خبرنامہ نمبر7524/2026
کوئٹہ 12جون: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ میڈیا کے غلط استعمال سے ہی حکومت اور نوجوانوں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا میں منفی اور تخریبی پہلوؤں کو زیادہ اجاگر کیا جاتا ہے۔پروپیگنڈے اور افواہیں پھیلانے سے بدظنی اور بداعتمادی کو تقویت مل رہی ہے۔ بیانیہ کی جنگ میں دونوں حکومتی اور عوامی سطح پر جعلی خبروں اور جھوٹے بیانات کا مقابلہ صرف سچی اور تصدیق شدہ خبروں سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ آج دنیا کی کسی بھی بڑی لائبریری سے زیادہ کتابیں آپ کے پرسنل موبائل فون پر دستیاب ہیں لہٰذا فوری طور پر ہمیں اپنے بیانیہ کو مزید زمینی حقائق اور اولسی مفادات کے مطابق ڈھالنے کی اشد ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں ” انڈیویجول لینڈ ” کے زیر تربیت میڈیا لٹریسی اور ڈیجیٹل رائٹس سے متعلق بلوچستان کے مختلف اضلاع سے 30 کے قریب میڈیا ایکٹیویسٹ سے گورنر ہاؤس میں انٹرایکشن کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ڈیجیٹل انفارمیشن ٹکنالوجی نے ہمارے رہنے کے کمروں میں دنیابھر کے مناظر اور آوازوں کو لایا ہے جس کے نتیجے میں ہر موبائل فون ایک نیوز روم ہے۔ اس سہولت کے ساتھ صارف پر کئی اہم ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ اسلیے میڈیا لٹریسی کی یہ تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس اہم تربیت میں شرکاء سیکھیں گے کہ میڈیا کیسے کام کرتا ہے، پیغامات کون تخلیق کرتا ہے اور جعلی خبروں کی تصدیق کیسے کی جاتی ہے۔ ایک مہذب معاشرے کیلئے دفاع کی پہلی لائن جعلی خبروں اور جھوٹے بیانات کی تداروک ہے۔ آپ سب کو معلوم ہیں کہ کسطرح جعلی خبریں، من گھڑت کہانیاں، افواہیں اور غیر معیاری تصاویر چند منٹوں میں لوگوں میں تکلیف اور خوف پھیلا سکتی ہیں۔ گورنر مندوخیل نے تمام زیر تربیت میڈیا ایکٹیویسٹ پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے علاقے میں ”حقائق جانچنے والا” کا کردار ادا کریں۔ صرف سچ اور معروضی حقائق پر مبنی تصدیق شدہ خبروں کو آگے پھیلائیں کیونکہ آپ کے حفاظتی اقدامات ہمارے پورے معاشرے کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے محفوظ بنا سکتے ہیں۔ گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ڈیجیٹل رائٹس اور کمیونٹی لیڈرشپ ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ڈیجیٹل حقوق کا مطلب ہے آپ کی رازداری، آزادی اور آن لائن تحفظ کا حق کو یقینی بنانا ہے۔ مستقبل قریب کے کمیونٹی لیڈرز کے طور پر، آپ کو اپنے لیے ان حقوق کا تحفظ اور نئی نسل میں حب الوطنی کی اقدار کو فروغ دینا ہوگا۔ آخر میں انہوں نے منتظمین اور شرکاء کی کامیابی اور سرخروئی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
خبرنامہ نمبر7525/2026
کوئٹہ، 12 جون: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا ایک اہم اجلاس جمعہ کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں منعقد ہوا جس میں عوامی مفاد، انتظامی اصلاحات، بلدیاتی نظام، قانون و انصاف، ترقیاتی منصوبوں، صحت، بین المذاہب ہم آہنگی اور گورننس سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی اجلاس کے آغاز میں بلوچستان سمیت ملک بھر میں امن و استحکام کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سیکیورٹی فورسز کے شہداء اور شہری شہداء کے درجات کی بلندی، مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی گئی صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے بتایا کہ کابینہ نے بلوچستان میں بلدیاتی اداروں کی آئینی مدت مکمل ہونے پر 8 فروری 2027 کو ان اداروں کی تحلیل کی منظوری دے دی ہے انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے اس امر پر بھی اتفاق کیا ہے کہ آئندہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے قبل نئے اضلاع کی تشکیل، حلقہ بندیوں اور معزز عدلیہ کے مختلف فیصلوں سے متعلق تمام امور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے رکھے جائیں گے تاکہ انتخابات کے انعقاد کے لیے ایک مؤثر، قابل عمل اور قانونی فریم ورک مرتب کیا جا سکے شاہد رند نے کہا کہ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات بھی صوبے کے دیگر اضلاع کے ساتھ ہی منعقد کیے جائیں گے چونکہ کوئٹہ انتظامی طور پر دو اضلاع میں تقسیم ہو چکا ہے اور بعض انتظامی امور کی تکمیل ابھی باقی ہے اس لیے کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات بھی دیگر اضلاع کے ساتھ ایک ہی مرحلے میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ بلدیاتی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کابینہ نے ضلع بارکھان میں نئی میونسپل کمیٹی ”ڈیرہ کھیتران“ کے قیام جبکہ برشور میں نئی میونسپل کمیٹی کے قیام کی منظوری دی اسی طرح میونسپل کمیٹی خاران کو میونسپل کارپوریشن کا درجہ دینے کی منظوری بھی دی گئی تاکہ شہری سہولیات کی فراہمی اور مقامی حکومتوں کی استعداد کار میں اضافہ کیا جا سکے شاہد رند کے مطابق صوبائی کابینہ نے بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن ایکٹ 2021 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دی جس کا مقصد معلومات تک رسائی کے نظام کو مزید شفاف، مؤثر اور عوام دوست بنانا ہے انہوں نے بتایا کہ قانون و انصاف کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر کابینہ نے صوبے کے تمام سیشن ججز، ایڈیشنل سیشن ججز اور جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کو سی این ایس (کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز) مقدمات کے ٹرائل کے اختیارات دینے کی منظوری دی ہے، جس سے منشیات سے متعلق مقدمات کے جلد اور مؤثر فیصلوں میں مدد ملے گی سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کے فروغ کے لیے کابینہ نے بلوچستان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ رولز 2026 کی منظوری دی جس سے نجی شعبے کی شراکت داری کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کے مؤثر نفاذ کی راہ ہموار ہوگی شاہد رند نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے بلوچستان سیکرٹریٹ ایمپلائز کوآپریٹو سوسائٹی کے قیام کی منظوری دی ہے جس کے تحت سیکرٹریٹ ملازمین کو گھروں کی تعمیر کے لیے بلا سود قرضوں کی سہولت فراہم کی جائے گی بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے فروغ کے لیے کابینہ نے محکمہ اقلیتی امور کا نام تبدیل کرکے ”انٹر فیتھ ہارمونی ڈیپارٹمنٹ“ رکھنے کی منظوری دی کابینہ نے محکمہ ثقافت کے منسلک ونگز میں گریڈ 1 سے گریڈ 15 تک کے ملازمین کے لیے کنٹریکٹ اپائنٹمنٹ پالیسی کی بھی منظوری دی، جس سے محکمانہ امور کو مزید منظم اور مؤثر بنایا جا سکے گا انہوں نے بتایا کہ عوام کو صاف پانی اور حفظان صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی جانب سے پیش کردہ واش (WASH) پالیسی دستاویزات کی منظوری بھی دی گئی صحت کے شعبے میں جاری غیر ملکی معاونت سے چلنے والے منصوبوں کی فعالیت برقرار رکھنے کے لیے کابینہ نے ان منصوبوں کو صوبائی ٹیکسوں سے استثنیٰ دینے کی منظوری دی اسی طرح نرسنگ گریجویٹ ٹرینیز کے لیے 28 ہزار 70 روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کرنے کی منظوری بھی دی گئی تاکہ نوجوان نرسنگ گریجویٹس کی پیشہ ورانہ تربیت اور استعداد کار میں اضافہ کیا جا سکے امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لیے کابینہ نے حب اور ڈام میں نئے پولیس اسٹیشنز جبکہ ضلع چاغی کے علاقے دالبندین میں ویمن پولیس اسٹیشن کے قیام کی منظوری دی، جس سے عوام خصوصاً خواتین کو بہتر پولیسنگ اور تحفظ کی سہولیات میسر آئیں گی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی خدمت، شفاف طرز حکمرانی، ادارہ جاتی اصلاحات اور پائیدار ترقی کے ایجنڈے پر بھرپور انداز میں عمل پیرا ہے انہوں نے کہا کہ کابینہ کے آج کے فیصلے مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے، عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے، سرمایہ کاری کے فروغ، قانون کی حکمرانی کے استحکام اور صوبے میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کرنے میں معاون ثابت ہوں گے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلدیاتی ادارے جمہوری نظام کی بنیاد ہیں اور حکومت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ آئندہ بلدیاتی انتخابات مکمل شفافیت، آئینی تقاضوں اور قانونی ضوابط کے مطابق منعقد ہوں انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تمام انتظامی اور قانونی معاملات بروقت مکمل کییجائیں تاکہ عوام کو مؤثر اور فعال مقامی حکومتوں کا نظام میسر آ سکے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے میں شفافیت، احتساب، بین المذاہب ہم آہنگی، امن و امان، صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کے عوام کی فلاح و بہبود، خوشحالی اور ترقی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور صوبے کے ہر علاقے کو ترقی کے ثمرات سے مستفید کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر7526/2026
کوئٹہ، 12 جون: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی جمعہ کے روز پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماء اور فوکل پرسن ٹو چیف منسٹر سید اقبال شاہ کی رہائش گاہ گئے، جہاں انہوں نے ان کے بھائی سید ارشد حسین شاہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت کی وزیراعلیٰ بلوچستان نے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے اس موقع پر صوبائی وزراء بھی وزیراعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ تھے۔ وزیراعلیٰ نے سید اقبال شاہ اور دیگر اہل خانہ سے ملاقات کرتے ہوئے مرحوم کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ دکھ اور غم کی اس گھڑی میں حکومت بلوچستان اور وہ ذاتی طور پر سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کسی عزیز کا بچھڑ جانا ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہوتا ہے، تاہم اللہ تعالیٰ کی رضا پر صبر اور دعا ہی مومن کا بہترین سہارا ہے۔ انہوں نے مرحوم کے درجات کی بلندی اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
خبرنامہ نمبر7527/2026
کوئٹہ، 12 جون: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت منعقدہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کے چچا کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اجلاس کے شرکاء نے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو یہ صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں حکومت بلوچستان اور کابینہ کے تمام اراکین ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں وزیراعلیٰ نے مرحوم کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندان کے لیے صبر جمیل کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے اور اہل خانہ کو یہ ناقابلِ تلافی نقصان برداشت کرنے کی ہمت عطا کرے کابینہ کے اراکین نے بھی بابر خان اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔
خبرنامہ نمبر7528/2026
بارکھان12 جون:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور صوبائی حکومت کی تعلیمی اصلاحات کے تحت ضلع بارکھان میں تعلیم کے فروغ کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج بارکھان میں ایف۔ایس۔سی سیکنڈ ایئر کے باقاعدگی سے کالج آنے والے طلبہ میں کالج انتظامیہ کی جانب سے کورس کی کتابیں تقسیم کی گئیں۔کتابوں کی تقسیم کا مقصد طلبہ کو معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کرنا، ان کی تعلیمی استعداد میں اضافہ کرنا اور انہیں حصولِ علم کے لیے بہتر مواقع مہیا کرنا ہے۔ اس موقع پر کالج انتظامیہ نے کہا کہ تعلیم نوجوان نسل کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے اور طلبہ کو درپیش تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔کالج انتظامیہ کے مطابق کتابوں کی فراہمی سے طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی اور انہیں اپنے نصاب کی بہتر انداز میں تیاری کرنے میں مدد ملے گی۔
خبرنامہ نمبر7529/2026
کوئٹہ12 جون: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی ہدایات، صوبائی حکومت کی انسدادِ منشیات پالیسی، اور ڈائریکٹر جنرل ایکسائز، ٹیکسیشن و انسدادِ منشیات بلوچستان (ساؤتھ زون) محمد زمان کی مؤثر نگرانی اور پیشہ ورانہ حکمتِ عملی کے تحت محکمہ ایکسائز اینٹی نارکوٹکس فورس نے پاک بحریہ کے تعاون سے ضلع حب کے ساحلی علاقے گڈانی میں ایک کامیاب مشترکہ انٹیلی جنس بنیاد کارروائی کرتے ہوئے شراب اسمگلنگ کی ایک بڑی کوشش ناکام بنا دی۔10 جون 2026 کو ہونے والی اس کارروائی کے دوران 3,717 غیر ملکی شراب کی بوتلیں برآمد کر لی گئیں جن کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جاتی ہے۔ ضبط شدہ سامان کے حوالے سے قانونی و تادیبی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل محمد زمان نے کہا کہ یہ کامیابی محکمہ ایکسائز ساؤتھ زون کی حالیہ مسلسل، مؤثر اور نتیجہ خیز کارروائیوں کا تسلسل ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ دنوں بھی محکمہ ایکسائز نے پاک بحریہ کے تعاون سے 425 کلوگرام آئس، 20 کلوگرام چرس اور 5,076 بوتلیں غیر ملکی شراب و بیئر برآمد کر کے تقریباً 31 ارب روپے مالیت کی منشیات اور ممنوعہ اشیاء ضبط کی تھیں۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی محکمہ ایکسائز نے تین ماہ کے دوران 25 ارب روپے مالیت کی منشیات ضبط کیں اور 10 ہزار سے زائد شراب و بیئر کی بوتلیں قبضے میں لے کر بین الاقوامی اسمگلنگ نیٹ ورکس کو شدید مالی نقصان پہنچایا۔ڈی جی ایکسائز نے مزید کہا کہ محکمہ ایکسائز بلوچستان نہ صرف منشیات اور شراب اسمگلنگ کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ پوست (Poppy) کی کاشت کے خاتمے، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، ٹیکس نیٹ کے فروغ اور حکومتی محصولات میں اضافے کے لیے بھی مؤثر اقدامات کر رہا ہے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکریٹری بلوچستان اور سیکریٹری ایکسائز، ٹیکسیشن و انسدادِ منشیات بلوچستان، ظفر علی بخاری کی انتھک کاوشوں، خصوصی ہدایات اور مؤثر حکمتِ عملی کی روشنی میں بلوچستان کو منشیات سے پاک بنانے، قومی سرحدوں کے تحفظ، نوجوان نسل کو منشیات کے ناسور سے بچانے اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے پاک بحریہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر قومی اداروں کے ساتھ مل کر بلاامتیاز، بھرپور اور مؤثر کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
خبرنامہ نمبر7530/2026
کوئٹہ12 جون:سیکریٹری جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان عمران گچکی نے کہا ہے کہ رینج لینڈ ریسورس اسیسمنٹ اینڈ میپنگ (RRAM) کے تحت تیار کردہ توثیق شدہ رپورٹس صوبے میں پالیسی سازی، سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی اور چراگاہی وسائل کے پائیدار انتظام کے لیے ایک مضبوط سائنسی بنیاد فراہم کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ صحت مند چراگاہیں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، مویشیوں کی پیداوار میں اضافے، آبی وسائل کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، لہٰذا ان وسائل کا مؤثر اور پائیدار انتظام وقت کی اہم ضرورت ہے، انہوں نے اس پراجیکٹ کے زیر اہتمام بہترین خدمات سر انجام دینے پر محکمہ جنگلات اور ادارہ برائے خوراک و زراعت کی ٹیموں کی کاوشوں کو سراہا جنھوں نے بہترین کام کرتے ہوئے اس اہم نوعیت کے تعمیری کام کو سر انجام دیا ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات حکومت بلوچستان اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) کے اشتراک سے منعقدہ توثیقی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ورکشاپ کا مقصد پشین لورا، ہنگول، ناری اور ہامونِ مشکیل دریائی طاسوں میں چراگاہی وسائل کے جائزے اور نقشہ سازی سے متعلق فیلڈ سرویز کے نتائج، اعداد و شمار اور سفارشات پر مشتمل جامع رپورٹس کی توثیق کرنا تھا۔ ایک روزہ ورکشاپ کی شریک صدارت FAO بلوچستان کے انٹرنیشنل پروگرام کوآرڈینیٹر ولید مہدی نے کی جبکہ تقریب میں محکمہ جنگلات کے اعلیٰ افسران، تکنیکی ماہرین، محققین، FAO کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے بھر پور انداز میں شرکت کی۔ اس موقع پر کنزرویٹر فاریسٹ اور LOA مینیجر FAO جعفر علی بلوچ نے سروے کے مختلف مراحل پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ سروے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان اور FAO کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت مکمل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی نگرانی میں سروے ٹیموں نے چاروں دریائی طاسوں میں کامیابی سے فیلڈ اسیسمنٹس مکمل کیں، جن کے نتائج کو بعد ازاں تکنیکی ماہرین نے جامع رپورٹس کی شکل دی اور FAO کی تکنیکی جانچ و منظوری کے بعد توثیق کے لیے پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ورکشاپ کا مقصد ماہرین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی آراء اور سفارشات حاصل کرکے رپورٹس کو مزید مؤثر اور جامع بنانا ہے اس پورے عمل میں انہوں نے جعفر علی بلوچ انکی ٹیم اور محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کی کاوشوں کی تعریف کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد عیسیٰ جان نے ورکشاپ کے مقاصد اور متوقع نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مختلف شعبوں کے ماہرین کی شرکت سے جائزے کی شفافیت، درستگی اور افادیت میں مزید اضافہ ہوگا۔ جبکہ قدرتی وسائل کے انتظام کے مشیر ڈاکٹر فیض الباری نے رینج لینڈ ریسورس اسیسمنٹ اینڈ میپنگ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ عمل مستقبل کی منصوبہ بندی، چراگاہوں کی بحالی اور قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام کے لیے ایک قابلِ اعتماد سائنسی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ چیف کنزرویٹر فاریسٹ (نارتھ) علی عمران نے ورکشاپ کا افتتاح کرتے ہوئے محکمہ جنگلات، FAO اور دیگر شراکت داروں کی مشترکہ کاوشوں کو سراہا اور قدرتی وسائل کے تحفظ اور بحالی کے لیے اس نوعیت کے اشتراک کو ناگزیر قرار دیا۔ تکنیکی سیشن کے دوران پشین-لورا دریائی طاس کی رپورٹ جعفر علی بلوچ اور ڈاکٹر عمران، ہنگول دریائی طاس کی رپورٹ نعیم جاوید، ناری دریائی طاس کی رپورٹ سید اچکزئی جبکہ ہامونِ مشکیل دریائی طاس کی رپورٹ غلام سرور نے پیش کی۔ پریزنٹیشنز میں چراگاہی وسائل کی موجودہ صورتحال، درپیش چیلنجز، ماحولیاتی دباؤ، بحالی کے امکانات اور پائیدار انتظام کے لیے سفارشات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف کنزرویٹر فاریسٹ (ساؤتھ) اسلم بزدار نے سروے ٹیموں کی محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس جائزے کے نتائج کو شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور وسائل کے مؤثر انتظام میں بروئے کار لایا جائے۔ چیف کنزرویٹر فاریسٹ علی عمران نے بھی رپورٹس کے تکنیکی معیار کو سراہتے ہوئے سفارشات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ FAO بلوچستان کے پروگرام کوآرڈینیٹر ولید مہدی نے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بلوچستان میں قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام، ماحولیاتی بحالی اور ایکو سسٹم ریسٹوریشن کے اقدامات کے لیے FAO کے مسلسل تعاون کا اعادہ کیا۔ اپنے اختتامی خطاب میں سیکریٹری جنگلات و جنگلی حیات عمران گچکی نے محکمہ جنگلات، FAO اور تمام شراکت دار اداروں کی مشترکہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے کنزرویٹر فاریسٹ جعفر علی بلوچ کی قیادت، عزم اور انتھک محنت کو خصوصی طور پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ متعدد چیلنجز کے باوجود سروے کی کامیاب تکمیل ایک اہم سنگِ میل ہے جو بلوچستان میں قدرتی وسائل کے بہتر انتظام اور تحفظ کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جائزے کی سفارشات کو آئندہ ترقیاتی منصوبوں اور پالیسی سازی کے عمل میں مؤثر انداز میں شامل کیا جائے تاکہ صوبے کے چراگاہی اور قدرتی وسائل کا تحفظ، بحالی اور پائیدار استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء نے مختلف تکنیکی سفارشات پیش کیں اور بلوچستان بھر میں شواہد پر مبنی منصوبہ بندی، چراگاہوں کی بحالی، ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام کے فروغ کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔
خبرنامہ نمبر7531/2026
استامحمد12 جون: محرم الحرام کے انتظامات،امن و امان کے قیام اور عزاداران کو بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ایس پی اُستا محمد معاذ الرحمٰن اسسٹنٹ کمشنر اُستا محمد رمضان اشتیاق، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر امیر علی صوبائی نائب صدر شیعہ علماء کونسل اُستا محمد اور گنداخہ کے چیف آفیسران، پی ایچ ای ڈی کے نمائندگان ایس ڈی او کیسکو علی حیدر مگسی سمیت مختلف محکموں کے افسران اور علماء کرام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کے روٹس، سکیورٹی انتظامات صفائی ستھرائی پینے کے صاف پانی کی فراہمی بجلی کی بلا تعطل فراہمی، طبی سہولیات ایمرجنسی رسپانس، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا متعلقہ محکموں کے افسران نے اپنے اپنے اداروں کی جانب سے کیے گئے انتظامات اور تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر اُستا محمد نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کا قیام ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے انہوں نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ مجالس اور جلوسوں کے مقامات پر تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل رکھے جائیں انہوں نے کہا کہ عزاداران کو پرامن ماحول فراہم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ، پولیس صحت بلدیاتی اداروں، پی ایچ ای ڈی اور کیسکو کے درمیان مؤثر رابطہ اور ہم آہنگی ناگزیر ہے ایس پی اُستا محمد معاذ الرحمٰن نے اجلاس کو سکیورٹی پلان کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ محرم الحرام کے دوران جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی کے لیے جامع انتظامات کیے جا رہے ہیں اور تمام حساس مقامات پر خصوصی نگرانی رکھی جائے گی انہوں نے علماء کرام اور منتظمین سے اپیل کی کہ وہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ محرم الحرام کے اجتماعات پرامن ماحول میں منعقد ہو سکیں اجلاس میں علماء کرام نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور باہمی رواداری، اتحاد اور بھائی چارے کے فروغ پر زور دیا۔ اجلاس کے اختتام پر محرم الحرام کے دوران عوام کو بہترینسہولیات کی فراہمی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے مابین مکمل تعاون اور رابطے پر اتفاق کیا گیا۔
خبرنامہ نمبر7532/2026
تربت12جون: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے عوامی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے جمعہ کے روز بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ریجنل آفس کا اچانک دورہ کیا جہاں انہوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر جورک بلوچ سے ملاقات کی اور آفس میں موجود خواتین سے براہ راست بات چیت کرکے ان کے مسائل معلوم کیے۔دورے کے دوران خواتین نے آفس میں سایہ، پینے کے ٹھنڈے پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی سے متعلق شکایات پیش کیں جس پر ڈپٹی کمشنر کیچ نے فوری ہدایات جاری کرتے ہوئے سائبان اور واٹر کولر کی فراہمی کا حکم دیا جس پر پی ڈی ایم اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ملک ریحان کی جانب سے فوری عمل درآمد کرتے ہوئے ٹینٹ اور واٹر کولر فراہم کر دیے گئے۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے خواتین کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمپ اور مند کے مستحقین کے لیے تمپ میں جبکہ دشت کے عوام کے لیے کھڈان یا میرانی ڈیم کے مقام پر سب آفس قائم کرنے کے احکامات بھی جاری کیے جہاں سم رجسٹریشن اور دیگر متعلقہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ خواتین کو کسی قسم کی تکلیف یا شکایت کا موقع نہ دیا جائے اور عوامی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر جورک بلوچ نے ڈپٹی کمشنر کیچ کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں درپیش مسائل اور شکایات کے جلد ازالے کی یقین دہانی کرائی۔دورے کے دوران موجود خواتین نے فوری طور پر سائبان اور سرد پانی کی سہولیات کی فراہمی پر ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ آئندہ بھی عوامی مسائل کے حل کے لیے اسی طرح عملی اقدامات جاری رکھیں گے اور عوام تک سہولیات کی فراہمی کے لیے ذاتی دلچسپی لیتے رہیں گے۔
خبرنامہ نمبر7533/2026
پنجگور12جون: ضلعی انتظامیہ پنجگور کے زیر اہتمام ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد عوامی مسائل کا حل اور باہمی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ اس اہم تقریب کے مہمانِ خصوصیت ڈپٹی کمشنر پنجگور جہانزیب بلوچ تھے، جبکہ اعزازی مہمانوں میں کمانڈنٹ ایف سی پنجگور رائفلز بریگیڈئیر ظفر اقبال شامل تھے۔ کچہری میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عطا اسد، اسسٹنٹ کمشنر افتخار ظہیر، ایم ایس سول ہسپتال ڈاکٹر عبدالغفار بلوچ، پی پی ایچ آئی کے نمائندے اکرام نور، ڈی ایس پی امیر جان بلوچ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سعید احمد بلوچ سمیت تمام سرکاری محکموں کے سربراہان، خواتین، ملازمین اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے کمیونٹی کی ترقی میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔کھلی کچہری کے دوران شرکا نے نہایت خوش اسلوبی اور تعمیری انداز میں ضلع پنجگور کو درپیش مختلف امور، بالخصوص امن و امان کی صورتحال میں مزید بہتری، ہسپتالوں میں طبی عملے کی حاضری، تعلیمی اداروں کی بحالی اور پاک-ایران سرحد پر تجارتی ‘اسٹیکرز’ (ٹوکنز) و راہداری نظام کو مزید آسان بنانے کی تجاویز پیش کیں۔ عوام اور ملازمین نے سرحد پر قانونی تجارتی عمل کو سہل بنانے اور نوجوانوں کے تحفظات کو دور کرنے کی درخواست کی، تاکہ مقامی آبادی کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آسکیں اور سرکاری اداروں پر عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہو۔عوامی تجاویز اور معروضات کا مثبت جواب دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر پنجگور جہانزیب بلوچ نے یقین دلایا کہ انتظامیہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرے گی۔ انہوں نے تمام محکموں کے افسران کو کارکردگی مزید بہتر بنانے اور عوامی سہولیات کی فراہمی کو تیز تر کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ ڈپٹی کمشنر نے خوشخبری سناتے ہوئے بتایا کہ تعلیمی اصلاحات کے تحت ضلع کے درجنوں اسکولوں کی مرمت اور بحالی کا کام آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ صحت اور تعلیم کے بنیادی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مزید نئے پروجیکٹس پر بھی کام شروع کیا جا رہا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمانڈنٹ ایف سی پنجگور رائفلز بریگیڈئیر ظفر اقبال نے بارڈر ٹریڈ کو منظم اور شفاف بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سرحد پر تجارت کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی انسانی ضرورتوں کی ترقی پر بھی یکساں توجہ دی جانی چاہیے، کیونکہ تعلیم ہی قوموں کی حقیقی ترقی کا ضامن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسٹیکر کے موجودہ نظام کو ریفارم (درست) کیا جا رہا ہے تاکہ اس میں مکمل شفافیت لائی جا سکے اور معاشرے کے ہر طبقے کو برابری کی بنیاد پر اس شراکت داری سے فائدہ پہنچایا جا سکے۔کمانڈنٹ ایف سی نے نوجوان نسل کو تعلیم اور مثبت سرگرمیوں پر اپنی توانائیاں مرکوز کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ نئے نظام کے تحت اب حقداروں کو ان کا پورا حق ملے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بارڈر ریلیف کے اس نظام میں اب ان بیواؤں، یتیموں اور معذور افراد کو اولین ترجیح دی جائے گی جنہیں معاشی مدد کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جن افراد کے اسٹیکرز بلاک ہوئے ہیں، وہ نظرثانی کمیٹی کے سامنے اپنے کوائف پیش کر کے شفاف طریقے سے اپنا حق حاصل کر سکتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے عزم دہرایا کہ ایف سی اور ضلعی انتظامیہ مشترکہ کوششوں سے ضلع بھر کے تعلیمی اداروں کی حالت زار کو بہتر بنانے اور شہریوں کو خوشحال مستقبل فراہم کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہیں۔
خبرنامہ نمبر7534/2026
کوئٹہ 12جون: انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہر نے کہا کہ سال کے پہلے اسلامی مہینے محرم الحرام کے حوالے سے بہترین سیکورٹی انتظامات کیے جارہے ہیں۔حکومت بلوچستان کی محرم الحرام کے دوران جاری کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد کرتے ہوئے منتظمین جلوس و مجالس کی سیکورٹی کوہر صورت یقینی بنائیں گے۔محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام سیکیورٹی انتظامات اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف مکاتبِ فکر کے علمائکرام،تاجر برادری کے نمائندے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پولیس و انتظامیہ کے افسران نے شرکت۔اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی پولیس آپریشنز شہزاد اکبر،کمانڈنٹ چلتن رائفلز ایف سی نارتھ بلوچستان،ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عمران شوکت،کمشنر کوئٹہ ڈویڑن شاہ زیب خان کاکڑ،ڈی آئی جی اسپیشل برانچ طاہر علاؤالدین،ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی،شیعہ علماء علامہ سید ہاشم موسوی امام بارگاہ کلاں، سنی علماء انوار الحق حقانی مرکزی جامعہ مسجد سورج گنج بازار،علامہ شیخ جمعہ اسدی جامعہ امام صادق،قاری عبدالراحمن نورزئی جامعہ سفیر مسجد، عاشق حسین صدر شیعہ کانفرنس،قاری عبدالرحمن عید گاہ طوغی روڈ،ڈاکٹر عطاء الرحمن جامعہ عبدالعزیز، پیر اسماعیل مجددی پیر عبدالخیر روڈ، مفتی محمود احمد جامعہ مسجد قندہاری،علامہ شہزاد عطاری میاں اسماعیل مسجد و فا روڈ، کاظم علی شیعہ کانفرنس اورعبدالرحیم کاکڑ صدر انجمن تاجران، ودیگر عہدیداروں، حسن آغا صدر ہزارہ تاجر برادی، رحیم آغاصدر انجمن تاجران، امرالدین آغا صدر انجمن تاجران آغا گروپ،ٹکری حمید بنگلزئی،جلوس کے روٹ کے سابقہ ناظم و سماجی کارکن میر اسلم رند، ایریا ایس پیزکے علاوہ دیگر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے افسران شریک تھے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امام بارگاہوں، مجالس کے مقامات اور عاشورہ کے جلوسوں کی روٹس کے لیے فول پروف سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ ترتیب دیئے گئے پلان کے مطابق سیکیورٹی انتظامات کے تحت پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات کیے جائیں گے جبکہ امام بارگاہوں اور حساس مقامات پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مسلسل نگرانی کی جائے گی اور نویں اور دسویں محرم کے جلوس کی فضائی نگرانی بھی کی جائیگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عاشورہ کے جلوسوں کے دوران شہر بھر میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے براہِ راست مانیٹرنگ کا نظام بھی فعال رکھا جائے گا۔آئی جی بلوچستان پولیس نے ہدایت کی کہ جلوس روٹس پر متبادل راستوں سے ٹریفک کی ہموار روانی کو برقرار رکھنے کیلئے وارڈنز اور اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کی جائے گی اور مرکزی و حساس مجالس اور جلوسوں کے راستوں میں آنے والی عمارتوں کی چھتوں پر سنائپرز کو لازمی تعینات کیا جائے جبکہ خواتین کی مجالس اور جلوسوں میں لیڈی کانسٹیلز سکیورٹی اور چیکنگ کے فرائض سر انجام دیں گی۔محرم الحرام کے دوران صوبے بھر میں امن و امان کو برقر ار رکھنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہیں اورسیکورٹی پلان کے تحت شہر کے خارجی اور داخلی راستوں پر چیکنگ اور سیکورٹی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائیگا۔اس موقع پر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علمائکرام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسینؓ ا ور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیاں امت مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام اسلامی سال کاپہلا مہینہ ہے اور واقعہ کربلا ہمیں صبر، استقامت، اخوت، بھائی چارے اور اسلام کی سربلندی کے لیے قربانی کا درس دیتا ہے۔ہمیں طاغوتی قوتوں کو دین اسلام،ملک اور قوم کے خلاف بننے سازشوں کو اپنے مابین اتحاد کو برقرار رکھنے دشمنوں کے عزائم خاک میں ملاتے رہیں گے۔ علماء کرام نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ شہر میں امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کے لیے تمام طبقہ فکر کے ساتھ مل کر اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔علما ء کرام نے کہا کہ بعض عناصر مذہب کی آڑ میں انتشار، نفرت اور فرقہ واریت کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں اور افواہوں کے ذریعے عوام میں بداعتمادی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے عناصر کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے عوام کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی قسم کی غیر مصدقہ اطلاعات یا افواہوں پر یقین نہ کیا جائے بلکہ ذمہ دار اداروں سے اس حوالے سے رجوع کیا جائے۔اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ مساجد، امام بارگاہوں، محلوں اور مختلف علاقوں کی سطح پر سماجی وذینی ہم آہنگی کو فروغ برقرار رکھا جائیگا اور گروہی منافرت پھیلانے والے عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔ علمائکرام نے کہا کہ معاشرے کے تمام طبقات کو اتحاد و یگانگت کے فروغ اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی اسی میں ملک اور قوم کی بقا ہے۔ علمائکرام نے تمام مکاتبِ فکر کے افراد پر زور دیا کہ وہ محرم الحرام کے دوران اسلامی تعلیمات، اسوہ حسنہ، صبر و تحمل اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ علماء کرام نے مساجد اور اپنے خطبات اور خصوصا جمعہ المبارک کے خطابات میں بھی قومی یکجہتی، مذہبی رواداری، امن، بھائی چارے اور اتحاد امت کے موضوعات کو اجاگر کیا جائے تاکہ معاشرے میں امن و استحکام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔تمام علما کرام کسی بھی فورم سے مذہبی دل آزاری یا مذہبی منافرت کے پھیلاو کی حوصلہ شکنی کریں گے۔ جلوس کے منتظمین نے کہاکہ جاری کردہ سکیورٹی پلان پر من و عن عملد درآمدہوگا۔عزاداری جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی انتظامات کیلئے علمائے کرام، امن کمیٹیوں اور دیگرتمام طبقہ فکر کے ساتھ مربوط رابطہ رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس میں مرکزی انجمن تاجران کے صدر عبدالرحیم کاکڑ نے تاجر برادری کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی تاجروں کی جانب سے محرم الحرام کے دوران انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جلوسوں کے روایتی راستوں پر واقع دکانوں کو حفاظتی اقدامات کے تحت سیل کرنے کے موقع پرتعاون کر تے تاجران کے نمائندے بھی موجود ہونگے اور تاجر برادری جلوسوں کے انعقاد کے دوران انتظامیہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔اجلاس میں محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال، سیکورٹی انتظامات و دیگر ضروری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں کئے گئے تمام تر حفاظتی انتظامات اور سیکورٹی پلان کی مناسبت سے تمام مکاتب فکر کے علمائکرام اور امن کمیٹی کے ممبران سے تبادلہ خیال کیا گیا اور ان کی پیش کردہ تجاویز پرغور و غوض بھی کیا گیا۔اس موقع پرعلما ء کرام و امن کمیٹی کے ممبران اور نمائندگان نے محرم الحرام کے دوران سیکورٹی و دیگر انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوران تمام مکاتب فکر کے لوگوں کا پولیس اوردیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون رہے گا۔اجلاس میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب خان کاکڑ نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران عزاداران کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی اور ساتویں، نویں اور دسویں محرم کے موقع پر فول پروف سیکیورٹی یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو جلوسوں کے روٹس پر صفائی ستھرائی، سڑکوں کی مرمت، اسٹریٹ لائٹس کی بحالی اور پانی کی فراہمی جبکہ کیسکو کو بلا تعطل بجلی فراہمی، سوئی سدرن گیس کمپنی کو گیس سپلائی بہتر بنانے جبکہ محکمہ صحت کو ہسپتالوں میں ایمرجنسی، اضافی طبی عملہ، ایمبولینسز اور ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے ڈپٹی کمشنر آفس میں موجود رہیں گے.
خبرنامہ نمبر7535/2026
استامحمد12جون:ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کی ہدایت پر اُستا محمد میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔انکی ہدایت کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر اُستا محمد رمضان اشتیاق نے شہر میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کردیا ہے اس سلسلے میں آج شبیر چوک کے مقام پر تجاوزات کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی کارروائی میں پولیس میونسپل کارپوریشن اور ضلعی انتظامیہ کے عملے نے حصہ لیا دورانِ آپریشن عوامی راستوں، فٹ پاتھوں اور سرکاری اراضی پر قائم غیر قانونی تجاوزات کو ہٹا دیا گیا، جس سے ٹریفک کی روانی بہتر ہوئی اور شہریوں کو آمدورفت میں درپیش مشکلات میں کمی آئی اسسٹنٹ کمشنر اُستا محمد رمضان اشتیاق نے کہا کہ تجاوزات شہری خوبصورتی، ٹریفک کی روانی اور عوامی سہولت میں رکاوٹ بنتی ہیں، اس لیے قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ انہوں نے تاجروں اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ازخود تجاوزات ختم کریں اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں ضلعی انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی مفاد کے تحفظ اور شہری نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے شہر بھر میں تجاوزات کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
خبرنامہ نمبر7536/2026
کوئٹہ 12جون۔ یومِ شہادت حضرت عمرؓ کے موقع پر انتظامی امور کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں علماء کرام، نے شرکت کی۔اجلاس میں یومِ حضرت عمرؓ کے سلسلے میں منعقد ہونے والے اجتماعات اور دیگر تقریبات کے انتظامات، سیکیورٹی پلان، ٹریفک مینجمنٹ، صفائی ستھرائی، اسٹریٹ لائٹس، طبی سہولیات اور دیگر انتظامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے مختلف تجاویز پیش کیں اور تقریبات کے پرامن انعقاد کے لیے باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ نے ہدایت کی کہ یومِ شہادت حضرت عمرؓ کے موقع پر تمام انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں انہوں نے کہا کہ شرکاء کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ مذہبی تقریبات پرامن، منظم اور خوش اسلوبی سے منعقد ہوں۔
خبرنامہ نمبر7537/2026
لورالائی، 12 جون:محرم الحرام کے دوران امن و امان، صفائی ستھرائی اور شہری سہولیات کو یقینی بنانے کے سلسلے میں ڈی پی او لورالائی ڈاکٹر فہد اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی محب اللہ خان بلوچ نے امام بارگاہ اور اس کے اطراف کے علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر امام بارگاہ کے گرد و نواح میں صفائی ستھرائی کے مؤثر انتظامات، مناسب روشنی کی فراہمی اور جلوس کے راستوں میں حائل تمام رکاوٹوں کو فوری طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔چیف آفیسر میونسپل کمیٹی نے متعلقہ عملے کو ہدایت جاری کی کہ جلوس کے راستوں اور امام بارگاہ کے اطراف موجود تعمیراتی ملبہ اور دیگر رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹا کر علاقے کو مکمل طور پر صاف کیا جائے تاکہ عزاداروں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ڈی پی او لورالائی ڈاکٹر فہد نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے اور پولیس کی بھاری نفری شہر کے مختلف حساس مقامات، امام بارگاہوں اور جلوس کے راستوں پر تعینات کیجائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور میونسپل کمیٹی باہمی تعاون سے محرم الحرام کے تمام پروگراموں کو پرامن اور منظم انداز میں منعقد کرانے کے لیے بھرپور اقدامات کریں گے۔دورے کے دوران متعلقہ حکام نے انتظامات کو مزید مؤثر بنانے اور عوام کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے مختلف امور کا بھی جائزہ لیا۔
خبرنامہ نمبر7538/2026
کوئٹہ 12جون: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے سابق سینیٹر تاج محمد آفریدی کے اسلام آباد سے پشاور جاتے ہوئے کرنل شیر خان شہید انٹرچینج کے قریب ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مرحوم قومی اسمبلی کے سابق ممبر الحاج شاہ جی گل آفریدی کے بھائی تھے۔ اپنے تعزیتی پیغام میں گورنر نے کہا کہ مرحوم ایک شریف النفس اور عوام دوست رہنما تھے جنہوں نے عوام کی بے لوث خدمت کی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی روح کو جوار رحمت میں جگہ دے اور سوگوار خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
خبرنامہ نمبر7539/2026
لورالائی12جون:ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیر صدارت زرعی آمدنی ٹیکس اور اراضی ریکارڈ سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تحصیلدار بوری، نائب تحصیلدار، متعلقہ حلقوں کے تمام پٹواریوں اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں مالی سال 2025-26کے دوران زرعی آمدنی ٹیکس (ایگریکلچر انکم ٹیکس) کی وصولی اور اراضی ریکارڈ کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ٹیکس وصولی کی انتہائی کم شرح پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ریونیو عملے کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور انہیں سخت وارننگ جاری کی۔انہوں نے ہدایت کی کہ مقررہ ریونیو اہداف کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور فیلڈ میں مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نادہندگان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت رپورٹس ضلعی انتظامیہ کو ارسال کی جائیں تاکہ کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے کہا کہ ریونیو کی بروقت وصولی حکومت کی ترقیاتی پالیسیوں کے نفاذ، عوامی خدمات کی فراہمی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے ریونیو حکام کو ہدایت کی کہ اراضی ریکارڈ کی درستگی، ٹیکس دہندگان کی نشاندہی اور واجبات کی وصولی کے عمل میں شفافیت اور تیزی لائی جائے۔انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے واجب الادا زرعی آمدنی ٹیکس اور دیگر سرکاری محصولات بروقت ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسوں کی بروقت ادائیگی نہ صرف قانونی ذمہ داری ہے بلکہ اس سے علاقے کی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی، سڑکوں، تعلیم، صحت اور دیگر عوامی منصوبوں کی تکمیل میں بھی مدد ملتی ہے۔اجلاس کے دوران اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، ریونیو ریکارڈ کی بروقت اپ ڈیٹ اور محصولات کی وصولی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ محصولات کی وصولی میں کسی قسم کی غفلت، کوتاہی یا غیر ذمہ داری برداشت نہیں کی جائے گی اور ناقص کارکردگی کے حامل اہلکاروں کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر متعلقہ افسران نے ڈپٹی کمشنر کو یقین دہانی کرائی کہ مقررہ اہداف کے حصول، ریونیو ریکارڈ کی بہتری اور زرعی آمدنی ٹیکس وصولی میں نمایاں اضافہ کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر7540/2026
لورالائی 12جون:ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیر صدارت اسپیشل نیشنل امیونائزیشن ڈیز مئی 2026 مہم کے پوسٹ کیمپین ریویو اجلاس کا انعقاد کیا گیا، جس میں ضلع بھر میں جاری انسدادِ پولیو اور حفاظتی ٹیکہ جات کی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر شاہ زمان، چیف کوآرڈینیٹر آفیسر محمد صاحب، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر عاصم زیب، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن آفیسررفیع اللہ اور ضلعی نمائندہ خیر محمد سمیت محکمہ صحت اور ای پی آئی کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مئی 2026 کی ایس این آئی ڈی مہم کے دوران حاصل ہونے والے اہداف، بچوں تک رسائی، ٹیموں کی کارکردگی، فیلڈ میں درپیش چیلنجز اور مجموعی نتائج پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء کو مہم کے دوران حاصل شدہ اعدادوشمار، کوریج ریٹس اور نگرانی کے عمل سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی۔اجلاس میں اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ متعلقہ اداروں اور فیلڈ ٹیموں نے مشکل حالات کے باوجود بھرپور محنت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچوں تک حفاظتی ٹیکہ جات کی فراہمی کو یقینی بنایا۔ تاہم بعض علاقوں میں والدین کی عدم دستیابی، نقل و حرکت اور آگاہی سے متعلق مسائل کو آئندہ مہمات میں خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے اور بچوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے حفاظتی ٹیکہ جات کی بروقت فراہمی ناگزیر ہے۔ انہوں نے محکمہ صحت، ای پی آئی، ضلعی انتظامیہ اور شراکت دار اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ مہمات میں مائیکرو پلاننگ، کمیونٹی انگیجمنٹ اور مؤثر نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ عوامی صحت کے قومی اہداف کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطہ اور باہمی تعاون انتہائی ضروری ہے۔ اجلاس کے اختتام پر آئندہ انسدادِ پولیو مہمات کو مزید مؤثر، جامع اور کامیاب بنانے کے لیے مختلف سفارشات اور عملی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع لورالائی میں ہر بچے تک حفاظتی ٹیکہ جات کی رسائی کو یقینی بنانے اور پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر7541/2026
کوئٹہ 12 جون۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ کی زیر صدارت نیشنل پارٹی کے نمائندہ وفد کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ہزارہ ٹاؤن اور دیگر علاقوں میں پانی کی فراہمی سے متعلق مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس کے دوران وفد نے عوام کو درپیش مشکلات، پانی کی قلت اور فراہمی کے نظام سے متعلق مختلف امور پر اپنے تحفظات اور تجاویز پیش کیں۔ اس موقع پر ہزارہ ٹاؤن میں واسا کے مختلف ٹیوب ویلز کی فعالیت، عملے کی دستیابی، پانی کی ترسیلی لائنوں کی صورتحال اور فراہمی آب سے متعلق دیگر تکنیکی و انتظامی معاملات پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد انور کاکڑ نے وفد کے مسائل اور تجاویز کو غور سے سنا اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے کے ذریعے درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور پانی سے متعلق مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر7542/2026
صحبت پور۔۔ تحصیل فرید آباد کے علاقے گوٹھ علی مراد مری میں پیش آنے والے آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کے نتیجے میں چھ رہائشی مکانات مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگئے، جس سے متاثرہ خاندانوں کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔واقعے کی اطلاع موصول ہوتے ہی ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین کی ہدایت پر فائر بریگیڈ کی ٹیم کو فوری طور پر جائے وقوعہ کی طرف روانہ کیا گیا۔ فائر بریگیڈ کے عملے نے مقامی افراد کے تعاون سے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پالیا اور مزید نقصان کو ہونے سے بچا لیا ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ریونیو اسٹاف کو جائے وقوعہ پر پہنچنے نقصانات کا تفصیلی تخمینہ لگانے اور جامع رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایات جاری کیں مزید برآں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف فراہم کرتے ہوئے ٹینٹس اور دیگر ضروری امدادی سامان مہیا کیا گیا، تاکہ وہ عارضی طور پر رہائش اور بنیادی ضروریات پوری کر سکیں.ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ متاثرہ خاندانوں کی مکمل بحالی کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر7543/2026
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی بصیرت افروز قیادت، وزیر خزانہ بلوچستان میر شعیب نوشیروانی کی مؤثر رہنمائی اور چیف سیکریٹری بلوچستان کی خصوصی ہدایات کے تحت بلوچستان ریونیو اتھارٹی جدید خطوط پر استوار ٹیکس امور کو ڈیجیٹلائز نظام کے ذریعے ٹیکس دہندگان کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2015 اور بلوچستان ریونیو اتھارٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ، ٹیکس ادائیگی، آن لائن تصدیق، مانیٹرنگ اور دیگر تمام ٹیکس امور جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے شفاف، تیز رفتار اور مؤثر انداز میں انجام دیے جا رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکس دہندگان کو غیر ضروری دفتری کارروائیوں سے نجات دلانا اور انہیں گھر یا دفتر سے ہی تمام سہولیات فراہم کرنا ہے۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی جانب سے جاری اصلاحات کے نتیجے میں نہ صرف ٹیکس نظام میں شفافیت، احتساب اور کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے بلکہ کاروباری برادری کیلئے Ease of Doing Business کو بھی فروغ ملا ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے انسانی مداخلت میں کمی، ریکارڈ کی درستگی، محصولات کی مؤثر نگرانی اور ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔بی آر اے کے مطابق ٹیکس دہندگان کی سہولت کاری (Taxpayer Facilitation)، کاروبار دوست ماحول کی ترویج، محصولات میں پائیدار اضافہ اور عوامی خدمات کیلئے وسائل کی فراہمی اتھارٹی کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ جدید ڈیجیٹل نظام بلوچستان میں شفاف حکمرانی، مؤثر مالیاتی نظم و نسق اور صوبے کی پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے تمام سروس فراہم کنندگان اور کاروباری اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ آن لائن نظام سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے بروقت رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ اور ٹیکس ادائیگی کو یقینی بنائیں اور صوبے کی ترقی میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔’
خبرنامہ نمبر7544/2026
کوئٹہ: بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے صوبے میں خدمات فراہم کرنے والے ٹیکس کنسلٹنٹس، ہیومن ریسورسز اور پرسنل ڈویلپمنٹ کنسلٹنٹس کو ہدایت کی ہے کہ اگر وہ تاحال رجسٹرڈ نہیں ہیں تو فوری طور پر بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے ساتھ اپنی رجسٹریشن مکمل کریں اور بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2015 کے تحت اپنی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔اتھارٹی کے مطابق مذکورہ خدمات پر سیلز ٹیکس کی شرح 8 فیصد مقرر ہے، جبکہ اس شعبے کیلئے ان پٹ ٹیکس کریڈٹ/ایڈجسٹمنٹ کی اجازت نہیں ہوگی۔ تمام رجسٹرڈ سروس فراہم کنندگان پر لازم ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنے ٹیکس گوشوارے (Returns) جمع کرائیں اور واجب الادا ٹیکس بروقت ادا کریں۔بی آر اے نے واضح کیا ہے کہ ٹیکس قوانین کی تعمیل نہ صرف ایک قانونی ذمہ داری ہے بلکہ یہ صوبے کی ترقی، عوامی خدمات کی بہتری اور شفاف معیشت کے فروغ کیلئے بھی ناگزیر ہے۔ اتھارٹی کی جانب سے رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ اور ٹیکس ادائیگی کے عمل کو آسان بنانے کیلئے مختلف سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ کاروباری برادری باآسانی اپنی ذمہ داریاں پوری کر سکے۔اتھارٹی نے تمام ٹیکس کنسلٹنٹس، ہیومن ریسورسز اور پرسنل ڈویلپمنٹ کنسلٹنٹس سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی رجسٹریشن مکمل کریں، بروقت ریٹرنز فائل کریں اور ٹیکس قوانین کی مکمل پاسداری یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی قانونی کارروائی، جرمانے یا دیگر پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر7545/2026
لورالائی: ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ایس ایس پی) لورالائی ڈاکٹر فہد اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی محب اللہ خان بلوچ نے محرم الحرام کے سلسلے میں شہر کی مرکزی امام بارگاہ اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر متعلقہ محکموں کے افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔دورے کے دوران امام بارگاہ کے اطراف صفائی ستھرائی، اسٹریٹ لائٹس کی بحالی، نکاسی آب اور دیگر شہری سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے محرم الحرام کے دوران عزاداروں کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور پرامن ماحول یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت جاری کی۔ایس ایس پی ڈاکٹر فہد نے کہا کہ جلوسوں اور مجالس کے دوران سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جائیں گے جبکہ شہر کے حساس مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ جلوس کے تمام روٹس کو مکمل طور پر کلیئر رکھا جائے اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ خان بلوچ نے صفائی کے عملے کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ امام بارگاہ اور جلوس کے راستوں پر موجود تعمیراتی ملبہ فوری طور پر ہٹایا جائے، جبکہ روشنی اور صفائی کے انتظامات کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ عزاداروں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔دورے کے موقع پر یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ محرم الحرام کے دوران میونسپل کمیٹی، پولیس، ریسکیو اور دیگر متعلقہ ادارے باہمی رابطے کے ساتھ فرائض انجام دیں گے۔ حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع لورالائی میں محرم الحرام کے تمام پروگراموں کو پرامن، محفوظ اور منظم انداز میں منعقد کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور میونسپل کمیٹی کی جانب سے کیے جانے والے پیشگی انتظامات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کی مثالی فضا برقرار رہے گی۔
خبرنامہ نمبر7546/2026
گوادر/اورماڑہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق عوام کو معیاری اور بنیادی صحت کی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے محکمہ صحت گوادر متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر نے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فاروق بلوچ کے ہمراہ رورل ہیلتھ سینٹر اورماڑہ اور سول ڈسپنسری ہڈ کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران ڈاکٹر یاسر طاہر نے آر ایچ سی اورماڑہ میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی، او پی ڈی سروسز، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی حاضری سمیت مختلف شعبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ عوام کو بروقت، معیاری اور بلا تعطل طبی خدمات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے ہسپتال میں جاری بلوچستان سوشیو اکنامک ڈویلپمنٹ اینڈ انفراسٹرکچر (BSDI) فیز-II کے تحت مرمتی اور بحالی کے کاموں کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے جاری ترقیاتی سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کے تحت کام تسلی بخش رفتار اور معیار کے مطابق جاری ہیں، جن کی تکمیل سے ہسپتال کی مجموعی کارکردگی اور عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات میں مزید بہتری آئے گی۔اس موقع پر ڈاکٹر یاسر طاہر نے کہا کہ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے کی بہتری کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں دور دراز اور ساحلی علاقوں میں طبی سہولیات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت عوام کو معیاری، محفوظ اور بروقت علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع گوادر کے تمام سرکاری صحت مراکز کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے، طبی عملے کی حاضری کو یقینی بنانے اور ادویات کی مسلسل فراہمی کے لیے نگرانی کا عمل باقاعدگی سے جاری رکھا جائے گا تاکہ شہریوں کو ان کے اپنے علاقوں میں بہترین طبی سہولیات میسر آسکیں۔






