خبرنامہ نمبر6994/2026
کوئٹہ24 اگست ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سابق گورنر بلوچستان جنرل (ر) عمران اللہ خان کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے تعزیتی بیان میں وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جنرل (ر) عمران اللہ خان کے انتقال کی خبر انتہائی افسوسناک اور باعثِ صدمہ ہے۔ مرحوم ان کے والدِ محترم میر غلام قادر بگٹی کے قریبی دوست اور دیرینہ رفیق تھے، جن سے ان کے خاندان کے دیرینہ اور گہرے مراسم رہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ جنرل (ر) عمران اللہ خان ایک باوقار، مخلص اور قابل احترام شخصیت تھے۔ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا بلاشبہ محسوس کیا جائے گا۔ مرحوم کی خدمات، شرافت اور اپنے دوستوں سے خلوص کو ہمیشہ قدر و احترام سے یاد رکھا جائے گا میر سرفراز بگٹی نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ جنرل (ر) عمران اللہ خان کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اہل خانہ کو اس ناقابلِ تلافی نقصان پر صبر و حوصلہ عطا فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6995/2026
کوئٹہ، 24 اگست ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی امن و امان کے قیام، جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں مو¿ثر کردار ادا کر رہی ہے، جدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمخبرنامہ نمبر6994/2026
کوئٹہ24 اگست ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سابق گورنر بلوچستان جنرل (ر) عمران اللہ خان کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے تعزیتی بیان میں وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جنرل (ر) عمران اللہ خان کے انتقال کی خبر انتہائی افسوسناک اور باعثِ صدمہ ہے۔ مرحوم ان کے والدِ محترم میر غلام قادر بگٹی کے قریبی دوست اور دیرینہ رفیق تھے، جن سے ان کے خاندان کے دیرینہ اور گہرے مراسم رہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ جنرل (ر) عمران اللہ خان ایک باوقار، مخلص اور قابل احترام شخصیت تھے۔ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا بلاشبہ محسوس کیا جائے گا۔ مرحوم کی خدمات، شرافت اور اپنے دوستوں سے خلوص کو ہمیشہ قدر و احترام سے یاد رکھا جائے گا میر سرفراز بگٹی نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ جنرل (ر) عمران اللہ خان کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اہل خانہ کو اس ناقابلِ تلافی نقصان پر صبر و حوصلہ عطا فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6995/2026
کوئٹہ، 24 اگست ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی امن و امان کے قیام، جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں مو¿ثر کردار ادا کر رہی ہے، جدید ٹیکنالوجی کے مو¿ثر استعمال سے جرائم اور مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی کرتے ہوئے پولیس کے رسپانس میکنزم کو مزید مو¿ثر بنایا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کی کارکردگی، نگرانی کے نظام، جرائم کی روک تھام اور ادارے کی استعداد کار میں اضافے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان نے اجلاس کو بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کی کارکردگی اور مختلف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سیف سٹی کے مو¿ثر نگرانی کے نظام کے ذریعے ملک بھر سے چوری شدہ 138 گاڑیوں کی نشاندہی کی گئی، جبکہ 9 مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی کے نتیجے میں دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں کو ناکام بنانے میں مدد ملی اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی نے مختلف جرائم کے مقامات سے متعلق پولیس کو 631 اہم شواہد فراہم کیے، جن کی مدد سے جرائم کی تحقیقات اور ملزمان تک پہنچنے کے عمل کو مو¿ثر بنانے میں معاونت حاصل ہوئی۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ 15 مددگار ایمرجنسی رسپانس سروس کو سی ٹی ڈی سے منسوب کردیا گیا ہے، جس سے ہنگامی حالات میں رسپانس اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ مزید مو¿ثر بنانے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سیف سٹی اتھارٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے جرائم کی روک تھام کے عمل کو مزید تیز کیا جائے اور نگرانی کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سیف سٹی نظام کو مزید مستحکم اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ جرائم اور مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی سے پولیس کی کارروائیوں کو مزید مو¿ثر بنایا جا سکتا ہے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شہریوں کے تحفظ کے لیے جدید نگرانی کے نظام کو صوبے کے مزید علاقوں تک وسعت دی جائے گی، جبکہ بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کی استعداد کار بڑھانے کے لیے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے تجربات اور مہارت سے استفادہ کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کی استعداد کار میں مزید اضافے کے لیے چیف منسٹر پنجاب کو مراسلہ ارسال کیا جائے گا، جس میں پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے تجربات، تکنیکی معاونت اور استعداد کار میں بہتری کے لیے تعاون کی درخواست کی جائے گی۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومت بلوچستان امن و امان کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مو¿ثر رسپانس میکنزم کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔ جدید نگرانی کے نظام، بروقت اطلاعات اور مو¿ثر رسپانس کے ذریعے جرائم کی روک تھام کے ساتھ ساتھ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ مزید یقینی بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سیف سٹی اتھارٹی کی استعداد کار میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی کے مو¿ثر استعمال اور نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات تیز کیے جائیں، تاکہ صوبے میں امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے دستیاب وسائل سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی سکیورٹی اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور حکومت اس مقصد کے لیے تمام ضروری وسائل بروئے کار لائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6996/2026
چارسدہ، 24 اگست ۔ سابق گورنر بلوچستان جنرل ریٹائرڈ عمران اللہ خان کی نماز جنازہ اتمانزئی، چارسدہ میں ادا کردی گئی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نماز جنازہ میں شرکت کی اور مرحوم کے اہل خانہ سے تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سابق گورنر بلوچستان جنرل ریٹائرڈ عمران اللہ خان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ عمران اللہ خان ایک باوقار، مدبر اور نفیس شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی قومی و صوبائی خدمات کو ہمیشہ قدر و احترام کی نگاہ سے یاد رکھا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ عمران اللہ خان ان کے والد مرحوم میر غلام قادر بگٹی کے قریبی دوست تھے اور ان کے ساتھ دیرینہ تعلقات اور گہری وابستگی تھی۔ ان کے انتقال سے ایک مخلص، قابل احترام اور شفیق شخصیت ہم سے جدا ہوگئی ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ مرحوم جنرل ریٹائرڈ عمران اللہ خان نے مختلف ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں اور اپنے کردار و خدمات کے باعث ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کی وفات ایک بڑا ذاتی اور قومی نقصان ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مرحوم کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم جنرل ریٹائرڈ عمران اللہ خان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جوار رحمت میں جگہ عطا کرے اور سوگوار خاندان کو یہ ناقابل تلافی صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6997/2026
گوادر 24 اگست۔ رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے شادی کور تا گوادر مین واٹر ٹرانسمیشن لائن کے راستے میں واقع متعدد دیہات اور گاو¿ں کو پانی کی فراہمی کے نئے منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ منصوبے کے تحت شتنگی، کنڈا سول، چکولی سمیت دیگر دور دراز دیہی علاقوں کو شادی کور ٹرانسمیشن لائن سے پانی کی فراہمی شروع کردی گئی ہے۔ جس سے ان علاقوں کے مکینوں کو پینے کے پانی کی فراہمی کا دیرینہ مسئلہ ہمیشہ کیلئے حل ہوگیا ہے۔افتتاح کے موقع پر چیف انجینئر جی ڈی اے انجینئر حاجی سید محمد، پروجیکٹ ڈائریکٹر واٹر میرجان بلوچ، اسسٹنٹ انجینئر کمبر کلمتی، انجینئر کامران اور پی اے ٹو ایم پی اے وسیم صمد سمیت علاقے کے عمائدین اور مختلف دیہاتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھے۔اس موقع پر پی ڈی واٹر میرجان بلوچ نے بتایا کہ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے ان علاقوں کو پانی کی فراہمی کے لیے پائپ لائن بچھانے کا کام پہلے ہی مکمل کیا جا چکا ہے، جس کے بعد متعدد نئے دیہاتوں کو شادی کور مین ٹرانسمیشن لائن سے باقاعدہ منسلک کرکے پانی کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔ اس اقدام سے ان علاقوں میں پینے کے پانی کی دستیابی کے حوالے سے طویل عرصے سے درپیش مشکلات کے خاتمے میں مدد ملے گی۔کپر، نلینٹ اور ملحقہ علاقوں کے درجنوں دیہات پہلے ہی شادی کور ٹرانسمیشن لائن سے منسلک ہیں اور وہاں پانی کی فراہمی جاری ہے، جبکہ نئے دیہات گاو¿ں کو بھی مرحلہ وار اسی نظام سے جوڑ کر پانی کی فراہمی کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف دور دراز علاقوں کے رہائشیوں کو پینے کے پانی کی سہولت میسر آئے گی بلکہ مقامی آبادی کو پانی کے حصول کے لیے طویل فاصلے طے کرنے اور متبادل ذرائع پر انحصار سے بھی نجات ملے گی۔ یہ اقدام گوادر کے دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوام کو درپیش پانی کے دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔بعد ازاں چیف انجینیئر حاجی سید محمد اور پی ڈی واٹر میرجان بلوچ نے چوڑ پمپنگ اسٹیشن کا بھی دورہ کیا جہاں گوادر کو سپلائی ہونے والی پانی اور اسکی صورت حال کا جائزہ لیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6998/2026
گوادر24 اگست۔صوبائی حکومت کی تعلیم دوست پالیسی کے تحت محکمہ تعلیم گوادر اور یونیسیف کے تعاون سے گوادر کے علاقے ساہیجی فقیر محمد بازار میں اسکل ڈویلپمنٹ و مڈل لیول ایکسیلریٹڈ لرننگ پروگرام ALP سینٹر قائم کیا گیا ہے، جہاں بچوں کو مڈل لیول تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی اور فنی مہارتوں کی تربیت بھی فراہم کی جارہی ہے اس سینٹر میں اس وقت 35 بچے زیرِ تعلیم ہیں، جو تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ مختلف عملی ،طبی و فنی مہارتیں حاصل کررہے ہیں۔ حال ہی میں بچوں کو صحت سے متعلق عملی مہارتوں کی تربیت بھی دی گئی، جس کی تکمیل پر انہیں سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے یہ اقدام دور دراز اور کم سہولیات والے علاقوں کے بچوں کو ان کی دہلیز پر تعلیم اور ہنر کے مواقع فراہم کرنے اور انہیں مستقبل میں خود انحصار بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے یونیسف کے ضلعی ایجوکیشن سپورٹ پروگرام منیجر عادل نودزئی کے مطابق پروگرام کا مقصد بچوں کو تعلیم کے ساتھ ایسی عملی مہارتیں فراہم کرنا ہے جو ان کے روشن اور باوقار مستقبل کی بنیاد بن سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6999/2026
لسبیلہ24اگست۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سراج احمد بلوچ کی زیر صدارت ضلع بھر کے علمائے کرام کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں 12 ربیع الاول کے جلوس کے مقررہ روٹس، امن و امان اور سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں ڈی ایس پی سید راحق شاہ، اسسٹنٹ کمشنر اوتھل آفتاب احمد لاسی، اسسٹنٹ کمشنر کنراج کشش چویدری، چیئرمین ایم سی اوتھل سید سومار شاہ، انجمن تاجران کے نمائندوں عبد الواحد بلوچ اور محمد حنیف شہزاد کے علاوہ کثیر تعداد میں علمائے کرام نے شرکت کی۔اجلاس میں 12 ربیع الاول کے روز نکلنے والے مرکزی جلوسوں کے تمام روٹس پر سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرلسبیلہ سراج احمد بلوچ نے کہاکہ ربیع الاول کے بابرکت مہینے میں منعقد ہونے والی تمام محافل اور جلوسوں کو پولیس کی جانب سے مکمل سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ضلعی انتظامیہ تمام مذہبی تقریبات کو پرامن طریقے منعقد کرانے کے لیئے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ممکنہ وسائل بروئے کارلائے جائیں گے۔اجلاس میں شریک علمائے کرام نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے انتظامات پر مکمل اطمینان کا اظہار کیااور علمائے کرام نے انتظامیہ کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ ضلع میں بھائی چارے، امن اور محبت کی فضا کو برقرار رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6910/2026
قلات24اگست ۔ اشیاءےخورد نوش کی قیمتوں اور معیار کا جائزہ لینے کے لیئےپرائس کنٹرول کمیٹی متحرک۔ ہوگئی ہے تحصیلدار قلات حاجی عبدالغفار لہڑی کا ریڈر اسسٹنٹ کمشنر ثنائ اللہ محمدحسنی کے ہمراہ قلات بازار کاتفصیلی دورہ کیا گرانفروشی اور صفائی سھترائی کا خیال نہ رکھنے اور زائدالمیعاد اشیاءفروخت کرنے پر متعدد دکاندار جرمانے کئے گئےڈپٹی کمشنر انجینیئر عائشہ زہری کی خصوصی احکامات اور اسسٹنٹ کمشنر اسدسمالانی کے زیرنگرانی تحصیلدار نےجنرل اسٹورز قصائیوں، پھل و سبزی فروشوں، دودھ فروشوں اور نانبائیوں کی دکانوں کا معائنہ کیاگیا اشیاء خوردونوش کی قیمتوں، معیار اور صفائی کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا گیا پرائس کنٹرول کمیٹی نے دکانداران پر واضح کیا کہ گرانفروشی اور سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کسی صورت قبول نہیں کی جائیگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6911/2026
خضدار 24 اگست ۔ کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی سے قبائلی عمائدین اور سرکاری افسران نے ان کے آفس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں علاقے کے امن و امان، ترقیاتی کاموں اور عوامی فلاح سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ وفد میں سردار مہر اللہ قمبرانی، سردار حیات خان ساجدی، جے یو آئی سوراب کے جنرل سیکریٹری میر مقبول احمد گرگناڑی، انجینئر عبداللہ گرگناڑی، ڈی ایچ او خضدار ڈاکٹر عبدالحمید لہڑی اور لوکل گورنمنٹ آفیسر عبدالقیوم عمرانی شامل تھے۔قبائلی عمائدین نے کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور علاقے کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، صحت، تعلیم اور مواصلات کے شعبوں میں بہتری کی اشد ضرورت ہے۔ عمائدین نے یقین دہانی کرائی کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہیں۔کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی نے تمام مسائل کو غور سے سنا اور کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائی جارہی ہے حکومت کی پالیسی عوامی خدمت ہے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ہماری کوشش ہے کہ دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے عوام کے تمام بنیادی مسائل حل کیئے جائیں اور انہیں سہولیات ان کے دہلیز پر پہنچایا جائے۔ کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی نے کہاکہ بی ایس ڈی آئی کے تحت عوام کے بنیادی اور چیدہ چیدہ مسائل حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے صحت تعلیم اور پینے کے صاف پانی کے حوالے سے متعدد منصوبے بی ایس ڈی آئی پراجیکٹ کے تحت عوام کو فراہم کیا جارہاہے۔ ملاقات میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے اور عوامی مسائل حل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6912/2026
چمن 24اگست۔ : ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت ڈپٹی کمشنر کمپلیکس ہال میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد شہریوں کے مسائل، شکایات اور تجاویز براہِ راست سننا اور ان کے فوری حل کے لیے اقدامات اٹھانا تھا۔کھلی کچہری میں آرمی کے کرنل اسد، ڈی پی او چمن اعتزاز عارف، مختلف سرکاری محکموں کے افسران، قبائلی عمائدین، تاجر برادری، نوجوانوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اس موقع پر قبائلی عمائدین، تاجروں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور شہریوں نے اپنے مسائل اور شکایات پیش کیں، جنہیں متعلقہ حکام کی جانب سے نوٹ کیا گیا۔ شرکاء نے بے روزگاری، شہر میں امن و امان کی صورتحال، نادرا سے متعلق مسائل، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سمیت دیگر اہم عوامی مسائل کی نشاندہی کی۔ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے متعلقہ محکموں کے افسران کو عوامی شکایات کے فوری اور مو¿ثر ازالے کے لیے ضروری احکامات جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ شہریوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور عوامی شکایات پر عملی پیش رفت یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کا بروقت حل ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ کھلی کچہریوں کے انعقاد کا مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنانا، شہریوں کے مسائل براہِ راست سننا اور ان کے حل کے لیے مو¿ثر اقدامات اٹھانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6913/2026
بارکھان، 24 اگست ۔: ڈاکٹر حسن ڈومکی نے بطور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) بارکھان اپنے عہدے کا چارج سنبھال کر باقاعدہ طور پر فرائض کی انجام دہی شروع کردی ہے۔چارج سنبھالنے کے موقع پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ماجد بھی موجود تھے، جنہوں نے ڈاکٹر حسن ڈومکی کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس موقع پر ڈاکٹر حسن ڈومکی نے محکمہ صحت بارکھان کے مختلف امور کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ضلع بھر میں صحت کی سہولیات کی بہتری، طبی مراکز کی کارکردگی میں مزید بہتری اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کے افسران و اہلکار عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں۔عوامی حلقوں نے ڈاکٹر حسن ڈومکی کی بطور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر بارکھان تعیناتی کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ان کی قیادت میں ضلع بھر میں محکمہ صحت کی کارکردگی مزید بہتر ہوگی اور شہریوں کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی میں بہتری آئے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 6914/2026
سیوی 24 اگست .۔ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی خصوصی ہدایت اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیوی عبدالستار لانگو کے احکامات کی روشنی میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لہڑی لیاقت علی لغاری کی جانب سے تحصیل لہڑی کے مختلف اسکولوں کے اچانک دوروں کا سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لہڑی لیاقت علی لغاری نے گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول گڑھی محمد بخش، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول قاضی میر واہ، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول برڑہ، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول بھنڈ جاگیر، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول گولہ واہ، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول بنگو بشام، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول خیرواہ اور گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول جمعہ خان گولہ کا تفصیلی اور اچانک دورہ کیا۔دورے کے دوران طلباء اور اساتذہ کی حاضری چیک کی گئی جبکہ کلاس رومز میں جاری تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے طلباءسے نصاب کے مطابق مختلف سوالات بھی پوچھے گئے اور ان کی تعلیمی استعداد کو جانچا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ علاقے کے زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکولوں میں داخل کرایا جائے تاکہ کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم اور اسکول سے باہر نہ رہے۔ انہوں نے طلباء کو آگاہ کیا کہ رواں سال امتحانات جلد منعقد کیے جائیں گے، لہٰذا وہ اپنی پڑھائی پر بھرپور توجہ دیں اور امتحانات کی تیاری میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کریں۔ اساتذہ اور طلباءپر زور دیا گیا کہ وہ محنت، دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6915/2026
بارکھان، 24 اگست : بہادر شاہ نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بارکھان کا باقاعدہ چارج سنبھال کر اپنے فرائض کی انجام دہی شروع کر دی ہے۔چارج سنبھالنے کے موقع پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بوائز سکولز طارق محمود کھیتران، ہیڈماسٹر ہائی سکول رکھنی حاجی محمد صدیق، ایس ایس ٹی حبیب اللہ اور بابو نادر شاہ بھی موجود تھے اور انہوں نے بہادر شاہ کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی۔اس موقع پر ضلع میں تعلیمی امور، سرکاری سکولوں کی کارکردگی، اساتذہ سے متعلق امور اور تعلیمی معیار میں بہتری کے حوالے سے مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بہادر شاہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع بھر میں سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے، تدریسی نظام کو مو¿ثر بنانے اور طلباءکو معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6916/2026
چمن: ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے متعلقہ محکموں کے سربراہان اور افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں جاری اور مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔اجلاس میں بالخصوص بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز ٹو اور فیز3 کے تحت جاری اور مکمل ہونے والے منصوبوں پر متعلقہ افسران کی جانب سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ افسران نے اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی، منصوبوں کی پیش رفت اور درپیش مسائل سے اجلاس کو آگاہ کیا۔اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے معیار کو بھی ہر صورت یقینی بنایا جائے اور منصوبوں کی تکمیل میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہ کی جائے۔ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اجتماعی نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری ان سے مستفید ہو سکیں۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں درپیش رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے، محکموں کے درمیان باہمی رابطے اور تعاون کو مزید مو¿ثر بنایا جائے اور منصوبوں کو شفافیت، معیار اور مقررہ مدت کے مطابق مکمل کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ایسے منصوبوں کی بھی نشاندہی کی جائے جن کی تکمیل سے عوام کو فوری اور زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر مختلف ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے، نگرانی کے نظام کو مزید مو¿ثر بنانے اور عوامی مفاد کو اولین ترجیح دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
کوئٹہ 24اگست ۔ نیب بلوچستان کی جانب سے شکایات کنندگان کیلئے کھلی کچہری کا انعقاد بمقام دفتر نیب (بلوچستان)واقع شاہراہ گلستان ، کوئٹہ کی نے صو بہ بلوچستان میں بڑی مالی بد عنوانیوں کے خلاف شکایات کے اندراج کیلئے چیئرمین نیب کی ہدایات کے مطابق کھلی کچہری کا انعقادہر ماہ کی آخری جمعرات کو کیا جاتا ہے۔ جس میں ڈائریکٹر جنرل نیب بلوچستان شکایت کنندگان کو بذات خود سنتے ہیں۔ اس ماہ کھلی کچہری کا انعقاد مورخہ 27 اگست 2026 بروز( جمعرات) بوقت صبح 11:00 تا 01:00 بجے سہ پہرکو نیب (بلوچستان) کے دفتر واقع شاہراہ گلستان کوئٹہ کینٹ میں کیا جائے گا درخواست کنندگان سے گزارش کی جاتی ہے کہ وہ تحریری شکایات میں مندرجہ ذیل معلومات لازماً مہیا کریں۔
1 ۔نام بمعہ ولدیت،۔2کاپی قومی شناختی کارڈ ، 3۔ مکمل پتہ / ایڈریس،4۔ نشان انگوٹھا / دستخط ،5۔ رابطہ نمبر موبائل / گھر / ای میل، واضح کیا جاتا ہے کہ چیئرمین نیب کی ہدایات کے مطابق اب نیب گم نام/ فرضی شکایات پر کاروائی نہیں کرے گا۔ صرف ایسی مصدقہ شکایات جو نیب کے دائرہ کار پر پورا ا±تر تی ہوں ا±ن پرقانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی۔ایسی شکایات پر کاروائی سے قبل شکایات کنندگان سے بیان حلفی اسٹامپ پیپر پر لیا جائے گا۔ ہر خاص و عام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ نیب میں شکایات مندرجہ ذیل طریقہ سے جمع کروائی جا سکتی ہیں۔ 1۔ بذریعہ ڈاک/ بذات خود نیب بلوچستان دفتر واقع شاہراہ گلستان، کوئٹہ کینٹ 2۔بذریعہ ای میل balochistan@nab.gov.pk 3۔بذریعہ ڈاک / بذات خود نیب کے دفترشکایات واقع DCآفس انسکمب روڈ کوئٹہ 4۔ بذریعہ کھلی کچہری ڈائریکٹر جنرل سے بالمشافہ ملاقات کے ذریعہ( ہر ماہ کی آخری جمعرات )مزیدمعلومات کیلئے علاقائی دفتر شکایات نیب بلوچستان کے فون نمبرز: 9203614 081-، 081-9203468 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Press Releases
Quetta24August:Conduct of Open Court (Khuli Kachehri) at NAB (Balochistan) Complex situated at Shahra-e-Gulistan, Quetta CanttIn compliance with instructions of the Chairman, NAB (Balochistan) holds Open Court (Khuli Kachehri) on the last Thursday of every month for inviting complaints from general public regarding mega financial scams in Balochistan Province. The Director General NAB (Balochistan) personally listens to the complainants therein. This time, the Open Court will be held on 27th August, 2026 (Thursday) from 11:00am to 01:00pm at NAB (Balochistan) Complex situated at Shara-e-Gulistan, Quetta Cant Applicants are required to provide following information / documents along with their complaints:Name with parentage.Copy of Computerized National Identity Card.Complete Postal Address.Thumb Impression / Signature Contact Information: Cell / Landline number / E-mailAs per the revised SOP for complaints, NAB will no longer proceed on anonymous complaints. Only verified complaints, which are within the purview of NAB, will be dealt with, an accordance with law. NAB (B) will proceed on such complaints after obtaining affidavit on stamp paper from the complainants.The general public is informed that complaint can be lodged with NAB in the following manner:By post / in person at NAB office Shahra-e-Gulistan, Quetta Cantt.Through E-mail balochistan@nab.gov.pkBy post / in person at NAB complaints office situated at DC Quetta Office, Anscombe Road, Quetta. Through an Open Court while meeting with Director General (last Thursday of every month).For more information, please contact Regional Complaint Cell NAB (Balochistan) on following numbers: 081-9203614, 081-9203468.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿ال سے جرائم اور مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی کرتے ہوئے پولیس کے رسپانس میکنزم کو مزید موثر بنایا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کی کارکردگی، نگرانی کے نظام، جرائم کی روک تھام اور ادارے کی استعداد کار میں اضافے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان نے اجلاس کو بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کی کارکردگی اور مختلف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سیف سٹی کے مو¿ثر نگرانی کے نظام کے ذریعے ملک بھر سے چوری شدہ 138 گاڑیوں کی نشاندہی کی گئی، جبکہ 9 مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی کے نتیجے میں دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں کو ناکام بنانے میں مدد ملی اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی نے مختلف جرائم کے مقامات سے متعلق پولیس کو 631 اہم شواہد فراہم کیے، جن کی مدد سے جرائم کی تحقیقات اور ملزمان تک پہنچنے کے عمل کو موثر بنانے میں معاونت حاصل ہوئی۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ 15 مددگار ایمرجنسی رسپانس سروس کو سی ٹی ڈی سے منسوب کردیا گیا ہے، جس سے ہنگامی حالات میں رسپانس اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ مزید موثر بنانے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سیف سٹی اتھارٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے جرائم کی روک تھام کے عمل کو مزید تیز کیا جائے اور نگرانی کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سیف سٹی نظام کو مزید مستحکم اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ جرائم اور مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی سے پولیس کی کارروائیوں کو مزید موثر بنایا جا سکتا ہے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شہریوں کے تحفظ کے لیے جدید نگرانی کے نظام کو صوبے کے مزید علاقوں تک وسعت دی جائے گی، جبکہ بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کی استعداد کار بڑھانے کے لیے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے تجربات اور مہارت سے استفادہ کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کی استعداد کار میں مزید اضافے کے لیے چیف منسٹر پنجاب کو مراسلہ ارسال کیا جائے گا، جس میں پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے تجربات، تکنیکی معاونت اور استعداد کار میں بہتری کے لیے تعاون کی درخواست کی جائے گی۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومت بلوچستان امن و امان کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور موثر رسپانس میکنزم کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔ جدید نگرانی کے نظام، بروقت اطلاعات اور موثر رسپانس کے ذریعے جرائم کی روک تھام کے ساتھ ساتھ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ مزید یقینی بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سیف سٹی اتھارٹی کی استعداد کار میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمال اور نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات تیز کیے جائیں، تاکہ صوبے میں امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے دستیاب وسائل سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی سکیورٹی اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور حکومت اس مقصد کے لیے تمام ضروری وسائل بروئے کار لائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6996/2026
چارسدہ، 24 اگست ۔ سابق گورنر بلوچستان جنرل ریٹائرڈ عمران اللہ خان کی نماز جنازہ اتمانزئی، چارسدہ میں ادا کردی گئی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نماز جنازہ میں شرکت کی اور مرحوم کے اہل خانہ سے تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سابق گورنر بلوچستان جنرل ریٹائرڈ عمران اللہ خان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ عمران اللہ خان ایک باوقار، مدبر اور نفیس شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی قومی و صوبائی خدمات کو ہمیشہ قدر و احترام کی نگاہ سے یاد رکھا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ عمران اللہ خان ان کے والد مرحوم میر غلام قادر بگٹی کے قریبی دوست تھے اور ان کے ساتھ دیرینہ تعلقات اور گہری وابستگی تھی۔ ان کے انتقال سے ایک مخلص، قابل احترام اور شفیق شخصیت ہم سے جدا ہوگئی ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ مرحوم جنرل ریٹائرڈ عمران اللہ خان نے مختلف ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں اور اپنے کردار و خدمات کے باعث ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کی وفات ایک بڑا ذاتی اور قومی نقصان ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مرحوم کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم جنرل ریٹائرڈ عمران اللہ خان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جوار رحمت میں جگہ عطا کرے اور سوگوار خاندان کو یہ ناقابل تلافی صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6997/2026
گوادر 24 اگست۔ رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے شادی کور تا گوادر مین واٹر ٹرانسمیشن لائن کے راستے میں واقع متعدد دیہات اور گاوں کو پانی کی فراہمی کے نئے منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ منصوبے کے تحت شتنگی، کنڈا سول، چکولی سمیت دیگر دور دراز دیہی علاقوں کو شادی کور ٹرانسمیشن لائن سے پانی کی فراہمی شروع کردی گئی ہے۔ جس سے ان علاقوں کے مکینوں کو پینے کے پانی کی فراہمی کا دیرینہ مسئلہ ہمیشہ کیلئے حل ہوگیا ہے۔افتتاح کے موقع پر چیف انجینئر جی ڈی اے انجینئر حاجی سید محمد، پروجیکٹ ڈائریکٹر واٹر میرجان بلوچ، اسسٹنٹ انجینئر کمبر کلمتی، انجینئر کامران اور پی اے ٹو ایم پی اے وسیم صمد سمیت علاقے کے عمائدین اور مختلف دیہاتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھے۔اس موقع پر پی ڈی واٹر میرجان بلوچ نے بتایا کہ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے ان علاقوں کو پانی کی فراہمی کے لیے پائپ لائن بچھانے کا کام پہلے ہی مکمل کیا جا چکا ہے، جس کے بعد متعدد نئے دیہاتوں کو شادی کور مین ٹرانسمیشن لائن سے باقاعدہ منسلک کرکے پانی کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔ اس اقدام سے ان علاقوں میں پینے کے پانی کی دستیابی کے حوالے سے طویل عرصے سے درپیش مشکلات کے خاتمے میں مدد ملے گی۔کپر، نلینٹ اور ملحقہ علاقوں کے درجنوں دیہات پہلے ہی شادی کور ٹرانسمیشن لائن سے منسلک ہیں اور وہاں پانی کی فراہمی جاری ہے، جبکہ نئے دیہات گاوں کو بھی مرحلہ وار اسی نظام سے جوڑ کر پانی کی فراہمی کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف دور دراز علاقوں کے رہائشیوں کو پینے کے پانی کی سہولت میسر آئے گی بلکہ مقامی آبادی کو پانی کے حصول کے لیے طویل فاصلے طے کرنے اور متبادل ذرائع پر انحصار سے بھی نجات ملے گی۔ یہ اقدام گوادر کے دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوام کو درپیش پانی کے دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔بعد ازاں چیف انجینیئر حاجی سید محمد اور پی ڈی واٹر میرجان بلوچ نے چوڑ پمپنگ اسٹیشن کا بھی دورہ کیا جہاں گوادر کو سپلائی ہونے والی پانی اور اسکی صورت حال کا جائزہ لیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6998/2026
گوادر24 اگست۔صوبائی حکومت کی تعلیم دوست پالیسی کے تحت محکمہ تعلیم گوادر اور یونیسیف کے تعاون سے گوادر کے علاقے ساہیجی فقیر محمد بازار میں اسکل ڈویلپمنٹ و مڈل لیول ایکسیلریٹڈ لرننگ پروگرام ALP سینٹر قائم کیا گیا ہے، جہاں بچوں کو مڈل لیول تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی اور فنی مہارتوں کی تربیت بھی فراہم کی جارہی ہے اس سینٹر میں اس وقت 35 بچے زیرِ تعلیم ہیں، جو تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ مختلف عملی ،طبی و فنی مہارتیں حاصل کررہے ہیں۔ حال ہی میں بچوں کو صحت سے متعلق عملی مہارتوں کی تربیت بھی دی گئی، جس کی تکمیل پر انہیں سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے یہ اقدام دور دراز اور کم سہولیات والے علاقوں کے بچوں کو ان کی دہلیز پر تعلیم اور ہنر کے مواقع فراہم کرنے اور انہیں مستقبل میں خود انحصار بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے یونیسف کے ضلعی ایجوکیشن سپورٹ پروگرام منیجر عادل نودزئی کے مطابق پروگرام کا مقصد بچوں کو تعلیم کے ساتھ ایسی عملی مہارتیں فراہم کرنا ہے جو ان کے روشن اور باوقار مستقبل کی بنیاد بن سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6999/2026
لسبیلہ24اگست۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سراج احمد بلوچ کی زیر صدارت ضلع بھر کے علمائے کرام کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں 12 ربیع الاول کے جلوس کے مقررہ روٹس، امن و امان اور سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں ڈی ایس پی سید راحق شاہ، اسسٹنٹ کمشنر اوتھل آفتاب احمد لاسی، اسسٹنٹ کمشنر کنراج کشش چویدری، چیئرمین ایم سی اوتھل سید سومار شاہ، انجمن تاجران کے نمائندوں عبد الواحد بلوچ اور محمد حنیف شہزاد کے علاوہ کثیر تعداد میں علمائے کرام نے شرکت کی۔اجلاس میں 12 ربیع الاول کے روز نکلنے والے مرکزی جلوسوں کے تمام روٹس پر سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرلسبیلہ سراج احمد بلوچ نے کہاکہ ربیع الاول کے بابرکت مہینے میں منعقد ہونے والی تمام محافل اور جلوسوں کو پولیس کی جانب سے مکمل سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ضلعی انتظامیہ تمام مذہبی تقریبات کو پرامن طریقے منعقد کرانے کے لیئے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ممکنہ وسائل بروئے کارلائے جائیں گے۔اجلاس میں شریک علمائے کرام نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے انتظامات پر مکمل اطمینان کا اظہار کیااور علمائے کرام نے انتظامیہ کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ ضلع میں بھائی چارے، امن اور محبت کی فضا کو برقرار رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6910/2026
قلات24اگست اشیائےخورد نوش کی قیمتوں اور معیار کا جائزہ لینے کے لیئےپرائس کنٹرول کمیٹی متحرک۔ ہوگئی ہے تحصیلدار قلات حاجی عبدالغفار لہڑی کا ریڈر اسسٹنٹ کمشنر ثنائ اللہ محمدحسنی کے ہمراہ قلات بازار کاتفصیلی دورہ کیا گرانفروشی اور صفائی سھترائی کا خیال نہ رکھنے اور زائدالمیعاد اشیاءفروخت کرنے پر متعدد دکاندار جرمانے کئے گئےڈپٹی کمشنر انجینیئر عائشہ زہری کی خصوصی احکامات اور اسسٹنٹ کمشنر اسدسمالانی کے زیرنگرانی تحصیلدار نےجنرل اسٹورز قصائیوں، پھل و سبزی فروشوں، دودھ فروشوں اور نانبائیوں کی دکانوں کا معائنہ کیاگیا اشیاء خوردونوش کی قیمتوں، معیار اور صفائی کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا گیا پرائس کنٹرول کمیٹی نے دکانداران پر واضح کیا کہ گرانفروشی اور سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کسی صورت قبول نہیں کی جائیگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6911/2026
خضدار 24 اگست ۔ کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی سے قبائلی عمائدین اور سرکاری افسران نے ان کے آفس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں علاقے کے امن و امان، ترقیاتی کاموں اور عوامی فلاح سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ وفد میں سردار مہر اللہ قمبرانی، سردار حیات خان ساجدی، جے یو آئی سوراب کے جنرل سیکریٹری میر مقبول احمد گرگناڑی، انجینئر عبداللہ گرگناڑی، ڈی ایچ او خضدار ڈاکٹر عبدالحمید لہڑی اور لوکل گورنمنٹ آفیسر عبدالقیوم عمرانی شامل تھے۔قبائلی عمائدین نے کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور علاقے کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، صحت، تعلیم اور مواصلات کے شعبوں میں بہتری کی اشد ضرورت ہے۔ عمائدین نے یقین دہانی کرائی کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہیں۔کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی نے تمام مسائل کو غور سے سنا اور کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائی جارہی ہے حکومت کی پالیسی عوامی خدمت ہے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ہماری کوشش ہے کہ دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے عوام کے تمام بنیادی مسائل حل کیئے جائیں اور انہیں سہولیات ان کے دہلیز پر پہنچایا جائے۔ کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی نے کہاکہ بی ایس ڈی آئی کے تحت عوام کے بنیادی اور چیدہ چیدہ مسائل حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے صحت تعلیم اور پینے کے صاف پانی کے حوالے سے متعدد منصوبے بی ایس ڈی آئی پراجیکٹ کے تحت عوام کو فراہم کیا جارہاہے۔ ملاقات میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے اور عوامی مسائل حل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6912/2026
چمن 24اگست۔ : ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت ڈپٹی کمشنر کمپلیکس ہال میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد شہریوں کے مسائل، شکایات اور تجاویز براہِ راست سننا اور ان کے فوری حل کے لیے اقدامات اٹھانا تھا۔کھلی کچہری میں آرمی کے کرنل اسد، ڈی پی او چمن اعتزاز عارف، مختلف سرکاری محکموں کے افسران، قبائلی عمائدین، تاجر برادری، نوجوانوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اس موقع پر قبائلی عمائدین، تاجروں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور شہریوں نے اپنے مسائل اور شکایات پیش کیں، جنہیں متعلقہ حکام کی جانب سے نوٹ کیا گیا۔ شرکاء نے بے روزگاری، شہر میں امن و امان کی صورتحال، نادرا سے متعلق مسائل، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سمیت دیگر اہم عوامی مسائل کی نشاندہی کی۔ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے متعلقہ محکموں کے افسران کو عوامی شکایات کے فوری اور موثر ازالے کے لیے ضروری احکامات جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ شہریوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور عوامی شکایات پر عملی پیش رفت یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کا بروقت حل ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ کھلی کچہریوں کے انعقاد کا مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنانا، شہریوں کے مسائل براہِ راست سننا اور ان کے حل کے لیے موثر اقدامات اٹھانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6913/2026
بارکھان، 24 اگست ۔: ڈاکٹر حسن ڈومکی نے بطور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) بارکھان اپنے عہدے کا چارج سنبھال کر باقاعدہ طور پر فرائض کی انجام دہی شروع کردی ہے۔چارج سنبھالنے کے موقع پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ماجد بھی موجود تھے، جنہوں نے ڈاکٹر حسن ڈومکی کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس موقع پر ڈاکٹر حسن ڈومکی نے محکمہ صحت بارکھان کے مختلف امور کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ضلع بھر میں صحت کی سہولیات کی بہتری، طبی مراکز کی کارکردگی میں مزید بہتری اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کے افسران و اہلکار عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں۔عوامی حلقوں نے ڈاکٹر حسن ڈومکی کی بطور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر بارکھان تعیناتی کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ان کی قیادت میں ضلع بھر میں محکمہ صحت کی کارکردگی مزید بہتر ہوگی اور شہریوں کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی میں بہتری آئے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 6914/2026
سیوی 24 اگست .۔ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی خصوصی ہدایت اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیوی عبدالستار لانگو کے احکامات کی روشنی میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لہڑی لیاقت علی لغاری کی جانب سے تحصیل لہڑی کے مختلف اسکولوں کے اچانک دوروں کا سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لہڑی لیاقت علی لغاری نے گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول گڑھی محمد بخش، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول قاضی میر واہ، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول برڑہ، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول بھنڈ جاگیر، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول گولہ واہ، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول بنگو بشام، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول خیرواہ اور گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول جمعہ خان گولہ کا تفصیلی اور اچانک دورہ کیا۔دورے کے دوران طلباء اور اساتذہ کی حاضری چیک کی گئی جبکہ کلاس رومز میں جاری تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے طلباءسے نصاب کے مطابق مختلف سوالات بھی پوچھے گئے اور ان کی تعلیمی استعداد کو جانچا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ علاقے کے زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکولوں میں داخل کرایا جائے تاکہ کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم اور اسکول سے باہر نہ رہے۔ انہوں نے طلباء کو آگاہ کیا کہ رواں سال امتحانات جلد منعقد کیے جائیں گے، لہٰذا وہ اپنی پڑھائی پر بھرپور توجہ دیں اور امتحانات کی تیاری میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کریں۔ اساتذہ اور طلباءپر زور دیا گیا کہ وہ محنت، دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6915/2026
بارکھان، 24 اگست : بہادر شاہ نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بارکھان کا باقاعدہ چارج سنبھال کر اپنے فرائض کی انجام دہی شروع کر دی ہے۔چارج سنبھالنے کے موقع پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بوائز سکولز طارق محمود کھیتران، ہیڈماسٹر ہائی سکول رکھنی حاجی محمد صدیق، ایس ایس ٹی حبیب اللہ اور بابو نادر شاہ بھی موجود تھے اور انہوں نے بہادر شاہ کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی۔اس موقع پر ضلع میں تعلیمی امور، سرکاری سکولوں کی کارکردگی، اساتذہ سے متعلق امور اور تعلیمی معیار میں بہتری کے حوالے سے مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بہادر شاہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع بھر میں سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے، تدریسی نظام کو موثر بنانے اور طلباءکو معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6916/2026
چمن: ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے متعلقہ محکموں کے سربراہان اور افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں جاری اور مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔اجلاس میں بالخصوص بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز ٹو اور فیز3 کے تحت جاری اور مکمل ہونے والے منصوبوں پر متعلقہ افسران کی جانب سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ افسران نے اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی، منصوبوں کی پیش رفت اور درپیش مسائل سے اجلاس کو آگاہ کیا۔اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے معیار کو بھی ہر صورت یقینی بنایا جائے اور منصوبوں کی تکمیل میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہ کی جائے۔ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اجتماعی نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری ان سے مستفید ہو سکیں۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں درپیش رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے، محکموں کے درمیان باہمی رابطے اور تعاون کو مزید موثر بنایا جائے اور منصوبوں کو شفافیت، معیار اور مقررہ مدت کے مطابق مکمل کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ایسے منصوبوں کی بھی نشاندہی کی جائے جن کی تکمیل سے عوام کو فوری اور زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر مختلف ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے، نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنانے اور عوامی مفاد کو اولین ترجیح دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
کوئٹہ 24اگست ۔ نیب بلوچستان کی جانب سے شکایات کنندگان کیلئے کھلی کچہری کا انعقاد بمقام دفتر نیب (بلوچستان)واقع شاہراہ گلستان ، کوئٹہ کی نے صو بہ بلوچستان میں بڑی مالی بد عنوانیوں کے خلاف شکایات کے اندراج کیلئے چیئرمین نیب کی ہدایات کے مطابق کھلی کچہری کا انعقادہر ماہ کی آخری جمعرات کو کیا جاتا ہے۔ جس میں ڈائریکٹر جنرل نیب بلوچستان شکایت کنندگان کو بذات خود سنتے ہیں۔ اس ماہ کھلی کچہری کا انعقاد مورخہ 27 اگست 2026 بروز( جمعرات) بوقت صبح 11:00 تا 01:00 بجے سہ پہرکو نیب (بلوچستان) کے دفتر واقع شاہراہ گلستان کوئٹہ کینٹ میں کیا جائے گا درخواست کنندگان سے گزارش کی جاتی ہے کہ وہ تحریری شکایات میں مندرجہ ذیل معلومات لازماً مہیا کریں۔
1 ۔نام بمعہ ولدیت،۔2کاپی قومی شناختی کارڈ ، 3۔ مکمل پتہ / ایڈریس،4۔ نشان انگوٹھا / دستخط ،5۔ رابطہ نمبر موبائل / گھر / ای میل، واضح کیا جاتا ہے کہ چیئرمین نیب کی ہدایات کے مطابق اب نیب گم نام/ فرضی شکایات پر کاروائی نہیں کرے گا۔ صرف ایسی مصدقہ شکایات جو نیب کے دائرہ کار پر پورا اتر تی ہوں ان پرقانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی۔ایسی شکایات پر کاروائی سے قبل شکایات کنندگان سے بیان حلفی اسٹامپ پیپر پر لیا جائے گا۔ ہر خاص و عام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ نیب میں شکایات مندرجہ ذیل طریقہ سے جمع کروائی جا سکتی ہیں۔ 1۔ بذریعہ ڈاک/ بذات خود نیب بلوچستان دفتر واقع شاہراہ گلستان، کوئٹہ کینٹ 2۔بذریعہ ای میل balochistan@nab.gov.pk 3۔بذریعہ ڈاک / بذات خود نیب کے دفترشکایات واقع DCآفس انسکمب روڈ کوئٹہ 4۔ بذریعہ کھلی کچہری ڈائریکٹر جنرل سے بالمشافہ ملاقات کے ذریعہ( ہر ماہ کی آخری جمعرات )مزیدمعلومات کیلئے علاقائی دفتر شکایات نیب بلوچستان کے فون نمبرز: 9203614 081-، 081-9203468 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6917/2026
کوئٹہ، 24 اگست ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع پشین کے علاقے سرانان بازار میں سڑک کی تعمیر میں مصروف مزدوروں پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بار پھر معصوم پاکستانیوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر شہید کیا گیا، دہشت گردوں نے انسانیت کی تمام حدیں پار کردی ہیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محنت کش مزدور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے اور ملک و صوبے کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے کام کر رہے تھے، انہیں نشانہ بنانا دہشت گردوں کی سفاک ذہنیت کا واضح ثبوت ہے۔ معصوم شہریوں اور محنت کش پاکستانیوں کا خون بہانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گرد سمجھ لیں کہ معصوم پاکستانیوں کی شہادت ہمارے عزم کو کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط کرتی ہے۔ بلوچستان میں امن، ترقی اور عوام کے تحفظ کے لیے ریاستی ادارے پوری قوت کے ساتھ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ بلوچستان میں معصوم شہریوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ وزیر اعلیٰ نے شہید مزدوروں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں حکومت شہداءکے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل جبکہ زخمی مزدور کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6918/2026
کوئٹہ، 24 اگست۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے پیر کو یہاں معروف گلوکار و فنکار عارف بگٹی نے ملاقات کی، جس میں بلوچستان کی لوک ثقافت، موسیقی اور صدیوں پر محیط لوک داستانوں کو جدید انداز میں نئی نسل تک منتقل کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے لوک داستان ”سمل“ پر مبنی گیت کو نئے اور منفرد انداز میں پیش کرنے پر گلوکار عارف بگٹی کی کاوش کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ثقافت، روایات، لوک داستانیں اور موسیقی صوبے کے تاریخی و ثقافتی تشخص کا اہم حصہ ہیں، جنہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے مثبت انداز میں دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے فنکار اور گلوکار اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے صوبے کی ثقافت اور روایات کو موثر انداز میں اجاگر کر رہے ہیں۔ لوک داستانوں کو جدید موسیقی کے ذریعے مثبت انداز میں نئی نسل تک پہنچانا قابل تحسین اقدام ہے جس سے نوجوان نسل اپنے ثقافتی ورثے سے مزید جڑ سکتی ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان فنون لطیفہ، ثقافت اور تخلیقی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ صوبے کے باصلاحیت فنکاروں کی حوصلہ افزائی اور ان کے فن کو قومی و بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے موثر پلیٹ فارم فراہم کیے جائیں گے گلوکار عارف بگٹی نے وزیراعلیٰ بلوچستان کا فنکاروں کی حوصلہ افزائی اور صوبے کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے ان کے اقدامات پر شکریہ ادا کیا وزیراعلیٰ نے عارف بگٹی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی دھرتی کا ثقافتی ورثہ ہمارا قیمتی اثاثہ ہے اور اسے محفوظ رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6919/2026
کوئٹہ، 24 اگست ۔معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے ضلع پشین کے علاقے سرانان بازار میں سڑک کی تعمیر میں مصروف مزدوروں پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔شاہد رند نے کہا کہ معصوم اور محنت کش مزدوروں کو نشانہ بنانا دہشت گردوں کی سفاکیت اور بزدلی کا ثبوت ہے۔ دہشت گردی کی اس کارروائی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر بلوچستان کے امن، ترقی اور عوام کے حوصلوں کو متزلزل نہیں کرسکتے۔ محنت کش مزدور اپنے روزگار اور صوبے کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کر رہے تھے، انہیں نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔معاون وزیر اعلیٰ نے شہید مزدوروں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداءکے درجات بلند فرمائے اور سوگوار خاندانوں کو صبر جمیل عطا کرے۔ انہوں نے زخمی مزدور کی جلد صحتیابی کے لیے بھی دعا کی۔شاہد رند نے کہا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں مزید موثر بنائی جائیں گی۔ ریاستی ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پوری طرح متحرک ہیں اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں اور صوبے میں امن و ترقی کے سفر کو کسی صورت متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6920/2026
زیارت24 اگست۔ : صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دومڑ کی خصوصی کاوشوں اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں خانی بابا کراس سے زیارت اور زیارت سے سنجاوی تک قومی شاہراہ کی بلیک ٹاپ روڈ بنانے کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے اس اہم منصوبے سے زیارت، سنجاوی اور ملحقہ علاقوں کے عوام کو سفری سہولیات میسر آئیں گی جبکہ تجارت، سیاحت اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا جاری کام کا جائزہ لینے کے لیے پروجیکٹ ڈائریکٹر سردار عصمت اللہ صابر موسیٰ خیل، آر ای امجد صاحب اور دیگر متعلقہ افسران و اسٹاف نے موقع پر پہنچ کر تعمیراتی کام کا معائنہ کیا اور کام کے معیار و رفتار کا جائزہ لیا عوامی حلقوں نے منصوبے کے عملی آغاز پر صوبائی وزیر حاجی نور محمد خان دومڑ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے علاقے کی ترقی اور خوشحالی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6921/2026
سیوی 24 اگست۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے عوام دوست وژن اور شہریوں کو صاف ستھرا، صحت مند اور بہتر ماحول فراہم کرنے کے عزم کے تحت سیوی شہر میں صفائی ستھرائی اور نکاسی آب کا کام تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ کمشنر سیوی ڈویژن اسداللہ فیض اور ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی ہدایات کی روشنی میں چیئرمین میونسپل کمیٹی سیوی سردار محمد خان خجک کے احکامات پر چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لالہ عبدالقیوم دہپال کی نگرانی میں میونسپل کمیٹی کا عملہ شہر کے مختلف علاقوں اور سڑکوں کی صفائی میں مصروف ہے۔ گزشتہ رات ہونے والی تیز بارش کے باعث شہر کی مختلف سڑکوں پر جمع ہونے والے بارشی پانی کی نکاسی کے لیے ڈی واٹرنگ مشینوں کے ذریعے پانی نکالا جا رہا ہے، جبکہ سڑکوں اور گلیوں سے کچرا اٹھا کر مناسب مقامات پر منتقل کیا گیا۔ چیف سینیٹری انسپکٹر محمد سلیم اور مراد رند نے بھی شہر کی مختلف سڑکوں کا دورہ کرکے صفائی اور نکاسی آب کے جاری کام کی نگرانی کی اور عملے کو صفائی کے عمل کو مزید موثر بنانے کی ہدایات دیں۔ میونسپل کمیٹی انتظامیہ کے مطابق بارش کے بعد شہریوں کو درپیش مشکلات کے فوری ازالے اور شہر کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے صفائی اور نکاسی آب کا عمل بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6922/2026
لورالائی، 24 اگست۔ بلوچستان فوڈ اتھارٹی (بی ایف اے) زونل انسپیکشن ٹیم نے حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی اور ناقص خوراک کی فراہمی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے نیشنل ہائی وے ڈی جی خان روڈ سمیت لورالائی شہر کے مختلف مضافاتی علاقوں میں قائم اشیاءخوردونوش کے مراکز کا معائنہ کیا۔بی ایف اے حکام کے مطابق کارروائی کے دوران 4 ریسٹورنٹس مالکان کو جرمانے عائد کیے گئے جبکہ معمولی نوعیت کے نقائص پر 2 مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔حکام کے مطابق جرمانہ کیے گئے ریسٹورنٹس میں صفائی ستھرائی کی ابتر صورتحال، ورکرز کی ذاتی صفائی کا ناقص انتظام، کھلے کوڑے دان، ٹوٹے ہوئے کپ، حشرات کی موجودگی، گندے پانی کے ٹینک، خراب دہی اور خراب ٹٹروں کی موجودگی سمیت دیگر حفظان صحت کی خلاف ورزیاں پائی گئیں۔بی ایف اے حکام نے واضح کیا کہ عوام کو معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے خوراک کے مراکز کی باقاعدگی سے نگرانی اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ تاجروں اور فوڈ بزنس آپریٹرز کو صفائی کے معیار اور فوڈ سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت بھی کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6923/2026
لورالائی:24اگست ۔اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم کی زیرِ صدارت اسسٹنٹ کمشنر کمپلیکس میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد شہریوں کے مسائل، شکایات اور تجاویز براہِ راست سننا اور ان کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات اٹھانا تھاکھلی کچہری میں ایف سی کے میجر کامران، ایس ڈی پی او غلام اکبر، تحصیلدار بوری ثنائ اللہ لونی، مختلف سرکاری محکموں کے افسران و نمائندگان، انجمن تاجران کے عہدیداران، قبائلی عمائدین، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی اس موقع پر قبائلی عمائدین، تاجروں اور شہریوں نے اپنے مسائل اور شکایات پیش کیں، جنہیں متعلقہ محکموں کے افسران نے تفصیلی طور پر نوٹ کیا۔ شرکائ نے بالخصوص بجلی، پینے کے پانی، سڑکوں کی خستہ حالی، امن و امان، صفائی ستھرائی، نکاسی? آب، بنیادی شہری سہولیات اور BSDI کے تحت جاری ترقیاتی اسکیموں سمیت دیگر عوامی مسائل کی نشاندہی کی شہریوں نے اسسٹنٹ کمشنر کو اپنے علاقوں میں درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بنیادی سہولیات کی فراہمی اور جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر بعض مسائل کے فوری حل کے لیے متعلقہ افسران کو موقع پر ہی ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیںاسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ کھلی کچہری میں پیش کیے گئے عوامی مسائل اور شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور جن معاملات کا تعلق دوسرے محکموں سے ہے، ان پر متعلقہ حکام سے مو¿ثر رابطہ کرکے پیش رفت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان کے مسائل کے فوری ازالے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ کھلی کچہریوں کا مقصد انتظامیہ اور عوام کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنانا اور شہریوں کو اپنی شکایات براہِ راست متعلقہ حکام تک پہنچانے کا مو¿ثر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہےاسسٹنٹ کمشنر نے شہریوں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے مسائل اور شکایات کے حل کے لیے انتظامیہ سے براہِ راست رابطہ رکھیں اور علاقے میں امن و امان، صفائی ستھرائی اور سرکاری ترقیاتی منصوبوں کی بہتری کے لیے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں کھلی کچہری کے اختتام پر اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے یقین دہانی کرائی کہ شہریوں کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا اور متعلقہ محکموں سے رپورٹ طلب کرکے عوامی شکایاتب کے ازالے کو یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6924/2026
کوئٹہ 24 اگست ۔بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے سرانان بازار میں سڑک کی تعمیر میں مصروف چار مزدروں کے بہیمانہ قتل پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔اپنے مذمتی بیان میں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ دہشت گرد عناصر امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کیلئے نہتے مزدوروں پر حملہ کر رہے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ غریب مزدور دور دراز علاقوں سے اپنے بچوں اور خاندان کی کفالت کیلئے سخت موسمی حالات کے باوجود کام کرتے ہیں۔ لیکن دہشت گرد ان معصوم لوگوں کو قتل کرکے بلوچستان کے حالات خراب کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ صوبائی حکومت اور ریاستی ادارے ان غیر ریاستی عناصر کا قلع قمع کرنے کیلئے موثر کارروائی کر رہے ہیں۔ جلد ان عناصر کی بیخ کنی کرکے ملک اور صوبے کو امن کا گہوارہ بنایا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے واقع میں شہید مزدوروں کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ تمام مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطائ فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔ انہوں نے زخمی افراد کی جلد صحتیابی کیلئے بھی دعا کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6925/2026
کوئٹہ 24اگست ۔ معاون برائے داخلہ بلوچستان بابر یوسفزئی نے پشین کے علاقے سرانان میں سڑک پر کام کرنے والے چار نہتے اور معصوم مزدوروں کی شہادت کے افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم مزدوروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ اور انسانیت دشمن عمل ہے۔اپنے ایک بیان میں بابر یوسفزئی نے کہا کہ کالعدم دہشت گرد تنظیمیں معصوم شہریوں، مزدوروں اور مسافروں کو سافٹ ٹارگٹ سمجھ کر نشانہ بنا رہی ہیں، جو دہشت گردوں کی بزدلی اور سفاکیت کا واضح ثبوت ہے۔ نہتے مزدوروں کو نشانہ بنانے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے بعد صوبائی حکومت نے تمام متعلقہ سکیورٹی اداروں اور فورسز کو الرٹ کر دیا ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں اور ملوث عناصر کا تعاقب جاری ہے۔معاون برائے داخلہ نے کہا کہ واقعے میں ملوث دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔بابر یوسفزئی نے شہید مزدوروں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت غم کی اس گھڑی میں شہید مزدوروں کے خاندانوں کے ساتھ برابر کی شریک ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ شہداء کو بلند درجات اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6926/2026
کوئٹہ، 24 اگست ۔غیر معیاری اور مضرِ صحت خوراک کے خاتمے کیلئے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی انسپیکشن ٹیموں نے کوئٹہ، تربت، ڈھاڈر، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، کچلاک، خضدار اور حب سمیت مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے 60 کھانے پینے کے مراکز اور فوڈ یونٹس پرجرمانے عائد جبکہ100 سے زائد کو اصلاحی نوٹسز جاری کردئیے۔کارروائیوں کے دوران بیکنگ یونٹس، جنرل اسٹورز، ریسٹورنٹس، بیف شاپس، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز، مصالحہ شاپس و پراسیسنگ یونٹس، نان شاپس، بیکریز، سرکہ پروسیسنگ یونٹ، ہول سیل ٹریڈرز اور جوس شاپس سمیت مختلف مراکز کی چیکنگ کی گئی۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق کوئٹہ کےمشرقی بائی پاس پر 3 مراکز جرمانہ اور 3 کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ شیر جان اسٹاپ پر ایک نان شاپ کو مقررہ 320 گرام کے بجائے 250 گرام نان تیار کرنے، آٹے کی نامناسب اسٹوریج اور PPEs کی عدم موجودگی پر جرمانہ کیا گیا، جبکہ آئس لولی یونٹ کو ناقص صفائی، پراڈکٹ رجسٹریشن نہ ہونے، کھلی نکاسی آب، نامناسب لیبلنگ اور حشرات سے بچاو کا نظام نہ ہونے پر جرمانہ کیا گیا۔ واٹر پلانٹ سے پراڈکٹ رجسٹریشن کے لیے سیمپل بھی حاصل کیا گیا۔میکانگی و کاسی روڈ میں 4 فوڈ پوائنٹس جرمانہ 7 کو اصلاحی نوٹسز جاری ہوئے جبکہ سرکہ کے 4 نمونے لیبارٹری تجزیے کے لیے حاصل کیے گئے۔سرکہ یونٹ، دو بیکریوں اور جوس شاپ کو ناقص صفائی، غلط لیبلنگ، لائسنس و رجسٹریشن کی عدم موجودگی، نامکمل PPEs، نامناسب اسٹوریج اور ویسٹ مینجمنٹ کی خلاف ورزیوں پر جرمانہ کیا گیا۔علاوہ ازیں کچلاک میں جنرل اسٹورز، ہوٹلز، ٹینٹ و پکوان ہاوسز اور نان شاپس کی چیکنگ کے دوران 14 بغیر بی ایف اے لائسنس یونٹس کو چالان کیا گیا، جبکہ 2 مراکز تسلی بخش پائے گئے۔ ممنوعہ اشیائ، گٹکا، چائنیز نمک اور نان فوڈ گریڈ کلرز کے استعمال و فروخت سے بھی خبردار کیا گیا۔بروری و اسپنی روڈ کوئٹہ میں عوامی شکایات پر متعدد یونٹس کی چیکنگ کے دوران 4 مراکز کو جرمانہ کیا گیا۔ مصالحہ یونٹ، نان شاپ اور بی ایم سی ہسپتال کی دونوں کینٹینز کو ناقص صفائی، کم وزن نان، غیر معیاری رنگ، نامناسب اسٹوریج، ناقص ریفریجریشن، گندے پانی کے ٹینک، نامناسب نکاسی آب، دودھ میں برف ملانے اور مشکوک جوسز سمیت مختلف خلاف ورزیوں پر جرمانے کیے گئے۔ اسی طرح لورالائی میں 4 ریسٹورنٹس جرمانہ اور 2 کو اصلاحی نوٹسز دیے گئے جبکہ ڈھاڈر میں ایک بیکری اور 8 کریانہ اسٹورز کو ایکسپائرڈ مصنوعات اور تاریخوں کی عدم موجودگی پر جرمانہ کیا گیا۔ حب میں 2 ریسٹورنٹس اور ایک بریانی شاپ ناقص صفائی، مضر صحت آئل و رنگوں کے استعمال اور غیر مناسب پیکنگ پر جرمانے کیے گئے۔خضدار میں 3 ریسٹورنٹس، 5 ہول سیل ٹریڈرز سمیت مختلف مراکز کو جرمانہ اور 16 کو اصلاحی نوٹسز جاری ہوئے، جبکہ ایکسپائرڈ و ممنوعہ اشیاء بھی ضبط کی گئیں۔ تربت میں 7 جنرل اسٹورز، 2 فاسٹ فوڈ پوائنٹس، 2 مصالحہ شاپس، 2 بیکنگ یونٹس اور ایک ملک شاپ سمیت 14 مراکز کو جرمانہ اور 19 کو اصلاحی نوٹسز دیے گئے۔ ایکسپائرڈ مشروبات، کیکس، مصالحے، جیلی کسٹرڈ پاوڈر، بسکٹس، کینڈیز، اچار، جوسز اور ممنوعہ سویٹ سپاری ضبط کرکے موقع پر تلف کردی گئی۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی، غیر معیاری خوراک، ممنوعہ اشیاء اور ناقص حفظانِ صحت کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6927/2026
کوئٹہ 24آگست۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت 12 ربیع الاوّل عید میلادالنبیﷺ کے موقع پر جلوسوں اور دیگر مذہبی پروگراموں کے سکیورٹی و انتظامی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں 12 ربیع الاول کے جلوسوں کے لیے جامع سکیورٹی پلان کا جائزہ لیا گیا جبکہ جلوسوں کے روٹس پر سکیورٹی انتظامات اور دیگر ضروری اقدامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ جلوسوں کے دوران سکیورٹی کے فول پروف انتظامات یقینی بنائے جائیں۔اجلاس میں جلوسوں کے منتظمین اور میلاد النبی ﷺ کے نمائندوں کو ہدایت کی گئی کہ پروگرامز اور مجالس کو مقررہ اوقات میں بروقت مکمل کیا جائے تاکہ سکیورٹی اور ٹریفک کے انتظامات میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔اجلاس میں پولیس افسران، میلاد النبی ﷺ کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی اور 12 ربیع الاول کے موقع پر امن و امان اور سکیورٹی کے موثر انتظامات کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6928/2026
دکی:24اگست ۔ ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی (DHC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر دکی ڈاکٹر بہادر خان لونی، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر جوہر خان شادوزئی، اے ڈی ایم پی پی ایچ آئی راز محمد، ڈسٹرکٹ اکاونٹ آفیسر عبدالباقی، ایم اینڈ ای آفیسر ای پی آئی پیرمحمد اور دیگر متعلقہ محکموں و اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں گزشتہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں اور جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ میڈیکل آفیسرز، لیڈی میڈیکل آفیسرز اور دیگر طبی عملے کی حاضری، فیلڈ وزٹس کی رپورٹس، محکمانہ نظم و ضبط اور تادیبی کارروائیوں سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئے۔ اجلاس کے دوران ڈی ایچ کیو ہسپتال، رورل ہیلتھ سینٹرز، بنیادی مراکز صحت، سول ڈسپنسریز اور زچہ و بچہ مراکز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مختلف عمودی صحت پروگرامز، بالخصوص ملیریا کنٹرول، ٹی بی، ای پی آئی، غذائیت اور دیگر صحت عامہ کے پروگرامز کی پیش رفت اور کارکردگی پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام صحت مراکز میں عملے کی بروقت حاضری، ادویات و طبی سہولیات کی دستیابی، صفائی ستھرائی اور عوام کو معیاری طبی خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے فیلڈ وزٹس کو مزید موثر بنانے اور غیر حاضر یا غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی اور سرکاری طبی مراکز کی کارکردگی میں بہتری کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اجلاس کے اختتام پر متعلقہ افسران کو گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے اور آئندہ اجلاس میں پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6929/2026
کوئٹہ 24اگست۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) کوئٹہ حافظ محمد طارق کی زیرِ صدارت مختلف اراضی حصول کے منصوبوں میں منظور شدہ ایوارڈز کی پیش رفت اور حاصل شدہ اراضی کے انتقالات متعلقہ حصول کنندہ محکموں کے نام منتقل کرنے کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں تحصیلدار سٹی، سریاب، صدر، کچلاک سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مختلف اراضی حصول کے منصوبوں، منظور شدہ ایوارڈز پر پیش رفت، زیرِ التوا امور اور متعلقہ محکموں کے نام انتقالات کی منتقلی کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) حافظ محمد طارق نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اراضی حصول سے متعلق امور کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے اور زیرِ التوا انتقالات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹاتے ہوئے متعلقہ حصول کنندہ محکموں کے نام منتقل کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
کوئٹہ 24اگست ۔ حاجی عبدالحمید کا بقضائے الٰہی انتقال ہوگیا ہے۔ وہ محمد آصف ایریگیشن، جہانزیب خان ایریگیشن، جاوید احمد کیسکو، سجاد احمد اور اعجاز احمد کے والد، حاجی عبدالغفار، حاجی عبدالستار مرحوم، حاجی عبدالجبار مرحوم، عبداللہ خان مرحوم، حاجی نصراللہ مرحوم اور نقیب اللہ کے بھائی تھے۔ مرحوم کا جنازہ اور تدفین مورخہ 25 اگست، بروز منگل شام 5:30 بجے کلی زرغون خانوزئی کے قبرستان میں ادا کی جائیگی۔ جبکہ فاتحہ خوانی کلی زرغون میں دو روز کے لئے 26 اور 27 اگست کو منعقد کی جائیگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6930/2026
قلعہ سیف اللہ: 24اگست ۔ ڈپٹی کمشنر ساگر کمار ,ڈسٹرکٹ سپروائزر نصرالدین کاکڑ کے درمیان BEF (بلوچستان ایجوکیشن فاونڈیشن) کے تحت چلنے والے اسکولوں کے حوالے سے اہم ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں ضلع قلعہ سیف اللہ میں BEF اسکولوں کی کارکردگی، تعلیمی معیار، طلبہ کی حاضری اور اسکولوں کو درپیش مسائل سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر اسکولوں میں تعلیمی سہولیات کی بہتری، طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی اور اداروں کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6931/2026
گوادر، 24 اگست۔ : وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن ”ہر بچہ اسکول میں“ اور صوبے میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے جاری اقدامات کے تحت گوادر کے مختلف علاقوں میں قائم 23 گرلز اسکولوں کے کلسٹر بجٹ متعلقہ کلسٹر ہیڈز کے حوالے کر دیے گئے۔ اس سلسلے میں رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) زراتون بلوچ نے گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سربندن کا دورہ کیا اور اسکولوں کی تعلیمی و انتظامی ضروریات کا جائزہ لیا۔مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے اسکول کی مختلف کلاسز کا معائنہ کیا، اساتذہ اور طالبات سے ملاقات کی اور تعلیمی سرگرمیوں، دستیاب سہولیات اور درپیش مسائل کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے کلاس رومز میں جاری تدریسی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے اساتذہ پر زور دیا کہ طالبات کو معیاری تعلیم کی فراہمی اور ان کی تعلیمی صلاحیتوں میں بہتری کے لیے موثر اقدامات جاری رکھے جائیں۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) زراتون بلوچ، یونین کونسل سربندن کے چیئرمین نصیب نوشیروانی، ہیڈ ماسٹر عبداللہ داود، کلسٹر ہیڈز اور محکمہ تعلیم کے دیگر متعلقہ افسران و نمائندگان بھی موجود تھے۔دورے کے دوران سربندن، گراب، نگور، شنکانی در، کپر اور کلانچ کے علاقوں میں قائم تمام گرلز اسکولوں کے کلسٹر بجٹ متعلقہ کلسٹر ہیڈز کے حوالے کیے گئے۔ کلسٹر بجٹ کی فراہمی سے ان اسکولوں کی بنیادی تعلیمی و انتظامی ضروریات پوری کرنے، دستیاب سہولیات میں بہتری لانے اور طالبات کے لیے مزید بہتر و سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کلسٹر ہیڈز اور اساتذہ پر زور دیا کہ دستیاب وسائل کو شفافیت، میرٹ اور ضرورت کی بنیاد پر استعمال کیا جائے تاکہ بجٹ کے ثمرات براہِ راست طلبہ و طالبات تک پہنچیں اور اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں سمیت بنیادی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ گوادر میں تعلیم کا فروغ، بالخصوص بچیوں کو معیاری تعلیم اور بہتر تعلیمی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اسکولوں کے دوروں کا مقصد تعلیمی اداروں کی زمینی صورتحال کا براہِ راست جائزہ لینا، اساتذہ اور طالبات کے مسائل سننا اور دستیاب وسائل کو موثر انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وڑن کے مطابق ”ہر بچہ اسکول میں“ کے ہدف کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تعلیمی اداروں میں سہولیات کی فراہمی، معیارِ تعلیم میں بہتری اور اسکول سے باہر بچوں کو تعلیمی دھارے میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جس کے لیے حکومت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 2026/6932
بیلہ24اگست:ـاسسٹنٹ کمشنر بیلہ نصیب اللہ بڑیچ سے ان کے دفتر میں ڈی ایس پی موٹروے پولیس بیلہ، حامد حسن جعفر نے ملاقات کی ملاقات کے دوران روڈ سیفٹی اور ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی، بالخصوص موٹر سائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ کا لازمی استعمال، تیز رفتاری سے گریز، دورانِ سفر ٹریفک قوانین کی پابندی اور شہریوں میں ٹریفک شعور اجاگر کرنے کے لیے آگاہی پروگرامز کے انعقاد پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔اس موقع پراسسٹنٹ کمشنر بیلہ نصیب اللہ بڑیچ نےکہاکہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے روڈ سیفٹی کے اصولوں پر عمل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہےموٹر سائیکل سوار اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سفر کے دوران معیاری ہیلمٹ لازمی استعمال کریں اور دیگر تمام ٹریفک قوانین کی پابندی کریں.
خبر نامہ نمبر 2026/6933
قلعہ سیف اللہ24اگست: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اورنگزیب خان نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال کر فرائض کی انجام دہی شروع کر دی۔ انہوں نے اپنے دفتر پہنچ کر انتظامی امور کا جائزہ لیا اور متعلقہ افسران و عملے سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوام کو درپیش مسائل کے حل، سرکاری امور کی بروقت انجام دہی اور انتظامی معاملات میں بہتری کے لیے بھرپور کردار ادا کیا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/6934
تربت24 اگست:میونسپل کارپوریشن تربت کے میئر بلخ شیر قاضی نے گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول دشتی بازار تربت کا دورہ کیا جہاں اسکول کے اساتذہ اور اسٹاف نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر اے ڈی اے او تربت ماسٹر محمد اقبال بلوچ، کیچ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر و پی ٹی ایس ایم سی کے رکن حاجی رستم گچکی ایڈووکیٹ سمیت دیگر موجود تھے. حاجی رستم گچکی ایڈووکیٹ نے میئر تربت کو اسکول کو درپیش مختلف مسائل سے آگاہ کیا۔ میئر بلخ شیر قاضی نے مسائل کے حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے اسکول کی چاردیواری اور نئی کلاس رومز کی تعمیر کے لیے اقدامات کرنے کا وعدہ کیا۔میئر نے اسکول کے مختلف کلاس رومز کا دورہ کیا اور طلبہ سے سوالات بھی کیے۔ انہوں نے اساتذہ کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ اسکول کی ضروریات کو پورا کیا اس موقع پر اسکول کے اساتذہ فہد حسین، احسان، نثار احمد اور کریم جان بھی موجود تھے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6935
آواران24اگست:ـوزیراعلی بلوچستان میرسرفرازبگٹی کے وژن اور رکنِ صوبائی اسمبلی خیرجان بلوچ کی کوششوں سے آواران میں تعلیمی ترقی اور نوجوان نسل کے روشن مستقبل کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس مقصد کے لئے ضلع آواران کے تعلیمی اداروں کو بنیادی و جدید سہولیات فراہمی کی جانب اہم پیش رفت کاآغازہواہے تاکہ بچوں کو تعلیم کے حصول میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔سرکاری ذرائع کےمطابق ضلع آواران کے ماڈل ہائی سکول آواران، گرلز ہائی سکول مشکے اور بوائز ہائی سکول پیرانددر کو بسیں فراہم کردی گئی ہیں، جبکہ گرلز ہائی سکول گیشکور کے لیے بھی جلد بس فراہم کی جا رہی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد طلبہ و طالبات کے لیے سفری سہولیات کو بہتر بنانا اور دور دراز علاقوں سے آنے والے بچوں کے لیے تعلیم کا حصول آسان بنانا ہے۔رکن صوبائ اسمبلی آواران خیرجان بلوچ کاکہنا ہیکہ ضلع آواران کے 12 ہائی سکولوں میں EMIS سینٹرز کے لیے سولر سسٹم بھی فراہم کیے گئے ہیں، تاکہ تعلیمی اداروں میں جدید نظام کو بہتر انداز میں فعال کیا جاسکے اور بجلی کی عدم دستیابی تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہ بنے۔ان کا کہنا ہیکہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی کی بنیاد ہے اور آواران کے بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ آواران کے ہر علاقے میں تعلیم کی روشنی پہنچے اور کوئی بچہ صرف وسائل کی کمی یا دوری کی وجہ سے اپنے تعلیمی حق سے محروم نہ رہے۔رکن صوبائ اسمنلی خیرجان بلوچ نے کہا کہ آواران میں تعلیمی ترقی کا یہ سفر کسی ایک منصوبے تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ ہماری منزل صرف اسکولوں کو سہولیات فراہم کرنا نہیں بلکہ آواران کی نئی نسل کو علم، شعور اور ترقی کے وہ مواقع دینا ہے جن کے ذریعے وہ اپنے مستقبل کے ساتھ بلوچستان کا مستقبل بھی روشن کرسکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6936
سوراب24اگست:ـایس پی سوراب خورشید احمد بلوچ کی خصوصی ہدایات پر ضلع بھر میں سیکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سنیپ چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں ڈی ایس پی/ ایس ڈی او بلاول بلوچ،ایس ایچ او سٹی محمد یونس محمد شہی،ایس ایچ او صدر خادم حسین سمالانی اور ایس آئی محمد اسماعیل نیچاری کی نگرانی میں سوراب کے داخلی و خارجی راستوں سمیت مختلف اہم مقامات پر چیکنگ کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہےاسنیپ چیکنگ کے دوران مشکوک افراد، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی باریک بینی سے تلاشی لی جا رہی ہے جبکہ شہریوں کے شناختی کارڈز، ڈرائیونگ لائسنس اور گاڑیوں کے کاغذات کی بھی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر گاڑیوں میں نصب غیرقانونی ڈارک شیشوں کے خلاف خصوصی کارروائیاں عمل میں لائی گئیں، متعدد گاڑیوں سے ڈارک شیشے اتار دیے گئے جبکہ متعلقہ ڈرائیوروں کو آئندہ قانون کی خلاف ورزی سے گریز کرنے کی سخت تنبیہ کی گئی پولیس کے مطابق ان اقدامات کا مقصد جرائم پیشہ عناصر کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنا،مشتبہ سرگرمیوں کی روک تھام، عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا اور ضلع بھر میں امن و امان کی صورتحال کو مزید مستحکم بنانا ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6937
کوئٹہ 24 اگست: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں نہتے مزدوروں کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدور اپنی محنت سے تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ اکثر مزدور اپنے خاندان کے واحد کفیل ہوتے ہیں اس لیے کسی مزدور کے جاں بحق ہونے سے پورا خاندان شدید مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔ گورنر مندوخیل نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں۔ گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے سوگوار خاندانوں سے اظہارِ تعزیت اور ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/6938
کوئٹہ 24اگست:۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر سٹی امیر حمزہ نے آرچر روڈ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے نجی ملکیت میں بیسمنٹ کی کھدائی و تعمیر کے دوران زمین بیٹھنے کے واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا۔واقعے کے نتیجے میں واسا اور پی ٹی سی ایل کی پائپ لائنز کو نمایاں نقصان پہنچا، جبکہ سیف سٹی کیمروں کے لیے نصب کیے گئے پولز بھی متاثر ہوئے۔اسسٹنٹ کمشنر سٹی نے متاثرہ مقام کا تفصیلی معائنہ کیا اور ذمہ دار پراپرٹی مالک کی جانب سے جاری مرمتی و بحالی کے کام کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ ذمہ داران کو ہدایت کی گئی کہ متاثرہ سرکاری و عوامی انفراسٹرکچر کی بحالی کا کام فوری اور ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ شہریوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6939
کوئٹہ 24اگست۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ نے کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں تندوروں اور قصابوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے 35 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا۔کارروائی کے دوران کم وزن روٹی فروخت کرنے والے تندوروں اور سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کرنے والے قصابوں کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی، جبکہ متعدد دکانداروں کو سخت وارننگ بھی جاری کی گئی۔کارروائیاں چالو باوڑی، سیٹلائٹ ٹاؤن، نواں کلی، گوالمنڈی چوک، مسجد روڈ، کاسی روڈ، سریاب روڈ سمیت کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں کی گئیں۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی اور شہریوں کو کم وزن اشیاء کی فروخت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/6940
کوئٹہ 24 اگست:ـپاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما و صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے سیاسی و قبائلی رہنما ملک میر اکرم بنگلزئی کی رہائش گاہ پر پہنچ کر ان سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران سیاسی و قبائلی صورتحال، باہمی دلچسپی کے امور اور پارٹی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ملک میر اکرم بنگلزئی نے پاکستان پیپلز پارٹی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ حاجی علی مدد جتک نے ملاقات کے دوران میر اکرم بنگلزئی کے تحفظات تفصیل سے سنے اور انہیں دور کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون اور یقین دہانی کرائی۔حاجی علی مدد جتک کی یقین دہانی اور مثبت پیش رفت کے بعد ملک میر اکرم بنگلزئی نے اپنے تحفظات دور ہونے پر پاکستان پیپلز پارٹی سے اپنا استعفیٰ واپس لینے کا اعلان کردیا۔اس موقع پر ملک میر اکرم بنگلزئی نے کہا کہ بلوچستان میں حاجی علی مدد جتک جیسے حقیقی عوامی رہنما کی موجودگی عوام اور پارٹی کارکنوں کے لیے امید کی کرن ہے۔ انہوں نے کہا کہ حاجی علی مدد جتک عوامی مسائل کے حل اور پارٹی کارکنوں کے ساتھ ہر مشکل وقت میں ثابت قدمی سے کھڑے رہتے ہیں۔ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے پارٹی کے استحکام، باہمی رابطوں کے فروغ اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مل کر کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/6941
کوئٹہ24اگست: پارلیمانی سیکرٹری ٹرانسپورٹ میر لیاقت علی لہڑی نے سیکرٹری اطلاعات حکومت بلوچستان عمران خان سے ملاقات کی، جس میں صوبے میں جاری حکومتی اقدامات، ترقیاتی سرگرمیوں، عوامی مسائل اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں بالخصوص کوئٹہ میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں اور عوام کو درپیش مسائل پر گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ حکومت کے ترقیاتی منصوبوں، عوامی سہولیات اور فلاحی اقدامات کو محکمہ اطلاعات کے زریعے مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانے کے لئے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔میر لیاقت علی لہڑی نے کہا کہ عوام کو حکومتی اقدامات اور عوامی خدمت کے منصوبوں سے بروقت آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سیکرٹری اطلاعات عمران خان نے کہا کہ محکمہ اطلاعات حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ ہے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کو ذمہ دارانہ اور مؤثر انداز میں اجاگر کیا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/6942
تربت/بلیدہ24 اگست: صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی کی خصوصی کوششوں سے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں قائم ہونے والے بی بی آسیہ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کے لیے 43 نئی آسامیوں کی منظوری کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ حکومتِ بلوچستان کے محکمہ خزانہ نے کالج کے قیام اور اس کے لیے تدریسی، انتظامی و معاون عملے کی نئی آسامیوں کی تخلیق سے اصولی اتفاق کرلیا ہے۔محکمہ خزانہ بلوچستان کی جانب سے 24 اگست 2026 کو جاری کیے گئے سرکاری مراسلے کے مطابق بی بی آسیہ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج بلیدہ کے لیے مجموعی طور پر 43 نئی پوسٹیں منظور کی گئی ہیں۔ ان آسامیوں میں مختلف کیڈرز کے تدریسی، انتظامی اور معاون عملے کی پوسٹیں شامل ہیں۔منظور شدہ آسامیوں میں بی پی ایس-19 کی ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر، بی پی ایس-18 کی چار اسسٹنٹ پروفیسرز اور بی پی ایس-17 کی 16 مختلف تدریسی و انتظامی آسامیاں شامل ہیں، جو کالج کے تدریسی و انتظامی امور کو مؤثر انداز میں چلانے میں معاون ثابت ہوں گی۔مراسلے کے مطابق کالج کے لیے لائبریرین، اسسٹنٹ، اسسٹنٹ لائبریرین، سینئر کلرک، اسسٹنٹ کمپیوٹر آپریٹر، جونیئر کلرک، لیبارٹری اسسٹنٹ، ڈرائیور اور لیبارٹری اٹینڈنٹ سمیت دیگر ضروری معاون عملے کی آسامیاں بھی منظور کی گئی ہیں۔محکمہ خزانہ نے اپنے مراسلے میں واضح کیا ہے کہ مذکورہ نئی آسامیوں کو آئندہ مالی سال 2027-28 کے بجٹ میں شامل اور منعکس کیا جائے گا۔ اس پیش رفت سے کالج کے تدریسی و انتظامی ڈھانچے کو فعال بنانے میں مدد ملے گی اور ادارے کے باقاعدہ قیام کی جانب عملی پیش رفت ہوگی۔بی بی آسیہ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج بلیدہ کے لیے 43 نئی آسامیوں کی منظوری کو علاقے میں طالبات کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع کی فراہمی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ اس اقدام سے بلیدہ اور گردونواح کی طالبات کو اپنے علاقے میں اعلیٰ تعلیم کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور خواتین کی تعلیم کے فروغ میں بھی مثبت پیش رفت ہوگی۔
خبر نامہ نمبر 2026/6941 RECAST
کوئٹہ24 اگست: منگی ڈیم، ضلع زیارت میں پیش آنے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن آف انکوائری جسٹس محمد عامر نواز رانا نے کھلی عدالت میں سماعت کی۔سماعت کے دوران عبداللطیف کاکڑایڈوکیٹ جنرل بلوچستان، محمد فرید ڈوگر، ایڈیشنل اٹارنی جنرل؛ انور نسیم کاسی، ڈپٹی اٹارنی جنرل-I؛ حبیب اللہ گل، ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل؛ عبدالمتین، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سمیت دیگر متعلقہ حکام اور وکلاء بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ اے آئی جی (لیگل) شفیق الرحمان، دفتر انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان، اور کمیشن کے رجسٹرار/ بھی کارروائی میں شریک ہوئے۔کمیشن کے 18 اگست 2026 کے حکم کی تعمیل میں ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان عبداللطیف کاکڑ، اے آئی جی (لیگل) شفیق الرحمان کے ہمراہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان کی جانب سے جامع رپورٹ پیش کی۔ کمیشن نے جامع رپورٹ کا کھلی عدالت میں جائزہ لیا، اور رپورٹ کو ٹی او ار کے تقاضوں اور سوالات کے مطابق نہ ہونے اور ہدایت کے مطابق تمام متعلقہ ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر اسے غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔ مزید اگلی سماعت کے دن ائی جی پولیس بلوچستان کو محکمہ پولیس اور اس کے زیلی محکمہ جات کی جانب سے نئی جامع رپورٹ بمع تمام متعلقہ ریکارڈ ذاتی حیثیت میں پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔اس بابت ایڈوکیٹ جنرل کو ائی جی پولیس کو اگلی سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے سے متعلق اگاہ کرنے کا حکم بھی دیا۔ سماعت کے دوران زیارت، ہرنائی، لورالائی اور ملحقہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے متعدد وکلاء نے کمیشن کے روبرو پیش ہو کر منگی ڈیم واقعے کے حقائق سامنے لانے کے لیے رضاکارانہ طور پر قانونی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ کمیشن کے سامنے پیش ہونے والے وکلاء میں شمس الرحمن کاکڑ، عبدالمصور، صادق خان، برخوردار خان اچکزئی اور حبیب اللہ خان ناصر ایڈووکیٹس بھی شامل تھے۔ وکلا نے قانونی معاونت فراہم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تاکہ تحقیقات کو نتیجہ خیز انجام تک پہنچایا جا سکے اور واقعے کے تمام حقائق مکمل طور پر سامنے لائے جا سکیں۔سماعت کے موقع پر شہید اہلکاروں میں سے ایک کے بھائی نسیم اللہ بھی متعدد دیگر شہداء کے ورثاء کے ہمراہ ذاتی طور پر کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے متعدد قانونی ورثاء اور دیگر متعلقہ افراد اپنے بیانات ریکارڈ کرانے اور دستیاب شواہد کمیشن کے سامنے پیش کرنے کے خواہشمند ہیں۔نسیم اللہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بیشتر لواحقین کا تعلق دور دراز علاقوں سے ہے، جس کے باعث وہ مقررہ مدت کے اندر کمیشن کے رجسٹرار/سیکرٹری کے سامنے پیش ہو کر اپنے نام درج کرانے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے رجسٹریشن اور ناموں کے اندراج کی آخری تاریخ 28 اگست 2026 میں مزید توسیع کی درخواست کی اور یقین دہانی کرائی کہ لواحقین مقررہ توسیع شدہ مدت کے دوران کمیشن کے رجسٹرار/سیکرٹری کے دفتر میں اپنے نام درج کرائیں گے۔کمیشن نے لواحقین کی درخواست، دور دراز علاقوں سے ان کے تعلق اور سفری مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے رجسٹریشن اور ناموں کے اندراج کی آخری تاریخ 28 اگست سے بڑھا کر 3 ستمبر 2026 تک کرنے کا حکم دے دیا۔ اس طرح لواحقین اور ممکنہ گواہوں کو اپنے نام درج کرانے اور کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے لیے مزید وقت فراہم کر دیا گیا۔دورانِ سماعت کمیشن کے رجسٹرار/سیکرٹری نے بتایا کہ کمیشن کے 18 اگست 2026 کے حکم کی تعمیل میں 17 اگست 2026 کو جاری کیا گیا عوامی نوٹس 19 اگست کو معروف اردو اور انگریزی اخبارات کے صفحہ اول پر دوبارہ شائع کیا گیا۔ نوٹس شائع کرنے والے اخبارات میں روزنامہ جنگ کوئٹہ، روزنامہ مشرق کوئٹہ، باخبر کوئٹہ، بلوچستان ٹائمز کوئٹہ اور سینچری ایکسپریس کوئٹہ شامل ہیں۔کمیشن کو بتایا گیا کہ ڈی جی پی آر کے ذریعے عوامی آگاہی کے لیے میڈیا مہم بھی چلائی گئی، جبکہ عوام کو کمیشن کی کارروائی اور رجسٹریشن کے عمل سے آگاہ کرنے کے لیے وال پوسٹرز اور دیگر تشہیری مواد بھی جاری کیا گیا۔ متعلقہ اخبارات میں شائع ہونے والے نوٹس اور دیگر مواد کی نقول بھی کمیشن کے ریکارڈ کا حصہ بنا دی گئی ہیں۔دوسری جانب ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے متعلقہ حکام سے ضروری ہدایات حاصل کرنے کے لیے مزید وقت طلب کیا، جس پر کمیشن نے انہیں ایک اور موقع فراہم کر دیا۔کمیشن آف انکوائری بلوچستان نے مزید کارروائی 27 اگست 2026 بروز جمعرات، دوپہر ایک بجے تک ملتوی کر دی۔
خبر نامہ نمبر 2026/6942
کوئٹہ24 اگست: سینئر صوبائی وزیر ظہور احمد بلیدی نے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں نہتے مزدوروں کو نشانہ بنائے جانے کے افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ محنت کش طبقہ ملک اور صوبے کی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، ایسے بے گناہ افراد کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔انہوں نے کہا کہ مزدور اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں اور اکثر ایک پورا گھرانہ ان کی آمدن پر انحصار کرتا ہے۔ ایک محنت کش کی جان کا ضیاع صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ پورے خاندان کو معاشی اور انسانی مشکلات سے دوچار کر دیتا ہے۔ظہور بلیدی نے کہا کہ دہشت گردی اور بدامنی کے واقعات سے صوبے کے امن، معیشت اور عوام کے روزگار کو نقصان پہنچانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مکمل تحقیقات کرتے ہوئے ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائیں۔سینئر صوبائی وزیر نے شہید مزدوروں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غم کی اس گھڑی میں حکومت اور عوام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔
خبر نامہ نمبر 2026/6943
موسیٰ خیل
24اگست:ـ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے صحت مندانہ وژن کے تحت صوبے بھر میں عوامی صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمن نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال موسیٰ خیل کے لیے جدید ڈائیلسز مشین فراہم کی ہے، جسے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نادر خان نے باضابطہ طور پر وصول کیا۔
ڈائیلسز مشین کی وصولی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر نادر خان نے صوبائی حکومت بالخصوص سیکرٹری صحت مجیب الرحمن کے اس قدراَفزا اور عوام دوست اقدام کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ خیل جیسے علاقے کے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ڈائیلسز سہولت کی دستیابی ایک اہم پیشرفت ہے، جس سے گردے کے عارضے میں مبتلا مقامی مریضوں کو اپنے ہی ضلع میں معیاری علاج میسر آئے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل مریضوں کو ڈائیلسز کے لیے کوئٹہ اور دیگر شہروں کے طویل و دشوار گزار سفر طے کرنے پڑتے تھے، جس سے غریب اور مستحق خاندانوں پر بھاری مالی بوجھ پڑتا تھا۔ اب مقامی سطح پر اس سہولت کے آغاز سے عوام کا قیمتی وقت اور مالی وسائل دونوں محفوظ ہوں گے۔ عوامِ موسیٰ خیل نے اس احسن اقدام پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور سیکرٹری صحت مجیب الرحمن کا شکریہ ادا کیا ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6944
کوئٹہ24 اگست : صوبائی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے سرانان بازار میں محنت کش مزدوروں پر فائرنگ کے افسوسناک اور دلخراش واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت کا قتل، کھلی سفاکیت اور دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی قرار دیا ہے۔اپنے ایک مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ محنت کش مزدور اپنے بچوں اور خاندانوں کے لیے رزقِ حلال کمانے کی غرض سے روزانہ محنت اور مشقت کرتے ہیں۔ ایسے بے گناہ اور نہتے افراد کو نشانہ بنانا نہ صرف انتہائی افسوسناک بلکہ انسانیت کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ہاتھ اپنے خاندان کی کفالت، اپنے بچوں کے مستقبل اور معاشرے کی تعمیر کے لیے محنت کرتے ہیں، ان ہاتھوں پر گولیاں برسانا دہشت گردوں کی انتہائی بزدلی اور سفاک ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔مینا مجید بلوچ نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب، علاقہ یا قوم نہیں ہوتی اور بے گناہ شہریوں، خصوصاً محنت کش طبقے کو نشانہ بنانے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ایسے بزدلانہ حملوں کے ذریعے بلوچستان کے عوام کو خوفزدہ اور ان کے حوصلے پست کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ دہشت گردی اور تشدد کے خلاف اتحاد، بہادری اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔ ریاستی ادارے اور عوام امن دشمن عناصر کے خلاف متحد ہیں اور دہشت گردی کی ہر شکل کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ معصوم شہریوں کے خون کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔صوبائی مشیر نے کہا کہ محنت کش طبقہ کسی بھی معاشرے اور معیشت کی بنیاد ہوتا ہے۔ مزدوروں کو نشانہ بنا کر نہ صرف ان کے خاندانوں کو معاشی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کیا جاتا ہے بلکہ معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔مینا مجید بلوچ نے واقعے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل اور کربناک گھڑی میں وہ متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق افراد کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل اور زخمیوں کو جلد صحت یابی عطا فرمائے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے عوام امن، ترقی، خوشحالی اور اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کے خواہاں ہیں اور دہشت گردی کی کارروائیاں ان کے اس عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔ ان شاء اللہ بلوچستان میں امن و ترقی کا سفر جاری رہے گا اور صوبے کے عوام مل کر دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف اپنی جدوجہد کو مزید مضبوط بنائیں گے۔




