خبرنامہ نمبر6810/2026
گوادر/جیوانی18 اگست ۔رکنِ صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے جیوانی کے دورے کے موقع پر ماہی گیر کالونی کے لیے مختص 200 ایکڑ اراضی کا معائنہ کیا اور موقع پر زمین کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر جیوانی بھی موجود تھے رکن صوبائی اسمبلی نے کہا کہ ماہی گیر ساحلی معیشت اور مقامی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کے لیے بہتر رہائشی و بنیادی سہولیات کی فراہمی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہیگیر کالونی کے لیے مختص اراضی کے معاملے کو عوامی مفاد، ماہی گیروں کی فلاح و بہبود اور ماہی گیری کے شعبے کے فروغ کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6811/2026
اسلام آباد،18 اگست: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ (BBOIT) کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سے ملاقات کی، جس میں بلوچستان میں سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری سہولت کاری اور سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی سے متعلق اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے وفاقی وزیر کو بورڈ کی جانب سے کاروباری سہولت کاری، سرمایہ کاروں کو معاونت، سرمایہ کاری کے تحفظ اور مقامی و بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار کاروباری ماحول کی تشکیل کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بلوچستان میں سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری برادری کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے بی بی او آئی ٹی کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے بلوچستان میں سرمایہ کاری کے منصوبوں کو آگے بڑھانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مستحکم کرنے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے حکومتِ بلوچستان کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دیکر ترقی و خوشحالی کی نئی راہیں متعین کی جا سکتی ہخں، وفاقی حکومت کو کوشس ہے کہ بلوچستان کو ترقی کے میدان میں دیگر صوبوں کے برابرلایا جائے۔ بلال خان کاکڑ نے وفاقی وزیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان موثر رابطہ اور باہمی تعاون کے ذریعے سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ اور بلوچستان کی وسیع معاشی استعداد کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ بی بی او آئی ٹی بلوچستان میں سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری آسانیوں میں اضافے اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک موثر اور قابلِ اعتماد نظام کی فراہمی کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Islamabad, August 18: Vice Chairman of the Balochistan Board of Investment and Trade (BBOIT), Bilal Khan Kakar, met with Federal Minister for Defence Khawaja Muhammad Asif, during which they held detailed discussions on measures to promote investment in Balochistan, facilitate businesses, and create a conducive environment for investors.During the meeting, Bilal Khan Kakar briefed the federal minister on the initiatives being undertaken by BBOIT to facilitate businesses, provide support to investors, ensure investment protection, and create a favorable business environment for both local and international investors.Federal Minister for Defence Khawaja Muhammad Asif appreciated BBOIT’s efforts to promote investment in Balochistan and provide facilities to the business community. He assured the Government of Balochistan of the federal government’s full cooperation in advancing investment projects in the province and further strengthening investors’ confidence.Khawaja Muhammad Asif said that promoting foreign investment in Balochistan could open new avenues for development and prosperity. He said the federal government was making efforts to bring Balochistan on par with other provinces in terms of development.Bilal Khan Kakar thanked the federal minister and said that effective coordination and mutual cooperation between the federal and provincial governments could help remove obstacles to investment, promote business activities, and unlock Balochistan’s vast economic potential.He added that BBOIT remains committed to promoting investment in Balochistan, improving ease of doing business, and providing investors with an effective and reliable support system.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6812/2026
کوئٹہ18 اگست۔سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بلوچستان بابر خان نے بلوچستان ہائی کورٹ کی عمارت کی توسیعی منصوبے کا تفصیلی دورہ کیا اور جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اس موقع پر چیف انجینئر کوئٹہ زون عبدالرحیم بنگلزئی چیف آ رکیٹیکٹ ڈاکٹر سہراب مری ایگزیکٹو انجینئر بلڈنگ کچلاک ڈویژن عمر منیر سمیت متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے دورے کے دوران سیکریٹری مواصلات و تعمیرات کو منصوبے کی مجموعی پیش رفت تعمیراتی مراحل تکنیکی امور، آرکیٹیکچرل ڈیزائن درپیش چیلنجز اور منصوبے کی تکمیل کے مجوزہ ٹائم فریم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی حکام نے منصوبے پر جاری کام استعمال ہونے والے تعمیراتی معیار اور آئندہ مراحل سے متعلق بھی آگاہ کیاسیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے منصوبے کے مختلف حصوں کا معائنہ کرتے ہوئے تعمیراتی معیار کام کی رفتار اور دستیاب وسائل کا جائزہ لیا انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ منصوبے کی تکمیل میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام کام مقررہ شیڈول کے مطابق بروقت مکمل کیے جائیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کی عمارت کا توسیعی منصوبہ نہایت اہمیت کا حامل ہے جس کی تکمیل سے عدالت عالیہ میں آنے والے سائلین وکلا اور عدالتی عملے کو جدید اور بہتر سہولیات میسر آئیں گی انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اس لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور مو¿ثر رابطے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں سیکریٹری مواصلات و تعمیرات نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور تعمیراتی سرگرمیوں میں کسی بھی قسم کا وقفہ نہ آنے دیا جائے انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبے پر چوبیس گھنٹے بنیادوں پر کام جاری رکھا جائے تاکہ مقررہ مدت کے اندر تمام اہداف حاصل کیے جا سکیں انہوں نے مزید کہا کہ منصوبے کی تکمیل کے لیے دستیاب وقت انتہائی محدود ہے لہٰذا تمام انجینئرز افسران اور عملہ اپنی مکمل صلاحیتوں سے بڑھ کر کام کرے ان کا کہنا تھا کہ عوامی مفاد کے اس اہم منصوبے میں کسی بھی قسم کی سستی غفلت یا کوتاہی ناقابلِ قبول ہوگی جبکہ تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ بھی نہیں کیا جائے گا انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کام کی رفتار اور معیار کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ منصوبہ بروقت اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل ہو سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6813/2026
ہرنائی :18اگست ۔ سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان عمران گچکی اور چیف کنزروٹر علی عمران کی خصوصی ہدایات پر ہرنائی میں مون سون شجرکاری مہم 2026ء کا باقاعدہ اور پروقار افتتاح کر دیا گیا۔ اس سلسلے میں 18 اگست کو ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ضلعی انتظامیہ، محکمہ جنگلات، تعلیمی اداروں کی شخصیات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی اور پودے لگا کر مہم کا آغاز کیا۔تقریب میں ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین، ڈویژنل فارسٹ آفیسر (ڈی ایف و) محمد ذاکر مری، ڈگری کالج ہرنائی کے وائس پرنسپل سید احمد سومرو، رینج فارسٹ آفیسر جانان خان، ڈپٹی رینجر فارسٹ مولوی غلام ربانی، فارسٹر عجب خان، نائب تحصیلدار کلیم اللہ ترین، ڈپٹی کمشنر پی ایس امیر محمد ترین، نجیب ترین اور جلیل شاہ سمیت دیگر افسران و اہلکاروں نے شرکت کی۔ تمام معززین نے اپنے ہاتھوں سے پودے لگا کر ماحول دوست اقدام کا عملی ثبوت دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے شجرکاری کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا شجرکاری محض ماحول کی خوبصورتی کا ذریعہ نہیں بلکہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے، صاف و صحت مند فضا کی فراہمی اور ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضامن ہے۔ مون سون کے اس مناسب موسم میں زیادہ سے زیادہ پودے لگانا اور ان کی مسلسل دیکھ بھال کرنا ہم سب کی قومی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ڈپٹی کمشنر نے عوام بالخصوص نوجوانوں، طلباء، سرکاری و نجی اداروں پر زور دیا کہوہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک پودا لگانا صدقہ جاریہ کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے ہر شہری کم از کم ایک پودا لازمی لگائے اور اس کی حفاظت و آبیاری کو یقینی بنائے۔تقریب کے اختتام پر ملک و قوم کی سلامتی، معاشی خوشحالی، بلوچستان کے سرسبز و شاداب مستقبل اور اس مون سون شجرکاری مہم کی کامل کامیابی کے لیے خصوصی اجتماعی دعا کی گئی۔ اس موقع پر محکمہ جنگلات کی جانب سے تمام شہریوں میں پودے لگانے اور
ماحول کو بہتر بنانے کا عزم دہرایا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6814/2026
کوئٹہ 18اگست ۔ بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ، 2015 کے تحت ٹیکس قوانین پر موثر عملدرآمد اور ٹیکس تعمیل یقینی بنانے کیلئے بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) نے صوبے بھر میں غیر رجسٹرڈ سروس فراہم کنندگان کے خلاف خصوصی انفورسمنٹ مہم تیز کر دی ہے۔ ایسے سروس فراہم کنندگان جو ٹیکس قوانین کے تحت رجسٹریشن کے پابند ہیں لیکن تاحال رجسٹرڈ نہیں ہوئے، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔اسی طرح وہ سروس فراہم کنندگان جو پہلے سے بی آر اے کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں لیکن مقررہ مدت میں اپنے ٹیکس ریٹرنز فائل نہیں کر رہے، ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کا آغاز کیا جا رہا ہے۔بی آر اے نے واضح کیا ہے کہ ریسٹورنٹس، میرج ہالز، کنسلٹنٹس، آئی ٹی سے متعلق خدمات، طبی و دیگر پیشہ ورانہ خدمات، ٹرانسپورٹ و کورئیر سروسز، بلڈرز، آرکیٹیکٹس، پراپرٹی ڈویلپرز اور دیگر قابلِ ٹیکس خدمات فراہم کرنے والے افراد اور ادارے، جہاں قانون کے تحت قابلِ اطلاق ہو، اپنی رجسٹریشن اور دیگر ٹیکس ذمہ داریاں پوری کریں۔اتھارٹی نے رجسٹرڈ سروس فراہم کنندگان کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ بروقت ٹیکس ریٹرنز فائل، درست معلومات فراہم اور واجب الادا ٹیکس مقررہ مدت میں ادا کریں۔ عدم تعمیل کی صورت میںبلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ، 2015 اور متعلقہ قوانین کے تحت جرمانوں، ڈیفالٹ سرچارج اور دیگر قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے تمام متعلقہ سروس فراہم کنندگان پر زور دیا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر قانون کی پاسداری کرتے ہوئے رجسٹریشن اور ریٹرن فائلنگ کی ذمہ داریاں مکمل کریں تاکہ غیر ضروری قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے اور بلوچستان میں شفاف، منصفانہ اور موثر ٹیکس نظام کے فروغ میں اپنا کردار ادا کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6815/2026
استا محمد18اگست ۔ ایس پی استا محمد حافظ معاذ الرحمٰن خان نے کہا ہے کہ استا محمد کو نئے ضلع کا درجہ ملنے کے بعد عوام کو موثر اور بہتر پولیسنگ کی فراہمی، جرائم کی روک تھام اور امن و امان کے قیام کے لیے پولیس کے نظام کو مزید منظم اور موثر بنایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف علاقوں میں نئے پولیس تھانے قائم کیے گئے ہیں، جن میں زور گڑھ اور باغ ٹیل کے تھانے شامل ہیں، جبکہ اہم اور حساس مقامات پر مزید پولیس چوکیاں بھی قائم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے تھانوں اور پولیس چوکیوں کے قیام سے پولیس کو جرائم پیشہ عناصر کی نگرانی، فوری کارروائی اور عوام کو بروقت تحفظ فراہم کرنے میں نمایاں مدد مل رہی ہے۔ دور دراز علاقوں میں پولیس کی موجودگی بڑھنے سے عوام کے مسائل کے فوری ازالے اور امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے میں بھی مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ایس پی حافظ معاذ الرحمٰن خان نے بتایا کہ استا محمد ایک نئے ضلعے کی حیثیت سے تیزی سے انتظامی اور آبادی کے لحاظ سے وسعت اختیار کر رہا ہے، جس کے باعث پولیس پر ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ حالات اور بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر پولیس فورس میں مزید نفری کا اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت استا محمد پولیس کو تقریباً 183 پولیس کانسٹیبلز کی فوری ضرورت ہے تاکہ نئے قائم ہونے والے تھانوں اور پولیس چوکیوں کو مطلوبہ نفری فراہم کی جا سکے اور مختلف علاقوں میں پولیس گشت، ناکہ بندی، جرائم کی روک تھام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات مزید بہتر انداز میں جاری رکھے جا سکیںانہوں نے مزید کہا کہ پولیس کانسٹیبلز کی اس ضرورت اور اضافی نفری کی فراہمی کا معاملہ اعلیٰ حکام کے نوٹس میں لایا جا چکا ہے جیسے ہی اعلیٰ حکام کی جانب سے منظوری حاصل ہوگی بھرتی کا عمل شروع کیا جائے گا، جس سے استا محمد پولیس میں نفری کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ ایس پی استا محمد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیس محدود وسائل اور دستیاب نفری کے باوجود عوام کے جان و مال کے تحفظ، جرائم کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کر رہی ہےاضافی نفری کی فراہمی کے بعد پولیس کی کارکردگی اور عوامی خدمت کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے گا اور ضلع استا محمد میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششوں کو
مزید تیز کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6816/2026
گوادر/جیونی18اگست ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق صوبے کے ساحلی علاقوں کے ماہی گیروں کی فلاح، روزگار کے فروغ اور انہیں جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے حکومت بلوچستان کی جانب سے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی تسلسل میں جیوانی میں گرین بوٹ اسکیم کی قرعہ اندازی اور سمندری طوفان سے متاثرہ ماہی گیروں میں امدادی چیکس کی تقسیم کے حوالے سے تقریب منعقد ہوئی۔تقریب میں رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ، اسسٹنٹ کمشنر جیونی طارق امام، ڈائریکٹر میرین فشریز گوادر احمد ندیم،معروف کاروباری شخصیت سیٹھ چراغ کلمتی،اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز جیونی بشیر کاکڑ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز گوادر شاہ فہد، وائس چیئرمین میونسپل کمیٹی جیوانی امان جان امان، وسیم صمد، اورنگزیب بلوچ، کونسلر ایم سی جیونی امام دلوش، وائس چیئرمین یونین کونسل گنز زاہد صالح، احمد ہوت سمیت محکمہ فشریز کے افسران، ضلعی انتظامیہ کے نمائندگان اور ماہیگیر برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب کے دوران گرین بوٹ اسکیم کی شفاف قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب ہونے والے 8 خوش نصیب ماہی گیروں میں کشتیاں تقسیم کی گئیں۔ حکام نے بتایا کہ گرین بوٹ اسکیم کا مقصد مقامی ماہیگیروں کو جدید اور بہتر سہولیات فراہم کرنا، ان کے روزگار کے مواقع میں اضافہ، ماہی گیری کے شعبے کو فروغ دینا اور ساحلی آبادی کو معاشی طور پر مستحکم کرنا ہے۔اس موقع پر سمندری طوفان سے متاثرہ ماہی گیروں میں امدادی چیکس بھی تقسیم کیے گئے تاکہ قدرتی آفت کے باعث ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنے میں متاثرہ خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاسکے۔تقریب سے رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ، ڈائریکٹر میرین فشریز گوادر احمد ندیم اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز جیوانی بشیر کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی ساحلی پٹی میں ماہی گیری لاکھوں افراد کے روزگار کا اہم ذریعہ ہے، اس لیے ماہی گیروں کی معاشی خوشحالی، جدید سہولیات کی فراہمی اور بنیادی مسائل کا حل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے ساحلی علاقوں کی ترقی اور ماہی گیرہی برادری کی فلاح کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کو سراہا۔مقررین نے کہا کہ گرین بوٹ اسکیم جیسے فلاحی اقدامات سے نہ صرف ماہیگیروں کے روزگار کو تحفظ ملے گا بلکہ مقامی معیشت کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔ حکومت بلوچستان ساحلی علاقوں کے عوام کو معاشی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنے اور ان کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔تقریب کی نظامت انسپکٹر فشریز جیوانی نور بلوچ نے انجام دی۔ماہی گیرہی برادری نے گرین بوٹس کی فراہمی اور طوفان سے متاثرہ ماہی گیروں میں مالی امداد کی تقسیم کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے حکومت بلوچستان، محکمہ فشریز، ضلعی انتظامیہ اور رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کا شکریہ ادا کیا۔ ماہی گیروں نے کہا کہ ساحلی معیشت میں ان کا بنیادی کردار ہے، تاہم انہیں کشتیوں، جیٹی، فش لینڈنگ پوائنٹس، کولڈ اسٹوریج، جدید آلات اور دیگر بنیادی سہولیات کے حوالے سے مزید تعاون کی ضرورت ہے۔ماہی گیر برادری نے امید ظاہر کی کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں حکومت بلوچستان ساحلی علاقوں کی ترقی اور ماہیگیروں کی فلاح کے لیے جاری اقدامات کو مزید وسعت دے گی، جس سے گوادر اور جیوانی سمیت بلوچستان کی پوری ساحلی پٹی میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور مقامی آبادی کی معاشی حالت مزید مستحکم ہوگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6817/2026
گوادر 18 اگست ۔: ووکیشنل ٹریننگ سینٹر گوادر میں چھ ماہ کے فنی تربیتی کورسز کے لیے داخلے جاری محکمہ افرادی قوت و تربیت حکومتِ بلوچستان کے زیرِ انتظام ووکیشنل ٹریننگ سینٹر VTC گوادر میں سیشن 2026-27 کے لیے مختلف چھ ماہ کے فنی و پیشہ ورانہ تربیتی کورسز میں داخلوں کا اعلان کردیا گیا ہےووکیشنل ٹریننگ سینٹر گوادر میں نوجوانوں کو عملی اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ ہنر فراہم کرنے کے لیے آفس مینجمنٹ و کمپیوٹر آپریٹر، جنرل الیکٹریشن، ریفریجریشن و ایئر کنڈیشننگ اور موٹر وائنڈنگ کے چھ ماہ کے تربیتی کورسز شروع کیے جا رہے ہیں۔داخلے کے خواہش مند امیدوار 31 اگست 2026 تک ووکیشنل ٹریننگ سینٹر گوادر، ٹی ٹی سی کالونی سے داخلہ فارم حاصل کرکے دفتری اوقات میں جمع کرا سکتے ہیں مزید معلومات کے لیے ووکیشنل ٹریننگ سینٹر گوادر سے درج ذیل نمبرز پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
086-4211484,0333-7992490,03343112903
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6818/2026
گواد، 18 اگست ۔: وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وڑن اور صوبائی حکومت کی صحت عامہ پالیسی کے تحت میر عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ ہسپتال گوادر میں عوام کو معیاری، بروقت اور قابلِ رسائی طبی سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ماہ جولائی کے دوران مختلف شعبہ جات میں ہزاروں مریضوں کو علاج، تشخیص اور دیگر ضروری طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر حفیظ بلوچ نے بتایا کہ جولائی کے دوران ہسپتال کی او پی ڈی میں 10,527، ایمرجنسی میں 2,479 جبکہ گائنی او پی ڈی میں 1,137 مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ حاملہ خواتین کی قبل از پیدائش نگہداشت کے تحت مجموعی طور پر 750 اے این سی کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ 24 خواتین کی محفوظ ڈیلیوری ہسپتال میں انجام دی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ مریضوں کو موثر تشخیصی سہولیات کی فراہمی کے لیے ماہ جولائی میں 811 الٹراساونڈ، 26 ای سی جی، 512 ایکسرے اور 4,931 لیبارٹری ٹیسٹ کیے گئے۔ اسی طرح ملیریا کی روک تھام اور بروقت تشخیص کے لیے 2,286 افراد کی اسکریننگ کی گئی، جبکہ اسپتال میں ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی اور ایچ آئی وی کی اسکریننگ بھی جاری رہی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق گردوں کے مریضوں کے لیے 129 ڈائیلاسز سیشنز کیے گئے، جبکہ بلڈ بینک کے ذریعے 331 خدمات فراہم کی گئیں اس اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہسپتال میں علاج معالجے کے ساتھ ساتھ تشخیصی خدمات، ماں اور بچے کی صحت، ایمرجنسی کیئر، متعدی امراض کی اسکریننگ اور گردوں کے مریضوں کے علاج پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی صحتِ عامہ کی ترجیحات کے مطابق ہسپتال میں دستیاب طبی سہولیات کو مزید موثر اور بہتر بنانے، مریضوں کو بروقت علاج فراہم کرنے اور صحت کی معیاری خدمات کو عوام کے قریب لانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مریض دوست ماحول، بروقت تشخیص، مو¿ثر علاج اور محفوظ طبی خدمات ہسپتال انتظامیہ کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہیں ہسپتال انتظامیہ کے مطابق گوادر اور گردونواح کے عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے موجودہ خدمات میں مزید بہتری لانے، طبی نظام کو مضبوط بنانے اور مریضوں کی ضروریات کے مطابق سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 6819/2026
موسیٰ خیل(18 اگست ۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیر صدارت ڈپٹی کمشنر کانفرنس ہال میں ایک تقریب منعقد ہوئی، جس میں نئے بھرتی ہونے والے 39 کنٹریکٹ اساتذہ میں تعیناتی کے آرڈرز تقسیم کیے گئےاس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حافظ جمال الدین بزدار اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبد الوہاب بھی ان کے ہمراہ موجود تھےتقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی تعلیم دوست پالیسی کے تحت صوبے بھر میں تعلیم کے شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر بہتر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے نئے تعینات ہونے والے اساتذہ کو مبارکباد دی اور انہیں اپنی ذمہ داریاں بھرپور لگن اور ایمانداری سے سرانجام دینے کی ہدایت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ معیاری تدریس ہماری اولین ترجیح ہےنئے تعینات ہونے والے اساتذہ کرام نے شفاف اور میرٹ پر مبنی بھرتی کے عمل کو یقینی بنانے پر ڈپٹی کمشنر اور کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6820/2026
گوادر 18 اگست ۔ جامعہ گوادر کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کی زیر صدارت وائس چانسلر سیکرٹریٹ میں تعلیمی و انتظامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں فال 2026 کے داخلوں، مقررہ داخلہ اہداف کے حصول اور نئے تعلیمی سمسٹر کے آغاز کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید منظور احمد، رجسٹرار ڈاکٹر دولت خان، ڈائریکٹر فنانس رحمت اللہ، ڈائریکٹر کیو ای سی ڈاکٹر رابعہ اسلم، ڈائریکٹر اورک ڈاکٹر ارشاد بلیدی سمیت مختلف ڈپارٹمنٹ کے سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر نے زور دیا کہ فال 2026 کی داخلہ مہم کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ جامعہ کے مقررہ داخلہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں نے تمام متعلقہ شعبہ جات اور فیکلٹی ممبران کو ہدایت کی کہ جامعہ کے تعلیمی پروگرامز کو بھرپور انداز میں متعارف کرایا جائے اور زیادہ سے زیادہ ممکنہ طلبہ تک رسائی حاصل کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ داخلہ اہداف کے حصول کے لیے ایک منظم، شفاف، بروقت اور طلبہ دوست طریقہ کار اختیار کیا جائے وائس چانسلر نے فیکلٹی ممبران پر بھی زور دیا کہ وہ داخلہ مہم میں فعال کردار ادا کریں اور آگاہی سرگرمیوں، اسکولز و کالجز کے دوروں، سوشل میڈیا مہم اور براہِ راست رابطوں کے ذریعے ممکنہ طلبہ تک جامعہ کے تعلیمی پروگرامز اور مواقع کی معلومات پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ وار داخلہ اہداف کی مسلسل نگرانی کی جائے نئےتعلیمی سمسٹر کے آغاز کے حوالے سے وائس چانسلر نے تعلیمی نظم و ضبط اور بروقت تیاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے فیکلٹی کو ہدایت کی کہ تدریسی شیڈول، کورسز کی تقسیم، تدریسی مواد، کلاس رومز اور دیگر ضروری تعلیمی انتظامات مکمل کیے جائیں۔وائس چانسلر نے تمام متعلقہ افسران، فیکلٹی ممبران اور عملے پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون، عزم اور ذمہ داری کے ساتھ کام کرتے ہوئے جامعہ کے داخلہ اہداف کے حصول اور نئے تعلیمی سمسٹر کے کامیاب آغاز کو یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6821/2026
لورالائی18آگست ۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PM&DC) کا اعلیٰ سطحی وفد لورالائی میڈیکل کالج کے معائنے اور کالج میں طبی تعلیم و تربیت کے معیار کا جائزہ لینے کے لیے لورالائی پہنچ گیا، جہاں وفد نے لورالائی میڈیکل کالج، ٹیچنگ ہسپتال اور کالج کی نئی زیرِ تعمیر/مکمل شدہ عمارت سمیت مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیاپی ایم اینڈ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمدبڑیچ، ڈی سی کے وفد میں پروفیسر ڈاکٹر محمد سمیر قریشی (DIMC کراچی)، کنوینئر پروفیسر ڈاکٹر عبد الرب (JSMU کراچی)، ڈاکٹر سہیل امیر (BMC بنوں)، ڈاکٹر محمد اکرا (BMC بنوں)، انجینئر وجاہت علی (LCMD کراچی)، مسٹر محیمن اے میمن (LMC حیدرآباد) اور مسٹر انور الحق کاکڑ (کوئٹہ) شامل تھےدورے کے موقع پر لورالائی میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر بشیر اللہ بھی موجود تھے۔ وفد کی آمد پر کالج انتظامیہ کی جانب سے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کیا گیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر الطاف صاحب نے پی ایم اینڈ ڈی سی کی ٹیم کو لورالائی میڈیکل کالج کے تعلیمی انتظامی، طبی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی بریفنگ میں کالج میں فراہم کی جانے والی طبی تعلیم، طلبہ کے لیے دستیاب سہولیات، فیکلٹی، تدریسی و کلینیکل تربیت لیبارٹریز، لائبریری، کلاس رومز، ہاسٹل، بنیادی ڈھانچے اور ٹیچنگ ہسپتال سے متعلق امور پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ وفد کو کالج کی کارکردگی، مستقبل کے منصوبوں اور طلبہ کو معیاری طبی تعلیم کی فراہمی کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیابریفنگ کے بعد پی ایم اینڈ ڈی سی وفد نے لورالائی ٹیچنگ ہسپتال اور میڈیکل کالج کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا۔ وفد کے ارکان نے مختلف وارڈز، او پی ڈی، ایمرجنسی، تشخیصی سہولیات، تدریسی شعبہ جات، لیبارٹریز اور دیگر متعلقہ شعبوں کا جائزہ لیا اور وہاں موجود سہولیات، طبی آلات، عملے اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی خدمات کے بارے میں معلومات حاصل کیں وفد نے لورالائی میڈیکل کالج کی نئی عمارت کا بھی دورہ کیا اور وہاں دستیاب بنیادی و تدریسی سہولیات کا جائزہ لیا۔ معائنے کے دوران کالج انتظامیہ کی جانب سے وفد کے سوالات کے جوابات دیے گئے اور مختلف شعبہ جات سے متعلق ضروری ریکارڈ اور معلومات بھی پیش کی گئیں پی ایم اینڈ ڈی سی ٹیم نے کالج کے تعلیمی و طبی ماحول، تدریسی سہولیات اور طلبہ کو فراہم کیے جانے والے کلینیکل ایکسپوڑر کا بھی جائزہ لیا۔ وفد نے اس امر پر زور دیا کہ میڈیکل طلبہ کی بہتر تربیت کے لیے معیاری تدریسی سہولیات کے ساتھ ساتھ ٹیچنگ ہسپتال میں مناسب کلینیکل سہولیات اور مریضوں کا وافر بوجھ بھی ضروری ہےدورے کے دوران کالج انتظامیہ نے وفد کو بتایا کہ لورالائی میڈیکل کالج علاقے میں طبی تعلیم کے فروغ اور مقامی نوجوانوں کو ڈاکٹر بننے کے مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ کالج اور ٹیچنگ ہسپتال کی سہولیات میں مزید بہتری لانے کے لیے مختلف اقدامات بھی جاری ہیںذرائع کے مطابق پی ایم اینڈ ڈی سی کا وفد اپنے دو روزہ دور لورالائی کے دوران کالج اور ٹیچنگ ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا مزید جائزہ لے گا اور متعلقہ حکام و انتظامیہ سے ملاقاتیں بھی کرے گا۔ معائنے کے اختتام پر وفد اپنی مشاہداتی رپورٹ مرتب کرے گا، جس میں کالج کی موجودہ سہولیات، تدریسی معیار، فیکلٹی، کلینیکل تربیت اور دیگر متعلقہ امور کے بارے میں سفارشات شامل ہوں گیاکالج انتظامیہ اور مقامی حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ پی ایم اینڈ ڈی سی کے اس دورے سے لورالائی میڈیکل کالج میں طبی تعلیم اور صحت کی سہولیات کے معیار کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور علاقے کے طلبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ طبی تعلیم و تربیت کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6822/2026
تربت.18اگست ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا.جس میں ضلع کیچ میں تعلیمی امور، اساتذہ کی حاضری، اسکولوں کو درپیش مسائل اور طلبہ و طالبات کو بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد، ڈی او ای کیچ اصغر علی، گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی اسکول تربت کی پرنسپل زمرد واحد، ڈگری کالج تربت کے پرنسپل صغیر احمد، یونیسف کے فیض الرحمن، آر ٹی ایس ایم کے حلیم بلوچ، تمام تحصیلوں کے ڈی ڈی اوز، محکمہ خزانہ کے نمائندے، این آر ایس پی کے نمائندے سمیت دیگر متعلقہ افسران موجود تھے۔اجلاس کے آغاز میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد نے محکمہ تعلیم کی مجموعی صورتحال، تعلیمی اداروں اور دیگر متعلقہ امور کے حوالے سے اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دی, بعد ازاں یونیسف کے نمائندے فیض الرحمن نے یونیسف کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں جاری اقدامات اور تعاون سے متعلق بریفنگ پیش کی۔آر ٹی ایس ایم کے حلیم بلوچ نے اساتذہ کی حاضری، غیر حاضری اور قواعد و ضوابط کے تحت تنخواہوں میں کٹوتی سے متعلق اجلاس کو آگاہ کیا اس موقع پر گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی اسکول تربت کی پرنسپل زمرد واحد سمیت دیگر افسران و سربراہانِ ادارہ نے اپنے اپنے اسکولوں کو درپیش مسائل اور ضروریات سے اجلاس کو آگاہ کیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ ضلع کیچ کے طلبہ و طالبات کا مستقبل ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے اور اس حوالے سے سنجیدہ سوچ و بچار کے ساتھ عملی اقدامات کیے جائیں انہوں نے کہا کہ تعلیم کے معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، فرائض میں غفلت اور ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے والے اساتذہ کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور غیر حاضری کی صورت میں تنخواہوں کی کٹوتی کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نے مزید کہا کہ اسکولوں اور اساتذہ کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا تاکہ تعلیمی اداروں میں بہتر ماحول فراہم کیا جاسکے اور طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی کی جانب سے تعلیمی نظام کی بہتری، اساتذہ کی حاضری اور طلبہ کے روشن مستقبل کو ترجیح دینا ان کی تعلیمی شعبے کے حوالے سے سنجیدہ، متحرک اور ذمہ دارانہ قیادت کی عکاسی کرتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6823/2026
چمن18اگست ۔ صوبائی مشیر برائے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، نسیم الرحمن خان ملاخیل نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی سے ان کے صاحبزادے ثناءاللہ اچکزئی کی ناگہانی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور درجات کی بلندی کے لیے دعا گو رہے۔ اس موقع پر انہوں نے سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غم کی اس مشکل گھڑی میں وہ برابر کے شریک ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6824/2026
لورالائی18گست ۔جشن آزادی پاکستان کی مناسبت سے بائٹمز لورالائی کے زیر اہتمام انٹر کالج تقریری مقابلے کا انعقاد کیا گیا، جس میں ضلع لورالائی کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلباءنے بھرپور شرکت کرتے ہوئے وطن سے محبت، قومی یکجہتی، تعلیم، نوجوانوں کے کردار اور پاکستان کی ترقی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیاتقریری مقابلے کے مہمان خصوصی کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ تھے، جبکہ بائٹمز لورالائی کے ریکٹر عزیز خلجی، کیپٹن وقار احمد شہید ریزیڈنشل کالج کے وائس پرنسپل پروفیسر منصور الرحمن، اے بی ایف کالج کے پرنسپل اعجاز صاحب، اساتذہ، طلبائاور دیگر معززین بھی تقریب میں موجود تھےمقابلے میں بائٹمز لورالائی، کیپٹن وقار احمد شہید ریزیڈنشل کالج لورالائی، بوائز ڈگری کالج لورالائی، گرلز ڈگری کالج لورالائی اور اے بی ایف کالج کے طلباءنے حصہ لیا۔ شرکاء نے جشن آزادی کے حوالے سے اپنے خطاب میں تحریک آزادی، قیام پاکستان کے مقاصد، قومی ذمہ داریوں، نوجوان نسل کے کردار اور ملک کی تعمیر و ترقی کے مختلف پہلووں کو اجاگر کیاتقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر لورالائی ڈویڑن ولی محمد بڑیچ نے کہا کہ پاکستان کی حقیقی آزادی اور ترقی کا خواب اسی وقت شرمند? تعبیر ہوسکتا ہے جب نوجوان نسل جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم حاصل کرے اور بالخصوص جدید فنی و تکنیکی تعلیم کی طرف بھرپور توجہ دے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں قوموں کی ترقی کا دارومدار علم، تحقیق، ہنر اور جدید ٹیکنالوجی پر ہے، اس لیے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگاانہوں نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں اور انہیں مثبت سرگرمیوں، معیاری تعلیم اور فنی تربیت کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تعلیمی ادارے نوجوانوں کی شخصیت سازی اور انہیں مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرنے میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں کمشنر ولی محمد بڑیچ نے مزید کہا کہ تقریری اور ہم نصابی سرگرمیاں طلبائمیں اعتماد، قائدانہ صلاحیتوں، اظہارِ خیال اور مقابلے کا جذبہ پیدا کرتی ہیں۔ ایسے پروگرامز نہ صرف طلباء کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ ان میں وطن سے محبت اور قومی ذمہ داری کا احساس بھی مزید مضبوط کرتے ہیں تقریب سے بائٹمز لورالائی کے ریکٹر عزیز خلجی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی علمی و فکری تربیت کے لیے نصابی تعلیم کے ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں کا انعقاد بھی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بائٹمز لورالائی نوجوان نسل کو جدید تعلیم اور فنی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گاکیپٹن وقار احمد شہید ریزیڈنشل کالج کے وائس پرنسپل پروفیسر منصور الرحمن اور اے بی ایف کالج کے پرنسپل اعجاز صاحب نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ مقررین نے جشن آزادی کی اہمیت، قیام پاکستان کے مقاصد اور نوجوانوں کی قومی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لیے طلباء کو محنت، نظم و ضبط اور تعلیم کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان نسل ملک کا مستقبل ہے اور انہیں جدید علوم ٹیکنالوجی، تحقیق اور فنی مہارتوں سے آراستہ کرکے ہی پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کیا جاسکتا ہےتقریری مقابلے میں طلباء نے اپنی شاندار صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جس کے بعد ججز کے فیصلے کے مطابق کیپٹن وقار احمد شہید ریزیڈنشل کالج لورالائی نے پہلی، اے بی ایف کالج نے دوسری جبکہ بائٹمز لورالائی نے تیسری پوزیشن حاصل کی اختتامی تقریب میں مہمان خصوصی کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء میں انعامات اور اعزازات تقسیم کیے۔ اس موقع پر کامیاب طلباء اور ان کے اساتذہ کو مبارکباد پیش کی گئی جبکہ دیگر شرکاء کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی تقریب کے اختتام پر منتظمین کی جانب سے کہا گیا کہ جشن آزادی کے موقع پر ایسے علمی، ادبی اور تقریری مقابلوں کا مقصد نوجوان نسل میں حب الوطنی، مثبت سوچ، خود اعتمادی اور قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔ شرکاء نے بائٹمز لورالائی کی جانب سے پروگرام کے انعقاد کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وطن عزیز کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے نوجوان اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6825/2026
نصیرآباد18اگست ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے پی ایس منظور شیرازی کے ہمراہ ضلعی انتظامیہ کے زیرِ نگرانی کام کرنے والے مختلف شعبہ جات اور دفاتر کا تفصیلی دورہ کیا اس موقع پر انہوں نے مختلف شعبوں میں جاری دفتری امور ریکارڈ کی دیکھ بھال عملے کی حاضری اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا ڈپٹی کمشنر نے مختلف شعبوں کے افسران اور ملازمین سے ملاقات کی اور ان سے ان کی ذمہ داریو روزمرہ دفتری امور اور عوامی نوعیت کے معاملات کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں انہوں نے افسران و عملے سے دریافت کیا کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل میں کن مشکلات کا سامنا ہے اور دفتری امور کی انجام دہی کے دوران کون سے مسائل رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیںانہوں نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح عوام کو بروقت اور شفاف انداز میں سرکاری خدمات کی فراہمی اور ان کے مسائل کا فوری ازالہ ہے۔ تمام افسران و اہلکار اپنے فرائض ذمہ داری دیانت داری اور خلوصِ نیت سے سرانجام دیں اور عوام کو غیر ضروری تاخیر یا مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں اور شکایات پر فوری کارروائی عمل میں لائی جائے اور ہر معاملے کو مقررہ وقت کے اندر نمٹانے کو یقینی بنایا جائے انہوں نے دفتری امور کی انجام دہی میں پیش آنے والی مشکلات بھی سنیں اور بعض مسائل کے فوری حل کے لیے موقع پر ہی متعلقہ حکام کو ضروری احکامات جاری کیے انہوں نے مزید کہا کہ تمام سرکاری دفاتر میں نظم و ضبط، صفائی ستھرائی، ریکارڈ کی بروقت تکمیل اور عوام سے خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آنے کو یقینی بنایا جائے افسران اپنے ماتحت عملے کی کارکردگی کی باقاعدگی سے نگرانی کریں تاکہ سرکاری امور میں مزید بہتری لائی جا سکے اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم ہوں ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو مزید موثر بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6826/2026
نصیرآباد18اگست ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے پی ایس منظور شیرازی کے ہمراہ ضلعی انتظامیہ کے زیرِ نگرانی کام کرنے والے مختلف شعبہ جات اور دفاتر کا تفصیلی دورہ کیا اس موقع پر انہوں نے مختلف شعبوں میں جاری دفتری امور ریکارڈ کی دیکھ بھال عملے کی حاضری اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا ڈپٹی کمشنر نے مختلف شعبوں کے افسران اور ملازمین سے ملاقات کی اور ان سے ان کی ذمہ داریو روزمرہ دفتری امور اور عوامی نوعیت کے معاملات کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں انہوں نے افسران و عملے سے دریافت کیا کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل میں کن مشکلات کا سامنا ہے اور دفتری امور کی انجام دہی کے دوران کون سے مسائل رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح عوام کو بروقت اور شفاف انداز میں سرکاری خدمات کی فراہمی اور ان کے مسائل کا فوری ازالہ ہے۔ تمام افسران و اہلکار اپنے فرائض ذمہ داری دیانت داری اور خلوصِ نیت سے سرانجام دیں اور عوام کو غیر ضروری تاخیر یا مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں اور شکایات پر فوری کارروائی عمل میں لائی جائے اور ہر معاملے کو مقررہ وقت کے اندر نمٹانے کو یقینی بنایا جائے انہوں نے دفتری امور کی انجام دہی میں پیش آنے والی مشکلات بھی سنیں اور بعض مسائل کے فوری حل کے لیے موقع پر ہی متعلقہ حکام کو ضروری احکامات جاری کیے انہوں نے مزید کہا کہ تمام سرکاری دفاتر میں نظم و ضبط، صفائی ستھرائی، ریکارڈ کی بروقت تکمیل اور عوام سے خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آنے کو یقینی بنایا جائے افسران اپنے ماتحت عملے کی کارکردگی کی باقاعدگی سے نگرانی کریں تاکہ سرکاری امور میں مزید بہتری لائی جا سکے اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم ہوں ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو مزید موثر بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6827/2026
جھل مگسی18 اگست۔ اسسٹنٹ کمشنر گنداواہ محمد رمضان کرد نے ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر ذوالفقار علی پندرانی اور ایس ایچ او سٹی گنداواہ انسپکٹر عبدالرزاق چنجنی کے ہمراہ گنداواہ شہر کی مرکزی بازار کا سرپرائز دورہ کیا، دورے کے موقع پر انہوں نے سبزی و فروٹ ، گوشت اور دیگر اشیائخوردونوش کی قیمتوں ، کوالٹی اور صفائی و ستھرائی کا جائزہ لیا انھوں نے مختلف دکانوں کا معائنہ کرتے ہوئے سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی دکانداروں کو ہدایات جاری کیں بالخصوص سبزی فروشوں اور قصابوں کو سختی سے تنبیہ کی کہ سرکار کی جانب سے مقرر کردہ قیمتوں کے مطابق گوشت و سبزی ودیگر اشیاء خوردونوش فروخت کریں زائد المعیاد اشیاء فروخت کرنے اور زائد نرخ وصول کرنے والے دکانداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے صفائی و ستھرائی اور اشیاء کے معیار پر بھی زور دیا، اور دکانوں کے آگے ناجائز تجاوزات عارضی تھڑے ہٹانے کی سختی سے تنبیہ کیں انھوں نے دکانداروں کو نان کسٹم پیڈ سگریٹ ودیگر سامان اپنی دکانوں پر رکھنے اور فروخت کرنے پر پابندی عائد کرکے فوری عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6828/2026
سیوی 18 اگست۔ کمشنر سیوی ڈویژن اسد اللہ فیض کی جانب سے خواتین کو جدید تعلیم، فنی تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے شروع کیے گئے بااختیار وومن سینٹر انیشیٹو کے تحت ڈویژنل پبلک اسکول سیوی میں قائم بااختیار وومن سینٹر میں مزید سہولیات کی فراہمی اور تربیتی پروگرامز کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ کمشنر سیوی ڈویژن اسد اللہ فیض کی ذاتی دلچسپی اور اپنی مدد آپ کے تحت قائم کیے گئے اس مرکز میں خواتین کے لیے جدید کمپیوٹر لیب کا قیام عمل میں لایا گیا، جہاں تقریباً 15 کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس، ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز، فرنیچر اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی گئیں۔ مرکز میں خدمات انجام دینے والے انسٹرکٹرز کو بھی باقاعدہ تربیت فراہم کی گئی، جس کے بعد خواتین کو مختلف شعبوں میں مفت تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ یومِ آزادی کے موقع پر بااختیار وومن سینٹر کے منصوبے کو مزید وسعت دینے کے لیے کمشنر سیوی اسداللہ فیض اور YMSESDO Pakistan کے چئیرمین محمد منیر ابڑو نے ایک سالہ مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت ادارے کی جانب سے بااختیار وومن ڈولپمنٹ سینٹر میں مزید جدید کمپیوٹرز اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی، جبکہ خواتین کے لیے مختلف شعبوں میں لرننگ اور اسکل ڈویلپمنٹ کے کورسز بھی شروع کیے جائیں گے۔ معاہدے کے تحت خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے بلا سود قرضوں کی فراہمی کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے، تاکہ تربیت حاصل کرنے والی خواتین اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے باعزت روزگار اور کاروبار کے مواقع حاصل کرسکیں۔ کمشنر سیوی ڈویژن اسد اللہ فیض نے اس موقع پر کہا کہ خواتین کو جدید تعلیم، ہنر اور معاشی مواقع فراہم کرنا معاشرے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ بااختیار وومن ڈولپمنٹ سینٹر کا مقصد خواتین کو مفت تربیت اور جدید سہولیات فراہم کرکے انہیں اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کے قابل بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی اداروں اور فلاحی تنظیموں کے تعاون سے اس اقدام کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ سیوی ڈویژن کی خواتین کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہنر سیکھنے اور باعزت روزگار حاصل کرنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع میسر آسکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6829/2026
دکی، 18 اگست ۔: ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لونی فتح خان بنگلزئی نے تحصیل لونی کے مختلف تعلیمی و صحت کے مراکز کا دورہ کیا اور وہاں فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول مانزئی، گورنمنٹ بوائز مڈل سکول واھوی، گورنمنٹ پرائمری سکول کلی واجد ڈھاکی، رورل ہیلتھ سنٹر (RHC) واھوی اور بنیادی مرکز صحت (BHU) حیدر خان مانزئی کا معائنہ کیادورے کے دوران انہوں نے عملے کی حاضری، صفائی ستھرائی، تدریسی و طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ مراکز میں نظم و ضبط، صفائی اور سروس ڈلیوری کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے اور طلبہ و مریضوں کو معیاری تعلیمی و طبی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائےفتح خان بنگلزئی نے کہا کہ سرکاری اداروں میں عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اس لیے تمام متعلقہ اہلکار اپنے فرائض ذمہ داری اور احسن انداز میں انجام دیتے ہوئے عوامی خدمات میں مزید بہتری لائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6830/2026
سیوی 18 اگست۔12 ربیع الاول کی مناسبت سے عید میلاد النبی کے جلوس کے انتظامات اور سکیورٹی کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی زیرِ صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ونگ کمانڈر کرنل شہریار، ایس ایس پی عبدالحمید، اسسٹنٹ کمشنر منصور علی شاہ، اسسٹنٹ کمشنر بختیارآباد میر بہادر خان بنگلزئی، چیئرمین میونسپل کمیٹی سردار محمد خان خک ، علمائے کرام، جلوس کمیٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں 12 ربیع الاول کے مرکزی جلوس کے روٹس، سکیورٹی، صفائی ستھرائی، ٹریفک سمیت دیگر ضروری انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر علمائے کرام اور جلوس کمیٹی کے نمائندوں نے جلوس کے روٹس اور انتظامات کے حوالے سے انتظامیہ کو تفصیلی آگاہی فراہم کی اور مختلف امور کی نشاندہی کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ 12 ربیع الاول ایک مقدس اور بابرکت دن ہے، اس موقع پر منعقد ہونے والے جلوس کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہر ممکن تعاون اور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ جلوس کے تمام روٹس پر صفائی ستھرائی کے بہترین انتظامات یقینی بنائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جلوس کے شرکائ کی سہولت کے لیے پانی کے باوزر اور ایمبولینس بھی جلوس کے ہمراہ موجود رہیں گے، جبکہ سکیورٹی کے لیے تمام ضروری اقدامات مکمل کیے جائیں۔ مشکوک افراد اور سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور جلوس کے روٹس اور اطراف میں فول پروف سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور دورانِ جلوس اپنے شناختی کارڈ لازمی اپنے ہمراہ رکھیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 12 ربیع الاول کا جلوس صبح 8 بجے ترین چوک سے شروع ہوگا، جس کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں بروقت مکمل کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6831/2026
گوادر18اگست ۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت ایل پی جی اسٹیشن مالکان، چیمبر آف کامرس اور محکمہ صنعت کے نمائندگان کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایل پی جی کی محفوظ ترسیل، ڈی کینٹنگ اسٹیشنز، ایل پی جی پلانٹس میں حفاظتی انتظامات، اوگرا لائسنس اور متعلقہ ایس او پیز پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، اسسٹنٹ کمشنر جیوانی طارق امام اور اسسٹنٹ کمشنر اورماڑہ ڈاکٹر ماہ نور برکت سمیت ایل پی جی اسٹیشنز کے مالکان اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایل پی جی اسٹیشنز اور ڈی کینٹنگ مراکز میں حفاظتی اقدامات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ معمولی غفلت بھی بڑے جانی و مالی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تفتان میں ایل پی جی ڈی کینٹنگ اسٹیشن میں پیش آنے والے دھماکے کے واقعے کے بعد متعلقہ حکام کی جانب سے ایل پی جی اسٹیشنز کے حفاظتی انتظامات کی جامع جانچ کا عمل شروع کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ اوگرا کی جانب سے تعینات افسر نے گوادر کے مختلف ایل پی جی اسٹیشنز اور ڈی کینٹنگ ایریاز کا معائنہ کیا، جس کے بعد پیش کی گئی رپورٹ میں حفاظتی پروٹوکولز پر عملدرآمد کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ حکومتی قواعد و ضوابط اور اوگرا کے مقرر کردہ حفاظتی معیار پر پورا اترنا تمام ایل پی جی اسٹیشن مالکان کی قانونی ذمہ داری ہے۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے ایل پی جی مالکان کو ہدایت کی کہ تمام ضروری سیفٹی پروٹوکولز ایک ہفتے کے اندر نصب کیے جائیں، جبکہ اوگرا لائسنس کے حصول اور متعلقہ کارروائی مکمل کرنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حفاظتی نظام کی تنصیب کے لیے اوگرا کی سفارش کردہ ٹیکنالوجی اور آلات کا استعمال یقینی بنایا جائے، جن کی مجموعی لاگت تقریباً 70 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ مقررہ مدت کے بعد اگر کسی ایل پی جی اسٹیشن پر حفاظتی پروٹوکول مکمل نہ ہوئے یا اوگرا لائسنس کے حصول کے لیے پیش رفت نہ کی گئی تو متعلقہ ڈی کینٹنگ اسٹیشن کو سیل کر دیا جائے گا، جسے کسی صورت کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ انتظامیہ ایل پی جی مالکان کو قانونی تقاضے پورے کرنے اور اوگرا لائسنس کے حصول کے عمل میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، تاہم کاروبار کے ساتھ شہریوں اور کارکنوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ مالکان سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقررہ مدت میں تمام تقاضے پورے کریں تاکہ محفوظ ماحول میں کاروباری سرگرمیاں جاری رہ سکیں۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر جیوانی طارق امام نے بھی اپنے حالیہ دورہ بارڈر اور ایل پی جی اسٹیشنز کے معائنے سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ متعدد مقامات پر حفاظتی ایس او پیز پر مطلوبہ عملدرآمد نہیں پایا گیا۔اجلاس میں موجود ایل پی جی اسٹیشن مالکان نے بھی اعتراف کیا کہ بعض مقامات پر مطلوبہ حفاظتی پروٹوکولز تاحال مکمل طور پر نصب نہیں کیے گئے، جبکہ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مقررہ مدت کے اندر حفاظتی انتظامات مکمل کرنے اور اوگرا لائسنس کے لیے درخواست دینے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کا مقصد کسی کا کاروبار بند کرنا نہیں بلکہ محفوظ اور قانونی کاروباری ماحول کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ایل پی جی اسٹیشنز اور ڈی کینٹنگ مراکز کی نگرانی جاری رکھی جائے اور حکومتی ایس او پیز پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ، کاروباری سرگرمیوں کو قانونی دائرے میں لانے اور حفاظتی معیار بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات جاری رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6832/2026
18اگست۔کوئٹہ۔ صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب نوشیروانی سے پاکستان مائنز لیبر فیڈریشن کے ایک وفد نے اہم ملاقات کی، جس میں بلوچستان بھر کے کان کنوں کو درپیش مسائل، تحفظات اور مختلف مطالبات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد نے مائنز لیبرز کو درپیش مشکلات، فلاح و بہبود، طبی سہولیات، حفاظتی اقدامات اور دیگر بنیادی مسائل سے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب نوشیروانی نے یقین دہانی کرائی کہ کان کنوں کے تمام جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور اس سلسلے میں مائنز ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ خزانہ کے متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر عملی اقدامات اٹھائے جائیں گےصوبائی وزیر خزانہ و معدنیات نے کچی اور دیگر اضلاع میں قائم مائنز ہسپتالوں میں طبی عملے کی ڈیوٹی سے غیر حاضری پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مائنز ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ تمام مائنز ہسپتالوں کو فعال رکھا جائے۔ ہسپتالوں اور طبی عملے کی روزانہ حاضری کی رپورٹ باقاعدگی سے صوبائی وزیر کے دفتر کو ارسال کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔انہوں نے تمام ایمبولینس گاڑیوں کو ہر وقت مائنز سائٹس کے قریب فعال اور موجود رکھنے کے احکامات بھی جاری کیے تاکہ کسی بھی حادثے یا ہنگامی صورتحال میں زخمی کان کنوں کو فوری طبی امداد اور بروقت ریسکیو کی سہولت فراہم کی جا سکے۔میر شعیب نوشیروانی نے واضح کیا کہ مائنز لیبرز کی فلاح و بہبود، صحت اور حفاظتی اقدامات میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ان اقدامات کی مسلسل نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔ملاقات میں مائنز ویلفیئر فنڈ کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت ہوئی۔ محکمہ خزانہ کے ساتھ باہمی مشاورت سے ورکرز ویلفیئر فنڈ کی گرانٹ اور فنڈز کے اجرا سے متعلق جامع سمری تیار کرکے منظوری کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان کو ارسال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب نوشیروانی نے کسی بھی ناگہانی حادثے یا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مائنز ریسکیو نظام کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کانوں میں پھنسے یا زخمی کان کنوں کو محفوظ اور فوری طور پر نکالنے کے لیے مزید ماہر اور جدید تربیت یافتہ ریسکیو اہلکار کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتی کیے جائیں گے صوبائی وزیر نے کہا کہ ریسکیو عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے انہیں ملک کے اعلیٰ اور معیاری تربیتی اداروں میں سائنسی اور جدید خطوط پر اعلیٰ سطح کی تربیت بھی فراہم کی جائے گی، تاکہ مائنز حادثات کی صورت میں قیمتی انسانی جانوں کو بروقت بچایا جا سکے۔صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب نوشیروانی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کان کنوں کے حقوق، فلاح و بہبود اور جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور مائنز سیکٹر میں حفاظتی و فلاحی اقدامات کو مزید موثر بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6833/2026
تربت18اگست . ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا.جس میں ضلع کیچ میں صحت کے شعبے کی مجموعی صورتحال، سرکاری اسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت میں طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی، عملے کی حاضری اور آنے والی پولیو مہم سمیت مختلف اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیچ ڈاکٹر عبدالروف بلوچ، پی ڈی ایم اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ملک ریحان دشتی، آر ایم او سول ہسپتال تربت ڈاکٹر مہرین باقر، ڈبلیو ایچ او کے ڈی پی او ڈاکٹر ارسلان، ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرتضیٰ بلوچ، بابو شاہجان، فدا احمد سمیت دیگر متعلقہ افسران و نمائندگان موجود تھے۔اجلاس کے دوران ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیچ ڈاکٹر عبدالروف بلوچ نے ضلع کیچ میں محکمہ صحت کی مجموعی کارکردگی، جاری سرگرمیوں اور طبی سہولیات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔آر ایم او سول ہسپتال تربت ڈاکٹر مہرین باقر نے سول ہسپتال تربت میں ڈاکٹروں اور دیگر عملے کی حاضری و غیر حاضری، ادویات کی دستیابی، بجلی و پانی کے مسائل، دائمی امراض کے مریضوں سمیت دیگر اہم طبی امور کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی۔اس موقع پر ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرتضیٰ بلوچ نے اجلاس کو بتایا کہ پی پی ایچ آئی کے پاس تقریباً ڈھائی کروڑ روپے مالیت کی ادویات موجود ہیں جو مختلف بنیادی مراکزِ صحت (BHU) کو فراہم کی جارہی ہیں انہوں نے پی پی ایچ آئی کے غیر حاضر ملازمین اور ان کے خلاف کیے جانے والے اقدامات سے متعلق بھی اجلاس کو آگاہ کیا۔ڈبلیو ایچ او کے ڈی پی او ڈاکٹر ارسلان نے آئندہ پولیو مہم کے حوالے سے اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دی اور مہم کے دوران بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے، ٹیموں کی نگرانی اور مہم کو موثر بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ سرکاری اسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی حاضری یقینی بنائی جائے اور غیر حاضری کسی صورت برداشت نہ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ ادویات کی دستیابی، بجلی و پانی سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی اور مریضوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں صحت کے شعبے میں غفلت اور لاپرواہی کے لیے کوئی گنجائش نہیں تمام افسران اور ملازمین اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری اور فرض شناسی کے ساتھ ادا کریں۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے آنے والی پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری اور ٹیموں کی مکمل نگرانی پر بھی زور دیا۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی جانب سے صحت کے شعبے کی مسلسل نگرانی، عوامی مسائل کے فوری حل اور سرکاری طبی اداروں میں نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات ان کی متحرک، ذمہ دارانہ اور عوام دوست انتظامی قیادت کا واضح ثبوت ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6834/2026
نصیرآباد18اگست ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت 12 ربیع الاول کے مقدس اور بابرکت موقع کے سلسلے میں ضلع بھر میں امن و امان سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام و دیگر متعلقہ محکموں کے افسران اور سربراہان نے شرکت کی اور اپنے اپنے محکموں کی جانب سے 12 ربیع الاول کے حوالے سے کیے جانے والے انتظامات اور تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں جلوسوں کے روٹس مرکزی مقامات مساجد اہم مذہبی مقامات پر سیکیورٹی کے انتظامات پولیس نفری کی تعیناتی ٹریفک کی روانی صفائی ستھرائی روشنی، پینے کے صاف پانی صحت و طبی سہولیات اور ریسکیو سروسز کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران نے ڈپٹی کمشنر کو اپنے محکموں کی تیاریوں اور انتظامات سے آگاہ کیا ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 12 ربیع الاول انتہائی عقیدت و احترام کا دن ہے اس موقع پر عوام کو بہترین سہولیات کی فراہمی اور امن و امان کو ہر صورت یقینی بنانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے انہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ تمام انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں اور جلوسوں و مذہبی اجتماعات کے دوران سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنایا جائے انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت اپنے فرائض سرانجام دیں تاکہ 12 ربیع الاول کے مقدس موقع پر کسی قسم کی مشکلات پیش نہ آئیں انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ جلوس کے روٹس پر صفائی تجاوزات کے خاتمے ٹریفک کی روانی اور دیگر ضروری انتظامات کو یقینی بنایا جائے جبکہ محکمہ صحت اور ریسکیو حکام ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات مکمل رکھیںڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ جشنِ عید میلاد النبی کے موقع پر شہریوں کو پرامن اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ انتظامات کی مسلسل نگرانی کریں اور کسی بھی ممکنہ مسئلے کی صورت میں فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6835/2026
لورالائی18اگست ۔: جشنِ آزادی کے سلسلے میں محکمہ اسپورٹس لورالائی کے زیرِ اہتمام مختلف کھیلوں پر مشتمل شاندار اسپورٹس فیسٹیول اختتام پذیر ہوگیا۔ فیسٹیول کی اختتامی تقریب سرکاری باغ فٹسال گراونڈ میں منعقد ہوئی، جس کے مہمانِ خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) لورالائی محمد اسماعیل منیگل تھے۔ انہوں نے مختلف کھیلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔فیسٹیول کا انعقاد وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور حکومتِ بلوچستان کے نوجوانوں کو کھیلوں کے مواقع فراہم کرنے کے وژن کے تحت محکمہ اسپورٹس بورڈ کی سربراہی میں کیا گیا۔ اس دوران کرکٹ، والی بال، فٹ بال، فٹسال اور بیڈمنٹن سمیت مختلف کھیلوں کے مقابلے منعقد ہوئے، جن میں ضلع لورالائی کے نوجوان کھلاڑیوں نے بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کی اور اپنی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیااختتامی تقریب میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل منیگل، اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم، ڈپٹی ڈائریکٹر اسپورٹس لورالائی ڈویژن نصیب اللہ کاکڑ، ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر ظہیر احمد بلوچ، سابق ڈپٹی ڈائریکٹر اسپورٹس سید ظفراللہ شاہ، محکمہ اطلاعات کے نمائندے میر محمود بلوچ سمیت دیگر متعلقہ افسران، منتظمین، کوچز، کھلاڑیوں اور شائقین نے شرکت کی۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل منیگل نے کہا کہ صحت مند معاشرے کے قیام اور نوجوان نسل کو مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے کھیلوں کا فروغ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان نوجوانوں کو کھیلوں کے بہتر مواقع اور سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جبکہ اسپورٹس فیسٹیولز کے انعقاد سےنوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط، ٹیم ورک، برداشت اور مثبت سوچ کو فروغ دینے کا موقع ملتا ہےانہوں نے فیسٹیول کے کامیاب انعقاد پر محکمہ اسپورٹس، منتظمین، کوچز، کھلاڑیوں اور تمام معاون اداروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ جشنِ آزادی کے موقع پر ایسے کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد نوجوانوں میں حب الوطنی اور قومی یکجہتی کے جذبے کو مزید تقویت دیتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے کھیلوں کی سرگرمیوں کا سلسلہ مزید وسعت دیا جائے گا اختتامی تقریب کے موقع پر شرکاء نے پاکستان کی سلامتی، خوشحالی اور ترقی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ تقریب کا اختتام پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے ہوا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6836/2026
نصیرآباد18اگست ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت 12 ربیع الاول کے مقدس اور بابرکت موقع کے سلسلے میں ضلع بھر میں امن و امان سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماءکرام و دیگر متعلقہ محکموں کے افسران اور سربراہان نے شرکت کی اور اپنے اپنے محکموں کی جانب سے 12 ربیع الاول کے حوالے سے کیے جانے والے انتظامات اور تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی اجلاس میں جلوسوں کے روٹس مرکزی مقامات مساجد اہم مذہبی مقامات پر سیکیورٹی کے انتظامات پولیس نفری کی تعیناتی ٹریفک کی روانی صفائی ستھرائی روشنی، پینے کے صاف پانی صحت و طبی سہولیات اور ریسکیو سروسز کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران نے ڈپٹی کمشنر کو اپنے محکموں کی تیاریوں اور انتظامات سے آگاہ کیا ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 12 ربیع الاول انتہائی عقیدت و احترام کا دن ہے اس موقع پر عوام کو بہترین سہولیات کی فراہمی اور امن و امان کو ہر صورت یقینی بنانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے انہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ تمام انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں اور جلوسوں و مذہبی اجتماعات کے دوران سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت اپنے فرائض سرانجام دیں تاکہ 12 ربیع الاول کے مقدس موقع پر کسی قسم کی مشکلات پیش نہ آئیں انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ جلوس کے روٹس پر صفائی تجاوزات کے خاتمے ٹریفک کی روانی اور دیگر ضروری انتظامات کو یقینی بنایا جائے جبکہ محکمہ صحت اور ریسکیو حکام ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات مکمل رکھیں ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ جشنِ عید میلاد النبی کے موقع پر شہریوں کو پرامن اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ انتظامات کی مسلسل نگرانی کریں اور کسی بھی ممکنہ مسئلے کی صورت میں فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6837/2026
خضدار18اگست ۔: نیاز اللہ سمالانی نے بطور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر خضدار کا باقاعدہ طور پر چارج سنبھال لیا۔ نیاز اللہ سمالانی اس سے قبل بھی خضدار میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں اور انہیں ضلع کے تعلیمی نظام اور اداروں کے مسائل سے بخوبی آگاہی حاصل ہے۔ اپنے سابقہ دور میں نیاز اللہ سمالانی نے تعلیمی اداروں کی بہتری، اساتذہ کی حاضری، طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی اور سرکاری اسکولوں کے انتظامی امور کو موثر بنانے کے لیے اقدامات کیے،نیاز اللہ سمالانی کی دوبارہ تعیناتی سے خضدار کے تعلیمی نظام میں مزید بہتری آئے گی، سرکاری تعلیمی اداروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہوں گے اور طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے چارج سنبھالنے کے موقع پر نیاز اللہ سمالانی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خضدار میں تعلیم کے فروغ، اسکولوں کی بہتری، اساتذہ اور طلبہ کو درپیش مسائل کے حل اور تعلیمی معیار بلند کرنے کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6838/2026
چمن 18اگست ۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت DPEC اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئندہ شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں، سکیورٹی انتظامات اور گزشتہ پولیو مہم کی کارکردگی و حاصلات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں گزشتہ مہم کے دوران انسداد پولیو ٹیموں کی کارکردگی، بچوں کی ویکسی نیشن، کوریج، رہ جانے والے بچوں اور مہم کے دوران درپیش مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ مہم میں مزید بہتری اور موثر حکمتِ عملی اپنانے پر غور کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے اے ڈی سی چمن فدا بلوچ اور متعلقہ محکموں اور پولیو حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ مہم کے لیے تمام انتظامات بروقت اور جامع انداز میں مکمل کیے جائیں۔ پولیو ٹیموں کی موثر نگرانی، مائیکرو پلان پر مکمل عملدرآمد اور پانچ سال سے کم عمر بچوں تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے سکیورٹی حکام کو ہدایت کی کہ پولیو ٹیموں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے جامع سکیورٹی پلان مرتب کیا جائے اور حساس علاقوں میں خصوصی انتظامات کیے جائیں، تاکہ پولیو ورکرز بلاخوف و خطر اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ مشترکہ قومی ذمہ داری ہے، اس مقصد کے حصول کے لیے ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، پولیو پروگرام، سکیورٹی اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کے درمیان موثر رابطہ اور مربوط حکمتِ عملی ضروری ہے۔اجلاس میں آئندہ پولیو مہم کو کامیاب بنانے، گزشتہ مہم کی خامیوں کو دور کرنے اور ضلع چمن میں پولیو سے بچاو کے اقدامات کو مزید موثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ ڈی سی چمن نے کہا اسکولوں اور مدرسوں میں داخل 10 سالہ بچوں کو حفاظتی ٹیکوں اور ویکسین ضروری دی جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 2026/6839RECAST
کوئٹہ 18 اگست: ـمانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن، ضلع زیارت پر دہشت گردانہ واقعہ/حملہ اور اس کے نتیجے میں پولیس اہلکاران کی قیمتی جانوں کی شہادتوں پر عدالتی تحقیقات کے لیے حکومت بلوچستان کی جانب سے قائم کردہ تحقیقاتی (انکوائری) کمیشن، بمشتمل عزت مآب جناب جسٹس محمد عامر نواز رانا، نے آج کھلی عدالت میں کارروائی کا آغاز کیا، جس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان، پراسیکیوٹر جنرل بلوچستان اور رجسٹرار/سیکرٹری تحقیقاتی کمیشن کے روبرو حاضر ہوئے۔کارروائی کے دوران رجسٹرار/سیکرٹری تحقیقاتی کمیشن نے حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ ضابطہ کار (TORs) پڑھ کر سنائے اور تحقیقاتی کمیشن کے مورخہ 15 اگست 2026 کے حکم نامے کی تعمیل کے بابت مطلع کیا کہ پبلک نوٹس مورخہ 17 اگست 2026 کو صوبے کے مختلف اردو اور انگریزی اخبارات میں شائع کرادیا گیا ہے اور تمام متعلقہ اداروں کو بھی ارسال کیا گیا ہے. بعد ازاں تحقیقاتی کمیشن نے حکم دیا کہ پبلک نوٹس مورخہ 17 اگست 2026 کی عوام الناس کی آگاہی کے لیے وسیع پیمانے پر دوبارہ اشاعت کی جائے۔مزید برآں، ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان اور پراسیکیوٹر جنرل بلوچستان کو ہدایت دی گئی کہ وہ ضابطہ کار (TORs) کے بابت اپنے الگ الگ، مختصر و جامع بیانات بمعہ مکمل ریکارڈ، آئندہ تاریخِ کارروائی پر یا اس سے قبل جمع کروائیں۔علاوہ ازیں، کارروائی کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے حکامِ بالا سے ہدایات لینے کی غرض سے وقت مانگا، جس کی تحقیقاتی کمیشن نے اجازت دے دی۔تحقیقاتی کمیشن کی آئندہ کارروائی مختصر و جامع بیانات کی پیشگی کے لیے مورخہ 24 اگست 2026 تک ملتوی کردی گئی۔
خبر نامہ نمبر 2026/6840
زیارت18اگست:ـڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیر صدارت زرعی آمدن ٹیکس کولیکشن کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں میجر عامر اسسٹنٹ کمشنر زیارت شیر شاہ غلزئی، اسسٹنٹ کمشنر سنجاوی میرمن کاکڑ، تحصیلدار نور احمد نے شرکت کی۔اجلاس میں مالی سال 26-2025 کے دوران ایگریکلچر انکم ٹیکس کولیکشن کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ایگریکلچر انکم ٹیکس وصولی کی انتہائی کم شرح جمع کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ریونیو عملے کو سخت وارننگ جاری کی اور ہدایت کی کہ مقررہ اہداف ہر صورت میں حاصل کیے جائیں۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ریونیو سٹاف اپنی کارکردگی میں بہتری لاتے ہوئے فیلڈ میں متحرک کردار ادا کرے، نادہندگان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، اور روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام الناس کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے واجب الادا ریونیو ٹیکسز بروقت ادا کریں۔ ریونیو کی ادائیگی نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ یہ علاقے کی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور حکومتی منصوبوں کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بروقت ادائیگی سے نہ صرف قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے بلکہ ضلع کی مجموعی ترقی میں بھی معاونت حاصل ہوتی ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6841
زیارت 18اگست:ـڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی بلاک شناختی کارڈ کے سلسلے میں اجلاس ہوا اجلاس میں ایف سی ونگ 155کرنل ذیشان ،میجر عامر،ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عبدالمالک درانی،اسسٹنٹ کمشنر زیارت شیر شاہ غلزئی ،اسسٹنٹ کمشنر سنجاوی میرمن کاکڑ،نادرا انچارج سعید احمد اور دیگر افسران نے شرکت کی ۔اجلاس میں دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے سائلین نے ڈپٹی کمشنر کو درخواستیں پیش کیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/6842
کوئٹہ18 اگست:ـصوبائی مشیر برائے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے قمبرانی روڈ کی رہائشی خاتون اسماء کی جانب سے مبینہ تشدد، جبری نکاح اور اغوا کی کوشش سے متعلق سامنے آنے والے معاملے پر کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متاثرہ خاتون کو انصاف اور مکمل تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے متعلقہ حکام کو واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ متاثرہ خاتون کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی قانون کے مطابق تحقیقات ہوں گی اور حقائق سامنے آنے کے بعد ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد، جبری نکاح، اغوا یا کسی بھی قسم کی زیادتی ناقابل قبول ہے۔ حکومت بلوچستان خواتین کے جان و مال، عزت و وقار اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہے صوبائی مشیر نے کہا کہ متاثرہ خاتون کو ضروری قانونی معاونت، تحفظ اور ریاستی اداروں سے مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔ حکومت اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کرے گی اور متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی تک معاملے کی نگرانی جاری رکھے گی ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واضح کر رکھا ہے کہ صوبے میں کسی بھی شہری کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔ خواتین بالخصوص مشکل حالات کا سامنا کرنے والی خواتین کو ریاستی تحفظ اور انصاف کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ خواتین کے حقوق اور تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کررہا ہے۔ متاثرہ خواتین اپنی آواز بلند کریں، حکومت ان کی داد رسی اور قانونی تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/6843
حب18اگست:ـاجلاس میں ایف سی 147 ونگ کے کمانڈرکرنل شہزادقمرچیمبر آف کامرس کے صدراسماعیل ستار ودیگرصنعتکار وانجمن زمینداران کے نمائندگان اسسٹنٹ کمشنرحب مہیم خان گچکی چیئرمین میونسپل کارپوریشن گل حسن وائس چیئرمین عظیم۔ سیاں محکمہ پولیس اورمحکمہ زراعت کے افسران شریک ہوئے ڈپٹی کمشنر نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ اربوں روپےوفاق کو ٹیکس دینے والا حب شہر گزشتہ کئ دنوں سے پانی سے محروم صنعتی ادارے شہری آبادی اورزمیندارہانی بحران سے متاثر ہیں حب ڈیم پانی سے بھراہواہے لیکن ڈیم حکام کی جانب سے ضروریات کیمطابق پانی فراہم نہیں کیا جارہاہے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر حب نے کہا کہ جب حب ڈیم 1980ء کی دہائی میں قائم کیا گیا تھا تو اس وقت حب کی آبادی تقریباً 20 ہزار نفوس پر مشتمل تھی، جبکہ آج حب کی آبادی بڑھ کر تقریباً 6 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں غیر معمولی اضافے کے ساتھ حب میں تقریباً 300 صنعتی یونٹس قائم ہو چکے ہیں، جبکہ ساکران سمیت ملحقہ علاقوں میں وسیع زرعی اراضی بھی موجود ہےانہوں نےکہا کہ موجودہ حالات میں شہری آبادی، صنعت اور زراعت تینوں شعبے پانی کی شدید قلت سے متاثر ہو رہے ہیں
صدرچیمبرآف کامرس اسناعیل ستارنے اجلاس میں کہاکہ صنعتی ضروریات کیمطابق پانی کی عدم ترسیل سے انڈسٹریل سیکٹراورروزگارمتاثر ہورہا ہےچیف سیکرٹری اورکورہیڈکوارٹر کو صورتحال سے آگاہ کیا گیاہےبلوچستان میں لوگوں کوروزگاردینےوالی صنعتیں بندہورہی ہیں انہوں نے کہا کہ ساحلی پٹی کا پانی کھاراہونےکیوجہ سے صنعتیں حب کینال پر انحصارکرتی ہیں اور ایریگیشن حکام کی جانب سے حب ڈیم پراجیکٹ ڈائریکٹر کو بارہا مراسلہ لکھا گیا ہےوفاقی حکومت اورواپڈاحکام کو سنجیدگی سے پانی بحران کا حل تلاش کرنا ہوگااجلاس کے شرکاء نے صنعتی ضلع حب میں جاری شدید آبی بحران حب ڈیم سے پانی فراہمی، کے موجودہ شیئر، صنعتی و زرعی شعبے کو درپیش مشکلات اور پانی چوری کی روک تھام و ضیاع سمیت مختلف اہم امورپرمشاورت کی گئ اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ حب ضلع کو اس وقت اس کے متوقع پانی کے حصے کا 30 فیصد سے بھی کم پانی موصول ہو رہا ہے، حالانکہ حب ڈیم کا کیچمنٹ ایریا بلوچستان میں واقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال تشویشناک ہے، کیونکہ تقریباً تین ماہ قبل تک حب میں پانی کی ایسی شدید قلت موجود نہیں تھی، تاہم اچانک پانی کے حصے میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجوہات کا جامع جائزہ لینا ضروری ہے۔ڈپٹی کمشنر حب نے کہا کہ پانی حب کی بقاء کا مسئلہ ہے اور اسے صرف ایک انتظامی یا تکنیکی معاملہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہری آبادی کے لیے پینے کا پانی، صنعتی شعبے کے لیے ضروری پانی اور کسانوں کے لیے زرعی پانی کی فراہمی یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ آبی بحران برقرار رہا تو اس کے منفی اثرات نہ صرف شہری زندگی، صنعت اور زراعت پر مرتب ہوں گے بلکہ امن و امان کی صورتحال بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس لیے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی تعاون سے فوری اور ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔
اس موقع پر پراجیکٹ ڈائریکٹر حب ڈیم نے پانی کے شیئر کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کراچی اور حب کے لیے پانی کی تقسیم کا ایک باقاعدہ اور نوٹیفائیڈ طریقہ کار موجود ہے، جس کے تحت دونوں علاقوں کے پانی کے حصے کا تعین کیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت پانی کی تقسیم ہوتی ہے اور کوئی فرد یا ادارہ اپنی مرضی سے اس نظام کو تبدیل نہیں کر سکتاپراجیکٹ ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے پانی کی تقسیم کے ساتھ ساتھ پانی چوری، غیر قانونی استعمال، ضیاع اور ترسیلی نظام میں ہونے والے نقصانات سمیت تمام عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلے کے مستقل حل کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مل کر ایک ٹھوس اور قابلِ عمل حکمتِ عملی وضع کرنا ہوگی۔انہوں نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ بلوچستان کے حصے کا پانی جان بوجھ کر کم کیا جا رہا ہے اور کہا کہ پانی کی تقسیم مقررہ نظام اور قواعد کے مطابق ہوتی ہے، تاہم موجودہ صورتحال کے تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لے کر عملی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔صدر انجمنِ زمینداران حب رفیق سیاپاد نے زرعی شعبے کو درپیش مشکلات سے اجلاس کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی کمی کے باعث ساکران اور ملحقہ علاقوں کے کسان شدید متاثر ہو رہے ہیں اور فصلوں کی پیداوار خطرے میں ہے۔ انہوں نے زرعی زمینوں کے لیے پانی کی منصفانہ اور بروقت فراہمی کا مطالبہ کیا۔اجلاس میں شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ حب میں بڑھتی ہوئی آبادی، صنعتی سرگرمیوں اور زرعی ضروریات کے پیشِ نظر موجودہ پانی کی قلت ایک سنگین نوعیت کا بحران بن چکی ہے، جس کے فوری تدارک کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔
ڈپٹی کمشنر حب نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ پانی کی دستیابی، تقسیم، ترسیل، پانی چوری، ضیاع اور موجودہ شیئر سمیت تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا جائے اور اعداد و شمار اور زمینی حقائق کی بنیاد پر ٹھوس سفارشات مرتب کی جائیں۔ڈپٹی کمشنر حب نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ حب کی شہری آبادی، صنعتی شعبے اور زرعی معیشت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن فورم پر آواز اٹھائے گی اور پانی کے مسئلے کے حل کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری جاری رکھی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حب کے آبی بحران کے حل کے لیے بین الادارہ جاتی تعاون، شفاف نظامِ تقسیم، پانی کے ضیاع اور چوری کی روک تھام اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایک جامع اور پائیدار حکمتِ عملی وضع کی جائے گی تاکہ شہری آبادی کو پینے کے پانی کی فراہمی، صنعتی سرگرمیوں کا تسلسل اور ساکران سمیت دیگر علاقوں میں زرعی معیشت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6844
تحصیل قلات 18اگست :ـعوامی مسائل سننے اور انکے حل سے متعلق ضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے مورخہ 20 اگست 2026 بروز جمعیرات بوقت 11:00بجے دن کھلی کچہری کا انعقاد کیاگیاہے کھلی کچہری اسسٹنٹ کمشنر قلات کے دفتر میں منعقد ہوگا۔لہذا متعلقہ افراد علاقہ معززین اور صحافی برادری سے گزارش ہیکہ 20 اگست کو ہونے والے کھلی کچہری میں شرکت کریں اور اپنے جائزمسائل بیان کریں تاکہ انکے حل کے لیئے ضلعی انتظامیہ بروقت اقدامات اٹھاسکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6845
قلات18اگست: ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری سے خالق آباد کے تاجروں کے نمائندہ وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں میر بھاول خان محمد شہی، حاجی مولاداد سمالانی، مولانا عبدالناصر سمالانی، حاجی سفر خان ابابکی، حافظ محمد قاسم اور محمد آصف رئیسانی شامل تھے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ اور اسسٹنٹ کمشنر اسد سمالانی بھی موجود تھے۔تاجر برادری کے وفد نے ڈپٹی کمشنر کو خالق آباد بازار کی گزشتہ ایک ماہ سے مسلسل بندش کے باعث پیدا ہونے والی اشیائے خوردونوش کی قلت، بازار میں چوری و ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافے اور دیگر اہم مسائل سے آگاہ کیا۔وفد نے ڈپٹی کمشنر سے درخواست کی کہ خالق آباد بازار کو صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک کھولنے کی اجازت دی جائے۔ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خالق آباد کی تاجر برادری کو درپیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خالق آباد بازار کھولنے کے لیےنئے اوقاتِ کار جلدجاری کیے جائیں گے، جبکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6846
موسیٰ خیل18اگست:ـحکومتِ بلوچستان کے وژن اور ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل کی خصوص ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر موسیٰ خیل نجیب اللہ کاکڑ نے ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیعی کے دفتر کا باقاعدہ دورہ کیادورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیعی شمس الحق اور دیگر زراعت کے اہلکاروں و عملے سے ملاقات کی اور دفتر کے مختلف شعبوں کا تفصیلی معائنہ کر کے انتظامی و عملی امور کا جائزہ لیاجشنِ آزادی (14 اگست) کے پرمسرت موقع پر شروع کی جانے والی مون سون شجرکاری مہم کو موثر انداز میں عملی جامہ پہنانے اور مقررہ اہداف کے حصول پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اسسٹنٹ کمشنر نجیب اللہ کاکڑ نے زور دیا کہ صرف پودے لگانا ہی کافی نہیں بلکہ ان کی مناسب آبیاری اور نگہداشت کو یقینی بنانا بھی انتہائی ضروری ہے صوبے میں ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور سبزہ زار میں اضافے کے لیے تمام متعلقہ شعبہ جات اور بالخصوص محکمہ زراعت عوامی سطح پر شجر کاری کی اہمیت اجاگر کرے۔
اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیعی شمس الحق نے اسسٹنٹ کمشنر کو مون سون مہم کے لیے کی گئی تیاریوں، نرسریوں میں پودوں کی دستیابی اور درپیش امور کے حوالے سے بریفنگ دی اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت بلوچستان کے وژن اور ضلعی انتظامیہ کی ہدایات کے مطابق شجرکاری مہم کو ہر صورت کامیاب بنایا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/6847
موسیٰ خیل18اگست:ـڈاکٹر مجیب الرحمن نے بطور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا ہے اور دفتر پہنچ کر باقاعدہ امورِ منصبی کی انجام دہی شروع کر دی ہےچارج سنبھالنے کے بعد انہوں نے محکمہ صحت کے تمام افسران اور فیلڈ سٹاف کے ساتھ تعارفی اجلاس کی صدارت کی اور ضلع میں صحت کی سہولیات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے سخت اقدامات کا اعادہ کیا ضلع بھر کے تمام ہسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت میں طبی و غیر طبی عملے کی سو فیصد حاضری کو یقینی بنایا جائے گا۔دور دراز اور دیہی علاقوں کے مراکزی صحت میں بنیادی ادویات اور ہنگامی علاج کی بلاتعطل فراہمی کو ترجیح دی جائے گی ہسپتالوں میں انے والے مریضوں کو بروقت طبی امداد دینے اور ان کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے کی سخت ہدایت کی گئی ڈاکٹر مجیب الرحمن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلع موسیٰ خیل میں شعبہ صحت میں اصلاحات لانا اور عوام کو ان کی دہلیز پر بہتر طبی سہولیات فراہم کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔ اس موقع پر محکمہ صحت کے مقامی افسران اور عملے نے نیا عہدہ سنبھالنے پر انہیں مبارکباد دی اور مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
خبر نامہ نمبر 2026/6848
قلات 18اگست :ـایڈیشنلی ڈپٹی کمشنر قلات شاہنواز بلوچ نے گورنمنٹ کالج آف ایلیمنڑی ایجوکیشن میں BSDI کے تحت زیرتعمیر ہ IT HUB کا تفصیلی دورہ کیا پرنسپل کالج محترمہ غزالہ رحیم اور لیکچرار شمس پندرانی سردارزادہ ایاز مینگل نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کو آئی ٹی پراجیکٹ سے متعلق بریفنگ دی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے کام کی رفتار کام میں استعمال ہونیوالے مواد کے معیار کا بغور جائزہ لیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ نے سختی سے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہاکہ متعلقہ ٹھیکدار جلداز جلد کام مکمل کریں تاکہ علاقے کے طلباء جدید کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کرسکیں تعمیراتی کام میں ناقص مٹیریل کا استعمال کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہوگی.
خبر نامہ نمبر 2026/6849
صحبت پور18اگست:۔ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین کی زیرِ صدارت 12 ربیع الاول جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے سلسلے میں امن و امان، سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر، پولیس افسران، ضلعی انتظامیہ کے افسران، میونسپل کمیٹی، ریسکیو 1122، محکمہ صحت، محکمہ تعلیم، ٹریفک پولیس سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران و نمائندگان اور تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام نے شرکت کی اجلاس کے دوران 12 ربیع الاول کے موقع پر منعقد ہونے والے جلوسوں مذہبی اجتماعات اور دیگر تقریبات کے حوالے سے کیے جانے والے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس موقع پر جلوسوں کے روٹس داخلی و خارجی راستوں مذہبی مقامات کی سیکیورٹی پولیس نفری کی تعیناتی ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے پارکنگ کے انتظامات صفائی و ستھرائی، تجاوزات کے خاتمے، سڑکوں اور جلوس کے روٹس پر روشنی کے مناسب انتظام، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، طبی سہولیات ریسکیو اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 12 ربیع الاول مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس اور بابرکت دن ہے اس موقع پر شہریوں کو پرامن، محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے انہوں نے کہا کہ جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے سلسلے میں منعقد ہونے والے تمام مذہبی اجتماعات اور جلوسوں کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوام بلاخوف و خطر اپنی مذہبی عقیدت و احترام کا اظہار کرسکیں انہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ تمام انتظامات مقررہ وقت سے قبل مکمل کیے جائیں اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے پولیس حکام کو جلوسوں کے روٹس اہم مقامات اور مذہبی اجتماعات کے مقامات پر اضافی نفری تعینات کرنے سیکیورٹی پلان پر مؤثر عملدرآمد اور مشکوک سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی ڈپٹی کمشنر نے میونسپل کمیٹی کے حکام کو ہدایت کی کہ جلوس کے روٹس اور اطراف کے علاقوں میں صفائی و ستھرائی کے خصوصی انتظامات کیے جائیں، سڑکوں اور راستوں سے تجاوزات ختم کی جائیں، خراب اسٹریٹ لائٹس کی فوری مرمت اور رات کے اوقات میں مناسب روشنی کا انتظام یقینی بنایا جائے انہوں نے محکمہ صحت اور ریسکیو حکام کو جلوس کے روٹس پر ضروری طبی سہولیات ایمبولینس اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عملہ و دیگر ضروری وسائل دستیاب رکھنے کی بھی ہدایت کی انہوں نے ٹریفک پولیس اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جلوسوں کے دوران ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے جامع ٹریفک پلان پر عملدرآمد کیا جائے شہریوں کو غیر ضروری مشکلات سے بچانے کے لیے متبادل راستوں اور پارکنگ کے انتظامات کو مؤثر بنایا جائے ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے تمام متعلقہ محکموں پر زور دیا کہ وہ باہمی رابطے اور مؤثر کوآرڈینیشن کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال، ناخوشگوار واقعے یا انتظامی مسئلے کی صورت میں ضلعی انتظامیہ کو فوری طور پر آگاہ کیا جائے تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے انہوں نے تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام سے بھی اپیل کی کہ وہ 12 ربیع الاول کے مقدس موقع پر امن بھائی چارے، مذہبی ہم آہنگی، رواداری اور اتحاد و اتفاق کے فروغ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور اپنے خطابات و پیغامات کے ذریعے عوام کو پرامن رہنے، قانون کی پاسداری کرنے اور ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا احترام کرنے کی تلقین کریں انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس، تمام متعلقہ ادارے اور علماء کرام باہمی تعاون سے جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر بہترین انتظامات کو یقینی بنائیں گے تاکہ یہ بابرکت دن نہایت عقیدت، احترام، امن اور مذہبی ہم آہنگی کے ماحول میں منایا جاسکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6850
تربت 18اگست: جامعہ تربت اور معروف کاروباری و سماجی شخصیت حاجی برکت بلیدی کے مابین یونیورسٹی کے باصلاحیت اور مستحق طلبہ کے لیے حاجی برکت بلیدی نیڈ بیسڈ کم میرٹ اسکالرشپ کے قیام کے سلسلے میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔اس اسکالرشپ کا مقصد مستحق اور باصلاحیت طلبہ کو مالی معاونت فراہم کر کے اعلی تعلیم اور تحقیقی سرگرمیوں تک رسائی کا مساوی موقع فراہم کرنا ہے۔یونیورسٹی ترجمان کے مطابق، یاداشت پر جامعہ تربت کے رجسٹرار گنگزار بلوچ اور حاجی برکت بلیدی نے وائس چانسلر سیکریٹریٹ میں دستخط کیے۔ یاداشت پردستخط کرنے کی تقریب میں جامعہ تربت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد، ڈائریکٹر فنانس شاہ بیک سید، فیکلٹی ممبرڈاکٹر ارشاد معیار، معروف بینکاروسماجی شخصیت بجار بلوچ اور کیچ تھیلیسیمیا کیئر سینٹر تربت کے چیئرمین ارشاد عارف بھی موجود تھے۔مفاہمتی یادداشت کے مطابق حاجی برکت بلیدی ہر سال بیس باصلاحیت اور مستحق طلبہ کی سمسٹر فیس کی مد میں مالی تعاون فراہم کریں گے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے کہا کہ یہ شراکت داری جامعہ تربت اور علاقے کے مخیر حضرات کے اس پختہ عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ مستحق اور باصلاحیت نوجوانوں کو اپنے تعلیمی اہداف کے حصول میں کسی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔حاجی برکت بلیدی کے اس تعلیم دوست اقدام کو سراہتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ جامعہ تربت علاقے کے مخیر حضرات کے تعاون سے مستحق اور باصلاحیت نوجوانوں کو دور حاضر کی ضروریات کے مطابق جدید اور معیاری اعلی تعلیم تک رسائی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تعلیمی سال 2027 کے لیے داخلوں کا سلسلہ جاری ہے اور جامعہ تربت حکومت پاکستان، حکومت بلوچستان، ہائر ایجوکیشن کمیشن، مخیر حضرات اور دیگر فنڈنگ اداروں کے تعاون سے مختلف اسکالرشپس، مالی معاونت کے پروگرامز اور فیسوں میں رعایت جیسی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6844RECAST
حب 18اگست:ـکمشنرلسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر حب جمعدادمندوخیل کے زیرصدارت پانی بحران کے حوالے سےڈسٹرکٹ واٹرکمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہواکمشنرلسبیلہ ڈویژن کے احکامات پر پہلی مرتبہ ضلعی انتظامیہ پی ڈی حب ڈیم محکمہ آبپاشی واپڈاحکام کے مابین جوائنٹ کوآرڈینیشن میٹنگ منعقد کی گئ اجلاس میں ایف سی 147 ونگ کے کمانڈرکرنل شہزادقمرچیمبر آف کامرس کے صدراسماعیل ستار ودیگرصنعتکار وانجمن زمینداران کے نمائندگان اسسٹنٹ کمشنرحب مہیم خان گچکی چیئرمین میونسپل کارپوریشن گل حسن وائس چیئرمین عظیم۔ سیاں محکمہ پولیس اورمحکمہ زراعت کے افسران شریک ہوئے ڈپٹی کمشنر نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ اربوں روپےوفاق کو ٹیکس دینے والا حب شہر گزشتہ کئ دنوں سے پانی سے محروم صنعتی ادارے شہری آبادی اورزمیندارہانی بحران سے متاثر ہیں حب ڈیم پانی سے بھراہواہے لیکن ڈیم حکام کی جانب سے ضروریات کیمطابق پانی فراہم نہیں کیا جارہاہے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر حب نے کہا کہ جب حب ڈیم 1980ء کی دہائی میں قائم کیا گیا تھا تو اس وقت حب کی آبادی تقریباً 20 ہزار نفوس پر مشتمل تھی، جبکہ آج حب کی آبادی بڑھ کر تقریباً 6 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں غیر معمولی اضافے کے ساتھ حب میں تقریباً 300 صنعتی یونٹس قائم ہو چکے ہیں، جبکہ ساکران سمیت ملحقہ علاقوں میں وسیع زرعی اراضی بھی موجود ہےانہوں نےکہا کہ موجودہ حالات میں شہری آبادی، صنعت اور زراعت تینوں شعبے پانی کی شدید قلت سے متاثر ہو رہے ہیں
صدرچیمبرآف کامرس اسناعیل ستارنے اجلاس میں کہاکہ صنعتی ضروریات کیمطابق پانی کی عدم ترسیل سے انڈسٹریل سیکٹراورروزگارمتاثر ہورہا ہےچیف سیکرٹری اورکورہیڈکوارٹر کو صورتحال سے آگاہ کیا گیاہےبلوچستان میں لوگوں کوروزگاردینےوالی صنعتیں بندہورہی ہیں انہوں نے کہا کہ ساحلی پٹی کا پانی کھاراہونےکیوجہ سے صنعتیں حب کینال پر انحصارکرتی ہیں اورایریگیشن حکام کی جانب سے حب ڈیم پراجیکٹ ڈائریکٹر کو بارہا مراسلہ لکھا گیا ہےوفاقی حکومت اورواپڈاحکام کو سنجیدگی سے پانی بحران کا حل تلاش کرنا ہوگااجلاس کے شرکاء نے صنعتی ضلع حب میں جاری شدید آبی بحران حب ڈیم سے پانی فراہمی، کے موجودہ شیئر، صنعتی و زرعی شعبے کو درپیش مشکلات اور پانی چوری کی روک تھام و ضیاع سمیت مختلف اہم امورپرمشاورت کی گئ اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ حب ضلع کو اس وقت اس کے متوقع پانی کے حصے کا 30 فیصد سے بھی کم پانی موصول ہو رہا ہے، حالانکہ حب ڈیم کا کیچمنٹ ایریا بلوچستان میں واقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال تشویشناک ہے، کیونکہ تقریباً تین ماہ قبل تک حب میں پانی کی ایسی شدید قلت موجود نہیں تھی، تاہم اچانک پانی کے حصے میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجوہات کا جامع جائزہ لینا ضروری ہے۔ڈپٹی کمشنر حب نے کہا کہ پانی حب کی بقاء کا مسئلہ ہے اور اسے صرف ایک انتظامی یا تکنیکی معاملہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہری آبادی کے لیے پینے کا پانی، صنعتی شعبے کے لیے ضروری پانی اور کسانوں کے لیے زرعی پانی کی فراہمی یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ آبی بحران برقرار رہا تو اس کے منفی اثرات نہ صرف شہری زندگی، صنعت اور زراعت پر مرتب ہوں گے بلکہ امن و امان کی صورتحال بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس لیے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی تعاون سے فوری اور ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔
اس موقع پر پراجیکٹ ڈائریکٹر حب ڈیم نے پانی کے شیئر کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کراچی اور حب کے لیے پانی کی تقسیم کا ایک باقاعدہ اور نوٹیفائیڈ طریقہ کار موجود ہے، جس کے تحت دونوں علاقوں کے پانی کے حصے کا تعین کیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت پانی کی تقسیم ہوتی ہے اور کوئی فرد یا ادارہ اپنی مرضی سے اس نظام کو تبدیل نہیں کر سکتاپراجیکٹ ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے پانی کی تقسیم کے ساتھ ساتھ پانی چوری، غیر قانونی استعمال، ضیاع اور ترسیلی نظام میں ہونے والے نقصانات سمیت تمام عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلے کے مستقل حل کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مل کر ایک ٹھوس اور قابلِ عمل حکمتِ عملی وضع کرنا ہوگی۔
انہوں نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ بلوچستان کے حصے کا پانی جان بوجھ کر کم کیا جا رہا ہے اور کہا کہ پانی کی تقسیم مقررہ نظام اور قواعد کے مطابق ہوتی ہے، تاہم موجودہ صورتحال کے تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لے کر عملی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔صدر انجمنِ زمینداران حب رفیق سیاپاد نے زرعی شعبے کو درپیش مشکلات سے اجلاس کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی کمی کے باعث ساکران اور ملحقہ علاقوں کے کسان شدید متاثر ہو رہے ہیں اور فصلوں کی پیداوار خطرے میں ہے۔ انہوں نے زرعی زمینوں کے لیے پانی کی منصفانہ اور بروقت فراہمی کا مطالبہ کیا۔اجلاس میں شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ حب میں بڑھتی ہوئی آبادی، صنعتی سرگرمیوں اور زرعی ضروریات کے پیشِ نظر موجودہ پانی کی قلت ایک سنگین نوعیت کا بحران بن چکی ہے، جس کے فوری تدارک کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔ڈپٹی کمشنر حب نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ پانی کی دستیابی، تقسیم، ترسیل، پانی چوری، ضیاع اور موجودہ شیئر سمیت تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا جائے اور اعداد و شمار اور زمینی حقائق کی بنیاد پر ٹھوس سفارشات مرتب کی جائیں۔ڈپٹی کمشنر حب نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ حب کی شہری آبادی، صنعتی شعبے اور زرعی معیشت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن فورم پر آواز اٹھائے گی اور پانی کے مسئلے کے حل کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری جاری رکھی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حب کے آبی بحران کے حل کے لیے بین الادارہ جاتی تعاون، شفاف نظامِ تقسیم، پانی کے ضیاع اور چوری کی روک تھام اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایک جامع اور پائیدار حکمتِ عملی وضع کی جائے گی تاکہ شہری آبادی کو پینے کے پانی کی فراہمی، صنعتی سرگرمیوں کا تسلسل اور ساکران سمیت دیگر علاقوں میں زرعی معیشت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6851
ضلع چمن18اگست :ـاسسٹنٹ کمشنر سٹی چمن عزیز اللہ کاکڑ کا مختلف جنرل اسٹورز، تندوروں اور بیکریوں کا معائنہ اسسٹنٹ کمشنر سٹی چمن عزیز اللہ کاکڑ نے آج شہر کے مختلف جنرل اسٹورز، تندوروں اور بیکریوں کا معائنہ کیا۔دورانِ معائنہ اشیائے خوردونوش کے معیار، صفائی ستھرائی، قیمتوں اور سرکاری نرخ ناموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے دکانداروں اور کاروباری حضرات کو ہدایت کی کہ شہریوں کو معیاری اشیائے ضروریہ مقررہ سرکاری نرخوں پر فراہم کی جائیں اور صفائی ستھرائی کے معیار کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔اس موقع پر بعض دکانداروں کو ضروری اصلاحات کے حوالے سے سخت وارننگ بھی جاری کی گئی، جبکہ واضح کیا گیا کہ آئندہ خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اسسٹنٹ کمشنر عزیز اللہ کاکڑ نے کہا کہ شہریوں کو معیاری اشیائے ضروریہ کی مقررہ نرخوں پر فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ عوامی شکایات پر فوری کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔ضلعی انتظامیہ چمن کی جانب سے شہر میں اشیائے خوردونوش کے معیار، قیمتوں اور صفائی ستھرائی کی نگرانی کا سلسلہ بدستور جاری رہے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/6852
کوئٹہ18اگست:بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) کے ٹیکس شیڈول کے مطابق میرج ہالز، لانز، منڈپ، پنڈال اور شامیانہ سمیت شادی کی تقریبات سے متعلق خدمات، بشمول پھولوں اور سجاوٹ کی خدمات، پر ماہانہ 25,000 روپے یا فراہم کردہ خدمات کی مجموعی مالیت کا 4 فیصد، جو بھی زیادہ ہو، بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز عائد ہے۔شیڈول کے مطابق مذکورہ ٹیکس پر ان پٹ ٹیکس کریڈٹ یا ایڈجسٹمنٹ قابلِ قبول نہیں ہوگی۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے متعلقہ سروس فراہم کنندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ بی آر اے کے ساتھ رجسٹریشن، درست ٹیکس رپورٹنگ، بروقت ریٹرن فائلنگ اور واجب الادا ٹیکس کی مقررہ مدت میں ادائیگی یقینی بنائیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/6853
موسی خیل18اگست:ـ
ایس پی کلیم اللہ کاکڑ کی ہدایات کی روشنی میں
موسیٰ خیل پولیس کی جرائم پیشہ عناصر، اشتہاری اور مفرور ملزمان کے خلاف مؤثر کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری ہیں ایس ایچ او تھانہ تنگی سر عطا محمد نیازی نے پولیس ٹیم کے ہمراہ مفرور ملزمان کے ٹھکانوں پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے بسم اللہ ولد مراد خان، قوم ایسوٹ، سکنہ بڑکوہی تنگی سر کو گرفتار کر لیا۔
گرفتار ملزم تھانہ تنگی سر دو سنگین مقدمات میں مطلوب تھا، جن میں قتل، اقدامِ قتل اور بلوہ سمیت دیگر دفعات شامل ہیں۔
یہ کامیاب کارروائی موسیٰ خیل پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیت، بہترین حکمتِ عملی، بہادری، فرض شناسی اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مضبوط گرفت کا واضح ثبوت ہے۔ ایس ایچ او تنگی سر اور ان کی پوری پولیس ٹیم کی کارکردگی قابلِ تحسین ہے ایس پی کلیم اللہ کاکڑ نے تنگی سر تھانے کے اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ امن و امان کا قیام، عوام کے جان و مال کا تحفظ اور قانون شکن عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور مؤثر کارروائی جاری رکھی جائے گی۔مفرور اور اشتہاری ملزمان کے خلاف پولیس کی کارروائیاں آئندہ بھی بھرپور انداز میں جاری رہیں گی مزید تفتیش جاری ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6854
لسبیلہ /حب18اگست:ـ سیکرٹری لیبرویلفئیر صالح محمد بلوچ نے کمشنر عمران ابراہیم بنگلزئی کے ہمراہ سوشل سکیورٹی ہسپتال حب کاسرپرائز دورہ کیامسائل کا جائزہ اورشکایات کے ازالے کیلئے فوری احکامات جاری کیں سیکرٹری لیبرویلفئیرکودورے کے موقع پر ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹیٹیوشن (BESSI) بلوچستان کے کمشنر عمران ابراہیم بنگلزئی نے ہسپتال کے درپیش مسائل کے حوالے سے انہیں بریفنگ دی سیکرٹری لیبر نےسوشل سکیورٹی ہسپتال حب کے انتظامی امور مزدوروں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور درپیش مسائل سے متعلق مریضوں سے بھی معلومات حاصل کیں دورے کے موقع پر ایم ایس سوشل سکیورٹی ہسپتال مزدور یونین اور گورننگ باڈی کے نمائندوں کے ساتھ تفصیلی میٹنگ بھی کی جس میں ہسپتال کے معاملات اور مزدوروں کو درپیش مشکلات پر طویل گفتگو کی گئی مزدور یونین نمائندوں نے سیکرٹری لیبرکوبتایارجسٹرڈ14ہزارلیرزکی نمائندگی کیلئے گورننگ باڈی میں کم ازکم دوممبرزکاتعلق ضلع حب سے ہوناچاہیے تاکہ حکومتی پالیسی سے مزدوعوں کوریلیف ملے سیکرٹری کے دورے کے دوران گورننگ باڈی کے ایک رکن نے بتایا کہ مزدوروں کی ڈیتھ گرانٹ کے کیسز کئ عرصے سے سیکرٹری ورکرزویلفئیر بورڈکی فائلوں میں پڑے ہیں ان پر کاروائ کی ضرورت ہے سیکرٹری نے فوری احکامات جاری کئے کہ مزدوروں کے حقوق پرکوہی کمپرومائز نہیں کیاجائیگا ڈیتھ گرانٹ سمیت حج کوٹے اوراسکالرشپ کے حوالے سے وزیراعلی بلوچستان کی پالیسی واضح ہے انشاء اللہ حب کے محنت کش مزدوروں کو مایوس نہیں ہونے دینگے انکےجائزشکایات کاازالہ کیاجائیگا اوریسپپتال کے انتظامی معاملات سے متعلق مزدوریونین کی تجاویز پربھی غورکیاجائیگا کمشنر سوشل سیکیورٹی ہسپتال عمران ابراہیم بنگلزئ نے مزدوروں کے علاج معالجے اور ضرورت مند مریضوں کو پینل کے ذریعے کراچی منتقل کرنے جیسے معاملات پرسیکرٹری کو مزدوریونین نمائندوں کی موجودگی میں بریفنگ دی اس موقع پر سیکرٹری لیبر کاکہنا تھا کہ سوشل سکیورٹی ہسپتال کابنیادی مقصد رجسٹرڈمزدوروں اور ان کے اہل خانہ کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ہے اس لیے ہسپتال کے انتظامی مسائل کو معمولی نوعیت کا معاملہ سمجھنے کے بجائے سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہےانہوں نے اعلان کیا کہ ہسپتال کو پبلک ہرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت انڈس ہسپتال کے حوالے کرنے کی تجویز زیرغور ہے تاہم محکمہ ہیلتھ کے زیربگرانی اس یسپتال کی ماڈرنائزیش کے حوالے سے فوری اقدامات کرنے جارہے ہیں آئندہ تین ماہ کے اندرہسپتال میں سہولیات فراہمی کے حوالے سے بہتری دیکھنے میں آئیگی سیکرٹری نے ہسپتال کی میڈیسن اسٹورکاانچارج فوری طور پر سنئیر فارمسسٹ کے حوالے کرنے کے احکامات بھی جاری کیں۔







