3rd-August-2026

خبرنامہ نمبر6617/2026
کوئٹہ، 3 اگست۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت جشن آزادی کی تقریبات کی تیاری کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے بھر میں یوم آزادی کی تقریبات قومی جذبے، نظم و ضبط اور بھرپور جوش و خروش کے ساتھ منانے کے لیے جامع حکمت عملی اور انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان کے تمام ڈویژنل اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں جشن آزادی کی تقریبات شایانِ شان انداز میں منعقد کی جائیں گی، جن میں قومی پرچم کشائی، ملی نغموں، ثقافتی، تعلیمی اور عوامی پروگراموں سمیت مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ عوام خصوصاً نوجوان نسل میں حب الوطنی اور قومی یکجہتی کے جذبے کو مزید فروغ دیا جا سکے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ جشن آزادی کی تقریبات کو منظم، باوقار اور یادگار بنانے کے لیے تمام انتظامات کو بروقت حتمی شکل دی جائے اور ہر ضلع میں عوامی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قومی پرچم کشائی، ملی نغموں، ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں سمیت تمام پروگراموں کا انعقاد بھرپور قومی جذبے کے ساتھ کیا جائے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ جشن آزادی صرف ایک قومی تہوار نہیں بلکہ قومی اتحاد، یکجہتی، شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور وطن عزیز کی ترقی و استحکام کے عزم کی تجدید کا دن ہے انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ صوبے بھر میں تقریبات پرامن، محفوظ اور خوشگوار ماحول میں منعقد ہوں تاکہ شہری بلا خوف و خطر ان قومی تقریبات میں بھرپور انداز سے شریک ہو سکیں۔ اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطہ، موثر ہم آہنگی اور پیشہ ورانہ انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تاکہ بلوچستان بھر میں جشن آزادی کی تقریبات قومی وقار اور شان و شوکت کے مطابق منعقد کی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6618/2026
کوئٹہ 3اگست ۔ پبلک اکاونٹس کمیٹی (PAC) کا اجلاس آج صوبائی اسمبلی بلوچستان کے کمیٹی روم میں چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی اصغر علی ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین زمرک خان اچکزئی، میر محمد خان لہڑی، رحمت صالح بلوچ ، زابد علی ریکی سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ عبدالرﺅف بلوچ، اسپیشل سیکرٹری (PAC) بلوچستان اسمبلی سراج لہڑی۔ ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ قانون سعید اقبال، چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل واشک الہی بخش ریکی و دیگر نے شرکت کی۔اجلاس ضلع کونسل واشک کے مالی سال 2025-26 کے ترقیاتی بجٹ سے متعلق رکن صوبائی اسمبلی (PB-31) اور پبلک اکاونٹس کمیٹی کے رکن زابد علی ریکی کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کی روشنی میں منعقد کیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ رپورٹ کے مطابق ضلع کونسل واشک کے 71.500 ملین روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری اور پراسیسنگ ضلع کونسل کے چیئرمین اور تیرہ منتخب اراکین کو اعتماد میں لیے بغیر کی گئی، جبکہ ضلع کونسل سے منظور شدہ بجٹ اور بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (BPPRA) پورٹل پر اپ لوڈ کیے گئے بجٹ میں بھی تضادات کی نشاندہی کی گئی ہے۔اجلاس کے دوران ضلع کونسل واشک کے مالی سال 2025-26 کے ترقیاتی بجٹ سے متعلق تمام مطلوبہ اصل اور مصدقہ ریکارڈ کمیٹی کے روبرو پیش کیا گیا۔ کمیٹی نے منظور شدہ ترقیاتی بجٹ، بجٹ تخمینے، اجلاسوں کے ایجنڈے، کارروائی، قراردادیں، اسکیم وار فنڈز کی تفصیلات، انتظامی و تکنیکی منظوریوں، پی سی ون (PC-I)، ٹینڈر دستاویزات، بی پی پی آر اے پورٹل پر اپ لوڈ کیے گئے ریکارڈ، ورک آرڈرز، متعلقہ فائلوں، مراسلت اور دیگر متعلقہ دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی اصغر علی ترین نے کہا کہ کمیٹی عوامی وسائل کے شفاف، موثر اور قانون کے مطابق استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ کارروائی اور یہ اجلاس آئندہ کے لیے ایک مثالی نظیر بنے تاکہ احتساب، شفافیت اور اچھی حکمرانی کو مزید فروغ حاصل ہو۔اجلاس میں معاملے کی مزید جانچ پڑتال کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی، جسے ہدایت کی گئی کہ وہ تمام دستیاب ریکارڈ اور شواہد کا تفصیلی جائزہ لے کر دس (10) روز کے اندر اپنی رپورٹ پبلک اکاونٹس کمیٹی کو پیش کرے۔بعد ازاں چیئرمین کی اجازت سے اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

خبرنامہ نمبر6619/2026
کوئٹہ 3 اگست۔سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بلوچستان بابر خان نے بلوچستان ہائی کورٹ کی عمارت کےتوسیعی منصوبے کا تفصیلی دورہ کیا اور جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اس موقع پر چیف انجینئر کوئیٹہ زون عبدالرحیم بنگلزئی چیف آرکیٹیکٹ ڈاکٹر سہراب مری ایگزیکٹو انجینئر بلڈنگ کچلاک ڈویژن عمر منیر سمیت متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے دورے کے دوران سیکریٹری مواصلات و تعمیرات کو منصوبے کی مجموعی پیش رفت تعمیراتی مراحل تکنیکی امور، آرکیٹیکچرل ڈیزائن درپیش چیلنجز اور منصوبے کی تکمیل کے مجوزہ ٹائم فریم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی حکام نے منصوبے پر جاری کام استعمال ہونے والے تعمیراتی معیار اور آئندہ مراحل سے متعلق بھی آگاہ کیاسیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے منصوبے کے مختلف حصوں کا معائنہ کرتے ہوئے تعمیراتی معیار کام کی رفتار اور دستیاب وسائل کا جائزہ لیا انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ منصوبے کی تکمیل میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام کام مقررہ شیڈول کے مطابق بروقت مکمل کیے جائیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کی عمارت کا توسیعی منصوبہ نہایت اہمیت کا حامل ہے جس کی تکمیل سے عدالت عالیہ میں آنے والے سائلین وکلا اور عدالتی عملے کو جدید اور بہتر سہولیات میسر آئیں گی انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اس لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور موثر رابطے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں سیکریٹری مواصلات و تعمیرات نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور تعمیراتی سرگرمیوں میں کسی بھی قسم کا وقفہ نہ آنے دیا جائے انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبے پر چوبیس گھنٹے بنیادوں پر کام جاری رکھا جائے تاکہ مقررہ مدت کے اندر تمام اہداف حاصل کیے جا سکیں انہوں نے مزید کہا کہ منصوبے کی تکمیل کے لیے دستیاب وقت انتہائی محدود ہے لہٰذا تمام انجینئرز افسران اور عملہ اپنی مکمل صلاحیتوں سے بڑھ کر کام کرے ان کا کہنا تھا کہ عوامی مفاد کے اس اہم منصوبے میں کسی بھی قسم کی سستی غفلت یا کوتاہی ناقابلِ قبول ہوگی جبکہ تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ بھی نہیں کیا جائے گا انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کام کی رفتار اور معیار کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ منصوبہ بروقت اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل ہو سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6620/2026
کوئٹہ ، 3 اگست ۔سیوی کے معذور نوجوان عثمان غنی کی داد رسی کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر بلوچستان میر سیف اللہ خان کھیتران نے گزشتہ ہفتے ملاقات کے دوران کیا گیا وعدہ پورا کرتے ہوئے انہیں ویل چیئر فراہم کردی، جس پر عثمان غنی نے ڈی جی سوشل ویلفیئر بلوچستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات اور دعائیں کی ہیں انہوں نے کہا کہ میر سیف اللہ خان کھیتران نے جس طرح ان کی درخواست پر فوری توجہ دیتے ہوئے ویل چیئر فراہم کی ہے، وہ ان کے لیے انتہائی خوشی اور اطمینان کا باعث ہے۔ اس حوالے سے ڈی جی سوشل ویلفیئر بلوچستان میر سیف اللہ خان کھیتران نے کہا کہ محکمہ سوشل ویلفیئر کا بنیادی مقصد معاشرے کے کمزور، مستحق اور خصوصی افراد کی فلاح و بہبود اور ان کی مشکلات کا ازالہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق ہر ممکن کوشش کریں گے کہ معذور افراد کے مسائل پر بروقت توجہ دی جائے اور انہیں ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ میر سیف اللہ خان کھیتران نے کہا کہ خصوصی افراد معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی، معاونت اور بنیادی ضروریات کی فراہمی ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ سوشل ویلفیئر بلوچستان معذور افراد کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی کوششیں مزید موثر بنائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6621/2026
گوادر3 اگست ۔: سندھ بلوچستان جشن آزادی کپ ٹورنامنٹ 2026 بنام شہید ڈپٹی کمشنر ذاکر بلوچ بابائے بزنجو فٹبال اسٹیڈیم میں ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن (DFA) گوادر کے صدر میر ارشد کلمتی کے زیرِ اہتمام جاری اس سلسلے میں سندھ بلوچستان جشن آزادی کپ 2026 بنام شہید ڈپٹی کمشنر ذاکر بلوچ فٹبال ٹورنامنٹ کے دلچسپ مقابلے جاری ہیں ٹورنامنٹ میں ڈی ایف اے حب نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملا فاضل فٹبال کلب مند کو 1 کے مقابلے میں 6 گول سے شکست دے کر اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا۔میچ کے مہمانِ خصوصی ایس پی کوسٹل ہائی وے پولیس حفیظ امیر تھے، جنہوں نے کھلاڑیوں سے ملاقات کے موقع پر کہا کہ اس نوعیت کے ٹورنامنٹس نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے، کھیلوں کے فروغ اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن گوادر کے صدر میر ارشد کلمتی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت نوجوانوں میں کھیلوں کے فروغ اور صحت مند سرگرمیوں کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6622/2026
حب3 اگست ۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن محترمہ سائرہ عطا کی زیر صدارت ضلع حب میں تعارفی و جائزہ اجلاس، مختلف محکموں کی کارکردگی اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہکمشنر لسبیلہ ڈویژن محترمہ سائرہ عطا نے ضلع حب کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے لیڈا (LIEDA) کانفرنس ہال میں تعارفی و جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر حب کیپٹن (ر) جمع داد خان مندوخیل، ایس پی حب مرزا بلال حسین، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور ضلع کے تمام سرکاری محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس کے آغاز میں ڈپٹی کمشنر حب کیپٹن (ر) جمع داد خان مندوخیل نے کمشنر لسبیلہ ڈویژن کو ضلع حب کے انتظامی ڈھانچے، ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت، بلدیاتی خدمات، ریونیو، صنعت، پانی کی فراہمی، انفراسٹرکچر اور دیگر اہم شعبوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں، حکومتی اقدامات اور عوامی فلاح و بہبود کے مختلف پروگراموں سے بھی آگاہ کیا۔اس موقع پر ایس پی حب مرزا بلال حسین نے ضلع میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، جرائم کی روک تھام، پولیس کی کارکردگی، حساس تنصیبات کی سکیورٹی، ٹریفک مینجمنٹ اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔بعدازاں مختلف محکموں کے سربراہان نے اپنے اپنے اداروں کی کارکردگی، جاری ترقیاتی و فلاحی منصوبوں، عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات، درپیش مسائل، چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ پیش کی۔ اجلاس میں بین المحکمہ جاتی ہم آہنگی، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوامی مسائل کے موثر اور فوری حل کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن محترمہ سائرہ عطا نے مختلف محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ عوامی خدمت کو اولین ترجیح دی جائے، سرکاری وسائل کے شفاف اور موثر استعمال کو یقینی بنایا جائے اور تمام محکمے باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو معیاری سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے پرعزم ہے، لہٰذا تمام محکمے اپنی کارکردگی میں مزید بہتری لاتے ہوئے عوامی شکایات کے بروقت ازالے کو یقینی بنائیں۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلع حب میں ترقیاتی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے، امن و امان کی صورتحال کو مستحکم بنانے اور عوامی خدمت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے، مکمل تعاون اور مربوط حکمت عملی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6623/2026
کوئٹہ 3 آگست۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کوئٹہ محمد انور کاکڑ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایکسپلوسیو کمیٹی (DEC) کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ضلع بھر میں بارودی مواد، دھماکہ خیز اشیائ اور متعلقہ امور سے متعلق حفاظتی اقدامات، لائسنسنگ اور ضابطہ کار پر تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ دھماکہ خیز مواد کی ذخیرہ اندوزی، نقل و حمل اور استعمال کے حوالے سے نافذ قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔انہوں نے متعلقہ محکموں کے درمیان موثر رابطہ، بروقت معلومات کے تبادلے اور باقاعدہ نگرانی کو مزید موثر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری سے انجام دیں۔اجلاس میں متعلقہ محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6624/2026
قلات/ ہینڈآﺅٹ اگست ۔بلوچستان کے تاریخی شہرقلات میں یومِ استحصالِ کشمیر کی مناسبت سےمختلف پروگرامز کےانعقادکیلئے بھرپور تیاریوں کا آغاز، کردیا گیا ہےتمام محکمے مربوط پروگرامزکاانعقاد یقینی بنائیں ڈپٹی کمشنر قلات کی جانب سے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایات جاری کی گءہیں ک اس دن کی مناسبت سےخصوصی تقریبات کا اہتمام کیاجائے ڈپٹی کمشنر قلات منیر احمد درانی کی ہدایت پر یومِ استحصالِ کشمیر (5 اگست) کے موقع پر ضلع بھر میں بھرپور تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔اس سلسلے میں قلات کے عوام سول سوسائٹی اوراتظامی اداروں کی جانب سے کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی پر مبنی پوسٹرز، بینرز ٹیبلوزہروگرامزترتیب دیے گئے ہیں یوم استحصال کشمیر کی مناسبت سے منعقدہ تقریبات ٹیبلوز ضلعی انتظامیہ کے زیرِ انتظام جاری تیاریوں کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار، بھارت کے غیر قانونی اقدامات کی مذمت کرنا ہےڈپٹی کمشنر قلات کاکہنا ہے کہ 5 اگست کی سرکاری تقریبات، عوامی آگاہی مہم، ریلیوں کے انعقاد کے ساتھ مربوط رابطوں کے ذریعے یومِ استحصال کو بھرپور انداز میں منانے کامقصد کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کا پیغام دیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6625/2026
کوئٹہ 3آگست۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کوئٹہ، محمد انور کاکڑ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کمپنسیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں حالیہ کوئٹہ میں پیش آنے والے مختلف واقعات، خصوصاً پٹیل روڈ کے واقعے، پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس کے دوران متاثرہ واقعات سے متعلق جانچ پڑتال، رپورٹس اور معاوضے کے کیسز کا جائزہ لیا گیا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ زیرِ التوا رپورٹس جلد از جلد مکمل کرکے جمع کرائی جائیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کے معاوضے کے کیسز میں مزید تاخیر نہ ہو۔انہوں نے بعض اداروں کی جانب سے بروقت رپورٹس فراہم نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایت کی کہ آئندہ مقررہ وقت کے اندر تمام رپورٹس جمع کرائی جائیں۔اجلاس میں سی ٹی ڈی، سول ہسپتال، بی ایم سی ہسپتال، میٹروپولیٹن کارپوریشن، ایگری کلچر انجینئرنگ اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

خبرنامہ نمبر6626/2026
گوادر3 اگست ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق شہریوں کو ان کی دہلیز پر معیاری اور بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ صحت گوادر متحرک ہے۔ اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر نے رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) سربندن اور سول ڈسپنسری شمبے اسماعیل کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے طبی و پیرا میڈیکل عملے کی حاضری، او پی ڈی سروسز، ادویات کی دستیابی، صفائی کی صورتحال، طبی آلات کی فعالیت اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ عوام کو بروقت، معیاری اور خوش اخلاقی پر مبنی طبی خدمات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ دور دراز علاقوں کے مکین بھی بہترین طبی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ڈاکٹر یاسر طاہر نے مریضوں اور ان کے لواحقین سے بھی ملاقات کی، ان سے فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا اور ان کے مسائل و تجاویز سن کر موقع پر ہی ضروری ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع بھر کے تمام سرکاری مراکز صحت کی باقاعدہ مانیٹرنگ کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ صحت عامہ کی خدمات کے معیار میں مزید بہتری لائی جا سکے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر کی موثر نگرانی، مسلسل فیلڈ مانیٹرنگ اور انتظامی کاوشوں کے باعث ضلع گوادر میں سرکاری طبی مراکز کی کارکردگی بہتر بنانے، طبی عملے کی جوابدہی بڑھانے اور عوام کو معیاری صحت سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات تیزی سے جاری ہیں، جو محکمہ صحت کی بہتر گورننس اور عوامی خدمت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وڑن کے مطابق ضلع گوادر کے شہریوں کو ان کی دہلیز پر معیاری، بروقت اور بلاامتیاز طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6627/2026
خاران3 اگست ۔ڈپٹی کمشنر خاران جناب منیر احمد سومرو صاحب کی زیر صدارت بلوچستان اسپیشل ڈیویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز-III کے تحت لوکل گورنمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز کھولنے کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایم پی اے خاران و صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات جناب میر شعیب جان نوشیروانی صاحب کے نمائندے حاجی میر عبدالطیف نوتیزئی سمیت متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران بعض ٹینڈرز بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (BPRA) کے ای بڈنگ (E-Bidding) نظام کے تحت آن لائن موصول ہونے والی بولیوں کی صورت میں کھولے گئے،جبکہ بعض ٹینڈرز کے لیے ٹھیکیداروں نے مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنی مالیاتی بولیاں اجلاس کے دوران پیش کیں۔ تمام بولیوں کو متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق باقاعدہ جانچ اور اوپن کیا گیا۔ٹینڈر اوپننگ کا مکمل عمل بی پی آر اے (BPRA) کے نافذ کردہ قواعد و ضوابط کے مطابق نہایت شفاف، منصفانہ اور مسابقتی ماحول میں انجام دیا گیا، جس میں میرٹ، جوابدہی اور شفافیت کے اصولوں کو ہر مرحلے پر یقینی بنایا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خاران نے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد میں معیار، شفافیت اور بروقت تکمیل کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ عوام کو منصوبوں کے ثمرات موثر انداز میں پہنچ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6628/2026
قلات3اگست ۔خالیکشن کمیشن بلوچستان نے ضلع قلات میں امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر نیچارہ یوسی نمبر6وارڈ نمبر5 امیری کونسلر کی خالی نشست پر 9اگست کو ہونے والے الیکشن ملتوی کرنے کانوٹیفکیشن جاری کردیاہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6629/2029
کوئٹہ، 3 اگست۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے حالات کو نہ تو مکمل طور پر مثالی قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی وہ تصویر درست ہے جو بعض حلقوں کی جانب سے بیرون از بلوچستان پیش کی جاتی ہے۔ حقیقت ان دونوں انتہاوں کے درمیان ہے، جبکہ منفی تاثر اور یکطرفہ بیانیہ نہ صرف صوبے بلکہ ریاست پاکستان اور حکومتی اقدامات کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ قومی میڈیا میں بلوچستان کو اکثر صرف اس وقت یاد کیا جاتا ہے جب کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے، جبکہ صوبے میں ہونے والی مثبت پیش رفت، ترقیاتی منصوبے اور اصلاحات کو مناسب توجہ نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے متعدد پروگرامز جاری ہیں، سرکاری اسپتالوں کی خدمات میں نمایاں بہتری آئی ہے، صوبے کے تمام سرکاری اسکول فعال ہو چکے ہیں اور تقریباً 17 ہزار اساتذہ کی بھرتی مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر کی گئی ہے، لیکن افسوس کہ ان کامیابیوں کو قومی میڈیا میں وہ پذیرائی نہیں ملتی جس کی وہ مستحق ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کو اس کے جغرافیائی حقائق کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بعض ڈویوژننز اور اضلاع کا رقبہ اتنا وسیع تھا کہ مو¿ثر انتظامی نگرانی ممکن نہیں تھی۔ اسی ضرورت کے پیش نظر نئے ڈویژنز اور اضلاع قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام تک ریاست کی رسائی بہتر ہو، انتظامی ڈھانچہ مضبوط بنایا جا سکے اور دور افتادہ علاقوں کے عوام کو سرکاری خدمات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکیں انہوں نے کہا کہ چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کا مقصد گورننس کو موثر بنانا، عوامی مسائل کے فوری حل کو یقینی بنانا اور پسماندہ علاقوں کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام عوامی خدمت، انتظامی سہولت اور ریاستی اداروں کی موثر موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اور عالمی برادری پاکستان کی ریاست کے ساتھ کھڑی ہیں، نہ کہ دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان دشمن دہشت گرد عناصر کو سہولت اور سرپرستی مل رہی ہے، حالانکہ عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں کے مطابق افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں کے مختلف گروہوں کے پس پردہ سہولت کار، مالی معاونین اور تربیت فراہم کرنے والے ایک ہی انڈین نیٹ ورک “را” سے وابستہ ہیں اور یہی سب کی نانی ہے بلوچستان کے جغرافیائی حالات، طویل سرحدیں، دشوار گزار پہاڑی علاقے اور منتشر آبادی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں، تاہم سیکیورٹی فورسز پوری ذمہ داری کے ساتھ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کارروائیاں کر رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاست اور دہشت گردوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ریاست بے گناہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر حال میں مقدم رکھتی ہے۔ دہشت گرد انسانی ڈھال استعمال کرتے ہیں، مگر سیکیورٹی فورسز شہری جانوں کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے انتہائی احتیاط سے کارروائیاں کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے دہشت گردی کے واقعات کو ریاست سے جوڑنے کی کوشش تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام، خصوصاً بلوچ اور پشتون نوجوان محب وطن ہیں اور انہیں دشمن کے منفی پروپیگنڈے سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ قومی سلامتی کے معاملے پر تمام سیاسی قوتوں کو سیاست سے بالاتر ہو کر ریاستی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دنیا میں کہیں بھی مسلح دہشت گرد گروہوں کے ساتھ کامیاب مذاکرات کی مثال موجود نہیں۔ البتہ سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں اور نوجوانوں کے ساتھ ہر سطح پر مکالمہ ضروری ہے تاکہ سیاسی، انتظامی اور سماجی مسائل کا حل اتفاق رائے سے نکالا جا سکے انہوں نے کہا کہ حکومت اقتصادی ترقی، بہتر طرز حکمرانی اور مو¿ثر سیکیورٹی حکمت عملی کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتی ہے۔ کرپشن کے خاتمے، میرٹ کے فروغ، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور انتخابی اصلاحات جیسے معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں کو قومی اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردوں کا مقصد کسی علاقے پر قبضہ کرنا نہیں بلکہ عوام سے پرامن ماحول چھیننا ہے، تاہم ریاست دہشت گردی کے اس مذموم ایجنڈے کو ہر صورت ناکام بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بہتر تعلیم، روزگار، شفاف طرز حکمرانی اور میرٹ پر مبنی مواقع فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، جبکہ دہشت گردی کا مقابلہ قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری قوت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ کرتے رہیں گے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں امن، استحکام، ترقی اور مو¿ثر گورننس کے لیے حکومت اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے گی اور عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6630/2029
گوادر/ اورماڑہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن اور ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایات کے مطابق ضلع بھر میں اشیائے خورد و نوش کے معیار، سرکاری نرخناموں پر عملدرآمد اور صفائی کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔اسی سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر اورماڑہ ڈاکٹر ماہ نور برکت کی خصوصی ہدایات پر تحصیلدار اورماڑہ نور خان بلوچ کی نگرانی میں اورماڑہ کے مرکزی بازار کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔دورے کے دوران کریانہ اسٹورز، سبزی فروشوں، گوشت فروشوں اور دیگر کاروباری مراکز کا جائزہ لیا گیا۔ معائنہ کے دوران سرکاری نرخناموں کی دستیابی، اشیائے خورد و نوش کے معیار، صفائی کی صورتحال اور ایکسپائر اشیاء کی موجودگی کو خصوصی طور پر چیک کیا گیا، جبکہ دکانداروں کو حفظانِ صحت کے اصولوں اور سرکاری نرخناموں پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی گئی۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ عوام کو معیاری، محفوظ اور مناسب نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی حکومتِ بلوچستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی موثر نگرانی میں ضلع بھر میں پرائس کنٹرول، صفائی اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایسے معائنہ جاتی دورے باقاعدگی سے جاری رہیں گے تاکہ شہریوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6631/2029
گوادر:3اگست ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن اور حکومتِ بلوچستان کی صحت عامہ سے متعلق پالیسی کے مطابق شہریوں کو ان کی دہلیز پر معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے موثر اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی گوادر ڈاکٹر مرشد دشتی نے مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن (M&E) آفیسر صابر حیاتان کے ہمراہ بنیادی مراکزِ صحت (BHU) چب کلمتی، نگور شریف اور مونڈی کا تفصیلی مانیٹرنگ دورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے طبی و پیرامیڈیکل عملے کی حاضری، او پی ڈی رجسٹر، ای پی آئی سائٹس، ادویات کے ریکارڈ، طبی سہولیات کی دستیابی اور مجموعی انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ مراکزِ صحت کو ضروری ادویات بھی فراہم کی گئیں تاکہ مقامی آبادی کو علاج معالجے کی سہولیات میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ڈاکٹر مرشد دشتی نے طبی عملے کو ہدایت کی کہ وہ مریضوں کو خوش اخلاقی، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ انداز میں بہترین طبی خدمات فراہم کریں، ادویات کا شفاف ریکارڈ برقرار رکھیں اور حفاظتی ٹیکہ جات سمیت تمام قومی صحت پروگراموں پر موثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں حکومتِ بلوچستان صوبے کے دور افتادہ علاقوں میں صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، بنیادی مراکزِ صحت کو فعال رکھنے اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جبکہ پی پی ایچ آئی گوادر بھی اسی وژن کے تحت صحت کی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل نگرانی اور اصلاحی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6632/2029
گوادر: 3اگست ۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور نے پاکستان پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن ضلع گوادر کے وفد سے ملاقات کی، جس میں ملازمین کی حاضری، تنخواہوں میں کٹوتیوں، محکمانہ کارروائیوں اور صحت کے شعبے میں خدمات کی فراہمی سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے وفد کو یقین دلایا کہ محکمہ صحت گوادر کو ہدایت کی جائے گی کہ محکمانہ نظم و ضبط کی کارروائیوں میں قواعد و ضوابط، سرکاری پالیسی اور مقررہ طریقہ کار پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ تمام ملازمین کے ساتھ قانون کے مطابق منصفانہ رویہ اختیار کیا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو صحت کی معیاری اور بروقت سہولیات کی فراہمی حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے، لہٰذا سرکاری اداروں میں غیر حاضری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے تمام ملازمین کو ہدایت کی کہ صوبائی محکمہ صحت کے مقرر کردہ آن لائن حاضری نظام کے ذریعے اپنی حاضری باقاعدگی سے یقینی بنائیں تاکہ آئندہ کسی قسم کی دشواری یا انتظامی مسئلہ پیدا نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ آن لائن حاضری میں غفلت یا عدم تعمیل کی صورت میں ضلعی محکمہ صحت قواعد کے مطابق متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مجاز ہوگا۔پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن کے وفد نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ تمام ملازمین آن لائن حاضری کے نظام پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے اور عوام کو بہتر طبی خدمات کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں مزید احسن انداز میں انجام دیں گے۔اجلاس کے اختتام پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور وفد کو ہدایت کی کہ وہ اپنے مسائل کے خوش اسلوبی سے حل کے لیے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سے ان کے دفتر میں ملاقات کرے، جبکہ اس سلسلے میں پیش رفت سے ضلعی انتظامیہ کو بھی آگاہ رکھا جائے گا۔ضلعی انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سرکاری ملازمین کے جائز مسائل کو قانون کے مطابق حل کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کو صحت کی معیاری، بروقت اور بلا تعطل سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6633/2029
تربت3 اگست یونیورسٹی آف تربت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی زیر صدارت یونیورسٹی کے مین کیمپس میں ایک اعلی سطح اجلاس منعقد ہوا جس میں یونیورسٹی کے اسٹریٹجک پلان 30-2026 کی روشنی میں یونیورسٹی میں تعلیمی معیار اورادارے کے قومی ساکھ کو مزید بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس کا بنیادی مقصد یونیورسٹی کے نصاب کو قومی ترقیاتی ترجیحات اور مارکیٹ کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق ڈھالنا تھا تاکہ طلبہ کی عملی مہارتوں میں اضافہ کرکے ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کئے جاسکیں۔اجلاس میں پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد، فیکلٹی آف لٹریچر اینڈ لینگوئجز کے ڈین ڈاکٹر عبدالصبور (تمغہ امتیاز)،فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین ڈاکٹر محمد طاہر حکیم، فیکلٹی آف لاءکے ڈین ڈاکٹر مظفر حسین، رجسٹرار گنگزار بلوچ، ڈائریکٹر فنانس شاہ بیک سید، کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر عبدالماجد ناصر، ڈائریکٹر اورک ڈاکٹر محمد یاسین اور تمام تعلیمی و انتظامی شعبہ جات کے سربراہان نے شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے فیکلٹی اور انتظامی سربراہان پر زور دیا کہ وہ قومی و بین الاقوامی سطح پر ریسرچ پروجیکٹس کے حصول، اعلی معیار کے تحقیقی مقالوں کی اشاعت اور ایم فل و پی ایچ ڈی پروگراموں کو اپ گریڈ کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کریں۔ انہوں نے طلبہ کے داخلوں میں اضافے، تعلیمی پروگراموں کی باقاعدہ ایکریڈیٹیشن اور تربت یونیورسٹی کے ریسرچ جرنلز کو ہائر ایجوکیشن کمیشن سے منظوری کرانے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ یونیورسٹی میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وائس چانسلر نے آوٹ کم بیسڈ ایجوکیشن فریم ورک کے نفاذ کی ضرورت پر بھی زوردیا تاکہ تربت یونیورسٹی کے گریجویٹس قومی اور عالمی سطح پر اپنی شناخت بناسکیں۔ اجلاس کے دوران شرکاء نے ایچ ای سی کی گائیڈ لائنز کے مطابق جدید تعلیمی پروگرام متعارف کرانے کے لیے اہم تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں سپرنگ2027 کے داخلوں کی تیاریوں، یونیورسٹی کے ایڈمیشن سسٹم اور تعلیمی وانتظامی سرگرمیوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کے عمل کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر کیمپس میں بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور تدریس و تحقیق کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے مشترکہ عزم کااعادہ کیاگیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر 6634/2026
سیوی 3 اگست:وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے تحت عوامی ضروریات کے مطابق ترقیاتی منصوبوں پر تیز رفتار عملدرآمد کے سلسلے میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز III کے منظور شدہ منصوبوں کے ٹینڈرز ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی صدارت و نگرانی میں شفاف انداز میں مکمل کیے گئے۔ ٹینڈر اوپننگ کے عمل میں ونگ کمانڈر 52 ونگ کرنل زبیر، ونگ کمانڈر 63 ونگ کرنل شہریار، ونگ کمانڈر 122 ونگ کرنل عبدالمنان، اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، محکمہ لوکل گورنمنٹ، کمیونیکیشن اینڈ ورکس (C&W)، اربن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، محکمہ ایریگیشن کے افسران اور متعلقہ ٹھیکیداروں نے شرکت کی۔ محکمہ لوکل گورنمنٹ، محکمہ اربن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، محکمہ ایریگیشن، محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ٹینڈرز منعقد کیے گئے۔ اجلاس کے دوران پہلے تمام بولی دہندگان کے ٹیکنیکل ڈاکومنٹس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد اہل قرار پانے والے ٹھیکیداروں کے فنانشل بڈز کھولے گئے۔ قواعد و ضوابط اور مکمل شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے کم ترین بولی دینے والے اہل ٹھیکیداروں کو منصوبے الاٹ کیے گئے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سبی میجر (ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے ترقیاتی وژن اور BSDI کے پہلے اور دوسرے مرحلے کی کامیابی کے بعد اب BSDI فیز III کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی کھلی کچہریوں میں عوام کی نشاندہی پر منظور کیے گئے منصوبے علاقے کی حقیقی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے شروع کیے جا رہے ہیں، جن کی بروقت اور معیاری تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے متعلقہ محکموں اور ٹھیکیداروں کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں پر شفافیت، معیار اور مقررہ مدت کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد ان ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات میسر آ سکیں۔
خبرنامہ نمبر 6635/2026
کوئٹہ3 اگست:۔بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس محمد کامران خان ملاخیل، جسٹس شوکت علی رخشانی اور جسٹس محمد عامر نواز رانا پر مشتمل اکثریتی بینچ نے آئینی درخواست (سی پی نمبر 471 آف 2026) کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے بلوچستان بار کونسل رولز میں کی گئی متنازع ترامیم کو آئینِ پاکستان 1973 اور لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ 1973 سے متصادم قرار دے کر کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے قرار دیا کہ بلوچستان بار کونسل رولز میں کی گئی ترامیم قانون اور آئین کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتیں، لہٰذا انہیں اس حد تک ختم کیا جاتا ہے۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ بینچ کے تمام ججز اس امر پر متفق ہیں کہ مذکورہ ترامیم کے تحت قائم کمیٹی کی جانب سے لیے گئے انٹرویوز لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ 1973 کی دفعات کے مطابق نہیں تھے، اس لیے ایسے انٹرویوز کی بنیاد پر جاری کیے گئے وکالت کے لائسنس برقرار نہیں رہ سکتے۔فیصلے کے مطابق، ان تمام امیدواروں کو ازسرِنو باقاعدہ تشکیل شدہ اور قانونی تقاضوں کے مطابق قائم کمیٹی کے سامنے نئے انٹرویوز دینا ہوں گے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ تازہ انٹرویوز قانون کے مطابق منعقد کیے جائیں اور جو امیدوار کامیابی سے انٹرویو پاس کریں اور دیگر تمام قانونی شرائط، بشمول مقررہ مدت کی اپرنٹس شپ/شاگردی، مکمل کریں، انہیں قانون کے مطابق وکالت کا لائسنس جاری کیا جائے۔اس مقدمے میں درخواست گزاروں کی جانب سے عطا اللہ لانگو ایڈووکیٹ، بیرسٹر علی احمد زہری، عبدالجلیل ایڈووکیٹ اور دیگر وکلاء پیش ہوئے، جبکہ بلوچستان حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل عدنان بشارت، ایڈیشنل اٹارنی جنرل محمد فرید ڈوگر، ڈپٹی اٹارنی جنرل انور نسیم کاسی اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شائق حق بلوچ عدالت میں پیش ہوئے۔ بلوچستان صوبائی بار کونسل اور دیگر فریقین کی نمائندگی بھی مختلف وکلاء نے کی۔یہ فیصلہ بلوچستان میں وکالت کے لائسنس کے اجرا، بار کونسل کے قواعد اور قانونی تقاضوں کی پاسداری کے حوالے سے ایک اہم عدالتی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
خبرنامہ نمبر 6636/2026
جعفرآباد3اگست:۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیرِ صدارت محکمہ ریونیو کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسسٹنٹ کمشنر۔تحصیلداروں، نائب تحصیلداروں، قانون گوز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران محکمہ ریونیو کے افیسران نے سرکاری واجبات کی وصولی سے متعلق فرداً فرداً بریفنگ دی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خالد خان نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری واجبات کی وصولی ہر صورت یقینی بنائی جائے اور جن زمینداروں پر سرکاری واجبات تاحال واجب الادا ہیں،ان سے بقایاجات کی وصولی کے عمل کو مزید مؤثر اور تیز کیا جائے تاکہ مقررہ اہداف بروقت حاصل کیے جا سکیں۔

خبر نامہ نمبر 2026/6637
کوئٹہ3 اگست:ـبلوچستان ہائی کورٹ نے بلوچستان بار کونسل کے انرولمنٹ رولز میں 2 اپریل 2026 کی ترامیم کالعدم قرار دے دیں
بلوچستان ہائی کورٹ نے آئینی پٹیشن نمبر 471/2026 میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے بلوچستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کی جانب سے 2 اپریل 2026 کو بلوچستان لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسل رولز 2020 میں کی گئی ترامیم کو غیر قانونی، الٹرا وائرس اور کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے قرار دیا کہ بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کو بار کونسلز ایکٹ 1973 کی بنیادی دفعات میں ردوبدل کا اختیار حاصل نہیں، جبکہ انرولمنٹ کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے چیف جسٹس کی جانب سے نامزد ہائی کورٹ کے جج کے کردار کو قواعد کے ذریعے ختم یا محدود نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے واضح کیا کہ بار کونسلز ایکٹ 1973 کی دفعہ 10 کے تحت انرولمنٹ کمیٹی کی سربراہی ہائی کورٹ کے نامزد جج کے پاس ہونا لازمی ہے، لہٰذا قواعد میں ایسی کوئی ترمیم جو اس قانونی اسکیم کو متاثر کرے، آئین اور قانون دونوں کے منافی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ ایگزیکٹو کمیٹی نے قواعد میں ترامیم کرتے وقت نہ صرف مقررہ قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا بلکہ رولز کمیٹی، بلوچستان بار کونسل کے مکمل اجلاس اور متعلقہ قانونی تقاضوں کو بھی نظر انداز کیا، اس لیے یہ ترامیم تفویض شدہ (Delegated) قانون سازی کے اختیارات سے تجاوز اور رنگین قانون سازی (Colorable Legislation) کے مترادف ہیں۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ انرولمنٹ کے عمل میں شفافیت، میرٹ اور عدالتی نگرانی کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے، کیونکہ وکالت ایک باوقار پیشہ ہے اور اس میں داخلہ صرف قانون کے مطابق شفاف طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہے۔بلوچستان ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں لاہور ہائی کورٹ، پشاور ہائی کورٹ، وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ پاکستان اور بھارتی سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ ماتحت یا تفویض شدہ قانون سازی کے ذریعے بنیادی قانون کی لازمی دفعات کو تبدیل یا غیر مؤثر نہیں بنایا جا سکتا۔
عدالت نے بلوچستان بار کونسل کو ہدایت کی کہ اگر قواعد میں ترمیم ضروری ہو تو وہ بار کونسلز ایکٹ 1973 اور مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق دوبارہ غور کر سکتی ہے، تاہم موجودہ ترامیم قانون کے مطابق برقرار نہیں رہ سکتیں۔عدالت نے آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے بلوچستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے 2 اپریل 2026 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے کی گئی تمام متعلقہ ترامیم کو ختم کرنے کا حکم دے دیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/3638
موسیٰ خیل03 اگست:_ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت بلوچستان اسپشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز II, I اور III کے تحت مکمل جاری اور تجاویز کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوااجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر موسیٰ خیل نجیب اللہ کاکڑ، اسسٹنٹ کمشنر درگ اظہرالدین، فیلڈ انجینئر حمزہ خان اور متعلقہ محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بی ایس ڈی آئی کے تحت مکمل ہونے والی، جاری اور نئی تجاویز کے حوالے سے اسکیموں کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی کاموں میں شفافیت اور معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور جاری منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی فلاح و بہبود کے ان منصوبوں میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی علاوہ ازیں فیلڈ انجینئر حمزہ خان نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار اور شفافیت کو مدنظر رکھا جائے، کسی بھی قسم کی غفلت کو برداشت نہ کیا جائے، اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے تمام تکنیکی امور کو بروقت مکمل کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *