25th-March-2026

خبرنامہ نمبر 3279/2026
کوئٹہ 25مارچ:۔ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کی جانب سے عوامی مسائل کے فوری حل اور شہریوں کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے ڈپٹی کمشنر آفس میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ نے شہریوں سے براہِ راست ملاقات کی اور ان کے مسائل تفصیل سے سنے۔اس موقع پر مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افسران بھی موجود تھے تاکہ موقع پر ہی شکایات کا اندراج اور ان کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جا سکیں۔شہریوں نے پانی، بجلی، صفائی ستھرائی، ریونیو، زمینوں کے ریکارڈ، اور دیگر بلدیاتی مسائل کے حوالے سے اپنی شکایات پیش کیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ نے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور ہر شکایت پر بروقت اور مؤثر کارروائی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام سرکاری محکمے عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں اور سائلین کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کھلی کچہریوں کے انعقاد کا مقصد عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف فراہم کرنا اور ان کے مسائل کو براہِ راست سن کر فوری حل نکالنا ہے۔ اس سلسلے کو باقاعدگی سے جاری رکھا جائے گا تاکہ شہریوں کا ضلعی انتظامیہ پر اعتماد مزید مضبوط ہو۔
خبرنامہ نمبر 3280/2026
لورالائی25مارچ:۔انسانیت کی خدمت سب سے بڑی عبادت ہے موجودہ حکومت کا عوامی خدمت کا یہ مشن جاری رہے گا ممبر صوبائی اسمبلی حاجی محمد خان طور اُتمانخیل نے گزشتہ روز ٹیچنگ ہسپتال لورالائی کا دورہ کیا اس موقع پر انہوں نے سٹی اسکین اور ایم آر آئی مشین کے ساتھ دیگر تمام فعال (فنکشنل) مشینوں کا جائزہ لیا ساتھ میں آس پاس سے لائے گئے مریضوں کی عیادت بھی کی اور معالجہ کے بارے کے پوچھا انہوں نے ہسپتال میں ڈاکٹروں کی حاضری اور خدمات کو سراہتے ہوئے ایم پی اے حاجی محمد خان طور اُتمانخیل نے تمام ڈاکٹرز کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل قریب میں ہسپتال کو مزید بہتر بنایا جائے گا اور جدید مشینری فراہم کی جائے گی تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات میسر آئیں اور وہ بہتر طبی خدمات سے مستفید ہو سکیں۔ اس موقع پر سنئیر ڈاکٹر شاہ زمان سمیت دیگر ڈاکٹرز و پیرامیڈیکل اسٹاف بھی موجود تھی جنھوں نے ممبر صوبائی اسمبلی کو علاج معالجے کی صورتحال سے آگاہ کیا اور درپیش مسائل کی تفصیل بتائیں۔
خبرنامہ نمبر 3281/2026
لورالائی25مارچ:۔ لورالائی میں نئے تعینات ہونے والے ڈپٹی کمشنر، کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے ایس ایس پی آفس لورالائی کا باضابطہ دورہ کیا، جہاں ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر انہیں پھولوں کا گلدستہ پیش کیا گیا جبکہ لورالائی پولیس کے چاق و چوبند دستے نے معزز مہمان کو سلامی بھی پیش کی۔دورے کے دوران ایس ایس پی آفس میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ٹی پارٹی بھی دی گئی۔ تقریب میں ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اسماعیل مینگل، اسسٹنٹ کمشنر میختر، ڈی ایس پی لیگل سردار نصراللہ خان حمزہ زئی، ڈی ایس پی سردار لطیف جوگیزئی، ایس ڈی پی او حیدر شیرانی اور ایس ڈی پی او اقبال لانگو سمیت پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے دیگر افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر ایس ایس پی ڈاکٹر فہد احمد نے ڈپٹی کمشنر کو ضلع لورالائی میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، جرائم کی روک تھام، پولیس کی کارکردگی اور جاری سیکیورٹی اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ڈپٹی کمشنر محمد حسیب شجاع نے پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے درمیان قریبی رابطہ اور مؤثر ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام کے بغیر ترقی ممکن نہیں، لہٰذا تمام ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ضلعی پولیس کو یقین دلایا کہ انتظامیہ ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی تاکہ امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔مزید برآں، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلع بھر میں سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے، اہم مقامات کی نگرانی بڑھانے اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ جرائم کی بیخ کنی کے لیے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کو مزید مؤثر بنانے اور پولیس گشت میں اضافہ کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ذرائع کے مطابق، آئندہ دنوں میں ڈپٹی کمشنر کی جانب سے ضلع کے مختلف تھانوں اور حساس علاقوں کا بھی دورہ متوقع ہے، جہاں سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے کر مزید بہتری کے لیے ہدایات جاری کی جائیں گی۔
خبرنامہ نمبر3282/2026
ضلع ہرنائی 25مارچ:۔ایف سی کھوسٹ 130 ونگ کے زیر نگرانی کرنل عمیر خان کی قیادت میں بلوچستان سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پروگرام (BSDP) کے حوالے سے ایک پروقار کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران، محکمہ جاتی سربراہان اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس کچہری کا بنیادی مقصد عوامی مشاورت کے ذریعے پائیدار ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل اور مقامی مسائل کا فوری حل یقینی بنائیں گے۔اس اہم تقریب میں سرکاری و سماجی شعبوں کے کلیدی افسران نے شرکت کی۔ جن میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین، ایکسیئن بی اینڈ آر محمد نواز، ڈی ایچ او ڈاکٹر شعیب اکرم مینگل، ڈی ایم پی پی ایچ آئی عالمگیر اچکزئی، ڈی ڈی ای او شاہرگ کلیم اللہ کاکڑ، فنانس آفیسر پی پی ایچ آئی سمیع اللہ سومرو، اور ایس ایچ او پولیس کھوسٹ محمد اسماعیل بگٹی شامل تھے۔ اس کے علاوہ امن کونسل برائے انسانی حقوق کے نمائندے محمد علی آفتاب نے بھی اپنی موجودگی سے کچہری کی اہمیت کو اجاگر کیا۔بی ایس ڈی پی کے حوالے سے منعقدہ اس کچہری میں علاقے کے عوام نے بھرپور جوش و خروش سے شرکت کی اور اپنے علاقوں کو درپیش دیرینہ مسائل اور ترقیاتی ضروریات پر کھل کر رائے پیش کی۔ شہریوں نے اپنی تجاویز میں درج ذیل نکات پر زور دیاسڑکوں کی تعمیر و مرمت اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی، تعلیمی اداروں کی حالت زار میں بہتری، صحت کی بنیادی سہولیات اور ایمبولینس کی دستیابی۔ دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق ٹھوس مطالبات پیش کیے گئے۔کچہری کے دوران متعلقہ افسران نے شہریوں کی شکایات کو نہایت توجہ سے سنا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ عوامی شرکت سے منصوبہ بندی کا عمل نہ صرف شفاف بنتا ہے بلکہ اس سے دستیاب وسائل کا مؤثر استعمال بھی ممکن ہوتا ہے۔ حکام نے یقین دہانی کرائی کہ بی ایس ڈی پی کے تحت وہی منصوبے ترجیحی بنیادوں پر شامل کیے جائیں گے جن کی نشاندہی خود عوام نے کی ہے، تاکہ ہر علاقے میں یکساں اور پائیدار ترقی ممکن ہو سکے۔عوام نے ایف سی کھوسٹ اور ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی تجاویز کی روشنی میں شروع ہونے والے منصوبے علاقے کی خوشحالی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں سنگِ میل ثابت ہوں گے۔ تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے مشاورت کا یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ ترقی کا عمل تیز تر اور مؤثر ہو سکے۔ موقع پر موجود افسران نے کئی شکایات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ان کے دیرپا حل کے لیے احکامات بھی جاری کر دیے۔
خبرنامہ نمبر3283/2026
لورالائی 25مارچ:۔لورالائی میں باران رحمت کے بعد شہر میں صفائی اور نکاسی آب کے مسائل کے پیش نظر میونسپل کمیٹی کا عملہ فوری طور پر متحرک ہو گیا۔ چیئرمین میونسپل کمیٹی لورالائی طاہر خان ناصر اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ بلوچ کی خصوصی ہدایت پر شہر کے مختلف زونز میں صفائی اور نکاسی آب کی خصوصی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو درپیش مشکلات کا بروقت ازالہ کیا جا سکے۔اس سلسلے میں میونسپل کمیٹی کے عملے نے شہر کے مختلف علاقوں میں بند نالیوں کو کھولنے، گلیوں اور بازاروں سے کچرا اٹھانے اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کیے۔ سلیم داد کمپلینٹ زون کے تحت گائیڈ لائن اسکول ہزارہ محلہ میں بند پڑی نالی کی صفائی کی گئی، جہاں نالی مکمل طور پر بند ہونے کی وجہ سے بارش کا پانی جمع ہو رہا تھا اور اہلِ علاقہ کو مشکلات کا سامنا تھا۔ میونسپل کمیٹی کے عملے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نالی کو صاف کر کے کھول دیا، جس کے بعد علاقے میں پانی کی نکاسی بحال ہو گئی اور شہریوں کو نمایاں ریلیف ملا۔اسی طرح باران زون کے علاقے میل گلی میں بھی میونسپل کمیٹی کے عملے نے نالیوں کی صفائی اور بندش ختم کرنے کے لیے بھرپور کام کیا۔ عملے نے گلیوں میں جمع کچرے کو ٹھکانے لگانے کے ساتھ ساتھ نالیوں کو صاف کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے تاکہ بارش کے پانی کی روانی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو اور شہریوں کو درپیش مسائل میں کمی آئے۔میونسپل کمیٹی حکام کے مطابق شہر بھر میں صفائی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی مہم جاری رکھی جائے گی اور مختلف علاقوں میں مرحلہ وار صفائی کا عمل جاری رہے گا۔ حکام کا کہنا تھا کہ شہریوں کو صاف ستھرا اور صحت مند ماحول فراہم کرنا میونسپل کمیٹی کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔دوسری جانب شہریوں نے میونسپل کمیٹی کی جانب سے بروقت اقدامات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ شہر میں صفائی اور نکاسی آب کے مسائل کے مستقل حل کے لیے ایسے اقدامات آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گے۔

خبرنامہ نمبر 3284/2026
اسلام آباد، 25 مارچ:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے بدھ کو یہاں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شیزہ فاطمہ خواجہ نے ملاقات کی جس میں ڈیجیٹل گورننس، نیشنل ڈیجیٹل پالیسی اور بلوچستان میں آئی ٹی کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات میں وفاقی سیکرٹری آئی ٹی اور چیئرمین پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی ڈاکٹر سہیل وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند بھی شریک تھے ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ نیشنل ڈیجیٹل پالیسی کی تشکیل اور اس پر مؤثر عملدرآمد کے لیے بلوچستان حکومت مکمل طور پر تیار ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ڈیجیٹل اصلاحات کا باقاعدہ آغاز محکمہ خزانہ کی ڈیجیٹلائزیشن سے کر دیا ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ذریعے میرٹ پر نوجوانوں کی تقرری کو یقینی بنایا جا رہا ہے جس سے محکمہ خزانہ میں کمیشن کے نام پر جاری بدعنوانی کا خاتمہ ممکن ہو رہا ہے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مکمل ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے مالیاتی نظام کو شفاف مؤثر اور کرپشن سے پاک بنایا جائے گا انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت ڈیجیٹل پالیسی کے تحت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ، گورننس میں بہتری اور نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اس سلسلے میں ڈیجیٹل پالیسی پر کام کرنے والی متعلقہ اتھارٹی کو کوئٹہ آنے کی دعوت بھی دی جائے گی تاکہ زمینی حقائق کے مطابق مؤثر حکمت عملی ترتیب دی جا سکے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس بات پر زور دیا کہ سوشل میڈیا کے مثبت، ذمہ دارانہ اور تعمیری استعمال کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے جس کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر مشترکہ کاوشیں ناگزیر ہیں ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت کی جانب گامزن کرنے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے باہمی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر 3285/2026
کوئٹہ25 مارچ: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے مراکش کے سفیر محمد کرمون سے ایک اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان اور مراکش کے درمیان بحری روابط، تجارتی تعاون اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران گوادر پورٹ (پاکستان) اور ٹینجر میڈ پورٹ (مراکش) کے درمیان ممکنہ بحری و تجارتی رابطے کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ یہ دونوں بندرگاہیں اپنے اپنے خطوں میں اسٹریٹجک حیثیت کی حامل ہیں اور ایشیا، یورپ اور افریقہ کے درمیان تجارت کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے اس موقع پر کہا کہ گوادر پورٹ کو خطے کا ایک اہم تجارتی مرکز بنانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داری ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مراکش کے ساتھ تعاون سے نہ صرف دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہوگا بلکہ وسط ایشیائی ممالک کے لیے بھی یورپی اور افریقی منڈیوں تک رسائی آسان ہو جائے گی۔ انہوں نے مراکش کے سفیر کو بلوچستان میں موجود سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان جغرافیائی لحاظ سے اہم خطہ ہے اور مراکش ان مواقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ مراکش کے سفیر محمد کرمون نے اس موقع پر پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ٹینجر میڈ پورٹ کی عالمی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بندرگاہ یورپ اور افریقہ کے درمیان ایک اہم تجارتی گیٹ وے کے طور پر کام کر رہی ہے اور گوادر پورٹ کے ساتھ اس کا رابطہ ایک نئی اقتصادی راہداری کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

خبرنامہ نمبر 3286/2026
کوئٹہ25 مارچ: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ وکلاء ہمارے معاشرے کے انتہائی حساس اور ہوشمند افراد ہیں۔ اپنے پیشے کے اعتبار سے وکیلوں کا دائرہ کار بہت وسیع ہوتا ہے لہٰذا ان پر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ عوام میں حقوق و فرائض کا احساس اُجاگر کریں اور ابھرتے ہوئے نوجوانوں میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کریں۔ وکلاء ہمارے معاشرے کے غریب اور لاچار افراد کیلئے سستا اور بروقت انصاف کو یقینی بنانے، قانون اور ان لوگوں کے درمیان خلیج کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اس ذمہ داری کو بہتر نبھانےسے وکلاء انصاف، مساوات اور خدمت خلق کے رجحان کو فروغ دیتے ہوئے معاشرے پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ عطاء اللہ لانگو کی قیادت میں وکلاء برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے ہمارے وکلاء قانون اور جمہوریت کے محافظ اور خادم ہیں۔ بلاشبہ آپ کے ذریعے معاشرے میں جمہوری رویوں اور احساس ذمہ داری کو پروان چڑھانے میں بھی تقویت ملتی ہے۔ گورنر مندوخیل نے وکلاء کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنانے اور ان کو درپیش مسائل کے دیرپا حل تلاش کرنے میں مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ وفد نے گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل کو ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرنے کی بھی دعوت دی۔

خبرنامہ نمبر 3287/2026
زیارت 25مارچ:ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی سے پشتون خواہ نیشنل عوامی پارٹی کے ضلعی سیکرٹری شاہ زمان خان کاکڑ،مہر اللہ کاکڑ،گلاب خان ،لعل محمد نے ملاقات کی اس موقع پر تحصیلدار نور احمد بھی موجود تھےوفد نے ڈپٹی کمشنر کو ضلع زیارت کے عوام کے مسائل سے آگاہ کیا اور فاریسٹ کے حوالے سے مسائل سے آگاہ کیا ۔وفد نے ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی کو ویلکم کرتے ہوئے ان کی ضلع زیارت کے عوام کے لیے خدمات کو سراہا۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے وفد کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ کہ ضلع زیارت کے عوام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے اور جنگلات کے تحفظ کے لیے بھرپور اقدامات کئے جائیں گے جنگلات ہمارا قومی ورثہ ہیں ان کی حفاظت کرنا ہم سب کا اولین فرض ہے اس سلسلے میں عوام میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے،ضلع زیارت کے عوام کو تعلیم صحت اور تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گاعوام کے مسائل کا حل ہماری اولین فرائض میں شامل ہیں۔

خبرنامہ نمبر3288/2026
نصیرآباد 26 مارچ: ضلع جعفرآباد میں 24 مارچ 2026 کو صبح 10:00 بجے ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک نابالغ بچہ کیرتھر کینال کے پانی میں ڈوب گیا ضلعی انتظامیہ جعفرآباد کو موصولہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ کے فوری بعد مقامی برادری کے تعاون سے بچے کی تلاش اور ریسکیو کے لیے کوششیں شروع کی گئیں، تاہم بھرپور کوششوں کے باوجود سرچ آپریشن کامیاب نہ ہو سکا صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے خصوصی تلاش اور بازیابی کے لیے پی ڈی ایم اے سے باضابطہ مدد طلب کر لی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر ریلیف کمشنر و ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے جہانزیب خان کو ضروری اقدامات کرنے کے احکامات جاری کیے۔ہدایات کی روشنی میں ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے ڈائریکٹر ریسکیو کی نگرانی میں پی ڈی ایم اے کی خصوصی ریسکیو ٹیم، نوید احمد شیخ کی سربراہی میں متحرک کر دی ہے ریسکیو ٹیم کو 25 مارچ 2026 کو صبح سویرے روانہ کیا گیا۔اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ جعفرآباد کی جانب سے ٹیم کو فائبر بوٹ بمعہ آؤٹ بورڈ موٹر، ایمبولینسز اور دیگر ضروری امدادی سامان فراہم کیا گیا ہے تاکہ تلاش کا عمل مؤثر انداز میں مکمل کیا جا سکے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر حضور بخش بگٹی کی نگرانی میں ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے، اور بچے کی تلاش کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

خبرنامہ نمبر3289/2026
لورالائی25,مارچ:ممبر صوبائی اسمبلی حاجی محمد خان عرف طور اوتمانخیل نے وفد کے ہمراہ ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد سے ملاقات ہوئی۔حاجی طور اوتمانخیل نے ڈاکٹر فہد احمد کو ایس ایس پی لورالائی تعیناتی پر مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ لورالائی پولیس کے ساتھ پہلے بھی ترقیاتی مد میں ہر ممکن تعاون کیا گیا ہے اور آئندہ بھی یہ تعاون جاری رہے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ لورالائی میں اب اے اور بی ایریا کا فرق ختم ہو چکا ہے اور پولیس کی حالیہ کارکردگی اور کارروائیاں قابل تعریف ہیں۔ پولیس بلا خوف و خطر اپنی کارروائیاں جاری رکھے، امن کے قیام کے لیے اٹھائے گئے ہر اقدام کی بھرپور حمایت کی جائے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پولیس کی ضروریات کو بجٹ کے علاوہ ضلعی سطح پر بھی پورا کیا جائے گا کیونکہ پولیس فورس ہماری قوت ہے۔بعد ازاں حاجی طور اوتمانخیل نے اللہ نواز شہید پولیس لائن لورالائی کا دورہ بھی کیا، جہاں لائن آفیسر سید خیر محمد نے کچھ مسائل پیش کیے۔ حاجی طور اوتمانخیل نے ان مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

خبرنامہ نمبر3290/2026
تربت۔ اسپیشل سیکریٹری صحت شیہک شہداد بلوچ نے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کے ہمراہ بدھ کے روز ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کیچ کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی، اس موقع پر صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ اور ڈی جی صحت بھی (بذریعہ آن لائن) اجلاس میں شریک ہوئے۔ علاوہ ازیں اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیچ ودیگر متعلقہ افسران بھی شریک تھے۔اجلاس کے دوران ضلع کیچ میں صحت کے نظام، مختلف بیماریوں اور ہسپتالوں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ صوبائی وزیر صحت نے ڈپٹی کمشنر کی درخواست پر ڈینگی وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے پیش نظر ضلع میں ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا اور متعلقہ حکام کو ڈینگی، ملیریا، ہیپاٹائٹس، ایچ آئی وی، ٹی بی اور ای پی آئی سے متعلق فوری اور مؤثر اقدامات کی ہدایت دی۔ڈپٹی کمشنر نے حالیہ بارشوں کے بعد ڈینگی کے بڑھتے خدشات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران متعدد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ اجلاس میں بیماریوں کی روک تھام، ٹیسٹنگ سہولیات میں اضافہ اور آئسولیشن وارڈ کے قیام پر بھی زور دیا گیا۔اس موقع پر اسپیشل سیکریٹری صحت نے ٹیچنگ ہسپتال تربت کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انتظامی بہتری، ادویات کی فراہمی اور عملے کی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی، اور خبردار کیا کہ ایک ماہ میں بہتری نہ آنے کی صورت میں ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس میں چائلڈ لائف فاؤنڈیشن اسٹیشن کے قیام، ایمرجنسی میں ڈاکٹروں کی تعیناتی، ہیلتھ کارڈ سروسز کی بحالی اور ڈاکٹروں کی کارکردگی کی باقاعدہ نگرانی کے اقدامات پر بھی اتفاق کیا گیا۔ مزید برآں ملیریا کے لیے ٹیسٹنگ کٹس کی فراہمی اور روزانہ کی بنیاد پر رپورٹنگ یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔صوبائی وزیر صحت نے ڈپٹی کمشنر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں انتظامی امور میں مکمل تعاون اور اختیارات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی، اور ہدایت کی کہ عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔

خبرنامہ نمبر3291/2026
ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن قلات کے تعاون سے کیسکو حکام نے بچلی چوری میں ملوث کنڈامافیاکی روک تھام اورنادہندگان سے واجبات کی وصولی کیلئے خصوصی مہم کاآغازکیا ہے کیسکوحکام نے بجلی میٹر کے بغیرکمرشل ّاوررہائشی کنکشن لگانے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کیا ہے نادہندگان سے واجبات قسط وار جمع کرانے کی سہولت بھی صارفیں کو میسر کی گئی ہے ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے تعاون سے شروع کی گء مہم کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں قلات شہر میں بجلی کی وولٹیج کامسئلہ حل ہونے کیساتھ واجبات کی ریکوری مہم بھی تیز کردی گئی ہے

خبرنامہ نمبر3292/2026
گوادر: ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ ائی ڈاکٹر مرشد دشتی نے ضلع کے دور دراز بنیادی مراکز صحت (BHUs) کا تفصیلی مانیٹرنگ دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بی ایچ یو بان بیلار، بی ایچ یو ہری بیلار اور بی ایچ یو اسحاق بازار کا معائنہ کیا۔دورے کے دوران ڈسٹرکٹ منیجر نے طبی مراکز میں عملے کی حاضری، او پی ڈی رجسٹر، ای پی آئی (Expanded Programme on Immunization) سائٹس اور دیگر اہم ریکارڈز کا بغور جائزہ لیا۔ انہوں نے طبی سہولیات کی فراہمی، صفائی کی صورتحال اور مریضوں کو دی جانے والی خدمات کے معیار کو بھی چیک کیا۔مرشد دشتی نے عملے کو ہدایت کی کہ وہ اپنی حاضری کو یقینی بنائیں اور عوام کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے مانیٹرنگ کا عمل مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ عوامی سطح پر صحت کی سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی ہدایات کے مطابق بنیادی مراکز صحت کو فعال اور عوام دوست بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاکہ دور افتادہ علاقوں کے مکین بھی معیاری طبی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *