلی انیتا عرفان، عرفان بشیر، بشپ ولسن فضل، بشپ امانت مسیح، آمر جان، طارق گل اور راج کمار بھی موجود تھے۔ گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے امریکہ کے کامیاب دورے کے بعد وطن واپسی پر مبارکباد دینے پر تمام اقلیتی نمائندوں کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں یوتھ اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سمٹ سے خطاب ہم سب کیلئے باعثِ اعزاز ہے۔ گورنر ہاوس میں آپ سب کی آمد میرے لیے باعثِ خوشی ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے سنجیدہ اور موثر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اپنے نوجوانوں کی آواز کو دنیا کے سب سے بڑے عالمی فورم پر مختلف ممالک کے مندوبین کے سامنے اجاگر کرنا ایک قابلِ فخر عمل ہے۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ امریکہ کے دورے کے دوران پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے جشن آزادی پاکستان کے سلسلے میں ٹیکساس، ہیوسٹن اور لاس اینجلس میں منعقدہ تقریبات میں بھی شرکت کی۔ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ ہمارا تعلق بلاشبہ مختلف قوموں، مذاہب اور اقلیتوں سے ہے مگر ہم سب پاکستانی ہیں۔ آئینِ پاکستان کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں۔ انہوں نے اقلیتی برادریوں کے نمائندوں کو یقین دلایا کہ حکومت کا تعاون ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گا اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائینگے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ”مینارٹیز“ کی اصطلاح کو تبدیل کرکے ”انٹرفیتھ ہارمنی“ کا نام دیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی اور صوبائی قیادت کی جانب سے بھی یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ جو کمیونٹیز ترقی کے عمل میں پیچھے رہ گئی ہیں، انہیں آگے لایا جائے اور انہیں مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیت ہوں یا اکثریت، ہم سب ایک ہی ملک کے باشندے ہیں اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں سب کا برابر کا کردار ہے۔ آخر میں مختلف اقلیتی برادریوں کے نمائندوں کی جانب سے گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی جبکہ دیگر نمائندوں نے انہیں ہار پہنائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7572/2026
کوئٹہ، 9 ستمبر ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے بگٹی قبیلے کے عمائدین، بزرگوں اور نوجوانوں کے وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں ڈیرہ بگٹی، سوئی اور گردونواح میں جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح و بہبود اور علاقے کی مجموعی ترقی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی، سوئی اور پورے علاقے کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لیے تاریخ ساز منصوبوں پر کام جاری ہے، جبکہ متعدد اہم منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔ حکومت بلوچستان علاقے میں تعلیم، صحت، ذرائع مواصلات اور روزگار کے مواقع کی فراہمی سمیت بنیادی سہولیات کی بہتری پر خصوصی توجہ دے رہی ہے انہوں نے کہا کہ گیس کمپنیوں میں مقامی افراد کو روزگار کے مواقع کی فراہمی اور مقامی آبادی کی فلاح و بہبود حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ گیس کمپنیوں کے سوشل رسپانسبلٹی اور بہبود کے فنڈز کو بھی عوامی مفاد کے منصوبوں پر خرچ کرنے کے لیے موثر حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے تاکہ ان وسائل سے مقامی آبادی کو براہ راست فائدہ پہنچ سکے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت ترقیاتی عمل کو محض اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے ڈیرہ بگٹی، سوئی اور ملحقہ علاقوں میں دیرپا ترقی کی بنیاد مضبوط کر رہی ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کے ساتھ سڑکوں اور دیگر مواصلاتی ذرائع کی بہتری، روزگار کے مواقع اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جا رہا ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ علاقے کے عوام کی ترقی اور خوشحالی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے دستیاب وسائل کو شفاف اور موثر انداز میں بروئے کار لایا جا رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7573/2026
کوئٹہ، 9 ستمبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے خاران اور واشک میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کی ہلاکت پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خاران میں دہشت گردوں کی جانب سے سڑک بلاک کرکے مقامی ٹریفک میں خلل ڈالنے کی کوشش کو بروقت ناکام بنانا سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور مستعدی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے واشک میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کامیاب کارروائی اور دہشت گردوں کے ٹھکانے کو تباہ کرنے پر بھی سکیورٹی فورسز کو سراہا۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گردوں کا خاتمہ اور 2.9 ٹن دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی اہم کامیابی ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں عوام کے جان و مال کے تحفظ اور صوبے میں امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی انہوں نے کہا کہ ”عزمِ استحکام“ کے وژن کے تحت انسداد دہشت گردی کی مہم کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے۔ ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والے عناصر کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کا راستہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے سے ہوکر گزرتا ہے، اور صوبائی حکومت اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7574/2026
کوئٹہ، 9 ستمبر ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان سے سبکدوش ہوکر پنجاب تبادلہ ہونے والے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS) کے افسر حمود الرحمٰن کی بلوچستان میں خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں یادگاری شیلڈ پیش کی۔ حمود الرحمٰن نے بلوچستان میں اپنی تعیناتی کے دوران مختلف تفویض کردہ ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، انتظامی امور میں موثر کردار اور ذمہ داریوں کی ذمہ دارانہ انجام دہی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حمود الرحمٰن نے بلوچستان میں خدمات کے دوران سرکاری امور کی انجام دہی میں قابل قدر کردار ادا کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ افسران کی پیشہ ورانہ قابلیت، محنت اور ذمہ داری کا احساس انتظامی نظام کی بہتری اور عوامی خدمت کے عمل کو موثر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے حمود الرحمٰن کے لیے پنجاب میں نئی ذمہ داریوں پر نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ان کی کامیابی کے لیے دعا کی اس موقع پر حمود الرحمٰن نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں خدمات انجام دینا ان کے لیے ایک اہم اور یادگار پیشہ ورانہ تجربہ رہا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ کی جانب سے انتظامی امور میں فراہم کردہ معاونت، رہنمائی اور حوصلہ افزائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی سرپرستی میں انہیں اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں انجام دینے کا بھرپور موقع ملا حمود الرحمٰن نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بلوچستان میں تعیناتی کے دوران حاصل ہونے والا تجربہ ان کے پیشہ ورانہ سفر کا اہم حصہ رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7576/2026
کوئٹہ: 9 ستمبر۔صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ سے ان کے دفتر میں مختلف وفود کے لوگوں نے ملاقات کی ملاقات کے دوران مختلف وفود نے صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ کو اپنے مسائل اور مشکلات سے آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر نے وفود کے مسائل توجہ سے سنے اور متعلقہ حکام سے رابطے کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کی یقین دہانی کرائی اس موقع پر حاجی نور محمد دمڑ نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل اور لوگوں کو ریلیف کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ عوامی نمائندوں کے دروازے عوام کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں اور لوگوں کے جائز مسائل کے حل کے لیے بھرپور کوششیں جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7577/2026
کوئٹہ، 9 ستمبر ۔معاونِ وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے خاران اور واشک میں سکیورٹی فورسز کی موثر کارروائیوں کے دوران 11 بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے شاہد رند نے کہا کہ خاران میں دہشت گردوں کی جانب سے سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کرکے ٹریفک کی روانی متاثر کرنے کی کوشش کو بروقت ناکام بنانا سکیورٹی فورسز کی مستعدی اور پیشہ ورانہ مہارت کا واضح ثبوت ہے انہوں نے کہا کہ واشک میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے کو تباہ کرنا اور تین دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانا ایک اہم کامیابی ہے۔ کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی سے دہشت گردوں کے مذموم عزائم بھی بے نقاب ہوئے ہیں معاونِ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 2.9 ٹن دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ دہشت گرد بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، تاہم سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے ان کے عزائم خاک میں ملا دیے شاہد رند نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم اپنی سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔ بیرونی عناصر کی سرپرستی میں بلوچستان کا امن تباہ کرنے کی ہر کوشش کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ ”عزمِ استحکام“ کے تحت انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی اور ریاست دشمن عناصر کو قانون کی گرفت سے بچنے کا کوئی موقع نہیں دیا جائے گا شاہد رند نے کہا کہ بلوچستان حکومت امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی۔ صوبے میں امن کے قیام کے ساتھ ترقی اور خوشحالی کا سفر بھی جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7578/2026
نصیرآباد9ستمبر۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع نصیرآباد کے تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل کی بہتری اساتذہ اور دیگر ملازمین کی حاضری تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل طلباءکو معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے خلاف بلاامتیاز کارروائی سمیت دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس میں ضلع بھر کے تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیوں کو مزید مو¿ثر بنانے اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے اور طلباء کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا اس موقع پر تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور تدریسی عمل میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی کو برداشت نہ کرنے پر زور دیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کہا کہ جدید اور معیاری تعلیم کے حصول کے بغیر کسی بھی معاشرے اور ملک کی حقیقی ترقی ممکن نہیں انہوں نے کہا کہ اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کرنا ہوگی کیونکہ علم تحقیق اور جدید تعلیم ہی ترقی کی بنیاد ہیںانہوں نے کہا کہ اساتذہ کرام معاشرے کے معمار اور نئی نسل کے مستقبل کے ذمہ دار ہیں ان کی ذمہ داری صرف نصابی تعلیم تک محدود نہیں بلکہ وہ طلبائ کی اخلاقی تربیت کردار سازی اور انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں خلوص، محنت اور پیشہ ورانہ جذبے کے ساتھ ادا کریں تاکہ طلبائ کو معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک بہتر اور مثبت مستقبل بھی فراہم کیا جا سکے ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ضلع بھر کے تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور دیگر عملے کی حاضری کو یقینی بنایا جائے اور غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے انہوں نے کہا کہ سرکاری وسائل عوام کی امانت ہیں اور تعلیمی اداروں میں فرائض سے غفلت کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات اساتذہ کی دستیابی طلباء کی حاضری اور تدریسی معیار کو بہتر بنانے کے لیے تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور موثر حکمت عملی کے تحت اقدامات کریں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ نصیرآباد میں تعلیم کے فروغ اور تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7579/2026
کوئٹہ 9ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے اسسٹنٹ کمشنر سٹی کویٹہ امیر حمزہ اور ایکسین سٹی کے ہمراہ بلوچستان یونیورسٹی میں قائم کی جانے والی جدید ای کامرس و آئی ٹی لیب کا دورہ کیا اور منصوبے پر جاری کام کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کو منصوبے کے مختلف پہلووں، جدید آئی ٹی آلات کی فراہمی و تنصیب، لیب کی اپ گریڈیشن، مرمت و تزئین اور منصوبے کی مجموعی پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کے تمام کام منظور شدہ معیار، اسپیسفکیشنز اور مقررہ مدت کے مطابق مکمل کیے جائیں اور جدید آئی ٹی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ جدید ای کامرس و آئی ٹی لیب طلبہ کے لیے ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مہارتوں اور آن لائن کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ منصوبے کی بروقت اور معیاری تکمیل کے لیے متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور تعاون کو مزید موثر بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7580/2026
تربت9ستمبر۔جامعہ تربت کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کے بورڈ آف اسٹڈیزکاپانچواں اجلاس شعبے کے سربراہ انجینئر بلال الرحمن کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن گائیڈلائنز اور جامعہ تربت کے تعلیمی تقاضوں کی روشنی میں کمپیوٹر سائنس میں تین نئی اسپیشلائزیشنز، ڈیٹا سائنس، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سائبر سیکیورٹی متعارف کرانے کی منظوری دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ کمپیوٹنگ میں 14 سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری کے حامل امیدواروں کو بی ایس کمپیوٹر سائنس پروگرام کے پانچویں سمسٹر میں براہ راست داخلے کی سہولت دینے کی بھی سفارش کی گئی۔اجلاس میں ہائرایجوکیشن کمیشن جانب سے جاری کردہ فریم ورک کے مطابق بی ایس کمپیوٹر سائنس کے پروگرام لرننگ آو¿ٹ کمز اورکورس لرننگ آوٹ کمز کے علاوہ نصاب کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ترجمان جامعہ تربت کے مطابق، وائس چانسلر ڈاکٹر گل حسن نے اس موقع پر اپنے پیغام میں کہاہے کہ یونیورسٹی کو روایتی تعلیمی نظام سے نکال کر قومی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید خطوط پر استوار کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے، تاکہ یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ قومی و عالمی جاب مارکیٹ کے چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جامعہ تربت اپنے اسٹریٹجک پلان 2030 پر عملدرآمد کرتے ہوئے اس خطے میں ہائی ٹیک تعلیم اور ڈیجیٹل انقلاب کا سب سے بڑا مرکز بننے کی طرف گامزن ہے۔وائس چانسلر نے واضح کیا کہ عصرحاضر کے تقاضوں پر مبنی نئے متعارف کرائے گئے ان پروگرامز کا بنیادی مقصد طلبہ کو کامیاب کیریئر کی ضمانت فراہم کرنا ہے۔اجلاس میں سبجیکٹ ایکسپرٹس کے طور پر جامعہ بلوچستان سے پروفیسر ڈاکٹر وحید نور اور سکھر آئی بی اے یونیورسٹی سے ڈاکٹر زکریا کے علاوہ ایپٹیک میڈیا پشاور سے انڈسٹری ایکسپرٹ عثمان خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اس کے علاوہ جامعہ تربت سے کوالٹی انہانسمنٹ سیل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ریاض احمد اور فیکلٹی ممبر بالاچ خان کے علاوہ عطاء شاد ڈگری کالج تربت سے محمد یوسف مجاہد اور گرلز ڈگری کالج تربت سے گوہر عزیز بھی اجلاس میں شریک تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7581/2026
کوئٹہ 9 ستمبر۔ضلعی انتظامیہ کوئٹہ نے سرکاری نرخ کی خلاف ورزی کرنے والے نان بائیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 11 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا۔تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر سٹی امیر حمزہ بلو کی نگرانی میں اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ نے شہر کے مختلف علاقوں میں تندوروں کا معائنہ کیا۔کارروائی کے دوران نان کی قیمت اور وزن چیک کیا گیا، جبکہ مقررہ سرکاری نرخ سے زائد قیمت وصول کرنے اور وزن میں کمی کرنے والے نان بائیوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور عوام کو مقررہ نرخ و وزن کے مطابق نان کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔یہ کارروائی کوئٹہ میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اشیائے خورونوش کے سرکاری نرخوں پر عملدرآمد کے لیے جاری مہم کا حصہ ہے۔آئندہ دنوں میں اس حوالے سے مزید سختی برتی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنا مہ نمبر7582/2026
تربت9ستمبر۔ : ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی نے بلیدہ کے مختلف سرکاری تعلیمی اداروں کا تفصیلی دورہ کیا اور اسکولوں میں تدریسی و انتظامی امور کا جائزہ لیا۔اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی نے گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول کورِ پشت، گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کورِ پشت، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول کوشک اور گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کوشک کا دورہ کیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ نے اساتذہ کی حاضری، طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں، تدریسی عمل، اسکولوں میں بنیادی سہولیات اور مجموعی انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا انہوں نے اساتذہ اور متعلقہ عملے کی حاضری بھی چیک کی اور تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا۔اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی نے اسکولوں میں پینے کے صاف پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کی دستیابی کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعلیمی اداروں میں درپیش مسائل کے حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری، محنت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں اور طلبہ کی بہتر تعلیم و تربیت کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور اساتذہ کی حاضری اور اسکولوں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے گی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی ہدایات کے مطابق ضلع بھر میں سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور طلبہ کو معیاری تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں ضلعی انتظامیہ کیچ تعلیم کے فروغ اور سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی بہتری کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7583/2026
تربت9ستمبر۔ : ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی نے کوشک بلیدہ بازار کا تفصیلی دورہ کیا اور مختلف دکانوں کا معائنہ کرتے ہوئے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور معیار کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی نے مختلف دکانوں پر پرائس چیکنگ کی اور سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا اس موقع پر پرائس کنٹرول کمیٹی کے اہلکار بھی موجود تھے جنہوں نے انتظامیہ کے ہمراہ مارکیٹ میں اشیائے صرف کی قیمتوں اور معیار کا معائنہ کیا۔اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ نے دکانوں میں موجود مضرِ صحت اور ناقص اشیائے خوردونوش کو بھی چیک کیا اور دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ عوام کو معیاری محفوظ اور مقررہ نرخوں کے مطابق اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے دکانداروں کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری نرخ ناموں کی خلاف ورزی، گرانفروشی، ذخیرہ اندوزی اور مضرِ صحت اشیائ کی فروخت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی ہدایات کے مطابق ضلع بھر میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے، گرانفروشی کی روک تھام اور اشیائے ضروریہ کی مقررہ نرخوں پر فراہمی یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں اور مارکیٹوں کی نگرانی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ضلعی انتظامیہ کیچ عوامی مفادات کے تحفظ اور بازاروں میں قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 7584/2026
کوئٹہ، 8 ستمبر۔ بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کوئٹہ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ، الیکٹرک گاڑیوں، خواتین وکلاء کے لیے پنک اسکوٹیز، لوکل بس اسٹینڈ، خستہ حال بسوں اور شہریوں کو درپیش سفری مسائل سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے متعلقہ صوبائی محکموں کو متعدد اہم ہدایات جاری کردیں۔
سماعت کے دوران درخواست گزاران کی جانب سے شرمین رحمان اور انعم خیر ایڈووکیٹس، جبکہ درخواست گزاروں/مداخلت کاروں کی جانب سے علی احمد کرد، محمد عثمان یوسفزئی، بی کے مروت اور عبدالجبار بگٹی ایڈووکیٹس پیش ہوئے۔ محمد فرید ڈوگر ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ظہور بلوچ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، سیکرٹری محکمہ ٹرانسپورٹ محمد حیات کاکڑ، سیکرٹری آر ٹی اے کوئٹہ نعمت ترین، پروجیکٹ ڈائریکٹر بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو محمد صابر، ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر سلمان خان ترین، ایم سی کیو کے وکیل اظہار الحق ترین، کیو ڈی اے کے وکیل محمد اکرم شاہ، ڈپٹی ڈائریکٹر اربن پلاننگ و ڈویلپمنٹ کلیم اللہ، چیف آف سیکشن پی اینڈ ڈی شکیل احمد اور ڈی ایس جوڈیشل محمد اختر بھی عدالت میں موجود تھے۔
الیکٹرک پبلک ٹرانسپورٹ اسکیم پر ایک ہفتے میں پیش رفت کی ہدایت۔
عدالت کو محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے بتایا گیا کہ الیکٹرک گاڑیوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کے طور پر متعارف کرانے اور موٹر رکشوں کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے کی اسکیم پر نظرثانی کی گئی ہے، جس کی مجموعی لاگت 595.720 ملین روپے ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسکیم میں 37 ای وی اسٹاپس، الیکٹرک وہیکل چارجرز، 300 کلوواٹ کا سولر پاور سسٹم اور 16 رکشہ اسٹینڈز شامل ہیں۔ نظرثانی شدہ پی سی ون محکمہ پی اینڈ ڈی کو بھیجا جا چکا ہے اور منصوبے کی منظوری کے لیے اسے پی ڈی ڈبلیو پی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جانا ہے۔محکمہ پی اینڈ ڈی کے چیف آف سیکشن نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کی تجویز پر بعض مشاہدات سامنے آئے تھے اور ان کے جواب کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ کو خط ارسال کیا گیا ہے۔ اس پر سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے یقین دہانی کرائی کہ تمام مشاہدات کا جواب ترجیحی بنیادوں پر دیا جائے گا۔عدالت نے اے سی ایس ڈویلپمنٹ، محکمہ پی اینڈ ڈی کو ہدایت کی کہ محکمہ ٹرانسپورٹ سے جواب موصول ہوتے ہی منصوبے کو آئندہ پی ڈی ڈبلیو پی اجلاس میں پیش کیا جائے اور آئندہ سماعت تک پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔خواتین وکلاء کے لیے پنک اسکوٹیز کی تقسیم کا عمل تیز کرنے کا حکم عدالت کو بتایا گیا کہ خواتین وکلاء کے لیے پنک اسکوٹیز، وکلاء کے لیے شٹل کارٹس، بسیں اور کچلاک و سریاب سے وکلاء کی آمدورفت کے لیے پنک وینز کی فراہمی پر مشتمل اسکیم پہلے ہی تیار کی جا چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسکیم میں 100 الیکٹرک پنک اسکوٹیز، دو الیکٹرک شٹل کارٹس، دو 9 میٹر ڈیزل بسیں، دو پنک وینز اور تین پورٹس پر مشتمل چارجنگ اسٹیشنز شامل ہیں۔ 100 الیکٹرک پنک اسکوٹیز کی خریداری پر 21.5 ملین روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ دو بسوں کی خریداری کے سلسلے میں متعلقہ کمپنی کو 8.50 ملین روپے ادا کیے گئے ہیں۔تاہم، دو شٹل کارٹس، دو ڈیزل بسوں اور دو پنک وینز کی فراہمی ابھی باقی ہے۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ اسکیم کے مستحقین کے انتخاب کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خواتین وکلاء کی فہرست طلب کی گئی تھی اور استفادہ کنندگان کی تعداد دستیاب اسکوٹیز سے زیادہ ہونے کی صورت میں بیلٹنگ کا طریقہ کار اختیار کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ضروری کارروائی مکمل ہو چکی ہے اور بیلٹنگ کا عمل بھی مکمل کیا جا چکا ہے۔
تاہم، عوامی فنڈز کے شفاف اور مناسب استعمال کو یقینی بنانے کے لیے عدالت نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے، جو مستحقین کے انتخاب اور تقسیم کے مکمل عمل کا جائزہ لے گی۔کمیٹی کی سربراہی صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن عطاء اللہ لانگو کریں گے، جبکہ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان یا ان کے نامزد ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کنوینر ہوں گے۔ کمیٹی میں ہائی کورٹ بار کے جنرل سیکرٹری نجم الدین آغا، سیکرٹری ٹرانسپورٹ محمد حیات کاکڑ، درخواست گزاران انعم خیر اور شرمین رحمان، اکرم شاہ ایڈووکیٹ، شاہ رسول ایڈووکیٹ اور اے اے جی سلمیٰ عبدالفتاح شامل ہوں گے۔عدالت نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ 12 ستمبر 2026 بروز ہفتہ صبح 11 بجے اجلاس منعقد کرے اور ترجیحاً دس دن کے اندر فیصلہ کرے۔ کمیٹی کی منظوری کے فوراً بعد پنک اسکوٹیز کی تقسیم کا عمل شروع کیا جائے گا اور اسے تین کام کے دنوں میں مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
لوکل بس اسٹینڈ کے لیے زمین کا معاملہ عدالت نے ڈبل روڈ فلائی اوور کے نیچے واقع سابق آکٹرائی گودام کی زمین، جسے لوکل بس اسٹینڈ کے لیے مختص کیا گیا ہے، کے معاملے پر بھی سخت ہدایات جاری کیں۔عدالت کو بتایا گیا کہ منصوبے کی تخمینہ لاگت 441.650 ملین روپے تھی اور اسے پی ڈی ڈبلیو پی نے 16 جون 2025 کو ہونے والے اجلاس میں پیش کیا تھا۔ بعد ازاں کابینہ نے 19 جنوری 2026 کے اجلاس میں منصوبے کو پی ایس ڈی پی 2026-27 میں شامل کرنے کی منظوری دی، تاہم موجودہ پی ایس ڈی پی میں اس کی مناسب عکاسی نہ ہونے کے باعث منصوبے میں تاخیر ہوئی۔عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ محکمہ ٹرانسپورٹ کو زمین کا قبضہ دیا جا چکا ہے، اس لیے اب زمین کی مکمل حفاظت اور استعمال کو یقینی بنایا جائے۔
عدالت نے سیکرٹری ٹرانسپورٹ کو ہدایت کی کہ زمین کا مکمل فزیکل قبضہ یقینی بنایا جائے، جبکہ ڈی جی کیو ڈی اے محکمہ ٹرانسپورٹ کو ہر ممکن تعاون فراہم کریں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ زمین کی حفاظت کے لیے چوکیدار تعینات کرے اور ضرورت پڑنے پر باؤنڈری وال بھی تعمیر کرے تاکہ کسی نجی شخص کو زمین پر غیر قانونی طور پر داخل ہونے سے روکا جا سکے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کو نظرثانی شدہ پی ایس ڈی پی 2026-27 میں منصوبہ شامل کرنے کے لیے محکمہ پی اینڈ ڈی کو جامع یاددہانی ارسال کرنے اور آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔کوئٹہ کے لیے 27 الیکٹرک فیڈر بسوں کی منظوری، فنڈز فوری جاری کرنے کا حکمکوئٹہ شہر کی خستہ حال اور غیر فٹ بسوں کے معاملے پر عدالت کو بتایا گیا کہ گرین بس سروس کے فیڈر روٹس کے لیے 27 الیکٹرک بسوں کی اسکیم پی ایس ڈی پی 2026-27 میں شامل کرنے کی منظوری دی جا چکی ہے، جس کی تخمینہ لاگت 1,492.425 ملین روپے ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ گرین بسیں اس وقت مرکزی روٹس پر چل رہی ہیں جبکہ منظور شدہ 27 الیکٹرک بسیں شہر کے فیڈر روٹس پر چلائی جائیں گی، جس سے کوئٹہ کے مضافاتی اور نواحی علاقوں کے شہریوں کو بہتر سفری سہولت میسر آئے گی۔عدالت نے محکمہ پی اینڈ ڈی کو ہدایت کی کہ منصوبے کے لیے ضروری اجازت فوری طور پر جاری کی جائے تاکہ محکمہ خزانہ مطلوبہ فنڈز جاری کر سکے اور منصوبے پر مزید تاخیر کے بغیر عملدرآمد شروع ہو۔
سریاب سے کچلاک تک پیپلز ٹرین سروس، دو پارلر کوچز جلد کوئٹہ پہنچانے کا حکم
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ سریاب سے کچلاک تک پیپلز ٹرین سروس کے منصوبے پر تقریباً 95 فیصد فزیکل اور 80 فیصد مالیاتی پیش رفت ہو چکی ہے۔محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق منصوبے کے تحت دو پارلر کوچز خریدی جا چکی ہیں جو کیرج فیکٹری اسلام آباد میں تیار ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ان کوچز کو پاکستان ریلوے کے ذریعے کوئٹہ پہنچایا جانا باقی ہے۔
عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ پاکستان ریلویز کوئٹہ ریجن اور چیف آف ٹرانسپورٹ سیکشن پاکستان ریلوے ہیڈکوارٹرز لاہور سے رابطہ کریں اور دو پارلر کوچز کی فوری فراہمی یقینی بنائیں۔عدالت نے واضح کیا کہ اس سلسلے میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا دفتر محکمہ ٹرانسپورٹ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔
کوئٹہ میں ٹریفک اور سبزی منڈی کے مسائل پر بھی رپورٹ طلب کیو ڈی اے کے وکیل محمد اکرم شاہ نے عدالت کو بتایا کہ گورننگ باڈی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں سڑک کی تعمیر، سبزی منڈی کے پلاٹ اور اس کے اطراف میں ٹریفک کے مسائل کو منظم کرنے کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ کے ساتھ مشاورت کی جائے گی۔
عدالت نے اس معاملے پر آئندہ سماعت کے موقع پر جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے قرار دیا کہ شہریوں کو بہتر، محفوظ اور باقاعدہ سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے متعلقہ محکمے باہمی رابطے کے ساتھ عملی اقدامات یقینی بنائیں اور منظور شدہ منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے۔
عدالت نے حکم کی نقل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے دفاتر کے ذریعے متعلقہ حکام کو معلومات اور تعمیل کے لیے ارسال کرنے کی ہدایت بھی کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئندہ کسی قسم کی عدم تعمیل کی صورت میں متعلقہ افسر کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہو کر وضاحت دینا ہوگی۔
خبرنامہ نمبر 7585/2026
کوئٹہ: بلوچستان صوبائی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کا اجلاس چیئرمین کمیٹی اصغر علی ترین کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں کمیٹی کے اراکین عبیداللہ گورگیج، فضل قادر مندوخیل، رحمت صالح بلوچ اور صفیہ فضل نے شرکت کی، جبکہ اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری نے خصوصی دعوت پر اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں سیکرٹری صوبائی اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ بلوچستان شجاع علی، اسپیشل سیکرٹری PAC سراج لہڑی، ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال، ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ سمیت متعلقہ محکموں کے دیگر افسران شریک ہوئے۔
اجلاس میں ایگزیکٹو انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈویژن (PHED) گوادر کے مالی سال 2018-19 سے 2020-21 کے دوران POL اور مرمت و بحالی کے اخراجات سے متعلق خصوصی آڈٹ رپورٹ، آڈٹ سال 2022-23 اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی مورخہ 29 مئی 2025 کی ہدایات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔کمیٹی نے رپورٹ میں نشاندہی کی گئی 590.813 ملین روپے کی غیر مجاز واجب الادا رقوم (Unauthorized Liabilities) کے معاملے پر تفصیلی بحث کی۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق مذکورہ واجبات POL چارجز اور واٹر سپلائی اسکیموں کی مرمت و بحالی کی مد میں ایگزیکٹو انجینئر PHED گوادر کی جانب سے مجاز فورم کی پیشگی منظوری کے بغیر پیدا کیے گئے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ متعلقہ عرصہ 2018 سے 2021 کے دوران تعینات رہنے والے متعلقہ ایگزیکٹو انجینئرز اجلاس میں موجود نہیں تھے، جس پر کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ متعلقہ افسران کو آئندہ اجلاس میں اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جائے گا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ متعلقہ افسران آئندہ اجلاس سے قبل تمام ضروری ریکارڈ اور دستاویزی ثبوت محکمہ آڈٹ اور PAC کو فراہم کریں۔ اگر افسران اپنے مؤقف کو دستاویزات کے ذریعے ثابت کرنے میں کامیاب رہے تو متعلقہ پیرا کو نمٹانے پر غور کیا جائے گا، بصورت دیگر ذمہ دار افسران سے ریکوری عمل میں لائی جائے گی۔ اجلاس میں کمیٹی نے متعلقہ تین ایگزیکٹیو انجینیئرز(ایکس ای اینز) جو کہ گزشتہ ڈیڑھ سال پہلے پی اے سی کے احکامات پر تا حال عملدرآمد نہ کرنے ، غیر ذمہ داری عوم کی رقم کی غلط استعمال اور جواب دہ نہ ہونے مسلسل موقع فراہم کرنے کی باوجود 590.813 ملین روپے کی ریکارڈ مہیا نہ کنے عوامی رقم کو ضائع کرنے پر OSD کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔ اور ان کے کے خلاف رولز کے کارروائی کا حکم بھی دیا۔ اس موقع پر عبیداللہ گورگیج نے کہا کہ پی اے سی کو مجبور نہ کیا جائے ورنہ ان ایکس ای اینز کے خلاف ایف آئی آر درج کیا جائے گا، ان کو ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے پی اے سی میں پیش کر نے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ صفیہ فضل نے کہا کہ ڈیڑھ سال میں محکمہ نے پی اے سی کے احکامات پر عمل درآمد نہ کیا تو اب او کو موقع دینا فضول ہے۔ رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ محکمہ پی ایچ ای اپنے آپ کو جوابدہ نہیں سمجھ رہا ہے جو کہ قابل تشویش ہے ۔
کمیٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر تحقیقات کے نتیجے میں معاملہ سنگین نوعیت کا پایا گیا تو اسے قومی احتساب بیورو (NAB)، چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم (CMIT) یا اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان کو بھیجا جا سکتا ہے۔اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے 29 مئی 2025 کو جاری کردہ ہدایات پر تاحال مؤثر پیش رفت نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ رکن کمیٹی فضل قادر مندوخیل نے کہا کہ 16 ماہ گزرنے کے باوجود محکمے کی جانب سے مسلسل مزید وقت طلب کیا جا رہا ہے، جبکہ کمیٹی اراکین اپنے دیگر اہم امور چھوڑ کر اس فورم پر عوامی مفاد میں بیٹھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی متعلقہ افسر دانستہ طور پر کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہو رہا تو محکمہ اس بارے میں واضح طور پر آگاہ کرے تاکہ کمیٹی قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لا سکے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل آڈٹ بلوچستان نے نومبر 2022 میں PHED گوادر کے ایگزیکٹو انجینئر کے اکاؤنٹس کا سال 2018 تا 2021 کے دوران POL اور مرمت و بحالی کی مد میں خصوصی آڈٹ کیا۔ آڈٹ کا مقصد حکومتی قوانین، قواعد و ضوابط اور مالیاتی طریقہ کار پر عملدرآمد، ٹینڈرز اور بولیوں کے عمل میں شفافیت، معاہدوں کے دوران مالیاتی اصولوں کی پابندی اور سرکاری فنڈز کے قواعد کے مطابق استعمال کا جائزہ لینا تھا۔ آڈٹ INTOSAI Auditing Standards کے مطابق کیا گیا۔خصوصی آڈٹ رپورٹ میں متعدد اہم بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں 590.813 ملین روپے کی accrued liabilities کا اکاؤنٹس میں اندراج نہ کرنا، 23.967 ملین روپے انکم ٹیکس کی کٹوتی نہ کرنا، 492.363 ملین روپے کے ٹینڈر طلب کیے بغیر غیر باقاعدہ اخراجات، خشک سالی کے دوران واٹر سپلائی اسکیموں کے آپریشن و مینٹیننس پر 38.426 ملین روپے کے غیر جواز یا مشکوک اخراجات، جبکہ POL اور Lubricants کے اہم ریکارڈ اور اسٹاک اکاؤنٹس کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث 492.363 ملین روپے کے مشکوک اخراجات شامل ہیں۔
رپورٹ میں مزید نشاندہی کی گئی کہ متعلقہ ڈویژنل دفتر میں مالیاتی نظم و نسق کمزور تھا، ضروری ریکارڈ اور لاگ بکس کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی گئی، اسٹاک رجسٹر مکمل طور پر برقرار نہیں رکھا گیا اور مجاز اتھارٹی سے ضروری منظوری حاصل کیے بغیر واجبات پیدا کیے گئے۔ اسی طرح اخراجات اور خریداری کے عمل میں حکومتی قواعد کی مکمل پاسداری نہ ہونے کے باعث مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔کمیٹی نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ بعض متعلقہ افسران نہ صرف ریکارڈ فراہم کرنے میں ناکام رہے بلکہ PAC جیسے اہم آئینی فورم کے اجلاس میں بھی پیش نہیں ہوئے۔
کمیٹی نے محکمہ کو ہدایت کی کہ آڈٹ پیراز پر اپنی پوزیشن، متعلقہ ریکارڈ اور وضاحت 15 روز کے اندر کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے۔اجلاس کے اختتام پر کمیٹی اراکین نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ سیکرٹری متعلقہ محکمے کو مراسلہ ارسال کرتے ہوئے متعلقہ ایکسینز اور دیگر ذمہ دار افسران کو آئندہ اجلاس میں پیش کرنے اور تمام ضروری ریکارڈ کمیٹی کے سامنے رکھنے کا پابند کریں، تاکہ معاملات کو قواعد و ضوابط کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ بصورت دیگر محکمہ کے خلاف سخت فیصلہ کیا جائے گا۔ اس بارے میں اسمبلی میں رپورٹ پیش کیا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر7586/2026
کوئٹہ، 9 ستمبر 2026: تحقیقاتی کمیشن کے ایک اعلامیہ کے مطابق مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن، ضلع زیارت میں پیش آنے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ تحقیقاتی کمیشن جسٹس محمد عامر نواز رانا نے آج 9 ستمبر 2026 کو کھلی عدالت میں کمیشن کی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے سماعت کی۔سماعت کے دوران علاقے کے لوگ بڑی تعداد میں بطور گواہ پیش ہوئے، جن کی معاونت وکلاء کی ٹیم نے کی۔ وکلاء کی ٹیم میں شمس الرحمان کاکڑ، عبدالمصور، مسعود احمد دوتانی، شیردل مینگل اور حبیب اللہ خان ناصر ایڈووکیٹس شامل تھے۔علاوہ ازیں، تحقیقاتی کمیشن نے محکمہ پولیس کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کی روشنی میں انسپکٹر جنرل فرنٹئر کور بلوچستان کو ہدایت جاری کی کہ وہ فوری طور پر اپنا مفصل جواب جمع کروائیں، جس کے لیے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مہلت کی استدعا کی۔مزید برآں، گواہوں کو اپنی شہادتیں قلمبند کرانے کے لیے اگلی سماعت تک ایک مزید موقع دے دیا گیا۔
خبرنامہ نمبر7587/2026
کوئٹہ 09 ستمبر :بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں بے روزگاری کے خاتمے، امن و امان کے قیام سمیت عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے جو سنجیدہ کوششیں جاری ہیں اس کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہو چکے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز سول سیکرٹریٹ کے سکندر جمالی آڈیٹوریم میں ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے ترقی پانے والے ملازمین کو آرڈرز فراہم کیے جانے کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر تقریب کے دیگر شرکاء میں محکمہ آبپاشی کے افسران و اہلکاروں کے علاؤہ کلرک یونین کے عہدیداران و دیگر لوگ کثیر تعداد میں موجود تھے۔ تقریب سے خطاب میں صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور صوبائی حکومت بے روزگاری کے خاتمے کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے، میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ انہیں وزارت کی ذمہ داری جب ملی تو انہوں نے لواحقین کوٹے کے تحت التواء کا شکار کیس پر کام شروع کرواکے اسی جگہ ایک پروکار تقریب میں 117 بیوہ، یتیم لواحقین کو تعیناتی کے آرڈرز فراہم کیے، انہوں نے کہا کہ کسی ضرورت مند حقدار کو نوکری یا ترقی کے آرڈرز دینا میرے ایک اعزاز کی بات ہے اور اس کام سے مجھے جو خوشی مل رہی ہے وہ میں بیان نہیں کرسکتا ۔ میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ ترقی پانے والے ملازمین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اپنے فرائض منصبی کو ایمانداری سے انجام دیتے ہوئے محکمے اور صوبے کی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے، اس موقع پر تقریب سے محکمے کے افسران و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے ترقی پانے والے ملازمین کو مبارکباد پیش کی، انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر میر محمد صادق عمرانی اور سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمان بلوچ اور ان کی ٹیم کی بہترین کاوشوں کے نتیجے میں محکمہ ترقی کے منازل طے کررہا ہے، انہوں نے کہا کہ سینکڑوں حقدار ملازمین کو ترقی کے آرڈرز ملنے سے پورے محکمے میں خوشی کی لہر دوڑ اٹھی ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ ترقی پانے والے ملازمین مزید جانفشانی سے اپنے فرائض منصبی انجام دینے کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے ۔
خبرنامہ نمبر7588/2026
ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت 21 ستمبر 2026 سے شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں کے حوالے سے محکمہ صحت اور پولیو حکام کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں آئندہ پولیو مہم کی تیاریوں، سکیورٹی انتظامات، پولیو ٹیموں کی تشکیل، مائیکرو پلاننگ اور مؤثر نگرانی سمیت دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر چمن نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ مہم کے تمام انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں اور 21 ستمبر سے شروع ہونے والی مہم کے دوران ضلع چمن میں کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے مہم کی کامیابی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور بھرپور تعاون یقینی بنانے پر زور دیا۔
خبرنامہ نمبر7589/2026
تربت۔ کمشنر مکران ڈویژن ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ نے میونسپل کارپوریشن تربت کے مئر بلخ شیر قاضی کے ہمراہ گورنمنٹ ماڈل اسکول تربت کی چاردیواری سے متصل تربت ماڈل سٹی ڈیویلپمنٹ پروجیکٹ کے تحت تعمیر کیے جانے والے دوکانات کے سائٹ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن تربت شعیب ناصر، تربت سٹی ڈیویلپمنٹ پروجیکٹ کے ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر انجینئر بہرام گچکی، پروجیکٹ انجینئر قاسم گچکی سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی وہاں پر موجود تھے ۔اس دوران کمشنر مکران ڈویژن نے تربت سٹی ڈیویلپمنٹ پروجیکٹ کے مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ان منصوبے سے متعلق متعلقہ حکام سے تفصیلات دریافت کیں اور تعمیراتی کام کا موقع پر معائنہ بھی کیا۔ اس دوران انہوں نے منصوبے کی پیش رفت، تعمیراتی معیار اور دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لیتے ہوئے ضروری ہدایات بھی جاری کیں۔بعد ازاں کمشنر مکران ڈویژن ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ نے میونسپل کارپوریشن تربت کے دفاتر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور متعلقہ افسران سے ادارہ جاتی امور، جاری سرگرمیوں اور کارکردگی کے بارے میں بریفنگ حاصل کی۔اس موقع پر کمشنر مکران ڈویژن نے میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی اور شہری سہولیات کی بہتری سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مفاد کے منصوبوں اور شہری خدمات کی فراہمی میں بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔
خبرنامہ نمبر7590/2026
ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری اورچئرمین میونسپل کمیٹی قلات نواب زادہ میر شعیب جان زہری کی خصوصی ہدایات پر شہر میں عوامی مسائل کے حل اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کی ہدایات پر فاروقیہ ٹاؤن قلات میں اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔فاروقیہ ٹاؤن میں اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب سے علاقے کے مکینوں کا دیرینہ مسئلہ حل ہوا ہے، جبکہ رات کے اوقات میں گلیوں اور راستوں میں روشنی کی سہولت سے شہریوں کو آمدورفت میں بھی آسانی ہوگی۔ضلعی انتظامیہ اورچئرمین میونسپل کمیٹی کا مؤقف ہے کہ عوام کو عملی طور پر سہولیات کی فراہمی اور ان کے مسائل کا حل اولین ترجیح ہے۔ قلات کے مختلف علاقوں میں ضرورت کے مطابق بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔عوامی حلقوں نے فاروقیہ ٹاؤن میں اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ڈی سی قلات اورچئرمین میونسپل کمیٹی کے اقدامات کو سراہا ہے۔
خبرنامہ نمبر7591/2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن، ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی ہدایت اور پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج زیارت پروفیسر نقیب اللہ کاکڑ کی سربراہی میں 6 ستمبر یومِ دفاعِ پاکستان کے حوالے سے گورنمنٹ ڈگری کالج زیارت میں ایک پروقار اور ملی جذبے سے بھرپور تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی اسسٹنٹ کمشنر زیارت شیر شاہ غلزئی تھے، جبکہ گورنمنٹ ڈگری کالج زیارت کے اساتذہ، طلباء اور دیگر متعلقہ افراد نے بھی بھرپور شرکت کی۔ تقریب کا مقصد طلباء میں حب الوطنی، قومی یکجہتی اور ملک و قوم کے لیے قربانی کے جذبے کو اجاگر کرنا اور یومِ دفاع کی تاریخی اہمیت سے نوجوان نسل کو آگاہ کرنا تھا۔تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیا، جس کے بعد طلباء نے قومی ترانے، ملی نغمے، تقاریر اور دیگر مختلف پروگرام پیش کیے۔ طلباء نے اپنی تقاریر اور ملی نغموں کے ذریعے 6 ستمبر 1965ء کے موقع پر وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے پاک فوج کے جوانوں، شہداء اور قومی ہیروز کی لازوال قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔اس موقع پر مقررین نے یومِ دفاع کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 6 ستمبر ہماری قومی تاریخ کا ایک اہم اور قابلِ فخر دن ہے، جب قوم نے اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ متحد ہو کر وطنِ عزیز کے دفاع کا عملی ثبوت دیا۔ انہوں نے کہا کہ یومِ دفاع ہمیں اتحاد، نظم و ضبط، حب الوطنی، قومی یکجہتی اور ملک کی سلامتی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کا درس دیتا ہے۔مہمانِ خصوصی اسسٹنٹ کمشنر زیارت شیر شاہ غلزئی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طلباء کی جانب سے پیش کیے گئے پروگرامز کو سراہا اور کہا کہ نوجوان نسل ملک کا مستقبل ہے۔ انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ قومی ذمہ داریوں، نظم و ضبط اور حب الوطنی کے جذبے کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج زیارت پروفیسر نقیب اللہ کاکڑ نے تقریب کے انعقاد کے حوالے سے کہا کہ ایسے پروگرامز طلباء میں قومی شعور اور وطن سے محبت کے جذبات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے یومِ دفاع کے موقع پر شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔تقریب کے دوران طلباء نے انتہائی جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا اور پاکستان کے حق میں نعرے بھی بلند کیے۔ تقریب کے اختتام پر شہداء وطن کے درجات کی بلندی، ملک و قوم کی سلامتی، امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔تقریب کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے ہر فرد اپنی ذمہ داری احسن انداز میں ادا کرے گا اور وطنِ عزیز کی سلامتی و خودمختاری کے لیے دی گئی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔تقریب سے پروفیسر کریم کاکڑ،پروفیسر عجب خان،نصیب اللہ کاکڑ نے بھی خطاب کیا۔
خبرنامہ نمبر 7592/2026
چمن: ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت (Parent Teacher School Management Committee / Project Management Unit) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع چمن کے تعلیمی اداروں سے متعلق مختلف امور، اسکولوں کی کارکردگی اور تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران Parent Teacher School Management Committees (PTSMCs) کے کردار، اسکولوں میں دستیاب سہولیات، طلبہ و اساتذہ کو درپیش مسائل، تعلیمی ماحول کی بہتری اور اسکولوں کے انتظامی معاملات سمیت مختلف امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے کہا کہ ضلع چمن میں معیاری تعلیم کے فروغ اور سرکاری اسکولوں میں تعلیمی ماحول کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ والدین، اساتذہ اور اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں کے درمیان مؤثر رابطہ تعلیمی نظام کی بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اسکولوں سے متعلق مسائل کی نشاندہی کرکے ان کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں اور Parent Teacher School Management Committees کو فعال بنا کر تعلیمی اداروں کی بہتری کے عمل میں والدین اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں متعلقہ محکموں کے افسران، Project Management Unit (PMU) کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے اختتام پر تعلیمی نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور فعال بنانے کے لیے باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
خبرنامہ نمبر 7593/2026
کوئٹہ 09ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ کوئٹہ نے مقررہ نرخوں کی خلاف ورزی اور عوام کو ریلیف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تندوروں اور گوشت فروشوں کے خلاف مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں۔ان کارروائیوں کے دوران 28 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کیا گیا جبکہ 6 دکانیں سیل کردی گئیں۔ ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں نے سریاب روڈ، نواں کلی، ایئرپورٹ روڈ، عالموں چوک، کاسی روڈ، سرکی روڈ سمیت دیگر علاقوں میں تندوروں اور گوشت کی دکانوں کا معائنہ کیا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی۔ کارروائیاں اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی، اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ، اسسٹنٹ کمشنر (سریاب) مصور احمد، اسپیشل مجسٹریٹ سٹی اعجاز حسین کھوسہ اور اسپیشل مجسٹریٹ سریاب عزت اللہ کی زیر نگرانی انجام دی گئیں۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے واضح کیا ہے کہ عوام کو مقررہ نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی یا خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ گرانفروشی اور مقررہ نرخوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
خبرنامہ نمبر 7594/2026
صوبائی وزیر منصوبہ بندی وترقیات میر ظہور بلیدی نے کہا ہے کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ترقی صرف ریت، بجری، سڑکوں اور عمارتوں کا نام ہے۔ لیکن ہمارا ایمان ہے کہ اصل ترقی وہ ہے جس کا براہ راست فائدہ انسانوں کو پہنچے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ویڈیو بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ ہمارے علاقے میں طالب علموں کا آئی کیو (IQ) لیول کے لحاظ سے تربت، دشت، تمپ اور مند سمیت پورے خطے کے بچے ایک جیسے ذہین ہیں، لیکن ہمارے حلقے کے بچوں کی اس غیر معمولی کامیابی کی وجہ وہ سہولیات اور تعلیم پر کی گئی سرمایہ کاری ہے جو ہم نے ان کے لیے ممکن بنائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر مالک صاحب نے خود اپنی ایک کارنر میٹنگ میں اس تاریخی کامیابی اور ہماری ہیومن ڈیولپمنٹ کی تعریف کی، تو یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ سچائی کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ یہ زبانی جمع خرچ یا محض دعوے نہیں، بلکہ زمین پر موجود وہ حقائق ہیں جو آپ کو ہمارے حلقے کے ہر گاؤں میں نظر آئیں گے۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ ہر گاؤں میں گرلز اور بوائز ہائی اسکولز کی موجودگی ہے ہر گاؤں کے لیے پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہیں اعلیٰ تعلیم کے لیے گرلز اور بواٸز ڈگری کالجز کا قیام چاہے سافٹ انٹروینشن (Soft Intervention) ہو یا ہارڈ ڈیولپمنٹ (Hard Development)، ہم ہر وہ قدم اٹھاتے رہیں گے جس سے ہماری نسلوں کا مستقبل روشن ہو۔ صوبائی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان شاء اللہ، تعلیم، صحت اور عوامی فلاح کا یہ ترقیاتی سفر رکنے والا نہیں ہے، یہ مزید آگے بڑھے گا اور کامیابی کی نئی داستانیں رقم کرے گا۔
خبرنامہ نمبر 7595/2026
قلات: گورنمنٹ بوائز کوئنگ ہائی سکول قلات میں نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ (NCHD) کے زیرِ اہتمام عالمی یومِ خواندگی (World Literacy Day) کے موقع پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلباء، اساتذہ اور NCHD کے افسران و نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی ظہور احمد بلوچ تھے، جبکہ اس موقع پر NCHD کے افسران،ضیاء الرحمن اسسٹنٹ ڈائریکٹر این سی ایچ ڈی جلیل احمد فیلڈ افیسرمحمد عارف فیلڈ افیسر ، سر سلام، سر عبداللہ سمیت دیگر ممبران اور اساتذہ بھی موجود تھے۔تقریب کا مقصد عالمی یومِ خواندگی کی اہمیت کو اجاگر کرنا، تعلیم کی ضرورت و افادیت کے حوالے سے طلباء میں شعور پیدا کرنا اور معاشرے میں خواندگی کے فروغ کے لیے عوامی آگاہی کو مزید تقویت دینا تھا۔تقریب کے دوران اسکول کے طلباء نے عالمی یومِ خواندگی کی مناسبت سے مختلف موضوعات پر تقاریر کیں۔ طلباء نے اپنی تقاریر میں تعلیم کی اہمیت، خواندگی کے فروغ، جہالت کے خاتمے، بچوں کی تعلیم تک رسائی اور معاشرے کی ترقی میں تعلیم کے بنیادی کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ طلباء کی جانب سے پیش کی جانے والی تقاریر کو شرکاء نے سراہا، جبکہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں نقد انعامات بھی دیے گئے۔ اس موقع پر اساتذہ اور NCHD کے نمائندگان نے طلباء کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی سرگرمیاں بچوں میں خود اعتمادی، اظہارِ خیال اور تعلیمی دلچسپی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔پروگرام کے دوران موجود تمام شرکاء نے عالمی یومِ خواندگی کی مناسبت سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور تعلیم و خواندگی کے فروغ کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے، جبکہ خواندگی کے بغیر پائیدار ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
اس موقع پر مہمانِ خصوصی ظہور احمد بلوچ، نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور شعور کسی بھی قوم کی ترقی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ معاشرہ نہ صرف اپنے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ سکتا ہے بلکہ ان کے حل کے لیے بھی مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اساتذہ اس ذمہ داری میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ خواندگی کا فروغ صرف کتاب پڑھنے اور لکھنے تک محدود نہیں بلکہ تعلیم انسان میں شعور، برداشت، ذمہ داری اور اپنے حقوق و فرائض کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ معاشرے کے ہر بچے کو تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ مستقبل میں ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ظہور احمد بلوچ نے طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں، اساتذہ کا احترام کریں اور علم کے حصول کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں، کیونکہ آج کے طلباء ہی مستقبل کے ڈاکٹرز، انجینئرز، اساتذہ، صحافی، محققین اور دیگر شعبوں کے ماہرین بن کر معاشرے کی رہنمائی کریں گے۔تقریب کے اختتام پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء میں نقد انعامات تقسیم کیے گئے۔ شرکاء نے NCHD کی جانب سے عالمی یومِ خواندگی کے حوالے سے تقریب کے انعقاد کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم اور خواندگی کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کی جائیں گی۔
خبرنامہ نمبر 7596/2026
سوراب 9 ستمبر: ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر سوراب شئے اکبر علی بلوچ کی زیر صدارت پرائس کنٹرول کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعلقہ محکموں کے افسران، انجمن تاجران اور تاجر برادری کے نمائندگان نے شرکت کی اجلاس میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور مارکیٹ کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف اشیائے خوردونوش کے نئے سرکاری نرخ باہمی مشاورت سے مقرر کیے گئے اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور تمام دکاندار نرخ نامہ نمایاں جگہ پر آویزاں کریں انہوں نے واضح کیا کہ گرانفروشی اور ناجائز منافع خوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اس موقع پر تاجروں نے بازار میں چوری، بدامنی اور سکیورٹی سے متعلق اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کیا اسسٹنٹ کمشنر نے مسائل کے حل اور بازار میں مؤثر نگرانی یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی۔
خبرنامہ نمبر 7596/2026
تربت: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے کہا ہے کہ انتظامیہ اور میڈیا کا باہمی تعاون عوامی مسائل کے حل اور حکومتی اقدامات سے عوام کو بروقت آگاہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ میڈیا کا کردار صرف تنقید تک محدود نہیں بلکہ عوامی مسائل کی نشاندہی، ان کے حل کے لیے تجاویز اور عوامی آگاہی کے فروغ میں بھی نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تربت پریس کلب کی عمارت، صحافیوں کی فلاح و بہبود اور رہائشی کالونی سمیت صحافتی برادری کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ جلد مشترکہ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔وہ تربت پریس کلب کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے پریس کلب کی نئی آڈیٹوریم کا معائنہ کیا اور بی ایس ڈی آئی پروگرام کے تحت آڈیٹوریم کی تزئین و آرائش اور جدید سہولیات کی فراہمی کو صحافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے نئی آڈیٹوریم کو بلوچستان کی جدید اور خوبصورت آڈیٹوریمز میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی سہولیات صحافیوں کو بہتر ماحول میں پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی کوشش ہوگی کہ تربت پریس کلب کو مزید فعال بنانے اور صحافیوں کو آزاد، سازگار اور بہتر ماحول فراہم کرنے کے لیے ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔ ایرانی بارڈر کی بندش سے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا کہ بارڈر کی بحالی کے حوالے سے آئی جی ایف سی بلوچستان ساؤتھ کے ساتھ متعدد نشستیں ہوچکی ہیں اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ضروری تیاریاں مکمل ہیں، تاہم ایران میں جاری جنگ کے باعث بعض تکنیکی رکاوٹیں درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رکاوٹیں دور ہوتے ہی آئی جی ایف سی بلوچستان ساؤتھ ضلعی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد بارڈر کھولنے کا اعلان کرے گی۔یوتھ رائزنگ اسکیم کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ یہ پروگرام مقامی لوگوں کی آمدنی میں اضافے اور معاشی استحکام کے لیے اہم اقدام ہے اور تربت میں بھی اس کا آغاز کیا جاچکا ہے، تاہم عوام بالخصوص نوجوانوں میں اس حوالے سے مناسب آگاہی نہ ہونے کے باعث وہ اس سے بھرپور استفادہ نہیں کر پا رہے۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ یوتھ رائزنگ اسکیم سمیت ضلعی انتظامیہ کے مختلف منصوبوں اور پروگراموں کے بارے میں عوامی آگاہی کو فروغ دیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے اور ان منصوبوں کے حوالے سے میڈیا کو مؤثر انداز میں انگیج کیا جائے گا۔سینما چوک میں ٹریفک کے مسائل سے متعلق انہوں نے کہا کہ سڑک کی توسیع اور ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ سڑک کے فرنٹ پر قائم دکانوں کے متبادل کے طور پر نئی دکانیں تیار کرلی گئی ہیں، جنہیں جلد منتقل کیا جائے گا، جس کے بعد سڑک کو کشادہ کرکے ٹریفک کا نظام بہتر بنایا جائے گا۔ اس موقع پر تربت پریس کلب کے صدر حافظ صلاح الدین سلفی نے ڈپٹی کمشنر کا خیرمقدم کرتے ہوئے پریس کلب کی عمارت، صحافیوں کی فلاح و بہبود اور رہائشی کالونی سمیت صحافتی برادری کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔پریس کلب کی عمارت سے متعلق صدر پریس کلب نے بتایا کہ عمارت اس وقت انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ کی تحویل میں ہے، جس پر ڈپٹی کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ اور تربت پریس کلب کے درمیان مشترکہ اجلاس منعقد کرکے معاملے کی مکمل معلومات حاصل کی جائیں گی اور عمارت کی واپسی کے لیے متعلقہ حکام سے بات کی جائے گی۔ انہوں نے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے منصوبے کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے جبکہ صحافیوں کی رہائشی کالونی کے حوالے سے زمین کی الاٹمنٹ میں رکاوٹ اور تاخیر کی وجوہات معلوم کرکے معاملہ متعلقہ محکموں اور صوبائی سطح پر اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔ دورے کے دوران صحافیوں اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان مختلف عوامی، انتظامی اور صحافتی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
خبرنامہ نمبر 7597/2026
کوئٹہ 09ستمبر۔ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ میجر (ر) بشیر بڑیچ نے پراجیکٹ ڈائریکٹر کوئٹہ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ رفیق بلوچ اور اسپیشل مجسٹریٹ سٹی اعجاز حسین کھوسہ کے ہمراہ آرچر روڈ پر زیرِ تعمیر پلازے کی جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔اس موقع پر متعلقہ حکام نے پلازے اور اس سے ملحقہ علاقے کا تفصیلی جائزہ لیا اور ممکنہ نقصانات، سڑک، عمارت سمیت دیگر امور کا معائنہ کیا۔ حکام نے موقع پر موجود صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ضروری معلومات بھی حاصل کیں۔ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ میجر (ر) بشیر بڑیچ نے متعلقہ افسران کو صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لینے اور تمام معاملات کو قواعد و ضوابط کے مطابق دیکھنے کی ہدایت کی۔







