خبرنامہ نمبر7275/2026
کوئٹہ، 3 ستمبر ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے سابق ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر خان موسیٰ خیل اور قبائلی رہنماء سردار محمد حنیف خان موسیٰ خیل نے ملاقات کی ملاقات میں صوبے کی مجموعی سیاسی و سماجی صورتحال، موسیٰ خیل سمیت مختلف علاقوں میں جاری ترقیاتی اقدامات اور عوام کو درپیش مسائل سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے کے تمام علاقوں کی یکساں ترقی اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے جامع اقدامات کررہی ہے۔ پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی عمل کو تیز کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں، جبکہ دور دراز علاقوں کو بھی ترقی کے عمل میں شامل کرنے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے سردار بابر خان موسیٰ خیل اور سردار محمد حنیف خان موسیٰ خیل نے وزیر اعلیٰ کو اپنے علاقے کے مختلف عوامی مسائل اور ضروریات سے آگاہ کیا، جن کے حل کے لیے وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایت کی ملاقات میں صوبے میں امن و استحکام، عوامی فلاح و بہبود اور ترقیاتی عمل کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7276/2026
کوئٹہ: 3ستمبر۔ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ بلوچ خواتین ہماری ثقافت، تعلیم اور سماجی اقدار کی مضبوط بنیاد ہیں، جنہوں نے نئی نسل کی تعلیم و تربیت، روایات کے تحفظ اور معاشرے میں وقار، عزت اور مثبت اقدار کے فروغ میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کے خواتین ونگ کے رہنماوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ خواتین نہ صرف اپنے خاندان کی طاقت ہیں بلکہ بلوچستان کے روشن اور خوشحال مستقبل کی امید بھی ہیں خواتین کی تعلیم، ترقی اور بااختیاری کے بغیر معاشرے کی حقیقی ترقی ممکن نہیں بلوچستان کی خواتین نے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور صوبے کی ترقی میں ان کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشرے میں مزید فعال کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ خواتین کی تعلیم، ہنرمندی اور معاشی خودمختاری کے لیے اقدامات کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7277/2026
کوئٹہ: 3ستمبر.صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ کی زیرِ صدارت زیارت ویلی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ZVDA) کی گورننگ باڈی کا تیسرا اجلاس محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات حکومتِ بلوچستان کے کمیٹی روم کوئٹہ میں منعقد ہوا اجلاس میں زیارت ویلی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے گورننگ باڈی کے اراکین اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں زیارت ویلی ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے متعلق مختلف اہم امور، علاقے کی ترقی، سیاحت کے فروغ، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی سے متعلق معاملات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اس موقع پر صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ نے کہا کہ زیارت بلوچستان کا اہم سیاحتی اور قدرتی حسن سے مالا مال علاقہ ہے، جس کی ترقی اور خوبصورتی کو برقرار رکھتے ہوئے یہاں سیاحوں اور مقامی آبادی کو بہترین سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ زیارت ویلی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ذریعے علاقے کی منصوبہ بندی اور پائیدار ترقی کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جائیں گے انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ زیارت کی ترقی سے متعلق منصوبوں میں معیار، شفافیت اور عوامی مفاد کو مقدم رکھا جائے اور ترقیاتی اقدامات کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے موثر حکمتِ عملی اپنائی جائے اجلاس میں زیارت کے ترقیاتی امور اور اتھارٹی کے مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے بھی اہم امور زیرِ غور آئے، جبکہ متعلقہ حکام نے مختلف معاملات پر صوبائی وزیر کو بریفنگ دی حاجی نور محمد دمڑ نے کہا کہ زیارت کی ترقی نہ صرف مقامی آبادی بلکہ بلوچستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے بھی انتہائی اہم ہے، حکومت دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے زیارت کو مزید ترقی یافتہ اور سیاح دوست بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7278/2026
کوئٹہ، 3 ستمبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی سے جمعرات کو یہاں اے آئی جی پولیس (جینڈر) اسرار احمد عمرانی نے ملاقات کی، جس میں بلوچستان میں خواتین کے تحفظ، حقوق کے فروغ، صنفی بنیادوں پر تشدد کی روک تھام اور خواتین کے لیے موثر قانونی و ادارہ جاتی معاونت کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران خواتین کو درپیش مسائل، پولیس کے نظام میں جینڈر حساسیت کے فروغ اور خواتین سے متعلق شکایات کے موثر اور فوری ازالے کے لیے ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت ہوئی۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ خواتین کو محفوظ، باوقار اور سازگار ماحول کی فراہمی حکومت بلوچستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد، ہراسانی اور دیگر صنفی جرائم کی روک تھام کے لیے قانون کے موثر نفاذ کے ساتھ ساتھ پولیس اور متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے مسائل سے متعلق اداروں کو محض ردعمل تک محدود رکھنے کے بجائے ایک فعال، حساس اور متاثرہ خواتین کی ضروریات کو سمجھنے والے نظام کی طرف بڑھنا ہوگا۔ پولیس سمیت تمام متعلقہ اداروں میں جینڈر حساسیت کے حوالے سے استعداد کار بڑھانے سے خواتین کے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور انہیں بروقت انصاف تک رسائی حاصل ہوگی۔ مشیر برائے ترقی نسواں نے کہا کہ محکمہ ترقی نسواں خواتین کے تحفظ، قانونی آگاہی، معاشی خودمختاری اور بنیادی حقوق کے فروغ کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اقدامات جاری رکھے گا۔ خواتین کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی ایک مشترکہ ذمہ داری ہے جس کے لیے حکومتی اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول سوسائٹی کے درمیان موثر رابطہ ضروری ہے۔اے آئی جی پولیس (جینڈر) اسرار احمد عمرانی نے خواتین کے تحفظ اور صنفی بنیادوں پر تشدد کے تدارک کے لیے پولیس کے اقدامات سے آگاہ کیا اور اس ضمن میں محکمہ ترقی نسواں کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں خواتین کے تحفظ سے متعلق مختلف اقدامات، آگاہی پروگرامز، ادارہ جاتی روابط اور مستقبل کے مشترکہ لائحہ عمل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta, September 3, 2026: Adviser to the Chief Minister of Balochistan for the Women Development Department, Dr. Rubaba Khan Buledi, met with AIG Police (Gender) Israr Ahmed Umrani here on Thursday. The meeting focused on women’s protection, promotion of their rights, prevention of gender-based violence, and strengthening effective legal and institutional support mechanisms for women across Balochistan. During the meeting, detailed discussions were held on the challenges faced by women, enhancing gender sensitivity within the police system, and further strengthening institutional coordination to ensure the effective and prompt redressal of complaints concerning women. Dr. Rubaba Khan Buledi said that providing women with a safe, dignified, and enabling environment remains among the key priorities of the Government of Balochistan. She emphasized that effective enforcement of laws, along with coordinated cooperation between the police and other relevant institutions, is essential to prevent violence, harassment, and other gender-based crimes against women. Dr. Rubaba Khan Buledi said that institutions dealing with women’s issues must move beyond a merely reactive approach and develop a proactive, sensitive, and survivor-centered system capable of understanding and responding to the needs of affected women. Enhancing institutional capacity on gender sensitivity, particularly within the police and other relevant departments, would help strengthen women’s confidence in public institutions and facilitate their timely access to justice. The Adviser for Women Development said that the Women Development Department would continue working in coordination with relevant institutions to advance women’s protection, legal awareness, economic empowerment, and fundamental rights. She stressed that ensuring a safe environment for women is a shared responsibility that requires effective coordination among government departments, law-enforcement agencies, and civil society. AIG Police (Gender) Israr Ahmed Umrani briefed the Adviser on measures being undertaken by the police for the protection of women and the prevention of gender-based violence. Both sides agreed to further expand cooperation between the Police Department and the Women Development Department in this regard. The meeting also discussed various initiatives for women’s protection, awareness programmes, institutional coordination, and a future framework for ﴾joint action.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7279/2026
بارکھان، 3 ستمبر ۔ ڈسٹرکٹ پولیو ایریڈیکیشن کمیٹی (DPEC) کا اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کاکڑ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں 21 سے 24 ستمبر 2026 تک جاری رہنے والی انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں اور انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO)، ڈسٹرکٹ سپورٹ آفیسر (DSO)، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DDHO)، تمام یونین کونسل میڈیکل آفیسرز (UCMOs) سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں پولیو ٹیموں کی تشکیل، مائیکرو پلان، فیلڈ مانیٹرنگ، سکیورٹی انتظامات اور پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں تک پولیو ویکسین کی رسائی یقینی بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر سعید الرحمٰن کاکڑ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے پولیو ٹیموں کی موثر نگرانی، باہمی رابطے اور مہم کے مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنانے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ ہم سب کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہے، اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ ادارے اور محکمے مربوط اور موثر انداز میں اپنا کردار ادا کریں۔اجلاس میں والدین سے اپیل کی گئی کہ وہ انسدادِ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاوکے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7280/2026
دکی:3ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی نے کمانڈر 87 ونگ کرنل شاہد بلال کے ہمراہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت زیرِ تعمیر ڈسٹرکٹ کمپلیکس کا تفصیلی دورہ کیا اور وہاں مختلف سرکاری دفاتر کی تعمیراتی سرگرمیوں اور جاری کام کی پیش رفت کا جائزہ لیادورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے تعمیراتی کام کے معیار، رفتار اور منصوبے کی مجموعی پیش رفت کا معائنہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام اور تعمیراتی اداروں کو ہدایت کی کہ کام میں مزید تیزی لائی جائے اور تمام تعمیراتی مراحل کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں بعد ازاں ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے کمانڈر 87 ونگ کرنل شاہد بلال کے ہمراہ دکی تا چمالنگ روڈ کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے سڑک کے مختلف حصوں کا جائزہ لیتے ہوئے تعمیراتی سرگرمیوں اور منصوبے کی پیش رفت سے متعلق معلومات حاصل کیںاس موقع پر ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور تعمیراتی کاموں کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبے عوامی سہولت اور علاقے کی مجموعی ترقی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں، لہٰذا ان کی بروقت تکمیل حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہےانہوں نے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے، استعمال ہونے والے تعمیراتی میٹریل کے معیار کو یقینی بنایا جائے اور منصوبوں کو مقررہ معیار اور ٹائم لائن کے مطابق جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو ان اہم منصوبوں کے ثمرات بروقت حاصل ہو سکیں ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کی مسلسل نگرانی جاری رکھے گی اور کسی بھی قسم کی غیر ضروری تاخیر یا معیار میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بہتر انفراسٹرکچر نہ صرف عوام کو سفری اور انتظامی سہولیات فراہم کرتا ہے بلکہ علاقے کی معاشی و سماجی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7281/2026
لورالائی:3ستمبر چیئرمین میونسپل کمیٹی محمد طاہر ناصر اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ بلوچ کی خصوصی ہدایات پر شہر میں صفائی ستھرائی اور نکاسی آب کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں سپروائزر باران زون کی نگرانی میں صدر بازار، باغی بازار اور کاکڑی مسجد روڈ سمیت مختلف اہم شاہراہوں اور تجارتی علاقوں میں نالیوں کی بھرپور صفائی کا کام جاری ہےمیونسپل کمیٹی کے صفائی عملے نے نالیوں میں جمع کچرا، مٹی اور دیگر رکاوٹوں کو نکال کر نکاسی آب کے نظام کو بحال کرنے کے لیے موثر کارروائی کی۔ صفائی کے دوران خصوصی طور پر اس امر کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ نالیوں میں پانی کی روانی بہتر ہو اور بارش یا دیگر مواقع پر گندا پانی سڑکوں اور بازاروں میں جمع ہونے سے بچایا جا سکےچیئرمین میونسپل کمیٹی محمد طاہر ناصر اور چیف آفیسر محب اللہ بلوچ نے کہا کہ شہریوں کو صاف، صحت مند اور خوشگوار ماحول کی فراہمی میونسپل کمیٹی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں مرحلہ وار صفائی مہم جاری رہے گی اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں انہوں نے شہریوں دکانداروں اور تاجروں سے اپیل کی کہ وہ صفائی ستھرائی کے عملے کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور گھریلو یا تجارتی کچرا نالیوں، سڑکوں اور عوامی مقامات پر پھینکنے سے گریز کریں۔ شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچرے کو مقررہ مقامات پر تلف کریں تاکہ نکاسی آب کا نظام متاثر نہ ہو اور شہر کی خوبصورتی برقرار رکھی جا سکے۔میونسپل کمیٹی حکام کا کہنا ہے کہ ایک صاف ستھرا شہر صرف اداروں کی نہیں بلکہ ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور عوام کے تعاون سے ہی لورالائی کو مزید صاف، خوبصورت اور صحت مند شہر بنایا جا سکتا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7282/2026
حب، 3 ستمبر ۔ کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے تحصیل گڈانی، میں قائم پاکستان کی معروف پٹرولیم ریفائننگ و مارکیٹنگ کمپنی Cnergyico Pk Limited (CPL) کے پلانٹ کا دورہ کیاپلانٹ آمد پر کمپنی کی انتظامیہ نے کمشنر لسبیلہ ڈویژن اور ان کے ہمراہ وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر کمپنی کی انتظامیہ کی جانب سے ایک تفصیلی بریفنگ اور پریزنٹیشن دی گئی، جس میں کمپنی کی سرگرمیوں، پٹرولیم ریفائننگ کے عمل، جاری منصوبوں، صنعتی ترقی میں کمپنی کے کردار اور خطے کی معیشت میں اس کے تعاون کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔دورانِ ملاقات سکیورٹی، کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (CSR)، مقامی آبادی کی فلاح و بہبود، ضلعی انتظامیہ اور کمپنی کے درمیان باہمی تعاون و رابطہ کاری سمیت دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے صنعتی تنصیبات کی سکیورٹی کو مزید مو¿ثر بنانے اور ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کمپنی کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی اورچیف سیکرٹری شکیل قادرخان کے وژن کے تحت CSR پروگرامز میں مقامی آبادی کی فلاح و بہبود، بالخصوص تعلیم، صحت، ہنرمندی اور دیگر سماجی شعبوں میں موثر اقدامات کیے جائیںکمشنر لسبیلہ ڈویژن نے پٹرولیم کے شعبے میں Cnergyico Pk Limited کے کردار اور خطے کی صنعتی و معاشی ترقی میں اس کے تعاون کو سراہا اور یقین دلایا کہ ضلعی انتظامیہ قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کمپنی کو ہر ممکن تعاون اور سہولت فراہم کرے گی۔کمپنی کی انتظامیہ نے کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء اور اسسٹنٹ کمشنر حب کے دورے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور سکیورٹی، CSR اور دیگر باہمی امور میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7283/2026
گوادر 3 ستمبر ۔: ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر گوادر عیسیٰ بلوچ نے کہا ہے کہ مرحوم میر عبدالغفور کلمتی کی علم دوستی، خدمتِ خلق اور غریب و مستحق بچوں کی تعلیم کے لیے خدمات ایک روشن مثال ہیں۔ کلمتی خاندان کی مسلسل مالی معاونت سے ڈھوریہ اکیڈمی گزشتہ 21 برس سے مستحق بچوں کو مفت تعلیم اور مختلف فنی مہارتیں فراہم کر رہی ہے۔انہوں نے یہ بات ڈھوریہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر حسن علی موسیٰ کی 21 سالہ تعلیمی و سماجی خدمات کے اعتراف میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ھے۔ انہوں نے اکیڈمی میں انگلش، کمپیوٹر، بلوچی زبان، دینی تعلیم، آرٹ و کرافٹس اور سلائی کڑاءسمیت مختلف شعبوں میں تعلیم و ہنر کی فراہمی کو سراہا ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر نے حسن علی موسیٰ کی بے لوث خدمات کے اعتراف میں محکمہ سوشل ویلفیئر بلوچستان کی جانب سے تعریفی سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، ہنرمندی اور مستحق طبقات کی فلاح کے لیے سماجی اداروں کی خدمات حکومت بلوچستان کے فلاحی وژن کی عملی تصویر ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7284/2026
گوادر3 ستمبر۔: انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی گوادر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر واحد بخش بلوچ نے مختلف فش فیکٹریوں کا دورہ کرکے ماحولیاتی صورتحال، صفائی اور فضلے کے انتظامات کات جائزہ لیا اس موقع پر انہوں نے فش فیکٹریوں کے منتظمین پر زور دیا کہ ماحولیاتی تحفظ، صفائی اور صحت کے مقررہ اصولوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے، جبکہ صنعتی فضلے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے پر خصوصی توجہ دی جائے اس موقع پر ریسرچ آفیسر عبدالوھاب، انسپکٹر دوشمبے بلوچ اور اسسٹنٹ انسپکٹر جنید بلوچ بھی ان ہمراہ تھے .۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7285/2026
گوادر03 ستمبر: یونیورسٹی آف گوادر نے سال2026 کے داخلوں کے لیے درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کرتے ہوئے اسے 15 ستمبر 2026 تک بڑھا دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی میں اے ڈی، بی ایس، بی ایڈ ، ایم ایس اور پی ای ڈی پروگراموں میں داخلے جاری ہیں، جن میں 4 سالہ بی ایس کمپیوٹر سائنس، بی ایس کمپیوٹر سائنس (AI)، بی بی اے، اکنامکس، ایجوکیشن، کامرس، کیمسٹری، زولوجی، انگلش، پوسٹ ایسوسی ایٹ پروگرامز، ایم ایس مینجمنٹ سائنسز، ایم ایس کیمسٹری اور پی ایچ ڈی مینجمنٹ سائنسز شامل ہیں۔ امیدوار آن لائن درخواست ug.edu.pk کے ذریعے جمع کرا سکتے ہیں، جبکہ داخلہ فارم ug.edu.pk/downloads سے ڈاون لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ داخلہ معلومات و رہنمائی:
+92 86 4210422 | +92 321 8087931
admissions@ug.edu.pk ،یونیورسٹی آف گوادر نے اہل امیدواروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ 15 ستمبر 2026 کی آخری تاریخ سے قبل اپنی درخواستیں جمع کرائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7286/2026
کوئٹہ 3ستمبر۔ ایم ڈی (B-TEVTA) کا ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ اہم اسٹریٹجک اجلاس منیجنگ ڈائریکٹر بی-ٹیوٹا، عبدالکبیر زرکون نے بلوچستان میں ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (TVET) کے شعبے کی ترقی اور اسے فعال بنانے سے متعلق ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے ساتھ ایک ورچوئل (آن لائن) اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں بلوچستان بھر میں ٹیکنیکل اور پیشہ ورانہ تعلیم کے معیار، افادیت اور بہتری کے لیے کلیدی ترقیاتی ترجیحات، ادارہ جاتی استحکام، فنی مہارتوں کی بہتری اور اسٹریٹجک اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ مختلف ڈویژنز میں ‘سینٹر آف ایکسیلنس’ بنانے کا منصوبہ بھی زیر غور لایا گیا۔اجلاس میں بی-ٹیوٹا کے ڈائریکٹر غلام مصطفیٰ رئیسانی ،اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز نے بھی شرکت کی اور بلوچستان میں ٹیکنیکل و پیشہ ورانہ تعلیم کے شعبے کو زیادہ مضبوط اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اپنے قیمتی آراء اور تجاویز پیش کیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7287/2026
گوادر 0ستمبر ۔فیسر تعلیم گوادر زاہد حسین نے کہا ہے کہ ضلع گوادر میں معیاری تعلیم کے فروغ، بچوں کے اسکولوں میں داخلے، اساتذہ کی پیشہ ورانہ استعداد کار میں اضافے اور تعلیمی اداروں کی موثر نگرانی کے لیے حکومتی پالیسی کے مطابق عملی اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ Continuous Professional Development (CPD) پروگرام کے تحت ضلع گوادر میں 500 سے زائد اساتذہ کی تربیت کی گئی ہے، جس کا مقصد اساتذہ کی تدریسی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانا اور طلبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ معیاری تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے ضلعی آفیسر تعلیم کے مطابق رواں سال داخلہ مہم کے تحت ضلع گوادر میں 4,978 طلبہ کو اسکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا، جبکہ اسکول سے باہر بچوں کو تعلیمی دھارے میں شامل کرنے کے لیے Accelerated Learning Program (ALP) کے تحت 17 مراکز قائم کیے گئے ہیں، جہاں 560 بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی بہتری، بجلی کی فراہمی اور سولر سسٹم کے ذریعے تعلیمی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے اور اساتذہ کی حاضری، تدریسی کارکردگی اور طلبہ کے تعلیمی نتائج کی موثر نگرانی کے لیے Real Time School Monitoring (RTSM) نظام کے ذریعے اسکولوں کی مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے، تاکہ تعلیمی معیار میں بہتری، اساتذہ کی حاضری اور حکومتی تعلیمی اقدامات کے مطلوبہ نتائج کو یقینی بنایا جا سکے ضلع گوادر میں ہر بچے تک معیاری تعلیم کی رسائی، شرحِ داخلہ میں اضافہ اور تعلیمی اداروں میں بہتر ماحول کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7288/2026
نصیرآباد3ستمبر۔نصیرآباد ڈویژن میں زیرِ تعمیر میڈیکل کالج کے منصوبے کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا،جس میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل اور انجینئر میر محمد مینگل سمیت متعلقہ نے شرکت کی۔اجلاس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر انجینئر عامر عزیز مگسی نے منصوبے کے مختلف پہلوو¿ں پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نصیرآباد میڈیکل کالج تین فیزز پر مشتمل منصوبہ ہے،جس میں اہم فیز عمارت کی تعمیر ہے،جبکہ دیگر مختلف کمپوننٹس بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبے کی تکمیل کے سلسلے میں فنڈز سمیت بعض دیگر مسائل درپیش ہیں جن کا بروقت تدارک ضروری ہے۔ اس موقع پر کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ نصیرآباد میں میڈیکل کالج کا قیام علاقے کی ترقی اور عوام کو معیاری طبی و تعلیمی سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم ہے، منصوبے کی بروقت اور معیار کے مطابق تکمیل کے لیے ڈویژنل انتظامیہ ہر ممکن اقدامات یقینی بنائے گی۔ٹیچنگ ہسپتال، لیور ٹرانسپلانٹ پروجیکٹ بھی اسی کے ساتھ جڑے پروجیکٹس ہیں جن پہ مذید جائزہ لینے کیلئے میٹنگ شیڈول کئے جائںنگے۔مذید یہ کہ نصیرآباد میڈیکل کالج کا منصوبہ معیار کے مطابق مکمل ہو، اس سلسلے میں فنڈز اور دیگر درپیش مسائل سے متعلق جو آگاہی فراہم کی گئی ہے، ان کے حل کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ موثر رابطہ اور ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ کمشنر نے کہا کہ میڈیکل کالج کا منصوبہ نہ صرف نصیرآباد بلکہ پورے نصیرآباد ڈویژن کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے، جس کی تکمیل وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7289/2026
ہرنائی 3ستمبر۔ہرنائی ایس پی پولیس ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی نے پاکستان پیپلز پارٹی ضلع ہرنائی کے ضلعی صدر یاسین خان ترین کی خصوصی دعوت پر پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی سیکرٹریٹ کا اہم دورہ کیا۔دورے کے دوران ایس پی ہرنائی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی ضلعی قیادت کے درمیان خوشگوار ماحول میں مختلف باہمی امور اور عوامی مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر نائب صدر جنت گل ترین، ملک اجمل خان ترین، پیپلز یوتھ ونگ کے ضلعی صدر قدیر ملازئی، ضلعی جنرل سیکرٹری ملک خدائیداد خان ترین، پاکستان ریلوے لیبر یونین کے ضلعی صدر حاجی محمد رمضان ترین، میڈیا کوآرڈینیٹر حفیظ ترین، محمد عباس مرغزانی اور سفر علیانی بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران ضلعی صدر یاسین خان ترین نے ایس پی پولیس انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی کے عوام دوست اندازِ فکر، شہریوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور دفتر آنے والے سائلاں کی بات تحمل سے سننے کی روایت کو انتہائی قابلِ قدر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ رات کے اوقات میں سیکیورٹی گشت کی خود نگرانی کرنا ایس پی ہرنائی کی فرض شناسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پولیس افسران کا عوام کے ساتھ مثبت رویہ اور ان کی دادرسی شہریوں اور پولیس کے درمیان اعتماد کی فضا کو مزید مضبوط بناتی ہے۔تقریب کے اختتام پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے ایس پی پولیس کی پارٹی دفتر آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور ان کی پیشہ ورانہ خدمات اور سلامتی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7290/2026
نصیرآباد3ستمبر.۔کچھی واٹر سپلائی اسکیم اور عوام کو آب نوشی کی فراہمی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنر، نصیرآباد وریندر لعل اور سب ڈویڑنل آفیسر محمد ایوب بھٹو بھی موجود تھے۔اجلاس میں ایگزیکٹو انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کچھی واٹر سپلائی اسکیم ذاکر حسین جمالی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بھاگ ناری، بختیار آباد اور تحصیل لانڈھی کے عوام کو پانی کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے، تاہم راستے میں بعض افراد پانی کے حصول کے لیے پائپ لائن کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جس کے باعث پانی کی فراہمی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد پرانے اور نئے پائپ لائن کا سروے کروا کر سفارشات دینگے۔یہ سپلائی لائن بھاگ کی عوام کو پینے کے پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے ہیں۔ بھاگ تک پانی کی ترسیل کو ممکن بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور پائپ لائن کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے، جبکہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے متعلقہ انجینئرز اسکیم کی نگرانی کو موثر بناتے ہوئے پانی کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں، تاکہ عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7291/2026
حب3ستمبر۔ -ایکسائز اینڈ نارکوٹکس ساﺅتھ زون کی گڈانی کے ساحل پر بڑی کاروائی 74ارب روپے ما لیت کی ایک ٹن 13کلو گرام آئس برآمد ، جمعرات کے روز ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ نارکوٹکس ساوتھ زون بلوچستان محمد زمان خان نے اپنے آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ایکسائز اینڈ نارکوٹکس ٹیم نے ساحلی علاقے گڈانی میں 1013 کلو گرام ( ایک ٹن اور 13کلو گرام خالص آئس ( کرسٹل میتھمفیٹا ما ئن ) برآمد کرلیا جس کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مالیت.19 74ارب روپے بنتی ہے ڈائر یکٹر جنرل ساﺅتھ زون محمد زمان خان نے کہا کہ ایکسائز اینڈ نارکوٹکس ٹیم نے اس بڑی کاروائی سے ڈرگ مافیا کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے انشاءاللہ آئندہ بھی اسی طرح وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی اور چیف سیکر یٹر ی بلو چستان شکیل قادر خان کے ویڑن کے مطابق ڈرگ فری بلوچستان اور ڈرگ فری پاکستان کے تحت منشیات کے خلاف کاروائیاں جارہی رہینگی، ڈائر یکٹر جنرل ایکسائز ساوتھ زون بلوچستان محمد زمان خان نے گزشتہ دو سالوں کی مختلف کاروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ یہ تاریخی بر آمدگی گزشتہ دو سالوں کے دوران ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ساحلی پٹی پر کی جانے والی کامیاب کارروائیوں کا تسلسل ہے میگا میرین آپریشن کے دوران 425 کلو گرام آئس ، 20 کلو گرام چرس، اور 5,076 یونٹ غیر ملکی شراب و بیئر بر آمد کی جس کی عالمی مارکیٹ میں قیمت تقریبا 31,35 ارب روپے بنتی ہے اسی طرح اینٹی نارکوٹکس نے دوران کاروائی 200 کلو گرام آئس 600 کلوگرام چرس، اور 8,000 یونٹ غیر ملکی شراب و بیئر بر آمد کی جس کی عالمی مارکیٹ میں قیمت تقریباً 28 ارب روپے ہو تی ہے جسے عالمی یوم انسداد منشیات پر تلف کیا گیا علا وہ ازیں 10,000 یونٹ غیر ملکی شراب بر آمد کی گئی جس کی مالیت ایک کروڑ 85لاکھ روپے بنتی ہے جبکہ ساحلی سمگلنگ آپریشن کے دوران 3.717 یونٹ غیر ملکی شراب و بیئر بر آمد کی جس کی مالیت 78.5 لاکھ روپے ہو تی ہے ایکسائز کی ٹار گینڈ ریڈ کے دوران 750 یونٹ غیر ملکی شراب و بیئرزپکڑی جس کی مالیت 9لاکھ 82 ہزار 800 روپے بتا ئی جا تی ہے محمد زمان خان نے بتایاکہ1,638 کلو گرام آئس کر سٹل 620 کلو گرام چرس ( حشیش)، اور 27.543 بوتلیں / کین غیر ملکی شراب و بیئر برآمد کی گئی جس کی بین الاقوامی مالیت 133,56 ارب روپے بنتی ہے ڈائریکٹر جنرل محمد زمان خان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ منشیات کی سمگلنگ کے خلاف بلا امتیاز آپریشن جاری رکھے گا، ملک کی نوجوان نسل کا تحفظ کرے گا اور پاکستان کی ساحلی سرحدوں کو محفوظ بنائے گا
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7292/2026
کوئٹہ، 3 ستمبر۔: ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP)، کوئٹہ کے زیرِ اہتمام خواتین کاروباری افراد کے لیے ڈیجیٹل لٹریسی پروگرام کا انعقاد کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں کیا گیا۔ پروگرام کا مقصد خواتین کاروباری افراد کو جدید ڈیجیٹل ذرائع سے روشناس کرانا، آن لائن کاروبار کے فروغ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرنا تھا پروگرام کے ابتدائی کلمات آصف ابڑو، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP)، کوئٹہ نے پیش کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی اہمیت اور خواتین کاروباری افراد کے لیے جدید ڈیجیٹل ذرائع سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ مزید انہوں نے بتایا کہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) پورے ملک میں کاروباری خواتین کی استعداد کار بڑھانے اور ان کے کاروبار کو برآمدات کے معیار لانے کیلئے پوری طرح سے کام کررہا پروگرام کی تربیتی نشست میڈم حریم نے منعقد کی، جس کے دوران شرکائ کو موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے موثر استعمال، آن لائن مارکیٹنگ، سوشل میڈیا کے ذریعے کاروباری تشہیر، مصنوعات کی موثر ڈیجیٹل نمائش، صارفین تک رسائی اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے کے مختلف طریقوں سے آگاہ کیا گیا ٹریننگ کے دوران شرکائ کو عملی طور پر یہ بھی بتایا گیا کہ کس طرح کم وسائل کے ساتھ ڈیجیٹل ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی مصنوعات اور خدمات کو وسیع تر صارفین تک پہنچایا جا سکتا ہے اور ملکی و بین الاقوامی منڈیوں میں کاروباری مواقع سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔پروگرام میں خواتین کاروباری افراد نے بھرپور شرکت کی اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے اپنے کاروبار کو فروغ دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا پروگرام کے اختتامی کلمات کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حاجی محمد ایوب مریانی نے پیش کیے۔ انہوں نے خواتین کاروباری افراد کی استعدادِ کار بڑھانے اور انہیں جدید کاروباری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایسے تربیتی پروگراموں کی اہمیت کو اجاگر کیا اور TDAP کی جانب سے اس اقدام کو سراہا منتظمین کے مطابق، خواتین کاروباری افراد میں ڈیجیٹل مہارتوں کا فروغ انہیں اپنے کاروبار کو
جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، نئی مقامی و بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے اور معاشی طور پر مزید بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7293/2026
کوئٹہ، 3 ستمبر: ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP)، کوئٹہ کے زیرِ اہتمام خواتین کاروباری افراد کے لیے ڈیجیٹل لٹریسی پروگرام کا انعقاد کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں کیا گیا۔ پروگرام کا مقصد خواتین کاروباری افراد کو جدید ڈیجیٹل ذرائع سے روشناس کرانا، آن لائن کاروبار کے فروغ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرنا تھا پروگرام کے ابتدائی کلمات آصف ابڑو، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP)، کوئٹہ نے پیش کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی اہمیت اور خواتین کاروباری افراد کے لیے جدید ڈیجیٹل ذرائع سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ مزید انہوں نے بتایا کہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) پورے ملک میں کاروباری خواتین کی استعداد کار بڑھانے اور ان کے کاروبار کو برآمدات کے معیار لانے کیلئے پوری طرح سے کام کررہا پروگرام کی تربیتی نشست میڈم حریم نے منعقد کی، جس کے دوران شرکائ کو موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے موثر استعمال، آن لائن مارکیٹنگ، سوشل میڈیا کے ذریعے کاروباری تشہیر، مصنوعات کی موثر ڈیجیٹل نمائش، صارفین تک رسائی اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے کے مختلف طریقوں سے آگاہ کیا گیا ٹریننگ کے دوران شرکائکو عملی طور پر یہ بھی بتایا گیا کہ کس طرح کم وسائل کے ساتھ ڈیجیٹل ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی مصنوعات اور خدمات کو وسیع تر صارفین تک پہنچایا جا سکتا ہے اور ملکی و بین الاقوامی منڈیوں میں کاروباری مواقع سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔پروگرام میں خواتین کاروباری افراد نے بھرپور شرکت کی اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے اپنے کاروبار کو فروغ دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا پروگرام کے اختتامی کلمات کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حاجی محمد ایوب مریانی نے پیش کیے۔ انہوں نے خواتین کاروباری افراد کی استعدادِ کار بڑھانے اور انہیں جدید کاروباری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایسے تربیتی پروگراموں کی اہمیت کو اجاگر کیا اور TDAP کی جانب سے اس اقدام کو سراہا منتظمین کے مطابق، خواتین کاروباری افراد میں ڈیجیٹل مہارتوں کا فروغ انہیں اپنے کاروبار کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، نئی مقامی و بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے اور معاشی طور پر مزید بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7294/2026
کوئٹہ 3 ستمبر ۔: بین الاقوامی منشیات کے سمگلروں کے خلاف پاکستان کی تاریخ کا سب سے سنسنی خیز اور کامیاب آپریشن کرتے ہوئے ایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس ڈیپارٹمنٹ بلوچستان (ساوتھ زون) کی ٹیموں نے گڈانی کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے 1,013 کلوگرام (1 ٹن اور 13 کلوگرام) خالص آئس (کرسٹل میتھمفیٹامائن) برآمد کی ہے، جس کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت 74.19 ارب روپے بنتی ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی اور چیف سیکرٹری شکیل قادر خان اور سیکریٹری ایکسائز سید ظفر علی بخاری کی خصوصی ہدایت کے ویڑن کے مطابق، ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس (ساوتھ زون) محمد زمان کی زیرِ نگرانی ایکسائز ٹیموں نے عالمی ڈرگ مافیا کو اربوں ڈالرز کا تاریخی مالی نقصان پہنچایا ہے۔گڈانی آپریشن: ہوش ربا بین الاقوامی اعداد و شماربرآمد شدہ منشیات: 1,013 کلوگرام (1 ٹن اور 13 کلوگرام) خالص آئس (کرسٹل میتھ)۔بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت پاکستانی روپے تقریباً 74.19 ارب روپے۔گزشتہ دو سالوں کی نمایاں کامیابیاںیہ تاریخی برآمدگی گزشتہ دو سالوں کے دوران ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ساحلی پٹی پر کی جانے والی کامیاب کارروائیوں کا تسلسل ہے:میگا میرین آپریشن: 425 کلوگرام آئس، 20 کلوگرام چرس، اور 5,076 یونٹ غیر ملکی شراب و بیئر (3,246 بوتلیں شراب اور 1,830 کین بیئر)، عالمی مارکیٹ قیمت تقریباً 31.35 ارب روپے۔بڑی اینٹی نارکوٹکس کارروائی: 200 کلوگرام آئس، 600 کلوگرام چرس، اور 8,000 یونٹ غیر ملکی شراب و بیئر (3,200 بوتلیں شراب اور 4,800 کین بیئر)، عالمی مارکیٹ قیمت تقریباً 28 ارب روپے (جو عالمی یومِ انسدادِ منشیات پر تلف کی گئی)۔شراب کی بڑی کھیپ کی برآمدگی: 10,000 یونٹ غیر ملکی شراب و بیئر (4,785 بوتلیں شراب اور 5,215 کین بیئر)، مالیت 1 کروڑ 85 لاکھ روپے (18.5 ملین روپے)۔ساحلی اینٹی سمگلنگ آپریشن: 3,717 یونٹ غیر ملکی شراب و بیئر (2,220 بوتلیں شراب اور 1,497 کین بیئر)، مالیت 78.5 لاکھ روپے (7.85 ملین روپے)۔ٹارگٹڈ ریڈ: 750 یونٹ غیر ملکی شراب و بیئر (174 بوتلیں شراب اور 576 کین بیئر)، مالیت 9 لاکھ 82 ہزار 800 روپے۔گزشتہ دو سالوں کا مجموعی خلاصہکل برآمد شدہ منشیات: 1,638 کلوگرام آئس (کرسٹل)، 620 کلوگرام چرس (حشیش)، اور 27,543 بوتلیں/کین غیر ملکی شراب و بیئر۔ڈرگ کارٹلز کو پہنچایا گیا کل بین الاقوامی مالی نقصان: 133.56 ارب روپے۔ڈائریکٹر جنرل محمد زمان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ منشیات کی سمگلنگ کے خلاف بلا امتیاز آپریشن جاری رکھے گا، ملک کی نوجوان نسل کا تحفظ کرے گا اور پاکستان کی ساحلی سرحدوں کو محفوظ بنائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7296/2026
لورالائی:3ستمبر ۔چیئرمین میونسپل کمیٹی محمد طاہر ناصر اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ بلوچ کی خصوصی ہدایات پر شہر میں صفائی ستھرائی اور نکاسی آب کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں سپروائزر باران زون کی نگرانی میں صدر بازار، باغی بازار اور کاکڑی مسجد روڈ سمیت مختلف اہم شاہراہوں اور تجارتی علاقوں میں نالیوں کی بھرپور صفائی کا کام جاری ہےمیونسپل کمیٹی کے صفائی عملے نے نالیوں میں جمع کچرا، مٹی اور دیگر رکاوٹوں کو نکال کر نکاسی آب کے نظام کو بحال کرنے کے لیے موثر کارروائی کی۔ صفائی کے دوران خصوصی طور پر اس امر کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ نالیوں میں پانی کی روانی بہتر ہو اور بارش یا دیگر مواقع پر گندا پانی سڑکوں اور بازاروں میں جمع ہونے سے بچایا جا سکےچیئرمین میونسپل کمیٹی محمد طاہر ناصر اور چیف آفیسر محب اللہ بلوچ نے کہا کہ شہریوں کو صاف، صحت مند اور خوشگوار ماحول کی فراہمی میونسپل کمیٹی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں مرحلہ وار صفائی مہم جاری رہے گی اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں انہوں نے شہریوں دکانداروں اور تاجروں سے اپیل کی کہ وہ صفائی ستھرائی کے عملے کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور گھریلو یا تجارتی کچرا نالیوں، سڑکوں اور عوامی مقامات پر پھینکنے سے گریز کریں۔ شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچرے کو مقررہ مقامات پر تلف کریں تاکہ نکاسی آب کا نظام متاثر نہ ہو اور شہر کی خوبصورتی برقرار رکھی جا سکے۔میونسپل کمیٹی حکام کا کہنا ہے کہ ایک صاف ستھرا شہر صرف اداروں کی نہیں بلکہ ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور عوام کے تعاون سے ہی لورالائی کو مزید صاف، خوبصورت اور صحت مند شہر بنایا جا سکتا
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7297/2026
سیوی 3 ستمبر میونسپل کمیٹی سیوی کے وارڈ نمبر 20 اور یونین کونسل نمبر 06 کے وارڈ نمبر 02 کے کامیاب امیدواروں کی حلف برداری کے سلسلے میں تقریب منعقد ہوئی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سیوی و ریٹرننگ آفیسر میر بہادر خان بنگلزئی نے حلف لیا۔ حلف برداری کی تقریب میں چیئرمین میونسپل کمیٹی سردار محمد خان خجک، نمائندہ الیکشن کمیشن سید صادق شاہ سمیت دیگر علاقائی معتبرین بھی موجود تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر آفس سیوی میں منعقدہ تقریب کے دوران وارڈ نمبر 20 میونسپل کمیٹی سیوی کے کامیاب امیدوار غلام فرید ولد فقیر محمد اور یونین کونسل نمبر 06 کے وارڈ نمبر 02 خجک کے کامیاب امیدوار بختیار خان ولد احمد خان نے حلف اٹھایا۔ تقریب کے دوران اسسٹنٹ کمشنر و ریٹرننگ آفیسر نے کامیاب بلدیاتی نمائندوں کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ وہ عوامی خدمت اور علاقے کی ترقی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7298/2026
کوئٹہ3ستمبر۔ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات حکومت بلوچستان کے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق محکمہ ہذا کے ڈائریکٹر جنرل ( ایم اینڈ ای) (BPS-20) رفیق احمد مورخہ 19 نومبر 2026 سے عمر کی بالائی حد یعنی 60 کو پہنچ کر ریٹائر ہو جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7299/2026
کوئٹہ:3ستمبر .۔بلوچستان سینٹر آف ایکسیلنس، حکومتِ بلوچستان اور BRSP کے اشتراک سے چھ اضلاع کے لیے مختص RISE پروگرام کے تحت “Youth Leadership and Social Enterprise Development Program” کے موضوع پر نسٹ بلوچستان کیمپس، کوئٹہ میں ایک اہم راو¿نڈ ٹیبل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا, اس پروگرام میں بی ار ایس پی کے سی ای او ڈاکٹر طاہر رشید, سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر روبینہ مشتاق اور ٹیکنیکل ایکسپرٹ نے شرکت کی. اس میٹنگ کا مقصد طالب علموں کی قائدانہ صلاحیتوں صلاحیتوں کو فروغ دینا، سماجی کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور انہیں مثبت، تخلیقی اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے مواقع فراہم کرنا تھا۔کانفرنس سے چیف کوآرڈینیشن آفیسر ڈاکٹر دوست محمد بڑ یچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چھ اضلاع کے طلبہ و طالبات کو ہنر اور بہتر مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کمیونٹی میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔اس موقع پر ڈپٹی کوآرڈینیشن آفیسر ڈاکٹر عصمت اللہ خان نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور طالب علموں کو انگیج کرنے پر زور دیا. تقریب سے خطاب کرتے ہوئے BRSP کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر طاہر رشید،سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ٹیکنیکل ایکسپرٹ نے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور انہیں بہتر تعلیمی و پیشہ ورانہ مواقع فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ RISE پروگرام کے تحت چھ اضلاع کے طلبہ و طالبات کو ضروری رہنمائی اور سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کمیونٹی کی ترقی میں مثبت اور موثر کردار ادا کر سکیں۔ مقررین نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ان نوجوانوں کو ملک کے دیگر صوبوں کے طلبہ کے ساتھ تعمیری روابط اور تبادلے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، جبکہ اعلیٰ تعلیم، اسکالرشپس، تربیتی پروگرامز اور دیگر تعلیمی مواقع تک ان کی رسائی کو بھی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7300/2026
استا محمد3ستمبر۔: طالبات کے لیے ایوننگ بی ایس کلاسز کے اجرائ کے حوالے سے اہم پیش رفت نئے سیشن میں داخلوں کی راہ ہموارتفصیلات کے مطابق استامحمد ڈگری کالج میں طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے بہتر اور معیاری مواقع کی فراہمی کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ گرلز ڈگری کالج استا محمد میں طالبات کے لیے ایوننگ بی ایس کلاسز کے نئے سیشن میں داخلوں اور تدریسی عمل کے باقاعدہ آغاز کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال کی زیرِ صدارت منعقد ہوا اجلاس میں ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر (ڈی ایم او) نصیرآباد حسن علی شاہ نے آن لائن شرکت کی، جبکہ پرنسپل بوائز ڈگری کالج استا محمد عبیداللہ زہری، پرنسپل گرلز ڈگری کالج استا محمد نگہت جان اور متعلقہ ٹیم کے دیگر اراکین بھی شریک ہوئے اجلاس کے دوران گرلز ڈگری کالج استا محمد میں جاری ایوننگ بی ایس پروگرام، نئے سیشن میں طالبات کے داخلوں تدریسی عملے کی دستیابی اور کلاسز کے بروقت اجراءسے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس کو بتایا گیا کہ تدریسی عملے کو ریمونریشن کی ادائیگی نہ ہونے کے باعث ایوننگ بی ایس پروگرام کے نئے سیشن میں طالبات کے داخلے روک دیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں طالبات کی اعلیٰ تعلیم کا سلسلہ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھااجلاس میں تفصیلی غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ سیکریٹری کالجز اینڈ ہائر ایجوکیشن محمد ہاشم غلزئی کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کیا جائے گا، جس میں گرلز ڈگری کالج استا محمد میں ایوننگ بی ایس کلاسز کے لیے 28 لیکچررز کو ریمونریشن کی بنیاد پر خدمات حاصل کرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی جائے گی، تاکہ نئے سیشن میں طالبات کے داخلوں کا عمل شروع کرتے ہوئے کلاسز کا باقاعدہ اور بروقت اجراء یقینی بنایا جا سکے اس سلسلے میں سیکریٹری کالجز اینڈ ہائر ایجوکیشن محمد ہاشم غلزئی سے رابطہ بھی کیا گیا، جنہوں نے طالبات کی اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے بھرپور تعاون اور ہر ممکن معاونت کی یقین دہانی کرائی سیکریٹری نے یقین دلایا کہ گرلز ڈگری کالج استا محمد میں طالبات کی تعلیمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ممکنہ وسائل اور سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ ایوننگ بی ایس کلاسز کا بروقت آغاز ممکن بنایا جا سکے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال نے کہا کہ طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبات کی تعلیم کسی صورت متاثر نہیں ہونے دی جائے گی اور ایوننگ بی ایس پروگرام کے نئے سیشن کے بروقت آغاز کے لیے متعلقہ محکموں کے ساتھ موثر رابطہ کاری اور ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گےانہوں نے مزید کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے مواقع میں اضافہ نہ صرف طالبات کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے بلکہ علاقے کی مجموعی تعلیمی اور سماجی ترقی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے ضلعی انتظامیہ اس سلسلے میں محکمہ کالجز اینڈ ہائر ایجوکیشن کے تعاون سے تمام ضروری اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7301/2026
گوادر، 3 ستمبر۔ ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان نے پشکان فش لینڈنگ جیٹی کا دورہ کیا اور جیٹی کی بحالی کے لیے جاری کاموں میں ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ حالیہ دورے کے دوران جاری کاموں میں مزید پیش رفت پر ڈائریکٹر جنرل نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو بحالی کے کام کو مقررہ اہداف کے مطابق مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔اس موقع پر چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ڈائریکٹر ٹاون پلاننگ و پروجیکٹ ڈائریکٹر فش لینڈنگ جیٹی شاہد علی، ایگزیکٹو انجینئر محمد اکبر اور معروف کنٹریکٹر حاجی شریف زیمل موجود تھے۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے جیٹی کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور گزشتہ دنوں جیٹی میں پھنس جانے والی بڑی کشتیوں کی واپسی کے لیے کلیئر کیے گئے راستے اور کیے گئے دیگر اقدامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کشتیوں کی بحفاظت واپسی ممکن بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ جیٹی میں کشتیوں کی آمدورفت کو مزید آسان بنانے کے لیے گزرگاہ کو ضرورت کے مطابق مزید کشادہ کیا جائے، تاکہ ماہی گیروں کو عملی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اس موقع پر پشکان فش لینڈنگ جیٹی کی مستقل بنیادوں پر بحالی اور مستقبل میں باقاعدہ ڈریجنگ کے منصوبے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل نے ہدایت کی کہ جیٹی کو طویل مدت تک موثر اور فعال رکھنے کے لیے ڈریجنگ کے ساتھ ساتھ اس کے ڈیزائن، انجینئرنگ، تکنیکی ضروریات، آپریشنل پہلووں اور مستقبل کی ضروریات کا جامع جائزہ لیا جائے۔انہوں نے متعلقہ شعبے کو ہدایت کی کہ جیٹی کی مستقل بحالی اور ڈریجنگ کے لیے تمام تکنیکی و مالی پہلووں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع اور ا ڈیٹڈ PC-I تیار کرکے صوبائی حکومت کو منظوری اور مطلوبہ فنڈز کے حصول کے لیے پیش کیا جائے، تاکہ منصوبے پر مستقل بنیادوں پر کام شروع کیا جاسکے اور جیٹی کو مستقبل میں مکمل طور پر فعال رکھا جا سکے۔ڈائریکٹر جنرل نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پشکان فش لینڈنگ جیٹی مقامی ماہی گیروں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اس لیے اس کی بحالی کے ساتھ ساتھ ماہی گیروں کے لیے سہولیات میں بہتری، کشتیوں کی آمدورفت میں آسانی اور جیٹی کے موثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے عملی اور دیرپا منصوبہ بندی کی جائے۔بعد ازاں ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے میرین ڈرائیو، پلیری کور کے مقام پر زیرِ تعمیر کازوے کا بھی دورہ کیا اور منصوبے پر جاری کام کا جائزہ لیا۔ انہیں بریفنگ میں بتایا گیا کہ تقریباً ایک ماہ کے عارضی تعطل کے بعد کازوے پر تعمیراتی کام آئندہ ہفتے دوبارہ شروع کر دیا جائے گا، جس کے بعد کام کو تیزی سے مکمل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ڈائریکٹر جنرل نے ہدایت کی کہ کازوے پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور تمام ضروری انتظامات بروئے کار لاتے ہوئے منصوبے کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کام کی موجودہ رفتار اور آئندہ کے شیڈول کے مطابق اگلے ماہ کازوے کو ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا، جس سے آمدورفت مزید بہتر اور شہریوں کو سہولت میسر آئے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
کوئٹہ 3ستمبر۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کو صاف، محفوظ ،منظم بنانے کے روشن وXن کے تحت اربن پلاننگ اینڈ ڈیزائن کمیٹی کی جانب سے اہم شاہراہوں پر نئی تعمیرات کے حوالے سے عائد پابندی پر عملدرآمد کے لیے شہریوں اور تمام متعلقہ حلقوں کو ایک بار پھر آگاہ کیا جاتا ہے کہ کمیٹی کے اعلامیے بمورخہ 24 دسمبر 2025 کے تحت ایئر پورٹ روڈ ، سبزل (سی پیک روڈ)، سریاب روڈ ، لنک بادینی روڈ اور لنک شاہوانی روڈ پر کسی بھی قسم کی نئی تعمیراتی سر گرمی پر پابندی عائد ہے۔لہذا میٹرو پولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی جانب سے شہریوں، تاجر برادری، کاروباری حضرات، پراپرٹی مالکان ، بلڈرز ، ڈویلپر زاور دیگر متعلقہ افراد کو یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ مذکورہ شاہراہوں پر نئی رہائشی یا کمر شل عمارات کی تعمیر ، غیر مجاز تعمیراتی توسیع یا کسی بھی نوعیت کی نئی تعمیراتی سر گرمی شروع نہ کی جائے۔مذکورہ پابندی کا مقصد شہر کی اہم شاہراہوں کے مستقبل کے شہری ڈیزائن ، روڈ کوریڈور ، ٹریفک کے بہاو، لینڈ یوز اور شہری انفراسٹرکچر کو محفوظ رکھتے ہوئے کوئٹہ کی ترقی کو ایک مربوط اور منظم شہری منصوبہ بندی کے تحت آگے بڑھانا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے بالخصوص نئی اور اہم شاہراہوں پر بے ہنگم تعمیرات کی روک تھام اور مستقبل کی شہری ضروریات کے لیے مناسب منصوبہ بندی کو یقینی بنانا مقصود ہے۔مذکورہ نوٹیفکیشن کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ قوانین، مروجہ قواعد وضوابط اور مجاز احکامات کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ غیر مجاز تعمیراتی سر گرمی کو روکنے کے ساتھ ساتھ خلاف ورزی کے مر تکب افراد کے خلاف قانون کے مطابق ضروری قانونی و انتظامی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔تمام شہریوں، تاجر برادری، کار و باری اداروں، پراپرٹی مالکان ، بلڈرز اور ڈویلپرز سے ایک بار پھر اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ایئر پورٹ روڈ ، سبزل روڈ (سی پیک روڈ)، سریاب روڈ ، لنک بادینی روڈ اور لنک شاہوانی روڈ پر کسی بھی نئی تعمیر شروع نہ کریں اور کسی بھی تعمیراتی سر گرمی سے قبل متعلقہ اتھارٹی سے ضروری رہنمائی حاصل کریں۔میٹرو پولیٹن کارپوریشن کوئٹہ اس امر پر زور دیتا کے کہ کوئٹہ کو صاف، محفوظ ، منظم اور بہترین انداز میں منظم شہر بنانے کے لیے اداروں کے ساتھ ساتھ شہریوں ، تاجر برادری اور دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز کا تعاون ناگزیر ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7302/2026
اسلام آباد، 3 ستمبر۔گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں استحکام پاکستان پارٹی کے صدر اور وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان کے درمیان “گورنر بلوچستان اور وفاقی وزیر مواصلات کی اہم نشست اور بلوچستان کے شاہراہ منصوبوں کی تکمیل ہنگامی بنیادوں پر کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس دوراں چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور وفاقی سیکرٹری مواصلات بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے کوئٹہ، ژوب اور ڈیرہ اسماعیل خان قومی شاہراہ کے ڈوئل کیریج وے منصوبے کو انتہائی تیز رفتار بنیادوں پر مکمل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ گورنر بلوچستان نے اس پیش رفت کو صوبے کی ترقی اور قومی معیشت کیلئے ایک اہم اور لائقِ تحسین اقدام قرار دیا۔ گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ اس اہم شاہراہ کی تکمیل سے بلوچستان کے عوام کو ملک کے دیگر صوبوں کی بڑی تجارتی منڈیوں تک تیز، محفوظ اور آسان رسائی حاصل ہوگی جبکہ مسافروں کو جدید سفری سہولیات میسر آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہوں کا جدید نیٹ ورک صرف فاصلے کم نہیں کرتا بلکہ تجارت، روزگار اور سرمایہ کاری کے نئے راستے بھی کھولتا ہے۔ گورنر بلوچستان نے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی جانب سے ژوب بائی پاس کی جلد تکمیل کیلئے فوری طور پر فنڈز کا بندوبست کرنے پر ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور اس اقدام کو بلوچستان بھر کے عوام کیلئے خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ،ژوب اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈوئل کیریج وے کی ہنگامی بنیادوں پر تکمیل کا عوام دوست فیصلہ اور ژوب بائی پاس کیلئے فوری فنڈز کا بندوست اس امر کا مظہر ہے کہ وفاقی سطح پر بلوچستان کی بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ گورنر مندوخیل نے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور ان کی پوری ٹیم کی ذاتی دلچسپی اور عملی اقدامات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مضبوط مواصلاتی رابطے ہی بلوچستان کو قومی معیشت، خطے کی تجارت اور سینٹرل و جنوبی ایشیا کی بڑی منڈیوں سے موثر طور پر جوڑنے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے امید ظاہر کی کہ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل سے بلوچستان میں معاشی سرگرمیوں کو نئی رفتار ملے گی، تجارت کے حجم میں اضافہ ہوگا اور صوبے کے عوام کیلئے ترقی اور خوشحالی کے نئے امکانات پیدا ہونگے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7303/2026
کوئٹہ، 3 ستمبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش ناکام بنانے اور 15 خوارج کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں اور پیشہ ورانہ صلاحیت پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ 36 گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے جس صبر، پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ تحسین ہے۔ دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش بروقت ناکام بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیے پوری طرح چوکس اور پرعزم ہیں انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر پاکستان کے امن، استحکام اور ترقی کو نقصان پہنچانے کے مذموم عزائم رکھتے ہیں، تاہم ریاستی ادارے اور پاکستانی قوم ان کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے متحد ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے یا صوبے کی جنگ نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود کی برآمدگی ان کے مذموم عزائم اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے منصوبوں کو مزید بے نقاب کرتی ہے۔ غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مو¿ثر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں، ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں نے اپنے خون سے امن کی بنیاد مضبوط کی ہے۔ قوم اپنے شہداءکی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی انہوں نے کہا کہ عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور معاونت کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہی ملک میں پائیدار امن کی ضمانت ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر کسی بھی دہشت گرد گروہ کو امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ملکی خودمختاری، قومی سلامتی اور سرحدوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا میر سرفراز بگٹی نے سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اپنی بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام تک قومی عزم اور جدوجہد جاری رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7304/2026
کوئٹہ 3 ستمبر ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی رہنما اور حلقہ PB-05 لورالائی کے ٹکٹ ہولڈر، چیئرمین شمس حمزہ زئی نے صوبائی وزیر آبپاشی میر صادق عمرانی سے ان کے دفتر میں اہم ملاقات کی۔ملاقات کے دوران چیئرمین شمس حمزہ زئی نے مڑہ تنگی ڈیم کے تعمیراتی کام کی سست روی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی وزیر سے مطالبہ کیا کہ منصوبے کو فاسٹ ٹریک بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ علاقے کے عوام کو اس اہم منصوبے کے ثمرات جلد از جلد حاصل ہو سکیں۔صوبائی وزیر آبپاشی میر صادق عمرانی نے معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اسی وقت مطلوبہ فنڈز جاری کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے محکمے کے متعلقہ کو ہدایت کی کہ منصوبے کے تعمیراتی کام کی مکمل نگرانی کی جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ جاری شدہ فنڈز کے مو¿ثر اور بروقت استعمال کو یقینی بنایا جائے تاکہ کام کی رفتار میں مزید تیزی لائی جا سکے، انہوں نے کہا کہ فنڈز کے استعمال کے بعد اگلی ریلیز بھی بروقت جاری کی جائے۔ملاقات میں شیر جان کڈنی ڈیم کی مرمت کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت ہوئی، جس کے لیے PC-I محکمہ میں جمع کروا دیا گیا ہے۔ چیئرمین شمس حمزہ زئی نے اس پیش رفت پر صوبائی وزیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دونوں منصوبوں پر عملی کام تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔چیئرمین شمس حمزہ زئی نے کہا کہ مڑہ تنگی ڈیم اور شیر جان کڈنی ڈیم علاقے کی ترقی، زرعی ضروریات اور عوامی مفاد کے اہم منصوبے ہیں اور ان کی بروقت تکمیل و مرمت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا.۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7305/2026
گوادر۔ 3 ستمبر ۔ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان نے ینگ جان والی بال اینڈ فٹسال گراونڈ کا دورہ کیا اور جی ڈی اے کی جانب سے حال ہی میں مکمل کیے گئے گراونڈ کی تعمیر و توسیع اور تزئین و آرائش کے کام کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر پروجیکٹ ڈائریکٹر اولڈ ٹاون بحالی منصوبہ میر دودا خان مری، سیاسی و سماجی شخصیت اور ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر میر ارشد کلمتی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔دورے کے دوران ینگ جان والی بال اینڈ فٹسال گراونڈ میں آئندہ دو روز کے دوران منعقد ہونے والے میر کلمتی انٹر ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ اسپورٹس فیسٹیول 2026 کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے گراونڈ کے مختلف حصوں کا معائنہ کرتے ہوئے انتظامات اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا۔اس موقع پر بتایا گیا کہ جی ڈی اے کی جانب سے مکمل کیا جانے والا یہ اسپورٹس گراونڈ فٹبال اور والی بال کے کھلاڑیوں کو بہتر اور معیاری کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ گراونڈ میں کشادہ پلے ایریاز، کھلاڑیوں اور شائقین کے لیے مناسب نشستوں کے انتظامات، پویلین، لائٹنگ اور دیگر بنیادی و ضروری سہولیات شامل ہیں، جس سے مقامی نوجوانوں کو کھیلوں کے لیے ایک بہتر اور سازگار ماحول میسر آئے گا۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے اس موقع پر کہا کہ جی ڈی اے اس سے قبل بھی سینیٹر محمد اسحاق کرکٹ اسٹیڈیم، بابا بزنجو فٹبال اسٹیڈیم اور سورگ دل فٹبال گراونڈ کے تعمیر توسیع، تزین و ارائش کا ایک جامع منصوبہ مکمل کر چکی ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو مثبت اور صحت مند سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ کھیلوں کے میدان نہ صرف نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا ذریعہ ہیں بلکہ انہیں صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے اور معاشرے میں مثبت رویوں کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے متعلقہ شعبہ کو ہدایت کی کہ اسپورٹس فیسٹیول کے انعقاد کے لیے مکمل تعاون کرکے تمام انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں اور گراونڈ کو کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے بہترین حالت میں برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے گوادر میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کے لیے مزید بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے مستقبل میں بھی اقدامات جاری رکھے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7306/2026
اورماڑہ3ستمبر ۔ اسسٹنٹ کمشنر اورماڑہ ڈاکٹر ماہ نور برکت سے معروف بلوچی شاعر سلیم بزگ نے ملاقات کی اور اپنا شعری مجموعہ ”چَول چستیں چاڑ“ تحفے کے طور پر پیش کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر اور ایڈیشنل ہیلتھ آفیسر اور انچارج ار ایچ سی اورماڑہ ڈاکٹر علی اکبر لعل بھی موجود تھے ملاقات میں بلوچی زبان و ادب کے فروغ، علاقائی ثقافت کے تحفظ اور نئی نسل کو ادبی و ثقافتی ورثے سے روشناس کرانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر ماہ نور برکت نے شاعر کی ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ علاقائی زبانیں اور ادب ہماری ثقافتی شناخت کا اہم سرمایہ ہیں، جن کے فروغ اور تحفظ کے لیے اجتماعی کاوشیں ضروری ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7307/2026
تربت 3ستمبر۔: مکران میں پوسٹ گریجویٹ طبی تعلیم کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے۔ ٹیچنگ ہسپتال تربت میں کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) کا امتحانی مرکز قائم اور فعال کر دیا گیا ہے۔کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) کی ایک ٹیم نے ٹیچنگ ہسپتال تربت کے اکیڈمک بلاک کا دورہ کیا، جہاں امتحانی سہولیات کا معائنہ کیا گیا اور سی پی ایس پی امتحانی مرکز کے لیے تکنیکی انتظامات مکمل کیے گئے۔دورے کے دوران شہزاد عابد، ڈائریکٹر آئی ٹی، سی پی ایس پی نے تربت مرکز میں مطلوبہ آئی ٹی پر مبنی امتحانی نظام نصب کیا اور سی پی ایس پی کے معیار کے مطابق امتحانات کے انعقاد کے انتظامات کا جائزہ لیا۔سی پی ایس پی ٹیم کے ہمراہ ڈاکٹر افضل خالق، پرنسپل، مکران میڈیکل کالج تربت، ڈاکٹر وحید بلیدی، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، ٹیچنگ ہسپتال تربت اور دیگر فیکلٹی ممبران بھی موجود تھے۔اس موقع پر جناب شہزاد عابد، ڈائریکٹر آئی ٹی، سی پی ایس پی نے بتایا کہ مکران مرکز میں سی پی ایس پی کے امتحانات 6 اکتوبر 2026 سے شروع ہوں گے۔ انہوں نے مکران میڈیکل کالج اور ٹیچنگ ہسپتال تربت کی انتظامیہ کی جانب سے امتحانی مرکز کے قیام میں تعاون اور ضروری انتظامات مکمل کرنے کی کوششوں کو سراہا۔تربت میں سی پی ایس پی امتحانی مرکز کا قیام مکران ڈویڑن کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس سے پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز کو اپنے تربیتی مرکز کے قریب سی پی ایس پی امتحانات میں شرکت کی سہولت میسر آئے گی اور انہیں دیگر شہروں کا سفر کرنے کی ضرورت کم ہو جائے گی۔مکران میڈیکل کالج تربت اور ٹیچنگ ہسپتال تربت کی انتظامیہ نے خطے میں پوسٹ گریجویٹ طبی تعلیم اور امتحانی سہولیات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7308/2026
کوئٹہ، 3 ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت انسداد پولیو مہم کے حوالے سے وفاق المدارس کے نمائندوں اور دیگر علمائ کرام کے ساتھ اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں صوبائی کوآرڈینیٹر انعام الحق، وفاق المدارس کے نمائندوں، پولیو پروگرام کے افسران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں جاری پولیو مہم کے دوران مدارس میں 100 فیصد پولیو کوریج یقینی بنانے، بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے، جبکہ مہم کے دوران پیش آنے والی رکاوٹوں اور انکاری کیسز (Refusals) کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے علمائ کرام اور وفاق المدارس کے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ پولیو مہم کی کامیابی کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور مدارس میں موجود تمام بچوں کی 100 فیصد کوریج یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7309/2026
تربت3ستمبر۔. ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیرِ صدارت ستمبر 2026 کی ایس این آئی ڈی پولیو مہم کے انتظامات، تیاریوں اور موثر عملدرآمد کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع کیچ میں پولیو سے بچاو کی مہم کو کامیاب بنانے کے لیے مختلف محکموں کے باہمی تعاون اور مربوط حکمتِ عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈیلبو ایچ او ڈاکٹر ارسلان درازئی نے اجلاس کو آنے والے پولیو مہم کے حوالے سے بریفنگ دی.اجلاس میں ڈی ایچ او کیچ ڈاکٹر عبدالروف بلوچ، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر ارسلان درازئی, ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال تربت ڈاکٹر وحید بلیدئی، ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرتضیٰ بلوچ، چیف آفیسر تربت شعیب ناصر، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر تربت امتیاز سخی، انجمن تاجران کے حاجی کریم بخش، ڈی ایس پی دانش بلوچ سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے، ٹیموں کی موثر نگرانی، سکیورٹی انتظامات، مائیکرو پلان پر عملدرآمد اور رہ جانے والے بچوں تک رسائی سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور فیلڈ ٹیموں کی موثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ قومی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ اداروں، والدین، علماءکرام، تاجر برادری اور سول سوسائٹی کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے ہدایت کی کہ مہم کے دوران کسی بھی علاقے میں کوئی بچہ پولیو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے اور ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کے ساتھ ساتھ والدین میں پولیو سے بچاو کے حوالے سے شعور بھی اجاگر کریں۔اجلاس میں شریک افسران نے پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ، پولیس، ڈبلیو ایچ او، پی پی ایچ آئی، میونسپل انتظامیہ، سوشل ویلفیئر، تاجر برادری اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع کیچ میں پولیو کے مکمل خاتمے اور ہر بچے کو محفوظ بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 2026/7310
کوئٹہ 3ستمبر: ـچیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت آج بی ٹیوٹا (B-TEVTA) کے امور سے متعلقہ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں ٹیکنیکل و ووکیشنل تعلیم کی بہتری اور نوجوانوں کو روزگار سے جوڑنے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں منیجنگ ڈائریکٹر بی ٹیوٹا نے صوبائی سطح پر جاری اور آئندہ منصوبوں کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بی- ٹیوٹا (BTEVTA) بلوچستان میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تیزی سے گامزن ہے۔ اس وژن کے تحت نوجوانوں کی تربیت کا آغاز کیا جا رہا ہےـ تربیتی نصاب کو ملکی اور بین الاقوامی مزدوری مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے تاکہ تربیت یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے بہترین اور پائیدار مواقع فراہم ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ، اداروں کی ڈیجیٹلائزیشن (ڈیجیٹل بی ٹییوٹا)، اور داخلہ کے نظام کو مرکزی اور شفاف بنانے کے لیے 90 روزہ ترجیحی پلان پر مؤثر عمل درآمد جاری ہے، جو صوبے کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور روشن مستقبل کی جانب ایک سنگِ میل ثابت ہو ۔ چیف سیکرٹری شکیل قادر خان نے ہدایت کی کہ بی ٹیوٹا کے تحت کام کرنے والے مختلف ٹیکنیکل اداروں کو مرکزی نگرانی اور معیار کے تحت منظم کیا جائے تاکہ وسائل کا اشتراک، سیکھنے کے معیار اور نتائج میں بہتری آئے۔ انہوں نے نجی شعبے کے ساتھ شراکتِ عمل بڑھانے، انٹرنشپ اور جاب میلہ جات کے ذریعے تربیت یافتگان کو روزگار سے جوڑنے، اور مائیکروفنانسنگ یا چھوٹے کاروباری قرضوں کے راستے آسان کرنے کے بھی احکامات جاری کیے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے ایسے ہنر جن کی طلب مقامی صنعتوں، تعمیرات، زرعی مشینری اور آئی ٹی سیکٹر میں زیادہ ہے، پر خصوصی فوکس رکھا جائے گا۔ بی ٹیوٹا کے ماتحت اداروں میں اصلاحات، نصاب کی جدید کاری، معیاری اسناد کا نفاذ اور تربیت کے اثرات جانچنے کے لیے مانیٹرنگ و ایوالیوشن میکانزم کو مؤثر بنانے کے فیصلے بھی اجلاس میں کیے گئے۔ چیف سیکرٹری نے زور دیا کہ اس پروگرام کا نفاذ شفاف، بروقت اور نتائج پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ نوجوان جلد از جلد مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق ہنر مند بن کر روزگار حاصل کر سکیں۔ اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (B-TEVTA) ادارے کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کی جانب اہم پیش رفت کر رہی ہے، جس کے تحت ایک مربوط اور جامع ڈیجیٹل نظام تشکیل دیا جائے گا۔ اس نظام کے ذریعے HRMS کے تحت تمام منسلک محکموں کے ملازمین اور اسٹیبلشمنٹ کا مصدقہ ریکارڈ ایک ہی پلیٹ فارم پر دستیاب ہوگا، جبکہ MIS کے ذریعے اداروں، ٹرینیز، ٹریڈز، داخلوں اور کارکردگی سے متعلق تمام معلومات یکجا کی جائیں گی۔ بائیومیٹرک حاضری کے نظام کو ایچ آر اور تنخواہوں کے کنٹرول سے منسلک کر کے شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ ہنر کے ڈیٹا بینک اور جاب پورٹلز کے ذریعے تربیت یافتہ افراد کو لیبر مارکیٹ کے مواقع سے جوڑا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/7311
کوئٹہ 3ستمبر: ـچیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے اسٹریٹیجک منصوبے محض ترقیاتی سرگرمیاں نہیں بلکہ عوام کو بنیادی سہولیات، بہتر تعلیم، صاف پانی، روزگار، سفری سہولت، جدید ٹیکنالوجی اور معاشی مواقع فراہم کرنے کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کا براہِ راست تعلق عوام کی روزمرہ زندگی سے ہے، اس لیے منصوبوں کی بروقت تکمیل، معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسٹریٹیجک پروجیکٹس میں پیشرفت کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں اور افسران کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی پیشرفت کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے، درپیش رکاوٹوں کو فوری دور کیا جائے اور عوامی مفاد کے منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔ چیف سیکرٹری نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان میں متوازن اور پائیدار ترقی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے تاکہ شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں اور صوبے کے عوام کا معیارِ زندگی بلند ہو۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد، پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اسکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر، صاف پینے کے پانی کی فراہمی، پیپلز ٹرین کے آغاز، آر او اور الٹرا فلٹریشن پلانٹس، کمانڈ ایریا ڈویلپمنٹ، منی سولر ہومز سلوشن، ماشکیل ڈیم، شرمپ ہیچری سمیت دیگر اہم منصوبوں پر غور کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اسکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر کے منصوبے میں ان تعلیمی اداروں کو ترجیح دی جائے گی جہاں طلبہ کا داخلہ زیادہ ہے اور موجودہ سہولیات طلبہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ اسکولوں اور آئی ٹی سینٹرز کو فائبر آپٹک سے منسلک کرنے کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس منصوبے کے تحت مختلف مقامات پر تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس سے طلبہ، اساتذہ اور عوام کو ڈیجیٹل تعلیم، آن لائن خدمات اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔ اس وقت 94 سائٹس پر کام جاری ہے جبکہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر 725 مقامات کو فائبر آپٹک نیٹ ورک سے منسلک کیا جائے گا۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ صاف پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اس لیے حکومت ایسے منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ عوام کو آلودہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے محفوظ بنایا جا سکے اور ان کے معیارِ زندگی میں بہتری لائی جا سکے۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پیپلز ٹرین کا منصوبہ عوام کو محفوظ، باکفایت اور بہتر سفری سہولت فراہم کرے گا۔ کمانڈ ایریا ڈویلپمنٹ اور منی سولر ہومز سلوشن کے منصوبوں کو بھی عوامی فلاح اور پائیدار ترقی کے لیے اہم قرار دیا گیا۔ ان منصوبوں کے ذریعے زرعی اراضی کو قابلِ کاشت بنانے، دور دراز علاقوں میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور لوگوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ ماشکیل ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ ایک اہم اور بڑے حجم کا منصوبہ ہے، جس کی تکمیل سے ماشکیل اور ملحقہ اضلاع میں پانی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ ڈیم کی تعمیر سے آبپاشی، زراعت، پینے کے پانی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، جبکہ اردگرد کے علاقوں میں ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7312
کوئٹہ 3 ستمبر۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی ہدایات پر ڈرگ کنٹرول ایڈمنسٹریشن کی ٹیم نے کوئٹہ، کچلاک اور نواں کلی میں کارروائی کرتے ہوئے45 فارمیسیز اور میڈیکل اسٹورز کا معائنہ کیا۔کارروائی کے دوران 8 مقامات سے210 کلو گرام غیر معیاری، غیر رجسٹرڈ، غیر لیبل شدہ اور غیر منظور شدہ برآمد کرکے سرکاری تحویل میں لے لیا گیا، جبکہ متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی۔دکانداروں کو خبردار کیا گیا کہ غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری بچوں کی غذائی مصنوعات کی خرید و فروخت یا ذخیرہ کرنے کی صورت میں ڈرگ سیل لائسنس کی منسوخی سمیت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔عوام بالخصوص والدین سے اپیل ہے کہ بچوں کے لیے صرف رجسٹرڈ، معیاری اور مستند دودھ استعمال کریں۔ اس کے علاؤہ سینئر ڈرگ انسپکٹر خرم شہزاد نے سیٹلائٹ ٹاؤن، کوئٹہ میں مختلف میڈیکل اسٹورز کا معائنہ کیا۔دورانِ معائنہ کوئی بھی غیر قانونی، غیر رجسٹرڈ، غیر معیاری، جعلی یا مشکوک ادویات/مصنوعات (بشمول دودھ) برآمد نہیں ہوئیں۔میڈیکل اسٹورز کے مالکان/پروپرائٹرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ صرف رجسٹرڈ اور قانونی طور پر مجاز ادویات اور علاجی اشیاء (Therapeutic Goods) ہی خریدی، ذخیرہ اور فروخت کی جائیں، اور اس سلسلے میں ڈرگ ایکٹ 1976، ڈریپ ایکٹ 2012 اور متعلقہ قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کی جائے۔انہیں مزید متنبہ کیا گیا کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/7313
سوراب3 ستمبر: ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سلیم احمد مستوئی کی ہدایات پر ڈرگ انسپکٹر ڈاکٹر محمد انور محمد حسنی، تحصیلدار محمود کرد، ڈپٹی آفیسر پولیس انسپکٹر عبدالخالق اور دیگر نے سوراب بازار کے مختلف مقامات پر قائم میڈیکل اسٹورز کا معائنہ کیا۔
معائنے کے دوران مختلف میڈیکل اسٹورز میں موجود ادویات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ ادویات کی میعاد، معیار، مناسب اسٹوریج، صفائی ستھرائی، لائسنس اور متعلقہ ریکارڈ سمیت دیگر قانونی و انتظامی امور کا بھی معائنہ کیا گیا۔
اس موقع پر حکام نے میڈیکل اسٹورز کے مالکان اور ذمہ داران کو ہدایت کی کہ ادویات کی خرید و فروخت کے حوالے سے تمام متعلقہ قوانین اور ضوابط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ زائد المیعاد، غیر معیاری، غیر رجسٹرڈ یا مشکوک ادویات کی خرید و فروخت سے مکمل اجتناب کیا جائے اور عوام کو صرف مستند، معیاری اور محفوظ ادویات فراہم کی جائیں۔
حکام نے واضح کیا کہ شہریوں کو معیاری اور محفوظ ادویات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ڈرگ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے میڈیکل اسٹورز کے خلاف مروجہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے میڈیکل اسٹورز کی نگرانی، ادویات کے معیار کی جانچ اور ڈرگ قوانین پر عملدرآمد کا سلسلہ آئندہ بھی باقاعدگی سے جاری رکھا جائے گا۔ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے حکام نے میڈیکل اسٹورز کے مالکان پر زور دیا کہ وہ عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے تمام قانونی تقاضے پورے کریں اور ادویات کی خرید و فروخت میں مقررہ ضوابط پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/7314
کوئٹہ 3 ستمبر:ـٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP)، کوئٹہ نے سرکل ویمن ایسوسی ایشن اور کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (QCCI) کے اشتراک سے کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خواتین کاروباریوں کے لیے ڈیجیٹل لٹریسی پروگرام کا انعقاد کیا، جس میں خواتین کو ڈیجیٹل لٹریسی کے ذریعے مہارت حاصل کرنے کے لیے ای سی آئی کیو پریکٹیکل پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اپنے کاروبار کو فروغ اور وسعت دیں۔
اس اقدام کا مقصد کاروبار کے فروغ، آن لائن مارکیٹنگ، مصنوعات کی نمائش، صارفین تک رسائی، اور وسیع تر ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے لیے موبائل فونز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے موثر استعمال پر توجہ مرکوز کرنا تھا۔خطبہ استقبالیہ آصف ابڑو، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ٹی ڈی اے پی، کوئٹہ نے پیش کیا۔ انہوں نے کاروباری ترقی میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی اور خواتین کاروباریوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی مارکیٹ تک رسائی اور مسابقت کو بڑھانے کے لیے ڈیجیٹل ٹولز کو اپنائیں۔
تربیتی سیشن کا انعقاد محترمہ حریم نے کیا، جنہوں نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ڈیجیٹل بزنس ٹولز، آن لائن مارکیٹنگ کی حکمت عملی، سوشل میڈیا پروموشن، موثر مصنوعات کی پیشکش، اور صارفین کی مصروفیت کے بارے میں عملی رہنمائی فراہم کی۔ شرکاء کو کم سے کم وسائل کے ساتھ مصنوعات اور خدمات کو فروغ دینے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کے بارے میں بھی بتایا گیا۔خواتین کاروباریوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنے کاروبار کو مضبوط اور وسعت دینے کے لیے ڈیجیٹل ٹولز کو اپنانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
اختتامی کلمات کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حاجی محمد ایوب مریانی نے کہے۔ انہوں نے TDAP کے اقدام کو سراہا اور کاروباری رجحانات اور ابھرتے ہوئے مارکیٹ کے مواقع کو مؤثر طریقے سے جواب دینے میں ان کی مدد کرنے کے لیے خواتین کاروباریوں کے لیے صلاحیت سازی کی اہمیت پر زور دیا۔
منتظمین نے نوٹ کیا کہ ڈیجیٹل خواندگی کو مضبوط بنانے سے کاروباری ترقی، وسیع مارکیٹ تک رسائی، برآمدی صلاحیت میں اضافہ اور بلوچستان میں خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔
یہ اقدام TDAP کوئٹہ کی انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے، کاروبار کو آسان بنانے اور تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں میں خواتین کی شرکت بڑھانے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7315
کوئٹہ3 ستمبر :ـوزیراعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ہدایت پر بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کے ہمراہ غیر رجسٹرڈ، غیر لیبل شدہ اور ناقابلِ سراغ ملک پاؤڈر و انفینٹ فارمولا کے خلاف خصوصی کریک ڈاؤن جاری ہے۔ کوئٹہ، خضدار، حب، صحبت پور اور لورالائی سمیت مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران 22 فوڈ مراکز کو جرمانے، 29 کو اصلاحی نوٹسز جاری جبکہ 2 یونٹس سیل کیے گئے۔کوئٹہ میں جاری خصوصی مہم کے دوران 54 فوڈ یونٹس کی چیکنگ کی گئی۔ جوائنٹ روڈ پر مراکز کی انسپیکشن کے دوران 4 یونٹس کو جرمانہ اور ایک پراسیسنگ یونٹ سیل جبکہ غیر لیبل شدہ انفینٹ فارمولا اور ملک پاؤڈر ضبط کیا گیا۔ ناقص صفائی، کھلے کچرے دان، مکھیوں کی موجودگی، غیر محفوظ اسٹوریج اور فوڈ سیفٹی اصولوں کی خلاف ورزیوں پر بھی متعدد کارروائیاں کی گئیں۔مسجد روڈ اور فاطمہ جناح روڈ پر معائنے کے دوران غیر رجسٹرڈ انفینٹ فارمولا کے 180 کارٹن ضبط کیے گئے جبکہ ایک ڈسٹری بیوشن سینٹر کا مخصوص حصہ سیل کیا گیا۔ متعلقہ مصنوعات کی رجسٹریشن، لیب رپورٹس اور لائسنس کی دستاویزات پیش نہ کیے جانے پر اسٹاک بلوچستان فوڈ اتھارٹی حکام نے تحویل میں لے لیا۔اسی طرح نواں کلی اور عبدالخالق روڈ پر بھی کارروائی کرتے ہوئے 25 کلوگرام غیر مصدقہ ملک پاؤڈر ضبط جبکہ ایک جنرل اسٹور کو ممنوعہ اشیاء اور لیبلنگ کی خلاف ورزی پر جرمانہ کیا گیا۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق خصوصی مہم کے ساتھ دودھ ٹیسٹنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے اور ملک سیفٹی ٹیموں کی جانب سے مختلف علاقوں میں دودھ کے معیار و ملاوٹ کی روک تھام کیلئے دودھ کے نمونوں کی جانچ کی جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں جنرل اسٹورز، بیکنگ یونٹس، ریسٹورنٹس، جوس شاپس اور دیگر فوڈ بزنسز کی بھی مسلسل نگرانی کیلئے انسپیکشن ٹیمیں متحرک ہیں۔ترجمان نے واضح کیا کہ بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے غیر رجسٹرڈ اور غیر محفوظ انفینٹ فارمولا دودھ و ملک پاؤڈر کے خلاف خصوصی مہم جاری رہے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/7316
کوئٹہ 03اگست۔وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز احمد بگٹی کے کوئٹہ کو منظم، خوبصورت اور ماڈل شہر بنانے کے وژن کے تحت شہر کے مرکزی تجارتی علاقوں میں تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ کی ہدایات پر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے اینٹی انکروچمنٹ اور زرغون زون مانیٹرنگ سیل عملے نے پرنس روڈ، لیاقت بازار، فاطمہ جناح روڈ اور گردونواح کے مرکزی بازاروں میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کی۔کارروائی اینٹی انکروچمنٹ زون انچارج علی رضا درانی او زرغون زون کے سپروائزر نہال دین بگٹی کی نگرانی میں عمل میں لائی گئی، جس کے دوران سڑکوں، فٹ پاتھوں اور عوامی گزرگاہوں پر قائم تجاوزات کو ہٹا کر راستے کلیئر کیے گئے۔میٹروپولیٹن کارپوریشن شہر کے مرکزی بازاروں میں غیر قانونی طور پر سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر سامان رکھنے اور گزرگاہوں کو محدود کرنے سے نہ صرف شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوتا ہے۔ کارروائی کا مقصد عوامی گزرگاہوں کو کشادہ رکھنے اور شہریوں کو بہتر ماحول فراہم کرنا ہےایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ نے متعلقہ افسران و عملے کو ہدایت کی ہے کہ اہم شاہراہوں اور تجارتی مراکز میں تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کو مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ مستقل نگرانی کا نظام بھی یقینی بنایا جائے، تاکہ کلیئر کیے گئے مقامات پر دوبارہ تجاوزات قائم نہ ہوں۔میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ نے تاجروں اور دکانداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ سڑکوں، فٹ پاتھوں اور دیگر عوامی مقامات پر اپنا سامان رکھ کر گزرگاہیں محدود کرنے سے گریز کریں اور شہر کو منظم رکھنے کے لیے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔
خبر نامہ نمبر7317/2026
گوادر3ستمبر: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن ”صحت کی بنیادی سہولیات عوام کی دہلیز پر“ کے تحت ضلع گوادر میں صحت عامہ کی سہولیات کی فراہمی اور سروس ڈیلیوری کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر نے اورماڑہ کا دورہ کیا۔اس موقع پر انہوں نے رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) اورماڑہ اور بنیادی مرکز صحت (BHU) بسول کا تفصیلی معائنہ کیا، ادویات مہیا کیا، اور طبی سہولیات، عملے کی حاضری، مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات اور دیگر بنیادی انتظامات کا جائزہ لیا۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے ایم سی ایچ سنٹراورماڑہ کا بھی دورہ کیا اور وہاں جاری طبی و انتظامی امور کا معائنہ کیا۔ انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ عوام کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور مراکز صحت میں سروس ڈیلیوری کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے۔ڈاکٹر یاسر طاہر نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی پالیسی کے مطابق دور دراز علاقوں کے عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی محکمہ صحت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
خبر نامہ نمبر7318/2026
چمن 3ستمبر:۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر چمن عبدالقدوس کے ہمراہ ضلع چمن کے مختلف سرکاری اسکولوں کا اچانک دورہ کیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول مردہ کاریز چمن، گورنمنٹ مڈل اسکول انزرگئی کاریز چمن، گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول ناصر شہید چمن اور گورنمنٹ مڈل اسکول مولوی عبداللہ ٹاؤن چمن کا معائنہ کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے اسکولوں میں اساتذہ اور طلبہ کی حاضری، تدریسی سرگرمیوں، کلاس رومز، صفائی ستھرائی اور دستیاب بنیادی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے مختلف کلاسز کا دورہ کرتے ہوئے طلبہ سے تعلیمی سرگرمیوں اور تدریسی عمل سے متعلق بھی معلومات حاصل کیں۔ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ طلبہ کی باقاعدہ حاضری، معیاری تعلیم اور بہتر تعلیمی ماحول کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں تعلیمی معیار کی بہتری اور طلبہ کو بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
خبر نامہ نمبر7319/2026
ضلع چمن 3ستمبر:۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت آج ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے تمام متعلقہ محکموں کے سربراہان نے شرکت کی اجلاس کا مقصد جاری اور مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینا اور آئندہ کے لائحہ عمل کو مؤثر بنانا تھا اجلاس میں خصوصاً بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو BSDI فیز 3 کے تحت جاری اور مکمل ہونے والے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ متعلقہ افسران نے اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی، درپیش مسائل، اور منصوبوں کی پیش رفت سے آگاہ کیا اجلاس کے دوران اس امر پر زور دیا گیا کہ ترقیاتی منصوبے نہ صرف بروقت مکمل ہوں بلکہ ان کے معیار پر بھی کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اجتماعی نوعیت کے منصوبوں کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد مستفید ہو سکیں انہوں نے ہدایت کی کہ تمام محکمے باہمی رابطہ اور تعاون کو فروغ دیں اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں درپیش رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کریں انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے منصوبوں کو مقررہ مدت میں شفافیت اور معیار کے مطابق مکمل کریں اس کے ساتھ ساتھ آئندہ اجلاس میں ایسے منصوبوں کی نشاندہی بھی کریں جن کی تکمیل سے عوام کو فوری اور زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے اجلاس کے اختتام پر مختلف منصوبوں کی رفتار تیز کرنے، نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے، اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
خبر نامہ نمبر7320/2026
ضلع چمن3ستمبر:۔ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب حمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت آج ڈپٹی کمشنر آفس چمن میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ضلعی انتظامیہ، سکیورٹی اداروں اور مختلف متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع چمن کی مجموعی انتظامی صورتحال، امن و امان، سکیورٹی انتظامات، بین المحکمہ رابطہ کاری اور عوامی مفاد سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ افسران نے اپنے اپنے محکموں کی جانب سے جاری اقدامات اور پیش رفت سے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا۔اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کی ہدایات کی روشنی میں ضلع چمن میں صجاری صفائی اور شجرکاری مہم پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اجلاس میں میونسپل کارپوریشن، محکمہ لوکل گورنمنٹ اور محکمہ جنگلات کے افسران نے صفائی و شجرکاری مہم کے حوالے سے جاری سرگرمیوں اور پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ صفائی مہم کو مزید مؤثر اور منظم بنایا جائے اور شہر کے اہم مقامات، شاہراہوں، بازاروں، داخلی و خارجی راستوں اور عوامی مقامات پر صفائی کے انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے شجرکاری مہم کو بھی مؤثر انداز میں آگے بڑھانے اور لگائے گئے پودوں کی حفاظت و نگہداشت پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی، تاکہ چمن کو صاف، سرسبز، شاداب اور خوبصورت بنانے کے مقصد کو عملی طور پر یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں امن و امان کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ اداروں کو باہمی رابطہ کاری مزید مضبوط بنانے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے کہا کہ صاف ستھرا، سرسبز اور پُرامن چمن ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ حکومتی ہدایات پر عملدرآمد، عوامی سہولیات کی فراہمی اور جاری ترقیاتی و انتظامی اقدامات کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔
خبر نامہ نمبر7321/2026
کوئٹہ3 ستمبر:۔ڈپٹی کمشنر جنوبی ڈیرہ بگٹی نے لوک فنکارہ مائی سبھائی کے مبینہ قتل سے متعلق مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر نشر و شائع ہونے والی خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ رپورٹس میں واقعے اور اس کے مقام سے متعلق غلط اور گمراہ کن معلومات نشر کی گئی ہیں ڈپٹی کمشنر جنوبی ڈیرہ بگٹی کے مطابق بعض ٹی وی چینلز، اخبارات اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مائی سبھائی کے قتل سے متعلق خبریں نشر و شائع کی گئیں، تاہم ان خبروں میں بیان کردہ واقعے سے متعلق معلومات حقائق پر مبنی نہیں اور غیر مصدقہ ہیں انہوں نے کہا کہ حساس نوعیت کے واقعات سے متعلق غیر مصدقہ اطلاعات کی تشہیر سے عوام میں بے چینی اور غلط فہمی پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ علاقے کی امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے بھی منفی تاثر پیدا ہو سکتا ہے ڈپٹی کمشنر نے میڈیا سے اپیل کی کہ حساس نوعیت کے واقعات سے متعلق کوئی بھی خبر نشر یا شائع کرنے سے قبل ضلع انتظامیہ اور پولیس کے مجاز حکام سے حقائق کی تصدیق ضرور کی جائے تاکہ غلط معلومات کے پھیلاؤ سے گریز کیا جا سکے انہوں نے کہا کہ ذمہ دارانہ صحافت کا تقاضا ہے کہ کسی بھی واقعے کی رپورٹنگ میں تصدیق شدہ معلومات کو ترجیح دی جائے اور غیر مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر خبریں نشر کرنے سے اجتناب کیا جائے ڈپٹی کمشنر جنوبی ڈیرہ بگٹی نے متعلقہ میڈیا اداروں سے بھی درخواست کی کہ مائی سبھائی کے قتل سے متعلق نشر و شائع کی گئی غلط معلومات کی مناسب تصحیح اور وضاحت جاری کی جائے تاکہ عوام کے سامنے حقائق واضح ہو سکیں۔
خبر نامہ نمبر7322/2026
تربت 3 ستمبر: جامعہ تربت کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ایم فل اسکالرز نے حال ہی میں منعقدہ وائیوا وائس امتحانات میں اپنے تحقیقی مقالہ جات کا کامیابی سے دفاع کیاشعبہ انگلش لٹریچر کی ایم فل اسکالرز رقیہ اور قیمتی نے اپنے تحقیقی مقالے امتحانی پینل کے سامنے پیش کرتے ہوئے ان کا کامیابی سے دفاع کیا۔ جامعہ بلوچستان کوئٹہ کی ڈاکٹر ثمینہ یوسف خان اور ایس بی کے ویمنز یونیورسٹی کوئٹہ کی ڈاکٹر دردانہ کھوسہ نے بطور ایکسٹرنل ایگزامینر وائیوا وائس سیشن میں شرکت کی۔ دونوں اسکالرز نے اپنا تحقیقی کام جامعہ تربت کے شعبہ انگلش کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عدنان ریاض کی نگرانی میں مکمل کئے۔شعبہ بائیوکیمسٹری کے ایم فل اسکالر شاکر اسحاق کے وائیوا وائس سیشن میں جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر اسد کریم نے بطور ایکسٹرنل ایگزامینر شرکت کی۔ اسکالر نے اپنا تحقیقی کام جامعہ تربت کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر حنیف الرحمن کی نگرانی میں مکمل کیا۔شعبہ کیمسٹری کے ایم فل اسکالر حنا قادر کے تحقیقی مقالے کا جائزہ بیوٹمز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر حمید اللہ نے لیا، جبکہ انہوں نے اپنا تحقیقی کام جامعہ تربت کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر نعیم اللہ کی نگرانی میں مکمل کیا۔اسی طرح شعبہ کیمسٹری کی ایم فل اسکالر ماہ گل کے تحقیقی مقالے کا جائزہ جامعہ گوادر کے ڈاکٹر عبداللہ نے لیا، جبکہ ان کے تحقیقی کام کی نگرانی جامعہ تربت کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر روح اللہ نے کی۔
پریس ریلیز
کوئٹہ 3ستمبر:۔ریٹائرڈ پی آئی اے آفیسر جی ایم بلوچ بقضائے الٰہی انتقال کر گئے۔ مرحوم ایس ایس پی جیل خانہ جات بلوچستان خوشحال میر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈی جی پی آر بلوچستان منظور احمد مگسی کے سسر تھے۔ نادرا کے امجد درانی اور سی اینڈ ڈبلیو کے شہزاد احمد کے بہنوئی، سید فاروق شاہ، سید منظور احمد شاہ اور حسن اللہ مردانزئی کے ہم زلف تھے۔ مرحوم کی نماز جنازہ سبزل روڈ اخوند بابا قبرستان میں آج رات ادا اور تدفین کی جائے گی جبکہ مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی مسجد طیبہ وحدت کالونی سیکنڈ اسٹاف بروری روڈ کوئٹہ میں ہوگی۔








