خبرنامہ نمبر4571/2026
کوئٹہ، 2جون۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت سوئی ماسٹر پلان پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس منگل کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں شہری آبادی کے تحفظ اور ماحولیاتی بہتری کے لیے اہم اقدامات کی منظوری دی گئی فلئرنگ اسٹیک کو شہری آبادی سے دور منتقل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس پر عملدرآمد کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کی گئی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے سوئی شہر میں آبی قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہر صورت ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنانے کی ہدایت کی انہوں نے کہا کہ گرمیوں کے دوران ہر شہری تک پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی وزیر اعلیٰ نے سول ایڈمنسٹریشن اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کو باہمی رابطے سے فوری اور موثر اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی انہوں نے سوئی ماسٹر پلان پر عملدرآمد کی رفتار مزید تیز کرنے اور تمام منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کرنے پر زور دیا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہدایت کی کہ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی جلد از جلد یقینی بنائی جائے تاکہ عوامی مسائل کا مستقل بنیادوں پر حل ممکن ہو سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4572/2026
کوئٹہ، 2 جون۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت منگل کے روز چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں کوہ سلیمان ڈویژن کے انتظامی امور اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی سے متعلق مجوزہ و جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کے جائزہ اجلاس کا انعقاد کیا گیا اجلاس میں کوہ سلیمان ڈویژن کے مختلف اضلاع میں جاری ترقیاتی اسکیموں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، عوامی خدمات کی فراہمی، تعلیم، صحت، مواصلات، پینے کے صاف پانی اور دیگر اہم شعبوں میں پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا کمشنر کوہ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی نے وزیر اعلیٰ کو جاری اور مجوزہ منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی اور مختلف منصوبوں پر عملدرآمد کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوہ سلیمان ڈویژن کی پائیدار ترقی اور وہاں کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عوام تک پہنچنے چاہئیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری، شفافیت اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ جاری ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار مزید تیز کی جائے اور انہیں مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو درپیش مسائل کا بروقت ازالہ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور تمام ترقیاتی اسکیموں کی مو¿ثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دور افتادہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے دستیاب وسائل کو عوامی فلاح و بہبود کے لیے بروئے کار لایا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی ضروریات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور انتظامی امور میں بہتری لا کر عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں اجلاس میں کوہ سلیمان ڈویژن میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں، انتظامی اقدامات اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید موثر بنانے کے لیے مختلف تجاویز اور سفارشات پر بھی غور کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4573/2026
کوئٹہ، 02 جون:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے منگل کو یہاں رکن قومی اسمبلی اور جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے ملاقات کی، ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے مختلف امور، صوبے کی مجموعی صورتحال اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی اصغر خان ترین بھی موجود تھے وزیر اعلیٰ بلوچستان اور مولانا عبدالغفور حیدری نے عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی عمل کے فروغ اور صوبے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4574/2026
کوئٹہ2 جون۔صوبائی مشیرماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمٰن خان ملاخیل سے عید کے موقع پر مختلف وفودنے ملاقات کی اور انہیں عید کی مبارکباد دی اس موقع پر وفود نے صوبائی مشیر کو اپنے اپنے حلقوں کے مسائل سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر علاقے کی مجموعی صورتحال، عوامی مسائل اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ صوبائی مشیر نسیم الرحمٰن خان ملاخیل نے وفود کے نمائندوں کو یقین دلایا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے کے ذریعے مسائل کے فوری اور موثر حل کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ علاقے کی ترقی اور عوامی فلاح ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہےاور حکومت کی پالیسی کے مطابق ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا جا رہا ہے تاکہ تمام بنیادی سہولیات عوام کی دہلیز تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سڑکوں، نکاسی آب، ماحولیات کے تحفظ اور دیگر عوامی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ علاقے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لئے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وڑن کے مطابق صوبائی حکومت بھرپور اقدامات کر رہی ہے تاکہ عوام کو انکے بنیادی حقوق ان کی دہلیز پر میسر ہوں اور ان کا معیار زندگی بہتر ہو سکے۔ وفود نے مشیر ماحولیات کی عوامی مسائل میں دلچسپی اور علاقے کی ترقی و عوام کی خوشحالی کے لئے اتھائے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں علاقے میں مزید مثبت تبدیلیاں رونما ہوں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4575/2026
تربت.2 جون ۔: رکن صوبائی اسمبلی اور سابق وزیرِِاعلٰی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی سے ان کے دفتر میں اہم ملاقات کی۔اس دوران ملاقات میں ضلع کیچ کو درپیش مختلف عوامی مسائل، ترقیاتی منصوبوں، بجلی کی صورتحال اور انتظامی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی، ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال تربت ڈاکٹر عبدالوحید بلیدئی، ڈاکٹر نور بلوچ، مشکور انور اور رجب یاسین بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران ضلع کیچ میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں، عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں، صحت کے شعبے کو مزید بہتر بنانے اور بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سمیت دیگر بنیادی مسائل کے حل کے لیے مختلف تجاویز اور اقدامات پر غور کیا گیا۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے عوامی مسائل کے فوری اور موثر حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت اور انتظامیہ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوامی مشکلات کے ازالے اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے عزم کا اعادہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4576/2026
لورالائی2جون۔اسسٹنٹ کمشنر تحصیل مخیتر یحییٰ خان کاکڑ کی زیر صدارت ضلع میں غیر قانونی معدنیات کی کان کنی کے خلاف کریک ڈاو¿ن تیز، ملوث عناصر کو سخت وارننگ لورالائی: ضلعی انتظامیہ نے ضلع بھر میں غیر قانونی معدنیات کی کان کنی، سرکاری وسائل کی غیر قانونی لوٹ مار اور معدنی ذخائر کے غیر مجاز استعمال کے خلاف کارروائیوں میں مزید تیزی لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق قانون شکن عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری ہے اور کسی کو بھی قومی وسائل کے غیر قانونی استحصال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اسسٹنٹ کمشنر تحصیل مخیتر یحییٰ خان کاکڑ نے کہا ہے کہ غیر قانونی کان کنی میں ملوث افراد کو آخری وارننگ دی جاتی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی سرگرمیاں بند کر دیں، بصورت دیگر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ متعلقہ محکمے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے مختلف علاقوں میں نگرانی اور چھاپہ مار کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں متعدد مقامات پر غیر قانونی طور پر معدنیات نکالنے کی اطلاعات موصول ہونے کے بعد خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو متاثرہ علاقوں میں مسلسل سرویلنس اور انسپیکشن کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کارروائیوں کے دوران غیر قانونی مشینری، گاڑیوں اور معدنیات کی غیر مجاز ترسیل میں استعمال ہونے والے آلات کو بھی ضبط کیا جا سکتا ہے۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی کان کنی نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ماحولیات، مقامی انفراسٹرکچر اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے بھی سنگین خطرات کا باعث بنتی ہے۔ اس لیے ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی اقدامات ناگزیر ہیں۔انتظامیہ نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ غیر قانونی معدنیات کی کان کنی یا سرکاری وسائل کے غیر قانونی استعمال سے متعلق معلومات متعلقہ حکام تک پہنچائیں تاکہ ایسے عناصر کے خلاف موثر اور بروقت کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔حکام کے مطابق غیر قانونی معدنی کان کنی میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے، بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے اور ذمہ داران کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ضلعی انتظامیہ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ضلع لورالائی میں قانون کی بالادستی اور قومی وسائل کے تحفظ کے لیے کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4577/2026
بارکھان، 2 جون ۔ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمن کاکڑ نے سوشل میڈیا پر بارش کے پانی کی نکاسی اور بند نالیوں کے بارے میں آنے والی خبروں کا فوری نوٹس لیتے ہوئے میونسپل کمیٹی کے عملے کو صفائی اور نکاسی آب کے انتظامات بہتر بنانے کی ہدایات جاری کر دیں۔ہدایات ملتے ہی میونسپل کمیٹی کا عملہ متحرک ہو گیا اور شہر کے مختلف علاقوں، گلیوں اور سڑکوں میں بند نالیوں کی صفائی کا کام شروع کر دیا۔ عملے نے نالیوں میں موجود کچرا اور رکاوٹیں ہٹا کر بارش کے پانی کی روانی بحال کی تاکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سعید الرحمن کاکڑ نے کہا کہ عوامی مسائل کا فوری حل ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صفائی اور نکاسی آب کے نظام کی باقاعدہ نگرانی کی جائے تاکہ بارشوں کے دوران شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی کی فوری کارروائی کو سراہتے ہوئے ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمن کاکڑ کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ شہر کی صفائی اور نکاسی آب کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایسے اقدامات آئندہ بھی جاری رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4578/2026
لورالائی 2جون ۔ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے ناصر آباد، کچلاک، مرغہ خانہ، دھوبی گھاٹ، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول اور مرکزی بازار کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے BSDI پروگرام کے تحت جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران انجینئر عمران خان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے، جنہوں نے جاری ترقیاتی سکیموں، تعمیراتی پیش رفت، معیارِ تعمیر، فنڈز کے استعمال اور منصوبوں کی تکمیل کے مختلف مراحل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر متعلقہ محکموں کے افسران اور منصوبوں سے وابستہ ٹھیکیدار بھی موجود تھے۔اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے مختلف مقامات پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا معائنہ کرتے ہوئے منصوبوں کے معیار، رفتار اور شفافیت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں اور تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی وسائل سے جاری منصوبوں میں معیار اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو دیرپا اور معیاری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی موثر نگرانی کر رہی ہے اور حکومت کی ہدایات کے مطابق ترقیاتی سکیموں کی بروقت تکمیل اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیادی سہولیات کی فراہمی، تعلیمی اداروں کی بہتری، نکاسی آب کے نظام کی اصلاح اور شہری انفراسٹرکچر کی مضبوطی کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول میں جاری تعمیراتی اور مرمتی کاموں کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ طالبات کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام سہولیات جلد از جلد مکمل کی جائیں۔ انہوں نے بازار اور دھوبی گھاٹ کے علاقوں میں صفائی، نکاسی آب اور عوامی سہولیات سے متعلق امور کا بھی معائنہ کیا اور متعلقہ اداروں کو مزید بہتری کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر نے مقامی شہریوں اور عمائدین سے بھی ملاقات کی اور ان کے مسائل و تجاویز سنیں شہریوں نے ترقیاتی سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری اقدامات کو سراہا۔ اس موقع پر ندیم اکرم نے یقین دہانی کرائی کہ عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں کی موثر تکمیل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔دورے کے اختتام پر جاری منصوبوں کی مجموعی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا جبکہ متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی کہ منصوبوں کی رفتار مزید تیز کرتے ہوئے معیار اور شفافیت کو برقرار رکھا جائے تاکہ عوام جلد از جلد ان منصوبوں کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4579/2026
لورالائی، 2 جون ۔:کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ سے سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) امیر محمد مندوخیل نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ملاقات کے دوران دفتری امور، ٹرانسپورٹ سے متعلق انتظامی معاملات اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی، ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری اور متعلقہ امور میں باہمی تعاون کو مزید موثر بنانے پر بھی گفتگو ہوئی۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے سرکاری امور کی بروقت انجام دہی اور عوامی خدمت کے معیار کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ سیکرٹری آر ٹی اے امیر محمد مندوخیل نے اپنے ادارے کی کارکردگی اور جاری اقدامات سے متعلق آگاہ کیا۔ ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4580/2026
صحبت پور2جون۔واضح رہے کہ مورخہ 29 مئی 2026ءکو گوٹھ محبوب علی کھوسہ میں آتشزدگی کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں متعدد گھرانوں کو نقصان پہنچا اور کئی خاندان متاثر ہوئے واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر صحبت پور، محترمہ فریدہ ترین نے فوری طور پر متعلقہ اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی ہدایات جاری کیں ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر صحبت پور سیف الدین کھوسہ نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے فائر بریگیڈ کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ کیا فائر بریگیڈ اور ضلعی انتظامیہ کی مشترکہ اور موثر کارروائی کے باعث آگ پر جلد قابو پالیا گیا، جس سے مزید جانی و مالی نقصان سے بچاو ممکن ہوا واقعے کے بعد ڈپٹی کمشنر صحبت پور کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اور متاثرہ خاندانوں کی فوری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کیا اس سلسلے میں متاثرین میں درج ذیل اشیاء تقسیم کی گئیں خیمےکچن سیٹس گیس سلنڈرز بستر،ترپالیں ، کمبل شامل ہیں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ صحبت پور متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور اس امر کو یقینی بنا رہی ہے کہ متاثرین کو ہر ممکن سہولت اور امداد بروقت اور موثر انداز میں فراہم کی جائے مزید برآں انتظامیہ متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے تاکہ وہ جلد از جلد معمولاتِ زندگی کی طرف واپس لوٹ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4581/2026
لورالائی2جون۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن ریٹائرڈ محمد حسیب شجاع کی زیر صدارت ضلع بھر میں ریونیو امور، سرکاری ریکارڈ کی درستگی، انتقالات، فردات کے اجراء، گرداوری، لینڈ ریکارڈ کی دیکھ بھال اور عوامی شکایات کے ازالے سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنرز، تحصیلداروں، نائب تحصیلداروں، قانونگووں اور دیگر متعلقہ ریونیو افسران و اہلکاروں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع بھر میں ریونیو معاملات کی مجموعی کارکردگی، عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات اور زیر التواء امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام ریونیو افسران کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کے فوری اور موثر حل کو اولین ترجیح دی جائے اور انتقالات، فردات سمیت دیگر ریونیو خدمات کی فراہمی میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے ریونیو ریکارڈ کی بروقت اپ ڈیٹیشن، گرداوری کے عمل میں شفافیت، سرکاری اراضی کے تحفظ اور قبضہ مافیا کے خلاف موثر کارروائیوں کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ جدید اور شفاف ریونیو نظام نہ صرف عوامی اعتماد میں اضافہ کرتا ہے بلکہ حکومتی پالیسیوں کے موثر نفاذ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔اجلاس میں زیر التواء انتقالات، فردات اور ریونیو مقدمات کو مقررہ مدت کے اندر نمٹانے کے لیے خصوصی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ عوام کے ساتھ خوش اخلاقی، شائستگی اور پیشہ ورانہ طرز عمل کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو دفاتر میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اس موقع پر ریونیو ریکارڈ کی باقاعدہ جانچ پڑتال، فیلڈ مانیٹرنگ کے نظام کو مزید فعال بنانے اور محکمانہ احتساب کے عمل کو مضبوط کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ فرائض میں غفلت، غیر حاضری، بدعنوانی یا عوامی شکایات کے ازالے میں کوتاہی برتنے والے اہلکاروں کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مختلف تحصیلوں میں ریونیو خدمات کی فراہمی کا ماہانہ جائزہ لیا جائے گا اور کارکردگی کی بنیاد پر افسران و اہلکاروں کی نگرانی کو مزید موثر بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ عوامی سہولت کے لیے شکایات کے اندراج اور ان کے بروقت ازالے کے نظام کو بہتر بنانے کے اقدامات پر بھی زور دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر لورالائی نے کہا کہ شفاف، موثر اور عوام دوست ریونیو نظام حکومت بلوچستان کی اہم ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ عوام کو بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4582/2026
خضدار: 2جون ۔کرخ کے علاقے میں مین ٹرانسمیشن تاریں کٹ جانے کے باعث بجلی کی طویل بندش پر وفد نے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی سے ملاقات کی۔وفد کی قیادت جمعہ خان شکرانی کر رہے تھے۔ وفد میں غلام مصطفٰی شاہوانی، پروفیسر حسن جاموٹ، غلام یاسین جتک اور علاقے کے دیگر معززین شامل تھے۔ملاقات میں وفد نے بتایا کہ کرخ کی مین ٹرانسمیشن لائنز کٹ گئی ہیں جس کی وجہ سے پورا علاقہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔ بجلی کی بندش سے کاروبار ٹھپ، طلبہ کی تعلیم متاثر اور گھریلو صارفین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔وفد نے ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا کہ واپڈا اور کیسکو حکام سے فوری بات چیت کی جائے اور مین ٹرانسمیشن لائنز کی مرمت کر کے کرخ کی بجلی بحال کرائی جائے۔ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق ساسولی نے وفد کے مسائل سن کر یقین دہانی کرائی کہ کیسکو حکام سے رابطہ کر کے بجلی سے متعلق مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائیگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4583/2026
خضدار 2جون ۔ خضدار عیدالاضحیٰ کے دوران مثالی طبی خدمات ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر عبد الحمید لہڑی نے کہا کہ بخت محمد کاکڑ وزیرِ صحت بلوچستان،مجیب الرحمٰن سیکرٹری صحت حکومت بلوچستان ،اور ڈاکٹر امین مندوخیل ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز بلوچستان اور ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی ہدایات کی روشنی میں عیدالاضحیٰ کے دوران ضلع خضدار کے تمام Hospitals ،THQ RHCs، BHUs اور دیگر صحت مراکز میں عوام کو بلا تعطل طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔عید کی تعطیلات کے دوران تمام مراکز صحت میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیل اسٹاف ڈیوٹی روسٹر کے مطابق ڈیوٹی سر انجام دیے ، ادویات، ایمرجنسی سروسز ، ایمبولینسز سروسزاور دیگر ضروری سہولیات دستیاب رہیں، جس کے باعث عوام کو بروقت اور معیاری طبی خدمات، ایمرجنسی کیئر، ابتدائی طبی امداد اور دیگر علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی گئیں۔ الحمدللہ، عید کے ایام پرامن اور خوش اسلوبی سے گزرے اور کسی قسم کی نمایاں شکایت موصول نہیں ہوئی۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر خضدار ڈاکٹر عبدالحمید لہڑی نے کہا کہ ضلع بھر کے تمام ڈاکٹرز، پیرامیڈیکس، نرسنگ اسٹاف اور دیگر عملے کی ذمہ داری، فرض شناسی اور عوامی خدمت کے جذبے کو سراہتے ہوئے ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ان کی شبانہ روز کاوشوں کی بدولت عوام کو عید کے دوران بروقت اور معیاری طبی سہولیات میسر آئیں، جو قابلِ ستائش ہے۔اللہ تعالیٰ تمام ہیلتھ ورکرز کو اپنی ذمہ داریاں اسی جذبے اور لگن کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
کوئٹہ 2جون ۔قومی احتساب بیورو بلوچستان کا گورنمنٹ بوائز سنڈیمن ہائی سکول کوئٹہ میں “نیب کے کام کا طریقہ کار اور بدعنوانی کے خاتمےمیں طلباء کے کردار” کے موضوع پر آگاہی لیکچر کا انعقادبدعنوانی کے خلاف جاری آگاہی مہم کے سلسلے میں ، نیب بلوچستان نے گورنمنٹ بوائز سنڈیمن ہائی سکول کوئٹہ میں “نیب کے کام کا طریقہ کار اور بدعنوانی کے خاتمے میں طلباءکے کردار” کے عنوان سے ایک آگاہی لیکچر کا انعقاد کیا۔ اس لیکچر کا بنیادی مقصد نوجوان طلباء کو بدعنوانی کے مضر اثرات سے آگاہ کرنا اور بدعنوانی سے پاک معاشرے کی تعمیر کے لیے اجتماعی کوششوں کو فروغ دینا تھا۔ نیب بلوچستان کے افسران کے ایک وفد نے ڈپٹی ڈائریکٹر نیب بلوچستان خرم شہزاد کی قیادت میں طلباء اور فیکلٹی ممبرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے نیب کے وڑن، مشن اور بدعنوانی کی لعنت کے خاتمے میں طلباءکے اہم کردار پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر سکولزعبداللہ اچکزئی اور پرنسپل گورنمنٹ سنڈیمن ہائی سکول کوئٹہ بھی طلباءکے ساتھ موجود تھے۔ڈپٹی ڈائریکٹر نیب نے طلباء کو لیکچر دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان طلباءمعاشرے میں تبدیلی کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ انہوں نے طلباءکو تلقین کی کہ وہ اپنی زندگیوں میں دیانتداری اور احتساب کو بنیاد بنائیں اور بدعنوانی سے نفرت کو اپنی شخصیت کا حصہ بنائیں۔اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خود احتسابی اور دیانت داری اسلام کے بنیادی اصول ہیں اور بدعنوانی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اقربا پروری، رشوت، سفارش، زور زبردستی اور جانبداری کو کرپشن کی اقسام کے طور پر گرداناگیا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ یہ رویے ہمارے معاشرے میں معمول بن چکے ہیں۔ اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ طلباء بدعنوانی کے خلاف شعور حاصل کر یں تا کہ ایمانداری، دیانتداری اور جوابدہی کے درس کومزید فروغ دیا جا سکے۔ معاشرے کے اہم ارکان کے طور پر طلباء کی اجتماعی کوششیں بدعنوانی سے پاک معاشرے کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ مزید براں نیب بلوچستان، ڈائریکٹر جنرل نیب بلوچستان کے وژن اور مشن پر عمل کرتے ہوئے بدعنوانی کے اس عفریت کو ختم کرنے کی کوششوں میں سرگرداں ہے۔پروگرام کے دوران پرنسپل گورنمنٹ سنڈیمن ہائی سکول کوئٹہ طارق ڈینیل نے موضوع کے اعتبار سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور نیب بلوچستان کی کاوشوں کو سراہا اور آئندہ بھی انسداد بدعنوانی کی مہم میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ سیمینار کےاختتام پر نیب کی جانب سے پرنسپل کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Press Release
Quetta2june; NAB (Balochistan) Organized an awareness Lecture on “Functions of NAB and Role of Students in Eradication of Corruption” at Govt Boys Sandeman High School, Quetta As part of its ongoing anti-corruption awareness campaign, NAB (Balochistan) organized an awareness Lecture on “Functions of NAB and Role of Students in Eradication of Corruption” at Govt Boys Sandeman High School, Quetta. The primary objective of the lecture was to aware the youth about detrimental effects of corruption and to promote collective efforts for building a corruption-free society. Principal of the School Mr. Tariq Danial, Director Schools Mr. Abdullah Achakzai along with fair gathering of students attended the said lecture.?Mr. Khuram Shehzad, Deputy Director NAB (B) engaged with students and faculty, discussing NAB’s vision, mission and the significant role, the students can play in eradicating menace of corruption. He delivered formal lecture and emphasized on students to adopt such moral standards, wherein, abhorrence against corruption become integral part of their personalities. It was also deliberated that the teachings of Islam also assert on self-accountability and do not allow an iota of dishonesty and corruption. He added that nepotism, influence peddling, bribery, extortion and favouritism are forms of corruption, but unfortunately, these have been taken by our society as a norm. The collective efforts of the students, as crucial members of society, can play a pivotal role in laying foundation of a corruption-free society. Furthermore, NAB (Balochistan) by carrying out the vision and mission of Director General NAB (B), is working to eradicate the menace of corruption from our society.On this occasion, Principal of the School shared his thoughts against corruption and appreciated the efforts of NAB Balochistan for its eradication and assured to extend all possible assistance in the anti-corruption awareness drive of NAB Balochistan. The seminar concluded with presentation of shield to the Principal of the School by Deputy Director NAB followed by mutual express of gratitude and a note of thanks by both sides.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4584/2026
سبی 2جون ۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر (ر) الیاس کبزئی سے بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن سبی کے نمائندوں اور گورنمنٹ ماڈل ہائی اسکول سبی کے پرنسپل نے ملاقات کی، جس میں بورڈ آفس کے امور اور درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران ڈپٹی کمشنر سبی نے بورڈ سے متعلق مسائل اور تحفظات کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام سے رابطہ کرکے ان کے حل کے لیے ضروری اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر واضح کیا گیا کہ بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن سبی بدستور سبی میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گا اور اس کی منتقلی سے متعلق پھیلنے والی افواہوں اور خدشات میں کوئی صداقت نہیں۔ حکام نے کہا کہ بورڈ کی موجودہ حیثیت اور سرگرمیوں میں کسی قسم کی تبدیلی زیر غور نہیں ہے۔ملاقات میں اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ طلبہ، والدین اور تعلیمی اداروں کے مفادات کا ہر ممکن تحفظ یقینی بنایا جائے گا، جبکہ تعلیمی نظام کی بہتری اور معیارِ تعلیم کے فروغ کے لیے موثر اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4585/2026
کوئٹہ، 2 جون: حکومتی حج اسکیم 2026 کے تحت پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی دو خصوصی پروازیں پی کے-742 اور پی کے-842 سعودی عرب کے شہر جدہ سے مجموعی طور پر 299 حجاج کرام کو لے کر کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچ گئیں۔کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پارلیمانی سیکریٹری برائے مذہبی امور اور رکن بلوچستان اسمبلی شہناز عمرانی نے حجاج کرام کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے حجاج کرام کو پھول پیش کیے اور فریض حج کی کامیاب ادائیگی پر مبارکباد دی۔استقبالی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہناز عمرانی نے کہا کہ حکومت پاکستان کی موثر منصوبہ بندی اور خصوصی اقدامات کے باعث رواں سال پاکستانی عازمین حج کو بہتر سہولیات اور انتظامات فراہم کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حجاج کرام کی سہولت کے لیے کوئٹہ سے جدہ تک براہِ راست پروازوں کا انتظام کیا گیا، جس سے سفر کو مزید آسان اور آرام دہ بنایا گیا۔انہوں نے بتایا کہ حکومتی حج اسکیم کے تحت بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مجموعی طور پر 4,205 حجاج کرام کی وطن واپسی پی آئی اے کی 18 خصوصی پروازوں کے ذریعے مکمل کی جائے گی، جبکہ صوبے کے تقریباً 3,500 افراد نے نجی حج اسکیم کے تحت فریض حج ادا کیا ہے۔پارلیمانی سیکریٹری نے مزید بتایا کہ بلوچستان کے حجاج کرام کی واپسی کے لیے خصوصی فضائی آپریشن 23 جون تک جاری رہے گا، جس کے دوران تمام عازمین کو مرحلہ وار اپنے آبائی علاقوں تک پہنچایا جائے گا۔اس موقع پر حجاج کرام اور ان کے اہل خانہ نے حکومت پاکستان، وزارت مذہبی امور اور متعلقہ اداروں کی جانب سے فراہم کی گئی سہولیات، انتظامات اور خدمات کو سراہتے ہوئے ان پر اطمینان کا اظہار کیا۔ حجاج کرام نے حج کے دوران رہائش، نقل و حمل، رہنمائی اور دیگر انتظامی امور کو بہتر قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کی کاوشوں کو قابلِ ستائش قرار دیا۔حج سے واپس آنے والے عازمین نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ترقی، خوشحالی اور استحکام عطا فرمائے اور تمام مسلمانوں کو بار بار بیت اللہ اور روض رسول کی حاضری نصیب کرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4586/2026
تربت2جون۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیر صدارت تربت شہر سمیت ضلع کیچ میں بجلی کے نظام میں بہتری کے حوالے سے منگل کے روز ایک اہم عوامی اجلاس ڈی سی کیچ آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمانڈنٹ مکران اسکاوٹس بریگیڈیئر عمر طاہر خصوصی طور پر شریک تھے جبکہ دیگر شرکاءمیں اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی، ایکسیئن کیسکو آصف مگسی، ڈپٹی چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل کیچ میر باہڈ جمیل دشتی، آل پارٹیز کیچ کے کنوینر یونس جاوید، انجمن تاجران کے رہنما نثار جوسکی، اسحاق دشتی اور مختلف بلدیاتی اداروں کے نمائندوں سمیت دیگر عسکری عہدے داروں کے اہلکار اور وپڈا کے اہلکار شامل تھے۔اجلاس میں ضلع کیچ میں لوڈشیڈنگ کو مینیج کرنے، وولٹیج کی کمی کو دور کرنے، فیڈر ٹرپنگ کے علاوہ بجلی صارفین کو درپیش دیگر مسائل پر بھی غور و خوض کیا گی۔اجلاس میں تربت سٹی فیڈر، ملک آباد فیڈر، شاہی تمپ فیڈر سمیت مختلف فیڈرزوں میں لوڈشیڈنگ ، کم وولٹیج اور بجلی کی فراہمی سے متعلق دیگر مسائل کو باہمی صلاح و مشورے سے حل کرنے پر اتفاق رائے کیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے کیسکو حکام کو عوامی مسائل کے فوری حل کی ہدایت کرتے ہوئے لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی اور ٹرپنگ کے مسئلے کو جلد از جلد ختم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے ٹیچنگ ہسپتال تربت کو چوبیس گھنٹے بلا تعطل بجلی فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی تاکہ زیر علاج مریضوں کو بجلی کی عدم دستیابی کے باعث مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمانڈنٹ مکران اسکاوٹس نے کیسکو حکام پر زور دیا کہ مختلف فیڈرزوں میں بجلی کے لوڈ کو مینیج کرنے کے لیے ایک فول پروف میکانزم بنایا جائے تاکہ گرمی کے شدید مہینوں میں عوام کو یکساں طریقے سے ریلیف مل سکے اس دوران عوامی نمائندوں پر بھی زور دیا کہ وہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی میں کیسکو کے ساتھ تعاون کریں اور غیر قانونی کنکشنز کے خاتمے کے لیے جاری اقدامات کی حمایت کریں تاکہ بجلی کی فراہمی کے نظام کو مزید موثر بنایا جا سکے۔ اس موقع پر علاقائی معتبرین، تاجر رہنماوں اور عوامی نمائندوں نے کیسکو کے حکام پر زور دیا کہ مختلف فیڈروں پر بلاجواز لوڈشیڈنگ سے باز کیا جائے اور گرمی کے دنوں اور رات کے اوقات میں عوام کو بجلی کی سہولیات شیڈیول کے مطابق فراہم کی جائے۔اس موقع پر شرکاء نے ایکسئن کیسکو ضلع کیچ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ شدید گرمی کے موسم میں عوام بجلی سے محروم نہ ہوں تاکہ علاقے میں گھریلو، تجارتی اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہو سکیں۔دریں اثناءکیسکو حکام نے موقف اختیار کیا کہ ادارے کے پاس تمام فیڈرز کو بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت موجود ہے، تاہم بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی اور غیر قانونی کنکشنز کی وجہ سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صارفین کی جانب سے واجبات کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کے باعث انہیں اعلیٰ حکام کو جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔کیسکو حکام کے مطابق جو فیڈر بلوں کی ادائیگی میں بہتر کارکردگی دکھائے گا اسے بجلی کی فراہمی میں ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ڈپٹی کمشنر کیچ کی ہدایات کے مطابق ٹیچنگ ہسپتال تربت میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے اور مختلف فیڈرز پر لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی کے ساتھ ساتھ وولٹیج کی صورتحال بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4587/2026
چمن 2جون ۔ اسسٹنٹ کمشنر چمن عزیز اللہ کاکڑ اور تحصیل دار احمد خان نے شہر بھر میں پٹرول پمپس کے خلاف کارروائیاں کیں۔ کارروائی کے دوران پٹرول کی مصنوعی قلت گرانفروشی اور ضابطوں کی خلاف ورزی پر متعدد پٹرول پمپس کو سیل کر دیا گیا، جبکہ کئی دیگر پمپس مالکان کو سخت وارننگ جاری کی گئی۔انتظامیہ کے مطابق عوام کو پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور ذخیرہ اندوزی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔ حکام نے پٹرول پمپ مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ سرکاری قواعد و ضوابط کی پابندی کریں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4588/2026
جھل مگسی2جون۔ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللّٰہ شاہ اور لیفٹیننٹ کرنل عاصم خان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی DCC کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے مختلف محکموں کے افسران نے شرکت کی اجلاس میں ضلع میں جاری بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو کے تحت ترقیاتی منصوبوں امن و امان کی صورتحال عوامی مسائل کے حل اور مختلف سرکاری محکموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس میں مخلتف محکمہ جات کے ضلعی آفیسران نے شرکت کی ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللّٰہ شاہ نے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور سرکاری امور میں شفافیت کو یقینی بنانا ضلعی انتظامیہ جھل مگسی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے تمام محکموں کے سربراہان کو ہدایت جاری کی کہ ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ عوامی شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنائیں بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو BSDI کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کے کام کو معیاری طور پر جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچائیں مزید امن و امان کی مجموعی صورتحال، تعلیمی اداروں کی کارکردگی صحت و صفائی کے انتظامات، سڑکوں اور دیگر انفراسٹرکچر منصوبوں کی پیش رفت پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللّٰہ شاہ نے متعلقہ حکام کو سختی سے تاکید کی کہ ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور مقررہ مدت کے پر تمام منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کو یقینی بنائیں اجلاس میں مختلف محکموں کے افسران نے اپنی اپنی کارکردگی رپورٹس پیش کیں جبکہ درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام اداروں کے درمیان باہمی رابطے اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مربوط حکمت عملی کے ذریعے ہی عوامی مسائل کا موثر حل ممکن ہے۔انھوں نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ عوامی خدمت کے جذبے کے تحت اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کریں تاکہ ضلع جھل مگسی میں ترقی اور خوشحالی کے عمل کو مزید تیز کیا جا سکے اور ضلع کی عوام کے درپیش مسائل میں کمی واقع ہو۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4589/2026
لورالائی2جون ۔: ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے کہا ہے کہ بی ایس ڈی آئی (بلوچستان سماجی و معاشی ترقی و بنیادی ڈھانچہ پروگرام) فیز 3 کے تحت ضلع لورالائی میں عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے متعدد بڑے ترقیاتی منصوبے جلد شروع کیے جائیں گے۔ ان منصوبوں کا بنیادی مقصد شہری و دیہی آبادی کو درپیش مسائل کا مستقل حل فراہم کرنا انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور پائیدار ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ فیز 3 کے تحت پینے کے صاف پانی کی فراہمی، توانائی کے منصوبے، سڑکوں اور رابطہ شاہراہوں کی تعمیر و بحالی، فرسودہ انفراسٹرکچر کی بہتری، تعلیمی و صحت کے شعبوں کی مضبوطی، انسانی ترقی، عوامی سہولیات کی فراہمی اور دیگر سماجی شعبوں میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ تمام متعلقہ محکموں، تکنیکی ماہرین اور مقامی نمائندوں سے مشاورت کے بعد عوامی ضروریات اور ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبوں کی فہرست کو حتمی شکل دے رہی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ مجوزہ ترقیاتی منصوبوں میں دیہی علاقوں میں واٹر سپلائی اسکیموں کی توسیع، شمسی توانائی پر مبنی منصوبوں کا اجراء، اندرونِ شہر اور دیہی سڑکوں کی تعمیر و مرمت، سرکاری اسکولوں میں اضافی کلاس رومز اور بنیادی سہولیات کی فراہمی، بنیادی مراکز صحت اور دیہی ہیلتھ یونٹس کی اپ گریڈیشن، نکاسی آب کے نظام کی بہتری اور عوامی پارکس و تفریحی مقامات کی بحالی بھی شامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ لورالائی کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ترقیاتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید شہری منصوبہ بندی، صفائی و ستھرائی کے نظام میں بہتری، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، ڈیجیٹل سہولیات کے فروغ اور نوجوانوں کے لیے ہنر مندی و فنی تربیت کے مراکز کے قیام پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور مقامی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف بنیادی سہولیات تک عوام کی رسائی بہتر ہوگی بلکہ صحت، تعلیم، مواصلات اور معاشی سرگرمیوں میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور ضلع کی مجموعی سماجی و اقتصادی ترقی میں اہم پیش رفت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ منصوبوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں شفافیت، معیار اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے موثر نگرانی کا نظام وضع کر رہی ہے تاکہ ترقیاتی فنڈز کا درست اور موثر استعمال ممکن بنایا جا سکے اور عوام براہِ راست ان منصوبوں کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔ڈپٹی کمشنر نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور شکیل قادر خان کی خصوصی توجہ، وژن اور مسلسل معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی ترقی دوست پالیسیوں کے باعث بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ترقیاتی سرگرمیوں کو نئی رفتار ملی ہے۔ لورالائی میں بھی عوامی ضروریات کے مطابق بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی جاری ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں اور ضلع کو ایک ترقی یافتہ، خوشحال اور جدید علاقے میں تبدیل کیا جا سکے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی مفاد، شفافیت اور پائیدار ترقی کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جائے گا تاکہ لورالائی کے عوام کو بہتر معیارِ زندگی اور جدید سہولیات میسر آ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4590/2026
تربت2جون۔ یونیورسٹی آف تربت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی خصوصی ہدایت پر عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے بعد یونیورسٹی کے ویڈیو کانفرنس روم میں عید ملن تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب میں فیکلٹی آف لٹریچر اینڈ لینگویجز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر عبدالصبور بلوچ(تمغہ امتیاز ) ڈینز،رجسٹرار،ڈائریکٹرز،تعلیمی وانتظامی شعبہ جات کے سربراہان، فیکلٹی ممبران اور انتظامی عملے نے شرکت کی۔تقریب کے دوران وائس چانسلر نے فیکلٹی اور انتظامی عملے سے فرداً فرداً ملاقات کی، ان سے عید ملے اور عید کی مبارکباد کا تبادلہ کیا۔ اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے وائس چانسلر نے عید ملن کی روایت کو برقرار رکھنے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ عیدالاضحیٰ ہمیں ایثار، بھائی چارے، باہمی احترام اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربانی دینے کا درس دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عظیم تہوار ہمیں ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے اور معاشرے میں محبت، رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کی تلقین کرتا ہے۔وائس چانسلر نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی آف تربت ہم سب کا ایک مقدس اورعظیم تعلیمی ادارہ ہے، جس کی تعمیر وترقی کے لیے ہمیں مشترکہ کوشش اور قربانی دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج کی اس تقریب کا مقصد صرف عید کی خوشیاں بانٹنا نہیں بلکہ باہمی احترام یکجہتی اور ٹیم ورک کے جذبے کو فروغ دینا بھی ہے۔ اس موقع پر ہمیں یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر یونیورسٹی اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔ڈاکٹر گل حسن نے عید کے پرمسرت موقع پر رنجشیں اور اختلافات کو پس پشت ڈالنے اور خلوص دل کے ساتھ ایک دوسرے سے ملنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئےزور دیا کہ یونیورسٹی اور معاشرے میں اسی جذبہ یگانگت اور باہمی تعاون کو برقرار رکھنا ہم سب کی قومی، سماجی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔تقریب کے اختتام پر وائس چانسلر کی جانب سے فیکلٹی ممبران اور انتظامی عملے کے اعزاز میں پرتکلف چائے پارٹی کا اہتمام بھی کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4591/2026
بارکھان، 2 جون ۔ڈپٹی کمشنر بارکھان سعیدالرحمن کاکڑ کی ہدایت پر ضلع بھر میں مصنوعی مہنگائی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لیے کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر بارکھان احسام الدین کاکڑ نے مرغی فروشوں، چکن ڈیلرز اور متعلقہ دکانداروں کے خلاف کریک ڈاون کرتے ہوئے بازار کا دورہ کیا اور مختلف دکانوں کا معائنہ کیا۔معائنے کے دوران چکن کی فروخت کے نرخوں اور سرکاری قیمتوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر بعض دکانداروں کی جانب سے من مانی قیمتوں اور ناجائز منافع خوری کی نشاندہی ہوئی، جس پر ضلعی انتظامیہ نے فوری اقدامات کرتے ہوئے سرکاری نرخوں پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت جاری کی۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق چکن کے نرخ پنجاب کے سرکاری ریٹس اور مارکیٹ کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کیے گئے ہیں تاکہ عوام، بالخصوص غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ مقررہ نرخ کے تحت بارکھان بازار میں چکن 520 روپے فی کلوگرام فروخت کیا جائے گا اور تمام دکاندار اس نرخ پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے۔اسسٹنٹ کمشنر بارکھان احسام الدین کاکڑ نے کہا کہ سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مفاد کے تحفظ اور اشیائے ضروریہ کی مناسب قیمتوں پر دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی نگرانی اور کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4592/2026
موسی خیل 2 جون ۔ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک کی طالبات سے اسکالرشپ پروگرام میں بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے کہ وہ حکومت بلوچستان کی جانب سے شروع کیے گئے خصوصی اسکالرشپ پروگرام سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنی تعلیمی زندگی کو روشن بنانے کے لیے فوری طور پر آن لائن درخواستیں جمع کروائیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی خصوصی ہدایات پر بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ پروگرام اور پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے اشتراک سے طالبات کے لیے ایک انقلابی تعلیمی منصوبہ شروع کیا گیا ہے، جس کا مقصد صوبے کی مستحق اور باصلاحیت طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے بتایا کہ اس اسکالرشپ اسکیم کے تحت صوبہ بھر کی طالبات کو بی ایس ایجوکیشن (BS Education) اور بی ایڈ (B.Ed) پروگرامز میں داخلے کے لیے 400 فری اسکالرشپس فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ طالبات جنہوں نے ایف اے (FA) یا ایف ایس سی (FSc) میں 55 فیصد یا اس سے زائد نمبر حاصل کیے ہیں، اس پروگرام کے لیے درخواست دینے کی اہل ہوں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس اسکیم کے تحت منتخب طالبات کو ایک سال تک مفت تعلیم، تعلیمی اخراجات، خصوصی وظائف، لیپ ٹاپ اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ جدید تقاضوں کے مطابق اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں اور مستقبل میں ملک و قوم کی خدمت کے قابل بن سکیں۔عبدالرزاق خجک نے کہا کہ حکومت بلوچستان نوجوان نسل خصوصاً طالبات کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام نہ صرف طالبات کے تعلیمی مستقبل کو روشن کرے گا بلکہ انہیں مستقبل میں تدریسی شعبے سمیت مختلف سرکاری و نجی اداروں میں روزگار کے بہتر مواقع بھی فراہم کرے گا۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل نے ضلع بھر کے والدین، اساتذہ اور طلبہ سے اپیل کی کہ وہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ طالبات کو آن لائن رجسٹریشن کے لیے راغب کریں۔ انہوں نے کہا کہ درخواستیں جمع کروانے کی آخری تاریخ قریب ہے، لہٰذا طالبات بروقت اپلائی کریں تاکہ وہ اس اہم تعلیمی پروگرام سے مستفید ہوسکیں۔انہوں نے کہا کہ اسکالرشپ پروگرام کی مکمل تفصیلات اور آن لائن اپلائی کرنے کے لیے ویب سائٹ لنک متعلقہ معلوماتی ویڈیو کے آخر میں فراہم کیا جائے گا تاکہ طالبات آسانی کے ساتھ اپنی درخواستیں جمع کروا سکیں۔موسیٰ خیل میں تعلیمی حلقوں اور والدین نے حکومت بلوچستان کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے منصوبے صوبے میں تعلیم کے فروغ اور طالبات کے بہتر مستقبل کے لیے نہایت اہم ثابت ہونگے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر4593/2026
کوئٹہ 2 مئی: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ پل پل بدلتی دنیا بڑی تیزی سے کروٹیں بدل رہی ہے جس کا مشاہدہ ہم پہلی بار کر رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، گلوبلائزیشن اور سیاسی اقتصادی حرکیات میں تبدیلیاں بیک وقت سنہرے مواقع اور خطرات دونوں پیش کرتی ہیں، اسلیے ہمیں انکے نئے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ایک جامع قومی حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے ہمیں بلوچستان پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں بڑھتی ہوئی متحرک فکری اور علمی طاقت کو بروئے کار لانا ہوگا۔ نئے منصوبے اور پالیسیاں بناتے وقت ان کے علم اور تجربے سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے جن کے بہت سے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہماری یونیورسٹیوں میں اعلیٰ درجے کے سائنسدان اور ماہرین معاشیات موجود ہیں۔ انکے متنوع نقطہ نظر کو یکجا کرکے ہم ایسے بہت سے نئے منصوبے بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی اسکالرز اینڈ ریسرچرز زندگی کے تمام شعبوں میں علمبردار بن کر ابھرے ہیں۔ یہ اسکالرز سائنسی تحقیق کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ایسے تجربہ کار افراد ہمارے قیمتی وقت، توانائی اور وسائل کے مزید ضیاع سے بچنے کیلئے ہمیں مدد اور رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہماری طاقت اتحاد، عقل و عمل کے اتحاد میں ہے۔ اگر ہم اپنی یونیورسٹیوں میں موجود اسکالرز اور محققین کی حکمت پر دھیان دیں تو ہم ایک ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ بلوچستان کے خواب کی تعبیر کو یقینی بنا سکتے ہیں۔
خبر نامہ نمبر4594/2026
کوئٹہ02 جون:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 17 دہشت گردوں کی ہلاکت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے اپنے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائیوں کے ذریعے دہشت گرد عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا اور صوبے کے امن و استحکام کے خلاف سرگرم نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حاصل ہونے والی یہ کامیابیاں سکیورٹی اداروں کے عزم، بہادری اور مسلسل کاوشوں کا نتیجہ ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام امن، ترقی اور خوشحالی کے خواہاں ہیں اور دہشت گرد عناصر صوبے کے روشن مستقبل کو یرغمال نہیں بنا سکتے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے گی وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریاست دشمن عناصر، ان کے سہولت کاروں اور بیرونی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام، ترقیاتی عمل کے تسلسل اور عوام کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا انہوں نے آپریشنز میں حصہ لینے والے افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اپنی سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
خبر نامہ نمبر4595/2026
کوئٹہ02 جون:چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا ہے کہ سرکاری آفیسران عوام کی خدمت کو اپنا فرض سمجھنا ایک بہترین اور قابلِ تحسین سوچ ہے۔ یہ جذبہ نہ صرف معاشرے کی فلاح و بہبود اور ترقی کی بنیاد ہے، بلکہ اس سے لوگوں کی مشکلات کم ہوتی ہیں اور حکومت اور عوام کے درمیان باہمی اعتماد و خلوص کی فضا قائم ہوتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں بی ایس ڈی آئی کے ترقیاتی منصوبوں، سکول بچوں کی داخلہ مہم اچھی کارکردگی دکھانے والوں، عوام کے معیارِ زندگی کی بہتری، منصوبوں کی نگرانی، غیر قانونی تارکینِ وطن کی واپسی سمیت اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی سید فیصل احمد، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات، سیکرٹری سکولز لعل جان جعفر، سیکرٹری صحت مجیب الرحمٰن، سیکرٹری انڈسٹریز خالد سرپرہ، سیکرٹری فنانس جہانگیر کاکڑ جبکہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری نے آؤٹ آف سکول بچوں کی داخلہ مہم کو کامیاب بنانے پر ڈپٹی کمشنر حب، لورالائی، سبی، شیرانی، لسبیلہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اچھی کارکردگی دکھانے والے ڈپٹی کمشنرز کو تعارفی سند دیے جائیں گے۔ داخلہ مہم میں رواں سال 2 لاکھ 81 ہزار بچوں کا داخلہ کروایا تھا۔ مانیٹرنگ اور ایویلوایشن سیکشن نے 3020 ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کیا جن میں سے 2380 منصوبے مکمل کئے گئے اور باقی ماندہ منصوبے بھی جلد مکمل کئے جائیں گے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بی ایس ڈی آئی کے پہلے مرحلے 908 منصوبوں میں سے 703 منصوبے مکمل ہوئے جبکہ دوسرے مرحلے میں 1200 منصوبوں میں سے 206 ترقیاتی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ باقی پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے۔ چیف سیکرٹری نے فنڈز کی بروقت ادائیگی کی ہدایت بھی دی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 100 فیصد اراضی کی پوست کی کاشت تلف ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو سرکاری نرخوں پر اشیائے خوردونوش ہر حال میں دستیاب ہوں۔ ڈپٹی کمشنرز کی نگرانی میں اشیاء ضروریہ کی مناسب اور رعایتی نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ جس میں جنرل اسٹورز، بیکریوں اور ہوٹلز کی قیمتوں کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے اور مہنگائی روکنے کے لیے سخت نگرانی کی جائے۔ مئی میں 52 جگہوں پر کھلی کچہریوں کا انعقاد ہوا جس میں عوام کی طرف سے 1669 شکایات درج کئے گئے۔ درج شدہ تمام شکایات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے، خاص طور پر پینے کے پانی، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دی جائے۔
خبر نامہ نمبر4596/2026
کوئٹہ 02جون:۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت پیٹرول سپلائی کی صورتحال پر ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام انتظامی افسران، پی ایس او، شیل، بائیکو اور دیگر آئل کمپنیوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں شہر بھر میں بعض پمپوں کی بندش سے متعلق صورتحال پر ڈپٹی کمشنر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح ہدایات جاری کیں کہ کسی بھی رجسٹرڈ پیٹرول پمپ کو بند رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بصورت دیگر متعلقہ پمپ مالکان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس موقع پر ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے جو کوئٹہ کے تمام پیٹرول پمپس کی مسلسل نگرانی کرے گا۔ شہری کسی بھی بندش یا شکایت کی صورت میں کنٹرول روم نمبر 9202268 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے واضح کیا کہ کسی بھی پمپ کی بندش، مصنوعی بحران یا ذخیرہ اندوزی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی مسلسل نگرانی کے تحت ڈپو سے پیٹرول پمپس کو باقاعدگی سے سپلائی جاری ہے اور ہر پمپ کو کم از کم 5 پانچ ہزار لیٹر پیٹرول فراہم کیا جا رہا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے سب ڈویژن میں موجود رہ کر فیلڈ مانیٹرنگ یقینی بنائیں تاکہ شہریوں کو کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
خبر نامہ نمبر4597/2026
قلعہ سیف اللہ 2جون:۔ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ ساگر کمار کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر قلعہ سیف اللہ عمران مندوخیل نے شہر کے مختلف پیٹرول پمپس کا دورہ کیا اور پیٹرول کی دستیابی کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران تمام پیٹرول پمپس کے مالکان کو وارننگ دی گئی اگرکسی کے ساتھ پیٹرول کا ذخیرہ پایا گیا اور وو عوام کو فراہم نھی کیا گیا ہو اس پیٹرول پمپ کے مالک کے پیٹرول پمپ کو سیل اور مالک کو جیل بیجھا جاے گا۔اس موقع پر بڑی تعداد میں شہری اپنے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں میں پیٹرول ڈلواتے نظر آئے۔ اسسٹنٹ کمشنر عمران مندوخیل نے پیٹرول پمپ مالکان کو ہدایت کی کہ وہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری نرخوں پر پیٹرول فروخت کریں اور عوام کو ہر ممکن سہولت فراہم کریں۔انہوں نے خبردار کیا کہ ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری یا سرکاری نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انتظامیہ عوامی مشکلات کے حل اور اشیائے ضروریہ کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔پیٹرول پمپ مالکان نے انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی کہ پیٹرول کی مزید سپلائی بھی راستے میں ہے اور آئندہ دنوں میں فراہمی مزید بہتر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو پیٹرول کی دستیابی میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔اسسٹنٹ کمشنر قلعہ سیف اللہ عمران مندوخیل نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور ان کے مسائل کے فوری حل کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے، جبکہ پیٹرول کی صورتحال کی مسلسل نگرانی بھی جاری رکھی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر4598/2026
قلعہ سیف اللہ 2جون:۔ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ ساگر کمار نے ڈی سی آفس کی لوکل برانچ کا دورہ کیا اور وہاں نصب کمپیوٹرائزڈ لوکل سرٹیفکیٹ سسٹم کا تفصیلی معائنہ کیا۔اس موقع پر میونسپل کمیٹی کے چیئرمین سید اکبر کاکڑ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے سسٹم کے کام کرنے کے طریقہ کار، ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، اور شہریوں کو سرٹیفکیٹ کے اجراء میں لگنے والے وقت کا جائزہ لیا۔ متعلقہ عملے سے سسٹم میں درپیش مسائل اور بہتری کی گنجائش کے بارے میں بھی بریفنگ لی گئی۔ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے کہا کہ حکومت کی ہدایات کے مطابق تمام سرکاری سروسز کو کمپیوٹرائزڈ اور شفاف بنانا اولین ترجیح ہے۔ کمپیوٹرائزڈ لوکل سرٹیفکیٹ سسٹم سے شہریوں کو سفارش اور تاخیر کے بغیر فوری سروس ملے گی، جس سے پیسے اور وقت دونوں کی بچت ہوگی۔ انہوں نے عملے کو ہدایت دی کہ درخواست گزاروں کے ساتھ شائستہ رویہ اپنایا جائے اور مقررہ وقت میں سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں۔چیئرمین میونسپلٹی سید اکبر کاکڑ نے ڈپٹی کمشنر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ جدید سسٹم کے نفاذ سے شہریوں کو بڑی سہولت میسر آئی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ میونسپل کمیٹی ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر شفافیت اور عوامی فلاح کے ہر منصوبے میں مکمل تعاون کرے گی۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے ریکارڈ میں شفافیت آئے گی اور غلط اندراج کا امکان ختم ہو جائے گا۔ شہری اب گھر بیٹھے اپنے لوکل سرٹیفکیٹ کی حیثیت بھی آن لائن چیک کر سکیں گے۔
خبر نامہ نمبر4599/2026
قلعہ سیف اللہ 2جون:۔ ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ ساگر کمار نے ایف سی پبلک اسکول کا دورہ کیا تاکہ اسکول میں تعلیمی معیار اور دستیاب سہولیات کا براہِ راست جائزہ لیا جا سکے۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے سب سے پہلے اسکول میں قائم کمپیوٹر لیب کا معائنہ کیا۔ انہوں نے لیب میں موجود کمپیوٹرز، انٹرنیٹ کنکشن اور طلبہ کو دی جانے والی آئی ٹی ٹریننگ کا جائزہ لیا۔ ڈپٹی کمشنر نے اساتذہ کو ہدایت دی کہ طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ وہ ڈیجیٹل دور کے تقاضے پورے کر سکیں۔اس کے بعد انہوں نے مختلف کلاس رومز کا بھی معائنہ کیا۔ کلاسز میں تدریس کے طریقہ کار، طلبہ کی حاضری، اساتذہ کی کارکردگی اور کلاس رومز کی صفائی کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے طلبہ سے تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے سوالات کیے اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔دورے کے دوران اسکول کے پرنسپل نے ڈپٹی کمشنر کو اسکول کی مجموعی کارکردگی، جاری تعلیمی سرگرمیوں، سالانہ نتائج اور درپیش مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ پرنسپل نے اساتذہ کی کمی، سائنس لیب کی اپگریڈیشن اور عمارت کی توسیع کے حوالے سے درپیش چیلنجز سے بھی آگاہ کیا۔ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے پرنسپل اور تدریسی عملے کی محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم کے بغیر کسی بھی قوم کی ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اسکول کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ضلعی انتظامیہ تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح تعلیم کا فروغ ہے اور اس سلسلے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔آخر میں ڈپٹی کمشنر نے اسکول ریکارڈ کا معائنہ کیا اور اساتذہ و طلبہ کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/4600
خضدار 2 جون :ـڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی سے بزرگ رہنما ضلع خضدار مولوی یحیٰ مردوئی نے ملاقات کی۔ ملاقات میں ضلع خضدار کے تعلیمی امور اور دور افتادہ علاقوں میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔مولوی یحیٰ مردوئی نے ڈپٹی کمشنر خضدار کو علاقہ مل کپر میں سرکاری اسکول کے قیام کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ علاقے میں تعلیمی ادارے کی عدم موجودگی کے باعث بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔ علاقہ مکینوں کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ وہاں اسکول تعمیر کیا جائے تاکہ مقامی بچے زیورِ تعلیم سے آراستہ ہو سکیں۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے علاقے کے عوام کے جائز مطالبے کو سراہتے ہوئے فوری طور پر متعلقہ ذمہ داران کو مل کپر کے علاقے کا تکنیکی و فزیبلٹی سروے کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ سروے رپورٹ کی روشنی میں اسکول کی تعمیر کیلئے ضروری اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح تعلیم کے فروغ اور ہر بچے کو تعلیم کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ دور افتادہ علاقوں میں تعلیمی اداروں کے قیام کیلئے حکومتِ بلوچستان کی پالیسی کے مطابق تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔بزرگ رہنما ضلع خضدار مولوی یحیٰ مردوئی نے ڈپٹی کمشنر خضدار کی ذاتی دلچسپی کا شکریہ ادا کیا.
خبر نامہ نمبر 2026/4601
خضدار 2 جون:ـکمشنر قلات ڈویژن ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ نے خضدار میں سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضے اور انتظامی غفلت کے خلاف سخت انتظامی کارروائی کرتے ہوئے ایکٹنگ تحصیلدار خضدار حبیب الرحمٰن گچکی کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری زمین پر قبضے کے الزام میں اراضی مافیا کے مبینہ سرغنہ ملا زکریا کے خلاف صدر تھانے میں مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق زیرِ بحث اراضی خضدار کے معذور افراد کے نام الاٹ کی گئی تھی۔ الزام ہے کہ تحصیلدار حبیب الرحمٰن گچکی نے اپنی نگرانی کی ذمہ داری میں غفلت برتی، جس کا فائدہ اٹھا کر ملزم ملا زکریا مذکورہ زمین پر قبضے کی کوشش کر رہا تھا۔ کمشنر قلات نے معاملے کی سنگینی کے پیشِ نظر فوری کارروائی کے احکامات جاری کیے۔کمشنر ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ نے فرائض میں سنگین غفلت اور ناقص کارکردگی کے مرتکب افسران کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے احکامات پر پولیس نے ملزم ملا زکریا کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں اور مختلف مقامات پر چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔کمشنر قلات نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ “معذور اور بے سہارا افراد کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والے کسی بھی فرد یا افسر کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ اراضی مافیا اور انتظامی غفلت میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قلات ڈویژن میں سرکاری اراضی کے تحفظ اور شفافیت کے لیے یہ کارروائی ایک اہم پیش رفت ہے۔
خبرنامہ نمبر2026/4602
سبی 2 جون:ـڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کوآرڈینیشن کمیٹی (DICC) کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ونگ کمانڈر کرنل زبیر، ونگ کمانڈر کرنل عبدالمنان، ایس ایس پی سبی عبدالحمید، اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی سمیت پولیس، لیویز، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، سکیورٹی انتظامات، غیر قانونی مقیم افغان باشندوں سے متعلق امور اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو مختلف اداروں کی جانب سے سکیورٹی صورتحال اور جاری اقدامات کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلع بھر میں سکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے حساس مقامات اور اہم شاہراہوں پر ایف سی اور پولیس کے مشترکہ ناکے قائم کیے جائیں گے جبکہ مشکوک افراد اور سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔ اجلاس میں غیر قانونی مقیم افغان باشندوں سے متعلق حکومتی پالیسی اور ضابطہ کار پر بھی غور کیا گیا اور متعلقہ اداروں کو اس سلسلے میں قانون کے مطابق اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں امن و امان کا قیام ضلعی انتظامیہ اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام ادارے باہمی رابطے اور مؤثر حکمت عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سکیورٹی معاملات میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام ادارے باہمی تعاون کے ساتھ امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ اجلاس کے اختتام پر ضلع میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے اور سکیورٹی اقدامات کو مؤثر انداز میں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
خبرنامہ نمبر2026/4603
سبی 2 جون:ـڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال اور سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ونگ کمانڈر کرنل زبیر، ونگ کمانڈر کرنل عبدالمنان، ایس ایس پی سبی عبدالحمید، اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی سمیت ایف سی، پولیس، لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں محرم الحرام کے دوران منعقد ہونے والی مجالس اور جلوسوں کی سکیورٹی، حساس مقامات کی نگرانی، داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ، ٹریفک انتظامات اور مجموعی امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محرم الحرام کے دوران ضلع بھر میں سکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کیے جائیں گے۔ حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی جائے گی جبکہ جلوسوں اور مجالس کے مقامات پر مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ اہم شاہراہوں اور داخلی راستوں پر پولیس اور ایف سی کے مشترکہ ناکے قائم کیے جائیں گے اور مشکوک سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کا قیام ضلعی انتظامیہ اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ادارے باہمی رابطے اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ فرائض انجام دیں تاکہ عزاداران کو پرامن اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی کے حوالے سے کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے الرٹ رہ کر اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔ اجلاس کے اختتام پر محرم الحرام کے دوران ضلع بھر میں امن، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے تمام اداروں کے درمیان مؤثر رابطے اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔









