13th-June-2026

خبرنامہ نمبر4803/2026
کوئٹہ13جون: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے عالمی یوم عطیہ خون کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اپنی ضرورت دوسروں کیلئے قربان کرنا ہی حقیقی قربانی ہے۔ خون کا عطیہ دینا خدمت کا قابل تحسین عمل ہے۔ اپنے خون کی تھوڑی سی مقدار عطیہ کرکے ہم انسانیت کے اعلیٰ مقصد کی پاسداری یقینی بناتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہماری اپنی ضرورت کے باوجود، ہم دوسروں کی ضرورت کو پہچانتے اور تسلیم کرتے ہیں۔ یہ عطیہ دہندگان کی انسانیت کا سچا ثبوت ہے۔ 14جون خون کے عطیہ کے اس عالمی دن پر ہم ایک مشترکہ مقصد کیلئے اپنی آواز بلند کرتے ہیں جو سرحدوں، ثقافتوں اور عقائد سے بالاتر ہوئے۔ واضح رہے کہ بہت سے ترقی پذیر ممالک میں، محفوظ خون تک رسائی صرف ایک طبی سروس نہیں ہے بلکہ زندگی اور موت کے درمیان ایک امید کی کرن ہے۔ بلوچستان جیسے پسماندہ صوبہ میں خون کی ضرورت خاص طور پر اہم ہے۔ زچگی کے دوران خون کی منتقلی کی بروقت رسائی نہ ہونے سے زچگی کی شرح اموات میں اضافہ ہوتا ہے۔ لیوکیمیا سے لڑنے والے بچے، حادثے کا شکار ہونے والے، اور دائمی حالات کے مریض سبھی محفوظ خون کی مسلسل فراہمی پر منحصر ہیں۔ خون کے عطیات کے بارے میں عوام میں شعور اجاگر کرنے کیلئے ایک بھرپور اولسی بیداری مہم چلانے کی اشد ضرورت ہے، خاص طور پر بلوچستان میں، جہاں بدقسمتی سے سب سے کم آبادی ہونے کے باوجود زچگی کی شرح اموات سب سے زیادہ ہے۔

خبرنامہ نمبر4804/2026
کوئٹہ، 13 جون:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت آئندہ صوبائی بجٹ کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کا ایک اہم مشاورتی اجلاس ہفتہ کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی اجلاس میں مالی سال-27 2026 کے صوبائی بجٹ کی تیاری، ترقیاتی ترجیحات اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق مختلف تجاویز پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا شرکاء نے تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، مواصلات، توانائی، بلدیاتی خدمات اور بنیادی انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں اور عوامی ضروریات کے حوالے سے اپنی آراء اور سفارشات پیش کیں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت ایک ایسا متوازن، حقیقت پسندانہ اور عوام دوست بجٹ پیش کرنے کے لیے پرعزم ہے جو بلوچستان کے عوام کی ضروریات، ترقیاتی تقاضوں اور معاشی حقائق سے ہم آہنگ ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بجٹ سازی کے عمل میں تمام سیاسی جماعتوں اور پارلیمانی نمائندوں کی آراء کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان کی مثبت تجاویز کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں عوامی فلاح و بہبود، تعلیم، صحت، روزگار کے مواقع، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور سماجی شعبوں کی مضبوطی کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی توجہ ایسے ترقیاتی منصوبوں پر مرکوز ہے جو براہ راست عوام کی زندگیوں میں بہتری لائیں اور صوبے کی معاشی و سماجی ترقی میں مؤثر کردار ادا کریں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے پسماندہ، دور افتادہ اور کم ترقی یافتہ علاقوں کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے کہا کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور متوازن علاقائی ترقی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ صوبے کے تمام اضلاع یکساں ترقی کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے انتخاب اور تکمیل میں شفافیت، معیار، جوابدہی اور عوامی ضرورت کو بنیادی اصول بنایا جائے گا انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے اور ترقیاتی عمل کی رفتار کو مزید تیز کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور عوامی خوشحالی کے حصول کے لیے اجتماعی دانش، سیاسی ہم آہنگی اور وسیع تر مشاورت ناگزیر ہے حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایسا بجٹ مرتب کرے گی جو صوبے کے روشن مستقبل، پائیدار ترقی اور عوامی توقعات کی حقیقی ترجمانی کرے اجلاس کے شرکاء نے بجٹ سازی کے عمل میں سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے اور مشاورتی عمل کو فروغ دینے کے اقدام کو سراہتے ہوئے بلوچستان کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے اپنے بھرپور تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔

خبرنامہ نمبر4805/2026
نصیرآباد13جون۔پٹ فیڈر اور کھیرتھر کینال (صوبہ بلوچستان) میں پانی کی فراہمی کی شدید قلت کے پیش نظر سپرنٹینڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد مدثر ظفر کھوسہ نے تحریری طور پر حکام بالا کو آگاہی فراہم کردی انہوں نے بتایا کہ صوبہ بلوچستان کو پٹ فیڈر اور کھیرتھر کینال میں آبپاشی کے پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔انڈس واٹر ایپورشنمنٹ ایکارڈ، 1991 کے تحت بلوچستان سب سے چھوٹا حصہ دار ہے، جس کا کل 117 MAF میں سے صرف 3.87 MAF کا حصہ مختص کیا گیا ہے۔صوبہ سندھ میں گڈو اور سکھر بیراج سے نکلنے والے نہری نظام کے ذریعے اپنا حصہ حاصل کرتا ہے۔ریگولیشن سسٹم پر سندھ کے آپریشنل کنٹرول کی وجہ سے مسلسل خدشات پائے جاتے ہیں اور سپلائی کو ترجیحی طور پر سندھ کے اپنے کینال نیٹ ورک کی طرف موڑ دیا جا رہا ہے، بغیر بہاو اسٹیک ہولڈرز، خاص طور پر بلوچستان کے لیے مجاز حصہ کو یقینی بنائے۔انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا کہ سندھ ایریگیشن اتھارٹیز بلوچستان کو ارسا کی طرف سے اختیار کردہ پانی کا جائز حصہ جاری نہیں کر رہی ہیں۔ قابل قدر سیکرٹری محکمہ آبپاشی، حکومت بلوچستان، اس دفتر اور آپ کے معزز دفتر نے متعدد بار متعلقہ حکام سے مذکورہ بالا خط و کتابت کے ذریعے بلوچستان کے مجاز حصہ کی فراہمی کو یقینی بنانے کی درخواست کی ہے۔ تاہم، ان کوششوں کے باوجود، پٹ فیڈر اور کیرتھر کینال دونوں میں پانی کے اخراج میں کمی جاری ہے۔گذشتہ روز پٹ فیڈر کینال میں پانی کا اخراج 6500 کیوسک کی مجاز سپلائی کے مقابلے میں اچانک 2,725 کیوسک رہ گیا، جس کے نتیجے میں 58% کی کمی واقع ہوئی۔ مزید برآں، یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کے مختص حصے کا کچھ حصہ ڈیزرٹ پٹ فیڈر (شاہی کینال) کی طرف موڑ دیا گیا ہے، جس سے پٹ فیڈر کینال کے کمانڈ ایریاز میں پہلے سے ہی نازک صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔11 سے 20 جون، 2026 تک دس یومیہ مدت کے لیے، IRSA نے پٹفیڈر کینال کے لیے 6,500 کیوسک اور کھیرتھر کینال کے لیے 2,400 کیوسک آبپاشی کی فراہمی کی اجازت دی، بشمول چشمہ بیراج سے ہونے والے نقصانات، اس اجازت کے باوجود بلوچستان کو اس کا جائز حصہ نہیں ملا۔ اگرچہ گڈو اور سکھر بیراجوں پر پانی کی آمد اور اخراج میں اضافہ ہوا ہے، لیکن پٹفیڈر اور کھیرتھر کینال تک پہنچنے والی سپلائی میں کوئی خاص بہتری نہیں دیکھی گئی۔یہ شدید قلت چاول کی اُگائی کی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کر رہی ہے اور اس کے نتیجے میں کاشت شدہ کمانڈ ایریا میں خاطر خواہ کمی واقع ہو سکتی ہے، جس سے بلوچستان میں معاشی مشکلات اور بے روزگاری بڑھ سکتی ہے۔ اس معاملے کو فوری طور پر حکومت سندھ کے مجاز حکام کے ساتھ اٹھایا جائے تاکہ بلاجواز کمی کو فوری طور پر بند کیا جائے اور پٹ فیڈر اور کیرتھر کینال میں بلوچستان کے مختص کردہ پانی کی مکمل، بلاتعطل اور مساوی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ غیر جانبدار تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ میکانزم، ترجیحا واپڈا کیذریعے، پٹ فیڈر کینال کے RD-109 ڈاؤن اسٹریم اور کیرتھر کینال (گھڑنگ ریگولیٹر) کے RD-102 ڈاؤن اسٹریم پر قائم کیا جائے، خاص طور پر خریف کے موسم میں، تاکہ بلوچستان کو اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ بلوچستان کو آئی آر ایس اے کی منظوری کے ساتھ اس کا حق حاصل ہو۔

خبرنامہ نمبر4806/2026
موسی خیل13جون:ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس موسیٰ خیل میں ڈی آئی سی سی کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے کی۔ اجلاس میں ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر نادر ایسوٹ، ڈبلیو ایچ او کے ڈویژنل کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد حنیف، آئی ایچ ایچ این کے کوآرڈینیٹر مجیب الرحمٰن، MEAL آفیسر احسان لاشاری،ڈی ایس او عبدالرؤف،ڈی ایس وی گل داد، اے ایس وی شیر زمان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران گزشتہ فیصلوں اور موجودہ کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ای پی آئی کوریج میں بہتری، ویکسینیٹرز کی کارکردگی، NEIR حاضری اور فیلڈ سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔ پولیگون مانیٹرنگ کے حوالے سے مختلف یونین کونسلز کی کوریج، مسڈ ایریاز اور فیلڈ مانیٹرنگ کے امور کا جائزہ لیا گیا تاکہ تمام علاقوں کو بروقت اور مؤثر انداز میں کور کیا جا سکے۔اجلاس میں رہ جانے والی کمیونٹیز اور زیرو ڈوز بچوں کی نشاندہی کرکے انہیں جلد از جلد ویکسینیشن کی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اس کے علاوہ کولڈ چین سسٹم اور ویکسین مینجمنٹ کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور بہتر کارکردگی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔

خبرنامہ نمبر4807/2026
نصیرآباد13جون: ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے آر ایچ سی منجھو شوری کا اچانک دورہ کرکے ہسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، عملے کی کارکردگی اور مریضوں کو دی جانے والی طبی امداد کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے ہسپتال کے مختلف وارڈز کا معائنہ کیا اور زیر علاج مریضوں سے ملاقات کرکے انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور ادویات کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے میل ڈاکٹر کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا دورے کے دوران ایل ایچ وی نے ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ماہ مئی کے دوران آر ایچ سی منجھو شوری میں مجموعی طور پر 157 زچگیاں کامیابی سے کروائی گئیں اور خواتین کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔اس کارکردگی پر ڈپٹی کمشنر نے ایل ایچ وی اور طبی عملے کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں شاباش دی اور کہا کہ دیہی علاقوں میں صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی قابل تحسین اقدام ہے۔دورے کے موقع پر سب ڈویژنل آفیسر بی اینڈ آر عابد علی پہنور اور بابو شکرالدین تنیہ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال میں موجود سہولیات، ادویات کے ذخیرے اور دیگر انتظامی امور کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ادویات کی کمی کو فوری طور پر پورا کیا جائے جبکہ ڈاکٹرز اور طبی عملے کی رہائش سے متعلق درپیش مسائل اور سہولیات کی فراہمی کو بھی جلد یقینی بنایا جائے تاکہ صحت کے شعبے میں موجود مشکلات کا مؤثر انداز میں تدارک کیا جاسکے۔ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ آر ایچ سی منجھو شوری وسیع دیہی علاقوں کے عوام کو طبی سہولیات فراہم کرنے والا ایک اہم مرکز ہے اور یہاں آنے والے مریضوں کو ہر ممکن بہتر علاج معالجے کی سہولیات مہیا کرنا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت ایک عظیم فریضہ ہے اور اس کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے طبی عملے پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض پوری ذمہ داری، دیانتداری اور جذبہ خدمت کے ساتھ انجام دیں تاکہ عوام کو معیاری طبی سہولیات میسر آسکیں۔ ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ صحت کے شعبے کی بہتری اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔

خبرنامہ نمبر4808/2026
نصیرآباد 13جون:ڈپٹی کمشنر جعفرآباد کی خصوصی ہدایات پر تحصیلدار جھٹ پٹ عبدالغنی نے مختلف بازاروں میں غیر قانونی اور ممنوعہ اشیاء کے خلاف مؤثر کارروائی کرتے ہوئے متعدد دکانوں کا معائنہ کیا کارروائی کے دوران مختلف دکانوں سے بڑی مقدار میں اسمگل شدہ سگریٹ اور انڈین گٹکا برآمدکیا، جسے موقع پر ہی قبضے میں لے کر ضبط کر لیا گیا متعلقہ دکانداروں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اس کارروائی میں مجموعی طور پر 50,700 روپے مالیت کی غیر قانونی اشیاء بھی ضبط کی گئیں تحصیلدار عبدالغنی نے اس موقع پر دکانداروں کو سختی سے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ممنوعہ اور اسمگل شدہ اشیاء کی خرید و فروخت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے مزید کہا کہ عوامی صحت کے تحفظ اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ایسی کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی بھی خلاف ورزی پر کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر4809/2026
صحبت پور۔ ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین کے احکامات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر صحبت پور سیف الدین کھوسہ نے عوامی شکایات پر مقامی بازار کا دورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے قصابوں، سبزی فروشوں، پھل فروشوں سمیت مختلف دکانوں کا معائنہ کیا، اسسٹنٹ کمشنر نے گوشت، سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا جائزہ لیا اور سرکاری نرخ ناموں کی جانچ پڑتال کی۔انہوں نے دکانداروں کو ہدایت کی کہ تمام اشیاء مقررہ سرکاری نرخوں کے مطابق فروخت کی جائیں اور نرخ نامے نمایاں جگہوں پر آویزاں کئے جائیں،معائنے کے دوران نرخ ناموں کی خلاف ورزی اور گرانفروشی میں ملوث دکانداروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 7,950 روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ 8 دکانداروں کو سخت وارننگز جاری کی گئیں کہ آئندہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں مزید سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سیف الدین کھوسہ نے کہا کہ گوشت اور دیگر اشیائے ضروریہ کی زائد قیمتوں سے متعلق عوامی شکایات کا فوری نوٹس لیا گیا ہے گرانفروشی، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو معیاری اشیائے خورونوش مقررہ نرخوں پر فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور بازاروں کی مسلسل نگرانی جاری رہے گی تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر4810/2026
گوادر: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیر صدارت ضلع کے مختلف موضع جات میں اراضی ریکارڈ سے متعلق اوورلیپنگ اور گیپس کے مسائل کے پائیدار حل کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر لینڈ ریونیو جہانزیب شیخ نے خصوصی طور پر شرکت کی۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ظہور احمد بلوچ، تحصیلدار سیٹلمنٹ اکبر بلوچ، تحصیلدار اورماڑہ نور خان بلوچ، تحصیلدار ریونیو منیر احمد بلوچ، تحصیلدار جیوانی اعظم خان گچکی سمیت متعلقہ ریونیو اسٹاف نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں ضلع گوادر کے مختلف علاقوں خصوصاً انکارہ شمالی و جنوبی میں زمینوں کے اوورلیپنگ اور ریکارڈ گیپس سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ جہاں بھی ریکارڈ میں تضادات اور اوورلیپنگ کی صورتحال موجود ہے، وہاں اراضی کی ملکیتی حیثیت (سرکاری یا نجی) کا واضح تعین کیا جا رہا ہے تاکہ دیرینہ مسائل کا مستقل بنیادوں پر حل ممکن بنایا جا سکے۔اجلاس میں ایس ایم بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں کی سفارشات پر بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا جبکہ مختلف الاٹمنٹ کیسز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری اراضی کی حدبندی اور ریکارڈ کی درستگی کے حوالے سے اہم فیصلے زیر غور آئے تاکہ سرکاری زمینوں کے تحفظ اور شفاف ریکارڈ کی تیاری کو یقینی بنایا جا سکے۔مزید برآں پلیری شرقی، مرجانی اور دیگر اہم مواضعات کے ریکارڈ سے متعلق امور بھی اجلاس میں زیر بحث آئے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ اراضی ریکارڈ کی درستگی، شفافیت اور جدید خطوط پر اپڈیٹ کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوورلیپنگ اور گیپس جیسے دیرینہ مسائل کے خاتمے سے نہ صرف عوامی شکایات میں کمی آئے گی بلکہ زمینوں سے متعلق تنازعات کے حل میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔انہوں نے متعلقہ ریونیو افسران کو ہدایت کی کہ تمام ریکارڈ کو جلد از جلد درست، ڈیجیٹائزڈ اور شفاف بنایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر کی اس فعال اور نتیجہ خیز کاوش کو شرکاء نے سراہا اور اسے ریونیو اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

خبرنامہ نمبر4811/2026
نصیرآباد: ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے ضلع میں بلوچستان اسپیشل ڈیویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز ٹو کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے سول ہسپتال ڈیرہ مراد جمالی میں زیر تعمیر مردہ خانہ (موریچری) سمیت گوٹھ لنجا خان جکھرانی اور گوٹھ عمران عمرانی میں قائم کیے جانے والے فلٹریشن پلانٹس کا معائنہ کیا اور منصوبوں پر جاری پیش رفت کا جائزہ لیا۔اس موقع پر ایگزیکٹو انجینیئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نصیرآباد ظفر اقبال زہری، سب ڈویژنل افیسر مواصلات و تعمیرات (بلڈنگز) عابد علی پہنور، سب ڈویژنل افیسر پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ عمران علی اور بابو شکرالدین تنیہ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ متعلقہ افسران نے ڈپٹی کمشنر کو منصوبوں کی تکمیل، معیار، لاگت اور پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے مختلف منصوبوں کا معائنہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی کام مقررہ معیار اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات بروقت حاصل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسپیشل ڈیویلپمنٹ انیشیٹو فیز ٹو کے تحت جاری تمام منصوبے عوامی فلاح و بہبود کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور ان کی تکمیل میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کا معیار کے مطابق مکمل ہونا نہایت ضروری ہے کیونکہ معیاری تعمیرات ہی عوام کو دیرپا سہولیات فراہم کر سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بی ایس ڈی آئی کے تمام ترقیاتی منصوبوں کی کڑی نگرانی اور مسلسل مانیٹرنگ کی جائے گی تاکہ ان میں شفافیت، معیار اور رفتار کو یقینی بنایا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے عوامی فلاح کے لیے شروع کیے گئے منصوبوں کو ہر صورت کامیاب بنایا جائے گا اور ان کی بروقت تکمیل کے ذریعے عوام کو صحت،صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر4812/2026
تربت13جون: ضلعی انتظامیہ کیچ اور فرنٹیئر کور (ایف سی) بلوچستان کے اشتراک سے سرکٹ ہاؤس تربت میں ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں عوامی مسائل، ترقیاتی منصوبوں اور سرحدی تجارت سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔کھلی کچہری میں ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی، کمانڈنٹ مکران اسکاؤٹس بریگیڈیئر عمر طاہر، کرنل علی، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کیچ زوہیب محسن، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) کیچ ڈاکٹر عبدالروف بلوچ اور ایکسین واپڈا آصف مگسی سمیت مختلف محکموں کے افسران شریک ہوئے۔تقریب میں انجمن تاجران، کیچ سول سوسائٹی کے نمائندوں، سیاسی جماعتوں کے کارکنان، سرکاری محکموں کے سربراہان اور عوام الناس کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کمانڈنٹ مکران اسکاؤٹس بریگیڈیئر عمر طاہر نے کہا کہ ایف سی بلوچستان ضلعی انتظامیہ کیچ کے ساتھ مل کر سرحدی تجارت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور عوام کو جلد ہی بارڈر تجارت کے حوالے سے خوشخبری ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کیچ میں سرحدی تجارت کی بندش امن و امان کی صورتحال کے باعث پیش آئی تھی، تاہم پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے متعلقہ مسائل کے حل کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سرحدی تجارت کو درپیش مشکلات جلد دور ہو جائیں گی۔بریگیڈیئر عمر طاہر نے عوامی سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان ضلع کیچ کی ترقی میں خصوصی دلچسپی رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے علاوہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو(BSDI) پروگرام کے تحت بھی خطیر فنڈز مختص کیے جا رہے ہیں تاکہ تربت شہر اور مضافاتی علاقوں کے بنیادی مسائل حل کیے جا سکیں۔ انہوں نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تربت شہر کے لیے سیوریج نظام کی بہتری سے متعلق منصوبوں کے آغاز کا بھی عندیہ دیا۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ضلع کیچ کے مختلف علاقوں میں BSDI کے تحت متعدد ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، جبکہ آئندہ مالی سال میں ان منصوبوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ ضلع کے دیگر علاقوں کو بھی ترقیاتی سرگرمیوں سے مستفید ہونے کا موقع مل سکے۔انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال میں صحت، تعلیم اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق مختلف منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی، جن میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت، عوامی مقامات پر شیڈز اور سائبانوں کی تعمیر، عوامی بیت الخلا کے قیام اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی شامل ہے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ تحصیل دشت میں بجلی کی فراہمی، ڈرگ ری ہیبیلیٹیشن سینٹر کی بحالی، لوکل سرٹیفکیٹس کے اجرا کی سہولت، پیٹرولیم مصنوعات اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں پر مؤثر نگرانی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اس سے قبل شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ضلع کیچ میں کم از کم ایک بارڈر کراسنگ پوائنٹ کو سرحدی تجارت کے لیے جلد از جلد فعال کیا جائے تاکہ تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے اور مقامی آبادی کی معاشی حالت بہتر ہو سکے۔شرکاء نے ضلع کیچ کے مضافاتی علاقوں تک ترقیاتی منصوبوں کی توسیع، بجلی کے نظام میں بہتری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے میرانی ڈیم سے ملحقہ زرعی اراضی کو قابلِ کاشت بنانے، تحصیل دشت میں لوکل سرٹیفکیٹ کے اجرا کی سہولت فراہم کرنے اور بجلی کی فراہمی کے لیے کھمبوں اور ٹرانسفارمروں کی تنصیب کا بھی مطالبہ کیا۔کھلی کچہری میں آبسر، زعمران، کلاتک اور ضلع کیچ کے دیگر علاقوں میں مفادِ عامہ کے منصوبوں کو شامل کرنے، صحت و تعلیم کے شعبوں میں بہتری لانے اور عوامی خدمات کے معیار کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں۔

خبرنامہ نمبر4813/2026
لورالائی 13جون:ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام میونسپل کمیٹی ہال میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد عوامی مسائل کا حل اور باہمی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ اس اہم تقریب میں ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن ریٹائرڈ محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنرلورالائی ندیم اکرم،اسسٹنٹ کمشنر میختر یحییٰ خان کاکڑ،ڈی ایس پی محمد اعظم بگٹی ایم ایس سول ہسپتال ڈاکٹر محمد انور مندوخیل،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیمیل فوزیہ درانی،پی پی ایچ آئی کے نمائندے اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبد الحمید ابڑو سمیت تمام سرکاری محکموں کے سربراہان، انجمن تاجران،کونسلر حضرت خواتین، ملازمین اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے کمیونٹی کی ترقی میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔کھلی کچہری کے دوران شرکا نے نہایت خوش اسلوبی اور تعمیری انداز میں ضلع لورالائی کو درپیش مختلف امور، بالخصوص امن و امان،بجلی کی صورتحال میں مزید بہتری، ہسپتالوں میں طبی عملے کی حاضری، تعلیمی اداروں کی بحالی اور عوام کے تحفظات کو دور کرنے کی درخواست کی، تاکہ مقامی آبادی کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آسکیں اور سرکاری اداروں پر عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہو۔عوامی تجاویز اور معروضات کا مثبت جواب دیتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے یقین دلایا کہ انتظامیہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرے گی۔ انہوں نے تمام محکموں کے افسران کو کارکردگی مزید بہتر بنانے اور عوامی سہولیات کی فراہمی کو تیز تر کرنے کی ہدایات جاری کیں۔اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر نے خوشخبری سناتے ہوئے بتایا کہ تعلیمی اصلاحات کے تحت ضلع کے درجنوں اسکولوں کی مرمت اور بحالی کا کام آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ صحت اور تعلیم کے بنیادی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مزید نئے پروجیکٹس پر بھی کام شروع کیا جا رہا ہے۔

خبرنامہ نمبر 4814/2025
زیارت13 جون:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور صوبائی وزیر حاجی نور محمد خان دمڑ کی خصوصی ہدایات پر ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی سربراہی میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال زیارت میں دو روزہ مفت میڈیکل اینڈ سرجیکل آئی کیمپ کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی حکومت بلوچستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنکھوں کے امراض میں مبتلا اور بینائی سے محروم افراد کے لیے یہ مفت آئی کیمپ ایک اہم اقدام ہے جس سے ضلع زیارت کے دور دراز علاقوں کے عوام مستفید ہوں گے۔اس دو روزہ فری میڈیکل اینڈ سرجیکل آئی کیمپ کا انعقاد ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال زیارت میں 13 اور 14 جون 2026 کو کیا جا رہا ہے، جہاں ماہر امراض چشم ڈاکٹروں کی ٹیم کوئٹہ سے خصوصی طور پر خدمات انجام دے رہی ہے۔ ٹیم میں ڈاکٹر عبدالباری کاکڑ، آپٹومیٹر جمیل الرحمٰن ڈاکٹر سید محفوظ شاہ، ڈاکٹرمحمد سلیمان اور ڈاکٹر محمد حنیف شامل ہیں۔اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر عرفان الدین بھی موجود تھے۔کیمپ کے دوران مریضوں کو مفت معائنہ، مفت علاج اور جدید فیکو مشین کے ذریعے موتیا کے مفت آپریشن کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام خصوصاً مستحق اور غریب مریضوں کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس قیمتی موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنے آنکھوں کے امراض کا بروقت معائنہ و علاج کروائیں تاکہ بینائی سے متعلق مسائل کا مؤثر حل ممکن بنایا جا سکے۔یہ کیمپ لیپروسی بلائنڈنس کنٹرول پروگرام، محکمہ صحت بلوچستان، میری ایڈیلیڈ لیپروسی سنٹر اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال زیارت کے اشتراک سے منعقد کیا جا رہا ہے، جو عوامی فلاح و بہبود اور صحت کے شعبے میں حکومت بلوچستان کے عملی اقدامات کا مظہر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *