خبرنامہ نمبر4631/2026
کوئٹہ 4جون ۔عدالت عالیہ بلوچستان کے ایک اعلامیہ کے مطابق تمام معزز وکلائ ، سائلین اور عام عوام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ کی پرنسپل سیٹ کوئٹہ میں موسمِ گرما (Summer Vacation) 2026 کے سلسلے میں یکم جولائی 2026 سے 14 جولائی 2026 تک سول نوعیت کے عدالتی مقدمات ( امور ) کے لیے تعطیلات ہوں گی۔ عدالت 15 جولائی 2026 (بدھ) کو معمول کے مطابق دوبارہ کھلے گی۔گرمیوں کی تعطیلات کے دوران دفتر اور عدالت کے اوقاتِ کار درج ذیل ہوں گے:۔دفتر کے اوقات صبح 9:00: بجے تا دوپہر:00 1:بجے ۔عدالت کے اوقات،پیر تا جمعرات اور ہفتہ صبح9:00 بجے تا دوپہر00: 12: بجے،جمعہ،صبح:9:00بجے تا دوپہر 12:00 بجے،صبح:30 9: بجے تا 11:30: بجے،مزید برآں، تعطیلات کے دوران فوری اور ہنگامی نوعیت کے مقدمات کی سماعت اور فیصلے کے لیے معزز تعطیلاتی جج صاحبان (Vacation Judges) کی دستیابی اور ڈیوٹی روسٹر سے متعلق علیحدہ اطلاع جاری کی جائے گی۔تمام متعلقہ افراد سے گزارش ہے کہ عدالتی امور کی انجام دہی کے لیے مذکورہ بالا اوقات اور تعطیلات کو مدِنظر رکھیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4632/2026
اسلام آباد 4 جون۔بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے چینی کمپنی کیتھے فلومن کمپنی لمیٹڈ (Cathay Flumen Co., Ltd.) کے چیئرمین مسٹر دو جون جیے (Du Junjie) سے ایک اہم ملاقات کی، جس میں بلوچستان کے معدنی وسائل، سرمایہ کاری کے مواقع اور باہمی اقتصادی تعاون کے فروغ سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران بلوچستان کے وسیع معدنی ذخائر اور کان کنی کے شعبے میں موجود بے پناہ امکانات پر روشنی ڈالی گئی۔ بلال خان کاکڑ نے کمپنی کے وفد کو بلوچستان میں معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے دستیاب مواقع، حکومتی سہولیات، سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور صوبائی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ مراعات کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے اور یہاں تانبہ، سونا، کرومائیٹ، لوہا، ماربل، گرینائٹ اور دیگر قیمتی معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی شمولیت نہ صرف معدنی شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، مقامی معیشت کو مستحکم بنانے اور صوبے کی پائیدار ترقی کو یقینی بنانے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔ مسٹر دو جون جیے نے بلوچستان کے معدنی وسائل اور سرمایہ کاری کے امکانات میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کمپنی معدنیات کی تلاش، کان کنی اور ویلیو ایڈیشن کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتی ہے اور بلوچستان میں ممکنہ شراکت داری اور سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لینے کی خواہشمند ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی، بین الاقوامی مہارت اور پائیدار ترقی کے اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے معدنی وسائل کی ترقی دونوں فریقین کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔ ملاقات میں معدنی شعبے میں مشترکہ منصوبوں، بین الاقوامی تعاون، ٹیکنالوجی کے تبادلے، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار معدنی ترقی کے مختلف پہلووں پر بھی تبادلہ خیال اور مستقبل میں رابطوں کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے منصوبوں پر تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Islamabad, June 4: Vice Chairman of the Balochistan Board of Investment and Trade (BBoIT), Mr. Bilal Khan Kakar, held an important meeting with Mr. Du Junjie, Chairman of Cathay Flumen Co. Ltd., to discuss Balochistan’s mineral resources, investment opportunities, and avenues for strengthening bilateral economic cooperation.During the meeting, both sides highlighted the vast mineral reserves of Balochistan and the immense potential of its mining sector. Mr. Bilal Khan Kakar briefed the company delegation on the investment opportunities available in the province’s mineral sector, as well as the government’s investor-friendly policies, facilitation measures, and incentives offered by the Government of Balochistan.Speaking on the occasion, Mr. Kakar noted that Balochistan is richly endowed with natural resources, including significant deposits of copper, gold, chromite, iron ore, marble, granite, and other valuable minerals. He emphasized that the participation of international investors can play a vital role in advancing the mining sector, creating employment opportunities, strengthening the local economy, and ensuring the province’s sustainable development.Mr. Du Junjie expressed keen interest in Balochistan’s mineral potential and investment prospects, stating that his company possesses experience in mineral exploration, mining, and value-added resource development. He noted that Cathay Flumen Co., Ltd. is interested in exploring potential partnerships and investment opportunities in Balochistan. He further stressed that the application of advanced technologies, international expertise, and sustainable development practices can contribute significantly to the efficient and long-term development of mineral resources.The meeting also included detailed discussions on joint ventures in the mining sector, international cooperation, technology transfer, investment promotion, and various aspects of sustainable mineral development. Both sides agreed to strengthen future engagement, explore practical investment opportunities, and continue cooperation on projects of mutual interest.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4633/2026
نصیرآباد4جون ۔ :سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد ڈویژن مدثر ظفر کھوسہ نے سب ڈویژنل آفیسر محمد سلیم بہرانی کے ہمراہ پٹ فیڈر کینال بیرون کا تفصیلی دورہ کیا اور نہری نظام، پانی کی ترسیل، زرعی ضروریات اور عوام کو پینے کے پانی کی فراہمی سے متعلق امور کا جائزہ لیا۔ دورے کے موقع پر متعلقہ افسران نے انہیں نہر میں پانی کی صورتحال، مختلف شاخوں میں پانی کی تقسیم اور خریف سیزن کے لیے کیے جانے والے انتظامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی سپرنٹنڈنگ انجینئر مدثر ظفر کھوسہ نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ خریف سیزن کے آغاز سے قبل کمانڈ ایریاز کے تمام علاقوں کو سیراب کرنے کے لیے موثر اور بروقت اقدامات کیے جائیں تاکہ کاشتکاروں کو پانی کی فراہمی میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ آبپاشی کی اولین ترجیح کمانڈ ایریاز کو ان کے مقررہ حصے کے مطابق پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی اور صوبائی سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمان بلوچ کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ خریف سیزن کے دوران پانی کی منصفانہ تقسیم اور کمانڈ ایریاز کو مکمل طور پر سیراب کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں، جن پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ مدثر ظفر کھوسہ نے کہا کہ غیر کمانڈ ایریاز میں کسی صورت غیر قانونی کاشتکاری یا پانی کے غیر مجاز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس حوالے سے سخت نگرانی کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ نہری نظام کی مسلسل مانیٹرنگ کی جائے، پانی چوری کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں اور ٹیل تک پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ کاشتکاروں کو ان کا جائز حق مل سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ آبپاشی زرعی معیشت کے استحکام اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ نہری پانی کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے خریف سیزن کی فصلوں کو کامیاب بنایا جا سکے۔ دورے کے اختتام پر انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی مفاد، زرعی ترقی اور پانی کی شفاف تقسیم کے لیے محکمہ آبپاشی اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیتا رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4634/2026
کوئٹہ 4جون۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرصدارت شہر میں پیٹرول کی فراہمی اور ترسیل کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے تمام پیٹرول پمپس اور آئل کمپنیوں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔اجلاس میں شیل، اٹک، بائیکو، پی ایس او، میکس اور دیگر آئل کمپنیوں و پیٹرول پمپس کے نمائندوں نے اپنے اپنے پمپوں کی موجودہ صورتحال، اسٹاک، سپلائی اور ترسیل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام پیٹرول پمپس کو بلا تعطل سپلائی جاری رکھی جائے اور کسی بھی صورت عوام کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ تمام پمپس مکمل طور پر فعال ہیں جبکہ سپلائی کا نظام معمول کے مطابق جاری ہے۔انہوں نے سختی سے ہدایت کی کہ کوئی بھی رجسٹرڈ پیٹرول پمپ بلا جو از بند نہیں ہونا چاہیے، بصورت دیگر متعلقہ مالک کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس میں پیٹرول پمپس کے تمام یونٹس کو مکمل طور پر بحال رکھنے، ان کی مسلسل نگرانی کرنے اور ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے سیکیورٹی اقدامات مزید موثر بنانے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے انتظامی افسران کو ہدایت کی کہ وہ تمام پیٹرول پمپس کی مسلسل نگرانی کریں اور عوام تک پیٹرول کی بروقت فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ کسی قسم کی مصنوعی قلت یا بدانتظامی پیدا نہ ہو۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4635/2026
صحبت پور4جون ۔ مانجھوٹی شاخ میں واقع واٹر کورس عمر خان کھوسہ کے مقام پر پانی کے دباومیں اچانک اور غیر معمولی اضافے کے باعث ایک شگاف پیدا ہو گیا جس سے قریبی زرعی اراضی اور آبادی کو ممکنہ خطرات لاحق ہو سکتے تھے اطلاع موصول ہوتے ہی ڈپٹی کمشنر صحبت پور میڈم فریدہ ترین نے فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کرنے کی ہدایت کی جس پر اسسٹنٹ کمشنر صحبت پور سیف الدین کھوسہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گیا، جہاں انہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران اور فیلڈ ٹیموں کے ہمراہ صورتحال کا جائزہ لیا اور امدادی و مرمتی سرگرمیوں کی خود نگرانی کی شگاف کی بندش کے لیے بروقت اور موثر اقدامات کیے گئے، جن کے تحت بھاری مشینری، خالی بوریاں، ٹریکٹر ٹرالیاں اور دیگر ضروری سامان فوری طور پر متاثرہ مقام پر پہنچایا گیا۔ ریسکیو اور فیلڈ ٹیموں نے دن رات مسلسل محنت کرتے ہوئے شگاف کو بند کرنے کا عمل جاری رکھا۔مزید برآں، مانجھوٹی شاخ میں پانی کے دباو کو کم کرنے کے لیے متعلقہ مقامات پر گیٹس بند کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں، جس کے نتیجے میں پانی کی سطح میں واضح کمی واقع ہوئی اور مرمتی کام کو تیز اور محفوظ بنانے میں مدد ملی ضلعی انتظامیہ، آبپاشی حکام اور د یگر متعلقہ اداروں کی مربوط، بروقت اور موثر حکمت عملی کے باعث شگاف کو کامیابی کے ساتھ بند کر دیا گیا ہے اس وقت صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور علاقے میں آبپاشی کا نظام معمول کے مطابق بحال کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور علاقے کی مسلسل نگرانی جاری رکھی جا رہی ہے تاکہ عوام اور زرعی زمینوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4636/2026
موسیٰ خیل 4جون ۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت ضلعی کانفرنس ہال میں ’پی ایم یو آ بی ای ایس پی (PMU-BESP) اسکالرشپ پروگرام کے حوالے سے ایک خصوصی آگاہی سیشن منعقد ہوا۔ سیشن کا مقصد ضلع کی طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع اور اسکالرشپ کی فراہمی کے عمل سے آگاہ کرنا تھا سیشن میں پی ایم یو/بی ای ایس پی کے نمائندے کلیم اللہ ترین، متعلقہ افسران اور میڈیا نمائندگان نے شرکت کی۔ کلیم اللہ ترین نے اسکالرشپ پروگرام کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے طالبات کے لیے مکمل فنڈڈ اسکالرشپس، اہلیت کے معیار، داخلے کے ضوابط اور آن لائن درخواست جمع کرانے کے جامع طریقہ کار پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔س بعد ازاں ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے گورنمنٹ گرلز کالج میں منعقدہ سیشن میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ تعلیم کے فروغ اور طالبات کو بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ اس طرح کے اسکالرشپ پروگرامز پسماندہ علاقوں کی طالبات کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھولتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کیں کہ وہ اس اسکالرشپ پروگرام کی تشہیر کو یقینی بنائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ حق دار طالبات اس سہولت سے استفادہ کر سکیں۔ آخر میں انہوں نے پروگرام کی کامیابی کے لیے اپنی مکمل
معاونت کا یقین دلایا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4637/2026
موسی خیل 4 جون ۔ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نادر ایسوٹ نے BHU کشپان اور BHU کوٹ خان محمد کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد صحت کی سہولیات، عملے کی حاضری، ILR کی دیکھ بھال، کولڈ چین سسٹم، ویکسین اسٹاک اور متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لینا تھا۔دورے کے دوران ڈاکٹر نادر ایسوٹ نے مختلف رجسٹرز، ویکسین اسٹاک، درجہ حرارت کے ریکارڈ اور EPI سرگرمیوں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ وہ مقررہ اصول و ضوابط کے مطابق اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں اور تمام ریکارڈ کو مکمل، درست اور بروقت اپ ڈیٹ رکھیں تاکہ ویکسینیشن خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ اس طرح کے دوروں کا مقصد صحت کی سہولیات کی موثر نگرانی، کولڈ چین سسٹم کی بہتری، ویکسین کے محفوظ ذخیرے کو یقینی بنانا اور عوام کو معیاری حفاظتی ٹیکہ جات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ ایسے اقدامات محکمہ صحت کی خدمات کو مزید موثر بنانے اور عوامی صحت کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4638/2026
لورالائی، 4 جون ۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ سے بی آر ایس پی کے آفیسر منور خان جوگیزئی نے ملاقات کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل کمشنر اعجاز احمد جعفر بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران منور خان جوگیزئی نے لورالائی اور میختر میں بی آر ایس پی کی جاری سرگرمیوں اور ادارے کی کارکردگی کے حوالے سے کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی۔ فریقین نے باہمی دلچسپی کے مختلف امور، عوامی فلاح و بہبود، جاری ترقیاتی سرگرمیوں اور انتظامی معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔کمشنر ولی محمد بڑیچ نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور درپیش مسائل کا بروقت حل ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری اداروں اور ترقیاتی تنظیموں کے باہمی تعاون سے عوامی خدمت کے عمل کو مزید موثر بنایا جا سکتا ہے۔ملاقات میں عوامی مفاد کے مختلف منصوبوں اور سماجی ترقی سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی گئی جبکہ باہمی روابط اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات خوشگوار ماحول میں منعقد ہوئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4639/2026
لورالائی، 4 جون ۔حکومت بلوچستان کی جانب سے محکمہ زکوٰة کی بندش کے بعد انتظامی امور، ریکارڈ اور فنڈز کی منتقلی سے متعلق لائحہ عمل طے کرنے کے لیے ایڈیشنل کمشنر لورالائی اعجاز احمد جعفر کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر حبیب اللہ ناصر اور ڈپٹی ڈائریکٹر زکوٰةعظمت نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران محکمہ زکوٰة کی بندش کے بعد پیدا ہونے والی انتظامی صورتحال، اثاثوں، سامان، ریکارڈ اور فنڈز کی منتقلی کے طریقہ کار سمیت مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔شرکاءنے اس بات پر زور دیا کہ محکمانہ تبدیلی کے عمل کے دوران مستحق افراد کو امداد اور فلاحی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو اور فنڈز کی منتقلی کا عمل مکمل شفافیت، میرٹ اور قواعد و ضوابط کے مطابق انجام دیا جائے۔اجلاس میں ملازمین سے متعلق امور، عوامی فلاح و بہبود کے جاری منصوبوں کے تسلسل اور مستقبل کے انتظامی لائحہ عمل پر بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر مختلف تجاویز پیش کی گئیں تاکہ منتقلی کے عمل کو موثر اور منظم انداز میں مکمل کیا جا سکے۔ایڈیشنل کمشنر لورالائی اعجاز احمد جعفر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام انتظامی معاملات کو قانون اور حکومتی پالیسی کے مطابق جلد از جلد حتمی شکل دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت، شفافیت اور جوابدہی کو ہر مرحلے پر یقینی بنایا جائے تاکہ فلاحی سرگرمیوں کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہ سکے۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ انتظامی تبدیلی کے اس مرحلے میں عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے تمام امور کو شفاف، منظم اور بروقت انداز میں مکمل کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4640/2026
لورالائی: 4جون ۔ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیر صدارت ضلعی انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی (DICC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد، اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، انسدادِ اسمگلنگ، غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کی واپسی، حساس تنصیبات کی سیکیورٹی، منشیات کے خلاف کارروائیوں اور غیر قانونی معدنیات کی روک تھام سمیت مختلف اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ضلع بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کی نشاندہی اور تصدیق کا عمل جاری ہے۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ شناخت شدہ غیر ملکی شہریوں کی فوری تصدیق کے بعد ان کی وطن واپسی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس سلسلے میں محکمہ داخلہ کو ارسال کردہ سرٹیفکیٹ کا بھی جائزہ لیا گیا جس کی تمام متعلقہ اداروں نے توثیق کی۔اجلاس میں عوامی مقامات، تفریحی مراکز، پارکس، کھیل کے میدانوں اور دیگر شہری سہولیات کی سیکیورٹی اور دیکھ بھال کے امور پر بھی غور کیا گیا۔ سرکاری باغ اور پٹھان کوٹ میں پیش آنے والے افسوسناک حادثات، جن میں معصوم بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں، پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی کہ حفاظتی انتظامات کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کا سدباب ممکن ہو سکے۔اجلاس نے فیصلہ کیا کہ عوامی شاہراہوں، بازاروں اور دیگر مقامات پر ٹریفک کی روانی یا عوامی نظم و ضبط میں خلل ڈالنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کے علاوہ شادی بیاہ، خوشی کی تقریبات اور دیگر مواقع پر ہوائی فائرنگ پر مکمل پابندی کے نفاذ کا اعادہ کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی کہ خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔اجلاس میں انسدادِ منشیات مہم کو مزید موثر بنانے، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات کے اطراف نگرانی سخت کرنے اور نوجوان نسل کو منشیات کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔اس موقع پر حساس سرکاری و نجی تنصیبات کی سیکیورٹی کا جائزہ لیتے ہوئے حفاظتی اقدامات مزید مضبوط بنانے، سی سی ٹی وی نگرانی کے نظام کو فعال رکھنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطوں کو یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئی۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کے جان و مال کے تحفظ، قانون کی عملداری اور پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے تمام اداروں پر زور دیا کہ باہمی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور مربوط کارروائیوں کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف موثر اقدامات جاری رکھے جائیں تاکہ ضلع میں امن و استحکام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4641/2026
لورالائی: 4جون ۔عوامی شکایات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے ضابطگیوں کی اطلاعات کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ لورالائی نے پرائس کنٹرول مہم مزید تیز کر دی۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع اور اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم کی خصوصی ہدایات پر پرائس کنٹرول کمیٹی کے انچارج معصوم خان نے لورالائی شہر کے مرکزی بازار اور مختلف تجارتی مراکز کا تفصیلی دورہ کیادورے کے دوران کمیٹی نے پرچون اسٹورز، سبزی و پھل فروشوں، آٹا چکیوں، کریانہ شاپس، دودھ و دہی فروشوں، انڈوں اور دیگر اشیائے خوردونوش کی دکانوں کا معائنہ کیا۔ حکومتی نرخ ناموں کے مطابق اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، معیار اور دستیابی کا جائزہ لیا گیا جبکہ دکانداروں کو سرکاری نرخ نامے نمایاں مقامات پر آویزاں رکھنے اور مقررہ قیمتوں پر اشیاء فروخت کرنے کی ہدایت کی گئی۔معائنہ کے دوران متعدد دکانداروں کو نرخ ناموں کی پابندی، صفائی ستھرائی اور صارفین کے ساتھ بہتر رویہ اختیار کرنے کی تلقین کی گئی۔ پرائس کنٹرول کمیٹی نے بعض مقامات پر قیمتوں اور نرخ ناموں میں تفاوت کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ دکانداروں کو وارننگ بھی جاری کی۔اس موقع پر پرائس کنٹرول کمیٹی کے انچارج معصوم خان نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو مقررہ نرخوں پر معیاری اور معیاری اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور سرکاری نرخ ناموں کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور قانون شکنی کے مرتکب عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ عوامی شکایات کے ازالے اور مارکیٹوں میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے پرائس کنٹرول کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر مختلف بازاروں کا دورہ کر رہی ہے۔ شہری کسی بھی قسم کی گرانفروشی یا بے ضابطگی کی صورت میں ضلعی انتظامیہ کو فوری اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔ضلعی انتظامیہ لورالائی کے مطابق عوامی مفاد میں بازاروں اور تجارتی مراکز کی نگرانی کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا تاکہ مہنگائی پر قابو پانے، ناجائز منافع خوری کی روک تھام اور شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے حکومتی اقدامات کو موثر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4642/2026
کوئٹہ 4 جون۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ صوبہ بلوچستان کے معروضی حالات میں پرنٹ میڈیا,حکومت اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ جدید صحافتی رجحانات کی تشکیل، مادری زبانوں کے تحفظ اور ہمارے نوجوانوں میں جذبہ حب الوطنی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے تاہم پرنٹ میڈیا کو مختلف آن لائن پلیٹ فارمز اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی آمد سے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ جدید ڈیجیٹل دنیا میں ایک مضبوط اور باخبر آواز رکھنے کیلئے پرنٹ میڈیا کو مسلسل جدید اور اپ گریڈ کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ یہ سائنٹفک سوچ و اپروچ کے تحت معاشرے کو فکری رہنمائی فراہم کرتا رہے۔ گورنر مندوخیل نے پرنٹ میڈیا کو درپیش مشکلات کے پائیدار حل کیلئے اپنے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی یقین دھانی کرائی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیئرمین بلوچستان پرنٹ میڈیا سید انور شاہ کی قیادت میں پرِنٹ میڈیا ایڈیٹرز پر مشتمل وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان میں ڈیلی اخبارات اور خاص طور پر جرائد محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ یہ ہماری قومی تاریخ، زبان و ادب کے محافظ بھی ہیں۔ جب وقت بدلتا ہے تو وقت کے تقاضے بھی بدل جاتے ہیں اور ہر نیا سسٹم اپنے ساتھ نئی اقدار بھی لاتا ہے جن کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ صحافت تو باقاعدہ ایک انڈسٹری ہے اور یہاں بھی اس سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہیں۔ آج بھی ہمارے پرنٹ میڈیا کے متعدد تجربہ کار صحافی پوری ذمہ داری اور دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ بحیثیت گورنر بلوچستان میں دونوں پرنٹ اور الیکٹرانک سے وابستہ صحافی حضرات کی گرانقدر خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور موجودہ حکومت صحافیوں کے حقوق و تحفظ اور آزادی اظہار کی طاقت پر یقین رکھتی ہے۔ وفد نے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل کو اپنے درپیش مسائل، میڈیا پالیسی اور اپنے تحفظات سے آگاہ کیا جن گورنر مندوخیل نے غور اور توجہ سے سنا اور ان کے حل کیلئے اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4643/2026
کوئٹہ، 4 جون ۔حکومت بلوچستان نے صوبے کے سرکاری پرائمری اسکولوں میں یونیفارم کی شرط ختم کرتے ہوئے پرائمری تعلیمی اداروں کو “جینڈر فری” قرار دینے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے جس کے تحت بچے اور بچیاں ایک ہی اسکول میں بنیادی تعلیم حاصل کرسکیں گے یہ فیصلہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں خواتین اساتذہ کی کمی، تعلیمی سہولیات کے محدود وسائل اور غریب خاندانوں پر یونیفارم کے مالی بوجھ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں میں “ٹاٹ کلچر” کے مکمل خاتمے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے سیکرٹری اسکولز ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو تمام تعلیمی اداروں میں ڈیسکوں کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کا حکم دے دیا ہے یہ اہم فیصلے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیے گئے جس میں تعلیم، صحت اور امن و امان کے شعبوں میں اصلاحات اور آئندہ مالی سال کے بجٹ کے تناظر میں ترجیحی اقدامات کا جائزہ لیا گیا اجلاس میں صوبے میں شرح خواندگی بڑھانے، تعلیمی معیار بہتر بنانے اور اسکولوں تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شرح خواندگی میں اضافے اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیمی نظام میں شامل کرنے کے لیے صوبے کے 900 اسکولوں میں ڈبل شفٹ تدریسی نظام متعارف کرایا جائے گا اس اقدام سے موجودہ تعلیمی انفراسٹرکچر کو زیادہ مو¿ثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے ہزاروں اضافی طلبہ کو تعلیم کی سہولت فراہم کی جا سکے گی اجلاس میں پرائمری اسکولوں کو جینڈر فری قرار دینے کی مجوزہ پالیسی کو بلوچستان کابینہ کے آئندہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کرنے کی سفارش بھی کی گئی شرکاء کو بتایا گیا کہ اس اقدام سے خاص طور پر دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں بچوں اور بچیوں کی اسکولوں تک رسائی میں نمایاں بہتری آئے گی اور شرح داخلہ میں اضافہ ہوگا چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آئندہ سال تک صوبے کے تین ہزار سنگل روم اسکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر مکمل کی جائے گی تاکہ تعلیمی ماحول کو مزید بہتر بنایا جا سکے اور بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان کے تمام سرکاری اسکولوں میں منظور شدہ یکساں ریڈنگ اینڈ رائٹنگ مٹیریل متعارف کرایا جائے گا تاکہ طلبہ کو یکساں اور معیاری تعلیمی مواد فراہم کیا جا سکے اجلاس میں این سی ایچ ڈی کے اساتذہ کی کئی برسوں سے جمود کا شکار فکسڈ تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافے پر بھی اتفاق کیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دنیا تیزی سے ترقی کرچکی ہے لیکن یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ بلوچستان کے اکثر علاقوں میں آج بھی بچے ٹاٹ پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال کسی صورت قابل قبول نہیں حکومت ہر بچے کو باوقار تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے وزیر اعلیٰ نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے تمام فعال سرکاری اسکولوں میں ہر بچے کو ڈیسک فراہم کیا جائے گا اور کوئی بھی طالب علم زمین یا ٹاٹ پر بیٹھ کر تعلیم حاصل نہیں کرے گا انہوں نے کہا کہ بچوں میں خود اعتمادی، عزت نفس اور احساسِ وقار پیدا کرنا معیاری تعلیم کا بنیادی جزو ہے اور حکومت اس مقصد کے حصول کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ خود صوبے کے دور دراز علاقوں میں اسکولوں کا اچانک معائنہ کریں گے اور زمینی حقائق کا جائزہ لیں گے انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے کسی بھی پہاڑی یا دور افتادہ علاقے میں واقع اسکول کا اچانک دورہ کیا جا سکتا ہے تاکہ حکومتی احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے وزیر اعلیٰ نے انتباہ کیا کہ مقررہ مدت کے بعد اگر کسی اسکول میں بچے ٹاٹ پر بیٹھے ہوئے پائے گئے تو متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت تعلیم، صحت اور امن و امان کے شعبوں میں اصلاحات کے ذریعے بلوچستان کے عوام خصوصاً نئی نسل کو بہتر اور روشن مستقبل فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی، صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو، صوبائی وزیر ترقیات و منصوبہ بندی میر ظہور بلیدی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، سیکرٹری تعلیم لعل جان جعفر، سیکرٹری ہیلتھ مجیب الرحمٰن پانیزئی، سیکرٹری خزانہ جہانگیر خان کاکڑ، پرنسپل سیکرٹری عمران زرکون، اسپیشل سیکرٹری خزانہ عارف خان ، ایڈیشنل سیکرٹری چیف منسٹر سیکرٹریٹ محمد فریدون خان سمیت متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4644/2026
کوئٹہ 4 جون ۔ بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی مخلوط صوبائی حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کی شروع دن سے ہی کوشش رہی ہے کہ صوبے کے لوگوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں صحت ، تعلیم، مواصلات، آبپاشی سمیت مختلف دیگر شعبوں کے لیے فنڈز کا تعین ان شعبوں کی اہمیت اور افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کو سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی مواقع مل سکیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت میر سرفراز بکٹی کی سربراہی میں حکومت میں شاملِ اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت سے برابری کی بنیاد پر مختلف علاقوں بجٹ سمیت درپیش مسائل کے حل کیلئے جاندار تجاویز شامل کیے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں وہ خود اسلام اباد گئے تھے جہاں وفاقی حکومت صوبوں کو کچھ بھی دینے کے لیے تیار نہیں بلکہ وفاق کی طرف سے مطالبہ ہے کہ صوبے وفاق کو وسائل فراہم کریں لہذا صوبائی حکومت اپنے محدود وسائل کے باوجود عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بجٹ میں مختلف تجاویز شامل کر رہی ہے تاکہ صوبہ ترقی اور خوشحالی منازل طے کرسکے، صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبے کے مخصوص حالات کی وجہ سے ریاست میں جنگی صورتحال موجود ہے لہذا اس حوالے سے صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو تاکہ ترقیاتی عمل تیزی کے ساتھ جاری رہے سکے، صحت اور صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ڈیرہ مراد جمالی میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے عہد کے مطابق خطیر رقم سے جدید طرز کا ہسپتال زیر تعمیر ہے جہاں لیور ٹرانسپلانٹ کے علاوہ دیگر مختلف امراض کے علاج کیلئے سہولیات میسر ہوں گی، انہوں نے کہا کہ اس ہسپتال کی تکمیل سے صوبے کے لاکھوں لوگوں کو علاج و معالجے کے وسائل دستیاب ہوں گے، میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے پٹ فیڈر کینال کے لیے 62 ارب روپے کا جامع منصوبہ تشکیل دیا ہے انہوں نے کہا کہ 1970 سے یہ نہر بنا تھا جس پر کام نہیں ہوا اور اس نہر میں تین ہزار کیوسک پانی آتا ہے اب اس نہر پر تیزی سے کام جاری ہے، کیر تھر کینال پر بل صفائی سمیت مزید تین نہریں نکالی گئی ہیں ان منصوبوں کی تکمیل اور لاکھوں ایکڑ زمینوں کی آبادی سے لوگ خوشحال ہوں گے اور علاقہ ترقی کرے گا، میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں 200 سے زائد چھوٹے ڈیموں پر بھی کام جاری ہے تاکہ لوگوں کو صاف پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے، انہوں نے کہا کہ ہمارے وسائل محدود ہیں لیکن ہمارا عزم بڑا ہے لہذا ہم نے صوبے کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کیلئے نیک نیتی سے جو علم بلند کیا ہے وہ کبھی بھی گرنے نہیں دیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4645/2026
کوئٹہ: 4 جون، ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے عالمی یومِ ماحولیات کی مناسبت سے جاری کردہ اپنے خصوص پیغام میں کہا ہے کہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیاں اس وقت کرہ ارض کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جو گزشتہ چند برسوں میں خشک سالی اور غیر متوقع شدید سیلابوں جیسی ماحولیاتی آفات کا براہ راست نشانہ بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دن کو منانے کا اصل مقصد عوام میں ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور قدرتی وسائل کے درست استعمال کا شعور بیدار کرنا ہے تاکہ ماحولیاتی بگاڑ کو روکا جا سکے۔ زمین ہمیں زندگی دیتی ہے اور اس کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ اگر ہم نے آج اپنے ماحول کو بچانے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی، اس لیے درخت لگانا اب محض ایک صحت مند مشغلہ نہیں بلکہ ایک قومی اور اخلاقی فریضہ بن چکا ہے۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے سنگین اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان ان ٹاپ دس ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، باوجود اس کے کہ عالمی کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ بلوچستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ صوبے کا ستر فیصد سے زائد حصہ بنجر یا نیم بنجر اراضی پر مشتمل ہے، جہاں زیر زمین پانی کی سطح سالانہ دو سے تین میٹر تک گر رہی ہے جو کہ ایک انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں جنگلات کا کل رقبہ معیار کے مطابق پچیس فیصد ہونا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے یہ اس وقت پانچ فیصد سے بھی کم ہے، جسے جنگی بنیادوں پر بڑھانے کی سخت ضرورت ہے۔ان سنگین خطرات کے پیش نظر حکومتِ بلوچستان نے حالیہ برسوں میں کئی اہم اور عملی اقدامات اٹھائے ہیں۔ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار ایک جامع کلائمیٹ چینج پالیسی تشکیل دی گئی ہے، جس کے تحت پانی کے ذخائر کے تحفظ اور آفات سے نمٹنے کے لیے مضبوط انفراسٹرکچر پر کام جاری ہے۔ جنگلات کے رقبے کو بڑھانے کے لیے صوبے بھر میں وسیع پیمانے پر شجرکاری مہمات شروع کی گئی ہیں جن میں مقامی درختوں کی کاشت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، زیر زمین پانی کی سطح کو مزید گرنے سے روکنے کے لیے مختلف اضلاع میں چیک ڈیمز اور تاخیری بند تعمیر کیے جا رہے ہیں تاکہ بارش کے پانی کو محفوظ کیا جا سکے، جبکہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے یکبارگی استعمال ہونے والے پلاسٹک شاپنگ بیگز پر پابندی کے قانون پر بھی عملدرآمد تیز کر دیا گیا ہے۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے گھروں سے پلاسٹک کے یکبارگی استعمال کا خاتمہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک اور اس سے تیار کردہ مصنوعات ہمارے آبی ذخائر اور مٹی کو تباہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ پر زور دیا کہ وہ “کلین اینڈ گرین بلوچستان” مہم کا حصہ بنیں اور ہر شہری کم از کم دو پودے لگا کر ان کی پرورش کی ذمہ داری خود لے تاکہ ماحولیاتی چیلنجز سے بہتر طریقے سے نمٹا جاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta, June 4, 2026Advisor to the Chief Minister of Balochistan on the Department of Women Development, Dr. Rubaba Khan Buledi, in her special message issued on the occasion of World Environment Day, stated that global warming and climate change have emerged as the greatest challenges facing the planet today, requiring urgent and immediate action.She noted that Balochistan, the largest province of Pakistan by area, has directly suffered from environmental disasters in recent years, including prolonged droughts and unexpected severe floods. Dr. Rubaba Khan Buledi emphasized that the primary purpose of observing this day is to raise public awareness about eliminating environmental pollution and ensuring the sustainable use of natural resources to prevent environmental degradation. “The Earth gives us life, and protecting it is a shared responsibility of all humanity. If we fail to take serious measures to safeguard our environment today, future generations will never forgive us. Planting trees is no longer merely a healthy activity; it has become a national and moral obligation,” she said.Highlighting the severe impacts of climate change, Dr. Rubaba Khan Buledi pointed out that Pakistan ranks among the top ten countries most affected by climate change globally, despite contributing less than one percent to global carbon emissions. Speaking specifically about Balochistan, she expressed concern that more than 70 percent of the province consists of barren or semi-barren land, while groundwater levels are declining by two to three meters annually—an extremely alarming situation.Dr. Rubaba Khan Buledi further stated that, according to environmental standards, forests should cover approximately 25 percent of the province’s land area; however, unfortunately, forest cover currently remains below five percent, making it imperative to increase it on a war footing.In view of these serious challenges, the Government of Balochistan has undertaken several significant and practical measures in recent years. For the first time in the province’s history, a comprehensive Climate Change Policy has been formulated. Under this policy, efforts are underway to protect water resources and develop resilient infrastructure capable of mitigating natural disasters.Large-scale tree plantation campaigns have been launched across the province, with priority being given to indigenous tree species. Additionally, check dams and delay-action dams are being constructed in various districts to conserve rainwater and prevent further depletion of groundwater reserves. The government has also accelerated the implementation of legislation banning single-use plastic shopping bags in an effort to reduce environmental pollution.Dr. Rubaba Khan Buledi stressed the need to eliminate the use of single-use plastics in households, stating that plastic and plastic-based products are causing severe damage to water resources and soil. She urged school and university students to actively participate in the “Clean and Green Balochistan” campaign and encouraged every citizen to plant at least two trees and take personal responsibility for their care and maintenance, enabling society to better address environmental challenges.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4646/2026
کوئٹہ 4جون۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا ہے کہ گڈ گورننس اور بہترین سروس ڈیلیوری عوام کا بنیادی حق ہے، حکومت کی ذمہ داری کہ وہ اپنے شہریوں کو شفاف، موثر اور مساوی بنیادوں پر سہولیات فراہم کرے۔ انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی سروس ڈیلیوری میں شفافیت اور موثریت کو یقینی بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیکرٹریز کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، پرانی گاڑیوں کی نیلامی، ترقیاتی منصوبوں کے پی سی۔1 کی تیاری سمیت دیگر اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے ترقیاتی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ 197ترجیحی ترقیاتی منصوبوں میں سے 138 منصوبوں کی پی سی۔ 1 متعلقہ محکمے کو پہنچ چکی ہے۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ باقی منصوبوں کی بھی پی سی۔ 1 جلدی مکمل کرکے بھیج دیں۔ انہوں نے کہا کہ پرانی گاڑیوں کی جلد نیلامی کو یقینی بنایا جائے۔ نیلامی میں شفافیت کو اولین اہمیت دی جائے تاکہ سرکاری نمبروں کا غلط استعمال روکا جا سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام آفیسران اپنے جائے تعیناتی پر حاضر رہیں تاکہ عوام کے مسائل ان کے دہلیز پر حل ہو۔ کیونکہ ہم عوام کی خدمت کے لیے ہی بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے وفاقی سطح پر صوبے کی حصہ میں خالی آسامیوں پر بات کی جائے گی تاکہ صوبائی کوٹے پر مختص شدہ خالی آسامیوں پر تقرری کو یقینی بنایا جا سکے۔ اور اس سلسلے میں وفاقی حکومت سے بھی بات کی جائے گی ، انہوں نے کہا کہ مانیٹرنگ اور ایویلوایشن سیکشن کی کارکردگی سے ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ سیکشن کی موثر نگرانی، باقاعدہ جائزے اور ڈیٹا پر مبنی فیصلوں نے منصوبوں کی شفافیت، بروقت تکمیل اور وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4647/2026
کوئٹہ، 4 جون۔ عالمی یومِ ماحولیات 2026 کے سلسلے میں سینٹر آف ایکسیلنس حکومت بلوچستان کے زیر اہتمام نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) بلوچستان کیمپس میں ”کمیونٹی کی مضبوطی کے ذریعے ماحولیاتی انتہا پسندی کا مقابلہ“ کے موضوع پر ایک اہم راونڈ ٹیبل کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں ماحولیاتی ماہرین، ماہرین تعلیم، سرکاری اداروں کے نمائندگان، سیکیورٹی ماہرین، محققین اور سول سوسائٹی کے اراکین نے شرکت کی۔کانفرنس کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں، ماحولیاتی تنزلی اور قدرتی وسائل پر بڑھتے ہوئے دباوکے تناظر میں مقامی آبادی کی استعداد کار میں اضافے، بین الادارہ جاتی تعاون کے فروغ اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع اور پائیدار حکمت عملیوں کی تشکیل پر غور و خوض کرنا تھا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینٹر آف ایکسیلنس کے چیف کوآرڈینیشن آفیسر ڈاکٹر دوست محمد بڑیچ نے کہا کہ ماحولیاتی مسائل اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات آج دنیا بھر کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے حکومتی اداروں، تعلیمی مراکز، تحقیقاتی اداروں، سول سوسائٹی اور مقامی کمیونٹیز کے مابین موثر رابطہ اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے عوامی شعور کی بیداری اور کمیونٹی کی فعال شمولیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ڈپٹی کوآرڈینیشن آفیسر ڈاکٹر عصمت اللہ خان نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز کے موثر تدارک کے لیے مقامی سطح پر لچکدار اور مضبوط کمیونٹیز کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی و تحقیقی اداروں، حکومتی محکموں اور عوام کے درمیان مضبوط اشتراک عمل کو مزید موثر بنایا جانا چاہیے۔کانفرنس کے مختلف سیشنز میں محکمہ داخلہ کی نمائندہ ڈاکٹر فہمیدہ، سیکیورٹی امور کے ماہر ایس پی محمد شریف، ماہر ماحولیات ڈاکٹر رابعہ ظفر، ماحولیاتی افسران، محکمہ تعلیم کی نمائندہ لاریب احتشام اور نسٹ بلوچستان کیمپس کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر حافظ قاسم علی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین نے ماحولیاتی تحفظ، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں کمی اور کمیونٹی ریزیلینس کے فروغ کے لیے مربوط پالیسی سازی اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں بلکہ عوامی سطح پر شعور اجاگر کرنے، نوجوان نسل کو ماحولیاتی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے اور مقامی کمیونٹیز کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک محفوظ، صحت مند اور پائیدار ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔کانفرنس کے اختتام پر شرکاءنے ماحول دوست پالیسیوں کے فروغ، ماحولیاتی آگاہی مہمات کو مزید موثر بنانے، تحقیق و جدت کی حوصلہ افزائی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر عالمی یومِ ماحولیات کے پیغام کو عام کرنے اور آئندہ نسلوں کے لیے ایک سرسبز، محفوظ اور پائیدار مستقبل کی تعمیر کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4648/2026
تربت4جون ۔.ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی سے سابق صوبائی مشیر لالا رشید دشتی نے ان کے دفتر میں ملاقات کیا۔ ملاقات میں اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی, ڈپٹی ڈائریکٹر انڈسٹری فہد رحیم, ایڈووکیٹ مجید شاہ, چیئرمین اسحاق دشتی، عبدالباقی بلوچ اور سعید جان گلزار بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران ضلع کیچ بالخصوص تحصیل دشت کی مجموعی صورتحال، امن و امان، عوام کو درپیش مسائل، ترقیاتی امور اور انتظامی معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔اس موقع پر تحصیل دشت میں پائیدار امن کے قیام، عوامی شکایات کے بروقت ازالے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے سے متعلق مختلف تجاویز اور امور کا جائزہ لیا گیا۔سابق صوبائی مشیر لالا رشید دشتی نے علاقے کے عوام کو درپیش مسائل اور مقامی سطح پر موجود ضروریات سے ڈپٹی کمشنر کیچ کو آگاہ کیا جبکہ ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نے یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ کیچ عوامی فلاح و بہبود، امن و امان کے استحکام اور ترقیاتی منصوبوں کی موثر نگرانی کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ملاقات میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ تحصیل دشت سمیت ضلع کیچ کے مختلف علاقوں میں امن، ترقی اور عوامی خدمت کے عمل کو مزید موثر اور مضبوط بنایا جائے گا تاکہ عوام کو بہتر سہولیات اور پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4649/2026
کوئٹہ ، 4جون ۔ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت نے کہا کہ ضلع بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، جرائم کی روک تھام، عوامی شکایات کے ازالے کیلئے کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اورمحفوظ ماحول کی یقینی بنانے کیلئے پولیس کو دی گئی ذمہ داریوں کواحسن طریقے سے انجام دیتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر، منشیات فروشوں، اشتہاری ملزمان اور امن و امان خراب کرنے والے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھی ہوئے ہے۔عوام کی جان و مال کے تحفظ، امن و امان کی بحالی، جرائم کے موثر خاتمے اور جدید پولیسنگ کے نظام کے تحت مزید بہتر بنانے کے لیے متعلقہ افسران کو بھرپور محنت، ایمانداری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ فرائض سرانجام دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔واضح رہے کہ جرائم تدارک کے جاری مہم کے دوران کوئٹہ شہر میں منشیات فروشوں، جرائم پیشہ عناصر، موٹر سائیکل، گاڑیاں، موبائل فون چھیننے،چوری وراہزنی سمیت دیگر مقدمات میں مطلوب اشتہاری، مفرور ملزمان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 80ملزمان کوگرفتار کرکےان کے قبضےسے 75عدد ریوالور و پسٹل 2عددکلاشنکوف ، 4 عدد شارٹ گن،801کارتوس ، 2 عدد میگزین قبضے میں لی۔ جبکہ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کے دوران 35 ملزمان کو حراست میں لیکر ان سے 108.393 کلو گرام چرس ،2.10 کلوگرام ہیروئن ،1251شراب کی بوتلیں اور 376بیئر کین برآمد کیں۔اس کے علاوہ مہم کے دوران 68 اشتہاری ملزمان،57 مطلوب مفرور جبکہ مختلف جرائم میں 1083 ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اور 5 مغویوں کو بازیاب کرایا گیاا ہے اسی طرح 3 مسروقہ گاڑیاں ،17موٹر سائیکلیں ، 8 موبائل فون ، جبکہ دفعہ 144کے دوران 1موٹرسائیکل ،2071لیٹر پیٹرول اور 420 لیٹر ڈیزل برآمد کیں۔پولیس اہلکار عوام کے ساتھ خوش اخلاقی اور احترام پر مبنی رویہ اپنائیں اور تھانوں میں آنے والے سائلین کے مسائل کوترجیحی بنیائدوں پر حل کیا جائے۔ عوامی شکایات کے بروقت ازالے اور شفاف کارروائی سے نہ صرف عوام کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ پولیس اور شہریوں کے درمیان تعاون کو بھی فروغ ملے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4650/2026
ہرنائی 4جون ۔ ضلع ہرنائی اور بلوچستان کی طالبات کو ملک کے ممتاز اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اسکالرشپس کے ذریعے تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کی زیر صدارت اسکالرشپس گائیڈنس پروگرام (PMU-BESP) کا ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا ہے۔ اجلاس میں ضلع کی باصلاحیت اور مستحق طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے نیٹ ورک میں شامل کرنے اور ان کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے مختلف تزویراتی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں منعقدہ اس اہم اجلاس میں پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج ہرنائی، پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (PMU-BESP) کے اعلیٰ نمائندوں اور ضلعی انتظامیہ کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران پی ایم یو (PMU) کے وفد اور نمائندوں نے اسکالرشپ پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں پروگرام کے مختلف پہلووں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے طریقہ کار، اہلیت کے مقررہ معیار (Eligibility Criteria) اور اسکالرشپ کے تحت دی جانے والی مالی و تعلیمی سہولیات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ حکام کو بتایا گیا کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد بلوچستان کے پسماندہ اضلاع، بالخصوص ہرنائی کی بچیوں کو مالی مشکلات سے آزاد کر کے ملک کی بڑی یونیورسٹیوں تک رسائی دینا ہے۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ضلعی انتظامیہ اور تعلیمی ادارے مل کر اس پروگرام کی تشہیر کریں گے تاکہ ہرنائی کی زیادہ سے زیادہ طالبات اس سنہریموقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔ شرکائ نے امید ظاہر کی کہ اس تعلیمی اور مالی معاونت کے ذریعے بلوچستان کی بیٹیاں اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر صوبے کی پسماندگی کے خاتمے اور ملک کی تعمیر و ترقی میں ایک مثبت اور فعال کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4651/2026
ہرنائی 4جون ۔ضلع ہرنائی میں عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) ہرنائی ڈاکٹر شعیب اکرم مینگل نے تحصیل ہیڈ کوارٹر (THQ) ہسپتال شارگ کا ایک اہم اور تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور دور دراز علاقے کے مریضوں کے لیے طبی خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے احکامات جاری کیے۔ ڈی ایچ او ہرنائی ڈاکٹر شعیب اکرم مینگل نے ٹی ایچ کیو ہسپتال شارگ کے اچانک دورے کے دوران او پی ڈی، انڈور وارڈز، فارمیسی اور ایمرجنسی بلاک کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے ہسپتال کے آفیشل ریکارڈ، عملے کے حاضری رجسٹر اور ادویات کے دستیاب اسٹاک کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔دورے کے دوران ڈی ایچ او نے ہسپتال میں زیر علاج مریضوں اور ان کے لواحقین سے ملاقات کی اور ہسپتال کی جانب سے فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور مفت ادویات کی فراہمی کے حوالے سے ان سے براہِ راست فیڈبیک لیا۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو سخت ہدایت کی کہ وہ مریضوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئیں اور ایمرجنسی میں آنے والے ہر شہری کو فوری اور بروقت طبی امداد پہنچائی جائے۔ڈاکٹر شعیب اکرم مینگل نے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے عوام کو ان کی دہلیز پر صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرنا ضلعی محکمہ صحت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہسپتال کے عملے کی حاضری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور فرائض میں کوتاہی یا غفلت برتنے والے ملازمین کے خلاف سخت دفتری کارروائی عمل میں لائی جا ئے گی۔ ہسپتال انتظامیہ نے ڈی ایچ او کو یقین دلایا کہ دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4652/2026
نصیرآباد4جون ۔: کمشنر نصیرآباد ڈویژن، صلاح الدین نورزئی کی زیرِ صدارت ای پی آئی (Expanded Programme on Immunization) کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز، ڈی ایس ایم، اے ڈی ایچ اوز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی، جبکہ ڈاکٹر آفتاب اور ڈویڑن کے ڈپٹی کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئےاجلاس کے دوران ڈویژن بھر میں بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی اور اس حوالے سے آگاہی مہم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا کمشنر نصیرآباد ڈویژن نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت بچوں کو مختلف وبائی امراض سے محفوظ رکھنے کے لیے موثر اور ٹھوس اقدامات کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ نصیرآباد ڈویژن ویکسینیشن کے حوالے سے بلوچستان بھر میں مجموعی طور پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، تاہم جن اضلاع میں سست روی پائی جا رہی ہے، وہ اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں کمشنر نے ہدایت کی کہ این آئی آر اور پینٹا ون و ٹو کے ڈراپ آوٹ کو کم کرنے کے لیے ڈی ڈی ایچ اوز موثر میکنزم تیار کریں اور پندرہ روزہ اجلاسوں میں درپیش مسائل کا جائزہ لے کر ان کا حل نکالا جائے انہوں نے مزید بتایا کہ ای پی آئی کی کارکردگی کو مانیٹر کرنے کے لیے ڈویژنل سطح پر ایک ڈیش بورڈ بھی قائم کیا گیا ہے، جس کے ذریعے تمام اضلاع کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جا رہا ہے انہوں نے واضح کیا کہ بچوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور غیر تسلی بخش کارکردگی دکھانے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مزید برآں، انہوں نے ہدایت دی کہ ویکسینیشن سے محروم علاقوں کو مائیکرو پلان کا حصہ بنایا جائے تاکہ ہر بچے تک حفاظتی ٹیکوں کی رسائی یقینی بنائی جا سکے اس کے ساتھ ساتھ ٹیموں کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 2026/4653
گوادر4جون:ـ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر عوام کو ڈینگی وائرس سے محفوظ رکھنے اور بیماری کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے ضلع گوادر میں انسدادِ ڈینگی مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ مہم کے تحت سب ڈویژن پسنی اور اورماڑہ میں خصوصی انسدادِ ڈینگی اسپرے اور آگاہی سرگرمیاں جاری ہیں۔اس مہم میں محکمہ صحت، میونسپل کمیٹی پسنی، میونسپل کمیٹی جیوانی اور متعلقہ ادارے بھرپور انداز میں حصہ لے رہے ہیں۔ ٹیمیں رہائشی علاقوں، سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں، بازاروں اور دیگر حساس مقامات پر اسپرے کے ساتھ ساتھ ممکنہ افزائش گاہوں کی نشاندہی اور خاتمے کے اقدامات بھی کر رہی ہیں۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ انسدادِ ڈینگی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنایا جائے اور صفائی ستھرائی، نکاسی آب اور عوامی آگاہی کے اقدامات کو ترجیح دی جائے تاکہ ڈینگی مچھر کی افزائش کو روکا جا سکے۔انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے گھروں، دفاتر اور اردگرد کے ماحول کو صاف رکھیں، کھلے برتنوں اور پانی جمع ہونے والی جگہوں کا خاتمہ کریں اور انسدادِ ڈینگی مہم میں انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ضلعی انتظامیہ گوادر عوام کی صحت کے تحفظ اور بیماریوں کی روک تھام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے تاکہ شہریوں کو محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 4654/2026
کوئٹہ: 4جون :ـصوبائی وزیر ترقیات و منصوبہ بندی میرظہور بلیدی نے کہا ہے کہ بیوروکریسی کسی بھی ریاستی نظام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور عوامی مسائل کے حل، پالیسیوں پر عملدرآمد اور حکومتی امور کی بہتری میں اس کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کے پیچیدہ داخلی اور انتظامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سرکاری افسران پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، جنہیں پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ نبھانا ہوگا۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) کوئٹہ کے 46ویں مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس (MCMC) کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان کو سماجی و اقتصادی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور عوامی فلاح و بہبود کے شعبوں میں متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔ ان مسائل کے حل میں بیوروکریسی کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی ترقی اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے انتظامی افسران کی مؤثر کارکردگی ناگزیر ہے۔ظہور بلیدی نے کہا کہ بیوروکریسی مجموعی طور پر اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دے رہی ہے اور مختلف شعبوں میں بہتر نتائج سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے کورس کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تربیتی پروگرام افسران کو نہ صرف نئی مہارتیں سیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں بلکہ انہیں اپنے تجربات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے اور انتظامی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کا بھی موقع ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیپا جیسے ادارے افسران کی پیشہ ورانہ تربیت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہاں حاصل ہونے والا علم، تجربہ اور جدید انتظامی طریقہ کار عملی زندگی میں بہتر فیصلوں اور مؤثر کارکردگی کا سبب بنتے ہیں۔صوبائی وزیر نے کورس مکمل کرنے والے افسران کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ نیپا میں حاصل کی گئی تربیت، علم اور تجربات کو اپنی سرکاری خدمات میں بروئے کار لاتے ہوئے عوامی خدمت کے معیار کو مزید بہتر بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تربیت یافتہ اور باصلاحیت افسران ہی بہتر طرز حکمرانی، شفافیت اور عوامی اعتماد کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر کورس کے شرکاء کی کاوشوں کو سراہا گیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت کے ذریعے سرکاری افسران کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا جاتا رہے گا تاکہ وہ قومی اور صوبائی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرسکیں۔اس سے قبل ڈائریکٹر جنرل نیپا کویٹہ سید علی رضا شاہ نے ادارے کی کارکردگی اور کورس پر جائزہ لیا آخر میں اے ڈی نیپا محمد اسلم غنی نے کورس اور اسکے انتظامات پر مہمان خصوصی کو تفصیلی بریفننگ دی بعد ازاں مہمان خاص نے کورس مکمل کرنے والے شرکاء میں اسناد تقسیم کی۔
خبر نامہ نمبر 2026/4655
ضلع چمن4جون :ـضلعی انتظامیہ چمن نے سمگلنگ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 84 کارٹن سمگل شدہ سگریٹ برآمد کر لیے۔ کارروائی آج دوپہر تقریباً 2 بجے اسسٹنٹ کمشنر سٹی چمن کی نگرانی میں عمل میں لائی گئی، جس کے دوران سگریٹ لے جانے والی ایک ڈاٹسن گاڑی کو روک کر قبضے میں لیا گیا۔انتظامیہ کے مطابق ضبط شدہ سگریٹ کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 80 لاکھ روپے (PKR 8 ملین) بتائی جا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے کسٹم حکام سے رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ ایف آئی آر درج کرکے متعلقہ انسدادِ سمگلنگ قوانین کے تحت مزید کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/4656
ضلع چمن 4جون:ـڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے شعبے کی بہتری ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی حاضری، تعلیمی معیار کی بہتری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ معاشرہ ہی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے، لہٰذا تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے تعلیمی نظام کو مزید فعال اور مؤثر بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں۔ اجلاس میں ڈی سی چمن کو ضلع چمن کی تعلیمی اداروں کی مجموعی صورتحال کلاسوں میں طلباء و طالبات کی حاضریوں، اساتذہ کی پرفارمینس اور بی ایس ڈی آئی کی زیرِ تعمیر اور تکمیل شدہ سکیمات کے حوالےسے بھی تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں اجلاس میں ڈی ای او چمن عبدالقدوس اچکزئی محکمہ ایجوکیشن کے تمام افسران اور دیگر متعلقہ افسران شریک تھے۔
خبر نامہ نمبر 2026/4656
موسیٰ خیل 04 جون :_ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ انٹلیجنس کوارڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے متعلقہ ممبران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس دوران گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور انتظامی امور کی بہتری کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین باہمی رابطوں کو مزید مستحکم اور مربوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے کہا کہ ضلع میں قیامِ امن اور عوام کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنا ہوگا اور انٹیلیجنس معلومات کے تبادلے کے نظام کو مزید موثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اجلاس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ ضلعی انتظامیہ اور تمام سکیورٹی ادارے ضلع میں دیرپا امن کے قیام، جرائم کے خاتمے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔
خبر نامہ نمبر 2026/4657
کوئٹہ 04 جون:_وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ماحولیات کا تحفظ صرف ایک عالمی ذمہ داری نہیں بلکہ انسانی بقا، معاشی ترقی اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، زمینوں کی زرخیزی میں کمی اور قدرتی وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ ایسے چیلنجز ہیں جن سے نمٹنے کے لیے حکومت اور عوام کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یوم ماحولیات کی مناسبت سے جاری اپنے ایک خصوصی پیغام میں کیا وزیراعلیٰ نے کہا کہ رواں سال عالمی یوم ماحولیات کا موضوع “زمین کی بحالی، صحرا کے خلاف جدوجہد اور خشک سالی سے نمٹنا” ہے، جو بلوچستان جیسے صوبے کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات دنیا بھر کی طرح بلوچستان میں بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں، لہٰذا قدرتی وسائل کا تحفظ اور ماحول دوست پالیسیوں کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل، حیاتیاتی تنوع اور قدرتی حسن سے مالا مال صوبہ ہے۔ صوبے کی 1100 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی، زیارت، ژوب اور کوہِ سلیمان کے قدیم جنگلات، ہنگول اور ہزارگانجی جیسے قومی پارکس، اور مارخور، چنکارہ اور ہوبرہ بسٹرڈ جیسے نایاب جانور نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کا قیمتی قدرتی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدرتی ورثہ ہماری شناخت اور آنے والی نسلوں کی امانت ہے، جس کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی، غیر قانونی شکار، پلاسٹک آلودگی اور پانی کی بڑھتی ہوئی قلت نے ماحولیاتی نظام کو متاثر کیا ہے۔ اگر ان چیلنجز سے بروقت اور مؤثر انداز میں نمٹا نہ گیا تو اس کے منفی اثرات زراعت، معیشت، صحت عامہ اور مجموعی سماجی ترقی پر مرتب ہوں گے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ماحولیات کے تحفظ اور قدرتی وسائل کی بحالی کے لیے متعدد عملی اقدامات کر رہی ہے۔ گرین بلوچستان پروگرام کے تحت صوبے بھر میں شجرکاری مہم کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے جبکہ زیارت کے عالمی شہرت یافتہ جونیپر جنگلات کی بحالی اور تحفظ کے لیے خصوصی منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ پانی کے تحفظ اور خشک سالی کے اثرات کم کرنے کے لیے مختلف آبی منصوبوں اور ڈیمز پر کام جاری ہے، جبکہ شہری اور دیہی علاقوں میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے اور پلاسٹک بیگز و سنگل یوز پلاسٹک کے استعمال کے خاتمے کے لیے قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود ماحولیات کا تحفظ عوامی تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ ہر شہری کو ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانا ہوگا اور قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھنا ہوگا انہوں نے اہلِ بلوچستان سے اپیل کی کہ ہر گھر میں کم از کم ایک درخت ضرور لگایا جائے اور اس کی حفاظت و نگہداشت کو یقینی بنایا جائے، پلاسٹک بیگز اور سنگل یوز پلاسٹک کے استعمال سے اجتناب کیا جائے اور پانی کے ضیاع کو روکا جائے کیونکہ بلوچستان میں پانی ایک قیمتی قومی اثاثہ ہے میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت ایک سرسبز، صاف ستھرے اور ماحول دوست بلوچستان کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، صحت مند اور پائیدار ماحول فراہم کیا جا سکے۔





