خبرنامہ نمبر7323/2026
کوئٹہ، 4 ستمبر ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت منشیات کے خلاف جنگ میں زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے، نوجوان نسل کو منشیات کے ناسور سے محفوظ بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موثر کارروائیوں کے نتیجے میں 133 ارب روپے سے زائد مالیت کی منشیات ضبط اور تلف کی گئی ہے، جو منشیات کے خلاف حکومت کے پختہ عزم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موثر کارکردگی کا مظہر ہے میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ منشیات کے خلاف کارروائیوں کے دوران 1,638 کلوگرام آئس (کرسٹل) اور 620 کلوگرام چرس قبضے میں لے کر تلف کی گئی، جبکہ بلوچستان میں گزشتہ دو برس کے دوران 27 ہزار سے زائد غیر ملکی شراب اور بیئر کی بوتلیں اور کین بھی ضبط کرکے تلف کیے گئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ منشیات کے خلاف جاری کارروائیاں محض قانون نافذ کرنے کی سرگرمی نہیں بلکہ صوبے کی نوجوان نسل اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے تحفظ کی ایک جامع کوشش ہیں۔ حکومت بلوچستان نوجوانوں کو منشیات کی لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے انسدادِ منشیات کے اقدامات کو مزید موثر بنانے کے ساتھ ساتھ اس کے سماجی اثرات سے نمٹنے کے لیے بھی اقدامات جاری رکھے گی انہوں نے کہا کہ منشیات کے خاتمے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کو مزید موثر اور مربوط بنایا جائے گا اور منشیات کی ترسیل، فروخت اور استعمال کے خلاف بلاامتیاز کارروائی یقینی بنائی جائے گی میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ منشیات سے پاک بلوچستان حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھا جائے گا اور منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان ایک محفوظ، صحت مند اور منشیات سے پاک معاشرے کے قیام کے لیے پرعزم ہے، جہاں نوجوان اپنی توانائیاں تعلیم، ہنر، کھیل اور مثبت سرگرمیوں میں بروئے کار لا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7324/2026
کوئٹہ، 4 ستمبر ۔ : وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے قلات میں سیکیورٹی فورسز جبکہ بھاگ کچھی میں بلوچستان پولیس اور اینٹی ٹیررسٹ فورس (اے ٹی ایف) کی کامیاب کارروائیوں کو سراہتے ہوئے افسران اور جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ قلات میں سیکیورٹی فورسز اور بھاگ کچھی میں بلوچستان پولیس و اے ٹی ایف کی بروقت اور موثر کارروائیاں امن دشمن عناصر کے خلاف ریاست کے مضبوط عزم کی عکاس ہیں۔ سیکیورٹی اداروں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گرد عناصر کے عزائم ناکام بنائے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خدمات اور قربانیاں قابلِ فخر ہیں۔ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے فرائض انجام دینے والے جوان قوم کے ہیرو ہیں وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گرد عناصر بلوچستان کے امن، ترقی اور خوشحالی کو نقصان پہنچانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ حکومت بلوچستان امن دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان پولیس اور اے ٹی ایف نے بھاگ کچھی میں ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں عوام کے اعتماد میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔ حکومت، سیکیورٹی ادارے اور عوام متحد ہو کر امن دشمن عناصر کا مقابلہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ”عزمِ استحکام“ کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے قومی کوششیں جاری ہیں اور بلوچستان میں امن و ترقی کے سفر کو ہر صورت آگے بڑھایا جائے گا۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے قلات اور بھاگ کچھی کی کارروائیوں میں حصہ لینے والے سیکیورٹی فورسز، بلوچستان پولیس اور اے ٹی ایف کے افسران و جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اپنے بہادر جوانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7325/2026
کوئٹہ: 4ستمبر۔ صوبائی وزیر و رہنما پیپلز پارٹی حاجی علی مدد جتک کی جانب سے ان کی رہائش گاہ پر کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں علاقے کے عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنے مسائل و مشکلات سے آگاہ کیا۔حاجی علی مدد جتک نے عوام کی شکایات اور مسائل کو نہایت توجہ سے سنا اور متعلقہ حکام کو مسائل کے فوری ازالے کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت ان کی اولین ترجیح ہے اور لوگوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام سے براہِ راست رابطہ اور ان کے مسائل ان کی دہلیز پر سننا ہی حقیقی عوامی نمائندگی ہے۔ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔اس موقع پر شہریوں نے حاجی علی مدد جتک کی جانب سے کھلی کچہری کے انعقاد اور عوامی مسائل سننے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے عوام اور منتخب نمائندوں کے درمیان رابطہ مزید مضبوط ہوتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7326/2026
کوئٹہ، 4 ستمبر ۔معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے قلات میں دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے اپنے ایک بیان میں شاہد رند نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں، جرات اور بروقت کارروائیاں قابلِ فخر ہیں۔ امن دشمن عناصر کے خلاف موثر کارروائیاں اس امر کا ثبوت ہیں کہ ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے امن و استحکام کے لیے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔ صوبے کے عوام نے ہمیشہ امن دشمن عناصر کے خلاف ریاستی اداروں کا ساتھ دیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف قومی جدوجہد میں آئندہ بھی اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے شاہد رند نے کہا کہ دہشت گرد عناصر بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کا سفر روکنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ حکومت بلوچستان عوام کے جان و مال کے تحفظ اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے گی معاون وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ”عزمِ استحکام“ کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے قومی سطح پر مربوط کوششیں جاری ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں ریاست کے مضبوط عزم اور سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی عکاس ہیں انہوں نے کہا کہ پوری قوم سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ریاستی اداروں اور عوام کی مشترکہ جدوجہد جاری رہے گی اور بلوچستان میں امن و ترقی کے سفر کو ہر صورت آگے بڑھایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7327/2026
رکھنی، 4 ستمبر ۔: اسسٹنٹ کمشنر رکھنی فہد حسین عمرانی نے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد انتظامی امور کا آغاز کرتے ہوئے شہر میں اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری اشیاء کے سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر نے ڈیرہ غازی خان اور رکھنی کے ہوٹل مالکان سے ملاقات کی اور انہیں سرکاری نرخ نامے کے مطابق اشیاء کی فروخت اور مقررہ نرخوں پر عملدرآمد کی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی اور شہریوں سے زائد قیمتیں وصول کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اسسٹنٹ کمشنر فہد حسین عمرانی نے کہا کہ عوام کو مقررہ نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ اہلکاروں کو بھی ہدایت کی کہ بازاروں میں باقاعدگی سے نرخ ناموں کی پڑتال اور نگرانی کا عمل جاری رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی فرد یا کاروباری طبقے کو سرکاری احکامات اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انتظامیہ عوامی مفاد میں قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرے گی۔عوامی حلقوں نے اسسٹنٹ کمشنر فہد حسین عمرانی کی جانب سے چارج سنبھالتے ہی سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد کے لیے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ گندم اور آٹے کے کاروبار سے وابستہ افراد کی بھی موثر نگرانی کی جائے گی اور ناپ تول میں کمی یا مقررہ نرخ سے زائد وصولی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7328/2026
اورماڑہ4 ستمبر ۔ اسسٹنٹ کمشنر ماہ نور برکت نے کہا ھے کہ صوبائی حکومت کی تعلیم دوست پالیسی کے تحت تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم، بہتر تعلیمی ماحول اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ھر مکمن اقدامات کیے جارے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول اورماڑہ، گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول غازی لین اور گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول غازی لین کا دورہ کے موقع پر اساتذہ اور طلبا و طالبات سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ھے اس موقع اسسٹنٹ کمشنر نے طلبہ و اساتذہ کی حاضری سمیت تعلیمی و بنیادی سہولیات، جاری ترقیاتی کاموں، اسٹاف کی ضروریات اور طلبہ کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے اسکولوں میں سازگار تعلیمی ماحول کے فروغ، طلبہ کی حاضری میں بہتری اور دستیاب سہولیات کے موثر استعمال پر زور دیا ان کا کہنا تھا کہ طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیم اور بہترین تعلیمی مواقع کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو تعلیمی اداروں میں درپیش مسائل کے حل اور ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے موثر اقدامات کی ہدایت کی
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7329/2026
اورماڑہ 4 ستمبر۔: عوامی مفاد اور صحتِ عامہ کے تحفظ کے لیے صوبائی حکومت کی پالیسی کے تحت اسسٹنٹ کمشنر اورماڑہ ڈاکٹر ماہ نور برکت نے مختلف دکانوں کا معائنہ کیا اور غیر قانونی سگریٹ سمیت مضرِ صحت اشیاء کی فروخت و دستیابی کا جائزہ لیا معائنہ کے دوران غیر قانونی سگریٹ کی نشاندہی پر انہیں متعلقہ قانون کے مطابق ضبط کرلیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ مضرِ صحت اشیائ، غیر قانونی تمباکو مصنوعات، گٹکا، ماوا اور دیگر ممنوعہ اشیاء کی خرید و فروخت سے گریز کیا جائے انہوں نے واضح کیا کہ عوامی صحت اور بالخصوص نوجوان نسل کو مضرِ صحت اشیاءکے نقصانات سے محفوظ رکھنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ اس سلسلے میں نگرانی اور کارروائی کا عمل مزید موثر بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7330/2026
اورماڑہ4 ستمبر۔صوبائی حکومت کی صحتِ عامہ اور عوامی فلاح و بہبود کی پالیسی کے تحت بنیادی مراکزِ صحت میں عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر اورماڑہ ڈاکٹر ماہ نور برکت نے رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) اورماڑہ کا دورہ کیا جہاں پر انہوں نے طبی و معاون عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی، سولر سسٹم، مراکز صحت میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور مجموعی حالت کا جائزہ لیا، جبکہ مرمت و تزئین و آرائش سے متعلق ضروریات کا بھی جائزہ لیا ان کا کہنا تھا کہ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ آر ایچ سی میں دستیاب سہولیات کو موثر انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے عوام کو بہتر طبی خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور ضروری مرمت و بحالی کے امور کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائےگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7331/2026
گوادر 4 ستمبر ۔: چیئرمین گوادر ایمبولینس سروس نسیم موسی کے گوادر ایمبولینس سروس ضلعی انتظامیہ گوادر، گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (GDA)، عوام اور مخیر حضرات کے تعاون سے شہریوں کو بروقت طبی و امدادی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ حکومت بلوچستان کی صحتِ عامہ اور ہنگامی حالات میں فوری طبی رسپانس کی پالیسی کے تحت جاری اس عوامی خدمت کے منصوبے کے ذریعے جنوری 2022 سے اگست 2026 تک مجموعی طور پر 4 ہزار 154 افراد کو طبی، امدادی اور ریسکیو خدمات فراہم کی گئیں، جبکہ صرف اگست 2026 کے دوران 100 کیسز میں ایمبولینس سہولت فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق اگست کے دوران گوادر ایمبولینس سروس نے 67 ایمرجنسی مریضوں، 15 زچگی کے کیسز، 6 حادثات اور 12 میتوں کی منتقلی کے لیے خدمات فراہم کیں۔ ان میں 84 مریض گوادر شہر، 14 مریض شہر سے باہر کے علاقوں جبکہ 2 مریض تربت شہر سے متعلق تھے رپورٹ کے مطابق جنوری 2022 سے 31 اگست 2026 تک گوادر ایمبولینس سروس نے مجموعی طور پر 2 ہزار 585 ایمرجنسی مریضوں، 523 زچگی کے کیسز، 418 حادثات اور 584 میتوں کی منتقلی سمیت 4 ہزار 110 کیسز میں خدمات انجام دیں، جبکہ گوادر میں سیلاب کے دوران 44 افراد کے ریسکیو میں بھی ایمبولینس سروس نے اہم کردار ادا کیا، جس سے مجموعی مستفید افراد کی تعداد 4 ہزار 154 ہوگئی اسی عرصے کے دوران گوادر مردہ خانہ کی جانب سے 34 میتوں کی تدفین سے قبل ضروری خدمات فراہم کی گئیں، جن میں 33 مرد اور ایک خاتون شامل ہیں، جبکہ جنوری 2023 سے اگست 2026 تک 24 میتوں کی غسل اور کفن پوشی کی خدمات بھی انجام دی گئیں گوادر ایمبولینس سروس کی یہ کارکردگی شہریوں کو بروقت طبی امداد، ہنگامی حالات میں فوری رسپانس اور بلاامتیاز انسانی خدمت کی فراہمی کے عزم کی عکاس ہے، جبکہ عوام، مخیر حضرات، ضلعی انتظامیہ اور گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تعاون سے اس عوامی خدمت کے دائرہ کار کو مزید موثر اور وسیع بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7332/2026
رکھنی، خبر نامہ 4 ستمبر ۔۔: ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کاکڑ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر رکھنی فہد حسین عمرانی نے نائب تحصیلدار رکھنی کریم بخش اور پٹواری وقار احمد کے ہمراہ عدالت والی گلی کا دورہ کیا اور گلی کی باقاعدہ پیمائش کی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ ریونیو عملے کے ہمراہ گلی کی حدود، چوڑائی اور موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے پیمائش کے عمل کی نگرانی کرتے ہوئے متعلقہ ریکارڈ اور موقع کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔اسسٹنٹ کمشنر فہد حسین عمرانی نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ سرکاری اراضی اور عوامی راستوں کی حدود کو واضح رکھا جائے اور کسی بھی قسم کی تجاوزات یا غیر قانونی قبضے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوامی راستوں کی حفاظت اور سرکاری اراضی کا تحفظ انتظامیہ کی اہم ذمہ داری ہے۔ شہریوں کو آمدورفت میں سہولت فراہم کرنے اور سرکاری زمینوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7333/2026
گوادر4 ستمبر ۔: ضلعی آفیسر صحت ڈاکٹر یاسر طاہر اور پی پی ایچ آئی کے ڈسٹرکٹ منیجر ڈاکٹر منیر احمد بلوچ کی زیرِ صدارت پی پی ایچ آئی کا ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں تمام بنیادی مراکز کے انچارجز نے شرکت کی اجلاس میں ضلع گوادر کے بنیادی مراکزِ صحت کی کارکردگی، طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی، اسٹاف کی حاضری اور عوام کو فراہم کی جانے والی صحت کی خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں ماہانہ کارکردگی رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے صحت عامہ کی سہولیات کو مزید موثر بنانے اور بالخصوص دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے عوام کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا گیا اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ بنیادی مراکزِ صحت میں طبی عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی اور مریضوں کو ضروری طبی خدمات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ مراکزِ صحت کی کارکردگی کو مسلسل مانیٹر کیا جائے۔اس موقع پر ضلعی آفیسر صحت ڈاکٹر یاسر طاہر نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی صحت عامہ کی پالیسی کے تحت شہریوں کو ان کی دہلیز پر بنیادی اور معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کی دستیابی، موثر نگرانی اور عوامی شکایات کے بروقت ازالے کو یقینی بنایا جائے اجلاس میں پی پی ایچ آئی کے تحت صحت عامہ کی خدمات میں مزید بہتری، بنیادی مراکزِ صحت کی کارکردگی بڑھانے اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے مختلف اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7334/2026
تربت/ بلیدہ:4ستمبر۔ اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی نے رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) بٹ بلیدہ کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرتے ہوئے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات،ڈاکٹرز و پیرامیڈیکل اسٹاف کی دستیابی، ادویات، طبی آلات، صفائی ستھرائی اور ہسپتال کے مجموعی انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی نے ہسپتال کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور طبی عملے سے ملاقات کرکے ان کی حاضری اور فرائض کی انجام دہی سے متعلق معلومات حاصل کیں انہوں نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا بھی جائزہ لیا اور ہسپتال میں ادویات و ضروری طبی سامان کی دستیابی کے حوالے سے متعلقہ حکام سے بریفنگ لی۔اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ نے ہسپتال کے عملے کو ہدایت کی کہ مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی، صفائی ستھرائی کے بہتر انتظام اور ادویات کی دستیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے جبکہ طبی آلات کو فعال حالت میں رکھنے اور ہسپتال کے مجموعی نظام میں مزید بہتری لانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے اور سرکاری مراکز صحت میں آنے والے مریضوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی نے کہا کہ عوامی خدمت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ اپنے فرائض ایمانداری، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ جذبے کے ساتھ انجام دیتے ہوئے عوام کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ نے ہسپتال کے انتظامی و طبی امور میں بہتری کے لیے متعلقہ عملے کو ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ صحت کے شعبے میں دستیاب وسائل کو موثر انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی کا یہ دورہ علاقے میں صحت عامہ کی سہولیات کی مسلسل نگرانی سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری اور عوام کو درپیش مسائل کے فوری ازالے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی سنجیدہ کاوشوں کا عکاس ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7335/2026
کوئٹہ:4ستمبر ۔بلوچستان سینٹر آف ایکسیلنس، حکومتِ بلوچستان اور BRSP کے اشتراک سے چھ اضلاع کے لیے مختص RISE پروگرام کے تحت “Youth Leadership and Social Enterprise Development Program” کے موضوع پر نسٹ بلوچستان کیمپس، کوئٹہ میں ایک اہم راونڈ ٹیبل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا, اس پروگرام میں بی ار ایس پی کے سی ای او ڈاکٹر طاہر رشید, سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر روبینہ مشتاق اور ٹیکنیکل ایکسپرٹ نے شرکت کی. اس میٹنگ کا مقصد طالب علموں کی قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینا، سماجی کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور انہیں مثبت، تخلیقی اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے مواقع فراہم کرنا تھا۔ کانفرنس سے چیف کوآرڈینیشن آفیسر ڈاکٹر دوست محمد بڑ یچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چھ اضلاع کے طلبہ و طالبات کو ہنر اور بہتر مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کمیونٹی میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔اس موقع پر ڈپٹی کوآرڈینیشن آفیسر ڈاکٹر عصمت اللہ خان نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور طالب علموں کو انگیج کرنے پر زور دیا. تقریب سے خطاب کرتے ہوئے BRSP کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر طاہر رشید،سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ٹیکنیکل ایکسپرٹ نے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور انہیں بہتر تعلیمی و پیشہ ورانہ مواقع فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ RISE پروگرام کے تحت چھ اضلاع کے طلبہ و طالبات کو ضروری رہنمائی اور سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کمیونٹی کی ترقی میں مثبت اور موثر کردار ادا کر سکیں۔ مقررین نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ان نوجوانوں کو ملک کے دیگر صوبوں کے طلبہ کے ساتھ تعمیری روابط اور تبادلے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، جبکہ اعلیٰ تعلیم، اسکالرشپس، تربیتی پروگرامز اور دیگر تعلیمی مواقع تک ان کی رسائی کو بھی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7336/2026
حب، 4ستمبر ۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءنے ضلع حب میں سرکاری محکموں کے جاری مختلف و ترقیاتی منصوبوں سمیت زیرتعمیرڈپٹی کمشنر کمپلیکس حب کا دورہاورمعائنہ کیا متعلقہ ایگزیکیوٹنگ ڈیپارٹمنٹس کے افسران سے منصوبوں کی پیش رفت، معیارِ تعمیر، تکمیل کی مدت اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ کمشنر لسبیلہ ڈویژن کو متعلقہ افسران کی جانب سے جاری و مکمل شدہ ترقیاتی منصوبوں، مختص فنڈز، کام کی پیش رفت اور مختلف شعبوں سے متعلق امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بعد ازاں کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے حاجی محمد گوٹھ ساکران واقع اسکولوں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں تدریسی و غیر تدریسی عملے کی حاضری، طلباءو طالبات کی تعداد، عمارتوں کی حالت، پینے کے پانی، بجلی، صفائی ستھرائی اور دیگر بنیادی سہولیات کا جائزہ لیا۔کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں معیار، شفافیت اور مقررہ مدت میں تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی فنڈز سے جاری منصوبوں میں کسی قسم کی غفلت یا غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ سرکاری اسکولوں اور دیگر عوامی اداروں میں موجود بنیادی سہولیات کی کمی کو فوری طور پر دور کیا جائے اور فیلڈ میں جاری ترقیاتی کاموں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو بہتر بنیادی سہولیات کی فراہمی، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری ضلعی و ڈویژنل انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7337/2026
گوادر4ستمبر۔محکمہ تعلیم اور میر کلمتی اکیڈمی کے اشتراک سے میر کلمتی انٹر ایجوکیشنل اسکول اسپورٹس فیسٹیول 2026 کے افتتاحی پروگرام اور کھیلوں کے مقابلوں کو منظم و کامیاب بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس گوادر میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زاہد حسین کی زیرِ صدارت اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن وہاب مجید، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محمد حسن، ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر و میر فٹبال اکیڈمی کے سربراہ میر ارشد کلمتی، یونیسف کے ڈسٹرکٹ پروگرام منیجر عادل نودیزی، ڈسٹرکٹ ٹریننگ منیجر سقر ناصر اور نذیر داود نے شرکت کی اجلاس میں اسپورٹس فیسٹیول کے افتتاحی پروگرام، مختلف کھیلوں کے مقابلوں، انتظامی امور، شرکاءکی ذمہ داریوں اور پروگرام کے شیڈول کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 5 ستمبر 2026 کو گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول گوادر میں گرلز اسکولوں کے اسپورٹس ٹورنامنٹ کا افتتاح کیا جائے گا، جس میں طالبات کے لیے کرکٹ، فٹ بال اور رسہ کشی کے مقابلوں کا آغاز ھوگا ا س طرح 7 ستمبر 2026 کو بابا بزنجو فٹ بال اسٹیڈیم گوادر میں بوائز اسکولوں کے اسپورٹس ٹورنامنٹ کا باقاعدہ افتتاح ہوگا، جس کے پروگرام میں اسکول فٹ بال ٹورنامنٹ، اسپورٹس واک اور رسہ کشی شامل ہوں گے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ فیسٹیول کے تمام پروگرامز کو منظم، شفاف اور نظم و ضبط کے ساتھ منعقد کیا جائے گا تاکہ سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات کو صحت مند سرگرمیوں، مثبت مسابقت اور اپنی کھیلوں کی صلاحیتوں کے اظہار کے یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیلوں کی سرگرمیاں طلبہ و طالبات میں صحت مند طرزِ زندگی، ٹیم ورک، نظم و ضبط، برداشت اور مثبت مسابقت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، جو حکومت کی تعلیم اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق پالیسیوں کے عین مطابق ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7338/2026
کوئٹہ، 4 ستمبر۔: ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP)، کوئٹہ کے زیرِ اہتمام خواتین کاروباری افراد کے لیے ڈیجیٹل لٹریسی پروگرام کا انعقاد کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں کیا گیا۔ پروگرام کا مقصد خواتین کاروباری افراد کو جدید ڈیجیٹل ذرائع سے روشناس کرانا، آن لائن کاروبار کے فروغ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرنا تھا۔پروگرام کے ابتدائی کلمات آصف ابڑو، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP)، کوئٹہ نے پیش کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی اہمیت اور خواتین کاروباری افراد کے لیے جدید ڈیجیٹل ذرائع سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ مزید انہوں نے بتایا کہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) پورے ملک میں کاروباری خواتین کی استعداد کار بڑھانے اور ان کے کاروبار کو برآمدات کے معیار لانے کیلئے پوری طرح سے کام کررہا۔ پروگرام کی تربیتی نشست میڈم حریم نے منعقد کی، جس کے دوران شرکائ کو موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے مو¿ثر استعمال، آن لائن مارکیٹنگ، سوشل میڈیا کے ذریعے کاروباری تشہیر، مصنوعات کی موثر ڈیجیٹل نمائش، صارفین تک رسائی اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے کے مختلف طریقوں سے آگاہ کیا گیا۔ٹریننگ کے دوران شرکائ کو عملی طور پر یہ بھی بتایا گیا کہ کس طرح کم وسائل کے ساتھ ڈیجیٹل ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی مصنوعات اور خدمات کو وسیع تر صارفین تک پہنچایا جا سکتا ہے اور ملکی و بین الاقوامی منڈیوں میں کاروباری مواقع سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔پروگرام میں خواتین کاروباری افراد نے بھرپور شرکت کی اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے اپنے کاروبار کو فروغ دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔پروگرام کے اختتامی کلمات کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حاجی محمد ایوب مریانی نے پیش کیے۔ انہوں نے خواتین کاروباری افراد کی استعدادِ کار بڑھانے اور انہیں جدید کاروباری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایسے تربیتی پروگراموں کی اہمیت کو اجاگر کیا اور TDAP کی جانب سے اس اقدام کو سراہا۔منتظمین کے مطابق، خواتین کاروباری افراد میں ڈیجیٹل مہارتوں کا فروغ انہیں اپنے کاروبار کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، نئی مقامی و بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے اور معاشی طور پر مزید بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 7356/2026
کوئٹہ 4ستمبر:۔چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرِ صدارت ”رائز” (RISE) پروگرام کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پروگرام کے مختلف منصوبوں، اب تک کی پیش رفت اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے، نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور انہیں جدید فنی و پیشہ ورانہ تربیت سے آراستہ کرنے کے لیے جامع اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کی فلاح و بہبود، معاشی خودمختاری اور معیارِ زندگی میں بہتری ہے، اسی مقصد کے تحت ایسے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں جو نوجوانوں کو روزگار، ہنر اور کاروبار کے مواقع فراہم کر سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان کے عوام کو ترقی کے ثمرات ان کی دہلیز تک پہنچانے اور صوبے کے نوجوانوں کو روشن و محفوظ مستقبل فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت بلوچستان کے رائز پروگرام کے تحت نوجوانوں کو جدید اور مارکیٹ بیسڈ ہنر سکھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، تاکہ انہیں باعزت روزگار کے قابل بنایا جا سکے۔ پروگرام کے تحت فنی و پیشہ ورانہ تربیت، کاروباری مواقع، مالی معاونت اور روزگار کے مختلف شعبوں سے نوجوانوں کو منسلک کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اس پروگرام کے تحت چھ اضلاع پنجگور، خاران، واشک، گوادر، آواران اور کیچ کو شامل کیا گیا ہے۔ پروگرام میں 57,464 مائیکرو انٹرپرائزز قائم کرنے، 4,320 نوجوانوں کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت دے کر روزگار سے منسلک کرنے، 1,620 موسمیاتی تبدیلی سے محفوظ انفراسٹرکچر تعمیر کرنے اور 180 مقامی تنظیموں کو مضبوط بنانے کا منصوبہ ہے۔ اس کے علاوہ 900 نوجوانوں کو سوشل چینج ایجنٹس کے طور پر تربیت دی جائے گی، 12,000 نوجوانوں اور کاروباری افراد کو مالی خدمات اور آسان قرضوں تک رسائی فراہم کی جائے گی، جبکہ مضبوط بنائے جانے والے 180 چھوٹے و درمیانے کاروباری اداروں کے ذریعے مزید 1,800 گھرانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان اقدامات سے تقریباً 16,500 گھرانوں کے روزگار اور معاشی سرگرمیوں کو موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔ پروگرام کے تحت خاران، پنجگور اور واشک کے اضلاع میں کھجور، کاٹن، گندم، زیرہ، لائیو اسٹاک، ہینڈ میڈ بلوچی ایمبرائیڈری اور فوڈ پروسیسنگ سمیت کئی اہم سیکٹرز اور ٹریڈز کو شامل کیا گیا ہے۔ ساؤتھ ائیر کے تعاون سے بلوچستان کے نوجوانوں کو فلائٹ کریو کی تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس تربیتی پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو ایوی ایشن کے شعبے میں کیریئر بنانے، ایئرلائنز میں ملازمت کے مواقع حاصل کرنے اور جدید فضائی سفری نظام سے متعلق پیشہ ورانہ مہارتیں حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ اس کے علاؤہ ٹیک ویلی کے ساتھ بھی کام کا آغاز جلد کیا جائے گا۔ اجلاس میں سیکرٹری انڈسٹریز خالد سرپرہ، سی ای او بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام ڈاکٹر طاہر رشید و دیگر نے شرکت کی۔
خبر نامہ نمبر 7357/2026
صحبت پور4ستمبر:۔ ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین کا BSDI کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کام کی رفتار اور معیار بہتر بنانے کی ہدایت واضح رہے کہ آج ڈپٹی کمشنر صحبت پور نے ضلع صحبت پور میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو BSDI کے تحت جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا موقع پر جا کر تفصیلی معائنہ کیا اور منصوبوں پر جاری تعمیراتی کام پیش رفت معیار اور رفتار کا جائزہ لیا اس موقع پر متعلقہ افسران اور تعمیراتی اداروں کے نمائندگان نے ڈپٹی کمشنر کو مختلف منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی ڈپٹی کمشنر نے دورے کے دوران تحصیل آفس صحبت پور، چینجنگ روم، ویٹرنری ہسپتال، لائبریری اور چلڈرن پارک سمیت دیگر جاری ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کیا انہوں نے مختلف منصوبوں کے تعمیراتی مراحل استعمال ہونے والے میٹریل کام کے معیار اور منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لیاتحصیل آفس صحبت پور کے دورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر نے سرکاری ریکارڈ کا بھی معائنہ کیا اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ریونیو سے متعلق سرکاری ریکارڈ کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھا جائے جبکہ عوام کی جانب سے پیش کی جانے والی درخواستوں، انتقالات فردات اور دیگر ریونیو معاملات کو مقررہ مدت کے اندر نمٹانے کو یقینی بنایا جائے انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو سرکاری امور کی انجام دہی میں غیر ضروری تاخیر کا سامنا نہیں ہونا چاہیے اور سائلین کو بروقت ریلیف فراہم کرنا انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ڈپٹی کمشنر نے BSDI کے تحت جاری منصوبوں کے معائنے کے دوران متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی کاموں کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے اور تمام منصوبوں کو مقررہ ٹائم لائن کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ ان منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد عوام تک پہنچ سکیں انہوں نے تعمیراتی معیار پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبے عوامی مفاد کے لیے شروع کیے گئے ہیں اس لیے ان کی تعمیر میں معیار پر کسی بھی صورت سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا منصوبوں میں استعمال ہونے والے تعمیراتی میٹریل کے معیار کام کی پائیداری اور منظور شدہ تعمیراتی معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں پر کام منظور شدہ ڈیزائن تخمینہ تکنیکی اور مقررہ تعمیراتی معیار کے عین مطابق کیا جائے متعلقہ محکمے اور تعمیراتی ادارے منصوبوں کی مسلسل نگرانی کریں اور کام کے معیار و رفتار سے متعلق رپورٹ انتظامیہ کو پیش کرتے رہیں انہوں نے کہا کہ BSDI کے تحت جاری منصوبے ضلع میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور مقامی سطح پر ترقی کے فروغ کے حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ان منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل سے شہریوں کو صحت، تعلیم، تفریح، کھیل اور دیگر شعبوں میں بہتر سہولیات میسر آئیں گی ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ ترقیاتی منصوبوں کی باقاعدگی سے مانیٹرنگ جاری رکھیں، موقع پر پیش آنے والے مسائل کو فوری طور پر حل کریں اور کسی بھی قسم کی غفلت یا غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے تاکہ سرکاری وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بناتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت میں پائے تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 7358/2026
خضدار4ستمبر: چار روزہ پولیو مہم برائے ستمبر 2026 کے سلسلے میں ڈویژنل ٹاسک فورس کمیٹی کا اہم اجلاس کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی کی زیرِ صدارت کمشنر کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق سا سولی ایس ایس پی خضدار دوستین دشتی ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر عبدالحمید لہڑی ڈویژنل پولیو افیسر ڈاکٹر نصرت بلوچ ڈاکٹر فرمان ڈاکٹر بشیر احمد رحیم جتک، سی سی او ڈاکٹر عبدالصمد اور دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ستمبر کی چار روزہ پولیو مہم 21 22 23 اور 24 کی تفصیلی حکمتِ عملی اور تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی کو ڈویژنل پولیو افیسر ڈاکٹر نصرت بلوچ نے بریفنگ دی انہوں نے کہا کہ خضدار ڈویژن میں دو لاکھ 52 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے اور خضدار ڈویژن میں ایک ہزار 32 موبائل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہے ڈسٹرکٹ خضدار میں 91 ہزار 808 ڈسٹرکٹ قلات 40 ہزار 269 ڈسٹرکٹ وڈھ 71 ہزار 751 اور ڈسٹرکٹ سوراب میں 48 ہزار 182 بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے مہم کے دوران خضدار ڈویژن کی تمام یونین کونسلز میں پولیو مہم چلائی جائے گی۔ اس دوران پانچ سال تک کی عمر کے 2 لاکھ 52 ہزار ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔کم کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی یونین کونسلز Low Performing UCs کی بھی نشاندہی کی گئی۔ اجلاس میں ان یو سیز میں کوریج بہتر بنانے، رہ جانے والے بچوں تک رسائی اور ٹیموں کی کارکردگی مؤثر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات اور لائحہ عمل طے کیا گیا۔اجلاس میں پولیو مہم کی سکیورٹی صورتحال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ فیلڈ ٹیموں، ویکسینیٹرز اور دیگر عملے کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے انتظامات مزید بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی نے کہا کہ ”پولیو مہم کی کامیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ محکمے اور پارٹنر ادارے باہمی رابطہ و تعاون کو مزید بہتر بنائیں تاکہ ضلع بھر میں کوئی بھی بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہ رہے۔انہوں نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ Low Performing UCs پر خصوصی توجہ دی جائے اور پولیو مہم کے دوران کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ ایک قومی ذمہ داری اور نئی نسل کو ایک سے مرض بچانے کا معاملہ ہے لہذا سب جذبے کے تحت خدمت سرانجام دیں تاکہ پولیو جیسے مرض کا مستقل طور پر خاتمہ کیا جاسکے۔
خبر نامہ نمبر 7359/2026
سوراب04 ستمبر: ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت ڈی سی آفس میں DCC کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایف سی بلوچستان 61 ونگ کمانڈر کرنل سید فخر رفیق طلحہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سلمان علی بلیدی، پرنسپل ڈگری کالج امان اللہ زہری، ڈی ایس پی گدر عزیز احمد خدرانی سمیت ضلع کے تمام متعلقہ افسران اور نجی اسکولوں کے سربراہان نے شرکت کی اجلاس میں 05 ستمبر کو سوراب فیملی پارک کی افتتاحی تقریب اور 06 ستمبر یوم دفاع پاکستان کے حوالے سے منعقد ہونے والی تقریبات کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ مختلف محکموں کو ضروری ذمہ داریاں بھی تفویض کی گئیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سوراب فیملی پارک کا باقاعدہ افتتاح 5 ستمبر کو شام 05 بجے ہوگا، جبکہ 6 ستمبر یوم دفاع پاکستان کے موقع پر مختلف سرکاری و تعلیمی اداروں میں خصوصی پروگرامز منعقد کیے جائیں گے اس سلسلے میں اسکولوں اور ڈی سی آفس میں واک سمیت دیگر تقریبات کا بھی انعقاد کیا جائے گا ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ دونوں اہم مواقع کے لیے انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں تاکہ تقریبات کو بھرپور، منظم اور شایان شان انداز میں منعقد کیا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 7360/2026
جعفرآباد4ستمبر: ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت سرکاری واجبات کی وصولی کے حوالے سے محکمہ ریونیو کے افسران اور عملہ مال کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سرکاری واجبات کی وصولی کی موجودہ صورتحال، درپیش مسائل، مختلف مدات میں بقایاجات اور اب تک کیے گئے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں متعلقہ افسران نے ڈپٹی کمشنر کو واجبات کی وصولی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور مختلف علاقوں میں جاری ریکوری مہم سے متعلق آگاہ کیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا کہ سرکاری واجبات کی بروقت اور مکمل وصولی ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ریونیو کی اہم ذمہ داری ہے، اس حوالے سے کسی بھی قسم کی سستی یا غفلت قابل قبول نہیں ہوگی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ زمینداروں اور کاشتکاروں سے سرکاری واجبات کی وصولی ہر صورت یقینی بنائی جائے اور جن افراد پر سرکاری واجبات تاحال بقایا ہیں، انہیں فوری طور پر نوٹسز جاری کیے جائیں تاکہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنے واجبات جمع کرا سکیں انہوں نے کہا کہ سرکاری واجبات کی وصولی کے عمل کو مزید مؤثر اور تیز بنایا جائے اور ریکارڈ کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد نادہندگان کی فہرستیں مرتب کی جائیں۔ ایسے افراد جو بار بار نوٹسز کے باوجود واجبات کی ادائیگی سے گریز کر رہے ہیں، ان کے خلاف قانون اور ضابطے کے مطابق بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔ڈپٹی کمشنر خالد خان نے مزید کہا کہ ریونیو ریکارڈ کو مکمل طور پر اپ ڈیٹ رکھا جائے اور واجبات کی وصولی کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے متعلقہ افسران اور اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بناتے ہوئے نادہندگان سے رابطہ کریں اور ریکوری کے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کریں۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ریونیو میں اضافہ عوامی فلاح و بہبود اور ضلعی ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے تمام متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری، شفافیت اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وصولی کے عمل میں کسی بھی قسم کی سفارش، دباؤ یا امتیازی سلوک کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا اور قانون سب کے لیے یکساں ہوگا۔ڈپٹی کمشنر نے افسران کو ہدایت کی کہ مقررہ اہداف کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں، واجبات کی وصولی میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے اور جہاں قانونی کارروائی ضروری ہو وہاں بلا تاخیر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ محکمہ ریونیو کے افسران اور عملہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں ادا کرتے ہوئے سرکاری واجبات کی وصولی کے اہداف حاصل کریں گے۔
خبر نامہ نمبر 7361/2026
کوئٹہ 4 ستمبر:صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی نے قلات میں سیکیورٹی فورسز جبکہ بھاگ کچھی میں بلوچستان پولیس اور اینٹی ٹیررسٹ فورس (اے ٹی ایف) کی کامیاب کارروائیوں کو سراہتے ہوئے افسران اور جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔میر ظہور احمد بلیدی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ قلات اور بھاگ کچھی میں سیکیورٹی فورسز، بلوچستان پولیس اور اے ٹی ایف کی بروقت اور مؤثر کارروائیاں دہشت گرد عناصر کے خلاف ریاست کے مضبوط عزم کا واضح اظہار ہیں۔ ہمارے بہادر جوانوں نے پیشہ ورانہ صلاحیت، جرأت اور عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن دشمن عناصر کے عزائم ناکام بنائے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی فورسز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خدمات اور قربانیاں قابلِ تحسین ہیں۔ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ملک و قوم کے تحفظ کے لیے قربانیاں دینے والے جوان پوری قوم کے ہیرو ہیں۔میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ دہشت گرد عناصر بلوچستان کے امن، ترقی اور خوشحالی کے سفر کو کسی صورت متاثر نہیں کر سکتے۔ ریاست اور عوام متحد ہو کر دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں اور امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہنی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ بھاگ کچھی میں بلوچستان پولیس اور اے ٹی ایف کی کامیاب کارروائی اس امر کا ثبوت ہے کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسی کامیاب کارروائیاں نہ صرف دہشت گرد عناصر کے عزائم کو ناکام بناتی ہیں بلکہ عوام کے اعتماد میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے یا طبقے کی جنگ نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔ حکومت، سیکیورٹی ادارے اور عوام باہمی اتحاد و یکجہتی کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں۔ ”عزمِ استحکام“ کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے قومی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کے سفر کو ہر صورت جاری رکھا جائے گا اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جانی چاہیے میر ظہور احمد بلیدی نے قلات اور بھاگ کچھی کی کارروائیوں میں حصہ لینے والے سیکیورٹی فورسز، بلوچستان پولیس اور اے ٹی ایف کے افسران و جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اپنے بہادر جوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور امن کے قیام کے لیے ان کی قربانیوں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے گی۔
خبر نامہ نمبر 7362/2026
لورالائی 4 ستمبر: ماں اور بچے کی صحت سے متعلق شعور اجاگر کرنے اور خواتین کو دورانِ حمل و زچگی ضروری طبی احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنے کے لیے لورالائی میں آگاہی مہم کے سلسلے میں ایک اہم ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ کے مہمانِ خصوصی اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم تھے، جبکہ کوآرڈینیٹر ایم ایم سی ایچ خیر محمد سمیت متعلقہ محکمہ صحت کے حکام اور دیگر شرکاء نے بھی شرکت کی ورکشاپ کا مقصد ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے عوامی آگاہی کو فروغ دینا، خواتین کو حمل سے قبل، دورانِ حمل اور بچے کی پیدائش کے بعد ضروری طبی نگہداشت اور احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنا تھا ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد صحت مند ماؤں اور بچوں پر قائم ہوتی ہے، لہٰذا خواتین کی صحت اور بچوں کی بروقت نگہداشت کو ترجیح دینا انتہائی ضروری ہے۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ حمل سے قبل خواتین کو اپنی صحت کا مکمل معائنہ کروانا چاہیے اور کسی بھی بیماری یا طبی پیچیدگی کی صورت میں مستند ڈاکٹر سے بروقت رجوع کرنا چاہیے مقررین نے متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دورانِ حمل مناسب غذا، باقاعدہ طبی معائنہ اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل ماں اور بچے دونوں کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ حاملہ خواتین کو باقاعدگی سے قریبی ہسپتال یا بنیادی صحت مرکز کا دورہ کرنا چاہیے تاکہ کسی بھی ممکنہ طبی پیچیدگی کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن بنایا جا سکے ورکشاپ کے دوران نومولود بچوں کی صحت اور نگہداشت کے حوالے سے بھی تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی۔ مقررین نے کہا کہ بچے کی پیدائش کے بعد مناسب غذائیت، صفائی ستھرائی، بروقت حفاظتی ٹیکہ جات اور باقاعدہ طبی نگرانی بچے کی صحت مند نشوونما میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ساتھ ہی زچگی کے بعد ماں کی صحت، مناسب آرام اور غذائیت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیااس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت کسی بھی معاشرے کی مجموعی ترقی اور خوشحالی سے براہِ راست منسلک ہے۔ خواتین کو صحت سے متعلق بروقت اور درست معلومات کی فراہمی کے ذریعے متعدد بیماریوں اور پیچیدگیوں سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ دیہی اور دور دراز علاقوں میں صحت سے متعلق آگاہی کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہر خاتون اور بچے کو بنیادی طبی سہولیات اور ضروری رہنمائی تک رسائی حاصل ہو سکے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں اور محکمہ صحت کے حکام پر زور دیا کہ عوامی آگاہی کے پروگراموں کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک صحت سے متعلق مفید معلومات پہنچائی جائیں آخر میں مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ اور عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے آگاہی مہمات اور تربیتی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ ایک صحت مند، محفوظ اور باشعور معاشرے کے قیام میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 7364/2026
بارکھان4 ستمبر: حکومت بلوچستان کے نوٹیفکیشن مورخہ 8 جولائی 2026 کے تحت رڑاشم سب ڈویژن کو ضلع بارکھان میں شامل کیے جانے کے بعد نئے سب ڈویژن کو فعال بنانے کے لیے انتظامی اقدامات جاری ہیں۔اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر بارکھان کی جانب سے کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن کو مراسلہ ارسال کیا گیا ہے، جس میں رڑاشم سب ڈویژن اور تحصیل کے مؤثر انتظامی امور کے لیے ضروری ریونیو عملہ فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔مراسلے کے مطابق رڑاشم سب ڈویژن میں ایک نائب تحصیلدار، دو گرداور، دو پٹواری، ایک سینئر کلرک اور دو جونیئر کلرک کی ضرورت ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضروری عملے کی تعیناتی سے محکمہ مال، اراضی ریکارڈ اور دیگر متعلقہ امور کی انجام دہی میں سہولت ہوگی اور عوام کو بہتر سرکاری خدمات فراہم کی جا سکیں گی۔دوسری جانب یونین کونسل اندر پور اور رڑاشم کے رہائشیوں کے لیے لوکل/ڈومیسائل کے اجرا کے حوالے سے عوامی اطلاع بھی جاری کی گئی ہے۔ عوام کو آگاہ کیا گیا ہے کہ رڑاشم سب ڈویژن کو ضلع بارکھان میں شامل کیے جانے کے بعد متعلقہ یونین کونسلوں کے رہائشی لوکل/ڈومیسائل کے اجرا کے لیے ڈپٹی کمشنر بارکھان کے دفتر سے مقررہ طریقہ کار کے مطابق رجوع کریں۔ڈپٹی کمشنر بارکھان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ رڑاشم سب ڈویژن کے انتظامی امور کو مؤثر بنانے اور عوام کو ریونیو سمیت دیگر سرکاری سہولیات کی بروقت فراہمی کے لیے ضروری اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
خبر نامہ نمبر 7365/2026
دُکی 4 ستمبر: ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لونی فتح خان بنگلزئی نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال دُکی اور بنیادی مرکز صحت (بی ایچ یو) کلی ملک علی محمد کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی، طبی عملے کی حاضری اور صفائی ستھرائی سمیت دیگر انتظامی امور کا جائزہ لیا دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات اور وارڈز کا معائنہ کیا اور وہاں موجود طبی عملے سے ملاقات کرتے ہوئے مریضوں کو دی جانے والی سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے ہسپتال میں آنے والے مریضوں سے بھی طبی سہولیات اور علاج معالجے کے حوالے سے گفتگو کی اور ان کے مسائل سے آگاہی حاصل کی اسسٹنٹ کمشنر لونی فتح خان بنگلزئی نے متعلقہ طبی عملے کو سختی سے ہدایت کی کہ مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت کا بنیادی مقصد عام شہریوں، بالخصوص دور دراز علاقوں کے عوام کو ان کی دہلیز کے قریب معیاری علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنا ہے، جس میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے عملے کی حاضری، صفائی ستھرائی اور نظم و ضبط کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام طبی مراکز میں صحت مند اور مریض دوست ماحول کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ ادویات کی دستیابی اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثراقدامات کیے جائیں اس موقع پراسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو بنیادی اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور صحت کے مراکز کی کارکردگی کی بہتری کے لیے معائنوں اور نگرانی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گاانہوں نے مزید کہا کہ سرکاری فرائض میں غفلت اور عوامی خدمت میں کوتاہی کسی صورت قابل قبول نہیں، لہٰذا تمام متعلقہ اہلکار اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں تاکہ عوام کو صحت کی بہتر اور بروقت سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
خبر نامہ نمبر 7366/2026
تربت4 ستمبر:۔جامعہ تربت اپنے طلبہ کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور جدید ٹیکنالوجی و صنعتی مارکیٹ کے لیے تیار کرنے کے لیے اہم اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں شعبہ کمپیوٹر سائنس کے طلبہ نے فیکلٹی ممبر محمد عاصم کی سربراہی میں اسلام آباد کا نو روزہ کامیاب صنعتی وٹیکنالوجی دورہ کیا جو طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی اور عملی صنعتی ماحول سے روشناس کرانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔دورے کا بنیادی مقصد اکیڈمک لرننگ کو صنعتی سافٹ ویئر انجینئرنگ کے جدید طور طریقوں سے ہم آہنگ کرانا تھا۔ اس دوران طلبہ کو اسلام آباد کے معروف ٹیک پارکس، اسٹارٹ اپ انکیوبیٹرز اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ حبز کا وزٹ کرایا گیا، تاکہ وہ ملک کی تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجی صنعت کے حقیقی ماحول کا براہ راست مشاہدہ کر سکیں۔ اس موقع پر طلبہ نے اہم ٹیکنالوجی اداروں میں کام کرنے والے ماہرین، پلیٹ فارم انجینئرز اور فیسیلیٹی مینیجرز کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کے جدید انفراسٹرکچر، ہوسٹنگ صلاحیتوں، مجموعی ایکو سسٹم اورنیشنل انکیوبیشن سنٹر کا قریب سے مشاہدہ کیا۔ترجمان تربت یونیورسٹی کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے اپنے پیغام میں پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے محمد اکبر اورخٹک سنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک، نیشنل انکیوبیشن سینٹر اور فضل سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کی انتظامیہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، جنہوں نے دورے کے دوران طلبہ کو ہر ممکن سہولت فراہم کی۔وائس چانسلر نے اس موقع پر کہا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے تکنیکی دور میں جامعہ تربت اپنے طلبہ کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے اور انہیں مقابلہ کرنے کے قابل بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے تعلیمی اقدامات کا مقصد جامعہ تربت کے طلبہ کے لیے روشن مستقبل کی راہ ہموار کرنا ہے۔
خبر نامہ نمبر 7367/2026
کوئٹہ 4 ستمبر:۔بلوچستان میں حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام، ویکسین مینجمنٹ اور کولڈ چین کے شعبے میں نمایاں بہتری سامنے آئی ہے، جہاں مؤثر ویکسین مینجمنٹ اور کولڈ چین اسیسمنٹ کے تحت صوبے کا مجموعی ای وی ایم اسکور 2021 میں 57 فیصد سے بڑھ کر 2026 میں 83 فیصد ہوگیا ہے، جو 26 فیصد پوائنٹس کی نمایاں بہتری ہے۔پاکستان کے تمام صوبوں میں بلوچستان نے ای وی ایم اور کولڈ چین کے شعبے میں سب سے زیادہ بہتری ریکارڈ کرکے نمایاں مقام حاصل کیا ہے، جسے صوبے کے حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام کی ایک اہم کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔یہ نمایاں پیش رفت بلوچستان حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے میں بہتری اور حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید مؤثر اور مضبوط بنانے کے لیے جاری اقدامات کا نتیجہ ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات، عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی اور بنیادی صحت کے نظام کو مستحکم بنانے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، جبکہ صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کی نگرانی میں محکمہ صحت اور ای پی آئی پروگرام کی کارکردگی میں مزید بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ ای وی ایم اسکور میں 57 فیصد سے 83 فیصد تک بہتری بلوچستان ای پی آئی ٹیم، محکمہ صحت اور شراکت دار اداروں کی مسلسل محنت اور مربوط کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس دوران کولڈ چین کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، ویکسین اسٹوریج کے آلات کی فعالیت اور دیکھ بھال، درجہ حرارت کی مؤثر نگرانی، احتیاطی دیکھ بھال، ویکسین مینجمنٹ اور سپلائی چین کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔بلوچستان میں ای وی ایم اسکور میں 26 فیصد پوائنٹس کی بہتری اس امر کا واضح اظہار ہے کہ صوبے میں ویکسین کی محفوظ اسٹوریج، مناسب درجہ حرارت پر ترسیل، مؤثر انتظام اور حفاظتی ٹیکہ جات کی فراہمی کے نظام میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق ویکسین کی مؤثر مینجمنٹ اور مضبوط کولڈ چین نظام بچوں کو بروقت اور محفوظ ویکسین کی فراہمی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ بلوچستان میں ای وی ایم اسکور کی موجودہ بہتری مستقبل میں حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔ حکومت بلوچستان کی جانب سے اس کامیابی کو صوبے کے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے ای وی ایم کے معیار کو مزید بہتر بنانے اور صوبے کے دور دراز علاقوں سمیت تمام بچوں تک ویکسین کی بروقت، محفوظ اور مؤثر فراہمی یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، بلوچستان ای پی آئی ٹیم، محکمہ صحت اور تمام شراکت دار اداروں کو اس نمایاں کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کی گئی ہے۔
پریس ریلیز
کوئٹہ4 ستمبر:۔پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری ربانی خان کاکڑ نے کہا ہے کہ وزیراعلی سرفرازبگٹی بلوچستان سے دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے سیکورٹی فورسز کے تعاون سے بھرپور اقدامات کررہے ہیں،صدر آصف علی زرداری نے جمہوریت اور عوام کے حقوق کی خاطر 13 سال جیل میں گزارے مگر اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کو کوئٹہ پریس کلب میں خلیل احمد خلجی ایڈوکیٹ ہائیکورٹ کی پاکستان پیپلز پارٹی میں شمیولیت کے موقع پر منعقدہ شمیولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر خلیل احمد خلجی ایڈوکیٹ ہائیکورٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمیولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی 1973 کے آئین کی خالق جماعت ہے، جس میں نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں کو عزت دی جاتی ہے،18 ویں ترمیم اور مضبوط پاکستان کی تشکیل کے لیے سیاسی جدوجھد کا آغاز کررہا ہوں اس لیے پاکستان کی بقا و سالمیت، جمہوری روایات کے تسلسل اور قانون وآئین بالادستی کے لیے پکستان پیپلز پارٹی میں شمیولیت اختیار کررہا ہوں،شمیولیتی تقریب میں میر نصیب اللہ شاہوانی صدر پاکستان پیپلز پارٹی ضلع کوئٹہ،پیپلز پارٹی کوئٹہ ڈویزن کے نائب صدر عبدالجبار خلجی، شہزادہ کاکڑ، عین الدین کاکڑ، طیب بلوچ اور دیگر پیپلز پارٹی رہنماوں نے بھی خطاب کیا،پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی، لیڈرشپ نے قربانیاں اور شہادتیں دی ہیں، پیپلز پارٹی محنت کشوں اور متوسط طبقے کی نمائندہ پارٹی ہے،پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری ربانی خان کاکڑ نے کہا ہے کہ کارکنوں کو پیپلز پارٹی میں کلیدی حیثیت حاصل ہے، نوجوانوں کی ہنرمند کے لیے بلوچستان حکومت اہم اقدامات کررہی ہے، بھٹو نے شہادت قبول کیا مگر عوام کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا، صدر آصف علی زرداری نے 13 سال جیل میں گزارے، محترمہ بے نظیر بھٹو نے شہادت قبول کی مگر پیپلز پارٹی اور کارکنوں کے سر فخر سے بلند کردیے، بھٹو خاندان کی قربانیوں نے پیپلزپارٹی کی جدوجھد کو تقویت دی ہے، انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا سرمایہ ان کے کارکنان ہیں، نئے شمولیت اختیار کرنے والے کارکنوں کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ انھیں پاکستان پیپلز پارٹی میں عزت و احترام سیاسی مقام ملے گا.
PRESS RELEASE
QUETTA, September 4: Pakistan Peoples Party’s Provincial General Secretary Rabbani Khan Kakar said that Chief Minister Sarfraz Bugti is taking effective measures, with the cooperation of security forces, to eliminate terrorism from Balochistan. He said President Asif Ali Zardari spent 13 years in jail for the sake of democracy and the rights of the people, but never compromised on his principles.He expressed these views while addressing an inclusion ceremony held at the Quetta Press Club on Friday, on the occasion of Khalil Ahmed Khilji, Advocate High Court, joining the Pakistan Peoples Party.On the occasion, Khalil Ahmed Khilji, Advocate High Court, announcing his decision to join the Pakistan Peoples Party, said that PPP is the party that created the 1973 Constitution, a party that gives respect to the youth and political workers. He said he was beginning his political struggle for the 18th Amendment and for building a strong Pakistan, and that he was joining PPP for the survival and integrity of Pakistan, the continuity of democratic traditions, and the supremacy of law and the Constitution.Others who addressed the inclusion ceremony included Mir Nasibullah Shahwani, President PPP Quetta District; Abdul Jabbar Khilji, Vice President PPP Quetta Division; Shahzada Kakar; Ainuddin Kakar; Tayyab Baloch; and other PPP leaders.PPP leaders said that the party’s leadership has made sacrifices and given martyrs for the strengthening of democracy, and that PPP represents the working class and the middle class.Provincial General Secretary Rabbani Khan Kakar further said that party workers hold a key position within PPP, and that the Balochistan government is taking important steps for skills development of the youth. He said Bhutto accepted martyrdom but never compromised on the rights of the people; President Asif Ali Zardari spent 13 years in jail; and Mohtarma Benazir Bhutto embraced martyrdom but raised the heads of PPP and its workers with pride. He added that the sacrifices of the Bhutto family have strengthened PPP’s struggle, and that the party’s real asset is its workers. He assured the newly inducted members that they would be given due respect and a political standing within the Pakistan Peoples Party.
خبر نامہ نمبر 7368/2026
کوئٹہ04 ستمبر:۔ضلع کچھی کے علاقے بھاگ ناڑی میں دہشت گردانہ حملے کے دوران زخمی ہونے والے پانچ سویلین افراد کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے سکھر، لاڑکانہ اور کوئٹہ کے مختلف معیاری اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے، جہاں ماہر ڈاکٹرز کی زیر نگرانی زخمیوں کا علاج معالجہ شروع کردیا گیا ہے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایت پر چیف منسٹر کے پرسنل اسٹاف آفیسر سید امین نے واقعے کے فوری بعد کچھی انتظامیہ، زخمیوں کے اہل خانہ اور سکھر، لاڑکانہ و کوئٹہ کے مختلف اسپتالوں کے سربراہان سے مسلسل رابطہ کیا اور زخمیوں کی بروقت منتقلی، داخلے اور علاج معالجے کے تمام انتظامات کو یقینی بنایا۔ حکومت بلوچستان کی جانب سے زخمی شہریوں کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کی جارہی ہے، جبکہ متعلقہ حکام کو زخمیوں کی صحت سے متعلق مسلسل آگاہی حاصل کرنے اور علاج کے عمل کی نگرانی کی ہدایت بھی کی گئی ہے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہدایت کی ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں زخمی ہونے والے شہریوں کے علاج معالجے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور حکومت بلوچستان متاثرین اور ان کے خاندانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ اس ضمن میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کے پرسنل اسٹاف افسر سید امین متاثرہ خاندانوں اور متعلقہ اسپتالوں سے مسلسل رابطے میں ہیں جو متاثرین کو ہر ممکن معاونت فراہم کرتے رہیں گے
اعلانِ فاتحہ خوانی
کوئٹہ 4ستمبر:۔ایم پی اے نوشکی حاجی میر غلام دستگیر بادینی کے والدِ محترم حاجی میر عبد القیوم بادینی کے چچا، حاجی میر جمعہ خان بادینی مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے 6 اور 7 ستمبر، بروز اتوار و سوموار، دو روز تک فاتحہ خوانی ہوگی۔فاتحہ خوانی ایم پی اے نوشکی حاجی میر غلام دستگیر بادینی کی رہائش گاہ، واقع جناح ٹاؤن بلمقابل جامع مسجدنزدایگزیکٹو پاسپورٹ آفس کوئٹہ میں ہوگی۔اللہ تعالیٰ مرحوم حاجی میر جمعہ خان بادینی کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے،آمین
خبر نامہ نمبر 2026/7369
کوئٹہ 4ستمبر: ـچیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرِ صدارت محکموں کے کارکردگی جائزہ کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ہوم، لیبر، سوشل ویلفیئر اور فاریسٹ محکموں نے گزشتہ سال کی کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے اپنی نمایاں پیش رفت اور آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔اجلاس میں متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز اور سینئر حکام نے اپنے شعبوں کی کارکردگی، اہداف کی تکمیل، اصلاحاتی اقدامات، درپیش چیلنجز اور مستقبل کی ترجیحات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر محکموں کی مجموعی کارکردگی، عوامی خدمات کی فراہمی اور انتظامی بہتری کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری بلوچستان نے محکموں کی بریفنگ کا جائزہ لیتے ہوئے کارکردگی میں مزید بہتری لانے، اہداف کے حصول کو یقینی بنانے اور عوامی خدمت کے عمل کو زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صوبے میں بہتر طرزِ حکمرانی، شفافیت اور بروقت نتائج کے لیے محکموں کی کارکردگی کو مسلسل مانیٹر کر رہی ہے۔ اجلاس میں مذکورہ محکموں کے حکام نے اپنے شعبوں میں پروموشنز، خالی آسامیوں، اصلاحات اور ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی، جس میں انسانی وسائل کی دستیابی، ترقی کے منتظر ملازمین کے کیسز، اسٹاف کی کمی کو پورا کرنے کے اقدامات، انتظامی ڈھانچے کی بہتری اور دفتری امور کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جاری پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے نہ صرف کارکردگی میں بہتری آ رہی ہے بلکہ شفافیت، رفتار اور عوامی سہولت میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہو رہا ہے۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ متعلقہ محکمے اپنی استعداد کار میں اضافہ، عوامی مسائل کے فوری حل اور ترقیاتی و فلاحی منصوبوں کی موثر تکمیل کے لیے مربوط اور فعال حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھیں.
خبر نامہ نمبر 2026/7370
تربت 4 ستمبر: ـممبر قومی اسمبلی پنجگور/کیچ اور چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات پھلین بلوچ نے تربت پریس کلب کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پی ایس ڈی پی فنڈز سے پریس کلب کی زیرِ تعمیر نئی عمارت اور بی ایس ڈی آئی فنڈز سے تزئین و آرائش کیے گئے آڈیٹوریم کا معائنہ کیا اس موقع پر مشکور انور بلوچ، سمیت دیگر اہلکار بھی ان کے ہمراہ تھے۔اس موقع پر تربت پریس کلب کے صدر حافظ صلاح الدین سلفی اور فنانس سیکرٹری مقبول ناصر نے انہیں پریس کلب میں جاری تعمیراتی کاموں اور صحافیوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے بریفنگ دی۔انہوں نے پھلین بلوچ کی جانب سے اپنے ایم این اے فنڈز سے تربت پریس کلب کے ڈیجیٹل اسٹوڈیو کی تعمیر کے لیے 40 لاکھ روپے کے فنڈز کے اجراء پر ان کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ نئی عمارت کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد ڈیجیٹل اسٹوڈیو کا کام شروع کیا جائے گا، جس کی تکمیل سے پریس کلب کے ممبران کو اپنے میڈیا چینلز کے لیے ویڈیو ریکارڈنگ اور دیگر ڈیجیٹل میڈیا سہولیات میسر ہوں گی۔ اس موقع پر پھلین بلوچ نے کہا کہ ہماری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ ادارے مضبوط اور مستحکم ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ ادبی، ثقافتی اور دیگر اداروں کی ترقی و استحکام پر خصوصی توجہ دی ہے۔تقریب کے اختتام پر پریس کلب کے عہدیداران نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/7371
حب 4ستمبر : ڈپٹی کمشنر حب جمعہ داد خان مندوخیل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مختلف سرکاری محکموں کے ضلعی سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں، امن و امان، تعلیم، صحت، عوامی سہولیات اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) سمیت جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، تعمیراتی معیار، فیلڈ مانیٹرنگ اور مقررہ مدت میں تکمیل پر زور دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام منصوبے منظور شدہ ڈیزائن، تکنیکی معیار اور مقررہ ٹائم لائن کے مطابق مکمل کیے جائیں اور ناقص میٹریل یا غیر معیاری تعمیرات ہرگز برداشت نہ کی جائیں۔تعلیمی شعبے کے حوالے سے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ اور عملے کی حاضری، تدریسی سرگرمیوں اور بنیادی سہولیات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام اسکولوں میں پاکستان کا قومی پرچم نمایاں طور پر نصب اور آویزاں کرنے، تعلیمی ماحول بہتر بنانے اور طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانے پر بھی زور دیامحکمہ صحت کے حوالے سے سرکاری اسپتالوں اور مراکز صحت میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر عملے کی حاضری کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی بلاتعطل فراہمی کے لیے حاضری اور سروس ڈیلیوری کی مؤثر نگرانی ضروری ہےاجلاس میں تمام سرکاری اداروں میں افسران و ملازمین کی حاضری کو یقینی بنانے اور غیر حاضری کی صورت میں قواعد کے مطابق کارروائی کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمین کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقررہ اوقات میں اپنی ڈیوٹی پر موجود رہیں اور عوامی مسائل کے حل میں فعال کردار ادا کریں۔
اجلاس میں مدارس کی رجسٹریشن اور متعلقہ ریکارڈ کی تکمیل کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ افغان باشندوں سے متعلق امور اور ضلع میں موجود غیر ملکی شہریوں کے ریکارڈ و قانونی حیثیت کے حوالے سے متعلقہ اداروں کو قواعد و ضوابط کے مطابق اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔
امن و امان کے حوالے سے حساس مقامات، سرکاری و عوامی تنصیبات کی سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کا جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے بروقت معلومات کے تبادلے اور مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کی ہدایت کی۔جمعہ داد خان مندوخیل نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، سرکاری اداروں کی مؤثر کارکردگی اور عوامی شکایات کا فوری ازالہ ہے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ صرف کاغذی رپورٹس پر انحصار کرنے کے بجائے فیلڈ میں موجود صورتحال کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ محکموں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری، حاضری کی پابندی، مسلسل نگرانی اور عوامی جوابدہی کے ذریعے انتظامی نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا اور سرکاری اقدامات کے ثمرات براہ راست عوام تک پہنچائے جائیں گے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7372
سوراب04 ستمبر:_ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ نے ایف سی بلوچستان 61 ونگ کمانڈر میجر علی عباس، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سلمان علی بلیدی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ سعید احمد ساسولی، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی سوراب عبدالخالق شاہوانی، ایس ڈی او بی اینڈ آر مقصود احمد مینگل، سپرنٹنڈنٹ ڈی سی آفس فضل محمد قمبرانی، سوشل ویلفیئر افسر نصیب اللہ اور دیگر افسران کے ہمراہ فیملی پارک سوراب کا دورہ کیا دورے کے دوران کل ہونے والی افتتاحی تقریب کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ٹھیکیدار صادق احمد نے انتظامات کے حوالے سے افسران کو تفصیلی بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ افتتاحی تقریب کے تمام انتظامات بروقت اور بہترین انداز میں مکمل کیے جائیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/7373
کوئٹہ04 ستمبر:معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کہا ہے کہ ضلع کچھی کے علاقے بھاگ ناڑی میں دہشت گردانہ حملے کے دوران زخمی ہونے والے پانچ سویلین شہریوں کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے سکھر، لاڑکانہ اور کوئٹہ کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے، جہاں ماہر ڈاکٹرز کی زیر نگرانی ان کا علاج جاری ہے ایک بیان میں شاہد رند نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایت پر زخمی شہریوں کی بروقت منتقلی، اسپتالوں میں داخلے اور علاج معالجے کے تمام انتظامات یقینی بنائے گئے ہیں۔ حکومت بلوچستان زخمی شہریوں کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کررہی ہے اور ان کے علاج کے عمل کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر متعلقہ حکام زخمیوں کی صحت سے متعلق مسلسل آگاہی حاصل کررہے ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں اور متعلقہ اسپتالوں کے ساتھ بھی رابطہ برقرار رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ضرورت کو فوری طور پر پورا کیا جاسکے۔ شاہد رند نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں زخمی ہونے والے شہریوں کے علاج معالجے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ حکومت بلوچستان متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو مشکل کی اس گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑے گی اور انہیں ہر ممکن تعاون اور معاونت فراہم کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ زخمی شہریوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات کی فراہمی حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ معاون وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت بلوچستان شہریوں کے تحفظ، فلاح و بہبود اور متاثرین کی معاونت کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔





