31st-March-2026

خبرنامہ نمبر2490/2026
کوئٹہ 31مارچ۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت میاں غنڈی ریکریشنل پارک سے متعلق ایک اجلاس منعقد ہوا،جس میں ایڈیشنل کمشنر کوئٹہ ڈویژن آغا سمیع اللہ ،محکمہ جنگلات ،بورڈ آف ریونیو،اسٹلیمنٹ اور دیگر محکموں کے افسران موجود تھے۔اجلاس میں میاں غنڈی پارک کی زمین کی ملکیت، سیٹلمنٹ اور حد بندی سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے متعلقہ حکام نے آگاہ کیا کہ میاں غنڈی کے علاقے میں موضع سادات کی حد بندی تاحال مکمل نہیں ہو سکی، جس کا مجموعی رقبہ تقریباً 62 ایکڑ پر مشتمل ہے۔ اس حوالے سے کیس اس وقت بورڈ آف ریونیو اور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔اجلاس کے دوران محکمہ جنگلات کی جانب سے بعض علاقوں میں تجاوزات (انکروچمنٹ) پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور بتایا گیا کہ سرکاری اراضی کے تحفظ کے لیے ان تجاوزات کا خاتمہ ناگزیر ہے۔کمشنر شاہزیب خان کاکڑ نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ جنگلات، تحصیل آفس اور ایڈیشنل کمشنر کوئٹہ ڈویژن آغا سمیع اللہ مشترکہ طور پر متعلقہ علاقے کا فوری دورہ کریں اور زمینی حقائق پر مبنی جامع فزیکل رپورٹ پیش کریں۔انہوں نے تاکید کی کہ آئندہ فیصلہ بورڈ آف ریونیو کی رپورٹ اور عدالت کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ دیگر موضع جات کے معاملات کا بعد ازاں ازسر نو جائزہ لیا جائے، جبکہ میاں غنڈی کے پہلے سے سیٹل شدہ علاقوں کی باقاعدہ ڈیمارکیشن مکمل کی جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے تنازعات سے بچا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر اس امر پر زور دیا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی اشتراک اور موثر رابطہ کاری کے ذریعے زمین کے تنازعات کو قانونی اور شفاف انداز میں حل کریں، تاکہ میاں غنڈی ریکریشنل پارک کی بہتری، تحفظ اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2491/2026
کوئٹہ 31مارچ ۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) بلوچستان میں ڈائریکٹر پلاننگ، کوآرڈینیشن اینڈ ریسکیو، مسٹر نوید احمد کی سربراہی میں، UNFPA کے تعاون سے جی بی وی اِن ایمرجنسیز (GBViE) فریم ورک پر دوسری صوبائی مشاورتی ورکشاپ 31 مارچ 2026 کو منعقد ہوئی۔ یہ مشاورتی اجلاس بلوچستان میں ہنگامی حالات کے تناظر میں صنفی بنیاد پر تشدد (GBV) کے خطرات سے نمٹنے، مو¿ثر حکمتِ عملی وضع کرنے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ایک اہم کاوش ہے۔ورکشاپ میں PDMA، متعلقہ صوبائی محکموں، اقوامِ متحدہ کے اداروں، پروٹیکشن و GBV سب ورکنگ گروپ کے شراکت داروں، قومی و مقامی این جی اوز (بشمول خواتین کی قیادت میں کام کرنے والی اور معذوری پر توجہ دینے والی تنظیموں) اور دیگر متعلقہ پلیٹ فارمز بشمول PSEA نیٹ ورک کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاءنے اپنے تجربات، مشاہدات اور تکنیکی آراء کا تبادلہ کرتے ہوئے صوبائی سطح پر بہتر ہم آہنگی کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کیں۔اس مشاورتی اجلاس کا بنیادی مقصد بلوچستان کے تناظر میں GBViE فریم ورک کو مزید جامع، موثر اور قابلِ عمل بنانا تھا، جس کے تحت ہنگامی حالات میں جی بی وی کے اہم خطرات کی نشاندہی اور توثیق، ترجیحی اقدامات، موجودہ خلا (gaps) اور قابلِ عمل نکات کو ماحولیاتی ماڈل کے تحت مختلف شعبہ جات میں مربوط کرنا شامل ہے۔ مزید برآں، شرکاء کے درمیان ہم آہنگی کے کردار، ذمہ داریوں اور آئندہ کے لائحہ عمل پر وضاحت اور باہمی اتفاقِ رائے قائم کیا گیا تاکہ ایک مربوط اور موثر ردِعمل کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ مشاورتی عمل صوبہ بلوچستان میں جی بی وی سے متعلقہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، بین الادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے، اور ہنگامی حالات میں متاثرہ افراد، خصوصاً خواتین اور کمزور طبقات، کو بروقت، محفوظ اور موثر معاونت فراہم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2492/2026
کوئٹہ31مارچ ۔ محکمہ تعلیم حکومت بلوچستان نے صوبے بھر کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے یکم اپریل 2026 سے دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایندھن بچت اقدامات کے باعث سکولوں کی عارضی بندش ختم کر دی گئی ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بدھ یکم اپریل سے تمام اسکول معمول کے مطابق کلاسز شروع کریں گے تاہم صوبے بھر کے تعلیمی ادارے اب پانچ روزہ ہفتہ وار شیڈول (پیر تا جمعہ) اپنائیں گے جبکہ ہفتہ اور اتوار کو تعطیل ہوگی۔محکمہ تعلیم کے مطابق تمام امتحانات اور اسیسمنٹ طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی لیے جائیں گے اور تعطیلات سے ان کی تاریخوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2493/2026
تربت31مارچ ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ، یاسر اقبال دشتی کی زیرِ صدارت پیر کے روز بی ایس ڈی آئی (BSDI) منصوبے کے فیز اوّل اور فیز دوم کی کارکردگی اور پیشرفت کے جائزے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں منصوبے سے وابستہ متعلقہ افسران نے شرکت کی اور تفصیلی بریفنگ پیش کی۔اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر نے فیز اوّل اور فیز دوم کے تحت مکمل شدہ اور زیرِ تکمیل منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ حکام نے آگاہ کیا کہ فیز اوّل کے بیشتر منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ ان کی جامع پیشرفت رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے گی۔مزید بتایا گیا کہ فیز دوم کے تحت مختلف منصوبوں پر کام تسلسل کے ساتھ جاری ہے، جن میں سے بعض منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، کچھ زیرِ تکمیل ہیں جبکہ چند منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نے ہدایت جاری کی کہ فیز دوم کے تمام منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے اور ان کی موثر نگرانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر یا شفافیت کی کمی پائی گئی، ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، اور اس ضمن میں مکمل تفصیلات آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں۔انہوں نے مزید زور دیا کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی، اور فیز سوم کے آغاز سے قبل فیز اوّل اور فیز دوم کے منصوبوں کی تکمیل، معیار اور شفافیت سے متعلق جامع رپورٹ پیش کرنا لازمی ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 2494/2026
لورالائی 31مارچ ۔،ضلع لورالائی میں پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) اسکول ایجوکیشن بلوچستان کے زیر اہتمام ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں پی ٹی ایس ایم سی پروگرام کے تحت اضافی کلاس رومز کی تعمیر کے لیے ضلع کے 12 سرکاری پرائمری بوائز و گرلز اسکولوں کو پہلے مرحلے کے چیکس جاری کیے گئے۔تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر لورالائی، کپٹین (ر) حسیب شجاع تھے، جنہوں نے اپنے خطاب میں حکومت بلوچستان کی جانب سے تعلیمی شعبے کی بہتری کے اقدامات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع میں تعلیمی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حمید ابڑو نے منصوبے کے تحت شامل اسکولوں کی موجودہ حالتِ زار پر روشنی ڈالی، جبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نور علی کاکڑ نے اضافی کلاس رومز کی تعمیر کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول میسر آئے گا اور ان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔تقریب میں اسسٹنٹ کمشنرز یحیٰ کاکڑ اور اسحاق ناصر، سابق چیف کیسکو ہاشم جوگیزئی، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن رزاق میاخیل، پرنسپل گل جمعہ کاکڑ، محمد داود کاکڑ، ملک نعمت ناصر، منیجر ای ایس پی عبید ترین اور ریسورس پرسن نیک محمد کاکڑ سمیت دیگر معززین نے شرکت کی۔ریجنل ڈائریکٹر پی ایم یو نوابزادہ گوہر خان جوگیزئی نے منصوبے کے مختلف پہلووں پر تفصیلی بریفنگ دی، جبکہ ڈسٹرکٹ فوکل پرسن (پی ایم یو) سردار عبدالرشید جوگیزئی نے اپنے خطاب میں بتایا کہ اس منصوبے کے دائرہ کار کو مزید وسعت دیتے ہوئے میرٹ کی بنیاد پر دیگر اسکولوں سے بھی ڈیٹا حاصل کیا جائے گا۔ انہوں نے کمیونٹی پر زور دیا کہ وہ اس عمل میں بھرپور تعاون کرے، جبکہ ضلعی سطح پر اسٹیک ہولڈرز کے لیے سیمینار کے انعقاد کا بھی اعلان کیا۔تقریب کے اختتام پر متعلقہ اسکولوں کی چیئرپرسنز اور سیکریٹریز میں چیکس تقسیم کیے گئے۔واضح رہے کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ضلع لورالائی کے سرکاری اسکولوں میں بنیادی تعلیمی سہولیات کو بہتر بنانا اور طلبہ کے لیے اضافی کلاس رومز کی فراہمی یقینی بنانا ہے، تاکہ مجموعی تعلیمی معیار کو مزید بلند کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2495/2026
لورالائی 31 مارچ۔ : ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیر صدارت سرکاری واجبات کی بروقت اور مکمل وصولی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اسماعیل مینگل، اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم، اسسٹنٹ کمشنر مخیتر یحییٰ خان کاکڑ، تحصیلداروں، نائب تحصیلداروں اور محکمہ مال کے دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران تمام تحصیلوں کے افسران نے اپنی اپنی حدود میں سرکاری واجبات کی وصولی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے اب تک کی پیش رفت، درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر کو بتایا گیا کہ بعض علاقوں میں وصولی کے عمل میں بہتری آئی ہے تاہم مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے واضح کیا کہ سرکاری واجبات کی وصولی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں دیانتداری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ادا کریں اور فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ریونیو کی بہتر وصولی سے ہی ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جا سکتا ہے، لہٰذا تمام افسران بقایا جات کی وصولی کے لیے موثر حکمت عملی اپنائیں اور مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنائیں۔ اجلاس میں ریکارڈ کی مکمل اپڈیٹیشن اور شفافیت کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے خبردار کیا کہ ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اجلاس کے اختتام پر وصولی کے نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا اور متعلقہ حکام کو واضح ہدایات جاری کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Loralai, March 31, 2026: An important meeting regarding the timely and complete recovery of government dues was held under the chairmanship of Deputy Commissioner Loralai, Captain (R) Muhammad Haseeb Shuja. The meeting was attended by Additional Deputy Commissioner Revenue Muhammad Ismail Mengal, Assistant Commissioner Loralai Nadeem Akram, Assistant Commissioner Mekhtar Yahya Khan Kakar, along with tehsildars, naib tehsildars, and other officials from the Revenue Department.During the meeting, officers from all tehsils presented detailed briefings on the recovery of government dues within their respective jurisdictions. They highlighted the progress made so far, the challenges faced, and outlined future strategies. The Deputy Commissioner was informed that while improvements have been observed in some areas, further efforts are still required.Addressing the meeting, Deputy Commissioner Captain (R) Muhammad Haseeb Shuja emphasized that the recovery of government dues is among the government’s top priorities, and any negligence or laxity in this regard will not be tolerated. He directed the concerned officers to perform their duties with honesty and professionalism, and to ensure their presence in the field.He further stated that effective revenue collection is essential for the timely completion of development projects. Therefore, all officers must adopt effective strategies to recover outstanding dues and ensure the achievement of assigned targets. The meeting also stressed the importance of updating records and ensuring transparency.The Deputy Commissioner warned that strict disciplinary action would be taken against officers showing poor performance, while those demonstrating outstanding performance would be encouraged. The meeting concluded with discussions on various proposals to further improve the recovery system, and clear directives were issued to the relevant authorities.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2496/2026
نصیرآباد31مارچ ۔ محکمہ صحت نصیرآباد ڈویژن میں مختلف اسامیوں کو پ±ر کرنے کے لیے ڈویژنل ہیلتھ کمیٹی کا اہم اجلاس چیئرمین و کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار، ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر عبدالمنان لاکٹی، ایم ایس ڈاکٹر حبیب پندرانی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران پہلے مرحلے میں نصیرآباد ڈویژن میں میڈیکل آفیسرز کی 47 جبکہ ڈینٹل سرجن کی 2 آسامیوں کے لیے ڈویڑن بھر سے آنے والے میل و فیمیل امیدواران کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے، جہاں کمیٹی ممبران نے امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کی اور انٹرویوز لیے۔ تفصیلات کے مطابق ضلع نصیرآباد میں میڈیکل آفیسرز کی 20، جعفرآباد میں 3، استامحمد میں 7، صحبت پور میں 4 جبکہ ضلع کچھی میں 5 آسامیوں پر انٹرویوز کیے گئے، اسی طرح ڈینٹل سرجن کی دو آسامیاں پر کی جائیں گی۔اس موقع پر کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ پہلے مرحلے میں میڈیکل آفیسرز اور ڈینٹل سرجن کی آسامیوں کو پر کرنے کے لیے انٹرویوز کا عمل جاری ہےاور میرٹ کی بنیاد پر ڈاکٹرز کی تعیناتی ہماری اولین ترجیح ہے تاکہ عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Loralai: Cheques Distributed for Construction of Additional Classrooms in Government SchoolsLoralai, March 30, 2026: A dignified ceremony was held in District Loralai under the auspices of the Project Management Unit (PMU), School Education Balochistan, during which cheques were distributed in the first phase to 12 government primary boys’ and girls’ schools for the construction of additional classrooms under the PTSMC program.The Chief Guest at the ceremony, Deputy Commissioner Loralai, Captain (Retd.) Muhammad Haseeb Shuja, appreciated the Government of Balochistan’s initiatives for improving the education sector. He reaffirmed his commitment to further enhance educational facilities across the district.On this occasion, District Education Officer Hameed Abro highlighted the current condition of the schools included in the project, while Additional Deputy Commissioner Noor Ali Kakar emphasized that the construction of additional classrooms is a pressing need. He stated that this initiative will provide students with a better learning environment and significantly improve their academic performance.The ceremony was attended by Assistant Commissioners Yahya Kakar and Ishaq Nasir, former Chief KESCO Hashim Jogezai, District Officer Education Razzaq Miakhel, Principal Gul Juma Kakar, Muhammad Dawood Kakar, Malik Naimat Nasir, Manager ESP Ubaid Tareen, Resource Person Naik Muhammad Kakar, and other distinguished participants.Regional Director PMU Nawabzada Gohar Khan Jogezai gave a detailed briefing on various aspects of the project. District Focal Person (PMU) Sardar Abdul Rasheed Jogezai, in his address, stated that the scope of the project will be expanded further, and data from additional schools will be collected on merit. He urged the community to actively support this process and also announced the organization of a seminar for stakeholders at the district level.At the conclusion of the ceremony, cheques were distributed among the chairpersons and secretaries of the respective schools.It is worth mentioning that the primary objective of this project is to improve basic educational facilities in government schools across District Loralai and ensure the provision of additional classrooms, thereby enhancing the overall standard of education.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2497/2026
نصیرآباد:31مارچ ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت ضلع بھر میں مفاد عامہ میں کام کرنے والی مختلف غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کی کارکردگی اور سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں فوکل پرسن حنا عمرانی، مختلف این جی اوز کے نمائندگان فاروق کاکڑ، محمد ساجد، منور شاہین اور ڈپٹی کمشنر کے پرسنل سیکرٹری منظور شیرازی سمیت دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران این جی اوز کے نمائندگان نے اپنے جاری اور مجوزہ منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور ضلع میں جاری فلاحی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ساتھ فلاحی ادارے اور این جی اوز عوامی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں تاہم یہ نہایت ضروری ہے کہ ضلع نصیرآباد میں کام کرنے والی تمام این جی اوز حقیقی معنوں میں عوام کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھیں اور مقامی افراد کو روزگار کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں کام کرنے والی تمام این جی اوز آئندہ 10 روز کے اندر اندر اپنے دفاتر ضلع نصیرآباد میں قائم کریں تاکہ ان کی سرگرمیوں کی موثر نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے، جبکہ اسکروٹنی کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔ انہوں نے سختی سے ہدایت کی کہ کسی بھی این جی او کو این او سی کے بغیر کام کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور جن تنظیموں کے این او سی کی معیاد ختم ہو چکی ہے وہ نئے منصوبوں کے تحت دوبارہ این او سی حاصل کریں۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ مقامی افراد کو روزگار کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے اور اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، تمام این جی اوز حکومتی پالیسی کے مطابق شفافیت اور میرٹ کو یقینی بناتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2498/2026
لورالائی31مارچ ۔ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ سے لورالائی کے نئے تعینات ہونے والے ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) حسیب شجاع نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اسماعیل مینگل، اسسٹنٹ کمشنر بوری اکرم ندیم، اسسٹنٹ کمشنر میختر یحییٰ خان کاکڑ اور اسسٹنٹ کمشنر اسحاق ناصر بھی موجود تھے۔اس موقع پر کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) شجاع احمد کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور امید ہے کہ نئے ڈپٹی کمشنر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے ضلع میں گورننس کو مزید موثر بنائیں گے۔کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل، سرکاری امور میں شفافیت اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور ڈویژنل انتظامیہ کے درمیان قریبی رابطہ اور موثر ہم آہنگی سے عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) حسیب شجاع نے اس موقع پر کمشنر لورالائی ولی محمد بڑیچ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور لگن کے ساتھ انجام دیں گے اور ضلع میں عوامی خدمت اور انتظامی امور کی بہتری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔یہ ملاقات باہمی مشاورت، انتظامی تعاون اور ضلع میں ترقیاتی و عوامی امور کو مزید موثر بنانے کے عزم کا اظہار ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2499/2026
استامحمد31مارچ ۔ایس پی استامحمد حافظ معاذ الرحمٰن خان کی زیرِ صدارت ضلع میں امن و امان کے قیام اور بہتری کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں اسپیشل برانچ، سی ٹی ڈی، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویژنل انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نصیرآباد سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی اجلاس کے دوران ضلع میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور جرائم کی روک تھام، منشیات کے خاتمے، اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے حوالے سے مختلف اہم امور پر سیر حاصل گفتگو کی گئی اس موقع پر مختلف اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو مزید موثر بنانے اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو بہتر کرنے پر بھی زور دیا گیااجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایس پی استامحمد حافظ معاذ الرحمٰن خان نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے، جس کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے انہوں نے واضح کیا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور کسی بھی صورت قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اور گزشتہ روز جرائم پیشہ افراد کے خلاف کی کارروائی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اسی طرح آئندہ بھی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا انہوں نے مزید کہا کہ قانون کی بالادستی کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا اور معاشرے میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے پولیس افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں اور عوام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں تاکہ ان کے مسائل کو بروقت حل کیا جا سکے ایس پی استامحمد نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ امن و امان کے قیام میں پولیس کے ساتھ بھرپور تعاون کریں، مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع دیں، اور ایک پرامن معاشرے کے قیام میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام اداروں کی مشترکہ کوششوں سے ضلع بھر میں امن و امان کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2500/2026
قلات خبرنامہ 31 مارچ۔ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن قلات کی جانب سے اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں اور معیار کا جائزہ لینے کے لیئےپرائس کنٹرول کمیٹی کومتحرک کردیا گیا ہے اسسٹنٹ کمشنر طاہر سنجرانی نے ٹیکس محرر میونسپل کمیٹی محمدیعقوب کے ہمراہ قلات بازا ر کا تفصیلی دورہ کیا پرائس کنٹرول کمیٹی نے سبزی منڈی قصائیوں، پھل و سبزی فروشوں بیکریوں اور انکے بٹیوں دودھ فروشوں میڈیکل اسٹورز نانبائیوں کےدکانوں اور فوڈ پوائنٹس کا معائنہ کیااشیاءخوردونوش کی قیمتوں، معیار اور صفائی کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا گیاروٹی کے پھیڑوں کاوزن کم آنے پر تندوروالوں کو جرمانہ کیاگیاجبکہ قلات بازارمیں دوران چیکنگ غیر معیاری اشیاءخوردنوش بھی قبضے میں لے لی گئیں ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کے احکامات پرپرائس کنٹرول کمیٹی نےدکانداروں کو سختی سے ہدایت دی کہ وہ سرکاری نرخ نامے کی سختی سے پابندی کریں اور صفائی ستھرائی کاخاص خیال رکھاجائےگرانفروشی اورسرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کسی صورت قبول نہیں کی جائیگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2501/2026
لورالائی 31مارچ۔ا ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن ریٹائرڈ محمد حسیب شجاع کے زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اسماعیل مینگل ،محکمہ صحت سے وابستہ متعلقہ افسران، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر محمد مقبول احمد ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (MS) محمدانورمندوخیل، خزانہ آفیسر محمد زبیر اور پی پی ایچ آئی (PPHI) ڈاکٹر فرحان کاکڑ نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع بھر میں قائم بنیادی مراکز صحت (BHUs)، دیہی مراکز صحت (RHCs) اور سرکاری ہسپتالوں کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام کی جانب سے صحت کے مراکز میں دستیاب سہولیات، ادویات کی فراہمی، طبی آلات کی حالت، مریضوں کو دی جانے والی سہولیات اور درپیش مسائل کے حوالے سے جامع رپورٹس پیش کی گئیں۔اجلاس میں خاص طور پر ادویات کی بلا تعطل فراہمی، ڈاکٹرز اور طبی عملے کی حاضری، صفائی ستھرائی کے انتظامات اور مریضوں کو بروقت علاج کی سہولیات کی فراہمی پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر بعض مراکز میں عملے کی غیر حاضری اور سہولیات کے فقدان پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن ریٹائرڈ محمد حسیب شجاع نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام صحت مراکز میں عوام کو معیاری اور فوری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فرائض میں غفلت اور غیر حاضری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسے عملے کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ صحت کے شعبے میں بہتری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، لہٰذا تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دیں اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ اجلاس کے اختتام پر مختلف امور پر عملدرآمد کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی گئیں تاکہ عوام کو بہتر اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Loralai, March 31: review meeting of the District Health Committee was held under the chairmanship of Deputy Commissioner Loralai, Captain (Retd.) Muhammad Haseeb Shuja. The meeting was attended by Additional Deputy Commissioner (Revenue) Muhammad Ismail Mengal, District Health Officer Muhammad Maqbool Ahmed, Medical Superintendent (MS) of the hospital Muhammad Anwar Mandokhail, Treasury Officer Muhammad Zubair, PPHI representative Dr. Farhan Kakar, and other relevant health department officials.During the meeting, a detailed review of the overall performance of Basic Health Units (BHUs), Rural Health Centers (RHCs), and government hospitals across the district was conducted. Officials presented comprehensive reports on available facilities, supply of medicines, condition of medical equipment, patient care services, and the challenges being faced.Special emphasis was placed on the uninterrupted supply of medicines, attendance of doctors and medical staff, cleanliness arrangements, and timely provision of healthcare services to patients. Concerns were also expressed over staff absenteeism and lack of facilities in certain health centers.Addressing the meeting, Deputy Commissioner Captain (Retd.) Muhammad Haseeb Shuja directed that all health facilities must ensure the provision of quality and prompt medical services to the public. He made it clear that negligence and absenteeism would not be tolerated, and strict action would be taken against those found responsible.He further stated that improving the healthcare sector is among the government’s top priorities, and all concerned officials must perform their duties diligently and take immediate steps to address public complaints.At the conclusion of the meeting, necessary instructions were issued to the relevant authorities to ensure implementation of decisions aimed at providing better and timely healthcare services to the public.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2502/2026
اسلام آباد،31مارچ:۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے وزارتِ تجارت اسلام آباد میں اہم ملاقات کی۔ملاقات کے دوران بلوچستان میں سرمایہ کاری کے فروغ، تجارتی مواقع کے فروغ اور صوبے میں کاروباری سرگرمیوں کے استحکام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیاجبکہ بلوچستان کی معیشت کو مستحکم کرنے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لیے حکمت عملی پر غور کیاگیا۔جام کمال خان نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے اور وفاقی حکومت صوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاروبار میں آسانی، برآمدات میں اضافہ اور تجارتی نظام کی بہتری ہماری اولین ترجیحات ہیں، جن کے ذریعے بلوچستان کو قومی معیشت میں موثر انداز میں شامل کیا جائے گا۔بلال خان کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان میں معدنیات، توانائی، ماہی گیری، زراعت اور لاجسٹکس کے شعبوں میں بے پناہ مواقع موجود ہیں، جنہیں موثر پالیسیوں اور سرمایہ کار دوست اقدامات کے ذریعے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔انہوں نے صوبے میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کے تعاون کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں باہمی تعاون کو فروغ دیا جائیگا۔ملاقات میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان موثر رابطہ اور تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا تاکہ سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق پالیسیوں پر موثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Islamabad, March 31: The Vice Chairman of the Balochistan Board of Investment and Trade, Bilal Khan Kakar, held an important meeting with the Federal Minister for Commerce, Jam Kamal Khan, at the Ministry of Commerce in Islamabad.During the meeting, detailed discussions were held on promoting investment in Balochistan, enhancing trade opportunities, and strengthening business activities in the province. Strategies were also considered to stabilize Balochistan’s economy and attract both domestic and foreign investors.Jam Kamal Khan stated on the occasion, “Balochistan can play a key role in Pakistan’s economic development, and the federal government will provide full support to promote investment in the province.” He further added, “Ease of doing business, increasing exports, and improving the trade system are our top priorities, through which Balochistan will be effectively integrated into the national economy.”Bilal Khan Kakar said, “Balochistan has immense potential in sectors such as minerals, energy, fisheries, agriculture, and logistics, which can be utilized through effective policies and investor-friendly measures.” He also welcomed the support of Jam Kamal Khan for promoting trade activities in the province and expressed the commitment to further strengthen mutual cooperation in the future.It was also agreed during the meeting that coordination and cooperation between federal and provincial institutions would be further enhanced to ensure effective implementation of investment promotion policies.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر2503/2026
کوئٹہ31مارچ۔گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان میں تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی ترقی اور پائیداری کیلئے اسٹریٹجک مالیاتی منصوبہ بندی بہت ضروری ہے۔ یونیورسٹیز اور ہائیر ایجوکیشن سیکٹر کو فائدہ پہنچانے کیلئے شفاف مالیاتی منصوبہ بندی اور دستیاب وسائل کو ادارے کے مفاد میں بروئے کی ضرورت پر زور دیا۔ مالی آمور و معاملات میں بہتری لانے سے یونیورسٹیاں اپنی آمدنی میں ریسرچ گرانٹس اور شراکت داری کے نئے ذرائع تلاش کر سکتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار نے گورنر ہاوس کوئٹہ میں صوبہ وزیر فنانس میر شعیب نوشیروانی سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں نئی اصلاحات متعارف کرانے کا مقصد گورننس، شفافیت اور مالیاتی ڈسپلن کو بڑھانا ہے۔ یہ بات یقین کے کی جا سکتی ہے کہ ہمارے ٹھوس اقدامات سے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیمی معیار اور مالی استحکام کو تقویت ملے گی۔ بلوچستان حکومت نے تمام یونیورسٹیوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ دیرینہ مالیاتی مسائل کو حل کرنے کیلئے ایک پائیدار حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی حقیقی ترقی اور تعلیمی ماحول کو فروغ دینے کیلئے صوبائی وزیر خزانہ سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ اس موقع پر وزیر خزانہ نوشیروانی نے بتایا کہ یونیورسٹی فنانس کمیشن کی مدد سے ہمیں تنخواہوں کے مسائل پر قابو پانے میں پہلے سے کامیابی ہوئی ہے اور پنشن اور آپریشنل اخراجات کو حل کرنے کی کوششیں مزید تیز کر دی گئیں ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2504/2026
استامحمد 31مارچ۔ ہدایت ڈپٹی کمشنر استامحمد، اسسٹنٹ کمشنر استامحمد محمد رمضان اشتیاق کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کا ایک اہم اور جامع اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے انتظامی، ترقیاتی اور سیکیورٹی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں ایس پی استامحمد حافظ معازالرحمن، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر امیر علی جمالی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE)، ایریگیشن، خزانہ، چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن، پرنسپلز ڈگری کالج استامحمد و گرلز ڈگری کالج استامحمد، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندگان اور دیگر تمام ضلعی محکموں کے سربراہان نے شرکت کی اجلاس کے دوران ضلع میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، اور فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث تاخیر کا شکار اسکیمات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ شرکائ نے اس امر پر خصوصی زور دیا کہ ہیڈ باغ تا استامحمد روڈ اور گنداخہ روڈ کی ترقیاتی اسکیمات، جو مالی وسائل کی کمی کے باعث رکی ہوئی ہیں، ان پر فوری طور پر کام کا دوبارہ آغاز یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو درپیش سفری مشکلات کا ازالہ ہو سکے مزید برآں، اجلاس میں ٹریفک نظام کی بہتری کے لیے مربوط اور موثر اقدامات، افغان مہاجرین کی موجودہ صورتحال، اور مدارس کی رجسٹریشن کے عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف قانونی کارروائیوں کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، اور متعلقہ اداروں کو اس ضمن میں مزید فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت دی گئی۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ فیز ون اور فیز ٹو کے تحت جاری تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ ٹائم فریم کے اندر مکمل کیے جائیں۔ ہیلتھ، ایریگیشن اور ایجوکیشن کے افسران نے اپنے اپنے محکموں میں جاری منصوبوں کی پیش رفت، درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر محمد رمضان اشتیاق نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کے لیے پرعزم ہے، اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی مزید برآں، نوجوان نسل کو منشیات جیسے ناسور سے بچانے کے لیے سخت اور موثر اقدامات کرنے، اور سیزنل بنیادوں پر ضلع میں آنے والے افراد کی کڑی نگرانی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ معاشرتی امن کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر تمام ضلعی محکموں کے سربراہان کو ہدایت جاری کی گئی کہ وہ آئندہ اجلاس میں اپنے اپنے محکموں کے جاری ترقیاتی منصوبوں کے معیار، رفتارِ کار، اور مقررہ ٹائم لائن کے حوالے سے مکمل اور جامع رپورٹ کے ساتھ شرکت کو یقینی بنائیں، تاکہ کارکردگی کا موثر جائزہ لیا جا سکے اور درپیش مسائل کا بروقت حل ممکن بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2505/2026
سبی 31 مارچ ۔ڈی آر سی میٹنگ کے سلسلے میں ٹیچنگ اسٹاف کی عارضی آسامیوں (گریڈ 09 تا 15) فیز فور کے حوالے سے اہم اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر آفس سبی کے مطابق وہ تمام امیدواران جنہوں نے فیز فور کی اسامیوں کی غیر حتمی میرٹ لسٹ کے خلاف اعتراضات جمع کروائے تھے، انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ پر ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی (ڈی آر سی) کے روبرو پیش ہوں۔ اعلامیے کے مطابق خواتین امیدواران 02 اپریل 2026 بوقت صبح 09:00 بجے کانفرنس ہال ڈپٹی کمشنر آفس سبی میں پیش ہوں گی، جبکہ مرد امیدواران اسی روز 02 اپریل 2026 بوقت دوپہر 02:00 بجے اسی مقام پر کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ صرف وہی امیدواران پیش ہوں گے جنہوں نے میرٹ لسٹ کے خلاف اعتراضات جمع کروائے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2506/2026
کوئٹہ 31مارچ ۔ آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر نے کہاہے کہ صوبے میں نجی بینکوں کی سیکورٹی نظام موثر اور منظم رکھنے کے لئے تنصیب جدید آلات کے استعمال سے ممکن ہے یہ بات انہوں نے منگل کے روز سینٹرل پولیس آفس میں بینکوں کے سیکورٹی کے انتظامات کا جائزہ کے حوالے سے منعقدہ اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی پولیس جاوید علی مہر، ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عمران شوکت ،اے آئی جی آپریشن فاضل شاہ ، ایس ایس پی کوئٹہ محمد آصف خان اور صوبائی سطح کے بینکوں کے سربراہان بھی موجود تھے اجلا س میں بینکوں میں موجود جدید آلات کے تنصیب اور موجودہ آلات کو ہر وقت استعمال سے بینکوں اور کھاتے داروں کو محفوظ بنانے پر غور و غوض ہوا۔ اجلاس میں موجود جدید تقاضوں کے سیکورٹی انتظامات کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا گیا۔ اس حوالے سے بینکاری کے سہولت اور شہریوں کی اے ٹی ایم کی سہولت کو بھی محفوظ بنانے ، موبائل گشت اور متعلقہ تھانوں کے افسران سے کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری رابطہ کے حوالے سے آگاہی دی گئی۔ اجلاس میں سی سی ٹی وی کیمروں کی فعالیت سیکورٹی گارڈ کے جدید اسلحہ کے استعمال کے حوالے سے ابتک ہونے والی پیشرفت کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق ہوا کہ سیکورٹی پر مامور تربیت یافتہ گارڈز کے معیار کے مطابق ترجیح دی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 2507/2026
سبی 31 مارچ۔ ڈی آر سی میٹنگ کے سلسلے میں ٹیچنگ اسٹاف کی عارضی آسامیوں (گریڈ 09 تا 15) فیز فور کے حوالے سے اہم اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر آفس سبی کے مطابق وہ تمام امیدواران جنہوں نے فیز فور کی اسامیوں کی غیر حتمی میرٹ لسٹ کے خلاف اعتراضات جمع کروائے تھے، انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ پر ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی (ڈی آر سی) کے روبرو پیش ہوں۔ اعلامیے کے مطابق خواتین امیدواران 02 اپریل 2026 بوقت صبح 09:00 بجے کانفرنس ہال ڈپٹی کمشنر آفس سبی میں پیش ہوں گی، جبکہ مرد امیدواران اسی روز 02 اپریل 2026 بوقت دوپہر 02:00 بجے اسی مقام پر کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ صرف وہی امیدواران پیش ہوں گے جنہوں نے میرٹ لسٹ کے خلاف اعتراضات جمع کروائے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2508/2026
جعفرآباد31مارچ۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جعفرآباد حضور بخش بگٹی، ایگزیکٹو انجینیئر بلڈنگز عرفان علی، چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن احمد نواز جتک، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عائشہ بگٹی، سب ڈویڑنل آفیسر محمد صدیق زہری سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو (بی ایس ڈی آئی) کے تحت جاری ترقیاتی اسکیموں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور مختلف محکموں کے افسران نے اپنے اپنے شعبوں میں جاری منصوبوں کی پیش رفت، درپیش مسائل اور آئندہ لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری تمام ترقیاتی اسکیموں کا معیار کے مطابق بروقت مکمل ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ ان منصوبوں کا براہ راست تعلق عوامی فلاح و بہبود سے ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام محکمے ترقیاتی کاموں میں شفافیت، رفتار اور معیار کو یقینی بنائیں جبکہ جاری منصوبوں کی کڑی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے تاکہ کوئی بھی کام ناقص یا غیر معیاری نہ ہو اور تمام اسکیمیں مقررہ وقت میں پایہ تکمیل تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی وسائل کے درست استعمال کو یقینی بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلع جعفرآباد میں ترقیاتی منصوبوں کو موثر انداز میں مکمل کرکے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2509/2026
کوئٹہ 31 مارچ۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) کوئٹہ حافظ محمد طارق کی زیر صدارت لوکل/ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے بروقت اجرا کو یقینی بنانے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعلقہ برانچ کے افسران اور اہلکاران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران لوکل / ڈومیسائل کے حوالے سے عوام کو درپیش مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے زیر التوا درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے ہدایت جاری کی کہ لوکل سرٹیفکیٹ سے متعلق تمام درخواستوں کو میرٹ، شفافیت اور قواعد و ضوابط کے مطابق جلد از جلد نمٹایا جائے تاکہ سائلین کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے مزید تاکید کی کہ متعلقہ عملے کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے اور غیر ضروری تاخیر سے مکمل اجتناب برتا جائے۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ لوکل ڈومیسائل سرٹیفکیٹ سے متعلق زیر التوا کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کے لیے موثر اور مربوط اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2510/2026
کوئٹہ 31مارچ۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی سے ہزار گنجی میں گڈز ٹرانسپورٹرز کو درپیش مسائل کے حل کے لیے آل پاکستان مزدا ٹرک گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین میر حاجی نواب مینگل کی قیادت میں نمایندہ وفد نے ملاقات کی۔ملاقات میں ہزار گنجی میں گڈز ٹرانسپورٹرز کو درپیش مسائل، جن میں روٹس کی عدم دستیابی، پارکنگ، صفائی کی ناقص صورتحال، ٹریفک مسائل، ایمبولینس سروس اور مسجد کی کمی شامل ہیں،کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر مہر اللہ بادینی نے ان کے مسائل کو غور سے سنتے ہوئے یقین دہانی کروائی کہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ترجیحی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ ٹریفک مسائل کے حل کے لیے ایس پی ٹریفک کے ساتھ مشترکہ اجلاس بھی منعقد کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2511/2026
کوئٹہ 31مارچ۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت شہر میں پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اور بلاتعطل فراہمی سے متعلق ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلعی انتظامیہ کے افسران، پٹرول پمپس مالکان اور مختلف آئل کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کوئٹہ شہر میں پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ صورتحال،ممکنہ اثرات، اور ڈیمانڈ و سپلائی کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیاکہ شہر میں تاحال پٹرول کی کوئی قلت نہیں ہے اور وافر مقدار میں دستیاب ہے۔جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں کراچی سے فوری طور پر اضافی سپلائی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔اس کے علاوہ پاکستان اسٹیٹ آئل کے ڈپو میں تقریباً تین لاکھ لیٹر پٹرول ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے، جسے ضرورت پڑنے پر فوری استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔اجلاس میں کہا گیا کہ شہر میں ایرانی تیل کی موجودگی کے باعث بھی فی الحال کسی قسم کی کمی یا بحران کا سامنا نہیں ہے۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کوئٹہ میں روزانہ تقریباً 14 لاکھ لیٹر پٹرول کی طلب ہے، جو باقاعدگی سے پوری کی جا رہی ہے، اس لیے کسی ممکنہ بحران کا اندیشہ نہیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام پٹرولیم کمپنیوں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ کم از کم ایک ہفتے کا اسٹاک اپنے پاس لازمی رکھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ضرورت پوری کی جا سکے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو سہولیات کی فراہمی اور پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے پیشگی اقدامات اٹھا رہی ہے اور شہر کے تمام پیٹرول پمپس پر پیٹرول کی دستیابی اور فراہمی جاری ہے جبکہ رش اور بحرانی کیفیت سے بروقت نمٹا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2512/2026
گوادر:31مارچ ن۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت متوقع طوفانی بارشوں کے پیشِ نظر کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ چیئرمین شیخ مختار، چیئرمین میونسپل کمیٹی گوادر ماجد جوہر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) عبدالشکور، اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر، چیئرمین میونسپل کمیٹی پسنی بابا کلمتی، چیئرمین میونسپل کمیٹی اورماڑہ محفوظ علی، چیئرمین میونسپل کمیٹی جیوانی اکرم شہزادہ، چیف آفیسرز، ایگزیکٹﺅ انجنئیرز،انجینئرز جی ڈی اے اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر نے تمام محکموں کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور ہدایت کی کہ مشینری، افرادی قوت (مین پاور)، ڈی واٹرنگ مشینز اور سکشن واٹر باوزرز ہر وقت تیار حالت میں رکھے جائیں۔ انہوں نے شہر اور مضافاتی علاقوں میں نشیبی مقامات کی نشاندہی کرتے ہوئے وہاں بارش کے پانی کی فوری نکاسی کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرنے کی سخت ہدایات جاری کیں۔ڈپٹی کمشنر نے مزید تاکید کی کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت ردِعمل کو یقینی بنانے کے لیے تمام افسران الرٹ رہیں، اپنی ڈیوٹی اسٹیشنز پر موجودگی یقینی بنائیں اور بلا ضرورت اسٹیشن چھوڑنے سے گریز کریں۔اجلاس میں عوامی تحفظ، نکاسی آب کے نظام کی بہتری اور دیگر احتیاطی تدابیر پر بھی تفصیلی غور کیا گیا تاکہ ممکنہ طوفانی بارشوں کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2513/2026
لورالا،31ما رچ ۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ سے لورالائی کے نئے تعینات ہونے والے ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) حسیب شجاع نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اسماعیل مینگل، اسسٹنٹ کمشنر بوری اکرم ندیم، اسسٹنٹ کمشنر میختر یحییٰ خان کاکڑ اور اسسٹنٹ کمشنر اسحاق ناصر بھی موجود تھے۔اس موقع پر کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) شجاع احمد کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور امید ہے کہ نئے ڈپٹی کمشنر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے ضلع میں گورننس کو مزید موثر بنائیں گے۔کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل، سرکاری امور میں شفافیت اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور ڈویڑنل انتظامیہ کے درمیان قریبی رابطہ اور موثر ہم آہنگی سے عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) حسیب شجاع نے اس موقع پر کمشنر لورالائی ولی محمد بڑیچ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور لگن کے ساتھ انجام دیں گے اور ضلع میں عوامی خدمت اور انتظامی امور کی بہتری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔یہ ملاقات باہمی مشاورت، انتظامی تعاون اور ضلع میں ترقیاتی و عوامی امور کو مزید موثر بنانے کے عزم کا اظہار ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر2514/2026
چمن 31مارچ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور اسپکر بلوچستان کیپٹن عبدالخالق اچکزئی کے وژن کی مطابق سپیشل سیکرٹری بلوچستان ایجوکیشن عبدالسلام اچکزئی ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی ڈسثرکٹ ایجوکیشن افیسر عبدالقدوس اچکزئی نے چمن خیرجان باغیچہ ہائی سکول میں ہیلتھ کیریئر سنٹر اور اسکولوں کے داخلہ مہم کے افتتاح کے موقع پر ایک سادہ مگر پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا تقریب میں مسلم لیگ ضلعی صدر حاجی عطاء اللہ خان اچکزئی ڈی ای او فیمیل عظمیٰ گیلانی یونیسف کی ضلعی افیسر جمیل کاکڑ ہیڈ ماسٹرز سینئر اساتذہ طلباء اور دیگر افسران شریک تھے اس تقریب میں انرولمنٹ مہم کا باقاعدہ آغاز بھی کیا گیا اس موقع تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن عبدالسلام نے کہا کہ یکم اپریل سے تمام تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے، اور داخلہ مہم کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہر استاد اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے بچوں کو سکول لانے میں کردار ادا کرے گا، جبکہ والدین بھی اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے انہیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں انہوں نے کہا کہ تقریباً بلوچستان بھر میں 2 لاکھ 61 ہزار طلباء وطالبات بلوچستان بھر میں سکولوں میں داخلے کی ہدف مقرر کیا گیا ہے سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن اور ڈی سی چمن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علم روشنی ہے علم ہی کی شرافت اور برکت سے انسان کو اشرف ا لمخلو قات ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور علم ہی کی وجہ سے تمام ملائکہ نے انسان کو سجدہ تعظیم کیا انہوں نے کہا کہ علم کی فیوضات افادیت برکات پر اگر لاکھوں کروڑوں کتابیں اور مکالمے لکھیں جائیں تو علم کی مکمل تعریفیں بیان نہیں کیے جا سکتے انہوں نے کہا کہ آج دنیا کو گلوبل ولیج علم ہی کی برکت کی وجہ سے کہا جاتا ہے جس نے ہزاروں سال کی مسافت کو سائنسی آلات اور مشینری کی بدولت منٹوں میں تبدیل کر دیا ہے غرضیکہ علم کے بیشمار فوائد فیوض و برکات ہیں جس کو دنیا کی کوئی آنکھ کان اور منہ نہ بیان سکتا ہے نہ مکمل طور پر دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی دل و دماغ مکمل طور تصور اور نہ ماپ کر سکتا ہے انہوں نے کہا کہ لہٰذا تمام والدین اور سرپرست اپنے بچوں کو علم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے انھیں نزدیک ترین اسکولوں میں داخل کرائیں اور انسانیت کی معراج پر پہنچنے کی سفر میں شامل ہو جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2515/2026
لورالائی 31مارچ ۔ حالیہ بارشوں کے باعث پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں پہاڑی محلہ میں ایک کچے مکان کی دیوار گرنے سے ایک بچی جاں بحق جبکہ دو بچے زخمی ہوگئے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی اسسٹنٹ کمشنر لورالائی، ندیم اکرم فوری طور پر سول ہسپتال پہنچ گئے، جہاں انہوں نے زخمی بچوں کی عیادت کی اور ان کے علاج معالجے کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں کو ہدایت جاری کی کہ زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔اسسٹنٹ کمشنر نے ہسپتال میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی موجودگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تاکید کی کہ ڈاکٹرز اور عملہ چوبیس گھنٹے مستعد رہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی یا ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ خاندان سے اظہار ہمدردی بھی کیا گیا ہے اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر 2026/2516
کوئٹہ 31 مارچ:ـحکومت بلوچستان کا صوبہ کے اسکولز کا کل سے دوبارہ کھلنے کا فیصلہ درست اقدام ہے اور صوبہ کے اہل قلم و دانش اس فیصلے کو قدر می نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار گورنمنٹ سائنس کالج کوئٹہ میں خطے میں ایران اسرائیل جنگ کے بعد پیدا ہونے والی خصوصا تعلیمی صورتحال کے پیش نظر تعلیمی سیمنار سے صوبہ کے ماہرین تعلیم و علم و دانش سے متعلقہ افراد نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں کرونا وائرس کے بعد اب اس قریبی ہمسایہ ملک ایران کے جنگ نے عالمی سطج پر کئی شعبوں کو شدید متاثر کیا جسمیں ہمارا ملک پاکستان اور خصوصا صوبہ بلوچستان کو تعلیم کے شعبے پر شدید متاثر کیا ۔ کیونکہ صوبہ بلوچستان کے مخصوص حالات ، تعلیمی اداروں کی صورتحال، انٹرنیٹ اور عوام کی معاشی لحاظ کے پیش نظر ان لائن کلاسز اور دوسرے طریقے اتنے کارآمد نہیں ثابت ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ کو علم کی روشنی سے منور کرنے میں حکومت کے ساتھ نجی شعبے میں چلنے والے ادارے بھی اہم اور فعال کردار ادا کر رہے ہیں اور ہم ہمیشہ حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ اور ہماری اپیل ہے کہ اب اس تعلیمی شیشن جسکا آغاز حکومت بلوچستان نے سب سے پہلے اس کا آغاز کردیا اسکا تسلسل رہنا چاہئے اس موقع پر پرنسپل گورنمنٹ سائنس کالج پروفیسر ڈاکٹر سراج کاکڑ، پرنسپل گورنمنٹ گرلز پوسٹ گریجویٹ کالج کوئٹہ کینٹ پروفیسر سعدیہ فاروقی، سول سوسائٹی کے نمائندوں متین اخونزادہ، زاہد مندوخیل، نظر بڑیچ اقر دیگر نے مفید تجاویز پیش کی۔
خبر نامہ نمبر 2026/2517
دکی31مارچ:ـڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان نے ناصر آباد روڈ کا تفصیلی دورہ کیا اور علاقے میں نکاسیٔ آب کے نظام کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے مختلف مقامات پر کھڑے پانی، بند نالیوں اور بارش کے پانی کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کا معائنہ کیا۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ فوری طور پر نالیوں کی صفائی اور بحالی کا عمل شروع کیا جائے تاکہ پانی کے جمع ہونے کے خطرات کم ہوں اور شہریوں کو درپیش مشکلات کا فوری ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بارش کے دوران مؤثر نکاسیٔ آب کے انتظامات نہ ہونے سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لہٰذا تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے کو یقینی بناتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں۔ڈپٹی کمشنر محمد نعیم خان نے مزید کہا کہ عوام کی سہولت، صحت اور ماحول کے تحفظ کے لیے کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ نکاسیٔ آب کے مسائل کے مستقل حل کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ آئندہ ایسی صورتحال سے بچا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/2518
گوادر31 مارچ:ـ ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی معین الرحمن خان کی سربراہی میں گوادر کے فلیگ شپ منصوبے سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ (CBD) سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبے کی پیش رفت، متوقع لانچنگ اور اس کی اسٹریٹجک اہمیت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ شاہد علی اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ نے شرکاء کو سی بی ڈی منصوبے کے مختلف تکنیکی، تجارتی اور شہری منصوبہ بندی کے پہلوؤں پر جامع بریفنگ دی۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے اس میگا منصوبے کے لیے 2585 ایکڑ اراضی مختص کی جاری ہے، جس کے فوراً بعد منصوبے کو باضابطہ طور پر لانچ کر دیا جائے گا۔ یہ منصوبہ گوادر میں معاشی، تجارتی، سیاحتی اور رئیل اسٹیٹ سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی لائے گا اور شہر کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔ڈائریکٹر جنرل معین الرحمن خان نے کہا کہ گوادر سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ، گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کا ایک کلیدی جزو ہے، جو شہر کو عالمی معیار کے جدید کاروباری اور مالیاتی مرکز میں تبدیل کرنے میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ ویسٹ بے کے مرکزی علاقے میں 2585 ایکڑ پر محیط ہوگا، جو مستقبل میں گوادر کا جدید “ڈاؤن ٹاؤن” تصور کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ علاقائی اور عالمی معاشی و تجارتی تبدیلیوں کے تناظر میں گوادر کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ گوادر اپنی جغرافیائی حیثیت، محفوظ بندرگاہ اور اسٹریٹجک لوکیشن کی بدولت مستقبل قریب میں ایک پرکشش، محفوظ اور مؤثر عالمی تجارتی، لاجسٹکس اور شپمنٹ حب کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ایسے میں سی بی ڈی منصوبے کی لانچنگ نہ صرف بروقت بلکہ ایک اسٹریٹجک فیصلہ ثابت ہوگی، جو عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرے گی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ سی بی ڈی میں جدید کاروباری دفاتر، عالمی معیار کے ہوٹلز، رہائشی اپارٹمنٹس، شاپنگ سینٹرز، کانفرنس ہالز، کلچرل سنٹرز اور جدید پبلک اسپیسز قائم کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹریفک مینجمنٹ، پارکنگ، واکنگ ٹریکس، سائیکلنگ روٹس اور جدید پبلک ٹرانسپورٹ سہولیات بھی منصوبے کا حصہ ہوں گی۔منصوبے میں ایمیوزمنٹ پارکس، آرٹ اینڈ کلچر میوزیم، گرینڈ تھیٹر، لائبریری، انٹرنیشنل ایکسپو سینٹر، گوادر ٹاور، مرینا پارک اور سی سائیڈ ریزورٹس جیسے اہم منصوبے شامل ہیں، جو نہ صرف شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کریں گے بلکہ سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔اجلاس میں منصوبے کے بزنس ماڈل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، جس کے تحت زمین کی فروخت، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) اور جوائنٹ وینچرز (JV) کے ذریعے سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا۔ منصوبے کی ترقی مرحلہ وار تقریباً 8 سال میں مکمل کی جائے گی، جس میں ابتدائی طور پر بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ڈائریکٹر جنرل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سی بی ڈی منصوبہ گوادر کو عالمی سطح کے سرمایہ کاری اور کاروباری مرکز میں تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے گا اور شہر کی پائیدار ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمن خان کی سربراہی میں ادارے کو مالی طور پر خود کفیل بنانے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ریونیو، فیس کلیکشن اور آمدن بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ڈی جی جی ڈی اے نے کہا کہ گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کے تحت شہر کو عالمی معیار پر استوار کرنے کے لیے تمام امور کو باقاعدہ بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی، این او سی کا حصول اور قواعد و ضوابط کی پابندی کو یقینی بنائیں۔اجلاس میں ریونیو بڑھانے کے لیے نئی ہاؤسنگ اسکیم، سمیت امدن کے نئے مواقع اور سیاحت کے فروغ کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/2519
نصیرآباد 31 مارچ:ـایس پی اُستامحمد حافظ معاذ الرحمٰن نے کہا ہے کہ ان کی ضلع اُستامحمد میں تعیناتی حال ہی میں عمل میں آئی ہے اور وہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضلع بھر میں امن و امان کے قیام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں
انہوں نے مزید کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں اور ایسے افراد کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں جو بھی شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے گا، اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویژنل انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نصیرآباد ڈویژن نیک محمد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز بھی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کامیاب اور مؤثر کارروائیاں عمل میں لائی گئی ہیں، جن کا مقصد علاقے میں امن کو یقینی بنانا ہےایس پی اُستامحمد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسی کو بھی ہرگز قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا اور ان کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/2520
تربت31مارچ:.ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی سے ڈی ایچ او کیچ ڈاکٹر عبدالرؤف بلوچ اور چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن تربت شعیب ناصر نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے ملک ریحان دشتی اور سینیٹری انسپکٹر حبیب جالب بھی موجود تھے۔ملاقاتوں کے دوران ضلع کیچ بالخصوص تربت شہر میں ڈینگی وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تفصیلی غور کیا گیا اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی صحت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر انسدادِ ڈینگی مہم شروع کی جائے۔ انہوں نے ڈی ایچ او کیچ اور میونسپل کارپوریشن تربت کو مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ پورے ضلع کیچ میں مؤثر طریقے سے اسپرے کیا جائے اور تربت شہر کے جن علاقوں میں پانی کھڑا ہو اسے فوری طور پر ختم کرنے کے انتظامات کیے جائیں تاکہ ڈینگی مچھر کی افزائش کو روکا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور مکمل ذمہ داری کے ساتھ اقدامات کو یقینی بنائیں تاکہ ڈینگی کے پھیلاؤ کو بروقت کنٹرول کیا جا سکے اور عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا جاسکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/2521
تربت 31 مارچ:ـ یونیورسٹی آف تربت میں تمام تعلیمی سرگرمیاں بشمول فزیکل کلاسز یکم اپریل 2026 سے بحال کر دی جائیں گی۔تربت یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق تمام طلبہ، اساتذہ کرام اور انتظامی عملے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یکم اپریل 2026 سے معمول کے شیڈول کے مطابق یونیورسٹی میں اپنی حاضری یقینی بنائیں۔ یونیورسٹی ترجمان کے مطابق یونیورسٹی کی ٹرانسپورٹ سروس بھی یکم اپریل سے اپنے مقررہ روٹس اور اوقات کے مطابق بحال کر دی جائے گی۔

خبر نامہ نمبر2522/2026
کوئٹہ31 مارچ:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت قومی کفایت شعاری اقدامات سے متعلق صوبائی حکومت کی اتحادی اور پارلیمانی جماعتوں کے لیڈرز اور اپوزیشن اراکین اسمبلی کا اہم مشاورتی اجلاس منگل کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا اجلاس میں موجودہ ملکی و عالمی صورتحال کے تناظر میں بلوچستان کی آئندہ حکمت عملی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اجلاس میں اتحادی و پارلیمانی جماعتوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے وفاقی حکومت کی رہنمائی میں صوبے میں کفایت شعاری اقدامات کے عملی نفاذ پر جامع مشاورت کی اور اعتماد میں لیا اجلاس میں شریک تمام جماعتوں نے صوبے میں مؤثر اور مربوط اقدامات پر مکمل اتفاق کیا وزیر اعلیٰ نے پیٹرولیم مصنوعات اور دستیاب وسائل کے دانشمندانہ استعمال، غیر ضروری اخراجات میں کمی، اور عوامی وسائل کے تحفظ پر خصوصی زور دیا اجلاس میں تمام پارلیمانی جماعتوں نے بدلتی ہوئی صورتحال میں بروقت اور مؤثر فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور مشترکہ مشاورت کے ذریعے درپیش چیلنجز سے نمٹنے، صوبے میں معاشی استحکام اور غریب طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مثبت اور قابل عمل اقدامات پر اتفاق ہوا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ تمام جماعتوں کا اتفاقِ رائے موجودہ صورتحال پر سنجیدگی اور مشترکہ ذمہ داری کا واضح مظہر ہے انہوں نے کہا کہ درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے بلوچستان میں صوبائی سطح پر بھی قابل عمل اور مؤثر حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے عالمی و خطے کے موجودہ حالات میں مہنگائی کے طوفان کے دوران غریب طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات تجویز کئے جاررہے ہیں جس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع، نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، اے این پی کے پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی، پاکستان پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر میر محمد صادق عمرانی، میر ظہور بلیدی، پاکستان مسلم لیگ کے میر شعیب نوشیروانی، میر عاصم کرد گیلو، میر برکت رند، بلوچستان عوامی پارٹی کے ترجمان و صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو، جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر میر عبدالمجید بادینی، ویڈیو لنک پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن میر جہانزیب مینگل، مولانا ہدایت الرحمن شریک ہوئے اعلیٰ حکام میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی زاہد سلیم، پرنسپل سیکرٹری عمران زرکون، اور سیکرٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ سید فیصل آغا نے اجلاس میں شرکت کی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کفایت شعاری اقدامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبائی حکومت تمام اقدامات کو شفافیت، ذمہ داری اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی شکل دے گی تاکہ معاشی استحکام اور عام عوام خصوصاً غریب طبقات کی بھلائی اور عملی ریلیف یقینی بنائی جا سکے.
خبر نامہ نمبر2523/2026
موسیٰ خیل31 مارچ:۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت ڈپٹی کمشنر دفتر میں ڈسٹرکٹ لیول ویری فیکیشن کمیٹی (DLVC) کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ممبران سمیت متعلقہ اداروں کے آفیسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران بلاک شدہ شناختی کارڈز کے حوالے سے مختلف کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور متعدد سائلین ذاتی طور پر کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے۔ ڈپٹی کمشنر نے سائلین کے بیانات قلمبند کیے اور ان کے فراہم کردہ دستاویزات کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ بلاک شدہ شناختی کارڈز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ہمارا مقصد شفافیت کو برقرار رکھتے ہوئے حقدار شہریوں کو ان کا قانونی حق فراہم کرنا ہے تاکہ انہیں روزمرہ کے معاملات اور حکومتی سہولیات کے حصول میں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام کیسز کا فیصلہ میرٹ اور قانون کے مطابق جلد از جلد کیا جائے تاکہ عوام کو بار بار دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں اجلاس کے اختتام پر کئی کیسز کی تصدیق کے بعد انہیں بحالی کے لیے اگلے مرحلے پر بھیجنے کی سفارشات مرتب کی گئیں۔
خبر نامہ نمبر2524/2026
لورالائی 31مارچ:۔حالیہ بارشوں کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں شدید مشکلات پیدا ہوئی ہیں، لیکن کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ اور ڈپٹی کمشنر محمد حسیب شجاع کے احکامات اور میونسپل کمیٹی کے چیئرمین محمد طاہر ناصر اور چیف آفیسر محب اللہ بلوچ کی فوری ہدایات پر میونسپل کمیٹی کا عملہ تیسرے دن بھی ہنگامی صفائی مہم میں مصروف ہے۔میونسپل کمیٹی کا عملہ دستیاب مشینری کے ذریعے بند نالیوں کو کھولنے، کچرے کو ٹھکانے لگانے اور گلیوں کی صفائی میں مصروف ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ایکسیویٹر، ٹریکٹر، ٹرالی، کیری اور دیگر مشینری کے ذریعے صفائی کا کام مسلسل جاری ہے تاکہ شہری زندگی متاثر نہ ہو باران عجب زون: ڈاکٹر سعادت گلی اور ژوب روڈ کی نالیوں کی مکمل صفائی کی گئی۔مرغی خانہ محلہ میں کچرے کی صفائی مکمل، محلے کے لوگ خوش اور مطمئن۔سوزوکی بائی پاس ندی: شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے صفائی کی گئی، جس پر محلے کے عوام نے میونسپل کمیٹی کا شکریہ ادا کیا۔پہاڑی محلہ گمبیلا سکول کے قریب ایک پرانی کنڈر کی دیوار گرنے سے ایک معصوم بچی جاں بحق ہوئی۔ حادثے کے بعد میونسپل کمیٹی نے فوری طور پر تمام پرانی اور خطرناک دیواروں کو گرا کر حفاظتی اقدامات کیے، جس پر محلے کے لوگوں نے میونسپل کمیٹی کا شکریہ ادا کیا۔شہری انتظامیہ کے مطابق، بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال میں تیز رفتار صفائی مہم شہریوں کی حفاظت اور صحت کے لیے انتہائی ضروری تھی۔ میونسپل کمیٹی کے عملے کی مسلسل محنت سے شہر کی صفائی ستھرائی بہتر ہوئی ہے۔میونسپل کمیٹی نے شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ کچرا نزدیکی ٹب یا کچرا دان میں پھینکیں اور نالیوں میں ہرگز نہ ڈالیں تاکہ شہر صاف اور محفوظ رہ سکے۔

خبر نامہ نمبر2525/2026
کوئٹہ 31مارچ:۔چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی محکموں کی اگلے مالی سال 2026-27 کے لیے تفصیلی منصوبہ بندی کا جائزہ لیا گیا اور نئے اہداف کا تعین کیا۔ چیف سیکرٹری بلوچستان نے تمام صوبائی محکموں کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگلے سال کے پلان میں صرف نئی عمارتیں بنانا کافی نہیں بلکہ موجودہ وسائل سے عوام کو ریلیف دینا اصل ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ترقیاتی بجٹ (Non-Development Budget)” کو صرف دفتری اخراجات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے براہِ راست عوامی مفاد اور سروس ڈیلیوری کے لیے بھی استعمال میں لایا جائے۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ تمام محکمے اپنے منصوبوں کو صوبائی ترقیاتی فریم ورک سے ہم آہنگ کریں تاکہ وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جاسکے۔ اجلاس میں اہم شعبوں کی منصوبہ بندی صحت کا شعبہ، بچوں کے سکولوں میں داخلہ میں اضافہ، زراعت، ٹرانسپورٹ، ایری گیشن، لائیو سٹاک، فشریز، ماحولیات، کلچر و ٹورازم سمیت دیگر محکموں کے منصوبہ بندی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری لانے کے لیے گڈ گورننس روڈ میپ کو سختی سے نافذ کیا جائے گا۔ اجلاس بلوچستان کی مجموعی ترقیاتی حکمت عملی کا حصہ ہے جو وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبے کو خوشحال بنانے کی سمت میں اہم قدم ہے۔ اجلاس میں ایس ایم بی آر، چیئرمین سی ایم آئی ٹی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ سمیت تمام سیکرٹریز نے شرکت کی۔
خبر نامہ نمبر2526/2026
زیارت31 مارچ:۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی کی زیر صدارت حالیہ اور ممکنہ شدید بارشوں کے پیشِ نظر ضلع زیارت میں ڈیموں کے تحفظ کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایکسین ایریگیشن عمیر علی، اسسٹنٹ کمشنر زیارت سجادالرحمان کوڑو اور ایس ڈی او ایریگیشن نصیر احمد نے شرکت کی۔ اس موقع پر چیئرمین میونسپل کمیٹی سنجاوی حاجی خان محمد دومڑ، ملک محمد غوث پانیزئی اور چیئرمین یونین کونسل کاژہ حاجی نصرالدین ترین بھی موجود تھے۔اجلاس کے دوران پیچی ڈیم میں پانی کی سطح میں اضافے کے باعث اس کے تحفظ کو یقینی بنانے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر ایکسین ایریگیشن نے ڈیموں کی موجودہ حالت اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے ہدایت دی کہ ڈیموں کو محفوظ بنانے کے لیے مؤثر اور جامع اقدامات کیے جائیں، اور کسی بھی قسم کی کمی کو بروقت دور کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ پیچی ڈیم میں پانی اور مٹی کی وافر مقدار جمع ہونے سے زمینداروں کو نمایاں فائدہ حاصل ہوگا۔

خبر نامہ نمبر2527/2026
موسی خیل 31 مارچ:۔ڈپٹی کمشنر دفتر موسیٰ خیل میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی کی زیرصدارت ویکسینیٹرز کے لیے دو روزہ RED/REC مائیکرو پلاننگ ٹریننگ (بیچ-1) کامیابی کے ساتھ منعقد کی گئی اس تربیتی سیشن میں بطور ٹرینر پیر محمد اور ایم اینڈ ای آفیسر عبدالرؤف جعفر نے شرکت کی جنہوں نے نہایت محنت اور پیشہ ورانہ انداز میں شرکاء کی رہنمائی کی اس ٹریننگ کا بنیادی مقصد روٹین امیونائزیشن کو مزید مؤثر بنانا اور فیلڈ لیول پر مائیکرو پلاننگ کو مضبوط کرنا تھا جس سے ٹریننگ کی اہمیت اور سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے ٹریننگ میں ویکسینیٹرز کے ساتھ ساتھ IHHN کے کوارڈینیٹر مجیب الرحمٰن، DSV گل داد جعفر اور ASV شیرزمان نے شرکت کی۔ تمام شرکاء نے ہر بچے تک حفاظتی ٹیکوں کی بروقت رسائی کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا یہ تربیتی اقدام ایک صحت مند معاشرے کی جانب اہم قدم ہے، جہاں ہر بچہ محفوظ اور صحت مند مستقبل پا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *