خبرنامہ نمبر6422/2026
کوئٹہ 24 جولائی: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کی آبادی بنیادی طور پر عوام، ان کے معیار زندگی، روزگار کے مواقع اور ان کی معاشی آسودگی سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان کی آبادی رواں سال 2026 کے آخر تک چھبیس کروڑ تک پہنچ جائیگی جو پاکستان کو دو بڑے چیلنجوں کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ پہلا تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو کم کرنے کا انتظام ہے۔ دوسرا اور شاید اس سے بھی زیادہ اہم، اس بڑی آبادی کو ایک مہارت یافتہ، پیداواری، صحتمند اور ہنرمند افراد قوت میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ دونوں بہت چلینچنگ ذمہ داریاں ہیں۔ آج کی کامیاب تقریب کے انعقاد پر پرنس آغا عمر احمدزئی اور ان کی پوری ٹیم خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ کے ایک مقامی ہوٹل میں ورلڈ پاپولیشن ڈے کی مناسبت سے منعقدہ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر میرعاصم کرد گیلو، پارلیمانی سیکرٹری پرنس آغا عمر احمدزئی، رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر نواز کبزئی، صوبائی سیکرٹری ظفر بلیدی، ہو این ڈی پی کے ذوالفقار درانی، سابق سینیٹر روشن خورشید بروچہ، بی آر ایس پی کے چئرمین ملک انور سلیم کاسی، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر طاہر رشید اور ڈائریکٹر گورنر سیکرٹریٹ عطاء الرحمٰن خلجی سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ شرکاء سے خطاب میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یہ بات پاکستان اور بلوچستان دونوں کیلئے حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان پورے خطے کے سب سے نوجوان آبادی رکھنے والا ملک ہے جبکہ صوبہ بلوچستان اپنی آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے ینگیسٹ آبادی رکھنے والا صوبہ ہے۔ یہ نوجوان آبادی ایک غیرمعمولی موقع کی نمائندگی کرتی ہے تاہم پاکستان کے مستقبل کا انحصار اس بات پر نہیں ہوگا کہ ہمارے پاس کتنے لوگ ہیں۔ زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم انہیں کتنی معیاری تعلیم دیتے ہیں، ہم کتنے موثر طریقے سے انہیں جدید مہارتوں سے آراستہ کرتے ہیں، کتنی کامیابی سے ہم روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں اور ہم انہیں ملکی و قومی تعمیر ترقی میں حصہ ڈالنے کیلئے کتنے اعتماد کے ساتھ بااختیار بناتے ہیں۔ یہ بات باعث اطمینان ہے کہ ہم نے ہماری پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں سکل ڈویلپمنٹ پروگرامز شروع کئے ہیں جن کے مثبت نتائج برآمد ہونگے۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کوئٹہ شہر کی آبادی میں پچھلے 30 سالوں کئی گنا اضافہ ہوا جبکہ وسائل میں اسی مقدار میں اضافہ نہیں ہوا۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ فیملی پلاننگ کے حوالے سے شعور و آگہی کی مہم کو ڈسٹرکٹ اور یونین کونسل کی سطح تک وسعت دی جائے اور آبادی میں بیتحاشہ اضافہ کو کنٹرول کرنے کیلئے مزید اقدامات اُٹھائیں جائیں تاکہ ہم پاکستان اور بلوچستان کی آبادی کو دیرپا امن، خوشحالی اور معاشی ترقی کے ایک طاقتور انجن میں تبدیل کریں۔ کثرتِ آبادی سے متعلق پروگرام منتظمین اور شرکاء میں یادگاری شیلڈز تقسیم کرنے کے بعد اختتام پذیر ہوا۔
خبرنامہ نمبر6423/2026
کوئٹہ، 24 جولائی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مستونگ میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کو سراہتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی پر فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے اپنے بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ مستونگ میں سکیورٹی فورسز نے بروقت اور پیشہ ورانہ انداز میں کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا اور ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔ انہوں نے کہا کہ فورسز کی بروقت حکمت عملی اور جرأت نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ملک دشمن عناصر کے لیے پاکستان کی سرزمین پر کوئی جگہ نہیں۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز، پولیس، لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل عزم اور مربوط حکمت عملی کے تحت کارروائیاں کر رہے ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم اپنی بہادر سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور امن دشمن عناصر کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے سرپرست دہشت گرد گروہ اور فتنہ الخوارج کا گٹھ جوڑ پاکستان کے امن، استحکام اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں قیامِ امن، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام ریاستی ادارے بھرپور قوت اور یکجہتی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔
خبرنامہ نمبر6424/2026
کوئٹہ، 24 جولائی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا، ہلالِ امتیاز (ملٹری)، ستارہ بسالت کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی ملنے اور کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ تعینات ہونے پر دلی مبارکباد پیش کی ہے اپنے تہنیتی پیغام میں وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جنرل عامر رضا کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں، غیر معمولی قیادت اور ملک کے دفاع کے لیے ان کی گراں قدر خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اہم ذمہ داری ان پر ریاست کے اعلیٰ اعتماد کا اظہار ہے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ جنرل عامر رضا کی قیادت میں پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیتیں مزید مضبوط ہوں گی اور قومی دفاع کو مزید استحکام حاصل ہوگا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ اپنی نئی ذمہ داریاں اسی عزم، دیانت داری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دیتے ہوئے ملک و قوم کی مزید خدمت کریں گے میر سرفراز بگٹی نے جنرل عامر رضا کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی نئی ذمہ داریوں کی احسن انداز میں ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے اور پاکستان کو ہمیشہ امن، استحکام اور ترقی سے ہمکنار رکھے۔
خبرنامہ نمبر6425/2026
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی خصوصی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر کمپلیکس بارکھان میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر بارکھان احسام الدین کاکڑ نے کی۔ اس موقع پر ضلع بھر کے تمام متعلقہ محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔کھلی کچہری میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے اپنے مسائل متعلقہ حکام کے سامنے پیش کیے۔ شہریوں نے پینے کے صاف پانی کی فراہمی، صحت کی بنیادی سہولیات، امن و امان، تعلیم، بجلی، سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور دیگر عوامی مسائل کے حل کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر احسام الدین کاکڑ نے شہریوں کے مسائل تفصیل سے سنے اور متعلقہ محکموں کے افسران کو موقع پر ہی ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی خصوصی ہدایت کے مطابق کھلی کچہریوں کا مقصد عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف اور ریلیف فراہم کرنا، سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور عوام و انتظامیہ کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا ہے۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ عوام کے جائز مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے اور کسی بھی شکایت کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ شہریوں نے کھلی کچہری کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس اقدام کو عوامی مسائل کے حل کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔
خبرنامہ نمبر6426/2026
نصیرآباد 24 جولائی :ایگزیکٹو انجینئر ایریگیشن کیرتھر کینال غلام محمد بادینی نے ڈمب ڈسٹری میں وارا بندی کا دورہ کرتے ہوئے پانی کی تقسیم کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ موجودہ وارا بندی کے تحت فیز ٹو میں پانی کی فراہمی تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور محکمہ آبپاشی تمام کمانڈ ایریا کے زمینداروں اور کاشتکاروں کو ان کے مقررہ حصے کے مطابق منصفانہ پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہے۔ دورے کے دوران سب انجینئر ریاض احمد میمن، کینال سپروائزر رجب علی عمرانی اور داروغہ روشن علی چہوان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے، جبکہ سب انجینئر ریاض احمد میمن نے پانی کی فراہمی اور فیلڈ کی مجموعی صورتحال سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ غلام محمد بادینی نے واضح کیا کہ پانی کی تقسیم پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی حقدار زمیندار یا کاشتکار کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق عمرانی اور صوبائی سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمان بلوچ کی ہدایات کے مطابق شفاف، منصفانہ اور مقررہ وارا بندی پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ تمام علاقوں کو ان کا جائز حق بروقت مل سکے۔
خبرنامہ نمبر6427/2026
بارکھان؍رکھنی: انجمن تاجران رکھنی کے وفد نے ڈی آئی جی کوہِ سلیمان سے ملاقات کی، جس میں رکھنی میں بڑھتی ہوئی چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں سمیت امن و امان کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔وفد کی قیادت انجمن تاجران کے ضلعی صدر فرید اللہ کھیتران نے کی، جبکہ جنرل سیکرٹری سید جلال شاہ اور چئرمین وڈیرہ فاروق بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔وفد نے شہریوں، تاجروں اور مسافروں کو درپیش سیکیورٹی خدشات سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پولیس گشت کو مؤثر اور باقاعدہ بنایا جائے تاکہ جرائم پر قابو پایا جا سکے۔ڈی آئی جی کوہِ سلیمان نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ رکھنی میں پولیس گشت کو معمول بنایا جائے گا اور امن و امان کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ شہری خود کو محفوظ محسوس کریں۔
خبرنامہ نمبر6428/2026
تربت ۔ 24 جولائی 2026: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی خصوصی ہدایت پر محکمہ مواصلات و تعمیرات (C&W) کی جانب سے تحصیل دشت کے مختلف علاقوں میں سڑکوں کی مرمت اور بحالی کا عمل بھرپور انداز میں شروع کر دیا گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق، عوام کو بہترین، محفوظ اور معیاری سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ حکام کو سخت احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ تعمیراتی اور مرمتی امور میں شفافیت اور اعلیٰ معیار کو ہر صورت مدنظر رکھا جائے۔ابتدائی مرحلے میں سنگئی اور نیلگ کور روڈ پر مرمتی کام کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جہاں محکمہ مواصلات و تعمیرات کا عملہ فیلڈ میں متحرک ہو کر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہا ہے۔ ماضی میں سڑکوں کی مرمت کے عمل میں تاخیر اور سستی کی شکایات موصول ہو رہی تھیں، تاہم ڈپٹی کمشنر کیچ کی واضح اور سخت ہدایات کے بعد ان سرگرمیوں میں نمایاں تیزی لائی گئی ہے۔معیار اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں جاری ترقیاتی کاموں کا ذاتی طور پر معائنہ کریں اور مقررہ مدت کے اندر اعلیٰ معیار کے ساتھ تکمیل کو یقینی بنائیں۔عوامی حلقوں، خصوصاً سنگئی، کسر، نیلگ اور ڈڈھے کے مکینوں نے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کے اس بروقت اور خوش آئند اقدام کو بھرپور انداز میں سراہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ برسوں بعد سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے حوالے سے عملی اقدامات کا آغاز عوامی مشکلات کے حل کی جانب ایک انتہائی مثبت قدم ہے۔ عوام نے توقع ظاہر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ کا یہ فلاحی منصوبوں پر کام کا تسلسل جاری رہے گا تاکہ علاقے میں پائیدار ترقیاتی عمل کو فروغ مل سکے۔
خبرنامہ نمبر6429/2026
بارکھان.ڈپٹی کمشنر بارکھان سید الرحمٰن کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر احساس الدین نے ڈی سی کمپلیکس بارکھان میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا، جس میں مختلف ضلعی محکموں کے افسران اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے اپنے علاقوں کو درپیش مسائل اور شکایات براہِ راست ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کیں۔ اسسٹنٹ کمشنر احساس الدین نے عوام کے مسائل کو تفصیل سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ تمام جائز مطالبات اور شکایات متعلقہ حکام تک فوری طور پر پہنچائی جائیں گی اور ان کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔کھلی کچہری میں زیادہ تر شہریوں نے پینے کے صاف پانی کی فراہمی، تعلیمی سہولیات کی کمی، اسکولوں کی حالتِ زار، اساتذہ کی کمی، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق مسائل اجاگر کیے۔ ضلعی افسران نے بھی متعلقہ امور پر عوام کو آگاہ کیا اور مسائل کے حل کے لیے اپنی ذمہ داریوں کے مطابق اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر احساس الدین نے کہا کہ عوامی مسائل کا بروقت حل ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور کھلی کچہری کا مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم کرکے مسائل کو جلد از جلد حل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر بارکھان سید الرحمٰن کی ہدایات کے مطابق عوامی خدمت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر6430/2026
کوئٹہ:24 جولائی صوبائی مشیر برائے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمن خان ملاخیل نے مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت کے افسوسناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ اور ناقابلِ برداشت دہشت گردی قرار دیا ہے۔اپنے مذمتی بیان میں صوبائی مشیر نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداء کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل دے اور زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے۔نسیم الرحمن ملاخیل نے کہا کہ معزز جج اور ان کے محافظ پر حملہ دراصل قانون کی بالادستی، عدالتی نظام اور ریاستی اداروں پر حملہ ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر ایسے بزدلانہ اقدامات کے ذریعے بلوچستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، تاہم حکومت اور سیکیورٹی ادارے ان کے مذموم عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔صوبائی مشیر نے حکومت بلوچستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے میں امن و امان کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پوری سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے اور ایسے واقعات صوبے کے امن و ترقی کے سفر کو ہرگز متاثر نہیں کر سکتے۔آخر میں صوبائی مشیر نسیم الرحمن خان ملاخیل نے شہداء کے درجات کی بلندی، اہل خانہ کے لیے صبر جمیل اور صوبے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے خصوصی دعا کی۔
خبرنامہ نمبر6431/2026
کوئٹہ 24جولائی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت چہلم حضرت امام حسینؓ کے پرامن انعقاد کے حوالے سے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکیورٹی، صفائی، لائٹنگ، طبی سہولیات، ٹریفک اور دیگر انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں شیعہ علماء کانفرنس، اسسٹنٹ کمشنرز، پولیس، ایف سی، صفاء کوئٹہ، میٹروپولیٹن کارپوریشن، پی ڈی ایم اے، ایم ایس بے نظیر بھٹو ہسپتال، سول ہسپتال، شیخ زاہد ہسپتال، ڈی ایچ او کوئٹہ، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی، سوئی سدرن گیس کمپنی، کیسکو، انجمن تاجران اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں چہلم کے موقع پر جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دی گئی، جبکہ جلوس کے روٹس پر صفائی، روشنی اور دیگر شہری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔ تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ رکھنے، ایمبولینسز کو اسٹینڈ بائی رکھنے، اور بجلی و گیس کی بلا تعطل فراہمی کے لیے متعلقہ اداروں کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے کہا کہ کوئٹہ ہم سب کا گھر ہے، اسے امن، بھائی چارے اور باہمی احترام کا گہوارہ بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی تعاون اور مؤثر رابطے کے ذریعے چہلم کے پرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
خبرنامہ نمبر6432/2026
ہرنائی: 24 جولائی :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن اور صوبائی حکومت کی واضح ہدایات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ ہرنائی نے مشکل میں گھرے شہریوں کی فوری داد رسی کی روایت برقرار رکھی ہے۔ ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کے خصوصی حکم پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین اور اسسٹنٹ کمشنر کھوسٹ اسرار احمد شاھوانی نے محلہ اختر آباد کا دورہ کیا اور آتشزدگی سے متاثرہ خاندان سے ملاقات کر کے انہیں امدادی سامان فراہم کیا۔ محلہ اختر آباد کے رہائشی اور نہایت غریب شہری غلام نبی کے خیمے میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے پورے خیمے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں گھر کا تمام ضروری سامان اور اشیائے خورد و نوش جل کر خاکستر ہو گئیں۔ اس ناگہانی واقعے کے بعد غریب خاندان کھلے آسمان تلے مدد کا منتظر تھا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر ہرنائی نے فوری نوٹس لیا اور انتظامی افسران کو متاثرہ مقام کا خود دورہ کرنے کی ہدایت کی۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کھوسٹ نے موقع پر پہنچ کر متاثرہ خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر درج ذیل سامان ان کے حوالے کیا جس میں نیا خیمہ (ٹینٹ)،*واٹر کولر، چٹائیاں، بستر اور دیگر روزمرہ کی ضروری سامان شامل ہے، ضلعی انتظامیہ کے ترجمان نے کہا کہ انتظامیہ اپنے شہریوں کے سکھ دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندان کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کی مکمل بحالی تک ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔ضلعی انتظامیہ کی اس فوری کارروائی اور ہمدردانہ قدم کو مقامی شہریوں نے بے حد سراہا۔ متاثرہ خاندان نے بروقت امداد فراہم کرنے پر ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ انتظامیہ نے عزم ظاہر کیا کہ ضلع ہرنائی میں عوام کی فلاح و بہبود اور ناگہانی آفت سے متاثرہ افراد کی مدد اولین ترجیح رہے گی۔
خبرنامہ نمبر6433/2026
ہرنائی ضلع ہرنائی میں تعلیمی نظام کی بہتری، سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور بچوں کو معیاری تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ (DEG) کا ایک اہم اور جاندار اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کا بنیادی مقصد ضلع بھر کے تمام سرکاری تعلیمی اداروں کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لینا، تدریسی عمل کو موثر بنانا اور تعلیمی شعبے کو درپیش چیلنجز کا عملی حل تلاش کرنا تھا۔اس اہم اجلاس میں ضلع کی انتظامیہ اور شعبہ تعلیم کے کلیدی حکام نے شرکت کی، جن میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین، اسسٹنٹ کمشنر کھوسٹ اسراراحمدشاھوانی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (DEO) اور محکمہ تعلیم کے دیگر متعلقہ افسران شامل تھے ۔اجلاس کے دوران ضلع بھر کے تمام پرائمری، مڈل اور ہائی سکولوں کے مختلف انتظامی و تدریسی امور کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے اہم نکات درج ذیل ہیں اجلاس میں سکولوں میں اساتذہ اور دیگر عملے کی باقاعدہ حاضری کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ غیر حاضر اساتذہ کے خلاف بلا امتیاز قانونی و انتظامی. کارروائی کی جائے گی تاکہ بچوں کا تعلیمی حرج نہ ہو۔ضلع کے تعلیمی اداروں میں پینے کے صاف پانی، واش رومز، فرنیچر اور عمارتوں کی مرمت و بحالی سے متعلق مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تعلیمی معیار کو جانچنے اور اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اور تمام ڈپٹی و اسسٹنٹ ایجوکیشن افسران کو سکولوں کے باقاعدگی سے سرپرائز وزٹس کا پابند کیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر ہرنائی نے تمام افسران کو تاکید کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی کی ضامن ہوتی ہے، لہٰذا تعلیمی امور میں کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے تمام افسران پر زور دیا کہ وہ ضلع ہرنائی کے بچوں کا روشن مستقبل یقینی بنانے کے لیے ایک ٹیم کی صورت میں کام کریں اور تعلیمی اصلاحات پر مکمل اور روح کے مطابق عملدرآمد یقینی بنائیں۔
خبرنامہ نمبر6434/2026
حب: ڈپٹی کمشنر حب کیپٹن (ر) جمع داد خان مندوخیل کی زیر صدارت ضلع حب میں پانی کے بحران، پینے کے پانی کی فراہمی، صنعتوں اور زرعی شعبے کو پانی کی دستیابی، نیز نہری پانی کی چوری کی روک تھام کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس حب میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ایگزیکٹو انجینئر ایریگیشن، ایگزیکٹو انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE)، ایگزیکٹو انجینئر LIEDA، سیکریٹری جنرل لسبیلہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI)، چئرمین و وائس چئرمین میونسپل کمیٹی حب، صدر انجمنِ زمینداران، ٹینکر ایسوسی ایشن کے نمائندگان، تحصیلدار حب، ڈی ایس پی حب اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع میں پانی کی قلت، نہری پانی کی منصفانہ تقسیم اور پانی کی چوری کی روک تھام سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر متعدد اہم فیصلے کیے گئے جن کے تحت نہری پانی کی چوری، غیر قانونی کنکشنز اور غیر مجاز واٹر ٹیکنگ کے خلاف بلاامتیاز اور مسلسل آپریشن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پانی کی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف فوری طور پر مقدمات درج کیے جائیں گے اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انسدادِ پانی چوری آپریشن کی نگرانی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) اور ایگزیکٹو انجینئر ایریگیشن مشترکہ طور پر کریں گے۔اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ ضلع کی بڑی صنعتی کمپنیاں، LIEDA اور لسبیلہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) آپریشن کی مؤثر انجام دہی کے لیے محکمہ ایریگیشن کو ضروری لاجسٹک معاونت فراہم کریں گے، جبکہ نہری پانی کے تمام قانونی کنکشنز پر واٹر میٹرز کی تنصیب یقینی بنائی جائے گی تاکہ پانی کے استعمال کی مؤثر نگرانی اور شفاف تقسیم ممکن بنائی جا سکے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع پولیس کی موبائل گاڑیاں نہروں اور حساس مقامات پر چوبیس گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن مسلسل گشت کریں گی، جبکہ محکمہ ایریگیشن کی چھ موٹر سائیکلیں نہری نظام کے مختلف حصوں میں باقاعدہ پٹرولنگ کریں گی تاکہ غیر قانونی کنکشنز، پانی کی چوری اور دیگر خلاف ورزیوں کی بروقت نشاندہی اور فوری کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر کوئی بڑی صنعتی کمپنی نہری پانی کی چوری، غیر قانونی کنکشن یا پانی کے غیر مجاز استعمال میں ملوث پائی گئی تو ایگزیکٹو انجینئر ایریگیشن فوری طور پر متعلقہ کمپنی کو شوکاز نوٹس جاری کریں گے، ایف آئی آر درج کرائی جائے گی اور قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر حب کیپٹن (ر) جمع داد خان مندوخیل نے کہا کہ پانی ایک قیمتی قومی اثاثہ ہے اور اس کی چوری یا غیر قانونی استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ باہمی رابطے، مؤثر نگرانی اور قانون پر سختی سے عمل درآمد کے ذریعے ضلع حب میں پانی کے بحران پر قابو پایا جائے اور شہریوں، صنعتوں اور زرعی شعبے کو پانی کی منصفانہ اور بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔
خبرنامہ نمبر6435/2026
کوہلو 24 جولائی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیکی وژن کے تحت ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دومڑ ،نومنتخب چئرمین علی شیر زرکون کی ہدایت پر چیف آفیسر میونسپل کمیٹی کوہلو محب اللہ خان بلوچ اور ایکسئن میر شکور احمد مری کی نگرانی میں حالیہ مون سون بارشوں کے بعد شہر میں خصوصی صفائی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔مہم کے تحت میونسپل کمیٹی کا سینیٹری عملہ شہر کے مختلف علاقوں میں نکاسی آب ، نالوں ، گلیوں کی صفائی اور کچرے کی بروقت منتقلی میں مصروف عمل ہے تاکہ شہریوں کو صاف، صحت مند اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔چیف آفیسر محب اللہ خان بلوچ نے صفائی عملے کو ہدایت کی کہ بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور شہر کے تمام علاقوں میں صفائی کا عمل بلا تعطل جاری رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو بنیادی بلدیاتی سہولیات کی فراہمی میونسپل کمیٹی کی اولین ترجیح ہے اور صفائی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں چیف آفیسر میونسپل کمیٹی کوہلومحب اللّٰہ نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ صفائی مہم میں انتظامیہ سے تعاون کریں، کوڑا کرکٹ مقررہ مقامات پر تلف کریں اور نالیوں میں کوڑا کرکٹ پھینکنے سے گریز کریں تاکہ بارش کے پانی کی نکاسی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
خبرنامہ نمبر 6436/2026
کوئٹہ، 24 جولائی:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی جمعہ کے روز شہید ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کے ہاں گئے جہاں انہوں نے ان کے اہل خانہ سے تعزیت و فاتحہ خوانی کی اور شہید کے بچوں سمیت دیگر لواحقین سے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ نے شہید کے درجات کی بلندی، مغفرت اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے شہید کے اہل خانہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان شہداء کے لواحقین کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہید عبدالحکیم کاکڑ نے قانون کی بالادستی اور انصاف کے نظام کی خدمت کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تاریخ میں انہیں ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اعلان کیا کہ شہید عبدالحکیم کاکڑ کے بچوں کی کفالت اور تعلیم کے تمام اخراجات حکومت بلوچستان برداشت کرے گی تاکہ ان کی تعلیم اور بہتر مستقبل متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے اہل خانہ کی دیکھ بھال حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت اس ذمہ داری کی ادائیگی میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے ذریعے بلوچستان کے امن، ترقی اور ریاستی اداروں کو نقصان پہنچانے کی ہر سازش ناکام بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے اور حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام ریاستی اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور امن دشمن عناصر کو قانون کے مطابق اپنے انجام تک پہنچایا جائے گا وزیراعلیٰ بلوچستان نے مقامی اسپتال کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے دہشت گردوں کے حملے میں زخمی ہونے والے ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری کی عیادت کی، ان کی خیریت دریافت کی اور زیر علاج طبی سہولیات کے بارے میں آگاہی حاصل کی وزیراعلیٰ زخمی ایڈیشنل سیشن جج کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
خبرنامہ نمبر 6437/2026
کوئٹہ، 24 جولائی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع سے ملاقات کی، جس میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال، مجموعی سیاسی و سماجی حالات اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام سیاسی، سماجی اور مذہبی قیادت کا مثبت کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور امن دشمن عناصر کے خلاف پوری قوم کو متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا تاکہ بلوچستان میں دیرپا امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور امن و امان کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں ترقی، خوشحالی اور قانون کی حکمرانی کے لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر آگے بڑھا جائے گا اس موقع پر جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع نے امن و استحکام کے قیام کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل باہمی مشاورت، سیاسی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی میں مضمر ہے۔
خبرنامہ نمبر 6438/2026
کوئٹہ، 24 جولائی:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی جمعہ کے روز چیف منسٹر سیکرٹریٹ کے ڈائریکٹر کوآرڈینیشن ناصر خلجی کے گھر گئے، جہاں انہوں نے ان کی والدہ کے انتقال پر دلی تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا، مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور ان کے درجات کی بلندی کی دعا کی وزیراعلیٰ نے ناصر خلجی اور دیگر سوگواران سے ملاقات میں مرحومہ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا کرے اس موقع پر صوبائی وزراء اور اراکین صوبائی اسمبلی بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ موجود تھے۔ انہوں نے بھی ناصر خلجی اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی، مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دکھ اور غم کی اس گھڑی میں وہ ذاتی طور پر سوگوار خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں اور مرحومہ کے لیے دعا گو ہیں۔
خبرنامہ نمبر 6439/2026
کوہلو 24 جولائی۔ وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی وژن کے تحت ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دومڑ ،نومنتخب چیئرمین علی شیر زرکون کی ہدایت پر چیف آفیسر میونسپل کمیٹی کوہلو محب اللہ خان بلوچ اور ایکسیئن میر شکور احمد مری کی نگرانی میں حالیہ مون سون بارشوں کے بعد شہر میں خصوصی صفائی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔مہم کے تحت میونسپل کمیٹی کا سینیٹری عملہ شہر کے مختلف علاقوں میں نکاسی آب ، نالوں ، گلیوں کی صفائی اور کچرے کی بروقت منتقلی میں مصروف عمل ہے تاکہ شہریوں کو صاف، صحت مند اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔چیف آفیسر محب اللہ خان بلوچ نے صفائی عملے کو ہدایت کی کہ بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور شہر کے تمام علاقوں میں صفائی کا عمل بلا تعطل جاری رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو بنیادی بلدیاتی سہولیات کی فراہمی میونسپل کمیٹی کی اولین ترجیح ہے اور صفائی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں چیف آفیسر میونسپل کمیٹی کوہلومحب اللّٰہ نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ صفائی مہم میں انتظامیہ سے تعاون کریں، کوڑا کرکٹ مقررہ مقامات پر تلف کریں اور نالیوں میں کوڑا کرکٹ پھینکنے سے گریز کریں تاکہ بارش کے پانی کی نکاسی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ ۔
خبرنامہ نمبر 6440/2026
نصیرآباد24جولائی:سپرنٹنڈنگ انجینیئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد ڈویژن مدثر ظفر کھوسہ نے بلوچستان حکومت سے این او سی حاصل کیے بغیر بلوچستان کی سرحدی حدود میں تعمیر کیے جانے والے متنازع سم نالے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے موقع پر پہنچ کر مشینری کے ذریعے جاری کام بند کروا دیا۔سندھ حکومت اس متازعہ سم نالے کے ذریعے اپنی زمینوں کا اضافی پانی حیردین ڈرینج سسٹم میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے حیردین ڈرینج میں بلوچستان کا پانی خارج کرنے کی بھی بمشکل سکت رکھتی ہے اگر سندھ کا بھی پانی شامل کیا گیا تو پری مون سون بارشوں اور ڈرینج سسٹم کے پانی سے بلوچستان کے تین اضلاع صحبت پور جعفرآباد اور استامحمد میں خطرات ںڑھ جائیں گے جسے کسی صورت حیردین ڈرینج میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گااس حوالے سے صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق عمرانی اور صوبائی سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمن بلوچ کی جانب سے سخت ہدایات دی گئی ہیں 2010 کے سپر فلڈ سے جیکب آباد کو بچانے اسی راستے سے پانی کے رخ کو موڑ دیا گیا اور مختلف مقامات پر کٹس لگنے سے بلوچستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاانہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت کی جانب سے اس زیر تعمیر سم نالے کے ذریعے پانی کا رخ بلوچستان کی جانب موڑنے کا منصوبہ مقامی آبادی، زرعی اراضی اور متعلقہ علاقوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے حکومت بلوچستان کی مشاورت اور باقاعدہ این او سی کے بغیر کسی صورت اس منصوبے کو مکمل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ مدثر ظفر کھوسہ نے متعلقہ حکام کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس سم نالے کی تعمیر سے بارشوں اور سیلابی ریلوں کا رخ بلوچستان کی آبادی کی طرف ہونے کا خدشہ ہے، جس سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی نوروا کے راستے سندھ سے آنے والے سیلابی ریلوں نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تباہی مچائی اور عوام کو ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑا، لہٰذا عوام کے جان و مال کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 6441/2026
نصیرآباد:ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت مون سون سیزن کے پیشگی انتظامات کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام ضلعی محکموں کے سربراہان نے شرکت کی، جہاں ممکنہ بارشوں اور سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے ہدایت جاری کی کہ تمام متعلقہ محکمے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں۔ انہوں نے محکمہ ایریگیشن اور ایم ایم ڈی کو خصوصی طور پر ہدایت دی کہ اپنی بھاری مشینری اور ضروری آلات کو فوری طور پر حساس اور نشیبی علاقوں کے قریب منتقل کیا جائے، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ مون سون کے دوران عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، اس لیے تمام ادارے باہمی رابطے کو مؤثر بنائیں اور فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھا جائے اور ممکنہ رکاوٹوں کو پیشگی دور کیا جائے، تاکہ شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے سے بچا جا سکے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کنٹرول رومز کو فعال رکھا جائے گا اور عوام کو بروقت معلومات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر 6442/2026
کوئٹہ 24جولائی۔ صوبائی حکومت کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر کچلاک نے میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ (MCQ) کے عملے کے ہمراہ ایئرپورٹ روڈ، سب ڈویژن کچلاک میں عوامی شکایات پر انسدادِ تجاوزات کی مشترکہ کارروائی کی۔کارروائی کے دوران ایسے افراد کے خلاف ایکشن لیا گیا جنہوں نے گلیوں میں غیر قانونی طور پر دیواریں تعمیر کرکے سرکاری راستوں پر قبضہ کر رکھا تھا۔ ضلعی انتظامیہ نے تمام غیر قانونی دیواریں مسمار کرکے بند گلیاں کھول دیں اور عوامی گزرگاہوں کو بحال کر دیا۔اس دوران خلاف ورزی کرنے والے افراد کو گرفتار کرلیے۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ سرکاری اراضی، گلیوں اور عوامی راستوں پر کسی بھی قسم کا غیر قانونی قبضہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، جبکہ عوامی سہولت اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے ایسے آپریشن آئندہ بھی بلاامتیاز جاری رہیں گے۔
خبرنامہ نمبر 6443/2026
نصیرآباد24 جولائی :۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ پولیو ایریڈیکیشن کمیٹی (ڈیپیک) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی اجلاس میں آئندہ انسدادِ پولیو مہم کے انتظامات، حکمتِ عملی اور اہداف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ضلع نصیرآباد کے منتخب علاقوں شرقی ون، شرقی ٹو، غربی ون اور غربی ٹو میں انسدادِ پولیو مہم 3 اگست سے 6 اگست 2026ء تک جاری رہے گی اس دوران پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، میڈیکل سپرنٹنڈنٹس، بی ایچ یوز، سی ڈی پروگرام سے وابستہ ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو الرٹ رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ایک قومی فریضہ ہے، جس کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں انہوں نے متعلقہ افسران اور فیلڈ ٹیموں کو تاکید کی کہ وہ اپنے فرائض نہایت ذمہ داری، ایمانداری اور خلوصِ نیت سے انجام دیں تاکہ کوئی بھی بچہ حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ٹیموں کی مؤثر مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے، مائیکرو پلاننگ کو بہتر بنایا جائے اور ہر یونین کونسل کی سطح پر سو فیصد کوریج حاصل کی جائےڈپٹی کمشنر نے والدین میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے بھرپور مہم چلانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کمیونٹی کی شمولیت کے بغیر پولیو کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں اجلاس میں سیکیورٹی انتظامات، کولڈ چین مینجمنٹ، ٹیموں کی تربیت اور دور دراز علاقوں تک رسائی کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ متعلقہ محکموں کو واضح اور ضروری ہدایات جاری کی گئیں تاکہ مہم کو ہر لحاظ سے کامیاب بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر 6444/2026
گوادر: ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی خصوصی ہدایات پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور نے بی ایس ڈی آئی (BSDI) فیز-II کے تحت پاکستان پوائنٹ، کوہِ باطل میں زیر تعمیر وزیٹرز پارک کا تفصیلی دورہ کیا اور منصوبے پر جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نے منصوبے پر کام کی رفتار کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے متعلقہ ٹھیکیدار کو ہدایت کی کہ تمام ضروری مشینری اور افرادی قوت کو فوری طور پر متحرک کیا جائے تاکہ منصوبہ مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں کسی قسم کی غیر ضروری تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی ۔انہوں نے ایس ڈی او بلڈنگز کو بھی ہدایت کی کہ تعمیراتی کام کے معیار پر کڑی نظر رکھی جائے، باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور منصوبے کی بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد معیاری تفریحی سہولت میسر آ سکے۔
اس موقع پر کہا گیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ترقیاتی وژن اور ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی مؤثر قیادت میں ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی شفاف، معیاری اور بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ضلعی انتظامیہ عوامی مفاد کے منصوبوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے تاکہ گوادر کو ایک جدید، خوبصورت اور ترقی یافتہ ساحلی شہر بنانے کے حکومتی عزم کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر 6445/2026
کوئٹہ 24 جولائی 2026
چیف جسٹس عدالتِ عالیہ بلوچستان، جسٹس محمد کامران خان ملاخیل، اور عدالتِ عالیہ بلوچستان کے دیگر معزز ججز نے شہید سیشن جج، عبدالحکیم کاکڑ، کی المناک شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔معزز ججز نے کہا کہ شہید سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ ایک دیانت دار، باصلاحیت، فرض شناس اور نڈر جج تھے جنہوں نے ہمیشہ آئین و قانون کی بالادستی، عدل و انصاف کی فراہمی اور عوام کی خدمت کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا نصب العین بنائے رکھا۔ ان کی شہادت نہ صرف بلوچستان جوڈیشری بلکہ پورے ملک کے نظامِ انصاف کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہید کی عدالتی، پیشہ ورانہ اور قومی خدمات کو ہمیشہ قدر و احترام کی نگاہ سے یاد رکھا جائے گا اور انصاف کی بالادستی کے لیے ان کی قربانی کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔چیف جسٹس اور معزز ججز نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ شہید عبدالحکیم کاکڑ کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کی مغفرت فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ عظیم صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔







