خبرنامہ نمبر6103/2026
کوئٹہ، 13 جولائی ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دشمن کی منظم سازش ہے کہ دہشت گردی کے ذریعے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جائے اور پھر اس کا الزام ریاست پر عائد کرکے بلوچستان میں بداعتمادی اور انتشار کو فروغ دیا جائے، تاہم حکومت اور عوام کی مشترکہ قوت ایسی تمام سازشوں کو ناکام بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بلوچستان کا راستہ امن، استحکام اور ترقی کا راستہ ہے اور ہم کسی بھی دباو¿ یا دہشت گردی کے ذریعے اس راستے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے وہ پیر کو کوئٹہ میں بلوچستان کے عظیم سیا سی رہنما اور شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی کی آٹھویں برسی کے موقع پر منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ تعزیتی ریفرنس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، رکن قومی اسمبلی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی، صوبائی وزراءبخت محمد کاکڑ، میر ضیاءاللہ لانگو، میر عاصم کرد گیلو، میر سلیم خان کھوسہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماو¿ں، رئیسانی قبائل کے عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے آغاز میں شہید میر سراج خان رئیسانی کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی اور لنگر کا اہتمام بھی کیا گیا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر ان کی جان سے بلوچستان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے تو وہ اپنی جان دینے کے لیے بھی تیار ہیں، کیونکہ ان کے لیے عہدہ نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کی خدمت سب سے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرسی آنی جانی چیز ہے، اصل مقصد عوام کی خدمت اور صوبے میں امن و ترقی کا قیام ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے حکومت ہر ممکن اقدام کرنے کو تیار ہے اور ریاست عوام کے جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور تشدد کے ذریعے بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا، دہشت گرد صرف ترقی، خوشحالی اور عوام کے روشن مستقبل میں رکاوٹ بن سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیحات تعلیم، صحت، روزگار اور بلوچستان کی پائیدار ترقی ہیں، جبکہ شرپسند عناصر نوجوانوں کو گمراہ کرکے انہیں ایک لاحاصل جنگ میں دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے بھارتی سرپرستوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کتنے ہی سراج رئیسانی شہید کر دیے جائیں، اس دھرتی کے ہر گھر سے ایک اور سراج رئیسانی اٹھے گا اور وطن کے دفاع اور سلامتی کے لیے کھڑا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی کا مشن جاری رہے گا اور ان کی قربانی قوم کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں پر سیاست باعث افسوس ہے۔ حکومت شہداءکے وارثوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ببری، ہنہ اڑک، زیارت سمیت دہشت گردی کے تمام متاثرین کے پاس جا کر اظہارِ یکجہتی کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کے جائز مطالبات پورے کیے جائیں گے اور صوبائی حکومت اپنی تمام آئینی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ماشکیل میں بے گناہ مزدوروں کو شہید کیا گیا لیکن ان کے ورثاءنے کہیں دھرنا نہیں دیا۔ اسی طرح چند روز قبل میر شفیق الرحمان مینگل کے گھر پر حملہ ہوا، انہوں نے اپنے شہداء کو سپردِ خاک کیا اور لاشوں پر سیاست نہیں کی۔ اگر لاشوں پر سیاست مقصود ہوتی تو وہ تدفین کے بجائے احتجاج کرتے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کھڈکوچہ سانحہ، سانحہ 8 اگست اور پولیس لائن حملے جیسے المناک واقعات کے بعد بھی استعفوں سے مسائل حل نہیں ہوئے بلکہ عملی اقدامات سے حالات بہتر بنائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی گورننس، کارکردگی اور انتظامی امور پر ضرور تنقید کی جائے، مگر شہداء کی قربانیوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ حکومت کی کوتاہیوں پر بات کرے لیکن شہداء کے لہو پر سیاست سے گریز کرے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان آرمی، ایف سی، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے روزانہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ حکومت اور عوام اپنی بہادر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ پہلے بھی کھڑے تھے، آج بھی کھڑے ہیں اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن، استحکام اور عوام کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے کہا کہ گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی کو شہید کرکے وطن سے محبت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی، مگر ان کی شہادت کے بعد عوام کی محبت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔میر جمال خان رئیسانی نے کہا کہ جس طرح ان کے والد ہمیشہ ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے، وہ بھی اسی عزم کے ساتھ ریاست کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔تقریب کے اختتام پر شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی سمیت وطن عزیز کے تمام شہداءکے درجات کی بلندی، ملکی سلامتی، امن اور بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6104/2026
کوئٹہ 13جولائی ۔ اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی کی ہدایت پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات اور انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہرنے اسپیکر کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ بھی موجود تھے۔ملاقات میں بلوچستان اسمبلی کی سکیورٹی اور موجودہ امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں حفاظتی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی کو اسمبلی کی سکیورٹی سے متعلق کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ موجودہ حالات کے پیش نظر بلوچستان اسمبلی کی سکیورٹی کو مزید موثر بنانے، حفاظتی اقدامات کو مضبوط کرنے اور ہر وقت مکمل چوکسی برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اس موقع پر اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی نے اس امر پر زور دیا کہ بلوچستان اسمبلی ایک اہم آئینی ادارہ ہے، لہذا اس کی سکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اسمبلی کی حفاظت، نگرانی اور سکیورٹی انتظامات کو ہر ممکن حد تک موثر اور فول پروف بنانے کے لیے متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں بہترین طریقے سے سر انجام دیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6105/2026
کوئٹہ13جولائی۔:بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق بلوچستان میں سرمایہ کاری، تجارت، صنعت اور روزگار کے فروغ کے لیے بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ نے مختصر عرصے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن کے مثبت اثرات صوبے کی معیشت پر نمایاں طور پر مرتب ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ منعقد ہونے والی بلوچستان انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ ایکسپو (BITE 2026)صوبے کی سرمایہ کاری، تجارت، صنعت، سیاحت، معدنی وسائل اور کاروباری مواقع کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا ایک تاریخی پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔ اس ایونٹ کے ذریعے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار، کاروباری شخصیات، مالیاتی ادارے، جامعات اور ترقیاتی شراکت دار ایک چھت تلے جمع ہوں گے، جس سے نئی سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔بلال خان کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت، ساحلی پٹی، معدنی ذخائر، زرعی صلاحیت اور نوجوان افرادی قوت کے اعتبار سے سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع رکھتا ہے۔ حکومت بلوچستان اور بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت، شفاف پالیسی اور مکمل ادارہ جاتی معاونت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی صرف سرکاری کوششوں سے ممکن نہیں بلکہ نجی شعبے، سرمایہ کاروں، کاروباری برادری، جامعات اور ترقیاتی شراکت داروں کے باہمی تعاون سے ہی صوبے کو معاشی خودمختاری، صنعتی ترقی اور پائیدار خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta, July 13: Vice Chairman of the Balochistan Board of Investment and Trade (BBoIT), Mr. Bilal Khan Kakar, has said that under the vision of the Chief Minister of Balochistan, Mir Sarfraz Bugti, the Balochistan Board of Investment and Trade has achieved significant milestones in a short period to promote investment, trade, industry, and employment in the province. He stated that these achievements are already having a positive impact on the provincial economy.He said that the Balochistan Investment and Trade Expo (BITE 2026), being organized for the first time in the province’s history, will serve as a historic platform to showcase Balochistan’s investment potential, trade opportunities, industrial prospects, tourism, mineral resources, and business opportunities at the international level. The event will bring together domestic and international investors, business leaders, financial institutions, universities, and development partners under one roof, paving the way for new investments, joint ventures, and extensive employment opportunities.Mr. Bilal Khan Kakar said that Balochistan offers immense investment potential owing to its abundant natural resources, strategic geographic location, extensive coastline, vast mineral reserves, agricultural potential, and young workforce. He emphasized that the Government of Balochistan and the Balochistan Board of Investment and Trade are fully committed to providing investors with every possible facilitation, transparent policies, and comprehensive institutional support.He further stated that the sustainable development of Balochistan cannot be achieved through government efforts alone. Rather, close collaboration among the private sector, investors, the business community, universities, and development partners is essential to place the province on the path of economic self-reliance, industrial growth, and long-term prosperity.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6106/2026
کوئٹہ13 جولائی ۔سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے محکمہ مواصلات و تعمیرات کے نان ڈیولپمنٹ فنڈز سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس کے موقع پر کہا جس میں محکمہ کی مالی صورتحال اخراجات اور آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری مواصلات و تعمیرات عباس کھوسہ ڈپٹی سیکرٹری عبدالغفور کاکڑ ڈپٹی سیکرٹری رومانہ مراد کھوسہ سیکشن آفیسر جنرل عبدالغفار محمد شہی سمیت محکمہ کے دیگر متعلقہ افسران اور حکام نے شرکت کی اجلاس کے دوران متعلقہ حکام نے محکمہ کے نان ڈیولپمنٹ فنڈز کے موجودہ استعمال مختلف مدات میں اخراجات مالی نظم و نسق اور دستیاب وسائل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی شرکاء کو رواں مالی سال 2026-27 کے لیے مختص نان ڈیولپمنٹ فنڈز ان کے موثر استعمال متوقع ضروریات اور مالی منصوبہ بندی سے بھی آگاہ کیا گیا اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ دستیاب وسائل کو شفافیت کفایت شعاری اور ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کرتے ہوئے محکمہ کی انتظامی ضروریات کو بروقت پورا کیا جائے تاکہ ادارے کی کارکردگی مزید بہتر بنائی جا سکے اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ اپنی مالی استطاعت اور دستیاب وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے نان ڈیولپمنٹ فنڈز کا موثر محتاط اور دانشمندانہ استعمال یقینی بنائے انہوں نے کہا کہ غیر ترقیاتی فنڈز کے درست اور بروقت استعمال سے نہ صرف محکمانہ امور میں تسلسل برقرار رکھا جا سکتا ہے بلکہ سرکاری وسائل کے ضیاع کو بھی روکا جا سکتا ہے سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے مزید کہا کہ مالیاتی نظم و ضبط شفافیت اور احتساب کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے اور تمام افسران اپنے فرائض ذمہ داری اور دیانتداری کے ساتھ انجام دیں تاکہ محکمہ کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے اور عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے اجلاس کے اختتام پر محکمہ کے مالی معاملات کو مزید موثر بنانے اخراجات کی مسلسل نگرانی کرنے اور نان ڈیولپمنٹ فنڈز کے بروقت اور درست استعمال کے حوالے سے متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6107/2026
کوئٹہ، 13 جولائی ۔ حکومت بلوچستان نے صوبے میں پہلی بار ای-ڈومیسائل اور ای-لوکل سرٹیفکیٹ سسٹم متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹ کے اجرائکا پورا عمل جدید، شفاف اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے انجام دیا جائے گا معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر اس اہم اصلاحاتی منصوبے کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ داخلہ بلوچستان نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے تعاون سے انٹیگریٹڈ ڈومیسائل مینجمنٹ سسٹم (IDMS) کے نفاذ کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے شاہد رند نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد بلوچستان کے شہری پاکستان بھر میں کسی بھی نادرا سینٹر، ڈپٹی کمشنر آفس یا Pak-ID پلیٹ فارم کے ذریعے ای-ڈومیسائل اور ای-لوکل سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دے سکیں گے۔ اس اقدام سے عوام کو غیر ضروری مشکلات، تاخیر، مڈل مین کے کردار اور جعلی سرٹیفکیٹس کے اجراءجیسے مسائل سے نجات ملے گی انہوں نے کہا کہ یہ جدید نظام شہریوں کے ڈیٹا کی درستگی، تحفظ اور آسان رسائی کو یقینی بنائے گا، جبکہ سرکاری محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تصدیق کے قابل، محفوظ اور صوبہ بھر پر مشتمل مربوط ڈیٹا بیس بھی فراہم کرے گا، جس سے انتظامی امور اور سیکیورٹی نظام مزید موثر ہوگا شاہد رند نے کہا کہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں حکومت بلوچستان عوامی خدمات کو ڈیجیٹل، شفاف اور آسان بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، اور ای-ڈومیسائل و ای-لوکل سرٹیفکیٹ سسٹم اسی وژن کی ایک اہم کڑی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6108/2026
حب، 13 جولا ئی ۔ڈپٹی کمشنر حب کیپٹن (ر) جمعہ داد خان کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ماسٹر پلان کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کے دوران مختلف علاقوں میں بجلی کی بار بار بندش اور عوام کو درپیش مشکلات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈی پی ڈی ماسٹر پلان، ماسٹر پلان کے کنسلٹنٹس، منصوبے کے کنٹریکٹرز اور کے الیکٹرک کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران جاری ترقیاتی کاموں کے باعث زیرِ زمین بجلی کی کیبلز اور دیگر یوٹیلیٹی انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات اور ان کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی میں پیدا ہونے والے تعطل پر تفصیلی غور کیا گیا۔کے الیکٹرک حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حالیہ عرصے میں حب کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کی بنیادی وجہ ترقیاتی منصوبوں کے دوران موثر رابطہ کاری کے بغیر کی جانے والی کھدائیاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض مواقع پر متعلقہ اداروں کو پیشگی اطلاع دیے بغیر بھاری مشینری کے ذریعے کھدائی کی جاتی ہے جس سے زیرِ زمین بجلی کی کیبلز اور دیگر یوٹیلیٹی سروسز کو نقصان پہنچتا ہے اور متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو جاتی ہے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر حب کیپٹن (ر) جمعہ داد خان نے کہا کہ حکومت ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے ساتھ عوام کو بجلی، پانی، گیس اور دیگر بنیادی سہولیات کی بلا تعطل فراہمی کو بھی یکساں اہمیت دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں، کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز کے درمیان موثر رابطے کے فقدان کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کا تدارک ناگزیر ہے۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ آئندہ کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے تحت کھدائی کے آغاز سے قبل کے الیکٹرک اور دیگر متعلقہ یوٹیلیٹی اداروں سے لازمی رابطہ، سائٹ کلیئرنس اور باقاعدہ کوآرڈینیشن کو یقینی بنایا جائے تاکہ زیرِ زمین کیبلز، پائپ لائنز اور دیگر انفراسٹرکچر کو نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ڈی پی ڈی ماسٹر پلان، کنسلٹنٹس، کنٹریکٹرز، کے الیکٹرک اور دیگر متعلقہ محکمے وضع کردہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور مشترکہ مانیٹرنگ کے موثر نظام کے ذریعے عوامی شکایات کا بروقت ازالہ کیا جائے۔اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مستقل اور مربوط رابطہ کاری کا نظام قائم کیا جائے گا تاکہ ترقیاتی سرگرمیوں کے دوران بجلی سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی متاثر نہ ہو اور شہریوں کو غیر ضروری مشکلات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6109/2026
جعفرآباد13جولائی۔ڈپٹی کمشنر جعفر آباد خالد خان کی زیر صدارت متوقع مون سون بارشوں کے پیش نظر حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ضلعی افسران کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران اور نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے مشینری اور ضروری آلات کی دستیابی، ہنگامی ادویات کا ذخیرہ، شہری علاقوں سے بارش کے پانی کی فوری نکاسی کے جامع منصوبے، فلڈ کنٹرول روم کے قیام، ممکنہ متاثرین کے لیے امدادی کیمپوں کی جگہوں کے تعین، آبپاشی اور نکاسی آب کے نظام کے حساس مقامات کی نشاندہی، درکار فنڈز و مشینری، سیلابی گزرگاہوں اور سیوریج نظام پر حائل رکاوٹوں کے خاتمے اور نالوں و سیوریج لائنوں کی صفائی سمیت مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خالد خان نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مون سون بارشوں کے دوران عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ محکمے پیشگی انتظامات مکمل کریں، اپنی مشینری، عملہ اور وسائل ہر وقت تیار رکھیں، باہمی رابطے کو موثر بنائیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور بروقت کارروائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6110/2026
گوادر 13جولائی ۔گوادر پورٹ نے پاکستان کی سمندری تجارت میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے پہلا کامیاب کمرشل بنکرنگ (جہازوں کو ایندھن کی فراہمی) آپریشن مکمل کر لیا گوادر پورٹ اتھارٹی کے احکام کے مطابق یہ آپریشن گوادر پورٹ اتھارٹی (GPA)، نیشنل لاجسٹکس سیل (NLC)، گوادر انٹرنیشنل ٹرمینلز لمیٹڈ (GITL) اور عالمی توانائی کمپنی وٹول ایشیا (Vitol Asia) کے باہمی تعاون سے 9 سے 11 جولائی کے دوران کامیابی سے انجام دیا گیا۔ اس آپریشن کے دوران دنیا کی معروف کمپنیوں قطر انرجی، ایڈنوک اور وٹول کی مشترکہ ملکیت والے ایل این جی کیریئر “LNG ENUGU” کو گوادر پورٹ پر 2,500 میٹرک ٹن VLSFO ایندھن فراہم کیا گیا۔ 285.4 میٹر طویل اس بحری جہاز کو ایندھن کی فراہمی “Marine Ista” نامی بنکر بارج کے ذریعے کی گئی، جبکہ کسٹمز، بندرگاہی حکام اور مقامی شپنگ ایجنٹ پاک ٹریڈرز گوادر نے آپریشن کو محفوظ اور موثر انداز میں مکمل کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کامیاب پیش رفت کے بعد گوادر پورٹ اب صرف کارگو ہینڈلنگ تک محدود نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی بحری جہازوں کو ایندھن اور دیگر بحری سہولیات فراہم کرنے والے ایک فعال میری ٹائم حب کے طور پر بھی سامنے آ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے پاکستان کے لیے زرمبادلہ اور آمدنی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ عالمی سطح پر گوادر پورٹ کی آپریشنل صلاحیت، جدید انفراسٹرکچر اور سیکیورٹی پر بین الاقوامی اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔ یہ کامیابی سی پیک کے اس وڑن سے بھی ہم آہنگ ہے جس کے تحت گوادر کو خطے کا اہم تجارتی اور توانائی مرکز بنایا جا رہا ہے۔ بندرگاہی حکام کا کہنا ہے کہ یہ گوادر میں باقاعدہ کمرشل بنکرنگ سروسز کا آغاز ہے اور مستقبل میں مزید بین الاقوامی جہاز گوادر پورٹ سے ایندھن حاصل کریں گے، جس سے پاکستان کی بلیو اکانومی، لاجسٹکس، میرین سروسز اور مقامی روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6111/2026
حب، 13 جولائی۔ ڈپٹی کمشنر حب جمعہ داد خان کی زیرِ صدارت بلوچستان سوشل ڈویلپمنٹ اینڈ انفراسٹرکچر (BSDI) پروگرام کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کے فیز ون اور فیز ٹو کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران متعلقہ افسران نے ضلع حب میں BSDI پروگرام کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فیز ون اور فیز ٹو کے تقریباً 90 فیصد منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں، جن میں واٹر سپلائی اسکیمیں، نکاسی آب کے نظام کی بہتری، سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر و مرمت، تعلیمی اداروں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی، اسکولوں کی مرمت اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے شامل ہیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر حب جمعہ داد خان نے ہدایت کی کہ BSDI پروگرام کے تحت جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد ان کے ثمرات حاصل ہو سکیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کاموں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور منصوبوں میں اعلیٰ معیار کے تعمیراتی میٹریل کے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ڈپٹی کمشنر حب نے واضح کیا کہ ناقص میٹریل کے استعمال، غیر معیاری تعمیرات یا غفلت کا مظاہرہ کرنے والے ٹھیکیداروں اور متعلقہ اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کا مقصد عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، معیارِ زندگی میں بہتری اور ضلع حب میں ترقی کے عمل کو تیز کرنا ہے، لہٰذا تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں دیانتداری اور پیشہ ورانہ انداز میں سرانجام دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ BSDI کے تحت جاری منصوبے ضلع حب کی سماجی و معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے، جبکہ صاف پانی، بہتر سڑکوں، تعلیمی سہولیات اور بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی کے ذریعے عوامی مسائل کے حل میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔ اجلاس میں منصوبوں کی شفاف نگرانی، فنڈز کے موثر استعمال اور عوامی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھنے پر بھی زور دیا گیا۔اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ معیار اور ٹائم لائن کے مطابق مکمل کیے جائیں گے تاکہ عوام ان سہولیات سے بھرپور استفادہ حاصل کر سکیں اور ضلع حب میں پائیدار ترقی کے اہداف کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6112/2026
سوراب 13جولائی ۔ضلعی انتظامیہ سوراب کے جاری کردہ اعلامیے کی مطابق حکومت بلوچستان کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت 15 جولائی 2026، بروز بدھ، صبح 11:30 بجے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کلی میروانی میں کھلی کچہری منعقد ہوگی۔ عوام اپنے مسائل اور شکایات براہ راست ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کر سکیں گے۔ تمام معززین علاقہ، سماجی و سیاسی شخصیات، صحافی برادری اور عوام الناس سے شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6113/2026
سیوی 13 جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی زیرِ صدارت لوکل و ڈومیسائل کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسسٹنٹ کمشنر سیوی منصور علی شاہ، متعلقہ محکموں کے افسران، تمام یونین کونسلوں کے نمائندگان اور کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔اجلاس میں لوکل اور ڈومیسائل سرٹیفیکیٹس کی کمپیوٹرائزیشن سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی درخواستوں پر پر غور کیا گیا، جن میں والد کے لوکل سے علیحدہ لوکل یا ڈومیسائل کے حصول، نئے لوکل و ڈومیسائل سرٹیفیکیٹس کے اجرا اور دیگر متعلقہ معاملات شامل تھے۔ کمیٹی نے تمام درخواستوں اور دستیاب سرکاری ریکارڈ کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد وہ کیسز منظور کیے جن کے کوائف اور دستاویزات قواعد و ضوابط کے مطابق درست پائے گئے، جبکہ نامکمل معلومات یا مطلوبہ سرکاری ریکارڈ کی عدم دستیابی کی بنیاد پر بعض درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے ہدایت جاری کی کہ لوکل و ڈومیسائل سرٹیفیکیٹس کے اجرا کے عمل میں شفافیت، میرٹ اور قانونی تقاضوں کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام درخواستوں کا فیصلہ صرف مستند سرکاری ریکارڈ اور مقررہ قواعد کے مطابق کیا جائے تاکہ عوام کو بروقت اور منصفانہ سہولت فراہم کی جا سکے اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کی گنجائش باقی نہ رہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6114/2026
گوادر 13 جولائی ۔صوبائی حکومت کی ہدایات اور محکمہ صحت کی مربوط کاوشوں کے نتیجے میں پی پی ایچ آئی بلوچستان نے ضلع گوادر کے مختلف بنیادی مراکزِ صحت، بی ایچ یوز میں خالی آسامیوں پر بھرتیوں کے لیے باقاعدہ اشتہار جاری کر دیا ہے۔ ان تقرریوں سے بی ایچ یوز کی فعالیت میں اضافہ ہوگا اور دور دراز علاقوں میں عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی مزید موثر بنائی جا سکے گی۔بھرتیاں بی ایچ یو سائجی، فقیر آباد، چکلی، شتنگی، کنڈاسول اور سردشت سمیت دیگر مختلف علاقوں میں کی جائیں گی، جس سے صحت کے بنیادی مراکز کو فعال بنانے اور طبی عملے کی کمی دور کرنے میں مدد ملے گی۔صوبائی حکومت صحت کے شعبے کی بہتری کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے اور عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ عوامی حلقوں نے بھرتیوں کے عمل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس اقدام سے ضلع گوادر میں صحت کی خدمات کا معیار مزید بہتر ہوگا اور شہریوں کو بروقت اور موثر طبی سہولیات میسر آئیں گی۔۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6115/2026
نصیرآباد13جولائی ۔کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کے احکامات کی روشنی میں محکمہ ریونیو میں نائب تحصیلداروں کی خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لیے انٹرویوز کا انعقاد کیا گیا دو آسامیوں کے لیے تین امیدواروں نے انٹرویو میں شرکت کی جہاں امیدواروں کی اہلیت تجربہ اور قابلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا تفصیلی جائزہ لیا گیاانٹرویو کمیٹی میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل، کمشنر آفس کے سپرنٹنڈنٹس عبدالصمد کھوسہ اور شیر اللہ کھوسہ شامل تھے کمیٹی کے ارکان نے امیدواروں کے تعلیمی اسناد، پیشہ ورانہ تجربے اور دیگر متعلقہ دستاویزات کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی تاکہ بہترین اور اہل امیدواروں کا انتخاب یقینی بنایا جا سکےاس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق محکمہ ریونیو کی خالی آسامیوں کو جلد از جلد پر کرنے کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو درپیش ریونیو سے متعلق مسائل کے حل میں تیزی لائی جا سکے اور سروس ڈیلیوری کو مزید بہتر بنایا جا سکےانہوں نے مزید کہا کہ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی جانب سے میرٹ شفافیت اور انصاف کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایات دی گئی ہیں، جن پر ہر صورت عمل کیا جائے گا اس عمل میں کسی قسم کی سفارش یا دباو کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا اور صرف اہل، قابل اور میرٹ پر پورا اترنے والے امیدواروں کو ہی تعیناتی کا موقع فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ان تقرریوں کا بنیادی مقصد محکمہ ریونیو کی کارکردگی کو موثر بنانا، انتظامی امور میں بہتری لانا اور عوام کو بروقت اور معیاری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ شفاف اور منصفانہ بھرتی کے عمل کے ذریعے ادارے کی مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6116/2026
اسلام آباد13جولائی۔ یوکے ایچ ایس اے انٹرنیشنل اور حکومتِ بلوچستان کے اشتراک سے اسلام آباد میں ملٹی سیکٹرل کوآرڈینیشن کے موضوع پر دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ کا مقصد مختلف سرکاری و نجی اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینا، مربوط حکمتِ عملی وضع کرنا اور عوامی صحت سے متعلق چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ورکشاپ میں محکمہ صحت بلوچستان، پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان، محکمہ اطلاعات، محکمہ لائیو اسٹاک، لوکل گورنمنٹ، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ (پی اینڈ ڈی) سمیت مختلف نجی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔شرکاءکو ملٹی سیکٹرل کوآرڈینیشن، بین الادارہ جاتی روابط، معلومات کے تبادلے، ہنگامی صورتحال میں مربوط ردِعمل، بیماریوں کی نگرانی (Disease Surveillance) اور موثر منصوبہ بندی کے مختلف پہلووں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ماہرین نے اس امر پر زور دیا کہ عوامی صحت کے خطرات سے موثر انداز میں نمٹنے اور بروقت ردِعمل کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی تعاون اور مربوط لائحہ عمل ناگزیر ہے۔ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی صحت کے تحفظ، بیماریوں کی بروقت نشاندہی اور موثر رسپانس کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور حاصل ہونے والے تجربات کو صوبائی سطح پر عملی اقدامات میں بروئے کار لایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6117/2026
استامحمد13جولائی۔ ڈپٹی کمشنر استامحمد، محمد رمضان پلال نے شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرتے ہوئے رات بھر خود نگرانی کی اس سلسلے میں واٹر سپلائی اسکیم فیز 2 میں پانی کی کمی کے مسئلے کے حل کے لیے ضلعی انتظامیہ مسلسل متحرک ہے ذرائع کے مطابق ڈمب شاخ پر بعض بااثر زمینداروں کی جانب سے عوامی مفاد میں تعاون نہ کرنے کے باعث پانی کی فراہمی میں شدید مشکلات پیش آئیں ضلعی انتظامیہ نے ان زمینداروں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کے زرعی واٹر کورسز کو عارضی طور پر بند کر کے واٹر سپلائی اسکیم کے تالابوں کو بھرنے کے بعد فوری طور پر بحال کر دیا جائے گا، تاہم اس کے باوجود انہوں نے تعاون سے گریز کیا، جس کے نتیجے میں شہریوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑااس نازک صورتحال میں صوبائی وزیر برائے لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ سردارزادہ فیصل خان نے عوامی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے مثالی کردار ادا کیا انہوں نے اپنی فصل کی بوائی عارضی طور پر روک کر اپنے وانڈھ واٹر کورس کے ذریعے واٹر سپلائی اسکیم فیز 2 کو پانی فراہم کرنے میں بھرپور تعاون کیا جس کے باعث شہریوں کو پینے کے پانی کی مسلسل فراہمی ممکن ہو سکی ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے خانپور ڈسٹری میں واقع وانڈھ واٹر کورس کا دورہ کیا اور جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مفاد میں رکاوٹ ڈالنے یا سرکاری اقدامات میں عدم تعاون کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ عوامی خدمت کے جذبے سے تعاون کرنے والوں کی خدمات کو سراہا جائے گا انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، اور یہ اقدامات آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6118/2026
حب، 13 جولائی: ۔ ڈپٹی کمشنر حب، جمعہ داد خان کی زیر صدارت ضلع میں بجلی سے متعلق عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے کے-الیکٹرک کے حکام کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ضلع بھر میں لوڈشیڈنگ، کم وولٹیج، کیبل فالٹس، بجلی کی غیر اعلانیہ بندش، ٹرپنگ، خراب ٹرانسفارمرز اور صارفین کو درپیش دیگر مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی کو مزید موثر، مستحکم اور بلا تعطل بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر حب، جمعہ داد خان نے کے-الیکٹرک حکام کو ہدایت کی کہ کیبل فالٹس کی بروقت مرمت، کم وولٹیج کے مسئلے کے مستقل حل، غیر ضروری اور طویل لوڈشیڈنگ میں کمی، خراب ٹرانسفارمرز کی فوری تبدیلی اور بجلی کی ترسیلی نظام کی بہتری کے لیے موثر اقدامات یقینی بنائے جائیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی فراہمی سے متعلق عوامی شکایات کا بروقت ازالہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ اور باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ اجلاسمیں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ بجلی کے مسائل کے مستقل حل اور عوامی شکایات کے بروقت ازالے کے لیے باقاعدگی سے جائزہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6119/2026
گوادر13 جولائی۔ چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی، نورالحق بلوچ نے ملازم دوست پالیسی کے تحت فورتھ کلاس سوئیپر ملازمین کے لیے تعمیر کیے گئے جدید رہائشی فلیٹس کی چابیاں مستحق ملازمین کے حوالے کر دیں۔ یہ فلاحی منصوبہ خصوصی طور پر گوادر پورٹ اتھارٹی کے اقلیتی مسیحی اور ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو باوقار، محفوظ اور معیاری رہائش کی فراہمی کے لیے مکمل کیا گیا ہے تقریب کے موقع پر چیئرمین نورالحق بلوچ نے نئے تعمیر شدہ فلیٹس کا معائنہ کیا اور منصوبے کے معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گوادر پورٹ اتھارٹی میں ہر ملازم، بلاامتیاز مذہب، برادری یا عہدہ، ادارے کی ترقی کا اہم شراکت دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کی عزت، فلاح و بہبود اور بہتر رہائشی سہولیات کی فراہمی ادارے کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے، جو حکومتِ پاکستان کے مساوی مواقع، سماجی شمولیت اور ملازم دوست پالیسی کے عزم کی عملی ترجمانی ہے چیئرمین نے کہا کہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے ملازمین نے ادارے کی ترقی میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے، اور یہ منصوبہ ان کی خدمات کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ایک باوقار اور بہتر طرزِ زندگی کی فراہمی کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مستقبل میں بھی ملازمین کی فلاح و بہبود اور ادارہ جاتی ترقی کے لیے ایسے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔اس موقع پر ملازمین نے چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس اقدام کو اپنی فلاح و بہبود، مساوی مواقع کے فروغ اور ایک خوشحال، باوقار اور جامع دفتری ماحول کے قیام کی جانب قابلِ تحسین سنگِ میل قرار دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6120/2026
لورالائی 13جولائی ۔ڈی آئی جی لورالائی رینج جنید احمد شیخ کا مختلف پولیس تھانوں کا تفصیلی دورہ، امن و امان اور پولیس کارکردگی کا جائزہ زیارت: ڈی آئی جی لورالائی رینج جنید احمد شیخ نے ضلع زیارت کا تفصیلی دورہ کرتے ہوئے مختلف پولیس تھانوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے تھانوں میں دستیاب سہولیات، سیکیورٹی انتظامات، ریکارڈ، نفری کی حاضری اور مجموعی انتظامی امور کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈی آئی جی نے پولیس افسران اور اہلکاروں سے ملاقات کی، ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں مزید محنت، دیانت داری اور عوام دوست رویہ اپنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے اہلکاروں کے پیشہ ورانہ، انتظامی اور فلاحی مسائل تفصیل سے سنے اور متعلقہ افسران کو ان کے حل کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔جنید احمد شیخ نے کہا کہ پولیس فورس کی فلاح و بہبود، بہترین تربیت، پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ اور عوام کو بروقت و موثر پولیسنگ کی فراہمی محکمہ پولیس کی اولین ترجیحات ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اہلکاروں کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ڈی آئی جی نے ضلع زیارت میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، جرائم کی روک تھام، گشت کے نظام، حساس مقامات کی سیکیورٹی اور پولیس کی آپریشنل تیاریوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں مزید موثر بنائی جائیں، عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور پولیس فورس نظم و ضبط، قانون کی بالادستی اور عوامی اعتماد کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6121/2026
گوادر13جولائی ۔ : عوامی فلاح و بہبود اور صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کے عزم کو عملی شکل دیتے ہوئے چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل گوادر شئے مختار نے میر عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ اسپتال گوادر کے ڈائلیسز یونٹ کی فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک لاکھ روپے کا چیک ڈسٹرکٹ چیف آفیسر افضل حیات کی موجودگی میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر حفیظ کے حوالے کیا۔یاد رہے کہ چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل گوادر نے اپنے حالیہ دور میر عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ اسپتال کے دوران ڈائلیسز یونٹ کا تفصیلی معائنہ کیا تھا۔ اس موقع پر ایم ایس اسپتال نے یونٹ میں پانی کی موٹر اور ضروری ادویات کی کمی سے آگاہ کیا، جس پر چیئرمین نے فوری تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔اپنے وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے آج ایک لاکھ روپے کا چیک اسپتال انتظامیہ کے حوالے کیا گیا تاکہ ڈائلیسز یونٹ کی فوری ضروریات پوری کی جا سکیں، مریضوں کو بلا تعطل علاج کی سہولت میسر آئے اور صحت کی خدمات کا معیار مزید بہتر بنایا جا سکے۔اس موقع پر چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل گوادر شئے مختار نے کہا کہ عوام کی خدمت اور صحت کے شعبے کی مضبوطی ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی مسائل کے بروقت حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ شہریوں کو بہتر اور باوقار طبی خدمات میسر آ سکیں۔عوامی حلقوں نے چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل گوادر کے اس بروقت اور عملی اقدام کو سراہتے ہوئے اسے عوام دوست طرزِ قیادت اور صحت عامہ کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
کوئٹہ13جولائی۔ چیف انسپیکٹر آف مائنز بلوچستان کے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق زیر دفعہ 21 مائنز ایکٹ 1923ء تشکیل دی گئی کورٹ آف انکوائری، جو 22 مئی 2026 کو ضلع دکی میں میسرز محمد اکبر ناصر کول کمپنی کی کان میں پیش آنے والے حادثے کی تحقیقات کر رہی ہے، کے سلسلے میں 30 جون 2026 کو چیئرمین کورٹ آف انکوائری انجینئر اسفند یار خان کی سربراہی میں ایک اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کے بعد کمیٹی نے متاثرہ کان کا تفصیلی معائنہ کیا اور حادثے سے متعلق شواہد اور دیگر اہم معلومات اکٹھی کیں۔ واضح رہے کہ مذکورہ حادثے میں ایک کان کن جاں بحق جبکہ پانچ کان کنوں کو بحفاظت زندہ نکال لیا گیا تھا۔چیف انسپیکٹر آف مائنز بلوچستان نے عوام، متعلقہ افراد اور حادثے سے متعلق معلومات رکھنے والوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کوئی شخص اس حادثے کے حوالے سے اپنا بیان یا شواہد کمیٹی کے سامنے ریکارڈ کرانا چاہتا ہے تو وہ 16 جولائی سے 24 جولائی 2026 تک روزانہ صبح 11:00 بجے سے سہ پہر 3:00 بجے کے درمیان پی ایم ڈی سی ہیڈ آفس، دفتر بجلی گھر تھانہ روڈ، کوئٹہ میں قائم کورٹ آف انکوائری کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کرا سکتا ہے، تاکہ انکوائری مکمل کرکے رپورٹ بروقت سیکرٹری مائنز اینڈ منرلز بلوچستان کو پیش کی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 6122/2026
کوئٹہ 13 جولائی۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہم نے روز اول سے ہی گورنر ہاوس کے دروازے تمام شہریوں کیلئے ان کے مذہبی و نسلی پس منظر سے بالاتر ہو کر کھول رکھے ہیں۔ آئین پاکستان کی نظر سے ہر اقلیتی رکن بھی اس ملک میں برابر کا شہری ہے اور 1973 کا آئین ہم سب کیلئے مساوی مواقع، بنیادی سہولیات اور جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ گورنر ہاوس آنے والے سائلین چاہئے اکثریت ہو یا اقلیت سے، مجھے ان کی درپیش مشکلات کم کرنے ذہنی سکون و اطمینان ملتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاوس کوئٹہ میں پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے رکن پنجاب صوبائی اسمبلی، چیئرمین پاکستان کرسچن الاائنس اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی انسپکشن ٹیم کے رکن ایمانوئیل ایتھر جولیس سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یہاں کی مسیحی برادری ساتھ ساتھ ہمارے دیگر تمام اقلیتیوں کے سرکردہ افراد کے ساتھ بھی بہت خوشگوار اور فعال تعلقات ہیں۔ میں بحثیت گورنر بلوچستان باقاعدہ ان سب کے مختلف پروگراموں اور مذہبی تقریبات میں شریک ہوتا ہوں۔ گورنر مندوخیل نے مزید کہا کہ ایک اقلیتی رہنماءاور رکن پنجاب صوبائی اسمبلی کا کوئٹہ دورہ یقیناَ بین الصوبائی یکجہتی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریگا۔ انہوں نے زور دیا کہ اسطرح کی عوامی سطح پر روابط و تعلقات صوبوں کے درمیان پل کا کام کرتے ہیں، مشترکہ افہام و تفہیم اور باہمی ترقی کو فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں صوبوں کے عوام کا عوام سے تعلقات اور روابط بڑھانے کے بہت مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ دونوں رہنماوں نے صوبوں کے درمیان عوامی سطح پر روابط بڑھانے اور فعال تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6123/2026
کوئٹہ، 13 جولائی .وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان نے عوام کو جدید، آسان اور شفاف سرکاری خدمات کی فراہمی کے وXن کے تحت صوبے میں پہلی بار ای-ڈومیسائل اور ای-لوکل سرٹیفکیٹ سسٹم متعارف کرا دیا ہے، جو ڈیجیٹل گورننس کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس جدید نظام کے تحت ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹ کے اجراء کا پورا عمل ڈیجیٹل بنایا جا رہا ہے۔ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد بلوچستان کے شہری پاکستان بھر میں موجود نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے مراکز، ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر اور Pak-ID پلیٹ فارم کے ذریعے گھر بیٹھے درخواست دے سکیں گے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ای-ڈومیسائل سسٹم کے نفاذ سے عوام کو غیر ضروری مشکلات، طویل انتظار اور روایتی دفتری پیچیدگیوں سے نجات ملے گی، جبکہ شفافیت میں اضافہ ہوگا اور جعلی ڈومیسائل و لوکل سرٹیفکیٹس کے اجراء کی موثر روک تھام ممکن بنائی جا سکے گی انہوں نے کہا کہ یہ نظام شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ، درستگی اور آسان رسائی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ سرکاری محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک محفوظ، قابلِ اعتماد اور موثر تصدیقی نظام بھی فراہم کرے گا، جس سے انتظامی امور مزید بہتر اور موثر انداز میں انجام دیے جا سکیں گے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومت صوبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دے کر عوامی خدمات کو مزید موثر، شفاف اور شہریوں کی ضروریات سے ہم آہنگ بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای-ڈومیسائل اور ای-لوکل سرٹیفکیٹ سسٹم کا اجراء عوام دوست اصلاحات کے سفر میں ایک اہم پیش رفت ہے، جو نہ صرف شہریوں کے لیے آسانیاں پیدا کرے گا بلکہ صوبے میں جدید طرزِ حکمرانی کو بھی فروغ دے گا میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان عوامی خدمت، شفافیت، احتساب اور ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے پر پوری سنجیدگی سے عمل پیرا رہے گی تاکہ صوبے کے ہر شہری کو جدید، محفوظ اور معیاری سرکاری سہولیات ان کی دہلیز تک فراہم کی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6125/2026
کوئٹہ 13جولائی ۔ بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی (PAC) کا اجلاس اسمبلی کی کمیٹی روم میں چیئرمین کمیٹی اصغر علی ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں رحمت صالح بلوچ، غلام دستگیر بادینی اور صفیہ بی بی نے شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، وائس چانسلر سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر روبینہ مشتاق، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ شجاع علی، اسپیشل سیکرٹری پی اے سی سراج لہڑی، ایڈیشنل اکاونٹنٹ جنرل بلوچستان حافظ نورالحق، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ قانون سعید اقبال سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی سے متعلق آڈٹ اعتراضات، اخراجات، انتظامی امور پی اے سی کے احکامات کی تعمیل کے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔کمیٹی کے رکن رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ تقرریوں اور ترقیوں میں میرٹ کو اولین ترجیح دی جائے، یومیہ اجرت پر بھرتیوں میں مبینہ طور پر پسند و ناپسند کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات ہمارے بچوں کے مستقبل سے وابستہ ادارے ہیں، لہٰذا ان کی ساکھ اور شفافیت کو ہر صورت برقرار رکھا جانا چاہیے۔چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی اصغر علی ترین نے کہا کہ سرکاری فنڈز اور بجٹ کا استعمال قواعد و ضوابط اور متعلقہ قوانین کے مطابق ہونا چاہیے اور کسی بھی صورت میں مالی اختیارات کا استعمال ذاتی صوابدید پر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ اور سینیٹ کے اجلاسوں کے منٹس میں بعد ازاں رد و بدل ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، جس کی مکمل وضاحت ضروری ہے۔کمیٹی نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ اگر کسی فیصلے میں ترمیم درکار ہو تو اس کے لیے باقاعدہ قانون موجود ہے اور قانون کے مطابق منٹس بنائی جائے اور اعلی حکام کے سامنے تمام نکات واضح کر کے مسل پیش کیے جائیں، محض منٹس میں تبدیلی قواعد کے مطابق نہیں۔ اجلاس میں یہ بھی زیر بحث آیا کہ بعض منٹس پر متعلقہ حکام، جن میں پرو وائس چانسلر اور محکمہ خزانہ کے نمائندہ شامل ہیں، کے دستخط موجود نہیں تھے، جس پر کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا۔اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے کہا کہ یہ ایک آئینی فورم ہے اور تمام اقدامات قانون، قواعد اور شفاف طریقہ کار کے مطابق ہونے چاہئیں، ایس بی کے سمیت محکموں کی آسامیوں پر تقرریوں اور ترقیوں کے معاملات کی مکمل قانونی جانچ ضروری ہے۔کمیٹی کے رکن غلام دستگیر بادینی نے کہا کہ کمیٹی تقرریوں یا ترقیوں کے خلاف نہیں بلکہ ان کے قواعد و ضوابط کے مطابق ہونے کی حامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی ترقی میں بے ضابطگی ثابت ہوتی ہے تو اس کا ازالہ ہونا چاہیے تاکہ ان ملازمین کے حقوق متاثر نہ ہوں جو برسوں سے اپنی ترقی کے منتظر ہیں۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی اصغر علی ترین نے ہدایت دی کہ اسمبلی، آڈٹ، محکمہ قانون اور فنانس پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے گئی جو رواں سال میں خلاف قانون تمام ترقیوں اور تقرریوں کا ازسرنو جائزہ لے گی اور اس امر کو یقینی بنائے گی کہ ہر اہل اور مستحق ملازم کو قانون، قواعد اور میرٹ کے مطابق اس کا حق دیا جائے اور متعلقہ کمیٹی اپنی رپورٹ یکم اگست تک پی اے سی کو پیش کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6126/2026
کوئٹہ:13جولائی ۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان سے معروف ماہرِ معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے ملاقات کی، ملاقات میں صوبے میں غربت میں کمی، روزگار کے فروغ، بنیادی سہولیات کی فراہمی، اور ریجنل گروتھ سینٹرز کے قیام و استحکام سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر تمام انتظامی سیکرٹریز بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران صوبائی حکومت کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود، معاشی بہتری اور پائیدار ترقی کے لیے جاری اقدامات پر گفتگو ہوئی۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو روزگار کی فراہمی، عوام کو بنیادی ضروریات تک رسائی، حکومت کی جانب سے ضلعی ترقیاتی منصوبے، ضلعی لائیولی ہوڈ پروگرام، اور پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی عمل کو تیز کرنے کے لئے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف صرف ترقیاتی منصوبے شروع کرنا نہیں بلکہ ان کے ثمرات عام شہری تک پہنچانا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں غربت کے خاتمے کے لیے مربوط پالیسی، مقامی سطح پر معاشی سرگرمیوں کا فروغ، ہنرمندی کی تربیت، اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباریوں کی حوصلہ افزائی ناگزیر ہے۔ چیف سیکرٹری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں ریجنل گروتھ سینٹرز کے قیام سے مقامی معیشت کو تقویت ملے گی، سرمایہ کاری بڑھے گی، اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔اس موقع پر ڈاکٹر قیصر بنگالی نے بلوچستان کی معاشی صورتحال، ترقیاتی امکانات اور سرمایہ کاری کے مواقع کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بڑے بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے تاکہ پائیدار ترقی کی بنیاد رکھی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت، ساحلی پٹی، معدنی ذخائر اور زرعی امکانات کو موثر منصوبہ بندی کے ذریعے ترقی کے عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی نے مزید کہا کہ اگر صوبے میں انفراسٹرکچر، توانائی، زراعت، لائیوسٹاک، معدنیات، ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبوں میں بڑے سرمایہ کاروں کو راغب کیا جائے تو نہ صرف معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی بلکہ روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے حکومتِ بلوچستان کو مشورہ دیا کہ مقامی سطح پر پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کی شراکت کے ذریعے ایسے منصوبے شروع کیے جائیں جو طویل المدتی سماجی و معاشی فائدہ فراہم کریں۔ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ غربت میں کمی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور علاقائی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے سرکاری اداروں، ماہرینِ معیشت، نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مو ثر رابطہ اور ہم آہنگی ضروری ہے۔ دونوں شخصیات نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے عوام کو ترقی کے ثمرات جلد از جلد پہنچانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6127/2026
حب 13 جولائی ۔صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ کی خصوصی ہدایات سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کی رہنمائی اور ایگزیکٹو انجینئر روڈز ضلع حب عبدالوہاب زہری کی زیر نگرانی ڈسپنسری ساکران تا ایشو بٹ روڈ کی تعمیر کا کام کامیابی کے ساتھ ریکارڈ مدت میں مکمل کر لیا گیا ہےمذکورہ سڑک کی بروقت تکمیل محکمہ مواصلات و تعمیرات کی موثر منصوبہ بندی بہترین انتظامی صلاحیت اور اعلیٰ معیار کے تعمیراتی کام کا واضح ثبوت ہے سڑک کی تکمیل سے علاقے کے مکینوں کو محفوظ آسان اور بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی جبکہ آمدورفت میں آسانی تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور سماجی و معاشی ترقی میں بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گےمحکمہ مواصلات و تعمیرات کے حکام کے مطابق منصوبے کو مقررہ معیار اور تکنیکی تقاضوں کے مطابق مکمل کیا گیا ہے جبکہ تعمیراتی کام کے دوران شفافیت اور معیار پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ عوام کو دیرپا اور معیاری انفراسٹرکچر فراہم کیا جا سکےاس موقع پر محکمہ کے حکام نے کہا کہ صوبائی وزیر میر سلیم احمد کھوسہ کے وژن اور سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کی موثر رہنمائی کے باعث محکمہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہےانہوں نے کہا کہ ضلع حب میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر اسی جذبے اور ذمہ داری کے ساتھ کام جاری رکھا جائے گامحکمہ مواصلات و تعمیرات ضلع حب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئندہ بھی اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بناتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ ضلع حب کی ترقی خوشحالی اور عوامی سہولیات میں مزید اضافہ ہو اور حکومت بلوچستان کے ترقیاتی وژن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6128/2026
کوئٹہ 13جولائی۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) کوئٹہ حافظ محمد طارق کی زیر صدارت جبل نور قبرستان کی اراضی سے متعلق جاری تنازعے کے حل کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تحصیلدار سٹی، سیٹلمنٹ آفیسر، ریونیو عملے اور تنازعے سے متعلق دونوں فریقین نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران جبل نور قبرستان کی اراضی سے متعلق دستیاب ریکارڈ، نقشہ جات، ریونیو دستاویزات اور دیگر متعلقہ شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ دونوں فریقین کو مکمل موقع فراہم کیا گیا تاکہ وہ اپنا موقف، دعوے اور متعلقہ دستاویزات پیش کر سکیں۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) نے تمام نکات کو بغور سنا اور متعلقہ افسران سے بھی تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔حافظ محمد طارق نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ اراضی کے تمام ریکارڈ اور حقائق کی مکمل جانچ پڑتال کرتے ہوئے معاملے کو قانون اور میرٹ کے مطابق جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے بروقت اور شفاف حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور کسی بھی معاملے میں انصاف، شفافیت اور قانونی تقاضوں کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6129/2026
چمن 13جولائی ۔ ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) بلوچستان کے صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر انعام الحق نے ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کے ہمراہ (FIPV-OPV) پولیو سے بچاو کی خصوصی مہم کا باقاعدہ افتتاح بچے کو پولیو کے قطرے پلانے سے کیا گیا افتتاحی تقریب میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) ڈاکٹر اویس، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر رشید اچکزئی، پی پی ایچ آئی کے ضلعی کوآرڈینیٹر محمد اکرم اچکزئی، این اسٹاف آفیسر اسد صافی، ٹی وی آئی ضلع چمن کے سربراہ محمد علی اچکزئی، پولیو آفیسر ڈاکٹر نادر اچکزئی، ضلعی کمیونیکیشن آفیسر اشرف اچکزئی اور ڈاکٹر امین سمیت محکمہ صحت کے دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے معاشرے کے ہر فرد کا تعاون انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے والدین سے پرزور اپیل کی کہ وہ پانچ سال سے کم عمر اپنے تمام بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے لازماً پلوائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری کا سبب بننے والے اس موذی مرض سے محفوظ رکھا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6130/2026
سیوی 13جولائی ۔ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ونگ کمانڈر کرنل زبیر، ونگ کمانڈر کرنل عبدالمنان، اسسٹنٹ کمشنر سیوی منصور علی شاہ، اسسٹنٹ کمشنر بختیارآباد میر بہادر خان بنگلزئی، متعلقہ محکموں کے افسران، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندگان اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سیوی نے کہا کہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز III کے تحت ضلع بھر میں عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تقریباً 70 کروڑ روپے مالیت کی متعدد ترقیاتی اسکیمات منظور کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تمام منصوبے کھلی کچہریوں کے دوران عوام کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات اور ضروریات کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں، جبکہ باقی ماندہ تجاویز بھی فنڈز کی دستیابی کے ساتھ آئندہ دو ماہ میں منظوری کے مراحل مکمل کر لیں گی۔ انہوں نے کہا کہ منظور شدہ اسکیمات میں صحت، تعلیم، صاف پینے کے پانی اور بنیادی شہری سہولیات کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے۔ دور افتادہ علاقے بابر کچ کے لیے اوور ہیڈ واٹر ٹینک، ٹھنڈے اور صاف پینے کے پانی کے پلانٹ، پائپ لائن کی فراہمی اور تین ہیٹ اسٹروک سینٹرز کی منظوری دی گئی ہے، جن میں ایک بابر کچ جبکہ دیگر مختلف مقامات پر قائم کیے جائیں گے۔ اسی طرح مختلف علاقوں میں گلیوں کی تعمیر و بحالی کے لیے ٹف ٹائلز کی متعدد اسکیمات بھی منظور کی گئی ہیں۔ڈپٹی کمشنر سیوی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وڑن کے مطابق ضلع کے ہر علاقے اور ہر شعبے کو مساوی اہمیت دیتے ہوئے عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تمام منظور شدہ اسکیمات کی تکمیل کے لیے پیشگی انتظامات اور بین الادارہ تعاون کو یقینی بنایا جائے تاکہ فنڈز کے اجرا کے ساتھ ہی منصوبوں پر بروقت عملدرآمد ممکن ہو سکے۔ اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی فلاح و بہبود اور ضلع کی متوازن ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے، اور عوامی مسائل کے مستقل اور پائیدار حل کے لیے ترقیاتی عمل کو مزید موثر بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6131/2026
چمن 13جولائی ۔ ضلع چمن میں جاری خصوصی انسدادِ پولیو مہم (FIPV-OPV) کے دوران ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے پولیو ٹیموں کی کارکردگی، سیکیورٹی انتظامات اور مہم کی مجموعی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران انہوں نے پولیو ٹیموں کی جانب سے بچوں کی انگلیوں پر لگائے جانے والے نشانات (فنگر مارکنگ) اور گھروں پر کی جانے والی ڈور مارکنگ کا معائنہ کیا، جبکہ ٹیموں کو ہدایت کی کہ ہر گھر تک رسائی یقینی بناتے ہوئے پانچ سال تک کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جائیں۔ڈی سی چمن نے والدین اور سرپرستوں سے ملاقاتیں بھی کیں اور انہیں پولیو ویکسین کی اہمیت، افادیت اور بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنے کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ پولیو ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں تاکہ ضلع چمن کو پولیو سے پاک بنانے کے قومی ہدف کو کامیابی سے حاصل کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6132/2026
دکی، 13 جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر دکی، محمد نعیم خان نے اسسٹنٹ کمشنر تھل چوٹیالی، عبدالسلام کے ہمراہ بی ایس ڈی آئی (BSDI) پروگرام کے تحت ضلع دکی میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے منصوبوں پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں، کام کے معیار، رفتار اور مجموعی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لیا، جبکہ متعلقہ افسران نے انہیں منصوبوں کی موجودہ صورتحال اور تکمیل کے مراحل سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کے افسران اور عملے کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعمیراتی کام میں کسی بھی قسم کی غفلت، غیر ضروری تاخیر یا ناقص میٹریل کے استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، اور اس ضمن میں متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔محمد نعیم خان نے مزید ہدایت کی کہ منصوبوں کی باقاعدہ اور موثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ تعمیراتی معیار برقرار رہے اور عوام کو پائیدار، معیاری اور بنیادی سہولیات بروقت فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوامی فلاح و بہبود اور پائیدار ترقی کے وژن کے تحت ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور شفاف تکمیل کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ محکمے باہمی تعاون، مربوط حکمت عملی اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تاکہ ان منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد عوام تک پہنچ سکیں۔ :::**
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6133/2026
چمن13 جولائی ۔یمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) بلوچستان کے صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر انعام الحق اور ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے ضلع چمن میں جاری خصوصی انسدادِ پولیو مہم (FIPV-OPV) کے پہلے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے شام کے ریویو اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔اجلاس میں ڈی ایچ او چمن ایم ایس ڈاکٹر محمد اویس و ٹیکنیکل فوکل پرسن ڈاکٹر نجیب اللہ، عالمی ادار صحت (WHO) کی کور ٹیم کے ڈاکٹر اسد اللہ صافی، محکمہ صحت کے متعلقہ افسران، پولیو پروگرام کے نمائندگان اور دیگر شراکت دار اداروں کے ذمہ داران نے شرکت کی اجلاس کے دوران مہم کے پہلے روز کی مجموعی پیش رفت، ٹیموں کی کارکردگی، بچوں تک رسائی، درپیش چیلنجز، سیکیورٹی، فیلڈ میں پیش آنے والے مسائل اور آئندہ کے لیے موثر حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے ہدایت کی کہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاو کے قطرے اور FIPV ویکسین سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران پر زور دیا کہ وہ فیلڈ میں نگرانی کے عمل کو مزید موثر بنائیں، ٹیموں کو ہر ممکن سہولت فراہم کریں اور رہ جانے والے بچوں تک فوری رسائی کو یقینی بنائیں۔صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر انعام الحق نے مہم کی کامیابی کے لیے تمام اداروں کے باہمی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مربوط حکمت عملی، مسلسل نگرانی اور والدین کا تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے متعلقہ ٹیموں کو ہدایت کی کہ درپیش چیلنجز کو بروقت حل کرتے ہوئے مہم کے اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہر بچے کو پولیو سے محفوظ بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6134/2026
*بیلہ13جولائی ۔ :: ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے احکامات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر بیلہ نصیب اللہ بڑیچ نے سول ہسپتال بیلہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) سول ہسپتال بیلہ ڈاکٹر عبدالحکیم نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیاانہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ مریضوں کو بہتر، بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ *انہوں نے ہسپتال میں صفائی ستھرائی کے نظام کو مزید موثر بنانے اور تمام ڈاکٹروں و طبی عملے کی حاضری ہر صورت یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی،تاکہ مریضوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ایم ایس ڈاکٹر عبدالحکیم موندرہ نے اسسٹنٹ کمشنر کو ہسپتال کی کارکردگی، دستیاب سہولیات اور درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6135/2026
گوادر:13جولائی ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق صوبے کے ہر شہری کو اس کی دہلیز پر معیاری، بروقت اور مو¿ثر طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پی پی ایچ آئی بلوچستان کی جانب سے بنیادی مراکز صحت کی مسلسل نگرانی کا سلسلہ جاری ہے۔اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی گوادر ڈاکٹر مرشد دشتی نے بنیادی مراکز صحت (BHU) نلینٹ اور کپر کا تفصیلی مانیٹرنگ و سہولت کاری دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے طبی و پیرامیڈیکل عملے کی حاضری، او پی ڈی رجسٹر، مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، زچہ و بچہ صحت (MNCH) سینٹر، حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) سائٹس، ادویات کی دستیابی، ریکارڈ کی درستگی، صفائی کی صورتحال اور دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ڈاکٹر مرشد دشتی نے عملے کو ہدایت کی کہ عوام کو معیاری، بروقت اور خوش اخلاقی کے ساتھ طبی خدمات فراہم کی جائیں، سرکاری اوقات کار کی مکمل پابندی کی جائے، ریکارڈ کو اپ ٹو ڈیٹ رکھا جائے اور حفاظتی ٹیکہ جات سمیت تمام بنیادی صحت پروگراموں کو موثر انداز میں جاری رکھا جائے تاکہ دور دراز علاقوں کے عوام کو بہتر طبی سہولیات میسر آسکیں۔انہوں نے اس موقع پر کہا کہ پی پی ایچ آئی بلوچستان وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن کے مطابق ضلع گوادر کے تمام بنیادی مراکز صحت میں صحت کی سہولیات کے معیار کو مزید بہتر بنانے، عملے کی کارکردگی کو موثر بنانے اور عوام کو بلا تعطل طبی خدمات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بنیادی مراکز صحت کی باقاعدہ نگرانی کا مقصد عوام کو معیاری، شفاف اور جوابدہ صحت کی خدمات فراہم کرنا اور نظام صحت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 6122/2026
کوئٹہ 13 جولائی۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہم نے روز اول سے ہی گورنر ہاوس کے دروازے تمام شہریوں کیلئے ان کے مذہبی و نسلی پس منظر سے بالاتر ہو کر کھول رکھے ہیں۔ آئین پاکستان کی نظر سے ہر اقلیتی رکن بھی اس ملک میں برابر کا شہری ہے اور 1973 کا آئین ہم سب کیلئے مساوی مواقع، بنیادی سہولیات اور جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ گورنر ہاوس آنے والے سائلین چاہئے اکثریت ہو یا اقلیت سے، مجھے ان کی درپیش مشکلات کم کرنے ذہنی سکون و اطمینان ملتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاوس کوئٹہ میں پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے رکن پنجاب صوبائی اسمبلی، چیئرمین پاکستان کرسچن الاائنس اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی انسپکشن ٹیم کے رکن ایمانوئیل ایتھر جولیس سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یہاں کی مسیحی برادری ساتھ ساتھ ہمارے دیگر تمام اقلیتیوں کے سرکردہ افراد کے ساتھ بھی بہت خوشگوار اور فعال تعلقات ہیں۔ میں بحثیت گورنر بلوچستان باقاعدہ ان سب کے مختلف پروگراموں اور مذہبی تقریبات میں شریک ہوتا ہوں۔ گورنر مندوخیل نے مزید کہا کہ ایک اقلیتی رہنماءاور رکن پنجاب صوبائی اسمبلی کا کوئٹہ دورہ یقیناَ بین الصوبائی یکجہتی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریگا۔ انہوں نے زور دیا کہ اسطرح کی عوامی سطح پر روابط و تعلقات صوبوں کے درمیان پل کا کام کرتے ہیں، مشترکہ افہام و تفہیم اور باہمی ترقی کو فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں صوبوں کے عوام کا عوام سے تعلقات اور روابط بڑھانے کے بہت مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ دونوں رہنماوں نے صوبوں کے درمیان عوامی سطح پر روابط بڑھانے اور فعال تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6123/2026
کوئٹہ، 13 جولائی .وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان نے عوام کو جدید، آسان اور شفاف سرکاری خدمات کی فراہمی کے وژن کے تحت صوبے میں پہلی بار ای-ڈومیسائل اور ای-لوکل سرٹیفکیٹ سسٹم متعارف کرا دیا ہے، جو ڈیجیٹل گورننس کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس جدید نظام کے تحت ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹ کے اجراء کا پورا عمل ڈیجیٹل بنایا جا رہا ہے۔ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد بلوچستان کے شہری پاکستان بھر میں موجود نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے مراکز، ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر اور Pak-ID پلیٹ فارم کے ذریعے گھر بیٹھے درخواست دے سکیں گے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ای-ڈومیسائل سسٹم کے نفاذ سے عوام کو غیر ضروری مشکلات، طویل انتظار اور روایتی دفتری پیچیدگیوں سے نجات ملے گی، جبکہ شفافیت میں اضافہ ہوگا اور جعلی ڈومیسائل و لوکل سرٹیفکیٹس کے اجراء کی موثر روک تھام ممکن بنائی جا سکے گی انہوں نے کہا کہ یہ نظام شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ، درستگی اور آسان رسائی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ سرکاری محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک محفوظ، قابلِ اعتماد اور موثر تصدیقی نظام بھی فراہم کرے گا، جس سے انتظامی امور مزید بہتر اور موثر انداز میں انجام دیے جا سکیں گے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومت صوبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دے کر عوامی خدمات کو مزید موثر، شفاف اور شہریوں کی ضروریات سے ہم آہنگ بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای-ڈومیسائل اور ای-لوکل سرٹیفکیٹ سسٹم کا اجراء عوام دوست اصلاحات کے سفر میں ایک اہم پیش رفت ہے، جو نہ صرف شہریوں کے لیے آسانیاں پیدا کرے گا بلکہ صوبے میں جدید طرزِ حکمرانی کو بھی فروغ دے گا میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان عوامی خدمت، شفافیت، احتساب اور ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے پر پوری سنجیدگی سے عمل پیرا رہے گی تاکہ صوبے کے ہر شہری کو جدید، محفوظ اور معیاری سرکاری سہولیات ان کی دہلیز تک فراہم کی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6125/2026
کوئٹہ 13جولائی ۔ بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی (PAC) کا اجلاس اسمبلی کی کمیٹی روم میں چیئرمین کمیٹی اصغر علی ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں رحمت صالح بلوچ، غلام دستگیر بادینی اور صفیہ بی بی نے شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، وائس چانسلر سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر روبینہ مشتاق، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ شجاع علی، اسپیشل سیکرٹری پی اے سی سراج لہڑی، ایڈیشنل اکاونٹنٹ جنرل بلوچستان حافظ نورالحق، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ قانون سعید اقبال سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی سے متعلق آڈٹ اعتراضات، اخراجات، انتظامی امور پی اے سی کے احکامات کی تعمیل کے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔کمیٹی کے رکن رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ تقرریوں اور ترقیوں میں میرٹ کو اولین ترجیح دی جائے، یومیہ اجرت پر بھرتیوں میں مبینہ طور پر پسند و ناپسند کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات ہمارے بچوں کے مستقبل سے وابستہ ادارے ہیں، لہٰذا ان کی ساکھ اور شفافیت کو ہر صورت برقرار رکھا جانا چاہیے۔چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی اصغر علی ترین نے کہا کہ سرکاری فنڈز اور بجٹ کا استعمال قواعد و ضوابط اور متعلقہ قوانین کے مطابق ہونا چاہیے اور کسی بھی صورت میں مالی اختیارات کا استعمال ذاتی صوابدید پر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ اور سینیٹ کے اجلاسوں کے منٹس میں بعد ازاں رد و بدل ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، جس کی مکمل وضاحت ضروری ہے۔کمیٹی نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ اگر کسی فیصلے میں ترمیم درکار ہو تو اس کے لیے باقاعدہ قانون موجود ہے اور قانون کے مطابق منٹس بنائی جائے اور اعلی حکام کے سامنے تمام نکات واضح کر کے مسل پیش کیے جائیں، محض منٹس میں تبدیلی قواعد کے مطابق نہیں۔ اجلاس میں یہ بھی زیر بحث آیا کہ بعض منٹس پر متعلقہ حکام، جن میں پرو وائس چانسلر اور محکمہ خزانہ کے نمائندہ شامل ہیں، کے دستخط موجود نہیں تھے، جس پر کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا۔اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے کہا کہ یہ ایک آئینی فورم ہے اور تمام اقدامات قانون، قواعد اور شفاف طریقہ کار کے مطابق ہونے چاہئیں، ایس بی کے سمیت محکموں کی آسامیوں پر تقرریوں اور ترقیوں کے معاملات کی مکمل قانونی جانچ ضروری ہے۔کمیٹی کے رکن غلام دستگیر بادینی نے کہا کہ کمیٹی تقرریوں یا ترقیوں کے خلاف نہیں بلکہ ان کے قواعد و ضوابط کے مطابق ہونے کی حامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی ترقی میں بے ضابطگی ثابت ہوتی ہے تو اس کا ازالہ ہونا چاہیے تاکہ ان ملازمین کے حقوق متاثر نہ ہوں جو برسوں سے اپنی ترقی کے منتظر ہیں۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی اصغر علی ترین نے ہدایت دی کہ اسمبلی، آڈٹ، محکمہ قانون اور فنانس پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے گئی جو رواں سال میں خلاف قانون تمام ترقیوں اور تقرریوں کا ازسرنو جائزہ لے گی اور اس امر کو یقینی بنائے گی کہ ہر اہل اور مستحق ملازم کو قانون، قواعد اور میرٹ کے مطابق اس کا حق دیا جائے اور متعلقہ کمیٹی اپنی رپورٹ یکم اگست تک پی اے سی کو پیش کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6126/2026
کوئٹہ:13جولائی ۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان سے معروف ماہرِ معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے ملاقات کی، ملاقات میں صوبے میں غربت میں کمی، روزگار کے فروغ، بنیادی سہولیات کی فراہمی، اور ریجنل گروتھ سینٹرز کے قیام و استحکام سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر تمام انتظامی سیکرٹریز بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران صوبائی حکومت کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود، معاشی بہتری اور پائیدار ترقی کے لیے جاری اقدامات پر گفتگو ہوئی۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو روزگار کی فراہمی، عوام کو بنیادی ضروریات تک رسائی، حکومت کی جانب سے ضلعی ترقیاتی منصوبے، ضلعی لائیولی ہوڈ پروگرام، اور پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی عمل کو تیز کرنے کے لئے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف صرف ترقیاتی منصوبے شروع کرنا نہیں بلکہ ان کے ثمرات عام شہری تک پہنچانا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں غربت کے خاتمے کے لیے مربوط پالیسی، مقامی سطح پر معاشی سرگرمیوں کا فروغ، ہنرمندی کی تربیت، اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباریوں کی حوصلہ افزائی ناگزیر ہے۔ چیف سیکرٹری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں ریجنل گروتھ سینٹرز کے قیام سے مقامی معیشت کو تقویت ملے گی، سرمایہ کاری بڑھے گی، اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔اس موقع پر ڈاکٹر قیصر بنگالی نے بلوچستان کی معاشی صورتحال، ترقیاتی امکانات اور سرمایہ کاری کے مواقع کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بڑے بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے تاکہ پائیدار ترقی کی بنیاد رکھی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت، ساحلی پٹی، معدنی ذخائر اور زرعی امکانات کو موثر منصوبہ بندی کے ذریعے ترقی کے عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی نے مزید کہا کہ اگر صوبے میں انفراسٹرکچر، توانائی، زراعت، لائیوسٹاک، معدنیات، ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبوں میں بڑے سرمایہ کاروں کو راغب کیا جائے تو نہ صرف معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی بلکہ روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے حکومتِ بلوچستان کو مشورہ دیا کہ مقامی سطح پر پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کی شراکت کے ذریعے ایسے منصوبے شروع کیے جائیں جو طویل المدتی سماجی و معاشی فائدہ فراہم کریں۔ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ غربت میں کمی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور علاقائی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے سرکاری اداروں، ماہرینِ معیشت، نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مو ثر رابطہ اور ہم آہنگی ضروری ہے۔ دونوں شخصیات نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے عوام کو ترقی کے ثمرات جلد از جلد پہنچانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6127/2026
حب 13 جولائی ۔صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ کی خصوصی ہدایات سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کی رہنمائی اور ایگزیکٹو انجینئر روڈز ضلع حب عبدالوہاب زہری کی زیر نگرانی ڈسپنسری ساکران تا ایشو بٹ روڈ کی تعمیر کا کام کامیابی کے ساتھ ریکارڈ مدت میں مکمل کر لیا گیا ہےمذکورہ سڑک کی بروقت تکمیل محکمہ مواصلات و تعمیرات کی موثر منصوبہ بندی بہترین انتظامی صلاحیت اور اعلیٰ معیار کے تعمیراتی کام کا واضح ثبوت ہے سڑک کی تکمیل سے علاقے کے مکینوں کو محفوظ آسان اور بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی جبکہ آمدورفت میں آسانی تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور سماجی و معاشی ترقی میں بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گےمحکمہ مواصلات و تعمیرات کے حکام کے مطابق منصوبے کو مقررہ معیار اور تکنیکی تقاضوں کے مطابق مکمل کیا گیا ہے جبکہ تعمیراتی کام کے دوران شفافیت اور معیار پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ عوام کو دیرپا اور معیاری انفراسٹرکچر فراہم کیا جا سکےاس موقع پر محکمہ کے حکام نے کہا کہ صوبائی وزیر میر سلیم احمد کھوسہ کے وژن اور سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کی موثر رہنمائی کے باعث محکمہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہےانہوں نے کہا کہ ضلع حب میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر اسی جذبے اور ذمہ داری کے ساتھ کام جاری رکھا جائے گامحکمہ مواصلات و تعمیرات ضلع حب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئندہ بھی اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بناتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ ضلع حب کی ترقی خوشحالی اور عوامی سہولیات میں مزید اضافہ ہو اور حکومت بلوچستان کے ترقیاتی وژن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6128/2026
کوئٹہ 13جولائی۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) کوئٹہ حافظ محمد طارق کی زیر صدارت جبل نور قبرستان کی اراضی سے متعلق جاری تنازعے کے حل کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تحصیلدار سٹی، سیٹلمنٹ آفیسر، ریونیو عملے اور تنازعے سے متعلق دونوں فریقین نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران جبل نور قبرستان کی اراضی سے متعلق دستیاب ریکارڈ، نقشہ جات، ریونیو دستاویزات اور دیگر متعلقہ شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ دونوں فریقین کو مکمل موقع فراہم کیا گیا تاکہ وہ اپنا موقف، دعوے اور متعلقہ دستاویزات پیش کر سکیں۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) نے تمام نکات کو بغور سنا اور متعلقہ افسران سے بھی تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔حافظ محمد طارق نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ اراضی کے تمام ریکارڈ اور حقائق کی مکمل جانچ پڑتال کرتے ہوئے معاملے کو قانون اور میرٹ کے مطابق جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے بروقت اور شفاف حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور کسی بھی معاملے میں انصاف، شفافیت اور قانونی تقاضوں کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6129/2026
چمن 13جولائی ۔ ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) بلوچستان کے صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر انعام الحق نے ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کے ہمراہ (FIPV-OPV) پولیو سے بچاو کی خصوصی مہم کا باقاعدہ افتتاح بچے کو پولیو کے قطرے پلانے سے کیا گیا افتتاحی تقریب میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) ڈاکٹر اویس، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر رشید اچکزئی، پی پی ایچ آئی کے ضلعی کوآرڈینیٹر محمد اکرم اچکزئی، این اسٹاف آفیسر اسد صافی، ٹی وی آئی ضلع چمن کے سربراہ محمد علی اچکزئی، پولیو آفیسر ڈاکٹر نادر اچکزئی، ضلعی کمیونیکیشن آفیسر اشرف اچکزئی اور ڈاکٹر امین سمیت محکمہ صحت کے دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے معاشرے کے ہر فرد کا تعاون انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے والدین سے پرزور اپیل کی کہ وہ پانچ سال سے کم عمر اپنے تمام بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے لازماً پلوائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری کا سبب بننے والے اس موذی مرض سے محفوظ رکھا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6130/2026
سیوی 13جولائی ۔ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ونگ کمانڈر کرنل زبیر، ونگ کمانڈر کرنل عبدالمنان، اسسٹنٹ کمشنر سیوی منصور علی شاہ، اسسٹنٹ کمشنر بختیارآباد میر بہادر خان بنگلزئی، متعلقہ محکموں کے افسران، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندگان اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سیوی نے کہا کہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز III کے تحت ضلع بھر میں عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تقریباً 70 کروڑ روپے مالیت کی متعدد ترقیاتی اسکیمات منظور کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تمام منصوبے کھلی کچہریوں کے دوران عوام کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات اور ضروریات کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں، جبکہ باقی ماندہ تجاویز بھی فنڈز کی دستیابی کے ساتھ آئندہ دو ماہ میں منظوری کے مراحل مکمل کر لیں گی۔ انہوں نے کہا کہ منظور شدہ اسکیمات میں صحت، تعلیم، صاف پینے کے پانی اور بنیادی شہری سہولیات کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے۔ دور افتادہ علاقے بابر کچ کے لیے اوور ہیڈ واٹر ٹینک، ٹھنڈے اور صاف پینے کے پانی کے پلانٹ، پائپ لائن کی فراہمی اور تین ہیٹ اسٹروک سینٹرز کی منظوری دی گئی ہے، جن میں ایک بابر کچ جبکہ دیگر مختلف مقامات پر قائم کیے جائیں گے۔ اسی طرح مختلف علاقوں میں گلیوں کی تعمیر و بحالی کے لیے ٹف ٹائلز کی متعدد اسکیمات بھی منظور کی گئی ہیں۔ڈپٹی کمشنر سیوی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وڑن کے مطابق ضلع کے ہر علاقے اور ہر شعبے کو مساوی اہمیت دیتے ہوئے عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تمام منظور شدہ اسکیمات کی تکمیل کے لیے پیشگی انتظامات اور بین الادارہ تعاون کو یقینی بنایا جائے تاکہ فنڈز کے اجرا کے ساتھ ہی منصوبوں پر بروقت عملدرآمد ممکن ہو سکے۔ اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی فلاح و بہبود اور ضلع کی متوازن ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے، اور عوامی مسائل کے مستقل اور پائیدار حل کے لیے ترقیاتی عمل کو مزید موثر بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6131/2026
چمن 13جولائی ۔ ضلع چمن میں جاری خصوصی انسدادِ پولیو مہم (FIPV-OPV) کے دوران ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے پولیو ٹیموں کی کارکردگی، سیکیورٹی انتظامات اور مہم کی مجموعی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران انہوں نے پولیو ٹیموں کی جانب سے بچوں کی انگلیوں پر لگائے جانے والے نشانات (فنگر مارکنگ) اور گھروں پر کی جانے والی ڈور مارکنگ کا معائنہ کیا، جبکہ ٹیموں کو ہدایت کی کہ ہر گھر تک رسائی یقینی بناتے ہوئے پانچ سال تک کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جائیں۔ڈی سی چمن نے والدین اور سرپرستوں سے ملاقاتیں بھی کیں اور انہیں پولیو ویکسین کی اہمیت، افادیت اور بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنے کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ پولیو ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں تاکہ ضلع چمن کو پولیو سے پاک بنانے کے قومی ہدف کو کامیابی سے حاصل کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6132/2026
دکی، 13 جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر دکی، محمد نعیم خان نے اسسٹنٹ کمشنر تھل چوٹیالی، عبدالسلام کے ہمراہ بی ایس ڈی آئی (BSDI) پروگرام کے تحت ضلع دکی میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے منصوبوں پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں، کام کے معیار، رفتار اور مجموعی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لیا، جبکہ متعلقہ افسران نے انہیں منصوبوں کی موجودہ صورتحال اور تکمیل کے مراحل سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کے افسران اور عملے کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعمیراتی کام میں کسی بھی قسم کی غفلت، غیر ضروری تاخیر یا ناقص میٹریل کے استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، اور اس ضمن میں متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔محمد نعیم خان نے مزید ہدایت کی کہ منصوبوں کی باقاعدہ اور موثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ تعمیراتی معیار برقرار رہے اور عوام کو پائیدار، معیاری اور بنیادی سہولیات بروقت فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوامی فلاح و بہبود اور پائیدار ترقی کے وژن کے تحت ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور شفاف تکمیل کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ محکمے باہمی تعاون، مربوط حکمت عملی اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تاکہ ان منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد عوام تک پہنچ سکیں۔ :::**
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6133/2026
چمن13 جولائی ۔یمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) بلوچستان کے صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر انعام الحق اور ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے ضلع چمن میں جاری خصوصی انسدادِ پولیو مہم (FIPV-OPV) کے پہلے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے شام کے ریویو اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔اجلاس میں ڈی ایچ او چمن ایم ایس ڈاکٹر محمد اویس و ٹیکنیکل فوکل پرسن ڈاکٹر نجیب اللہ، عالمی ادار صحت (WHO) کی کور ٹیم کے ڈاکٹر اسد اللہ صافی، محکمہ صحت کے متعلقہ افسران، پولیو پروگرام کے نمائندگان اور دیگر شراکت دار اداروں کے ذمہ داران نے شرکت کی اجلاس کے دوران مہم کے پہلے روز کی مجموعی پیش رفت، ٹیموں کی کارکردگی، بچوں تک رسائی، درپیش چیلنجز، سیکیورٹی، فیلڈ میں پیش آنے والے مسائل اور آئندہ کے لیے موثر حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے ہدایت کی کہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاو کے قطرے اور FIPV ویکسین سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران پر زور دیا کہ وہ فیلڈ میں نگرانی کے عمل کو مزید موثر بنائیں، ٹیموں کو ہر ممکن سہولت فراہم کریں اور رہ جانے والے بچوں تک فوری رسائی کو یقینی بنائیں۔صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر انعام الحق نے مہم کی کامیابی کے لیے تمام اداروں کے باہمی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مربوط حکمت عملی، مسلسل نگرانی اور والدین کا تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے متعلقہ ٹیموں کو ہدایت کی کہ درپیش چیلنجز کو بروقت حل کرتے ہوئے مہم کے اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہر بچے کو پولیو سے محفوظ بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6134/2026
*بیلہ13جولائی ۔ :: ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے احکامات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر بیلہ نصیب اللہ بڑیچ نے سول ہسپتال بیلہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) سول ہسپتال بیلہ ڈاکٹر عبدالحکیم نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیاانہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ مریضوں کو بہتر، بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ *انہوں نے ہسپتال میں صفائی ستھرائی کے نظام کو مزید موثر بنانے اور تمام ڈاکٹروں و طبی عملے کی حاضری ہر صورت یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی،تاکہ مریضوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ایم ایس ڈاکٹر عبدالحکیم موندرہ نے اسسٹنٹ کمشنر کو ہسپتال کی کارکردگی، دستیاب سہولیات اور درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6135/2026
گوادر:13جولائی ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق صوبے کے ہر شہری کو اس کی دہلیز پر معیاری، بروقت اور مو¿ثر طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پی پی ایچ آئی بلوچستان کی جانب سے بنیادی مراکز صحت کی مسلسل نگرانی کا سلسلہ جاری ہے۔اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی گوادر ڈاکٹر مرشد دشتی نے بنیادی مراکز صحت (BHU) نلینٹ اور کپر کا تفصیلی مانیٹرنگ و سہولت کاری دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے طبی و پیرامیڈیکل عملے کی حاضری، او پی ڈی رجسٹر، مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، زچہ و بچہ صحت (MNCH) سینٹر، حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) سائٹس، ادویات کی دستیابی، ریکارڈ کی درستگی، صفائی کی صورتحال اور دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ڈاکٹر مرشد دشتی نے عملے کو ہدایت کی کہ عوام کو معیاری، بروقت اور خوش اخلاقی کے ساتھ طبی خدمات فراہم کی جائیں، سرکاری اوقات کار کی مکمل پابندی کی جائے، ریکارڈ کو اپ ٹو ڈیٹ رکھا جائے اور حفاظتی ٹیکہ جات سمیت تمام بنیادی صحت پروگراموں کو موثر انداز میں جاری رکھا جائے تاکہ دور دراز علاقوں کے عوام کو بہتر طبی سہولیات میسر آسکیں۔انہوں نے اس موقع پر کہا کہ پی پی ایچ آئی بلوچستان وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن کے مطابق ضلع گوادر کے تمام بنیادی مراکز صحت میں صحت کی سہولیات کے معیار کو مزید بہتر بنانے، عملے کی کارکردگی کو موثر بنانے اور عوام کو بلا تعطل طبی خدمات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بنیادی مراکز صحت کی باقاعدہ نگرانی کا مقصد عوام کو معیاری، شفاف اور جوابدہ صحت کی خدمات فراہم کرنا اور نظام صحت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 2026/6135
ضلع قلعہ عبداللہ 13 جولائی:ـ
ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خلیل احمد بگٹی، تمام ضلعی محکموں کے سربراہان، ڈی سی سپرنٹنڈنٹ جعفر خان ترین، ڈی سی سپرنٹنڈنٹ محمد شفیق خان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں، مختلف سرکاری محکموں کی کارکردگی، عوامی خدمات کی فراہمی، بین المحکماتی ہم آہنگی، امن و امان، صحت، تعلیم، بلدیاتی امور اور دیگر انتظامی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر مختلف محکموں کے سربراہان نے اپنے اپنے شعبوں کی کارکردگی، جاری منصوبوں، پیش رفت اور درپیش مسائل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے بروقت اور مؤثر حل کو اپنی اولین ترجیح بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری امور میں شفافیت، جوابدہی، بین المحکماتی رابطے اور مؤثر نگرانی کو مزید مضبوط بنایا جائے، جبکہ جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ معیار اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، سرکاری خدمات کے معیار میں بہتری اور ضلعی انتظامیہ و تمام محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ تمام متعلقہ اداروں کے تعاون سے عوام کو بروقت، معیاری اور بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اجلاس کے اختتام پر مختلف محکموں کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ باہمی تعاون، مؤثر رابطے اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر عملدرآمد کو مزید تیز کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر اور مؤثر سرکاری خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6136
ضلع قلعہ عبداللہ 13 جولائی: ـڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر (DEOC) قلعہ عبداللہ میں خصوصی ایف آئی پی وی (FIPV) مہم کے پہلے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلع بھر میں جاری مہم کی پیش رفت، ٹیموں کی کارکردگی، بچوں کی ویکسینیشن، کوریج، درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کھوسو، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی ضیاء الرحمن، پولیو آفیسر ڈاکٹر احمد جمالی، پولیو بلوچستان ایس بی سی سی آفیسر عبدالباسط اچکزئی، ڈسٹرکٹ کمیونیکیشن آفیسر ڈاکٹر دولت خان کاکڑ، مسعود احمد اچکزئی سمیت محکمہ صحت، پولیو پروگرام اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر کو ایف آئی پی وی مہم کے پہلے روز کی مجموعی کارکردگی، مختلف یونین کونسلز میں ٹیموں کی سرگرمیوں، اہل بچوں کی ویکسینیشن، کوریج، ٹیموں کی حاضری، سیکیورٹی انتظامات اور فیلڈ میں پیش آنے والے امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر مہم کو مزید مؤثر، منظم اور کامیاب بنانے کے لیے متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی نے کہا کہ بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے ہمیشہ کے لیے محفوظ بنانا حکومت، محکمہ صحت، والدین اور معاشرے کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو سے پاک اور صحت مند معاشرے کی تشکیل اسی وقت ممکن ہے جب ہر اہل بچے تک بروقت حفاظتی ویکسین پہنچائی جائے اور اس قومی مہم کو پوری ذمہ داری، لگن اور جذبے کے ساتھ کامیاب بنایا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ اداروں، محکمہ صحت، پولیو ورکرز، سپروائزرز، سیکیورٹی اہلکاروں اور فیلڈ اسٹاف کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ باہمی تعاون، مؤثر نگرانی اور عوامی شمولیت کے ذریعے ایف آئی پی وی مہم کو کامیابی سے ہمکنار کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع قلعہ عبداللہ کو پولیو سے پاک بنانے کے قومی مشن میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی اور ہر اہل بچے تک حفاظتی ویکسین کی رسائی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/6137
ضلع قلعہ عبداللہ 13 جولائی:ـ ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خلیل احمد بگٹی اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کھوسو نے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر (DEOC) قلعہ عبداللہ میں منعقدہ افتتاحی تقریب کے دوران خصوصی ایف آئی پی وی (FIPV) و انسدادِ پولیو مہم کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ایک بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر مہم کا آغاز کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع بھر کے ہر اہل بچے تک حفاظتی ویکسین کی بروقت، محفوظ اور مؤثر فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔تقریب میں اسسٹنٹ کمشنر گلستان عرفان احمد خلجی، ڈسٹرکٹ کمیونیکیشن آفیسر ڈاکٹر دولت خان کاکڑ، ڈی سی سپرنٹنڈنٹ محمد شفیق خان، مسعود احمد اچکزئی سمیت ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، ای او سی، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران و نمائندگان نے شرکت کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی نے کہا کہ بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے ہمیشہ کے لیے محفوظ بنانا حکومت، متعلقہ اداروں، والدین اور معاشرے کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، پولیس اور تمام متعلقہ ادارے ایف آئی پی وی مہم کی کامیابی کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت ضلع کے شہری، دیہی اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے ہر اہل بچے تک حفاظتی ویکسین کی بروقت رسائی یقینی بنائی جا رہی ہے۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے اور مقررہ حفاظتی ویکسین ضرور دلوائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خلیل احمد بگٹی نے کہا کہ پولیو ٹیموں کی حفاظت ضلعی پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مہم کے دوران تمام ٹیموں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ بلاخوف و خطر ضلع کے تمام شہری، دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دے سکیں۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کھوسو نے مہم کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ تربیت یافتہ پولیو ورکرز اور محکمہ صحت کی ٹیمیں گھر گھر جا کر اہل بچوں کو ایف آئی پی وی ویکسین اور پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کا بنیادی مقصد ہر بچے کو پولیو وائرس سے محفوظ بنانا اور ضلع قلعہ عبداللہ کو پولیو فری بنانے کے قومی ہدف کے حصول میں بھرپور کردار ادا کرنا ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6138
نصیرآباد 13 جولائی: ـڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے آج ضلع میں گزشتہ تین برسوں (2023، 2024 اور 2025) کے دوران مکمل ہونے والے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ ایس ڈی او بی اینڈ آر عابد علی پہنور اور ایکسین اربن پلاننگ جہانزیب خان بنگلزئی بھی موجود تھے
ڈپٹی کمشنر نے مختلف علاقوں میں جاری اور مکمل شدہ ترقیاتی منصوبوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ ان منصوبوں میں ٹف ٹائلز کی تعمیر شامل ہے، جن کے تحت پیر جان بنگلزئی محلہ، عبدالغنی مینگل محلہ اور ہندو محلہ میں گلیوں کی پختگی کو یقینی بنایا گیا ہے، جس سے نہ صرف آمد و رفت میں بہتری آئی ہے بلکہ شہریوں کو صاف ستھرا ماحول بھی میسر آیا ہےاسی طرح سولر اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب کے منصوبوں کا بھی معائنہ کیا گیا، جن میں ریلوے فٹبال گراؤنڈ اور ہندو محلہ شامل ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد رات کے اوقات میں روشنی کی فراہمی کو یقینی بنا کر شہریوں کے تحفظ اور سہولت میں اضافہ کرنا ہےمزید برآں، بلیک ٹاپ روڈز کی تعمیر کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں گوٹھ عبید اللہ عمرانی اور شفع محمد عمرانی کی سڑکیں شامل ہیں۔ ان سڑکوں کی تعمیر سے دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان رابطہ بہتر ہوا ہے اور عوام کو سفری سہولیات میں نمایاں بہتری حاصل ہوئی ہےڈپٹی کمشنر نے بی ایس ڈی آئی پروگرام کے تحت قائم فلٹریشن پلانٹ گوٹھ عبید اللہ عمرانی کا بھی معائنہ کیا، جہاں عوام کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے انہوں نے اس منصوبے کی افادیت کو سراہتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ اس کی مستقل دیکھ بھال کو یقینی بنایا جائے دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے تمام منصوبوں کے معیار، پائیداری اور عوامی افادیت کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ ہر منصوبے میں معیار کو ہر صورت برقرار رکھا جائے اور کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کی بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کر رہی ہے تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل شفافیت اور اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنا متعلقہ اداروں کی اولین ذمہ داری ہے انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب اس میں معیار اور پائیداری کو یقینی بنایا جائے، تاکہ یہ منصوبے طویل عرصے تک عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں اور ان کے معیار پر عوام کا اعتماد برقرار رہے اس سلسلے میں تمام متعلقہ افسران کو چاہیے کہ وہ نہ صرف منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں بلکہ ان کی مسلسل نگرانی اور بہتری کے عمل کو بھی جاری رکھیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/6139
کوئٹہ13 جولائی:ـآئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف عوام کے جان و مال کے علاوہ قانون کی عملداری قائم رکھنے میں بلوچستان پولیس ہر اول دستے کے طور پر کام کر رہی ہے ۔ یہ بات انہوں نے آج یہاں کلی ببری ہنہ اوڑک میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس اور اے ٹی ایف کے جوانوں سے ببری کے مقام پر اہلکاروں سے ملاقات کے دوران کہی۔ ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عمران شوکت بھی ان کے مراد تھے۔ آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان پولیس کی ان گنت قربانیوں کی مثالیں موجود ہیں پولیس جوانوں نے دہشت گردی اور جرائم کے سرکوبی کے لیے دی گئی ذمہ داری کو احسن طریقے سے انجام دے رہی ہیں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور قانونی عملداری کو قائم رکھنے کے لیے ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائے گی امن کے عملداری کے لیے شہداء کی قربانیاں ہمارے لیے مشل راہ ہیں پوری قوم شہداء کے پسماند گان کے ساتھ ہے اور ان کے خاندانوں کو بھی تنہاء نہیں چھوڑا جائے گا قبل ازیں ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت نے کلی ببری ہنہ اور شعبان میں جاری آپریشن کے حوالے سے بریفنگ دی۔آئی جی پولیس محمد طاہر نے ہنہ واقعے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین سے شہداء کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ آئی جی بلوچساتن محمد طاہر نے ہنہ تھانے کا بھی دورہ کیا وہاں پر موجود اہلکاروں سے ملاقات کی اور ان کے عزم اور حوصلے کو سراہا جوانوں نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے اور ملک و قوم کے عزم و استحکام کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا اعادہ کیا۔








