26th-April-2026

خبرنامہ نمبر3389/2026
کوئٹہ، 26 اپریل:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے رکن قومی اسمبلی میر اعجاز خان جکھرانی کے فرزند، میر زید خان جکھرانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے تعزیتی پیغام میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ یہ ایک نہایت افسوسناک سانحہ ہے اور وہ غم کی اس گھڑی میں سوگوار خاندان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل دے۔

خبرنامہ نمبر3390/2026
کوئٹہ: 26 اپریل:چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سریاب روڈ (شمالی جانب) اور سریاب لنک روڈ (مغربی سائیڈ) پر قائم موجودہ گول چکر کی منتقلی اور نئی سڑک کی تعمیر سے متعلق دائر ائینی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدالتی حکم مورخہ 26 مارچ 2026 کی روشنی میں قائم کمیٹی نے اپنی پیش رفت رپورٹ، مجوزہ پلان اور گوگل نقشہ عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ متعدد بار واٹس ایپ نوٹسز جاری کرنے کے باوجود متعلقہ فریقین کے بیشتر وکلاء اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، جبکہ پرانی فروٹ و سبزی منڈی کے اطراف زمین یا دکانوں کی ملکیت کا دعویٰ کرنے والے نجی افراد بھی مطلوبہ دستاویزی ثبوت پیش نہ کر سکے۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی کہ عوامی فنڈز کے ضیاع سے بچنے کیلئے محکمہ مواصلات و تعمیرات بلوچستان کو اکتوبر 2025 میں منظور شدہ پلان کے مطابق فوری طور پر ترقیاتی کام شروع کرنے کی ہدایت کی جائے، کیونکہ مالی سال اختتام کے قریب ہے۔ مزید تجویز دی گئی کہ متاثرہ مالکان کو قانون و پالیسی کے مطابق مجوزہ کمرشل پلازوں میں دکانیں الاٹ کرکے نقصان کا ازالہ کیا جائے، جبکہ کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (QDA) اور ضلعی انتظامیہ کو QDA کی اراضی پر تجاوزات کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا اختیار دیا جائے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ منصوبہ موجودہ مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں شامل ہے، تاہم 30 جون قریب ہونے کے باعث اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو منصوبے کیلئے مختص فنڈز ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ اس پر عدالت نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات، سیکریٹری خزانہ اور سیکریٹری سی اینڈ ڈبلیو کو ہدایت جاری کی کہ منصوبے کے فنڈز محفوظ رکھے جائیں اور انہیں اضافی یا سرنڈر شدہ فنڈز کے زمرے میں شامل نہ کیا جائے۔دوران سماعت QDA کے وکیل محمد اکرم شاہ نے عدالت کو بتایا کہ مجوزہ پلان QDA کی گورننگ باڈی سے منظور ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانی فروٹ اینڈ سبزی منڈی کی اراضی پر بزنس سینٹر تعمیر کیا جائے گا اور اس مرکز کی تکمیل سے قبل کسی موجودہ دکاندار کو بے دخل یا نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ ان کے مطابق موجودہ دکانیں اس وقت تک نہیں گرائی جائیں گی جب تک متاثرین کو نئی جگہ فراہم نہیں کر دی جاتی۔دوسری جانب نجی فریقین اور مداخلت کنندگان کے وکلاء نے مجوزہ منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ QDA اپنی زمین بچانے کیلئے سڑک کا رخ نجی مالکان کی زمینوں کی طرف موڑنا چاہتی ہے، جبکہ مجوزہ بزنس سینٹر میں متبادل جگہ دینے کی یقین دہانی ناکافی ہے۔عدالت نے تمام فریقین کے اعتراضات اور صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو ایک اور موقع دیتے ہوئے حکم دیا کہ تمام متعلقہ فریقین اپنی زمینوں اور دکانوں کے اصل دستاویزی ثبوت کے ساتھ کمیٹی کے سامنے پیش ہوں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ QDA کا اسٹیٹ آفس، تحصیلدار سریاب اور متعلقہ ریونیو حکام بھی کمیٹی کے ساتھ شامل ہوں تاکہ الاٹمنٹ اور ملکیت کی کراس ویری فکیشن کی جا سکے۔عدالت نے حکم دیا کہ کمیٹی کا اجلاس 2 مئی 2026 کو صبح 11 بجے سے دوپہر 12 بجے تک منعقد ہوگا، جس میں QDA کی دو تجاویز اور سابقہ پروجیکٹ ڈائریکٹر CMPQD کی پیش کردہ الائنمنٹ سمیت تمام آپشنز پر غور کیا جائے گا۔بلوچستان ہائی کورٹ نے اس امر پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا کہ علاقے سے تاحال ناجائز تجاوزات ختم نہیں کی گئیں۔ عدالت نے ڈائریکٹر جنرل QDA، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور ایڈمنسٹریٹر QMC کو مشترکہ طور پر حکم دیا کہ تمام غیر قانونی تجاوزات فوری طور پر ختم کی جائیں، خواہ وہ ناجائز قابضین ہوں یا ایسے الاٹیز جن کے مقدمات اعلیٰ عدالتوں تک فیصل ہو چکے ہوں۔ عدالت نے تصویری شواہد کے ساتھ جامع رپورٹ طلب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور ڈی آئی جی پولیس کو بھی مکمل معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔کیس کی مزید سماعت اور عملدرآمد رپورٹ کیلئے 7 مئی 2026 کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔

خبرنامہ نمبر3391/2026
کوئٹہ، 26 اپریل 2026: عدالت عالیہ بلوچستان کے چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ایک اہم آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کیس کو مزید کارروائی کے لیے پانچ رکنی لارجر بینچ کے سپرد کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ زیر سماعت تنازعہ لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ 1973 کی قانونی دفعات کی تشریح سے متعلق نہایت اہم نوعیت کا معاملہ ہے، جس کے دور رس قانونی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔سماعت کے دوران جواب دہندہ نمبر 1 یعنی ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے جواب داخل کرنے کے لیے مہلت طلب کی، جسے عدالت نے نوٹ کیا۔ جواب دہندہ نمبر 2 سیکریٹری بلوچستان پراونشل بار کونسل کی جانب سے بھی درخواست کی گئی کہ انہیں پٹیشن کی نقل فراہم کی جائے اور پیرا وائز کمنٹس/جوابی حلف نامہ داخل کرنے کے لیے وقت دیا جائے۔عدالت کو بتایا گیا کہ جواب دہندہ نمبر 3 اور جواب دہندہ نمبر 4 کی انرولمنٹ کمیٹی کے رکن محمد افضل حریفال کو بھیجے گئے نوٹسز واپس موصول نہیں ہوئے اور نہ ہی وہ عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ نوٹس کی تعمیل اور متعدد بار طلبی کے باوجود کمیٹی کے دوسرے رکن نادر علی چھلگری بھی عدالت میں حاضر نہ ہوئے۔ اسی دوران عظمت اللہ کاکڑ ایڈووکیٹ نے انرولمنٹ کمیٹی کے تیسرے رکن نجیب اللہ کاکڑ کی جانب سے وکالت نامہ جمع کراتے ہوئے پٹیشن کی نقل طلب کی۔عدالت نے درخواست گزار کے سینئر وکیل کو ہدایت کی کہ عدالت میں موجود تمام فریقین کے وکلا کو پٹیشن کی نقول فوری طور پر فراہم کی جائیں تاکہ مقدمے کی کارروائی بلا تاخیر آگے بڑھ سکے۔سماعت کے دوران بلوچستان بار کونسل سبی و نصیر آباد زون کے ایڈووکیٹ و رکن رحیم خان بلیدی نے آرڈر I رول 10 سی پی سی کے تحت مقدمے میں بطور درخواست گزار/مداخلت کار شامل ہونے کی درخواست دائر کی۔ چونکہ درخواست گزار کے وکیل نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا، لہٰذا عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں مقدمے میں شامل کر لیا۔ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ درخواست گزار ترمیم شدہ عنوان داخل کرے اور اگر ضروری ہو تو اضافی قانونی نکات بھی شامل کر سکتا ہے۔عدالت نے دفتر کو حکم دیا کہ تمام غیر حاضر جواب دہندگان کو دوبارہ نوٹس جاری کیے جائیں اور سیکریٹری بلوچستان پراونشل بار کونسل کے دفتر کے ذریعے سروس رپورٹ بھی پیش کی جائے۔بینچ نے قرار دیا کہ چونکہ مقدمہ قانون کی تشریح سے متعلقہے، اس لیے کوڈ آف سول پروسیجر کے آرڈر XXVII-A کے تحت اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو بھی نوٹس جاری کیے جائیں تاکہ وہ عدالت کی معاونت کر سکیں۔معاملے کی حساسیت، قانونی اہمیت اور وسیع اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے فیصلہ دیا کہ اس کیس کی سماعت چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ اور عدالت کے چار سینئر ترین جج صاحبان پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ کرے گا، جس میں جسٹس اقبال احمد کاسی، جسٹس شوکت علی رخشانی، جسٹس گل حسن ترین اور جسٹس محمد عامر نواز رانا شامل ہوں گے۔عدالت نے دفتر کو ہدایت جاری کی کہ مقدمہ 06 مئی 2026 کو لارجر بینچ کے روبرو مقرر کیا جائے، جبکہ اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اور تمام فریقین کے وکلا کو اس حکم نامے کی نقول کے ساتھ نوٹسز جاری کیے جائیں۔عدالت نے اپنے سابقہ عبوری حکم میں بھی اگلی تاریخ تک توسیع کر دی۔

خبرنامہ نمبر3392/2026
کوئٹہ، 26 اپریل:بلوچستان کے دور افتادہ اور تعلیمی سہولیات سے محروم علاقوں میں ”کتاب گاڑی” اور ”سائنس کی سواری” کے ذریعے علم کی شمعیں روشن کرنے کا ایک منفرد اور مؤثر اقدام جاری ہے جس کے تحت قریہ قریہ بچوں تک تعلیم کی روشنی پہنچائی جا رہی ہے ”کتاب گاڑی” اور ”سائنس کی سواری” امید کی نئی کرن بن کر سامنے آئی ہیں، جن کے باعث بچوں کی تعلیم سے وابستگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ منصوبہ ابتدا میں موبائل اسکولز کے طور پر شروع کیا گیا تھا، جو اب چلتی پھرتی لائبریری، درس و تدریس کے مراکز اور جدید ”سائنس کی سواری” میں تبدیل ہو چکا ہے موبائل سائنس لیب بالخصوص ان علاقوں میں جہاں تعلیمی سہولیات محدود ہیں، سائنسی سوچ، تجسس اور سیکھنے کے جذبے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت صوبے کے 14 اضلاع میں ”کتاب گاڑی” کے منصوبے فعال ہیں جن میں ژوب، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، پشین، چمن، کوئٹہ، لسبیلہ، حب، گوادر، جعفرآباد، کچھی، کیچ، جھل مگسی اور نوشکی شامل ہیں۔ جبکہ ”سائنس کی سواری” فی الوقت ضلع جعفرآباد میں کامیابی سے کام کر رہی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے تخلیقی اور باہمت اقدامات بلوچستان کے روشن اور تعلیم یافتہ مستقبل کی مضبوط ضمانت ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت تعلیم کے فروغ اور بچوں کو جدید علوم سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ یہ اقدام اسکولوں میں بچوں کے داخلے کی مہم کو مؤثر انداز میں تقویت دے رہا ہے اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم کی طرف راغب کر رہا ہے۔

خبرنامہ نمبر3393/2026
کوئٹہ، 26 اپریل:حکومت بلوچستان نے گورنمنٹ گرلز کالج بارکھان کی سرکاری بس کے خلاف ضابطہ استعمال کے معاملے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کالج کی سربراہ کو معطل کر دیا ہے۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں سرکاری وسائل کے مبینہ غلط استعمال کی نشاندہی کی گئی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن بلوچستان نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کالج کی پرنسپل کو 90 روز کے لیے معطل کر دیا ہے۔محکمہ ہائیر ایجوکیشن بلوچستان کے اعلامیے کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے باقاعدہ انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے، جبکہ متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ واقعے کی جامع رپورٹ تیار کر کے اعلیٰ حکام کو پیش کی جائے حکومت بلوچستان نے واضح کیا ہے کہ سرکاری وسائل کے غیر قانونی استعمال پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے اور ایسے کسی بھی عمل کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر3394/2026
کوئٹہ:وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے مینگل ہاؤس میں میر جمیل مینگل سے ملاقات کی اور سریاب روڈ پر فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں شہید ہونے والے میر جمیل مینگل کے بیٹے ہارون جان مینگل، اور رشتے دار شہید نصیب اللہ مینگل اور شہید عبدالغفار مینگل کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار اور فاتحہ خوانی کیا اس موقع پر قبائلی معززین اور علاقہ عمائدین بھی موجود تھے اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے لواحقین سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گاواقعے کی اعلیٰ سطح پر شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے گی وزیراعلی بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی واضح ہدایت ہے کہ اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی حکومت مظلوم کے ساتھ اور ظالم کے خلاف کھڑی ہے معصوم بچے کو نشانہ بنانا روایات کے برخلاف ہے انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تحقیقات کے عمل کو تیز اور مؤثر بنایا جائے اس موقع پر میر جمعیل مینگل نے صوبائی وزیر داخلہ کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ حکومت کی جانب سے تعاون پر مشکور ہیں.

خبرنامہ نمبر3395/2026
صحبت پور۔۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے وژن کے مطابق عوام کو ریلیف کی فراہمی، منصفانہ قیمتوں کے نظام کے قیام اور منظم شہری ماحول کی بہتری کے لیے ضلعی انتظامیہ صحبت پور سرگرم عمل ہیاس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے مانجھی پور بازار کا دورہ کیا گیا۔ دورے کا مقصد اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کے کنٹرول، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد کو یقینی بنانا اور سڑک کنارے قائم غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے کی صورتحال کا جائزہ لینا تھامعائنے کے دوران مختلف دکانوں اور کاروباری یونٹس میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کی جانچ پڑتال کی گئی تاکہ حکومتی نرخنامے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے اس کے ساتھ ساتھ بازار کے مختلف حصوں میں قائم تجاوزات کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی گئی تفصیلات حسب ذیل ہیں معائنہ شدہ یونٹس کی تعداد 43 ہٹائی گئی تجاوزات: 13 (جن میں سبزی و فروٹ کی ریڑھیاں اور سائن بورڈز شامل ہیں جاری کردہ وارننگز: 13عائد کردہ جرمانہ 4,550 روپے اسسٹنٹ کمشنر نے موقع پر ہدایت کی کہ تمام دکانداران سرکاری نرخنامے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی تجاوزات سے اجتناب کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی سہولت، ٹریفک کی روانی اور منظم کاروباری ماحول کے قیام کے لیے ایسی کارروائیاں آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی۔

خبرنامہ نمبر3396/2026
کوہلو 26 اپریل:رکن صوبائی اسمبلی ومری قبیلے کے سربراہ نواب جنگیز خان مری ان دنوں اپنے حلقہ کوہلو کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے گزشتہ روز کھلی کچہری منعقد کی اور عوام کے مسائل سنے ہیں جبکہ کئی اہم نوعیت کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے موقع پر ہی متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کئے ہیں کھلی کچہری میں تحصیل کوہلو کے علاوہ،تحصیل کاہان،میوند،نیلی،تکڑو،گرسنی سمیت دور دراز علاقوں کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، سائلین نے پانی،بجلی،تعلیم،صحت،سڑکوں کی بحالی سمیت دیگر بنیادی مسائل بیان کئے ہیں جن کو رکن صوبائی اسمبلی نے جلد حل کرنے کی یقین دہانی کی ہے اس موقع پر کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے نواب جنگیز خان مری نے کہا کہ عوام کے بنیادی مسائل بلخصوص دوردراز علاقوں کے مسائل حل ہونے سے ترقی اور خوشحالی آئے گا ہماری اولین ترجیح ہے کہ سائلین کے مسائل ترجیح بنیادوں پر ان کی دہلیز پر حل ہوں،حلقے کے عوام کی مکمل نمائندگی اور خدمت کو اپنا فرض سمجھتے ہوئیفنڈز کی فراہمی،ترقیاتی منصوبوں کی منظوری و اسکیمات کی بروقت تکمیل، نئے روزگار کے مواقع کیلئے متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہوں،۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری سیاست عوامی خدمت پر مبنی ہے اس لئے ذاتی مفادات کے بجائے ہمیشہ مری قوم اور حلقے کے عوام کی خدمت کو اپنی ذمہ داری سمجھا ہے رکن صوبائی اسمبلی نواب جنگیز مری نے کھلی کچہری میں پیش کئے گئے مسائل پر متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ واٹر سپلائی اسکیمات،بجلی،تعلیم،صحت، تعلیمی قابلیت کے بنیاد پر روزگار کی فراہمی،سڑکوں کے بروقت تکمیل ومعیار کو فوری یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں۔کوہلو کے قبائلی عمائدین اور شہریوں نے رکن صوبائی اسمبلی کی جانب سے کھلی کچہری کے انعقاد کو سراہا اور امید ظاہر کی ہے کہ ان کے مسائل جلد ترجیحی بنیادوں پر حل ہوں گے اور علاقے میں ترقی و خوشحالی کا آغاز ہوگا۔

خبرنامہ نمبر3397/2026
محمکہ ایکسائز اینڈ ٹیکسشن و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے منشیات کے خاتمے اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے سلسلے میں ایک اہم اور مربوط مشترکہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ یہ آپریشن پولیس، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن فرنٹیئر کور،پولیس کی مشترکہ نگرانی اور تعاون سے انجام دیا گیا، جس کا مقصد علاقے میں غیر قانونی پوست کی کاشت کا خاتمہ تھا۔کارروائی کے دوران سائٹ نمبر 1: کلی وزیر باتوزئی قعلہ سیف اللہ میں واقع ایک بڑے رقبے پر مشتمل زمین کو ہدف بنایا گیا، جہاں تقریباً 13 ایکڑ اراضی پر غیر قانونی طور پر پوست کی فصل کاشت کی گء تھی محمکہ ایکسائز کے افسران نے کہا کہ مذکورہ فصل کی آبپاشی کے لیے ڈیم کے پانی کو بطور ذریعہ استعمال کیا جا رہا تھا، جس سے کاشت کو مسلسل برقرار رکھا گیامشترکہ ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے موقع پر پہنچ کر پیشہ ورانہ حکمت عملی کے تحت پورے علاقے کا محاصرہ کیا اور جدید آلات کے استعمال سے فصل کو مکمل طور پر تلف کر دیا اس موقع پر ETO قعلہ سیف اللہ ارباب مکئی نے کہا کہ منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت ایسی کارروائیاں آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی، تاکہ معاشرے کو منشیات کی لعنت سے پاک کیا جا سکے اور قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے.

خبرنامہ نمبر3398/2026
کوئٹہ، 26 اپریل:صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی میر اعجاز خان جھکرانی کے فرزند میر زید خان جھکرانی کے ناگہانی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تعزیتی بیان میں کہا ہیکہ مرحوم کے انتقال سے جھکرانی قوم بالخصوص میر اعجاز خان جھکرانی کے لئے ایک بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں.

خبرنامہ نمبر3399/2026
صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دمڑتحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال سنجاوی کا دورہ کیا ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی بھی ان کے ہمراہ تھے ڈی ایچ او ڈاکٹررفیق مستوئی اور ایم ایس ڈاکٹر نورالباقی نے ہسپتال کے بارے میں بریفنگ دی صوبائی وزیر نے ہسپتال۔ کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا ہسپتال میں ترقیاتی کاموں کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی صوبائی وزیر نے ہسپتال میں سرجری کے شعبے میں ڈاکٹرز کی کمی کو دور کرنے کی یقین دہانی کرانے کی یقین دہانی کرائی صوبائی وزیر نے اس موقع پر ڈسٹرکٹ افسران کے اجلاس کی صدارت کی افسران نے بریفنگ دی صوبائی وزیر خوراک حاجی نورمحمد خان دمڑ نے افسران کو ہدایت کی کہ تمام افسران اپنے محکموں کو فعال کرانے میں کردار ادا کریں جو فرائض ان پر عائد ہے ان کو ایمانداری اور لگن سے ادا کریں

خبرنامہ نمبر3400/2026
سنجاوی 26اپریل:صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دمڑاور ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے آج گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن ضلع زیارت کے صدر محمد نور دمڑ کی دعوت پر گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول سمالن، سنجاوی کا دورہ کیا۔اس موقع پرچیئرمین میونسپل کمیٹی حاجی خان محمد دمڑ، اسسٹنٹ کمشنر سنجاوی شیر شاہ غلزئی، ایکسین روڈزصغیر احمد، ایکسین سی اینڈ ڈبلیو عرفان اللہ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ محمد صدیق فوکل پرسن ہرنائی حاجی بازمحمد دمڑ، فوکل پرسن زیارت محمد حاجی راز محمد دمڑ، سابق ڈسٹرکٹ نائب ناظم مومن شاہ دمڑ، چیئرمین بائع خان دمڑ، چیئرمین عبدالحلیم دمڑ، قبائلی رہنما ملک آیاز دمڑ، حاجی جان دمڑ اور بی ای ایف کے فیض اللہ خلجی بھی صوبائی وزیر کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد نور دمڑ اور ہیڈ ماسٹر محمد یوسف دمڑ نے صوبائی وزیر کو اسکول کی عمارت کے حوالے سے درپیش مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ اسکول کی عمارت انتہائی خستہ حال ہو چکی ہے اور طلبہ کے لیے مناسب بیٹھنے کی گنجائش موجود نہیں۔ اس لیے خستہ حال کمروں کی ازسرنو تعمیر، اضافی کلاس رومز، ٹائلٹ بلاک اور اسکول کی توسیع کی فوری ضرورت ہے۔صوبائی وزیر حاجی نور محمد خان دمڑ نے مسائل کے حل کے لیے ایکسین بی اینڈ آر کو فوری طور پر پی سی ون تیار کرنے کی ہدایت جاری کی اور آئندہ پی ایس ڈی پی میں فنڈز مختص کرنے کا اعلان کیا۔

خبرنامہ نمبر3401/2026
کوئٹہ 26 اپریل:بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی میر اعجاز خان جھکرانی کے فرزند میر زید خان جھکرانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے،اپنے تعزیتی بیان میں صوبائی وزیر آبپاشی نے کہا کہ میر زید جکھرانی کے وفات کا سن کر انہیں دلی افسوس ہوا، انہوں نے کہا جوان اولاد کی وفات ماں باپ کیلئے ناقابل برداشت صدمہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دائمی غم بھی ہے لہٰذا ان حالات میں حکم بھی یہی ہے کہ بندہ صبر اور حوصلے سے کام لے، میر محمد صادق عمرانی نے اس موقع پر دعاء کرتے ہوئے کہا کہ اللّٰہ پاک میر اعجاز جکھرانی سمیت غمزدہ خاندان کو صبرِ جمیل عطاء کرے اور میر زید جکھرانی و دیگر مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *