خبرنامہ نمبر6950/2026
ٹیکساس، ڈیلاس13اگست ۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل اپنے سرکاری دورہ امریکہ کے دوران جشن آزادی پاکستان کی مناسبت سے 14 اگست کو ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں منعقد ہونے والی ایک خصوصی تقریب میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کریں گے۔ تقریب میں امریکہ میں مقیم پاکستانی اپنے قومی دن کو بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ منائیں گے۔ گورنر مندوخیل اپنے خطاب میں پاکستان کے قومی تشخص، اندرونی اتحاد، جمہوریت اور نوجوان نسل کے کردار پر روشنی ڈالیں گے اور اس عزم کا اظہار کرینگے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم پاکستانی وطن کی ترقی اور عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت امیج کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ڈیلاس میں پاکستانی کمیونٹی سے گورنر بلوچستان کا خطاب نہ صرف وطن سے محبت کے جذبے کو اجاگر کریگا بلکہ بیرونِ ملک پاکستانیوں اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط اور خوشگوار بنانے کا بھی اہم ذریعہ ثابت ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6951/2026
کوئٹہ 13اگست۔ صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب نوشیروانی نے جشن آزادی 14 اگست کے موقع پر قوم، بالخصوص بلوچستان کے عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ہمارے بزرگوں کی لازوال جدوجہد، قربانیوں اور بے مثال عزم کا ثمر ہے۔انہوں نے کہا کہ 14 اگست ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد کرنے، وطن سے محبت کا عہد تازہ کرنے اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے متحد ہو کر کردار ادا کرنے کا درس دیتا ہے۔ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے صوبائی وزیر میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ ملک کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے گراں قدر قربانیاں دی ہیں۔ حکومت بلوچستان صوبے کے عوام کی معاشی و سماجی ترقی، روزگار کے مواقع، بنیادی سہولیات اور پائیدار ترقی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ہمیں قومی یکجہتی، بھائی چارے، برداشت اور باہمی احترام کو فروغ دیتے ہوئے ملک کو درپیش چیلنجز کا مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ نوجوان پاکستان کا روشن مستقبل ہیں، انہیں تعلیم، ہنر اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ یومِ آزادی کے موقع پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے اور قائداعظم محمد علی جناح کے اصولوں اتحاد، ایمان اور تنظیم کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔میر شعیب نوشیروانی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے، ملک کو امن، ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے اور بلوچستان سمیت پورے ملک کے عوام کے لیے یہ آزادی کا دن خوشیوں اور امیدوں کا پیغام ثابت ہو۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6952/2026
کوئٹہ 13 اگست ۔ بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن، پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ عبد الخالق اچکزئی کے جوانسال فرزند ثناء اللہ اچکزئی کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔اپنے ایک تعزیتی بیان میں صوبائی وزیر نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی اور ان کے سوگوار خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جوان اولاد کی موت رب کی طرف سے سخت امتحان ہے۔ اس طرح کے کربناک لمحات میں حکم یہی ہے کہ صبر اور حوصلے سے کام لیتے ہوئے رب العزت کی تقدیر پر راضی رہا جائے۔میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ وہ اس مشکل گھڑی میں سوگوار خاندان کے غم میں برابر شریک ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ پاک مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ ا
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6953/2026
تربت13اگست ۔ : صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نے یومِ آزادی پاکستان کے موقع پر پوری قوم اور بالخصوص بلوچستان کے عوام کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 14 اگست ہمیں آزادی کی عظیم نعمت کے ساتھ ساتھ اپنے قومی عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا اہم اور ناقابلِ تقسیم حصہ ہے، اس صوبے کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی سلامتی، استحکام اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بلوچستان کے عوام کی محرومیوں کا خاتمہ، نوجوانوں کو بہتر مواقع کی فراہمی اور صوبے میں پائیدار ترقی کا فروغ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔میر ظہور بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی دراصل پاکستان کی ترقی ہے۔ صوبے کے وسیع قدرتی وسائل، ساحلی پٹی، معدنی ذخائر اور باصلاحیت نوجوان پاکستان کی معاشی ترقی کا اہم ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان کے وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد میں صوبے کے عوام کو ان کا جائز حصہ دیا جائے اور ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں۔ تعلیم، روزگار، جدید ہنر اور کاروباری مواقع فراہم کرکے انہیں قومی ترقی کے دھارے میں مزید موثر انداز میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ حکومت کی ترجیح ہونی چاہیے کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان میں امن، سیاسی استحکام اور معاشی ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ امن ہوگا تو سرمایہ کاری آئے گی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی۔ اس مقصد کے لیے تمام سیاسی و سماجی قوتوں کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔میر ظہور بلیدی نے کہا کہ 14 اگست ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اختلافات کے باوجود قومی مفاد، آئین، جمہوریت اور پاکستان کی وحدت پر سب کو متحد ہونا چاہیے۔ بلوچستان کے عوام ایک پرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کے خواہاں ہیں اور اس قومی سفر میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ آج کے دن ہمیں تحریکِ پاکستان کے رہنماوں، شہداء ، غازیوں اور ان تمام لوگوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہیے جنہوں نے پاکستان کے لیے قربانیاں دیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسا بلوچستان تشکیل دینا ہوگا جہاں امن ہو، نوجوانوں کے ہاتھ میں روزگار ہو، ہر بچے کو تعلیم ملے، عوام کو بنیادی سہولیات میسر ہوں اور صوبے کے وسائل سے بلوچستان کے عوام کی زندگیوں میں خوشحالی آئے۔میر ظہور بلیدی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے اور بلوچستان سمیت ملک کے تمام صوبوں کے عوام کو خوشحال مستقبل نصیب کرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6954/2026
کوئٹہ13 اگست : صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نورمحمد خان دمڑ نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کے جوانسال صاحبزادے ثنائ اللہ اچکزئی کے اچانک انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تعزیتی بیان میں صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ نے کہا کہ ثناء اللہ اچکزئی کے اچانک انتقال کی خبر انتہائی افسوسناک اور دلخراش ہے۔ کم عمری میں ان کا انتقال اہلِ خانہ کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان اور بڑا صدمہ ہے۔ انہوں نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی اور سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غم کی اس گھڑی میں ہماری تمام تر ہمدردیاں لواحقین کے ساتھ ہیں۔ صوبائی وزیر نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم ثناء اللہ اچکزئی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، درجات بلند کرے اور سوگوار خاندان کو صبرِ جمیل اور یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6955/2026
کوئٹہ، 13 اگست۔ : صوبائی مشیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمان خان ملاخیل نے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر بلوچستان سمیت پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ یومِ آزادی محض جشن نہیں بلکہ اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو یاد کرنے اور وطن کی ترقی و خوشحالی کے لیے تجدیدِ عہد کا دن ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا اہم اور قیمتی صوبہ ہے، اس کی ترقی اور خوشحالی ملکی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔ بلوچستان میں امن و امان کا قیام، تعلیم اور صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی اور نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع دینا ہماری اہم ذمہ داری ہے۔نسیم الرحمان خان ملاخیل نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے موجودہ چیلنجز کے پیش نظر بلوچستان کے قدرتی وسائل، پہاڑوں، ساحلوں، جنگلات اور ماحول کا تحفظ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں مل کر بلوچستان کو سرسبز، پرامن اور خوشحال بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس یومِ آزادی پر ہم عہد کریں کہ پاکستان اور بلوچستان کی ترقی، امن، خوشحالی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان اور بلوچستان کو امن، ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6956/2026
کوئٹہ 13 آگست ۔،صوبائی مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان محترمہ مینا مجید نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کے نوجوان صاحبزادے ثنائ اللہ اچکزئی کے ناگہانی انتقال پر گہرے دکھ، افسوس اور رنج کا اظہار کیا ہے۔اپنے تعزیتی پیغام میں محترمہ مینا مجید نے کہا کہ جوان سال بیٹے کی اچانک رحلت کا سن کر دلی طور پر انتہائی صدمہ پہنچا ہے۔ بھری جوانی میں اولاد کا دنیا سے رخصت ہو جانا والدین اور پورے خاندان کے لیے ایک نہایت دردناک اور برداشت سے باہر سانحہ ہے۔انہوں نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی اور ان کے خاندان سے دلی تعزیت و یگانگت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غم کی اس مشکل ترین گھڑی میں وہ سوگوار خاندان کے ساتھ کھڑی ہیں اور ان کے غم میں برابر کی شریک ہیں۔محترمہ مینا مجید نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی کہ اللہ تعالی مرحوم ثناءاللہ اچکزئی کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کی مغفرت کرے اور سوگواران کو یہ عظیم صدمہ و ناقابلِ تلافی نقصان صبرِ جمیل اور ہمت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6957/2026
گوادر 13 اگست ۔:رکن صوبائی اسمبلی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول جدید گوادر کا دورہ کیا این سی ایچ ڈی کے ڈپٹی ڈائریکٹر نزیر احمد بلوچ بھی ان ہمراہ تھے، جہاں پر انہوں نے پرنسپل طارق محمود اور اساتذہ سے ملاقات کی اور اسکول کے تعلیمی و انتظامی امور کا جائزہ لیا اس موقع پرنسپل طارق محمود نے انہیں اسکول کی عمارت کی خستہ حالی اور فوری مرمت کی ضرورت سے انہیں آگاہ کیا گیا مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے یقین دہانی کرائی کہ اسکول کی ضروری مرمت و بحالی کا منصوبہ آئندہ پی ایس ڈی پی میں شامل کرانے کے لیے مو¿ثر اقدامات کیے جائیں گے رکن صوبائی اسمبلی نے اساتذہ پر زور دیا کہ تدریسی عمل کے معیار اور کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی کو اولین ترجیح بنایا جائے، اساتذہ اپنی حاضری اور پابندیِ وقت کو یقینی بنائیں اور اپنی تمام تر توجہ طلبہ کی بہتر تعلیم و تربیت پر مرکوز رکھی جائے جبکہ طلبہ بھی اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو حصولِ علم، کردار سازی اور اپنے روشن مستقبل کی تعمیر کے لیے بروئے کار لائیں انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم ہی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے اور تعلیمی اداروں میں بہتر ماحول، بنیادی سہولیات اور موثر تدریسی نظام کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6958/2026
گوادر13 اگست ۔: رکنِ صوبائی اسمبلی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے انڈس ہسپتال گوادر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ناصر شیخ سے ملاقات کی، جس میں ہسپتال کے انتظامی امور، طبی سہولیات کی فراہمی، بجٹ میں کمی اور عوام کو درپیش طبی مسائل پر تفصیلی تبادلہ? خیال کیا گیا رکن صوبائی اسمبلی نے ہسپتال کے انتظامی و طبی نظام میں بہتری کے لیے انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ گوادر کے عوام کو معیاری، بروقت اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی حکومتی ترجیحات کا حصہ ہے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ناصر شیخ نے ہسپتال کو درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ بجٹ میں کمی کے باعث بعض طبی و انتظامی امور متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ جدید تشخیصی سہولیات میں انتہائی اہم ایم آر آئی مشین کی عدم فراہمی بھی مالی وسائل میں کمی سے منسلک ہے، جس کے باعث مریضوں کو تشخیص کے لیے دیگر شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔رکن صوبائی اسمبلی نے معاملے کی اہمیت اور گوادر کے عوام کی طبی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے موقع پر ہی وزیرِ صحت بلوچستان بخت کاکڑ، سیکرٹری صحت اور ایڈیشنل سیکرٹری صحت سے رابطہ کیا اور انڈس ہسپتال گوادر کے مسائل، خصوصاً ایم آر آئی مشین کی فراہمی، سے آگاہ کیا متعلقہ حکام نے یقین دہانی کرائی کہ انڈس ہسپتال گوادر کو درپیش مسائل کے حل، بجٹ سے متعلق امور کے جائزے اور ایم آر آئی مشین کی فراہمی کے لیے ضروری اقدامات ترجیحی بنیادوں پر کیے جائیں گے۔ سیکرٹری صحت بلوچستان نے انڈس ہسپتال گوادر کا دورہ کرکے صورتحال کا خود جائزہ لینے کی بھی یقین دہانی کرائی رکن اسمبلی نے کہا کہ صحت عامہ کے شعبے میں بنیادی اور جدید سہولیات کی فراہمی ہر شہری کا حق ہے۔ گوادر کے عوام کو بہتر علاج، جدید تشخیص اور معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے متعلقہ فورمز پر موثر انداز میں آواز اٹھائی جاتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر کو صحت کے حوالے سے درپیش مسائل کے پائیدار حل کے لیے حکومت، محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6959/2026
نصیرآباد13اگست ۔ صوبائی حکومت بلوچستان کے احکامات کی روشنی میں کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی سربراہی میں صوبے کے دیگر اضلاع کی طرح نصیرآباد ڈویژن میں بھی 14 اگست یومِ آزادی پاکستان کو قومی جوش و جذبے ملی یکجہتی اور شایانِ شان انداز میں منانے کے لیے تیاریوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے ڈویڑن بھر میں سرکاری دفاتر، اہم شاہراہوں اور نمایاں مقامات کو برقی قمقموں رنگ برنگی روشنیوں اور سبز ہلالی پرچموں سے سجایا گیا ہے، جس سے جشنِ آزادی کی خوشیاں اور قومی جذبہ نمایاں ہو رہا ہے نصیرآباد میں کمشنر نصیرآباد ڈویژن کے دفتر کو خصوصی طور پر خوبصورت روشنیوں سے سجایا گیا ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد آفس و دیگر سرکاری عمارات کی خوبصورت تزئین و آرائش سے شہر میں جشنِ آزادی کا ماحول مزید دیدہ زیب اور پرجوش ہوگیا ہے جبکہ روشنیوں سے روڈز بھی جگ مگا اٹھے حکومتِ بلوچستان کی ہدایات اور صوبائی قیادت کی رہنمائی میں صوبائی وزیر ایریگیشن محمد صادق عمرانی اور صوبائی وزیر ایکسائیز حاجی محمد خان بھی پروگرام میں شرکت کرینگے۔ یومِ آزادی کی تقریبات کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے متعلقہ محکموں اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران قومی جذبے نظم و ضبط اور عوامی شرکت کو یقینی بنایا جائےنصیرآباد ڈویژن میں یومِ آزادی کی مرکزی اور سب سے بڑی تقریب کمشنر نصیرآباد کے احاطے میں منعقد ہوگی جس میں تمام ڈویڑنل و ضلعی محکموں کے سربراہان سرکاری افسران و اہلکاران، عمائدینِ علاقہ سیاسی و سماجی شخصیات طلبہ، اساتذہ صحافیوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ افراد کو مدعو کیا گیا ہے تقریب کا باقاعدہ آغاز پرچم کشائی سے ہوگا جس کے بعد قومی ترانہ پیش کیا جائے گا تقریب میں یومِ آزادی کی مناسبت سے تقاریر ملی نغمے اور دیگر خصوصی پروگرام بھی پیش کیے جائیں گے جن میں قیامِ پاکستان کے مقاصد قومی یکجہتی، ملکی ترقی اور وطنِ عزیز کی سلامتی و خوشحالی کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا جائے گاڈویژنل انتظامیہ کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ یومِ آزادی کے موقع پر عوام کو ایک پرامن باوقار اور قومی جذبے سے سرشار ما حول فراہم کیا جائے گا جبکہ تقریبات میں نوجوانوں اور طلبہ کی بھرپور شرکت کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔یومِ آزادی کے موقع پر نصیرآباد ڈویژن کے عوام پاکستان کی سلامتی ترقی خوشحالی اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کریں گے اور اس عزم کا اعادہ کیا جائے گا کہ وطنِ عزیز کی تعمیر و ترقی، امن اور قومی یکجہتی کے لیے ہر فرد اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6960/2026
موسیٰ خیل13اگست۔ ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی خصوصی ہدایات پر محکمہ زراعت توسیعی کے زیر اہتمام ڈپٹی کمشنر ریسٹ ہاوس میں موجود زیتون کے درختوں کو موذی بیماریوں اور کیڑوں سے محفوظ رکھنے کے لیے سپرے مہم کا انعقاد کیا گیا۔ اس تمام عمل کی براہ راست نگرانی ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیعی شمس الحق نے کی سپرے مہم کا بنیادی مقصد ضلع میں زیتون کی کاشت کی بہترین دیکھ بھال، پودوں کی نشوونما اور پیداوری صلاحیت کو بڑھانا ہے۔ اس موقع پر محکمہ زراعت کی ماہر ٹیم نے جدید زرعی ادویات کا استعمال کرتے ہوئے درختوں پر باقاعدہ سپرے کیا۔زیتون کے درختوں پر موسم سے جڑے نقصان دہ کیڑوں اور فنگل بیماریوں کے حملے کو روکنے کے لیے کیمیائی سپرے کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ تمام سرکاری عمارتوں اور اضلاعی باغوں میں موجود پھل دار درختوں اور سبزے کی مسلسل نگہداشت کو یقینی بنایا جائے۔ڈپٹی ڈائریکٹر شمس الحق کی قیادت میں زراعت توسیعی کی ٹیمیں ضلع کے مختلف حصوں اور مقامی زمینداروں کے باغات کا معائنہ بھی کر رہی ہیں تاکہ بروقت تکنیکی رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیعی شمس الحق نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل کی ہدایات کی روشنی میں زرعی اصلاحات اور درختوں کی تحفظ و نگہداشت کے اقدامات کو ترجیحی بنیادوں پر سرانجام دیا جا رہا ہے۔ زیتون خطے کی معیشت اور ماحولیات کے لیے انتہائی اہم ہے، اور اس کی مناسب اور بروقت دیکھ بھال سے معیاری پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔انہوں نے مقامی زمینداروں اور باغبانوں پر زور دیا کہ وہ زیتون اور دیگر پھل دار درختوں کو موسمی بیماریوں سے بچانے کے لیے محکمہ زراعت کی توسیعی خدمات اور ماہرین کے مشوروں سے استفادہ کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6961/2026
گوادر 13 گست ۔پرنسپل گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج گوادر کے ایک اعلامیہ کے مطابق فرسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر کے تمام طلباءکو مطلع کیا جاتا ہے کہ کالج میں باقاعدہ تدریسی کلاسز کا آغاز 17 اگست 2026ء بروز پیر سے ہو رہا ہے۔تمام طلباءکو ہدایت کی جاتی ہے کہ مقررہ تاریخ سے اپنی کلاسز میں بروقت اور مکمل کالج یونیفارم میں حاضری کو یقینی بنائیں جبکہ سربندن سے آنے والے طلباء اپنے متعلقہ روٹس پر مقررہ اوقات کے مطابق کالج بس کا انتظار کریں۔ اسی طرح گوادر شہر کے مختلف علاقوں سے آنے والے طلباءبھی اپنے مقررہ بس اسٹاپس پر بروقت موجود رہیں واضح رہے کہ 17 اگست 2026 سے کالج کی بسیں معمول کے مطابق اپنے مقررہ روٹس پر چلیں گی۔ تمام طلباءسے گزارش ہے کہ وہ مقررہ وقت پر اپنے متعلقہ بس اسٹاپس پر موجود رہیں تاکہ کالج میں بروقت حاضری یقینی بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6962/2026
خضدار 13 اگست ۔ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی احکامات اور حکومت بلوچستان کی وژن کے مطابق ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی سربراہی میں محکمہ سپورٹس خضدار کے زیر اہتمام جشن ازادی پاکستان کے سلسلے میں کرکٹ ٹورنامنٹ اختتام پذیر ہو گیا اختتامی تقریب کا انعقاد جناح کرکٹ اسٹیڈیم میں کیا گیا جس کی مہمان خاص اسپورٹس افیسر خضدار میڈم رقیہ عبید تھے انہوں نے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جشن ازادی پاکستان سپورٹس فیسٹیول میں کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل سٹی الیون نے شاندار انداز میں جیت کر چیمپیئن کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔فائنل میچ میں کھٹان الیون نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے سٹی الیون کی تباہ کن باولنگ کے سامنے صرف 92 رنز پر پوری ٹیم آوٹ ہوگئی۔ جس میں یاسر اور احمد نے 19, 19 رنز بنائے۔ سٹی الیون کی جانب سے شاکر نے 4 جبکہ آصف ، اور ایاز نے 3,3 وکٹیں حاصل کرکے بہترین باو¿لنگ کا مظاہرہ کیا۔جواب میں سٹی الیون نے مطلوبہ 93 رنز کا ہدف 5.5 اوورز میں صرف 2 وکٹوں کے نقصان پر بآسانی حاصل کرلیا اور یوں فائنل اپنے نام کرتے ہوئے جشن ازادی پاکستان سپورٹس فیسٹیول کی چیمپیئن ٹیم بن گئی۔فائنل میچ کی تقریب میں مہمانِ خصوصی اسپورٹس آفیسر میڈم رقیہ عبید نے شرکت کی اور کامیاب کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔ اس موقع پر سٹی صدر مقبول جھالاوان، سینئر کرکٹر اختر شاہ، حاجی بارانزئی اور کوچ کبیر باجوئی بھی موجود تھے ۔اختتامی تقریب میں شاندار کھیل پیش کرنے والے کھلاڑیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جبکہ سٹی الیون کی کامیابی پر شائقینِ کرکٹ اور ٹیم کے کھلاڑیوں نے خوشی کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6963/2026
استامحمد:13اگست۔ جشنِ آزادی کی تیاریاں عروج پر شہریوں میں قومی جوش و جذبہ واضح رہے کہ آج 13 اگست کو جشنِ آزادی پاکستان کے موقع پر استامحمد شہر میں قومی جوش و جذبے کی فضا نمایاں ہے شہر کے مختلف مقامات پر پاکستانی سبز ہلالی پرچم جھنڈیاں بینرز اور دیگر قومی اشیاء کے اسٹال سج گئے ہیں جہاں بڑی تعداد میں شہری اپنی پسند کی اشیاء خریدنے میں مصروف ہیں ان اسٹالوں پر مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین نوجوانوں اور معصوم بچوں کا بھی خاصا رش دیکھنے میں آ رہا ہے بچے اپنے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم اٹھانے اور گھروں دکانوں گاڑیوں اور دیگر مقامات کو قومی پرچموں اور جھنڈیوں سے سجانے کے لیے پرجوش انداز میں خریداری کر رہے ہیں جبکہ خواتین اور شہری بھی جشنِ آزادی کی مناسبت سے مختلف قومی اشیاء خرید رہی ہیں۔شہر کی گلیوں بازاروں اور اہم شاہراہوں پر سبز ہلالی پرچموں اور جھنڈیوں کی بہار نظر آ رہی ہے جس سے پورا ماحول قومی رنگ میں رنگا ہوا دکھائی دے رہا ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ جشنِ آزادی صرف ایک تہوار نہیں بلکہ یہ وطنِ عزیز پاکستان سے محبت، عقیدت اور اپنی قومی ذمہ داریوں کے عزم کی تجدید کا دن ہے استامحمد میں بچوں، نوجوانوں خواتین اور بزرگوں کی جانب سے جشنِ آزادی کی تیاریوں میں بھرپور دلچسپی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم اپنے وطن سے گہری محبت رکھتی ہے اور ہر سال یومِ آزادی کو قومی جوش و جذبے کے ساتھ منانے کے لیے پرعزم ہے شہریوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ 14 اگست پاکستان کی آزادی، قومی یکجہتی، اتحاد و اتفاق اور وطن سے وفاداری کے عہد کی تجدید کا دن ہے اور اس موقع پر وہ پاکستان کی ترقی خوشحالی اور استحکام کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6964/2026
سیوی 13 اگست ۔یومِ آزادی پاکستان کے سلسلے میں گورنمنٹ گرلز مڈل سکول کلی در محمد مکرانی میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں طالبات اور اساتذہ نے بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کی۔ تقریب کا آغاز پرچم کشائی سے ہوا، جو ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن نسواں ارم نورین نے کی۔ اس موقع پر سکول کی اساتذہ اور طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی، جنہوں نے قومی جذبے اور حب الوطنی کا بھرپور اظہار کیا۔ تقریب کے دوران طالبات کی جانب سے ملی نغمے، تقاریر، ٹیبلو اور دیگر رنگا رنگ پروگرام پیش کیے گئے، جنہیں شرکاءنے خوب سراہا۔ طالبات نے اپنی پرفارمنس کے ذریعے پاکستان سے محبت، قومی یکجہتی اور آزادی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس موقع پر مقررین نے یومِ آزادی کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمارے بزرگوں کی لازوال قربانیوں کا ثمر ہے، اس لیے ہمیں ملک کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6965/2026
زیارت 13اگست ۔زیارت میں یومِ آزادی کی تیاریوں میں تیزی، قومی جوش و جذبے کے ساتھ تقریبات کا آغاز، ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی کی قیادت میں شاندار فلیگ مارچ کا انعقاد۔ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی قیادت میں ڈسٹرکٹ انتظامیہ زیارت اور پولیس کی جانب سے جشن آزادی کے موقع پر فلیگ مارچ ریلی نکالی گئی ریلی نکالی گئی ریلی میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عبدالمالک درانی،اسسٹنٹ کمشنر شیر شاہ غلزئی نے بھی شرکت کی ریلی سے ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا یومِ آزادی پاکستان قومی تاریخ کا ایک عظیم دن ہے، جسے ضلع چمن میں بھرپور جوش، جذبے اور ملی یکجہتی کے ساتھ منانے کے لیے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو شایانِ شان انداز میں منعقد کرنے کے لیے مختلف سرکاری و عوامی مقامات کو قومی پرچموں، بینرز اور سبز ہلالی پرچم کے رنگوں سے سجایا جا رہا ہے۔چودہ اگست ہمارے جذبہ حب الوطنی کا دن ہے اس دن کو منانا ہمارا فرض ہے یہ دن ہمیں امن اور سلامتی بھائی چارے کا درس دیتا ہے اس ملک کو ہم نے ایک ترقی اور ناقابل تسخیر ملک بنانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6966/2026
نصیرآباد13اگست ۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز حسین جمالی ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر پی پی ایچ آئی طارق شہباز منظور شیرازی سمیت محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران ضلع نصیرآباد میں عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات بنیادی مراکزِ صحت کی کارکردگی ادویات کی دستیابی ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی حاضری، مریضوں کو درپیش مشکلات اور صحت کے مراکز میں موجود دیگر مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس موقع پر متعلقہ افسران کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کو صحت کے شعبے سے متعلق مختلف امور مراکزِ صحت میں سہولیات کی فراہمی اور درپیش مسائل کے حل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی گءاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان کی جانب سے عوام کو صحت کی بنیادی اور معیاری سہولیات کی فراہمی کو اولین ترجیحات میں شامل رکھا گیا ہے صحت ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے اس لیے اس شعبے سے وابستہ افسران اور اہلکار اپنی ذمہ داریاں محض سرکاری فرائض کے طور پر نہیں بلکہ عوامی خدمت کے جذبے کے تحت انجام دیں انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں قائم بنیادی مراکزِ صحت کو فعال رکھنا وہاں ڈاکٹرز پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر عملے کی بروقت حاضری یقینی بنانا اور ضروری ادویات کی وافر مقدار میں دستیابی انتہائی ضروری ہے تاکہ غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو معمولی نوعیت کے علاج کے لیے بھی بڑے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ضلع بھر کے تمام بنیادی مراکزِ صحت میں ادویات کی دستیابی عملے کی حاضری اور طبی سہولیات کی فراہمی کو باقاعدگی سے مانیٹر کیا جائے انہوں نے کہا کہ عوامی شکایات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور صحت کے مراکز کو درپیش مسائل کے فوری حل کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جائیں وریندر لعل نے مزید کہا کہ صحت کے مراکز پر آنے والے مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا بھی محکمہ صحت کے اہلکاروں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے گی تاکہ ضلع نصیرآباد کے عوام کو ان کی دہلیز پر بروقت موثر اور معیاری طبی سہولیات میسر آسکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6967/2026
کوئٹہ، 13 اگست ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مختلف صوبوں کی جامعات میں اسکالرشپ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے منتخب بلوچستان کے طلبہ و طالبات سے ملاقات کی، جس کے دوران ترقیاتی منصوبوں، گورننس، تعلیم اور دیگر اہم امور پر تفصیلی مکالمہ ہوا۔ اس موقع پر طلبہ و طالبات نے وزیراعلیٰ سے مختلف امور سے متعلق سوالات بھی کیے اور وزیراعلیٰ نے تفصیلی جوابات دیے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع سے طلبہ و طالبات کا میرٹ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے انتخاب ان کے روشن تعلیمی مستقبل کی ضمانت ہے۔ اسکالرشپ کے لیے منتخب ہونے والے بیشتر طلبہ و طالبات کا تعلق غریب اور متوسط طبقے سے ہے اور ان کے لیے ملک کی اعلیٰ جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ایک اہم پیش رفت ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی اعلیٰ جامعات میں بلوچستان کے نوجوانوں کا مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کرنا باعثِ مسرت ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے بلوچستان کے طلبہ کو جامعات میں داخلے کے ساتھ ٹیوشن اور ہاسٹل فیس کی مد میں معاونت فراہم کرنا قابلِ تحسین اقدام ہے، جس پر اہلیانِ بلوچستان کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ دیگر صوبوں کی جامعات میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے نظم و ضبط، محنت اور میرٹ کو اپنا شعار بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان جہاں بھی جائیں، اپنی صلاحیتوں اور مثبت کردار سے پاکستانیت کا پرچار کریں، کیونکہ وہ بلوچستان اور پاکستان کے سفیر ہیں وزیراعلیٰ نے کہا کہ طلبہ کسی بھی ریاست مخالف تنظیم یا منفی پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں اور حصولِ تعلیم کے ذریعے اپنے والدین کی توقعات پر پورا اتریں۔ انہوں نے کہا کہ تصور اور حقائق میں فرق ہوتا ہے، ریاست مخالف عناصر غیر متوازن ترقی کے نام پر نوجوانوں کی منفی ذہن سازی کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے طلبہ کو ایسے عناصر سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لیے بنا ہے اور تاقیامت قائم رہے گا۔ پاکستان کو تقسیم کرنے کا خواب دیکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان پاکستان کے مستقبل کے معمار ہیں اور انہیں اپنی توانائیاں تعلیم، تحقیق، ہنر اور ملک و صوبے کی ترقی کے لیے بروئے کار لانی چاہئیں۔وزیراعلیٰ نے طلبہ و طالبات کے ساتھ مکالمے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے سوالات اور ان کے خیالات کو سننا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوان ہی بلوچستان کو ترقی، خوشحالی اور استحکام کی راہ پر گامزن کرنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن صالح بلوچ بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6968/2026
کوئٹہ 13 اگست ۔ بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن، پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے یوم آزادی 14 اگست کے موقع پر تمام اہل وطن کو مبارکباد پیش کی ہے۔ اپنے ایک تہنیتی پیغام میں صوبائی وزیر نے کہا کہ آزادی رب العزت کی عطا کردہ ان عظیم نعمتوں میں سے ہے جس کے لیے پوری زندگی شکر ادا کیا جائے تو بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کی بنیادوں میں ہمارے اسلاف کا خون شامل ہے۔ ہزاروں لوگوں نے اپنی قیمتی جانیں نچھاور کر کے ہمیں یہ عظیم تحفہ دیا۔ آج ہم پر فرض ہے کہ ہم ملک و ملت کی تعمیر، ترقی اور خوشحالی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہ کریں۔میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ آزادی کے دن ہمیں اس عہد کی تجدید کرنی ہوگی کہ ہم پاکستان میں آئین، قانون، امن، انصاف اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے سنجیدہ کوشیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا دفاع افواج پاکستان کے مضبوط ہاتھوں میں ہے جو دشمن کی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ہمارا عزم ہے کہ ہم اپنی دفاعی قوت کو مزید مضبوط اور ناقابل تسخیر بنائیں تاکہ بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان کی معاشی ترقی، غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے پورے ملک اور خصوصاً بلوچستان کے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملک اور صوبے میں قیام امن کے لیے جاری کوششوں میں موجودہ حکومت کا ساتھ دیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6969/2026
نصیرآباد:13اگست۔ صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و رکن صوبائی اسمبلی حاجی محمد خان لہڑی نے کہا ہے کہ پاکستان لا الٰہ الا اللہ کے نام پر معرضِ وجود میں آیا اور اس کی آزادی ہمیں ماہِ مقدس رمضان المبارک 14 اگست میں نصیب ہوئی، پاکستان ایک آزاد، خودمختار اور اسلامی ریاست ہے جس کے چپے چپے کی حفاظت ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے، قیامِ پاکستان کے بعد ہمیں غلامی کی زنجیروں سے نجات ملی اور آج ہم مملکتِ خداداد میں اپنی مذہبی، سماجی اور قومی رسومات مکمل آزادی کے ساتھ ادا کر رہے ہیں، یہ آزادی ہمارے بزرگوں اور اسلاف کی بے مثال جدوجہد، لازوال قربانیوں اور شہداء کے خون کا ثمر ہے، ہمیں آزادی کی قدر و منزلت کو سمجھتے ہوئے وطنِ عزیز کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے متحد ہوکر اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لہڑی ہاوس ڈیرہ مراد جمالی میں مختلف وفود اور عوامی نمائندوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ حاجی محمد خان لہڑی نے کہا کہ 14 اگست ہمیں اپنے قومی عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے، ہمیں اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی یکجہتی، بھائی چارے اور حب الوطنی کو فروغ دینا چاہیے، پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہر شہری کو اپنی ذمہ داری ایمانداری اور خلوصِ نیت سے ادا کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ملک کا روشن مستقبل ہیں، انہیں تعلیم، ہنر اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرکے ایک مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد مزید مستحکم کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سمیت ملک کے تمام علاقوں کی ترقی، عوام کی خوشحالی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے، حکومت عوامی مسائل کے حل اور صوبے کی تعمیر و ترقی کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے اہلِ وطن کو 79ویں جشنِ آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس عہد کے ساتھ یومِ آزادی منانا چاہیے کہ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری، ترقی اور خوشحالی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6970/2026
نصیرآباد13اگست ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت ماہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں متعلقہ افسران اور مختلف محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی اجلاس کے دوران ضلع نصیرآباد میں جاری ترقیاتی منصوبوں امن و امان کی صورتحال عوامی مسائل کے حل انتظامی امور اور دیگر اہم معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس میں مختلف محکموں کی جانب سے جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت منصوبوں کے معیار رفتارِ تعمیر اور مقررہ مدت کے اندر تکمیل کے حوالے سے بریفنگ دی گئی ڈپٹی کمشنر نے افسران کو ہدایت کی کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور کام کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے تاکہ عوامی فنڈز کا درست اور موثر استعمال یقینی بنایا جا سکے امن و امان کی صورتحال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ضلع میں بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو فیز ٹو کے تحت مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبے و زیر تعمیر منصوبوں کے معیار کو یقینی بنانے پر بھی خصوصی توجہ مبذول کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ یہ منصوبے دیرپا ثابت ہوں اور زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں ۔ اجلاس میں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی سرکاری محکموں کی کارکردگی عوامی شکایات کے ازالے اور دیگر انتظامی امور پر بھی غور کیا گیا ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے افسران پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں، عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اور حکومتی پالیسیوں و ہدایات پر موثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی ترقیاتی عمل کو تیز کرنا، امن و امان برقرار رکھنا اور سرکاری امور میں شفافیت و بہتری لانا ہے اجلاس کے اختتام پر مختلف امور سے متعلق ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے افسران کو ان پر بروقت عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6971/2026
گوادر۔ 13 اگست ۔گوادر میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت، تعمیراتی کاموں کے معیار، درپیش رکاوٹوں اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن اور ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان نے مشترکہ طور پر کی۔اجلاس میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، سپرنٹنڈنگ انجینئر روڈ نادر بلوچ، سپرنٹنڈنگ انجینئر بلڈنگ شے آصف غنی، پراجیکٹ ڈائریکٹر واٹر میرجان بلوچ، پراجیکٹ ڈائریکٹر اولڈ ٹاون بحالی منصوبہ میر دودا خان مری سمیت دیگر انجینئرز اور متعلقہ افسران نے شرکت کی، جبکہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر یاسر نے بھی خصوصی طور پر اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں جی ڈی اے کے تحت جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور ان کی موجودہ پیشرفت، تکمیل کی مدت، تعمیراتی معیار، فنڈز کی ضروریات اور درپیش رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ولڈ ٹاون بحالی منصوبے کے تحت گوادر شہر میں تعلیمی اداروں، کھیل کے میدانوں، بازاروں، گلیوں اور شاہراہوں کی تعمیر، توسیع، بحالی اور تزئین و آرائش کا کام تقریباً آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ اس موقع پر گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول گوادر اور ینگ جان فٹسال گراونڈ کا آئندہ ماہ باقاعدہ افتتاح کرنے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کے احاطے میں ڈرینیج لائن، سورگ دل گراونڈ میں گیٹ کی تنصیب جبکہ جنت بازار اور شاہی بازار میں بعض مقامات پر عوامی سطح پر پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث ترقیاتی کاموں کی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ تمام رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرکے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر بروقت مکمل کیا جائے گا تاکہ نہ صرف ترقیاتی وسائل کا موثر استعمال یقینی بنایا جا سکے بلکہ شہریوں کو بھی جلد از جلد بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اجلاس میں گوادر کے قبرستان کے باقی ماندہ ترقیاتی کاموں کا بھی جائزہ لیا گیا اور انہیں فوری طور پر مکمل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔اسی طرح گوادر کے مختلف چار بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) کی تعمیر و مرمت کے منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈی ایچ او گوادر کی جانب سے اجلاس کو بتایا گیا کہ بعض بی ایچ یوز میں دیگر متعلقہ اداروں کے تحت بھی تعمیر و مرمت کے کام جاری ہیں۔ اس پر فیصلہ کیا گیا کہ جی ڈی اے اور محکمہ صحت باہمی مشاورت سے ہر مرکز کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں گے اور جہاں کام نہیں ہو رہا یا مزید تعمیر و مرمت کی ضرورت ہے، وہاں جی ڈی اے اپنی ذمہ داری ادا کرے گا۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ محکمہ صحت کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔اجلاس میں فشنگ جیٹی سربندر اور فشنگ جیٹی پشکان کی تعمیر و توسیع اور بحالی کے امور بھی زیرِ غور آئے۔ ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن نے فشنگ جیٹیوں کی بحالی کو اہم قرار دیتے ہوئے اس کام کو مزید تیز کرنے پر زور دیا۔ چیف انجینیئر نے بتایا کہ متعلقہ کام پر پیشرفت جاری ہے تاہم منصوبے کی مکمل تکمیل کے لیے مزید فنڈز درکار ہیں۔ اجلاس میں سربندر جیٹی پر مول کے افتتاح کو بھی آئندہ چند روز میں یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔اس موقع پر ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن نے تمام ترقیاتی منصوبوں خاص کر جنت بازار اور شاہی بازار میں ترقیاتی کام تیز کرنے پر زور دیا انہوں نے کہا کہ گوادر میں جی ڈی اے کی جانب سے جاری تعمیر و ترقی کے منصوبے مختلف مشکلات اور چیلنجز کے باوجود مجموعی طور پر اطمینان بخش پیشرفت کر رہے ہیں۔ انہوں نے منصوبوں کے معیارِ تعمیر اور کام کی رفتار کو مزید بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جن منصوبوں میں رکاوٹیں درپیش ہیں انہیں عوامی مشاورت اور شہریوں کی شمولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر دور کیا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مفاد کے ترقیاتی منصوبوں میں بلاجواز رکاوٹ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ اداروں، افسران اور اسٹیک ہولڈرز کو چاہیے کہ وہ باہمی تعاون کے ذریعے منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائیں۔مولانا ہدایت الرحمٰن نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے درکار فنڈز کے حوالے سے بتایا کہ حالیہ دور اسلام آباد کے دوران وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال سے ملاقات میں انہوں نے گوادر کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے درکار فنڈز کی ضرورت پر خصوصی طور پر زور دیا۔ وفاقی وزیر کی جانب سے گوادر کے لیے ضروری فنڈز کی ترجیحی بنیادوں پر فراہمی کے لیے یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سے بھی اس معاملے پر بات کی جائے گی اور گوادر کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے درکار فنڈز کی بروقت فراہمی کے لیے ہر سطح پر جی ڈی اے کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گوادر کی تعمیر و ترقی ایک عظیم مقصد ہے اور جی ڈی اے اس مقصد کے حصول کے لیے جامع حکمتِ عملی کے تحت عملی اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیارِ تعمیر، وسائل کا موثر استعمال اور بروقت تکمیل کو بنیادی ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے کی پوری کوشش ہے کہ جاری منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرکے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں اور ترقیاتی کاموں کے حوالے سے عوامی شکایات کے امکانات کو کم سے کم کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے منصوبوں کی مسلسل نگرانی، معیار کی جانچ اور متعلقہ افسران کی ذمہ داریوں کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6972/2026
قلات 13اگست۔ چیئرمین میونسپل کمیٹی قلات نواب زادہ میر شعیب جان زہری کی قیادت میں کلی پس شہر میں ترقیاتی کام جاری ہیں۔سیوریج و نکاسی آب کے نظام کی بہتری، نئی پائپ لائنوں کی تنصیب، اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں چیئرمین میونسپل کمیٹی نواب زادہ میر شعیب جان زہری کا کہنا ہے کہ سیاست اقتدار کے حصول کا نہیں بلکہ عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کے حل کا ذریعہ ہے۔ عوام نے جو اعتماد دیا ہے، اس کا جواب صرف دعووں سے نہیں بلکہ عملی کاموں سے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ میونسپل کمیٹی کے وسائل عوام کی امانت ہیں اور یہ وسائل عوام ہی کی فلاح و بہبود پر خرچ کئے جارہے ہیں ہمارا مقصد یہ ہے کہ قلات کے شہریوں کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جائیں اس سلسلے میں جاری ترقیاتی کاموں کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ترقیاتی کام معیار کے مطابق مکمل ہوں اور عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6973/2026
نصیرآباد13اگست ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت ریونیو افسران کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع بھر میں سرکاری واجبات کی وصولی ریونیو امور اور زمینداروں پر واجب الادا بقایاجات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں متعلقہ ریونیو افسران نے شرکت کی اور ڈپٹی کمشنر کو حکومت کے زرعی انکم ٹیکس آبیانہ اور عشر کی مد میں زمینداروں پر واجب الادا بقایاجات وصولیوں کی موجودہ صورتحال اور مقررہ اہداف کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اجلاس کے دوران ریونیو افسران نے بتایا کہ مختلف مدات میں سرکاری واجبات کی وصولی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم بعض زمینداروں کی جانب سے واجبات کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کے باعث بقایاجات موجود ہیں ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران سے وصولی کے اہداف اب تک کی پیش رفت اور بقایاجات کی تفصیلات بھی دریافت کیں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کہا کہ حکومت کے واجب الادا بقایاجات کی وصولی سرکاری امور کا اہم حصہ ہے اس لیے تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنائیں انہوں نے ہدایت کی کہ زرعی انکم ٹیکس آبیانہ اور عشر سمیت دیگر سرکاری واجبات کی وصولی کے لیے موثر اور منظم حکمتِ عملی اختیار کی جائے اور روزانہ کی بنیاد پر وصولی کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے انہوں نے مزید کہا کہ جن زمینداروں کے ذمے حکومت کے واجبات واجب الادا ہیں انہیں مقررہ طریقہ کار کے مطابق بروقت ادائیگی کے لیے نوٹس جاری کیے جائیں واجبات کی عدم ادائیگی کی صورت میں قانون اور ضابطے کے تحت ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ سرکاری محصولات کی وصولی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہوڈپٹی کمشنر نے ریونیو افسران پر زور دیا کہ وہ فیلڈ میں اپنی موجودگی کو یقینی بناتے ہوئے بقایاجات کی وصولی کے عمل کی موثر نگرانی کریں اور حکومت کی جانب سے دیے گئے ریونیو اہداف کو مقررہ مدت کے اندر حاصل کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری واجبات کی وصولی میں غفلت یا سستی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور متعلقہ افسران کی کارکردگی کو باقاعدگی سے مانیٹر کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6974/2026
حب 13اگست ۔ ضلعی انتظامیہ کی زیرنگرانی جشنِ آزادی کی مناسبت سے ضلع حب میں ایک شاندار شوٹنگ بال میچ کا انعقاد کیا گیا، جس میں لیبر فائٹر اور حب فائٹر کی ٹیموں کے کھلاڑیوں نے بھرپور حصہ لیا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان ہونے والے مقابلے میں کھلاڑیوں نے بہترین کھیل، مہارت، جوش و جذبے اور کھیلوں کے اعلیٰ اسپرٹ کا مظاہرہ کیا، جس سے شائقینِ کھیل خوب محظوظ ہوئے۔شوٹنگ بال میچ کے مہمانِ خصوصی گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور معروف اسپورٹس دوست رہنما ماسٹر عبدالعزیز رونجھو تھے، جبکہ ان کے ہمراہ ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر حاجی محمد ہاشم زہری اور ڈی ایف اے حب کے میڈیا کوآرڈینیٹر ابوبکر دانش میروانی بھی موجود تھے۔مہمانِ خصوصی اور دیگر معزز مہمانوں کی گراونڈ آمد پر شوٹنگ بال ایسوسی ایشن ضلع حب کے جنرل سیکریٹری برکت علی نادر رونجھو، عہدیداران عبدالستار موندرہ، امان اللہ بندیچہ، ماسٹر عبدالعزیز لاسی، رضا محمد بسمل سمیت دیگر منتظمین اور کھیلوں سے وابستہ شخصیات نے پرتپاک استقبال کیا۔اس موقع پر گراونڈ میں جشنِ آزادی کے حوالے سے خصوصی جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ کھلاڑیوں نے نہ صرف اپنی کھیلوں کی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا بلکہ پاکستان کے یومِ آزادی کی خوشیوں کو کھیلوں کے ذریعے اجاگر کرتے ہوئے قومی جذبے کا بھی مظاہرہ کیا۔ میچ کے دوران دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے ایک دوسرے کو سخت مقابلہ دیا اور شائقین نے بھی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے بھرپور داد دی۔مہمانِ خصوصی ماسٹر عبدالعزیز رونجھو نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کھیل نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مثبت سمت دینے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ صحت مند معاشرے کے قیام اور نوجوان نسل کو منفی سرگرمیوں سے دور رکھنے کے لیے کھیلوں کے میدان آباد کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے شوٹنگ بال کے فروغ کے لیے ضلع حب کے کھلاڑیوں اور منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر حاجی محمد ہاشم زہری نے بھی کھیلوں کی سرگرمیوں کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یومِ آزادی کے موقع پر کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد نوجوانوں میں حب الوطنی، نظم و ضبط، باہمی احترام اور مثبت مسابقت کے جذبے کو فروغ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع حب میں کھیلوں کے فروغ اور کھلاڑیوں کو بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔شوٹنگ بال انتظامیہ نے کہا کہ جشنِ آزادی کے موقع پر اس نوعیت کی کھیلوں کی سرگرمیاں نوجوانوں کے لیے صحت مند تفریح کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی کا بھی ذریعہ بنتی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ضلع حب میں شوٹنگ بال سمیت دیگر کھیلوں کے فروغ کے لیے مقابلوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
جشنِ آزادی شوٹنگ بال میچ نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کیا کہ ضلع حب کے نوجوانوں میں کھیلوں کا بے پناہ ٹیلنٹ اور جذبہ موجود ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ انہیں مناسب پلیٹ فارم، سہولیات اور مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ضلع، صوبے اور ملک کا نام روشن کرسکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6975/2026
اوتھل13اگست ۔ جشن آزادی لسبیلہ اسپورٹس فیسٹیول کافاآئنل راﺅنڈ حکومت بلوچستان محکمہ کھیل لسبیلہ کے تعاون اور ضلعی انتظامیہ لسبیلہ کی زیرنگرانی کامیاب انعقادکیا گیااسپورٹس ایونٹس میں شریک تمام ایسوسی ایشنز کی محنت و کھلاڑیوں کی دلچسپی سے جشن آزادی کےایونٹس کرکٹ فٹسال والی بال اور ثقافتی روایتی کھیل ملاکھڑانے لسبیلہ کے گراﺅنڈ کی رونقیں بحال اورشہری خوشی سے جھوم۔ اٹھے لسبیلہ کی تمام تحصیلوں میں اسپورٹس آفیسر لسبیلہ خدا بخش بلوچ کی کاوشوں سے گیمز کا انعقاد ہوا۔ جن میں تاریخی شہر بیلہ میں شوٹنگ والی بال۔ لاکھڑا میں ثقافتی کھیل ملاکھڑا۔ لیاری کنڈملیر میں بیچ کرکٹ۔کنراج میں ٹیپ بال کرکٹ اور ڈویژنل ہیڈ کوارٹر اوتھل میں ہارڈ بال کرکٹ ٹورنامنٹ کا جام کمال خان کمپلیکس اورجام محمد فٹسال اسٹیڈیم اوتھل میں اختتامی تقریب منعقد ہوئے۔ مرکزی تقریب تقسیم انعامات فٹسال اور کرکٹ ٹیموں میں ڈپٹی کمشنر لسبیلہ محترمہ حمیرا بلوچ ایس ایس پی لسبیلہ نجیب اللہ پندرانی اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل لسبیلہ سراج کریم بلوچ ? سوشل ویلفئیر آفیسر اوتھل عبدالصمد بلوچ۔ جی ٹی اے کے ضلعی صدر عبدالواحد سومرو و دیگر نے ونر کرکٹ ٹیم سردار ایم بی ایم کلب ۔ رنر ایم بی شاہین۔فٹسال ونر اوتھل بازیگر رنر اپ اوتھل ایگل کو ٹرافی۔میڈلز و کیش انعامات تقسیم۔کیے۔ ڈپٹی کمشنر لسبیلہ محترمہ حمیرا بلوچ نے محکمہ کھیل بلوچستان اور ضلعی اسپورٹس آفیسر خدابخش بلوچ کی شب وروز کھیلوں کی ترقی و نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مشغول رکھنے کی اس حکمت عملی و موئثر اقدامات کو دل سے سراہا اور نوجوانوں کو اپنی پوری توجہ تعلیم ہنر اور صحتمںدانہ سرگرمیوں پر مرکوذ کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے اور ایس ایس پی لسبیلہ محترم نجیب اللہ پندرانی نے فٹسال کے ونر رنر ٹیموں اور کمسن انڈر 13کھلاڑی ازان کو نقد انعامات بھی دئیے ضلعی اسپورٹس آفیسر لسبیلہ خدا بخش بلوچ کی جانب سے کرکٹ ٹیموں۔کمیٹیز۔گراونڈ ورکرز و بہترین کھلاڑیوں میں بیسٹ ٹرافی ایوارڈز اور نقد انعامات جبکہ مہمانان گرامی و اراکین آرگانئزنگ کو محکمے کےجانب سے دئے گئے سوئینرز پیش کیے ان تمام ایونٹس کو محکمہ پولیس کی جانب سے جشن آزادی ایونٹس کو نے بہترین سیکیوریٹی فراہم کرنے پر ڈیوٹی آفیسر ایس آءقادر بخش کو سوئینئیر پیش کی گئ۔ لسبیلہ کے کھلاڑیوں نے اپنے تاثرات میں وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی مشیر کھیل محترمہ مینا مجید بلوچ۔سیکریٹری کھیل درا بلوچ ڈی جی کھیل ڈاکٹر یاسر بازی معاون وزیرداخلہ بابریوسفزءاور ڈی ایس او لسبیلہ خدا بخش بلوچ کا شکریہ ادا کیا اور مزید اس طرح کے ایونٹس کے لیے لسبیلہ ڈویژن کو میزبانی کا شرف بخشنے کی درخواست کی گئ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6976/2026
کوئٹہ 13 اگست ۔یومِ آزادی کے موقع پر جنوبی ڈیرہ بگٹی میں پولیس کی جانب سے فلیگ مارچ کیا گیا۔ فلیگ مارچ ایس ایچ او تھانہ ساوتھ ڈیرہ بگٹی کی زیرِ نگرانی تھانہ جنوبی ڈیرہ بگٹی سے شروع ہوا اور شہر کے مختلف علاقوں اہم شاہراہوں اور بازاروں سے ہوتا ہوا تھانہ ساوتھ ڈیرہ بگٹی پر اختتام پذیر ہوا۔اس موقع پر ایس ایچ او نے شہر کے اہم بازاروں اور مختلف مقامات پر سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا اور پولیس اہلکاروں کو ضروری ہدایات دی۔پولیس حکام کے مطابق فلیگ مارچ کا مقصد یومِ آزادی کے موقع پر امن و امان کو برقرار رکھنا عوام کے اعتماد میں اضافہ کرنا اور موثر پولیسنگ کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلیگ مارچ کے دوران پولیس کی منظم نقل و حرکت اور تیاری کا مظاہرہ کرنے کے علاوہ مختلف مکاتب فکر کے شہریوں کو اس خوشی کے موقع شرکت اور پر اظہار رائے کا موقعہ دینا مقصود ہے جبکہ شہریوں کی جانب سے بھی اس اقدام کو سراہا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6977/2026
صحبت پور13اگست۔ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین کی زیرِ قیادت جشنِ آزادی پاکستان کی تقریبات کو شایانِ شان اور قومی جوش و جذبے کے ساتھ منانے کے لیے تیاریوں کا سلسلہ بھرپور انداز میں جاری ہے۔ ضلع صحبت پور میں 14 اگست کے حوالے سے سرکاری عمارتوں اہم شاہراہوں اور مختلف مقامات کو قومی پرچموں جھنڈیوں اور برقی قمقموں سے سجایا جا رہا ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر آفس سمیت دیگر سرکاری دفاتر بھی خوبصورت چراغاں سے جگمگا رہے ہیں ضلعی انتظامیہ کے مطابق 14 اگست کی صبح 8 بجے پرچم کشائی کی مرکزی تقریب منعقد ہوگی جس میں قومی پرچم لہرایا جائے گا اور قومی پرچم کو گارڈ آف آنر پیش کرنے کے ساتھ سلامی دی جائے گی اس موقع پر قومی ترانے کی دھن بجائی جائے گی اور ملک کی سلامتی ترقی خوشحالی اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی جائیں گی پرچم کشائی کی تقریب کے بعد ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین کی قیادت میں ایک شاندار یومِ آزادی ریلی نکالی جائے گی جس میں تمام ضلعی محکموں کے سربراہان سرکاری افسران و اہلکاران معززینِ شہر عمائدین سیاسی و سماجی شخصیات تاجر برادری، نوجوان، طلبہ اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھرپور شرکت کریں گے۔ ریلی کے شرکائ قومی پرچم تھامے پاکستان سے والہانہ محبت اور قومی یکجہتی کا اظہار کریں گے ضلع بھر کے مختلف اسکولوں میں 14اگست کے سلسلے میں پروگرام منعقد ھونگے جبکہ سب سے بڑی تقریب ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول صحبت پور میں جشنِ آزادی کے سلسلے میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا جائے گا تقریب میں اساتذہ کرام طلبہ و طالبات، ضلعی افسران، معززین اور شہری شرکت کریں گے تقریب کے دوران طلبہ کی جانب سے قیامِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی جدوجہد، وطنِ عزیز کی آزادی کی اہمیت اور قومی یکجہتی کے حوالے سے تقاریر پیش کی جائیں گی اس موقع پر طلبہ و طالبات ملی نغمے، ٹیبلو اور دیگر خصوصی پروگرام بھی پیش کریں گے جبکہ مقررین یومِ آزادی کی تاریخی اہمیت پاکستان کے قیام کے مقاصد اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے نوجوان نسل کے کردار پر روشنی ڈالیں گےڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے کہا کہ 14 اگست محض ایک قومی دن نہیں بلکہ تجدیدِ عہد کا دن ہے۔ ہمیں اس موقع پر وطنِ عزیز کی سلامتی استحکام اور ترقی کے لیے متحد ہو کر اپنا کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کرنا چاہیے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ جشنِ آزادی کی تمام تقریبات کو منظم باوقار اور قومی جذبے کے مطابق منعقد کرنے کے لیے تمام انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان نسل کو قیامِ پاکستان کی تاریخ اور آزادی کی قدر و قیمت سے روشناس کرانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ حب الوطنی قومی یکجہتی اور پاکستان سے محبت کے جذبے کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
ہرنائی 13اگست ۔ پاکستان کا 79ویں جشنِ آزادی کو بھرپور جوش، جذبے اور ملی یگاندگت کے ساتھ منانے کے لیے ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن ہرنائی کی جانب سے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ 14 اگست کے پرمسرت اور تاریخی موقع کی مناسبت سے ہرنائی شہر کو دلہن کی طرح سجا دیا گیا ہے، تاکہ اس قومی دن کو شایانِ شان طریقے سے منایا جا سکے۔ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن ہرنائی نے جشنِ آزادی کی آمد پر شہر کے تمام اہم اور مرکزی مقامات پر قومی پرچم، رنگ برنگے بینرز اور استقبالیہ بورڈز آویزاں کر دیے ہیں۔ سرکاری و انتظامی عمارتوں سمیت اہم شاہراہوں پر چراغاں اور سجاوٹ کا خاص اہتمام کیا گیا ہے
بالخصوص ڈی سی کمپلیکس، مین چوک بازار، تحصیل روڈ اور دیگر اہم چوراہوں پر آویزاں کیے گئے قومی پرچم اور خوبصورت بینرز شہریوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جس سے پوری وادی میں حب الوطنی کا ایک شاندار ماحول قائم ہو چکا ہے۔ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ 14 اگست کا دن ہمارے اسلاف کی بے مثال قربانیوں کی یاد دلا تا ہے اور یہ دن ملک و قوم کے ساتھ محبت و وفاداری کے عہد کی تجدید کا نام ہے۔ انتظامیہ نے عوام الناس بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان تمام سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کریں اور اپنے گھروں، دکانوں اور گاڑیوں پر قومی پرچم لہراتے ہوئے اس دن کی خوشیوں کو دوبالا کریں۔
جشنِ آزادی کی تمام تقاریب کے پرامن اور منظم انعقاد کے لیے سیکورٹی کے سخت انتظامات بھی کیے گئے ہیں تاکہ
شہری بغیر کسی خوف و خطر کے اس پرمسرت لمحے کا جشن منا سکیں۔ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن ہرنائی قومی یکجہتی، امن اور خوشحالی کے عزم کے ساتھ اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ ضلع میں ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کا سفر یوں ہی جاری رہے گا۔.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
کوئٹہ 13 اگست ۔ڈسٹرکٹ پولیس جعفرآباد نے اغواء کے مقدمے میں بروقت کارروائی کرتے ہوئے دو مغوی خواتین اور ایک کمسن بچے کو بحفاظت بازیاب کرلیا۔پولیس کے مطابق مغوی خواتین اور بچے کو بھنگر کالونی ڈیرہ اللہ یار سے اغواءکیا گیا تھا جنہیں پولیس نے کامیاب کارروائی کے دوران ضلع نصیرآباد میں تھانہ چھتر کی حدود سے بحفاظت بازیاب کرلیا۔بازیاب ہونے والوں میں زہیران زوجہ نذیر احمد، شمائلہ دختر مدد علی اور کمسن بچہ رحیم ولد نذیر احمد شامل ہیں جو مراد کالونی ڈیرہ اللہ یار کے رہائشی ہیں۔پولیس حکام کے مطابق مغویوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے بروقت کارروائی عمل میں لائی گئی۔ جعفرآباد پولیس کی جانب سے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ مغوی افراد کی بازیابی اور جرائم کے خاتمے کے لیے موثر کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
کوئٹہ , 13 اگست ۔ پولیس تھانہ سٹی سِیوی میں ایس ڈی پی او سٹی سرکل خادم حسین مگسی کی زیرِ صدارت کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں ایس ایچ او سٹی سمیت دیگر پولیس افسران شہریوں، تاجروں اور معززین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔کھلی کچہری میں شہریوں اور تاجروں نے اپنے مسائل شکایات اور تحفظات پولیس حکام کے سامنے پیش کیے۔ ایس ڈی پی او نے شرکائ کے مسائل اور شکایات تفصیل سے سنیں اور متعلقہ پولیس افسران کو موقع پر ہی ضروری ہدایات جاری کیں۔اس موقع پر پولیس حکام نے عوام کو یقین دلایا کہ ان کے جائز مسائل کے حل اور شکایات کے ازالے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔شرکاءنے کھلی کچہری کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے عوام کو پولیس افسران تک براہِ راست رسائی حاصل ہوتی ہے اور پولیس و عوام کے درمیان اعتماد اور تعاون مزید مضبوط ہوتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6978/2026
کوئٹہ، 13 اگست:۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کے لوگوں، ان کی صلاحیتوں اور ایک دوسرے کے لیے آگے بڑھنے کی سوچ میں ہے؛ یومِ آزادی ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اس ملک کی ترقی میں ہر شہری کی جگہ اور ہر آواز کی اہمیت ہے اور قومی ترقی کا سفر اسی وقت بامقصد ہوسکتا ہے جب معاشرے کے تمام طبقات کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ اپنے ایک پیغام میں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے پاکستانی قوم خصوصاً بلوچستان کے عوام کو 14 اگست، یومِ آزادی پاکستان کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کی خوشی صرف رسمی تہوار منانے تک محدود نہیں، بلکہ یہ اپنے ملک، اپنے لوگوں اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل سے جڑے احساس اور ذمہ داری کا نام ہے۔ پاکستان نے مختلف ادوار میں کئی مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کیا، لیکن اس کے عوام نے ہر مرحلے پر اپنی محنت، حوصلے، عزم اور صلاحیت سے آگے بڑھنے کا راستہ بنایا اور ثابت کیا کہ مشکلات کے باوجود ترقی کی نئی راہیں تلاش کی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یومِ آزادی ہمارے درمیان موجود زبان، ثقافت، روایات اور علاقائی رنگوں کے خوبصورت امتزاج کو منانے کا دن بھی ہے۔ اختلاف اور تنوع ہماری کمزوری نہیں بلکہ وہ خوبی ہے جو پاکستان کو ایک منفرد شناخت دیتی ہے۔ باہمی احترام، برداشت، رواداری اور ایک دوسرے کے لیے جگہ پیدا کرکے ہم اپنے معاشرے کو زیادہ پرامن، مضبوط اور بہتر بنا سکتے ہیں۔ ہمیں اختلافات سے بالاتر ہوکر ان اقدار کو فروغ دینا ہوگا جو قومی یکجہتی اور اجتماعی ترقی کو مضبوط کرتی ہیں۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ آج پاکستان کی سب سے بڑی امید اس کی نوجوان نسل ہے، جو علم، جدید ٹیکنالوجی، تخلیقی سوچ، تحقیق اور محنت کے ذریعے ملک کے لیے نئے امکانات پیدا کرسکتی ہے۔ نوجوانوں کو معیاری تعلیم، ہنر اور آگے بڑھنے کا سازگار ماحول دینا دراصل پاکستان کے مستقبل کو مضبوط بنیاد فراہم کرنا ہے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے مزید کہا کہ آزادی ہم سے یہ تقاضا بھی کرتی ہے کہ ہم اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں، ایک دوسرے کا احترام کریں اور اپنے اپنے شعبوں میں ملک کی بہتری کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta,13 August: Dr. Rubaba Khan Buledi, Adviser to the Chief Minister of Balochistan for the Women Development Department, has said that Pakistan’s true strength lies in its people, their capabilities, and their willingness to support and uplift one another. Independence Day reminds us that every citizen has a place and every voice matters in the country’s development, and that the journey of national progress can only be meaningful when all segments of society are provided equal opportunities to move forward.In her message on the occasion of August 14, Pakistan’s Independence Day, Dr. Rubaba Khan Buledi extended her felicitations to the people of Pakistan, particularly the people of Balochistan. She said that the celebration of independence is not merely about observing ceremonial festivities; rather, it represents a sense of responsibility and commitment toward our country, our people, and a better future for generations to come. Dr. Rubaba Khan Buledi said Pakistan has faced numerous difficulties and challenges at different stages of its history, but its people have consistently demonstrated through their hard work, courage, determination, and abilities that new avenues of progress can be found despite adversity. She said that Independence Day is also an occasion to celebrate the beautiful diversity of languages, cultures, traditions, and regional identities that exist across the country. Differences and diversity are not our weaknesses; rather, they are strengths that give Pakistan its unique identity. By promoting mutual respect, tolerance, acceptance, and space for one another, we can build a society that is more peaceful, resilient, and prosperous. We must rise above our differences and promote the values that strengthen national unity and collective progress. Dr. Rubaba Khan Buledi said Pakistan’s greatest hope today lies in its young generation, which has the potential to create new opportunities for the country through education, modern technology, innovative thinking, research, and hard work. Providing young people with quality education, skills, and an enabling environment in which they can grow and succeed is, in fact, an investment in a stronger foundation for Pakistan’s future. Dr. Rubaba Khan Buledi further said that independence also requires us to recognize our responsibilities alongside our rights, respect one another, and play a positive role in our respective fields for the progress and betterment of the country.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6979/2026
تربت، 13 اگست ۔: پارلیمانی سیکریٹری برائے توانائی میر اصغر رند کے زیرِ اہتمام جشنِ آزادی 2026 کی تیاریوں کے حوالے سے تربت کے علاقے کلاتک میں تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں صوبائی وزیر منصوبہ بندی میر ظہور احمد بلیدی، معروف سیاسی شخصیات خلیل احمد تگرانی، احد الٰہی، حبیب الرحمن سمیت دیگر اعلیٰ حکام اور علاقہ مکینوں نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکریٹری برائے توانائی میر اصغر رند نے پاکستان کی آزادی اور اس کے استحکام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے سب کو مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران علاقے میں بجلی، پانی، بندات کی تعمیر، زراعت اور دیگر عوامی فلاح و بہبود کے متعدد ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔میر اصغر رند نے کہا کہ آج کے دور میں جھوٹ اور منافقت کی سیاست نہیں چل سکتی، کیونکہ سوشل میڈیا کے دور میں عوام ہر بات سے باخبر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست مثبت انداز میں کی جانی چاہیے اور جمہوری رویوں کو فروغ دینا چاہیے تاکہ ملک اور قوم کو فائدہ پہنچ سکے۔انہوں نے کہا کہ کلاتک اور گردونواح کے عوام کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی فراہمی ہے، جس کے حل کے لیے صوبائی حکومت نے بجٹ میں بجلی کے کھمبوں اور ٹرانسفارمروں کی مد میں فنڈز مختص کیے ہیں تاکہ علاقے میں بجلی کی فراہمی کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔میر اصغر رند نے اس موقع پر صوبائی حکومت کی جانب سے میرانی ڈیم کے متاثرین کو معاوضے کی مد میں فنڈز کی فراہمی کی بھی یقین دہانی کرائی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر منصوبہ بندی میر ظہور احمد بلیدی نے جشنِ آزادی کے موقع پر پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے عزم کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ موجودہ حکومت نے جنوبی بلوچستان پیکیج جنوبی بلوچستان کے عوام کے لیے منظور کرایا، جس میں شاہراہوں کی تعمیر کے علاوہ صحت، تعلیم، آبپاشی اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبے شامل ہیں، تاکہ بلوچستان کے عوام کے مسائل میں کمی لائی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل ایک قومی دھارے کی وفاقی جماعت ہی کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ قوم پرست جماعتوں کی طرح محض سیاسی نعرہ بازی اور شعبدہ بازی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے بلکہ عملی اقدامات کو ترجیح دیتے ہیں۔میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے 425 اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی، متعدد کنٹریکٹ ڈاکٹروں کی تعیناتی اور تقریباً 60 انٹرمیڈیٹ کالجز کو ڈگری کالجز کا درجہ دینے جیسے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔انہوں نے کلاتک میں امتحانی ہال اور لائبریری کی تعمیر کے علاوہ علاقے میں گرین بس سروس شروع کرانے کی بھی یقین دہانی کرائی۔میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ وہ پارلیمانی سیکریٹری برائے توانائی میر اصغر رند کے ساتھ مل کر کلاتک کی ترقی کے لیے مزید منصوبے حکومتِ بلوچستان سے منظور کرائیں گے، تاکہ علاقے کے عوام کو درپیش تعلیم، صحت، سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6980/2026
کوئٹہ 13اگست ۔چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کا یومِ آزادی کے موقع پر پیغام یومِ آزادی پاکستان ہمارے قومی سفر کا ایک عظیم اور تجدیدِ عہد کا دن ہے، جو ہمیں آزادی کی قدر و قیمت کے ساتھ ساتھ اپنی قومی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے۔ 14 اگست ہمیں امن، اتحاد، خودمختاری اور ترقکے اس راستے کی یاد دلاتا ہے جس کی بنیاد قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت، علامہ اقبال کے تصور اور ہمارے بزرگوں کی بے مثال قربانیوں پر رکھی گئی۔ بلوچستان پاکستان کا اہم اور باوقار حصہ ہے۔ صوبائی حکومت عوام کی فلاح و بہبود، امن و استحکام، تعلیم، صحت، روزگار، بنیادی ڈھانچے اور نوجوانوں کے لیے بہتر مواقع کی فراہمی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہمارا عزم ہے کہ بلوچستان کو ترقی، خوشحالی اور مساوی مواقع کے ذریعے قومی ترقی کے دھارے میں مزید مضبوط کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جائے۔میں خصوصاً نوجوان نسل سے کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کا مستقبل ان کے ہاتھوں میں ہے۔ تعلیم، ہنر، میرٹ، محنت، قانون کی پاسداری اور مثبت سوچ کو اپنا کر نوجوان نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ ملک کی ترقی میں بھی موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔آج کے دن ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم قائداعظم کے اصولوں ایمان، اتحاد اور تنظیم کو اپنی قومی زندگی کا حصہ بنائیں گے اور پاکستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنی ذمہ داریاں خلوصِ نیت سے ادا کریں گے۔پاکستانی قوم نے ہمیشہ مشکل حالات کا حوصلے، اتحاد اور عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ قومی یکجہتی اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے ہم موجودہ چیلنجز پر قابو پاتے ہوئے پاکستان کو مزید مضبوط، مستحکم اور خوشحال ملک بنانے میں کامیاب ہوں گے۔اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے اور ہمیں وطنِ عزیز کی خدمت کا موقع اور توفیق دے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6981/2026
حب:13اگست ۔ جشنِ آزادی 2026 کے سلسلے میں ضلعی سطح کے علمی، ادبی و ثقافتی مقابلہ جات گورنمنٹ بوائز ہائیر سیکنڈری اسکول حب میں منعقد ہوئے۔ اس تقریب کی سربراہی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حب محمد رحیم بلیدی نے کی، جبکہ سینئر ہیڈ ماسٹر ساجد شمیم اور جملہ اسٹاف کی نگرانی میں انعقاد ہوا۔تقریب میں ڈی ڈی او وندر شاکر حسین جاموٹ، اے ڈی ای او جناب عبدالمجید شیخ، ضلعی کلسٹر ہیڈز اور مختلف اسکولوں کے اساتذہ کرام نے بھرپور شرکت کی۔اس موقع پر طلبہ کے درمیان علمی، ادبی اور ثقافتی مقابلہ جات ہوئے، جن میں حسن قرآت، نعت، اردو و انگریزی تقاریر، ملی نغمہ اور ٹیبلو شامل تھے۔ طلبہ نے مختلف مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا۔ضلعی سطح پر کامیاب ہونے والے طلبہ 14 اگست کے مرکزی پروگرام میں شرکت کریں گے، جہاں ان کے درمیان فائنل مقابلہ جات ہوں گے اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو اعزازات و انعامات سے نوازا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6982/2026
لسبیلہ13اگست ۔ وفاقی وزیرتجارت جام کمال خان عالیانی اور صوبائی مشیر لسبیلہ نوابزادہ زرین خان مگسی کی ہدایت پرضلعی انتظامیہ کی زیرنگرانی گورنمنٹ ہائی اسکول عمر گوٹھ، تحصیل کنراج میں یومِ آزادی پاکستان کے سلسلے میں ایک شاندار، پروقار اور جذب حب الوطنی سے سرشار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ، اساتذہ اور اسکول انتظامیہ نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ تقریب میں اسسٹنٹ کمشنر کنراج محترمہ کشش چودھری نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کرکے طلبہ کی حوصلہ افزائءکی یومِ آزادی کی مناسبت سے اسکول کی عمارت اور کیمپس کو قومی پرچموں، سبز ہلالی پرچم کے رنگوں اور خوبصورت آرائشی سامان سے سجایا گیا تھا۔ تقریب کے دوران طلبہ نے ملی نغموں، تقاریر اور مختلف ٹیبلو و دیگر پروگرامز پیش کرکے وطنِ عزیز سے اپنی والہانہ محبت اور عقیدت کا اظہار کیا۔ طلبہ کی پرجوش شرکت اور شاندار پیشکشوں نے تقریب کو مزید یادگار بنا دیااس موقع پر ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی اسکول عمر گوٹھ افضل خان رونجھو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمارے بزرگوں کی لازوال جدوجہد، عزم اور بے شمار قربانیوں کا ثمر ہے۔ آزادی محض جشن منانے کا نام نہیں بلکہ یہ ہمیں اپنی قومی، اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داریوں کا احساس بھی دلاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ترقی یافتہ، مضبوط اور خوشحال ملک بنانے کے لیے ہمیں تعلیم، نظم و ضبط، دیانت داری، محنت اور اتحاد کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔ہیڈ ماسٹر افضل خان رونجھو نے اسسٹنٹ کمشنر کنراج محترمہ کشش چودھری کی تقریب میں خصوصی شرکت کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر کی اسکول آمد اور طلبہ کی حوصلہ افزائی نہایت خوش آئند اقدام ہے، جس سے طلبہ اور اساتذہ کے حوصلے بلند ہوئے اور یومِ آزادی کی تقریب کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا۔جبکہ اس موقع پر اساتزہ کرام۔کی بھر پور شرکت رہی انہوں نے بھی پروگرام میں طلباء کو ٹیبلو تقاریر میں تیار کرنے میں بھرپور کردار رہا مہمان خصوصی نے بھی بچوں کی جزبے کو دیکھتے ہوئے اساتذہ کی محنت کوشش کو سراہااانہوں نے مزید کہا کہ گورنمنٹ ہائی اسکول عمر گوٹھ میں طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کی کردار سازی، اخلاقی تربیت، نظم و ضبط، حب الوطنی اور معاشرتی ذمہ داریوں کے شعور پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، تاکہ نئی نسل ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا موثر کردار ادا کرسکے۔تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ بعد ازاں اسکول کا کیمپس “پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد” کے پرجوش نعروں سے گونج اٹھا، جبکہ طلبہ کے چہروں پر آزادی کی خوشی اور وطن سے محبت کا جذبہ نمایاں تھاگورنمنٹ ہائی اسکول عمر گوٹھ کنراج میں منعقدہ یومِ آزادی کی یہ تقریب نہ صرف قومی جوش و جذبے کا خوبصورت اظہار تھی بلکہ نئی نسل میں حب الوطنی، قومی ذمہ داری اور پاکستان کی تعمیر و ترقی کے عزم کو اجاگر کرنے کی ایک موثر اور قابلِ تحسین کوشش بھی ثابت ہوئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6983/2026
:لسبیلہ 13اگست ۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان عالیانی صوبائی مشیر قانون نوابزادہ زرین خان مگسی کے حلقہ انتخاب میں جشنِ آزادی لسبیلہ اسپورٹس فیسٹیول شاندار میں جاری ہے جشنِ آزادی لسبیلہ اسپورٹس فیسٹیول کا باقاعدہ آغاز تاریخی شہر بیلہ میں شوٹنگ بال کے شاندار مقابلوں سے ہوگیا۔ محکمہ کھیل بلوچستان کے تعاون اور ضلعی اسپورٹس آفیسر لسبیلہ خدا بخش بلوچ کی نگرانی میں شاہی عیدگاہ گراو¿نڈ بیلہ میں افتتاحی میچ شاہی عیدگاہ کلب اور بلدیہ کلب بیلہ کے درمیان کھیلا گیا۔فتتاحی تقریب میں شوٹنگ بال کے سینئر لیجنڈری کھلاڑی حافظ محمد اعظم رونجھہ اور عبدالجلیل رونجھہ نے ضلعی اسپورٹس آفیسر لسبیلہ خدا بخش بلوچ کے ہمراہ گیند کو سروس کرکے ٹورنامنٹ کا باضابطہ افتتاح کیا۔جشنِ آزادی اسپورٹس فیسٹیول کے شوٹنگ بال ایونٹ میں چار ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جن میں تحصیل بیلہ کی شاہی عیدگاہ کلب اور بلدیہ کلب بیلہ جبکہ لاکھڑا کی درخشان کلب اور سدابہار کلب شامل ہیں۔ ٹورنامنٹ کے باقاعدہ مقابلے کل صبح سے شام تک جاری رہیں گے، جہاں شائقین کو شوٹنگ بال کے دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی تحصیلدار بیلہ غلام سرور رونجھو ہوں گے، جو نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں میں ٹرافیاں، میڈلز اور دیگر انعامات تقسیم کریں گے۔افتتاحی میچ کی نگرانی سائیں عبداللہ گدور نے کی، جبکہ اسکورنگ کے فرائض حاجی محمد نواز رونجھہ نے انجام دیے۔ ٹورنامنٹ کے انتظامات میں پاکستان شوٹنگ بال سے وابستہ عہدیداران اور مقامی کھیلوں کے منتظمین نے بھرپور کردار ادا کیا۔ ایسوسی ایشن کے نائب صدر محمد اقبال رونجھہ انتظامی امور کی نگرانی کر رہے ہیں جبکہ ٹورنامنٹ کے لیے تمام تر مالی معاونت ضلعی اسپورٹس آفیسر لسبیلہ خدا بخش بلوچ کی جانب سے فراہم کی جا رہی ہے۔ٹورنامنٹ کی مجموعی نگرانی پاکستان شوٹنگ بال فیڈریشن کے ممبر کونسل سردار عبدالرحیم رونجھہ کر رہے ہیں۔افتتاحی تقریب میں نعمان جلیل کھوسہ، صدر فٹبال مصدق عزیز کھوسہ، غلام سرور محمد حسنی، غلام حیدر محمد حسنی سمیت کھیلوں سے وابستہ شخصیات، کھلاڑیوں اور شائقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔صوبائی مشیرقانون سیاحت وثقافت نوابزادہ زرین خان مگسی کاکہنا ہیکہ جشنِ آزادی لسبیلہ اسپورٹس فیسٹیول کے انعقاد کا مقصد ضلع لسبیلہ کے نوجوان کھلاڑیوں کو کھیلوں کے بہتر مواقع فراہم کرنا، مقامی ٹیلنٹ کو اجاگر کرنا اور جشنِ آزادی کی خوشیوں کو کھیلوں کے ذریعے بھرپور انداز میں منانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6984/2026
کوئٹہ، 12 اگست.۔بلوچستان میں 2022 کے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور انٹیگریٹڈ فلڈ ریزیلینس اینڈ ایڈاپٹیشن پروگرام (آئی ایف آر اے پی) سے متعلق شائع ہونے والی خبروں کے تناظر میں حکومت نے واضح کیا ہے کہ 2022 کے سیلاب متاثرین کی بحالی قومی ترجیح ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتیں اس حوالے سے اپنے عزم پر قائم ہیں۔ حکومت کے مطابق آئی ایف آر اے پی محض ہاوسنگ منصوبہ نہیں بلکہ ایک جامع کثیر شعبہ جاتی بحالی پروگرام ہے، جس کا مقصد سیلاب سے متاثرہ بلوچستان کے مختلف شعبوں کی بحالی اور مستقبل میں قدرتی آفات کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ 2022 کے سیلاب سے مکانات کے علاوہ آبپاشی، سڑکوں اور پلوں، صحت، تعلیم، آبنوشی و نکاسی آب، ہائیڈرومیٹ اور ابتدائی انتباہی نظام، روزگار و ذریعہ معاش، ہنرمندی اور نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ سمیت متعدد شعبے متاثر ہوئے تھے۔ اسی لیے آئی ایف آر اے پی کے تحت دستیاب وسائل کو تمام متاثرہ شعبوں کی ضروریات کے مطابق متوازن انداز میں استعمال کرنا ضروری ہے تاکہ بلوچستان کی مجموعی، جامع اور پائیدار بحالی یقینی بنائی جا سکے حکومت نے واضح کیا ہے کہ آئی ایف آر اے پی کے تحت بحالی کے اقدامات پوسٹ ڈیزاسٹر نیڈز اسیسمنٹ (پی ڈی این اے)، ایکنک سے منظور شدہ منصوبے اور پی سی ون کے مطابق جاری ہیں۔ آئی ایف آر اے پی کو قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) نے 4 جنوری 2023 کو منظور کیا تھا، جس کا مقصد 2022 کے سیلاب سے متاثرہ بلوچستان کے ان دس اہم شعبوں کی بحالی تھا جن کی نشاندہی پی ڈی این اے میں کی گئی تھی۔ منصوبے کی ایکنک سے منظور شدہ مجموعی لاگت 400 ملین ڈالر تھی۔ اس میں آبپاشی کے لیے 30 ملین ڈالر، سڑکوں اور پلوں کے لیے 50 ملین ڈالر، صحت کے لیے 5.7 ملین ڈالر، تعلیم کے لیے 5 ملین ڈالر، آبنوشی کے لیے 10 ملین ڈالر، ہائیڈرومیٹ کے لیے 50 ملین ڈالر، ہاوسنگ ریکنسٹرکشن کے لیے 155 ملین ڈالر، بلوچستان لائیولی ہڈز اینڈ ایمپلائمنٹ پراجیکٹ کے لیے 40 ملین ڈالر اور ایف پی ایم یو کے لیے 8.5 ملین ڈالر شامل تھے، جبکہ انٹرن شپ اور اسکل ڈویلپمنٹ بھی منصوبے کے منظور شدہ دائرہ کار کا حصہ ہیں۔حکومت کے مطابق آئی ایف آر اے پی کے پہلے مرحلے میں ورلڈ بینک کی موجودہ فنانسنگ 245 ملین ڈالر ہے، جبکہ مختلف شعبوں کو دستیاب فنانسنگ ان کی منظور شدہ لاگت کے مطابق مختلف ہے۔ آبپاشی کے لیے منظور شدہ 30 ملین ڈالر کے مقابلے میں 25 ملین ڈالر، سڑکوں اور پلوں کے لیے 50 ملین ڈالر کے مقابلے میں 10 ملین ڈالر، صحت کے لیے 5.7 ملین ڈالر کے مقابلے میں ایک ملین ڈالر اور ہائیڈرومیٹ کے لیے 50 ملین ڈالر کے مقابلے میں 40 ملین ڈالر دستیاب ہیں۔ تعلیم کے لیے منظور شدہ 5 ملین ڈالر، آبنوشی کے لیے 10 ملین ڈالر اور بلوچستان لائیولی ہڈز اینڈ ایمپلائمنٹ پراجیکٹ کے لیے 40 ملین ڈالر کے مقابلے میں پہلے مرحلے میں فی الحال کوئی فنانسنگ دستیاب نہیں، جبکہ ایف پی ایم یو کے لیے منظور شدہ 8.5 ملین ڈالر کے مقابلے میں 8 ملین ڈالر دستیاب ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس ہاوسنگ ریکنسٹرکشن کے لیے منظور شدہ 155 ملین ڈالر کے مقابلے میں 161 ملین ڈالر کی موجودہ فنانسنگ دستیاب ہے۔ حکومت کے مطابق پہلے مرحلے میں ہاوسنگ واحد جزو ہے جسے اس کی منظور شدہ لاگت سے زیادہ فنانسنگ حاصل ہوئی ہے، جو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ اس شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر وسائل فراہم کیے گئے ہیں۔ہاوسنگ ریکنسٹرکشن کے دائرہ کار اور پیش رفت کے حوالے سے حکومت نے بتایا کہ ایکنک نے 2022 کے سیلاب سے مکمل طور پر تباہ ہونے والے 68,992 گھروں اور جزوی طور پر متاثر ہونے والے 58,016 گھروں کی بحالی کی منظوری دی تھی۔ ورلڈ بینک کی معاونت مکمل طور پر تباہ شدہ گھروں کے لیے ہے، جس کے تحت اہل مستفیدین کو فی گھر 4 لاکھ روپے چار اقساط میں براہ راست فراہم کیے جاتے ہیں۔ ہاوسنگ ریکنسٹرکشن یونٹ بلوچستان کے 10 اگست 2026 تک کے اعداد و شمار کے مطابق 74,988 گھروں پر تعمیراتی کام شروع ہو چکا تھا جبکہ 26,357 گھر مکمل کیے جا چکے تھے۔ منصوبے کے مالک پر مبنی تعمیراتی ماڈل کے تحت 13 بائی 16 فٹ کا ایک کمرہ منصوبے کے معیار کے مطابق ایک گھر تصور کیا جاتا ہے مالی صورتحال کے حوالے سے حکومت نے واضح کیا کہ ہاو¿سنگ ریکنسٹرکشن کی منظور شدہ لاگت 155 ملین ڈالر تھی، جس کی پاکستانی کرنسی میں مالیت تقریباً 34 ارب روپے بنتی ہے، جبکہ موجودہ فنانسنگ 161 ملین ڈالر ہے۔ مالی سال 2025-26 کے اختتام تک ہاوسنگ کے لیے 22.2 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے 15.8 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور گھروں کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔ حکومت کے مطابق یہ بلوچستان میں حکومتی سرپرستی میں جاری اہم ترین عوامی منصوبوں میں سے ایک ہے۔ دستیاب مالی ریکارڈ اس تاثر کی واضح نفی کرتا ہے کہ ہاوسنگ کے لیے مختص مالی وسائل واپس لیے یا کم کیے گئے ہیں۔ ہاوسنگ ریکنسٹرکشن یونٹ کے مستفیدین کی تعداد کے حوالے سے مختلف اعداد و شمار سامنے آنے پر حکومت نے واضح کیا ہے کہ تصدیق اور اہلیت دو الگ مراحل ہیں۔ کسی گھر کے سیلاب سے متاثر ہونے کی تصدیق لازماً اس خاندان کو مالی معاونت کا اہل قرار نہیں دیتی۔ اہلیت کا تعین مقررہ معیار، دستاویزات اور متعلقہ اداروں کے مشترکہ تصدیقی طریقہ کار کے مطابق کیا جاتا ہے۔ عالمی بینک کی اگست 2026 کی مراسلت میں پہلے مرحلے کے 62,966 مستفیدین جبکہ وسیع تر سطح پر 119,049 تصدیق شدہ اور اہل خاندانوں کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم متعلقہ اداروں کے درمیان جاری مشترکہ تصدیقی عمل کے باعث یہ اعداد و شمار حتمی حیثیت نہیں رکھتے۔ اسی تناظر میں 134,000 خاندانوں کے اعداد و شمار کے حوالے سے حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ تعداد پی ڈی این اے، بنیادی منظور شدہ دستاویزات یا ایکنک سے منظور شدہ پی سی ون میں حتمی اہل ہاوسنگ مستفیدین کے طور پر درج نہیں ہے حکومت کے مطابق 22 جون 2026 کو پراجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی، جس میں حکومت پاکستان اور حکومت بلوچستان کے اعلیٰ سطحی نمائندگان شامل ہیں، نے بلوچستان میں آئی ایف آر اے پی کے تحت مختلف شعبوں کی مالی ضروریات کا ازسرنو جائزہ لیا۔ کمیٹی نے ان شعبوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر فنانسنگ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا جو 2022 کے سیلاب سے متاثر ہوئے تھے لیکن پہلے مرحلے میں مطلوبہ مالی معاونت حاصل نہیں کر سکے۔ ان شعبوں میں تعلیم، صحت، آبپاشی، سڑکیں و پل، اسکل ڈویلپمنٹ، نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ اور ذریعہ معاش سمیت دیگر اہم شعبے شامل ہیں حکومت نے واضح کیا ہے کہ پراجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی کا فیصلہ ہاوسنگ سے فنڈز واپس لینے یا بلوچستان سے مالی وسائل منتقل کرنے کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ آئی ایف آر اے پی کے اندر ہی ان منظور شدہ شعبوں کی مالی ضروریات پوری کرنے سے متعلق تھا جو پہلے مرحلے میں فنانسنگ سے محروم یا کم فنانسنگ حاصل کر سکے۔ مذکورہ تمام شعبے ایکنک سے منظور شدہ آئی ایف آر اے پی کا لازمی حصہ ہیں، اس لیے کسی ایک منظور شدہ شعبے کے لیے وسائل کی فراہمی کو بلوچستان سے فنڈز کی منتقلی قرار دینا درست نہیں۔ بلوچستان کے لیے مختص وسائل صوبے کی بحالی، تعمیر و ترقی پر ہی استعمال کیے جا رہے ہیں اور آئی ایف آر اے پی کے تحت جامع بحالی کے دائرہ کار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔منصوبے کی کارکردگی اور عملدرآمد سے متعلق سامنے آنے والے سوالات کے پیش نظر پراجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی کی جانب سے اعلیٰ سطحی آزادانہ انکوائری کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے منصوبے کی کارکردگی، عملدرآمد اور متعلقہ امور کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے گا اور جہاں ضروری ہوا ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا حکومت نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ 2022 کے سیلاب متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کی ہر سطح پر معاونت یقینی بنائی جائے گی۔ جن اہل مستفیدین کو ہاوسنگ گرانٹ کی رقوم منتقل ہو چکی ہیں، ان کے گھروں کی تعمیر منظور شدہ تعمیراتی رہنما اصولوں کے مطابق مکمل کرانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی ہاوسنگ کے علاوہ بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم، آبپاشی، پانی و نکاسی آب، سڑکوں و پلوں، ذریعہ معاش، ہنرمندی اور نوجوانوں کے لیے مواقع سمیت دیگر متاثرہ شعبوں میں بحالی کا عمل بھی جاری رہے گا حکومت کے مطابق آئی ایف آر اے پی کا بنیادی مقصد صرف سیلاب متاثرین کے لیے مکانات کی تعمیر نہیں بلکہ بلوچستان میں جامع، پائیدار اور موسمیاتی طور پر لچکدار بحالی کو یقینی بنانا ہے تاکہ صوبہ مستقبل کی قدرتی آفات کے اثرات کا موثر انداز میں مقابلہ کر سکے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ہاوسنگ یا بلوچستان سے فنڈز کی منتقلی سے متعلق تاثر دستیاب منظور شدہ مالی اور پروگراماتی ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتا، آئی ایف آر اے پی کے تحت تمام منظور شدہ شعبوں کا دائرہ کار برقرار ہے اور بلوچستان کی جامع بحالی و ترقی کے مقصد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
ISLAMABAD/QUETTA, August 13, 2026: The government has rejected as baseless recent media reports alleging that the World Bank-funded Integrated Flood Resilience and Adaptation Project (IFRAP) was restructured to divert development funds away from Balochistan, maintaining that the approved scope of the project covering all 10 flood-affected sectors remains intact.According to a fact report prepared for the Prime Minister, there has been no diversion of funds outside Balochistan and no compromise has been made on the province’s comprehensive rehabilitation under the project.The report stated that the Executive Committee of the National Economic Council (ECNEC) approved IFRAP on January 4, 2023, at a total cost of $400 million, equivalent to approximately Rs88 billion, to support the rehabilitation of 10 sectors affected by the devastating 2022 floods.Under Phase-I, the World Bank is currently providing financing of $245 million. According to the official financing position, the Housing Reconstruction component has received $161 million against its ECNEC-approved cost of $155 million, making it the only component to receive financing exceeding its initially approved allocation during the first phase.For irrigation, the approved cost is $30 million, against which $25 million has been made available. Roads and bridges were approved at a cost of $50 million, while $10 million is currently available under Phase-I. The Hydromet component has an approved allocation of $50 million, against which $40 million is currently financed.The health sector has received $1 million against an approved cost of $5.7 million, while the Financial and Project Management Unit (FPMU) has received $8 million against an approved allocation of $8.5 million. The approved allocations for education at $5 million, Public Health Engineering at $10 million and the Balochistan Livelihoods and Employment Project (BLEP) at $40 million remain part of the broader ECNEC-approved scope of the project.The report also provided an update on the housing reconstruction component, stating that ECNEC had approved the rehabilitation of 68,992 fully damaged houses and 58,016 partially damaged houses. World Bank financing specifically covers fully damaged houses, with eligible beneficiaries receiving Rs400,000 per house in four installments directly.Under the project’s owner-driven reconstruction model, one 13 by 16-foot room is considered one housing unit in accordance with the prescribed project standards.According to the Housing Reconstruction Unit’s data as of August 10, 2026, construction work has commenced on 74,988 houses, while 26,357 houses have been completed. Financially, Rs22.2 billion had been spent on housing reconstruction by the end of fiscal year 2025-26, while a further Rs15.8 billion has been allocated for the housing component during fiscal year 2026-27.The report further clarified the decision taken by the Project Steering Committee on June 22, 2026. The committee, comprising senior representatives of both the Government of Pakistan and the Government of Balochistan, reviewed the financing requirements of different sectors under IFRAP and decided to extend financing to critical flood-affected sectors that had remained unfunded or underfunded during the first phase.These sectors include education, health, irrigation, roads and bridges, skills development, youth internships and livelihoods.The government clarified that the decision did not involve withdrawal of funds from the housing component or transfer of resources from Balochistan to any other province or region. Rather, it represented an internal financial realignment within the ECNEC-approved IFRAP framework to ensure that other flood-affected sectors also received the resources required for rehabilitation.Since all 10 sectors form an integral part of the ECNEC-approved IFRAP, the report maintained that describing the internal realignment as a diversion of funds from Balochistan would be factually incorrect.The government reiterated that the rehabilitation of the 2022 flood-affected population remains a priority and that resources allocated for Balochistan are being utilized for the province’s reconstruction, rehabilitation and development. It said the objective of IFRAP is not limited to housing reconstruction but is aimed at ensuring comprehensive, sustainable and climate-resilient recovery across all sectors affected by the floods.The government also emphasized that the scope of the approved project remains intact and that no compromise has been made on the broader objective of rehabilitating Balochistan and strengthening its resilience against future natural disasters.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6985/2026
کوئٹہ: 13اگست ۔ پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کی مناسبت سے محکمہ ایکسائز نارتھ زون کے زیرِ اہتمام ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈائریکٹر جنرل ایکسائز نارتھ زون محمد ایوب ہزارہ نے کیک کاٹا۔تقریب میں ڈائریکٹر ایکسائز نصیر اللہ مندوخیل سمیت محکمہ ایکسائز کے افسران اور اہلکاروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر افسران نے ایک دوسرے کو یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کی اور وطنِ عزیز کی ترقی، خوشحالی، استحکام اور سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ڈائریکٹر جنرل ایکسائز نارتھ زون محمد ایوب ہزارہ نے کہا کہ یومِ آزادی ہمیں اپنے بزرگوں کی لازوال قربانیوں اور جدوجہد کی یاد دلاتا ہےپاکستان ایک عظیم نعمت ہے اور اس کی ترقی و خوشحالی کے لیے ہر شہری کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ ایکسائز کے افسران اور اہلکار قومی جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور عوام کو بہتر سہولیات کیفراہمی کے ساتھ ساتھ صوبے میں قانون کی عملداری اور حکومتی امور کی موثر انجام دہی میں اپنا کردار جاری رکھیں گے۔تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6986/2026
کوئٹہ، 13 اگست: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان عظیم قربانیوں، جدوجہد اور بے مثال عزم کا ثمر ہے، یومِ آزادی ہمیں اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے اپنے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد، ایمان، نظم و ضبط اور قومی یکجہتی ہی وہ اصول ہیں جنہیں اپناتے ہوئے ہم پاکستان کو ایک مضبوط اور خوشحال ملک بنا سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے دفتر میں جشنِ آزادی کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر قائم لاشاری، افسران اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران قومی پرچم لہرایا گیا اور جشنِ آزادی کا کیک بھی کاٹا گیا، جبکہ ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان رقبے، قدرتی وسائل، معدنی ذخائر، ساحلی پٹی، گوادر پورٹ، قابلِ تجدید توانائی، زراعت، لائیو اسٹاک، ماہی گیری، سیاحت اور دیگر شعبوں کے حوالے سے بے پناہ معاشی امکانات رکھتا ہے۔ بلوچستان کے ان وسائل اور امکانات کو جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے معاشی ترقی کے مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کے دن ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ بلوچستان کی معاشی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر قومی معیشت کے استحکام میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ صوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر قائم لاشاری نے پوری قوم کو 79ویں یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آزادی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے اور اس نعمت کی حفاظت، ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کردار ادا کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔قائم لاشاری نے کہا کہ معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور سرمایہ کاری کا فروغ ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی بنیاد ہیں۔ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ صوبے میں سرمایہ کار دوست ماحول کے قیام، تجارت و صنعت کے فروغ اور نئے کاروباری و روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
خبر نامہ نمبر6988/2026
کوئٹہ، 13 اگست: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان عظیم قربانیوں، جدوجہد اور بے مثال عزم کا ثمر ہے، یومِ آزادی ہمیں اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے اپنے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد، ایمان، نظم و ضبط اور قومی یکجہتی ہی وہ اصول ہیں جنہیں اپناتے ہوئے ہم پاکستان کو ایک مضبوط اور خوشحال ملک بنا سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے دفتر میں جشنِ آزادی کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر قائم لاشاری، افسران اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران قومی پرچم لہرایا گیا اور جشنِ آزادی کا کیک بھی کاٹا گیا، جبکہ ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان رقبے، قدرتی وسائل، معدنی ذخائر، ساحلی پٹی، گوادر پورٹ، قابلِ تجدید توانائی، زراعت، لائیو اسٹاک، ماہی گیری، سیاحت اور دیگر شعبوں کے حوالے سے بے پناہ معاشی امکانات رکھتا ہے۔ بلوچستان کے ان وسائل اور امکانات کو جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے معاشی ترقی کے مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کے دن ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ بلوچستان کی معاشی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر قومی معیشت کے استحکام میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ صوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر قائم لاشاری نے پوری قوم کو 79ویں یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آزادی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے اور اس نعمت کی حفاظت، ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کردار ادا کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔قائم لاشاری نے کہا کہ معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور سرمایہ کاری کا فروغ ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی بنیاد ہیں۔ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ صوبے میں سرمایہ کار دوست ماحول کے قیام، تجارت و صنعت کے فروغ اور نئے کاروباری و روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
خبر نامہ نمبر6989/2026
کوئٹہ13 اگست:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جشن آزادی کے موقع پر پوری پاکستانی قوم، بالخصوص اہل بلوچستان کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 14 اگست ہمیں ان عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جو ہمارے بزرگوں نے ایک آزاد وطن کے حصول کے لیے دیں۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں ہمارے بزرگوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے ایک آزاد ریاست کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا، آج ہم انہی عظیم قربانیوں کی بدولت آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں وزیراعلیٰ نے کہا کہ اہل بلوچستان ہر سال جشن آزادی قومی جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہیں اور رواں سال بھی پورے صوبے میں یوم آزادی کی تقریبات بھرپور قومی جذبے کے ساتھ منعقد کی گئیں۔ یہ دن ہمیں اپنے وطن سے محبت، قومی یکجہتی اور ملکی ترقی کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ وطن عزیز کے ان تمام عظیم شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے پاکستان کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ شہداء کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا بچہ بچہ شہداء کی عظیم قربانیوں اور ان کے مقدس خون کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ قوم اپنے شہداء اور ان کے خاندانوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ وزیراعلیٰ نے بلوچستان کے نوجوانوں کے نام اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل تعلیم، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور پاکستان کی ترقی سے وابستہ ہے۔ نوجوان ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں اور اپنی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں بروئے کار لائیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کار نوجوانوں کو گمراہ کرنے، ریاست سے دور کرنے اور غلط پروپیگنڈے کے ذریعے انہیں ایک لاحاصل راستے پر لے جانے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم ہمارے نوجوان ایسے منفی پروپیگنڈے کا حصہ بننے کے بجائے تعلیم اور ترقی کا راستہ اختیار کریں اور ملک و قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لیے تعلیم، روزگار، میرٹ پر مبنی بھرتیوں، جدید ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں متعدد اصلاحات اور اقدامات شروع کیے ہیں۔ حکومت کا اصلاحاتی ایجنڈا نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بلوچستان کے نوجوان بیٹے اور بیٹیاں دل کے بہت قریب ہیں اور ان کے روشن مستقبل کے لیے حکومت ہر ممکن اقدام جاری رکھے گی۔ میرٹ پر مبنی نظام اور اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور نوجوانوں کا اعتماد نہ صرف حکومت بلکہ ریاستی اداروں پر بھی مزید مستحکم ہوگا وزیراعلیٰ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ پاکستان اور بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنائے۔ دہشت گردی کا بازار گرم کرنے اور بلوچ نوجوانوں کو ایک لاحاصل جنگ میں دھکیلنے والے عناصر کا مقدر شکست ہے، جبکہ پاکستان کی دائمی فتح کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام امن، ترقی اور پاکستان کی مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہیں اور ملک کے روشن مستقبل کے لیے متحد ہیں وزیراعلیٰ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے پر صدر مملکت، وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دفاع اور قومی وقار کو مضبوط بنانے والے اقدامات کو اہل بلوچستان قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عزت، ترقی اور خوشحالی میں اضافہ ہر پاکستانی کے لیے باعث مسرت ہے اور بلوچستان کے عوام پاکستان کو ترقی کی راہ پر آگے بڑھتا دیکھ کر خوشی محسوس کرتے ہیں میر سرفراز بگٹی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے، ملک میں امن و استحکام، ترقی و خوشحالی عطا فرمائے اور وطن عزیز کو ہر قسم کی مشکلات اور چیلنجز سے محفوظ رکھے۔
خبر نامہ نمبر6990/2026
کوئٹہ13اگست: چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت میٹ پیکجنگ پلانٹ کے قیام سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے میں لائیو اسٹاک کے شعبے کو صنعتی بنیادوں پر ترقی دینے، گوشت کی پیکجنگ اور برآمدات کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر غور کیا گیا۔ حب، اور تربت میں میٹ پیکجنگ پلانٹس قائم کیے جائیں گے تاکہ مقامی سطح پر معیاری پروسیسنگ کے بعد گوشت بیرونِ ممالک برآمد کیا جا سکے۔ اجلاس کو سیکرٹری لائیو اسٹاک نے منصوبے کے خدوخال، انفراسٹرکچر کی ضرورت اور برآمدی صلاحیت پر بریفنگ دی۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے تاکہ صوبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں اور مقامی معیشت بھی کو مضبوط کیا جا سکے۔یہ منصوبہ صرف گوشت کی پروسیسنگ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس سے بلوچستان کے لائیو اسٹاک سیکٹر میں ویلیو ایڈیشن، ٹرانسپورٹ، کولڈ چین اور برآمدی سہولتوں کو بھی فروغ ملے گا۔ ایسے اسٹریٹیجک منصوبوں کا مقصد مقامی صنعتوں کو مضبوط بنانا اور صوبے کی معاشی بحالی کو تیز کرنا ہے۔ حب اور تربت میں پلانٹس کے قیام سے گوشت کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کرنے میں مدد ملے گی، جس سے ایران اور دیگر بیرونی منڈیوں تک رسائی آسان ہو سکتی ہے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد بلوچستان سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر انتظامی اور تکنیکی فریم ورک بنایا جائے۔ صوبائی حکومت صوبے میں معاشی سرگرمیوں کو وسعت دینے اور عوامی فلاح کے لیے ایسے منصوبوں کو اہمیت دے رہی ہے، جن سے مقامی وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔ چیف سیکرٹری نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ منصوبے کی تیاری اور عملدرآمد میں شفافیت، رفتار اور بین الادارہ جاتی رابطہ یقینی بنایا جائے۔
خبر نامہ نمبر6991/2026
کوئٹہ13 اگست:۔جشن آزادی پاکستان کے موقع پر چیف منسٹر سیکرٹریٹ کو قومی جذبے اور حب الوطنی کی مناسبت سے خوبصورت انداز میں برقی قمقموں اور دیدہ زیب روشنیوں سے سجایا گیا ہے۔ عمارت پر سبز و سفید روشنیوں کے حسین امتزاج نے جشن آزادی کی خوشیوں اور قومی یکجہتی کے جذبے کو اجاگر کر دیا ہے چیف منسٹر سیکرٹریٹ کی عمارت پر کی گئی شاندار لائٹنگ اور تزئین و آرائش نے جشن آزادی کی تقریبات کے ماحول کو مزید خوبصورت اور پُروقار بنا دیا ہے، جبکہ رات کے وقت روشن عمارت شہریوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بن رہی ہے جشن آزادی کے سلسلے میں سرکاری عمارات اور اہم شاہراہوں کو قومی پرچم، سبز و سفید روشنیوں اور مختلف آرائشی ڈیزائنز سے سجایا گیا ہے تاکہ آزادی کی خوشیوں کو بھرپور قومی جذبے کے ساتھ منایا جا سکے چیف منسٹر سیکرٹریٹ کی خوبصورت انداز میں کی گئی برقی سجاوٹ اس عزم کی بھی عکاس ہے کہ پاکستان کی آزادی، خودمختاری، قومی اتحاد اور ترقی کے جذبے کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ جشن آزادی کے موقع پر ملک و قوم کی سلامتی، خوشحالی اور ترقی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی جا رہی ہیں۔
خبر نامہ نمبر6992/2026
کوئٹہ 13 اگست:۔ صوبائی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے کہا ہے کہ نوجوان کسی بھی ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ اور روشن مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں، حکومت بلوچستان وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں نوجوانوں کی ذہنی، فکری، علمی، تخلیقی اور عملی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ان کی استعدادِ کار میں اضافے کے لیے ہر سطح پر بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز حکومت بلوچستان کے زیرِ اہتمام 79ویں یومِ آزادی کے سلسلے میں منعقدہ تقریری مقابلوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں سیکرٹری محکمہ کھیل درا بلوچ، محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان کے اعلیٰ حکام، مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات اور دیگر شرکاء نے شرکت کی۔صوبائی مشیر مینا مجید بلوچ نے کہا کہ یومِ آزادی ہمیں تحریکِ پاکستان کے دوران ہمارے بزرگوں کی جدوجہد اور لازوال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ ملک کی ترقی، خوشحالی، امن اور استحکام میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے علم، تحقیق، مثبت سوچ اور تعمیری سرگرمیوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے بہتر اور سازگار مواقع فراہم کر رہی ہے۔ کھیلوں، تقریری و ادبی سرگرمیوں، تربیتی پروگراموں، تعلیمی و فنی مہارتوں اور دیگر مثبت سرگرمیوں کے ذریعے نوجوانوں کی شخصیت سازی، خود اعتمادی اور قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔مینا مجید بلوچ نے کہا کہ تقریری مقابلوں جیسے پروگرام نوجوانوں میں خود اعتمادی، اظہارِ خیال، تحقیق، مطالعہ اور قائدانہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے پروگراموں کا مقصد نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں قومی یکجہتی، حب الوطنی اور مثبت سوچ کو فروغ دینا بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان باصلاحیت، باہمت اور صلاحیتوں سے مالا مال ہیں، انہیں صرف مناسب مواقع، رہنمائی اور سرپرستی کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور انہیں معاشرے کا فعال، ذمہ دار اور باصلاحیت فرد بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کر رہی ہے۔صوبائی مشیر نے تقریری مقابلوں میں حصہ لینے والے طلباء و طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ کامیابی صرف مقابلہ جیتنے کا نام نہیں بلکہ سیکھنے، اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور مسلسل آگے بڑھنے کا عمل ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مستقبل میں بھی ایسی مثبت، تعمیری اور صحت مند سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیں۔تقریب کے دوران مختلف سکولوں کے طلباء و طالبات نے یومِ آزادی کے حوالے سے تقاریر اور مختلف ٹیبلوز پیش کیے، جبکہ شرکاء نے اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار کرتے ہوئے وطنِ عزیز کی ترقی، خوشحالی، امن اور استحکام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء و طالبات اور دیگر شرکاء میں انعامات اور اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔
خبرنامہ نمبر 6993/2026
سیوی 13 اگست:۔یومِ آزادی پاکستان کے موقع پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ملک سے محبت، قومی یکجہتی اور امن و سلامتی کے عزم کے اظہار کے لیے شہر میں شاندار فلیگ مارچ کا انعقاد کیا گیا۔ فلیگ مارچ کی قیادت ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے کی۔ اس موقع پر ایس ایس پی سیوی عبدالحمید، اسسٹنٹ کمشنر سیوی منصور علی شاہ، اسسٹنٹ کمشنر میر بختیار خان بنگلزئی سمیت ضلعی انتظامیہ کے افسران، ایف سی اور پولیس کے جوانوں نے شرکت کی۔فلیگ مارچ شہر کی مختلف اہم شاہراہوں سے گزرا، جہاں سیکیورٹی فورسز اور انتظامیہ کے اہلکاروں نے گشت کیا۔ فلیگ مارچ کا مقصد یومِ آزادی کے موقع پر قومی جذبے کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور شہر میں امن و امان کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کرنا تھا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ پاکستان کی آزادی ہمارے لیے ایک عظیم نعمت ہے، جس کا جشن قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن، اتحاد اور قومی یکجہتی ہی ملک کی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہیں۔ فلیگ مارچ کے دوران شہریوں میں بھی جوش و خروش دیکھنے میں آیا، جبکہ قومی پرچموں سے سجی شاہراہوں نے یومِ آزادی کی خوشیوں کو مزید دوبالا کر دیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/6994
گوادر 13 اگست:_گوادر سول سوسائٹی کے زیرِ اہتمام جشنِ آزادیِ پاکستان کے سلسلے میں ایک شاندار اور پُرجوش آزادی ریلی نکالی گئی، جس میں سول سوسائٹی کے نمائندوں، عمائدینِ شہر اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی شرکاء نے قومی پرچم تھامے پاکستان سے والہانہ محبت کا اظہار کیا اور “پاکستان زندہ باد” کے فلک شگاف نعروں سے فضا کو ملی جذبۂ حب الوطنی سے بھر دیا۔ ریلی کے شرکاء نے عہد کیا کہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی، امن اور استحکام کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے ریلی میں وطنِ عزیز کی آزادی کی قدر و منزلت، قومی یکجہتی اور اتحاد و اتفاق کے عزم کا بھرپور اظہار کیا گیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/6995
تربت13اگست:ـجشن آزادی فٹبال ٹورنامنٹ کا فائنل میچ آج بروز جمعرات 13 اگست کو آبسر کے گراؤنڈ میں کھیلا گیا.فائنل میچ کے مہمان خاص رکن قومی اسمبلی ملک شاہ گوریج اور ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی تھے اور دیگر مہمانان میں چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل کیچ میر ہوتمان بلوچ , اے ڈی سی کیچ تابش علی بلوچ, اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی,ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر تربت غفار یوسف دشتی, ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر تمپ حبیب اللہ دشتی موجود تھے.فائنل میچ یوسی کوشقلات یوتھ فٹبال اور پولیس اکیڈمی کے درمیان کھیلا گیا. پولیس اکیڈمی تربت نے 1/2 گول کے مقابلے کوشقلات کو شکست دی. ملک شاہ گورگیج نے کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبسر میں ایک بہترین فٹ بال گراؤنڈ بنایا جائے گا. انہوں نے کہا پی ایس ڈی پی میں آبسر فٹبال گراؤنڈ کیلئے 4 کروڑ 80 لاکھ روپے رکھا گیا ہے.گراؤنڈ تماشائیوں سے برا ہوا تھا.آخر میں ملک شاہ گورگیج اور چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل کیچ ہوتمان بلوچ نے ٹورنامنٹ کے ونر اور رنر اپ ٹیم کے کپتان کو ٹرافی اور کھلاڑیوں کی لیے کیش انعامات کا اعلان کیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/6996
کوئٹہ 13 اگست : وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے جمعرات کو یہاں رکن ایوانِ بالا سینیٹر مولانا عطاء الرحمٰن، رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر درشن لعل، رکن قومی اسمبلی محمد ادریس خان، صوبائی وزیر ثقافت سندھ سید ذوالفقار علی شاہ اور صوبائی وزیر گلگت بلتستان ناصر مقبول نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، سیاسی و پارلیمانی معاملات اور صوبوں کے درمیان روابط و تعاون سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ قومی یکجہتی، بین الصوبائی ہم آہنگی اور باہمی تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی صورتحال اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔








