29th-March-2026

خبرنامہ نمبر3353/2026
گوادر: اسپیشل سیکریٹری محکمہ صحت شہیک شہداد اور ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیر صدارت ضلع بھر میں صحت کے درپیش مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر، ایم ایس میر عبدالغفور ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر حفیظ بلوچ، سی ای او جی ڈی اے ہسپتال ڈاکٹر عفان فائق زادہ، انڈر ٹریننگ اسسٹنٹ کمشنرز شاہان دشتی، سرفراز بلوچ، طارق بلوچ، نیشنل پروگرام کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر واحد بلوچ، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر فاروق بلوچ، پرنسپل نرسنگ کالج اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے۔اجلاس میں ضلع گوادر میں جاری مختلف ورٹیکل پروگرامز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جن میں ای پی آئی، ملیریا، ڈینگی، ایم این سی ایچ اور نیشنل پروگرام شامل ہیں۔ اس موقع پر صحت کے شعبے میں درپیش افرادی قوت کی کمی، ڈاکٹرز، پیرامیڈکس اور دیگر اسٹاف کی خالی آسامیوں، خصوصاً گائناکالوجسٹ اور اسپیشل کیڈر کی تعیناتی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ایم اوز اور ایل ایم اوز کی آسامیوں کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں ضلع بھر کے ہسپتالوں میں ادویات کی کمی اور بروقت فراہمی کے حوالے سے بھی غور کیا گیا، اور بتایا گیا کہ 10 اپریل تک جہاں ادویات کی قلت ہے وہاں سپلائی یقینی بنائی جائے گی۔ مزید برآں، ہسپتالوں کی سروس ڈلیوری، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں، آر ایچ سیز، بی ایچ یوز کی کارکردگی اور مختلف مراکز صحت کی عمارتوں کی مرمت کے امور زیر بحث آئے۔اجلاس میں ڈاکٹروں کے لیے رہائش کی فراہمی، جیوانی میں قائم شیخ محمد بن المکتوم ہسپتال کی جلد فعالی، اور جی ڈی اے ہسپتال کو درپیش مسائل پر بھی بریفنگ دی گئی۔ علاوہ ازیں نرسنگ کالج کے پرنسپل نے طلبہ کے ہاسٹل سے متعلق مسائل سے بھی آگاہ کیا۔اجلاس کے اختتام پر اسپیشل سیکریٹری صحت اور ڈپٹی کمشنر گوادر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے تمام ضروری اقدامات کو بروقت یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

خبرنامہ نمبر3354/2026
گوادر: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کیا اور مختلف جاری کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے منصوبوں کی پیش رفت، معیارِ تعمیر اور مقررہ ٹائم لائنز کا بغور معائنہ کیا۔ انہوں نے متعلقہ افسران اور انجینئرز کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ وقت کے اندر مکمل کیے جائیں اور کام کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل سے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بہتری آئے گی، لہٰذا تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطہ اور مؤثر حکمت عملی کے تحت کام کو آگے بڑھائیں۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ منصوبوں کی مسلسل مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی کوتاہی یا تاخیر سے بچا جا سکے اور عوام کو جلد از جلد ان منصوبوں کے ثمرات فراہم کیے جائیں۔

خبرنامہ نمبر3355/2026
لورالائی: 29 مارچ:ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر و ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز لورالائی ڈویژن ڈاکٹر مقبول احمد کاکڑ نے عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے عزم کے تحت سول ڈسپنسری ملک رحم خان شبوزئی کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد صحت کے مراکز میں جاری طبی سہولیات، عملے کی کارکردگی اور قومی پروگرامز خصوصاً ای پی آئی اور انسدادِ پولیو مہم کی پیش رفت کا جائزہ لینا تھا۔اس موقع پر ڈی ایس وی ای پی آئی گل نواز خان ناصر اور متعلقہ سی ڈی اسٹاف بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ڈاکٹر مقبول احمد کاکڑ نے ڈسپنسری کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور ای پی آئی پروگرام کے تحت بچوں کی حفاظتی ٹیکہ جات کی صورتحال، پولیو مہم کے انتظامات اور ریکارڈ کا بغور جائزہ لیا۔ انہوں نے طبی عملے کی حاضری، ادویات کے اسٹاک اور رجسٹرز بھی چیک کیے اور ضروری ہدایات جاری کیں۔ڈاکٹر مقبول احمد کاکڑ نے اس موقع پر کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو بنیادی سطح پر معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے صحت کے مراکز کی کارکردگی کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سی ڈی اسٹاف سے علاقے میں عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، درپیش مسائل اور ضروریات کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔انہوں نے عملے کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ ادا کریں اور عوام کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمے اور بچوں کو حفاظتی ٹیکہ جات کی فراہمی قومی ذمہ داری ہے جس میں ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔دورے کے دوران ڈاکٹر مقبول احمد کاکڑ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحت کے مراکز کی بہتری، عملے کی کارکردگی میں مزید بہتری اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ایسے دورے اور نگرانی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر3356/2026
لورالائی 28مارچ:ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایات پر ضلع بھر میں جاری اسکول داخلہ مہم کے سلسلے میں عوامی آگاہی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن لورالائی کی سربراہی میں آج لورالائی بازار میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے بھرپور آگاہی مہم چلائی گئی۔مہم کے دوران شہریوں، بالخصوص والدین سے اپیل کی گئی کہ وہ اسکول جانے کی عمر کے بچوں کو فوری طور پر قریبی سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں داخل کروائیں تاکہ کوئی بھی بچہ تعلیم کے بنیادی حق سے محروم نہ رہے۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد مضبوط تعلیمی نظام پر استوار ہوتی ہے۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ جاری داخلہ مہم کے ذریعے زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکولوں میں لایا جائے گا اور ضلع میں شرح خواندگی کو نمایاں حد تک بہتر بنایا جائے گا۔انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کریں تاکہ وہ مستقبل میں ملک و قوم کی ترقی میں فعال اور مثبت کردار ادا کر سکیں۔مہم میں ڈسٹرکٹ منیجر ایجوکیشن عبید ترین سمیت دیگر متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔ حکام کے مطابق یہ مہم آئندہ چند ہفتوں تک جاری رہے گی جس کے دوران مختلف علاقوں، دیہی بستیوں اور تعلیمی اداروں میں آگاہی پروگرامز، واکس اور کمیونٹی اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔تعلیمی حکام نے بتایا ہے کہ ضلع لورالائی میں اس سال داخلہ مہم کے تحت خصوصی ٹارگٹ مقرر کیے گئے ہیں، جبکہ اسکولوں میں سہولیات کی بہتری، اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے اور بنیادی تعلیمی ڈھانچے کی بحالی کیلئے بھی اقدامات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ، طالبات کے داخلے میں اضافے کیلئے خصوصی مہم چلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ صنفیتوازن کو بہتر بنایا جا سکے۔دریں اثناء، ضلعی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ داخلہ مہم کے دوران بہترین کارکردگی دکھانے والے اسکولوں اور اساتذہ کو اعزازات سے نوازا جائے گا، جبکہ غیر حاضر بچوں کے والدین سے رابطہ کرکے انہیں قائل کرنے کیلئے خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ اس مربوط حکمت عملی کے ذریعے نہ صرف نئے داخلوں میں اضافہ ہوگا بلکہ پہلے سے زیر تعلیم بچوں کے اسکول چھوڑنے کی شرح میں بھی کمی آئے گی۔

خبرنامہ نمبر3357/2026
نصیرآباد: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات پر کھلی کچہری کے عمل کو نچلی سطح تک مؤثر انداز میں وسعت دینے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے، اسی سلسلے میں دیہی علاقوں میں عوامی مسائل کے حل کے لیے کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی اور ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی ہدایت پر گوٹھ داد محمد رند منگولی میں ایک اہم کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کی سربراہی اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ نے کی، کھلی کچہری میں علاقے کے عوام نے بڑھ چڑھ کر شرکت کی اور اپنے درپیش مسائل کے حوالے سے کھل کر اظہار خیال کیا، جن میں امن و امان کی صورتحال، ماہ صیام میں رمضان راشن کی یوسی چیئرمین کی جانب سے غیر منصفانہ تقسیم، بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، نادرا آفس یا موبائل وین کی عدم دستیابی، سکولوں میں سولر سہولیات کی فراہمی، گرلز سکول کے قیام کی ضرورت، ڈیرہ مراد جمالی میں ٹریفک کے بڑھتے مسائل کے حل کے لیے بائی پاس روڈ کی تعمیر، گوٹھ داد محمد رند میں بی ایچ یو کے قیام، اسلامک ریلیف کے اقدامات میں سست روی سمیت دیگر عوامی مسائل شامل تھے، شرکاء نے ان مسائل کے بارے میں تحریری و زبانی طور پر آگاہی فراہم کی، کھلی کچہری میں اسسٹنٹ کمشنر یوٹی محمد طحہٰ جمالی، ایگزیکٹو انجینئر پی ایچ ای ظفر اقبال زہری، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حفیظ اللہ کھوسہ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ احمد نواز جتک، ڈاکٹر سکندر کھوسہ، ایم ایس ڈاکٹر حبیب پندرانی، ڈی ایس پی شمن علی سولنگی، ذوالفقار علی رند سمیت دیگر افسران اور علاقہ کے معتبرین بھی شریک تھے، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق کھلی کچہریوں کا انعقاد اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر ہی سنے جائیں اور تمام متعلقہ افسران کی موجودگی میں ان کے فوری اور مؤثر حل کے لیے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کیے جا سکیں، انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ عوام نے بھرپور شرکت کرتے ہوئے اپنے مسائل کھل کر بیان کیے اور ضلعی انتظامیہ ان تمام مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کرے گی تاکہ لوگوں کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کیا جا سکے، انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت عوام کے وسیع تر مفاد میں عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جا سکے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر3358/2026
لورالائی29مارچ:حالیہ شدید بارشوں اور ژالہ باری کے بعد ضلعی پولیس نے ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی اور امدادی اقدامات مزید سخت کر دئے ہیں۔ اس سلسلے میں ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد (پی ایس پی) نے ضلع بھر کے تمام تھانوں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔جاری کردہ ہدایات کے مطابق تمام پولیس اہلکار اپنے اپنے علاقوں میں صورتحال پر مسلسل نظر رکھیں گے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی فوری اطلاع کنٹرول روم کو فراہم کریں گے۔ پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کے جانی یا مالی نقصان، بشمول شہریوں کے زخمی ہونے، مکانات یا دیواروں کے گرنے، سڑکوں کی بندش یا دیگر ہنگامی حالات کی صورت میں بروقت رپورٹنگ کو یقینی بنایا جائے۔ایس ایس پی لورالائی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اطلاع دیتے وقت واقعے کی نوعیت، درست مقام اور متاثرہ افراد کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ ریسکیو اداروں کو فوری اور مؤثر کارروائی میں مدد مل سکے۔ انہوں نے اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ ہمہ وقت مستعد رہیں اور کسی بھی ناگہانی صورتحال میں فوری ردِعمل دے کر عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کریں۔ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے بھی متحرک دوسری جانب ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ریسکیو ٹیموں کو حساس علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ نشیبی علاقوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور خراب موسم کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر قریبی تھانے یا کنٹرول روم سے رابطہ کریں۔ مزید بارشوں کی پیشگوئی محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز کے دوران مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دے لی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر3359/2026
اُستا محمد: ڈپٹی کمشنر اُستامحمد محمد رمضان پلال کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر (یو ٹی) اُستا محمد عبدالقیوم نے PHED اُستامحمد فیز II کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے پانی کے ذخیرہ (اسٹوریج) اور بحالی (ری ہیبلیٹیشن) کے جاری ترقیاتی کاموں کا باریک بینی سے معائنہ کیا، دورے کے دوران متعلقہ انجینئرز اور PHED حکام نے منصوبے کے مختلف تکنیکی و انتظامی پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی، جس میں پانی کی فراہمی کے موجودہ نظام، اسٹوریج ٹینکس کی استعداد، پائپ لائنز کی تنصیب و مرمت اور بحالی کے جاری اقدامات سے آگاہ کیا گیا، اسسٹنٹ کمشنر عبدالقیوم نے موقع پر دستیاب سہولیات، جاری کام کے معیار اور رفتار کا تفصیلی جائزہ لیا اور بعض امور پر فوری بہتری لانے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کیں، انہوں نے واضح ہدایت دی کہ ترقیاتی کام کو مقررہ وقت کے اندر ہر صورت مکمل کیا جائے اور منصوبے میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے، انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ عوام کو صاف، شفاف اور بلا تعطل پانی کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے لہٰذا تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانتداری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ادا کریں، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر عبدالقیوم نے کہا کہ پانی کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے ضلعی انتظامیہ سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے اور PHED کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے اس اہم منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے، انہوں نے مزید کہا کہ جاری ترقیاتی کاموں کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جا رہی ہے تاکہ معیار اور رفتار دونوں کو برقرار رکھا جا سکے، دورے کے اختتام پر انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور اگر کسی بھی قسم کی رکاوٹ درپیش ہو تو فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کیا جائے تاکہ بروقت اقدامات کے ذریعے مسائل کو حل کیا جا سکے اور منصوبہ جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔

خبرنامہ نمبر3360/2026
گوادر: گوادر پورٹ نے علاقائی بحری و تجارتی سرگرمیوں میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے بحری جہاز M/V HMO LEADER (IMO 9169811) کی کامیاب برتھنگ مکمل کر لی ہے۔ مذکورہ جہاز 368 میٹرک ٹن پر مشتمل جنرل ٹرانس شپمنٹ کارگو لے کر گوادر پہنچا، جسے گوادر بندرگاہ کی بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کا واضح اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور روایتی بحری راستوں پر درپیش خدشات کے باعث بین الاقوامی شپنگ لائنز متبادل اور محفوظ راستوں کی تلاش میں ہیں، جس کے نتیجے میں گوادر پورٹ کو ایک محفوظ اور اسٹریٹجک بندرگاہ کے طور پر تیزی سے اہمیت حاصل ہو رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی تعداد میں عالمی شپنگ کمپنیاں اپنے ٹرانس شپمنٹ کارگو کے ذخیرے کے لیے گوادر پورٹ کا رخ کر رہی ہیں، جو اپنے جدید انفراسٹرکچر اور جغرافیائی محلِ وقوع کی بدولت نمایاں برتری فراہم کرتا ہے۔ گوادر پورٹ کی جانب سے اس رجحان کو مزید فروغ دینے کے لیے ٹرانس شپمنٹ کارگو پر مفت اسٹوریج کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ گوادر پورٹ اور اس سے منسلک فری زون میں تقریباً 16 ہزار ٹی ای یوز (TEUs) کنٹینرائزڈ کارگو اور 90 ہزار سے زائد مربع میٹر جنرل کارگو ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اس موقع پر چیئرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گوادر پورٹ خطے میں ایک محفوظ، مؤثر اور معاشی لحاظ سے قابلِ اعتماد متبادل بندرگاہ کے طور پر ابھر رہا ہے۔ چیرمین پورٹ نے کہا کہ بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ گوادر عالمی تجارتی نقشے پر اپنی جگہ مستحکم کر چکا ہے۔ چیرمین نورالحق بلوچ کے مطابق مفت اسٹوریج سمیت دیگر سہولیات کا مقصد عالمی تجارت کو سہولت فراہم کرنا اور گوادر کو علاقائی ٹرانس شپمنٹ حب میں تبدیل کرنا ہے۔ چیرمین نورالحق بلوچ نے مزید کہا کہ بندرگاہ کی جدید سہولیات، وسیع گنجائش اور اسٹریٹجک محلِ وقوع بلیو اکانومی کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے، جبکہ مستقبل قریب میں گوادر پورٹ علاقائی تجارت اور لاجسٹکس کا مرکزی مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ M/V HMO LEADER کی کامیاب برتھنگ کو توسیع شدہ آپریشنز کا عملی ثبوت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق علاقائی استحکام، مالی مراعات اور وسیع انفراسٹرکچر گوادر کو تیزی سے ایک اہم علاقائی تجارتی مرکز بنا رہے ہیں۔

خبرنامہ نمبر3361/2026
لورالائی29مارچ:میں حالیہ بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے نکاسی آب کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی، کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایات پر چیف آفیسر میونسپل کمیٹی، محب اللہ بلوچ کی زیر نگرانی عملہ شہر بھر میں متحرک ہے اور برساتی پانی کی فوری نکاسی کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔میونسپل کمیٹی کے اہلکار مختلف نشیبی علاقوں میں مشینری کے ذریعے پانی کی نکاسی میں مصروف ہیں، جبکہ اہم شاہراہوں اور گلی محلوں کو کلیئر کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ شہریوں کو آمد و رفت میں درپیش مشکلات سے نجات دلائی جا سکے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔ضلعی حکام کے مطابق، شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، جو مختلف علاقوں میں مسلسل مانیٹرنگ کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، برساتی نالوں کی صفائی اور بندشوں کو ختم کرنے کے لیے بھی ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے۔محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات مکمل رکھیں۔ شہریوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ حکام سے فوری رابطہ کریں۔انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

خبرنامہ نمبر3362/2026
تربت.ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے حالیہ بارشوں کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی اور ڈیموں میں پانی کی آمد کے بعد ہنگامی بنیادوں پر مختلف علاقوں کا دورہ کرکے صورت حال کا جائزہ لیا۔اس موقع پر انہوں نے اپنے عملے کے ہمراہ کیچ کور، سوراپ ڈیم، گروکی ڈیم اور ڈی بلوچ پل سمیت دیگر مقامات کا معائنہ کیا جہاں پر بارشوں کے نتیجے میں تغیانی کی صورتحال پیدا ہوتی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے تربت کے علاقے گوگدان، ڈنک، بہمن اور دیگر متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں پر عوام سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے اور نقصانات کا تخمینہ لگایا۔اس دوران ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ ریلیف سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے اور متاثرہ افراد کو فوری امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے کو الرٹ رہنے اور ہنگامی اقدامات یقینی بنانے کی تاکید بھی کی۔دورے کے دوران مقامی لوگوں نے ڈپٹی کمشنر کیچ کی بروقت آمد اور براہِ راست مسائل سننے کے اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے مسائل اعلیٰ حکام تک پہنچا کر مؤثر حل نکالا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر3363/2026
چمن 29 مارچ:ڈی پی او چمن عتیق الرحمن نے ضلع بھر میں امن و امان کی قیام شہریوں کی جان و مال کی حفاظت اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے چمن میں دفعہ 144 نافذ کر دیا گیا ہے ایس پی چمن نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ موجودہ حالات و واقعات کے پیش نظر، شہریوں کے قتلِ عام کے خدشے کے باعث، انتظامیہ/پولیس کی جانب سے چمن اور دیگر چند مخصوص اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے انہوں نے کہا ہے کہ اس حکم کے تحت امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے چند پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جن پر عملدرآمد ہر شہری پر لازم ہے آج سے ضلع بھر میں اسلحہ کی نمائش جلسہ و جلوس، ریلیوں اور کسی بھی قسم کے عوامی اجتماع کے انعقاد پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور لاؤڈ اسپیکر کے غیر مجاز استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس سلسلے میں ایس پی چمن نے عام شہریوں سے گزارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے انتظامیہ / پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے اجتناب کریں خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ احکامات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے اور تا حکمِ ثانی جاری رہیں گے۔

خبرنامہ نمبر3364/2026
موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں بلوچستان کے تاریخی ضلع قلات میں لیشمانیاسس کے وباء کی روک تھام کیلئے اقدامات جاری ہیں ڈپٹی کمشنر قلات منیراحمددرانی کے احکامات کی روشنی میں ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال قلات، ڈاکٹر نصر اللہ لانگو نے ڈاکٹر بدر انصاری ڈائریکٹر ملیریا VBD حکومت بلوچستان کے تعاون سے اس بیماری کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے موثر کاروائی شروع کی ہیڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال قلات میں لیشمانیاس سنٹر میں 17 مریضوں کو گلوکین ٹائم انجیکشن لگائے گئیہیں جن میں 03 نئے رجسٹرڈ کیسز بھی شامل ہیں۔واضح رہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بلوچستان کے سرداضلاع میں شامل ضلع قلات اس وباء سے متاثرہ ضلع میں سرفہرست ہے ضلعی محکمہ صحت کے مطابق رواں ہفتے 17 مریضوں کا Glucantime ان جیکشن سے علاج کیا گیاجن میں 03 نئے کیسز رجسٹرڈشامل ہیں ضلعی محکمہ صحت کے حکام۔ کا کہنا ہیکہ وبا پر قابو پانے کے لیے متاثرہ مریضوں کے بروقت علاج کو یقینی بنایاگیا۔

خبرنامہ نمبر 3365/2026
کوئٹہ، 29 مارچ:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے موجودہ علاقائی صورتحال میں پاکستان کی متوازن، اصولی اور مدبرانہ سفارتکاری پر اطمینان اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کو ان کی مؤثر سفارتی کاوشوں پر خراجِ تحسین پیش کیا ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود پاکستان نے جس تحمل، تدبر اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ ستائش ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سفارتکاری نہ صرف حالات کی نزاکت کو مدنظر رکھ کر تشکیل دی گئی ہے بلکہ اس میں امن، مکالمے اور باہمی احترام کے اصولوں کو بھی ترجیح دی گئی ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی قیادت میں اسلام آباد کو ایک ایسے مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جہاں مکالمے کے ذریعے مسائل کے حل اور کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار ہو رہی ہے انہوں نے اس امر کو خوش آئند قرار دیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مثبت اور تعمیری کردار ادا کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں دانشمندانہ قیادت اور متوازن سفارتی حکمت عملی ہی پائیدار امن کی ضمانت بن سکتی ہے۔ پاکستان کی قیادت کا سنجیدہ اور ذمہ دارانہ طرز عمل نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی مثبت پیغام دے رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

خبرنامہ نمبر 3366/2026
لورالائی 29مارچ:حالیہ بارشوں کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ لورالائی متحرک ہو گئی۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم نے ایس ڈی او ایریگیشن اکرام اللہ کے ہمراہ پٹھانکوٹ ڈیم کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران ڈیم کے اسٹرکچر، پانی کی سطح، اسپل ویز اور حفاظتی انتظامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ حکام نے متعلقہ عملے کو ہدایت جاری کی کہ ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کو یقینی بنایا جائے، جبکہ ڈیم کی 24 گھنٹے مسلسل نگرانی کو بھی ہر صورت برقرار رکھا جائے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ایریگیشن اور ریسکیو ادارے باہمی رابطے کو مؤثر بنائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، غیر ضروری طور پر آبی ذخائر اور ڈیمز کے قریب جانے سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔دریں اثنا، لورالائی کے مختلف نشیبی علاقوں میں بارش کے باعث پانی جمع ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جہاں میونسپل کمیٹی اور پی ڈی ایم اے کی ٹیمیں نکاسی آب کے عمل میں مصروف ہیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم ضلعی انتظامیہ نے الرٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔مزید برآں، محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے ہنگامی کنٹرول روم کو فعال کر دیا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔

خبرنامہ نمبر3367/2026
چمن: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی وژن کے مطابق بلوچستان میں ہیلتھ سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ عبدالخالق اچکزئی نے آج حلقہ انتخاب چمن کا خصوصی دورہ کیا انہوں نے کہا کہ چمن ڈی ایچ کیو ہسپتال کیلئے تین جدید ایمبولینسز اور دیگر ضروری طبی سہولیات جلد فراہم کی جائیں گی اسپیکر بلوچستان کیپٹن ریٹائرڈ عبدالخالق اچکزئی نے کہا ہے کہ چمن ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ایمرجنسی طبی سہولیات کو مزید مؤثر بنانے کیلئے جلد تین جدید طرز کی ایمبولینسز فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال کو فراہم کی جانے والی ایمبولینسز جدید طبی آلات سے لیس ہوں گی، جن میں ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ضروری سہولیات شامل ہوں گی ان ایمبولینسز کے ذریعے مریضوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے اور انہیں محفوظ طریقے سے ہسپتال منتقل کرنے میں نمایاں بہتری آئے گی اسپیکر بلوچستان اسمبلی نیکہا کہ یہ ایمبولینسز جدید اور اعلیٰ معیار کی سہولیات کی حامل ہوں گی انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان صحت کے شعبے کی بہتری اور سہولیات کی فراہمی کیلئے پُرعزم ہیں اور اس سلسلے میں محکمہ صحت کو جدید تکنیکی آلات اور مشینری سے آراستہ کرنے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چمن ایک اہم سرحدی ضلع اور صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے کافی دور ہونے کی وجہ سے یہاں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا وقت کی ضرورت ہے ان ایمبولینسز کی فراہمی سے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ گردونواح کے علاقوں سے آنے والے مریضوں کو بھی بروقت طبی سہولت میسر اور استفادہ حاصل کر سکیں گے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

    خبرنامہ نمبر3368/2026
تربت۔ میئر میونسپل کارپوریشن تربت بلخ شیر قاضی نے  ڈینگی بخار کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر تربت شہر میں ہنگامی بنیاد پر اسپرے مہم کا آغاز کردیا ہے۔ اسپرے مہم کا آغاز اتوار کی شام، سٹی ایریا,سنگانی سر اور ملحقہ علاقوں سے کیا گیا، جہاں ڈینگی کے کیسز رپورٹ ہوئے یا مچھر کی افزائش کے امکانات زیادہ ہیں۔ میونسپل کارپوریشن کے تمام زیر انتظام علاقوں میں یہ مہم مرحلہ وار جاری رہے گی تاکہ ڈینگی مچھر کی افزائش روکی جا سکے۔اس دوران میئر میونسپل کارپوریشن تربت نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے گھروں اور اردگرد کے ماحول کو صاف رکھیں، پانی کھڑا نہ ہونے دیں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔ اس کے ساتھ عوام میں آگاہی مہم بھی چلائی جا رہی ہے تاکہ لوگ ڈینگی سے بچاؤ کے طریقوں سے واقف ہوں اور شہر کو اس خطرناک مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود فوری اور مؤثر اقدامات کے ذریعے شہریوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔واضح رہے میونسپل کارپوریشن تربت کے چیف آفیسر شعیب ناصر مہم کی نگرانی کر رہے ہیں اور اسپرے ٹیموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مکمل احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ کام کریں۔ اس کے ساتھ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطے میں رہ کر ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی بھی ممکن بنائی جا رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *