خبرنامہ نمبر 3369/2026
موسیٰ خیل۔30مارچ ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کی ہدایات کی روشنی میں ماہِ رمضان المبارک کے دوران مستحقین میں راشن کی تقسیم نہایت شفاف انداز میں مکمل کی گئی، جس نے ضلع بھر میں ایک مثال قائم کی ہے۔اپنے جاری کردہ سرکاری بیان میں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے راشن کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے اور اس عمل میں شفافیت کو اولین ترجیح دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ایک شخص کی جانب سے دانستہ طور پر ضلعی انتظامیہ موسیٰ خیل پر بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن کی وضاحت ضروری ہے۔ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے واضح کیا کہ راشن کی تقسیم کے حوالے سے لگائے گئے غیر منصفانہ تقسیم کے الزامات حقائق کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے پاس اس ضمن میں کوئی ٹھوس شواہد موجود ہیں تو وہ ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کیے جائیں تاکہ شفاف تحقیقات کے بعد ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ کے خلاف من گھڑت اور بے بنیاد بیان بازی سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس سے نہ صرف عوام میں بے چینی پھیلتی ہے بلکہ سرکاری اقدامات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی خدمت اور شفافیت کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر3370/2026
بارکھان 30 مارچ۔ڈپٹی کمشنر عبداللہ کھوسہ نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال بارکھان کا اچانک دورہ کرتے ہوئے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا۔ دورے کے دوران ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر مسعود نے انہیں ہسپتال کی مجموعی کارکردگی، سہولیات اور درپیش مسائل کے حوالے سے بریفنگ دی۔
ڈپٹی کمشنر نے ایم ایس ڈی اسٹور، ڈائلیسز یونٹ اور او پی ڈی سمیت مختلف وارڈز کا جائزہ لیا اور وہاں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا خود معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مریضوں اور ان کے لواحقین سے بھی بات چیت کی اور ان سے دستیاب سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔ڈی سی عبداللہ کھوسہ نے ہسپتال میں صفائی کی ناقص صورتحال پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ عملے کو فوری طور پر صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہسپتال میں صفائی ستھرائی کسی صورت نظر انداز نہیں کی جائے گی اور اس حوالے سے غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت دی کہ تمام بیڈز پر صاف ستھری چادروں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور جہاں میٹرس کی کمی ہے اسے فوری طور پر پورا کیا جائے تاکہ مریضوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنی کارکردگی مزید بہتر بنائے اور مریضوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر3371/2026
بارکھان۔30 مارچ.ڈپٹی کمشنر عبداللہ کھوسہ نے بی ایس ڈی آئی اسکیم کے تحت گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول اعظم جان شالمانی گدائی میں نصب کیے گئے سولر سسٹم کا تفصیلی معائنہ کیا۔چونکہ اس وقت اسکول میں چھٹیاں جاری ہیں، اس لیے تدریسی سرگرمیاں معطل تھیں، تاہم ڈپٹی کمشنر نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سولر سسٹم کی تنصیب اور اس کے معیار کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے سولر پینلز، بیٹری اور وائرنگ کے نظام کو چیک کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کام کو مقررہ معیار کے مطابق جلد مکمل کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ چھٹیوں کے دوران ایسے ترقیاتی کاموں کی تکمیل نہایت ضروری ہے تاکہ اسکول کھلنے پر طالبات کو بلا تعطل بجلی کی سہولت میسر ہو اور تعلیمی ماحول مزید بہتر بنایا جا سکے۔اس موقع پر ایس ڈی او لوکل گورنمنٹ ایاز ترین بھی ان کے ہمراہ موجود تھے، جبکہ انہوں نے متعلقہ افسران کو سولر سسٹم کی مستقل دیکھ بھال اور نگرانی یقینی بنانے کی بھی ہدایات جاری کیں۔
…
خبرنامہ نمبر3372/2026
لورالائی 30مارچ ۔ تعلیمی نظام کی بہتری کیلئے سخت اقدامات، غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی کا حکم ۔لورالائی میں ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نور علی، سینئر اکاؤنٹس آفیسر محمد زبیر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالحمید ابڑو، ڈسٹرکٹ منیجر ایجوکیشن عبید ترین، ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ کوآرڈینیٹر آر ٹی ایس ایم محمد خان، ڈی ڈی ای او میل طارق احمد، ڈی او ای فیمل فوزیہ درانی اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔اجلاس کے دوران ضلع بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی، اساتذہ کی حاضری اور تعلیمی معیار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ کوآرڈینیٹر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران 200 اسکولوں کے دورے کیے گئے، جن میں سے 40 اسکول بند پائے گئے، جس کی بڑی وجہ اساتذہ کی غیر حاضری تھی۔ڈپٹی کمشنر نے اس صورتحال پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ جن اساتذہ کی غفلت کے باعث اسکول بند پائے گئے، ان کی تنخواہوں سے 15 دن کی کٹوتی کی جائے اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعلیم کے شعبے میں کسی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالحمید ابڑو نے اجلاس کو تعلیمی اداروں کی مجموعی کارکردگی، درپیش مسائل اور اصلاحی اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے اور تدریسی عمل کو بہتر بنانے کیلئے مختلف اقدامات جاری ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت دی کہ تمام اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری ہر صورت یقینی بنائی جائے اور تعلیمی سرگرمیوں کو فعال رکھا جائے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔مزید پیش رفت اور فیصلےاجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ:اسکولوں کی باقاعدہ مانیٹرنگ کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔بائیو میٹرک حاضری نظام کو مرحلہ وار فعال کیا جائے گا۔
غیر فعال اسکولوں کو فوری طور پر فعال بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے۔تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کیلئے اساتذہ کی تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے گا۔مزید برآں، ڈپٹی کمشنر نے اعلان کیا کہ جلد ہی ضلع بھر کے تعلیمی اداروں کا اچانک دورہ کیا جائے گا تاکہ زمینی حقائق کا جائزہ لیا جا سکے اور بہتری کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ لورالائی میں تعلیمی نظام کو بہتر بنا کر طلبہ کو معیاری اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم فراہم کی جائے گی۔
۔۔۔
خبر نامہ نمبر 3373/2026
لورالائی (30 مارچ ۔ حالیہ موسلا دھار بارشوں کے باعث لورالائی میں ہنگامی صورتحال پیدا ہونے پر ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن ریٹائرڈ محمد حسیب شجاع نے شہر بھر میں جاری حالات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے صفائی کے نظام، ایم ایم ڈی کے بلڈوزر مشینری اور محکمہ ایریگیشن کے مختلف ڈیموں کا معائنہ کیا۔ڈپٹی کمشنر نے لورالائی ٹیچنگ اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کا بھی دورہ کیا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اقدامات ممکن ہوں۔ انہوں نے متعلقہ افسروں کو ہدایت دی کہ بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر کسی بھی افسر کی چھٹی نہیں ہوگی اور تمام افسران اپنی تعیناتی پر موجود رہیں۔
اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اسماعیل مینگل، اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم، ایم ایم ڈی کے ایکسین محمد گل خروٹی، ایس ڈی او ایریگیشن اکرام اللہ سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور خطرناک علاقوں یا پکنک پوائنٹس پر نہ جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام متعلقہ محکمے الرٹ رہیں اور اگر کسی ہنگامی صورتحال کا سامنا ہو تو فوری اطلاع دی جائے تاکہ بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔ محکمہ موسمیات نے اگلے دو دنوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، جس کے پیش نظر لورالائی میں انتظامیہ نے ہر قسم کی ہنگامی تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کم از کم خطرناک راستوں سے گزرنے کی کوشش کریں اور پانی جمع ہونے والے علاقوں سے دور رہیں۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 3374/2026
کوئٹہ 30مارچ۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت شہر میں موجودہ حالات کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی سے متعلق ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی، اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو) کوئٹہ ڈویژن بہادر خان کاکڑ، پٹرول پمپس مالکان اور مختلف آئل کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کوئٹہ شہر میں پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ صورتحال، اسمارٹ لاک ڈاؤن کے ممکنہ اثرات، اور ڈیمانڈ و سپلائی کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شہر میں تاحال پٹرول کی کوئی قلت نہیں ہے اور وافر مقدار میں دستیاب ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں کراچی سے ایک سے دو روز کے اندر اضافی سپلائی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کے ڈپو میں تقریباً تین لاکھ لیٹر پٹرول ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے، جسے ضرورت پڑنے پر فوری استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ شہر میں ایرانی تیل کی موجودگی کے باعث بھی فی الحال کسی قسم کی کمی کا سامنا نہیں ہے۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کوئٹہ میں روزانہ تقریباً 14 لاکھ لیٹر پٹرول کی طلب ہے، جو باقاعدگی سے پوری کی جا رہی ہے، اس لیے کسی ممکنہ بحران کا اندیشہ نہیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام پٹرولیم کمپنیوں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ کم از کم ایک ہفتے کا اسٹاک اپنے پاس لازمی رکھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ضرورت پوری کی جا سکے۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی کہ وہ پٹرولیم کمپنیوں کے ساتھ علیحدہ اجلاس منعقد کرکے سپلائی، ذخیرہ کرنے کی گنجائش، ایڈوانس اسٹاک اور ڈپوز کی صورتحال سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔اس موقع پر کمشنر شاہزیب خان کاکڑ نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو سہولیات کی فراہمی اور پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی کو ہر صورت یقینی بنائے گی، اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات مکمل رکھے جائیں گے۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر3375/2026
کوئٹہ 30مارچ ۔چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت نئے تعلیمی سال میں بچوں کے اسکولوں میں داخلہ مہم کے حوالے سےایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبے بھر میں سکولوں میں طلبہ کے داخلوں میں اضافہ، سکول سے باہر بچوں کو تعلیمی دھارے میں شامل کرنے اور ڈراپ آؤٹ ریٹ میں کمی لانے کے حوالے سے مختلف تجاویز اور حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری تعلیم لعل جان جعفر، سپیشل سیکرٹری سکولز عبدالسلام اچکزئی و دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران چیف سیکرٹری نے اس امر پر زور دیا کہ ایسے بچے جو کسی وجہ سے سکول نہیں جا پا رہے ہیں، انہیں تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔چیف سیکرٹری نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بالخصوص دیہی اور دور دراز علاقوں میں سکول داخلہ مہم کو مزید مؤثر اور تیز بنایا جائے تاکہ کوئی بھی بچہ تعلیم کے حق سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں میں داخلہ مہم کو ایک باقاعدہ مہم کے طور پر چلایا جائے اور ہر سطح پر اس کی نگرانی کی جائے۔ چیف سیکرٹری نے واضح کیا کہ یہ مہم صوبے کے پسماندہ علاقوں میں تعلیم سے محروم بچوں کو تعلیمی شمولیت کا موقع فراہم کرنے کے لیے شروع کی جا رہی ہے۔ اجلاس کے دوران سیکرٹری سکولز نے صوبے کی تعلیمی صورتحال، سکول سے باہر بچوں کے اعداد و شمار اور گزشتہ سال کی داخلہ مہم کی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سال انرولمنٹ مہم 2026 ایک صوبہ بھر میں شروع کیا گیا ہے جس کا آغاز محکمہ سکول ایجوکیشن نے کیا ہے۔ جس کا مقصد ہر بچے کو تعلیم تک رسائی حاصل ہو اور محکمہ نے 2026 کے لیے 261,012 بچوں کے صوبائی اندراج کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ گزشتہ برس 2 لاکھ 37 ہزار کا ہدف کامیابی سے ممکن بنایا گیا۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری نے داخلہ مہم کو کامیاب بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر بھی غور کیا گیا جن میں آگاہی مہم کا انعقاد، مساجد کے ذریعے اعلانات، مقامی میڈیا کے ذریعے تشہیر، والدین سے براہ راست رابطہ اور سکولوں میں نئے داخل ہونے والے طلبہ کے لیے خصوصی ویلکم سرگرمیوں کا اہتمام شامل ہیں۔اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ تعلیم اور منتخب عوامی نمائندے مل کر سکول داخلہ مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ وزیر اعلیٰ کے ویژن کے مطابق تعلیم کے فروغ کو یقینی بنانے کے لئے تعلیمی اداروں کو فعال بنانے اور اساتذہ کی استعداد کار کو بڑھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ طلباء کو تعلیمی اداروں میں تعلیم کے حصول کیلیے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر داخلہ مہم شروع کی ہے۔
۔۔۔
خبرنامہ 3375/2026
لورالائی 30 مارچ ۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نور علی، سینئر اکاؤنٹس آفیسر محمد زبیر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالحمید ابڑو، ڈسٹرکٹ منیجر ایجوکیشن عبید ترین، ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ کوآرڈینیٹر آر ٹی ایس ایم محمد خان، ڈی ڈی ای او میل طارق احمد، ڈی او ای فیمیل فوزیہ درانی سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔اجلاس کے دوران ضلع بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی، اساتذہ کی حاضری اور تعلیمی معیار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ کوآرڈینیٹر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران 200 اسکولوں کے دورے کیے گئے، جن میں سے 40 اسکول بند پائے گئے، جس کی بڑی وجہ اساتذہ کی غیر حاضری تھی۔
اس صورتحال پر ڈپٹی کمشنر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ جن اساتذہ کی غفلت کے باعث اسکول بند پائے گئے ہیں، ان کی تنخواہوں سے 15 دن کی کٹوتی کی جائے اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعلیم کے شعبے میں کسی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالحمید ابڑو نے اجلاس کو تعلیمی اداروں کی مجموعی کارکردگی، درپیش مسائل اور اصلاحی اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے اور تدریسی عمل کو بہتر بنانے کیلئے مختلف اقدامات جاری ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت دی کہ تمام اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری ہر صورت یقینی بنائی جائے اور تعلیمی سرگرمیوں کو فعال رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔اجلاس میں مزید فیصلہ کیا گیا کہ اسکولوں کی باقاعدہ مانیٹرنگ کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی، بائیو میٹرک حاضری نظام کو مرحلہ وار فعال کیا جائے گا جبکہ غیر فعال اسکولوں کو فوری طور پر فعال بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کیلئے اساتذہ کی تربیتی ورکشاپس کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر نے اعلان کیا کہ جلد ہی ضلع بھر کے تعلیمی اداروں کے اچانک دورے کیے جائیں گے تاکہ زمینی حقائق کا جائزہ لے کر بہتری کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ لورالائی میں تعلیمی نظام کو بہتر بنا کر طلبہ کو معیاری اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم فراہم کی جائے گی۔
۔۔۔
خبرنامہ3376/2026
30 مارچ۔ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسو نے آج ڈی ایچ کیو ہسپتال بارکھان کا تفصیلی دورہ کیا اور ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرتے ہوئے وہاں مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے ایمرجنسی وارڈ، او پی ڈی، ادویات کے اسٹور اور دیگر اہم شعبوں کا دورہ کیا اور ہسپتال میں موجود مریضوں اور ان کے لواحقین سے ملاقات کر کے علاج معالجے سے متعلق سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ مریضوں کو بہترین، بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں صفائی ستھرائی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو صاف اور بہتر ماحول میسر آ سکے۔انہوں نے ہسپتال میں ادویات کی دستیابی، طبی آلات کی حالت اور عملے کی حاضری کو بھی چیک کیا اور اس بات پر زور دیا کہ تمام ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر عملہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری اور فرض شناسی کے ساتھ انجام دیں۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
اس موقع پر ہسپتال انتظامیہ اور متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے جنہوں نے ڈپٹی کمشنر کو ہسپتال کی کارکردگی اور دستیاب سہولیات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
۔۔۔
خبر نامہ نمبر 3377/2026
لورالائی، 30 مارچ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے صحت کے وژن کے تحت ضلعی انتظامیہ لورالائی کی جانب سے طبی سہولیات کی بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل نے ٹیچنگ ہسپتال لورالائی کا تفصیلی دورہ کیا۔
دورے کے دوران میڈیکل سپرنٹنڈنٹ محمد انور مندوخیل بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات، وارڈز اور ایمرجنسی یونٹ کا معائنہ کیا اور زیر علاج مریضوں کی عیادت کرتے ہوئے انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ صفائی کے نظام کو مزید بہتر بنانے، ادویات کی دستیابی برقرار رکھنے اور طبی عملے کی حاضری یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔محمد اسماعیل مینگل نے واضح کیا کہ ڈیوٹی سے غیر حاضری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور شکایات کی صورت میں متعلقہ عملے کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس موقع پر ہسپتال عملے نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں گے اور مریضوں کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔
دریں اثنا، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہسپتال میں سہولیات کی بہتری کے لیے ایک جامع پلان بھی ترتیب دیا جا رہا ہے، جس کے تحت جدید طبی آلات کی فراہمی، لیبارٹری سروسز کی اپ گریڈیشن اور ایمرجنسی سروسز کو مزید فعال بنانے پر کام کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق جلد ہی ماہر ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے نئی بھرتیوں کا عمل بھی متوقع ہے، جس سے علاقے کے عوام کو بہتر طبی سہولیات میسر آئیں گی۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 3381/2026
کوئٹہ30 مارچ: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈز (پی پی اے ایف) صوبہ بلوچستان میں غریب اور کمزور کمیونیٹیز بالخصوص دیہی علاقوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ہے۔ لوگوں کو غربت سے بازیافت کرنے میں مدد کیلئے وسائل اور خدمات تک رسائی فراہم کرنے والی تمام کوششیں خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ اسکے علاوہ صوبہ میں زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبوں میں ویلیو چینز اور مارکیٹ روابط کو بہتر بنانے کے بہت مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے پی پی اے ایف پر زور دیا کہ وہ صوبہ کے دورافتادہ اور پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی میں تعاون فراہم کریں تاکہ غربت اور پسماندگی کے خاتمہ ممکن ہو سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان پاورٹی ایلیوشن فنڈز کے صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر عبد الرحمٰن خان سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین لائیو سٹاک کیلئے زیادہ سودمند ہے اور مالداری سے ہماری کل آبادی کے ایک بڑے حصے کی روزی روٹی لائیو سٹاک سے وابستہ ہے لیکن پچھلے کئی عشروں سے بارشوں کی کمی اور خشک سالی کی وجہ سے مجموعی طور پر لائیو سٹاک کو بہت نقصان پہنچا ہے. انہوں نے کہا کہ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں پورے سیارہ زمین کے اوسط درجہ حرارت میں بتدریج اضافے اور رونما ہونے والے نقصاندہ پہلوؤں کی بڑی ذمہ داریاں ترقی یافتہ صعنتی ممالک پر عائد ہوتی ہیں لیکن ان کے منفی اثرات دنیابھر کے تمام ممالک پر مرتب ہو رہے ہیں.
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 3378/2026
تربت 30مارچ۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیرِ صدارت ٹیچنگ ہسپتال تربت میں ڈاکٹروں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پرنسپل مکران میڈیکل کالج ڈاکٹر افضل خالق، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر وحید بلیدی اور دیگر سینئر ڈاکٹرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں ہسپتال کی مجموعی کارکردگی اور طبی سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر نے عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے ایمرجنسی سروسز کو چوبیس گھنٹے فعال رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے ہسپتال میں صفائی ستھرائی کی بہتری اور مریضوں کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کو بھی ناگزیر قرار دیا۔اجلاس کے دوران غیر حاضر عملے کے خلاف ضابطہ کے مطابق کارروائی، خالی آسامیوں کو جلد پُر کرنے اور ڈیوٹی روسٹر کو باقاعدگی سے شیئر کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ نظم و ضبط کو برقرار رکھا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ ڈاکٹرز کی ہسپتال میں بروقت موجودگی یقینی بنائی جائے تاکہ مریضوں کو فوری اور بہتر طبی سہولیات میسر آ سکیں۔
اجلاس کے اختتام پر ڈاکٹرز نے ہسپتال کی بہتری کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں، جن پر عملدرآمد کے لیے انتظامیہ نے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی مؤثر نگرانی اور عوام دوست اقدامات سے ضلع میں صحت کے شعبے میں مزید بہتری آئے گی، جو ایک خوش آئند پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 3379/2026
تربت 30مارچ۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی سے یونین کونسل بل نگور اور دشت کے چیئرمینز و کونسلرز پر مشتمل ایک وفد نے ڈسٹرکٹ کونسل کیچ کے وائس چیئرمین میر باہڈ جمیل دشتی کی سربراہی میں ملاقات کی۔ اس موقع پر پی ڈی ایم اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ملک ریحان دشتی بھی موجود تھے۔وفد نے حالیہ بارشوں کے دوران بل نگور اور دشت میں بروقت امدادی اقدامات اور مشینری کی فراہمی پر ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی فوری کارروائی سے عوام کو ممکنہ بڑے نقصانات سے بچایا گیا اور صورتحال کو سنگین ہونے سے روکا گیا۔وفد نے مطالبہ کیا کہ بل نگور، کاشاپ اور بگدر سمیت متاثرہ علاقوں میں جاری مرمتی کاموں کے لیے مشینری کو مزید کچھ عرصہ برقرار رکھا جائے تاکہ حفاظتی بندات اور پشتوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ متاثرین کے لیے مزید امدادی سہولیات فراہم کرنے کی درخواست بھی کی گئی۔
ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نے وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت اطلاع کی فراہمی نہایت ضروری ہے تاکہ فوری ردعمل ممکن بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید ہدایت دی کہ پی ڈی ایم اے متاثرہ علاقوں کا فوری سروے مکمل کرکے امدادی سرگرمیوں کو تیز کرے، جبکہ انتظامیہ کی مشینری ضرورت برقرار رہنے تک متاثرہ علاقوں میں موجود رہے گی تاکہ بحالی کے کام بلا تعطل جاری رہیں۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر3380/2026
تربت30مارچ۔ یونیورسٹی آف تربت کے احاطے میں واقع یونیورسٹی ماڈل اسکول کے بورڈ آف ٹرسٹیز کا دوسرا اجلاس 30 مارچ 2026 کو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی زیرصدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز ڈاکٹر محمد طاہر حکیم، رجسٹرار گنگزار بلوچ، ڈائریکٹر فنانس شاہ بیک سید، پرنسپل یونیورسٹی ماڈل اسکول مہناز بشیر، ممتاز ماہر تعلیم عابد حسین اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد نے شرکت کی۔ اپنے افتتاحی کلمات میں وائس چانسلر نے شرکاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسکول کی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے روڈ میپ کی تشکیل میں بورڈ ممبران کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسکول کو جدید تقاضوں کے مطابق معیاری تعلیم کی فراہمی پر توجہ دینے کے علاوہ طلبہ کی کارکردگی اور فلاح و بہبود کو یقینی بناتے ہوئے اسکول میں ایک محفوظ، جامع اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے۔پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے مزید کہا کہ والدین، اساتذہ اور کمیونٹی کے دیگر اسٹیک ہولڈرز کو اسکول کی تعلیمی منصوبہ بندی اور اہداف کے حصول میں شامل کرنا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے بورڈ کے وسائل کے موثر استعمال،بجٹ کی تیاری، منظوری، نگرانی کے عمل کو بہتر بنانے اور بورڈ اجلاسوں کے سالانہ شیڈول کی اجراء کی ضرورت پر زوردیا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسکول میں موثر گورننس کو یقینی بنانے کے لیے بورڈ آف ٹرسٹیز کو اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرنا ہوں گی تاکہ اسکول کے دائرہ کار مزیدکو وسعت دی جاسکے۔پرنسپل مہناز بشیر نے شرکاء کو اسکول کے مجموعی انفراسٹرکچر، تعلیمی پیش رفت اور درپیش چیلنجز کے بارے میں اجلاس کوتفصیلی بریفنگ دی۔بورڈ نے اس بات پر زور دیا کہ ایک جامع طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ بورڈ کے منظور کردہ فیصلوں پر ان کی حقیقی روح کے مطابق عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس میں پہلے اجلاس کے منٹس کی توثیق کے علاوہ گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اسکول کی تزئین و آرائش کے کام کی پیش رفت، آئی ٹی اور دفتری آلات کی خریداری، فرنیچر کی فراہمی اور اسکول کو شمسی توانائی کے نظام پر منتقل کرنے سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا۔ بورڈ ممبران نے تدریسی اور انتظامی عملے کی بھرتی کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ طلبہ کوعصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے۔اجلاس میں اساتذہ اور اسسٹنٹ اکاؤنٹنٹ کی تنخواہوں کے تعین سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا اوراس ضمن میں ضروری فیصلے کیے گئے۔ اس کے علاوہ اجلاس میں اساتذہ کےکنٹریکٹ کی مدت میں توسیع کے معاملات کو بھی نمٹایا گیا۔اجلاس کے بعد پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد کی زیر صدارت اساتذہ اور دفتری عملے کی بھرتی کے لیے انٹرویوز بھی منعقد کیے گئے۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 3382/2026
زیارت 30مارچ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کے مطابق ڈپٹی کمشنرعبدالقدوس اچکزئی کی جانب سے گورنمنٹ ڈگری کالج میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو فیز تھری کے سکیمات کے سلسلے میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا کھلی کچہری میں ،اسسٹنٹ کمشنر سجاد الرحمان ڈسٹرکٹ افسران اور بڑی تعداد میں مختلف مکاتب فکر کے افراد نے شرکت کی اس موقع پر عوام نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی فیز تھری اسکمیات کے حوالے سے عوام کی تجاویز کو دیکھ کر میرٹ پر سیکمات کی منظوری کی جائے گی اور عوامی رائے کو مقدم رکھا جائے گا جہاں پر بھی کام کی بہترضرورت ہوگی وہاں پر کام کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی سکیمات کو بروقت اور معیار کے مطابق مکمل کریں گے ترقیاتی منصوبوں پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ کھلی کچہری کا مقصد عوام کے مسائل سن کر ان کو ان کی دہلیز پر حل کرنا ہے گورنمنٹ آف بلوچستان کی کمٹمنٹ ہے کہ عوام کے مسائل بہتر انداز میں حل کئے جائیں اور بی ایس ڈی آئی سکیمات کی تکمیل سے عوام مستفید ہوسکے۔
۔۔۔
خبر نامہ نمبر 2483/2026
زیارت 30 مارچ:۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے حالیہ شدید بارشوں کے بعد پیچی ڈیم میں پانی کی سطح میں اضافے کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر زیارت سجادالرحمان کوڑو اور ایکسین ایریگیشن عمیر علی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ایکسین ایریگیشن نے ڈپٹی کمشنر کو پیچی ڈیم کے تحفظ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے اس موقع پر کہا کہ ڈیموں کو محفوظ بنانے کے لیے متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر مؤثر اور بھرپور اقدامات کیے جائیں گے، اور کسی بھی قسم کی کمی کو بروقت دور کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیچی ڈیم میں وافر مقدار میں پانی اور مٹی جمع ہونے سے زمینداروں کو نمایاں فائدہ حاصل ہوگا۔
خبر نامہ نمبر 2485/2026
شیرانی 30مارچ:۔ڈپٹی کمشنر شیرانی حضرت ولی کاکڑ نے ضلعی ہیڈکوارٹر مانی خواہ میں مختلف سرکاری محکموں کی عمارتوں کی تعمیر کے لیے مجوزہ اراضی کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ حکام بھی ان کے ہمراہ تھے جن میں پٹواری مقبول احمد سمیت دیگر عملہ شامل تھا۔ڈپٹی کمشنر نے موقع پر موجود افسران کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری عمارتوں کی تعمیر کے لیے ایسی اراضی کا انتخاب کیا جائے جو عوام کے لیے باآسانی قابلِ رسائی ہو اور مستقبل کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام منصوبہ بندی شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر مکمل کی جائے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔حضرت ولی کاکڑ نے مزید کہا کہ ضلعی ہیڈکوارٹر کی سطح پر بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور مختلف محکموں کی عمارتوں کی بروقت تعمیر سے نہ صرف سرکاری امور میں بہتری آئے گی بلکہ عوام کو بھی ایک ہی مقام پر سہولیات میسر آئیں گی۔اس موقع پر متعلقہ حکام نے ڈپٹی کمشنر کو اراضی سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مجوزہ مقامات کا ابتدائی سروے مکمل کر لیا گیا ہے اور جلد ہی حتمی سفارشات پیش کی جائیں گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے منصوبے کو جلد از جلد عملی شکل دی جائے گی۔علاقہ مکینوں نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے علاقے میں ترقی کا نیا دور شروع ہوگا اور عوامی مسائل میں نمایاں کمی آئے گی۔
Handout No 2486/2026
Sherani, March 30, 2026Deputy Commissioner Sherani, Hazrat Wali Kakar, visited the District Headquarters Mani Khwa today to conduct a detailed inspection of the proposed land for the construction of buildings for various government departments. Relevant officials accompanied him on the occasion, including Patwari Maqbool Ahmed and other staff members.During the visit, the Deputy Commissioner issued directives to the concerned officers, emphasizing that the selection of land for government buildings should ensure easy public access while also taking future requirements into consideration. He stressed that all planning must be carried out transparently and strictly on merit to ensure improved public service delivery.Hazrat Wali Kakar further stated that the provision of basic facilities at the district headquarters level remains a top priority of the government. He noted that the timely construction of departmental buildings would not only enhance administrative efficiency but also enable the public to access multiple services at a single location.On the occasion, officials briefed the Deputy Commissioner on land-related matters, informing him that the initial survey of the proposed sites has been completed and that final recommendations will be presented soon. They assured that all legal requirements would be fulfilled and that the project would be implemented at the earliest possible time.Local residents appreciated the initiative taken by the district administration and expressed hope that the completion of these projects would usher in a new era of development in the area and significantly reduce public issues.
خبر نامہ نمبر2487/2026
زیارت 30 مارچ:۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے زیارت کوئٹہ روڈ پر 26 مارچ کو ڈائیورژن/متبادل راستے پر پانی کے باعث ٹرک پھسلنے اور ٹریفک معطل ہونے والے مقام کا دورہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ پروجیکٹ حکام اور کمپنی سے اپنی نگرانی میں مشینری کے ذریعے اس مقام کے ساتھ اصل پل کے راستے کی دوبارہ مرمت کروائی، تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے پروجیکٹ حکام کو ہدایت کی کہ عوام کی سہولت کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں اور روڈ کا کام جلد مکمل کیا جائے۔
خبر نامہ نمبر2488/2026
اسلام آباد30 مارچ:۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پیر کو یہاں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہیں چیئرمین نادرا اور اعلیٰ حکام نے خوش آمدید کہا اس موقع پر چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور نادرا کے کوئٹہ و گوادر ریجنز کے ڈائریکٹر جنرلز نے بھی ٹیلی کانفرنس کے ذریعے زیر غور امور پر تبادلہ خیال کیا دورے کے موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان کو نادرا کی مجموعی کارکردگی خصوصاً بلوچستان کے حوالے سے پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ چیئرمین نادرا نے حکومت بلوچستان کے مسلسل تعاون پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا بالخصوص ضلعی سطح کی کمیٹیوں کے ذریعے زیر التواء کیسز کے حل میں معاونت کو سراہا اجلاس کو بتایا گیا کہ نادرا بلوچستان کے لیے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کا نظام متعارف کرانے پر کام کر رہا ہے، جس کی باقاعدہ تجویز صوبائی حکومت کو ارسال کی جا چکی ہے وزیراعلیٰ کو نیشنل بایومیٹرک پالیسی فریم ورک پر عملدرآمد میں ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا جس کے لیے نادرا اور صوبائی حکومتوں کے درمیان قریبی روابط ناگزیر ہیں تاکہ رجسٹریشن کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے بھر میں رجسٹریشن اور تصدیقی خدمات کی بہتری کے لیے نادرا کی کاوشوں کو سراہا انہوں نے بالخصوص سیٹلائٹ سے لیس موبائل رجسٹریشن وینز کے ذریعے دور دراز علاقوں میں خدمات کی فراہمی کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ یہ سہولتیں پسماندہ اور دور افتادہ علاقوں میں رہنے والے شہریوں کی رجسٹریشن ضروریات پوری کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں وزیراعلیٰ نے نادرا کے نئے مراکز کے قیام اور یونین کونسل کی سطح پر بایومیٹرک آلات اور فائبر بیسڈ کنیکٹیویٹی کی فراہمی کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
خبر نامہ نمبر2489/2026
موجودہ مجوزہ ایکسپو زون مکمل جبکہ کوئٹہ ائیر پورٹ روڑ پر ایک نیا ایکسپو زون بھی قائم کیا جائے گا، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
اسلام آباد 30 مارچ:۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر انوشہ رحمان کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں ایکسپو سینٹر کوئٹہ منصوبے پر کمیٹی کی سابقہ مشاورت کی روشنی میں تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، سینیٹر فیصل سلیم رحمان، سینیٹر عامر ولی الدین چشتی، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور سینیٹر راحت جمالی شریک ہوئے جبکہ سینیٹر سرمد علی اور سینیٹر بلال احمد خان ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔کمیٹی نے ایکسپو سینٹر کوئٹہ منصوبے کی اہمیت کے پیشِ نظر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی شرکت کو سراہا بریفنگ کے دوران کمیٹی کو منصوبے کی موجودہ پیش رفت اور اس سے متعلق اہم امور سے آگاہ کیا گیا۔ مجوزہ مقام سے متعلق خدشات پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کوئٹہ دیگر بڑے شہروں کی طرح ایک محفوظ شہر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منتخب کردہ مقام صنعتی زون کے قریب واقع ہے جو مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ پلاننگ کمیشن کی کمیٹی سکیورٹی کے نقطہ نظر سے اس مقام کی منظوری دے چکی ہے اور منصوبہ پہلے ہی تاخیر کا شکار ہو چکا ہے۔کمیٹی کے ارکان نے موجودہ مقام پر ایکسپو سینٹر، ایئرپورٹ سے فاصلے اور بین الاقوامی مندوبین کی آمدورفت کے ممکنہ مسائل کے تناظر اور ایکسپو سینٹر کی طویل مدتی خود کفالت سے متعلق سوالات اٹھائے۔اس پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے تجویز دی کہ موجودہ مقام پر ایکسپو سینٹر کوئٹہ منصوبہ منصوبہ بندی کے مطابق جاری رکھا جائے، جبکہ حکومت بلوچستان کاروباری برادری اور دیگر متعلقہ فریقین کی سہولت کے لیے کوئٹہ ایئرپورٹ کے قریب ایک اور ایکسپو سینٹر بھی قائم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی ایکسپو سینٹر کے لیے مقام کا حتمی تعین بلوچستان کابینہ، کمیٹی ارکان اور اہم اسٹیک ہولڈرز بشمول کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے اس تجویز پر اتفاقِ رائے کیا اور ایکسپو سینٹر کوئٹہ منصوبے کی منظوری دے دی۔





