
خبرنامہ نمبر6283/2026
اسلام آباد، 20 جولائی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر محترمہ جین میریٹ نے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، بلوچستان میں ترقیاتی تعاون اور دوطرفہ روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات کے دوران تعلیم، صحت، گورننس، ادارہ جاتی استعداد کار اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے برطانوی ہائی کمشنر کو صوبے میں جاری انتظامی اصلاحات، عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں اور حکومت کی ترقیاتی ترجیحات سے بھی آگاہ کیا وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں امن کا قیام، پائیدار ترقی، موثر طرزِ حکمرانی اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت شفافیت، بہتر گورننس اور ترقیاتی عمل کو مزید موثر بنانے کے لیے جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان معدنی وسائل، جغرافیائی اہمیت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے مالا مال صوبہ ہے، جہاں بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے ترقی اور خوشحالی کے نئے امکانات پیدا کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اس امید کا اظہار کیا کہ برطانیہ اور بلوچستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون مزید مضبوط ہوگا، جس سے عوامی فلاح اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی برطانوی ہائی کمشنر محترمہ جین میریٹ نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی اقدامات، اصلاحاتی پروگراموں اور عوامی خدمت کے لیے حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/6305
کوئٹہ20 جولائی:ـوزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گرینڈ الائنس کے قائدین کی درخواست پر فراخدلانہ اور مثبت فیصلہ کرتے ہوئے گزشتہ احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے تمام سرکاری ملازمین کی رہائی کا حکم دے دیا ہے ، وزیراعلیٰ کے احکامات پر ضلعی انتظامیہ کوئٹہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے تقریباً 50 سرکاری ملازمین کو رہا کر دیا حکومت بلوچستان نے اس موقع پر اس امید کا اظہار کیا ہے کہ سرکاری ملازمین مستقبل میں سرکاری ملازمت کے نظم و ضبط، قواعد و ضوابط اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کو یقینی بناتے ہوئے عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں گے حکومت کو یقین ہے کہ آئندہ ایسے کسی طرزِ عمل سے گریز کیا جائے گا جو سرکاری ملازم کے وقار، ذمہ داری اور ضابطۂ اخلاق سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔








